Sunan Abī Dāwūd 4885
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، مِنْ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجُشَمِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ عَقَلَهَا ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَهَا ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ نَادَى اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلاَ تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى مَا قَالَ " . قَالُوا بَلَى .
Narrated Jundub: A desert Arab came and making his camel kneel and tethering it, entered the mosque and prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ). When The Messenger of Allah (ﷺ) had given the salutation, he went to his riding beast and, after untethering and riding it, he called out: O Allah, show mercy to me and to Muhammad and associate no one else in Thy mercy to us. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Do you think that he or his camel is farther astray? Did you not listen to what he said? They replied: Certainly
ابوعبداللہ جشمی کہتے ہیں کہ ہم سے جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی آیا اس نے اپنی سواری بٹھائی پھر اسے باندھا، اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا، اسے اس نے کھولا پھر اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے اس رحم میں کسی اور کو شامل نہ کر ( یعنی کسی اور پر رحم نہ فرما ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کیا کہتے ہو؟ یہ زیادہ نادان ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے وہ نہیں سنا جو اس نے کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور سنا ہے ۔