Sunan al-Nasāʾī

Sunan al-Nasāʾī 3086

Sunan al-Nasāʾī 3086

درجته: Abu Ghuddah: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Abu Ghuddah: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبِي قَالَ، أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَأَصْحَابًا، لَهُ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِكُونَ فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّةً ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلاَ تُقَاتِلُوا ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا حَوَّلَنَا اللَّهُ إِلَى الْمَدِينَةِ أَمَرَنَا بِالْقِتَالِ فَكَفُّوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلاَةَ ‏}‏ ‏.‏
Narrated It was narrated from Ibn Abbas:that Abdur-Rahman bin Awf and some of his companions came to the Prophet in Makkah and said: “O Messenger of Allah! We were respected when we were idolaters and when we believed, we were humiliated.” He said: “I have been commanded to pardon, so do not fight.” Then, when Allah caused us to move to Al-Madinah, He commanded us to fight, but they refrained. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: Have you not seen those who were told to hold back their hands (from fighting) and perform As-Salah”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ دوست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب آپ مکہ میں تشریف فرما تھے آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ہم مشرک تھے عزت سے تھے، اور جب سے ایمان لے آئے ذلیل و حقیر ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے عفو و درگزر کا حکم ملا ہوا ہے۔ تو ( جب تک لڑائی کا حکم نہ مل جائے ) لڑائی نہ کرو“، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ بھیج دیا، اور ہمیں جنگ کا حکم دے دیا۔ تو لوگ ( بجائے اس کے کہ خوش ہوتے ) باز رہے ( ہچکچائے، ڈرے ) تب اللہ تعالیٰ نے آیت: «ألم تر إلى الذين قيل لهم كفوا أيديكم وأقيموا الصلاة» ”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں حکم کیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو، اور نمازیں پڑھتے رہو، اور زکاۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟ کیوں ہمیں تھوڑی سی زندگی اور نہ جینے دی؟ آپ کہہ دیجئیے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا ( النساء: ۷۷ ) اخیر تک نازل فرمائی۔

cited on 3 āyāt

ذكرها في 3 من الآيات

3 آیات پر نقل کیا

ĀyahCited byPickthall
4:77al-Ṭabarī, al-Qurṭubī and Ibn KathīrHast thou not seen those unto whom it was said: Withhold your hands, establish worship and pay the poordue, but when fighting was prescribed for them …
4:78Ibn KathīrWheresoever ye may be, death will overtake you, even though ye were in lofty towers. Yet if a happy thing befalleth them they say: This is from …
4:79Ibn KathīrWhatever of good befalleth thee (O man) it is from Allah, and whatever of ill befalleth thee it is from thyself. We have sent thee (Muhammad) as a …