PickthallAlif. Lam. Ra. These are verse of the Scripture that maketh plain.
Yusuf AliA. L. R. These are the symbols (or Verses) of the perspicuous Book.
The agreed readingAlif Lam Ra. God knows best what is meant by these letters. These are the signs of the Book that makes things clear.
Urduالف، لام، را — یہ حروفِ مقطعات ہیں، اور ان کی اصل مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ یہ اس روشن کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنا مدعا خوب کھول کر بیان کرتی ہیں اور کسی ابہام کو باقی نہیں رہنے دیتیں۔
Arabicالٓر حروف مقطعة، والله أعلم بمرادها، وقد افتتحت بها السورة تنبيها على إعجاز هذا القرآن. وهذه آيات الكتاب الواضح البين الذي يبين الحق ويوضح معانيه وألفاظه لمن تدبره.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
32 - حدثنا أحمد بن محمد بن سعيد قال: حدثنا علي بن الحسن التيملي، عن أبيه، عن محمد بن خالد، عن ثعلبة بن ميمون، عن عبد الرحمن بن مسلمة الجريري قال: قلت لأبي عبد الله: إن الناس يوبخونا ويقولون: من أين يعرف المحق من المبطل إذا كانتا؟ فقال: ما تردون عليهم؟ قلت: فما نرد عليهم شيئاً. فقال: قولوا لهم يصدّق بها إذا كانت من كان مؤمناً يؤمن بها قبل أن تكون. (قال) إن الله يقول قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ ۚ قُلِ اللَّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لَا يَهِدِّي إِلَّا أَنْ يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
(32) Ahmad bin Muhammad bin Sa’eed narrated from Ali bin al-Hasan at-Taymali from his father from Muhammad bin Khalid from Tha’lba bin Maymoon that Abdurrahman bin Maslama al-Jareeri had said: “I said to Abu Abdullah as-Sadiq (as): “Some people blame us and say that how the truthful call is distinguished from the false one when they both occur.” He said: “With what do you answer them?” I said: “With nothing.” He said: “Say to them: He, who has believed in them before they occur, will know which of them is true and which is false. Allah has said, ‘Is He then Who guides to the truth more worthy to be followed, or he who himself does not go aright unless he is guided? What then is the matter …
احمد بن محمد بن سعید نے حدیث سنائی: علی بن الحسن التیملی نے اپنے باپا سے، محمد بن خالد سے، ثعلبہ بن میمون سے، عبد الرحمن بن مسلمہ الجریری سے کہتے ہیں: میں نے ابو عبد اللہ سے کہا: لوگ ہمیں ملامت کرتے ہیں اور کہتے ہیں: حق کو باطل سے کیسے پہچانا جائے جب دونوں موجود ہوں؟ فرمایا: تم ان سے کیا جواب دیتے ہو؟ میں نے کہا: ہم انہیں کوئی جواب نہیں دیتے۔ فرمایا: انہیں کہو کہ جو پہلے سے ایمان رکھتے ہیں، وہ جب حق آئے تو اسے پہچان لیتے ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کہو کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی حق کی طرف ہدایت کرتا ہے؟ کہو اللہ حق کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ کیا وہ جو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے اس کے قابل اتباع ہے یا وہ جو خود ہدایت یافتہ نہیں ہوں گر خود ہدایت یافتہ ہو؟ تو تمہیں کیا ہو گیا؟ تم کیسے حکم …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallLo! We have revealed it, a Lecture in Arabic, that ye may understand.
Yusuf AliWe have sent it down as an Arabic Qur'an, in order that ye may learn wisdom.
The agreed readingWe have sent it down as a recitation in Arabic, so that you may understand its meanings and take them in.
Urduہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم اس کے معانی کو سمجھ سکو اور اسے اپنے دل میں اتار سکو۔ عربی الفاظ میں اتارنے کا مقصد یہ تھا کہ مخاطبین اس کی زبان اور اسلوب کو خوب پہچانتے تھے، اس لیے وہ اس کے معجزانہ ہونے کو بھی بخوبی سمجھ سکتے تھے۔
Arabicأنزل الله هذا القرآن بلسان عربي مبين، ليعقل المخاطبون معانيه ويفهموا ألفاظه. وفي ذلك أن العرب هم أول من خوطب به، فكانوا أقدر الناس على إدراك إعجازه وبيانه.
PickthallWe narrate unto thee (Muhammad) the best of narratives in that We have inspired in thee this Qur'an, though aforetime thou wast of the heedless.
Yusuf AliWe do relate unto thee the most beautiful of stories, in that We reveal to thee this (portion of the) Qur'an: before this, thou too was among those who knew it not.
The agreed readingWe relate to you the best of accounts in what We have revealed to you of this Qur'an, and before it you were among those who knew nothing of it.
Urduہم آپ پر اس قرآن کی وحی کے ذریعے سب سے بہترین قصہ بیان کر رہے ہیں، اور اس سے پہلے آپ ان باتوں سے بالکل بےخبر تھے۔ آپ نہ خود پڑھے لکھے تھے اور نہ ہی آپ نے یہ واقعات پہلے کبھی سنے تھے، اس لیے یہ بیان خالصتاً وحیِ الٰہی کا نتیجہ ہے۔
Arabicنحن نقص عليك أحسن القصص بما أوحينا إليك من هذا القرآن، وإن كنت من قبله لمن الغافلين عن هذه الأخبار. فهذا القصص أحكم القصص وأصدقه، وما كان لك به علم إلا بالوحي.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "The example of guidance and knowledge with which Allah has sent me is like abundant rain falling on the earth, some of which was fertile soil that absorbed rain water and brought forth vegetation and grass in abundance. (And) another portion of it was hard and held the rain water and Allah benefited the people with it and they utilized it for drinking, making their animals drink from it and for irrigation of the land for cultivation. (And) a portion of it was barren which could neither hold the water nor bring forth vegetation (then that land gave no benefits). The first is the example of the person who comprehends Allah's religion and gets benefit …
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ان سے حماد بن اسامہ نے برید بن عبداللہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابی بردہ سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوموسیٰ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس علم و ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے اس کی مثال زبردست بارش کی سی ہے جو زمین پر ( خوب ) برسے۔ بعض زمین جو صاف ہوتی ہے وہ پانی کو پی لیتی ہے اور بہت بہت سبزہ اور گھاس اگاتی ہے اور بعض زمین جو سخت ہوتی ہے وہ پانی کو روک لیتی ہے اس سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ وہ اس سے سیراب ہوتے ہیں اور سیراب کرتے ہیں۔ اور کچھ زمین کے بعض خطوں پر پانی پڑتا ہے جو بالکل چٹیل میدان ہوتے ہیں۔ نہ پانی روکتے ہیں اور نہ ہی سبزہ اگاتے ہیں۔ تو یہ اس شخص کی مثال ہے …
Abu Musa reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The similitude of that guidance and knowledge with which Allah, the Exalted and Glorious, has sent me is that of rain falling upon the earth. There is a good piece of land which receives the rainfall (eagerly) and as a result of it there is grown in it herbage and grass abundantly. Then there is a land hard and barren which retains water and the people derive benefit from it and they drink it and make the animals drink. Then there is another land which is barren. Neither water is retained in it, nor is the grass grown in it. And that is the similitude of the first one who develops the understanding of the religion of Allah and it becomes a …
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی مثال جو اللہ نے مجھے ہدایت اور علم دیا ، ایسی ہے جیسے زمین پر بارش برسی اور اس ( زمین ) میں کچھ حصہ ایسا تھا جس نے پانی کو چوس لیا اور چارا اور بہت سا سبزہ اگایا ۔ اور اس کا کچھ حصہ کڑا سخت تھا ، اس نے پانی کو جمع رکھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس ( پانی ) سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا کہ انہوں نے اس میں سے پیا ، پلایا اور چرایا ۔ اور اس کا کچھ حصہ چٹیل میدان ہے کہ نہ تو پانی کو روکے اور نہ گھاس اگائے ۔ ( جیسے چکنی چٹان کہ پانی لگا اور چل دیا ) تو یہ اس کی مثال ہے کہ جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اللہ نے اس کو اس چیز سے فائدہ دیا جو مجھے عطا فرمائی ، اس نے آپ بھی جانا اور …
Abdul-Wahid bin Sulaim narrated:"I arrived in Makkah and met 'Ata bin Abi Rabah. I said to him: 'O Abu Muhammad! The people of Al-Basrah speak about Al-Qadar.' He said: 'O my son! Do you recite the Quran?' I said: 'Yes.' He said: 'Then recite Az-Zukhruf to me.'" He said: 'So I recited: Ha Mim. By the manifest Book. Verily, We have made it a Qur'an in Arabic that you may be able to understand. And verily, it is in the Mother of Book with Us, indeed exalted, full of wisdom. Then he said: 'Do you know what Mother of Books is?' I said: 'Allah and His Messenger know better.' He said:'It is a book that Allah wrote before He created the Heavens, and before He created the earth. In it, it is …
عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں کہ میں مکہ گیا تو عطاء بن ابی رباح سے ملاقات کی اور ان سے کہا: ابو محمد! بصرہ والے تقدیر کے سلسلے میں ( برسبیل انکار ) کچھ گفتگو کرتے ہیں، انہوں نے کہا: بیٹے! کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: سورۃ الزخرف پڑھو، میں نے پڑھا: «حم والكتاب المبين إنا جعلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون وإنه في أم الكتاب لدينا لعلي حكيم» ”حم، قسم ہے اس واضح کتاب کی، ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو، یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے، اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے“ ( الزخرف: ۱-۴ ) پڑھی، انہوں نے کہا: جانتے ہو ام الکتاب کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ ایک کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کے پیدا …
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) recited the following Verse: 'It is He Who has sent down to you (Muhammad) the Book (this Qur'an). In it are verses that are entirely clear, they are the foundations of the Book; and others not entirely clear (up to His saying: ) 'And none receive admonition except men of understanding.' Then he said: 'O 'Aishah, if you see those who dispute concerning it (the Qur'an), they are those whom Allah has referred to here, so beware of them
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی: «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات هن أم الكتاب وأخر متشابهات» اللہ تعالیٰ کے یہ فرمان «وما يذكر إلا أولو الألباب» تک: ( سورة آل عمران: 7 ) ، یعنی: وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب اتاری، جس میں اس کی بعض آیات معلوم و متعین معنی والی محکم ہیں جو اصل کتاب ہیں، اور بعض آیات متشابہ ہیں، پس جن کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں تاکہ فتنہ پھیلائیں اور ان کے معنی مراد کی جستجو کریں، حالانکہ ان کے حقیقی معنی مراد کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، اور پختہ و مضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان رکھتے ہیں، یہ تمام ہمارے رب کی طرف سے نازل ہوئی …
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) recited (these verses of the Qur'an):"He it is Who revealed to thee (Muhammad) the Book (the Qur'an) wherein there are clear revelations-these are the substance of the Book and others are allegorical (verses). And as for those who have a yearning for error they go after the allegorical verses seeking (to cause) dissension, by seeking to explain them. And none knows their implications but Allah, and those who are sound in knowledge say: We affirm our faith in everything which is from our Lord. It is only the persons of understanding who really heed" (Al-Qur'an 3:7). 'A'isha (further) reported that Allah's Messenger (ﷺ) said (in connection with these …
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیات ) تلاوت فرمائیں : " وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ، اس میں سے محکم ( معنی میں واضح ) آیتیں ہیں ، وہی اصل کتاب ہیں اور دوسری متشابہ آیات ہیں ، پھر وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے ، وہ فتنے کی تلاش میں ان آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو ان ( آیات قرآنی ) میں سے متشابہ ہیں ۔ ان ( متشابہ آیات ) کا حقیقی معنی اللہ اور ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا جو علم میں راسخ ہیں ۔ وہ ( یہی ) کہتے ہیں : ہم ان ( آیات ) پر ایمان لائے ، سب ( آیتیں ) ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور دانائی رکھنے والوں کے سوا کوئی ( ان سے ) نصیحت حاصل نہیں کرتا ۔ " ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ …
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ تَلاَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ الآيَةَ {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ} إِلَى قَوْلِهِ {أُولُو الأَلْبَابِ} قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ، فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ، …
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) recited the Verse:-- "It is He who has sent down to you the Book. In it are Verses that are entirely clear, they are the foundation of the Book, others not entirely clear. So as for those in whose hearts there is a deviation (from the Truth ). follow thereof that is not entirely clear seeking affliction and searching for its hidden meanings; but no one knows its hidden meanings but Allah. And those who are firmly grounded in knowledge say: "We believe in it (i.e. in the Qur'an) the whole of it (i.e. its clear and unclear Verses) are from our Lord. And none receive admonition except men of understanding." (3.7) Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "If you …
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ابراہیم تستری نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات هن أم الكتاب وأخر متشابهات فأما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تأويله» یعنی ”وہ وہی اللہ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری ہے، اس میں محکم آیتیں ہیں اور وہی کتاب کا اصل دارومدار ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ سو وہ لوگ جن کے دلوں میں چڑ پن ہے۔ وہ اس کے اسی حصے کے پیچھے لگ جاتے ہیں جو متشابہ ہیں، فتنے کی تلاش میں اور اس کی غلط تاویل کی تلاش میں۔“ آخر آیت «أولو الألباب» تک۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم …
PickthallWhen Joseph said unto his father: O my father! Lo! I saw in a dream eleven planets and the sun and the moon, I saw them prostrating themselves unto me.
Yusuf AliBehold! Joseph said to his father: "O my father! I did see eleven stars and the sun and the moon: I saw them prostrate themselves to me!"
The agreed readingWhen Joseph said to his father: my father, I saw eleven stars, and the sun and the moon; I saw them bowing down to me.
Urduجب یوسف نے اپنے والد یعقوب علیہ السلام سے کہا: اے ابا جان، میں نے خواب میں گیارہ ستارے دیکھے اور سورج اور چاند کو بھی دیکھا، اور میں نے دیکھا کہ وہ سب میرے آگے سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ خواب حضرت یوسف کے مستقبل کی بڑی بشارت تھا۔
Arabicلما رأى يوسف في منامه أحد عشر كوكبا مع الشمس والقمر ساجدين له، قص رؤياه على أبيه يعقوب وناداه: يا أبت. وكانت هذه الرؤيا بشرى بما سيبلغه يوسف من رفعة في الدنيا والآخرة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Qummī, al-Ṭūsī, al-Ṭabrisī, Ibn ʿĀshūr and Ṭabāṭabāʾī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا
26-2 فقال اليهودي: فما نفس في نفس ليس بينهما رحم ولا قرابة؟ قال ذاك يونس عليه السلام في بطن الحوتقال: فما قبر سار بصاحبه؟ قال: يونس حين طاف به الحوت في سبعة أبحرقال له: فالشمس من أين تطلع؟ قال: من بين قرني الشيطانقال: فأين تغرب؟ قال: في عين حامية. قال لي حبيبي رسول الله صلى الله عليه وآله: "لا تصل في إقبالها ولا في إدبارها حتى تصير مقدار رمح أو رمحين ."قال: فأين طلعت الشمس ثم لم تطلع في ذلك الموضع؟ قال: في البحر فلقه الله لبني إسرائيل لقوم موسى عليه السلامقال له: فربك يحمل أو يحمل؟ قال: إن ربي عز وجل يحمل كل شئ بقدرته ولا يحمله شيءقال: فكيف قوله عز وجل: "وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ." قال: يا يهودي، ألم تعلم أن لله ما في السماوات وما في الأرض وما بينهما وما …
26-2 The Jew asked, ‘What is the living creature which was placed in another living creature without there being any ties of kinship between them?’ Ali (MGB) replied, ‘It was the Prophet Jonah (‘Yunus) who was eaten up by a large whale.’The Jew asked, ‘Which grave was the one which took what it contained on a trip?’ Ali (MGB) replied, ‘It was the large whale which moved around at sea when Jonah was in its stomach.’The Jew asked, ‘From where does the Sun rise?’ Ali (MGB) replied, ‘From between the two horns of Satan?’The Jew asked, ‘To where does the Sun set?’ Ali (MGB) replied, ‘It sets in a hot spring. My friend, i.e. God’s Prophet (MGB) told me not to pray at the times of sunrise or …
تو اس یہودی نے حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا: وہ کون سی جاندار چیز ہے جو کسی دوسری جاندار چیز کے اندر ہوں، حالانکہ ان کے درمیان کوئی خون کا رشتہ اور قرابت نہ ہوں؟ حضرت علی علیہ السلام نے جواب دیا: وہ یونس علیہ السلام تھے جو مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ یہودی نے کہا: تو وہ کون سی قبر ہے جو اپنے مردے کو ساتھ لے کر سفر کرے؟ حضرت علی نے جواب دیا: یہ مچھلی ہے جو یونس علیہ السلام کو اپنے اندر لیے ہوئے سمندروں میں سفر کرتی رہی۔ یہودی نے پوچھا: سورج کہاں سے طلوع ہوتا ہے؟ حضرت علی نے کہا: شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے۔ یہودی نے کہا: اور وہ کہاں ڈوبتا ہے؟ حضرت علی نے کہا: ایک بہت گرم چشمے میں۔ یہودی نے سوال کیا: تو کیا تمہارا رب چیزوں کو اٹھاتا ہے؟ حضرت علی نے کہا: میرا رب عز وجل ہر چیز کو اٹھاتا ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمِ السَّلاَمُ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "The honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, (was) Joseph, the son of Jacob, the son of Isaac, the son of Abraham
مجھے عبدہ بن عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شریف بن شریف بن شریف بن شریف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَا شَبِعْنَا حَتَّى فَتَحْنَا خَيْبَرَ.
Narrated Ibn `Umar:We did not eat our fill except after we had conquered Khaibar
ہم سے حسن نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے قرہ بن حبیب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب تک خیبر فتح نہیں ہوا تھا ہم تنگی میں تھے۔
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "In a dream I saw myself migrating from Mecca to a place having plenty of date trees. I thought that it was Al-Yamama or Hajar, but it came to be Medina i.e. Yathrib. In the same dream I saw myself moving a sword and its blade got broken. It came to symbolize the defeat which the Muslims suffered from, on the Day of Uhud. I moved the sword again, and it became normal as before, and that was the symbol of the victory Allah bestowed upon Muslims and their gathering together. I saw cows in my dream, and by Allah, that was a blessing, and they symbolized the believers on the Day of Uhud. And the blessing was the good Allah bestowed upon us and the reward …
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے، میں سمجھتا ہوں (یہ امام بخاری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ) محمد بن علاء نے یوں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجور کے باغات ہیں۔ اس پر میرا ذہن ادھر گیا کہ یہ مقام یمامہ یا ہجر ہو گا۔ لیکن وہ یثرب مدینہ منورہ ہے اور اسی خواب میں میں نے دیکھا کہ میں نے تلوار ہلائی تو وہ بیچ میں سے ٹوٹ گئی۔ یہ اس مصیبت کی طرف اشارہ تھا جو احد کی لڑائی میں مسلمانوں کو اٹھانی پڑی تھی۔ پھر میں نے دوسری مرتبہ اسے ہلایا تو وہ پہلے سے بھی اچھی صورت …
Narrated Samura bin Jundub:Allah's Messenger (ﷺ) very often used to ask his companions, "Did anyone of you see a dream?" So dreams would be narrated to him by those whom Allah wished to tell. One morning the Prophet (ﷺ) said, "Last night two persons came to me (in a dream) and woke me up and said to me, 'Proceed!' I set out with them and we came across a man lying down, and behold, another man was standing over his head, holding a big rock. Behold, he was throwing the rock at the man's head, injuring it. The rock rolled away and the thrower followed it and took it back. By the time he reached the man, his head returned to the normal state. The thrower then did the same as he had done …
مجھ سے ابوہشام مؤمل بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، انہوں نے کہا ہم سے عوف نے، ان سے ابورجاء نے، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو باتیں صحابہ سے اکثر کیا کرتے تھے ان میں یہ بھی تھی کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے۔ بیان کیا کہ پھر جو چاہتا اپنا خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح کو فرمایا کہ رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو میں ان کے ساتھ چل دیا۔ پھر ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس آئے جس کے پاس ایک دوسرا شخص پتھر لیے کھڑا تھا اور اس کے سر پر پتھر پھینک کر مارتا تو اس کا سر اس سے پھٹ جاتا، پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا، …
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "I dreamt at night that I was at the Kaba, and I saw a dark man like the most handsome of dark men you have ever seen. He had hair reaching to between his ears and his shoulders like the most excellent of such hair that you have seen. He had combed his hair, and water was dripping from it. He was leaning on two men or on the shoulders of two men doing tawaf around Kaba. I asked, 'Who is this?' It was said, 'al- Masih ibn Maryam.' Then we were with a man with wiry hair and blind in his right eye, as if it was a floating grape. I asked 'Who is this?' It …
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ مجھ کو خواب میں ایک رات معلوم ہوا کہ کعبہ کے پاس ہوں تو میں نے ایک شخص کو دیکھا گندمی رنگ جیسے کہ تو نے بہت اچھے گندمی رنگ کے آدمی دیکھے ہوں اس کے کندھوں تک بال ہیں جیسے کہ تو نے بہت اچھے کندھوں تک بال دیکھے ہوں سو اس نے مرد نے اس بال میں کنگھی کی ہے تو ان سے پانی ٹپکتا ہے دو آدمیوں پر تکیہ لگائے یوں فرمایا کہ دو آمیوں کے کندھو رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تکیہ لگائے وہی شخص بیت اللہ کا طواف کرتا ہے سو میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے تو کسی نے مجھ سے کہا یہ کہ مسیح ہے مریم کا بیٹا پھر میں نے یکایک ایک اور شخص دیکھا نہایت گھنگریالے بال والا دائیں انکھ کا کانا اس کی کافی آنکھ ایسی تھی جیسے پھولا ہوا انگور سو …
وَقَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَرِيمُ بْنُ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "The honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, i.e. Joseph, the son of Jacob, the son of Isaac, the son of Abraham
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے۔ ( علیہم الصلٰوۃ والسلام ) ۔
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) was asked, "Who are the most honorable of the people?" The Prophet (ﷺ) said, "The most honorable of them in Allah's Sight are those who keep their duty to Allah and fear Him. They said, "We do not ask you about that." He said, "Then the most honorable of the people is Joseph, Allah's prophet, the son of Allah's prophet, the son of Allah's prophet, the son of Allah's Khalil i.e. Abraham) They said, "We do not ask you about that." The Prophet (ﷺ) said, Do you ask about (the virtues of the ancestry of the Arabs?" They said, "Yes," He said, "Those who were the best amongst you in the pre-Islamic Period are the best amongst you in Islam if they …
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال کیا کہ انسانوں میں کون سب سے زیادہ شریف ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف یوسف علیہ السلام ہیں «نبي الله ابن نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله» ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا یہ بھی مقصد نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، عرب کے خاندانوں کے متعلق تم معلوم کرنا چاہتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّلَقِّي، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ.
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) forbade the meeting (of caravans) on the way and the selling of goods by an inhabitant of the town on behalf of a desert dweller
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تجارتی قافلوں سے ) آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا ہے اور بستی والوں کو باہر والوں کا مال بیچنے سے بھی منع فرمایا۔
PickthallHe said: O my dear son! Tell not thy brethren of thy vision, lest they plot a plot against thee. Lo! Satan is for man an open foe.
Yusuf AliSaid (the father): "My (dear) little son! relate not thy vision to thy brothers, lest they concoct a plot against thee: for Satan is to man an avowed enemy!
The agreed readingHe said: my son, do not tell your dream to your brothers, or they will scheme against you. Satan is an open enemy to man.
Urduیعقوب علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹے، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو مت سنانا، ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی چال چل بیٹھیں گے۔ بےشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور وہ لوگوں کے دلوں میں حسد اور بغض ڈال کر انہیں برائی پر آمادہ کرتا رہتا ہے۔
Arabicحين قص يوسف رؤياه على أبيه، حذره يعقوب أن يذكرها لإخوته حتى لا يحسدوه فيكيدوا له كيدا. فإن الشيطان عدو ظاهر العداوة للإنسان، يوقع بين الإخوة الحسد والبغضاء.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 3 من كتب أهل السنة، 4 من كتب الشيعة7 reports cited here — 3 Sunnī, 4 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 4 شیعہ کتب سے
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُنْدَارَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَلَوِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عَلِيٍّ ( عليه السلام ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) اللَّحْمُ سَيِّدُ الطَّعَامِ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ .
2. Ali ibn Muhammad ibn Bandar has narrated from Ahmad ibn abu ‘Abd Allah from Muhammad ibn Ali from ‘Isa ibn ‘Abd Allah al-‘Alawiy from his father from his grandfather who has said the following: “Ali (a.s.), has said that the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, has said, ‘Meat is the master food in this world and in the next life. 5 ”
علی بن محمد بن بندار نے احمد بن ابی عبداللہ سے روایت کی، محمد بن علی سے، عیسیٰ بن عبداللہ العلوی سے، انہوں نے اپنے باپا سے، انہوں نے اپنے دادا سے، علی علیہ السلام سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گوشت کھانے والی چیزوں کا سردار ہے دنیا اور آخرت میں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ، زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَزُورُهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً مِنَ الْعِشَاءِ ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْلِبُهَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَابَ الْمَسْجِدِ الَّذِي كَانَ عِنْدَ مَسْكَنِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى …
It was narrated from Safiyyah bint Huyai, the wife of the Prophet (ﷺ), that she came to visit the Messenger of Allah (ﷺ) when he was in I’tikaf during the last ten days of the month of Ramadan. She spoke with him for a while during the evening, then she stood up to go back. The Messenger of Allah (ﷺ) got up to take her home. When she reached the door of the mosque that was by the home of Umm Salamah, the wife of the Prophet (ﷺ), two men from among the Ansar passed by them. They greeted the Messenger of Allah (ﷺ) with peace, then went away. The Messenger of Allah (ﷺ) said:“Take it easy, she is Safiyyah bint Huyai.” They said: “Glorious is Allah, O Messenger of Allah!” And they were very …
ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئیں، اور آپ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد کے اندر معتکف تھے، عشاء کے وقت کچھ دیر آپ سے باتیں کیں، پھر اٹھیں اور گھر جانے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ انہیں پہنچانے کے لیے اٹھے، جب وہ مسجد کے دروازہ پہ پہنچیں جہاں پہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ تھی تو قبیلہ انصار کے دو آدمی گزرے، ان دونوں نے آپ کو سلام کیا، پھر چل پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی جگہ ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! اور یہ بات ان دونوں پہ گراں گزری، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا …
Narrated Abu Salama:I used to see a dream which would make me sick till I heard Abu Qatada saying, "I too, used to see a dream which would make me sick till I heard the Prophet (ﷺ) saying, "A good dream is from Allah, so if anyone of you saw a dream which he liked, he should not tell it to anybody except to the one whom he loves, and if he saw a dream which he disliked, then he should seek refuge with Allah from its evil and from the evil of Satan, and spit three times (on his left) and should not tell it to anybody, for it will not harm him
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدربہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں ( برے ) خواب دیکھتا تھا اور اس کی وجہ سے بیمار پڑ جاتا تھا۔ آخر میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی خواب دیکھتا اور میں بھی بیمار پڑ جاتا۔ آخر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں پس جب کوئی اچھے خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جو اسے عزیز ہو اور جب برا خواب دیکھے تو اللہ کی اس کے شر سے پناہ مانگے اور شیطان کے شر سے اور تین مرتبہ تھوتھو کر دے اور اس کا کسی سے ذکر نہ کرے پس وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبِيدَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ، مُسْلِمُ بْنُ مِشْكَمٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ الرُّؤْيَا ثَلاَثٌ مِنْهَا أَهَاوِيلُ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ بِهَا ابْنَ آدَمَ وَمِنْهَا مَا يَهُمُّ بِهِ الرَّجُلُ فِي يَقَظَتِهِ فَيَرَاهُ فِي مَنَامِهِ وَمِنْهَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " . قَالَ قُلْتُ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه …
It was narrated from Abu ‘Ubaidullah Muslim bin Mishkam, that ‘Awf bin Malik narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Dreams are of three types: Some are terrifying things from Satan, aimed at causing grief to the son of Adam; some are things that a person is concerned with when he is awake, so he sees them in his dreams; and some are a part of the forty-six parts of prophecy.” He said: “I said to him: ‘Did you hear this from the Messenger of Allah (ﷺ)?’ He said: ‘Yes, I heard it from the Messenger of Allah (ﷺ), I heard it from the Messenger of Allah (ﷺ).’”
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک تو شیطان کی ڈراونی باتیں تاکہ وہ ابن آدم کو ان کے ذریعہ غمگین کرے، بعض خواب ایسے ہوتے ہیں کہ حالت بیداری میں آدمی جس طرح کی باتیں سوچتا رہتا ہے، وہی سب خواب میں بھی دیکھتا ہے اور ایک وہ خواب ہے جو نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ ابو عبیداللہ مسلم بن مشکم کہتے ہیں کہ میں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
و ما كان فيه عن شهاب بن عبد ربّه فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسن بن محبوب، عن شهاب بن عبد ربّه.
Everything in this book that is narrated from Shihab ibn Abd Rabbih has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sad ibn Abdullah, from Ahmad ibn Muhammad ibn Isa, from Al-Hasan ibn Mahbub, from Shihab ibn Abd Rabbih.
اور جو کچھ شهاب بن عبد ربّه سے روایت ہے تو میں نے اسے اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کی - سعد بن عبداللہ سے، احمد بن محمد بن عیسى سے، الحسن بن محبوب سے، شهاب بن عبد ربّه سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن أبي الحسن النهديّ فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسن بن عليّ الوشّاء، عن أبي الحسن النهديّ.
And whatever is narrated from Abu Al-Hasan Al-Nahdi, I have narrated it from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sad ibn Abdullah, from Ahmad ibn Muhammad ibn Isa, from Al-Hasan ibn Ali Al-Washsha', from Abu Al-Hasan Al-Nahdi.
اور اس کتاب میں جو کچھ ابو الحسن النهدی سے منقول ہے وہ میں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے، رضی اللہ عنہ، سعد بن عبداللہ سے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، الحسن بن علی الواشاء سے، ابو الحسن النهدی سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن العلاء بن سيابة فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد ابن عبد اللّه، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسن بن عليّ الوشّاء، عن أبان بن عثمان عن العلاء بن سيابة.
And whatever is narrated from Al-Alaʾ ibn Siyabah, I have narrated it from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Saʿd ibn Abdullah, from Ahmad ibn Muhammad ibn ʿIsa, from Al-Hasan ibn Ali Al-Washshaʾ, from Aban ibn Uthman, from Al-Alaʾ ibn Siyabah.
اور جو اس میں العلاء بن سيابة سے ہے تو میں نے اس کو اپنے باپ - رضي الله عنه - سے روایت کیا ہے، سعد بن عبد الله سے، احمد بن محمد بن عيسى سے، الحسن بن علي الوشاء سے، أبان بن عثمان سے، العلاء بن سيابة سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThus thy Lord will prefer thee and will teach thee the interpretation of events, and will perfect His grace upon thee and upon the family of Jacob as He perfected it upon thy forefathers, Abraham and Isaac. Lo! thy Lord is Knower, Wise.
Yusuf Ali"Thus will thy Lord choose thee and teach thee the interpretation of stories (and events) and perfect His favour to thee and to the posterity of Jacob - even as He perfected it to thy fathers Abraham and Isaac aforetime! for Allah is full of knowledge and wisdom."
The agreed readingAnd so your Lord will choose you, and teach you the reading of dreams, and complete His favour on you and on the family of Jacob, as He completed it before on your fathers Abraham and Isaac. Your Lord is Knowing, Wise.
Urduاسی طرح تیرا رب تجھے چن لے گا اور تجھے خوابوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا، اور اپنی نعمت کو تجھ پر اور آلِ یعقوب پر پورا کرے گا، جیسے اس نے پہلے تیرے آباء ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی۔ بےشک تیرا رب خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔
Arabicوكما أرى الله يوسف هذه الرؤيا، كذلك يصطفيه ربه ويعلمه تفسير الرؤى، ويتم نعمته عليه وعلى آل يعقوب بالنبوة، كما أتمها من قبل على أبويه إبراهيم وإسحاق. إن ربه عليم بمن يصطفيه، حكيم في تدبير أمور خلقه.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
26-2 فقال اليهودي: فما نفس في نفس ليس بينهما رحم ولا قرابة؟ قال ذاك يونس عليه السلام في بطن الحوتقال: فما قبر سار بصاحبه؟ قال: يونس حين طاف به الحوت في سبعة أبحرقال له: فالشمس من أين تطلع؟ قال: من بين قرني الشيطانقال: فأين تغرب؟ قال: في عين حامية. قال لي حبيبي رسول الله صلى الله عليه وآله: "لا تصل في إقبالها ولا في إدبارها حتى تصير مقدار رمح أو رمحين ."قال: فأين طلعت الشمس ثم لم تطلع في ذلك الموضع؟ قال: في البحر فلقه الله لبني إسرائيل لقوم موسى عليه السلامقال له: فربك يحمل أو يحمل؟ قال: إن ربي عز وجل يحمل كل شئ بقدرته ولا يحمله شيءقال: فكيف قوله عز وجل: "وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ." قال: يا يهودي، ألم تعلم أن لله ما في السماوات وما في الأرض وما بينهما وما …
26-2 The Jew asked, ‘What is the living creature which was placed in another living creature without there being any ties of kinship between them?’ Ali (MGB) replied, ‘It was the Prophet Jonah (‘Yunus) who was eaten up by a large whale.’The Jew asked, ‘Which grave was the one which took what it contained on a trip?’ Ali (MGB) replied, ‘It was the large whale which moved around at sea when Jonah was in its stomach.’The Jew asked, ‘From where does the Sun rise?’ Ali (MGB) replied, ‘From between the two horns of Satan?’The Jew asked, ‘To where does the Sun set?’ Ali (MGB) replied, ‘It sets in a hot spring. My friend, i.e. God’s Prophet (MGB) told me not to pray at the times of sunrise or …
تو اس یہودی نے حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا: وہ کون سی جاندار چیز ہے جو کسی دوسری جاندار چیز کے اندر ہوں، حالانکہ ان کے درمیان کوئی خون کا رشتہ اور قرابت نہ ہوں؟ حضرت علی علیہ السلام نے جواب دیا: وہ یونس علیہ السلام تھے جو مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ یہودی نے کہا: تو وہ کون سی قبر ہے جو اپنے مردے کو ساتھ لے کر سفر کرے؟ حضرت علی نے جواب دیا: یہ مچھلی ہے جو یونس علیہ السلام کو اپنے اندر لیے ہوئے سمندروں میں سفر کرتی رہی۔ یہودی نے پوچھا: سورج کہاں سے طلوع ہوتا ہے؟ حضرت علی نے کہا: شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے۔ یہودی نے کہا: اور وہ کہاں ڈوبتا ہے؟ حضرت علی نے کہا: ایک بہت گرم چشمے میں۔ یہودی نے سوال کیا: تو کیا تمہارا رب چیزوں کو اٹھاتا ہے؟ حضرت علی نے کہا: میرا رب عز وجل ہر چیز کو اٹھاتا ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمِ السَّلاَمُ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "The honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, (was) Joseph, the son of Jacob, the son of Isaac, the son of Abraham
مجھے عبدہ بن عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شریف بن شریف بن شریف بن شریف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔“
PickthallVerily in Joseph and his brethren are signs (of Allah's Sovereignty) for the inquiring.
Yusuf AliVerily in Joseph and his brethren are signs (or symbols) for seekers (after Truth).
The agreed readingIn Joseph and his brothers there are signs for those who ask about them, and lessons for anyone who looks.
Urduبےشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصے میں پوچھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، اور ہر غور کرنے والے کے لیے عبرت کے سامان ہیں۔ جو شخص بھی اس واقعے پر توجہ سے غور کرے، اسے اس میں بڑی حقیقتیں نظر آئیں گی۔
Arabicلقد كان في قصة يوسف وإخوته آيات وعبر لمن سأل عن أخبارهم ورغب في معرفتها، ومواعظ لكل ناظر متدبر. فهو خبر عجيب يستحق أن يستخبر عنه ويتأمل فيه.
PickthallWhen they said: Verily Joseph and his brother are dearer to our father than we are, many though we be. Lo! our father is in plain aberration.
Yusuf AliThey said: "Truly Joseph and his brother are loved more by our father than we: But we are a goodly body! really our father is obviously wandering (in his mind)!
The agreed readingWhen they said: Joseph and his brother are dearer to our father than we are, though we are a strong band. Our father is plainly mistaken. The brother meant is his full brother Benjamin.
Urduجب یوسف کے بھائیوں نے آپس میں کہا کہ یوسف اور اس کا حقیقی بھائی ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ عزیز ہیں، حالانکہ ہم ایک مضبوط جماعت ہیں۔ ان کے خیال میں ہمارے والد اس معاملے میں صریح غلطی پر ہیں۔
Arabicقال إخوة يوسف فيما بينهم: إن يوسف وأخاه الشقيق أحب إلى أبينا منا، مع أننا جماعة ذوو عدد وقوة. وفي ظنهم أن أباهم واقع في خطأ بين حين يفضلهما عليهم من غير سبب يرونه.
Pickthall(One said): Kill Joseph or cast him to some (other) land, so that your father's favour may be all for you, and (that) ye may afterward be righteous folk.
Yusuf Ali"Slay ye Joseph or cast him out to some (unknown) land, that so the favour of your father may be given to you alone: (there will be time enough) for you to be righteous after that!"
The agreed readingKill Joseph, or cast him out into some land, and your father's face will be free for you alone; and after that you can be a people who do right.
Urduانہوں نے کہا: یوسف کو قتل کر دو یا اسے کسی دور دراز زمین میں پھینک آؤ، تاکہ تمہارے والد کی ساری توجہ صرف تمہاری طرف ہو جائے۔ اس کے بعد تم توبہ کر کے نیک لوگ بن جانا۔
Arabicقالوا: اقتلوا يوسف أو ألقوه في أرض بعيدة مجهولة، يخلص لكم بذلك وجه أبيكم وحده ولا يلتفت عنكم إلى غيركم، وتكونوا من بعده قوما تائبين صالحين.
PickthallOne among them said: Kill not Joseph but, if ye must be doing, fling him into the depth of the pit; some caravan will find him.
Yusuf AliSaid one of them: "Slay not Joseph, but if ye must do something, throw him down to the bottom of the well: he will be picked up by some caravan of travellers."
The agreed readingOne of them said: do not kill Joseph, but throw him into the dark bottom of the well, and some caravan will pick him up, if you must do something.
Urduان میں سے ایک نے، جو ان کا سب سے بڑا بھائی تھا، کہا: یوسف کو قتل مت کرو بلکہ اسے کسی اندھے کنویں کی تہ میں ڈال دو، کوئی گزرتا ہوا قافلہ اسے نکال لے جائے گا۔ اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہی راستہ اختیار کرو۔
Arabicقال أحدهم: لا تقتلوا يوسف، بل ألقوه في غيابة الجب يلتقطه بعض السيارة من المسافرين فتستريحوا منه دون أن تقتلوه، إن كنتم عازمين على فعل ما اتفقتم عليه.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 2 من كتب أهل السنة، 6 من كتب الشيعة8 reports cited here — 2 Sunnī, 6 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 6 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī في هذه الآية
Cited by al-Fayḍ al-Kāshānī and al-Ḥuwayzī on this āyah
al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا
31-162 According to the same documentation, it is narrated that regarding the Honorable the Exalted God’s words, ‘…but that he saw the evidence of his Lord…’ Ali ibn Al-Husayn (a.s.) said, “The wife of the Al-Aziz (king of Egypt) stood up and threw some material over the idol. Joseph (a.s.) asked her why she did that. She said, “I am ashamed of this idol who sees us.” Then Joseph (a.s.) told her, “You are ashamed of this idol which neither hears and sees, nor understands, eats or drinks, but should I not be ashamed of Him who created man and has taught him the following Words of the Honorable the Exalted God, ‘…but that he saw the evidence of his Lord…’”
اسی سند سے علی بن حسین سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ تعالی کے قول میں (لو لا أن رأی برہان ربہ) کہ عزیز کی بیوی بت کی طرف کھڑی ہوئی اور اس پر کپڑا ڈال دیا۔ یوسف نے اس سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: مجھے بت سے شرم ہے کہ وہ ہمیں دیکھے۔ یوسف نے اس سے کہا: کیا تم اس سے شرم کرتی ہو جو نہ سنتا ہے، نہ دیکھتا ہے، نہ سمجھتا ہے، نہ کھاتا ہے، نہ پیتا ہے، اور میں اس سے شرم نہیں کرتا جس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے سکھایا؟ یہی اللہ تعالی کا قول ہے: لو لا أن رأی برہان ربہ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
4 - حدثنا محمد بن موسى بن المتوكل (رحمه الله)، قال: حدثنا علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن محمد بن أبي عمير، عن حماد بن عثمان، عمن سمع أبا سيار يقول: سمعت أبا عبد الله الصادق (عليه السلام) يقول: حاء جبرئيل (عليه السلام) إلى يوسف (عليه السلام) وهو في السجن، فقال: قل في دبر كل صلاة مفروضة: اللهم اجعل لي فرجا ومخرجا، وارزقني من حيث احتسب ومن حيث لا احتسب، ثلاث مرات (2).
Muhammad b. Musa b. al-Mutawakkil (rh) narrated to us. He said: `Ali b. Ibrahim narrated to us from his father from Muhammad b. Abi `Umayr from Hammad b. `Uthman from one who heard Aba Sayyar say: I heard Aba `Abdillah al-Sadiq (as) say: Gabriel (as) came to Yusuf (as) when he was in prison and said: “After every obligatory prayer, say: ‘O Allah! Grant me relief and deliverance and give me sustenance from where I expect and from where I do not expect (Allahummaj`al li farajan wa makhrajan warzuqni min haythu ahtasibu wa man haythu la ahtasib)’ three times.”
۴ـ محمد بن موسیٰ بن المتوکل (رحمہ اللہ) نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: علی بن ابراہیم نے ہمیں حدیث سنائی اپنے باپا سے، محمد بن ابی عمیر سے، حماد بن عثمان سے، جس سے ابو سیار نے سنا، کہتے ہیں: میں نے ابو عبد اللہ الصادق (علیہ السلام) کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: جبریل (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئے جب وہ السجن میں تھے، تو کہا: ہر صلاة مفروضہ کے دبر میں کہو: اللہم اجعل لی فرجا ومخرجا، وارزقنی من حیث احتسب ومن حیث لا احتسب، تین مرات۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Malik related to me from Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman from Yazid, the mawla of al-Munbaith that Zayd ibn Khalid al-Juhani said, "A man came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and asked him about finds. He said, 'Memorize the characteristics of the object found, then publicise it for a year. If the owner comes, give it to him. If not, then it is your business.' He said, 'What about lost sheep, Messenger of Allah?' He said, 'They are yours, your brother's or the wolf's.' He said, 'And the lost camel?' He said, 'It's none of your concern. It has its water and its feet. It will reach water and eat trees until its owner finds it
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچان رکھ طرف اس کا لقطہ ہو خواہ چمڑے میں ہو یا کپڑے میں ہو پاور پہچان رکھ بندھن اس کا پھر ایک برس تک لوگوں سے اس کا حال کہا کر اگر اس کا مالک مل جائے تو اس کے دے دے نہیں تو لے لے پھر اس نے کہا گر کوئی بکری بہکی بھٹکی مل جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بکری تیرے کام میں آئے گی یا تیرے بھائی کے نہیں تو بھیڑیا کھا جائے گا پھر اس شخص نے کہا اگر اونٹ بھولا ملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ سے تجھے کیا کام وہ تو اپنے ساتھ اپنا پانی رکھتا ہے اور موزے رکھتا ہے جہاں اس کو پانی مل جاتا ہے پی لیتا ہے جو …
It was narrated that Anas bin Malik said:"I was sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) and a man was standing and praying. When he bowed, prostrated and recited the tashahhud, he supplicated, and in his supplication he said: "Allahumma inni as'aluka bi-anna lakal-hamd, lailaha illa ant, al-mannanu badi'us-samawati wal-ard, ya dhal-jalali wal-ikram! Ya hayyu ya qayyum! Inni as'aluka. (O Allah, indeed I ask You since all praise is due to You, there is none worthy of worship but You, the Bestower, the Creator of the heavens and earth, O Possessor of majesty and honor, O Ever-living, O-Eternal, I ask of You.)' The Prophet (ﷺ) said: 'Do you know what he has supplicated with?' They said: "Allah …
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مسجد میں ) بیٹھا ہوا تھا، اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، جب اس نے رکوع اور سجدہ کر لیا، اور تشہد سے فارغ ہو گیا، تو اس نے دعا کی، اور اپنی دعا میں اس نے کہا: «اللہم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم إني أسألك» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے کہ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے تیرے، تو بہت احسان کرنے والا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے اور وجود میں لانے والا ہے، اے عظمت و جلال اور احسان والے، ہمیشہ زندہ و باقی رہنے والے!، میں تجھی سے مانگتا ہوں۔ یہ سنا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے …
12. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Sa‘d ibn abu Khalaf who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘It is sufficient for al-Qunut to say, “O Lord, forgive us, grant us mercy, good health and pardon us in this world and in the next life; You have power over all things.’””
१२۔ علی بن ابراہیم نے اپنے باپا سے، ابن ابی عمیر سے، سعد بن ابی خلف سے، ابی عبد اللہ سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: قنوت میں یہ دعا تمہارے لیے کافی ہے: "اے اللہ! ہمیں معاف کر، ہمیں رحم کر، ہمیں شفا دے، ہمیں دنیا اور آخرت میں معافی دے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
6. A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad from Harun ibn Muslim from Mas’adah ibn Sadaqah who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘Once there was a group of people with my father and they had different views about al-Nabidh. Certain ones among them said, “The cupful (of al-Nabidh) which is intoxicating is unlawful.” Others said, “Al-Nabidh in small quantity does not intoxicate but it is unlawful in large quantity.” They referred the matter to my father (a.s.), who said, “On the basis of fairness and justice if nothing has been placed in the cup it would never become full. This applies to the other cup also. If nothing has been placed in, it would not …
عدہ من اصحابنا نے سہل بن زیاد سے، ہارون بن مسلم سے، مسعدہ بن صدقہ سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی: میرے باپا کے پاس کچھ لوگ تھے اور انہوں نے نبیذ کے بارے میں اختلاف کیا۔ کچھ لوگوں نے کہا: جو پیالی نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔ کچھ نے کہا: نبیذ کی تھوڑی مقدار نشہ نہیں کرتی لیکن بہت زیادہ حرام ہے۔ انہوں نے یہ معاملہ میرے باپا کے سامنے پیش کیا۔ میرے باپا نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ برتن - اگر اس میں پہلے کچھ نہ ڈالا جائے تو یہ کبھی بھرا نہیں سکتا۔ اسی طرح دوسری پیالی بھی ہے - اگر پہلی پیالی نہ ہو تو یہ نشہ نہ کر سکے۔ پھر انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو شخص اپنے جسم کی رگوں میں سے ایک رگ میں وہ چیز داخل کرے جو تھوڑی مقدار میں نشہ نہ کرے لیکن بہت مقدار میں نشہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Harun ibn Muslim Mas’adah ibn Sadaqah who has said the following: “Once, Sufyan al-Thawriy visited abu ‘ Abd Allah (a.s.). He saw the Imam wearing a cloth that was pure white like the membrane between an egg shell and its contents. He then said to the Imam, ‘This is not the kind of cloth you should wear.’ He (the Imam) said, ‘Listen to me and pay proper attention to what I say; it is good for you now and in future if you like to die following the Sunnah and truth and not in heresy. I can tell you that the Messenger of Allah lived at a time when poverty was rampant. When living conditions improve the people most deserving to benefit from …
علی بن ابراہیم نے ہارون بن مسلم سے، انہوں نے مسعدہ بن صدقہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: سفیان ثوری ابو عبد اللہ (علیہ السلام) کی خدمت میں تشریف لائے۔ انہوں نے دیکھا کہ آپ سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں بالکل انڈے کے سفید حصے کی طرح۔ سفیان نے کہا: یہ لباس آپ کے لیے شایان نہیں ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: میری سنو اور جو کہوں اس پر توجہ کرو کیونکہ یہ تمہارے لیے دنیا و آخرت میں بہتری کا باعث ہے، بشرطیکہ تم سنت اور حق پر مرو۔ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ایسے زمانے میں تھے جب بہت غربت تھی۔ لیکن جب دنیا کی دولت آتی ہے تو اس کے سب سے زیادہ حقدار نیک لوگ ہیں برے نہیں، مومن ہیں منافق نہیں، مسلم ہیں کافر نہیں۔ تو اے ثوری! تمہیں کیا ناپسند ہے؟ اللہ کی قسم! جب سے میں نے عقل حاصل …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
3. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from his father from fadalah from Rifa‘ah who has said the following: “I once heard abu ‘Abd Allah (a.s.), saying, ‘When Allah, most Blessed, most High, granted good health to Ayyub (a.s.), he looked to the Israelites who had their plantations. He raised his eyes to the sky and said, ‘O Lord, my Master, this is Your slave Ayyub who was in suffering and You granted him good health but he does not have any plantation. These are people of banu Israel who have their plantations.’ Allah, most Majestic, most Glorious, sent him revelation that said, ‘Take a handful from you rosary beads and use it as seed .’ His rosary …
عدة من اصحابنا نے احمد بن محمد بن خالد سے، ان کے باپا سے، فضالة سے، رفاعة سے روایت کی، کہا: میں نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) کو کہتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ جب ایوب (علیہ السلام) کو عافیت دے دی، تو اس نے بنی اسرائیل کو دیکھا کہ وہ بوئے بو رہے ہیں، تو اس نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا: اے میرے خدا اور میرے سیاہی! تمہارا بندہ ایوب جو مبتلا تھا، انہیں عافیت دے دی، اور انہوں نے کوئی بوا نہ بویا، اور یہ بنی اسرائیل ہیں جن کے پاس کھیت ہیں۔ تو اللہ عزّ وجلّ نے اس کی طرف وحی کی: اے ایوب، اپنے تسبیح سے ایک مٹھی لے اور اسے بو۔ اور اس کی تسبیح میں نمک تھی۔ تو ایوب (علیہ السلام) نے اس سے ایک مٹھی لی اور اسے بویا، تو عدس نکلی، اور تم اسے چنے کا نام دیتے ہو، اور ہم اسے عدس کہتے ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThey said: O our father! Why wilt thou not trust us with Joseph, when lo! we are good friends to him?
Yusuf AliThey said: "O our father! why dost thou not trust us with Joseph,- seeing we are indeed his sincere well-wishers?
The agreed readingThey said: our father, why will you not trust us with Joseph, when we truly want what is good for him?
Urduانہوں نے کہا: اے ابا جان، آپ ہمیں یوسف کے بارے میں امین کیوں نہیں سمجھتے، جبکہ ہم تو اس کے سچے خیرخواہ ہیں اور اس کی بھلائی ہی چاہتے ہیں۔
Arabicقالوا لأبيهم متعجبين: يا أبانا، ما لك لا تجعلنا أمناء على يوسف مع أنه أخونا الصغير، ونحن نريد له الخير الدائم ونشفق عليه ونخصه بخالص النصح والرعاية.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 2 من كتب أهل السنة، 5 من كتب الشيعة7 reports cited here — 2 Sunnī, 5 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 5 شیعہ کتب سے
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ahmad ibn Muhammad ibn abu Nasr. And a number of our people from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from Ibrahim ibn Muhammad al-Thaqafi from Muhammad ibn Marwan all of them have narrated from Aban ibn ‘Uthman from those whom he has mentioned from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Blessed, the Most High, granted to Muhammad (a.s.) the system of laws of Noah, Abraham, Moses and Jesus, peace be upon them. The laws consisted of belief in monotheism, purity of such belief, the negation of all associates of Allah and the culture, that it is free and clean of idolatry, that it is easy to follow and that it does not …
1۔ علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے احمد بن محمد بن ابونصر سے۔ اور ہمارے اصحاب میں سے ایک جماعت نے احمد بن محمد بن خالد سے روایت کی، انہوں نے ابراہیم بن محمد الثقفی سے، انہوں نے محمد بن مروان سے - یہ تمام لوگ - ابان بن عثمان سے، انہوں نے اس سے جس کا انہوں نے ذکر کیا، وہ ابواعبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کے شریعتیں دیں۔ یعنی توحید، اخلاص، تمام شریکوں کو نفی کرنا اور صاف ستھرا اور آسان دین ہنیفی۔ اس میں نہ تو بھیک مانگنا ہے اور نہ ہی دنیا سے بھاگنا۔ اس میں اللہ نے پاک چیزیں حلال کیں اور نجس چیزیں حرام کیں۔ اور انہ سے ان کے بوجھ اور زنجیریں ہٹا دیں جو ان پر …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن أحمد بن محمّد بن أبي نصر البزنطيّ فقد رويته عن أبي؛ و محمّد بن الحسن- رضي اللّه عنهما- عن سعد بن عبد اللّه؛ و الحميريّ جميعا عن أحمد بن محمّد ابن عيسى، عن أحمد بن محمّد بن أبي نصر البزنطيّ. و رويته عن أبي؛ و محمّد بن عليّ ماجيلويه- رضي اللّه عنهما- عن عليّ بن إبراهيم، عن أبيه، عن أحمد بن محمّد بن أبي نصر البزنطيّ.
Everything in this book that is narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Abi Nasr Al-Bazanti has been transmitted by me from my father and from Muhammad ibn Al-Hasan - may Allah (swt) be pleased with them both - from Sa'd ibn Abdullah and Al-Himyari together, from Ahmad ibn Muhammad ibn 'Isa, from Ahmad ibn Muhammad ibn Abi Nasr Al-Bazanti. I have also narrated it from my father and from Muhammad ibn Ali Majilawayh - may Allah (swt) be pleased with them both - from Ali ibn Ibrahim, from his father, from Ahmad ibn Muhammad ibn Abi Nasr Al-Bazanti.
جو کچھ اس کتاب میں احمد بن محمد بن ابی نصر البزنطی سے روایت ہے، تو میں نے اسے اپنے والد سے اور محمد بن الحسن - اللہ ان سے راضی ہو - سعد بن عبداللہ سے اور الحمیری سے - یہ دونوں - احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، احمد بن محمد بن ابی نصر البزنطی سے روایت کیا ہے۔ اور میں نے اسے اپنے والد سے اور محمد بن علی ماجیلویہ - اللہ ان سے راضی ہو - علی بن ابراہیم سے، ان کے والد سے، احمد بن محمد بن ابی نصر البزنطی سے روایت کیا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
9. A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad from Ali ibn Asbat from his uncle Ya’qub ibn Salim who has said the following: “I once heard abu ‘Abd Allah (a.s.), saying, ‘’Amir al-Mu’minin, would eat vinegar with oil and keep his expenses under the carpet.’”
عدہ کمپنیوں سے سہل بن زیاد سے علی بن أسباط سے ان کے چاچا یعقوب بن سالم سے۔ کہتے ہیں: میں نے ابو عبداللہ علیہ السلام کو سنتے ہوئے کہتے ہوئے: امیر المومنین علیہ السلام خل اور زیت کھایا کرتے تھے اور اپنے نفقے کو طنفسہ کے نیچے رکھتے تھے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Ibn ‘abbas said :The Prophet (May peace be upon him) used to seek refuge in Allah for al-Hasan and al-husain, saying ; I seek refuge for both of you in the perfect words of Allah from every devil and every poisonous thing and from the evil eye which influences. He would then say; your father sought refuge in Allah by them for Ismail and Ishaq. Abu Dawud said; this is a proof of the fact that the Quran is not created
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے لیے ( ان الفاظ میں ) اللہ تعالیٰ پناہ مانگتے تھے «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں تم دونوں کے لیے پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ، ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ بچھو وغیرہ ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے پھر فرماتے: تمہارے باپ ( ابراہیم ) اسماعیل و اسحاق کے لیے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔
Ibn 'Abbas narrated that the Messenger of Allah (S.A.W) used to seek refuge for Al-Hasan and Al-Husain saying:""U'idhukuma bikalimatillahi-tammati,min kulli shaitanin wa hammatin, wa minkulli'ainin lammah (I seek refuge for the two of you in the Perfect Words of Allah, from every devil and every poisonous pest, and from every harmful eye)." And he would say: "It is with this that Ibrahim would seek refuge for Ishhaq and Ismail [peace be upon them]." Another chain reports a similar narration
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول حسن اور حسین رضی الله عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر جھاڑ پھونک کرتے تھے: «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» ”میں تمہارے لیے اللہ کے مکمل اور پورے کلمات کے وسیلے سے ہر شیطان اور ہلاک کرنے والے زہریلے کیڑے اور نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں“، اور آپ فرماتے تھے: ”اسماعیل اور اسحاق کے لیے اسی طرح ابراہیم علیہم السلام پناہ مانگتے تھے“۔
أبي - رحمه الله - قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن محمد بن الحسن، عن جعفر ابن بشير، عن الحسين بن أبي العلاء، عن عبد الله بن ميسرة، قال: قلت لأبي عبد الله عليه السلام: إنا نقول: اللهم صل على محمد وآل محمد . فيقول قوم: نحن آل محمد فقال: إنما آل محمد من حرم الله عز وجل على محمد نكاحه.
1. My father, may Allah grant him mercy, said: We were told by Sa’d bin Abdullah, from Muhammed bin Hasan, from Ja’far ibn Basheer, from Hussain bin Abi’l-‘Alaa’, from Abdullah bin Maysara, that he said: I said to Abu Abdillah, peace be upon him: We only say: «O Allah, send Your blessings upon Muhammed and the Family of Muhammed» Some people then say: «We are the Family of Muhammed. Then he said: The Family of Muhammed are only those whom Allah, Exalted and Glorious is He, forbade Muhammed to marry.
ابی (رحمہ اللہ) قال: حدثنا سعد بن عبد اللہ، محمد بن الحسن سے، جعفر بن بشیر سے، الحسین بن ابی العلاء سے، عبد اللہ بن میسرة سے، کہا: قلت لأبي عبد اللہ (علیہ السلام): انا نقول: اللہم صل علی محمد وآل محمد۔ فیقول قوم: نحن آل محمد، فقال: انما آل محمد من حرم اللہ عز و جل علی محمد نکاحہ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
90. Amīr al-mu’minīn, peace be upon him, said: The perfect jurist of Islam is he who does not let people lose hope from the mercy of Allāh, does not make them despondent of Allāh’s kindness and does not make them feel safe from Allāh’s punishment.
۹۰ـ اور کہا (علیہ السلام): الفقیہ کل الفقیہ جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے نہ ڈرائے، انہیں اللہ کی روح سے نہ مأیوس کرے، اور انہیں اللہ کے مکر سے محفوظ نہ سمجھائے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallSend him with us to-morrow that he may enjoy himself and play. And lo! we shall take good care of him.
Yusuf Ali"Send him with us tomorrow to enjoy himself and play, and we shall take every care of him."
The agreed readingSend him with us tomorrow, to eat freely and to play, and we will certainly keep him safe.
Urduاسے کل ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ وہ کھلی فضا میں کھائے پیئے اور کھیل کود سے دل بہلائے، اور یقین جانیے ہم خود اس کی پوری حفاظت کریں گے۔
Arabicطلبوا من أبيهم أن يرسل معه يوسف غدا، ليخرج معهم إلى المراعي فيسعى وينشط ويلعب مع أترابه اللعب المباح، وأكدوا له أنهم سيكونون له من الحافظين على كل حال.
PickthallHe said: Lo! in truth it saddens me that ye should take him with you, and I fear less the wolf devour him while ye are heedless of him.
Yusuf Ali(Jacob) said: "Really it saddens me that ye should take him away: I fear lest the wolf should devour him while ye attend not to him."
The agreed readingHe said: it grieves me that you should take him away, and I fear that the wolf will eat him while you are not paying attention to him.
Urduیعقوب علیہ السلام نے فرمایا: مجھے یہ بات رنجیدہ کرتی ہے کہ تم اسے اپنے ساتھ لے جاؤ، اور مجھے ڈر ہے کہ تم اپنی مصروفیت میں لگے رہو اور کوئی بھیڑیا اسے پھاڑ کھائے۔
Arabicقال يعقوب لبنيه: إنه ليحزنني حزنا شديدا أن تذهبوا بيوسف فتفارقني مدة غيابكم عني، وأخاف أن يأكله الذئب وأنتم عنه غافلون منشغلون بما أنتم فيه من لعب ولهو.
PickthallThey said: If the wolf should devour him when we are (so strong) a band, then surely we should have already perished.
Yusuf AliThey said: "If the wolf were to devour him while we are (so large) a party, then should we indeed (first) have perished ourselves!"
The agreed readingThey said: if a wolf ate him while we are a strong band, then we would be losers indeed.
Urduانہوں نے کہا: اگر ہمارے جیسے مضبوط اور طاقتور گروہ کی موجودگی میں بھی بھیڑیا اسے کھا جائے، تو پھر ہم واقعی بڑے ناکارہ اور خسارے میں پڑے ہوئے لوگ ہوں گے۔
Arabicقالوا لأبيهم مؤكدين: لئن أكله الذئب ونحن جماعة أقوياء أشداء، إنا إذا لخاسرون حقا لا خير فينا ولا نفع يرجى منا، فلا داعي لهذا الخوف والقلق عليه.
PickthallThen, when they led him off, and were of one mind that they should place him in the depth of the pit, We inspired in him: Thou wilt tell them of this deed of theirs when they know (thee) not.
Yusuf AliSo they did take him away, and they all agreed to throw him down to the bottom of the well: and We put into his heart (this Message): 'Of a surety thou shalt (one day) tell them the truth of this their affair while they know (thee) not'
The agreed readingSo when they took him away and agreed to put him in the dark bottom of the well, We revealed to him: you will tell them of this deed of theirs at a time when they will not know you.
Urduجب وہ یوسف کو لے گئے اور سب اس بات پر متفق ہو گئے کہ اسے کسی اندھے کنویں کی تہ میں ڈال دیں، تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ ایک وقت آئے گا جب تم انہیں ان کے اس کیے کی خبر دو گے، اور اس وقت وہ تمہیں پہچان بھی نہیں پائیں گے۔
Arabicفلما ذهبوا بيوسف من عند أبيهم وأجمعوا أن يجعلوه في غيابة الجب، أوحينا إليه في تلك الشدة أنه سيأتي يوم يخبرهم فيه بأمرهم هذا وهم لا يعرفونه ولا يشعرون به.
PickthallAnd they came weeping to their father in the evening.
Yusuf AliThen they came to their father in the early part of the night, weeping.
The agreed readingAnd they came to their father at nightfall, weeping, and he came out to them when he heard the sound of it.
Urduوہ لوگ رات کے اندھیرے میں اپنے والد کے پاس روتے ہوئے پہنچے، اور جیسے ہی یعقوب علیہ السلام نے ان کے رونے کی آواز سنی، وہ خود باہر ان کی طرف نکل آئے۔
Arabicجاء إخوة يوسف إلى أبيهم في وقت العشاء وهم يبكون بكاء شديدا، فلما سمع أبوهم يعقوب صوت بكائهم، خرج إليهم مسرعا ليعرف ما الذي أصابهم وما الخبر الذي جاءوا به.
PickthallSaying: O our father! We went racing one with another, and left Joseph by our things, and the wolf devoured him, and thou believest not our saying even when we speak the truth.
Yusuf AliThey said: "O our father! We went racing with one another, and left Joseph with our things; and the wolf devoured him.... But thou wilt never believe us even though we tell the truth."
The agreed readingThey said: our father, we went off racing each other and left Joseph with our things, and the wolf ate him. And you will not believe us, even though we are telling the truth.
Urduانہوں نے کہا: اے ابا جان، ہم آپس میں دوڑ کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہو گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا، پھر بھیڑیا اسے کھا گیا۔ اور اب آپ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے، چاہے ہم سچ ہی کیوں نہ کہہ رہے ہوں۔
Arabicقالوا لأبيهم: يا أبانا، إنا ذهبنا نتسابق في الجري وتركنا يوسف عند متاعنا، فأكله الذئب، وما أنت بمصدق لنا في قولنا هذا ولو كنا صادقين فيما نقول.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, held a race between horses which had been made lean by training, from al-Hafya to Thaniyatu-lWada. He held a race between horses which had not been made lean from the Thaniya (a mountain pass near Madina) to the mosque of the Banu Zurayq. Abdullah ibn Umar was among those who raced them
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط لگائی آگے بڑھنے کی ان گھوڑوں میں جو تیار کئے گئے تھے گھوڑ دوڑ کے لئے خفیا سے ثینہ الوداع تک اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی حدی ثینہ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقرر کی عبداللہ بن عمر بھی گھوڑ دوڑ میں شریک تھے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah organized a race for horses that had been made lean, from Al-Hafya' and its finish line was Thaniyyat Al-Wada', and he organized another race for horses that had not been made lean, from Ath-Thaniyyah to the Masjid of Banu Zuraiq, and 'Abdullah was among those who took part in the race
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدھائے ہوئے گھوڑوں کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ کرایا، ( دوڑ کی ) آخری حد حفیاء سے شروع ہو کر ثنیۃ الوداع تک تھی، ( ایسے ہی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کے درمیان بھی ثنیۃ سے لے کر مسجد بنی زریق کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کرایا جو، غیر تربیت یافتہ تھے ( جو مشقت اور بھوک و تکلیف کے عادی نہ تھے ) ۔ نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اس مقابلے کے دوڑ میں حصہ لیا تھا۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (420) Sahih Muslim (1870)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (420) Sahih Muslim (1870)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (420) Sahih Muslim (1870)
‘Abd Allah bin Umar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) held race between the horses which had been made lean by training from Al Hafya’. The goal was Thaniyyat Al Wada’ and he held a race between the horses Banu Zuraiq and ‘Abd Allaah was one of the racers
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کے درمیان ۱؎حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مقابلہ کرایا، اور غیر چھریرے بدن والے گھوڑوں، کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقابلہ کرایا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مقابلہ کرنے والوں میں سے تھے۔
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said heard Said ibn al-Musayyab say, "There is no harm in placing stakes on horses if a third horse enters it. The winner takes the stake, and there is no fine against the loser
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب کہتے تھے گھوڑ دوڑ کی شرط میں کچھ قباحت نہیں ہے جب دو شخصوں کے بیچ میں ایک اور شخص آجائے اگر وہ آگے بڑھ جائے تو شرط کا روپیہ لے لے اور جب پیچھے رہ کچھ نہ دے ۔
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: If one enters a horse with two others when he is not certain that it cannot be beaten, it is not gambling; but when one enters a horse with two others when he is certain it cannot be beaten, it is gambling
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ایک گھوڑا داخل کر دے اور گھوڑا ایسا ہو کہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین نہ ہو تو وہ جوا نہیں، اور جو شخص ایک گھوڑے کو دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور وہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین رکھتا ہو تو وہ جوا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever enters a horse (in a race) between two other horses, not knowing whether it will win, that is not gambling. But whoever enters a horse (in race) between two other horses, certain that it will win, that is gambling.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دو گھوڑوں کے مابین ایک گھوڑا داخل کیا، اور اسے جیتنے کا یقین نہیں تو یہ جوا نہیں ہے، لیکن جس شخص نے دو گھوڑوں کے مابین ایک گھوڑا داخل کیا، اور اسے جیتنے کا یقین ہے تو یہ جوا ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) ordered for a horse race; the trained horses were to run from a place called Al-Hafya' to Thaniyat Al-Wada` and the horses which were not trained were to run from Al-Thaniya to the Masjid (mosque of) Bani Zuraiq. The sub narrator added: Ibn `Umar was one of those who took part in the race
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہوں نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی جنھیں ( جہاد کے لیے ) تیار کیا گیا تھا مقام حفیاء سے دوڑ کرائی، اس دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع تھی اور جو گھوڑے ابھی تیار نہیں ہوئے تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کرائی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس گھوڑ دوڑ میں شرکت کی تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ، وَكَانَ أَمَدُهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ. وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ سَابَقَ بِهَا. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ أَمَدًا غَايَةً فَطَالَ عَلَيْهِمْ الْأَمَدُ
Narrated `Abdullah:The Prophet (ﷺ) arranged for a horse race of the horses which had not been made lean; the area of the race was from Ath-Thaniya to the mosque of Bani Zuraiq. (The sub-narrator said, "`Abdullah bin `Umar was amongst those who participated in that horse race)
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی تھی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا اور دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق رکھی تھی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔ ابوعبداللہ نے کہا کہ «أمدا» ( حدیث میں ) حد اور انتہا کے معنی میں ہے۔ ( قرآن مجید میں ہے ) «فطال علیہم الامد» یعنی ”پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی“ جو اسی معنی میں ہے۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ لاَ تُسْبَقُ ـ قَالَ حُمَيْدٌ أَوْ لاَ تَكَادُ تُسْبَقُ ـ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، حَتَّى عَرَفَهُ فَقَالَ " حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يَرْتَفِعَ شَىْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ وَضَعَهُ ". طَوَّلَهُ مُوسَى عَنْ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) had a she camel called Al-Adba which could not be excelled in a race. (Humaid, a subnarrator said, "Or could hardly be excelled.") Once a bedouin came riding a camel below six years of age which surpassed it (i.e. Al-`Adba') in the race. The Muslims felt it so much that the Prophet (ﷺ) noticed their distress. He then said, "It is Allah's Law that He brings down whatever rises high in the world
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی یا حمید نے یوں کہا وہ پیچھے رہ جانے کے قریب نہ ہوتی پھر ایک دیہاتی ایک نوجوان ایک قوی اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے ان کا اونٹ آگے نکل گیا۔ مسلمانوں پر یہ بڑا شاق گزرا لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند ہوتی ہے ( کبھی کبھی ) اسے وہ گراتا بھی ہے۔ موسیٰ نے حماد سے اس کی روایت طول کے ساتھ کی ہے، حماد نے ثابت سے، انہوں نے انس رضی …
PickthallAnd they came with false blood on his shirt. He said: Nay, but your minds have beguiled you into something. (My course is) comely patience. And Allah it is Whose help is to be sought in that (predicament) which ye describe.
Yusuf AliThey stained his shirt with false blood. He said: "Nay, but your minds have made up a tale (that may pass) with you, (for me) patience is most fitting: Against that which ye assert, it is Allah (alone) Whose help can be sought"..
The agreed readingAnd they came with false blood on his shirt. He said: no, your souls have made something seem easy to you. Patience is best. And it is God whose help is sought against what you describe.
Urduوہ یوسف کی قمیض پر جھوٹا خون لگا کر لے آئے۔ یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: نہیں، بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بڑی بات کو آسان بنا کر پیش کر دیا ہے۔ اب صبر ہی بہتر ہے، اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔
Arabicوجاؤوا بقميصه ملطخا بدم غير دمه، فقال لهم أبوهم يعقوب: بل زينت لكم أنفسكم أمرا فرأيتموه هينا، فصبر جميل لا شكوى معه، والله المستعان على ما تصفون.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
3. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Hammad ibn ‘Isa from Hariz who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, arrived in Makkah on the day of its liberation, he opened the door of al-Ka‘bah and ordered the pictures that were on the walls deleted. He was then holding the doorjamb on both sides and said, ‘No one except Allah deserves worship. He is the only One and has no partner. He makes His promise to come true, supports His servant, defeats the parties all by Himself alone. What do you say and what do you think?’ They replied, ‘We …
علی بن ابراہیم اپنے باپ سے، حماد بن عیسیٰ سے، حریز سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے فرمایا: جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) مکہ میں داخل ہوئے اس دن جب اس کو فتح کیا، تو بیت اللہ کے دروازے کو کھولا اور اندر کی تصویروں کو مٹانے کا حکم دیا۔ پھر دروازے کی دونوں جانب سے (دروازے کے چھڑ کو) پکڑا اور کہا: کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنے وعدے کو سچ کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکست دی۔ تم کیا کہتے ہو اور کیا خیال کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم آپ کے بارے میں نیکی سے سوچتے ہیں اور نیکی کہتے ہیں۔ آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں اور اب آپ کے پاس طاقت ہے۔ انہوں نے کہا: تو میں اپنے بھائی یوسف …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ، عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ سَهْوَةٌ فِيهَا تَمْرٌ فَكَانَتْ تَجِيءُ الْغُولُ فَتَأْخُذُ مِنْهُ قَالَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَاذْهَبْ فَإِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " . قَالَ فَأَخَذَهَا فَحَلَفَتْ أَنْ لاَ تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ " . قَالَ حَلَفَتْ أَنْ لاَ تَعُودَ فَقَالَ " كَذَبَتْ وَهِيَ …
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Laila:that Abu Ayyub Al-Ansari had a store house in which he kept dates. A ghoul would come and take from it, so he complained about that to the Prophet (ﷺ). So he said: "Go, and when you see her say: 'In the Name of Allah, answer to the Messenger of Allah (ﷺ).'" He said: "So I caught her, and she swore that she would not return, so I released her." He went to the Prophet (ﷺ) and he said: "What did your captive do?" He said: "She swore not to return." He said: "She has lied, and she will come again to lie." He said: "I caught her another time and she swore that she would not return, so I released her, and went to the Prophet (ﷺ)." He said: "What did your …
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کا اپنا ایک احاطہٰ تھا اس میں کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ جن آتا تھا اور اس میں سے اٹھا لے جاتا تھا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ جب دیکھو کہ وہ آیا ہوا ہے تو کہو: بسم اللہ ( اللہ کے نام سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان“، ابوذر رضی الله عنہ نے اسے پکڑ لیا تو وہ قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ مجھے چھوڑ دو، دوبارہ وہ ایسی حرکت نہیں کرے گا، چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا، ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ !“ انہوں نے کہا: اس نے قسمیں کھائیں کہ اب وہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ کہا: وہ جھوٹ بولنے کا عادی ہے“، …
PickthallAnd there came a caravan, and they sent their waterdrawer. He let down his pail (into the pit). He said: Good luck! Here is a youth. And they hid him as a treasure, and Allah was Aware of what they did.
Yusuf AliThen there came a caravan of travellers: they sent their water-carrier (for water), and he let down his bucket (into the well)... He said: "Ah there! Good news! Here is a (fine) young man!" So they concealed him as a treasure! But Allah knoweth well all that they do!
The agreed readingAnd a caravan came, and they sent their water-carrier, and he let down his bucket. He said: good news, here is a boy. And they hid him away as merchandise, and God knew what they were doing.
Urduایک قافلہ وہاں آ پہنچا اور انہوں نے اپنا پانی لانے والا آدمی بھیجا، اس نے اپنا ڈول کنویں میں لٹکایا تو یوسف اس سے چمٹ گئے۔ اس شخص نے خوشی سے کہا: خوشخبری ہو، یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اور انہوں نے اسے مالِ تجارت سمجھ کر چھپا لیا، جبکہ اللہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔
Arabicوجاءت سيارة من المسافرين فأرسلوا واردهم يطلب الماء، فأدلى دلوه في البئر فتعلق به يوسف، فقال: يا بشرى هذا غلام. وأسروه بضاعة يخفونه عن بقية القوم، والله عليم بما يعملون.
PickthallAnd they sold him for a low price, a number of silver coins; and they attached no value to him.
Yusuf AliThe (Brethren) sold him for a miserable price, for a few dirhams counted out: in such low estimation did they hold him!
The agreed readingAnd they sold him for a poor price, a few counted coins, and they set no value on him.
Urduانہوں نے یوسف کو بہت ہی معمولی قیمت پر، چند گنے چنے درہموں کے بدلے بیچ ڈالا، اور انہیں اس کی کوئی خاص قدر و قیمت کا احساس ہی نہیں تھا۔
Arabicوباع إخوة يوسف أخاهم بثمن قليل بخس، دراهم معدودة لا تذكر، وكانوا فيه من الزاهدين الراغبين في التخلص منه، لا يعلمون منزلته عند الله ولا يقدرون قيمته.
PickthallAnd he of Egypt who purchased him said unto his wife: Receive him honourably. Perchance he may prove useful to us or we may adopt him as a son. Thus we established Joseph in the land that We might teach him the interpretation of events. And Allah was predominant in His career, but most of mankind know not.
Yusuf AliThe man in Egypt who bought him, said to his wife: "Make his stay (among us) honourable: may be he will bring us much good, or we shall adopt him as a son." Thus did We establish Joseph in the land, that We might teach him the interpretation of stories (and events). And Allah hath full power and control over His affairs; but most among mankind know it not.
The agreed readingAnd the man of Egypt who bought him said to his wife: make his stay honourable; he may be of use to us, or we may take him as a son. So We settled Joseph in the land, and taught him the reading of dreams. God prevails in His purpose, but most people do not know it.
Urduمصر کے جس شخص نے یوسف کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا: اس کی رہائش کو عزت والا بناؤ، ہو سکتا ہے یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ اسی طرح ہم نے یوسف کو زمین میں اقتدار دیا اور انہیں خوابوں کی تعبیر کا علم سکھایا۔ اللہ اپنے کام پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔
Arabicقال الذي اشتراه من مصر لامرأته: أكرمي مثواه، عسى أن ينفعنا أو نتخذه ولدا. وكذلك مكنا ليوسف في الأرض ولنعلمه من تأويل الأحاديث، والله غالب على أمره ولكن أكثر الناس لا يعلمون.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Abdullah said:"Divorce according to the Sunnah means divorcing her when she is pure, ( i.e., not menstruating) and without having had intercourse with her (during that cycle)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو اس طہر میں ایک طلاق دے جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو ۱؎۔
PickthallAnd she, in whose house he was, asked of him an evil act. She bolted the doors and said: Come! He said: I seek refuge in Allah! Lo! he is my lord, who hath treated me honourably. Lo! wrong-doers never prosper.
Yusuf AliBut she in whose house he was, sought to seduce him from his (true) self: she fastened the doors, and said: "Now come, thou (dear one)!" He said: "Allah forbid! truly (thy husband) is my lord! he made my sojourn agreeable! truly to no good come those who do wrong!"
The agreed readingAnd the woman in whose house he was tried to draw him away from himself. She bolted the doors and said: come. He said: God forbid. He is my master and has made my stay good. Those who do wrong do not succeed.
Urduوہ عورت، جس کے گھر میں یوسف رہتے تھے، انہیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرنے لگی اور اس نے دروازے بند کر لیے اور کہا: آ جاؤ۔ یوسف نے کہا: اللہ کی پناہ، وہ میرے آقا ہیں اور انہوں نے میری رہائش اچھی بنائی ہے، بےشک ظالم لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
Arabicوراودت امرأة العزيز يوسف الذي هو في بيتها عن نفسه، وغلقت الأبواب وقالت: هيت لك. فقال: معاذ الله، إنه ربي أحسن مثواي، إنه لا يفلح الظالمون.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي بِأَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَهُ مَا لَمْ يَعْمَلْهَا فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ بِمِثْلِهَا " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَتِ …
Abu Huraira reported that Muhammad, the Messenger of Allah (ﷺ), said:When it occurs to my bondsman that he should do a good deed but he actually does not do it, record one good to him, but if he puts it into practice, I make an entry of ten good acts in his favour. When it occurs to him to do evil, but he does not commit it, I forgive that. But if he commits it, I record one evil against his name. The Messenger of Allah (ﷺ) observed. The angels said: That bondsman of Yours intends to commit evil. though His Lord is more Vigilant than he. Upon this He (the Lord) said: Watch him; if he commits (evil), write it against his name but if he refrains from doing it, write one good deed or him, for …
ہمام بن منبہ نے روایت کرتے ہوئے کہا : یہ وہ حدیثیں ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ سے سنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث ذکر کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے ، کہا : رسو ل اللہ ﷺنے بتایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرا بندہ ( دل میں ) یہ بات کرتا ہے کہ وہ نیکی کرے گا تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہوں ، جب تک عمل نہ کرے ، پھر اگر اس کوعمل میں لے آئے تو میں اسے دس گناہ لکھ لیتا ہوں اور جب ( دل میں ) برائی کرنے کی بات کرتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں جب تک اس پر عمل نہ کرے ۔ جب وہ اس کو عمل میں لے آئے تو میں اسے اس کے برابر ( ایک ہی برائی ) لکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ اور رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ فرشتوں نے کہا : اے رب ! یہ تیرا بندہ ہے ، برائی کرنا چاہتا ہے او راللہ اس …
PickthallShe verily desired him, and he would have desired her if it had not been that he saw the argument of his Lord. Thus it was, that We might ward off from him evil and lewdness. Lo! he was of Our chosen slaves.
Yusuf AliAnd (with passion) did she desire him, and he would have desired her, but that he saw the evidence of his Lord: thus (did We order) that We might turn away from him (all) evil and shameful deeds: for he was one of Our servants, sincere and purified.
The agreed readingShe was set on him, and he would have been set on her had he not seen the proof of his Lord. So it was, that We might turn evil and indecency away from him. He was one of Our chosen servants.
Urduوہ عورت یوسف کی طرف مائل ہو چکی تھی، اور یوسف بھی اس کی طرف مائل ہو جاتے اگر وہ اپنے رب کی نشانی نہ دیکھ لیتے۔ یہ اس لیے ہوا تاکہ ہم ان سے برائی اور بے حیائی کو دور رکھیں، بےشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے۔
Arabicولقد همت به وهم بها لولا أن رأى برهان ربه العظيم، وكان ذلك لنصرف عنه السوء والفحشاء في كل أموره، إنه كان من عبادنا المخلصين المصطفين لحمل الرسالة.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah, Blessed and Most High, has said - and His saying is the Truth: 'When My slave considers doing something good then write it as one good for him. If he acts upon it then write ten of the same for him. And when he considers doing something evil, then do not write it. If he acts upon it, then write it. If he leaves it" - and perhaps he said: "if he does not act upon it, then write a good reward for him.'" Then he [the Prophet (ﷺ)] recited: Whoever comes with a good, then he shall have ten the like thereof (6:)
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا فرمان برحق ( و درست ) ہے: جب میرا بندہ کسی نیکی کا قصد و ارادہ کرے، تو ( میرے فرشتو! ) اس کے لیے نیکی لکھ لو، اور اگر وہ اس بھلے کام کو کر گزرے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ لو، اور جب وہ کسی برے کام کا ارادہ کرے تو کچھ نہ لکھو، اور اگر وہ برے کام کو کر ڈالے تو صرف ایک گناہ لکھو، پھر اگر وہ اسے چھوڑ دے ( کبھی راوی نے یہ کہا ) اور کبھی یہ کہا ( دوبارہ ) اس گناہ کا ارتکاب نہ کرے ) تو اس کے لیے اس پر بھی ایک نیکی لکھ لو، پھر آپ نے آیت «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ فائدہ ۱؎: ”جس نے نیک کام کیا ہو گا اس کو دس گنا ثواب ملے گا، اور جس نے …
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي بِأَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَهُ مَا لَمْ يَعْمَلْهَا فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ بِمِثْلِهَا " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَتِ …
Abu Huraira reported that Muhammad, the Messenger of Allah (ﷺ), said:When it occurs to my bondsman that he should do a good deed but he actually does not do it, record one good to him, but if he puts it into practice, I make an entry of ten good acts in his favour. When it occurs to him to do evil, but he does not commit it, I forgive that. But if he commits it, I record one evil against his name. The Messenger of Allah (ﷺ) observed. The angels said: That bondsman of Yours intends to commit evil. though His Lord is more Vigilant than he. Upon this He (the Lord) said: Watch him; if he commits (evil), write it against his name but if he refrains from doing it, write one good deed or him, for …
ہمام بن منبہ نے روایت کرتے ہوئے کہا : یہ وہ حدیثیں ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ سے سنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث ذکر کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے ، کہا : رسو ل اللہ ﷺنے بتایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرا بندہ ( دل میں ) یہ بات کرتا ہے کہ وہ نیکی کرے گا تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہوں ، جب تک عمل نہ کرے ، پھر اگر اس کوعمل میں لے آئے تو میں اسے دس گناہ لکھ لیتا ہوں اور جب ( دل میں ) برائی کرنے کی بات کرتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں جب تک اس پر عمل نہ کرے ۔ جب وہ اس کو عمل میں لے آئے تو میں اسے اس کے برابر ( ایک ہی برائی ) لکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ اور رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ فرشتوں نے کہا : اے رب ! یہ تیرا بندہ ہے ، برائی کرنا چاہتا ہے او راللہ اس …
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable: Yusuf bin Ya'qub bin Ishaq bin Ibrahim." He said: "And if I were to have remained in the prison as long as Yusuf, then the messenger came, I would have accepted." Then he recited: When the messenger came to him, he said: "Return to your king and ask him: 'What happened to the women who cut their hands? (12:50)' He said: "May Allah have mercy upon Lut, certainly he used to lean toward powerful support, since he said: "Would that I had strength to overpower you, or that I could betake myself to some powerful support (11:80)." So …
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف باپ کے ( یعنی ) یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ۱؎ کی عظمت اور نجابت و شرافت کا یہ حال تھا کہ جتنے دنوں یوسف علیہ السلام جیل خانے میں رہے ۲؎ اگر میں قید خانے میں رہتا، پھر ( بادشاہ کا ) قاصد مجھے بلانے آتا تو میں اس کی پکار پر فوراً جا حاضر ہوتا، یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کی طلبی کو قبول نہ کیا بلکہ کہا جاؤ پہلے بادشاہ سے پوچھو! ان ”محترمات“ کا اب کیا معاملہ ہے، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ لیے تھے۔ پھر آپ نے آیت: «فلما جاءه الرسول قال ارجع إلى ربك فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن» ۳؎ کی تلاوت فرمائی۔ آپ نے …
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. فَقَالُوا السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الآنَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah created Adam, making him 60 cubits tall. When He created him, He said to him, "Go and greet that group of angels, and listen to their reply, for it will be your greeting (salutation) and the greeting (salutations of your offspring." So, Adam said (to the angels), As-Salamu Alaikum (i.e. Peace be upon you). The angels said, "As-salamu Alaika wa Rahmatu-l-lahi" (i.e. Peace and Allah's Mercy be upon you). Thus the angels added to Adam's salutation the expression, 'Wa Rahmatu-l-lahi,' Any person who will enter Paradise will resemble Adam (in appearance and figure). People have been decreasing in stature since Adam's creation
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کو ساٹھ ہاتھ لمبا بنایا پھر فرمایا کہ جا اور ان ملائکہ کو سلام کر، دیکھنا کن لفظوں میں وہ تمہارے سلام کا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا طریقہ سلام ہو گا۔ آدم علیہ السلام ( گئے اور ) کہا، السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ انہوں نے ورحمۃ اللہ کا جملہ بڑھا دیا، پس جو کوئی بھی جنت میں داخل ہو گا وہ آدم علیہ السلام کی شکل اور قامت پر داخل ہو گا، آدم علیہ السلام کے بعد انسانوں میں اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے۔“
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "A man bought a piece of land from another man, and the buyer found an earthenware jar filled with gold in the land. The buyer said to the seller. 'Take your gold, as I have bought only the land from you, but I have not bought the gold from you.' The (former) owner of the land said, "I have sold you the land with everything in it.' So both of them took their case before a man who asked, 'Do you have children?' One of them said, "I have a boy.' The other said, "I have a girl.' The man said, 'Marry the girl to the boy and spend the money on both of them and give the rest of it in charity
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص نے دوسرے شخص سے مکان خریدا اور مکان کے خریدار کو اس مکان میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا جس سے وہ مکان اس نے خریدا تھا اس سے اس نے کہا بھائی گھڑا لے جا۔ کیونکہ میں نے تم سے گھر خریدا ہے سونا نہیں خریدا تھا۔ لیکن پہلے مالک نے کہا کہ میں نے گھر کو ان تمام چیزوں سمیت تمہیں بیچ دیا تھا جو اس کے اندر موجود ہوں۔ یہ دونوں ایک تیسرے شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا کیا تمہارے کوئی اولاد ہے؟ اس پر ایک نے کہا کہ میرے ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے۔ فیصلہ کرنے …
حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْعَيْنُ حَقٌّ ". وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The evil eye is a fact," and he forbade tattooing
مجھ سے یحییٰ بن ابی بشیر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نظر لگ جانا حق ہے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے سے منع فرمایا۔
PickthallAnd they raced with one another to the door, and she tore his shirt from behind, and they met her lord and master at the door. She said: What shall be his reward, who wisheth evil to thy folk, save prison or a painful doom?
Yusuf AliSo they both raced each other to the door, and she tore his shirt from the back: they both found her lord near the door. She said: "What is the (fitting) punishment for one who formed an evil design against thy wife, but prison or a grievous chastisement?"
The agreed readingAnd they raced to the door, and she tore his shirt from behind, and at the door they found her husband. She said: what is the payment for one who wanted evil for your wife, but prison or a painful punishment?
Urduدونوں دروازے کی طرف دوڑے، اور اس عورت نے پیچھے سے یوسف کی قمیص پھاڑ دی، اور دروازے پر ہی ان دونوں کو اس کا شوہر مل گیا۔ اس نے کہا: جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اس کی سزا قید کے سوا یا دردناک عذاب کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟
Arabicاستبق يوسف والمرأة إلى الباب، فجذبت قميصه من خلفه فشقته، ووجدا زوجها عند الباب. فقالت: ما جزاء من أراد بأهلك سوءا إلا أن يسجن أو عذاب أليم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Pickthall(Joseph) said: She it was who asked of me an evil act. And a witness of her own folk testified: If his shirt is torn from before, then she speaketh truth and he is of the liars.
Yusuf AliHe said: "It was she that sought to seduce me - from my (true) self." And one of her household saw (this) and bore witness, (thus):- "If it be that his shirt is rent from the front, then is her tale true, and he is a liar!
The agreed readingHe said: it was she who tried to draw me away from myself. And a witness from her own people bore witness: if his shirt is torn from the front, then she is telling the truth and he is one of the liars.
Urduیوسف نے کہا: اسی عورت نے مجھے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور اس عورت کے اپنے گھرانے میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر یوسف کی قمیض آگے سے پھٹی ہو تو یہ عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹا ہے۔
Arabicقال يوسف مدافعا عن نفسه: هي التي راودتني عن نفسي، وشهد شاهد من أهلها فقال: إن كان قميصه قد من قبل فصدقت في قولها وهو من الكاذبين.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Zamakhsharī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī and al-Zamakhsharī on this āyah
PickthallAnd if his shirt is torn from behind, then she hath lied and he is of the truthful.
Yusuf Ali"But if it be that his shirt is torn from the back, then is she the liar, and he is telling the truth!"
The agreed readingAnd if his shirt is torn from behind, then she has lied and he is one of the truthful.
Urduاور اگر یوسف کی قمیض پیچھے کی طرف سے پھٹی ہوئی نکلے تو اس سے یہ ثابت ہوگا کہ یہ عورت اپنے الزام میں جھوٹی ہے اور یوسف علیہ السلام سچے اور امانت دار لوگوں میں سے ہیں۔
Arabicوإن ثبت أن قميصه قد من دبر فذلك دليل واضح على أنها هي التي كذبت في قولها واتهامها له، وأن يوسف من الصادقين الأمناء في دعواه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Zamakhsharī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī and al-Zamakhsharī on this āyah
PickthallSo when he saw his shirt torn from behind, he said: Lo! this is of the guile of you women. Lo! the guile of you is very great.
Yusuf AliSo when he saw his shirt,- that it was torn at the back,- (her husband) said: "Behold! It is a snare of you women! truly, mighty is your snare!
The agreed readingSo when he saw his shirt torn from behind, he said: this is from the scheming of you women; your scheming is great indeed.
Urduچنانچہ جب اس نے یوسف کی قمیض پیچھے سے پھٹی ہوئی دیکھی تو کہا: یہ تم عورتوں کی چالبازی میں سے ہے، بےشک تم عورتوں کی چالیں بہت بڑی ہوتی ہیں۔
Arabicفلما رأى زوج المرأة قميص يوسف قد من دبر، علم براءة يوسف مما اتهمته به وقال: إن هذا من كيدكن أيتها النساء، إن كيدكن عظيم لا يستهان به.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Zamakhsharī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī and al-Zamakhsharī on this āyah
PickthallO Joseph! Turn away from this, and thou, (O woman), ask forgiveness for thy sin. Lo! thou art of the faulty.
Yusuf Ali"O Joseph, pass this over! (O wife), ask forgiveness for thy sin, for truly thou hast been at fault!"
The agreed readingJoseph, turn away from this and say nothing of it. And you, ask forgiveness for your sin; you were one of those at fault.
Urduاے یوسف، اس بات کو یہیں چھوڑ دو اور اس کا کسی سے ذکر مت کرو۔ اور اے عورت، تم اپنے گناہ کی معافی مانگو، بےشک تم ہی خطاکاروں میں سے تھیں۔
Arabicقال العزيز: يا يوسف أعرض عن هذا الأمر ولا تذكره لأحد أبدا، واستغفري لذنبك أيتها المرأة، إنك كنت حقا من الخاطئين المذنبين في مراودتك إياه وافترائك عليه.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Uqbah bin Amir narrated that The Messenger of Allah said:“Beware of entering upon women.” So a man from the Ansar said: ‘”O Messenger of Allah! What do you think about Hamu? So he said: “The Hamu is death.”
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کے پاس خلوت ( تنہائی ) میں آنے سے بچو“، اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! دیور ( شوہر کے بھائی ) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: ”دیور موت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، جابر اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- عورتوں کے پاس خلوت ( تنہائی ) میں آنے کی حرمت کا مطلب وہی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت ( تنہائی ) میں ہوتا ہے تو اس کا تیسرا شیطان ہوتا ہے“، ۴- «حمو» شوہر کے بھائی یعنی دیور کو کہتے ہیں، گویا آپ نے دیور کے بھاوج کے ساتھ تنہائی …
Uqba b. `Amir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Beware of getting, into the houses and meeting women (in seclusion). A person from the Ansar said: Allah's Messenger, what about husband's brother, whereupon he (ﷺ) said: Husband's brother is like death
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا : ہمیں لیث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی ، انھوں نے ابو الخیر سے ، انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تم ( اجنبی ) عورتوں کے ہاں جانے سے بچو ۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! دیور/جیٹھ کے متعلق آپ کا کیاخیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " دیور/جیٹھ تو موت ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي بِأَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَهُ مَا لَمْ يَعْمَلْهَا فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ بِمِثْلِهَا " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَتِ …
Abu Huraira reported that Muhammad, the Messenger of Allah (ﷺ), said:When it occurs to my bondsman that he should do a good deed but he actually does not do it, record one good to him, but if he puts it into practice, I make an entry of ten good acts in his favour. When it occurs to him to do evil, but he does not commit it, I forgive that. But if he commits it, I record one evil against his name. The Messenger of Allah (ﷺ) observed. The angels said: That bondsman of Yours intends to commit evil. though His Lord is more Vigilant than he. Upon this He (the Lord) said: Watch him; if he commits (evil), write it against his name but if he refrains from doing it, write one good deed or him, for …
ہمام بن منبہ نے روایت کرتے ہوئے کہا : یہ وہ حدیثیں ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ سے سنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث ذکر کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے ، کہا : رسو ل اللہ ﷺنے بتایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرا بندہ ( دل میں ) یہ بات کرتا ہے کہ وہ نیکی کرے گا تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہوں ، جب تک عمل نہ کرے ، پھر اگر اس کوعمل میں لے آئے تو میں اسے دس گناہ لکھ لیتا ہوں اور جب ( دل میں ) برائی کرنے کی بات کرتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں جب تک اس پر عمل نہ کرے ۔ جب وہ اس کو عمل میں لے آئے تو میں اسے اس کے برابر ( ایک ہی برائی ) لکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ اور رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ فرشتوں نے کہا : اے رب ! یہ تیرا بندہ ہے ، برائی کرنا چاہتا ہے او راللہ اس …
PickthallAnd women in the city said: The ruler's wife is asking of her slave-boy an ill-deed. Indeed he has smitten her to the heart with love. We behold her in plain aberration.
Yusuf AliLadies said in the City: "The wife of the (great) 'Aziz is seeking to seduce her slave from his (true) self: Truly hath he inspired her with violent love: we see she is evidently going astray."
The agreed readingAnd some women in the city said: the wife of the governor is trying to draw her servant away from himself. He has pierced her to the heart with love. We see her plainly in the wrong.
Urduشہر کی کچھ عورتوں نے کہا: عزیز مصر کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس کی محبت اس کے دل میں گھر کر چکی ہے، ہم تو اسے صریح گمراہی میں دیکھتی ہیں۔
Arabicقال نسوة في المدينة يتحدثن بالأمر فيما بينهن: امرأة العزيز تراود فتاها عن نفسه، قد شغفها حبا شديدا، إنا لنراها في هذا الأمر في ضلال مبين واضح.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Hafs bin 'Asim narrated from Abu Hurairah or Abu Sa'eed that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Seven shall be shaded by Allah under his shade on a day in which there is no shade except His Shade: A just Imam, a young person raised upon worshiping Allah, a man whose heart is attached to the Masjid when he leaves from it until he returns from it, two men who love each other for Allah's sake, coming together upon that, and parting upon that, a man who remembers Allah in privacy and his eyes swell with tears, a man invited by a woman of status and beauty, but he says: 'I fear Allah, Mighty and Sublime is He,' and a man who conceals the charity he gives such that his left hand does not know …
ابوہریرہ یا ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب اس کے ( عرش کے ) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا: ان میں سے ایک انصاف کرنے والا حکمراں ہے، دوسرا وہ نوجوان ہے جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ۱؎، تیسرا وہ شخص ہے جس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہو ۲؎ چوتھا وہ دو آدمی جنہوں نے صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی، اسی کے واسطے جمع ہوتے ہیں اور اسی کے واسطے الگ ہوتے ہیں ۳؎، پانچواں وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کرے اور عذاب الٰہی کے خوف میں آنسو بہائے، چھٹا وہ آدمی جسے خوبصورت عورت گناہ کی دعوت دے، لیکن وہ کہے کہ مجھے اللہ کا خوف ہے، ساتواں وہ آدمی جس …
Yahya related to me from Malik from Khubayb ibn Abd ar-Rahman al- Ansari from Hafs ibn Asim that either Abu Said al-Khudri or Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'There are seven whom Allah will shade in His shade on the day on which there is no shade except His shade:a just imam, a youth who grows up worshipping Allah, a man whose heart is attached to the mosque when he leaves it until he returns to it, two men who love each other in Allah and meet for that and part for that, a man who remembers Allah when he is alone and his eyes overflow with tears, a man who refuses the approaches of a noble, beautiful woman, saying "I fear Allah," …
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سات شخص جن کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ایک تو منصف حاکم دوسرے وہ جوان جو جوانی کی امنگ ہی سے اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں تیسرے وہ مرد جس کا دل مسجد میں لگا رہے جب کہ نکلے پھر آنے تک چوتھے وہ دو مرد جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں تو اسی پر جدا ہوتے ہیں تو اسی پر ملتے ہیں، پانچویں وہ مرد جس نے اللہ کو یاد کیا تنہائی میں دونوں آنکھوں سے اس کی آنسو بہہ نکلے، چھٹے وہ مرد جس کو شریف خوبصورت عورت نے بد فعلی کے لئے بلایا وہ بولا مجھے خوف ہے اللہ کا جو پالنے والا ہے سارے جہان کا ساتویں وہ مرد جس نے خیرات کی چھپا کر یہاں تک کہ جو داہنے ہاتھ سے …
It was narrated from Abu Hurairah that :The Messenger of Allah [SAW] said: "There are seven whom Allah, the Mighty and Sublime, will shade with His shade on the Day of Resurrection, the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a young man who grows up worshipping Allah, the Mighty and Sublime; a man who remembers Allah when he is alone and his eyes flow (with tears); a man whose heart is attached to the Masjid; two men who love each other for the sake of Allah, the Mighty and Sublime; a man who is called (to commit sin) by a woman of high status and beauty, but he says: 'I fear Allah'; and a man who gives charity and conceals it, so that his left hand does not know what his …
سوید بن نصر نے ہمیں خبر دی، کہا: عبداللہ نے ہمیں خبر دی، عبیداللہ سے، خبیب بن عبدالرحمن سے، حفص بن عاصم سے، ابو ہریرہ سے، کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: سات (لوگ ہیں) جنہیں اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے سائے میں رکھے گا، اس دن جب کہ اس کے سائے کے علاوہ کوئی سائے نہیں: ایک عادل امام، اور ایک نوجوان جو اللہ عز و جل کی عبادت میں بڑھا، اور ایک شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ گئے، اور ایک شخص جس کا دل مسجد سے معلق ہے، اور دو شخص جو اللہ عز و جل کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور ایک شخص جسے ایک عورت جو بلند منصب اور حسن کی مالک ہے اپنے پاس بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ عز و جل سے ڈرتا ہوں، اور ایک شخص جس نے صدقہ دیا اور اسے چھپایا یہاں تک کہ اس …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Seven (people) will be shaded by Allah by His Shade on the Day of Resurrection when there will be no shade except His Shade. (They will be), a just ruler, a young man who has been brought up in the worship of Allah, a man who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears, a man whose heart is attached to mosques (offers his compulsory congregational prayers in the mosque), two men who love each other for Allah's Sake, a man who is called by a charming lady of noble birth to commit illegal sexual intercourse with her, and he says, 'I am afraid of Allah,' and (finally), a man who gives in charity so secretly that his left …
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر عمری نے، انہیں خبیب بن عبدالرحمٰن نے، انہیں حفص بن عاصم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Abu Ghuddah: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، رضى الله عنه أَنَّهُ نَشَدَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ كُنْتُ بَيْنَ حُجْرَتَىِ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا فَقَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا .
Amr bin Dinar narrated that:he heard Tawus narrate from Ibn 'Abbas, from 'Umar, may Allah be pleased with him, that he asked about the ruling of the Messenger of Allah concerning that. Hamal bin Malik stood up and said: "I was married to two women, and one of them struck the other with a tent pole and killed her and her fetus. The Prophet ruled that a slave be given (as Diyah) for her fetus and that she be killed (for killing the other woman)
یوسف بن سعید نے ہمیں خبر دی، کہا: حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث بیان کی، ابن جریج سے، کہا: عمرو بن دینار نے مجھے خبر دیا کہ وہ طاؤس سے سنتے تھے، جو ابن عباس سے حدیث بیان کرتے تھے، عمر رضی الله عنہ سے، کہ اس نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے حکم کے بارے میں پوچھا۔ تو حمل بن مالک کھڑے ہوئے اور کہا: میں دو عورتوں کے خیموں کے درمیان تھا، تو ان میں سے ایک نے دوسری کو ایک سائے کے ساتھ مارا اور اسے اور اس کے بچے کو قتل کر دیا۔ تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس کے بچے کے بارے میں ایک لونڈی سے فیصلہ دیا اور (حکم دیا) کہ وہ اس کے ساتھ قتل کر دی جائے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:Seven are (the persons) whom Allah would give protection with His Shade on the Day when there would be no shade but that of Him (i. e. on the Day of Judgment, and they are): a just ruler, a youth who grew up with the worship of Allah; a person whose heart is attached to the mosques; two persons who love and meet each other and depart from each other for the sake of Allah; a man whom a beautiful woman of high rank seduces (for illicit relation), but he (rejects this offer by saying):" I fear Allah" ; a person who gives charity and conceals it (to such an extent) that the right hand does not know what the left has given: and a …
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ما یا کرتے تھے : " اے مسلما ن عورتو! کو ئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے ( تحفےکو ) حقیر نہ سمجھے چا ہے وہ بکری کا ایک کھر ہو ۔ ( جو میسر ہے بھیج دو)
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will give shade, to seven, on the Day when there will be no shade but His. (These seven persons are) a just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah (i.e. worships Allah sincerely from childhood), a man whose heart is attached to the mosques (i.e. to pray the compulsory prayers in the mosque in congregation), two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: I am afraid of Allah, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his …
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ بن عمر عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اول انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی «للهى» ( اللہ کے لیے محبت ) محبت ہے، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت …
PickthallAnd when she heard of their sly talk, she sent to them and prepared for them a cushioned couch (to lie on at the feast) and gave to every one of them a knife and said (to Joseph): Come out unto them! And when they saw him they exalted him and cut their hands, exclaiming: Allah Blameless! This is no a human being. This is not other than some gracious angel.
Yusuf AliWhen she heard of their malicious talk, she sent for them and prepared a banquet for them: she gave each of them a knife: and she said (to Joseph), "Come out before them." When they saw him, they did extol him, and (in their amazement) cut their hands: they said, "Allah preserve us! no mortal is this! this is none other than a noble angel!"
The agreed readingSo when she heard of their scheming talk, she sent for them and prepared a banquet for them where they might recline, and gave each of them a knife. And she said to Joseph: come out to them. When they saw him they thought him great, and cut their hands, and said: God preserve us, this is no mortal; this is nothing but a noble angel.
Urduجب اس عورت نے ان کی طعنہ زنی سنی تو اس نے انہیں اپنے ہاں دعوت پر بلایا اور ان کے لیے تکیوں والی نشستیں تیار کیں اور ہر ایک کو ایک چھری دے دی، پھر یوسف سے کہا: ان کے سامنے آ جاؤ۔ جب انہوں نے یوسف کو دیکھا تو ان کے حسن پر ششدر رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بےساختہ کہہ اٹھیں: اللہ کی پناہ، یہ تو انسان نہیں بلکہ ایک باعزت فرشتہ ہے۔
Arabicفلما سمعت امرأة العزيز بمكرهن وحديثهن عنها، أرسلت إليهن ودعتهن إلى وليمة، وأعدت لهن متكأ يتكئن عليه وآتت كل واحدة منهن سكينا لتقطيع الطعام، ثم قالت ليوسف: اخرج عليهن. فلما رأينه أكبرنه وأعظمنه وقطعن أيديهن من شدة الدهشة، وقلن: حاش لله ما هذا بشرا، إن هذا إلا ملك كريم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Hafs bin 'Asim narrated from Abu Hurairah or Abu Sa'eed that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Seven shall be shaded by Allah under his shade on a day in which there is no shade except His Shade: A just Imam, a young person raised upon worshiping Allah, a man whose heart is attached to the Masjid when he leaves from it until he returns from it, two men who love each other for Allah's sake, coming together upon that, and parting upon that, a man who remembers Allah in privacy and his eyes swell with tears, a man invited by a woman of status and beauty, but he says: 'I fear Allah, Mighty and Sublime is He,' and a man who conceals the charity he gives such that his left hand does not know …
ابوہریرہ یا ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب اس کے ( عرش کے ) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا: ان میں سے ایک انصاف کرنے والا حکمراں ہے، دوسرا وہ نوجوان ہے جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ۱؎، تیسرا وہ شخص ہے جس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہو ۲؎ چوتھا وہ دو آدمی جنہوں نے صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی، اسی کے واسطے جمع ہوتے ہیں اور اسی کے واسطے الگ ہوتے ہیں ۳؎، پانچواں وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کرے اور عذاب الٰہی کے خوف میں آنسو بہائے، چھٹا وہ آدمی جسے خوبصورت عورت گناہ کی دعوت دے، لیکن وہ کہے کہ مجھے اللہ کا خوف ہے، ساتواں وہ آدمی جس …
Yahya related to me from Malik from Khubayb ibn Abd ar-Rahman al- Ansari from Hafs ibn Asim that either Abu Said al-Khudri or Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'There are seven whom Allah will shade in His shade on the day on which there is no shade except His shade:a just imam, a youth who grows up worshipping Allah, a man whose heart is attached to the mosque when he leaves it until he returns to it, two men who love each other in Allah and meet for that and part for that, a man who remembers Allah when he is alone and his eyes overflow with tears, a man who refuses the approaches of a noble, beautiful woman, saying "I fear Allah," …
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سات شخص جن کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ایک تو منصف حاکم دوسرے وہ جوان جو جوانی کی امنگ ہی سے اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں تیسرے وہ مرد جس کا دل مسجد میں لگا رہے جب کہ نکلے پھر آنے تک چوتھے وہ دو مرد جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں تو اسی پر جدا ہوتے ہیں تو اسی پر ملتے ہیں، پانچویں وہ مرد جس نے اللہ کو یاد کیا تنہائی میں دونوں آنکھوں سے اس کی آنسو بہہ نکلے، چھٹے وہ مرد جس کو شریف خوبصورت عورت نے بد فعلی کے لئے بلایا وہ بولا مجھے خوف ہے اللہ کا جو پالنے والا ہے سارے جہان کا ساتویں وہ مرد جس نے خیرات کی چھپا کر یہاں تک کہ جو داہنے ہاتھ سے …
It was narrated from Abu Hurairah that :The Messenger of Allah [SAW] said: "There are seven whom Allah, the Mighty and Sublime, will shade with His shade on the Day of Resurrection, the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a young man who grows up worshipping Allah, the Mighty and Sublime; a man who remembers Allah when he is alone and his eyes flow (with tears); a man whose heart is attached to the Masjid; two men who love each other for the sake of Allah, the Mighty and Sublime; a man who is called (to commit sin) by a woman of high status and beauty, but he says: 'I fear Allah'; and a man who gives charity and conceals it, so that his left hand does not know what his …
سوید بن نصر نے ہمیں خبر دی، کہا: عبداللہ نے ہمیں خبر دی، عبیداللہ سے، خبیب بن عبدالرحمن سے، حفص بن عاصم سے، ابو ہریرہ سے، کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: سات (لوگ ہیں) جنہیں اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے سائے میں رکھے گا، اس دن جب کہ اس کے سائے کے علاوہ کوئی سائے نہیں: ایک عادل امام، اور ایک نوجوان جو اللہ عز و جل کی عبادت میں بڑھا، اور ایک شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ گئے، اور ایک شخص جس کا دل مسجد سے معلق ہے، اور دو شخص جو اللہ عز و جل کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور ایک شخص جسے ایک عورت جو بلند منصب اور حسن کی مالک ہے اپنے پاس بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ عز و جل سے ڈرتا ہوں، اور ایک شخص جس نے صدقہ دیا اور اسے چھپایا یہاں تک کہ اس …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Seven (people) will be shaded by Allah by His Shade on the Day of Resurrection when there will be no shade except His Shade. (They will be), a just ruler, a young man who has been brought up in the worship of Allah, a man who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears, a man whose heart is attached to mosques (offers his compulsory congregational prayers in the mosque), two men who love each other for Allah's Sake, a man who is called by a charming lady of noble birth to commit illegal sexual intercourse with her, and he says, 'I am afraid of Allah,' and (finally), a man who gives in charity so secretly that his left …
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر عمری نے، انہیں خبیب بن عبدالرحمٰن نے، انہیں حفص بن عاصم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ …
Narrated Jabir [bin 'Abdullah]:that he heard Mu'awiyah bin Abi Sufyan giving a Khutbah, saying: "The Messenger of Allah (ﷺ) died when he was sixty-three years old, and so did Abu Bakr and 'Umar, and I am sixty-three years old
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی ( اس وقت ) ترسٹھ سال کا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated that Abdullah said:"Divorce according to the Sunnah means divorcing her when she is pure, ( i.e., not menstruating) and without having had intercourse with her (during that cycle)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو اس طہر میں ایک طلاق دے جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو ۱؎۔
PickthallShe said: This is he on whose account ye blamed me. I asked of him an evil act, but he proved continent, but if he do not my behest he verily shall be imprisoned, and verily shall be of those brought low.
Yusuf AliShe said: "There before you is the man about whom ye did blame me! I did seek to seduce him from his (true) self but he did firmly save himself guiltless!.... and now, if he doth not my bidding, he shall certainly be cast into prison, and (what is more) be of the company of the vilest!"
The agreed readingShe said: this is the one you blamed me over. I did try to draw him away from himself, and he held back. And if he does not do what I order him, he will be put in prison and be brought low.
Urduاس نے کہا: یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں۔ بےشک میں نے اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ بچ نکلا۔ اور اگر اس نے میرا حکم نہ مانا تو یہ ضرور قید کیا جائے گا اور ذلیل لوگوں میں شامل ہو جائے گا۔
Arabicقالت لهن مفتخرة: فذلكن الذي لمتنني فيه ولمتنني في حبه، ولقد راودته عن نفسه فاستعصم وأبى، ولئن لم يفعل ما آمره به مستقبلا ليسجنن وليكونن من الصاغرين الأذلاء.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Hafs bin 'Asim narrated from Abu Hurairah or Abu Sa'eed that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Seven shall be shaded by Allah under his shade on a day in which there is no shade except His Shade: A just Imam, a young person raised upon worshiping Allah, a man whose heart is attached to the Masjid when he leaves from it until he returns from it, two men who love each other for Allah's sake, coming together upon that, and parting upon that, a man who remembers Allah in privacy and his eyes swell with tears, a man invited by a woman of status and beauty, but he says: 'I fear Allah, Mighty and Sublime is He,' and a man who conceals the charity he gives such that his left hand does not know …
ابوہریرہ یا ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب اس کے ( عرش کے ) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا: ان میں سے ایک انصاف کرنے والا حکمراں ہے، دوسرا وہ نوجوان ہے جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ۱؎، تیسرا وہ شخص ہے جس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہو ۲؎ چوتھا وہ دو آدمی جنہوں نے صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی، اسی کے واسطے جمع ہوتے ہیں اور اسی کے واسطے الگ ہوتے ہیں ۳؎، پانچواں وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کرے اور عذاب الٰہی کے خوف میں آنسو بہائے، چھٹا وہ آدمی جسے خوبصورت عورت گناہ کی دعوت دے، لیکن وہ کہے کہ مجھے اللہ کا خوف ہے، ساتواں وہ آدمی جس …
Yahya related to me from Malik from Khubayb ibn Abd ar-Rahman al- Ansari from Hafs ibn Asim that either Abu Said al-Khudri or Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'There are seven whom Allah will shade in His shade on the day on which there is no shade except His shade:a just imam, a youth who grows up worshipping Allah, a man whose heart is attached to the mosque when he leaves it until he returns to it, two men who love each other in Allah and meet for that and part for that, a man who remembers Allah when he is alone and his eyes overflow with tears, a man who refuses the approaches of a noble, beautiful woman, saying "I fear Allah," …
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سات شخص جن کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ایک تو منصف حاکم دوسرے وہ جوان جو جوانی کی امنگ ہی سے اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں تیسرے وہ مرد جس کا دل مسجد میں لگا رہے جب کہ نکلے پھر آنے تک چوتھے وہ دو مرد جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں تو اسی پر جدا ہوتے ہیں تو اسی پر ملتے ہیں، پانچویں وہ مرد جس نے اللہ کو یاد کیا تنہائی میں دونوں آنکھوں سے اس کی آنسو بہہ نکلے، چھٹے وہ مرد جس کو شریف خوبصورت عورت نے بد فعلی کے لئے بلایا وہ بولا مجھے خوف ہے اللہ کا جو پالنے والا ہے سارے جہان کا ساتویں وہ مرد جس نے خیرات کی چھپا کر یہاں تک کہ جو داہنے ہاتھ سے …
It was narrated from Abu Hurairah that :The Messenger of Allah [SAW] said: "There are seven whom Allah, the Mighty and Sublime, will shade with His shade on the Day of Resurrection, the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a young man who grows up worshipping Allah, the Mighty and Sublime; a man who remembers Allah when he is alone and his eyes flow (with tears); a man whose heart is attached to the Masjid; two men who love each other for the sake of Allah, the Mighty and Sublime; a man who is called (to commit sin) by a woman of high status and beauty, but he says: 'I fear Allah'; and a man who gives charity and conceals it, so that his left hand does not know what his …
سوید بن نصر نے ہمیں خبر دی، کہا: عبداللہ نے ہمیں خبر دی، عبیداللہ سے، خبیب بن عبدالرحمن سے، حفص بن عاصم سے، ابو ہریرہ سے، کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: سات (لوگ ہیں) جنہیں اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے سائے میں رکھے گا، اس دن جب کہ اس کے سائے کے علاوہ کوئی سائے نہیں: ایک عادل امام، اور ایک نوجوان جو اللہ عز و جل کی عبادت میں بڑھا، اور ایک شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ گئے، اور ایک شخص جس کا دل مسجد سے معلق ہے، اور دو شخص جو اللہ عز و جل کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور ایک شخص جسے ایک عورت جو بلند منصب اور حسن کی مالک ہے اپنے پاس بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ عز و جل سے ڈرتا ہوں، اور ایک شخص جس نے صدقہ دیا اور اسے چھپایا یہاں تک کہ اس …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Seven (people) will be shaded by Allah by His Shade on the Day of Resurrection when there will be no shade except His Shade. (They will be), a just ruler, a young man who has been brought up in the worship of Allah, a man who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears, a man whose heart is attached to mosques (offers his compulsory congregational prayers in the mosque), two men who love each other for Allah's Sake, a man who is called by a charming lady of noble birth to commit illegal sexual intercourse with her, and he says, 'I am afraid of Allah,' and (finally), a man who gives in charity so secretly that his left …
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر عمری نے، انہیں خبیب بن عبدالرحمٰن نے، انہیں حفص بن عاصم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ …
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:Seven are (the persons) whom Allah would give protection with His Shade on the Day when there would be no shade but that of Him (i. e. on the Day of Judgment, and they are): a just ruler, a youth who grew up with the worship of Allah; a person whose heart is attached to the mosques; two persons who love and meet each other and depart from each other for the sake of Allah; a man whom a beautiful woman of high rank seduces (for illicit relation), but he (rejects this offer by saying):" I fear Allah" ; a person who gives charity and conceals it (to such an extent) that the right hand does not know what the left has given: and a …
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ما یا کرتے تھے : " اے مسلما ن عورتو! کو ئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے ( تحفےکو ) حقیر نہ سمجھے چا ہے وہ بکری کا ایک کھر ہو ۔ ( جو میسر ہے بھیج دو)
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will give shade, to seven, on the Day when there will be no shade but His. (These seven persons are) a just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah (i.e. worships Allah sincerely from childhood), a man whose heart is attached to the mosques (i.e. to pray the compulsory prayers in the mosque in congregation), two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: I am afraid of Allah, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his …
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ بن عمر عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اول انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی «للهى» ( اللہ کے لیے محبت ) محبت ہے، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت …
PickthallHe said: O my Lord! Prison is more dear than that unto which they urge me, and if Thou fend not off their wiles from me I shall incline unto them and become of the foolish.
Yusuf AliHe said: "O my Lord! the prison is more to my liking than that to which they invite me: Unless Thou turn away their snare from me, I should (in my youthful folly) feel inclined towards them and join the ranks of the ignorant."
The agreed readingHe said: my Lord, prison is dearer to me than what they call me to. And unless You turn their scheming away from me, I will lean towards them and be one of the ignorant.
Urduیوسف نے دعا کی: اے میرے رب، جس کام کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس سے تو قید مجھے زیادہ پسند ہے۔ اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے نہ ہٹایا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور نادان لوگوں میں شامل ہو جاؤں گا۔
Arabicقال يوسف داعيا ربه: يا رب، السجن أحب إلي مما يدعونني إليه من الفاحشة، وإلا تصرف عني كيدهن أصب إليهن وأكن من الجاهلين الذين لا يعرفون عاقبة أمرهم.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Hafs bin 'Asim narrated from Abu Hurairah or Abu Sa'eed that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Seven shall be shaded by Allah under his shade on a day in which there is no shade except His Shade: A just Imam, a young person raised upon worshiping Allah, a man whose heart is attached to the Masjid when he leaves from it until he returns from it, two men who love each other for Allah's sake, coming together upon that, and parting upon that, a man who remembers Allah in privacy and his eyes swell with tears, a man invited by a woman of status and beauty, but he says: 'I fear Allah, Mighty and Sublime is He,' and a man who conceals the charity he gives such that his left hand does not know …
ابوہریرہ یا ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب اس کے ( عرش کے ) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا: ان میں سے ایک انصاف کرنے والا حکمراں ہے، دوسرا وہ نوجوان ہے جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ۱؎، تیسرا وہ شخص ہے جس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہو ۲؎ چوتھا وہ دو آدمی جنہوں نے صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی، اسی کے واسطے جمع ہوتے ہیں اور اسی کے واسطے الگ ہوتے ہیں ۳؎، پانچواں وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کرے اور عذاب الٰہی کے خوف میں آنسو بہائے، چھٹا وہ آدمی جسے خوبصورت عورت گناہ کی دعوت دے، لیکن وہ کہے کہ مجھے اللہ کا خوف ہے، ساتواں وہ آدمی جس …
Yahya related to me from Malik from Khubayb ibn Abd ar-Rahman al- Ansari from Hafs ibn Asim that either Abu Said al-Khudri or Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'There are seven whom Allah will shade in His shade on the day on which there is no shade except His shade:a just imam, a youth who grows up worshipping Allah, a man whose heart is attached to the mosque when he leaves it until he returns to it, two men who love each other in Allah and meet for that and part for that, a man who remembers Allah when he is alone and his eyes overflow with tears, a man who refuses the approaches of a noble, beautiful woman, saying "I fear Allah," …
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سات شخص جن کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ایک تو منصف حاکم دوسرے وہ جوان جو جوانی کی امنگ ہی سے اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں تیسرے وہ مرد جس کا دل مسجد میں لگا رہے جب کہ نکلے پھر آنے تک چوتھے وہ دو مرد جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں تو اسی پر جدا ہوتے ہیں تو اسی پر ملتے ہیں، پانچویں وہ مرد جس نے اللہ کو یاد کیا تنہائی میں دونوں آنکھوں سے اس کی آنسو بہہ نکلے، چھٹے وہ مرد جس کو شریف خوبصورت عورت نے بد فعلی کے لئے بلایا وہ بولا مجھے خوف ہے اللہ کا جو پالنے والا ہے سارے جہان کا ساتویں وہ مرد جس نے خیرات کی چھپا کر یہاں تک کہ جو داہنے ہاتھ سے …
It was narrated from Abu Hurairah that :The Messenger of Allah [SAW] said: "There are seven whom Allah, the Mighty and Sublime, will shade with His shade on the Day of Resurrection, the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a young man who grows up worshipping Allah, the Mighty and Sublime; a man who remembers Allah when he is alone and his eyes flow (with tears); a man whose heart is attached to the Masjid; two men who love each other for the sake of Allah, the Mighty and Sublime; a man who is called (to commit sin) by a woman of high status and beauty, but he says: 'I fear Allah'; and a man who gives charity and conceals it, so that his left hand does not know what his …
سوید بن نصر نے ہمیں خبر دی، کہا: عبداللہ نے ہمیں خبر دی، عبیداللہ سے، خبیب بن عبدالرحمن سے، حفص بن عاصم سے، ابو ہریرہ سے، کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: سات (لوگ ہیں) جنہیں اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے سائے میں رکھے گا، اس دن جب کہ اس کے سائے کے علاوہ کوئی سائے نہیں: ایک عادل امام، اور ایک نوجوان جو اللہ عز و جل کی عبادت میں بڑھا، اور ایک شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ گئے، اور ایک شخص جس کا دل مسجد سے معلق ہے، اور دو شخص جو اللہ عز و جل کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور ایک شخص جسے ایک عورت جو بلند منصب اور حسن کی مالک ہے اپنے پاس بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ عز و جل سے ڈرتا ہوں، اور ایک شخص جس نے صدقہ دیا اور اسے چھپایا یہاں تک کہ اس …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Seven (people) will be shaded by Allah by His Shade on the Day of Resurrection when there will be no shade except His Shade. (They will be), a just ruler, a young man who has been brought up in the worship of Allah, a man who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears, a man whose heart is attached to mosques (offers his compulsory congregational prayers in the mosque), two men who love each other for Allah's Sake, a man who is called by a charming lady of noble birth to commit illegal sexual intercourse with her, and he says, 'I am afraid of Allah,' and (finally), a man who gives in charity so secretly that his left …
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر عمری نے، انہیں خبیب بن عبدالرحمٰن نے، انہیں حفص بن عاصم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ …
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:Seven are (the persons) whom Allah would give protection with His Shade on the Day when there would be no shade but that of Him (i. e. on the Day of Judgment, and they are): a just ruler, a youth who grew up with the worship of Allah; a person whose heart is attached to the mosques; two persons who love and meet each other and depart from each other for the sake of Allah; a man whom a beautiful woman of high rank seduces (for illicit relation), but he (rejects this offer by saying):" I fear Allah" ; a person who gives charity and conceals it (to such an extent) that the right hand does not know what the left has given: and a …
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ما یا کرتے تھے : " اے مسلما ن عورتو! کو ئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے ( تحفےکو ) حقیر نہ سمجھے چا ہے وہ بکری کا ایک کھر ہو ۔ ( جو میسر ہے بھیج دو)
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will give shade, to seven, on the Day when there will be no shade but His. (These seven persons are) a just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah (i.e. worships Allah sincerely from childhood), a man whose heart is attached to the mosques (i.e. to pray the compulsory prayers in the mosque in congregation), two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: I am afraid of Allah, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his …
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ بن عمر عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اول انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی «للهى» ( اللہ کے لیے محبت ) محبت ہے، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت …
PickthallSo his Lord heard his prayer and fended off their wiles from him. Lo! He is Hearer, Knower.
Yusuf AliSo his Lord hearkened to him (in his prayer), and turned away from him their snare: Verily He heareth and knoweth (all things).
The agreed readingSo his Lord answered him and turned their scheming away from him. He hears all and knows all.
Urduچنانچہ ان کے رب نے ان کی دعا قبول کر لی اور ان عورتوں کی چالوں کو ان سے پھیر دیا۔ بےشک وہ ہر بات سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
Arabicفاستجاب الله دعاء يوسف، فصرف عنه كيد امرأة العزيز وصواحباتها ودفع عنه شرهن جميعا، إنه هو السميع لدعاء الداعين، العليم بأحوالهم وما يصلحهم في كل أمورهم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Hafs bin 'Asim narrated from Abu Hurairah or Abu Sa'eed that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Seven shall be shaded by Allah under his shade on a day in which there is no shade except His Shade: A just Imam, a young person raised upon worshiping Allah, a man whose heart is attached to the Masjid when he leaves from it until he returns from it, two men who love each other for Allah's sake, coming together upon that, and parting upon that, a man who remembers Allah in privacy and his eyes swell with tears, a man invited by a woman of status and beauty, but he says: 'I fear Allah, Mighty and Sublime is He,' and a man who conceals the charity he gives such that his left hand does not know …
ابوہریرہ یا ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب اس کے ( عرش کے ) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا: ان میں سے ایک انصاف کرنے والا حکمراں ہے، دوسرا وہ نوجوان ہے جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ۱؎، تیسرا وہ شخص ہے جس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہو ۲؎ چوتھا وہ دو آدمی جنہوں نے صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی، اسی کے واسطے جمع ہوتے ہیں اور اسی کے واسطے الگ ہوتے ہیں ۳؎، پانچواں وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کرے اور عذاب الٰہی کے خوف میں آنسو بہائے، چھٹا وہ آدمی جسے خوبصورت عورت گناہ کی دعوت دے، لیکن وہ کہے کہ مجھے اللہ کا خوف ہے، ساتواں وہ آدمی جس …
Yahya related to me from Malik from Khubayb ibn Abd ar-Rahman al- Ansari from Hafs ibn Asim that either Abu Said al-Khudri or Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'There are seven whom Allah will shade in His shade on the day on which there is no shade except His shade:a just imam, a youth who grows up worshipping Allah, a man whose heart is attached to the mosque when he leaves it until he returns to it, two men who love each other in Allah and meet for that and part for that, a man who remembers Allah when he is alone and his eyes overflow with tears, a man who refuses the approaches of a noble, beautiful woman, saying "I fear Allah," …
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سات شخص جن کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ایک تو منصف حاکم دوسرے وہ جوان جو جوانی کی امنگ ہی سے اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں تیسرے وہ مرد جس کا دل مسجد میں لگا رہے جب کہ نکلے پھر آنے تک چوتھے وہ دو مرد جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں تو اسی پر جدا ہوتے ہیں تو اسی پر ملتے ہیں، پانچویں وہ مرد جس نے اللہ کو یاد کیا تنہائی میں دونوں آنکھوں سے اس کی آنسو بہہ نکلے، چھٹے وہ مرد جس کو شریف خوبصورت عورت نے بد فعلی کے لئے بلایا وہ بولا مجھے خوف ہے اللہ کا جو پالنے والا ہے سارے جہان کا ساتویں وہ مرد جس نے خیرات کی چھپا کر یہاں تک کہ جو داہنے ہاتھ سے …
It was narrated from Abu Hurairah that :The Messenger of Allah [SAW] said: "There are seven whom Allah, the Mighty and Sublime, will shade with His shade on the Day of Resurrection, the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a young man who grows up worshipping Allah, the Mighty and Sublime; a man who remembers Allah when he is alone and his eyes flow (with tears); a man whose heart is attached to the Masjid; two men who love each other for the sake of Allah, the Mighty and Sublime; a man who is called (to commit sin) by a woman of high status and beauty, but he says: 'I fear Allah'; and a man who gives charity and conceals it, so that his left hand does not know what his …
سوید بن نصر نے ہمیں خبر دی، کہا: عبداللہ نے ہمیں خبر دی، عبیداللہ سے، خبیب بن عبدالرحمن سے، حفص بن عاصم سے، ابو ہریرہ سے، کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: سات (لوگ ہیں) جنہیں اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے سائے میں رکھے گا، اس دن جب کہ اس کے سائے کے علاوہ کوئی سائے نہیں: ایک عادل امام، اور ایک نوجوان جو اللہ عز و جل کی عبادت میں بڑھا، اور ایک شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ گئے، اور ایک شخص جس کا دل مسجد سے معلق ہے، اور دو شخص جو اللہ عز و جل کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور ایک شخص جسے ایک عورت جو بلند منصب اور حسن کی مالک ہے اپنے پاس بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ عز و جل سے ڈرتا ہوں، اور ایک شخص جس نے صدقہ دیا اور اسے چھپایا یہاں تک کہ اس …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Seven (people) will be shaded by Allah by His Shade on the Day of Resurrection when there will be no shade except His Shade. (They will be), a just ruler, a young man who has been brought up in the worship of Allah, a man who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears, a man whose heart is attached to mosques (offers his compulsory congregational prayers in the mosque), two men who love each other for Allah's Sake, a man who is called by a charming lady of noble birth to commit illegal sexual intercourse with her, and he says, 'I am afraid of Allah,' and (finally), a man who gives in charity so secretly that his left …
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر عمری نے، انہیں خبیب بن عبدالرحمٰن نے، انہیں حفص بن عاصم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ …
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:Seven are (the persons) whom Allah would give protection with His Shade on the Day when there would be no shade but that of Him (i. e. on the Day of Judgment, and they are): a just ruler, a youth who grew up with the worship of Allah; a person whose heart is attached to the mosques; two persons who love and meet each other and depart from each other for the sake of Allah; a man whom a beautiful woman of high rank seduces (for illicit relation), but he (rejects this offer by saying):" I fear Allah" ; a person who gives charity and conceals it (to such an extent) that the right hand does not know what the left has given: and a …
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ما یا کرتے تھے : " اے مسلما ن عورتو! کو ئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے ( تحفےکو ) حقیر نہ سمجھے چا ہے وہ بکری کا ایک کھر ہو ۔ ( جو میسر ہے بھیج دو)
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will give shade, to seven, on the Day when there will be no shade but His. (These seven persons are) a just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah (i.e. worships Allah sincerely from childhood), a man whose heart is attached to the mosques (i.e. to pray the compulsory prayers in the mosque in congregation), two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: I am afraid of Allah, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his …
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ بن عمر عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اول انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی «للهى» ( اللہ کے لیے محبت ) محبت ہے، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت …
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"There were kings after 'Isa bin Mariam who altered the Tawrah and the Injil, but there were among them believers who read the Tawrah. It was said to their kings: 'We have never heard of any slander worse than that of those (believers) who slander us and recite: "And whosoever does not judge by what Allah has revealed, such are the disbelievers." In these Verses, they are criticizing us for our deeds when they recite them.' So he called them together and gave them the choice between being put to death, or giving up reading the Tawrah and Injil, except for what had been altered. They said: 'Why do you want us to change? Leave us alone.' Some of them said: …
الحسين بن حریث نے ہمیں خبر دی، انہوں نے الفضل بن موسیٰ سے کہا، انہوں نے سفیان بن سعید سے، انہوں نے عطاء بن السائب سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، ابن عباس سے کہا: عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے بعد بادشاہ تھے جنہوں نے تورات اور انجیل میں تبدیلیاں کیں۔ لیکن ان میں سے کچھ مومن تھے جو تورات پڑھتے تھے۔ ان کے بادشاہوں سے کہا گیا: ہم نے ان سے بدتر کوئی گالی نہیں سنی جو ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور یہ آیت پڑھتے ہیں: اور جو اللہ کے نازل کردہ سے حکم نہ دے تو وہ کافروں میں سے ہیں۔ یہ آیات ہیں اور ہمارے اعمال پر نکیر ہے۔ تو انہوں نے انہیں جمع کیا اور انہیں موت یا تورات اور انجیل پڑھنا چھوڑ دینے کے علاوہ جو انہوں نے تبدیل کیا ہے اس کا انتخاب دیا۔ انہوں نے کہا: تم ہمسے کیا چاہتے ہو؟ ہمیں تنہا چھوڑ دو۔ ان میں …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd it seemed good to them (the men-folk) after they had seen the signs (of his innocence) to imprison him for a time.
Yusuf AliThen it occurred to the men, after they had seen the signs, (that it was best) to imprison him for a time.
The agreed readingThen it seemed good to them, after they had seen the signs of his innocence, to imprison him for a time.
Urduپھر ان لوگوں کو، یوسف کی پاک دامنی کی نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی، یہی مناسب معلوم ہوا کہ کچھ عرصے کے لیے انہیں قید میں ڈال دیا جائے۔
Arabicثم ظهر لهم جميعا من بعد ما رأوا آيات براءته وعفته الظاهرة أن يسجنوه إلى حين، وذلك سترا لأمرهم ومنعا لانتشار الحديث بين الناس عما وقع.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
6. Muhammad ibn Yahya has narrated from in a marfu’ manner the following: “One of the two Imam, (abu Ja’far or abu ‘Abd Allah), ‘Alayhim al-Salam, has said, ‘When you plant or cultivate read, “The likeness of the blessed word is like that of a blessed tree with firmly established roots and branches that rise into the sky. It produces fruits all the time, by the will of its Lord.’””
۶ـ محمد بن یحیی رفعہ احدھما (علیہما السلام) سے، کہا: جب تم غراسی کرو یا بوؤ تو کہو: "نیک لفظ کی مثال نیک درخت کی طرح ہے جس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی شاخ آسمان میں ہے، یہ ہر وقت اپنی پھل دیتی ہے اپنے رب کے حکم سے"۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Anas bin Malik:"The Messenger of Allah (ﷺ) was brought a dish with unripe dates on it. He said: The parable of a goodly word is that of a goodly tree, whose root is firmly fixed, and its branches (reach) to the sky (14:24 & 25).' And he said: 'It is the date-palm.' And the parable of an evil tree uprooted from the surface of the earth, having no stability (14:26). He said: 'It is the colocynth tree
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹوکری لائی گئی جس میں تروتازہ پکی ہوئی کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: «كلمة طيبة كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين بإذن ربها» ۱؎ آپ نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے، اور آیت «ومثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة اجتثت من فوق الأرض ما لها من قرار» ۲؎ میں برے درخت سے مراد اندرائن ہے۔ شعیب بن حبحاب ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کا ذکر ابوالعالیہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ اور صحیح کہا۔
PickthallAnd two young men went to prison with him. One of them said: I dreamed that I was pressing wine. The other said: I dreamed that I was carrying upon my head bread whereof the birds were eating. Announce unto us the interpretation, for we see thee of those good (at interpretation).
Yusuf AliNow with him there came into the prison two young men. Said one of them: "I see myself (in a dream) pressing wine." said the other: "I see myself (in a dream) carrying bread on my head, and birds are eating, thereof." "Tell us" (they said) "The truth and meaning thereof: for we see thou art one that doth good (to all)."
The agreed readingAnd two young men entered the prison with him. One of them said: I saw myself pressing wine. The other said: I saw myself carrying bread on my head, and the birds were eating from it. Tell us the meaning of it; we see that you are one of those who do good.
Urduیوسف کے ساتھ دو جوان بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں شراب کے لیے انگور نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا: میں نے دیکھا کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں۔ ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ نیکی کرنے والوں میں سے ہیں۔
Arabicودخل مع يوسف السجن فتيان، فقال أحدهما: إني أراني أعصر خمرا، وقال الآخر: إني أراني أحمل فوق رأسي خبزا تأكل الطير منه. فقالا له: نبئنا بتأويله، إنا نراك من المحسنين.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ibn 'Abbas narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Whoever lies about having a dream, he will be required to knot two barely kernels together on the Day Of Judgment., and he will never be able to knot them together
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے تو قیامت کے دن دو جو کے درمیان گرہ لگانے پر مکلف کیا جائے گا اور وہ ان دونوں کے درمیان گرہ ہرگز نہیں لگا سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
PickthallHe said: The food which ye are given (daily) shall not come unto you but I shall tell you the interpretation ere it cometh unto you. This is of that which my Lord hath taught me. Lo! I have forsaken the religion of folk who believe not in Allah and are disbelievers in the Hereafter.
Yusuf AliHe said: "Before any food comes (in due course) to feed either of you, I will surely reveal to you the truth and meaning of this ere it befall you: that is part of the (duty) which my Lord hath taught me. I have (I assure you) abandoned the ways of a people that believe not in Allah and that (even) deny the Hereafter.
The agreed readingHe said: no food will come to you that you are given without my telling you the meaning of it before it comes. That is part of what my Lord has taught me. I have left the religion of a people who do not believe in God and who deny the life to come,
Urduیوسف نے کہا: تمہیں جو کھانا دیا جائے گا وہ آنے سے پہلے پہلے میں تمہیں اس کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ وہ علم ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے۔ میں نے اس قوم کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔
Arabicقال يوسف: لا يأتيكما طعام ترزقانه إلا نبأتكما بتأويله قبل أن يأتيكما، ذلكما مما علمني ربي، إني تركت ملة قوم لا يؤمنون بالله وهم بالآخرة هم كافرون.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ibn 'Abbas narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Whoever lies about having a dream, he will be required to knot two barely kernels together on the Day Of Judgment., and he will never be able to knot them together
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے تو قیامت کے دن دو جو کے درمیان گرہ لگانے پر مکلف کیا جائے گا اور وہ ان دونوں کے درمیان گرہ ہرگز نہیں لگا سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
PickthallAnd I have followed the religion of my fathers, Abraham and Isaac and Jacob. It never was for us to attribute aught as partner to Allah. This is of the bounty of Allah unto us (the seed of Abraham) and unto mankind; but most men give not thanks.
Yusuf Ali"And I follow the ways of my fathers,- Abraham, Isaac, and Jacob; and never could we attribute any partners whatever to Allah: that (comes) of the grace of Allah to us and to mankind: yet most men are not grateful.
The agreed readingand I have followed the religion of my fathers, Abraham and Isaac and Jacob. It was never for us to set anything beside God as a partner. That is from the bounty of God on us and on people, but most people are not thankful.
Urduاور میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہم السلام کے دین کی پیروی کی ہے۔ ہمارے لیے یہ جائز نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جو اس نے ہم پر اور تمام لوگوں پر کیا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔
Arabicواتبعت ملة آبائي إبراهيم وإسحاق ويعقوب، ما كان لنا أن نشرك بالله من شيء، ذلك من فضل الله علينا وعلى الناس، ولكن أكثر الناس لا يشكرون هذه النعمة.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ibn 'Abbas narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Whoever lies about having a dream, he will be required to knot two barely kernels together on the Day Of Judgment., and he will never be able to knot them together
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے تو قیامت کے دن دو جو کے درمیان گرہ لگانے پر مکلف کیا جائے گا اور وہ ان دونوں کے درمیان گرہ ہرگز نہیں لگا سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
PickthallO my fellow-prisoners! Are divers lords better, or Allah the One, Almighty?
Yusuf Ali"O my two companions of the prison! (I ask you): are many lords differing among themselves better, or the One Allah, Supreme and Irresistible?
The agreed readingMy two companions in prison, are many separate lords better, or God, the One, the Overpowering?
Urduاے میرے قید خانے کے دونوں ساتھیو، ذرا بتاؤ کہ کیا بہت سے الگ الگ معبود بہتر ہیں یا وہ اکیلا اللہ جو سب پر غالب اور زبردست ہے؟
Arabicقال يوسف لصاحبيه في السجن: يا صاحبي السجن، أخبراني: أعبادة أرباب متفرقين مختلفين خير أم عبادة الله الواحد القهار الذي يقهر كل شيء ولا يقهره شيء؟
PickthallThose whom ye worship beside Him are but names which ye have named, ye and your fathers. Allah hath revealed no sanction for them. The decision rests with Allah only, Who hath commanded you that ye worship none save Him. This is the right religion, but most men know not.
Yusuf Ali"If not Him, ye worship nothing but names which ye have named,- ye and your fathers,- for which Allah hath sent down no authority: the command is for none but Allah: He hath commanded that ye worship none but Him: that is the right religion, but most men understand not...
The agreed readingWhat you worship besides Him are only names you have named, you and your fathers. God has sent down no warrant for them. Judgement belongs to God alone. He has commanded that you worship none but Him. That is the upright religion, but most people do not know.
Urduجن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو وہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے خود گھڑ لیے ہیں، اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حکم کرنے کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔
Arabicما تعبدون من دونه إلا أسماء سميتموها أنتم وآباؤكم، ما أنزل الله بها من حجة ولا برهان، إن الحكم إلا لله وحده، أمر ألا تعبدوا إلا إياه، ذلك الدين القيم ولكن أكثر الناس لا يعلمون.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
3 - أخبرنا أحمد بن محمد بن سعيد بن عقدة قال: حدثنا علي بن الحسين التيملي قال: حدثنا الحسن ومحمد بنا علي بن يوسف، عن سعدان بن مسلم، عن رجل، عن المفضل بن عمر، قال: قال أبو عبد الله: إذا أذن الإمام دعا الله بأسمه العبراني فأتيحت له صحابته الثلاثمائة وثلاثة عشر قزع كقزع الخريف. فهم أصحاب الألوية منهم من يُفقد من فراشه ليلاً فيصبح بمكة، ومنهم من يُرى يسير في السحاب نهاراً يعرف بأسمه واسم أبيه وحليته ونسبه. قلت: جعلت فداك، أيّهم أعظم إيماناً. قال: الذي يسير في السحاب نهاراً، وهم المفقودون، وفيهم نزلت هذه الآية وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(3) Ahmad bin Muhammad bin Sa’eed bin Oqda narrated from Ali bin al-Hasan at-Taymali from al-Hasan and Muhammad, the sons of Ali bin Yousuf, from Sa’dan bin Muslim from a man that al-Mufadhdhal bin Umar had said: Abu Abdullah (as) said: “When the imam (al-Mahdi) calls out the azan, he will invoke Allah with His Hebrew name and then his companions, who will be three hundred and thirteen men, will be permitted to join him. They will gather like the cloudlets of autumn. They will be the bearers of the banners. Some of them will be missed in their beds in the night and in the morning they will find themselves in Mecca. Some of them will be seen walking on the clouds during the day. They will be …
احمد بن محمد بن سعید بن عقدہ نے ہمیں خبر دی، علی بن الحسن التیملی سے کہا: حسن اور محمد بن علی بن یوسف نے ہمیں بتایا، سعدان بن مسلم سے، ایک آدمی سے، المفضل بن عمر سے کہا: ابو عبداللہ نے فرمایا: جب امام اذان دے تو اللہ کو اپنے عبرانی نام سے دعا کرے، تو اس کے تین سو تیرہ ساتھی اسے موجود ہو جائیں، خریف کے بادلوں کی طرح جمع ہوں۔ وہ علموں کے داعی ہیں، ان میں سے بعض اپنے بستر سے رات کو غائب ہو جاتے ہیں اور صبح کو مکہ میں موجود ہو جاتے ہیں، اور بعض دن میں بادل میں چلتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں، اپنے نام، اپنے باپا کے نام، اور اپنی نسب سے معروف ہوتے ہیں۔ میں نے کہا: میں آپ پر فدا ہوں، ان میں سے کون سب سے بڑا ایمان والا ہے؟ انہوں نے کہا: جو دن میں بادل میں چلتا ہے، وہ غائب ہیں، اور ان کے بارے میں یہ آیت …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Sa'eed:that about Allah's saying: Thus we have made you a Wasata nation (2:143) - the Prophet (ﷺ) said: "The meaning of Wasata is just." [Abu 'Eisa said: This Hadith is [Hasan] Sahih. (Another chain) From Abu Sa'eed who narrated that: "The Messenger of Allah a said: 'Nuh will be called and it will be said: "Did you deliver (the Message)? "He will say: "Yes" and his people will be called and it will be said: "Did he call you?" They will say: "No warner came to us. No one came to us.' It will be said: "Who will testify for you?" So it is said: "Muhammad and his Ummah (community)." He (ﷺ) said: You will be brought to testify that he delivered (the Message) and that is His saying: …
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا» ”ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) کے سلسلے میں فرمایا: ” «وسط» سے مراد عدل ہے“ ( یعنی انصاف پسند ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas:"When the Prophet (ﷺ) began facing the Ka'bah they said: 'O Messenger of Allah! How about our brothers who died while they were praying toward Bait Al-Maqdis?' So Allah Most High revealed: Allah would not allow your faith to be wasted. (2:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور وہ گزر گئے تو ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ”اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان ضائع نہ کرے گا“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
PickthallO my two fellow-prisoners! As for one of you, he will pour out wine for his lord to drink; and as for the other, he will be crucified so that the birds will eat from his head. Thus is the case judged concerning which ye did inquire.
Yusuf Ali"O my two companions of the prison! As to one of you, he will pour out the wine for his lord to drink: as for the other, he will hang from the cross, and the birds will eat from off his head. (so) hath been decreed that matter whereof ye twain do enquire"...
The agreed readingMy two companions in prison, one of you will pour wine for his master to drink, and the other will be crucified and the birds will eat from his head. The matter you asked about has been decided.
Urduاے میرے قید خانے کے دونوں ساتھیو، تم میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کو شراب پلانے کے منصب پر واپس چلا جائے گا، اور دوسرا سولی چڑھا دیا جائے گا اور پرندے اس کے سر سے کھائیں گے۔ جس بات کے بارے میں تم نے پوچھا تھا اس کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
Arabicيا صاحبي السجن، أما أحدكما فيسقي ربه خمرا كما كان من قبل، وأما الآخر فيصلب فتأكل الطير من رأسه، قضي الأمر الذي فيه تستفتيان وفرغ منه.
PickthallAnd he said unto him of the twain who he knew would be released: Mention me in the presence of thy lord. But Satan caused him to forget to mention it to his lord, so he (Joseph) stayed in prison for some years.
Yusuf AliAnd of the two, to that one whom he consider about to be saved, he said: "Mention me to thy lord." But Satan made him forget to mention him to his lord: and (Joseph) lingered in prison a few (more) years.
The agreed readingAnd he said to the one of them he judged would be saved: mention me to your master. But Satan made him forget to mention him to his master, and he stayed in prison for some years.
Urduیوسف نے اس شخص سے، جسے وہ بچ نکلنے والا سمجھتے تھے، کہا: اپنے بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کر دینا۔ مگر شیطان نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے یوسف کا ذکر کرنا بھلا دیا، چنانچہ یوسف کئی سال مزید قید خانے میں رہے۔
Arabicوقال يوسف للذي ظن أنه ناج منهما من صاحبيه: اذكرني عند ربك وأخبره بأمري، فأنساه الشيطان ذكر ربه، فلبث يوسف في السجن بضع سنين بعد ذلك.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 1 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة3 reports cited here — 1 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
4 - حدثنا محمد بن موسى بن المتوكل (رحمه الله)، قال: حدثنا علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن محمد بن أبي عمير، عن حماد بن عثمان، عمن سمع أبا سيار يقول: سمعت أبا عبد الله الصادق (عليه السلام) يقول: حاء جبرئيل (عليه السلام) إلى يوسف (عليه السلام) وهو في السجن، فقال: قل في دبر كل صلاة مفروضة: اللهم اجعل لي فرجا ومخرجا، وارزقني من حيث احتسب ومن حيث لا احتسب، ثلاث مرات (2).
Muhammad b. Musa b. al-Mutawakkil (rh) narrated to us. He said: `Ali b. Ibrahim narrated to us from his father from Muhammad b. Abi `Umayr from Hammad b. `Uthman from one who heard Aba Sayyar say: I heard Aba `Abdillah al-Sadiq (as) say: Gabriel (as) came to Yusuf (as) when he was in prison and said: “After every obligatory prayer, say: ‘O Allah! Grant me relief and deliverance and give me sustenance from where I expect and from where I do not expect (Allahummaj`al li farajan wa makhrajan warzuqni min haythu ahtasibu wa man haythu la ahtasib)’ three times.”
۴ـ محمد بن موسیٰ بن المتوکل (رحمہ اللہ) نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: علی بن ابراہیم نے ہمیں حدیث سنائی اپنے باپا سے، محمد بن ابی عمیر سے، حماد بن عثمان سے، جس سے ابو سیار نے سنا، کہتے ہیں: میں نے ابو عبد اللہ الصادق (علیہ السلام) کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: جبریل (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئے جب وہ السجن میں تھے، تو کہا: ہر صلاة مفروضہ کے دبر میں کہو: اللہم اجعل لی فرجا ومخرجا، وارزقنی من حیث احتسب ومن حیث لا احتسب، تین مرات۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2 - قال: أخبرني أبو بكر محمد بن عمر الجعابي قال: حدثنا عبد الكريم ابن محمد قال: حدثنا سهل بن زنجلة الرازي قال: حدثنا ابن أبي أويس قال: حدثني أبي، عن حميد بن قيس، عن عطاء ، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: يا بني عبد المطلب إني سألت الله لكم أن يعلم جاهلكم، وأن يثبت قائمكم، وأن يهدي ضالكم، وأن يجعلكم نجداء جوداء رحماء، أما والله لو أن رجلا صف قدميه بين الركين والمقام مصليا ولقي الله ببغضكم أهل البيت لدخل النار.
2. He said: Abu Bakr Muhammad ibn Umar al-Ji’abi reported to me from Abdul Karim ibn Muhammad, who reported from Sahl ibn Zanjalah al-Razi, who reported from ibn Abi Uways, who reported from his father, who reported from Hamid ibn Qais, from Ata from Ibn Abbas, who reported that: The Prophet, peace be upon him and his progeny, said: "O Children of Abdul Muttalib! I have beseeched Allah to convert the ignorant among you into learned men, and to make you steadfast in your stand, and to guide those of you who are gone astray; and to make you brave, generous and kind. By Allah, if a person were to offer prayers between al-Rukn and al-Maqam (around holy Ka’bah), but at the same time die with …
کہا: اخبار دیا ابو بکر محمد بن عمر الجعابی نے، کہا ہمیں حدیث سنائی عبدالکریم بن محمد نے، کہا ہمیں حدیث سنائی سہل بن زنجلہ الرازی نے، کہا ہمیں حدیث سنائی ابن ابی اویس نے، کہا ہمیں حدیث سنائی میرے باپا نے، حمید بن قیس سے، عطاء سے، ابن عباس سے، کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اے بنی عبدالمطلب! میں نے اللہ سے سوال کیا ہے کہ وہ تمہارے جاہلوں کو عالم بنائے، اور تمہارے قائموں کو ثابت رکھے، اور تمہارے ضالوں کو ہدایت دے، اور تمہیں شجاع، سخی اور شفیق بنائے۔ واللہ اگر ایک آدمی رکن اور مقام کے درمیان نماز پڑھے لیکن اہل بیت سے بغض رکھتے ہوئے اللہ سے ملے تو جہنم میں جائے گا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمُ اسْقِ رَبَّكَ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ . وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي . وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلاَىَ وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي . وَلْيَقُلْ فَتَاىَ فَتَاتِي غُلاَمِي " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) so many ahadith and one of them is this that Allah's Messenger (ﷺ) said:None of you should say: Supply drink to your lord, feed your lord, help your lord in performing ablution, and none of you should say: My Lord. He should say: My chief, my patron; and none of you should say: My bondman, my slave-girl, but simply say: My boy, my girl, my servant
ہمام منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں ( ایک یہ ) ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( اپنے غلام یا کنیز سے ) یہ نہ کہے : اپنے رب ( پالنہار ) کو پلا ؤ ، اپنےرب کو کھلاؤ اپنے رب کو وضو کراؤ ۔ " اور فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولیٰ کہے ۔ اور تم میں سے کو ئی یوں نہ کہے ۔ میرا بند ہ میری بندی ، البتہ یو ں کہے ، میرا خادم ، جوان میری خادمہ ، میرا لڑکا ۔
PickthallAnd the king said: Lo! I saw in a dream seven fat kine which seven lean were eating, and seven green ears of corn and other (seven) dry. O notables! Expound for me my vision, if ye can interpret dreams.
Yusuf AliThe king (of Egypt) said: "I do see (in a vision) seven fat kine, whom seven lean ones devour, and seven green ears of corn, and seven (others) withered. O ye chiefs! Expound to me my vision if it be that ye can interpret visions."
The agreed readingAnd the king said: I saw seven fat cows being eaten by seven lean ones, and seven green ears of grain and seven others dry. You chiefs, explain my dream to me, if you can read dreams.
Urduبادشاہ نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات بالیاں سرسبز ہیں اور سات دوسری خشک ہیں۔ اے درباریو، اگر تم خوابوں کی تعبیر جانتے ہو تو میرے اس خواب کی تعبیر بتاؤ۔
Arabicوقال الملك لأشراف قومه: إني أرى سبع بقرات سمان يأكلهن سبع عجاف، وسبع سنبلات خضر وأخر يابسات، يا أيها الملأ أفتوني في رؤياي إن كنتم للرؤيا تعبرون.
PickthallAnd he of the two who was released, and (now) at length remembered, said: I am going to announce unto you the interpretation, therefore send me forth.
Yusuf AliBut the man who had been released, one of the two (who had been in prison) and who now bethought him after (so long) a space of time, said: "I will tell you the truth of its interpretation: send ye me (therefore)."
The agreed readingAnd the one of the two who had been saved, and who remembered after a time, said: I will tell you its meaning, so send me.
Urduان دونوں میں سے جو شخص رہا ہوا تھا اسے ایک طویل عرصے کے بعد یوسف یاد آئے، اس نے کہا: میں تمہیں اس خواب کی تعبیر بتا سکتا ہوں، بس مجھے ذرا بھیج دو۔
Arabicوقال الذي نجا منهما من صاحبي السجن، وتذكر يوسف بعد مدة طويلة من الزمان بعدما كاد ينساه: أنا أنبئكم بتأويل هذه الرؤيا، فأرسلوني إلى صاحبها في السجن.
Pickthall(And when he came to Joseph in the prison, he exclaimed): Joseph! O thou truthful one! Expound for us the seven fat kine which seven lean were eating and the seven green ears of corn and other (seven) dry, that I may return unto the people, so that they may know.
Yusuf Ali"O Joseph!" (he said) "O man of truth! Expound to us (the dream) of seven fat kine whom seven lean ones devour, and of seven green ears of corn and (seven) others withered: that I may return to the people, and that they may understand."
The agreed readingJoseph, you truthful man, explain to us the seven fat cows being eaten by seven lean ones, and the seven green ears of grain and the seven others dry, so that I may return to the people and they may know.
Urduاے یوسف، اے سچے انسان، ہمیں سات موٹی گائیوں کے بارے میں بتاؤ جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات سرسبز بالیوں اور سات خشک بالیوں کے بارے میں بھی، تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جاؤں اور وہ بھی جان لیں۔
Arabicيا يوسف أيها الصديق، أفتنا في سبع بقرات سمان يأكلهن سبع عجاف، وسبع سنبلات خضر وأخر يابسات، لعلي أرجع إلى الناس جميعا ليعلموا تأويل هذه الرؤيا.
PickthallHe said: Ye shall sow seven years as usual, but that which ye reap, leave it in the ear, all save a little which ye eat.
Yusuf Ali(Joseph) said: "For seven years shall ye diligently sow as is your wont: and the harvests that ye reap, ye shall leave them in the ear,- except a little, of which ye shall eat.
The agreed readingHe said: you will sow for seven years as usual. Whatever you reap, leave it in the ear, except a little that you eat.
Urduیوسف نے کہا: تم سات سال تک اسی طرح لگاتار کھیتی باڑی کرتے رہو گے، اور جو کچھ کاٹو اسے بالی ہی میں چھوڑ دینا، سوائے اس تھوڑی مقدار کے جو تم کھانے کے لیے رکھو۔
Arabicقال يوسف مفسرا رؤيا الملك: تزرعون سبع سنين متتابعة كعادتكم في الزراعة، فما حصدتم فذروه في سنبله ليبقى محفوظا من التلف، إلا قليلا مما تأكلون منه.
PickthallThen after that will come seven hard years which will devour all that ye have prepared for them, save a little of that which ye have stored.
Yusuf Ali"Then will come after that (period) seven dreadful (years), which will devour what ye shall have laid by in advance for them,- (all) except a little which ye shall have (specially) guarded.
The agreed readingThen after that will come seven hard years that will consume what you have stored up for them, except a little that you keep.
Urduپھر اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے جو وہ سب کچھ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے سے ذخیرہ کر رکھا ہوگا، سوائے اس تھوڑی مقدار کے جسے تم بچا کر رکھو گے۔
Arabicثم يأتي من بعد تلك السنين المخصبة سبع سنين شداد صعاب، يأكلن ما قدمتم لهن وادخرتموه من قبل، إلا قليلا مما تحصنون وتدخرون منه للزراعة القادمة.
PickthallAnd the king said: Bring him unto me. And when the messenger came unto him, he (Joseph) said: Return unto thy lord and ask him what was the case of the women who cut their hands. Lo! my Lord knoweth their guile.
Yusuf AliSo the king said: "Bring ye him unto me." But when the messenger came to him, (Joseph) said: "Go thou back to thy lord, and ask him, 'What is the state of mind of the ladies who cut their hands'? For my Lord is certainly well aware of their snare."
The agreed readingAnd the king said: bring him to me. But when the messenger came to him he said: go back to your master and ask him about the case of the women who cut their hands. My Lord knows their scheming well.
Urduبادشاہ نے کہا: اسے میرے پاس لے آؤ۔ مگر جب قاصد اس کے پاس پہنچا تو یوسف نے کہا: اپنے بادشاہ کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے، بےشک میرا رب ان کی چالوں کو خوب جانتا ہے۔
Arabicوقال الملك: ائتوني به. فلما جاءه الرسول قال يوسف: ارجع إلى ربك فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن، إن ربي بكيدهن عليم لا يخفى عليه شيء منه.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on (Prophet) Lot. (When his nation troubled him) he wished if he could betake himself to some powerful support; and if I were to remain in prison for the period Joseph had remained, I would surely respond to the call; and we shall have more right (to be in doubt) than Abraham: When Allah said to him, "Don't you believe?' Abraham said, 'Yes, (I do believe) but to be stronger in faith;
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے بکر بن مضر نے، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ لوط علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائے کہ انہوں نے ایک زبردست سہارے کی پناہ لینے کے لیے کہا تھا اور اگر میں قید خانے میں اتنے دنوں تک رہ چکا ہوتا جتنے دن یوسف علیہ السلام رہے تھے تو بلانے والے کی بات رد نہ کرتا اور ہم کو تو ابراہیم علیہ السلام کے بہ نسبت شک ہونا زیادہ سزاوار ہے۔ جب اللہ پاک نے ان سے فرمایا «أولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي» کہ کیا تجھ کو یقین نہیں؟ انہوں …
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable: Yusuf bin Ya'qub bin Ishaq bin Ibrahim." He said: "And if I were to have remained in the prison as long as Yusuf, then the messenger came, I would have accepted." Then he recited: When the messenger came to him, he said: "Return to your king and ask him: 'What happened to the women who cut their hands? (12:50)' He said: "May Allah have mercy upon Lut, certainly he used to lean toward powerful support, since he said: "Would that I had strength to overpower you, or that I could betake myself to some powerful support (11:80)." So …
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف باپ کے ( یعنی ) یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ۱؎ کی عظمت اور نجابت و شرافت کا یہ حال تھا کہ جتنے دنوں یوسف علیہ السلام جیل خانے میں رہے ۲؎ اگر میں قید خانے میں رہتا، پھر ( بادشاہ کا ) قاصد مجھے بلانے آتا تو میں اس کی پکار پر فوراً جا حاضر ہوتا، یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کی طلبی کو قبول نہ کیا بلکہ کہا جاؤ پہلے بادشاہ سے پوچھو! ان ”محترمات“ کا اب کیا معاملہ ہے، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ لیے تھے۔ پھر آپ نے آیت: «فلما جاءه الرسول قال ارجع إلى ربك فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن» ۳؎ کی تلاوت فرمائی۔ آپ نے …
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِي لأَجَبْتُهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on Lot. He wanted to have a powerful support. If I were to stay in prison (for a period equal to) the stay of Joseph (in prison) and then the offer of freedom came to me, then I would have accepted it." (See Hadith No)
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء ابن اخی جویریہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ ان کو سعید بن مسیب اور ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید رہتا جتنی یوسف علیہ السلام رہے تھے اور پھر میرے پاس ( بادشاہ کا آدمی ) بلانے کے لیے آتا تو میں فوراً اس کے ساتھ چلا جاتا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَحْنُ أَحَقُّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "We are more liable to be in doubt than Abraham when he said, 'My Lord! Show me how You give life to the dead." . He (i.e. Allah) said: 'Don't you believe then?' He (i.e. Abraham) said: "Yes, but (I ask) in order to be stronger in Faith." (2.260) And may Allah send His Mercy on Lot! He wished to have a powerful support. If I were to stay in prison for such a long time as Joseph did I would have accepted the offer (of freedom without insisting on having my guiltlessness declared)
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے ‘ انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہم ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ مستحق ہیں جب کہ انہوں نے کہا تھا کہ میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”کہا کیا تم ایمان نہیں لائے ‘ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ‘ لیکن یہ صرف اس لیے تاکہ میرے دل کو اور زیادہ اطمینان ہو جائے۔“ اور اللہ لوط علیہ السلام پر رحم کر کہ وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید خانے میں رہتا جتنی مدت تک یوسف علیہ السلام …
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي}"
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "We have more right to be in doubt than Abraham when he said, 'My Lord! Show me how You give life to the dead.' He said, 'Do you not believe?' He said, 'Yes (I believe) but to be stronger in Faith
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ اور سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شک کرنے کا ہمیں ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق ہے، جب انہوں نے عرض کیا تھا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا، اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا، کیا تجھ کو یقین نہیں ہے؟ عرض کی یقین ضرور ہے، لیکن میں نے یہ درخواست اس لیے کی ہے کہ میرے دل کو اور اطمینان حاصل ہو جائے۔“
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (3281) Sahih Muslim (2175)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (3281) Sahih Muslim (2175)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (3281) Sahih Muslim (2175)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّويَةَ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلاً فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي - وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - فَمَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ " . قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ …
Safiyyah said:When the Messenger of Allah (ﷺ) was observing I'tikaf (in the mosque), I would come to him to visit him. I had a talk with him and then stood up. I then returned and he (the Prophet) also stood up to accompany me (to my house). Her dwelling place was in the house of Usamah b. Zaid. Two men from the Ansar (helpers) passed (by him at the moment). When they saw the Prophet (ﷺ), they walked quickly. The Prophet (ﷺ) said: Be at ease, she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Be glory to Allah, Messenger of Allah! He said: Satan runs in man like blood. I feared he might inspire something in your mind, or he said: evil (the narrator doubted)
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بات چیت کی، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے واپس کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، ( اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان میں تھی ) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہے ( ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو جائے ) ، وہ بولے: سبحان اللہ! اللہ کے رسول! ( آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، قال حَدَّثَنَا أَبِي، قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قال حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا فَإِلَىَّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَنَسٍ . وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَطْوَلَ مِنْ هَذَا وَأَتَمَّ . مَعْنَى ضَيَاعًا ضَائِعًا لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ فَأَنَا أَعُولُهُ وَأُنْفِقُ عَلَيْهِ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(S.A.W) said:"Whoever leaves wealth then it is for his heirs, and whoever leaves poor dependents then it (the responsibility) is for me
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ( مرنے کے بعد ) کوئی مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس نے ایسی اولاد چھوڑی جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو اس کی کفالت میرے ذمہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- زہری نے یہ حدیث «عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے اور وہ حدیث اس سے طویل اور مکمل ہے، ۳- اس باب میں جابر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- «ضياعا» کا معنی یہ ہے کہ ایسی اولاد جس کے پاس کچھ نہ ہو تو میں ان کی کفالت کروں گا اور ان پر خرچ کروں گا ۱؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'An orphan girl should be consulted with regard to marriage, and if she remains silent, that is her permission. If she refuses then she is not to be forced
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «یتیمہ» کنواری لڑکی کی شادی کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا اگر وہ چپ رہے تو یہی ( اس کا چپ رہنا ہی ) اس کی جانب سے اجازت ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر کوئی زور ( زور و دباؤ ) نہیں ہے“ ۱؎۔
Abu Hurairah reported Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :An ant stung a prophet. He ordered a colony of ants to be burned. Allah revealed to him : because an ant stung you, you have perished a community which glorifies Me
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کو جلا ڈالنے کا حکم دے دیا، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ انہیں تنبیہ فرمائی کہ ایک چیونٹی کے تجھے کاٹ لینے کے بدلے میں تو نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والی پوری ایک جماعت کو ہلاک کر ڈالا ۔
PickthallHe (the king) (then sent for those women and) said: What happened when ye asked an evil act of Joseph? They answered: Allah Blameless! We know no evil of him. Said the wife of the ruler: Now the truth is out. I asked of him an evil act, and he is surely of the truthful.
Yusuf Ali(The king) said (to the ladies): "What was your affair when ye did seek to seduce Joseph from his (true) self?" The ladies said: "Allah preserve us! no evil know we against him!" Said the 'Aziz's wife: "Now is the truth manifest (to all): it was I who sought to seduce him from his (true) self: He is indeed of those who are (ever) true (and virtuous).
The agreed readingHe said: what was your business when you tried to draw Joseph away from himself? They said: God preserve us, we know no evil of him. The governor's wife said: now the truth has come out. It was I who tried to draw him away from himself, and he is one of the truthful.
Urduبادشاہ نے پوچھا: تمہارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، ہم نے ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔ عزیز مصر کی بیوی نے کہا: اب حق کھل کر سامنے آ گیا ہے، میں نے ہی انہیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی، اور بےشک وہ سچے لوگوں میں سے ہیں۔
Arabicقال الملك: ما خطبكن إذ راودتن يوسف عن نفسه؟ قلن: حاش لله ما علمنا عليه من سوء. قالت امرأة العزيز: الآن حصحص الحق، أنا راودته عن نفسه وإنه لمن الصادقين.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِي لأَجَبْتُهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on Lot. He wanted to have a powerful support. If I were to stay in prison (for a period equal to) the stay of Joseph (in prison) and then the offer of freedom came to me, then I would have accepted it." (See Hadith No)
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء ابن اخی جویریہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ ان کو سعید بن مسیب اور ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید رہتا جتنی یوسف علیہ السلام رہے تھے اور پھر میرے پاس ( بادشاہ کا آدمی ) بلانے کے لیے آتا تو میں فوراً اس کے ساتھ چلا جاتا۔“
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on (Prophet) Lot. (When his nation troubled him) he wished if he could betake himself to some powerful support; and if I were to remain in prison for the period Joseph had remained, I would surely respond to the call; and we shall have more right (to be in doubt) than Abraham: When Allah said to him, "Don't you believe?' Abraham said, 'Yes, (I do believe) but to be stronger in faith;
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے بکر بن مضر نے، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ لوط علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائے کہ انہوں نے ایک زبردست سہارے کی پناہ لینے کے لیے کہا تھا اور اگر میں قید خانے میں اتنے دنوں تک رہ چکا ہوتا جتنے دن یوسف علیہ السلام رہے تھے تو بلانے والے کی بات رد نہ کرتا اور ہم کو تو ابراہیم علیہ السلام کے بہ نسبت شک ہونا زیادہ سزاوار ہے۔ جب اللہ پاک نے ان سے فرمایا «أولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي» کہ کیا تجھ کو یقین نہیں؟ انہوں …
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“We are more likely to express doubt than Ibrahim when he said: “My Lord! Show me how You give life to the dead.’ He (Allah) said: ‘Do you not believe?’ He (Ibrahim) said: ‘Yes (I believe), but to be stronger in Faith.’[2:260] And may Allah have mercy on Lut. He wished to have a powerful support. And if i were to stay in prison as long as Yusuf stayed, I would have accepted the offer.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں ۱؎ جب انہوں نے کہا: اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ( لیکن یہ سوال اس لیے ہے ) کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے، اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ زور آور شخص کی پناہ ڈھونڈھتے تھے، اگر میں اتنے دنوں تک قید میں رہا ہوتا جتنے عرصہ یوسف علیہ السلام رہے، تو جس وقت بلانے والا آیا تھا میں اسی وقت اس کے ساتھ ہو لیتا ۲؎۔
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable: Yusuf bin Ya'qub bin Ishaq bin Ibrahim." He said: "And if I were to have remained in the prison as long as Yusuf, then the messenger came, I would have accepted." Then he recited: When the messenger came to him, he said: "Return to your king and ask him: 'What happened to the women who cut their hands? (12:50)' He said: "May Allah have mercy upon Lut, certainly he used to lean toward powerful support, since he said: "Would that I had strength to overpower you, or that I could betake myself to some powerful support (11:80)." So …
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف باپ کے ( یعنی ) یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ۱؎ کی عظمت اور نجابت و شرافت کا یہ حال تھا کہ جتنے دنوں یوسف علیہ السلام جیل خانے میں رہے ۲؎ اگر میں قید خانے میں رہتا، پھر ( بادشاہ کا ) قاصد مجھے بلانے آتا تو میں اس کی پکار پر فوراً جا حاضر ہوتا، یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کی طلبی کو قبول نہ کیا بلکہ کہا جاؤ پہلے بادشاہ سے پوچھو! ان ”محترمات“ کا اب کیا معاملہ ہے، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ لیے تھے۔ پھر آپ نے آیت: «فلما جاءه الرسول قال ارجع إلى ربك فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن» ۳؎ کی تلاوت فرمائی۔ آپ نے …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (3281) Sahih Muslim (2175)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (3281) Sahih Muslim (2175)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (3281) Sahih Muslim (2175)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّويَةَ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلاً فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي - وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - فَمَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ " . قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ …
Safiyyah said:When the Messenger of Allah (ﷺ) was observing I'tikaf (in the mosque), I would come to him to visit him. I had a talk with him and then stood up. I then returned and he (the Prophet) also stood up to accompany me (to my house). Her dwelling place was in the house of Usamah b. Zaid. Two men from the Ansar (helpers) passed (by him at the moment). When they saw the Prophet (ﷺ), they walked quickly. The Prophet (ﷺ) said: Be at ease, she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Be glory to Allah, Messenger of Allah! He said: Satan runs in man like blood. I feared he might inspire something in your mind, or he said: evil (the narrator doubted)
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بات چیت کی، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے واپس کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، ( اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان میں تھی ) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہے ( ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو جائے ) ، وہ بولے: سبحان اللہ! اللہ کے رسول! ( آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، …
Narrated Ibn 'Abbas:"When the Prophet (ﷺ) began facing the Ka'bah they said: 'O Messenger of Allah! How about our brothers who died while they were praying toward Bait Al-Maqdis?' So Allah Most High revealed: Allah would not allow your faith to be wasted. (2:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور وہ گزر گئے تو ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ”اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان ضائع نہ کرے گا“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ ابْنَةِ حُيَىٍّ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلاً فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ، فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي. وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَمَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ ". فَقَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى …
Narrated Safiya bint Huyay:While Allah's Messenger (ﷺ) was in I`tikaf, I called on him at night and having had a talk with him, I got up to depart. He got up also to accompany me to my dwelling place, which was then in the house of Usama bin Zaid. Two Ansari men passed by, and when they saw the Prophet (ﷺ) they hastened away. The Prophet said (to them). "Don't hurry! It is Safiya, the daughter of Huyay (i.e. my wife)." They said, "Glorified be Allah! O Allah's Messenger (ﷺ)! (How dare we suspect you?)" He said, "Satan circulates in the human mind as blood circulates in it, and I was afraid that Satan might throw an evil thought (or something) into your hearts
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے اور ان سے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے تو میں رات کے وقت آپ سے ملاقات کے لیے ( مسجد میں ) آئی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتی رہی، پھر جب واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے چھوڑ آنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا مکان اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان ہی میں تھا۔ اسی وقت دو انصاری صحابہ ( اسید بن حضیر، عبادہ بن بشیر ) گزرے۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیز چلنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، …
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي}"
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "We have more right to be in doubt than Abraham when he said, 'My Lord! Show me how You give life to the dead.' He said, 'Do you not believe?' He said, 'Yes (I believe) but to be stronger in Faith
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ اور سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شک کرنے کا ہمیں ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق ہے، جب انہوں نے عرض کیا تھا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا، اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا، کیا تجھ کو یقین نہیں ہے؟ عرض کی یقین ضرور ہے، لیکن میں نے یہ درخواست اس لیے کی ہے کہ میرے دل کو اور اطمینان حاصل ہو جائے۔“
Pickthall(Then Joseph said: I asked for) this, that he (my lord) may know that I betrayed him not in secret, and that surely Allah guideth not the snare of the betrayers.
Yusuf Ali"This (say I), in order that He may know that I have never been false to him in his absence, and that Allah will never guide the snare of the false ones.
The agreed readingThat was so that he might know I did not betray him behind his back, and that God does not guide the scheming of those who betray.
Urduیہ اعتراف اس لیے کیا تاکہ یوسف کو معلوم ہو جائے کہ میں نے ان کی غیر موجودگی میں ان کے ساتھ خیانت نہیں کی، اور یہ کہ اللہ خیانت کرنے والوں کی چالوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا۔
Arabicقالت ذلك لكي يعلم يوسف أني لم أخنه بالغيب وأنا بعيدة عنه في تلك المدة، وأن الله لا يهدي كيد الخائنين ولا يوفقهم إلى ما يريدون.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“We are more likely to express doubt than Ibrahim when he said: “My Lord! Show me how You give life to the dead.’ He (Allah) said: ‘Do you not believe?’ He (Ibrahim) said: ‘Yes (I believe), but to be stronger in Faith.’[2:260] And may Allah have mercy on Lut. He wished to have a powerful support. And if i were to stay in prison as long as Yusuf stayed, I would have accepted the offer.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں ۱؎ جب انہوں نے کہا: اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ( لیکن یہ سوال اس لیے ہے ) کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے، اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ زور آور شخص کی پناہ ڈھونڈھتے تھے، اگر میں اتنے دنوں تک قید میں رہا ہوتا جتنے عرصہ یوسف علیہ السلام رہے، تو جس وقت بلانے والا آیا تھا میں اسی وقت اس کے ساتھ ہو لیتا ۲؎۔
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable: Yusuf bin Ya'qub bin Ishaq bin Ibrahim." He said: "And if I were to have remained in the prison as long as Yusuf, then the messenger came, I would have accepted." Then he recited: When the messenger came to him, he said: "Return to your king and ask him: 'What happened to the women who cut their hands? (12:50)' He said: "May Allah have mercy upon Lut, certainly he used to lean toward powerful support, since he said: "Would that I had strength to overpower you, or that I could betake myself to some powerful support (11:80)." So …
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف باپ کے ( یعنی ) یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ۱؎ کی عظمت اور نجابت و شرافت کا یہ حال تھا کہ جتنے دنوں یوسف علیہ السلام جیل خانے میں رہے ۲؎ اگر میں قید خانے میں رہتا، پھر ( بادشاہ کا ) قاصد مجھے بلانے آتا تو میں اس کی پکار پر فوراً جا حاضر ہوتا، یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کی طلبی کو قبول نہ کیا بلکہ کہا جاؤ پہلے بادشاہ سے پوچھو! ان ”محترمات“ کا اب کیا معاملہ ہے، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ لیے تھے۔ پھر آپ نے آیت: «فلما جاءه الرسول قال ارجع إلى ربك فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن» ۳؎ کی تلاوت فرمائی۔ آپ نے …
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِي لأَجَبْتُهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on Lot. He wanted to have a powerful support. If I were to stay in prison (for a period equal to) the stay of Joseph (in prison) and then the offer of freedom came to me, then I would have accepted it." (See Hadith No)
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء ابن اخی جویریہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ ان کو سعید بن مسیب اور ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید رہتا جتنی یوسف علیہ السلام رہے تھے اور پھر میرے پاس ( بادشاہ کا آدمی ) بلانے کے لیے آتا تو میں فوراً اس کے ساتھ چلا جاتا۔“
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on (Prophet) Lot. (When his nation troubled him) he wished if he could betake himself to some powerful support; and if I were to remain in prison for the period Joseph had remained, I would surely respond to the call; and we shall have more right (to be in doubt) than Abraham: When Allah said to him, "Don't you believe?' Abraham said, 'Yes, (I do believe) but to be stronger in faith;
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے بکر بن مضر نے، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ لوط علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائے کہ انہوں نے ایک زبردست سہارے کی پناہ لینے کے لیے کہا تھا اور اگر میں قید خانے میں اتنے دنوں تک رہ چکا ہوتا جتنے دن یوسف علیہ السلام رہے تھے تو بلانے والے کی بات رد نہ کرتا اور ہم کو تو ابراہیم علیہ السلام کے بہ نسبت شک ہونا زیادہ سزاوار ہے۔ جب اللہ پاک نے ان سے فرمایا «أولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي» کہ کیا تجھ کو یقین نہیں؟ انہوں …
Narrated Ibn 'Abbas:"When the Prophet (ﷺ) began facing the Ka'bah they said: 'O Messenger of Allah! How about our brothers who died while they were praying toward Bait Al-Maqdis?' So Allah Most High revealed: Allah would not allow your faith to be wasted. (2:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور وہ گزر گئے تو ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ”اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان ضائع نہ کرے گا“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي}"
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "We have more right to be in doubt than Abraham when he said, 'My Lord! Show me how You give life to the dead.' He said, 'Do you not believe?' He said, 'Yes (I believe) but to be stronger in Faith
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ اور سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شک کرنے کا ہمیں ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق ہے، جب انہوں نے عرض کیا تھا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا، اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا، کیا تجھ کو یقین نہیں ہے؟ عرض کی یقین ضرور ہے، لیکن میں نے یہ درخواست اس لیے کی ہے کہ میرے دل کو اور اطمینان حاصل ہو جائے۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، - وَاللَّفْظُ لأُمَيَّةَ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ} قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ بَرَكُوا عَلَى الرُّكَبِ …
It is reported on the authority of Abu Huraira that when it was revealed to the Messenger of Allah (ﷺ):To Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth and whether you disclose that which is in your mind or conceal it, Allah will call you to account according to it. Then He forgives whom He pleases and chastises whom He Pleases; and Allah is over everything Potent" (ii. 284). the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) felt it hard and severe and they came to the Messenger of Allah (ﷺ) and sat down on their knees and said: Messenger of Allah, we were assigned some duties which were within our power to perform, such as prayer, fasting, struggling (in the cause of …
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اتری : ’’ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اللہ ہی کا ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ ، اللہ تعالیٰ اس پر تمہارا محاسبہ کرے گا ، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور ا للہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ سے ساتھیوں پر یہ بات انتہائی گراں گزری ۔ کہا : وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ( پہلے ) ہمیں ایسے اعمال کا پابند کیا گیا جو ہماری طاقت میں ہیں : نماز ، روزہ ، جہاد اور صدقہ او راب آپ پر یہ آیت اتری ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم وہی بات کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل …
PickthallI do not exculpate myself. Lo! the (human) soul enjoineth unto evil, save that whereon my Lord hath mercy. Lo! my Lord is Forgiving, Merciful.
Yusuf Ali"Nor do I absolve my own self (of blame): the (human) soul is certainly prone to evil, unless my Lord do bestow His Mercy: but surely my Lord is Oft-forgiving, Most Merciful."
The agreed readingAnd I do not clear myself. The soul is always urging to evil, except where my Lord has mercy. My Lord is Forgiving, Merciful.
Urduاور میں اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دیتی، بےشک نفس تو برائی پر ابھارتا ہی رہتا ہے، سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے، بےشک میرا رب بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
Arabicوقالت: وما أبرئ نفسي، إن النفس لأمارة بالسوء تدعو صاحبها دوما إلى المعاصي طلبا لملذاتها، إلا من رحم ربي فعصمه، إن ربي غفور لمن تاب رحيم به.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Ibn 'Abbas:"When the Prophet (ﷺ) began facing the Ka'bah they said: 'O Messenger of Allah! How about our brothers who died while they were praying toward Bait Al-Maqdis?' So Allah Most High revealed: Allah would not allow your faith to be wasted. (2:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور وہ گزر گئے تو ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ”اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان ضائع نہ کرے گا“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“We are more likely to express doubt than Ibrahim when he said: “My Lord! Show me how You give life to the dead.’ He (Allah) said: ‘Do you not believe?’ He (Ibrahim) said: ‘Yes (I believe), but to be stronger in Faith.’[2:260] And may Allah have mercy on Lut. He wished to have a powerful support. And if i were to stay in prison as long as Yusuf stayed, I would have accepted the offer.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں ۱؎ جب انہوں نے کہا: اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ( لیکن یہ سوال اس لیے ہے ) کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے، اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ زور آور شخص کی پناہ ڈھونڈھتے تھے، اگر میں اتنے دنوں تک قید میں رہا ہوتا جتنے عرصہ یوسف علیہ السلام رہے، تو جس وقت بلانے والا آیا تھا میں اسی وقت اس کے ساتھ ہو لیتا ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِي لأَجَبْتُهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on Lot. He wanted to have a powerful support. If I were to stay in prison (for a period equal to) the stay of Joseph (in prison) and then the offer of freedom came to me, then I would have accepted it." (See Hadith No)
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء ابن اخی جویریہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ ان کو سعید بن مسیب اور ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید رہتا جتنی یوسف علیہ السلام رہے تھے اور پھر میرے پاس ( بادشاہ کا آدمی ) بلانے کے لیے آتا تو میں فوراً اس کے ساتھ چلا جاتا۔“
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah bestow His Mercy on (Prophet) Lot. (When his nation troubled him) he wished if he could betake himself to some powerful support; and if I were to remain in prison for the period Joseph had remained, I would surely respond to the call; and we shall have more right (to be in doubt) than Abraham: When Allah said to him, "Don't you believe?' Abraham said, 'Yes, (I do believe) but to be stronger in faith;
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے بکر بن مضر نے، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ لوط علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائے کہ انہوں نے ایک زبردست سہارے کی پناہ لینے کے لیے کہا تھا اور اگر میں قید خانے میں اتنے دنوں تک رہ چکا ہوتا جتنے دن یوسف علیہ السلام رہے تھے تو بلانے والے کی بات رد نہ کرتا اور ہم کو تو ابراہیم علیہ السلام کے بہ نسبت شک ہونا زیادہ سزاوار ہے۔ جب اللہ پاک نے ان سے فرمایا «أولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي» کہ کیا تجھ کو یقین نہیں؟ انہوں …
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي}"
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "We have more right to be in doubt than Abraham when he said, 'My Lord! Show me how You give life to the dead.' He said, 'Do you not believe?' He said, 'Yes (I believe) but to be stronger in Faith
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ اور سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شک کرنے کا ہمیں ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق ہے، جب انہوں نے عرض کیا تھا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا، اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا، کیا تجھ کو یقین نہیں ہے؟ عرض کی یقین ضرور ہے، لیکن میں نے یہ درخواست اس لیے کی ہے کہ میرے دل کو اور اطمینان حاصل ہو جائے۔“
PickthallAnd the king said: Bring him unto me that I may attach him to my person. And when he had talked with him he said: Lo! thou art to-day in our presence established and trusted.
Yusuf AliSo the king said: "Bring him unto me; I will take him specially to serve about my own person." Therefore when he had spoken to him, he said: "Be assured this day, thou art, before our own presence, with rank firmly established, and fidelity fully proved!
The agreed readingAnd the king said: bring him to me; I will attach him to myself. And when he had spoken with him he said: today you are with us in a place of standing and trust.
Urduبادشاہ نے کہا: اسے میرے پاس لے آؤ، میں اسے اپنے خاص مقربین میں شامل کروں گا۔ پھر جب اس نے یوسف سے بات چیت کی تو کہا: آج سے تم ہمارے ہاں بڑے مقام اور امانت والے شخص ہو۔
Arabicوقال الملك لأعوانه: ائتوني به أستخلصه لنفسي، فلما كلمه الملك وعرف فضله وأمانته قال له: إنك اليوم لدينا مكين أمين تثق به على كل شيء.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdur-Rahman bin Samura:The Prophet (ﷺ) said, "O `Abdur-Rahman! Do not seek to be a ruler, for if you are given authority on your demand then you will be held responsible for it, but if you are given it without asking (for it), then you will be helped (by Allah) in it. If you ever take an oath to do something and later on you find that something else is better, then you should expiate your oath and do what is better
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے حسن نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن! حکومت کے طالب نہ بننا کیونکہ اگر تمہیں مانگنے کے بعد حکومت ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے اور وہ تمہیں بلا مانگے ملی تو اس میں تمہاری ( اللہ کی طرف سے ) مدد کی جائے گی اور اگر تم نے قسم کھا لی ہو پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو اور وہ کام کرو جس میں بھلائی ہو۔“
PickthallHe said: Set me over the storehouses of the land. Lo! I am a skilled custodian.
Yusuf Ali(Joseph) said: "Set me over the store-houses of the land: I will indeed guard them, as one that knows (their importance)."
The agreed readingHe said: set me over the storehouses of the land; I am a keeper who knows how to guard and how to manage.
Urduیوسف نے کہا: مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے، بےشک میں ان کی حفاظت کرنا اور انہیں بخوبی سنبھالنا اچھی طرح جانتا ہوں۔
Arabicقال يوسف للملك بعد أن نال ثقته: اجعلني واليا على خزائن الأرض، إني حفيظ عليم أحسن حفظها وأحسن التصرف فيها لمنفعة الناس جميعا في سني الرخاء والشدة.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdur-Rahman bin Samura:The Prophet (ﷺ) said, "O `Abdur-Rahman! Do not seek to be a ruler, for if you are given authority on your demand then you will be held responsible for it, but if you are given it without asking (for it), then you will be helped (by Allah) in it. If you ever take an oath to do something and later on you find that something else is better, then you should expiate your oath and do what is better
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے حسن نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن! حکومت کے طالب نہ بننا کیونکہ اگر تمہیں مانگنے کے بعد حکومت ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے اور وہ تمہیں بلا مانگے ملی تو اس میں تمہاری ( اللہ کی طرف سے ) مدد کی جائے گی اور اگر تم نے قسم کھا لی ہو پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو اور وہ کام کرو جس میں بھلائی ہو۔“
Abu Burdah said on the authority of Abu Musa :I went to the Prophet (ﷺ) while two men who were Ash’ arIs were with me. One of them was on my right and the other on my left side. Bothe of them asked him for employment. The prophet (ﷺ) was silent. He asked : What do you say Abu Musa, or ‘Abd Allah b. Qais (Abu Musa’s name)? I replied: By him who has sent you with truth, they did not inform me of what they had in their hearts, and I did not know that they would ask for an employment. He said : I have the scene before my eyes that he had his toothstick below his lip which receded. He (the prophet) said: We will never or will not put in charge of our work anyone who asks for it. But go, ye, Abu …
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے ساتھ قبیلہ اشعر کے دو شخص تھے، ایک میرے دائیں طرف تھا دوسرا بائیں طرف، تو دونوں نے آپ سے عامل کا عہدہ طلب کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر فرمایا: ابوموسیٰ! یا فرمایا: عبداللہ بن قیس! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، ان دونوں نے مجھے اس چیز سے آگاہ نہیں کیا تھا جو ان کے دل میں تھا، اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ آپ سے عامل بنائے جانے کا مطالبہ کریں گے، گویا میں اس وقت آپ کی مسواک کو دیکھ رہا ہوں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھے کے نیچے تھی اور مسوڑھا اس کی وجہ سے اوپر اٹھا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اپنے کام پر اس شخص کو …
It has been reported on the authority of Abu Musa who said:I went to the Prophet (ﷺ) and with me were two men from the Ash'ari tribe. One of them was on my right hand and the other on my left. Both of them made a request for a position (of authority) while the Prophet (ﷺ) was brushing his teeth with a tooth-stick. He said (to me): Abu Musa (or 'Abdullah b. Qais), what do you say (about the request they have made)? I said: By God Who sent thee on thy mission with truth, they did not disclose to me what they had in their minds, and I did not know that they would ask for a position. The narrator says (while recalling this hadith): I visualise as if I were looking at the miswak of the Prophet …
حمید بن ہلال نے کہا : مجھے ابوبردہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : میں بنو اشعر میں سے دو آدمیوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، ایک میری دائیں جانب تھا اور دوسرا میری بائیں جانب ۔ ان دونوں نے کسی منصب کا سوال کیا ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " ابوموسیٰ! " یا فرمایا : " عبداللہ بن قیس! تم کیا کہتے ہو؟ " میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! ان دونوں نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کے دل میں کیا ہے؟ اور نہ مجھے یہ پتہ تھا کہ یہ دونوں منصب کا سوال کریں گے ۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : ایسا لگتا ہے کہ میں ( آج بھی ) آپ کے ہونٹ کے نیچے مسواک دیکھ رہا …
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعِي رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي، وَالآخَرُ عَنْ يَسَارِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَاكُ فَكِلاَهُمَا سَأَلَ. فَقَالَ " يَا أَبَا مُوسَى ". أَوْ " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ". قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ. فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتِ شَفَتِهِ قَلَصَتْ فَقَالَ " لَنْ ـ أَوْ ـ لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلَى …
Narrated Abu Burda:Abu Musa said, "I came to the Prophet (ﷺ) along with two men (from the tribe) of Ash`ariyin, one on my right and the other on my left, while Allah's Messenger (ﷺ) was brushing his teeth (with a Siwak), and both men asked him for some employment. The Prophet (ﷺ) said, 'O Abu Musa (O `Abdullah bin Qais!).' I said, 'By Him Who sent you with the Truth, these two men did not tell me what was in their hearts and I did not feel (realize) that they were seeking employment.' As if I were looking now at his Siwak being drawn to a corner under his lips, and he said, 'We never (or, we do not) appoint for our affairs anyone who seeks to be employed. But O Abu Musa! (or `Abdullah bin …
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، انہوں نے قرۃ بن خالد سے، کہا مجھ سے حمید بن ہلال نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے ابوموسیٰ اشعری سے، انہوں نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میرے ساتھ اشعر قبیلے کے دو شخص تھے ( نام نامعلوم ) ایک میرے داہنے طرف تھا، دوسرا بائیں طرف۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے۔ دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عہدہ کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوموسیٰ یا عبداللہ بن قیس! ( راوی کو شک ہے ) میں نے اسی وقت عرض کیا: یا رسول اللہ! اس پروردگار کی قسم جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا۔ انہوں نے اپنے دل کی بات مجھ سے نہیں کہی تھی اور مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ …
Narrated `Abdur-Rahman bin Samura:Allah's Messenger (ﷺ) said, "O `Abdur-Rahman bin Samura! Do not seek to be a ruler, for if you are given authority on your demand, you will be held responsible for it, but if you are given it without asking for it, then you will be helped (by Allah) in it. If you ever take an oath to do something and later on you find that something else is better, then do what is better and make expiation for your oath
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے حسن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن ابن سمرہ! حکومت طلب مت کرنا کیونکہ اگر تمہیں مانگنے کے بعد امیری ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملی تو اس میں تمہاری مدد کی جائے گی اور اگر تم کسی بات پر قسم کھا لو اور پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو وہ کرو جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو۔“
Abd al-Rahman b. Samura reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to me:Abd al-Rahman b. Samura, don't ask for authority for if it is granted to you for asking for it, you would be commissioned for it (without having the support of Allah), but if you are granted it without your asking for it. You would be helped (by Allah) in it. And when you take an oath and find something else better than that, expiate for (breaking) your oath, and do that which is better. This hadith has also been transmitted on the authority of Ibn Farrukh. The above hadith is narratted through another chain of transmitters
شیبان بن فروخ نے کہا : ہمیں جریر بن حازم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں حسن نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" عبدالرحمان بن سمرہ! تم ( خود ) امارت کی درخواست مت کرو ، ( کیونکہ ) اگر وہ تمہیں مانگنے پر دی گئی تو تم اس کے حوالے کر دیے جاؤ گے اور اگر تمہیں بن مانگے ملے گی تو ( اللہ کی طرف سے ) تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ ، پھر اس کے بجائے کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دو اور وہی اختیار کرو جو بہتر ہے ۔ "" ( امام مسلم کے شاگرد ) ابو احمد جلودی نے کہا : ہمیں ابو عباس ماسرجسی نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں شیبان بن فروخ نے حدیث …
It has been reported on the authority of 'Abd al-Rahman b. Samura who said:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Abd al-Rahman, do not ask for a position of authority, for if you are granted this position as a result of your asking for it, you will be left alone (without God's help to discharge the responsibilities attendant thereon), and it you are granted it without making any request for it, you will be helped (by God in the discharge of your duties)
جریر بن حازم نے کہا : ہمیں حسن بصری نے اور انہیں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " عبدالرحمٰن! امارت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تم کو طلب کرنے سے ( امارت ) ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے ( اس کی تمام تر ذمہ داریاں خود اٹھاؤ گے ، اللہ کی مدد شامل نہ ہو گی ) اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملی تو ( اللہ کی طرف سے ) تمہاری اعانت ہو گی
PickthallThus gave We power to Joseph in the land. He was the owner of it where he pleased. We reach with Our mercy whom We will. We lose not the reward of the good.
Yusuf AliThus did We give established power to Joseph in the land, to take possession therein as, when, or where he pleased. We bestow of our Mercy on whom We please, and We suffer not, to be lost, the reward of those who do good.
The agreed readingAnd so We established Joseph in the land, to settle in it wherever he wished. We reach with Our mercy whom We will, and We do not let the reward of those who do good be lost.
Urduاور اسی طرح ہم نے یوسف کو زمین میں اقتدار دیا، وہ اس میں جہاں چاہتے سکونت اختیار کر سکتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جسے چاہیں پہنچا دیتے ہیں، اور نیکی کرنے والوں کا اجر ہم کبھی ضائع نہیں کرتے۔
Arabicوكذلك مكنا ليوسف في أرض مصر تمكينا عظيما، ينزل منها حيث يشاء، نصيب برحمتنا من نشاء من عبادنا الصالحين، ولا نضيع أجر المحسنين على إحسانهم أبدا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا " . فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلاَ تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) deputed a person to collect revenue from Khaibar. He brought fine quality of dates, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:Are all the dates of Khaibar like this)? He said: No. We got one sa' (of fine dates) for two sa's (of inferior dates), and (similarly) two sa's for three sa's. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Don't do that rather sell the inferior quality of dates for dirhams (money), and then buy the superior quality with the help of dirhams
امام مالک نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمان بن عوف سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر کو عامل مقرر کیا ، وہ آپ کے پاس جنیب ( عمدہ قسم کی ) کھجور لے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہے؟ " اس نے عرض کی : واللہ! یا رسول اللہ! نہیں ۔ ہم ( ملی جلی کھجور کے ) دو صاع کے عوض اس کا ایک صاع اور تین کے عوض دو صاع لیتے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسا نہ کرو ، ملی جلی کھجور کو درہموں کے عوض بیچ دو ، پھر درہموں سے جنیب ( عمدہ ) کھجور خرید لو ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ". فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ {وَالصَّاعَيْنِ} بِالثَّلاَثَةِ. فَقَالَ " لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) appointed a man as the ruler of Khaibar who later brought some Janib (i.e. dates of good quality) to the Prophet. On that, Allah's Messenger (ﷺ) said (to him). "Are all the dates of Khaibar like this?" He said, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! But we take one Sa of these (dates of good quality) for two or three Sa's of other dates (of inferior quality)." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not do so, but first sell the inferior quality dates for money and then with that money, buy Janib
اسماعیل نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مالک نے مجھے حدیث بیان کی، عبد المجید بن سہیل سے، سعید بن المسیب سے، ابو سعید الخدری اور ابو ہریرہ سے، رضی اللہ عنہما، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو خیبر پر حاکم بنایا تو وہ اس کے پاس بہترین کھجوریں لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا: کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ تو اس نے کہا: نہیں اللہ کی قسم یا رسول اللہ، ہم اس میں سے ایک صاع لیتے ہیں دو صاع یا تین صاع کے بدلے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا: ایسا نہ کرو، بلکہ خراب کھجوریں بیچ دو درہم کے لیے، پھر درہم سے بہترین کھجوریں خریدو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd the reward of the Hereafter is better, for those who believe and ward off (evil).
Yusuf AliBut verily the reward of the Hereafter is the best, for those who believe, and are constant in righteousness.
The agreed readingAnd the reward of the life to come is better for those who believed and used to guard themselves.
Urduاور آخرت کا اجر ان لوگوں کے لیے دنیا سے کہیں بہتر ہے جو ایمان لائے اور ہمیشہ اللہ سے ڈرتے ہوئے اپنے آپ کو گناہوں سے بچاتے رہے۔
Arabicولأجر الآخرة عند الله خير وأعظم وأبقى من أجر الدنيا كلها للذين آمنوا حق الإيمان الصادق وكانوا دائما يتقون الله ويخافون عقابه في جميع أحوالهم وأعمالهم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
2 - قال: أخبرني أبو بكر محمد بن عمر الجعابي قال: حدثنا عبد الكريم ابن محمد قال: حدثنا سهل بن زنجلة الرازي قال: حدثنا ابن أبي أويس قال: حدثني أبي، عن حميد بن قيس، عن عطاء ، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: يا بني عبد المطلب إني سألت الله لكم أن يعلم جاهلكم، وأن يثبت قائمكم، وأن يهدي ضالكم، وأن يجعلكم نجداء جوداء رحماء، أما والله لو أن رجلا صف قدميه بين الركين والمقام مصليا ولقي الله ببغضكم أهل البيت لدخل النار.
2. He said: Abu Bakr Muhammad ibn Umar al-Ji’abi reported to me from Abdul Karim ibn Muhammad, who reported from Sahl ibn Zanjalah al-Razi, who reported from ibn Abi Uways, who reported from his father, who reported from Hamid ibn Qais, from Ata from Ibn Abbas, who reported that: The Prophet, peace be upon him and his progeny, said: "O Children of Abdul Muttalib! I have beseeched Allah to convert the ignorant among you into learned men, and to make you steadfast in your stand, and to guide those of you who are gone astray; and to make you brave, generous and kind. By Allah, if a person were to offer prayers between al-Rukn and al-Maqam (around holy Ka’bah), but at the same time die with …
کہا: اخبار دیا ابو بکر محمد بن عمر الجعابی نے، کہا ہمیں حدیث سنائی عبدالکریم بن محمد نے، کہا ہمیں حدیث سنائی سہل بن زنجلہ الرازی نے، کہا ہمیں حدیث سنائی ابن ابی اویس نے، کہا ہمیں حدیث سنائی میرے باپا نے، حمید بن قیس سے، عطاء سے، ابن عباس سے، کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اے بنی عبدالمطلب! میں نے اللہ سے سوال کیا ہے کہ وہ تمہارے جاہلوں کو عالم بنائے، اور تمہارے قائموں کو ثابت رکھے، اور تمہارے ضالوں کو ہدایت دے، اور تمہیں شجاع، سخی اور شفیق بنائے۔ واللہ اگر ایک آدمی رکن اور مقام کے درمیان نماز پڑھے لیکن اہل بیت سے بغض رکھتے ہوئے اللہ سے ملے تو جہنم میں جائے گا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا " . فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلاَ تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) deputed a person to collect revenue from Khaibar. He brought fine quality of dates, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:Are all the dates of Khaibar like this)? He said: No. We got one sa' (of fine dates) for two sa's (of inferior dates), and (similarly) two sa's for three sa's. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Don't do that rather sell the inferior quality of dates for dirhams (money), and then buy the superior quality with the help of dirhams
امام مالک نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمان بن عوف سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر کو عامل مقرر کیا ، وہ آپ کے پاس جنیب ( عمدہ قسم کی ) کھجور لے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہے؟ " اس نے عرض کی : واللہ! یا رسول اللہ! نہیں ۔ ہم ( ملی جلی کھجور کے ) دو صاع کے عوض اس کا ایک صاع اور تین کے عوض دو صاع لیتے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسا نہ کرو ، ملی جلی کھجور کو درہموں کے عوض بیچ دو ، پھر درہموں سے جنیب ( عمدہ ) کھجور خرید لو ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ". فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ {وَالصَّاعَيْنِ} بِالثَّلاَثَةِ. فَقَالَ " لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) appointed a man as the ruler of Khaibar who later brought some Janib (i.e. dates of good quality) to the Prophet. On that, Allah's Messenger (ﷺ) said (to him). "Are all the dates of Khaibar like this?" He said, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! But we take one Sa of these (dates of good quality) for two or three Sa's of other dates (of inferior quality)." On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not do so, but first sell the inferior quality dates for money and then with that money, buy Janib
اسماعیل نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مالک نے مجھے حدیث بیان کی، عبد المجید بن سہیل سے، سعید بن المسیب سے، ابو سعید الخدری اور ابو ہریرہ سے، رضی اللہ عنہما، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو خیبر پر حاکم بنایا تو وہ اس کے پاس بہترین کھجوریں لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا: کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ تو اس نے کہا: نہیں اللہ کی قسم یا رسول اللہ، ہم اس میں سے ایک صاع لیتے ہیں دو صاع یا تین صاع کے بدلے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا: ایسا نہ کرو، بلکہ خراب کھجوریں بیچ دو درہم کے لیے، پھر درہم سے بہترین کھجوریں خریدو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd Joseph's brethren came and presented themselves before him, and he knew them but they knew him not.
Yusuf AliThen came Joseph's brethren: they entered his presence, and he knew them, but they knew him not.
The agreed readingAnd Joseph's brothers came and entered upon him, and he knew them while they did not know him.
Urduیوسف کے بھائی مصر آئے اور ان کے پاس حاضر ہوئے، یوسف نے اپنی تیز فہمی کی وجہ سے انہیں فوراً پہچان لیا، مگر وہ طویل عرصہ گزرنے اور ان کی صورت بدل جانے کی وجہ سے انہیں پہچان نہ سکے۔
Arabicوجاء إخوة يوسف جميعا إلى مصر بعد أن أصابهم الجدب الشديد في أرضهم، فدخلوا عليه فعرفهم لقوة فراسته وذكائه، وهم له منكرون لطول المدة وتغير هيئته.
PickthallAnd when he provided them with their provision he said: Bring unto me a brother of yours from your father. See ye not that I fill up the measure and I am the best of hosts?
Yusuf AliAnd when he had furnished them forth with provisions (suitable) for them, he said: "Bring unto me a brother ye have, of the same father as yourselves, (but a different mother): see ye not that I pay out full measure, and that I do provide the best hospitality?
The agreed readingAnd when he had supplied them with their provisions he said: bring me a brother of yours from your father. Do you not see that I give full measure and that I am the best of hosts?
Urduجب یوسف نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو کہا: اپنے باپ کی طرف سے اپنا وہ بھائی میرے پاس لے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپ کر دیتا ہوں اور میں مہمان نوازی کرنے والوں میں سب سے بہتر ہوں؟
Arabicولما جهزهم يوسف بجهازهم وأكرم ضيافتهم كما ينبغي قال لهم: ائتوني بأخ لكم من أبيكم، ألا ترون أني أوفي الكيل وأحسن الضيافة، وأنا خير المنزلين لضيوفي جميعا.
PickthallThey said: We will try to win him from his father: that we will surely do.
Yusuf AliThey said: "We shall certainly seek to get our wish about him from his father: Indeed we shall do it."
The agreed readingThey said: we will try to draw him from his father, and we will certainly do it.
Urduانہوں نے کہا: ہم اپنے باپ سے اسے بھیجنے کے لیے پوری کوشش کریں گے تاکہ وہ راضی ہو جائیں، اور ہم یہ ضرور کر کے دکھائیں گے۔
Arabicقالوا ليوسف مطمئنين إياه: سنراود عنه أباه ونجتهد في إقناعه أن يرسله معنا في المرة القادمة القريبة إن شاء الله، وإنا لفاعلون ذلك بكل جهدنا واجتهادنا دون تقصير.
PickthallHe said unto his young men: Place their merchandise in their saddlebags, so that they may know it when they go back to their folk, and so will come again.
Yusuf AliAnd (Joseph) told his servants to put their stock-in-trade (with which they had bartered) into their saddle-bags, so they should know it only when they returned to their people, in order that they might come back.
The agreed readingAnd he said to his young men: put their goods back in their saddlebags, so that they may recognise them when they return to their people, and so come back.
Urduیوسف نے اپنے ملازموں سے کہا: ان کا سرمایہ خاموشی سے ان کے سامان میں رکھ دو، تاکہ جب یہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس جائیں تو اسے پہچان لیں اور شاید اسی وجہ سے دوبارہ یہاں لوٹ کر آئیں۔
Arabicوقال يوسف لفتيانه الخادمين له: اجعلوا بضاعتهم في رحالهم سرا، لعلهم يعرفونها إذا انقلبوا إلى أهلهم، لعلهم يرجعون إلينا مرة أخرى طمعا في مزيد عطائنا وكرمنا.
PickthallSo when they went back to their father they said: O our father! The measure is denied us, so send with us our brother that we may obtain the measure, surely we will guard him well.
Yusuf AliNow when they returned to their father, they said: "O our father! No more measure of grain shall we get (unless we take our brother): So send our brother with us, that we may get our measure; and we will indeed take every care of him."
The agreed readingSo when they returned to their father they said: our father, the measure has been withheld from us, so send our brother with us and we will get the measure. We will certainly guard him.
Urduجب وہ اپنے والد کے پاس واپس پہنچے تو کہا: اے ابا جان، ہمارے لیے غلہ ناپنا روک دیا گیا ہے، اس لیے ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ ہم غلہ لے سکیں، اور ہم اس کی ضرور حفاظت کریں گے۔
Arabicفلما رجعوا إلى أبيهم يعقوب قالوا: يا أبانا منع منا الكيل بعد اليوم، فأرسل معنا أخانا بنيامين نكتل، وإنا له لحافظون لا نفرط في حفظه أبدا.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب الشيعة7 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام شیعہ کتب سے
1. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Mahbub from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that once the Messenger of Allah raised his head to the heaven and smiled. He was asked, ‘O Messenger of Allah, we saw you. Why did you raise your head to the heaven and smile?’ He then replied, ‘I was amazed when I saw two angels come down from the heaven looking for a believing, virtuous servant (of Allah) in the place he performs his prayers, so they can record his deeds of that day and night but they could not find him there. They then ascended to the heaven saying, “Lord, we looked for Your so and so believing servant in …
عدہ سے ہم نے احمد بن محمد سے، ابن محبوب سے، عبد الله بن سنان سے، ابی عبد الله علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو ہنستے ہوئے۔ ان سے کہا گیا: یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور ہنستے ہوئے۔ آپ نے کہا: ہاں، مجھے حیرت ہوئی دو فرشتوں کے لیے جو آسمان سے زمین پر اترے، ایک ایمان والے اور صالح بندے کو تلاش کر رہے تھے اس نماز کی جگہ میں جہاں وہ نماز پڑھتے تھے تاکہ اس کے دن اور رات کا عمل لکھیں۔ لیکن وہ اسے اس نماز کی جگہ میں نہ پایا۔ تو وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے اور کہا: ہمارے رب! تمہارے بندے ایمان والے فلاں کو ہم نے اس کی نماز کی جگہ تلاش کیا تاکہ اس کے دن رات کا عمل لکھیں لیکن ہم نہ پائے۔ لیکن ہم نے اسے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
570. A number of our companions, from Sahl Bin Ziyad, from Yahya Bin Al-Mubarak, from Abdullah Bin Jabalat, from Is’haq Bin Ammar, who has said: Abu Abdullah (asws) has said: ‘This is how Allah (azwj), Blessed and High Revealed it:“ [9:128] Certainly a Messenger has come to us from among ourselves; grievous to him is our falling into distress, full of concern for us; to the believers (he is) compassionate”.
جماعت ہماری اصحاب سے سہل بن زیاد سے یحیٰ بن المبارک سے عبداللہ بن جبلہ سے اسحاق بن عمار سے ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اسی طرح نازل کیا: "لقد جاءنا رسول من انفسنا عزیز علیہ ما عنتنا حریص علینا بالمؤمنین رؤوف رحیم" - یقیناً ہمارے پاس ایک رسول آیا ہمارے میں سے، اس کے لیے سخت ہے ہماری مشقت، ہمارے لیے حریص، مومنین کے لیے رحم دل اور مہربان۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from al-Husayn ibn Sa‘id from certain persons of our people from Sama‘ah from abu Basir who has said the following: “Abu ’Abd Allah (a.s.), has said, ‘Qunut (supplication after recitation) on Friday is in the first Rak‘at after recitation in which you can read, “No one deserves to be worshipped besides Allah, the Forbearing, the Honorable. No one deserves to be worshipped besides Allah, most High, most Great. No one deserves to be worshipped besides Allah who is the Lord of seven heavens, the seven earths, all that is in them and between them and the Lord of the great throne. All praise belongs to Allah, Cherisher of the worlds. O …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، الحسین بن سعید سے، بعض اصحاب سے، سمئہ سے، ابو بصیر سے، ابو عبد الله علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: القنوت جمعہ کے دن کی قنوت ہے پہلی رکعت میں قرآن کے بعد۔ تم قنوت میں یہ کہو: لا الہ الا الله الحلیم الکریم۔ لا الہ الا الله العلی العظیم۔ لا الہ الا الله رب السموات السبع ورب الارضین السبع وما فیہن وما بینہن ورب العرش العظیم۔ والحمد لله رب العالمین۔ اے الله! محمد پر درود بھیج جیسے تو نے ہمیں ان کے ذریعے ہدایت دی۔ اے الله! محمد پر درود بھیج جیسے تو نے ہمیں ان کے ذریعے عزت دی۔ اے الله! ہمیں ان میں سے بنا جن کو تو نے اپنے دین کے لیے منتخب کیا ہے اور اپنی جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اے الله! ہماری دلوں کو اس کے بعد ٹیڑھا مت کر کہ تو نے ہمیں ہدایت دے دی ہے، اور …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Hadith.3315 - And Hammad narrated from Al-Halabi, from Abu Abdullah (as), who said: Indeed, the Messenger of Allah (swt), peace and blessings be upon him and his family, approved the testimony of women in matters of debt even if no man was with them.
روى حماد عن الحلبي عن ابو عبداللہ (علیہ السلام) قال: ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے النساء کی گواہی کو الدّين میں منظور کیا، چاہے ان کے ساتھ کوئی رجل نہ ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Hadith.594 - Imam Jafar ibn Muhammad Al-Sadiq (as) said : Allah (swt), Blessed and Exalted, revealed to Musa ibn Imran (as) to bring out the bones of Yusuf (as) from Egypt ’, and promised him the rising of the moon. However, the moon delayed in rising so he inquired about someone who knew its location. He was told of an elderly woman who knew its whereabouts. He summoned her, and a paralyzed, blind elderly woman was brought before him. Musa (as) asked: 'Do you know the grave of Yusuf (as)?' She replied: 'Yes.' Musa (as) said: 'Then inform me of its location.' She said: 'I will not do so unless you grant me certain conditions: to restore my legs so that I may walk, to return my eyesight, to …
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ یوسف علیہ السلام کی ہڈیوں کو مصر سے نکال اور وعدہ دیا کہ چاند طلوع ہوگا۔ تو چاند کی طلوع میں تاخیر ہوئی، تو موسیٰ نے اس کی جگہ کے بارے میں جاننے والے سے پوچھا۔ تو انہیں کہا گیا کہ ایک بوڑھی عورت ہے جو اس کی جگہ جانتی ہے۔ تو انہوں نے اسے بھیجا، تو ایک معاہد اور اندھی بوڑھی عورت آئی۔ تو موسیٰ نے کہا: کیا تم یوسف علیہ السلام کی قبر کو جانتی ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ موسیٰ نے کہا: تو مجھے اس کی جگہ بتاؤ۔ اس نے کہا: میں نہیں بتاؤں گی جب تک تم مجھے کچھ چیزیں نہ دو - میری ٹانگوں کو خود رکھو، میری آنکھ لوٹا دو، میری جوانی واپس کرو، اور مجھے جنت میں اپنے ساتھ بنا دو۔ تو یہ موسیٰ پر بھاری پڑ گیا، تو اللہ عز …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حدثنا محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد - رضي الله عنه - قال: حدثنا محمد بن الحسن الصفار، عن محمد بن الحسين بن أبي الخطاب، عن علي بن أسباط، عن سليم مولى طربال، عن هشام الجواليقي، قال: سألت أبا عبد الله عليه السلام عن قول الله عز وجل " سبحان الله " ما يعني به؟ قال: تنزيه.
2. We were told by Muhammed bin Hasan bin Ahmad bin Waleed, may Allah be pleased with him, that he said: We were told by Muhammed bin Hasan al-Saffar, from Muhammed bin Hussain bin Abi Talib, from Ali bin Asbat, from Sulaym, the servant of Tarbal, from Hisham al-Jawaleeqi, that he said: I asked Abu Abdillah, peace be upon him, of the saying of Allah, Exalted and Glorious is He: «Glorified be Allah» (23:91) What does He mean with it? He said: Extolment.
حدثنا محمد بن الحسن بن احمد بن الولید (رضی اللہ عنہ)، قال: حدثنا محمد بن الحسن الصفار، محمد بن الحسین بن ابی الخطاب سے، علی بن اسباط سے، سلیم مولیٰ طربال سے، ہشام الجوالیقی سے، کہا: سألت ابو عبد اللہ (علیہ السلام) عن قول اللہ عز و جل "سبحان اللہ"، ما یعنی بہ؟ قال: تنزیہ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
You should also fear what calamities befell peoples before you on account of their evil deeds and detestable actions. Remember, during good or bad circumstances, what happened to them, and be cautious that you do not become like them. After you have thought over both the conditions of these people, attach yourself to everything with which their position became honourable, on account of which enemies remained away from them through which safety spread over them, by reason of which riches bowed before them and as a result of which distinction connected itself with their rope. These things were abstention from division, sticking to unity, calling each other to it and advising each other about …
اور احذروا جو امم سے پہلے تمہارے نزل ہوا، سوء الأفعال اور ذميم الأعمال سے۔ تو تفكروا خير و شر میں ان کے أحوال، اور احذروا کہ تم ان کے أمثال بن جاؤ۔ تو جب تم تفكروا ان کے تفاوت أحوال میں، تو لزم کرو ہر امر جس سے العزة لزم رہا ان کے أحوال سے، اور زاحت الأعداء اسے ان سے، اور مدت العافية اس پر انہیں، اور انقادت النعمة اسے ان کے ساتھ، اور وصلت الكرامة اس پر ان کی حبل: الاجتناب الفرقة سے، اور اللزوم الالفة کے لیے، اور التحاض اس پر، اور التواصي اس سے۔ اور اجتنبوا ہر امر جو کسرت ان کے فقرة، اور أوهنت ان کے منة: تضاغن القلوب سے، اور تشاحن الصدور سے، اور تدابر النفوس سے، اور تخاذل الأيدي سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallHe said: Can I entrust him to you save as I entrusted his brother to you aforetime? Allah is better at guarding, and He is the Most Merciful of those who show mercy.
Yusuf AliHe said: "Shall I trust you with him with any result other than when I trusted you with his brother aforetime? But Allah is the best to take care (of him), and He is the Most Merciful of those who show mercy!"
The agreed readingHe said: shall I trust you with him except as I trusted you with his brother before? God is the best guardian, and He is the most merciful of those who show mercy.
Urduیعقوب علیہ السلام نے کہا: کیا میں تم پر اسے اسی طرح بھروسہ کر لوں جیسے اس سے پہلے میں نے تم پر اس کے بھائی کے معاملے میں بھروسہ کیا تھا؟ اللہ ہی بہترین حفاظت کرنے والا ہے، اور وہی سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
Arabicقال يعقوب لبنيه معاتبا: هل آمنكم عليه إلا كما أمنتكم على أخيه من قبل فما حفظتموه؟ فالله خير حافظا لمن يتوكل عليه، وهو أرحم الراحمين بعباده أجمعين.
PickthallAnd when they opened their belongings they discovered that their merchandise had been returned to them. They said: O our father! What (more) can we ask? Here is our merchandise returned to us. We shall get provision for our folk and guard our brother, and we shall have the extra measure of a camel (load). This (that we bring now) is a light measure.
Yusuf AliThen when they opened their baggage, they found their stock-in-trade had been returned to them. They said: "O our father! What (more) can we desire? this our stock-in-trade has been returned to us: so we shall get (more) food for our family; We shall take care of our brother; and add (at the same time) a full camel's load (of grain to our provisions). This is but a small quantity.
The agreed readingAnd when they opened their belongings they found their goods had been returned to them. They said: our father, what more could we ask? Here are our goods returned to us. We will bring provisions for our family, and guard our brother, and gain a further camel-load; that is an easy measure to get.
Urduجب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ انہیں واپس کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: اے ابا جان، ہمیں اور کیا چاہیے؟ یہ ہمارا سرمایہ ہمیں واپس مل گیا ہے۔ اب ہم اپنے گھر والوں کے لیے مزید غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے، اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ بھی حاصل کر لیں گے، اور یہ تو بہت آسان ناپ ہے۔
Arabicولما فتحوا متاعهم وجدوا بضاعتهم قد ردت إليهم، قالوا: يا أبانا ما نبغي بعد هذا؟ هذه بضاعتنا ردت إلينا، ونمير أهلنا ونحفظ أخانا ونزداد كيل بعير، وذلك كيل يسير على العزيز أن يعطيناه.
PickthallHe said: I will not send him with you till ye give me an undertaking in the name of Allah that ye will bring him back to me, unless ye are surrounded. And when they gave him their undertaking he said: Allah is the Warden over what we say.
Yusuf Ali(Jacob) said: "Never will I send him with you until ye swear a solemn oath to me, in Allah's name, that ye will be sure to bring him back to me unless ye are yourselves hemmed in (and made powerless). And when they had sworn their solemn oath, he said: "Over all that we say, be Allah the witness and guardian!"
The agreed readingHe said: I will not send him with you until you give me a pledge before God that you will bring him back to me, unless you are overpowered. And when they had given him their pledge, he said: God is the Keeper over what we say.
Urduیعقوب علیہ السلام نے کہا: میں اسے تمہارے ساتھ ہرگز نہیں بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام پر مجھ سے پختہ عہد نہ کر لو کہ تم ضرور اسے میرے پاس واپس لے آؤ گے، سوائے اس کے کہ تم سب گھیر لیے جاؤ۔ جب انہوں نے اپنا عہد دے دیا تو انہوں نے کہا: اللہ ہی اس بات پر نگہبان ہے جو ہم کہہ رہے ہیں۔
Arabicقال يعقوب لبنيه: لن أرسله معكم حتى تؤتوني موثقا من الله لتأتنني به، إلا أن يحاط بكم فتعجزوا عن ذلك. فلما آتوه موثقهم قال: الله على ما نقول وكيل يكفينا شهودا.
PickthallAnd he said: O my sons! Go not in by one gate; go in by different gates. I can naught avail you as against Allah. Lo! the decision rests with Allah only. In Him do I put my trust, and in Him let all the trusting put their trust.
Yusuf AliFurther he said: "O my sons! enter not all by one gate: enter ye by different gates. Not that I can profit you aught against Allah (with my advice): None can command except Allah: On Him do I put my trust: and let all that trust put their trust on Him."
The agreed readingAnd he said: my sons, do not enter by one gate; enter by different gates. I cannot avail you anything against God. Judgement belongs to God alone. In Him I have put my trust, and in Him let those who trust put their trust.
Urduاور یعقوب علیہ السلام نے کہا: میرے بیٹو، تم سب ایک ہی دروازے سے شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا۔ میں اللہ کے مقابلے میں تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا، حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
Arabicوقال يعقوب: يا بني لا تدخلوا من باب واحد وادخلوا من أبواب متفرقة، وما أغني عنكم من الله من شيء، إن الحكم إلا لله وحده، عليه توكلت وعليه فليتوكل المتوكلون.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ibn ‘abbas said :The Prophet (May peace be upon him) used to seek refuge in Allah for al-Hasan and al-husain, saying ; I seek refuge for both of you in the perfect words of Allah from every devil and every poisonous thing and from the evil eye which influences. He would then say; your father sought refuge in Allah by them for Ismail and Ishaq. Abu Dawud said; this is a proof of the fact that the Quran is not created
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے لیے ( ان الفاظ میں ) اللہ تعالیٰ پناہ مانگتے تھے «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں تم دونوں کے لیے پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ، ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ بچھو وغیرہ ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے پھر فرماتے: تمہارے باپ ( ابراہیم ) اسماعیل و اسحاق کے لیے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔
Ibn 'Abbas narrated that the Messenger of Allah (S.A.W) used to seek refuge for Al-Hasan and Al-Husain saying:""U'idhukuma bikalimatillahi-tammati,min kulli shaitanin wa hammatin, wa minkulli'ainin lammah (I seek refuge for the two of you in the Perfect Words of Allah, from every devil and every poisonous pest, and from every harmful eye)." And he would say: "It is with this that Ibrahim would seek refuge for Ishhaq and Ismail [peace be upon them]." Another chain reports a similar narration
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول حسن اور حسین رضی الله عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر جھاڑ پھونک کرتے تھے: «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» ”میں تمہارے لیے اللہ کے مکمل اور پورے کلمات کے وسیلے سے ہر شیطان اور ہلاک کرنے والے زہریلے کیڑے اور نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں“، اور آپ فرماتے تھے: ”اسماعیل اور اسحاق کے لیے اسی طرح ابراہیم علیہم السلام پناہ مانگتے تھے“۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Prophet (ﷺ) used to seek refuge for Hasan and Husain and say: A’udhu bi kalimatil-lahil- tammati, min kulli shaitanin wa hammah, wa min kulli ‘aynin lammah (I seek refuge for you both in the Perfect Words of Allah, from every devil and every poisonous reptile, and from every evil eye).’ And he would say: ‘Thus Ibrahim used to seek refuge with Allah for Isma’il and Ishaq,’ or he said: ‘for Isma’il and Ya’qub.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہما ) پر دم فرماتے تو کہتے: «أعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ، بچھو وغیرہ ) اور ہر نظر بد والی آ نکھ سے ، اور فرماتے: ہمارے والد ابراہیم علیہ السلام بھی اسی کے ذریعہ اسماعیل و اسحاق علیہما السلام پر دم فرماتے تھے یا کہا: اسماعیل اور یعقوب علیہما السلام پر ۔ یہ حدیث وکیع کی ہے۔
Yahya related to me from Malik that Muhammad ibn Abi Umama ibn Sahl ibn Hunayf heard his father say, "My father, Sahl ibn Hunayf did a ghusl at al-Kharrar. He removed the jubbah he had on while Amir ibn Rabia was watching, and Sahl was a man with beautiful white skin. Amir said to him, 'I have never seen anything like what I have seen today, not even the skin of a virgin.' Sahl fell ill on the spot, and his condition grew worse. Somebody went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and told him that Sahl was ill, and could not go with him. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came to him, and Sahl told him what had happened with Amir. …
ابو امامہ بن سہل بن حنیف کہتے تھے میرے باپ نے غسل کیا خرار میں تو انہوں نے اپنا جبہ اتارا اور عامر بن ربیعہ دیکھ رہے تھے اور سہل خوش رنگ تھے عامر بن ربیعہ نے دیکھ کر کہا میں نے تو آپ سا کوئی آدمی نہیں دیکھا اور نہ کسی بکر عورت کا پوست اسی وقت سہل کو بخار آنے لگا اور سخت بخار آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی شخص آیا اور بیان کیا کہ سہل کو بخار آگیا ہے اب وہ آپ کے ساتھ نہ جائیں گے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سہل کے پاس آئے سہل نے عامر بن ربیعہ کا کہنا بیان کیا آپ نے سن کر فرمایا کیا مار ڈالے گا ایک تم میں سے اپنے بھائی کو (اور عامر کو کہا) کیوں تو نے بارک اللہ نہیں کہا (یعنی برکت دے اللہ جل جلالہ ، یا ماشاء اللہ لاقوۃ الا …
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ قَالَ دُخِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِابْنَىْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِحَاضِنَتِهِمَا " مَا لِي أَرَاهُمَا ضَارِعَيْنِ " . فَقَالَتْ حَاضِنَتُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ تَسْرَعُ إِلَيْهِمَا الْعَيْنُ وَلَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَسْتَرْقِيَ لَهُمَا إِلاَّ أَنَّا لاَ نَدْرِي مَا يُوَافِقُكَ مِنْ ذَلِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْتَرْقُوا لَهُمَا فَإِنَّهُ لَوْ سَبَقَ شَىْءٌ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ " .
Yahya related to me from Malik that Humayd ibn Qays al-Makki said, "A man came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, with the two sons of Jafar ibn Abi Talib. He said to their nursemaid, 'Why do I see them so thin?' Their nursemaid said, 'Messenger of Allah, the evil eye goes quickly to them. Nothing stops us from asking someone to make incantations (using ayats of Qur'an) for them, except that we do not know what of that would agree with you.' The Messenger of ,Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'Make incantations for them. Had anything been able to precede the decree, the evil eye would precede it
حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ جعفر بن ابی طالب کے دو لڑکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے آپ نے ان کی دایہ سے کہا کیا سبب ہے یہ لڑکے دبلے ہیں وہ بولی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نظر لگ جاتی ہے اور ہم نے منتر اس واسطے نہ کیا کہ معلوم نہیں آپ ان کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ آپ نے فرمایا منتر کرو ان کے واسطے کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھتی تو نظر بڑھتی۔
PickthallAnd when they entered in the manner which their father had enjoined, it would have naught availed them as against Allah; it was but a need of Jacob's soul which he thus satisfied; and lo! he was a lord of knowledge because We had taught him; but most of mankind know not.
Yusuf AliAnd when they entered in the manner their father had enjoined, it did not profit them in the least against (the plan of) Allah: It was but a necessity of Jacob's soul, which he discharged. For he was, by our instruction, full of knowledge (and experience): but most men know not.
The agreed readingAnd when they entered as their father had told them, it availed them nothing against God. It was only a need in Jacob's soul which he thus satisfied. He had knowledge, because We had taught him, but most people do not know.
Urduاور جب وہ اپنے والد کے حکم کے مطابق داخل ہوئے تو یہ ترکیب اللہ کے مقابلے میں انہیں کچھ فائدہ نہ دے سکتی تھی، یہ تو صرف یعقوب علیہ السلام کے دل کی ایک خواہش تھی جسے انہوں نے پورا کر لیا۔ اور بےشک وہ اس علم کی وجہ سے صاحبِ علم تھے جو ہم نے انہیں سکھایا تھا، لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔
Arabicولما دخلوا من حيث أمرهم أبوهم، ما كان ذلك يغني عنهم من الله من شيء، إلا حاجة في نفس يعقوب قضاها بهذه الوصية، وإنه لذو علم عظيم لما علمناه، ولكن أكثر الناس لا يعلمون حقيقة الأمر.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah was asked about the children of the idolators and he said: 'Allah created them when He created them, and He knows best what they would have done
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ( اور ) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا ( کہ آئندہ ) وہ کیا کرنے والے ہیں“۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: When the children of a woman (in pre-Islamic days) did not survive, she took a vow on herself that if her child survives, she would convert it a Jew. When Banu an-Nadir were expelled (from Arabia), there were some children of the Ansar (Helpers) among them. They said: We shall not leave our children. So Allah the Exalted revealed; "Let there be no compulsion in religion. Truth stands out clear from error." Abu Dawud said: Muqlat means a woman whose children do not survive
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( کفر کے زمانہ میں ) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کا بچہ نہ جیتا ( زندہ نہ رہتا ) تو وہ نذر مانتی کہ اگر اس کا بچہ جئیے ( زندہ رہے گا ) گا تو وہ اس کو یہودی بنائے گی، جب بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا حکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے، انصار نے کہا: ہم اپنے لڑکوں کو نہ چھوڑیں گے تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغى» ( سورۃ البقرہ: ۲۵۶ ) دین میں زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مقلات» : اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ جیتا ہو۔
Ibn ‘abbas said :The Prophet (May peace be upon him) used to seek refuge in Allah for al-Hasan and al-husain, saying ; I seek refuge for both of you in the perfect words of Allah from every devil and every poisonous thing and from the evil eye which influences. He would then say; your father sought refuge in Allah by them for Ismail and Ishaq. Abu Dawud said; this is a proof of the fact that the Quran is not created
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے لیے ( ان الفاظ میں ) اللہ تعالیٰ پناہ مانگتے تھے «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں تم دونوں کے لیے پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ، ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ بچھو وغیرہ ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے پھر فرماتے: تمہارے باپ ( ابراہیم ) اسماعیل و اسحاق کے لیے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔
Ibn 'Abbas narrated that the Messenger of Allah (S.A.W) used to seek refuge for Al-Hasan and Al-Husain saying:""U'idhukuma bikalimatillahi-tammati,min kulli shaitanin wa hammatin, wa minkulli'ainin lammah (I seek refuge for the two of you in the Perfect Words of Allah, from every devil and every poisonous pest, and from every harmful eye)." And he would say: "It is with this that Ibrahim would seek refuge for Ishhaq and Ismail [peace be upon them]." Another chain reports a similar narration
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول حسن اور حسین رضی الله عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر جھاڑ پھونک کرتے تھے: «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» ”میں تمہارے لیے اللہ کے مکمل اور پورے کلمات کے وسیلے سے ہر شیطان اور ہلاک کرنے والے زہریلے کیڑے اور نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں“، اور آپ فرماتے تھے: ”اسماعیل اور اسحاق کے لیے اسی طرح ابراہیم علیہم السلام پناہ مانگتے تھے“۔
PickthallAnd when they went in before Joseph, he took his brother unto him, saying: Lo! I, even I, am thy brother, therefore sorrow not for what they did.
Yusuf AliNow when they came into Joseph's presence, he received his (full) brother to stay with him. He said (to him): "Behold! I am thy (own) brother; so grieve not at aught of their doings."
The agreed readingAnd when they entered upon Joseph, he drew his brother to himself and said: I am your brother, so do not grieve over what they have been doing.
Urduاور جب وہ یوسف کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے قریب کر لیا اور تنہائی میں فرمایا: میں تمہارا وہی بھائی یوسف ہوں، اس لیے جو کچھ ان بھائیوں نے میرے ساتھ کیا اس پر غمگین نہ ہونا۔
Arabicولما دخلوا على يوسف آوى إليه أخاه بنيامين وضمه إليه بمحبة، وقال له سرا: إني أنا أخوك يوسف فلا تبتئس بما كانوا يعملون بنا من قبل.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah was asked about the children of the idolators and he said: 'Allah created them when He created them, and He knows best what they would have done
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ( اور ) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا ( کہ آئندہ ) وہ کیا کرنے والے ہیں“۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: When the children of a woman (in pre-Islamic days) did not survive, she took a vow on herself that if her child survives, she would convert it a Jew. When Banu an-Nadir were expelled (from Arabia), there were some children of the Ansar (Helpers) among them. They said: We shall not leave our children. So Allah the Exalted revealed; "Let there be no compulsion in religion. Truth stands out clear from error." Abu Dawud said: Muqlat means a woman whose children do not survive
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( کفر کے زمانہ میں ) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کا بچہ نہ جیتا ( زندہ نہ رہتا ) تو وہ نذر مانتی کہ اگر اس کا بچہ جئیے ( زندہ رہے گا ) گا تو وہ اس کو یہودی بنائے گی، جب بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا حکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے، انصار نے کہا: ہم اپنے لڑکوں کو نہ چھوڑیں گے تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغى» ( سورۃ البقرہ: ۲۵۶ ) دین میں زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مقلات» : اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ جیتا ہو۔
PickthallAnd when he provided them with their provision, he put the drinking-cup in his brother's saddlebag, and then a crier cried: O camel-riders! Lo! ye are surely thieves!
Yusuf AliAt length when he had furnished them forth with provisions (suitable) for them, he put the drinking cup into his brother's saddle-bag. Then shouted out a crier: "O ye (in) the caravan! behold! ye are thieves, without doubt!"
The agreed readingAnd when he had supplied them with their provisions, he put the drinking cup in his brother's saddlebag. Then a crier called out: you of the caravan, you are thieves.
Urduجب یوسف نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو انہوں نے شاہی پیمانہ اپنے بھائی کے سامان میں چھپا کر رکھوا دیا۔ پھر جب وہ روانہ ہوئے تو ایک منادی نے پکار کر کہا: اے قافلے والو، بےشک تم چور ہو۔
Arabicفلما جهزهم يوسف بجهازهم جعل السقاية في رحل أخيه بنيامين سرا دون أن يشعروا أحد، ثم لما ارتحلوا جميعا أذن مؤذن: أيتها العير إنكم لسارقون حقا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah was asked about the children of the idolators and he said: 'Allah created them when He created them, and He knows best what they would have done
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ( اور ) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا ( کہ آئندہ ) وہ کیا کرنے والے ہیں“۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: When the children of a woman (in pre-Islamic days) did not survive, she took a vow on herself that if her child survives, she would convert it a Jew. When Banu an-Nadir were expelled (from Arabia), there were some children of the Ansar (Helpers) among them. They said: We shall not leave our children. So Allah the Exalted revealed; "Let there be no compulsion in religion. Truth stands out clear from error." Abu Dawud said: Muqlat means a woman whose children do not survive
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( کفر کے زمانہ میں ) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کا بچہ نہ جیتا ( زندہ نہ رہتا ) تو وہ نذر مانتی کہ اگر اس کا بچہ جئیے ( زندہ رہے گا ) گا تو وہ اس کو یہودی بنائے گی، جب بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا حکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے، انصار نے کہا: ہم اپنے لڑکوں کو نہ چھوڑیں گے تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغى» ( سورۃ البقرہ: ۲۵۶ ) دین میں زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مقلات» : اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ جیتا ہو۔
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "While a man was tending some of his sheep, a wolf came and took a sheep. So its owner came and retrieved it. The wolf said: 'What will you do for it on the Day of the Predator, the Day when there will be no shepherd for it other than me?'" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "So I believe in that, I and Abu Bakr, and 'Umar." (One of the narrators) Abu Salamah said: "And the two of them were (present) not among the people that day
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا تو اس کا مالک آیا اور اس نے اس سے بکری کو چھین لیا، تو بھیڑیا بولا: درندوں والے دن میں جس دن میرے علاوہ ان کا کوئی اور چرواہا نہیں ہو گا تو کیسے کرے گا؟“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس پر یقین کیا اور ابوبکر نے اور عمر نے بھی“، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔
Narrated Jabir [bin 'Abdullah]:that he heard Mu'awiyah bin Abi Sufyan giving a Khutbah, saying: "The Messenger of Allah (ﷺ) died when he was sixty-three years old, and so did Abu Bakr and 'Umar, and I am sixty-three years old
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی ( اس وقت ) ترسٹھ سال کا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated from Ibn Abbas:That a man in Ihram was thrown by his she-camel and his neck was broken. It was said that he had died, so the Prophet said: "Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths." Then he said: "Do not put any perfume on him for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah." Shubah said: "Ten years later, I asked him (the narrator Abu Bishr) anbut that, and he narrated the Hadith as he had the first time, except that he said: 'And do not cover his face and head
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو“، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: ”اس کا سر کفن سے باہر رہے“، فرمایا: ”اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ شعبہ ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے ان سے ( یعنی اپنے استاد ابوبشر سے ) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے ( اس بار اتنا مزید ) کہا کہ ”اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah was asked about the children of the idolators and he said: 'Allah created them when He created them, and He knows best what they would have done
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ( اور ) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا ( کہ آئندہ ) وہ کیا کرنے والے ہیں“۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا بَنُونَ مِثْلُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( إذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ …
Ibn Abbas said:“Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Prophet. So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Messenger of Allah, informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا …
Narrated Abdullah ibn Abbas: When the children of a woman (in pre-Islamic days) did not survive, she took a vow on herself that if her child survives, she would convert it a Jew. When Banu an-Nadir were expelled (from Arabia), there were some children of the Ansar (Helpers) among them. They said: We shall not leave our children. So Allah the Exalted revealed; "Let there be no compulsion in religion. Truth stands out clear from error." Abu Dawud said: Muqlat means a woman whose children do not survive
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( کفر کے زمانہ میں ) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کا بچہ نہ جیتا ( زندہ نہ رہتا ) تو وہ نذر مانتی کہ اگر اس کا بچہ جئیے ( زندہ رہے گا ) گا تو وہ اس کو یہودی بنائے گی، جب بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا حکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے، انصار نے کہا: ہم اپنے لڑکوں کو نہ چھوڑیں گے تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغى» ( سورۃ البقرہ: ۲۵۶ ) دین میں زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مقلات» : اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ جیتا ہو۔
Narrated Salama bin Al-Akwa: Once, while we were sitting in the company of Prophet, a dead man was brought. The Prophet (ﷺ) was requested to lead the funeral prayer for the deceased. He said, "Is he in debt?" The people replied in the negative. He said, "Has he left any wealth?" They said, "No." So, he led his funeral prayer. Another dead man was brought and the people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Lead his funeral prayer." The Prophet (ﷺ) said, "Is he in debt?" They said, "Yes." He said, "Has he left any wealth?" They said, ''Three Dinars." So, he led the prayer. Then a third dead man was brought and the people said (to the Prophet (ﷺ) ), Please lead his funeral prayer." He said, "Has he …
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اس کی نماز پڑھا دیجئیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نہیں کوئی قرض نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ میت نے کچھ مال بھی چھوڑا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کوئی مال بھی نہیں چھوڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد ایک دوسرا جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ان کی بھی نماز جنازہ پڑھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کسی کا قرض بھی میت پر ہے؟ …
PickthallThey said: We have lost the king's cup, and he who bringeth it shall have a camel-load, and I (said Joseph) am answerable for it.
Yusuf AliThey said: "We miss the great beaker of the king; for him who produces it, is (the reward of) a camel load; I will be bound by it."
The agreed readingThey said: we have lost the king's cup, and whoever brings it will have a camel-load, and I stand surety for it.
Urduانہوں نے کہا: ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں مل رہا، اور جو کوئی اسے لے کر آئے گا اسے ایک اونٹ کے بوجھ برابر غلہ ملے گا، اور میں خود اس کا ذمہ دار ہوں۔
Arabicقالوا للسائل: نفقد صواع الملك الذي يكيل به للناس جميعا، ولمن جاء به حمل بعير من الطعام جزاء له، وأنا بهذا الحمل زعيم كفيل أضمنه لكم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "While a man was tending some of his sheep, a wolf came and took a sheep. So its owner came and retrieved it. The wolf said: 'What will you do for it on the Day of the Predator, the Day when there will be no shepherd for it other than me?'" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "So I believe in that, I and Abu Bakr, and 'Umar." (One of the narrators) Abu Salamah said: "And the two of them were (present) not among the people that day
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا تو اس کا مالک آیا اور اس نے اس سے بکری کو چھین لیا، تو بھیڑیا بولا: درندوں والے دن میں جس دن میرے علاوہ ان کا کوئی اور چرواہا نہیں ہو گا تو کیسے کرے گا؟“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس پر یقین کیا اور ابوبکر نے اور عمر نے بھی“، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔
Narrated Jabir [bin 'Abdullah]:that he heard Mu'awiyah bin Abi Sufyan giving a Khutbah, saying: "The Messenger of Allah (ﷺ) died when he was sixty-three years old, and so did Abu Bakr and 'Umar, and I am sixty-three years old
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی ( اس وقت ) ترسٹھ سال کا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated from Ibn Abbas:That a man in Ihram was thrown by his she-camel and his neck was broken. It was said that he had died, so the Prophet said: "Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths." Then he said: "Do not put any perfume on him for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah." Shubah said: "Ten years later, I asked him (the narrator Abu Bishr) anbut that, and he narrated the Hadith as he had the first time, except that he said: 'And do not cover his face and head
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو“، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: ”اس کا سر کفن سے باہر رہے“، فرمایا: ”اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ شعبہ ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے ان سے ( یعنی اپنے استاد ابوبشر سے ) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے ( اس بار اتنا مزید ) کہا کہ ”اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah was asked about the children of the idolators and he said: 'Allah created them when He created them, and He knows best what they would have done
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ( اور ) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا ( کہ آئندہ ) وہ کیا کرنے والے ہیں“۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا بَنُونَ مِثْلُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( إذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ …
Ibn Abbas said:“Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Prophet. So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Messenger of Allah, informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا …
Narrated Abdullah ibn Abbas: When the children of a woman (in pre-Islamic days) did not survive, she took a vow on herself that if her child survives, she would convert it a Jew. When Banu an-Nadir were expelled (from Arabia), there were some children of the Ansar (Helpers) among them. They said: We shall not leave our children. So Allah the Exalted revealed; "Let there be no compulsion in religion. Truth stands out clear from error." Abu Dawud said: Muqlat means a woman whose children do not survive
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( کفر کے زمانہ میں ) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کا بچہ نہ جیتا ( زندہ نہ رہتا ) تو وہ نذر مانتی کہ اگر اس کا بچہ جئیے ( زندہ رہے گا ) گا تو وہ اس کو یہودی بنائے گی، جب بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا حکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے، انصار نے کہا: ہم اپنے لڑکوں کو نہ چھوڑیں گے تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغى» ( سورۃ البقرہ: ۲۵۶ ) دین میں زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مقلات» : اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ جیتا ہو۔
Narrated Salama bin Al-Akwa: Once, while we were sitting in the company of Prophet, a dead man was brought. The Prophet (ﷺ) was requested to lead the funeral prayer for the deceased. He said, "Is he in debt?" The people replied in the negative. He said, "Has he left any wealth?" They said, "No." So, he led his funeral prayer. Another dead man was brought and the people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Lead his funeral prayer." The Prophet (ﷺ) said, "Is he in debt?" They said, "Yes." He said, "Has he left any wealth?" They said, ''Three Dinars." So, he led the prayer. Then a third dead man was brought and the people said (to the Prophet (ﷺ) ), Please lead his funeral prayer." He said, "Has he …
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اس کی نماز پڑھا دیجئیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نہیں کوئی قرض نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ میت نے کچھ مال بھی چھوڑا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کوئی مال بھی نہیں چھوڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد ایک دوسرا جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ان کی بھی نماز جنازہ پڑھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کسی کا قرض بھی میت پر ہے؟ …
PickthallThey said: The penalty for it! He in whose bag (the cup) is found, he is the penalty for it. Thus we requite wrong-doers.
Yusuf AliThey said: "The penalty should be that he in whose saddle-bag it is found, should be held (as bondman) to atone for the (crime). Thus it is we punish the wrong-doers!"
The agreed readingThey said: its penalty is that the one in whose bag it is found is himself the penalty for it. That is how we repay wrongdoers.
Urduانہوں نے کہا: اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں سے وہ چیز نکلے وہ خود ہی اس کی سزا ہے، یعنی وہ غلام بنا لیا جائے۔ ہمارے ہاں ظالموں کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں۔
Arabicقالوا لهم جميعا بلا تردد: جزاؤه من وجد المسروق في رحله فهو جزاؤه، يسترق ويكون عبدا عند من سرق منه، كذلك نجزي الظالمين في شريعتنا وديننا القديم.
PickthallThen he (Joseph) began the search with their bags before his brother's bag, then he produced it from his brother's bag. Thus did We contrive for Joseph. He could not have taken his brother according to the king's law unless Allah willed. We raise by grades (of mercy) whom We will, and over every lord of knowledge there is one more knowing.
Yusuf AliSo he began (the search) with their baggage, before (he came to) the baggage of his brother: at length he brought it out of his brother's baggage. Thus did We plan for Joseph. He could not take his brother by the law of the king except that Allah willed it (so). We raise to degrees (of wisdom) whom We please: but over all endued with knowledge is one, the All-Knowing.
The agreed readingSo he began with their bags before his brother's bag, then brought it out of his brother's bag. So did We plan for Joseph. He could not have taken his brother under the king's law had God not willed it. We raise in rank whom We will, and above every one who has knowledge there is one who knows more.
Urduچنانچہ یوسف نے اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے دوسرے بھائیوں کے تھیلوں کی تلاشی لی، پھر اسے اپنے بھائی کے تھیلے سے نکال لیا۔ اسی طرح ہم نے یوسف کے لیے یہ تدبیر کی، بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ اپنے بھائی کو نہیں رکھ سکتے تھے سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔ ہم جسے چاہیں درجات میں بلند کر دیتے ہیں، اور ہر علم والے کے اوپر ایک اور زیادہ جاننے والا ہوتا ہے۔
Arabicفبدأ بأوعيتهم قبل وعاء أخيه، ثم استخرجها من وعاء أخيه، كذلك كدنا ليوسف هذه الحيلة، ما كان ليأخذ أخاه في دين الملك إلا أن يشاء الله، نرفع درجات من نشاء وفوق كل ذي علم عليم أعلم منه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Talha bin 'Ubaidullah:A bedouin with unkempt hair came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Tell me what Allah has enjoined on me as regards prayers." The Prophet (ﷺ) said, "You have to offer perfectly the five (compulsory) prayers in a day and a night (24 hrs.), except if you want to perform some extra optional prayers." The bedouin said, "Tell me what Allah has enjoined on me as regards fasting." The Prophet (ﷺ) said, "You have to observe fast during the month of Ramadan except if you fast some extra optional fast." The bedouin said, "Tell me what Allah has enjoined on me as regard Zakat." The Prophet (ﷺ) then told him the Islamic laws and regulations …
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوسہیل نافع نے، ان سے ان کے والد مالک بن ابی عامر نے، اور ان سے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک دیہاتی ( ضمام بن ثعلبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ اس کے سر کے بال پراگندہ تھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ وقت کی نمازیں۔ سوا ان نمازوں کے جو تم نفلی پڑھو۔ اس نے کہا مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنے روزے فرض کئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے کے روزے سوا ان کے جو تم نفلی رکھو۔ اس نے پوچھا مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کتنی فرض کی …
PickthallThey said: If he stealeth, a brother of his stole before. But Joseph kept it secret in his soul and revealed it not unto them. He said (within himself): Ye are in worse case, and Allah knoweth best (the truth of) that which ye allege.
Yusuf AliThey said: "If he steals, there was a brother of his who did steal before (him)." But these things did Joseph keep locked in his heart, revealing not the secrets to them. He (simply) said (to himself): "Ye are the worse situated; and Allah knoweth best the truth of what ye assert!"
The agreed readingThey said: if he steals, a brother of his stole before. But Joseph kept it to himself and did not show it to them. He said within himself: you are in a worse position, and God knows best what you describe.
Urduانہوں نے کہا: اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا (سگا) بھائی بھی چوری کر چکا ہے۔ یوسف نے یہ بات اپنے دل میں چھپا لی اور ان پر ظاہر نہ ہونے دی، اور دل میں کہا: تمہاری حالت اس سے بھی بری ہے، اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم بیان کر رہے ہو۔
Arabicقالوا: إن يسرق فقد سرق أخ له من قبل، فأسرها يوسف في نفسه ولم يبدها لهم، وقال في نفسه: أنتم شر مكانا مما تظنون، والله أعلم بما تصفون من الكذب.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Ibn 'Abbas said concerning Surat An-Nahl - :"Whoever disbelieved in Allah after his belief, except him who is forced thereto and whose heart is at rest with Faith; but such as open their breasts to disbelief, on them is wrath from Allah, and theirs will be a great torment." "This was abrogated, and an exception was made, as Allah said: "Then, verily, your Lord for those who emigrated after they had been put to trials and thereafter strove hard and fought (for the Cause of Allah) and were patient, verily, your Lord afterward is, Oft-Forgiving, Most Merciful." This was 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh who was the governor of Egypt and used to write to the Messenger of …
ہمیں زکریا بن یحییٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث کی، انہوں نے کہا: علی بن الحسین بن واقد نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھ کو یزید النحوی سے خبر دی، عکرمہ سے، ابن عباس سے کہا: سورہ النحل میں لیہ کہ 'من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکره' سے لیہ کہ 'لہم عذاب عظیم' تک یہ منسوخ ہوا اور اس میں سے استثناء کی گئی اور فرمایا گیا 'ثم ان ربك للذین ہاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاہدوا و صبروا ان ربك من بعدہا لغفور رحیم۔' اور یہ عبداللہ بن سعد بن ابی السرح کے بارے میں ہے جو مصر کا والی تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے لکھتے تھے۔ شیطان نے انہیں گمراہ کیا اور وہ کافروں کی طرف چلے گئے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن انہیں قتل کرنے کا حکم …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThey said: O ruler of the land! Lo! he hath a very aged father, so take one of us instead of him. Lo! we behold thee of those who do kindness.
Yusuf AliThey said: "O exalted one! Behold! he has a father, aged and venerable, (who will grieve for him); so take one of us in his place; for we see that thou art (gracious) in doing good."
The agreed readingThey said: mighty one, he has a father who is very old, so take one of us in his place. We see that you are one of those who do good.
Urduانہوں نے کہا: اے عزیز، اس کا والد بہت بوڑھا اور کمزور ہے، اس لیے اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لیجیے، بےشک ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نیکی کرنے والوں میں سے ہیں۔
Arabicقالوا له متوسلين إليه بإلحاح: يا أيها العزيز، إن له أبا شيخا كبيرا يحبه حبا شديدا، فخذ أحدنا مكانه، إنا نراك من المحسنين في معاملتنا وغيرنا.
3. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from his father from fadalah from Rifa‘ah who has said the following: “I once heard abu ‘Abd Allah (a.s.), saying, ‘When Allah, most Blessed, most High, granted good health to Ayyub (a.s.), he looked to the Israelites who had their plantations. He raised his eyes to the sky and said, ‘O Lord, my Master, this is Your slave Ayyub who was in suffering and You granted him good health but he does not have any plantation. These are people of banu Israel who have their plantations.’ Allah, most Majestic, most Glorious, sent him revelation that said, ‘Take a handful from you rosary beads and use it as seed .’ His rosary …
عدة من اصحابنا نے احمد بن محمد بن خالد سے، ان کے باپا سے، فضالة سے، رفاعة سے روایت کی، کہا: میں نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) کو کہتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ جب ایوب (علیہ السلام) کو عافیت دے دی، تو اس نے بنی اسرائیل کو دیکھا کہ وہ بوئے بو رہے ہیں، تو اس نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا: اے میرے خدا اور میرے سیاہی! تمہارا بندہ ایوب جو مبتلا تھا، انہیں عافیت دے دی، اور انہوں نے کوئی بوا نہ بویا، اور یہ بنی اسرائیل ہیں جن کے پاس کھیت ہیں۔ تو اللہ عزّ وجلّ نے اس کی طرف وحی کی: اے ایوب، اپنے تسبیح سے ایک مٹھی لے اور اسے بو۔ اور اس کی تسبیح میں نمک تھی۔ تو ایوب (علیہ السلام) نے اس سے ایک مٹھی لی اور اسے بویا، تو عدس نکلی، اور تم اسے چنے کا نام دیتے ہو، اور ہم اسے عدس کہتے ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن حفص بن غياث فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن أبي عبد اللّه، عن أبيه، عن حفص بن غياث. و رويته عن عليّ بن أحمد بن موسى- رحمه اللّه- عن محمّد بن أبي عبد اللّه، عن محمّد بن أبي بشير قال: حدّثنا الحسين بن الهيثم قال: حدّثنا سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث. و رويته عن أبي- رحمه اللّه- عن سعد بن عبد اللّه، عن القاسم بن محمّد الاصبهانيّ، عن سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث النخعيّ القاضي.
Everything in this book that is narrated from Hafs ibn Ghayath has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ahmad ibn Abi Abdullah, from his father, from Hafs ibn Ghayath. I have also narrated it from Ali ibn Ahmad ibn Musa - may Allah (swt) have mercy on him - from Muhammad ibn Abi Abdullah, from Muhammad ibn Abi Bashir, who said: Al-Husayn ibn Al-Haytham narrated to us, saying: Sulayman ibn Dawud Al-Munqari narrated to us, from Hafs ibn Ghayath. Additionally, I have narrated it from my father - may Allah (swt) have mercy on him - from Sa'd ibn Abdullah, from Al-Qasim ibn Muhammad Al-Isfahani, from Sulayman ibn Dawud …
اور جو کچھ اس میں حفص بن غیاث کے ذریعے ہے، تو میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں خوش رکھے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، احمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، ان کے والد کے ذریعے، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے علی بن احمد بن موسیٰ سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - محمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، محمد بن ابی بشیر کے ذریعے۔ انہوں نے کہا: ہمیں الحسین بن الہیثم نے حدیث دی، کہا: ہمیں سليمان بن داود المنقری نے حدیث دی، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، القاسم بن محمد الاصبهاني کے ذریعے، سليمان بن داود المنقری کے ذریعے، حفص بن غیاث النخعي القاضي سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
7. A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad from Muhammad ibn al-Hassan ibn Shammun from ‘Abd Allah ibn ‘Abd al-Rahman from Misma’ ibn ‘Abd al-Malik who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that ’Amir al-Mu’minin has said, ‘One hired and a partner are liable unless it (the loss) is because of beasts, drowning, burning or a stubborn thief.’”
عدة من أصحابنا نے سہل بن زياد سے روایت کی، سہل نے محمد بن الحسن بن شمون سے، محمد نے عبد الله بن عبد الرحمن سے، عبد الله نے مسمع بن عبد الملك سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں: ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: امیر المؤمنین صلوات الله علیہ نے کہا: اجیر المشارک ضامن ہے إلا سبع یا غرق یا حرق یا لص مکابر کے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad from Muhammad ibn al-Hassan ibn Shammun from ‘Abd Allah ibn ‘Abd al-Rahman al-Asamm from Misma’ ibn ‘Abd al-Malik who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, sent through Ali (a.s.), the declaration of the abrogation of peace treaty to be announce in Makkah, he sent along with him a group of people. The Messenger of Allah then said (to them), ‘Those who turn themselves into captivity without having sustained a disabling wound are not of our people.’”
عدّة من أصحابنا نے سہل بن زیاد سے روایت کی، محمد بن الحسن بن شمّون سے، عبداللہ بن عبدالرحمن الاصمّ سے، مسمع بن عبدالملک سے، ابو عبد اللہ علیہ السلام سے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے سورۃ البراءة (یعنی براءة کی سورت) علی بن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ بھیجی تو ان کے ساتھ کچھ لوگوں کو بھی بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے انہیں فرمایا: جو شخص بغیر سخت و پریشان کن زخم کے خود کو اسیر (قیدی) بنا لے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
5. It is narrated from him (narrator of the Hadith above) from ibn Mahbub from ‘Amr ibn Shamir from Jabir from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, is compassionate. He loves kindheartedness and awards for it with such things that He does not give due to rudeness.”
عنہ عن ابن محبوب عن عمرو بن شمر عن جابر عن ابی جعفر (علیہ السلام) نے کہا: الله تعالیٰ رفیق ہے۔ وہ رفق اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور رفق پر ایسا عطا کرتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Description of the Creation of Adam : Allāh collected from hard, soft, sweet and sour earth, clay which He dripped in water till it got pure, and kneaded it with moisture till it became gluey. From it He carved an image with curves, joints, limbs and segments. He solidified it till it dried up for a fixed time and a known duration. Then He blew into it out of His Spirit whereupon it took the pattern of a human being with mind that governs him, intelligence which he makes use of, limbs that serve him, organs that change his position, sagacity that differentiates between truth and untruth, tastes and smells, colours and species. He is a mixture of clays of different colours, cohesive …
صفتِ خلقِ آدم علیہ السلام: پھر اللہ سبحانہ نے زمین کی حزن و سہل، عذب و سبخ سے جمع کیا، تربہ اسے سنہ کیا پانی سے یہاں تک کہ خالص ہو گیا، اور اسے بلة سے ملایا یہاں تک کہ لازبت ہو گئی۔ تو اس سے ایک صورتِ أحناء و وصول، أعضاء و فصول بنایا: اسے أجمد کیا یہاں تک کہ استمسکت ہو گیا، اور أصلد کیا یہاں تک کہ صلصلت ہو گیا، معدودِ وقت اور معلومِ اجل کے لیے۔ پھر اس میں اپنی روح سے پھونکا تو یہ انسان بنا جو أذہان رکھتا ہے انہیں چلاتا ہے، اور فکر رکھتا ہے اسے حرکت دیتا ہے، اور جوارح رکھتا ہے انہیں خدمت لیتا ہے، اور أدوات رکھتا ہے انہیں تبدیل کرتا ہے، اور معرفت رکھتا ہے اس سے حق و باطل میں فرق کرتا ہے، أذواق و مشامّ میں، ألوان و أجناس میں۔ معجوں طینةِ ألوانِ مختلفہ، اور أشباہِ مؤتلفہ، اور أضدادِ متعادیہ، …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Then Allāh asked the angels to fulfil His promise with them and to accomplish the pledge of His injunction to them by acknowledging Him through prostration to Him and submission to His honoured position. So Allāh said: ‘Be prostrate towards Adam and they prostrated except Iblis (Satan).’ (Qur’ān, 2:34; 7:11; 17:61; 18:50; 20:116) Self-importance withheld him and vice overcame him. So that he took pride in his own creation with fire and treated contemptuously the creation of clay. So Allāh allowed him time in order to let him fully deserve His wrath, and to complete (man’s) test and to fulfil the promise (He had made to Satan). Thus, He said: ‘Verily you have been allowed time till the known …
اور اللہ سبحانہ نے فرشتوں سے اپنی امانت اور وصیت کی عہد کا استیفاء کیا - السجود میں اللہ کی اذعان کے اور اس کی تکریم میں خنوع کے لیے۔ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس۔ ابلیس کو حمیہ (غرور) نے پکڑا اور شقاوت غالب آ گئی۔ اس نے اپنی آگ کی خلقت پر بپھر کھڑا ہوا اور مٹی کی خلقت کو حقیر سمجھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے نظرت (مہلت) دی - سخط کی استحقاق کے لیے، اور بلیہ کی تکمیل کے لیے، اور عدہ کی انجام تک پہنچنے کے لیے۔ پھر اللہ نے کہا: انک من المنظرین الیٰ یوم الوقت المعلوم۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
أبي - رحمه الله - قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن أحمد بن أبي عبد الله، عن أبيه، عن محمد بن أبي عمير، عن معاوية بن عمار، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قلت له: جعلت فداك، ما حد الجار؟ قال: أربعين دارا من كل جانب.
1. My father, may Allah grant him mercy, said: We were told by Sa’d bin Abdullah, from Ahmad bin Abi Abdillah, from his father, from Muhammed bin Abi ‘Umayr, from Mu’awiya bin Ammar, from Abu Abdillah, peace be upon him, that he said: I said to him: May I be sacrificed for you, what is the limit of a neighbor? He said: Forty houses from every side.
ابي رحمه الله کہا: سعد بن عبد الله نے احمد بن ابي عبد الله سے اس کے باپا سے محمد بن ابي عمير سے معاوية بن عمار سے ابو عبد الله عليه السلام سے روایت کی۔ کہا: میں نے اس سے کہا: تمہارے لیے فدا، پڑوسی کی حد کیا ہے؟ فرمایا: ہر طرف سے چالیس گھر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
أبي - رحمه الله - قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن أحمد بن أبي عبد الله، عن محمد ابن علي الكوفي، عن عبيد الله الدهقان، عن درست بن أبي منصور الواسطي، عن إبراهيم ابن عبد الحميد، عن أبي الحسن موسى عليه السلام قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله فقال: يا رسول الله قد علمت ابني هذا الكتاب، ففي أي شئ أسلمه؟ فقال: سلمه لله أبوك ولا تسلمه في خمس: لا تسلمه سياء ولا صائغا ولا قصابا ولا حناطا ولا نخاسا فقال: يا رسول الله وما السياء؟ قال: الذي يبيع الأكفان ويتمنى موت أمتي وللمولود عن أمتي أحب إلي مما طلعت عليه الشمس. وأما الصائغ فإنه يعالج غبن أمتي . وأما القصاب فإنه يذبح حتى تذهب الرحمة من قلبه. وأما الحناط فإنه يحتكر الطعام على أمتي ولئن يلقى الله العبد سارقا أحب إلي من أن يلقاه قد احتكر طعاما …
1. My father, may Allah grant him mercy, said: We were told by Sa’d bin Abdullah, from Ahmad bin Abi Abdillah, from Muhammed ibn Ali al-Kufi, from Ubaidullah al-Dahqan, from Darast bin Abi Mansur al-Wasiti, from Ibrahim ibn Abdil-Hamid, from Abu’l-Hasan, Musa, peace be upon him, that he said: A man came to the Prophet, Allah’s blessings be upon him and his Family, and said: O Messenger of Allah, I have taught my son this book, so for what thing shall I give it? He said: Give it, for the sake of Allah, to your father, and do not give it to five: do not give it to an evil-wisher, nor a goldsmith, nor a slaughterer, nor a wheat seller, nor a slave trader. Then he said: O Messenger of Allah, …
میرے والد - اللہ انہیں رحمت دے - نے کہا: ہمیں سعد بن عبداللہ نے خبر دی، احمد بن ابی عبداللہ سے، محمد بن علی الکوفی سے، عبیداللہ الدہقان سے، درست بن ابی منصور الواسطی سے، ابراہیم بن عبدالحمید سے، ابو الحسن موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے بیٹے کو یہ کتاب سکھایا ہے، تو اسے کس میں دے دوں؟ انہوں نے کہا: اسے اللہ کے لیے اپنے والد کو دے دو اور انہیں پانچوں میں مت دینا: ایک - ستھا بیچنے والے کو، دوسرا - سونار کو، تیسرا - قصائی کو، چوتھا - اناج کا تاجر کو، پانچواں - غلام خریدو فروخت کرنے والے کو۔ تو آدمی نے کہا: یا رسول اللہ، ستھا بیچنے والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ جو کفن بیچتا ہے اور میری امت کی موت کی خواہش رکھتا ہے۔ حالانکہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallSo, When they despaired of (moving) him, they conferred together apart. The eldest of them said: Know ye not how your father took an undertaking from you in Allah's name and how ye failed in the case of Joseph aforetime? Therefore I shall not go forth from the land until my father giveth leave or Allah judgeth for me. He is the Best of Judges.
Yusuf AliNow when they saw no hope of his (yielding), they held a conference in private. The leader among them said: "Know ye not that your father did take an oath from you in Allah's name, and how, before this, ye did fail in your duty with Joseph? Therefore will I not leave this land until my father permits me, or Allah commands me; and He is the best to command.
The agreed readingSo when they despaired of him, they drew aside to confer. The eldest of them said: do you not know that your father took a pledge from you before God, and how you failed before over Joseph? I will not leave this land until my father gives me leave, or God judges for me, and He is the best of judges.
Urduجب وہ یوسف سے مایوس ہو گئے تو الگ ہو کر آپس میں مشورہ کرنے لگے۔ ان کے سب سے بڑے بھائی نے کہا: کیا تمہیں یاد نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کے نام پر پختہ عہد لیا تھا، اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے معاملے میں کوتاہی کر چکے ہو؟ اس لیے میں تو اس زمین کو ہرگز نہیں چھوڑوں گا جب تک میرا والد مجھے اجازت نہ دے، یا اللہ خود میرے حق میں فیصلہ نہ کر دے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
Arabicفلما استيأسوا منه خلصوا نجيا يتشاورون، قال كبيرهم: ألم تعلموا أن أباكم قد أخذ عليكم موثقا من الله، ومن قبل ما فرطتم في يوسف؟ فلن أبرح هذه الأرض حتى يأذن لي أبي أو يحكم الله لي، وهو خير الحاكمين.
PickthallReturn unto your father and say: O our father! Lo! thy son hath stolen. We testify only to that which we know; we are not guardians of the Unseen.
Yusuf Ali"Turn ye back to your father, and say, 'O our father! behold! thy son committed theft! we bear witness only to what we know, and we could not well guard against the unseen!
The agreed readingGo back to your father and say: our father, your son has stolen. We bear witness only to what we know, and we were not keepers of the unseen.
Urduتم اپنے والد کے پاس واپس جاؤ اور کہو: اے ابا جان، آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے۔ ہم نے تو صرف اسی بات کی گواہی دی ہے جو ہمارے علم میں آئی، اور ہم غیب کی باتوں کے نگہبان نہیں تھے۔
Arabicارجعوا إلى أبيكم جميعا فقولوا له بصدق: يا أبانا إن ابنك سرق، وما شهدنا إلا بما علمنا يقينا، وما كنا للغيب من قبل ذلك حافظين عالمين.
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَزُورُهُ، وَهْوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا بَلَغَ قَرِيبًا مِنْ باب الْمَسْجِدِ عِنْدَ باب أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِمَا رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ نَفَذَا فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى …
Narrated Safiya:(the wife of the Prophet) That she came to visit Allah's Messenger (ﷺ) while he was in I`tikaf (i.e. seclusion in the Mosque during the last ten days of Ramadan). When she got up to return, Allah's Messenger (ﷺ) got up with her and accompanied her, and when he reached near the gate of the Mosque close to the door (of the house) of Um Salama, the wife of the Prophet, two Ansari men passed by them and greeted Allah's Apostle and then went away. Allah's Messenger (ﷺ) addressed them saying, "Don't hurry! (She is my wife)," They said, "Glorified be Allah! O Allah's Messenger (ﷺ) (You are far away from any suspicion)," and his saying was hard on them. Allah's Messenger (ﷺ) said, …
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے علی بن حسین زین العابدین نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ملنے کے لیے حاضر ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا مسجد میں اعتکاف کئے ہوئے تھے۔ پھر وہ واپس ہونے کے لیے اٹھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ اٹھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازہ کے قریب پہنچے جو مسجد نبوی کے دروازے سے ملا ہوا تھا تو دو انصاری صحابی ( اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ) وہاں سے …
Pickthall(And when they came unto their father and had spoken thus to him) he said: Nay, but your minds have beguiled you into something. (My course is) comely patience! It may be that Allah will bring them all unto me. Lo! He, only He, is the Knower, the Wise.
Yusuf AliJacob said: "Nay, but ye have yourselves contrived a story (good enough) for you. So patience is most fitting (for me). Maybe Allah will bring them (back) all to me (in the end). For He is indeed full of knowledge and wisdom."
The agreed readingHe said: no, your souls have made something seem easy to you. Patience is best. It may be that God will bring them all back to me. He is the Knowing, the Wise.
Urduیعقوب علیہ السلام نے کہا: نہیں، بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بات کو آسان بنا کر پیش کیا ہے۔ اب صبر ہی بہتر ہے۔ امید ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس واپس لے آئے گا، بےشک وہی خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔
Arabicقال يعقوب لهم: بل سولت لكم أنفسكم أمرا، فصبر جميل لا شكوى معه، عسى الله أن يأتيني بهم جميعا، إنه هو العليم بأحوالنا، الحكيم في تدبيره.
PickthallAnd he turned away from them and said: Alas, my grief for Joseph! And his eyes were whitened with the sorrow that he was suppressing.
Yusuf AliAnd he turned away from them, and said: "How great is my grief for Joseph!" And his eyes became white with sorrow, and he fell into silent melancholy.
The agreed readingAnd he turned away from them and said: how great is my grief for Joseph. And his eyes went white from the sorrow he was holding in.
Urduاور یعقوب علیہ السلام ان سے منہ پھیر کر ایک طرف ہو گئے اور کہا: ہائے یوسف پر افسوس۔ اور غم کی شدت سے ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں، اور وہ اپنے غم کو دل ہی دل میں پی رہے تھے۔
Arabicوتولى يعقوب عنهم وقال: يا أسفى على يوسف، وابيضت عيناه من شدة الحزن الذي في قلبه، فهو كظيم يكتم حزنه ولا يشكوه لأحد من الناس أبدا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Usama b. Zaid reported:While we were with the Messenger of Allah (ﷺ), one of his daughters sent to him (the Messenger) to call him and inform him that her child or her son was dying. The Messenger of Allah (ﷺ) told the messenger to go back and tell her that what Allah had taken belonged to Him, and to him belonged what He granted; and He has an appointed time for everything. So you (the messenger) order her to show endurance and seek reward from Allah. The messenger came back and said: She adjures him to come to her. He got up to go accompanied by Sa'd b. 'Ubada, Mu'adh b. Jabal, and I also went along with them. The child was lifted to him and his soul was feeling as restless as if it was …
حماد بن زید نے عاصم احول سے ، انھوں نے ابو عثمان نہدی سے اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کی بیٹیوں میں سے ایک نے آپ کو بلاتے ہوئے اور اطلاع دیتے ہوئے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ اس کابچہ ۔ ۔ ۔ یااس کا بیٹا ۔ ۔ ۔ موت ( کے عالم ) میں ہے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیام لانے والےسے فرمایا : " ان کے پاس واپس جا کر ان کو بتاؤ کہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اوراسی کا ہے ۔ جو اس نے دیا تھا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے ، اور ان کو بتادو کہ وہ صبر کریں اور اجر وثواب کی طلب گار ہوں ۔ " پیام رساں دوبارہ آیا اور کہا : انھوں نے ( آپ کو ) قسم دی ہے کہ آپ ان کے پاس ضرور تشریف لائیں ۔ کہا : اس پر …
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا قُرَيْشٌ ـ هُوَ ابْنُ حَيَّانَ ـ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ ـ وَكَانَ ظِئْرًا لإِبْرَاهِيمَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ، وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ، فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَذْرِفَانِ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ـ رضى الله عنه ـ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ " يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ". ثُمَّ …
Narrated Anas bin Malik:We went with Allah's Messenger (ﷺ) to the blacksmith Abu Saif, and he was the husband of the wet-nurse of Ibrahim (the son of the Prophet). Allah's Messenger (ﷺ) took Ibrahim and kissed him and smelled him and later we entered Abu Saif's house and at that time Ibrahim was in his last breaths, and the eyes of Allah's Messenger (ﷺ) started shedding tears. `Abdur Rahman bin `Auf said, "O Allah's Apostle, even you are weeping!" He said, "O Ibn `Auf, this is mercy." Then he wept more and said, "The eyes are shedding tears and the heart is grieved, and we will not say except what pleases our Lord, O Ibrahim ! Indeed we are grieved by your separation
ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حسان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے قریش نے جو حیان کے بیٹے ہیں، نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوسیف لوہار کے یہاں گئے۔ یہ ابراہیم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے رضی اللہ عنہ ) کو دودھ پلانے والی انا کے خاوند تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو گود میں لیا اور پیار کیا اور سونگھا۔ پھر اس کے بعد ہم ان کے یہاں پھر گئے۔ دیکھا کہ اس وقت ابراہیم رضی اللہ عنہ دم توڑ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں۔ تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ یا رسول اللہ! اور آپ بھی …
PickthallHe said: I expose my distress and anguish only unto Allah, and I know from Allah that which ye know not.
Yusuf AliHe said: "I only complain of my distraction and anguish to Allah, and I know from Allah that which ye know not...
The agreed readingHe said: I lay my sorrow and my grief before God alone, and I know from God what you do not know.
Urduیعقوب علیہ السلام نے کہا: میں تو اپنی پریشانی اور اپنا غم صرف اللہ ہی کے سامنے پیش کرتا ہوں، اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
Arabicقال يعقوب لبنيه: إنما أشكو بثي وحزني الشديد إلى الله وحده لا إلى غيره من الخلق أجمعين، وأعلم من فضل الله ورحمته ما لا تعلمونه أنتم.
PickthallGo, O my sons, and ascertain concerning Joseph and his brother, and despair not of the Spirit of Allah. Lo! none despaireth of the Spirit of Allah save disbelieving folk.
Yusuf Ali"O my sons! go ye and enquire about Joseph and his brother, and never give up hope of Allah's Soothing Mercy: truly no one despairs of Allah's Soothing Mercy, except those who have no faith."
The agreed readingMy sons, go and seek news of Joseph and his brother, and do not despair of relief from God. No one despairs of relief from God except a people who refuse.
Urduمیرے بیٹو، جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کی خبر تلاش کرو، اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ بےشک اللہ کی رحمت سے وہی لوگ مایوس ہوتے ہیں جو حق کا انکار کرنے والے ہیں۔
Arabicقال يعقوب لبنيه جميعا: يا بني اذهبوا فتحسسوا من يوسف وأخيه، ولا تيأسوا من روح الله، إنه لا ييأس من روح الله إلا القوم الكافرون الجاحدون.
PickthallAnd when they came (again) before him (Joseph) they said: O ruler! Misfortune hath touched us and our folk, and we bring but poor merchandise, so fill for us the measure and be charitable unto us. Lo! Allah will requite the charitable,
Yusuf AliThen, when they came (back) into (Joseph's) presence they said: "O exalted one! distress has seized us and our family: we have (now) brought but scanty capital: so pay us full measure, (we pray thee), and treat it as charity to us: for Allah doth reward the charitable."
The agreed readingSo when they entered upon him they said: mighty one, hardship has touched us and our family, and we have brought poor goods. So give us full measure, and be charitable to us. God repays those who are charitable.
Urduجب وہ یوسف کے پاس حاضر ہوئے تو کہا: اے عزیز، ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو سخت تکلیف پہنچی ہے، اور ہم بہت معمولی سا سرمایہ لے کر آئے ہیں۔ اس لیے ہمیں پورا ناپ کر دیجیے اور ہم پر صدقہ بھی کیجیے، بےشک اللہ صدقہ کرنے والوں کو اجر دیتا ہے۔
Arabicفلما دخلوا عليه قالوا: يا أيها العزيز مسنا وأهلنا الضر الشديد، وجئنا ببضاعة مزجاة قليلة القيمة، فأوف لنا الكيل وتصدق علينا، إن الله يجزي المتصدقين خيرا.
PickthallThey said: Is it indeed thou who art Joseph? He said: I am Joseph and this is my brother. Allah hath shown us favour. Lo! he who wardeth off (evil) and endureth (findeth favour); for lo! Allah loseth not the wages of the kindly.
Yusuf AliThey said: "Art thou indeed Joseph?" He said, "I am Joseph, and this is my brother: Allah has indeed been gracious to us (all): behold, he that is righteous and patient,- never will Allah suffer the reward to be lost, of those who do right."
The agreed readingThey said: are you really Joseph? He said: I am Joseph, and this is my brother. God has been gracious to us. Whoever guards himself and is patient will find that God does not let the reward of those who do good be lost.
Urduانہوں نے پوچھا: کیا واقعی تم ہی یوسف ہو؟ یوسف نے کہا: ہاں میں یوسف ہوں، اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے، بےشک جو کوئی تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
Arabicقالوا: أإنك لأنت يوسف؟ قال: أنا يوسف وهذا أخي، قد من الله علينا بهذا اللقاء، إنه من يتق ويصبر فإن الله لا يضيع أجر المحسنين أبدا.
PickthallGo with this shirt of mine and lay it on my father's face, he will become (again) a seer; and come to me with all your folk.
Yusuf Ali"Go with this my shirt, and cast it over the face of my father: he will come to see (clearly). Then come ye (here) to me together with all your family."
The agreed readingTake this shirt of mine and lay it over my father's face, and he will see again. And bring me all your family.
Urduمیری یہ قمیض لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا، ان کی بینائی واپس آ جائے گی۔ اور اپنے سارے گھر والوں کو بھی میرے پاس لے آنا۔
Arabicاذهبوا الآن جميعا بقميصي هذا فألقوه على وجه أبي يعد بصيرا كما كان من قبل، وأتوني بعد ذلك بأهلكم أجمعين دون أن يتخلف منهم أحد.
Ikrimah, the freed slave of Ibn `Abbas, narrated that:Ibn `Abbas said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when `Ali bin Abi Talib came to him, and he said: ‘May my father and mother be ransomed for you! This Qur’an has suddenly left my heart, and I do not find myself capable of it.’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘O Abul-Hasan! Should I not teach you words that Allah shall benefit you with, and benefit whomever you teach, and they will make whatever you have learned in your chest firm?’ He said: ‘Of course, O Messenger of Allah (ﷺ), so teach me.’ He (ﷺ) said: ‘When it is the night of (before) Friday, then if you are able to stand in the last third of the night, then verily …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اسی دوران علی رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپ نے فرمایا: ”جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہو سکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے …
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever has oppressed another person concerning his reputation or anything else, he should beg him to forgive him before the Day of Resurrection when there will be no money (to compensate for wrong deeds), but if he has good deeds, those good deeds will be taken from him according to his oppression which he has done, and if he has no good deeds, the sins of the oppressed person will be loaded on him
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ ( سے ظلم کیا ہو ) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے ( مظلوم ) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ ابوعبدللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا سعید مقبری کا نام مقبری اس لیے ہوا کہ قبرستان کے قریب انہوں نے قیام کیا تھا۔ ابوعبداللہ ( …
Ikrimah, the freed slave of Ibn `Abbas, narrated that:Ibn `Abbas said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when `Ali bin Abi Talib came to him, and he said: ‘May my father and mother be ransomed for you! This Qur’an has suddenly left my heart, and I do not find myself capable of it.’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘O Abul-Hasan! Should I not teach you words that Allah shall benefit you with, and benefit whomever you teach, and they will make whatever you have learned in your chest firm?’ He said: ‘Of course, O Messenger of Allah (ﷺ), so teach me.’ He (ﷺ) said: ‘When it is the night of (before) Friday, then if you are able to stand in the last third of the night, then verily …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اسی دوران علی رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپ نے فرمایا: ”جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہو سکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے …
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Our Lord, the Blessed, the Superior, comes every night down on the nearest Heaven to us when the last third of the night remains, saying: "Is there anyone to invoke Me, so that I may respond to invocation? Is there anyone to ask Me, so that I may grant him his request? Is there anyone seeking My forgiveness, so that I may forgive him?
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان نے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ عبدالرحمٰن اور ابوعبداللہ اغر نے اور ان دونوں حضرات سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَتَنَزَّلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ?"
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When it is the last third of the night, our Lord, the Blessed, the Superior, descends every night to the heaven of the world and says, 'Is there anyone who invokes Me (demand anything from Me), that I may respond to his invocation; Is there anyone who asks Me for something that I may give (it to) him; Is there anyone who asks My forgiveness that I may forgive him?
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوعبداللہ الاغر اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے کہ میں اس کی بخشش کروں۔
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever has oppressed another person concerning his reputation or anything else, he should beg him to forgive him before the Day of Resurrection when there will be no money (to compensate for wrong deeds), but if he has good deeds, those good deeds will be taken from him according to his oppression which he has done, and if he has no good deeds, the sins of the oppressed person will be loaded on him
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ ( سے ظلم کیا ہو ) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے ( مظلوم ) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ ابوعبدللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا سعید مقبری کا نام مقبری اس لیے ہوا کہ قبرستان کے قریب انہوں نے قیام کیا تھا۔ ابوعبداللہ ( …
PickthallThen, when the bearer of glad tidings came, he laid it on his face and he became a seer once more. He said: Said I not unto you that I know from Allah that which ye know not?
Yusuf AliThen when the bearer of the good news came, He cast (the shirt) over his face, and he forthwith regained clear sight. He said: "Did I not say to you, 'I know from Allah that which ye know not?'"
The agreed readingThen when the bearer of good news came, he laid it over his face and he saw again. He said: did I not tell you that I know from God what you do not know?
Urduپھر جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا اور اس نے قمیض ان کے چہرے پر ڈال دی تو ان کی بینائی واپس آ گئی۔ انہوں نے کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے؟
Arabicفلما جاء البشير ألقى القميص على وجهه فارتد بصيرا كما كان، قال لهم: ألم أقل لكم من قبل إني أعلم من الله ما لا تعلمونه أنتم؟
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ikrimah, the freed slave of Ibn `Abbas, narrated that:Ibn `Abbas said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when `Ali bin Abi Talib came to him, and he said: ‘May my father and mother be ransomed for you! This Qur’an has suddenly left my heart, and I do not find myself capable of it.’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘O Abul-Hasan! Should I not teach you words that Allah shall benefit you with, and benefit whomever you teach, and they will make whatever you have learned in your chest firm?’ He said: ‘Of course, O Messenger of Allah (ﷺ), so teach me.’ He (ﷺ) said: ‘When it is the night of (before) Friday, then if you are able to stand in the last third of the night, then verily …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اسی دوران علی رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپ نے فرمایا: ”جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہو سکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے …
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Our Lord, the Blessed, the Superior, comes every night down on the nearest Heaven to us when the last third of the night remains, saying: "Is there anyone to invoke Me, so that I may respond to invocation? Is there anyone to ask Me, so that I may grant him his request? Is there anyone seeking My forgiveness, so that I may forgive him?
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان نے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ عبدالرحمٰن اور ابوعبداللہ اغر نے اور ان دونوں حضرات سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَتَنَزَّلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ?"
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When it is the last third of the night, our Lord, the Blessed, the Superior, descends every night to the heaven of the world and says, 'Is there anyone who invokes Me (demand anything from Me), that I may respond to his invocation; Is there anyone who asks Me for something that I may give (it to) him; Is there anyone who asks My forgiveness that I may forgive him?
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوعبداللہ الاغر اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے کہ میں اس کی بخشش کروں۔
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever has oppressed another person concerning his reputation or anything else, he should beg him to forgive him before the Day of Resurrection when there will be no money (to compensate for wrong deeds), but if he has good deeds, those good deeds will be taken from him according to his oppression which he has done, and if he has no good deeds, the sins of the oppressed person will be loaded on him
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ ( سے ظلم کیا ہو ) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے ( مظلوم ) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ ابوعبدللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا سعید مقبری کا نام مقبری اس لیے ہوا کہ قبرستان کے قریب انہوں نے قیام کیا تھا۔ ابوعبداللہ ( …
Ikrimah, the freed slave of Ibn `Abbas, narrated that:Ibn `Abbas said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when `Ali bin Abi Talib came to him, and he said: ‘May my father and mother be ransomed for you! This Qur’an has suddenly left my heart, and I do not find myself capable of it.’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘O Abul-Hasan! Should I not teach you words that Allah shall benefit you with, and benefit whomever you teach, and they will make whatever you have learned in your chest firm?’ He said: ‘Of course, O Messenger of Allah (ﷺ), so teach me.’ He (ﷺ) said: ‘When it is the night of (before) Friday, then if you are able to stand in the last third of the night, then verily …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اسی دوران علی رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپ نے فرمایا: ”جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہو سکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے …
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Our Lord, the Blessed, the Superior, comes every night down on the nearest Heaven to us when the last third of the night remains, saying: "Is there anyone to invoke Me, so that I may respond to invocation? Is there anyone to ask Me, so that I may grant him his request? Is there anyone seeking My forgiveness, so that I may forgive him?
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان نے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ عبدالرحمٰن اور ابوعبداللہ اغر نے اور ان دونوں حضرات سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَتَنَزَّلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ?"
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When it is the last third of the night, our Lord, the Blessed, the Superior, descends every night to the heaven of the world and says, 'Is there anyone who invokes Me (demand anything from Me), that I may respond to his invocation; Is there anyone who asks Me for something that I may give (it to) him; Is there anyone who asks My forgiveness that I may forgive him?
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوعبداللہ الاغر اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے کہ میں اس کی بخشش کروں۔
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever has oppressed another person concerning his reputation or anything else, he should beg him to forgive him before the Day of Resurrection when there will be no money (to compensate for wrong deeds), but if he has good deeds, those good deeds will be taken from him according to his oppression which he has done, and if he has no good deeds, the sins of the oppressed person will be loaded on him
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ ( سے ظلم کیا ہو ) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے ( مظلوم ) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ ابوعبدللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا سعید مقبری کا نام مقبری اس لیے ہوا کہ قبرستان کے قریب انہوں نے قیام کیا تھا۔ ابوعبداللہ ( …
PickthallHe said: I shall ask forgiveness for you of my Lord. Lo! He is the Forgiving, the Merciful.
Yusuf AliHe said: "Soon will I ask my Lord for forgiveness for you: for he is indeed Oft-Forgiving, Most Merciful."
The agreed readingHe said: I will ask my Lord to forgive you. He is the Forgiving, the Merciful. One tradition holds that he put it off to the last dark hour before a Friday dawn.
Urduیعقوب علیہ السلام نے کہا: میں عنقریب اپنے رب سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا، بےشک وہی بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ ایک روایت کے مطابق انہوں نے یہ دعا جمعہ کی رات کے آخری پچھلے پہر تک کے لیے مؤخر کر دی۔
Arabicقال يعقوب لبنيه: سوف أستغفر لكم ربي عما فعلتموه، إنه هو الغفور الرحيم بعباده التائبين، ويروى في الأثر أنه أخر ذلك إلى وقت السحر ليلة الجمعة.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ikrimah, the freed slave of Ibn `Abbas, narrated that:Ibn `Abbas said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when `Ali bin Abi Talib came to him, and he said: ‘May my father and mother be ransomed for you! This Qur’an has suddenly left my heart, and I do not find myself capable of it.’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘O Abul-Hasan! Should I not teach you words that Allah shall benefit you with, and benefit whomever you teach, and they will make whatever you have learned in your chest firm?’ He said: ‘Of course, O Messenger of Allah (ﷺ), so teach me.’ He (ﷺ) said: ‘When it is the night of (before) Friday, then if you are able to stand in the last third of the night, then verily …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اسی دوران علی رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپ نے فرمایا: ”جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہو سکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے …
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Our Lord, the Blessed, the Superior, comes every night down on the nearest Heaven to us when the last third of the night remains, saying: "Is there anyone to invoke Me, so that I may respond to invocation? Is there anyone to ask Me, so that I may grant him his request? Is there anyone seeking My forgiveness, so that I may forgive him?
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان نے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ عبدالرحمٰن اور ابوعبداللہ اغر نے اور ان دونوں حضرات سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَتَنَزَّلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ?"
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "When it is the last third of the night, our Lord, the Blessed, the Superior, descends every night to the heaven of the world and says, 'Is there anyone who invokes Me (demand anything from Me), that I may respond to his invocation; Is there anyone who asks Me for something that I may give (it to) him; Is there anyone who asks My forgiveness that I may forgive him?
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوعبداللہ الاغر اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے کہ میں اس کی بخشش کروں۔
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever has oppressed another person concerning his reputation or anything else, he should beg him to forgive him before the Day of Resurrection when there will be no money (to compensate for wrong deeds), but if he has good deeds, those good deeds will be taken from him according to his oppression which he has done, and if he has no good deeds, the sins of the oppressed person will be loaded on him
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ ( سے ظلم کیا ہو ) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے ( مظلوم ) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ ابوعبدللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا سعید مقبری کا نام مقبری اس لیے ہوا کہ قبرستان کے قریب انہوں نے قیام کیا تھا۔ ابوعبداللہ ( …
PickthallAnd when they came in before Joseph, he took his parents unto him, and said: Come into Egypt safe, if Allah will!
Yusuf AliThen when they entered the presence of Joseph, he provided a home for his parents with himself, and said: "Enter ye Egypt (all) in safety if it please Allah."
The agreed readingAnd when they entered upon Joseph, he drew his parents to himself and said: enter Egypt in safety, if God wills.
Urduاور جب وہ یوسف کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنے والدین کو اپنے قریب کر لیا اور کہا: اللہ نے چاہا تو امن و سکون کے ساتھ مصر میں داخل ہو جاؤ۔
Arabicفلما دخلوا على يوسف بمصر آوى إليه أبويه بمحبة وتكريم عظيم، وقال لهم جميعا مطمئنا فرحا: ادخلوا مصر إن شاء الله آمنين من كل خوف وضر.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 3 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة4 reports cited here — 3 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
26-2 فقال اليهودي: فما نفس في نفس ليس بينهما رحم ولا قرابة؟ قال ذاك يونس عليه السلام في بطن الحوتقال: فما قبر سار بصاحبه؟ قال: يونس حين طاف به الحوت في سبعة أبحرقال له: فالشمس من أين تطلع؟ قال: من بين قرني الشيطانقال: فأين تغرب؟ قال: في عين حامية. قال لي حبيبي رسول الله صلى الله عليه وآله: "لا تصل في إقبالها ولا في إدبارها حتى تصير مقدار رمح أو رمحين ."قال: فأين طلعت الشمس ثم لم تطلع في ذلك الموضع؟ قال: في البحر فلقه الله لبني إسرائيل لقوم موسى عليه السلامقال له: فربك يحمل أو يحمل؟ قال: إن ربي عز وجل يحمل كل شئ بقدرته ولا يحمله شيءقال: فكيف قوله عز وجل: "وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ." قال: يا يهودي، ألم تعلم أن لله ما في السماوات وما في الأرض وما بينهما وما …
26-2 The Jew asked, ‘What is the living creature which was placed in another living creature without there being any ties of kinship between them?’ Ali (MGB) replied, ‘It was the Prophet Jonah (‘Yunus) who was eaten up by a large whale.’The Jew asked, ‘Which grave was the one which took what it contained on a trip?’ Ali (MGB) replied, ‘It was the large whale which moved around at sea when Jonah was in its stomach.’The Jew asked, ‘From where does the Sun rise?’ Ali (MGB) replied, ‘From between the two horns of Satan?’The Jew asked, ‘To where does the Sun set?’ Ali (MGB) replied, ‘It sets in a hot spring. My friend, i.e. God’s Prophet (MGB) told me not to pray at the times of sunrise or …
تو اس یہودی نے حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا: وہ کون سی جاندار چیز ہے جو کسی دوسری جاندار چیز کے اندر ہوں، حالانکہ ان کے درمیان کوئی خون کا رشتہ اور قرابت نہ ہوں؟ حضرت علی علیہ السلام نے جواب دیا: وہ یونس علیہ السلام تھے جو مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ یہودی نے کہا: تو وہ کون سی قبر ہے جو اپنے مردے کو ساتھ لے کر سفر کرے؟ حضرت علی نے جواب دیا: یہ مچھلی ہے جو یونس علیہ السلام کو اپنے اندر لیے ہوئے سمندروں میں سفر کرتی رہی۔ یہودی نے پوچھا: سورج کہاں سے طلوع ہوتا ہے؟ حضرت علی نے کہا: شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے۔ یہودی نے کہا: اور وہ کہاں ڈوبتا ہے؟ حضرت علی نے کہا: ایک بہت گرم چشمے میں۔ یہودی نے سوال کیا: تو کیا تمہارا رب چیزوں کو اٹھاتا ہے؟ حضرت علی نے کہا: میرا رب عز وجل ہر چیز کو اٹھاتا ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abdullah said:"Allah's Messenger went out to relieve himself. So he said: 'Bring me tree stones.'" He said, "So I came with two stones and a piece of dung. So he took the two stones, and left the dung. He said: 'It is Riks (a degenerative or filthy thing)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: ”میرے لیے تین پتھر ڈھونڈ لاؤ“، میں دو پتھر اور ایک گوبر کا ٹکڑا لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے دونوں پتھروں کو لے لیا اور گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور فرمایا: ”یہ ناپاک ہے“ ۱؎۔ ( ابواسحاق سبیعی ثقہ اور مدلس راوی ہیں، بڑھاپے میں حافظہ میں اختلاط ہو گیا تھا اس لیے جن رواۃ نے ان سے اختلاط سے پہلے سنا ان کی روایت مقبول ہے، اور جن لوگوں نے اختلاط کے بعد سنا ان کی روایت ضعیف، یہ حدیث ابواسحاق سے ان کے تلامذہ نے مختلف انداز سے روایت کی ہے ) ۔ امام ترمذی نے یہاں: ابن مسعود کی اس حدیث کو بسند «اسرائیل عن ابی اسحاق عن ابی عبیدہ عن ابن مسعود» روایت کرنے کے بعد اسرائیل کی متابعت ۲؎ میں …
Ikrimah, the freed slave of Ibn `Abbas, narrated that:Ibn `Abbas said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when `Ali bin Abi Talib came to him, and he said: ‘May my father and mother be ransomed for you! This Qur’an has suddenly left my heart, and I do not find myself capable of it.’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘O Abul-Hasan! Should I not teach you words that Allah shall benefit you with, and benefit whomever you teach, and they will make whatever you have learned in your chest firm?’ He said: ‘Of course, O Messenger of Allah (ﷺ), so teach me.’ He (ﷺ) said: ‘When it is the night of (before) Friday, then if you are able to stand in the last third of the night, then verily …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اسی دوران علی رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپ نے فرمایا: ”جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہو سکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے …
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever has oppressed another person concerning his reputation or anything else, he should beg him to forgive him before the Day of Resurrection when there will be no money (to compensate for wrong deeds), but if he has good deeds, those good deeds will be taken from him according to his oppression which he has done, and if he has no good deeds, the sins of the oppressed person will be loaded on him
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ ( سے ظلم کیا ہو ) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے ( مظلوم ) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ ابوعبدللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا سعید مقبری کا نام مقبری اس لیے ہوا کہ قبرستان کے قریب انہوں نے قیام کیا تھا۔ ابوعبداللہ ( …
PickthallAnd he placed his parents on the dais and they fell down before him prostrate, and he said: O my father! This is the interpretation of my dream of old. My Lord hath made it true, and He hath shown me kindness, since He took me out of the prison and hath brought you from the desert after Satan had made strife between me and my brethren. Lo! my Lord is tender unto whom He will. He is the Knower, the Wise.
Yusuf AliAnd he raised his parents high on the throne (of dignity), and they fell down in prostration, (all) before him. He said: "O my father! this is the fulfilment of my vision of old! Allah hath made it come true! He was indeed good to me when He took me out of prison and brought you (all here) out of the desert, (even) after Satan had sown enmity between me and my brothers. Verily my Lord understandeth best the mysteries of all that He planneth to do, for verily He is full of knowledge and wisdom.
The agreed readingAnd he raised his parents to the seat of honour, and they fell down before him. And he said: my father, this is the meaning of my dream from long ago; my Lord has made it come true. He was good to me when He brought me out of the prison and brought you from the desert, after Satan had set discord between me and my brothers. My Lord is gentle in bringing about what He wills. He is the Knowing, the Wise.
Urduاور یوسف نے اپنے والدین کو اپنے تخت پر بلند جگہ بٹھایا، اور وہ سب یوسف کے لیے سجدے میں گر پڑے۔ اور یوسف نے کہا: اے میرے ابا جان، یہی میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے جسے میرے رب نے سچ کر دکھایا ہے۔ اس نے مجھ پر احسان کیا جب مجھے قید سے نکالا اور آپ سب کو صحرا سے یہاں لے آیا، اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا۔ بےشک میرا رب جو چاہے اسے نہایت باریکی سے پورا کرنے والا ہے، وہی خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔
Arabicورفع أبويه على العرش وخروا له سجدا تكريما لا عبادة، وقال: يا أبت هذا تأويل رؤياي من قبل، قد جعلها ربي حقا، وقد أحسن بي إذ أخرجني من السجن وجاء بكم من البدو من بعد أن نزغ الشيطان بيني وبين إخوتي، إن ربي لطيف لما يشاء، إنه هو العليم الحكيم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah said:"Allah's Messenger went out to relieve himself. So he said: 'Bring me tree stones.'" He said, "So I came with two stones and a piece of dung. So he took the two stones, and left the dung. He said: 'It is Riks (a degenerative or filthy thing)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: ”میرے لیے تین پتھر ڈھونڈ لاؤ“، میں دو پتھر اور ایک گوبر کا ٹکڑا لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے دونوں پتھروں کو لے لیا اور گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور فرمایا: ”یہ ناپاک ہے“ ۱؎۔ ( ابواسحاق سبیعی ثقہ اور مدلس راوی ہیں، بڑھاپے میں حافظہ میں اختلاط ہو گیا تھا اس لیے جن رواۃ نے ان سے اختلاط سے پہلے سنا ان کی روایت مقبول ہے، اور جن لوگوں نے اختلاط کے بعد سنا ان کی روایت ضعیف، یہ حدیث ابواسحاق سے ان کے تلامذہ نے مختلف انداز سے روایت کی ہے ) ۔ امام ترمذی نے یہاں: ابن مسعود کی اس حدیث کو بسند «اسرائیل عن ابی اسحاق عن ابی عبیدہ عن ابن مسعود» روایت کرنے کے بعد اسرائیل کی متابعت ۲؎ میں …
PickthallO my Lord! Thou hast given me (something) of sovereignty and hast taught me (something) of the interpretation of events - Creator of the heavens and the earth! Thou art my Protecting Guardian in the world and the Hereafter. Make me to die muslim (unto Thee), and join me to the righteous.
Yusuf Ali"O my Lord! Thou hast indeed bestowed on me some power, and taught me something of the interpretation of dreams and events,- O Thou Creator of the heavens and the earth! Thou art my Protector in this world and in the Hereafter. Take Thou my soul (at death) as one submitting to Thy will (as a Muslim), and unite me with the righteous."
The agreed readingMy Lord, You have given me some of the kingdom and taught me something of the reading of dreams. Maker of the heavens and the earth, You are my Protector in this world and the next. Take me in death submitting to You, and join me with the righteous.
Urduاے میرے رب، تو نے مجھے کچھ بادشاہت عطا کی اور خوابوں کی تعبیر کا کچھ علم سکھایا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا کارساز ہے۔ مجھے مسلمان ہونے کی حالت میں موت دینا اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کر دینا۔
Arabicرب قد آتيتني من الملك وعلمتني من تأويل الأحاديث، يا فاطر السماوات والأرض، أنت وليي وحدك في الدنيا والآخرة، توفني مسلما وألحقني بالصالحين من عبادك الأخيار.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas (b. Malik) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying. None of you should make a request for death because of the trouble in which he is involved, but if there is no other help to it, then say:O Allah, keep me alive as long as there is goodness in life for me and bring death to me when there is goodness in death for me
عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص کسی نقصان ( مصیبت ) کی وجہ سے ، جو اس پر نازل ہو ، موت کی تمنا نہ کرے ۔ اگر اسنے لامحالہ موت مانگنی بھی ہو تو یوں کہے : اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو اور مجھے وفات دے جب موت میرے لیے بہتر ہو ۔
Anas bin Malik narrated that :the Messenger of Allah said: "Whoever has dried dates, then let him break the fast with that, and whoever does not, then let him break the fast with water, for indeed water is purifying
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کھجور میسر ہو، تو چاہیئے کہ وہ اسی سے روزہ کھولے، اور جسے کھجور میسر نہ ہو تو چاہیئے کہ وہ پانی سے کھولے کیونکہ پانی پاکیزہ چیز ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ہم نہیں جانتے کہ انس کی حدیث سعید بن عامر کے علاوہ کسی اور نے بھی شعبہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث غیر محفوظ ہے ۱؎، ہم اس کی کوئی اصل عبدالعزیز کی روایت سے جسے انہوں نے انس سے روایت کی ہو نہیں جانتے، اور شعبہ کے شاگردوں نے یہ حدیث بطریق: «شعبة عن عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اور یہ سعید بن عامر کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، کچھ اور لوگوں …
Narrated Anas:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: No one of you should wish for death for any calamity that befalls him, but he should say: O Allah! cause me to live so long as my life is better for me ; and cause me to die where death is better for me
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی پریشانی سے دوچار ہو جانے کی وجہ سے ( گھبرا کر ) موت کی دعا ہرگز نہ کرے لیکن اگر کہے تو یہ کہے: «اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! تو مجھ کو زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دیدے جب مر جانا ہی میرے حق میں بہتر ہو ۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:By Him, in Whose hand is my life, the world would not come to an end until a person would pass by a grave, would roll over it and express the desire that he should be in the place of the occupant of that grave not because of religious reasons but because of this calamity
ابو حازم نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!دنیا اس وقت تک رخصت نہیں ہوگی ، یہاں تک کہ ایک شخص ( کسی کی ) قبر کے پاس سے گزرے تواس پر لوٹ پوٹ ہوگا اور کہے گا : کاش!اس قبر و الے کی جگہ میں ہوتا اور اس کے پاس دین نہیں ہوگا ، بس آزمائش ہوگی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلاَ يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ وَإِنَّهُ لاَ يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلاَّ خَيْرًا " .
Hammam b. Munabbih said:Abu Huraira narrated to us ahadith from Allah's Messenger (ﷺ) and out of these one is that Allah's Messenger (ﷺ) said: None amongst you should make a request for death, and do not call for it before it comes, for when any one of you dies, he ceases (to do good) deeds and the life of a believer is not prolonged but for goodness
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ ( بھی ) تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ہرگز موت کی تمنا نہ کرے ، نہ موت آنے سے پہلے اس کے لیے دعا کرے کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص مر گیا تو اس کا عمل منقطع ہو گیا ( مزید عمل کی مہلت ختم ہو گئی ) اور مومن کی عمر اس کی بھلائی ہی میں اضافہ کرتی ہے ۔
PickthallThis is of the tidings of the Unseen which We inspire in thee (Muhammad). Thou wast not present with them when they fixed their plan and they were scheming.
Yusuf AliSuch is one of the stories of what happened unseen, which We reveal by inspiration unto thee; nor wast thou (present) with them then when they concerted their plans together in the process of weaving their plots.
The agreed readingThat is from the news of the unseen which We reveal to you. You were not with them when they settled on their plan and were scheming.
Urduیہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ آپ ان کے پاس موجود نہیں تھے جب انہوں نے اپنا معاملہ طے کیا تھا اور وہ چال چل رہے تھے۔
Arabicذلك من أنباء الغيب نوحيه إليك أيها الرسول الكريم، وما كنت حاضرا معهم لديهم إذ أجمعوا أمرهم كله على إلقاء يوسف في الجب وهم يمكرون به.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب الشيعة3 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام شیعہ کتب سے
[380/2] التوحيد: ابن الوليد، عن الصفار، عن ابن هاشم، عن ابن أبي عمير، عن هشام بن سالم، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قلت: فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا قال: التوحيد
2. [2/380] al-Tawhid: Ibn al-Walid from al-Saffar from Ibn Hashim from Ibn Abi Umayr from Hisham b. Salim from Abi Abdillah عليه السلام. He (Hisham) said: I said: “The Fitra of Allah which He created the people upon” (30:30)? He (the Imam) said: (that is) Tawhid.
یہ حدیث التوحید کے باب میں ہے۔ ابن الوليد نے الصفار سے حدیث روایت کی، انہوں نے ابن ہاشم سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے ہشام بن سالم سے، انہوں نے ابواعبداللہ علیہ السلام سے۔ ہشام بن سالم بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام سے کہا: اللہ تعالیٰ کا فطرت جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے - امام علیہ السلام نے جواب دیا: وہ توحید ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
4. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when the Messenger of Allah passed away they (people) heard a voice, but did not see anyone in person, saying, ‘Every soul is to experience the taste of death. You will certainly receive your reward on the Day of Judgment. Whoever is saved from the fire and is admitted in paradise, has become successful indeed.’ It also said, ‘In (the mercy of) Allah are good consequences for everyone who dies, solace for all forms of sorrow and compensation for every loss. In Allah, you must trust and in Him only place your hope. Deprived person, in …
علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے روایت کی، ان کے والد نے ابن ابی عمیر سے روایت کی، ابن ابی عمیر نے ہشام بن سالم سے روایت کی، ہشام نے کہا کہ ابو عبد الله (علیہ السلام) نے فرمایا: جب نبی (صلی الله علیہ وآلہ) کا انتقال ہوا تو لوگوں نے ایک آواز سنی مگر کوئی شخص نہ دیکھا۔ وہ کہہ رہی تھی: ہر نفس موت کا مزہ چکھے گا۔ اور تمہیں تمہارے اجر قیامت کے دن ہی دیے جائیں گے۔ تو جو شخص آگ سے بچایا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے وہ فوز پایا۔ اور کہا: الله میں ہر ہلاک ہونے والے کی جانشینی ہے، ہر مصیبت میں تسلی ہے، اور ہر ضائع چیز میں بدلہ ہے۔ پس الله پر اعتماد رکھو، اسی سے اپنی امید رکھو۔ اور یقیناً محروم وہ ہے جو ثواب سے محروم ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, says, ‘One who is occupied in speaking of Me instead of asking Me for help, I will grant him better than what 1 am to grant to one who asks Me for help.’”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی، وہ ابن ابی عمیر سے، وہ ہشام بن سالم سے، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل فرماتے ہیں: جو شخص میری یاد میں مشغول ہو کر سوال کرنے سے غافل رہے تو میں اسے بہتر دوں گا اس سے جو میں سوال کرنے والوں کو دیتا ہوں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallHow many a portent is there in the heavens and the earth which they pass by with face averted!
Yusuf AliAnd how many Signs in the heavens and the earth do they pass by? Yet they turn (their faces) away from them!
The agreed readingAnd how many a sign there is in the heavens and the earth that they pass by, turning their faces away from it.
Urduاور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن کے پاس سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں، لیکن وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی ان پر غور نہیں کرتے۔
Arabicوكأين من آية عظيمة كثيرة في السماوات والأرض يمرون عليها كل يوم وهم عنها معرضون تماما غافلون، لا يتفكرون فيها ولا يعتبرون بها ولا يتدبرون معناها.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated 'Abdul-Hamid bin Ja'far:"My father informed me, from Ibn Mina, from ABu Sa'eed bin Abi Fadalah Al-Ansari - and he was one of the Companions - who said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When Allah gathers the people on the Day of Judgement - a Day in which there is no doubt in - a caller will call out: 'Whoever committed Shirk in any of his deeds he did for Allah - then let him seek his reward from other than Allah. For indeed Allah is the most free of the partners from any need of Shirk
ابوسعید بن ابی فضالہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے جمع کرے گا تو پکارنے والا پکار کر کہے گا: جس نے اللہ کے واسطے کوئی کام کیا ہو اور اس کام میں کسی کو شریک کر لیا ہو، وہ جس غیر کو اس نے شریک کیا تھا اسی سے اپنے عمل کا ثواب مانگ لے، کیونکہ اللہ شرک سے کلی طور پر بیزار و بے نیاز ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن بکر کی روایت سے جانتے ہیں۔
It was narrated from Abu Sa’d bin Abu Fadalah Al-Ansari, who was one of the Companions, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When Allah assembles the first and the last on the Day of Resurrection, a day concerning which there is no doubt, a caller will cry out: ‘Whoever used to associate anyone else in an action that he did for Allah, let him seek his reward from someone other than Allah, for Allah is so self-sufficient that He has no need of any associate.’”
سعد بن ابی فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے کوئی کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور اس میں کسی کو شریک کیا، تو وہ اپنا بدلہ شرکاء سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شریکوں کی شرکت سے بے نیاز ہے ۔
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Whoever is silent, he is saved
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خاموش رہا اس نے نجات پائی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Abdullah bin Amr narrated that the Messenger of Allah said :"The companion who is the best to Allah is the one who is best to his companion. And the neighbor that is the best to Allah is the one that is best to his neighbor
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بہتر دوست وہ ہے جو لوگوں میں اپنے دوست کے لیے بہتر ہے، اور اللہ کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Abu Bakr As-Siddiq:"O you people! You recite this Ayah: Take care of yourselves! If you follow the guidance no harm shall come to you from those who are astray (5:105). I indeed heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'When the people see the wrongdoer, and they do not stop him (from doing wrong), then it is soon that Allah shall envelope you in a punishment from Him
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ۱؎ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا بھی ہے کہ جب لوگ ظالم کو ( ظلم کرتے ہوئے ) دیکھیں پھر بھی اس کے ہاتھ پکڑ نہ لیں ( اسے ظلم کرنے سے روک نہ دیں ) تو قریب ہے کہ ان پر اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آ جائے ( اور وہ ان سب کو اپنی گرفت میں لے لے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی ایک نے یہ حدیث اسماعیل بن خالد سے مرفوعاً اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- بعض لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے بلکہ ابوبکر رضی الله عنہ کے قول کے طور پر اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے اور قیس نے ابوبکر سے روایت کی ہے۔
Abu Bakr As-Siddiq said:"O you people! You recite this Ayah: Take care of yourselves! If you follow the guidance no harm shall come to you. I indeed heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'When the people see the wrongdoer and they do not take him by the hand, then soon Allah shall envelope you in a punishment from him
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ”اے ایمان والو! اپنی فکر کرو گمراہ ہونے والا تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا جب تم نے ہدایت پالی“ ( المائدہ: ۱۰۵ ) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں ( یعنی ظلم نہ روک دیں ) تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا عذاب لوگوں پر عام کر دے“ ۲؎۔
It was narrated from Abu Bakr Siddiq that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever offers the morning prayer, he is under the protection of Allah, so do not betray Allah by betraying those who are under His protection. Whoever kills him, Allah will seek him out until He throws him on his face into Hell.”
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز فجر پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان یعنی پناہ میں ہے، اب تمہیں چاہیئے کہ تم اللہ کے ذمہ و عہد کو نہ توڑو، پھر جو ایسے شخص کو قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے بلا کر جہنم میں اوندھا منہ ڈالے گا ۔
Narrated AbuHurayrah: AbuBakr as-Siddiq said: Messenger of Allah! command me something to say in the morning and in the evening. He said: Say "O Allah, Creator of the heavens and the earth, Who knowest the unseen and the seen, Lord and Possessor of everything. I testify that there is no god but Thee; I seek refuge in Thee from the evil within myself, from the evil of the devil, and his (incitement to) attributing partners (to Allah)." He said: Say this in the morning
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات بتائیے جنہیں میں جب صبح کروں اور جب شام کروں تو کہہ لیا کروں، آپ نے فرمایا: کہو «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة رب كل شىء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي وشر الشيطان وشركه» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، پوشیدہ اور موجود ہر چیز کے جاننے والے، ہر چیز کے پالنہار اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر سے، اور اس کے شرک سے پناہ مانگتا ہوں آپ نے فرمایا: جب صبح کرو اور جب شام کرو اور جب سونے چلو تب اس دعا کو پڑھ لیا کرو ۔
Narrated 'Abdul-Hamid bin Ja'far:"My father informed me, from Ibn Mina, from ABu Sa'eed bin Abi Fadalah Al-Ansari - and he was one of the Companions - who said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When Allah gathers the people on the Day of Judgement - a Day in which there is no doubt in - a caller will call out: 'Whoever committed Shirk in any of his deeds he did for Allah - then let him seek his reward from other than Allah. For indeed Allah is the most free of the partners from any need of Shirk
ابوسعید بن ابی فضالہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے جمع کرے گا تو پکارنے والا پکار کر کہے گا: جس نے اللہ کے واسطے کوئی کام کیا ہو اور اس کام میں کسی کو شریک کر لیا ہو، وہ جس غیر کو اس نے شریک کیا تھا اسی سے اپنے عمل کا ثواب مانگ لے، کیونکہ اللہ شرک سے کلی طور پر بیزار و بے نیاز ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن بکر کی روایت سے جانتے ہیں۔
It was narrated from Abu Sa’d bin Abu Fadalah Al-Ansari, who was one of the Companions, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When Allah assembles the first and the last on the Day of Resurrection, a day concerning which there is no doubt, a caller will cry out: ‘Whoever used to associate anyone else in an action that he did for Allah, let him seek his reward from someone other than Allah, for Allah is so self-sufficient that He has no need of any associate.’”
سعد بن ابی فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے کوئی کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور اس میں کسی کو شریک کیا، تو وہ اپنا بدلہ شرکاء سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شریکوں کی شرکت سے بے نیاز ہے ۔
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Whoever is silent, he is saved
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خاموش رہا اس نے نجات پائی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Abdullah bin Amr narrated that the Messenger of Allah said :"The companion who is the best to Allah is the one who is best to his companion. And the neighbor that is the best to Allah is the one that is best to his neighbor
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بہتر دوست وہ ہے جو لوگوں میں اپنے دوست کے لیے بہتر ہے، اور اللہ کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Abu Bakr As-Siddiq:"O you people! You recite this Ayah: Take care of yourselves! If you follow the guidance no harm shall come to you from those who are astray (5:105). I indeed heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'When the people see the wrongdoer, and they do not stop him (from doing wrong), then it is soon that Allah shall envelope you in a punishment from Him
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ۱؎ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا بھی ہے کہ جب لوگ ظالم کو ( ظلم کرتے ہوئے ) دیکھیں پھر بھی اس کے ہاتھ پکڑ نہ لیں ( اسے ظلم کرنے سے روک نہ دیں ) تو قریب ہے کہ ان پر اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آ جائے ( اور وہ ان سب کو اپنی گرفت میں لے لے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی ایک نے یہ حدیث اسماعیل بن خالد سے مرفوعاً اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- بعض لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے بلکہ ابوبکر رضی الله عنہ کے قول کے طور پر اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے اور قیس نے ابوبکر سے روایت کی ہے۔
Abu Bakr As-Siddiq said:"O you people! You recite this Ayah: Take care of yourselves! If you follow the guidance no harm shall come to you. I indeed heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'When the people see the wrongdoer and they do not take him by the hand, then soon Allah shall envelope you in a punishment from him
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ”اے ایمان والو! اپنی فکر کرو گمراہ ہونے والا تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا جب تم نے ہدایت پالی“ ( المائدہ: ۱۰۵ ) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں ( یعنی ظلم نہ روک دیں ) تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا عذاب لوگوں پر عام کر دے“ ۲؎۔
It was narrated from Abu Bakr Siddiq that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever offers the morning prayer, he is under the protection of Allah, so do not betray Allah by betraying those who are under His protection. Whoever kills him, Allah will seek him out until He throws him on his face into Hell.”
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز فجر پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان یعنی پناہ میں ہے، اب تمہیں چاہیئے کہ تم اللہ کے ذمہ و عہد کو نہ توڑو، پھر جو ایسے شخص کو قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے بلا کر جہنم میں اوندھا منہ ڈالے گا ۔
Narrated AbuHurayrah: AbuBakr as-Siddiq said: Messenger of Allah! command me something to say in the morning and in the evening. He said: Say "O Allah, Creator of the heavens and the earth, Who knowest the unseen and the seen, Lord and Possessor of everything. I testify that there is no god but Thee; I seek refuge in Thee from the evil within myself, from the evil of the devil, and his (incitement to) attributing partners (to Allah)." He said: Say this in the morning
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات بتائیے جنہیں میں جب صبح کروں اور جب شام کروں تو کہہ لیا کروں، آپ نے فرمایا: کہو «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة رب كل شىء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي وشر الشيطان وشركه» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، پوشیدہ اور موجود ہر چیز کے جاننے والے، ہر چیز کے پالنہار اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر سے، اور اس کے شرک سے پناہ مانگتا ہوں آپ نے فرمایا: جب صبح کرو اور جب شام کرو اور جب سونے چلو تب اس دعا کو پڑھ لیا کرو ۔
PickthallDeem they themselves secure from the coming on them of a pall of Allah's punishment, or the coming of the Hour suddenly while they are unaware?
Yusuf AliDo they then feel secure from the coming against them of the covering veil of the wrath of Allah,- or of the coming against them of the (final) Hour all of a sudden while they perceive not?
The agreed readingDo they feel safe that a covering of God's punishment will not come over them, or that the Hour will not come upon them suddenly while they are unaware?
Urduکیا وہ اس بات سے بےخوف ہو چکے ہیں کہ ان پر اللہ کے عذاب کی کوئی آفت نہ آئے گی، یا یہ کہ قیامت اچانک ان پر نہیں آئے گی جبکہ انہیں اس کا کوئی احساس تک نہ ہوگا؟
Arabicأفأمن هؤلاء المعرضون الغافلون كلهم أن تأتيهم غاشية من عذاب الله المهلك تغشاهم جميعا، أو تأتيهم الساعة بغتة فجأة وهم عنها غافلون لا يشعرون بمجيئها أبدا.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated 'Abdul-Hamid bin Ja'far:"My father informed me, from Ibn Mina, from ABu Sa'eed bin Abi Fadalah Al-Ansari - and he was one of the Companions - who said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When Allah gathers the people on the Day of Judgement - a Day in which there is no doubt in - a caller will call out: 'Whoever committed Shirk in any of his deeds he did for Allah - then let him seek his reward from other than Allah. For indeed Allah is the most free of the partners from any need of Shirk
ابوسعید بن ابی فضالہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے جمع کرے گا تو پکارنے والا پکار کر کہے گا: جس نے اللہ کے واسطے کوئی کام کیا ہو اور اس کام میں کسی کو شریک کر لیا ہو، وہ جس غیر کو اس نے شریک کیا تھا اسی سے اپنے عمل کا ثواب مانگ لے، کیونکہ اللہ شرک سے کلی طور پر بیزار و بے نیاز ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن بکر کی روایت سے جانتے ہیں۔
It was narrated from Abu Sa’d bin Abu Fadalah Al-Ansari, who was one of the Companions, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When Allah assembles the first and the last on the Day of Resurrection, a day concerning which there is no doubt, a caller will cry out: ‘Whoever used to associate anyone else in an action that he did for Allah, let him seek his reward from someone other than Allah, for Allah is so self-sufficient that He has no need of any associate.’”
سعد بن ابی فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے کوئی کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور اس میں کسی کو شریک کیا، تو وہ اپنا بدلہ شرکاء سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شریکوں کی شرکت سے بے نیاز ہے ۔
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Whoever is silent, he is saved
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خاموش رہا اس نے نجات پائی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Abdullah bin Amr narrated that the Messenger of Allah said :"The companion who is the best to Allah is the one who is best to his companion. And the neighbor that is the best to Allah is the one that is best to his neighbor
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بہتر دوست وہ ہے جو لوگوں میں اپنے دوست کے لیے بہتر ہے، اور اللہ کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Abu Bakr As-Siddiq:"O you people! You recite this Ayah: Take care of yourselves! If you follow the guidance no harm shall come to you from those who are astray (5:105). I indeed heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'When the people see the wrongdoer, and they do not stop him (from doing wrong), then it is soon that Allah shall envelope you in a punishment from Him
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ۱؎ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا بھی ہے کہ جب لوگ ظالم کو ( ظلم کرتے ہوئے ) دیکھیں پھر بھی اس کے ہاتھ پکڑ نہ لیں ( اسے ظلم کرنے سے روک نہ دیں ) تو قریب ہے کہ ان پر اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آ جائے ( اور وہ ان سب کو اپنی گرفت میں لے لے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی ایک نے یہ حدیث اسماعیل بن خالد سے مرفوعاً اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- بعض لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے بلکہ ابوبکر رضی الله عنہ کے قول کے طور پر اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے اور قیس نے ابوبکر سے روایت کی ہے۔
Abu Bakr As-Siddiq said:"O you people! You recite this Ayah: Take care of yourselves! If you follow the guidance no harm shall come to you. I indeed heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'When the people see the wrongdoer and they do not take him by the hand, then soon Allah shall envelope you in a punishment from him
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ”اے ایمان والو! اپنی فکر کرو گمراہ ہونے والا تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا جب تم نے ہدایت پالی“ ( المائدہ: ۱۰۵ ) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں ( یعنی ظلم نہ روک دیں ) تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا عذاب لوگوں پر عام کر دے“ ۲؎۔
It was narrated from Abu Bakr Siddiq that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever offers the morning prayer, he is under the protection of Allah, so do not betray Allah by betraying those who are under His protection. Whoever kills him, Allah will seek him out until He throws him on his face into Hell.”
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز فجر پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان یعنی پناہ میں ہے، اب تمہیں چاہیئے کہ تم اللہ کے ذمہ و عہد کو نہ توڑو، پھر جو ایسے شخص کو قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے بلا کر جہنم میں اوندھا منہ ڈالے گا ۔
Narrated AbuHurayrah: AbuBakr as-Siddiq said: Messenger of Allah! command me something to say in the morning and in the evening. He said: Say "O Allah, Creator of the heavens and the earth, Who knowest the unseen and the seen, Lord and Possessor of everything. I testify that there is no god but Thee; I seek refuge in Thee from the evil within myself, from the evil of the devil, and his (incitement to) attributing partners (to Allah)." He said: Say this in the morning
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات بتائیے جنہیں میں جب صبح کروں اور جب شام کروں تو کہہ لیا کروں، آپ نے فرمایا: کہو «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة رب كل شىء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي وشر الشيطان وشركه» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، پوشیدہ اور موجود ہر چیز کے جاننے والے، ہر چیز کے پالنہار اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر سے، اور اس کے شرک سے پناہ مانگتا ہوں آپ نے فرمایا: جب صبح کرو اور جب شام کرو اور جب سونے چلو تب اس دعا کو پڑھ لیا کرو ۔
PickthallSay: This is my Way: I call on Allah with sure knowledge. I and whosoever followeth me - Glory be to Allah! - and I am not of the idolaters.
Yusuf AliSay thou: "This is my way: I do invite unto Allah,- on evidence clear as the seeing with one's eyes,- I and whoever follows me. Glory to Allah! and never will I join gods with Allah!"
The agreed readingSay: this is my way. I call to God on clear sight, I and whoever follows me. Glory be to God, and I am not one of those who set up partners with Him.
Urduکہہ دیجیے: یہ میرا راستہ ہے، میں پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں بھی اور وہ بھی جو میری پیروی کرتے ہیں۔ اللہ پاک ہے، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔
Arabicقل لهم أيها الرسول: هذه سبيلي أدعو إلى الله على بصيرة ويقين، أنا ومن اتبعني على هذه الدعوة، وسبحان الله وما أنا من المشركين به شيئا.
PickthallWe sent not before thee (any messengers) save men whom We inspired from among the folk of the townships - Have they not travelled in the land and seen the nature of the consequence for those who were before them? And verily the abode of the Hereafter, for those who ward off (evil), is best. Have ye then no sense? -
Yusuf AliNor did We send before thee (as messengers) any but men, whom we did inspire,- (men) living in human habitations. Do they not travel through the earth, and see what was the end of those before them? But the home of the hereafter is best, for those who do right. Will ye not then understand?
The agreed readingAnd We sent before you none but men from the people of the towns, to whom We revealed. Have they not travelled in the land and seen what became of those before them? And the home of the life to come is better for those who guard themselves. Will you not use your reason?
Urduاور ہم نے آپ سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مردوں کے سوا کسی کو نہیں بھیجا جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا تاکہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیا ہوا؟ اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
Arabicوما أرسلنا من قبلك إلا رجالا نوحي إليهم من أهل القرى، أفلم يسيروا في الأرض فينظروا كيف كان عاقبة الذين من قبلهم؟ ولدار الآخرة خير للذين اتقوا، أفلا تعقلون هذا الأمر؟
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Urwa bin Az-Zubair:That when he asked `Aisha about the statement of Allah "Until when the Apostles gave up hope (of their people)." (12.110) she told him (its meaning), `Urwa added, "I said, 'Did they (Apostles) suspect that they were betrayed (by Allah) or that they were treated as liars by (their people)?' `Aisha said, '(They suspected) that they were treated as liars by (their people),' I said, 'But they were sure that their people treated them as liars and it was not a matter of suspicion.' She said, 'Yes, upon my life they were sure about it.' I said to her. 'So they (Apostles) suspected that they were betrayed (by Allah).' She said, "Allah forbid! The Apostles never …
عبد العزيز بن عبد اللہ نے ہمیں حدیث سنائی، ابراہيم بن سعد نے، صالح سے، ابن شہاب سے، کہا: عروہ بن الزبير نے مجھے خبر دی، عائشہ سے - جو اللہ ان سے راضی ہو - کہا: عروہ نے اس سے پوچھا جب وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھ رہے تھے: 'جب رسول ہتھیار ڈال دیں'۔ عروہ نے کہا: میں نے کہا: کیا وہ جھوٹلائے گئے یا جھوٹے تھے؟ عائشہ نے کہا: جھوٹلائے گئے۔ میں نے کہا: تو وہ یقین سے جانتے تھے کہ ان کی قوم نے انہیں جھوٹلایا، یہ تو یقین ہے، گمان نہیں۔ عائشہ نے کہا: ہاں، میری عمر کی قسم! وہ اس کے بارے میں یقین رکھتے تھے۔ میں نے اسے کہا: اور وہ گمان کرتے تھے کہ انہیں خود اللہ نے خیانت کی۔ عائشہ نے کہا: اللہ کی پناہ! رسول کبھی اپنے رب پر ایسا گمان نہ رکھتے۔ میں نے پوچھا: تو پھر یہ آیت کیا ہے؟ عائشہ نے کہا: …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallTill, when the messengers despaired and thought that they were denied, then came unto them Our help, and whom We would was saved. And Our wrath cannot be warded from the guilty.
Yusuf Ali(Respite will be granted) until, when the messengers give up hope (of their people) and (come to) think that they were treated as liars, there reaches them Our help, and those whom We will are delivered into safety. But never will be warded off our punishment from those who are in sin.
The agreed readingUntil, when the messengers had despaired and thought that they had been denied, Our help came to them, and whoever We willed was saved. And Our force is not turned back from a guilty people.
Urduیہاں تک کہ جب رسول مایوس ہو گئے اور انہیں گمان ہونے لگا کہ انہیں جھٹلایا جا چکا ہے، تو ہماری مدد ان کے پاس آ پہنچی، پھر ہم نے جسے چاہا بچا لیا، اور ہمارا عذاب مجرم قوم سے کبھی نہیں پھیرا جاتا۔
Arabicحتى إذا استيأس الرسل من قومهم وظنوا أنهم قد كذبوا، جاءهم نصرنا في تلك الشدة، فنجي من نشاء منهم ومن أتباعهم، ولا يرد بأسنا عن القوم المجرمين.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Ibn Abu Mulaika:Ibn `Abbas recited: "(Respite will be granted) until when the Apostles gave up hope (of their people) and thought that they were denied (by their people). There came to them Our Help ...." (12.110) reading Kudhibu without doubling the sound 'dh', and that was what he understood of the Verse. Then he went on reciting: "..even the Apostle and those who believed along with him said: When (will come) Allah's Help? Yes, verily, Allah's Help is near." (2.214) Then I met `Urwa bin Az-Zubair and I mentioned that to him. He said, "Aisha said, 'Allah forbid! By Allah, Allah never promised His Apostle anything but he knew that it would certainly happen before he died. But …
ہمیں ابراہیم بن موسیٰ نے حدیث سنائی، ہمیں ہشام نے خبر دی، ابن جریج سے، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حتیٰ جب رسول ناامید ہو گئے اور انہوں نے گمان کیا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے (ہلکے انداز میں) - اسے یہاں رکتے تھے، اور انہوں نے تلاوت کی: حتیٰ جب رسول اور جو ایمان والے اس کے ساتھ ہیں، وہ کہیں: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سنو! بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔ پھر میں عروہ بن زبیر سے ملا اور میں نے انہیں یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا: عائشہ نے کہا: اللہ کی پناہ! اللہ کی قسم، اللہ نے اپنے رسول سے جو کوئی بھی وعدہ دیا، رسول اسے جانتے تھے کہ وہ ان کی موت سے پہلے پورا ہوگا۔ لیکن رسولوں کو بلا میں ڈالا جاتا رہا یہاں تک کہ وہ ڈر گئے کہ جو لوگ ان کے ساتھ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated `Urwa bin Az-Zubair:That when he asked `Aisha about the statement of Allah "Until when the Apostles gave up hope (of their people)." (12.110) she told him (its meaning), `Urwa added, "I said, 'Did they (Apostles) suspect that they were betrayed (by Allah) or that they were treated as liars by (their people)?' `Aisha said, '(They suspected) that they were treated as liars by (their people),' I said, 'But they were sure that their people treated them as liars and it was not a matter of suspicion.' She said, 'Yes, upon my life they were sure about it.' I said to her. 'So they (Apostles) suspected that they were betrayed (by Allah).' She said, "Allah forbid! The Apostles never …
عبد العزيز بن عبد اللہ نے ہمیں حدیث سنائی، ابراہيم بن سعد نے، صالح سے، ابن شہاب سے، کہا: عروہ بن الزبير نے مجھے خبر دی، عائشہ سے - جو اللہ ان سے راضی ہو - کہا: عروہ نے اس سے پوچھا جب وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھ رہے تھے: 'جب رسول ہتھیار ڈال دیں'۔ عروہ نے کہا: میں نے کہا: کیا وہ جھوٹلائے گئے یا جھوٹے تھے؟ عائشہ نے کہا: جھوٹلائے گئے۔ میں نے کہا: تو وہ یقین سے جانتے تھے کہ ان کی قوم نے انہیں جھوٹلایا، یہ تو یقین ہے، گمان نہیں۔ عائشہ نے کہا: ہاں، میری عمر کی قسم! وہ اس کے بارے میں یقین رکھتے تھے۔ میں نے اسے کہا: اور وہ گمان کرتے تھے کہ انہیں خود اللہ نے خیانت کی۔ عائشہ نے کہا: اللہ کی پناہ! رسول کبھی اپنے رب پر ایسا گمان نہ رکھتے۔ میں نے پوچھا: تو پھر یہ آیت کیا ہے؟ عائشہ نے کہا: …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that 'Aishah said:"When the following was revealed: 'But if you desire Allah and His Messenger,' the Prophet came and started with me. He said: 'O 'Aishah, I am going to say something to you and you do not have to rush (to make a decision) until you consult your parents.'" She said: "He knew, by Allah, that my parents would never tell me to leave him. Then he recited to me: 'O Prophet! Say to your wives: If you desire the life of this world, and its glitter.'" "I said: 'Do I need to consult my parents concerning this? I desire Allah and His Messenger
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «إن كنتن تردن اللہ ورسوله» اتری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے مجھ سے بات چیت کی، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تو تم اپنے ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔“ آپ بخوبی جانتے تھے کہ قسم اللہ کی میرے ماں باپ مجھے آپ سے جدائی اختیار کر لینے کا مشورہ و حکم دینے والے ہرگز نہیں ہیں، پھر آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» میں نے ( یہ آیت سن کر ) آپ سے عرض کیا: کیا آپ مجھے اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کر لینے کے لیے کہہ رہے ہیں، میں تو اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں ( اس بارے میں مشورہ کیا …
It was narrated that Al-Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al-Hakam said:"The Messenger of Allah went out during the time of Al-Hudabiyah with between one-thousand and three-hundred, and one-thousand and five-hundred of his Companions. Then, when they were in Dhul-Hulaifah, he garlanded and marked the Hadi and began the Talbiyah for 'Umrah (Abridged)
محمد بن عبد الأعلی نے خبر دی، کہا: محمد بن ثور نے ہمیں حديث سنائی، معمر سے، الزهری سے، عروة سے، المسور بن مخرمہ سے۔ انہوں نے کہا: رسول الله صلی الله علیہ وسلم نکلے۔ اور یعقوب بن ابراہيم نے ہمیں خبر دی، کہا: یحیی بن سعید نے ہمیں حديث سنائی، کہا: عبد الله بن المبارك نے ہمیں حديث سنائی، کہا: معمر نے الزهری سے حديث سنائی، عروة سے، المسور بن مخرمہ اور مروان بن الحكم سے۔ انہوں نے کہا: رسول الله صلی الله علیہ وسلم زمن الحديبيہ میں بضع عشرہ مائہ اپنے اصحاب میں سے نکلے، یہاں تک کہ جب وہ ذی الحليفہ پہنچے تو الهدی کو قلد کیا اور اشعر کیا اور عمرہ کے لیے احرام باندھا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ، ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ ".
Narrated Asma' bint Abu Bakr:that she had gone to the Prophet (ﷺ) and he said, "Do not shut your money bag; otherwise Allah too will withhold His blessings from you. Spend (in Allah's Cause) as much as you can afford
ہم سے ابوعاصم (ابوعاصم ضحاک) نے بیان کیا اور ان سے ابن جریج نے بیان کیا۔ (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ ان سے حجاج بن محمد نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے ابن ابی ملیکہ نے خبر دی ‘ انہیں عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( مال کو ) تھیلی میں بند کر کے نہ رکھنا ورنہ اللہ پاک بھی تمہارے لیے اپنے خزانے میں بندش لگا دے گا۔ جہاں تک ہو سکے لوگوں میں خیر خیرات تقسیم کرتی رہ۔
It is reported on the authority of Anas that the Prophet of Allah (may peace and blessings be upon him ) said:There are three qualities for which anyone who is characterised by them will relish the sweetness of faith: he to whom Allah and His Messenger are dearer than all else; he who loves a man for Allah's sake alone; and he who has as great an abhorrence of returning to unbelief after Allah has rescued him from it as he has of being cast into Hell
ابو قلابہ نےحضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ’’ جس شخص میں تین باتیں پائیں جائیں گی وہ ان کے ذریعے سے ایمان کی حلاوت پا لے گا : جسے اللہ اور اس کا رسول باقی ہر کسی سے بڑھ کر محبوب ہوں ، ( دوسری ) یہ کہ جس کسی سے بھی محبت کرے ، اللہ ہی کے لیے کرے اور ( تیسری ) یہ کہ اللہ نے جب اسے کفر سے بچا لیا ہے تو وہ دوبارہ کفر کی طرف پلٹنے سے وہ اس طرح نفرت کرے جیسی اس بات سے نفرت کرتا ہے کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے ۔ ‘ ‘
PickthallIn their history verily there is a lesson for men of understanding. It is no invented story but a confirmation of the existing (Scripture) and a detailed explanation of everything, and a guidance and a mercy for folk who believe.
Yusuf AliThere is, in their stories, instruction for men endued with understanding. It is not a tale invented, but a confirmation of what went before it,- a detailed exposition of all things, and a guide and a mercy to any such as believe.
The agreed readingIn their accounts there is a lesson for those who have understanding. This is no invented tale, but a confirmation of what came before it, and a setting out of everything in detail, and a guidance and a mercy for a people who believe.
Urduبےشک ان کے قصوں میں عقل والوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔ یہ کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں بلکہ اس سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق ہے، اور ہر چیز کی تفصیل، اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
Arabicلقد كان في قصصهم عبرة عظيمة لأولي الألباب والعقول، ما كان حديثا يفترى من دون الله، ولكن تصديق الذي بين يديه وتفصيل كل شيء، وهدى ورحمة لقوم يؤمنون بالله ورسله.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 1 من كتب أهل السنة، 6 من كتب الشيعة7 reports cited here — 1 Sunnī, 6 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 6 شیعہ کتب سے
9. Abu Ali al-Ash‘ariy has narrated from Muhammad ibn Salim from Ahmad ibn al-Nadr from ‘Amr ibn Shamir from Jabir who has said the following: “Abu Ja‘far (a.s.), has said that when al-Husayn (a.s.), was murdered, he wore a dark color Jubbah (gown) of al-Khazz (garments made of skin or fur of an animal that lives in water). They found thirty-three torn spots in it because of being hit with swords, spears or arrows.’”
ابو علی الأشعری نے محمد بن سالم سے، احمد بن النضر سے، عمرو بن شمر سے، جابر سے روایت کی ہے کہ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: حسین بن علی علیہ السلام کو شہید کیا گیا اور ان پر سیاہ رنگ کی خز کا جبہ تھا۔ تو انہوں نے اس میں تیس تین زخم پائے، تلوار کے ضربوں، نیزے کے گھونسوں اور تیروں سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn ‘Isa from Ahmad ibn abu Dawud from abu Hamzah who has said the following: “Abu Ja’far (a.s.), has said that a man came to the Holy Prophet and said, ‘O Messenger of Allah, I am a man with (a large) family, indebted; and my condition has become difficult. Please teach me a prayer through which Allah will provide me enough to pay my debts and help my family.’ The Messenger of Allah said, ‘Take Wudu’ properly, then perform two Rak‘at Salah (prayer) with complete Ruku‘ and sajdah in both Rak‘at. Thereafter say, “O owner of glory, O the only One, O gracious, I turn to You through Muhammad, Your prophet, the prophet of mercy. O …
جماعت ہماری ساتھیوں میں سے احمد بن محمد بن عيسیٰ سے روایت کرتے ہیں۔ احمد بن محمد احمد بن ابو داؤد سے۔ احمد بن ابو داؤد ابو حمزہ سے۔ ابو حمزہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں۔ ابو جعفر کہتے ہیں: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بیوی بچے ہیں اور میرے اوپر قرض ہے اور میری حالت بہت سخت ہو گئی ہے۔ تو مجھے ایک دعا سکھائیں کہ جب میں اس سے دعا کروں تو اللہ مجھے رزق دے جس سے میں اپنا قرض ادا کر سکوں اور اپنے خاندان کا خرچ چلا سکوں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: اے اللہ کے بندے! وضو کر اور وضو کو خوب کر۔ پھر دو رکعت نماز پڑھ جس میں رکوع اور سجدہ کو مکمل کر۔ پھر کہہ: اے بزرگ! اے یکتا! اے کریم! میں تمہاری طرف محمد نبی الرحمہ کے وسیلے سے متوجہ ہوں۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنِ ابْنِ الْقَدَّاحِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ( صلى الله عليه وآله ) فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَمَاذَا أُسَمِّيهِ قَالَ سَمِّهِ بِأَحَبِّ الْأَسْمَاءِ إِلَيَّ حَمْزَةَ .
9. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ja‘far ibn Muhammad al-Ash‘ariy from ibn al-Qaddah who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that once a man came to the Holy Prophet (saww) and said, ‘O Messenger of Allah, a son is born to me, what should I name him?’ The Messenger of Allah replied, ‘Name him with the most beloved of names to me; Hamza.’”
علي بن إبراهيم اپنے باپ سے، جعفر بن محمد الأشعري سے، ابن القداح سے، ابی عبد الله (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ کہا: ایک آدمی نبي (صلى الله عليه وآله) کے پاس آیا اور کہا: اے الله کے رسول! مجھے ایک بیٹا پیدا ہوا ہے، تو میں اسے کیا نام دوں؟ انہوں نے کہا: اسے میرے نزدیک سب سے محبوب نام سے نام دو؛ حمزہ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It is reported on the authority of Anas that the Prophet of Allah (may peace and blessings be upon him ) said:There are three qualities for which anyone who is characterised by them will relish the sweetness of faith: he to whom Allah and His Messenger are dearer than all else; he who loves a man for Allah's sake alone; and he who has as great an abhorrence of returning to unbelief after Allah has rescued him from it as he has of being cast into Hell
ابو قلابہ نےحضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ’’ جس شخص میں تین باتیں پائیں جائیں گی وہ ان کے ذریعے سے ایمان کی حلاوت پا لے گا : جسے اللہ اور اس کا رسول باقی ہر کسی سے بڑھ کر محبوب ہوں ، ( دوسری ) یہ کہ جس کسی سے بھی محبت کرے ، اللہ ہی کے لیے کرے اور ( تیسری ) یہ کہ اللہ نے جب اسے کفر سے بچا لیا ہے تو وہ دوبارہ کفر کی طرف پلٹنے سے وہ اس طرح نفرت کرے جیسی اس بات سے نفرت کرتا ہے کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے ۔ ‘ ‘
أبي - رحمه الله - قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن أحمد بن أبي عبد الله، عن محمد ابن علي الكوفي، عن عبيد الله الدهقان، عن درست بن أبي منصور الواسطي، عن إبراهيم ابن عبد الحميد، عن أبي الحسن موسى عليه السلام قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله فقال: يا رسول الله قد علمت ابني هذا الكتاب، ففي أي شئ أسلمه؟ فقال: سلمه لله أبوك ولا تسلمه في خمس: لا تسلمه سياء ولا صائغا ولا قصابا ولا حناطا ولا نخاسا فقال: يا رسول الله وما السياء؟ قال: الذي يبيع الأكفان ويتمنى موت أمتي وللمولود عن أمتي أحب إلي مما طلعت عليه الشمس. وأما الصائغ فإنه يعالج غبن أمتي . وأما القصاب فإنه يذبح حتى تذهب الرحمة من قلبه. وأما الحناط فإنه يحتكر الطعام على أمتي ولئن يلقى الله العبد سارقا أحب إلي من أن يلقاه قد احتكر طعاما …
1. My father, may Allah grant him mercy, said: We were told by Sa’d bin Abdullah, from Ahmad bin Abi Abdillah, from Muhammed ibn Ali al-Kufi, from Ubaidullah al-Dahqan, from Darast bin Abi Mansur al-Wasiti, from Ibrahim ibn Abdil-Hamid, from Abu’l-Hasan, Musa, peace be upon him, that he said: A man came to the Prophet, Allah’s blessings be upon him and his Family, and said: O Messenger of Allah, I have taught my son this book, so for what thing shall I give it? He said: Give it, for the sake of Allah, to your father, and do not give it to five: do not give it to an evil-wisher, nor a goldsmith, nor a slaughterer, nor a wheat seller, nor a slave trader. Then he said: O Messenger of Allah, …
میرے والد - اللہ انہیں رحمت دے - نے کہا: ہمیں سعد بن عبداللہ نے خبر دی، احمد بن ابی عبداللہ سے، محمد بن علی الکوفی سے، عبیداللہ الدہقان سے، درست بن ابی منصور الواسطی سے، ابراہیم بن عبدالحمید سے، ابو الحسن موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے بیٹے کو یہ کتاب سکھایا ہے، تو اسے کس میں دے دوں؟ انہوں نے کہا: اسے اللہ کے لیے اپنے والد کو دے دو اور انہیں پانچوں میں مت دینا: ایک - ستھا بیچنے والے کو، دوسرا - سونار کو، تیسرا - قصائی کو، چوتھا - اناج کا تاجر کو، پانچواں - غلام خریدو فروخت کرنے والے کو۔ تو آدمی نے کہا: یا رسول اللہ، ستھا بیچنے والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ جو کفن بیچتا ہے اور میری امت کی موت کی خواہش رکھتا ہے۔ حالانکہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
You should also fear what calamities befell peoples before you on account of their evil deeds and detestable actions. Remember, during good or bad circumstances, what happened to them, and be cautious that you do not become like them. After you have thought over both the conditions of these people, attach yourself to everything with which their position became honourable, on account of which enemies remained away from them through which safety spread over them, by reason of which riches bowed before them and as a result of which distinction connected itself with their rope. These things were abstention from division, sticking to unity, calling each other to it and advising each other about …
اور احذروا جو امم سے پہلے تمہارے نزل ہوا، سوء الأفعال اور ذميم الأعمال سے۔ تو تفكروا خير و شر میں ان کے أحوال، اور احذروا کہ تم ان کے أمثال بن جاؤ۔ تو جب تم تفكروا ان کے تفاوت أحوال میں، تو لزم کرو ہر امر جس سے العزة لزم رہا ان کے أحوال سے، اور زاحت الأعداء اسے ان سے، اور مدت العافية اس پر انہیں، اور انقادت النعمة اسے ان کے ساتھ، اور وصلت الكرامة اس پر ان کی حبل: الاجتناب الفرقة سے، اور اللزوم الالفة کے لیے، اور التحاض اس پر، اور التواصي اس سے۔ اور اجتنبوا ہر امر جو کسرت ان کے فقرة، اور أوهنت ان کے منة: تضاغن القلوب سے، اور تشاحن الصدور سے، اور تدابر النفوس سے، اور تخاذل الأيدي سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[About the Glory of Allāh :] Glorified is Allāh before Whom every one in the skies or the earth bows in prostration willingly or unwillingly, submits to Him by placing his cheeks and face (in the dust), drops before Him (in obedience) peacefully and humbly, and hands over to Him full control in fear and apprehension. The birds are bound by His commands. He knows the number of their feathers and their breaths. He has made their feet to stand on water and on land. He has ordained their livelihoods. He knows their species: this is the crow, this is the eagle, this is the pigeon and this is the ostrich. He called out every bird with its name (while creating it) and provided it with its …
تو برکت والا ہے وہ اللہ جس کے لیے "جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سجدہ کرتے ہیں رضا اور ناخوشی سے"۔ اور اپنی خدّ اور چہرے کو اس کے لیے مٹاتے ہیں۔ اور اس کے لیے تسلیمی اور ضعفی سے سلام پھینکتے ہیں۔ اور قیادت کو خوف اور خشیت سے اس کے لیے دیتے ہیں۔ تو پرندے اس کے امر سے مسخر ہیں۔ ان کے ہر ریش کی تعداد دیکھی اور ہر نفس کی۔ ان کے قوائم کو اندرونی اور خشک جگہوں پر تھام رکھا۔ ان کا قوت معیشت مقرر کیا۔ ان کی اقسام کی تعداد رکھی۔ یہ کوا ہے اور یہ عقاب ہے۔ یہ حمام ہے اور یہ شتر مرغ ہے۔ ہر پرندے کو اپنے نام سے بلایا۔ اور اسے اس کا رزق کا ضامن بنایا۔ اور السحاب الثقال کو پیدا کیا۔ تو ان کا دیم برسایا۔ اور ان کے حصے کو گنایا۔ تو زمین کو اس کی خشکی کے بعد تر کیا۔ اور اس کی جڑی میں سے نبات نکالی۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا