Ṣaḥīḥ Muslim

Ṣaḥīḥ Muslim 5553

Ṣaḥīḥ Muslim 5553

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ، بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ قَالَ فَوَاللَّهِ لاَ أَسِمُهُ إِلاَّ فِي أَقْصَى شَىْءٍ مِنَ الْوَجْهِ ‏.‏ فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ ‏.‏
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) saw an ass which had been cauterised on the face. He disapproved of it saying:By Allah, I do not cauterise (the animal) but on a part at a distance from the face, and commanded (for the cauterisation) of his ass and it was cauterised on the buttocks and he was the first to cauterise on the buttocks
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلا م ناعم ابو عبد اللہ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو نشانی لگا نے کے لیے داغا گیا تھا آپ نے اس کو بہت برا خیال کیا ، انھوں نے ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اللہ کی قسم !میں جو حصہ چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو اس کے علاوہ کسی جگہ نشانی ثبت نہیں کر تا ۔ پھر انھوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کی سرین ( کے وہ حصے جہاں دم ہلاتے وقت لگتی ہے ) پر نشانی ثبت کی گئی یہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اس جگہ داغنے کا آغاز کیا ۔

cited on 7 āyāt

ذكرها في 7 من الآيات

7 آیات پر نقل کیا

ĀyahCited byPickthall
68:10al-ZamakhsharīNeither obey thou each feeble oath-monger,
68:11al-ZamakhsharīDetracter, spreader abroad of slanders,
68:12al-ZamakhsharīHinderer of the good, transgressor, malefactor
68:13al-ZamakhsharīGreedy therewithal, intrusive.
68:14al-ZamakhsharīIt is because he is possessed of wealth and children
68:15al-ZamakhsharīThat, when Our revelations are recited unto him, he saith: Mere fables of the men of old.
68:16al-ZamakhsharīWe shall brand him on the nose.