The agreed readingWoe to those who give short measure — the word, the commentaries note, is one of threat, and some take it as a place in Hell.
Urduہلاکت ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔ ”تطفیف“ کے معنی ماپ یا تول میں واجب سے کم دینا ہے، اور اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کہ اس میں چرائی جانے والی مقدار بہت تھوڑی ہوتی ہے — مگر اس تھوڑے پر بھی یہ سخت وعید ہے۔
Arabicوَيلٌ وهلاكٌ للمُطفِّفين. والتطفيفُ نَقْصُ الكيلِ أو الوزنِ عمَّا يجبُ، وسُمِّي بذلك لأنَّ ما يقتطِعُه صاحبُه شيءٌ طفيفٌ قليلٌ، ومع قِلَّتِه استحقَّ به هذا الوعيدَ.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، أَنَّ عِكْرِمَةَ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَدِينَةَ كَانُوا مِنْ أَخْبَثِ النَّاسِ كَيْلاً فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ {وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ} فَأَحْسَنُوا الْكَيْلَ بَعْدَ ذَلِكَ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"When the Prophet (ﷺ) came to Al-Madinah, they were the worst people in weights and measures. Then Allah, Glorious is He revealed: "Woe to the Mutaffifun (those who give less in measure and weight)",[1] and they were fair in weights and measures after that
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ والے ناپ تول میں سب سے برے تھے، اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ويل للمطففين» خرابی ہے کم تولنے والوں کے لیے الخ اتاری اس کے بعد وہ ٹھیک ٹھیک ناپنے لگے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "On the Day when all mankind will stand before the Lord of the Worlds, some of them will be enveloped in their sweat up to the middle of their ears
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس دن لوگ دونوں جہان کے پالنے والے کے سامنے حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں گے تو کانوں کی لو تک پسینہ میں ڈوب جائیں گے۔
Sulaim bin 'Amir narrated from Al-Miqdad, a Companion of the Messenger of Allah (s.a.w) who said:"I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'On the Day of Judgement, the sun will be drawn near the servants, until it has come a mile or two (away).'" Sulaim bin 'Amir said: " I do not know if it is miles that refer to distance on the land, or Al-Mil which is used to apply Kuhl for the eyes." He (the Prophet (s.a.w)): "The sun will melt them, until they will be in sweat according to their deeds. Among them one will be covered up to his ankles, and among them will be one who is covered up to his knees, and among them will be one who is covered up to his waist, and among them will be one who …
مقداد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سورج کو بندوں سے قریب کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر ہو گا“۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی میل مراد لی ہے، ( زمین کی مسافت یا آنکھ میں سرمہ لگانے کی سلائی ) ، ”پھر سورج انہیں پگھلا دے گا اور لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، بعض ایڑیوں تک، بعض گھٹنے تک، بعض کمر تک اور بعض کا پسینہ منہ تک لگام کی مانند ہو گا ۱؎“، مقداد رضی الله عنہ کا بیان ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پسینہ لوگوں کے منہ تک پہنچ جائے گا جیسے کہ لگام …
Ibn Umar narrated from the Prophet:‘They Day when mankind will stand before the Lord of all that exists.’ He said: “One of them will be standing in sweat up to the middle of his ears.”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» کی تفسیر میں فرمایا کہ اس دن ہر ایک آدھے کانوں تک پسینے میں کھڑا ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Hammad bin Zayd narrated from Ayub, from Nafi', from Ibn 'Umar – Hammad said - :“And it is Marfu` in our view.” (He said): “The Day when all mankind will stand before the Lord of all that exists. They will be standing in their sweat up to the middle of their ears.” (Sahih) [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. (Another chain) from the Prophet SAW with similar meaning
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ”جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ ( المطففین: ۶ ) ، اور کہا: ”اس دن لوگ اللہ کے سامنے اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ پسینہ ان کے آدھے کانوں تک ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abdullah bin `Amr narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: “O Allah, I seek refuge in You from a heart that does not humble itself, and from a supplication that is not heard, and from a soul that is never satisfied, and from knowledge that does not benefit, I seek refuge in You from these four (Allāhumma innī a`ūdhu bika min qalbin lā yakhsha`u, wa min du`ā’in lā yusma`u, wa min nafsin lā tashba`u, wa min `ilmin lā yanfa`u, a`ūdhu bika min hā’ula’il-arba`).”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ( یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو ) ، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ( یعنی ) عبداللہ بن عمرو کی روایت حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
It was narrated that ‘Asim bin Humaid said:“I asked ‘Aishah: ‘With what did the Prophet (ﷺ) start voluntary prayers?’ She said: ‘You have asked me about something which no one has asked before. He used to say Allahu Akbar ten times, and Al-Hamdu Lillah ten times and Subhan Allah ten times, and he would say Allahumma aghfirli wahdini, warzuqni, wa ‘afini (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and give me good health),” and he would seek refuge from the difficulty of the standing on the Day of Resurrection.”
(عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر»، دس مرتبہ «الحمد لله»، دس مرتبہ «سبحان الله»، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے ) ۔
PickthallThose who when they take the measure from mankind demand it full,
Yusuf AliThose who, when they have to receive by measure from men, exact full measure,
The agreed readingwho, when they take by measure from people, take it in full — exacting the whole of it, the commentaries gloss, and more if they can.
Urduیہ وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو اپنا پورا پورا حق وصول کرتے ہیں، ذرا بھی کمی گوارا نہیں کرتے۔
Arabicالذين إذا أخذوا من الناسِ بالكيلِ استوفَوْا حقَّهم كاملًا لا ينقُصون منه شيئًا.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "On the Day when all mankind will stand before the Lord of the Worlds, some of them will be enveloped in their sweat up to the middle of their ears
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس دن لوگ دونوں جہان کے پالنے والے کے سامنے حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں گے تو کانوں کی لو تک پسینہ میں ڈوب جائیں گے۔
Sulaim bin 'Amir narrated from Al-Miqdad, a Companion of the Messenger of Allah (s.a.w) who said:"I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'On the Day of Judgement, the sun will be drawn near the servants, until it has come a mile or two (away).'" Sulaim bin 'Amir said: " I do not know if it is miles that refer to distance on the land, or Al-Mil which is used to apply Kuhl for the eyes." He (the Prophet (s.a.w)): "The sun will melt them, until they will be in sweat according to their deeds. Among them one will be covered up to his ankles, and among them will be one who is covered up to his knees, and among them will be one who is covered up to his waist, and among them will be one who …
مقداد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سورج کو بندوں سے قریب کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر ہو گا“۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی میل مراد لی ہے، ( زمین کی مسافت یا آنکھ میں سرمہ لگانے کی سلائی ) ، ”پھر سورج انہیں پگھلا دے گا اور لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، بعض ایڑیوں تک، بعض گھٹنے تک، بعض کمر تک اور بعض کا پسینہ منہ تک لگام کی مانند ہو گا ۱؎“، مقداد رضی الله عنہ کا بیان ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پسینہ لوگوں کے منہ تک پہنچ جائے گا جیسے کہ لگام …
Ibn Umar narrated from the Prophet:‘They Day when mankind will stand before the Lord of all that exists.’ He said: “One of them will be standing in sweat up to the middle of his ears.”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» کی تفسیر میں فرمایا کہ اس دن ہر ایک آدھے کانوں تک پسینے میں کھڑا ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Hammad bin Zayd narrated from Ayub, from Nafi', from Ibn 'Umar – Hammad said - :“And it is Marfu` in our view.” (He said): “The Day when all mankind will stand before the Lord of all that exists. They will be standing in their sweat up to the middle of their ears.” (Sahih) [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. (Another chain) from the Prophet SAW with similar meaning
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ”جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ ( المطففین: ۶ ) ، اور کہا: ”اس دن لوگ اللہ کے سامنے اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ پسینہ ان کے آدھے کانوں تک ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Marthan Al-Ghanawi narrated that:The Prophet said: "Do not sit on the graves nor perform Salat towards them
ابومرثد غنوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر نہ بیٹھو ۱؎ اور نہ انہیں سامنے کر کے نماز پڑھو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عمرو بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abdullah bin `Amr narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: “O Allah, I seek refuge in You from a heart that does not humble itself, and from a supplication that is not heard, and from a soul that is never satisfied, and from knowledge that does not benefit, I seek refuge in You from these four (Allāhumma innī a`ūdhu bika min qalbin lā yakhsha`u, wa min du`ā’in lā yusma`u, wa min nafsin lā tashba`u, wa min `ilmin lā yanfa`u, a`ūdhu bika min hā’ula’il-arba`).”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ( یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو ) ، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ( یعنی ) عبداللہ بن عمرو کی روایت حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
It was narrated that ‘Asim bin Humaid said:“I asked ‘Aishah: ‘With what did the Prophet (ﷺ) start voluntary prayers?’ She said: ‘You have asked me about something which no one has asked before. He used to say Allahu Akbar ten times, and Al-Hamdu Lillah ten times and Subhan Allah ten times, and he would say Allahumma aghfirli wahdini, warzuqni, wa ‘afini (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and give me good health),” and he would seek refuge from the difficulty of the standing on the Day of Resurrection.”
(عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر»، دس مرتبہ «الحمد لله»، دس مرتبہ «سبحان الله»، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے ) ۔
PickthallBut if they measure unto them or weight for them, they cause them loss.
Yusuf AliBut when they have to give by measure or weight to men, give less than due.
The agreed readingbut when they measure out to them or weigh for them, give less. The commentaries agree the fault is exactly this doubleness: full when taking, short when giving.
Urduاور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو گھٹا کر دیتے ہیں۔ گویا ان کے دو پیمانے ہیں: لینے کا اور دینے کا۔
Arabicوإذا كالوا للناسِ أو وزَنوا لهم نقَصوهم. فهم بمِكيالَينِ: يُتِمُّون لأنفسِهم ويُنقِصون غيرَهم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "On the Day when all mankind will stand before the Lord of the Worlds, some of them will be enveloped in their sweat up to the middle of their ears
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس دن لوگ دونوں جہان کے پالنے والے کے سامنے حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں گے تو کانوں کی لو تک پسینہ میں ڈوب جائیں گے۔
Sulaim bin 'Amir narrated from Al-Miqdad, a Companion of the Messenger of Allah (s.a.w) who said:"I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'On the Day of Judgement, the sun will be drawn near the servants, until it has come a mile or two (away).'" Sulaim bin 'Amir said: " I do not know if it is miles that refer to distance on the land, or Al-Mil which is used to apply Kuhl for the eyes." He (the Prophet (s.a.w)): "The sun will melt them, until they will be in sweat according to their deeds. Among them one will be covered up to his ankles, and among them will be one who is covered up to his knees, and among them will be one who is covered up to his waist, and among them will be one who …
مقداد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سورج کو بندوں سے قریب کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر ہو گا“۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی میل مراد لی ہے، ( زمین کی مسافت یا آنکھ میں سرمہ لگانے کی سلائی ) ، ”پھر سورج انہیں پگھلا دے گا اور لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، بعض ایڑیوں تک، بعض گھٹنے تک، بعض کمر تک اور بعض کا پسینہ منہ تک لگام کی مانند ہو گا ۱؎“، مقداد رضی الله عنہ کا بیان ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پسینہ لوگوں کے منہ تک پہنچ جائے گا جیسے کہ لگام …
Ibn Umar narrated from the Prophet:‘They Day when mankind will stand before the Lord of all that exists.’ He said: “One of them will be standing in sweat up to the middle of his ears.”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» کی تفسیر میں فرمایا کہ اس دن ہر ایک آدھے کانوں تک پسینے میں کھڑا ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Hammad bin Zayd narrated from Ayub, from Nafi', from Ibn 'Umar – Hammad said - :“And it is Marfu` in our view.” (He said): “The Day when all mankind will stand before the Lord of all that exists. They will be standing in their sweat up to the middle of their ears.” (Sahih) [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. (Another chain) from the Prophet SAW with similar meaning
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ”جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ ( المطففین: ۶ ) ، اور کہا: ”اس دن لوگ اللہ کے سامنے اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ پسینہ ان کے آدھے کانوں تک ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Marthan Al-Ghanawi narrated that:The Prophet said: "Do not sit on the graves nor perform Salat towards them
ابومرثد غنوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر نہ بیٹھو ۱؎ اور نہ انہیں سامنے کر کے نماز پڑھو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عمرو بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abdullah bin `Amr narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: “O Allah, I seek refuge in You from a heart that does not humble itself, and from a supplication that is not heard, and from a soul that is never satisfied, and from knowledge that does not benefit, I seek refuge in You from these four (Allāhumma innī a`ūdhu bika min qalbin lā yakhsha`u, wa min du`ā’in lā yusma`u, wa min nafsin lā tashba`u, wa min `ilmin lā yanfa`u, a`ūdhu bika min hā’ula’il-arba`).”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ( یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو ) ، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ( یعنی ) عبداللہ بن عمرو کی روایت حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
It was narrated that ‘Asim bin Humaid said:“I asked ‘Aishah: ‘With what did the Prophet (ﷺ) start voluntary prayers?’ She said: ‘You have asked me about something which no one has asked before. He used to say Allahu Akbar ten times, and Al-Hamdu Lillah ten times and Subhan Allah ten times, and he would say Allahumma aghfirli wahdini, warzuqni, wa ‘afini (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and give me good health),” and he would seek refuge from the difficulty of the standing on the Day of Resurrection.”
(عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر»، دس مرتبہ «الحمد لله»، دس مرتبہ «سبحان الله»، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے ) ۔
PickthallDo such (men) not consider that they will be raised again
Yusuf AliDo they not think that they will be called to account?-
The agreed readingDo those not think that they are to be raised — think it, the commentaries gloss, in the sense of holding it for certain.
Urduکیا یہ لوگ یقین نہیں رکھتے کہ انہیں دوبارہ اٹھایا جانے والا ہے؟ یہ سوال ملامت اور تعجب کے لیے ہے — اگر انہیں آخرت کا یقین ہوتا تو یہ حرکت کبھی نہ کرتے۔
Arabicألا يتيقَّنُ هؤلاء أنَّهم مبعوثون بعدَ الموتِ؟ والاستفهامُ للتوبيخِ والتعجيبِ من حالِهم، فلو أيقنوا بالبعثِ ما اجترؤوا على هذا.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "On the Day when all mankind will stand before the Lord of the Worlds, some of them will be enveloped in their sweat up to the middle of their ears
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس دن لوگ دونوں جہان کے پالنے والے کے سامنے حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں گے تو کانوں کی لو تک پسینہ میں ڈوب جائیں گے۔
Sulaim bin 'Amir narrated from Al-Miqdad, a Companion of the Messenger of Allah (s.a.w) who said:"I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'On the Day of Judgement, the sun will be drawn near the servants, until it has come a mile or two (away).'" Sulaim bin 'Amir said: " I do not know if it is miles that refer to distance on the land, or Al-Mil which is used to apply Kuhl for the eyes." He (the Prophet (s.a.w)): "The sun will melt them, until they will be in sweat according to their deeds. Among them one will be covered up to his ankles, and among them will be one who is covered up to his knees, and among them will be one who is covered up to his waist, and among them will be one who …
مقداد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سورج کو بندوں سے قریب کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر ہو گا“۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی میل مراد لی ہے، ( زمین کی مسافت یا آنکھ میں سرمہ لگانے کی سلائی ) ، ”پھر سورج انہیں پگھلا دے گا اور لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، بعض ایڑیوں تک، بعض گھٹنے تک، بعض کمر تک اور بعض کا پسینہ منہ تک لگام کی مانند ہو گا ۱؎“، مقداد رضی الله عنہ کا بیان ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پسینہ لوگوں کے منہ تک پہنچ جائے گا جیسے کہ لگام …
Ibn Umar narrated from the Prophet:‘They Day when mankind will stand before the Lord of all that exists.’ He said: “One of them will be standing in sweat up to the middle of his ears.”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» کی تفسیر میں فرمایا کہ اس دن ہر ایک آدھے کانوں تک پسینے میں کھڑا ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Hammad bin Zayd narrated from Ayub, from Nafi', from Ibn 'Umar – Hammad said - :“And it is Marfu` in our view.” (He said): “The Day when all mankind will stand before the Lord of all that exists. They will be standing in their sweat up to the middle of their ears.” (Sahih) [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. (Another chain) from the Prophet SAW with similar meaning
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ”جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ ( المطففین: ۶ ) ، اور کہا: ”اس دن لوگ اللہ کے سامنے اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ پسینہ ان کے آدھے کانوں تک ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Marthan Al-Ghanawi narrated that:The Prophet said: "Do not sit on the graves nor perform Salat towards them
ابومرثد غنوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر نہ بیٹھو ۱؎ اور نہ انہیں سامنے کر کے نماز پڑھو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عمرو بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abdullah bin `Amr narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: “O Allah, I seek refuge in You from a heart that does not humble itself, and from a supplication that is not heard, and from a soul that is never satisfied, and from knowledge that does not benefit, I seek refuge in You from these four (Allāhumma innī a`ūdhu bika min qalbin lā yakhsha`u, wa min du`ā’in lā yusma`u, wa min nafsin lā tashba`u, wa min `ilmin lā yanfa`u, a`ūdhu bika min hā’ula’il-arba`).”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ( یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو ) ، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ( یعنی ) عبداللہ بن عمرو کی روایت حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
It was narrated that ‘Asim bin Humaid said:“I asked ‘Aishah: ‘With what did the Prophet (ﷺ) start voluntary prayers?’ She said: ‘You have asked me about something which no one has asked before. He used to say Allahu Akbar ten times, and Al-Hamdu Lillah ten times and Subhan Allah ten times, and he would say Allahumma aghfirli wahdini, warzuqni, wa ‘afini (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and give me good health),” and he would seek refuge from the difficulty of the standing on the Day of Resurrection.”
(عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر»، دس مرتبہ «الحمد لله»، دس مرتبہ «سبحان الله»، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے ) ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "On the Day when all mankind will stand before the Lord of the Worlds, some of them will be enveloped in their sweat up to the middle of their ears
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس دن لوگ دونوں جہان کے پالنے والے کے سامنے حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں گے تو کانوں کی لو تک پسینہ میں ڈوب جائیں گے۔
Sulaim bin 'Amir narrated from Al-Miqdad, a Companion of the Messenger of Allah (s.a.w) who said:"I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'On the Day of Judgement, the sun will be drawn near the servants, until it has come a mile or two (away).'" Sulaim bin 'Amir said: " I do not know if it is miles that refer to distance on the land, or Al-Mil which is used to apply Kuhl for the eyes." He (the Prophet (s.a.w)): "The sun will melt them, until they will be in sweat according to their deeds. Among them one will be covered up to his ankles, and among them will be one who is covered up to his knees, and among them will be one who is covered up to his waist, and among them will be one who …
مقداد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سورج کو بندوں سے قریب کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر ہو گا“۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی میل مراد لی ہے، ( زمین کی مسافت یا آنکھ میں سرمہ لگانے کی سلائی ) ، ”پھر سورج انہیں پگھلا دے گا اور لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، بعض ایڑیوں تک، بعض گھٹنے تک، بعض کمر تک اور بعض کا پسینہ منہ تک لگام کی مانند ہو گا ۱؎“، مقداد رضی الله عنہ کا بیان ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پسینہ لوگوں کے منہ تک پہنچ جائے گا جیسے کہ لگام …
Ibn Umar narrated from the Prophet:‘They Day when mankind will stand before the Lord of all that exists.’ He said: “One of them will be standing in sweat up to the middle of his ears.”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» کی تفسیر میں فرمایا کہ اس دن ہر ایک آدھے کانوں تک پسینے میں کھڑا ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Hammad bin Zayd narrated from Ayub, from Nafi', from Ibn 'Umar – Hammad said - :“And it is Marfu` in our view.” (He said): “The Day when all mankind will stand before the Lord of all that exists. They will be standing in their sweat up to the middle of their ears.” (Sahih) [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. (Another chain) from the Prophet SAW with similar meaning
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ”جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ ( المطففین: ۶ ) ، اور کہا: ”اس دن لوگ اللہ کے سامنے اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ پسینہ ان کے آدھے کانوں تک ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Marthan Al-Ghanawi narrated that:The Prophet said: "Do not sit on the graves nor perform Salat towards them
ابومرثد غنوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر نہ بیٹھو ۱؎ اور نہ انہیں سامنے کر کے نماز پڑھو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عمرو بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abdullah bin `Amr narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: “O Allah, I seek refuge in You from a heart that does not humble itself, and from a supplication that is not heard, and from a soul that is never satisfied, and from knowledge that does not benefit, I seek refuge in You from these four (Allāhumma innī a`ūdhu bika min qalbin lā yakhsha`u, wa min du`ā’in lā yusma`u, wa min nafsin lā tashba`u, wa min `ilmin lā yanfa`u, a`ūdhu bika min hā’ula’il-arba`).”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ( یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو ) ، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ( یعنی ) عبداللہ بن عمرو کی روایت حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
It was narrated that ‘Asim bin Humaid said:“I asked ‘Aishah: ‘With what did the Prophet (ﷺ) start voluntary prayers?’ She said: ‘You have asked me about something which no one has asked before. He used to say Allahu Akbar ten times, and Al-Hamdu Lillah ten times and Subhan Allah ten times, and he would say Allahumma aghfirli wahdini, warzuqni, wa ‘afini (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and give me good health),” and he would seek refuge from the difficulty of the standing on the Day of Resurrection.”
(عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر»، دس مرتبہ «الحمد لله»، دس مرتبہ «سبحان الله»، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے ) ۔
PickthallThe day when (all) mankind stand before the Lord of the Worlds?
Yusuf AliA Day when (all) mankind will stand before the Lord of the Worlds?
The agreed readingthe Day when people stand before the Lord of the Worlds? The commentaries take the question as the whole answer to the practice: a man who expected that standing could not measure this way.
Urduجس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے اور وہ ان سے چھوٹے بڑے ہر عمل کا حساب لے گا۔ اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کا حق مارنا کتنا بڑا جرم ہے۔
Arabicيومَ يقومُ الناسُ من قبورِهم لربِّ العالمين خاضعين، فيُحاسِبُهم على القليلِ والكثيرِ. وفي ذِكرِ قيامِهم بينَ يدَيه بيانٌ لعِظَمِ جُرمِ مَن يبخَسُ الناسَ حقوقَهم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "On the Day when all mankind will stand before the Lord of the Worlds, some of them will be enveloped in their sweat up to the middle of their ears
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس دن لوگ دونوں جہان کے پالنے والے کے سامنے حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں گے تو کانوں کی لو تک پسینہ میں ڈوب جائیں گے۔
Sulaim bin 'Amir narrated from Al-Miqdad, a Companion of the Messenger of Allah (s.a.w) who said:"I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'On the Day of Judgement, the sun will be drawn near the servants, until it has come a mile or two (away).'" Sulaim bin 'Amir said: " I do not know if it is miles that refer to distance on the land, or Al-Mil which is used to apply Kuhl for the eyes." He (the Prophet (s.a.w)): "The sun will melt them, until they will be in sweat according to their deeds. Among them one will be covered up to his ankles, and among them will be one who is covered up to his knees, and among them will be one who is covered up to his waist, and among them will be one who …
مقداد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سورج کو بندوں سے قریب کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل یا دو میل کے فاصلے پر ہو گا“۔ راوی سلیم بن عامر کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی میل مراد لی ہے، ( زمین کی مسافت یا آنکھ میں سرمہ لگانے کی سلائی ) ، ”پھر سورج انہیں پگھلا دے گا اور لوگ اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، بعض ایڑیوں تک، بعض گھٹنے تک، بعض کمر تک اور بعض کا پسینہ منہ تک لگام کی مانند ہو گا ۱؎“، مقداد رضی الله عنہ کا بیان ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پسینہ لوگوں کے منہ تک پہنچ جائے گا جیسے کہ لگام …
Ibn Umar narrated from the Prophet:‘They Day when mankind will stand before the Lord of all that exists.’ He said: “One of them will be standing in sweat up to the middle of his ears.”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» کی تفسیر میں فرمایا کہ اس دن ہر ایک آدھے کانوں تک پسینے میں کھڑا ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Hammad bin Zayd narrated from Ayub, from Nafi', from Ibn 'Umar – Hammad said - :“And it is Marfu` in our view.” (He said): “The Day when all mankind will stand before the Lord of all that exists. They will be standing in their sweat up to the middle of their ears.” (Sahih) [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. (Another chain) from the Prophet SAW with similar meaning
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ”جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ ( المطففین: ۶ ) ، اور کہا: ”اس دن لوگ اللہ کے سامنے اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ پسینہ ان کے آدھے کانوں تک ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Marthan Al-Ghanawi narrated that:The Prophet said: "Do not sit on the graves nor perform Salat towards them
ابومرثد غنوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر نہ بیٹھو ۱؎ اور نہ انہیں سامنے کر کے نماز پڑھو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عمرو بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abdullah bin `Amr narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: “O Allah, I seek refuge in You from a heart that does not humble itself, and from a supplication that is not heard, and from a soul that is never satisfied, and from knowledge that does not benefit, I seek refuge in You from these four (Allāhumma innī a`ūdhu bika min qalbin lā yakhsha`u, wa min du`ā’in lā yusma`u, wa min nafsin lā tashba`u, wa min `ilmin lā yanfa`u, a`ūdhu bika min hā’ula’il-arba`).”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ( یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو ) ، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ( یعنی ) عبداللہ بن عمرو کی روایت حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
It was narrated that ‘Asim bin Humaid said:“I asked ‘Aishah: ‘With what did the Prophet (ﷺ) start voluntary prayers?’ She said: ‘You have asked me about something which no one has asked before. He used to say Allahu Akbar ten times, and Al-Hamdu Lillah ten times and Subhan Allah ten times, and he would say Allahumma aghfirli wahdini, warzuqni, wa ‘afini (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and give me good health),” and he would seek refuge from the difficulty of the standing on the Day of Resurrection.”
(عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر»، دس مرتبہ «الحمد لله»، دس مرتبہ «سبحان الله»، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے ) ۔
PickthallNay, but the record of the vile is in Sijjin -
Yusuf AliNay! Surely the record of the wicked is (preserved) in Sijjin.
The agreed readingNo — the record of those given to wrongdoing is in Sijjīn. The commentaries agree it is where the deeds of those who refused are gathered and kept.
Urduہرگز نہیں! بےشک بدکاروں کا نامۂ اعمال ”سِجِّین“ میں ہے، اور اس لفظ میں تنگی اور پستی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔
Arabic﴿كلَّا﴾ رَدْعٌ وزجرٌ عمَّا هم فيه. إنَّ كتابَ الفُجَّارِ لفي سِجِّينٍ، وفي اللفظِ معنى الضِّيقِ والسُّفولِ.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Verily, when the slave (of Allah) commits a sin, a black spot appears on his heart. When he refrains from it, seeks forgiveness and repents, his heart is polished clean. But if he returns, it increases until it covers his entire heart. And that is the ‘Ran’ which Allah mentioned: ‘Nay, but on their hearts is the Ran which they used to earn.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے ( سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے ) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے“ ( المطففین: ۱۴ ) ، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy)." It has been related from Anas bin Malik that the Prophet SAW said: "It is sufficient evil for a man that fingers be raised against him, regarding religion or worldly matters, except for one whom Allah has protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "The religion is An-Nasihah" three times. They said: "O Messenger of Allah! For Whom?" He said : "To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Verily, when the slave (of Allah) commits a sin, a black spot appears on his heart. When he refrains from it, seeks forgiveness and repents, his heart is polished clean. But if he returns, it increases until it covers his entire heart. And that is the ‘Ran’ which Allah mentioned: ‘Nay, but on their hearts is the Ran which they used to earn.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے ( سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے ) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے“ ( المطففین: ۱۴ ) ، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy)." It has been related from Anas bin Malik that the Prophet SAW said: "It is sufficient evil for a man that fingers be raised against him, regarding religion or worldly matters, except for one whom Allah has protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "The religion is An-Nasihah" three times. They said: "O Messenger of Allah! For Whom?" He said : "To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
The agreed readingA written record. The commentaries agree it is where their deeds are set down, and that the question magnifies it rather than explaining it.
Urduوہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے، طے شدہ اور محفوظ، جس میں نہ کچھ بڑھایا جائے گا اور نہ گھٹایا جائے گا۔
Arabicهو كتابٌ مرقومٌ مُثبَتٌ مفروغٌ منه، لا يُزادُ فيه ولا يُنقَصُ منه.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Verily, when the slave (of Allah) commits a sin, a black spot appears on his heart. When he refrains from it, seeks forgiveness and repents, his heart is polished clean. But if he returns, it increases until it covers his entire heart. And that is the ‘Ran’ which Allah mentioned: ‘Nay, but on their hearts is the Ran which they used to earn.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے ( سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے ) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے“ ( المطففین: ۱۴ ) ، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy)." It has been related from Anas bin Malik that the Prophet SAW said: "It is sufficient evil for a man that fingers be raised against him, regarding religion or worldly matters, except for one whom Allah has protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "The religion is An-Nasihah" three times. They said: "O Messenger of Allah! For Whom?" He said : "To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "The religion is An-Nasihah" three times. They said: "O Messenger of Allah! For Whom?" He said : "To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Verily, when the slave (of Allah) commits a sin, a black spot appears on his heart. When he refrains from it, seeks forgiveness and repents, his heart is polished clean. But if he returns, it increases until it covers his entire heart. And that is the ‘Ran’ which Allah mentioned: ‘Nay, but on their hearts is the Ran which they used to earn.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے ( سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے ) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے“ ( المطففین: ۱۴ ) ، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy)." It has been related from Anas bin Malik that the Prophet SAW said: "It is sufficient evil for a man that fingers be raised against him, regarding religion or worldly matters, except for one whom Allah has protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "The religion is An-Nasihah" three times. They said: "O Messenger of Allah! For Whom?" He said : "To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Verily, when the slave (of Allah) commits a sin, a black spot appears on his heart. When he refrains from it, seeks forgiveness and repents, his heart is polished clean. But if he returns, it increases until it covers his entire heart. And that is the ‘Ran’ which Allah mentioned: ‘Nay, but on their hearts is the Ran which they used to earn.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے ( سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے ) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے“ ( المطففین: ۱۴ ) ، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy)." It has been related from Anas bin Malik that the Prophet SAW said: "It is sufficient evil for a man that fingers be raised against him, regarding religion or worldly matters, except for one whom Allah has protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "The religion is An-Nasihah" three times. They said: "O Messenger of Allah! For Whom?" He said : "To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Verily, when the slave (of Allah) commits a sin, a black spot appears on his heart. When he refrains from it, seeks forgiveness and repents, his heart is polished clean. But if he returns, it increases until it covers his entire heart. And that is the ‘Ran’ which Allah mentioned: ‘Nay, but on their hearts is the Ran which they used to earn.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے ( سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے ) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے“ ( المطففین: ۱۴ ) ، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy)." It has been related from Anas bin Malik that the Prophet SAW said: "It is sufficient evil for a man that fingers be raised against him, regarding religion or worldly matters, except for one whom Allah has protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: May Allah have mercy on a man who gets up at night and prays, and awakens his wife; if she refuses, he should sprinkle water on her face. May Allah have mercy on a woman who gets up at night and prays, and awakens her husband; if he refuses, she would sprinkle water on his face
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎ ۔
PickthallWho, when thou readest unto him Our revelations, saith: (Mere) fables of the men of old.
Yusuf AliWhen Our Signs are rehearsed to him, he says, "Tales of the ancients!"
The agreed readingwho, when Our signs are recited to him, says: legends of the ancients. The commentaries agree the charge is the same one made throughout: old stories written down long ago.
Urduجب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے: یہ تو اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ بغیر کسی غور اور دلیل کے وہ انہیں رد کر دیتا ہے۔
Arabicإذا تُتلى عليه آياتُنا قال: هذه أساطيرُ الأوَّلين وحكاياتُهم. فردَّها بغيرِ نظرٍ ولا دليلٍ.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 7 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة9 reports cited here — 7 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
6. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ali ibn Ma’bad from ‘Abd Allah ibn al-Qasim from ‘Abd Allah ibn Sinan from abu ‘Abd Allah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, sent revelation to Moses son of ‘Imran, peace be upon him, ‘Whenever you stand before me, do so like a humble and poor person, whenever you read the Torah, read it with sad voice.’”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے، اور باپ نے علی بن معبد سے، علی نے عبد الله بن القاسم سے، عبد الله نے عبد الله بن سنان سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں: ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: الله عز و جل نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو وحی کی: جب تم میری بارگاہ میں کھڑے ہو تو ذلیل اور فقیر کی طرح کھڑے ہو، اور جب تم تورات پڑھو تو اسے حزین آواز میں مجھے سنا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Hadith.2865 - Abdullah ibn Sinan narrated from Abu Abdullah (as), who said: "Indeed, the Commander of the Faithful Imam Ali Ibn Abi Talib (as) instructed an elderly man who had never performed Hajj and was unable to do so due to his old age to arrange for someone to perform Hajj on his behalf."
عبداللہ بن سنان نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی، انہوں نے کہا: "بیشک امیر المومنین علیہ السلام نے ایک بزرگ شخص کو جس نے کبھی حج نہیں کیا تھا اور اپنی بڑھاپے کی وجہ سے حج کی طاقت نہیں رکھتا تھا، حکم دیا کہ ایک آدمی کو تیار کرے جو اس کی طرف سے حج کرے۔"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "The religion is An-Nasihah" three times. They said: "O Messenger of Allah! For Whom?" He said : "To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Verily, when the slave (of Allah) commits a sin, a black spot appears on his heart. When he refrains from it, seeks forgiveness and repents, his heart is polished clean. But if he returns, it increases until it covers his entire heart. And that is the ‘Ran’ which Allah mentioned: ‘Nay, but on their hearts is the Ran which they used to earn.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے ( سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے ) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے“ ( المطففین: ۱۴ ) ، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy)." It has been related from Anas bin Malik that the Prophet SAW said: "It is sufficient evil for a man that fingers be raised against him, regarding religion or worldly matters, except for one whom Allah has protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: May Allah have mercy on a man who gets up at night and prays, and awakens his wife; if she refuses, he should sprinkle water on her face. May Allah have mercy on a woman who gets up at night and prays, and awakens her husband; if he refuses, she would sprinkle water on his face
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎ ۔
PickthallNay, but that which they have earned is rust upon their hearts.
Yusuf AliBy no means! but on their hearts is the stain of the (ill) which they do!
The agreed readingNo — rather, a rust has covered their hearts from what they were earning. The commentaries agree the rust is laid on by the deeds themselves, and that it builds until it covers.
Urduہرگز نہیں! بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے اپنے کیے ہوئے گناہوں کا زنگ چڑھ گیا ہے، جو ان کے دلوں کو حق دیکھنے سے روک دیتا ہے۔
Arabic﴿كلَّا﴾ رَدْعٌ لهم عن هذا القولِ؛ بل غطَّى على قلوبِهم وغَلَبَ عليها ما كانوا يكسِبونَه من الذنوبِ حتى صار كالصَّدَإِ يمنعُها من إبصارِ الحقِّ.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Verily, when the slave (of Allah) commits a sin, a black spot appears on his heart. When he refrains from it, seeks forgiveness and repents, his heart is polished clean. But if he returns, it increases until it covers his entire heart. And that is the ‘Ran’ which Allah mentioned: ‘Nay, but on their hearts is the Ran which they used to earn.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے ( سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے ) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے“ ( المطففین: ۱۴ ) ، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "The religion is An-Nasihah" three times. They said: "O Messenger of Allah! For Whom?" He said : "To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy)." It has been related from Anas bin Malik that the Prophet SAW said: "It is sufficient evil for a man that fingers be raised against him, regarding religion or worldly matters, except for one whom Allah has protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: May Allah have mercy on a man who gets up at night and prays, and awakens his wife; if she refuses, he should sprinkle water on her face. May Allah have mercy on a woman who gets up at night and prays, and awakens her husband; if he refuses, she would sprinkle water on his face
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎ ۔
PickthallNay, but surely on that day they will be covered from (the mercy of) their Lord.
Yusuf AliVerily, from (the Light of) their Lord, that Day, will they be veiled.
The agreed readingNo — they are veiled from their Lord that Day. The commentaries agree the veiling is the punishment named here, set against the looking on that the other side is given.
Urduہرگز نہیں! یقینا وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے روک دیے جائیں گے اور پردے میں رکھے جائیں گے۔
Arabic﴿كلَّا﴾ إنَّهم عن ربِّهم يومئذٍ لمحجوبون ممنوعون من النظرِ إليه.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Verily, when the slave (of Allah) commits a sin, a black spot appears on his heart. When he refrains from it, seeks forgiveness and repents, his heart is polished clean. But if he returns, it increases until it covers his entire heart. And that is the ‘Ran’ which Allah mentioned: ‘Nay, but on their hearts is the Ran which they used to earn.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے ( سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے ) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے“ ( المطففین: ۱۴ ) ، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "The religion is An-Nasihah" three times. They said: "O Messenger of Allah! For Whom?" He said : "To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy)." It has been related from Anas bin Malik that the Prophet SAW said: "It is sufficient evil for a man that fingers be raised against him, regarding religion or worldly matters, except for one whom Allah has protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Verily, when the slave (of Allah) commits a sin, a black spot appears on his heart. When he refrains from it, seeks forgiveness and repents, his heart is polished clean. But if he returns, it increases until it covers his entire heart. And that is the ‘Ran’ which Allah mentioned: ‘Nay, but on their hearts is the Ran which they used to earn.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے ( سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے ) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے“ ( المطففین: ۱۴ ) ، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "The religion is An-Nasihah" three times. They said: "O Messenger of Allah! For Whom?" He said : "To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy)." It has been related from Anas bin Malik that the Prophet SAW said: "It is sufficient evil for a man that fingers be raised against him, regarding religion or worldly matters, except for one whom Allah has protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Verily, when the slave (of Allah) commits a sin, a black spot appears on his heart. When he refrains from it, seeks forgiveness and repents, his heart is polished clean. But if he returns, it increases until it covers his entire heart. And that is the ‘Ran’ which Allah mentioned: ‘Nay, but on their hearts is the Ran which they used to earn.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے ( سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے ) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے“ ( المطففین: ۱۴ ) ، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "The religion is An-Nasihah" three times. They said: "O Messenger of Allah! For Whom?" He said : "To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you cleans himself, he should not clean himself with his right hand. Let him clean himself with his left hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ " وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ " .
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy)." It has been related from Anas bin Malik that the Prophet SAW said: "It is sufficient evil for a man that fingers be raised against him, regarding religion or worldly matters, except for one whom Allah has protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
PickthallNay, but the record of the righteous is in 'Illiyin -
Yusuf AliNay, verily the record of the Righteous is (preserved) in 'Illiyin.
The agreed readingNo — the record of the truly good is in ʿIlliyyūn. The commentaries agree it is where the deeds of the believers true to their belief are kept.
Urduہرگز نہیں! بےشک نیکوکاروں کا نامۂ اعمال ”عِلِّیِّین“ میں ہے، اور اس لفظ میں بلندی اور رفعت کا مفہوم ہے — سِجِّین کے بالکل برعکس۔
Arabic﴿كلَّا﴾ إنَّ كتابَ الأبرارِ لفي عِلِّيِّينَ، وفي اللفظِ معنى العلوِّ والرِّفعةِ، على عكسِ سِجِّينٍ.
PickthallAh, what will convey unto thee what 'Illiyin is! -
Yusuf AliAnd what will explain to thee what 'Illiyun is?
The agreed readingAnd what will make you know what ʿIlliyyūn is? The commentaries read the second question as they read the first: magnifying, not explaining.
Urduاور تمہیں کیا معلوم کہ عِلِّیِّین کیا ہے؟ یہ سوال اس کی عظمت اور شرف کو نمایاں کرنے کے لیے ہے۔
Arabicوما أعلمَك ما عِلِّيُّونَ؟ والاستفهامُ لتفخيمِ شأنِه والتنويهِ بشرفِه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the Ran that Allah mentions in His Book: “Nay! But on their hearts is the Ran (covering of sins and evil deeds) which they used to earn.” [83:]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
PickthallAttested by those who are brought near (unto their Lord).
Yusuf AliTo which bear witness those Nearest (to Allah).
The agreed readingwitnessed by those brought near. The commentaries agree the ones brought near are angels, and that the two records are set against each other, one for each side.
Urduاس کے پاس مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں اور اس کے گواہ بنتے ہیں، اور یہ حاضری خود اس کے مالکوں کے لیے اعزاز ہے۔
Arabicيَحضُرُه ويشهدُه المقرَّبون من الملائكةِ، وفي شهادتِهم تكريمٌ لأصحابِه.
PickthallThou wilt know in their faces the radiance of delight.
Yusuf AliThou wilt recognise in their faces the beaming brightness of Bliss.
The agreed readingyou will know in their faces the brightness of bliss. The commentaries agree the brightness is the mark of what they have been given, plain on them.
Urduتم ان کے چہروں پر نعمت کی تازگی اور رونق پہچان لو گے؛ عیش و آرام کے آثار ان کے چہروں سے صاف نمایاں ہوں گے۔
Arabicتَعرِفُ في وجوهِهم بهجةَ التنعُّمِ وحُسْنَه، فأثرُ النعيمِ ظاهرٌ عليهم يُعرَفون به.
PickthallThey are given to drink of a pure wine, sealed,
Yusuf AliTheir thirst will be slaked with Pure Wine sealed:
The agreed readingThey are given a sealed pure wine to drink — wine clear of any taint, the commentaries gloss, its vessel sealed and opened by no one else.
Urduانہیں ایسی خالص اور صاف شراب پلائی جائے گی جس پر مہر لگی ہوگی اور جسے ان سے پہلے کسی ہاتھ نے چھوا نہ ہوگا۔
Arabicيُسقَون من خمرٍ صافيةٍ خالصةٍ، مختومٍ على إنائِها لم تمسَسْها يدٌ قبلَهم.
PickthallWhose seal is musk - for this let (all) those strive who strive for bliss -
Yusuf AliThe seal thereof will be Musk: And for this let those aspire, who have aspirations:
The agreed readingits seal musk — and for that let those who compete compete. The commentaries agree the competing meant is for this, and not for what people compete over here.
Urduاس کے آخر میں مشک کی خوشبو ہوگی۔ اور اسی نعمت کے لیے سبقت کرنے والوں کو نیک اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ دنیا کے فانی سامان کے لیے۔
Arabicآخرُ شُربِها تفوحُ منه رائحةُ المسكِ. وفي هذا النعيمِ فليتسابَقِ المتسابقون بالعملِ الصالحِ، لا في متاعِ الدنيا الزائلِ.
PickthallA spring whence those brought near (to Allah) drink.
Yusuf AliA spring, from (the waters) whereof drink those Nearest to Allah.
The agreed readinga spring from which those brought near drink — drunk from directly by them, the commentaries note, and only mixed into the cup of the rest.
Urduیہ جنت کا ایک چشمہ ہے جس سے مقرب لوگ پیتے ہیں۔ اسے یہ نام اس کی بلندی اور بلند مرتبے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔
Arabicوهي عينٌ في الجنةِ يشربُ منها المقرَّبون. وسُمِّيَتْ بذلك لعلوِّ مكانِها ومكانتِها.
PickthallLo! the guilty used to laugh at those who believed,
Yusuf AliThose in sin used to laugh at those who believed,
The agreed readingThose who were guilty used to laugh at those who believed — named men of Mecca, the commentaries agree, laughing at named believers among the poor.
Urduبےشک مجرم لوگ دنیا میں اہلِ ایمان کو حقیر جان کر ان پر ہنستے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔
Arabicإنَّ الذين أجرموا كانوا في الدنيا يضحكون من المؤمنين استهزاءً بهم واستحقارًا لهم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Narrated Irbad ibn Sariyah: AbdurRahman ibn Amr as-Sulami and Hujr ibn Hujr said: We came to Irbad ibn Sariyah who was among those about whom the following verse was revealed: "Nor (is there blame) on those who come to thee to be provided with mounts, and when thou saidst: "I can find no mounts for you." We greeted him and said: We have come to see you to give healing and obtain benefit from you. Al-Irbad said: One day the Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, then faced us and gave us a lengthy exhortation at which the eyes shed tears and the hearts were afraid. A man said: Messenger of Allah! It seems as if it were a farewell exhortation, so what injunction do you give us? He then …
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ «ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه» ۱؎ نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، …
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلَىَّ فَقَبَضْتُهُمَا.
Narrated `Aisha:It is not good that you people have made us (women) equal to dogs and donkeys. No doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) praying while I used to lie between him and the Qibla and when he wanted to prostrate, he pushed my legs and I withdrew them
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ تم نے برا کیا کہ ہم کو کتوں اور گدھوں کے حکم میں کر دیا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی تھی۔
PickthallAnd wink one to another when they passed them;
Yusuf AliAnd whenever they passed by them, used to wink at each other (in mockery);
The agreed readingand when they passed them they would wink at one another — signalling with the eye and the brow, the commentaries gloss, as the believers went by.
Urduاور جب ان کے پاس سے گزرتے تو آپس میں آنکھوں اور ابروؤں سے اشارے کرتے، تحقیر اور طعن کے طور پر۔
Arabicوإذا مرُّوا بهم يَتغامَزون، أي يُشيرُ بعضُهم إلى بعضٍ بالجفنِ والحاجبِ سُخريةً وطعنًا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلَىَّ فَقَبَضْتُهُمَا.
Narrated `Aisha:It is not good that you people have made us (women) equal to dogs and donkeys. No doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) praying while I used to lie between him and the Qibla and when he wanted to prostrate, he pushed my legs and I withdrew them
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ تم نے برا کیا کہ ہم کو کتوں اور گدھوں کے حکم میں کر دیا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی تھی۔
Narrated Irbad ibn Sariyah: AbdurRahman ibn Amr as-Sulami and Hujr ibn Hujr said: We came to Irbad ibn Sariyah who was among those about whom the following verse was revealed: "Nor (is there blame) on those who come to thee to be provided with mounts, and when thou saidst: "I can find no mounts for you." We greeted him and said: We have come to see you to give healing and obtain benefit from you. Al-Irbad said: One day the Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, then faced us and gave us a lengthy exhortation at which the eyes shed tears and the hearts were afraid. A man said: Messenger of Allah! It seems as if it were a farewell exhortation, so what injunction do you give us? He then …
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ «ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه» ۱؎ نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، …
PickthallAnd when they returned to their own folk, they returned jesting;
Yusuf AliAnd when they returned to their own people, they would return jesting;
The agreed readingand when they went back to their own people they went back joking — pleased with themselves, the commentaries gloss, and making an entertainment of it.
Urduاور جب اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تو اپنی اس حرکت پر خوش اور نازاں لوٹتے، اور اہلِ ایمان کا ذکر کر کے دل لگیاں کرتے۔
Arabicوإذا رجعوا إلى أهلِهم رجعوا مُعجَبين بما كان منهم، يتفكَّهون بذِكرِ المؤمنين والسخريةِ منهم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Irbad ibn Sariyah: AbdurRahman ibn Amr as-Sulami and Hujr ibn Hujr said: We came to Irbad ibn Sariyah who was among those about whom the following verse was revealed: "Nor (is there blame) on those who come to thee to be provided with mounts, and when thou saidst: "I can find no mounts for you." We greeted him and said: We have come to see you to give healing and obtain benefit from you. Al-Irbad said: One day the Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, then faced us and gave us a lengthy exhortation at which the eyes shed tears and the hearts were afraid. A man said: Messenger of Allah! It seems as if it were a farewell exhortation, so what injunction do you give us? He then …
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ «ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه» ۱؎ نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، …
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلَىَّ فَقَبَضْتُهُمَا.
Narrated `Aisha:It is not good that you people have made us (women) equal to dogs and donkeys. No doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) praying while I used to lie between him and the Qibla and when he wanted to prostrate, he pushed my legs and I withdrew them
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ تم نے برا کیا کہ ہم کو کتوں اور گدھوں کے حکم میں کر دیا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی تھی۔
PickthallAnd when they saw them they said: Lo! these have gone astray.
Yusuf AliAnd whenever they saw them, they would say, "Behold! These are the people truly astray!"
The agreed readingand when they saw them they said: these have gone astray. The commentaries carry the same account: named believers were mocked by named men of Mecca, and the going astray they charged was believing.
Urduاور جب انہیں دیکھتے تو کہتے: یہ لوگ تو بہکے ہوئے ہیں — کیونکہ انہوں نے آبائی دین چھوڑ کر حق کو اپنا لیا تھا۔ یوں انہوں نے راہِ راست پر چلنے والوں کو گمراہ قرار دے دیا۔
Arabicوإذا رأَوهم قالوا: إنَّ هؤلاء لضالُّون؛ لأنَّهم تركوا دينَ آبائِهم واتَّبعوا الحقَّ. فحكموا على أهلِ الهُدى بالضلالِ.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Irbad ibn Sariyah: AbdurRahman ibn Amr as-Sulami and Hujr ibn Hujr said: We came to Irbad ibn Sariyah who was among those about whom the following verse was revealed: "Nor (is there blame) on those who come to thee to be provided with mounts, and when thou saidst: "I can find no mounts for you." We greeted him and said: We have come to see you to give healing and obtain benefit from you. Al-Irbad said: One day the Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, then faced us and gave us a lengthy exhortation at which the eyes shed tears and the hearts were afraid. A man said: Messenger of Allah! It seems as if it were a farewell exhortation, so what injunction do you give us? He then …
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ «ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه» ۱؎ نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، …
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلَىَّ فَقَبَضْتُهُمَا.
Narrated `Aisha:It is not good that you people have made us (women) equal to dogs and donkeys. No doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) praying while I used to lie between him and the Qibla and when he wanted to prostrate, he pushed my legs and I withdrew them
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ تم نے برا کیا کہ ہم کو کتوں اور گدھوں کے حکم میں کر دیا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی تھی۔
PickthallYet they were not sent as guardians over them.
Yusuf AliBut they had not been sent as keepers over them!
The agreed readingthough they had not been sent as keepers over them. The commentaries mark the answer: no one had put them in charge of anyone's belief.
Urduحالانکہ یہ لوگ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے کہ ان کے اعمال کی نگرانی کریں اور ان پر فیصلے صادر کریں۔ یہ ان کا کام ہی نہیں تھا اور نہ انہیں اس کا مکلف بنایا گیا تھا۔
Arabicوما أُرسِلوا عليهم حافظين مُوَكَّلين بأعمالِهم حتى يحكُموا عليهم بذلك. فليس ذلك من شأنِهم ولا كُلِّفوه.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Irbad ibn Sariyah: AbdurRahman ibn Amr as-Sulami and Hujr ibn Hujr said: We came to Irbad ibn Sariyah who was among those about whom the following verse was revealed: "Nor (is there blame) on those who come to thee to be provided with mounts, and when thou saidst: "I can find no mounts for you." We greeted him and said: We have come to see you to give healing and obtain benefit from you. Al-Irbad said: One day the Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, then faced us and gave us a lengthy exhortation at which the eyes shed tears and the hearts were afraid. A man said: Messenger of Allah! It seems as if it were a farewell exhortation, so what injunction do you give us? He then …
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ «ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه» ۱؎ نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، …
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلَىَّ فَقَبَضْتُهُمَا.
Narrated `Aisha:It is not good that you people have made us (women) equal to dogs and donkeys. No doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) praying while I used to lie between him and the Qibla and when he wanted to prostrate, he pushed my legs and I withdrew them
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ تم نے برا کیا کہ ہم کو کتوں اور گدھوں کے حکم میں کر دیا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی تھی۔
PickthallThis day it is those who believe who have the laugh of disbelievers,
Yusuf AliBut on this Day the Believers will laugh at the Unbelievers:
The agreed readingSo today it is those who believed who laugh at those who refused — the same verb, the commentaries note, turned back the other way on the Day itself.
Urduتو آج — قیامت کے دن — اہلِ ایمان کافروں پر ہنسیں گے، جیسا کہ ان کے عمل کا مناسب بدلہ ہے۔
Arabicفاليومَ — يومَ القيامةِ — الذين آمنوا من الكفَّارِ يضحكون، جزاءً وِفاقًا لِما كان في الدنيا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Irbad ibn Sariyah: AbdurRahman ibn Amr as-Sulami and Hujr ibn Hujr said: We came to Irbad ibn Sariyah who was among those about whom the following verse was revealed: "Nor (is there blame) on those who come to thee to be provided with mounts, and when thou saidst: "I can find no mounts for you." We greeted him and said: We have come to see you to give healing and obtain benefit from you. Al-Irbad said: One day the Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, then faced us and gave us a lengthy exhortation at which the eyes shed tears and the hearts were afraid. A man said: Messenger of Allah! It seems as if it were a farewell exhortation, so what injunction do you give us? He then …
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ «ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه» ۱؎ نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، …
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلَىَّ فَقَبَضْتُهُمَا.
Narrated `Aisha:It is not good that you people have made us (women) equal to dogs and donkeys. No doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) praying while I used to lie between him and the Qibla and when he wanted to prostrate, he pushed my legs and I withdrew them
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ تم نے برا کیا کہ ہم کو کتوں اور گدھوں کے حکم میں کر دیا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی تھی۔
Narrated Irbad ibn Sariyah: AbdurRahman ibn Amr as-Sulami and Hujr ibn Hujr said: We came to Irbad ibn Sariyah who was among those about whom the following verse was revealed: "Nor (is there blame) on those who come to thee to be provided with mounts, and when thou saidst: "I can find no mounts for you." We greeted him and said: We have come to see you to give healing and obtain benefit from you. Al-Irbad said: One day the Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, then faced us and gave us a lengthy exhortation at which the eyes shed tears and the hearts were afraid. A man said: Messenger of Allah! It seems as if it were a farewell exhortation, so what injunction do you give us? He then …
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ «ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه» ۱؎ نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، …
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلَىَّ فَقَبَضْتُهُمَا.
Narrated `Aisha:It is not good that you people have made us (women) equal to dogs and donkeys. No doubt I saw Allah's Messenger (ﷺ) praying while I used to lie between him and the Qibla and when he wanted to prostrate, he pushed my legs and I withdrew them
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ تم نے برا کیا کہ ہم کو کتوں اور گدھوں کے حکم میں کر دیا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی تھی۔
PickthallAre not the disbelievers paid for what they used to do?
Yusuf AliWill not the Unbelievers have been paid back for what they did?
The agreed readingHave those who refused been repaid for what they used to do? The commentaries close the sūrah with the question answered by everything before it.
Urduکیا کافروں کو ان کے اعمال کا بدلہ مل گیا؟ یہ سوال اقرار کے لیے ہے، یعنی انہیں ان کے کیے کے عین مطابق سزا دے دی گئی۔
Arabicهل جُوزِيَ الكفَّارُ ما كانوا يفعلون؟ والاستفهامُ للتقريرِ، أي قد جُوزوا بما يستحقُّون من العذابِ جزاءً موافقًا لأعمالِهم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَرَأَ بِهِمْ { إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ } فَسَجَدَ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَجَدَ فِيهَا .
It was narrated from Abu Salamah bin Abdur- Rahman that:Abu Hurairah (led them in prayer and) recited: "When the heaven is split asunder." and prostrated during it. When he had finished praying, he told them that the Messenger of Allah (ﷺ) had prostrated during it
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «إذا السماء انشقت» پڑھ کر سنایا تو انہوں نے اس میں سجدہ کیا، جب وہ سجدہ سے فارغ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ کیا تھا۔