The agreed readingThe sura opens with an oath by those that scatter, scattering. The commentaries take these to be the winds - what lifts the dust and drives it along before it.
Urduیہ سورت ان چیزوں کی قسم سے شروع ہوتی ہے جو بکھیرنے والی ہیں، اڑا اڑا کر بکھیرنے والی۔ مفسرین نے انہیں ہواؤں سے تعبیر کیا ہے، جو گرد و غبار کو اٹھا کر اپنے آگے آگے اڑاتی اور بکھیرتی ہیں۔
Arabicتفتتح هذه السورة المباركة بالقَسَم بالذاريات، أي الرياح التي تذرو وتُطيِّر بشدةٍ وقوةٍ. وقد فسَّر المفسرون هذه الذاريات بأنها الرياح، التي تُثير الغبار وتُطيِّره وتسوقه أمامها في كل اتجاه.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
So now, certainly I frighten you from this world for it is sweet and green, surrounded by lusts, and liked for its immediate enjoyments. It excites wonder with small things, is ornamented with (false) hopes and decorated with deception. Its rejoicings do not last and its afflictions cannot be avoided. It is deceitful, harmful, changing, perishable, exhaustible, liable to destruction, eating away and destructive. When it reaches the extremity of desires of those who incline towards it and feel happy with it, the position is just what Allah the Glorified, says (in the Qur’ān): “. . . like the water which send We down from heaven, and the herbage of the earth mingleth with it, then it becometh …
اما بعد، بیشک میں تمہیں دنیا سے ڈراتا ہوں۔ کیونکہ یہ حلوہ اور خضِرہ ہے۔ یہ شہوات سے محفوف ہے۔ یہ عاجِلہ سے محبوب ہے۔ یہ قلیل سے طرب دیتا ہے۔ یہ آمال سے متحلیٰ ہے۔ یہ غرور سے متزیّن ہے۔ حبرتہا دوام نہیں ہے، اور فَجْعتہا محفوظ نہیں۔ یہ غَّرارہ اور ضرارہ ہے۔ حائلہ اور زائلہ ہے۔ نافدہ اور بائدہ ہے۔ أكّالہ اور غوّالہ ہے۔ جب یہ اس کی خواہش رکھنے والوں کی آمنیہ تک پہنچے اور وہ اس پر راضی ہوں تو یہ اللہ کے فرمان جیسا ہے: "کماء انزلناہ من السماء فاختلط بہ نبات الأرض فأصبح ہشیماً تذروہ الریاح۔ وکان اللہ علیٰ کل شیء مقتدراً"۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
PickthallAnd those that bear the burden (of the rain)
Yusuf AliAnd those that lift and bear away heavy weights;
The agreed readingAnd by those that carry a load. The commentaries read these as the clouds, bearing the weight of the water they hold.
Urduاور ان کی قسم جو بوجھ اٹھانے والی ہیں۔ مفسرین نے انہیں بادلوں سے تعبیر کیا ہے، جو اپنے اندر موجود پانی کا بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے چلتے ہیں۔
Arabicوقَسَمٌ من الله بالحاملات وِقرًا، أي حاملاتِ ثِقلٍ عظيمٍ. وقد فسَّرها المفسرون بأنها السحاب الكثيف، التي تحمل ثِقلَ الماء الذي في داخلها وتنقله من مكانٍ إلى آخر بأمر الله.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
PickthallAnd those that glide with ease (upon the sea)
Yusuf AliAnd those that flow with ease and gentleness;
The agreed readingAnd by those that run with ease. The commentaries read these as the ships, running light over the face of the water.
Urduاور ان کی قسم جو آسانی سے چلنے والی ہیں۔ مفسرین نے انہیں کشتیوں سے تعبیر کیا ہے، جو پانی کی سطح پر بڑی نرمی اور آسانی کے ساتھ رواں دواں رہتی ہیں۔
Arabicوقَسَمٌ من الله بالجاريات يُسرًا، أي التي تجري بسهولةٍ ويُسرٍ تامٍّ. وقد فسَّرها المفسرون بأنها السفن، التي تجري على وجه الماء جريانًا خفيفًا ميسَّرًا لا مشقة فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
PickthallAnd those who distribute (blessings) by command,
Yusuf AliAnd those that distribute and apportion by Command;-
The agreed readingAnd by those that apportion a matter. The commentaries read these as the angels, dividing out the provisions and the rains among the lands and the servants by the command they are given.
Urduاور ان کی قسم جو کسی معاملے کو تقسیم کرنے والی ہیں۔ مفسرین نے انہیں فرشتوں سے تعبیر کیا ہے، جو اپنے کو دیے گئے حکم کے مطابق رزق اور بارش کو مختلف ممالک اور بندوں کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔
Arabicوقَسَمٌ من الله بالمقسِّمات أمرًا، أي اللواتي يوزِّعن أمرًا معينًا بحكمةٍ بالغةٍ. وقد فسَّرها المفسرون بأنها الملائكة، التي تُقسِّم الأرزاقَ والأمطارَ بين البلاد والعباد بأمرٍ يُوحى إليها.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
PickthallLo! that wherewith ye are threatened is indeed true,
Yusuf AliVerily that which ye are promised is true;
The agreed readingWhat you are promised is true. Here the oath falls due: the promise made to them - of the raising, and of what comes after it - is a promise that holds.
Urduبےشک جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے۔ یہاں قسم اپنے حق پر آ جاتی ہے: انہیں دوبارہ اٹھائے جانے اور اس کے بعد کی زندگی کا جو وعدہ دیا گیا ہے، وہ ایک ایسا وعدہ ہے جو ضرور پورا ہوگا۔
Arabicإن الذي توعَدون به من البعث والحساب لَصادقٌ حقٌّ لا شكَّ فيه أبدًا. وهنا تتحقَّق القَسَم: فالوعدُ الذي وُعِدوا به من البعث وما يتبعه وعدٌ صادقٌ لا يتخلَّف أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
Yusuf AliAnd verily Judgment and Justice must indeed come to pass.
The agreed readingAnd the judgement will certainly fall. The commentaries gloss it as the requital that comes after the reckoning, and read the whole chain of oaths as the argument for it - the One with power over those things has power over this.
Urduاور فیصلہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔ مفسرین نے اس سے مراد وہ جزا لی ہے جو حساب کے بعد دی جائے گی، اور اس پوری قسم کی زنجیر کو اسی بات کی دلیل قرار دیا ہے کہ جو ذات ان تمام چیزوں پر قدرت رکھتی ہے، وہی اس معاملے پر بھی پوری طرح قدرت رکھتی ہے۔
Arabicوإن الدِّينَ، أي الجزاء الذي يأتي بعد الحساب، لَواقعٌ حتمًا لا محالة. وقد جعل المفسرون سلسلةَ هذه الأقسام كلَّها حجةً على ذلك: فمن قدر على تلك المخلوقات العظيمة قادرٌ على هذا الأمر أيضًا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
The agreed readingAnd by the sky, possessed of paths. The commentaries describe them as tracks running through its very making - the word is used of the ripple-lines wind leaves in sand - and read in them the ordered beauty of the sky.
Urduاور آسمان کی قسم جو راستوں والا ہے۔ مفسرین نے انہیں ایسے راستوں سے تعبیر کیا ہے جو آسمان کی ساخت میں ہی موجود ہیں، یہ لفظ اسی طرح استعمال ہوتا ہے جیسے ریت پر ہوا کے چھوڑے ہوئے لہریے دار نشان بنتے ہیں، اور اس میں آسمان کی خوبصورت ترتیب کی طرف اشارہ لیا گیا ہے۔
Arabicوقَسَمٌ بالسماء ذاتِ الحُبُك، وقد وصفها المفسرون بأنها ذاتُ طرائقَ منسوجةٍ في خلقتها، وهي الكلمة التي تُستعمل لِما تتركه الريح من خطوطٍ متموِّجةٍ في الرمل، إشارةً إلى حُسن نظام السماء وإتقانه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
PickthallLo! ye, forsooth, are of various opinion (concerning the truth).
Yusuf AliTruly ye are in a doctrine discordant,
The agreed readingYou are in a saying that contradicts itself. The commentaries find the contradiction in what they said of Muhammad and of the Qur'an: a poet, a sorcerer, a soothsayer - verdicts that cannot all stand together, and of which only one could ever have been true.
Urduبےشک تم ایک ایسی متضاد بات میں پڑے ہوئے ہو جو خود اپنے آپ سے ٹکراتی ہے۔ مفسرین نے یہ تضاد اس میں دیکھا ہے کہ لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے بارے میں کبھی شاعر، کبھی جادوگر اور کبھی کاہن کہا، حالانکہ یہ سب باتیں اکٹھی سچی نہیں ہو سکتیں، اور ان میں سے زیادہ سے زیادہ ایک ہی بات درست ہو سکتی تھی۔
Arabicإنكم لفي قولٍ مختلفٍ متناقضٍ يكذِّب بعضُه بعضًا. وقد وجد المفسرون هذا الاختلاف فيما قالوه عن محمد صلى الله عليه وسلم وعن القرآن: شاعرٌ، ساحرٌ، كاهنٌ، وهي أقوالٌ لا يمكن أن تجتمع كلُّها صحيحةً، بل واحدةٌ منها فقط قد تصدُق.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
PickthallHe is made to turn away from it who is (himself) averse.
Yusuf AliThrough which are deluded (away from the Truth) such as would be deluded.
The agreed readingTurned away from it is the one who is turned away. The commentaries read 'it' as the Prophet and the Qur'an - belief in them - and the turning as the settled state of one already turned from guidance.
Urduاسی سے وہی شخص پھیرا جاتا ہے جو پہلے ہی پھیرا جا چکا ہو۔ مفسرین نے اس کا مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر ایمان لینا لیا ہے، اور پھیرے جانے سے مراد وہ حالت لی ہے جو پہلے ہی ہدایت سے دور ہو چکی ہو۔
Arabicيُصرَف عن الإيمان بالنبي صلى الله عليه وسلم وبالقرآن مَن صُرف عن الهداية أصلًا في علم الله. وقد فسَّر المفسرون هذا الصرفَ بأنه حالةٌ راسخةٌ لمن سبق له الضلالُ عن طريق الحق.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
16. Ali ibn Muhammad has narrated from Sahl from Ahmad ibn ‘Abd al-‘Aziz who has said that narrated to him certain persons of our people saying: “When abu al-Hassan the first (a.s.), raised his head from last sajdah of witr prayer he said, ‘This is a position of one whose good deeds are due to Your bounties and whose thanksgiving is weak, but his sin is great. He does not have anything other than Your defending him and granting him mercy. You have said in Your book revealed to Your Holy Prophet and Messenger, “They sleep at night very little and in the morning ask forgiveness for their sins” (51: 18-19). My sleep has been very long and my standing for Salah (prayer) very little. This is …
علی بن محمد نے سہل سے، انہوں نے احمد بن عبدالعزیز سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: ہمارے لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے مجھے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوالحسن الاول (علیہ السلام) جب وتر کی آخری رکعت سے سر اٹھاتے تھے، تو یہ دعا فرماتے تھے: یہ اس شخص کا مقام ہے جس کی نیکیاں آپ کی نعمت ہیں اور اس کا شکر کمزور ہے اور اس کے گناہ بہت بڑے ہیں اور اس کے پاس آپ کے دفاع اور رحمت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ آپ نے اپنی کتاب میں جو اپنے نبی اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر نازل فرمائی ہے، فرمایا ہے: وہ رات کو بہت کم سوتے ہیں اور صبح کو معافی مانگتے ہیں۔ میری نیند طویل ہو گئی ہے اور میری نماز میں قیام کم ہو گیا ہے، اور یہ سحر کا وقت ہے، اور میں اپنے گناہ کے لیے تمہارے سے معافی مانگتا ہوں، اس شخص کی طرح معافی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
The agreed readingCursed be those who guess. The commentaries gloss the word the same way: one who estimates and speaks without knowledge. Speaking without knowledge stands so close to lying that the word came to name the liar outright.
Urduہلاک ہوں وہ لوگ جو محض اندازوں پر بات کرتے ہیں۔ مفسرین نے اس لفظ کی وہی تشریح کی ہے: وہ شخص جو بغیر علم کے تخمینہ لگا کر بات کرے۔ بغیر علم کے بات کرنا جھوٹ کے اتنا قریب ہے کہ یہ لفظ خود جھوٹے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔
Arabicهلك وقُتل الخرَّاصون، وهم الذين يتكلَّمون بالظن والتخمين بغير علمٍ. وقد فسَّر المفسرون هذه الكلمة بنفس المعنى: القول بلا علمٍ، وهو قريبٌ من الكذب حتى صارت الكلمة تُطلَق على الكذَّاب نفسه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
Yusuf AliThose who (flounder) heedless in a flood of confusion:
The agreed readingThose who are sunk in a flood and heedless. The commentaries gloss the flood as an ignorance closing over them, and the heedlessness as heedlessness of what comes after.
Urduوہ لوگ جو ایک سیلاب میں ڈوبے ہوئے اور غافل ہیں۔ مفسرین نے سیلاب سے مراد وہ جہالت لی ہے جو انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے، اور غفلت سے مراد آخرت کے بارے میں ان کی بےخبری لی ہے۔
Arabicوهم الذين هم في غمرةٍ ساهون، أي غارقون في لجَّةٍ. وقد فسَّر المفسرون الغمرة بأنها جهلٌ يغمرهم من كل جانبٍ، والسهو بأنه غفلتُهم عن أمر الآخرة وما بعد الموت.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
Yusuf AliThey ask, "When will be the Day of Judgment and Justice?"
The agreed readingThey ask: when is the Day of Judgement? The commentaries note the question was not put in order to learn the answer - it was put in mockery.
Urduوہ پوچھتے ہیں: فیصلے کا دن کب آئے گا؟ مفسرین نے واضح کیا ہے کہ یہ سوال جواب جاننے کے لیے نہیں پوچھا گیا تھا، بلکہ یہ محض مذاق اور تمسخر کے طور پر پوچھا گیا تھا۔
Arabicيسألون سؤال استهزاءٍ وتكذيبٍ: متى يوم الدين؟ وقد بيَّن المفسرون أن هذا السؤال لم يُطرح لطلب معرفة الجواب أصلًا، بل طُرح على سبيل الاستهزاء والسخرية والتكذيب الصريح.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
Pickthall(It is) the day when they will be tormented at the Fire,
Yusuf Ali(It will be) a Day when they will be tried (and tested) over the Fire!
The agreed readingThe Day they are tried over the Fire. The commentaries gloss the trying plainly: it is the punishment itself.
Urduجس دن انہیں آگ پر تپایا جائے گا۔ مفسرین نے اس آزمائش کی سیدھی سادی تشریح یہ کی ہے کہ یہ آزمائش دراصل خود عذاب ہی ہے، کوئی الگ سے امتحان نہیں۔
Arabicيومَ هم على النار المستعرة يُفتنون، أي يُعذَّبون بها إحراقًا شديدًا. وقد فسَّر المفسرون هذه الفتنة تفسيرًا واضحًا بأنها العذاب نفسه، لا امتحانٌ منفصلٌ عنه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
Pickthall(And it will be said unto them): Taste your torment (which ye inflicted). This is what ye sought to hasten.
Yusuf Ali"Taste ye your trial! This is what ye used to ask to be hastened!"
The agreed readingTaste your trial. This is what you were asking to have hurried. The commentaries tie it back to the question they had asked in mockery - the thing they wanted brought forward is now in front of them.
Urduچکھو اپنی آزمائش، یہی وہ چیز ہے جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے۔ مفسرین نے اسے اسی مذاق میں پوچھے گئے سوال سے جوڑا ہے: جس چیز کو وہ جلدی لانا چاہتے تھے، اب وہ بالکل ان کے سامنے موجود ہے۔
Arabicذوقوا فتنتَكم وعذابَكم، هذا الذي كنتم به تستعجلون في الدنيا استهزاءً. وقد ربط المفسرون هذا بسؤالهم الساخر السابق: فالشيءُ الذي طلبوا تعجيلَه أصبح الآن أمامهم رأيَ العين.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Darda' reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Is any one of you incapable of reciting a third of the Qur'an in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Qur'an (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said: "'Say: He is Allah, One' (Qur'an. cxii) is equivalent to a third of the Qur'an
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
PickthallLo! those who keep from evil will dwell amid gardens and watersprings,
Yusuf AliAs to the Righteous, they will be in the midst of Gardens and Springs,
The agreed readingThose who guard themselves are amid gardens and springs. The commentaries note the two words are left indefinite, and read that as pointing past description - gardens and springs of a kind no describer reaches.
Urduجو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں وہ باغات اور چشموں کے درمیان ہوں گے۔ مفسرین نے نوٹ کیا ہے کہ ان دونوں الفاظ کو غیر معین رکھا گیا ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ ایسے باغات اور چشمے ہیں جن کی مکمل تعریف بیان کرنا کسی بھی بیان کرنے والے کے بس میں نہیں۔
Arabicإن المتقين في جناتٍ وعيونٍ. وقد لاحظ المفسرون أن الكلمتين جاءتا نكرتين غير معرَّفتين، وفسَّروا ذلك بأنه إشارةٌ إلى ما وراء الوصف: جناتٌ وعيونٌ لا يبلغ كنهَها أي واصفٍ.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Times do not keep company with Him, and implements do not help Him. His Being precedes times. His Existence precedes non-existence and His eternity precedes beginning. By His creating the senses it is known that He has no senses. By the contraries in various matters it is known that He has no contrary, and by the similarity between things it is known that there is nothing similar to Him. He has made light the contrary of darkness, brightness that of gloom, dryness that of moisture and heat that of cold. He produces affection among inimical things. He fuses together diverse things, brings near remote things and separates things which are joined together.
اوقات اس کو نہیں ساتھ دیتے، اور ادوات اس کو نہیں مدد دیتے۔ اس کی کون اوقات سے پہلے ہے، اس کی وجود عدم سے پہلے ہے، اور اس کی ازل ابتدا سے پہلے ہے۔ اس کے ذریعے مشاعر کو شعور دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے مشعر نہیں۔ اس کے ذریعے امور میں مضادت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے ضد نہیں۔ اس کے ذریعے اشیاء میں مقارنت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے قرین نہیں۔ نور کو ظلمت کے مقابل رکھا، وضوح کو بہمت کے مقابل، جمود کو بلل کے مقابل، حرور کو صرد کے مقابل۔ متعادیات میں الفت پیدا کرتا ہے، متباینات میں موافقت رکھتا ہے، متباعدات کو قریب کرتا ہے، متدانیات کو الگ کرتا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
It was narrated that Ibn `Abbas said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Tahajjud at night, he would say: “Allahumma lakal-hamd, Anta nurus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Anta qayyamus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Anta malikus- samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Antal-haqq, wa wa`duka haqq, wa liqa’uka haqq, wa qawluka haqq, wal-jannatu haqq, wan-naru haqq, was-sa`atu haqq, wan-nabiyyuna haqq, wa Muhammadun haqq. Allahumma laka aslamtu, wa bika amantu, wa `alaika tawakkaltu wa ilaika anabtu, wa bika khasamtu, wa ilaika hakamtu, faghfirli ma qaddamtu wa ma akhkhartu, wa ma asrartu wa ma a`lantu. Antal-muqaddimu wa Antal-muakhkhiru. La …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت مالك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت الحق ووعدك حق ولقاؤك حق وقولك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا إله غيرك ولا حول ولا قوة إلا بك» اے اللہ! تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا نور ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کی تدبیر کرنے والا …
Ubadah bin As-Samit, may Allah be pleased with him, narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wakes up in the night and says, ‘None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner, to Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He has power over all things. And Glory is to Allah, and all the praise is to Allah, and ‘None has the right to be worshiped but Allah, and Allah is the greatest, and there is no might nor power except by Allah (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Wa subḥān Allah, walḥamdulillāh, wa lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā …
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran.' He said: 'Say: SubhanAllah, wal-hamdulilah, wa la illaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent)
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
It was narrated that ‘Ubadah bin As-Samit said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever wakes up in the morning and says upon waking: La ilaha illallah wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu, wa Huwa ‘ala kulli shay’in Qadir; Subhan-Allah walhamdu lillahi, wa la ilaha illallahu, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa billahil-‘Aliyil-‘Azim (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is to Him, and He is Able to do all things. Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah, Allah is the Most Great, and there is no power and no strength except with Allah, the …
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رات میں بیدار ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ ہی سب سے بڑا ہے، طاقت و قوت اللہ بلند و برتر کی توفیق ہی سے ہے پھر یہ دعا پڑھے: «رب اغفر لي» اے رب مجھ کو بخش دے ، تو وہ بخش دیا جائے گا، ولید کہتے ہیں: یا یوں …
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"He has succeeded who accepts Islam, and is provided with what is sufficient and is made content by Allah
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے ( اپنے دئیے ہوئے پر ) «قانع» بنا دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ، لَكَ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ …
Narrated Ibn `Abbas:When the Prophet (ﷺ) got up at night to offer the Tahajjud prayer, he used to say: Allahumma lakal-hamd. Anta qaiyyimus-samawati wal-ard wa man fihinna. Walakal-hamd, Laka mulkus-samawati wal-ard wa man fihinna. Walakal-hamd, anta nurus-samawati wal-ard. Wa lakal-hamd, anta-l-haq wa wa'duka-lhaq, wa liqa'uka Haq, wa qauluka Haq, wal-jannatu Han wan-naru Haq wannabiyuna Haq. Wa Muhammadun, sallal-lahu'alaihi wasallam, Haq, was-sa'atu Haq. Allahumma aslamtu Laka wabika amantu, wa 'Alaika tawakkaltu, wa ilaika anabtu wa bika khasamtu, wa ilaika hakamtu faghfir li ma qaddamtu wama akh-khartu wama as-rartu wama'a lantu, anta-l-muqaddim wa anta-l-mu akh-khir, la ilaha illa …
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن ابی مسلم نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔ «اللهم لك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد، لك ملك السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد أنت نور السموات والأرض، ولك الحمد أنت الحق، ووعدك الحق، ولقاؤك حق، وقولك حق، والجنة حق، والنار حق، والنبيون حق، ومحمد صلى الله عليه وسلم حق، والساعة حق، اللهم لك أسلمت، وبك آمنت وعليك توكلت، وإليك أنبت، …
PickthallTaking that which their Lord giveth them; for lo! aforetime they were doers of good;
Yusuf AliTaking joy in the things which their Lord gives them, because, before then, they lived a good life.
The agreed readingTaking what their Lord gives them. Before that they were doers of good. The commentaries read the taking as receiving with contentment what is given, and the good-doing as what they did in the life before - which is what the next verses set out, one line at a time.
Urduاپنے رب کی طرف سے دی گئی نعمتوں کو خوشی سے قبول کرتے ہوئے۔ اس سے پہلے وہ نیکو کار لوگ تھے۔ مفسرین نے لینے کی تشریح رضامندی کے ساتھ عطا کی گئی چیز کو قبول کرنے سے کی ہے، اور نیکو کاری سے مراد وہ اعمال لیے ہیں جو انہوں نے پہلی زندگی میں کیے، جن کی تفصیل اگلی آیات میں ایک ایک کرکے بیان کی گئی ہے۔
Arabicآخذين بفرحٍ ورضًا ما آتاهم ربُّهم من النعيم. إنهم كانوا قبل ذلك من المحسنين. وقد فسَّر المفسرون الأخذ بأنه القبولُ برضًا لما أُعطوه، والإحسان بأنه أعمالُهم في الحياة الأولى، التي تُفصِّلها الآياتُ التالية واحدةً بعد أخرى.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Hadith.4732 - In the narration of Al-Hasan ibn Mahbub from Ali ibn Ri'ab from Al-Halabi, from Abu Abdullah (as), he said: "Indeed, Allah (swt), the Blessed and Exalted, has entrusted Ibrahim (as) and Sarah {s.a} with the care of the children of the believers. They nourish them from a tree in Paradise that has teats like those of cows, inside a palace made of pearl. On the Day of Judgment, these children will be dressed, perfumed, and presented to their parents. They will be kings in Paradise along with their parents. This is in accordance with the saying of Allah (swt), the Mighty and Majestic: 'And those who believe and whose descendants follow them in faith - We will join them with their …
الحسن بن محبوب کی روایت میں علی بن ریاب سے، الحلبی سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے کہا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابراہیم اور سارہ کو مؤمنین کے بچوں کی کفالت کا ذمہ دار بنایا۔ وہ انہیں جنت کے ایک درخت سے پالتے ہیں جس کی تہیں گائے کی تہوں جیسی ہیں، ایک موتی کے محل میں۔ جب قیامت کا دن ہو تو انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے، خوشبو لگائی جائے گی، اور انہیں اپنے باپ دادا کے پاس پیش کیا جائے گا۔ تو وہ جنت میں اپنے باپ دادا کے ساتھ بادشاہ ہوں گے۔ یہ اللہ عز و جل کے قول کے مطابق ہے: جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان پر چلی تو ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو ملا دیں گے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say to the people of Paradise, "O the people of Paradise!" They will say, 'Labbaik, O our Lord, and Sa`daik, and all the good is in Your Hands!' Allah will say, "Are you satisfied?' They will say, 'Why shouldn't we be satisfied, O our Lord as You have given us what You have not given to any of Your created beings?' He will say, 'Shall I not give you something better than that?' They will say, 'O our Lord! What else could be better than that?' He will say, 'I bestow My Pleasure on you and will never be angry with you after that
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ جنت والوں سے کہے گا: اے جنت والو! وہ بولیں گے حاضر تیری خدمت کے لیے مستعد، ساری بھلائی تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا تم خوش ہو؟ وہ جواب دیں گے کیوں نہیں ہم خوش ہوں گے، اے رب! اور تو نے ہمیں وہ چیزیں عطا کی ہیں جو کسی مخلوق کو نہیں عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے افضل انعام نہ دوں؟ جنتی پوچھیں گے: اے رب! اس سے افضل کیا چیز ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں …
It was narrated that Ibn `Abbas said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Tahajjud at night, he would say: “Allahumma lakal-hamd, Anta nurus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Anta qayyamus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Anta malikus- samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Antal-haqq, wa wa`duka haqq, wa liqa’uka haqq, wa qawluka haqq, wal-jannatu haqq, wan-naru haqq, was-sa`atu haqq, wan-nabiyyuna haqq, wa Muhammadun haqq. Allahumma laka aslamtu, wa bika amantu, wa `alaika tawakkaltu wa ilaika anabtu, wa bika khasamtu, wa ilaika hakamtu, faghfirli ma qaddamtu wa ma akhkhartu, wa ma asrartu wa ma a`lantu. Antal-muqaddimu wa Antal-muakhkhiru. La …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت مالك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت الحق ووعدك حق ولقاؤك حق وقولك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا إله غيرك ولا حول ولا قوة إلا بك» اے اللہ! تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا نور ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کی تدبیر کرنے والا …
Ubadah bin As-Samit, may Allah be pleased with him, narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wakes up in the night and says, ‘None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner, to Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He has power over all things. And Glory is to Allah, and all the praise is to Allah, and ‘None has the right to be worshiped but Allah, and Allah is the greatest, and there is no might nor power except by Allah (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Wa subḥān Allah, walḥamdulillāh, wa lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā …
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran.' He said: 'Say: SubhanAllah, wal-hamdulilah, wa la illaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent)
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
It was narrated that ‘Ubadah bin As-Samit said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever wakes up in the morning and says upon waking: La ilaha illallah wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu, wa Huwa ‘ala kulli shay’in Qadir; Subhan-Allah walhamdu lillahi, wa la ilaha illallahu, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa billahil-‘Aliyil-‘Azim (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is to Him, and He is Able to do all things. Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah, Allah is the Most Great, and there is no power and no strength except with Allah, the …
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رات میں بیدار ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ ہی سب سے بڑا ہے، طاقت و قوت اللہ بلند و برتر کی توفیق ہی سے ہے پھر یہ دعا پڑھے: «رب اغفر لي» اے رب مجھ کو بخش دے ، تو وہ بخش دیا جائے گا، ولید کہتے ہیں: یا یوں …
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"He has succeeded who accepts Islam, and is provided with what is sufficient and is made content by Allah
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے ( اپنے دئیے ہوئے پر ) «قانع» بنا دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
PickthallThey used to sleep but little of the night,
Yusuf AliThey were in the habit of sleeping but little by night,
The agreed readingThey used to sleep little of the night. The commentaries gloss it as standing in prayer through it and sleeping only a small part.
Urduوہ رات کا بہت کم حصہ سویا کرتے تھے۔ مفسرین نے اس کی تشریح یہ کی ہے کہ وہ رات کا زیادہ تر حصہ نماز میں کھڑے رہتے تھے اور صرف تھوڑا سا حصہ ہی سوتے تھے۔
Arabicكانوا قليلًا من الليل ما يهجعون، أي ينامون. وقد فسَّر المفسرون ذلك بأنهم كانوا يقضون معظم الليل قائمين في الصلاة، ولا ينامون منه إلا جزءًا يسيرًا قليلًا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
It was narrated that Ibn `Abbas said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Tahajjud at night, he would say: “Allahumma lakal-hamd, Anta nurus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Anta qayyamus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Anta malikus- samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Antal-haqq, wa wa`duka haqq, wa liqa’uka haqq, wa qawluka haqq, wal-jannatu haqq, wan-naru haqq, was-sa`atu haqq, wan-nabiyyuna haqq, wa Muhammadun haqq. Allahumma laka aslamtu, wa bika amantu, wa `alaika tawakkaltu wa ilaika anabtu, wa bika khasamtu, wa ilaika hakamtu, faghfirli ma qaddamtu wa ma akhkhartu, wa ma asrartu wa ma a`lantu. Antal-muqaddimu wa Antal-muakhkhiru. La …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت مالك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت الحق ووعدك حق ولقاؤك حق وقولك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا إله غيرك ولا حول ولا قوة إلا بك» اے اللہ! تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا نور ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کی تدبیر کرنے والا …
Ubadah bin As-Samit, may Allah be pleased with him, narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wakes up in the night and says, ‘None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner, to Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He has power over all things. And Glory is to Allah, and all the praise is to Allah, and ‘None has the right to be worshiped but Allah, and Allah is the greatest, and there is no might nor power except by Allah (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Wa subḥān Allah, walḥamdulillāh, wa lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā …
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran.' He said: 'Say: SubhanAllah, wal-hamdulilah, wa la illaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent)
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
It was narrated that ‘Ubadah bin As-Samit said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever wakes up in the morning and says upon waking: La ilaha illallah wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu, wa Huwa ‘ala kulli shay’in Qadir; Subhan-Allah walhamdu lillahi, wa la ilaha illallahu, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa billahil-‘Aliyil-‘Azim (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is to Him, and He is Able to do all things. Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah, Allah is the Most Great, and there is no power and no strength except with Allah, the …
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رات میں بیدار ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ ہی سب سے بڑا ہے، طاقت و قوت اللہ بلند و برتر کی توفیق ہی سے ہے پھر یہ دعا پڑھے: «رب اغفر لي» اے رب مجھ کو بخش دے ، تو وہ بخش دیا جائے گا، ولید کہتے ہیں: یا یوں …
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"He has succeeded who accepts Islam, and is provided with what is sufficient and is made content by Allah
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے ( اپنے دئیے ہوئے پر ) «قانع» بنا دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ، لَكَ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ …
Narrated Ibn `Abbas:When the Prophet (ﷺ) got up at night to offer the Tahajjud prayer, he used to say: Allahumma lakal-hamd. Anta qaiyyimus-samawati wal-ard wa man fihinna. Walakal-hamd, Laka mulkus-samawati wal-ard wa man fihinna. Walakal-hamd, anta nurus-samawati wal-ard. Wa lakal-hamd, anta-l-haq wa wa'duka-lhaq, wa liqa'uka Haq, wa qauluka Haq, wal-jannatu Han wan-naru Haq wannabiyuna Haq. Wa Muhammadun, sallal-lahu'alaihi wasallam, Haq, was-sa'atu Haq. Allahumma aslamtu Laka wabika amantu, wa 'Alaika tawakkaltu, wa ilaika anabtu wa bika khasamtu, wa ilaika hakamtu faghfir li ma qaddamtu wama akh-khartu wama as-rartu wama'a lantu, anta-l-muqaddim wa anta-l-mu akh-khir, la ilaha illa …
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن ابی مسلم نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔ «اللهم لك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد، لك ملك السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد أنت نور السموات والأرض، ولك الحمد أنت الحق، ووعدك الحق، ولقاؤك حق، وقولك حق، والجنة حق، والنار حق، والنبيون حق، ومحمد صلى الله عليه وسلم حق، والساعة حق، اللهم لك أسلمت، وبك آمنت وعليك توكلت، وإليك أنبت، …
PickthallAnd ere the dawning of each day would seek forgiveness,
Yusuf AliAnd in the hour of early dawn, they (were found) praying for Forgiveness;
The agreed readingAnd in the hours before dawn they were asking forgiveness. The commentaries name the hour precisely - the last stretch of the night, before daybreak - and the asking as asking God to forgive their sins.
Urduاور سحری کے اوقات میں وہ اللہ سے بخشش مانگا کرتے تھے۔ مفسرین نے اس وقت کی صراحت کی ہے: یہ رات کا آخری حصہ ہے، صبح کی روشنی سے پہلے کا وقت، اور مانگنے سے مراد اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنا ہے۔
Arabicوبالأسحار هم يستغفرون ربَّهم من ذنوبهم. وقد حدَّد المفسرون هذا الوقتَ بدقةٍ: هو آخر الليل قبيل طلوع الفجر، والاستغفار هو طلبُ العفو والمغفرة من الله على ما اقترفوه.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 7 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة9 reports cited here — 7 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
16. Ali ibn Muhammad has narrated from Sahl from Ahmad ibn ‘Abd al-‘Aziz who has said that narrated to him certain persons of our people saying: “When abu al-Hassan the first (a.s.), raised his head from last sajdah of witr prayer he said, ‘This is a position of one whose good deeds are due to Your bounties and whose thanksgiving is weak, but his sin is great. He does not have anything other than Your defending him and granting him mercy. You have said in Your book revealed to Your Holy Prophet and Messenger, “They sleep at night very little and in the morning ask forgiveness for their sins” (51: 18-19). My sleep has been very long and my standing for Salah (prayer) very little. This is …
علی بن محمد نے سہل سے، انہوں نے احمد بن عبدالعزیز سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: ہمارے لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے مجھے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوالحسن الاول (علیہ السلام) جب وتر کی آخری رکعت سے سر اٹھاتے تھے، تو یہ دعا فرماتے تھے: یہ اس شخص کا مقام ہے جس کی نیکیاں آپ کی نعمت ہیں اور اس کا شکر کمزور ہے اور اس کے گناہ بہت بڑے ہیں اور اس کے پاس آپ کے دفاع اور رحمت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ آپ نے اپنی کتاب میں جو اپنے نبی اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر نازل فرمائی ہے، فرمایا ہے: وہ رات کو بہت کم سوتے ہیں اور صبح کو معافی مانگتے ہیں۔ میری نیند طویل ہو گئی ہے اور میری نماز میں قیام کم ہو گیا ہے، اور یہ سحر کا وقت ہے، اور میں اپنے گناہ کے لیے تمہارے سے معافی مانگتا ہوں، اس شخص کی طرح معافی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from abu Ayyub from Muhammad ibn Muslim who has narrated the following: “Once, abu ‘ Abd Allah (a.s.), made a book available to the public. I found in it that the son of a brother and a grandfather share a legacy in equal shares. I said, ‘I pray to Allah to keep my soul in service for your cause, the judges do not judge for the son of brothers with a grandfather anything.’ He (the Imam) said, ‘This book is in handwriting of Ali (a.s.), as dictated to him by the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause.”’
علی بن ابراہیم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔ ابن ابی عمیر سے، ابو ایوب سے، محمد بن مسلم سے جو کہتے ہیں: ابو عبد اللہ (علیہ السلام) نے ایک صحیفہ پھیلایا۔ جو سب سے پہلے میں نے دیکھا - ابن اخ اور جد کا مال، نصف نصف۔ میں نے عرض کی: جفادکاک، قضاۃ عندنا لا یقضون - ہمارے قاضی اس کے لیے فیصلہ نہیں کرتے۔ فرمایا: یہ خط علی (علیہ السلام) اور املاء رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
It was narrated that Ibn `Abbas said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Tahajjud at night, he would say: “Allahumma lakal-hamd, Anta nurus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Anta qayyamus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Anta malikus- samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Antal-haqq, wa wa`duka haqq, wa liqa’uka haqq, wa qawluka haqq, wal-jannatu haqq, wan-naru haqq, was-sa`atu haqq, wan-nabiyyuna haqq, wa Muhammadun haqq. Allahumma laka aslamtu, wa bika amantu, wa `alaika tawakkaltu wa ilaika anabtu, wa bika khasamtu, wa ilaika hakamtu, faghfirli ma qaddamtu wa ma akhkhartu, wa ma asrartu wa ma a`lantu. Antal-muqaddimu wa Antal-muakhkhiru. La …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت مالك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت الحق ووعدك حق ولقاؤك حق وقولك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا إله غيرك ولا حول ولا قوة إلا بك» اے اللہ! تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا نور ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کی تدبیر کرنے والا …
Ubadah bin As-Samit, may Allah be pleased with him, narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wakes up in the night and says, ‘None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner, to Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He has power over all things. And Glory is to Allah, and all the praise is to Allah, and ‘None has the right to be worshiped but Allah, and Allah is the greatest, and there is no might nor power except by Allah (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Wa subḥān Allah, walḥamdulillāh, wa lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā …
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran.' He said: 'Say: SubhanAllah, wal-hamdulilah, wa la illaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent)
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
It was narrated that ‘Ubadah bin As-Samit said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever wakes up in the morning and says upon waking: La ilaha illallah wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu, wa Huwa ‘ala kulli shay’in Qadir; Subhan-Allah walhamdu lillahi, wa la ilaha illallahu, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa billahil-‘Aliyil-‘Azim (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is to Him, and He is Able to do all things. Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah, Allah is the Most Great, and there is no power and no strength except with Allah, the …
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رات میں بیدار ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ ہی سب سے بڑا ہے، طاقت و قوت اللہ بلند و برتر کی توفیق ہی سے ہے پھر یہ دعا پڑھے: «رب اغفر لي» اے رب مجھ کو بخش دے ، تو وہ بخش دیا جائے گا، ولید کہتے ہیں: یا یوں …
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔
PickthallAnd in their wealth the beggar and the outcast had due share.
Yusuf AliAnd in their wealth and possessions (was remembered) the right of the (needy,) him who asked, and him who (for some reason) was prevented (from asking).
The agreed readingAnd in their wealth was a right: for the one who asks, and for the one who is deprived. The commentaries define the second by the first - he does not ask, and it is his own restraint that keeps him from asking. The right is his all the same.
Urduاور ان کے مالوں میں ایک حق تھا: مانگنے والے کے لیے بھی اور محروم رہ جانے والے کے لیے بھی۔ مفسرین نے دوسرے کی تعریف پہلے کے ذریعے کی ہے: وہ نہیں مانگتا، اور اسی کی اپنی خودداری ہے جو اسے مانگنے سے روکتی ہے، لیکن یہ حق پھر بھی اسی کا ہے۔
Arabicوفي أموالهم حقٌّ للسائل الذي يطلب، وللمحروم الذي لا يسأل. وقد عرَّف المفسرون الثاني بالأول: هو مَن يمنعه تعفُّفه وحياؤه من السؤال، ومع ذلك يبقى له حقٌّ واجبٌ في أموالهم.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"He has succeeded who accepts Islam, and is provided with what is sufficient and is made content by Allah
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے ( اپنے دئیے ہوئے پر ) «قانع» بنا دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say to the people of Paradise, "O the people of Paradise!" They will say, 'Labbaik, O our Lord, and Sa`daik, and all the good is in Your Hands!' Allah will say, "Are you satisfied?' They will say, 'Why shouldn't we be satisfied, O our Lord as You have given us what You have not given to any of Your created beings?' He will say, 'Shall I not give you something better than that?' They will say, 'O our Lord! What else could be better than that?' He will say, 'I bestow My Pleasure on you and will never be angry with you after that
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ جنت والوں سے کہے گا: اے جنت والو! وہ بولیں گے حاضر تیری خدمت کے لیے مستعد، ساری بھلائی تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا تم خوش ہو؟ وہ جواب دیں گے کیوں نہیں ہم خوش ہوں گے، اے رب! اور تو نے ہمیں وہ چیزیں عطا کی ہیں جو کسی مخلوق کو نہیں عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے افضل انعام نہ دوں؟ جنتی پوچھیں گے: اے رب! اس سے افضل کیا چیز ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں …
PickthallAnd in the earth are portents for those whose faith is sure.
Yusuf AliOn the earth are signs for those of assured Faith,
The agreed readingAnd in the earth are signs for those who are certain. The commentaries instance the mountains and the seas, the trees and the fruit and everything that grows - all of it pointing to God's power and to His being one.
Urduاور زمین میں یقین رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ مفسرین نے اس کی مثال پہاڑوں اور سمندروں، درختوں اور پھلوں اور ہر اگنے والی چیز سے دی ہے، یہ سب کچھ اللہ کی قدرت اور اس کے ایک ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
Arabicوفي الأرض آياتٌ للموقنين. وقد ضرب المفسرون لذلك أمثلةً كالجبال والبحار والأشجار والثمار وكل ما ينبت، وكلُّ ذلك يدلُّ على قدرة الله العظيمة وعلى وحدانيته.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"He has succeeded who accepts Islam, and is provided with what is sufficient and is made content by Allah
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے ( اپنے دئیے ہوئے پر ) «قانع» بنا دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
PickthallAnd (also) in yourselves. Can ye then not see?
Yusuf AliAs also in your own selves: Will ye not then see?
The agreed readingAnd in yourselves. Do you not see? The commentaries take this sign to run from the beginning of a man's making to its end, and through the wonders of how he is put together.
Urduاور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں؟ مفسرین نے اس نشانی کو انسان کی تخلیق کے آغاز سے لے کر اس کے اختتام تک اور اس کی ساخت کے عجائبات تک پھیلا ہوا سمجھا ہے۔
Arabicوفي أنفسكم آياتٌ أيضًا، أفلا تُبصرون؟ وقد جعل المفسرون هذه الآيةَ ممتدةً من بداية خلق الإنسان إلى نهايته، وفيما في تركيب جسده من عجائبَ لا تُحصى.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"He has succeeded who accepts Islam, and is provided with what is sufficient and is made content by Allah
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے ( اپنے دئیے ہوئے پر ) «قانع» بنا دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
PickthallAnd in the heaven is your providence and that which ye are promised;
Yusuf AliAnd in heaven is your Sustenance, as (also) that which ye are promised.
The agreed readingAnd in the sky is your provision, and what you are promised. The commentaries read the provision as the rain and what grows by it, and the promise as a thing already written above, which comes down in its time.
Urduاور آسمان میں تمہارا رزق ہے، اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ مفسرین نے رزق سے مراد بارش اور اس سے اگنے والی چیزیں لی ہیں، اور وعدے سے مراد وہ چیز جو پہلے ہی اوپر لکھی جا چکی ہے، اور اپنے وقت پر نازل ہوتی ہے۔
Arabicوفي السماء رزقُكم وما توعَدون. وقد فسَّر المفسرون الرزقَ بأنه المطر وما ينبت بسببه، والوعدَ بأنه أمرٌ مكتوبٌ مسبقًا هناك، ينزل في وقته المقدَّر له.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 5 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة6 reports cited here — 5 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Hadith.955 - The Commander of the Faithful Imam Ali ibn Abi Talib (as) said: "When one of you finishes the prayer, let him raise his hands to the sky and be earnest in supplication." Ibn Saba asked: "O’ Commander of the Faithful, is not Allah (swt) present everywhere?" He (Imam Ali) replied: "Indeed, He is." Ibn Saba then asked: "So why do we raise our hands towards the sky?" Imam Ali answered, "Do you not recite: ' And in the heaven is your sustenance and what you are promised' (Surah Adh-Dhariyat 51:22)? From where else should sustenance be sought except from its place, and the place of sustenance and Allah’s (swt) promise is in the sky."
اور امیر المؤمنین علیہ السلام نے کہا: "جب تمہارے میں سے کوئی نماز سے فارغ ہو تو اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھائے اور دعا میں سرگرم ہو۔" تو ابن سبا نے کہا: یا امیر المؤمنین! کیا الله عز و جل ہر جگہ نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: "بیشک ہے۔" ابن سبا نے کہا: تو ہاتھوں کو آسمان کی طرف کیوں اٹھایا جائے؟ انہوں نے کہا: "کیا تم نہیں پڑھتے: 'اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ جو تمہیں وعدے دیے گئے ہیں'؟ تو رزق کہاں سے مانگا جائے سوائے اس کی جگہ سے؟ اور رزق کی اور الله کے وعدے کی جگہ آسمان ہے۔"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"He has succeeded who accepts Islam, and is provided with what is sufficient and is made content by Allah
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے ( اپنے دئیے ہوئے پر ) «قانع» بنا دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
PickthallAnd by the Lord of the heavens and the earth, it is the truth, even as (it is true) that ye speak.
Yusuf AliThen, by the Lord of heaven and earth, this is the very Truth, as much as the fact that ye can speak intelligently to each other.
The agreed readingBy the Lord of the heaven and the earth, it is true - as true as that you speak. The commentaries hold to the comparison being made: you do not doubt your own speaking, and this is of that same certainty.
Urduآسمان اور زمین کے رب کی قسم، یہ اتنا ہی سچ ہے جتنا یہ سچ ہے کہ تم بولتے ہو۔ مفسرین نے اسی موازنے کو برقرار رکھا ہے: جس طرح تمہیں اپنے بولنے میں کوئی شک نہیں ہوتا، اسی طرح یقینی یہ بات بھی ہے۔
Arabicفوربِّ السماء والأرض، إنه لَحقٌّ مثلَ ما أنكم تنطقون. وقد حافظ المفسرون على هذه المقارنة: فكما لا تشكُّون في نطقكم ذاته، فكذلك هذا الوعد حقٌّ يقينيٌّ لا شكَّ فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 4 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة7 reports cited here — 4 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
12. Al-Husayn ibn Muhammad has narrated from Mu’ alia ibn Muhammad from Muhammad ibn Jumhur from Fadalah ibn Ayyub from abu Zayd al-Hallal from ‘Abd al-Hamid ibn abu al-‘Ala’ al-Azdi who has said the following: “I heard Abu ‘Abdillah (a.s.) saying, ‘Allah, the Most Majestic, the Most Holy, has made five things obligatory upon His creatures. He has given them permission in four but in one of them He has not given permission.’”
الحسين بن محمد نے معلى بن محمد سے، محمد بن جمہور سے، فضالة بن ايوب سے، ابي زيد الحلال سے، عبدالحميد بن ابي العلاء الأزدي سے روایت کی، کہا: میں نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) کو سنا کہہ رہے ہیں: بے شک اللہ عزّ وجلّ نے اپنی مخلوق پر پانچ چیزیں فرض کیں، اور چار میں رخصت دی، اور ایک میں رخصت نہیں دی۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn ‘Isa from ibn Faddal from ‘Asim ibn Humayd from Sa‘d ibn Tarif who has said the following: “Abu Ja’far (a.s.), has said, ‘People would just drop dead. Ibrahim (Abraham), ‘Alayhi al Salam, pleaded before Allah, ‘Would that You had created a cause for death to be recognized thereby and for grieving people to receive condolence.’ Allah, the Majestic, the Glorious, then sent al-Mum, which is a kind of fever causing hallucination and thereafter He sent medicine.”
محمد بن يحيى سے احمد بن محمد بن عيسى سے ابن فضال سے عاصم بن حميد سے سعد بن طريف سے ابو جعفر علیہ السلام نے کہا: لوگ اعتباط سے مر رہے تھے تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اے رب! اگر تو موت کے لیے علت بنایا تاکہ اس سے معروف ہو اور مصاب کے بارے میں تسلی ہو۔ تو اللہ عز و جل نے البرسام نازل کی جو يوم ہے اور پھر اس کے بعد داء نازل کی۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
4-106 حدثنا علي بن أحمد بن موسى رضي الله عنه قال: حدثنا محمد بن أبي عبد الله الكوفي، عن صالح بن أبي حماد قال: حدثنا إسماعيل بن مهران، عن أبيه، عن عمرو بن أبي المقدام، عن أبي عبد الله، عن أبيه، عن آبائه، عن علي عليهم السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: الغنم إذا أقبلت أقبلت وإذا أدبرت أقبلت، والبقر إذا أقبلت أقبلت وإذا أدبرت أدبرت، والابل أعنان الشياطين إذا أقبلت أدبرت وإذا أدبرت أدبرت، ولا يجئ خيرها إلا من الجانب الاشأم، قيل: يا رسول الله فمن يتخذها بعد ذا؟ قال: فأين الاشقياء الفجرةقال صالح: وأنشد إسماعيل بن مهران :هي المال لولا قلة الخفض حولهافمن شاء داراها ومن شاء باعها
4-106 Ali ibn Ahmad ibn Musa - may God be pleased with him - narrated that Muhammad ibn Aba Abdullah al-Kufy quoted Salih ibn Abi Himad, on the authority of Isma’il ibn Mihran, on the authority of his father, on the authority of Amr ibn Abil Miqdam, on the authority of Aba Abdullah as-Sadiq (MGB), on the authority of his father (MGB), on the authority of his forefathers (MGB), on the authority of Ali (MGB) that God’s Prophet (MGB) said, “Sheep are profitable whether they face you or turn around . Cows are also profitable whether they face you or turn around. However, camels are from the regions of the satans. They cause a loss whether they face you or turn around. They have no use except …
علی بن احمد بن موسی نے ہمیں خبر دی، محمد بن ابی عبداللہ الکوفی سے، صالح بن ابی حماد نے کہا، اسماعیل بن مہران نے اپنے باپا سے، عمرو بن ابی المقدام سے، ابوعبداللہ سے، ان کے باپا سے، ان کے اجداد سے، علی (علیہ السلام) سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: بھیڑ جب آئے تو آئے اور جب جائیں تو آئے، گائے جب آئے تو آئے اور جب جائیں تو جائیں، اونٹ شیطان کی لگام ہیں، جب آئیں تو پیچھے ہٹیں، جب جائیں تو جائیں، ان کی خیری کوئی نہیں سوائے بائیں طرف سے۔ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو ان کو کون لے؟ فرمایا: بدقسمت فاجروں کو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"He has succeeded who accepts Islam, and is provided with what is sufficient and is made content by Allah
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے ( اپنے دئیے ہوئے پر ) «قانع» بنا دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
PickthallHath the story of Abraham's honoured guests reached thee (O Muhammad)?
Yusuf AliHas the story reached thee, of the honoured guests of Abraham?
The agreed readingHas the story of Abraham's honoured guests reached you? The commentaries identify the guests as angels, and read the honouring as Abraham's own - what he did for them the moment they arrived.
Urduکیا تمہیں ابراہیم علیہ السلام کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے؟ مفسرین نے مہمانوں کی شناخت فرشتوں سے کی ہے، اور عزت افزائی کو ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے قرار دیا ہے، یعنی وہ سلوک جو انہوں نے آتے ہی ان کے ساتھ کیا۔
Arabicهل بلغك يا محمد خبرُ ضيف إبراهيمَ المكرَمين؟ وقد حدَّد المفسرون هؤلاء الضيفَ بأنهم الملائكة، وأرجعوا الإكرامَ إلى إبراهيم نفسه، أي ما فعله بهم فورَ وصولهم إليه.
PickthallWhen they came in unto him and said: Peace! he answered, Peace! (and thought): Folk unknown (to me).
Yusuf AliBehold, they entered his presence, and said: "Peace!" He said, "Peace!" (and thought, "These seem) unusual people."
The agreed readingThey came in upon him and said: peace. He said: peace - a people I do not know. The commentaries mark the difference between the two greetings: his answer returned more than was given him, and he still did not recognise them.
Urduوہ ان کے پاس آئے اور کہا: سلام۔ انہوں نے جواب دیا: سلام، یہ تو اجنبی لوگ ہیں جنہیں میں نہیں پہچانتا۔ مفسرین نے دونوں سلاموں کے فرق کو نمایاں کیا ہے: ان کے جواب میں انہیں دیے گئے سلام سے زیادہ الفاظ تھے، اور اس کے باوجود وہ انہیں پہچان نہ سکے۔
Arabicدخلوا عليه فقالوا: سلامًا. فقال ردًّا عليهم: سلامٌ، قومٌ لا أعرفهم غرباء عني. وقد ميَّز المفسرون بين التحيتين: فردُّه كان أوفى وأكمل مما قيل له، ومع ذلك بقي لا يعرفهم.
PickthallThen he went apart unto his housefolk so that they brought a fatted calf;
Yusuf AliThen he turned quickly to his household, brought out a fatted calf,
The agreed readingThen he slipped away to his household and came with a fattened calf. The commentaries hold to the quietness of it - he went aside without a word, so that his guests would not know a thing was being made ready.
Urduپھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف چلے گئے اور ایک موٹا تازہ بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ مفسرین نے اس کی خاموشی پر زور دیا ہے: وہ بغیر کچھ کہے چپکے سے چلے گئے، تاکہ مہمانوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ کوئی چیز تیار کی جا رہی ہے۔
Arabicفراغ خفيةً إلى أهله دون أن يشعر أحدٌ، فجاء بعِجلٍ سمينٍ مشويٍّ. وقد أكَّد المفسرون على هذا التخفِّي: ذهب دون كلمةٍ، حتى لا يشعر ضيوفُه بأن شيئًا يُحضَّر لهم.
PickthallAnd he set it before them, saying: Will ye not eat?
Yusuf AliAnd placed it before them.. he said, "Will ye not eat?"
The agreed readingHe set it before them and said: will you not eat? The commentaries note what happened next - they gave him no answer, and they did not eat.
Urduانہوں نے اسے ان کے سامنے رکھا اور کہا: کیا تم کھاؤ گے نہیں؟ مفسرین نے آگے کیا ہوا اس کی طرف اشارہ کیا ہے: انہوں نے انہیں کوئی جواب نہ دیا اور نہ ہی وہ کھانا کھایا۔
Arabicفقرَّبه إليهم بنفسه وقال لهم بلطفٍ: ألا تأكلون من هذا الطعام؟ وقد لاحظ المفسرون ما حدث بعد ذلك بدقةٍ: لم يُجيبوه بشيءٍ قط، ولم يمدُّوا أيديهم إلى الطعام بتاتًا.
PickthallThen he conceived a fear of them. They said: Fear not! and gave him tidings of (the birth of) a wise son.
Yusuf Ali(When they did not eat), He conceived a fear of them. They said, "Fear not," and they gave him glad tidings of a son endowed with knowledge.
The agreed readingSo he conceived a fear of them. They said: do not fear - and gave him the good news of a boy who would have knowledge. The commentaries connect the fear straight to the untouched food, and name the son as Isaac.
Urduتو انہیں ان سے خوف محسوس ہونے لگا۔ انہوں نے کہا: مت ڈرو، اور انہیں ایک ایسے بیٹے کی خوشخبری دی جو علم والا ہوگا۔ مفسرین نے اس خوف کو براہِ راست کھانے کے نہ کھائے جانے سے جوڑا ہے، اور بیٹے کا نام اسحاق علیہ السلام بتایا ہے۔
Arabicفأوجس في نفسه منهم خيفةً وخوفًا. فقالوا: لا تخف، وبشَّروه بغلامٍ عليمٍ. وقد ربط المفسرون هذا الخوفَ مباشرةً بامتناعهم عن الطعام، وسمَّوا الغلامَ إسحاقَ عليه السلام.
PickthallThen his wife came forward, making moan, and smote her face, and cried: A barren old woman!
Yusuf AliBut his wife came forward (laughing) aloud: she smote her forehead and said: "A barren old woman!"
The agreed readingHis wife came forward crying out, and struck her face, and said: an old woman, barren. The commentaries read the cry as astonishment at the news, and her words as her own account of herself - too old, and one who had never borne a child.
Urduان کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھیں اور اپنا چہرہ پیٹا اور کہا: میں تو ایک بوڑھی اور بانجھ عورت ہوں۔ مفسرین نے اس چیخ کو خبر سن کر حیرانی سمجھا ہے، اور ان کے الفاظ کو اپنے حال کا بیان قرار دیا ہے، یعنی وہ عمر رسیدہ تھیں اور کبھی کوئی بچہ جن نہیں سکی تھیں۔
Arabicفأقبلت امرأتُه صائحةً في صرَّةٍ، فصكَّت وجهها، وقالت: أنا عجوزٌ عقيمٌ لم ألد قط. وقد فسَّر المفسرون هذه الصيحة بأنها دهشةٌ من الخبر، وكلامَها بأنه وصفٌ لحالها: كبيرةٌ في السن، عقيمٌ لم تحمل قط.
PickthallThey said: Even so saith thy Lord. Lo! He is the Wise, the Knower.
Yusuf AliThey said, "Even so has thy Lord spoken: and He is full of Wisdom and Knowledge."
The agreed readingThey said: so has your Lord said. He is the Wise, the Knowing. The commentaries set the two names against the case standing in front of her: wise in what He does, and knowing in what He creates.
Urduانہوں نے کہا: تیرے رب نے ایسا ہی فرمایا ہے، بےشک وہ بڑی حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ مفسرین نے ان دونوں ناموں کو ان کے سامنے موجود صورتِ حال سے جوڑا ہے: اپنے کام میں حکمت والا، اور اپنی مخلوق کو خوب جاننے والا۔
Arabicقالوا: كذلك قال ربُّكِ، إنه هو الحكيمُ في صنعه وتدبيره، العليمُ بخلقه وأحوالهم. وقد ربط المفسرون هذين الاسمين بالحالة الماثلة أمامها: حكيمٌ فيما يفعل، عليمٌ بما يخلق.
Pickthall(Abraham) said: And (afterward) what is your errand, O ye sent (from Allah)?
Yusuf Ali(Abraham) said: "And what, O ye Messengers, is your errand (now)?"
The agreed readingAbraham said: then what is your errand, you who are sent? The commentaries place the question after the recognition - once he knew what his guests were, he asked what they had come for.
Urduابراہیم علیہ السلام نے کہا: پھر بتاؤ اے بھیجے گئے فرشتو، تمہارا اصل مقصد کیا ہے؟ مفسرین نے اس سوال کو پہچان کے بعد رکھا ہے: جب انہیں یقین ہوگیا کہ یہ مہمان کون ہیں، تو انہوں نے پوچھا کہ وہ کس مقصد سے آئے ہیں۔
Arabicقال إبراهيمُ: فما شأنُكم وأمرُكم أيها المرسلون من عند الله؟ وقد وضع المفسرون هذا السؤالَ بعد التعرُّف عليهم: فحين تيقَّن أنهم ملائكةٌ، سألهم عن غرض إرسالهم إليه.
PickthallThey said: Lo! we are sent unto a guilty folk,
Yusuf AliThey said, "We have been sent to a people (deep) in sin;-
The agreed readingThey said: we have been sent to a people who are guilty. The commentaries name them at once - the people of Lot.
Urduانہوں نے کہا: ہمیں ایک مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ مفسرین نے فوراً ہی ان کا نام بھی بتا دیا ہے، یعنی یہ قومِ لوط علیہ السلام تھی جس کا ذکر یہاں ہو رہا تھا۔
Arabicقالوا مجيبين: إنا أُرسِلنا من عند الله إلى قومٍ مجرمين كافرين طاغين. وقد سمَّاهم المفسرون على الفور بلا تردد: هم قومُ لوطٍ عليه السلام الذين طغوا وتجاوزوا الحدَّ.
PickthallThat we may send upon them stones of clay,
Yusuf Ali"To bring on, on them, (a shower of) stones of clay (brimstone),
The agreed readingTo send down upon them stones of clay. The commentaries gloss the clay as baked hard in fire.
Urduتاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں۔ مفسرین نے مٹی سے مراد وہ مٹی لی ہے جسے آگ میں پکا کر سخت بنا دیا گیا ہو، یعنی سخت اور پکے ہوئے پتھر جیسی چیز۔
Arabicلنرسل عليهم من السماء حجارةً كثيرةً شديدةً من طينٍ صُلبٍ شديدٍ. وقد فسَّر المفسرون هذا الطينَ بأنه طينٌ مطبوخٌ بالنار حتى صار صلبًا كالحجر تمامًا.
PickthallMarked by thy Lord for (the destruction of) the wanton.
Yusuf Ali"Marked as from thy Lord for those who trespass beyond bounds."
The agreed readingMarked with your Lord, for those who went past all bounds. The commentaries read the marking as a mark set on each stone by God, and name the excess that brought it: their going to men, on top of their refusal to believe.
Urduجو تمہارے رب کے پاس نشان زدہ ہیں، ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ہر حد پار کر لی تھی۔ مفسرین نے نشان زدگی سے مراد یہ لی ہے کہ ہر پتھر پر اللہ کی طرف سے ایک نشان لگا ہوا تھا، اور اس زیادتی کی وجہ مردوں کے ساتھ بدفعلی اور کفر دونوں کو قرار دیا ہے۔
Arabicجعل اللهُ على هذه الحجارة من طين علامة عند ربك تُميِّز كلَّ حجرٍ عمَّن يُرمى به، وذلك لِمَن أسرف وتجاوز الحدَّ بإتيان الذكور مع كفرهم وتكذيبهم جميعًا.
PickthallThen we brought forth such believers as were there.
Yusuf AliThen We evacuated those of the Believers who were there,
The agreed readingSo We brought out of it whoever was there of the believers - the commentaries note the bringing out came first, before anything fell on the town.
Urduتو ہم نے اس بستی سے جو بھی ایمان والے تھے انہیں نکال لیا۔ مفسرین نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ یہ نکالنا سب سے پہلے ہوا، اس سے پہلے کہ بستی پر کوئی چیز نازل ہوتی۔
Arabicفأخرجنا مَن كان فيها من المؤمنين قبل نزول العذاب بها. وقد لاحظ المفسرون أن هذا الإخراجَ حصل أولًا، قبل أن يقع بالقرية أيُّ شيءٍ من العذاب.
PickthallBut We found there but one house of those surrendered (to Allah).
Yusuf AliBut We found not there any just (Muslim) persons except in one house:
The agreed readingAnd We found in it only one household of those who had submitted. The commentaries identify the house as Lot and his two daughters, and read the two words used of them together: believing in their hearts, and acting on it with their limbs.
Urduاور ہم نے اس میں فرمانبرداروں کا صرف ایک ہی گھرانہ پایا۔ مفسرین نے اس گھر کی شناخت لوط علیہ السلام اور ان کی دو بیٹیوں سے کی ہے، اور ان کے لیے استعمال ہونے والے دونوں الفاظ کی تشریح یہ کی ہے: دل سے ایمان رکھنے والے، اور اپنے اعضاء سے اس پر عمل کرنے والے۔
Arabicفما وجدنا فيها غير بيتٍ واحدٍ من المسلمين. وقد حدَّد المفسرون هذا البيتَ بأنه لوطٌ عليه السلام وابنتاه، وفسَّروا الوصفين معًا: مصدِّقون بقلوبهم، عاملون بجوارحهم بالطاعات.
PickthallAnd We left behind therein a portent for those who fear a painful doom.
Yusuf AliAnd We left there a Sign for such as fear the Grievous Penalty.
The agreed readingAnd We left in it a sign for those who fear the painful punishment. The commentaries read the sign as the mark of what happened there, left standing so that those who came after would not do the same.
Urduاور ہم نے اس بستی میں ایک نشانی چھوڑ دی ان لوگوں کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ مفسرین نے اس نشانی سے مراد وہاں پیش آنے والے واقعے کے آثار لیے ہیں، جو اس لیے باقی رکھے گئے تاکہ بعد میں آنے والے لوگ ویسا نہ کریں۔
Arabicوتركنا فيها آيةً وعلامةً للذين يخافون العذاب الأليم الموجع. وقد فسَّر المفسرون هذه الآيةَ بأنها أثرُ ما حدث هناك، تُرك قائمًا حتى لا يفعل من يأتي بعدهم مثل فعلهم.
PickthallAnd in Moses (too, there is a portent) when We sent him unto Pharaoh with clear warrant,
Yusuf AliAnd in Moses (was another Sign): Behold, We sent him to Pharaoh, with authority manifest.
The agreed readingAnd in Moses there is a sign, when We sent him to Pharaoh with a clear authority. The commentaries gloss the authority as a plain proof set in his hand.
Urduاور موسیٰ علیہ السلام میں بھی ایک نشانی ہے، جب ہم نے انہیں فرعون کی طرف واضح دلیل کے ساتھ بھیجا۔ مفسرین نے اس دلیل سے مراد وہ واضح معجزہ لیا ہے جو ان کے ہاتھ میں دیا گیا تھا۔
Arabicوفي موسى آيةٌ أيضًا، إذ أرسلناه إلى فرعونَ بسلطانٍ مبينٍ واضحٍ. وقد فسَّر المفسرون هذا السلطانَ بأنه حجةٌ واضحةٌ بيِّنةٌ وُضعت في يده، وهي العصا وغيرها من الآيات.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Muslims are partners in three things: water, pasture and fire, and their price is unlawful.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت ( ساجھے داری ) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ۱؎۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
Narrated Abu Wa'il:from a man of Rabi'ah who said: "I arrived in Al-Madinah, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the emissary of 'Ad to him. I said: 'I seek refuge in Allah from being like the emissary of 'Ad.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'And what of the emissary of 'Ad?'" He said: "I said: You have got the one who is informed about it. When 'Ad suffered from famine they sent Qail and he stayed with Bakr bin Mu'awiyah. He gave him wine to drink and two slave girls to sing for him. Then he went out towards the mountains of Murrah and said: "O Allah! I did not come to You to cure a sick person, nor to ransom a captive! So give water to Your slave as You used to do, …
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا …
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Faqih is harder on Ash-Shaitan than a thousand worshipers
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔
PickthallBut he withdrew (confiding) in his might, and said: A wizard or a madman.
Yusuf AliBut (Pharaoh) turned back with his Chiefs, and said, "A sorcerer, or one possessed!"
The agreed readingBut he turned away with his supports and said: a sorcerer, or a man possessed. The commentaries read the supports as his armies and his people, and keep the image the word carries - the corner-pillar a building leans its weight on.
Urduلیکن اس نے اپنے سہاروں سمیت منہ موڑ لیا اور کہا: یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ مفسرین نے سہاروں سے مراد اس کے لشکر اور اس کی قوم لی ہے، اور اسی تصویر کو برقرار رکھا ہے جو یہ لفظ ساتھ لاتا ہے، یعنی وہ کونے کا ستون جس پر عمارت کا سارا بوجھ ٹکا ہوتا ہے۔
Arabicفتولَّى وأعرض بركنه، أي بمن يعتمد عليهم من جنوده وقومه، وقال: ساحرٌ أو مجنونٌ. وقد فسَّر المفسرون الركنَ بجنوده وأعوانه، محافظين على الصورة التي تحملها الكلمة: عمادُ البناء الذي يستند إليه.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Muslims are partners in three things: water, pasture and fire, and their price is unlawful.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت ( ساجھے داری ) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ۱؎۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
Narrated Abu Wa'il:from a man of Rabi'ah who said: "I arrived in Al-Madinah, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the emissary of 'Ad to him. I said: 'I seek refuge in Allah from being like the emissary of 'Ad.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'And what of the emissary of 'Ad?'" He said: "I said: You have got the one who is informed about it. When 'Ad suffered from famine they sent Qail and he stayed with Bakr bin Mu'awiyah. He gave him wine to drink and two slave girls to sing for him. Then he went out towards the mountains of Murrah and said: "O Allah! I did not come to You to cure a sick person, nor to ransom a captive! So give water to Your slave as You used to do, …
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا …
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Faqih is harder on Ash-Shaitan than a thousand worshipers
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔
PickthallSo We seized him and his hosts and flung them in the sea, for he was reprobate.
Yusuf AliSo We took him and his forces, and threw them into the sea; and his was the blame.
The agreed readingSo We seized him and his hosts and flung them into the sea. The commentaries gloss the flinging as a thing thrown down and done with, and read the closing word as his own doing: he came carrying what he was blamed for.
Urduتو ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور انہیں سمندر میں پھینک دیا۔ مفسرین نے پھینکنے سے مراد ایسی چیز لی ہے جسے پھینک کر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے، اور آخری لفظ کو خود اس کی اپنی کمائی قرار دیا ہے: وہ اپنے ساتھ وہی چیز لے کر آیا جس پر اسے ملامت کی جانی تھی۔
Arabicفأخذناه وجنودَه فنبذناهم، أي طرحناهم طرحًا نهائيًّا، في اليمِّ. وقد فسَّر المفسرون آخر الآية بأنه فعلُه هو نفسُه: جاء حاملًا معه ما يُلام عليه من كفره وتكذيبه ودعوى الربوبية.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Wa'il:from a man of Rabi'ah who said: "I arrived in Al-Madinah, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the emissary of 'Ad to him. I said: 'I seek refuge in Allah from being like the emissary of 'Ad.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'And what of the emissary of 'Ad?'" He said: "I said: You have got the one who is informed about it. When 'Ad suffered from famine they sent Qail and he stayed with Bakr bin Mu'awiyah. He gave him wine to drink and two slave girls to sing for him. Then he went out towards the mountains of Murrah and said: "O Allah! I did not come to You to cure a sick person, nor to ransom a captive! So give water to Your slave as You used to do, …
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا …
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Muslims are partners in three things: water, pasture and fire, and their price is unlawful.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت ( ساجھے داری ) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ۱؎۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Faqih is harder on Ash-Shaitan than a thousand worshipers
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔
PickthallAnd in (the tribe of) A'ad (there is a portent) when we sent the fatal wind against them.
Yusuf AliAnd in the 'Ad (people) (was another Sign): Behold, We sent against them the devastating Wind:
The agreed readingAnd in 'Ad, when We sent against them the barren wind. The commentaries agree on why it is called barren: it brings no good with it at all - it raises no cloud, pollinates no tree, winnows no grain, and benefits no animal.
Urduاور عاد میں بھی نشانی ہے، جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی۔ مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ اسے بانجھ کیوں کہا گیا: یہ اپنے ساتھ کوئی بھلائی نہیں لاتی، نہ یہ بادل اٹھاتی ہے، نہ درخت کو زرخیز کرتی ہے، نہ اناج کو الگ کرتی ہے، اور نہ کسی جانور کو فائدہ دیتی ہے۔
Arabicوفي عادٍ آيةٌ أيضًا، إذ أرسلنا عليهم الريحَ العقيمَ. وقد اتفق المفسرون على سبب تسميتها بالعقيم: فهي لا تحمل خيرًا معها البتة، لا تُلقِّح سحابًا ولا شجرًا، ولا نفعَ فيها لأحدٍ.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 4 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة7 reports cited here — 4 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
5. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from ‘Abd Allah ibn Sinan from Ma’ruf ibn Kharrabuz who has said the following: “Abu Ja’far (a.s.), has said, ‘Whoever of the servants (of Allah) after suffering a misfortune, upon recalling any of his suffering and sorrow, acknowledges it and exercises patience, if it befalls him suddenly, Allah forgives his past sins. Whenever thereafter upon recalling any of his suffering sorrow acknowledges it (saying ‘to Allah we belong and to Him we return’), Allah forgives his sins that may have taken place in between (the two occasions of recalling).”’
علی بن ابراہیم اپنے باپا سے ابن ابی عمیر سے عبد الله بن سنان سے معروف بن خربوذ سے ابو جعفر علیہ السلام سے کہا: کوئی بندہ نہیں ہے جو مصیبت سے نہ ہو صاب ہو تو استرجع کرے جب مصیبت یاد آئے اور صبر کرے جب اچانک ہو مگر الله اسے بخشے اپنے پچھلے گناہ۔ اور جب کبھی وہ اپنی مصیبت یاد کرے اور استرجع کرے مصیبت کے یاد ہونے پر الله اسے بخش دے ہر گناہ جو وہ حاصل کرے ان دونوں کے درمیان۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Mahbub from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ’Abd Allah (a.s.), has said that women were mentioned before the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, and he (the Messenger of Allah) said, ’Disobey women in lawful matters before they command you to do unlawful acts and you must seek refuge with Allah against the wicked women and remain on your guard with the good ones of them.’”
ہمارے اصحاب میں سے جماعت نے احمد بن محمد سے، ابن محبوب سے، عبد الله بن سنان سے روایت کی ہے کہ أبو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: رسول الله صلی الله علیہ وآلہ نے عورتوں کا ذکر کیا تو فرمایا: ان کی نافرمانی کرو معروف میں پہلے کہ وہ تمہیں منکر کا حکم دیں، اور الله سے پناہ مانگو عورتوں کے شر سے، اور ان کے اچھے لوگوں سے بھی ڈر کے ساتھ رہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Mahbub from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that once the Messenger of Allah raised his head to the heaven and smiled. He was asked, ‘O Messenger of Allah, we saw you. Why did you raise your head to the heaven and smile?’ He then replied, ‘I was amazed when I saw two angels come down from the heaven looking for a believing, virtuous servant (of Allah) in the place he performs his prayers, so they can record his deeds of that day and night but they could not find him there. They then ascended to the heaven saying, “Lord, we looked for Your so and so believing servant in …
عدہ سے ہم نے احمد بن محمد سے، ابن محبوب سے، عبد الله بن سنان سے، ابی عبد الله علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو ہنستے ہوئے۔ ان سے کہا گیا: یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور ہنستے ہوئے۔ آپ نے کہا: ہاں، مجھے حیرت ہوئی دو فرشتوں کے لیے جو آسمان سے زمین پر اترے، ایک ایمان والے اور صالح بندے کو تلاش کر رہے تھے اس نماز کی جگہ میں جہاں وہ نماز پڑھتے تھے تاکہ اس کے دن اور رات کا عمل لکھیں۔ لیکن وہ اسے اس نماز کی جگہ میں نہ پایا۔ تو وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے اور کہا: ہمارے رب! تمہارے بندے ایمان والے فلاں کو ہم نے اس کی نماز کی جگہ تلاش کیا تاکہ اس کے دن رات کا عمل لکھیں لیکن ہم نہ پائے۔ لیکن ہم نے اسے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Wa'il:from a man of Rabi'ah who said: "I arrived in Al-Madinah, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the emissary of 'Ad to him. I said: 'I seek refuge in Allah from being like the emissary of 'Ad.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'And what of the emissary of 'Ad?'" He said: "I said: You have got the one who is informed about it. When 'Ad suffered from famine they sent Qail and he stayed with Bakr bin Mu'awiyah. He gave him wine to drink and two slave girls to sing for him. Then he went out towards the mountains of Murrah and said: "O Allah! I did not come to You to cure a sick person, nor to ransom a captive! So give water to Your slave as You used to do, …
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا …
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Muslims are partners in three things: water, pasture and fire, and their price is unlawful.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت ( ساجھے داری ) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ۱؎۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Faqih is harder on Ash-Shaitan than a thousand worshipers
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔
PickthallIt spared naught that it reached, but made it (all) as dust.
Yusuf AliIt left nothing whatever that it came up against, but reduced it to ruin and rottenness.
The agreed readingIt left nothing it came upon without making it like crumbled ruin. The commentaries gloss the last word as what has decayed and fallen to pieces - what is dried out and trodden down until nothing holds together.
Urduیہ جس چیز پر بھی گزری اسے بوسیدہ ملبے کی طرح بنا دیے بغیر نہیں چھوڑتی تھی۔ مفسرین نے آخری لفظ کی تشریح اس چیز سے کی ہے جو سڑ گل کر ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہو، خشک ہو کر کچلی جا چکی ہو، یہاں تک کہ کوئی چیز آپس میں جڑی نہ رہے۔
Arabicما تذر من شيءٍ أتت عليه إلا جعلته كالشيء البالي المتفتِّت. وقد فسَّر المفسرون هذه الكلمةَ الأخيرة بأنها ما تحلَّل وتفتَّت أجزاؤه، وجفَّ وتحطَّم حتى لم يبقَ فيه تماسكٌ.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
al-Ṭabarī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Abu Wa'il:from a man of Rabi'ah who said: "I arrived in Al-Madinah, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the emissary of 'Ad to him. I said: 'I seek refuge in Allah from being like the emissary of 'Ad.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'And what of the emissary of 'Ad?'" He said: "I said: You have got the one who is informed about it. When 'Ad suffered from famine they sent Qail and he stayed with Bakr bin Mu'awiyah. He gave him wine to drink and two slave girls to sing for him. Then he went out towards the mountains of Murrah and said: "O Allah! I did not come to You to cure a sick person, nor to ransom a captive! So give water to Your slave as You used to do, …
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا …
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Muslims are partners in three things: water, pasture and fire, and their price is unlawful.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت ( ساجھے داری ) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ۱؎۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Faqih is harder on Ash-Shaitan than a thousand worshipers
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔
PickthallAnd in (the tribe of) Thamud (there is a portent) when it was told them: Take your ease awhile.
Yusuf AliAnd in the Thamud (was another Sign): Behold, they were told, "Enjoy (your brief day) for a little while!"
The agreed readingAnd in Thamud, when it was said to them: take your enjoyment for a while. The commentaries place the words after the hamstringing of the she-camel, and read the while as a term already counted out and running.
Urduاور ثمود میں بھی نشانی ہے، جب ان سے کہا گیا: چند دن اور فائدہ اٹھا لو۔ مفسرین نے یہ الفاظ اونٹنی کی کونچیں کاٹے جانے کے بعد رکھے ہیں، اور چند دن سے مراد ایک پہلے سے گنی ہوئی اور جاری مدت لی ہے۔
Arabicوفي ثمودَ آيةٌ أيضًا، إذ قيل لهم: تمتَّعوا في داركم إلى وقتٍ معلومٍ. وقد وضع المفسرون هذا القولَ بعد عقر الناقة، وفسَّروا الوقتَ بأنه أجلٌ محدَّدٌ مسبقًا يجري نحو نهايته.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Muslims are partners in three things: water, pasture and fire, and their price is unlawful.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت ( ساجھے داری ) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ۱؎۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
Narrated Abu Wa'il:from a man of Rabi'ah who said: "I arrived in Al-Madinah, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the emissary of 'Ad to him. I said: 'I seek refuge in Allah from being like the emissary of 'Ad.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'And what of the emissary of 'Ad?'" He said: "I said: You have got the one who is informed about it. When 'Ad suffered from famine they sent Qail and he stayed with Bakr bin Mu'awiyah. He gave him wine to drink and two slave girls to sing for him. Then he went out towards the mountains of Murrah and said: "O Allah! I did not come to You to cure a sick person, nor to ransom a captive! So give water to Your slave as You used to do, …
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا …
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Faqih is harder on Ash-Shaitan than a thousand worshipers
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔
PickthallBut they rebelled against their Lord's decree, and so the thunderbolt overtook them even while they gazed;
Yusuf AliBut they insolently defied the Command of their Lord: So the stunning noise (of an earthquake) seized them, even while they were looking on.
The agreed readingBut they went beyond their Lord's command, and the thunderbolt seized them while they were looking on. The commentaries place it at the end of the days they had been given, and read 'looking on' as its coming in open daylight.
Urduلیکن انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی، تو کڑک نے انہیں اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ دیکھ رہے تھے۔ مفسرین نے اسے ان دنوں کے اختتام پر رکھا ہے جو انہیں دیے گئے تھے، اور دیکھ رہے تھے سے مراد یہ لی ہے کہ یہ عذاب کھلے دن کی روشنی میں آیا۔
Arabicفعتَوا وتكبَّروا عن أمر ربهم فلم يمتثلوا، فأخذتهم الصاعقةُ وهم ينظرون إليها رأيَ العين. وقد وضع المفسرون هذا في نهاية المدة الممنوحة لهم، وفسَّروا النظرَ بأنه وقوعُها في وضح النهار.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Muslims are partners in three things: water, pasture and fire, and their price is unlawful.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت ( ساجھے داری ) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ۱؎۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
Narrated Abu Wa'il:from a man of Rabi'ah who said: "I arrived in Al-Madinah, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the emissary of 'Ad to him. I said: 'I seek refuge in Allah from being like the emissary of 'Ad.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'And what of the emissary of 'Ad?'" He said: "I said: You have got the one who is informed about it. When 'Ad suffered from famine they sent Qail and he stayed with Bakr bin Mu'awiyah. He gave him wine to drink and two slave girls to sing for him. Then he went out towards the mountains of Murrah and said: "O Allah! I did not come to You to cure a sick person, nor to ransom a captive! So give water to Your slave as You used to do, …
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا …
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Faqih is harder on Ash-Shaitan than a thousand worshipers
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔
PickthallAnd they were unable to rise up, nor could they help themselves.
Yusuf AliThen they could not even stand (on their feet), nor could they help themselves.
The agreed readingThey were not able to rise, nor could they defend themselves. The commentaries take both halves at their plainest: they did not get up from where they fell, and there was nothing they could do to keep the punishment off.
Urduوہ نہ اٹھ سکے اور نہ ہی اپنا دفاع کر سکے۔ مفسرین نے دونوں حصوں کو انتہائی سیدھے معنوں میں لیا ہے: وہ اس جگہ سے اٹھ ہی نہیں سکے جہاں وہ گرے تھے، اور ان کے پاس عذاب کو روکنے کے لیے کچھ بھی کرنے کی طاقت نہیں بچی تھی۔
Arabicفما استطاعوا من قيامٍ بعد سقوطهم، وما كانوا منتصرين لأنفسهم من العذاب. وقد أخذ المفسرون الشطرين على أبسط معانيهما: لم ينهضوا من مكان سقوطهم، ولم يقدروا على دفع العذاب عنهم بأي وسيلة.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Muslims are partners in three things: water, pasture and fire, and their price is unlawful.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت ( ساجھے داری ) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ۱؎۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
Narrated Abu Wa'il:from a man of Rabi'ah who said: "I arrived in Al-Madinah, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the emissary of 'Ad to him. I said: 'I seek refuge in Allah from being like the emissary of 'Ad.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'And what of the emissary of 'Ad?'" He said: "I said: You have got the one who is informed about it. When 'Ad suffered from famine they sent Qail and he stayed with Bakr bin Mu'awiyah. He gave him wine to drink and two slave girls to sing for him. Then he went out towards the mountains of Murrah and said: "O Allah! I did not come to You to cure a sick person, nor to ransom a captive! So give water to Your slave as You used to do, …
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا …
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Faqih is harder on Ash-Shaitan than a thousand worshipers
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔
PickthallAnd the folk of Noah aforetime. Lo! they were licentious folk.
Yusuf AliSo were the People of Noah before them for they wickedly transgressed.
The agreed readingAnd the people of Noah before them. The commentaries gloss the word said of them as a going out - out of God's obedience into disobedience, and out of belief into refusal.
Urduاور ان سے پہلے قومِ نوح کو بھی ہلاک کیا گیا۔ مفسرین نے ان کے بارے میں استعمال ہونے والے لفظ کی تشریح ایک خروج سے کی ہے: اللہ کی اطاعت سے نکل کر نافرمانی کی طرف، اور ایمان سے نکل کر انکار کی طرف۔
Arabicوأهلكنا قوم نوحٍ من قبل هؤلاء جميعًا. وقد فسَّر المفسرون الكلمةَ المستعملةَ فيهم بأنها خروجٌ: خروجٌ من طاعة الله إلى معصيته، وخروجٌ من الإيمان إلى الكفر والتكذيب.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Muslims are partners in three things: water, pasture and fire, and their price is unlawful.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت ( ساجھے داری ) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ۱؎۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
Narrated Abu Wa'il:from a man of Rabi'ah who said: "I arrived in Al-Madinah, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the emissary of 'Ad to him. I said: 'I seek refuge in Allah from being like the emissary of 'Ad.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'And what of the emissary of 'Ad?'" He said: "I said: You have got the one who is informed about it. When 'Ad suffered from famine they sent Qail and he stayed with Bakr bin Mu'awiyah. He gave him wine to drink and two slave girls to sing for him. Then he went out towards the mountains of Murrah and said: "O Allah! I did not come to You to cure a sick person, nor to ransom a captive! So give water to Your slave as You used to do, …
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا …
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Faqih is harder on Ash-Shaitan than a thousand worshipers
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔
PickthallWe have built the heaven with might, and We it is Who make the vast extent (thereof).
Yusuf AliWith power and skill did We construct the Firmament: for it is We Who create the vastness of pace.
The agreed readingAnd the sky - He built it with might. The commentaries gloss the word as power, and read what follows as the vastness and capacity belonging to the One who built it.
Urduاور آسمان کو ہم نے اپنی قوت کے ساتھ بنایا۔ مفسرین نے اس لفظ کی تشریح طاقت سے کی ہے، اور اس کے بعد آنے والے الفاظ کو اس ذات کی وسعت اور صلاحیت سے جوڑا ہے جس نے اسے بنایا۔
Arabicوالسماءَ العالية بنيناها بقوةٍ عظيمةٍ بالغةٍ. وقد فسَّر المفسرون هذه الكلمةَ بالقوة والقدرة، وربطوا ما بعدها بسعة الخالق وقدرته الواسعة، الذي بنى هذا الكونَ العظيم بلا شريكٍ.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
Times do not keep company with Him, and implements do not help Him. His Being precedes times. His Existence precedes non-existence and His eternity precedes beginning. By His creating the senses it is known that He has no senses. By the contraries in various matters it is known that He has no contrary, and by the similarity between things it is known that there is nothing similar to Him. He has made light the contrary of darkness, brightness that of gloom, dryness that of moisture and heat that of cold. He produces affection among inimical things. He fuses together diverse things, brings near remote things and separates things which are joined together.
اوقات اس کو نہیں ساتھ دیتے، اور ادوات اس کو نہیں مدد دیتے۔ اس کی کون اوقات سے پہلے ہے، اس کی وجود عدم سے پہلے ہے، اور اس کی ازل ابتدا سے پہلے ہے۔ اس کے ذریعے مشاعر کو شعور دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے مشعر نہیں۔ اس کے ذریعے امور میں مضادت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے ضد نہیں۔ اس کے ذریعے اشیاء میں مقارنت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے قرین نہیں۔ نور کو ظلمت کے مقابل رکھا، وضوح کو بہمت کے مقابل، جمود کو بلل کے مقابل، حرور کو صرد کے مقابل۔ متعادیات میں الفت پیدا کرتا ہے، متباینات میں موافقت رکھتا ہے، متباعدات کو قریب کرتا ہے، متدانیات کو الگ کرتا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd the earth have We laid out, how gracious is the Spreader (thereof)!
Yusuf AliAnd We have spread out the (spacious) earth: How excellently We do spread out!
The agreed readingAnd the earth - He spread it out. The commentaries gloss the spreading as making it a bed laid ready, and the praise closing the verse is of the One who laid it.
Urduاور زمین کو ہم نے بچھا دیا۔ مفسرین نے بچھانے کی تشریح یہ کی ہے کہ اسے ایک تیار شدہ بستر کی طرح بنا دیا گیا، اور آیت کے آخر میں جو تعریف کی گئی ہے وہ اسی بچھانے والی ذات کی ہے۔
Arabicوالأرضَ الواسعة فرشناها فِراشًا وطيئًا مُهيَّأً. وقد فسَّر المفسرون الفرشَ بأنه جعلُها كالمهاد المُهيَّأ، والثناءُ في ختام الآية عائدٌ إلى الذي مهَّدها ووطَّأها لعباده أجمعين.
PickthallAnd all things We have created by pairs, that haply ye may reflect.
Yusuf AliAnd of every thing We have created pairs: That ye may receive instruction.
The agreed readingAnd of every thing He created a pair, so that you might take heed. The commentaries fill the word out with what they can see of it - male and female, the sky and the earth, the sun and the moon, the plain and the mountain, summer and winter, the sweet and the sour.
Urduاور ہر چیز میں سے اس نے ایک جوڑا پیدا کیا، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ مفسرین نے اس لفظ کو ان مثالوں سے بھر دیا ہے جو انہیں نظر آتی ہیں: نر اور مادہ، آسمان اور زمین، سورج اور چاند، ہموار زمین اور پہاڑ، گرمی اور سردی، میٹھا اور کھٹا۔
Arabicومن كل شيءٍ خلقنا زوجين اثنين، لعلكم تتذكَّرون قدرة خالقكم. وقد ملأ المفسرون هذه الكلمة بما يرونه من أمثلتها: الذكرُ والأنثى، السماءُ والأرضُ، الشمسُ والقمرُ، السهلُ والجبلُ، الصيفُ والشتاءُ، الحلوُ والحامضُ.
PickthallTherefor flee unto Allah; lo! I am a plain warner unto you from him.
Yusuf AliHasten ye then (at once) to Allah: I am from Him a Warner to you, clear and open!
The agreed readingSo flee to God. The commentaries read the fleeing as a movement with two ends: away from your sins and from His punishment, and toward Him. I am to you from Him a clear warner.
Urduپس اللہ کی طرف بھاگو۔ مفسرین نے اس بھاگنے کی دو سمتیں بتائی ہیں: اپنے گناہوں اور اس کے عذاب سے دور ہٹنا، اور اسی کی طرف بڑھنا۔ میں تمہارے لیے اسی کی طرف سے ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں۔
Arabicففِرُّوا إلى الله. وقد فسَّر المفسرون هذا الفرارَ بأنه حركةٌ ذاتُ طرفين: ابتعادٌ عن ذنوبكم وعقابه، وتقدُّمٌ نحوه سبحانه. إني لكم منه نذيرٌ مبينٌ واضحُ الإنذار.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
379. A number of our companions, from Ahmad Bin Muhammad, from Ibn Abu Najraan, from Muhammad Bin Sinan, from Abu Al-Jaroud, who has said: Abu Ja’far (asws) having said: ‘You will not see that which you all are waiting for (Al-Qaim (asws)) until you become like the dead goat for whom the lion does not care where it places its paws on. There will be no honour for you to rise up to, and no supporter to lend you his support in your matters’.
عدة من أصحابنا احمد بن محمد سے، وہ ابن ابی نجران سے، وہ محمد بن سنان سے، وہ ابو الجارود سے، کہتے ہیں: ابو جعفر (علیہ السلام) نے فرمایا: تم اس کو نہیں دیکھو گے جس کا تم انتظار کر رہے ہو جب تک تم معزیٰ الموات کی طرح نہ ہو جاؤ جس کو الخابس پکڑے تو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اپنا ہاتھ کہاں رکھے، تمہارے لیے کوئی شرف نہیں ہے جس کی طرف تم ترقی کر سکو، اور نہ کوئی سند ہے جس پر تم اپنے امور کو سند دے سکو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd set not any other god along with Allah; lo! I am a plain warner unto you from Him.
Yusuf AliAnd make not another an object of worship with Allah: I am from Him a Warner to you, clear and open!
The agreed readingAnd do not set up another god beside God. I am to you from Him a clear warner. The words are the Messenger's, spoken at God's command, and they answer the call before them: flee to God, and set nothing beside Him. The warning is called plain because it leaves no room for mistaking it.
Urduاور اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بناؤ۔ میں تمہارے لیے اسی کی طرف سے ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں۔ یہ الفاظ رسول کے ہیں، جو اللہ کے حکم سے کہے گئے، اور یہ اس سے پہلی پکار کا جواب ہیں: اللہ کی طرف بھاگو، اور اس کے ساتھ کچھ شریک نہ ٹھہراؤ۔ اس تنبیہ کو واضح اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔
Arabicولا تجعلوا مع الله إلهًا آخر. إني لكم منه نذيرٌ مبينٌ. وهذا الكلامُ من قول الرسول بأمر الله، وهو جوابٌ للنداء الذي قبله: فِرُّوا إلى الله، ولا تجعلوا معه شريكًا. وسُمِّي الإنذارُ مبينًا لأنه لا يترك مجالًا لأي التباسٍ.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
Times do not keep company with Him, and implements do not help Him. His Being precedes times. His Existence precedes non-existence and His eternity precedes beginning. By His creating the senses it is known that He has no senses. By the contraries in various matters it is known that He has no contrary, and by the similarity between things it is known that there is nothing similar to Him. He has made light the contrary of darkness, brightness that of gloom, dryness that of moisture and heat that of cold. He produces affection among inimical things. He fuses together diverse things, brings near remote things and separates things which are joined together.
اوقات اس کو نہیں ساتھ دیتے، اور ادوات اس کو نہیں مدد دیتے۔ اس کی کون اوقات سے پہلے ہے، اس کی وجود عدم سے پہلے ہے، اور اس کی ازل ابتدا سے پہلے ہے۔ اس کے ذریعے مشاعر کو شعور دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے مشعر نہیں۔ اس کے ذریعے امور میں مضادت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے ضد نہیں۔ اس کے ذریعے اشیاء میں مقارنت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے قرین نہیں۔ نور کو ظلمت کے مقابل رکھا، وضوح کو بہمت کے مقابل، جمود کو بلل کے مقابل، حرور کو صرد کے مقابل۔ متعادیات میں الفت پیدا کرتا ہے، متباینات میں موافقت رکھتا ہے، متباعدات کو قریب کرتا ہے، متدانیات کو الگ کرتا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallEven so there came no messenger unto those before them but they said: A wizard or a madman!
Yusuf AliSimilarly, no messenger came to the Peoples before them, but they said (of him) in like manner, "A sorcerer, or one possessed"!
The agreed readingSo it went before them: no messenger came to the people before them without their saying, a sorcerer or a man possessed. The commentaries set the words beside what was being said of Muhammad - the same charge, in the same two words, from every generation that refused.
Urduیہی حال ان سے پہلے کے لوگوں کا تھا: ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا مگر انہوں نے یہی کہا کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ مفسرین نے ان الفاظ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہی جانے والی باتوں کے ساتھ رکھا ہے: انکار کرنے والی ہر نسل کی طرف سے وہی الزام، انہی دو الفاظ میں۔
Arabicكذلك ما أتى الذين من قبلهم من رسولٍ إلا قالوا: ساحرٌ أو مجنونٌ. وقد قارن المفسرون هذا القولَ بما قيل عن محمد صلى الله عليه وسلم: التهمةُ نفسُها، بالكلمتين نفسيهما، من كل جيلٍ رفض دعوة رسله.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed Allah, Most High said: 'O son of Adam! Devote yourself to My worship, I will fill your chest with riches and alleviate your poverty. And if you do not do so, then I will fill your hands with problems and not alleviate your poverty
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
PickthallHave they handed down (the saying) as an heirloom one unto another? Nay, but they are froward folk.
Yusuf AliIs this the legacy they have transmitted, one to another? Nay, they are themselves a people transgressing beyond bounds!
The agreed readingDid they hand the saying down to one another? The commentaries read the question as a denial: no, they did not agree it between them. What gathered them all onto the same words was that they were a people in rebellion.
Urduکیا انہوں نے یہ بات ایک دوسرے کو وراثت میں دی تھی؟ مفسرین نے اس سوال کو انکار کے معنی میں لیا ہے: نہیں، انہوں نے آپس میں یہ طے نہیں کیا تھا۔ جس چیز نے سب کو ایک ہی بات پر جمع کیا وہ یہ تھی کہ وہ سب سرکش قومیں تھیں۔
Arabicأتَواصَوا به فيما بينهم؟ وقد أخذ المفسرون هذا الاستفهامَ بمعنى النفي: لا، لم يتفقوا على ذلك فيما بينهم. بل الذي جمعهم على قولٍ واحدٍ هو أنهم كانوا قومًا طاغين متشابهين في الطغيان.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed Allah, Most High said: 'O son of Adam! Devote yourself to My worship, I will fill your chest with riches and alleviate your poverty. And if you do not do so, then I will fill your hands with problems and not alleviate your poverty
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
PickthallSo withdraw from them (O Muhammad), for thou art in no wise blameworthy,
Yusuf AliSo turn away from them: not thine is the blame.
The agreed readingSo turn away from them; you are not to be blamed. The commentaries ground that in what had already been done - the message was delivered, and delivering it was the whole of what was asked of him.
Urduپس ان سے منہ موڑ لو، تم پر کوئی ملامت نہیں۔ مفسرین نے اس بات کی بنیاد اس چیز پر رکھی ہے جو پہلے ہی ہو چکی تھی: پیغام پہنچا دیا گیا تھا، اور اسے پہنچا دینا ہی وہ سب کچھ تھا جو ان سے مانگا گیا تھا۔
Arabicفتولَّ عنهم، فما أنت بملومٍ على شيءٍ. وقد بنى المفسرون هذا على ما تمَّ إنجازُه: فقد بلَّغتَ الرسالةَ كاملةً، وتبليغُها هو كلُّ ما طُلب منك أداؤه.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed Allah, Most High said: 'O son of Adam! Devote yourself to My worship, I will fill your chest with riches and alleviate your poverty. And if you do not do so, then I will fill your hands with problems and not alleviate your poverty
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
PickthallAnd warn, for warning profiteth believers.
Yusuf AliBut teach (thy Message) for teaching benefits the Believers.
The agreed readingAnd remind, for the reminder benefits those who believe. The commentaries set this verse directly against the one before it: the turning away was not an abandoning, and those whom the first verse had frightened were put at ease when this one came down after it.
Urduاور نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔ مفسرین نے اس آیت کو پچھلی آیت کے بالکل مقابل رکھا ہے: منہ موڑنا کوئی ترک کر دینا نہیں تھا، اور جن لوگوں کو پہلی آیت نے خوفزدہ کیا تھا، اس دوسری آیت کے نازل ہونے پر انہیں اطمینان ہو گیا۔
Arabicوذكِّر، فإن الذكرى تنفع المؤمنين. وقد وضع المفسرون هذه الآيةَ في مقابل التي قبلها مباشرةً: فالإعراضُ لم يكن تركًا للدعوة، ومن أفزعتهم الآيةُ الأولى اطمأنُّوا حين نزلت هذه بعدها.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed Allah, Most High said: 'O son of Adam! Devote yourself to My worship, I will fill your chest with riches and alleviate your poverty. And if you do not do so, then I will fill your hands with problems and not alleviate your poverty
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
PickthallI created the jinn and humankind only that they might worship Me.
Yusuf AliI have only created Jinns and men, that they may serve Me.
The agreed readingI created the jinn and mankind only that they should worship Me. The commentaries read the words as naming the purpose they were made for, and note that a purpose stated is not the same as a purpose reached - many did not.
Urduمیں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔ مفسرین نے ان الفاظ کو اس مقصد کے تعین کے طور پر لیا ہے جس کے لیے وہ بنائے گئے، اور یہ نوٹ کیا ہے کہ بیان کردہ مقصد اور حاصل شدہ مقصد ایک چیز نہیں، بہت سے لوگ اس مقصد تک نہیں پہنچے۔
Arabicوما خلقتُ الجنَّ والإنسَ إلا ليعبدون وحدي. وقد فسَّر المفسرون هذا القولَ بأنه تسميةٌ للغاية التي خُلقوا من أجلها، ونبَّهوا إلى أن ذِكرَ الغاية لا يستلزم تحقُّقها فعلًا، فكثيرٌ منهم لم يبلغوها.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed Allah, Most High said: 'O son of Adam! Devote yourself to My worship, I will fill your chest with riches and alleviate your poverty. And if you do not do so, then I will fill your hands with problems and not alleviate your poverty
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
PickthallI seek no livelihood from them, nor do I ask that they should feed Me.
Yusuf AliNo Sustenance do I require of them, nor do I require that they should feed Me.
The agreed readingHe seeks no provision from them, and does not ask them to feed Him. The commentaries take this as closing off a misreading of the verse before: the worship they were made for returns its benefit to them, and nothing of it returns to Him.
Urduوہ ان سے نہ کوئی رزق چاہتا ہے اور نہ ہی چاہتا ہے کہ وہ اسے کھلائیں۔ مفسرین نے اسے پچھلی آیت کی ایک ممکنہ غلط فہمی کو بند کرنے کے طور پر لیا ہے: جس عبادت کے لیے وہ بنائے گئے تھے اس کا فائدہ خود انہی کو لوٹتا ہے، اور اس میں سے کچھ بھی اللہ کی طرف نہیں لوٹتا۔
Arabicما أريد منهم من رزقٍ، وما أريد أن يُطعمون. وقد أخذ المفسرون هذا سدًّا لباب سوء فهمٍ للآية السابقة: فالعبادةُ التي خُلقوا لها يعود نفعُها إليهم وحدهم، ولا يعود منها شيءٌ إليه سبحانه.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed Allah, Most High said: 'O son of Adam! Devote yourself to My worship, I will fill your chest with riches and alleviate your poverty. And if you do not do so, then I will fill your hands with problems and not alleviate your poverty
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
PickthallLo! Allah! He it is that giveth livelihood, the Lord of unbreakable might.
Yusuf AliFor Allah is He Who gives (all) Sustenance,- Lord of Power,- Steadfast (for ever).
The agreed readingIt is God who is the Provider, the Lord of strength, the Firm. The commentaries gloss the last name as a strength in which weakness is not possible - the One who provides for every creature needs no helper to do it.
Urduبےشک اللہ ہی رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہے۔ مفسرین نے آخری نام کی تشریح ایسی طاقت سے کی ہے جس میں کمزوری کا امکان ہی نہیں: وہ ذات جو ہر مخلوق کو رزق دیتی ہے، اسے اس کام کے لیے کسی مددگار کی ضرورت نہیں پڑتی۔
Arabicإن الله هو الرزَّاق لجميع خلقه، ذو القوة، المتين الشديد الذي لا يعتريه ضعفٌ. وقد فسَّر المفسرون هذا الاسمَ الأخير بقوةٍ لا يتطرَّق إليها وهنٌ، فالذي يرزق كلَّ مخلوقٍ لا يحتاج معينًا في ذلك.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
273. Amīr al-mu’minīn, peace be upon him, said: Know with full conviction that Allāh has not fixed for any person more livelihood than what has been ordained in the Book of Destiny, even though his means (of seeking it) may be great, his craving for it intense and his efforts for it acute; nor does the weakness of a person or the paucity of his means stand in the way between what is ordained in the Book of Destiny and himself. He who realizes it and acts upon it is the best of them all in point of comfort and benefit; while he who disregards it and doubts it exceeds all men in disadvantages. Very often a favoured person is being slowly driven (towards punishment) through those favours; and …
اور انہوں نے (علیہ السلام) فرمایا: علماً یقیناً جان لو کہ اللہ نے بندے کو - اگرچہ اس کے حیل (وسائل) بہت ہوں اور اس کی طلب شدید ہو اور اس کی حکمت بہت ہو - اس سے زیادہ نہیں دیا جو اسے الذکر الحکیم (قرآن) میں لکھا ہے۔ اور اللہ نے بندے کی کمزوری اور اس کے حیل کی قلت کو اس بات میں حائل نہ کیا کہ وہ وہ تک نہ پہنچے جو اسے الذکر الحکیم میں لکھا ہے۔ جو اس کو جاننے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہے وہ سب لوگوں میں فائدے میں سب سے زیادہ آرام والا ہے۔ اور جو اسے چھوڑنے والا اور اس میں شک کرنے والا ہے وہ نقصان میں سب سے زیادہ مشغول ہے۔ بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ نعمت یافتہ شخص نعمتوں سے آہستہ آہستہ ہلاک ہو رہا ہو۔ اور بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ مبتلیٰ شخص ابتلاء سے نفع پا رہا ہو۔ تو اے فائدہ پانے والے! اپنے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed Allah, Most High said: 'O son of Adam! Devote yourself to My worship, I will fill your chest with riches and alleviate your poverty. And if you do not do so, then I will fill your hands with problems and not alleviate your poverty
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
PickthallAnd lo! for those who (now) do wrong there is an evil day like unto the evil day (which came for) their likes (of old); so let them not ask Me to hasten on (that day).
Yusuf AliFor the Wrong-doers, their portion is like unto the portion of their fellows (of earlier generations): then let them not ask Me to hasten (that portion)!
The agreed readingThose who did wrong have a bucketful coming, like the bucketful of their fellows before them. The commentaries hold to the image the word carries - the great bucket drawn at a shared well, each in his turn - and name the fellows as the peoples already destroyed. So let them not ask Me to hurry it.
Urduجن لوگوں نے ظلم کیا ان کے لیے ایک ڈول آنے والا ہے، بالکل ویسا جیسا ان کے ساتھیوں کا ڈول تھا جو ان سے پہلے تھے۔ مفسرین نے اس لفظ کی تصویر کو برقرار رکھا ہے: مشترکہ کنویں سے باری باری نکالا جانے والا بڑا ڈول، اور ساتھیوں سے مراد وہ قومیں لی ہیں جو پہلے ہی ہلاک کی جا چکی تھیں۔ پس وہ مجھ سے اس کی جلدی نہ مچائیں۔
Arabicفإن للذين ظلموا نصيبًا من العذاب مثل نصيب أصحابهم من قبلهم. وقد حافظ المفسرون على الصورة التي تحملها الكلمة: الدلوُ الكبيرُ يُستقى من بئرٍ مشتركةٍ دورًا بعد دورٍ، وحدَّدوا الأصحابَ بأنهم الأممُ التي أُهلكت من قبلُ. فلا يستعجلونِ بهذا العذاب.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed Allah, Most High said: 'O son of Adam! Devote yourself to My worship, I will fill your chest with riches and alleviate your poverty. And if you do not do so, then I will fill your hands with problems and not alleviate your poverty
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
PickthallAnd woe unto those who disbelieve, from (that) their day which they are promised.
Yusuf AliWoe, then, to the Unbelievers, on account of that Day of theirs which they have been promised!
The agreed readingSo woe to those who refuse, from that Day of theirs which they are promised. The commentaries name the day: the Day of Resurrection - the very thing they had been asking to have brought forward.
Urduپس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے انکار کیا، ان کے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ مفسرین نے اس دن کا نام بتایا ہے: قیامت کا دن، وہی چیز جسے وہ جلدی لانے کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔
Arabicفويلٌ شديدٌ للذين كفروا من يومهم العظيم الذي يُوعدون به. وقد سمَّى المفسرون هذا اليومَ: يومَ القيامة، وهو نفسُ الشيء الذي كانوا يطلبون تعجيلَه استهزاءً وتكذيبًا.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 3 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة5 reports cited here — 3 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Hadith.4732 - In the narration of Al-Hasan ibn Mahbub from Ali ibn Ri'ab from Al-Halabi, from Abu Abdullah (as), he said: "Indeed, Allah (swt), the Blessed and Exalted, has entrusted Ibrahim (as) and Sarah {s.a} with the care of the children of the believers. They nourish them from a tree in Paradise that has teats like those of cows, inside a palace made of pearl. On the Day of Judgment, these children will be dressed, perfumed, and presented to their parents. They will be kings in Paradise along with their parents. This is in accordance with the saying of Allah (swt), the Mighty and Majestic: 'And those who believe and whose descendants follow them in faith - We will join them with their …
الحسن بن محبوب کی روایت میں علی بن ریاب سے، الحلبی سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے کہا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابراہیم اور سارہ کو مؤمنین کے بچوں کی کفالت کا ذمہ دار بنایا۔ وہ انہیں جنت کے ایک درخت سے پالتے ہیں جس کی تہیں گائے کی تہوں جیسی ہیں، ایک موتی کے محل میں۔ جب قیامت کا دن ہو تو انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے، خوشبو لگائی جائے گی، اور انہیں اپنے باپ دادا کے پاس پیش کیا جائے گا۔ تو وہ جنت میں اپنے باپ دادا کے ساتھ بادشاہ ہوں گے۔ یہ اللہ عز و جل کے قول کے مطابق ہے: جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان پر چلی تو ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو ملا دیں گے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali has narrated from his father from Hammad ibn ‘Isa and Muhammad ibn Isma’il from al-Fadl ibn Shadhan from Hammad ibn ‘Isa and Muhammad ibn Yahya from Ahmad ibn Muhammad from Hammad ibn ‘Isa from Hariz from Zurarah who has said the following: “Abu Ja’far (a.s.), has said, ‘When you stand up for Salah (prayer) do not allow one foot to touch the other, leave between them a distance of one finger at the least and one Shibr (about 8 inches) at most. Allow your shoulders to relax and leave your hands alone. Do not crisscross your fingers. Instead they should be kept on your thighs on its front side and your eyes should look at the place for prostration. During Ruku‘ position line up your …
علی نے اپنے باپا سے، حماد بن عیسیٰ سے اور محمد بن اسماعیل نے فضل بن شاذان سے، حماد بن عیسیٰ سے روایت کی اور محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، حماد بن عیسیٰ سے، حریز سے، زرارہ سے کہا: ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم نماز میں کھڑے ہو تو اپنا ایک پیر دوسرے سے ملاؤ نہیں، بلکہ ان کے درمیان ایک انگلی کے برابر فاصلہ رکھو، کم از کم ایک انگلی اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت ہو۔ اپنے کندھوں کو آرام دو، اپنے ہاتھوں کو چھوڑ دو، اپنی انگلیوں کو آپس میں ملاؤ نہیں، بلکہ انہیں اپنی رانوں پر اپنے گھٹنوں کے سامنے رکھو، اور اپنی نظر سجدہ کی جگہ پر رکھو۔ جب تم رکوع کرو تو اپنے پیروں کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رکھتے ہوئے صف بندی کرو، اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر مکمل طور پر رکھو، اپنا دایا ہاتھ اپنے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed Allah, Most High said: 'O son of Adam! Devote yourself to My worship, I will fill your chest with riches and alleviate your poverty. And if you do not do so, then I will fill your hands with problems and not alleviate your poverty
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …