Jāmiʿ al-Tirmidhī

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3278

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3278

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ لَقِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَعْبًا بِعَرَفَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَكَبَّرَ حَتَّى جَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّا بَنُو هَاشِمٍ ‏.‏ فَقَالَ كَعْبٌ إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلاَمَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ ‏.‏ قَالَ مَسْرُوقٌ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ فَقَالَتْ لَقَدْ تَكَلَّمْتَ بِشَيْءٍ قَفَّ لَهُ شَعْرِي قُلْتُ رُوَيْدًا ثُمَّ قَرَأْتُ ‏:‏ ‏(‏لقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى ‏)‏ قَالَتْ أَيْنَ يُذْهَبُ بِكَ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏:‏ ‏(‏ إنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ‏)‏ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلاَّ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَمَرَّةً فِي جِيَادٍ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الأُفُقَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ دَاوُدَ أَقْصَرُ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ ‏.‏
Narrated Ash-Sha'bi:"Ibn 'Abbas met Ka'b at Arafat, so he asked him about something and he kept on saying the Takbir until it reverberated off of the mountains. So Ibn 'Abbas (finally) said: 'We are Banu Hashim.' So Ka'b said: 'Indeed Allah divided His being seen and His speaking between Muhammad and Musa. He spoke to Musa two times, and Muhammad saw Him two times.' Masruq said: 'I entered upon 'Aishah and asked her if Muhammad saw his Lord.' She said: 'You have said something that makes my hair stand on end.' I said: 'Take it easy.' Then I recited: Indeed he saw of the great signs of his Lord (53:18). So she said: 'What do you mean by that? That is only Jibra'il. Whoever informed you that Muhammad saw his Lord, or that (ﷺ) concealed something he was ordered with, or he knew of the five things about which Allah, [Most High] said: Verily Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain (31:34) - then he has fabricated the worst lie. Rather he (ﷺ) saw Jibra'il, but he did not see him in his (real) image except two times. One time at Sidrat Al-Muntaha and one time in Jiyad, he had six-hundred wings which filled the horizon
عامر شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما کی ملاقات کعب الاحبار سے عرفہ میں ہوئی، انہوں نے کعب سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے تکبیرات پڑھیں جن کی صدائے بازگشت پہاڑوں میں گونجنے لگی، ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: ہم بنو ہاشم سے تعلق رکھتے ہیں، کعب نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنی رویت و دیدار کو اور اپنے کلام کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ ( علیہ السلام ) کے درمیان تقسیم کر دیا ہے۔ اللہ نے موسیٰ سے دو بار بات کی، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو دو بار دیکھا۔ مسروق کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس پہنچا، میں نے ان سے پوچھا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: تم نے تو ایسی بات کہی ہے جسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، میں نے کہا: ٹھہریئے، جلدی نہ کیجئے ( پوری بات سن لیجئے ) پھر میں نے آیت «لقد رأى من آيات ربه الكبرى» ”پھر آپ نے اللہ کی بڑی آیات و نشانیاں دیکھیں“ ( النجم: ۱۸ ) ، تلاوت کی ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا: ”تمہیں کہاں لے جایا گیا ہے؟ ( کہاں بہکا دیے گئے ہو؟ ) یہ دیکھے جانے والے تو جبرائیل تھے، تمہیں جو یہ خبر دے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ یا جن باتوں کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ان میں سے آپ نے کچھ چھپا لیا ہے، یا وہ پانچ چیزیں جانتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث» ”اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اللہ ہی جانتا ہے کہ بارش کب اور کہاں نازل ہو گی“ ( سورۃ لقمان: ۳۴ ) ، اس نے بڑا جھوٹ بولا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، جبرائیل علیہ السلام کو آپ نے ان کی اپنی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، ( ایک بار ) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک بار جیاد میں ( جیاد نشیبی مکہ کا ایک محلہ ہے ) جبرائیل علیہ السلام کے چھ سو بازو تھے، انہوں نے سارے افق کو اپنے پروں سے ڈھانپ رکھا تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: داود بن ابی ہند نے شعبی سے، شعبی نے مسروق سے اور مسروق نے عائشہ رضی الله عنہا کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جیسی حدیث روایت کی، داود کی حدیث مجالد کی حدیث سے چھوٹی ہے ( لیکن وہی صحیح ہے ) ۔

cited on 17 āyāt

ذكرها في 17 من الآيات

17 آیات پر نقل کیا

ĀyahCited byPickthall
53:1al-ZamakhsharīBy the Star when it setteth,
53:2al-ZamakhsharīYour comrade erreth not, nor is deceived;
53:3al-ZamakhsharīNor doth he speak of (his own) desire.
53:5al-Zamakhsharī and Ibn KathīrWhich one of mighty powers hath taught him,
53:6al-Zamakhsharī and Ibn KathīrOne vigorous; and he grew clear to view
53:7al-Zamakhsharī and Ibn KathīrWhen he was on the uppermost horizon.
53:8al-Zamakhsharī and Ibn KathīrThen he drew nigh and came down
53:9al-Zamakhsharī and Ibn KathīrTill he was (distant) two bows' length or even nearer,
53:10al-Zamakhsharī and Ibn KathīrAnd He revealed unto His slave that which He revealed.
53:11al-Zamakhsharī and Ibn KathīrThe heart lied not (in seeing) what it saw.
53:12al-Zamakhsharī and Ibn KathīrWill ye then dispute with him concerning what he seeth?
53:13al-Zamakhsharī and Ibn KathīrAnd verily he saw him yet another time
53:14al-Zamakhsharī and Ibn KathīrBy the lote-tree of the utmost boundary,
53:15al-Zamakhsharī and Ibn KathīrNigh unto which is the Garden of Abode.
53:16al-Zamakhsharī and Ibn KathīrWhen that which shroudeth did enshroud the lote-tree,
53:17al-Zamakhsharī and Ibn KathīrThe eye turned not aside nor yet was overbold.
53:18al-Zamakhsharī and Ibn KathīrVerily he saw one of the greater revelations of his Lord.