Ṣaḥīḥ al-Bukhārī

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3174

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3174

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا تِجَارًا بِالشَّأْمِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي مَادَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا سُفْيَانَ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ‏.‏
Narrated ' `Abdullah bin `Abbas:That Abu Sufyan bin Harb Informed him that Heraclius called him and the members of a caravan from Quraish who had gone to Sham as traders, during the truce which Allah's Messenger (ﷺ) had concluded with Abu Sufyan and the Quraish infidels
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، اور انہیں ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہرقل ( فرمانروائے روم ) نے انہیں قریش کے قافلے کے ساتھ بلا بھیجا ( یہ لوگ شام اس زمانے میں تجارت کی غرض سے گئے ہوئے تھے۔ ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان سے ( صلح حدیبیہ میں ) قریش کے کافروں کے مقدمہ میں صلح کی تھی۔

cited on 2 āyāt

ذكرها في 2 من الآيات

2 آیات پر نقل کیا

ĀyahCited byPickthall
3:62al-BaghawīLo! This verily is the true narrative. There is no Allah save Allah, and lo! Allah, He verily is, is the Mighty, the Wise.
3:64al-BaghawīSay: O People of the Scripture! Come to an agreement between us and you: that we shall worship none but Allah, and that we shall ascribe no partner …