Al-Kāfi, vol. 6, no. 1839
درجته: al-Majlisi: موثق
grading: al-Majlisi: موثق
درجہ: al-Majlisi: موثق
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ فَضَّالٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُقْبَةَ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الشِّطْرَنْجِ وَ عَنْ لُعْبَةِ شَبِيبٍ الَّتِي يُقَالُ لَهَا لُعْبَةُ الْأَمِيرِ وَ عَنْ لُعْبَةِ الثَّلَاثِ فَقَالَ أَ رَأَيْتَكَ إِذَا مُيِّزَ الْحَقُّ مِنَ الْبَاطِلِ مَعَ أَيِّهِمَا يَكُونُ قَالَ قُلْتُ مَعَ الْبَاطِلِ قَالَ فَلَا خَيْرَ فِيهِ .
6. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Faddal from Ali ibn ‘Uqbah from ibn Bukayr from Zurarah who has said the following: “Once, abu ‘Abd Allah (a.s.), was asked about chess and about a game of youths called ‘al-Amir game’ and the game called ‘ Thalathah’ . He (the Imam) said, ‘Consider if right and wrong are made distinct from each other, where do these things fall?’ He (the narrator) has said, ‘I said that it falls in the wrong category.’ He (the Imam) said, ‘It then is devoid of goodness.’”
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، احمد نے ابن فضال سے، ابن فضال نے علی بن عقبہ سے، علی نے ابن بکیر سے، ابن بکیر نے زرارہ سے روایت کی۔ زرارہ کہتے ہیں: ابو عبد اللہ علیہ السلام سے شطرنج کے بارے میں پوچھا گیا، اور شبیب کے کھیل کے بارے میں جسے امیر کا کھیل کہا جاتا ہے، اور تین کے کھیل کے بارے میں۔ انہوں نے فرمایا: "تمہاری نظر میں جب حق کو باطل سے الگ کیا جائے تو یہ کھیل ان میں سے کس کے ساتھ ہے؟" میں نے کہا: "باطل کے ساتھ۔" انہوں نے فرمایا: "تو اس میں کوئی خیر نہیں۔"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا