The agreed readingBy the Mount. The sura opens with a chain of oaths, and the commentaries of both traditions read this first one the same way: the mountain of Sinai, where God spoke to Moses.
Urduطور کی قسم۔ سورت قسموں کے ایک سلسلے سے شروع ہوتی ہے، اور دونوں روایتوں کی تفاسیر اس پہلی قسم کو ایک ہی طرح پڑھتی ہیں: سینا کا وہ پہاڑ، جہاں اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا۔
Arabicوالطور، وهو جبل سيناء. تفتتح السورة بسلسلة من الأقسام، وتقرأ تفاسير التقليدين معًا هذا القسم الأول بالطريقة نفسها: إنه جبل سيناء الذي كلّم الله عليه موسى مباشرة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas b. Malik reported on the authority of Malik b. Sa sa', perhaps a person of his tribe, that the Prophet of Allah (ﷺ) said:I was near the House (i. e. Ka'bah) in a state between sleep and wakefulness when I heard someone say: He is the third among the two persons. Then he came to me and took me with him. Then a golden basin containing the water of Zamzam was brought to me and my heart was opened up to such and such (part). Qatada said: I asked him who was with me (i e. the narrator) and what he meant by such and such (part). He replied: (It means that it was opened) up to the lower part of his abdomen (Then the hadith continues): My heart was extracted and it was washed with the water of …
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( انہوں نے غالباً یہ کہا ) کہ مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ( جو ان کی قوم کے فرد تھے ) کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا ، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا : ’’ تین آدمیوں میں سے ایک ، دو کے درمیان والا ‘ ‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا ، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا ، فلاں سے فلاں جگہ تک ( قتادہ نےکہا : میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اس سے کیا مراد لے رہے ہیں ؟ اس نے کہا ، پیٹ کے نیچے کےحصے تک ) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا …
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
Khathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The injuries cause by the beast are without liability, and mines are without liability.”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار ہے، اور کان میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے
Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated from his father that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Reconciling between Muslims is permissible, except reconciliation that forbids something that is allowed, or allows something that is forbidden.'”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا فِي الأُولَى وَخَمْسًا فِي الآخِرَةِ .
Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf narrated, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said the Takbir in the ‘Eid prayers, seven times in the first Rak’ah and five times in the second
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلاَءَ " . ثُمَّ قَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ " . قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ " إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الإِسْلاَمِ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ لاَ يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ …
It was narrated from Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Hour will not begin until the closest Muslim outpost will be at Baula’.’ Then he said: ‘O ‘Ali, O ‘Ali, O ‘Ali.’ He (‘Ali) said: ‘May my father and mother be ransomed for you.’ He said: ‘You will fight Banu Asfar (the Romans) and those who come after you will fight them, until the best of the Muslims go out to fight them, the people of Hijaz who do not fear the blame of anyone for the sake of Allah. They will conquer Constantinople with Tasbih and Takbir and will acquire such spoils of war as has never been seen before, which they will distribute by …
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( فرمائیے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر ( اہل روم ) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے ( یعنی اہل حجاز ) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں ( وہاں ) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ ". وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet, said, "Whenever I start the prayer I intend to prolong it, but on hearing the cries of a child, I cut short the prayer because I know that the cries of the child will incite its mother's passions
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن عدی نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کی نیت باندھتا ہوں، ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کو طویل کروں گا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ میں اس درد کو سمجھتا ہوں جو بچے کے رونے کی وجہ سے ماں کو ہو جاتا ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے کہا ہم سے ابان بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
The agreed readingAnd by a Scripture set down in writing. The commentaries differ over which Scripture is meant and the reading does not choose; what they carry together is that it is a revealed Book, written and preserved.
Urduاور ایک ایسی کتاب کی قسم جو تحریر میں لکھی گئی ہے۔ مفسرین اس بات میں مختلف ہیں کہ اس سے مراد کون سی کتاب ہے، اور یہ قراءت کسی ایک کا انتخاب نہیں کرتی؛ جو بات وہ سب مل کر بیان کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ ایک نازل کردہ کتاب ہے، لکھی ہوئی اور محفوظ۔
Arabicوكتاب مسطور مكتوب في السطور. يختلف المفسرون في تحديد أي كتاب هو المقصود هنا، والقراءة لا تُرجّح واحدًا منها؛ والذي يجمعونه معًا هو أنه كتاب منزل من عند الله، مكتوب ومحفوظ من التغيير.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas b. Malik reported on the authority of Malik b. Sa sa', perhaps a person of his tribe, that the Prophet of Allah (ﷺ) said:I was near the House (i. e. Ka'bah) in a state between sleep and wakefulness when I heard someone say: He is the third among the two persons. Then he came to me and took me with him. Then a golden basin containing the water of Zamzam was brought to me and my heart was opened up to such and such (part). Qatada said: I asked him who was with me (i e. the narrator) and what he meant by such and such (part). He replied: (It means that it was opened) up to the lower part of his abdomen (Then the hadith continues): My heart was extracted and it was washed with the water of …
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( انہوں نے غالباً یہ کہا ) کہ مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ( جو ان کی قوم کے فرد تھے ) کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا ، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا : ’’ تین آدمیوں میں سے ایک ، دو کے درمیان والا ‘ ‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا ، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا ، فلاں سے فلاں جگہ تک ( قتادہ نےکہا : میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اس سے کیا مراد لے رہے ہیں ؟ اس نے کہا ، پیٹ کے نیچے کےحصے تک ) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا …
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
Khathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The injuries cause by the beast are without liability, and mines are without liability.”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار ہے، اور کان میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے
Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated from his father that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Reconciling between Muslims is permissible, except reconciliation that forbids something that is allowed, or allows something that is forbidden.'”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا فِي الأُولَى وَخَمْسًا فِي الآخِرَةِ .
Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf narrated, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said the Takbir in the ‘Eid prayers, seven times in the first Rak’ah and five times in the second
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلاَءَ " . ثُمَّ قَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ " . قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ " إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الإِسْلاَمِ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ لاَ يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ …
It was narrated from Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Hour will not begin until the closest Muslim outpost will be at Baula’.’ Then he said: ‘O ‘Ali, O ‘Ali, O ‘Ali.’ He (‘Ali) said: ‘May my father and mother be ransomed for you.’ He said: ‘You will fight Banu Asfar (the Romans) and those who come after you will fight them, until the best of the Muslims go out to fight them, the people of Hijaz who do not fear the blame of anyone for the sake of Allah. They will conquer Constantinople with Tasbih and Takbir and will acquire such spoils of war as has never been seen before, which they will distribute by …
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( فرمائیے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر ( اہل روم ) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے ( یعنی اہل حجاز ) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں ( وہاں ) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ ". وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet, said, "Whenever I start the prayer I intend to prolong it, but on hearing the cries of a child, I cut short the prayer because I know that the cries of the child will incite its mother's passions
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن عدی نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کی نیت باندھتا ہوں، ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کو طویل کروں گا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ میں اس درد کو سمجھتا ہوں جو بچے کے رونے کی وجہ سے ماں کو ہو جاتا ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے کہا ہم سے ابان بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
The agreed readingOn fine parchment spread open. Raqq is the thin prepared skin written on; manshur is unrolled rather than closed up - a Book lying open to be read.
Urduکھلے ہوئے باریک چمڑے پر۔ رَقّ اس باریک تیار کردہ کھال کو کہتے ہیں جس پر لکھا جاتا ہے؛ منشور کا مطلب ہے لپیٹا ہوا نہیں بلکہ کھلا ہوا - ایک ایسی کتاب جو پڑھنے کے لیے کھلی پڑی ہو۔
Arabicفي رقّ منشور مفتوح غير مطوي. الرقّ هو الجلد الرقيق المُعَدّ للكتابة عليه؛ والمنشور هو المفتوح غير المطوي ولا المغلق - كتاب موضوع مفتوحًا جاهزًا لمن يقرأه.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas b. Malik reported on the authority of Malik b. Sa sa', perhaps a person of his tribe, that the Prophet of Allah (ﷺ) said:I was near the House (i. e. Ka'bah) in a state between sleep and wakefulness when I heard someone say: He is the third among the two persons. Then he came to me and took me with him. Then a golden basin containing the water of Zamzam was brought to me and my heart was opened up to such and such (part). Qatada said: I asked him who was with me (i e. the narrator) and what he meant by such and such (part). He replied: (It means that it was opened) up to the lower part of his abdomen (Then the hadith continues): My heart was extracted and it was washed with the water of …
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( انہوں نے غالباً یہ کہا ) کہ مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ( جو ان کی قوم کے فرد تھے ) کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا ، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا : ’’ تین آدمیوں میں سے ایک ، دو کے درمیان والا ‘ ‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا ، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا ، فلاں سے فلاں جگہ تک ( قتادہ نےکہا : میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اس سے کیا مراد لے رہے ہیں ؟ اس نے کہا ، پیٹ کے نیچے کےحصے تک ) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا …
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
Khathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The injuries cause by the beast are without liability, and mines are without liability.”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار ہے، اور کان میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے
Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated from his father that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Reconciling between Muslims is permissible, except reconciliation that forbids something that is allowed, or allows something that is forbidden.'”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا فِي الأُولَى وَخَمْسًا فِي الآخِرَةِ .
Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf narrated, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said the Takbir in the ‘Eid prayers, seven times in the first Rak’ah and five times in the second
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلاَءَ " . ثُمَّ قَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ " . قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ " إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الإِسْلاَمِ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ لاَ يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ …
It was narrated from Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Hour will not begin until the closest Muslim outpost will be at Baula’.’ Then he said: ‘O ‘Ali, O ‘Ali, O ‘Ali.’ He (‘Ali) said: ‘May my father and mother be ransomed for you.’ He said: ‘You will fight Banu Asfar (the Romans) and those who come after you will fight them, until the best of the Muslims go out to fight them, the people of Hijaz who do not fear the blame of anyone for the sake of Allah. They will conquer Constantinople with Tasbih and Takbir and will acquire such spoils of war as has never been seen before, which they will distribute by …
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( فرمائیے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر ( اہل روم ) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے ( یعنی اہل حجاز ) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں ( وہاں ) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ ". وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet, said, "Whenever I start the prayer I intend to prolong it, but on hearing the cries of a child, I cut short the prayer because I know that the cries of the child will incite its mother's passions
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن عدی نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کی نیت باندھتا ہوں، ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کو طویل کروں گا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ میں اس درد کو سمجھتا ہوں جو بچے کے رونے کی وجہ سے ماں کو ہو جاتا ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے کہا ہم سے ابان بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
The agreed readingAnd by the frequented House. Both traditions describe a House in the heavens set opposite the Kaaba below it, visited without pause by the angels who worship there.
Urduاور آباد گھر کی قسم۔ دونوں روایتیں آسمانوں میں ایک ایسے گھر کی بات کرتی ہیں جو نیچے کعبہ کے بالکل مقابل ہے، جسے وہاں عبادت کرنے والے فرشتے بغیر رکے مسلسل آباد رکھتے ہیں۔
Arabicوالبيت المعمور الآهل بالزائرين. يصف التقليدان معًا بيتًا في السماوات مقابلًا للكعبة تمامًا من تحته، تزوره الملائكة زيارة متصلة بلا انقطاع وهم يعبدون الله فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas b. Malik reported on the authority of Malik b. Sa sa', perhaps a person of his tribe, that the Prophet of Allah (ﷺ) said:I was near the House (i. e. Ka'bah) in a state between sleep and wakefulness when I heard someone say: He is the third among the two persons. Then he came to me and took me with him. Then a golden basin containing the water of Zamzam was brought to me and my heart was opened up to such and such (part). Qatada said: I asked him who was with me (i e. the narrator) and what he meant by such and such (part). He replied: (It means that it was opened) up to the lower part of his abdomen (Then the hadith continues): My heart was extracted and it was washed with the water of …
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( انہوں نے غالباً یہ کہا ) کہ مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ( جو ان کی قوم کے فرد تھے ) کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا ، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا : ’’ تین آدمیوں میں سے ایک ، دو کے درمیان والا ‘ ‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا ، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا ، فلاں سے فلاں جگہ تک ( قتادہ نےکہا : میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اس سے کیا مراد لے رہے ہیں ؟ اس نے کہا ، پیٹ کے نیچے کےحصے تک ) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا …
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
Khathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The injuries cause by the beast are without liability, and mines are without liability.”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار ہے، اور کان میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے
Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated from his father that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Reconciling between Muslims is permissible, except reconciliation that forbids something that is allowed, or allows something that is forbidden.'”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا فِي الأُولَى وَخَمْسًا فِي الآخِرَةِ .
Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf narrated, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said the Takbir in the ‘Eid prayers, seven times in the first Rak’ah and five times in the second
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلاَءَ " . ثُمَّ قَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ " . قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ " إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الإِسْلاَمِ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ لاَ يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ …
It was narrated from Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Hour will not begin until the closest Muslim outpost will be at Baula’.’ Then he said: ‘O ‘Ali, O ‘Ali, O ‘Ali.’ He (‘Ali) said: ‘May my father and mother be ransomed for you.’ He said: ‘You will fight Banu Asfar (the Romans) and those who come after you will fight them, until the best of the Muslims go out to fight them, the people of Hijaz who do not fear the blame of anyone for the sake of Allah. They will conquer Constantinople with Tasbih and Takbir and will acquire such spoils of war as has never been seen before, which they will distribute by …
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( فرمائیے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر ( اہل روم ) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے ( یعنی اہل حجاز ) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں ( وہاں ) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ ". وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet, said, "Whenever I start the prayer I intend to prolong it, but on hearing the cries of a child, I cut short the prayer because I know that the cries of the child will incite its mother's passions
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن عدی نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کی نیت باندھتا ہوں، ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کو طویل کروں گا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ میں اس درد کو سمجھتا ہوں جو بچے کے رونے کی وجہ سے ماں کو ہو جاتا ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے کہا ہم سے ابان بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
The agreed readingAnd by the roof raised high. The commentaries gloss the roof as the sky, raised over the earth.
Urduاور اونچی اٹھائی گئی چھت کی قسم بھی۔ مفسرین اس چھت کی تشریح آسمان ہی سے کرتے ہیں، جو زمین کے بالکل اوپر بلند کر کے رکھا گیا ہے۔
Arabicوالسقف المرفوع رفعًا عاليًا فوق كل شيء تحته من الخلق. يفسّر المفسرون هذا السقف تفسيرًا واحدًا متفقًا عليه بأنه السماء نفسها، المرفوعة فوق الأرض بغير عمد تُرى بالعين.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas b. Malik reported on the authority of Malik b. Sa sa', perhaps a person of his tribe, that the Prophet of Allah (ﷺ) said:I was near the House (i. e. Ka'bah) in a state between sleep and wakefulness when I heard someone say: He is the third among the two persons. Then he came to me and took me with him. Then a golden basin containing the water of Zamzam was brought to me and my heart was opened up to such and such (part). Qatada said: I asked him who was with me (i e. the narrator) and what he meant by such and such (part). He replied: (It means that it was opened) up to the lower part of his abdomen (Then the hadith continues): My heart was extracted and it was washed with the water of …
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( انہوں نے غالباً یہ کہا ) کہ مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ( جو ان کی قوم کے فرد تھے ) کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا ، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا : ’’ تین آدمیوں میں سے ایک ، دو کے درمیان والا ‘ ‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا ، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا ، فلاں سے فلاں جگہ تک ( قتادہ نےکہا : میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اس سے کیا مراد لے رہے ہیں ؟ اس نے کہا ، پیٹ کے نیچے کےحصے تک ) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا …
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
Khathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The injuries cause by the beast are without liability, and mines are without liability.”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار ہے، اور کان میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے
Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated from his father that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Reconciling between Muslims is permissible, except reconciliation that forbids something that is allowed, or allows something that is forbidden.'”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا فِي الأُولَى وَخَمْسًا فِي الآخِرَةِ .
Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf narrated, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said the Takbir in the ‘Eid prayers, seven times in the first Rak’ah and five times in the second
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلاَءَ " . ثُمَّ قَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ " . قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ " إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الإِسْلاَمِ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ لاَ يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ …
It was narrated from Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Hour will not begin until the closest Muslim outpost will be at Baula’.’ Then he said: ‘O ‘Ali, O ‘Ali, O ‘Ali.’ He (‘Ali) said: ‘May my father and mother be ransomed for you.’ He said: ‘You will fight Banu Asfar (the Romans) and those who come after you will fight them, until the best of the Muslims go out to fight them, the people of Hijaz who do not fear the blame of anyone for the sake of Allah. They will conquer Constantinople with Tasbih and Takbir and will acquire such spoils of war as has never been seen before, which they will distribute by …
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( فرمائیے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر ( اہل روم ) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے ( یعنی اہل حجاز ) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں ( وہاں ) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ ". وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet, said, "Whenever I start the prayer I intend to prolong it, but on hearing the cries of a child, I cut short the prayer because I know that the cries of the child will incite its mother's passions
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن عدی نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کی نیت باندھتا ہوں، ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کو طویل کروں گا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ میں اس درد کو سمجھتا ہوں جو بچے کے رونے کی وجہ سے ماں کو ہو جاتا ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے کہا ہم سے ابان بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
The agreed readingAnd by the sea filled to the brim. The word masjur is glossed as filled and brimming; the commentaries also carry the sense of a sea set alight, and the oath stands on either.
Urduاور لبالب بھرے ہوئے سمندر کی قسم۔ لفظ مسجور کی تشریح بھرے ہوئے اور لبریز کے طور پر کی جاتی ہے؛ مفسرین اس میں ایک ایسے سمندر کا مفہوم بھی رکھتے ہیں جسے آگ لگا دی گئی ہو، اور قسم دونوں معنوں پر قائم ہے۔
Arabicوالبحر المسجور الممتلئ الطافح. تُفسَّر كلمة المسجور بأنها الممتلئ الطافح بمائه؛ ويحمل المفسرون فيها أيضًا معنى بحر أُوقدت فيه النار وأُشعل، والقسم قائم على كلا المعنيين معًا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas b. Malik reported on the authority of Malik b. Sa sa', perhaps a person of his tribe, that the Prophet of Allah (ﷺ) said:I was near the House (i. e. Ka'bah) in a state between sleep and wakefulness when I heard someone say: He is the third among the two persons. Then he came to me and took me with him. Then a golden basin containing the water of Zamzam was brought to me and my heart was opened up to such and such (part). Qatada said: I asked him who was with me (i e. the narrator) and what he meant by such and such (part). He replied: (It means that it was opened) up to the lower part of his abdomen (Then the hadith continues): My heart was extracted and it was washed with the water of …
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( انہوں نے غالباً یہ کہا ) کہ مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ( جو ان کی قوم کے فرد تھے ) کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا ، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا : ’’ تین آدمیوں میں سے ایک ، دو کے درمیان والا ‘ ‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا ، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا ، فلاں سے فلاں جگہ تک ( قتادہ نےکہا : میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اس سے کیا مراد لے رہے ہیں ؟ اس نے کہا ، پیٹ کے نیچے کےحصے تک ) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا …
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
Khathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The injuries cause by the beast are without liability, and mines are without liability.”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار ہے، اور کان میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے
Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated from his father that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Reconciling between Muslims is permissible, except reconciliation that forbids something that is allowed, or allows something that is forbidden.'”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا فِي الأُولَى وَخَمْسًا فِي الآخِرَةِ .
Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf narrated, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said the Takbir in the ‘Eid prayers, seven times in the first Rak’ah and five times in the second
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلاَءَ " . ثُمَّ قَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ " . قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ " إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الإِسْلاَمِ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ لاَ يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ …
It was narrated from Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Hour will not begin until the closest Muslim outpost will be at Baula’.’ Then he said: ‘O ‘Ali, O ‘Ali, O ‘Ali.’ He (‘Ali) said: ‘May my father and mother be ransomed for you.’ He said: ‘You will fight Banu Asfar (the Romans) and those who come after you will fight them, until the best of the Muslims go out to fight them, the people of Hijaz who do not fear the blame of anyone for the sake of Allah. They will conquer Constantinople with Tasbih and Takbir and will acquire such spoils of war as has never been seen before, which they will distribute by …
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( فرمائیے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر ( اہل روم ) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے ( یعنی اہل حجاز ) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں ( وہاں ) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ ". وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet, said, "Whenever I start the prayer I intend to prolong it, but on hearing the cries of a child, I cut short the prayer because I know that the cries of the child will incite its mother's passions
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن عدی نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کی نیت باندھتا ہوں، ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کو طویل کروں گا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ میں اس درد کو سمجھتا ہوں جو بچے کے رونے کی وجہ سے ماں کو ہو جاتا ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے کہا ہم سے ابان بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
PickthallLo! the doom of thy Lord will surely come to pass;
Yusuf AliVerily, the Doom of thy Lord will indeed come to pass;-
The agreed readingThe punishment of your Lord is going to fall. Everything sworn by above is the ground of this one statement, which is what the oaths were taken for.
Urduتمہارے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے۔ اوپر جن جن چیزوں کی قسم کھائی گئی وہ سب اسی ایک بیان کی بنیاد ہیں، اور یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے یہ قسمیں کھائی گئیں۔
Arabicإن عذاب ربك لواقع لا محالة. وكل ما أُقسم به آنفًا هو الأساس الذي تقوم عليه هذه الجملة الواحدة، وهذا هو الغرض الذي من أجله سيقت هذه الأقسام كلها.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas b. Malik reported on the authority of Malik b. Sa sa', perhaps a person of his tribe, that the Prophet of Allah (ﷺ) said:I was near the House (i. e. Ka'bah) in a state between sleep and wakefulness when I heard someone say: He is the third among the two persons. Then he came to me and took me with him. Then a golden basin containing the water of Zamzam was brought to me and my heart was opened up to such and such (part). Qatada said: I asked him who was with me (i e. the narrator) and what he meant by such and such (part). He replied: (It means that it was opened) up to the lower part of his abdomen (Then the hadith continues): My heart was extracted and it was washed with the water of …
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( انہوں نے غالباً یہ کہا ) کہ مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ( جو ان کی قوم کے فرد تھے ) کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا ، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا : ’’ تین آدمیوں میں سے ایک ، دو کے درمیان والا ‘ ‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا ، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا ، فلاں سے فلاں جگہ تک ( قتادہ نےکہا : میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اس سے کیا مراد لے رہے ہیں ؟ اس نے کہا ، پیٹ کے نیچے کےحصے تک ) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا …
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
Khathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The injuries cause by the beast are without liability, and mines are without liability.”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار ہے، اور کان میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے
Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated from his father that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Reconciling between Muslims is permissible, except reconciliation that forbids something that is allowed, or allows something that is forbidden.'”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا فِي الأُولَى وَخَمْسًا فِي الآخِرَةِ .
Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf narrated, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said the Takbir in the ‘Eid prayers, seven times in the first Rak’ah and five times in the second
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلاَءَ " . ثُمَّ قَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ " . قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ " إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الإِسْلاَمِ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ لاَ يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ …
It was narrated from Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Hour will not begin until the closest Muslim outpost will be at Baula’.’ Then he said: ‘O ‘Ali, O ‘Ali, O ‘Ali.’ He (‘Ali) said: ‘May my father and mother be ransomed for you.’ He said: ‘You will fight Banu Asfar (the Romans) and those who come after you will fight them, until the best of the Muslims go out to fight them, the people of Hijaz who do not fear the blame of anyone for the sake of Allah. They will conquer Constantinople with Tasbih and Takbir and will acquire such spoils of war as has never been seen before, which they will distribute by …
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( فرمائیے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر ( اہل روم ) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے ( یعنی اہل حجاز ) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں ( وہاں ) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ ". وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet, said, "Whenever I start the prayer I intend to prolong it, but on hearing the cries of a child, I cut short the prayer because I know that the cries of the child will incite its mother's passions
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن عدی نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کی نیت باندھتا ہوں، ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کو طویل کروں گا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ میں اس درد کو سمجھتا ہوں جو بچے کے رونے کی وجہ سے ماں کو ہو جاتا ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے کہا ہم سے ابان بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
The agreed readingThere is nothing that can push it back, and no one who can hold it off. The commentaries read this together with the statement before it: the punishment is not only certain to arrive, it arrives with nothing standing between it and those it is owed to.
Urduکوئی چیز اسے پیچھے دھکیل نہیں سکتی، اور کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ مفسرین اسے پچھلے بیان کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہیں: عذاب نہ صرف یقینی طور پر آئے گا، بلکہ اس کے اور جن پر یہ واجب ہے ان کے درمیان کچھ بھی حائل نہیں ہو گا۔
Arabicما له من دافع يدفعه ولا مانع يمنعه. ويقرأ المفسرون هذا مع الجملة التي قبلها معًا: العذاب ليس فقط أكيد الوقوع، بل يقع دون أن يقف بينه وبين مستحقيه أي حائل.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas b. Malik reported on the authority of Malik b. Sa sa', perhaps a person of his tribe, that the Prophet of Allah (ﷺ) said:I was near the House (i. e. Ka'bah) in a state between sleep and wakefulness when I heard someone say: He is the third among the two persons. Then he came to me and took me with him. Then a golden basin containing the water of Zamzam was brought to me and my heart was opened up to such and such (part). Qatada said: I asked him who was with me (i e. the narrator) and what he meant by such and such (part). He replied: (It means that it was opened) up to the lower part of his abdomen (Then the hadith continues): My heart was extracted and it was washed with the water of …
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( انہوں نے غالباً یہ کہا ) کہ مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ( جو ان کی قوم کے فرد تھے ) کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا ، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا : ’’ تین آدمیوں میں سے ایک ، دو کے درمیان والا ‘ ‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا ، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا ، فلاں سے فلاں جگہ تک ( قتادہ نےکہا : میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اس سے کیا مراد لے رہے ہیں ؟ اس نے کہا ، پیٹ کے نیچے کےحصے تک ) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا …
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
Khathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The injuries cause by the beast are without liability, and mines are without liability.”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار ہے، اور کان میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے
Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf narrated from his father that his grandfather said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Reconciling between Muslims is permissible, except reconciliation that forbids something that is allowed, or allows something that is forbidden.'”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا فِي الأُولَى وَخَمْسًا فِي الآخِرَةِ .
Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf narrated, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said the Takbir in the ‘Eid prayers, seven times in the first Rak’ah and five times in the second
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ أَدْنَى مَسَالِحِ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلاَءَ " . ثُمَّ قَالَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ " . قَالَ بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ " إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمُ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِكُمْ حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الإِسْلاَمِ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ لاَ يَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ فَيَفْتَتِحُونَ الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ …
It was narrated from Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Hour will not begin until the closest Muslim outpost will be at Baula’.’ Then he said: ‘O ‘Ali, O ‘Ali, O ‘Ali.’ He (‘Ali) said: ‘May my father and mother be ransomed for you.’ He said: ‘You will fight Banu Asfar (the Romans) and those who come after you will fight them, until the best of the Muslims go out to fight them, the people of Hijaz who do not fear the blame of anyone for the sake of Allah. They will conquer Constantinople with Tasbih and Takbir and will acquire such spoils of war as has never been seen before, which they will distribute by …
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( فرمائیے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر ( اہل روم ) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے ( یعنی اہل حجاز ) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں ( وہاں ) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ ". وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ.
Narrated Anas bin Malik:The Prophet, said, "Whenever I start the prayer I intend to prolong it, but on hearing the cries of a child, I cut short the prayer because I know that the cries of the child will incite its mother's passions
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن عدی نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کی نیت باندھتا ہوں، ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کو طویل کروں گا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ میں اس درد کو سمجھتا ہوں جو بچے کے رونے کی وجہ سے ماں کو ہو جاتا ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے کہا ہم سے ابان بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
PickthallOn the day when the heaven will heave with (awful) heaving,
Yusuf AliOn the Day when the firmament will be in dreadful commotion.
The agreed readingOn the day the heaven reels and turns. The word describes violent movement, the sky no longer holding still.
Urduاس دن جب آسمان بری طرح ڈولے گا اور تیزی سے گھومے گا، ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک۔ یہ لفظ نہایت شدید حرکت بیان کرتا ہے، آسمان اس دن ہرگز ساکن نہیں رہے گا۔
Arabicيوم تمور السماء مورًا شديدًا عنيفًا وتضطرب اضطرابًا لا هدوء فيه، من طرف إلى طرف. تصف هذه الكلمة حركة عنيفة قوية، فالسماء في ذلك اليوم لم تعد ثابتة ساكنة كما كانت من قبل.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I complained to Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick, so he said, "Perform the Tawaf (of Ka`ba at Mecca) while riding behind the people (who are performing the Tawaf on foot)." So I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer by the side of the Ka`ba and was reciting: 'By the Mount (Sinai) and by a Decree Inscribed
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( حج کے موقع پر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرے چنانچہ میں نے طواف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورۃ والطور و کتاب مسطور کی تلاوت کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ} .
Umm Salama reported:I made a complaint to Allah's Messenger (ﷺ) of my ailment, whereupon be said: Circumambulate behind the people while riding. She said: So I circumambulated and Allah's Messenger (ﷺ) was at that time praying towards the side of the House and he was reciting al-Tur and a Book Inscribed (i. e. Sura Iii. of the Qur'un)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا : " سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ " انھوں نے کہا : جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرمارہے تھے ، اور ( نماز میں ) ( وَالطُّورِ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ) کی تلاوت فرمارہے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، وَهْوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I informed Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick. He said, "Perform Tawaf (of the Ka`ba) while riding behind the people." So, I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer beside the Ka`ba and was reciting Surat-at-Tur
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں ( نماز کے اندر ) «والطور وكتاب مسطور» کی قرآت کر رہے تھے۔
PickthallAnd the mountains move away with (awful) movement,
Yusuf AliAnd the mountains will fly hither and thither.
The agreed readingAnd the mountains move away, going until they are scattered dust. The commentaries place this beside the reeling of the heaven and set both on the Day of Resurrection - the two fixed things a man measures the world by, the sky above him and the mountains under him, giving way in the same hour.
Urduاور پہاڑ اپنی جگہ سے چل کر دور ہو جائیں گے، یہاں تک کہ بکھری ہوئی گرد بن جائیں گے۔ مفسرین اسے آسمان کے ڈولنے کے ساتھ رکھتے ہیں اور دونوں کو قیامت کے دن پر مقرر کرتے ہیں - وہ دو ثابت چیزیں جن سے انسان دنیا کو ناپتا ہے، اس کے اوپر کا آسمان اور اس کے نیچے کے پہاڑ، دونوں ایک ہی گھڑی میں ٹوٹ جائیں گے۔
Arabicوتسير الجبال سيرًا حتى تصير هباءً منثورًا. يضع المفسرون هذا بجانب مور السماء، ويجعلان معًا يوم القيامة - الثابتان اللذان يقيس بهما الإنسان الدنيا، السماء فوقه والجبال تحته، يزولان معًا في الساعة نفسها.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I complained to Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick, so he said, "Perform the Tawaf (of Ka`ba at Mecca) while riding behind the people (who are performing the Tawaf on foot)." So I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer by the side of the Ka`ba and was reciting: 'By the Mount (Sinai) and by a Decree Inscribed
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( حج کے موقع پر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرے چنانچہ میں نے طواف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورۃ والطور و کتاب مسطور کی تلاوت کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ} .
Umm Salama reported:I made a complaint to Allah's Messenger (ﷺ) of my ailment, whereupon be said: Circumambulate behind the people while riding. She said: So I circumambulated and Allah's Messenger (ﷺ) was at that time praying towards the side of the House and he was reciting al-Tur and a Book Inscribed (i. e. Sura Iii. of the Qur'un)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا : " سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ " انھوں نے کہا : جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرمارہے تھے ، اور ( نماز میں ) ( وَالطُّورِ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ) کی تلاوت فرمارہے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، وَهْوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I informed Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick. He said, "Perform Tawaf (of the Ka`ba) while riding behind the people." So, I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer beside the Ka`ba and was reciting Surat-at-Tur
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں ( نماز کے اندر ) «والطور وكتاب مسطور» کی قرآت کر رہے تھے۔
Yusuf AliThen woe that Day to those that treat (Truth) as Falsehood;-
The agreed readingSo woe that day to the deniers. The commentaries gloss the word woe as the severity of the punishment itself rather than a cry raised against them, and they identify the deniers as those who called the messengers liars.
Urduسو اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔ مفسرین لفظ 'ویل' کی تشریح خود عذاب کی شدت سے کرتے ہیں، نہ کہ ان کے خلاف بلند کی گئی کوئی پکار، اور جھٹلانے والوں سے مراد وہ لوگ لیتے ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھوٹا کہا۔
Arabicفويل يومئذ للمكذبين. يفسّر المفسرون كلمة ويل بأنها شدة العذاب نفسه لا مجرد صيحة تُرفع عليهم، ويحدد المفسرون المكذبين بأنهم الذين كذّبوا الرسل وردوا ما جاءوا به.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I complained to Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick, so he said, "Perform the Tawaf (of Ka`ba at Mecca) while riding behind the people (who are performing the Tawaf on foot)." So I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer by the side of the Ka`ba and was reciting: 'By the Mount (Sinai) and by a Decree Inscribed
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( حج کے موقع پر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرے چنانچہ میں نے طواف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورۃ والطور و کتاب مسطور کی تلاوت کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ} .
Umm Salama reported:I made a complaint to Allah's Messenger (ﷺ) of my ailment, whereupon be said: Circumambulate behind the people while riding. She said: So I circumambulated and Allah's Messenger (ﷺ) was at that time praying towards the side of the House and he was reciting al-Tur and a Book Inscribed (i. e. Sura Iii. of the Qur'un)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا : " سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ " انھوں نے کہا : جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرمارہے تھے ، اور ( نماز میں ) ( وَالطُّورِ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ) کی تلاوت فرمارہے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، وَهْوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I informed Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick. He said, "Perform Tawaf (of the Ka`ba) while riding behind the people." So, I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer beside the Ka`ba and was reciting Surat-at-Tur
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں ( نماز کے اندر ) «والطور وكتاب مسطور» کی قرآت کر رہے تھے۔
Yusuf AliThat play (and paddle) in shallow trifles.
The agreed readingThose who plunge into what is false and play at it, busying themselves with it and taking it lightly.
Urduوہ لوگ جو ہمیشہ باطل میں غرق رہتے ہیں اور اس کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں، بغیر کسی سنجیدگی کے اسی میں مصروف رہتے ہیں اور اسے ہلکا سمجھتے ہیں۔
Arabicالذين هم في خوض من الباطل واللهو غارقون فيه، يلعبون به لعبًا مستمرًا، منشغلون به دائمًا في كل أحوالهم ويستخفون به استخفافًا شديدًا لا يبالون بعاقبته الوخيمة أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I complained to Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick, so he said, "Perform the Tawaf (of Ka`ba at Mecca) while riding behind the people (who are performing the Tawaf on foot)." So I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer by the side of the Ka`ba and was reciting: 'By the Mount (Sinai) and by a Decree Inscribed
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( حج کے موقع پر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرے چنانچہ میں نے طواف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورۃ والطور و کتاب مسطور کی تلاوت کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ} .
Umm Salama reported:I made a complaint to Allah's Messenger (ﷺ) of my ailment, whereupon be said: Circumambulate behind the people while riding. She said: So I circumambulated and Allah's Messenger (ﷺ) was at that time praying towards the side of the House and he was reciting al-Tur and a Book Inscribed (i. e. Sura Iii. of the Qur'un)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا : " سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ " انھوں نے کہا : جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرمارہے تھے ، اور ( نماز میں ) ( وَالطُّورِ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ) کی تلاوت فرمارہے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، وَهْوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I informed Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick. He said, "Perform Tawaf (of the Ka`ba) while riding behind the people." So, I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer beside the Ka`ba and was reciting Surat-at-Tur
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں ( نماز کے اندر ) «والطور وكتاب مسطور» کی قرآت کر رہے تھے۔
PickthallThe day when they are thrust with a (disdainful) thrust, into the fire of hell
Yusuf AliThat Day shall they be thrust down to the Fire of Hell, irresistibly.
The agreed readingOn the day they are thrust into the Fire of Hell, driven to it roughly and with force.
Urduاس دن جب انہیں جہنم کی آگ میں زور سے دھکیل دیا جائے گا، انہیں سختی اور طاقت کے ساتھ اس کی طرف ہانکا اور بے رحمی سے ٹھونسا جائے گا۔
Arabicيوم يُدفعون جميعًا إلى نار جهنم دفعًا عنيفًا شديدًا لا رفق فيه، يُساقون إليها سوقًا قويًا بلا هوادة ولا رحمة تُذكر، يُقادون إليها قودًا عنيفًا قاسيًا.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I complained to Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick, so he said, "Perform the Tawaf (of Ka`ba at Mecca) while riding behind the people (who are performing the Tawaf on foot)." So I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer by the side of the Ka`ba and was reciting: 'By the Mount (Sinai) and by a Decree Inscribed
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( حج کے موقع پر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرے چنانچہ میں نے طواف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورۃ والطور و کتاب مسطور کی تلاوت کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ} .
Umm Salama reported:I made a complaint to Allah's Messenger (ﷺ) of my ailment, whereupon be said: Circumambulate behind the people while riding. She said: So I circumambulated and Allah's Messenger (ﷺ) was at that time praying towards the side of the House and he was reciting al-Tur and a Book Inscribed (i. e. Sura Iii. of the Qur'un)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا : " سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ " انھوں نے کہا : جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرمارہے تھے ، اور ( نماز میں ) ( وَالطُّورِ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ) کی تلاوت فرمارہے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، وَهْوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I informed Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick. He said, "Perform Tawaf (of the Ka`ba) while riding behind the people." So, I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer beside the Ka`ba and was reciting Surat-at-Tur
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں ( نماز کے اندر ) «والطور وكتاب مسطور» کی قرآت کر رہے تھے۔
Pickthall(And it is said unto them): This is the Fire which ye were wont to deny.
Yusuf Ali"This:, it will be said, "Is the Fire,- which ye were wont to deny!
The agreed readingAnd it is said to them: this is the Fire you used to deny. The commentaries mark the tone of it - the words are said by way of rebuke, the thing they refused to believe in now standing in front of them and named.
Urduاور ان سے کہا جاتا ہے: یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ مفسرین اس کے لہجے کو نشان زد کرتے ہیں - یہ الفاظ ملامت کے طور پر کہے جاتے ہیں، جس چیز کا انہوں نے انکار کیا وہ اب ان کے سامنے کھڑی اور نام لے کر بتائی جا رہی ہے۔
Arabicويقال لهم توبيخًا: هذه النار التي كنتم بها تكذبون. ويلاحظ المفسرون لهجة هذا القول - إنه يقال على سبيل التوبيخ والتقريع، والشيء الذي أنكروه أصبح الآن ماثلًا أمامهم مسمى باسمه.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I complained to Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick, so he said, "Perform the Tawaf (of Ka`ba at Mecca) while riding behind the people (who are performing the Tawaf on foot)." So I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer by the side of the Ka`ba and was reciting: 'By the Mount (Sinai) and by a Decree Inscribed
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( حج کے موقع پر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرے چنانچہ میں نے طواف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورۃ والطور و کتاب مسطور کی تلاوت کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ} .
Umm Salama reported:I made a complaint to Allah's Messenger (ﷺ) of my ailment, whereupon be said: Circumambulate behind the people while riding. She said: So I circumambulated and Allah's Messenger (ﷺ) was at that time praying towards the side of the House and he was reciting al-Tur and a Book Inscribed (i. e. Sura Iii. of the Qur'un)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا : " سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ " انھوں نے کہا : جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرمارہے تھے ، اور ( نماز میں ) ( وَالطُّورِ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ) کی تلاوت فرمارہے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، وَهْوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I informed Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick. He said, "Perform Tawaf (of the Ka`ba) while riding behind the people." So, I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer beside the Ka`ba and was reciting Surat-at-Tur
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں ( نماز کے اندر ) «والطور وكتاب مسطور» کی قرآت کر رہے تھے۔
Yusuf Ali"Is this then a fake, or is it ye that do not see?
The agreed readingIs this sorcery, then, or do you not see? It is put to them in their own word: sorcery is what they called the revelation in the world, and now the punishment stands in front of them under the same name.
Urduکیا یہ جادو ہے، یا تم دیکھتے نہیں؟ یہ سوال انہی کے اپنے لفظ میں ان پر رکھا جاتا ہے: جادو ہی وہ نام تھا جو انہوں نے دنیا میں وحی کو دیا، اور اب عذاب اسی نام کے تحت ان کے سامنے کھڑا ہے۔
Arabicأفسحر هذا الذي ترونه، أم أنتم لا تبصرون الحق؟ يُطرح السؤال عليهم بلفظهم هم أنفسهم: السحر هو الاسم الذي كانوا يطلقونه على الوحي في الدنيا، والآن العذاب نفسه يقف أمامهم تحت الاسم ذاته.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I complained to Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick, so he said, "Perform the Tawaf (of Ka`ba at Mecca) while riding behind the people (who are performing the Tawaf on foot)." So I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer by the side of the Ka`ba and was reciting: 'By the Mount (Sinai) and by a Decree Inscribed
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( حج کے موقع پر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرے چنانچہ میں نے طواف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورۃ والطور و کتاب مسطور کی تلاوت کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ} .
Umm Salama reported:I made a complaint to Allah's Messenger (ﷺ) of my ailment, whereupon be said: Circumambulate behind the people while riding. She said: So I circumambulated and Allah's Messenger (ﷺ) was at that time praying towards the side of the House and he was reciting al-Tur and a Book Inscribed (i. e. Sura Iii. of the Qur'un)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا : " سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ " انھوں نے کہا : جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرمارہے تھے ، اور ( نماز میں ) ( وَالطُّورِ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ) کی تلاوت فرمارہے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، وَهْوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I informed Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick. He said, "Perform Tawaf (of the Ka`ba) while riding behind the people." So, I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer beside the Ka`ba and was reciting Surat-at-Tur
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں ( نماز کے اندر ) «والطور وكتاب مسطور» کی قرآت کر رہے تھے۔
PickthallEndure the heat thereof, and whether ye are patient of it or impatient of it is all one for you. Ye are only being paid for what ye used to do.
Yusuf Ali"Burn ye therein: the same is it to you whether ye bear it with patience, or not: Ye but receive the recompense of your (own) deeds."
The agreed readingBurn in it. Bear it patiently or do not - it is the same for you now, because patience no longer changes anything. You are only being repaid for what you were doing.
Urduاسی میں جل جاؤ۔ صبر کرو یا نہ کرو - اب تمہارے لیے دونوں برابر ہیں، کیونکہ صبر اب کچھ بھی نہیں بدلتا۔ تمہیں صرف اسی کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔
Arabicاصلوها فادخلوها محترقين. اصبروا عليها أو لا تصبروا - سواء عليكم الأمران الآن، لأن الصبر لم يعد يغيّر شيئًا من عذابكم. إنما تُجزَون بما كنتم تعملونه في الدنيا لا أكثر.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ } .
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said:"I complained to the Messenger of Allah that I was sick, and he said: 'Perform Tawaf behind the people while you are riding.' So I performed Tawaf while the Messenger of Allah was praying beside the House, and reciting: 'The Tur (Mount), and by the Book Inscribed
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Mawdu · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I complained to Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick, so he said, "Perform the Tawaf (of Ka`ba at Mecca) while riding behind the people (who are performing the Tawaf on foot)." So I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer by the side of the Ka`ba and was reciting: 'By the Mount (Sinai) and by a Decree Inscribed
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( حج کے موقع پر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرے چنانچہ میں نے طواف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورۃ والطور و کتاب مسطور کی تلاوت کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِـ { الطُّورِ * وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ} .
Umm Salama reported:I made a complaint to Allah's Messenger (ﷺ) of my ailment, whereupon be said: Circumambulate behind the people while riding. She said: So I circumambulated and Allah's Messenger (ﷺ) was at that time praying towards the side of the House and he was reciting al-Tur and a Book Inscribed (i. e. Sura Iii. of the Qur'un)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا : " سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ " انھوں نے کہا : جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرمارہے تھے ، اور ( نماز میں ) ( وَالطُّورِ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ) کی تلاوت فرمارہے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ". فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، وَهْوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
Narrated Um Salama:I informed Allah's Messenger (ﷺ) that I was sick. He said, "Perform Tawaf (of the Ka`ba) while riding behind the people." So, I performed the Tawaf while Allah's Messenger (ﷺ) was offering the prayer beside the Ka`ba and was reciting Surat-at-Tur
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں ( نماز کے اندر ) «والطور وكتاب مسطور» کی قرآت کر رہے تھے۔
PickthallLo! those who kept their duty dwell in gardens and delight,
Yusuf AliAs to the Righteous, they will be in Gardens, and in Happiness,-
The agreed readingThose who guard themselves are in gardens and delight - set directly against the punishment of the others, which is how the sura moves.
Urduپرہیزگار لوگ باغات اور نعمتوں میں ہوں گے - دوسروں کے عذاب کے بالکل مقابل رکھے گئے، اور یہی انداز ہے جس سے سورت آگے بڑھتی ہے۔
Arabicإن المتقين الذين اتقوا الله في جنات ونعيم دائم - موضوعون في مقابلة مباشرة مع عذاب الآخرين، وبهذا الأسلوب تتقدم السورة من موضع إلى آخر.
PickthallHappy because of what their Lord hath given them, and (because) their Lord hath warded off from them the torment of hell-fire.
Yusuf AliEnjoying the (Bliss) which their Lord hath bestowed on them, and their Lord shall deliver them from the Penalty of the Fire.
The agreed readingEnjoying what their Lord has given them, and their Lord has guarded them from the punishment of the Fierce Fire. The commentaries note that being kept from the punishment is named as part of the delight, not apart from it.
Urduاپنے رب کی دی ہوئی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے، اور ان کے رب نے انہیں بھڑکتی آگ کے عذاب سے بچا لیا۔ مفسرین نوٹ کرتے ہیں کہ عذاب سے بچائے جانے کو نعمت کا ہی حصہ گنا گیا ہے، اس سے الگ نہیں۔
Arabicفاكهين متلذذين بما آتاهم ربهم من النعيم، ووقاهم ربهم عذاب الجحيم المستعرة. ويلاحظ المفسرون أن الوقاية من العذاب عُدَّت جزءًا من النعيم نفسه، لا شيئًا منفصلًا عنه.
Pickthall(And it is said unto them): Eat and drink in health (as a reward) for what ye used to do,
Yusuf Ali(To them will be said:) "Eat and drink ye, with profit and health, because of your (good) deeds."
The agreed readingEat and drink in health. The commentaries gloss the word as ease carried with the eating - food and drink that bring no sickness and leave nothing behind them - and they read the reason given as a cause rather than a wage: this comes to them because of what they used to do.
Urduکھاؤ اور پیو خوش گواری کے ساتھ۔ مفسرین اس لفظ کی تشریح کھانے کے ساتھ آنے والی راحت سے کرتے ہیں - ایسا کھانا اور پینا جو کوئی بیماری نہیں لاتا اور اپنے پیچھے کچھ نہیں چھوڑتا - اور وہ دی گئی وجہ کو اجرت کے بجائے سبب کے طور پر پڑھتے ہیں: یہ انہیں اس وجہ سے ملتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔
Arabicكلوا واشربوا هنيئًا سائغًا. يفسّر المفسرون هذه الكلمة بالراحة المصاحبة للأكل - طعام وشراب لا يورثان مرضًا ولا يتركان أثرًا سيئًا بعدهما - ويقرأون السبب المذكور سببًا لا أجرًا مقابلًا: هذا يأتيهم بسبب ما كانوا يعملونه من الصالحات.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} جَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُنَادِي " يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ ".
Narrated Ibn `Abbas:When the Verse:-- 'And warn your tribe of near kindred.' (26.214) was revealed, the Prophet (ﷺ) started calling (the 'Arab tribes), "O Bani Fihr, O Bani `Adi" mentioning first the various branch tribes of Quraish
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ( سورۃ الشعراء کی ) یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اے پیغمبر! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے مختلف قبیلوں کو بلایا اے بنی فہر! اے بنی عدی! جو قریش کے خاندان تھے۔
PickthallReclining on ranged couches. And we wed them unto fair ones with wide, lovely eyes.
Yusuf AliThey will recline (with ease) on Thrones (of dignity) arranged in ranks; and We shall join them to Companions, with beautiful big and lustrous eyes.
The agreed readingReclining on couches ranged in rows, and We pair them with companions of wide and lovely eyes.
Urduوہ ایک دوسرے سے قطار در قطار بچھائے گئے تختوں پر آرام سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے، اور ہم انہیں کشادہ اور خوبصورت آنکھوں والی رفیقائیں بھی عطا کریں گے۔
Arabicمتكئين مستريحين مرتاحين تمام الراحة على سرر مصفوفة منظمة بعضها إلى جانب بعض في صفوف طويلة ممتدة، وزوجناهم بحور عين واسعات الأعين حسانهن جميلات الوجه رفيقات دائمات لهم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} جَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُنَادِي " يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ ".
Narrated Ibn `Abbas:When the Verse:-- 'And warn your tribe of near kindred.' (26.214) was revealed, the Prophet (ﷺ) started calling (the 'Arab tribes), "O Bani Fihr, O Bani `Adi" mentioning first the various branch tribes of Quraish
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ( سورۃ الشعراء کی ) یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اے پیغمبر! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے مختلف قبیلوں کو بلایا اے بنی فہر! اے بنی عدی! جو قریش کے خاندان تھے۔
PickthallAnd they who believe and whose seed follow them in faith, We cause their seed to join them (there), and We deprive them of nought of their (life's) work. Every man is a pledge for that which he hath earned.
Yusuf AliAnd those who believe and whose families follow them in Faith,- to them shall We join their families: Nor shall We deprive them (of the fruit) of aught of their works: (Yet) is each individual in pledge for his deeds.
The agreed readingAnd those who believed and whose offspring followed them in faith - We join their offspring to them, and take nothing away from their own work. Every man is held in pledge for what he has earned. Both traditions carry the same report here: God raises the children of a believer to his rank, though their own deeds fall short of it, so that his eye is gladdened by them.
Urduاور جو ایمان لائے اور جن کی اولاد نے ایمان میں ان کی پیروی کی - ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیتے ہیں، اور ان کے اپنے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرتے۔ ہر شخص اپنی کمائی کے بدلے میں گروی ہے۔ دونوں روایتیں یہاں ایک ہی روایت لاتی ہیں: اللہ مومن کی اولاد کو اس کے درجے تک اٹھا دیتا ہے، اگرچہ ان کے اپنے اعمال اس تک نہ پہنچتے ہوں، تاکہ اس کی آنکھ ان سے ٹھنڈی ہو جائے۔
Arabicوالذين آمنوا واتبعتهم ذريتهم بإيمان مثلهم، ألحقنا بهم ذريتهم في الدرجة، وما ألتناهم من عملهم من شيء ننقصه. كل امرئ بما كسب رهين محبوس. ويحمل التقليدان هنا الرواية نفسها: يرفع الله ذرية المؤمن إلى درجته، وإن قصرت أعمالهم عنها، لتقرّ بهم عينه ويفرح بقربهم.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 4 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة5 reports cited here — 4 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī في هذه الآية
Cited by al-Fayḍ al-Kāshānī and al-Ḥuwayzī on this āyah
al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا
Hadith.4732 - In the narration of Al-Hasan ibn Mahbub from Ali ibn Ri'ab from Al-Halabi, from Abu Abdullah (as), he said: "Indeed, Allah (swt), the Blessed and Exalted, has entrusted Ibrahim (as) and Sarah {s.a} with the care of the children of the believers. They nourish them from a tree in Paradise that has teats like those of cows, inside a palace made of pearl. On the Day of Judgment, these children will be dressed, perfumed, and presented to their parents. They will be kings in Paradise along with their parents. This is in accordance with the saying of Allah (swt), the Mighty and Majestic: 'And those who believe and whose descendants follow them in faith - We will join them with their …
الحسن بن محبوب کی روایت میں علی بن ریاب سے، الحلبی سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے کہا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابراہیم اور سارہ کو مؤمنین کے بچوں کی کفالت کا ذمہ دار بنایا۔ وہ انہیں جنت کے ایک درخت سے پالتے ہیں جس کی تہیں گائے کی تہوں جیسی ہیں، ایک موتی کے محل میں۔ جب قیامت کا دن ہو تو انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے، خوشبو لگائی جائے گی، اور انہیں اپنے باپ دادا کے پاس پیش کیا جائے گا۔ تو وہ جنت میں اپنے باپ دادا کے ساتھ بادشاہ ہوں گے۔ یہ اللہ عز و جل کے قول کے مطابق ہے: جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان پر چلی تو ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو ملا دیں گے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Ibn Abbas narrated:“One day the Messenger of Allah ascended As-Safa and called out: ‘O people! Come at once!’ So the Quraish gathered before him. He said: ‘I am a warner for you before the coming of a severe punishment. Do you think that if I informed you that the enemy was preparing to attack you in the evening or in the morning, would you believe me?’ So Abu Lahab said: ‘Is it for this that you gathered us? May you perish?’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Perish the hands of Abu Lahad, perish he.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا ( پہاڑ ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا «صباحاه» ۱؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا ( بنا کر بھیجا گیا ) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ( پہاڑ کے پیچھے سے ) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟ تمہارا ستیاناس ہو ۲؎، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا“ ( تبت: ۱ ) ، نازل فرمائی، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Mujahid said “I was with Ibn ‘Abbas”. A man came to him and said that he divorced his wife by three pronouncements. I kept silence and thought that he was going to restore het to him. He then said “A man goes and commits a foolish act and then says “O, Ibn ‘Abbas! Alaah has said “And for those who fear Allaah, He (ever) prepares a way out.” Since you did not keep duty to Allaah I do not find a way out for you. You disobeyed your Lord and your wife was separated from you. Allaah has said “O Prophet! When you divorce women divorce them in the beginning of their waiting period.” Abu Dawud said “This tradition has been transmitted by Humaid Al A’raj and by others from Mujahid on the authority …
مجاہد کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے کہنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے اس کی طرف لوٹا دیں گے، پھر انہوں نے کہا: تم لوگ بیوقوفی تو خود کرتے ہو پھر آ کر کہتے ہو: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» ۱؎ اور تو اللہ سے نہیں ڈرا لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راستہ بھی نہیں پاتا، تو نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہٰذا تیری بیوی تیرے لیے بائنہ ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» ، «في قبل عدتهن» ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما …
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} جَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُنَادِي " يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ ".
Narrated Ibn `Abbas:When the Verse:-- 'And warn your tribe of near kindred.' (26.214) was revealed, the Prophet (ﷺ) started calling (the 'Arab tribes), "O Bani Fihr, O Bani `Adi" mentioning first the various branch tribes of Quraish
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ( سورۃ الشعراء کی ) یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اے پیغمبر! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے مختلف قبیلوں کو بلایا اے بنی فہر! اے بنی عدی! جو قریش کے خاندان تھے۔
PickthallAnd We provide them with fruit and meat such as they desire.
Yusuf AliAnd We shall bestow on them, of fruit and meat, anything they shall desire.
The agreed readingAnd We supply them with fruit and with meat of whatever they desire, given again and again, beyond what they ask for.
Urduاور ہم انہیں پھل اور گوشت سے مسلسل نوازتے رہیں گے، جو کچھ وہ چاہیں، بار بار دیا جاتا رہے گا، اس سے بھی زیادہ جتنا وہ مانگیں۔
Arabicوأمددناهم إمدادًا متواصلًا لا ينقطع بفاكهة متنوعة ولحم طري مما يشتهون ويرغبون فيه من كل نوع، يُعطَون منه مرة بعد مرة بلا حساب، فوق ما كانوا يطلبونه أو يخطر لهم على بال.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ibn Abbas narrated:“One day the Messenger of Allah ascended As-Safa and called out: ‘O people! Come at once!’ So the Quraish gathered before him. He said: ‘I am a warner for you before the coming of a severe punishment. Do you think that if I informed you that the enemy was preparing to attack you in the evening or in the morning, would you believe me?’ So Abu Lahab said: ‘Is it for this that you gathered us? May you perish?’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Perish the hands of Abu Lahad, perish he.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا ( پہاڑ ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا «صباحاه» ۱؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا ( بنا کر بھیجا گیا ) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ( پہاڑ کے پیچھے سے ) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟ تمہارا ستیاناس ہو ۲؎، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا“ ( تبت: ۱ ) ، نازل فرمائی، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
PickthallThere they pass from hand to hand a cup wherein is neither vanity nor cause of sin.
Yusuf AliThey shall there exchange, one with another, a (loving) cup free of frivolity, free of all taint of ill.
The agreed readingThere they pass a cup from hand to hand in which there is no idle talk and nothing that brings sin - unlike the wine of this world, which brings both.
Urduوہاں وہ آپس میں ایک پیالہ ہاتھوں ہاتھ گھماتے ہیں جس میں نہ کوئی بے ہودہ بات ہے اور نہ کوئی گناہ لانے والی چیز - دنیا کی شراب کے برعکس، جو دونوں لاتی ہے۔
Arabicيتنازعون فيها كأسًا يتداولونها يدًا بيد لا لغو فيها من كلام باطل ولا تأثيم يوقع في الإثم - على خلاف خمر الدنيا، التي تجمع بين الاثنين معًا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ibn Abbas narrated:“One day the Messenger of Allah ascended As-Safa and called out: ‘O people! Come at once!’ So the Quraish gathered before him. He said: ‘I am a warner for you before the coming of a severe punishment. Do you think that if I informed you that the enemy was preparing to attack you in the evening or in the morning, would you believe me?’ So Abu Lahab said: ‘Is it for this that you gathered us? May you perish?’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Perish the hands of Abu Lahad, perish he.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا ( پہاڑ ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا «صباحاه» ۱؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا ( بنا کر بھیجا گیا ) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ( پہاڑ کے پیچھے سے ) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟ تمہارا ستیاناس ہو ۲؎، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا“ ( تبت: ۱ ) ، نازل فرمائی، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
PickthallAnd there go round, waiting on them menservants of their own, as they were hidden pearls.
Yusuf AliRound about them will serve, (devoted) to them, young male servants (handsome) as Pearls well-guarded.
The agreed readingAnd youths of their own go round them, like hidden pearls - kept safe in the shell, which is where a pearl is finest.
Urduاور ان کے اپنے نوجوان خدمت گزار ان کے گرد پھرتے ہیں، جیسے چھپائے ہوئے موتی - جو صدف میں محفوظ رکھے گئے ہوں، اور موتی وہیں سب سے عمدہ ہوتا ہے۔
Arabicويطوف عليهم للخدمة غلمان خاصون بهم وحدهم، حسنو الوجوه، كأنهم لؤلؤ مكنون مصون محفوظ في صدفه لم تمسه يد - وهناك يكون اللؤلؤ دائمًا في أبهى صورة وأجمل حال ممكن.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ibn Abbas narrated:“One day the Messenger of Allah ascended As-Safa and called out: ‘O people! Come at once!’ So the Quraish gathered before him. He said: ‘I am a warner for you before the coming of a severe punishment. Do you think that if I informed you that the enemy was preparing to attack you in the evening or in the morning, would you believe me?’ So Abu Lahab said: ‘Is it for this that you gathered us? May you perish?’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Perish the hands of Abu Lahad, perish he.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا ( پہاڑ ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا «صباحاه» ۱؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا ( بنا کر بھیجا گیا ) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ( پہاڑ کے پیچھے سے ) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟ تمہارا ستیاناس ہو ۲؎، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا“ ( تبت: ۱ ) ، نازل فرمائی، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
PickthallAnd some of them draw near unto others, questioning,
Yusuf AliThey will advance to each other, engaging in mutual enquiry.
The agreed readingAnd they turn to one another, asking. The commentaries fill in what is asked: each questions the other about what they were before and what they have come to now, taking pleasure in the telling and acknowledging whose favour it was.
Urduاور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں سوال کرتے ہیں۔ مفسرین اس سوال کی تفصیل بتاتے ہیں: ہر ایک دوسرے سے پوچھتا ہے کہ وہ پہلے کیا تھے اور اب کیا بن گئے ہیں، بتانے میں لطف لیتے ہوئے اور یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ یہ کس کا احسان تھا۔
Arabicوأقبل بعضهم على بعض يتساءلون فيما بينهم بمحبة. ويفصّل المفسرون ما يُسأل عنه: يسأل كل واحد صاحبه عما كان عليه من قبل وما آل إليه الآن، مستمتعين بالحديث ومعترفين بمن كان الفضل له.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ibn Abbas narrated:“One day the Messenger of Allah ascended As-Safa and called out: ‘O people! Come at once!’ So the Quraish gathered before him. He said: ‘I am a warner for you before the coming of a severe punishment. Do you think that if I informed you that the enemy was preparing to attack you in the evening or in the morning, would you believe me?’ So Abu Lahab said: ‘Is it for this that you gathered us? May you perish?’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Perish the hands of Abu Lahad, perish he.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا ( پہاڑ ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا «صباحاه» ۱؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا ( بنا کر بھیجا گیا ) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ( پہاڑ کے پیچھے سے ) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟ تمہارا ستیاناس ہو ۲؎، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا“ ( تبت: ۱ ) ، نازل فرمائی، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
Ibn Abbas narrated:“One day the Messenger of Allah ascended As-Safa and called out: ‘O people! Come at once!’ So the Quraish gathered before him. He said: ‘I am a warner for you before the coming of a severe punishment. Do you think that if I informed you that the enemy was preparing to attack you in the evening or in the morning, would you believe me?’ So Abu Lahab said: ‘Is it for this that you gathered us? May you perish?’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Perish the hands of Abu Lahad, perish he.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا ( پہاڑ ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا «صباحاه» ۱؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا ( بنا کر بھیجا گیا ) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ( پہاڑ کے پیچھے سے ) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟ تمہارا ستیاناس ہو ۲؎، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا“ ( تبت: ۱ ) ، نازل فرمائی، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
PickthallBut Allah hath been gracious unto us and hath preserved us from the torment of the breath of Fire.
Yusuf Ali"But Allah has been good to us, and has delivered us from the Penalty of the Scorching Wind.
The agreed readingSo God was gracious to us and guarded us from the punishment of the scorching heat, the fire that enters at every pore.
Urduتو اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں جھلسا دینے والی سخت گرمی کے عذاب سے بچا لیا، جو ہر مسام میں داخل ہو جانے والی آگ ہے۔
Arabicفمنّ الله سبحانه علينا برحمته وتفضّله علينا من غير استحقاق منا، ووقانا عذاب السموم الأليم، وهي تلك النار الشديدة الحر التي تدخل من كل مسام في الجسد بلا استثناء.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ibn Abbas narrated:“One day the Messenger of Allah ascended As-Safa and called out: ‘O people! Come at once!’ So the Quraish gathered before him. He said: ‘I am a warner for you before the coming of a severe punishment. Do you think that if I informed you that the enemy was preparing to attack you in the evening or in the morning, would you believe me?’ So Abu Lahab said: ‘Is it for this that you gathered us? May you perish?’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Perish the hands of Abu Lahad, perish he.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا ( پہاڑ ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا «صباحاه» ۱؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا ( بنا کر بھیجا گیا ) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ( پہاڑ کے پیچھے سے ) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟ تمہارا ستیاناس ہو ۲؎، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا“ ( تبت: ۱ ) ، نازل فرمائی، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
PickthallLo! we used to pray unto Him of old. Lo! He is the Benign, the Merciful.
Yusuf Ali"Truly, we did call unto Him from of old: truly it is He, the Beneficent, the Merciful!"
The agreed readingWe used to call on Him before. He is the Good, who does good and is true to what He promises, and the Merciful.
Urduہم پہلے بھی اسی کو پکارا کرتے تھے۔ وہی بھلائی کرنے والا ہے، جو اچھائی کرتا ہے اور اپنے وعدے پر پورا اترتا ہے، اور وہی رحم کرنے والا ہے۔
Arabicإنا كنا من قبل هذا اليوم ندعوه وحده سبحانه لا نشرك به أحدًا سواه. إنه هو البر الذي يحسن إلى عباده دومًا ويصدق في وعده الذي وعدهم به، الرحيم بهم في كل أحوالهم وأوقاتهم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Hadith.4732 - In the narration of Al-Hasan ibn Mahbub from Ali ibn Ri'ab from Al-Halabi, from Abu Abdullah (as), he said: "Indeed, Allah (swt), the Blessed and Exalted, has entrusted Ibrahim (as) and Sarah {s.a} with the care of the children of the believers. They nourish them from a tree in Paradise that has teats like those of cows, inside a palace made of pearl. On the Day of Judgment, these children will be dressed, perfumed, and presented to their parents. They will be kings in Paradise along with their parents. This is in accordance with the saying of Allah (swt), the Mighty and Majestic: 'And those who believe and whose descendants follow them in faith - We will join them with their …
الحسن بن محبوب کی روایت میں علی بن ریاب سے، الحلبی سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے کہا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابراہیم اور سارہ کو مؤمنین کے بچوں کی کفالت کا ذمہ دار بنایا۔ وہ انہیں جنت کے ایک درخت سے پالتے ہیں جس کی تہیں گائے کی تہوں جیسی ہیں، ایک موتی کے محل میں۔ جب قیامت کا دن ہو تو انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے، خوشبو لگائی جائے گی، اور انہیں اپنے باپ دادا کے پاس پیش کیا جائے گا۔ تو وہ جنت میں اپنے باپ دادا کے ساتھ بادشاہ ہوں گے۔ یہ اللہ عز و جل کے قول کے مطابق ہے: جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان پر چلی تو ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو ملا دیں گے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Ibn Abbas narrated:“One day the Messenger of Allah ascended As-Safa and called out: ‘O people! Come at once!’ So the Quraish gathered before him. He said: ‘I am a warner for you before the coming of a severe punishment. Do you think that if I informed you that the enemy was preparing to attack you in the evening or in the morning, would you believe me?’ So Abu Lahab said: ‘Is it for this that you gathered us? May you perish?’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Perish the hands of Abu Lahad, perish he.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا ( پہاڑ ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا «صباحاه» ۱؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا ( بنا کر بھیجا گیا ) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ( پہاڑ کے پیچھے سے ) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟ تمہارا ستیاناس ہو ۲؎، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا“ ( تبت: ۱ ) ، نازل فرمائی، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
PickthallTherefor warn (men, O Muhammad). By the grace of Allah thou art neither soothsayer nor madman.
Yusuf AliTherefore proclaim thou the praises (of thy Lord): for by the Grace of thy Lord, thou art no (vulgar) soothsayer, nor art thou one possessed.
The agreed readingSo remind them, and keep at it. By the favour of your Lord you are neither a soothsayer nor a madman - the two names they were putting on him.
Urduسو انہیں نصیحت کرتے رہو، اور اس پر جمے رہو۔ اپنے رب کے فضل سے تم نہ کاہن ہو اور نہ دیوانے - وہ دونوں نام جو وہ تم پر لگا رہے تھے۔
Arabicفذكّرهم ولا تنقطع عن التذكير. فما أنت بنعمة ربك عليك بكاهن يتنبأ بالغيب ولا مجنون فاقد العقل - وهذان هما الاسمان اللذان كانوا يطلقونهما عليك.
PickthallOr say they: (he is) a poet, (one) for whom we may expect the accident of time?
Yusuf AliOr do they say:- "A Poet! we await for him some calamity (hatched) by Time!"
The agreed readingOr do they say: a poet, and we will wait for the turns of fate to take him? The commentaries gloss the phrase as the accidents of time, and as death itself.
Urduیا وہ کہتے ہیں: شاعر ہے، ہم زمانے کے حادثات کا انتظار کریں گے کہ وہ اسے لے جائیں؟ مفسرین اس فقرے کی تشریح زمانے کے حادثات سے کرتے ہیں، اور خود موت سے بھی۔
Arabicأم يقولون هو شاعر فحسب، نتربص به ونترقب ريب الدهر ونوائبه المتقلبة؟ يفسّر المفسرون هذه العبارة بحوادث الزمان المتقلبة الغادرة، وبالموت نفسه الذي كانوا ينتظرونه له بفارغ الصبر.
PickthallSay (unto them): Except (your fill)! Lo! I am with you among the expectant.
Yusuf AliSay thou: "Await ye!- I too will wait along with you!"
The agreed readingSay: wait, then. I am waiting alongside you. The commentaries read it as the challenge handed back - they are waiting for time to finish him, and he is told to wait with them for what is coming to them instead.
Urduکہہ دو: انتظار کرو، پھر۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ مفسرین اسے چیلنج کا واپس دیا جانا سمجھتے ہیں - وہ زمانے کے اسے ختم کرنے کا انتظار کر رہے ہیں، اور اسے کہا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ اس چیز کا انتظار کرے جو ان پر آنے والی ہے۔
Arabicقل: تربصوا إذن. فإني معكم من المتربصين المنتظرين. ويقرأ المفسرون هذا ردًا للتحدي عليهم: هم ينتظرون أن يفنيه الزمان، وهو يُقال له أن ينتظر معهم ما هو آتٍ عليهم بدلًا منه.
PickthallDo their minds command them to do this, or are they an outrageous folk?
Yusuf AliIs it that their faculties of understanding urge them to this, or are they but a people transgressing beyond bounds?
The agreed readingOr do their own minds command them this, or are they a people grown insolent? The commentaries of both traditions notice the contradiction buried in the charge: a soothsayer is sharp-witted, a madman has his reason covered over, a poet composes measured speech - and no one man can be all three.
Urduیا ان کی اپنی عقلیں انہیں یہ بات سکھاتی ہیں، یا وہ سرکش لوگ ہیں؟ دونوں روایتوں کی تفاسیر اس الزام میں چھپے تضاد کو نوٹ کرتی ہیں: کاہن تیز ذہن رکھتا ہے، دیوانے کی عقل ڈھکی ہوئی ہوتی ہے، شاعر باقاعدہ وزن والا کلام کہتا ہے - اور ایک ہی شخص یہ تینوں نہیں ہو سکتا۔
Arabicأم تأمرهم أحلامهم وعقولهم بهذا التناقض، أم هم قوم طاغون متجاوزون للحد؟ وتلاحظ تفاسير التقليدين معًا التناقض الكامن في هذه التهمة: الكاهن حاد الذهن، والمجنون عقله مغطى، والشاعر ينظم كلامًا موزونًا - ولا يمكن لرجل واحد أن يكون هذه الثلاثة معًا.
PickthallOr say they: He hath invented it? Nay, but they will not believe!
Yusuf AliOr do they say, "He fabricated the (Message)"? Nay, they have no faith!
The agreed readingOr do they say: he has made it up himself? No - they will not believe, and that is the whole of the reason.
Urduیا کیا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں - اصل بات یہ ہے کہ وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے، اور یہی اس کی پوری اور اصل وجہ ہے۔
Arabicأم يقولون هو تقوّله من عند نفسه واختلقه اختلاقًا؟ بل الحقيقة أنهم لا يؤمنون أصلًا مهما أتيتهم من دليل، وهذا وحده هو السبب الكامل الحقيقي وراء إنكارهم كله.
PickthallThen let them produce speech the like thereof, if they are truthful.
Yusuf AliLet them then produce a recital like unto it,- If (it be) they speak the truth!
The agreed readingThen let them bring a discourse like it, if they are telling the truth. The demand is put to men counted among the most eloquent of the Arabs.
Urduتو انہیں چاہیے کہ اس جیسی کوئی بات لے آئیں، اگر وہ سچے ہیں۔ یہ مطالبہ ان لوگوں پر رکھا جاتا ہے جنہیں عربوں میں سب سے زیادہ فصیح شمار کیا جاتا تھا۔
Arabicفليأتوا إذن بحديث مثله تمامًا في فصاحته وبلاغته وحسن نظمه، إن كانوا صادقين حقًا فيما يزعمون ويدّعونه. ويُطرح هذا الطلب الصعب على رجال كانوا يُعدّون من أفصح العرب قاطبة وأبلغهم لسانًا وأمهرهم بيانًا.
PickthallOr were they created out of naught? Or are they the creators?
Yusuf AliWere they created of nothing, or were they themselves the creators?
The agreed readingOr were they created out of nothing, or are they the creators? Nothing made comes without a maker, and nothing that does not exist can make itself.
Urduیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کیے گئے، یا وہ خود ہی خالق ہیں؟ کوئی بنائی ہوئی چیز بنانے والے کے بغیر نہیں آتی، اور جو چیز موجود ہی نہیں وہ خود کو نہیں بنا سکتی۔
Arabicأم خُلقوا من غير شيء ومن غير خالق أصلًا، أم هم الخالقون لأنفسهم؟ فما من مخلوق يأتي بلا خالق يخلقه، وما لا وجود له لا يمكن أن يخلق نفسه بنفسه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallOr did they create the heavens and the earth? Nay, but they are sure of nothing!
Yusuf AliOr did they create the heavens and the earth? Nay, they have no firm belief.
The agreed readingOr did they create the heavens and the earth? No - they hold nothing with certainty.
Urduیا کیا انہوں نے خود آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ ہرگز نہیں - بلکہ وہ حقیقت میں کسی بھی بات پر پورا یقین ہی نہیں رکھتے۔
Arabicأم خلقوا هم أنفسهم السماوات والأرض بقدرتهم الذاتية من غير معونة أحد؟ بل هم في الحقيقة لا يوقنون بشيء يقينًا تامًا راسخًا، لا في هذا الأمر ولا في غيره من أمور الدين.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallOr do they own the treasures of thy Lord? Or have they been given charge (thereof)?
Yusuf AliOr are the Treasures of thy Lord with them, or are they the managers (of affairs)?
The agreed readingOr do they hold the treasuries of your Lord, or are they the ones in control - so that prophethood and provision would be theirs to assign to whom they pleased?
Urduیا کیا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں، یا وہ اختیار رکھنے والے ہیں - کہ نبوت اور رزق ان کے اختیار میں ہو کہ جسے چاہیں دے دیں؟
Arabicأم عندهم خزائن ربك الواسعة يتصرفون فيها كيفما يشاؤون ويريدون، أم هم المسيطرون المتحكمون الفعليون في الأمر كله - بحيث تكون النبوة والرزق بيدهم وحدهم يعطونهما من يريدون ويمنعانهما عمن يريدون؟
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallOr have they any stairway (unto heaven) by means of which they overhear (decrees). Then let their listener produce some warrant manifest!
Yusuf AliOr have they a ladder, by which they can (climb up to heaven and) listen (to its secrets)? Then let (such a) listener of theirs produce a manifest proof.
The agreed readingOr do they have a ladder up which they listen in on what is said in the heavens? Then let the one who listened bring a clear authority for it.
Urduیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ آسمانوں میں کہی جانے والی باتیں سنتے ہیں؟ تو جس نے سنا ہو وہ اس پر کوئی واضح دلیل لے آئے۔
Arabicأم لهم سلّم يصعدون عليه يستمعون فيه إلى ما يُقال في السماوات العلى؟ فليأت مستمعهم الذي زعم أنه سمع بسلطان مبين واضح على ما ادّعاه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallOr hath He daughters whereas ye have sons?
Yusuf AliOr has He only daughters and ye have sons?
The agreed readingOr does He have the daughters while you have the sons? They had said the angels were God's daughters, and the question hands their own claim back to them.
Urduیا کیا اسی کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے؟ انہوں نے کہا تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، اور یہ سوال ان کے اپنے ہی دعوے کو ان پر واپس پھینکتا ہے۔
Arabicأم له سبحانه وحده البنات وله فقط، ولكم أنتم البنون الذين تختارونهم وتفضّلونهم لأنفسكم؟ كانوا قد قالوا إن الملائكة بنات الله تعالى، وهذا السؤال يرد عليهم دعواهم الباطلة هذه بنفس منطقهم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallOr askest thou (Muhammad) a fee from them so that they are plunged in debt?
Yusuf AliOr is it that thou dost ask for a reward, so that they are burdened with a load of debt?-
The agreed readingOr do you ask them a fee for this, so that they are weighed down by the debt of it?
Urduیا کیا تم اے نبی ان سے اس دعوت پر کوئی مالی معاوضہ مانگتے ہو، کہ وہ اس قرض کے بھاری بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں اور اسی وجہ سے انکار کر رہے ہوں؟
Arabicأم تسألهم أنت أيها النبي أجرًا ماليًا مقابل هذه الدعوة التي تدعوهم إليها، فهم من ثقل الغرامة والدين الذي عليهم مثقلون معذبون، فيمتنعون عن الإيمان بسبب هذا الثقل الذي لا يطيقونه؟
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallOr possess they the Unseen so that they can write (it) down?
Yusuf AliOr that the Unseen in it their hands, and they write it down?
The agreed readingOr do they hold the unseen, so that they write it down? The commentaries put the question in its place: they were disputing the raising of the dead and what comes after it, and to speak on that a man would need the record itself in front of him, to copy from and to tell out.
Urduیا کیا ان کے پاس غیب ہے، کہ وہ اسے لکھ لیتے ہیں؟ مفسرین اس سوال کو اس کی جگہ پر رکھتے ہیں: وہ مردوں کے اٹھائے جانے اور اس کے بعد کی چیزوں پر جھگڑ رہے تھے، اور اس پر بات کرنے کے لیے کسی کو خود وہ ریکارڈ اپنے سامنے چاہیے ہوتا، تاکہ وہ اس سے نقل کر سکے اور بتا سکے۔
Arabicأم عندهم الغيب المكتوب، فهم منه يكتبون وينقلون؟ يضع المفسرون هذا السؤال في موضعه الصحيح: كانوا يجادلون في بعث الموتى وما يأتي بعده، والكلام في هذا يحتاج إلى السجل نفسه حاضرًا أمام المتكلم، ينقل منه ويخبر به الناس.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallOr seek they to ensnare (the messenger)? But those who disbelieve, they are the ensnared!
Yusuf AliOr do they intend a plot (against thee)? But those who defy Allah are themselves involved in a Plot!
The agreed readingOr do they intend a plot? Then those who refuse are themselves the ones plotted against, and their plot falls back on them.
Urduیا کیا وہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ تو انکار کرنے والے خود ہی وہ ہیں جن کے خلاف چال چلی جا رہی ہے، اور ان کی چال انہی پر پلٹ آئے گی۔
Arabicأم يريدون بك كيدًا خفيًا يكيدونه لك ولدعوتك؟ فالذين كفروا بربهم هم أنفسهم المكيدون المستهدفون بهذا الكيد في الحقيقة، وكيدهم يرتد عليهم هم أنفسهم لا على غيرهم أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallOr have they any god beside Allah? Glorified be Allah from all that they ascribe as partner (unto Him)!
Yusuf AliOr have they a god other than Allah? Exalted is Allah far above the things they associate with Him!
The agreed readingOr do they have a god other than God? Glory be to God, far above what they set up as partners with Him.
Urduیا کیا ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی اور الگ معبود بھی موجود ہے جسے وہ پوجتے ہوں؟ اللہ ہر اس چیز سے پاک اور بلند ہے جسے وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، وہ اس سے بہت اوپر اور بہت بلند ہے۔
Arabicأم لهم إله آخر حقيقي غير الله سبحانه يعبدونه من دونه؟ سبحان الله وتنزّه تنزيهًا تامًا عما يشركون به من الآلهة الباطلة الزائفة، هو أعلى وأجل وأرفع من ذلك كله بما لا يُقاس.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sits in a sitting and engages in much empty, meaningless speech and then says before getting from that sitting of his: ‘Glory is to You, O Allah, and praise, I bear witness that there is none worthy of worship except You, I seek You forgiveness, and I repent to You, (Subḥānaka Allāhumma wa biḥamdika, ashhadu an lā ilāha illā anta, astaghfiruka wa atūbu ilaik)’ whatever occurred in that sitting would be forgiven to him.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہو جائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اور ہم اسے سہیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated 'Aishah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What an excellent condiment vinegar is." Another chain with similar except that he (ﷺ) said: "What an excellent condiment, or, (the most excellent of) condiments is vinegar." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib from this route. It is not known as a Hadith of Hisham bin 'Urwah except through the narration of Sulaiman bin Bilal
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“۔
Aishah narrated:"When the Prophet opened the Salat he would say: (Subhanaka Allahumma wa bihamdika wa tabarakasmuka, wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk)" 'Glorious You are O Allah, and with Your praise, and blessed is Your Name, and exalted is Your majesty, and none has the right to be worshipped but You
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حارثہ کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے۔
It was narrated that Abu Sa'eed said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray, he would say: 'Subhanakallahumma, wa bihamdika tabarakasmuka wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk (Glory and praise be to You, O Allah. Blessed be Your name and exalted be Your majesty, there is none worthy of worship except You)
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سبحانك اللہم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» اے اللہ! تو ( تمام عیبوں سے ) پاک ہے، اور لائق حمد تو ہی ہے، اور بابرکت ہے تیرا نام، اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Asim ibn Humayd said: I asked Aisha: By what words the Messenger of Allah (ﷺ) would begin his supererogatory prayer at night? She replied: You ask me about a thing of which no one asked me before you. When he stood up, be uttered the takbir (Allah is most great) ten times, and uttered "Praise be to Allah" ten times, and uttered "Glory be to Allah " ten times, and uttered "There is no god but Allah" ten times, and sought forgiveness ten times, and said: O Allah, forgive me, and guide me, and give me sustenance, and keep me well, and he sought refuge in Allah from the hardship of standing before Allah on the Day of Judgment. Abu Dawud said: This tradition has …
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل ( تہجد ) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دس بار «الله اكبر» ، دس بار «الحمد الله» ، دس بار«سبحان الله» ، دس بار «لا إله إلا الله» ، اور دس بار «استغفر الله» کہتے اور یہ دعا کرتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ ، پھر قیامت کے دن ( سوال کے لیے ) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پناہ مانگتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن معدان نے ربیعہ جرشی سے …
It was narrated that ‘Asim bin Humaid said:“I asked ‘Aishah: ‘With what did the Prophet (ﷺ) start voluntary prayers?’ She said: ‘You have asked me about something which no one has asked before. He used to say Allahu Akbar ten times, and Al-Hamdu Lillah ten times and Subhan Allah ten times, and he would say Allahumma aghfirli wahdini, warzuqni, wa ‘afini (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and give me good health),” and he would seek refuge from the difficulty of the standing on the Day of Resurrection.”
(عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر»، دس مرتبہ «الحمد لله»، دس مرتبہ «سبحان الله»، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے ) ۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallAnd if they were to see a fragment of the heaven falling, they would say: A heap of clouds.
Yusuf AliWere they to see a piece of the sky falling (on them), they would (only) say: "Clouds gathered in heaps!"
The agreed readingAnd if they saw a piece of the sky falling on them they would say: clouds heaped up. The commentaries put the same reading on it - the refusal has gone so far that a punishment arriving in front of them would be explained away as weather.
Urduاور اگر وہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اپنے اوپر گرتا دیکھ لیں تو کہیں گے: تہہ بہ تہہ بادل ہیں۔ مفسرین اسی طرح کی تشریح کرتے ہیں - انکار اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ان کے سامنے آنے والا عذاب بھی موسم کی بات بنا کر ٹال دیا جائے گا۔
Arabicوإن يروا كسفًا من السماء ساقطًا عليهم يقولوا: سحاب متراكم بعضه فوق بعض. ويضع المفسرون التفسير نفسه عليها - بلغ الإنكار حدًا بحيث يُفسَّر العذاب النازل أمامهم على أنه مجرد حالة جوية عابرة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sits in a sitting and engages in much empty, meaningless speech and then says before getting from that sitting of his: ‘Glory is to You, O Allah, and praise, I bear witness that there is none worthy of worship except You, I seek You forgiveness, and I repent to You, (Subḥānaka Allāhumma wa biḥamdika, ashhadu an lā ilāha illā anta, astaghfiruka wa atūbu ilaik)’ whatever occurred in that sitting would be forgiven to him.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہو جائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اور ہم اسے سہیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ubadah bin As-Samit, may Allah be pleased with him, narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wakes up in the night and says, ‘None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner, to Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He has power over all things. And Glory is to Allah, and all the praise is to Allah, and ‘None has the right to be worshiped but Allah, and Allah is the greatest, and there is no might nor power except by Allah (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Wa subḥān Allah, walḥamdulillāh, wa lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā …
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
‘Ubadah b. al-Samit reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; If anyone is alarmed while asleep and he says when awakes :there is no god but Allah alone Who has no partner, to whom dominion belongs, to whom praise is due, and who has power over everything (omnipotent). Glory be to Allah, and praise be to Allah, and there is no god but Allah, and then he prays: O my Lord, forgive me. Abu Dawud said : Al-Walid’s version has; and he prays, his prayer will be answered. If he gets up, performs ablution, and prays, his prayer will be accepted
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے«لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہا پھر دعا کی «رب اغفر لي» کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے ( ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی ) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی ۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran.' He said: 'Say: SubhanAllah, wal-hamdulilah, wa la illaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent)
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
Narrated 'Ubada bin As-Samit:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever gets up at night and says: -- 'La ilaha il-lallah Wahdahu la Sharika lahu Lahu-lmulk, waLahu-l-hamd wahuwa 'ala kullishai'in Qadir. Al hamdu lil-lahi wa subhanal-lahi wa la-ilaha il-lal-lah wa-l-lahu akbar wa la hawla Wala Quwata il-la-bil-lah.' (None has the right to be worshipped but Allah. He is the Only One and has no partners . For Him is the Kingdom and all the praises are due for Him. He is Omnipotent. All the praises are for Allah. All the glories are for Allah. And none has the right to be worshipped but Allah, And Allah is Great And there is neither Might nor Power Except with Allah). And then says: -- Allahumma, Ighfir …
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے امام اوزاعی سے خبر دی، کہا کہ مجھ کو عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله، وسبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله» ( ترجمہ ) ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا …
Narrated 'Aishah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What an excellent condiment vinegar is." Another chain with similar except that he (ﷺ) said: "What an excellent condiment, or, (the most excellent of) condiments is vinegar." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib from this route. It is not known as a Hadith of Hisham bin 'Urwah except through the narration of Sulaiman bin Bilal
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“۔
Aishah narrated:"When the Prophet opened the Salat he would say: (Subhanaka Allahumma wa bihamdika wa tabarakasmuka, wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk)" 'Glorious You are O Allah, and with Your praise, and blessed is Your Name, and exalted is Your majesty, and none has the right to be worshipped but You
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حارثہ کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے۔
It was narrated that Abu Sa'eed said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray, he would say: 'Subhanakallahumma, wa bihamdika tabarakasmuka wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk (Glory and praise be to You, O Allah. Blessed be Your name and exalted be Your majesty, there is none worthy of worship except You)
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سبحانك اللہم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» اے اللہ! تو ( تمام عیبوں سے ) پاک ہے، اور لائق حمد تو ہی ہے، اور بابرکت ہے تیرا نام، اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Asim ibn Humayd said: I asked Aisha: By what words the Messenger of Allah (ﷺ) would begin his supererogatory prayer at night? She replied: You ask me about a thing of which no one asked me before you. When he stood up, be uttered the takbir (Allah is most great) ten times, and uttered "Praise be to Allah" ten times, and uttered "Glory be to Allah " ten times, and uttered "There is no god but Allah" ten times, and sought forgiveness ten times, and said: O Allah, forgive me, and guide me, and give me sustenance, and keep me well, and he sought refuge in Allah from the hardship of standing before Allah on the Day of Judgment. Abu Dawud said: This tradition has …
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل ( تہجد ) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دس بار «الله اكبر» ، دس بار «الحمد الله» ، دس بار«سبحان الله» ، دس بار «لا إله إلا الله» ، اور دس بار «استغفر الله» کہتے اور یہ دعا کرتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ ، پھر قیامت کے دن ( سوال کے لیے ) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پناہ مانگتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن معدان نے ربیعہ جرشی سے …
PickthallThen let them be (O Muhammad), till they meet their day, in which they will be thunder-stricken,
Yusuf AliSo leave them alone until they encounter that Day of theirs, wherein they shall (perforce) swoon (with terror),-
The agreed readingSo leave them until they meet their day, the day they will be struck down. Both traditions gloss the word as dying - they are felled where they stand - and relate it to the first blast, at which everything living is destroyed.
Urduسو انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے جا ملیں، جس دن انہیں بے ہوش کر کے گرا دیا جائے گا۔ دونوں روایتیں اس لفظ کی تشریح موت سے کرتی ہیں - وہ جہاں کھڑے ہیں وہیں گر جائیں گے - اور اسے پہلے صور سے جوڑتی ہیں، جس پر ہر زندہ چیز فنا ہو جاتی ہے۔
Arabicفذرهم واتركهم حتى يلاقوا يومهم الذي فيه يُصعقون ويُصرعون. ويفسّر التقليدان معًا هذه الكلمة بالموت - يسقطون حيث يقفون فجأة - ويربطانها بالنفخة الأولى في الصور، التي يهلك عندها كل حي على وجه الأرض.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sits in a sitting and engages in much empty, meaningless speech and then says before getting from that sitting of his: ‘Glory is to You, O Allah, and praise, I bear witness that there is none worthy of worship except You, I seek You forgiveness, and I repent to You, (Subḥānaka Allāhumma wa biḥamdika, ashhadu an lā ilāha illā anta, astaghfiruka wa atūbu ilaik)’ whatever occurred in that sitting would be forgiven to him.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہو جائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اور ہم اسے سہیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ubadah bin As-Samit, may Allah be pleased with him, narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wakes up in the night and says, ‘None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner, to Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He has power over all things. And Glory is to Allah, and all the praise is to Allah, and ‘None has the right to be worshiped but Allah, and Allah is the greatest, and there is no might nor power except by Allah (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Wa subḥān Allah, walḥamdulillāh, wa lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā …
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
‘Ubadah b. al-Samit reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; If anyone is alarmed while asleep and he says when awakes :there is no god but Allah alone Who has no partner, to whom dominion belongs, to whom praise is due, and who has power over everything (omnipotent). Glory be to Allah, and praise be to Allah, and there is no god but Allah, and then he prays: O my Lord, forgive me. Abu Dawud said : Al-Walid’s version has; and he prays, his prayer will be answered. If he gets up, performs ablution, and prays, his prayer will be accepted
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے«لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہا پھر دعا کی «رب اغفر لي» کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے ( ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی ) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی ۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran.' He said: 'Say: SubhanAllah, wal-hamdulilah, wa la illaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent)
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
Narrated 'Ubada bin As-Samit:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever gets up at night and says: -- 'La ilaha il-lallah Wahdahu la Sharika lahu Lahu-lmulk, waLahu-l-hamd wahuwa 'ala kullishai'in Qadir. Al hamdu lil-lahi wa subhanal-lahi wa la-ilaha il-lal-lah wa-l-lahu akbar wa la hawla Wala Quwata il-la-bil-lah.' (None has the right to be worshipped but Allah. He is the Only One and has no partners . For Him is the Kingdom and all the praises are due for Him. He is Omnipotent. All the praises are for Allah. All the glories are for Allah. And none has the right to be worshipped but Allah, And Allah is Great And there is neither Might nor Power Except with Allah). And then says: -- Allahumma, Ighfir …
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے امام اوزاعی سے خبر دی، کہا کہ مجھ کو عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله، وسبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله» ( ترجمہ ) ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا …
Narrated 'Aishah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What an excellent condiment vinegar is." Another chain with similar except that he (ﷺ) said: "What an excellent condiment, or, (the most excellent of) condiments is vinegar." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib from this route. It is not known as a Hadith of Hisham bin 'Urwah except through the narration of Sulaiman bin Bilal
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“۔
Aishah narrated:"When the Prophet opened the Salat he would say: (Subhanaka Allahumma wa bihamdika wa tabarakasmuka, wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk)" 'Glorious You are O Allah, and with Your praise, and blessed is Your Name, and exalted is Your majesty, and none has the right to be worshipped but You
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حارثہ کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے۔
It was narrated that Abu Sa'eed said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray, he would say: 'Subhanakallahumma, wa bihamdika tabarakasmuka wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk (Glory and praise be to You, O Allah. Blessed be Your name and exalted be Your majesty, there is none worthy of worship except You)
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سبحانك اللہم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» اے اللہ! تو ( تمام عیبوں سے ) پاک ہے، اور لائق حمد تو ہی ہے، اور بابرکت ہے تیرا نام، اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Asim ibn Humayd said: I asked Aisha: By what words the Messenger of Allah (ﷺ) would begin his supererogatory prayer at night? She replied: You ask me about a thing of which no one asked me before you. When he stood up, be uttered the takbir (Allah is most great) ten times, and uttered "Praise be to Allah" ten times, and uttered "Glory be to Allah " ten times, and uttered "There is no god but Allah" ten times, and sought forgiveness ten times, and said: O Allah, forgive me, and guide me, and give me sustenance, and keep me well, and he sought refuge in Allah from the hardship of standing before Allah on the Day of Judgment. Abu Dawud said: This tradition has …
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل ( تہجد ) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دس بار «الله اكبر» ، دس بار «الحمد الله» ، دس بار«سبحان الله» ، دس بار «لا إله إلا الله» ، اور دس بار «استغفر الله» کہتے اور یہ دعا کرتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ ، پھر قیامت کے دن ( سوال کے لیے ) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پناہ مانگتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن معدان نے ربیعہ جرشی سے …
PickthallA day in which their guile will naught avail them, nor will they be helped.
Yusuf AliThe Day when their plotting will avail them nothing and no help shall be given them.
The agreed readingThe day their plotting will do nothing for them, and they will not be helped. The commentaries of both traditions gloss the second half the same way: no one will step in to hold the punishment off them.
Urduاس دن ان کی چال انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں دے گی، اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ دونوں روایتوں کی تفاسیر دوسرے حصے کی تشریح ایک ہی طرح کرتی ہیں: کوئی بھی آگے بڑھ کر عذاب کو ان سے دور نہیں کرے گا۔
Arabicيوم لا يغني عنهم كيدهم شيئًا مهما دبّروه، ولا هم ينصرون من عذاب الله. وتفسّر تفاسير التقليدين معًا الشطر الثاني بالطريقة نفسها: لن يتدخل أحد ليدفع عنهم العذاب النازل بهم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sits in a sitting and engages in much empty, meaningless speech and then says before getting from that sitting of his: ‘Glory is to You, O Allah, and praise, I bear witness that there is none worthy of worship except You, I seek You forgiveness, and I repent to You, (Subḥānaka Allāhumma wa biḥamdika, ashhadu an lā ilāha illā anta, astaghfiruka wa atūbu ilaik)’ whatever occurred in that sitting would be forgiven to him.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہو جائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اور ہم اسے سہیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ubadah bin As-Samit, may Allah be pleased with him, narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wakes up in the night and says, ‘None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner, to Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He has power over all things. And Glory is to Allah, and all the praise is to Allah, and ‘None has the right to be worshiped but Allah, and Allah is the greatest, and there is no might nor power except by Allah (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Wa subḥān Allah, walḥamdulillāh, wa lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā …
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
‘Ubadah b. al-Samit reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; If anyone is alarmed while asleep and he says when awakes :there is no god but Allah alone Who has no partner, to whom dominion belongs, to whom praise is due, and who has power over everything (omnipotent). Glory be to Allah, and praise be to Allah, and there is no god but Allah, and then he prays: O my Lord, forgive me. Abu Dawud said : Al-Walid’s version has; and he prays, his prayer will be answered. If he gets up, performs ablution, and prays, his prayer will be accepted
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے«لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہا پھر دعا کی «رب اغفر لي» کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے ( ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی ) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی ۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran.' He said: 'Say: SubhanAllah, wal-hamdulilah, wa la illaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent)
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
Narrated 'Ubada bin As-Samit:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever gets up at night and says: -- 'La ilaha il-lallah Wahdahu la Sharika lahu Lahu-lmulk, waLahu-l-hamd wahuwa 'ala kullishai'in Qadir. Al hamdu lil-lahi wa subhanal-lahi wa la-ilaha il-lal-lah wa-l-lahu akbar wa la hawla Wala Quwata il-la-bil-lah.' (None has the right to be worshipped but Allah. He is the Only One and has no partners . For Him is the Kingdom and all the praises are due for Him. He is Omnipotent. All the praises are for Allah. All the glories are for Allah. And none has the right to be worshipped but Allah, And Allah is Great And there is neither Might nor Power Except with Allah). And then says: -- Allahumma, Ighfir …
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے امام اوزاعی سے خبر دی، کہا کہ مجھ کو عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله، وسبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله» ( ترجمہ ) ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا …
Narrated 'Aishah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What an excellent condiment vinegar is." Another chain with similar except that he (ﷺ) said: "What an excellent condiment, or, (the most excellent of) condiments is vinegar." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib from this route. It is not known as a Hadith of Hisham bin 'Urwah except through the narration of Sulaiman bin Bilal
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“۔
Aishah narrated:"When the Prophet opened the Salat he would say: (Subhanaka Allahumma wa bihamdika wa tabarakasmuka, wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk)" 'Glorious You are O Allah, and with Your praise, and blessed is Your Name, and exalted is Your majesty, and none has the right to be worshipped but You
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حارثہ کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے۔
It was narrated that Abu Sa'eed said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray, he would say: 'Subhanakallahumma, wa bihamdika tabarakasmuka wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk (Glory and praise be to You, O Allah. Blessed be Your name and exalted be Your majesty, there is none worthy of worship except You)
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سبحانك اللہم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» اے اللہ! تو ( تمام عیبوں سے ) پاک ہے، اور لائق حمد تو ہی ہے، اور بابرکت ہے تیرا نام، اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Asim ibn Humayd said: I asked Aisha: By what words the Messenger of Allah (ﷺ) would begin his supererogatory prayer at night? She replied: You ask me about a thing of which no one asked me before you. When he stood up, be uttered the takbir (Allah is most great) ten times, and uttered "Praise be to Allah" ten times, and uttered "Glory be to Allah " ten times, and uttered "There is no god but Allah" ten times, and sought forgiveness ten times, and said: O Allah, forgive me, and guide me, and give me sustenance, and keep me well, and he sought refuge in Allah from the hardship of standing before Allah on the Day of Judgment. Abu Dawud said: This tradition has …
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل ( تہجد ) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دس بار «الله اكبر» ، دس بار «الحمد الله» ، دس بار«سبحان الله» ، دس بار «لا إله إلا الله» ، اور دس بار «استغفر الله» کہتے اور یہ دعا کرتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ ، پھر قیامت کے دن ( سوال کے لیے ) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پناہ مانگتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن معدان نے ربیعہ جرشی سے …
PickthallAnd verily, for those who do wrong, there is a punishment beyond that. But most of them know not.
Yusuf AliAnd verily, for those who do wrong, there is another punishment besides this: But most of them understand not.
The agreed readingAnd for those who do wrong there is a punishment besides that one, but most of them do not know it.
Urduاور جن لوگوں نے ظلم کیا ان کے لیے اس عذاب کے علاوہ بھی ایک اور الگ عذاب مقرر ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ اسے جانتے ہی نہیں ہیں۔
Arabicوإن للذين ظلموا أنفسهم بالكفر والمعاصي عذابًا آخر دون ذلك العذاب المذكور آنفًا، ولكن أكثرهم في غفلتهم لا يعلمون بوجود هذا العذاب الآخر الذي ينتظرهم أصلًا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Baghawī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sits in a sitting and engages in much empty, meaningless speech and then says before getting from that sitting of his: ‘Glory is to You, O Allah, and praise, I bear witness that there is none worthy of worship except You, I seek You forgiveness, and I repent to You, (Subḥānaka Allāhumma wa biḥamdika, ashhadu an lā ilāha illā anta, astaghfiruka wa atūbu ilaik)’ whatever occurred in that sitting would be forgiven to him.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہو جائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اور ہم اسے سہیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ubadah bin As-Samit, may Allah be pleased with him, narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wakes up in the night and says, ‘None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner, to Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He has power over all things. And Glory is to Allah, and all the praise is to Allah, and ‘None has the right to be worshiped but Allah, and Allah is the greatest, and there is no might nor power except by Allah (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Wa subḥān Allah, walḥamdulillāh, wa lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā …
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated 'Ubada bin As-Samit:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever gets up at night and says: -- 'La ilaha il-lallah Wahdahu la Sharika lahu Lahu-lmulk, waLahu-l-hamd wahuwa 'ala kullishai'in Qadir. Al hamdu lil-lahi wa subhanal-lahi wa la-ilaha il-lal-lah wa-l-lahu akbar wa la hawla Wala Quwata il-la-bil-lah.' (None has the right to be worshipped but Allah. He is the Only One and has no partners . For Him is the Kingdom and all the praises are due for Him. He is Omnipotent. All the praises are for Allah. All the glories are for Allah. And none has the right to be worshipped but Allah, And Allah is Great And there is neither Might nor Power Except with Allah). And then says: -- Allahumma, Ighfir …
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے امام اوزاعی سے خبر دی، کہا کہ مجھ کو عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله، وسبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله» ( ترجمہ ) ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا …
‘Ubadah b. al-Samit reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; If anyone is alarmed while asleep and he says when awakes :there is no god but Allah alone Who has no partner, to whom dominion belongs, to whom praise is due, and who has power over everything (omnipotent). Glory be to Allah, and praise be to Allah, and there is no god but Allah, and then he prays: O my Lord, forgive me. Abu Dawud said : Al-Walid’s version has; and he prays, his prayer will be answered. If he gets up, performs ablution, and prays, his prayer will be accepted
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے«لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہا پھر دعا کی «رب اغفر لي» کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے ( ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی ) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی ۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran.' He said: 'Say: SubhanAllah, wal-hamdulilah, wa la illaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent)
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
Narrated 'Aishah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What an excellent condiment vinegar is." Another chain with similar except that he (ﷺ) said: "What an excellent condiment, or, (the most excellent of) condiments is vinegar." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib from this route. It is not known as a Hadith of Hisham bin 'Urwah except through the narration of Sulaiman bin Bilal
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“۔
Aishah narrated:"When the Prophet opened the Salat he would say: (Subhanaka Allahumma wa bihamdika wa tabarakasmuka, wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk)" 'Glorious You are O Allah, and with Your praise, and blessed is Your Name, and exalted is Your majesty, and none has the right to be worshipped but You
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حارثہ کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے۔
It was narrated that Abu Sa'eed said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray, he would say: 'Subhanakallahumma, wa bihamdika tabarakasmuka wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk (Glory and praise be to You, O Allah. Blessed be Your name and exalted be Your majesty, there is none worthy of worship except You)
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سبحانك اللہم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» اے اللہ! تو ( تمام عیبوں سے ) پاک ہے، اور لائق حمد تو ہی ہے، اور بابرکت ہے تیرا نام، اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Asim ibn Humayd said: I asked Aisha: By what words the Messenger of Allah (ﷺ) would begin his supererogatory prayer at night? She replied: You ask me about a thing of which no one asked me before you. When he stood up, be uttered the takbir (Allah is most great) ten times, and uttered "Praise be to Allah" ten times, and uttered "Glory be to Allah " ten times, and uttered "There is no god but Allah" ten times, and sought forgiveness ten times, and said: O Allah, forgive me, and guide me, and give me sustenance, and keep me well, and he sought refuge in Allah from the hardship of standing before Allah on the Day of Judgment. Abu Dawud said: This tradition has …
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل ( تہجد ) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دس بار «الله اكبر» ، دس بار «الحمد الله» ، دس بار«سبحان الله» ، دس بار «لا إله إلا الله» ، اور دس بار «استغفر الله» کہتے اور یہ دعا کرتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ ، پھر قیامت کے دن ( سوال کے لیے ) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پناہ مانگتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن معدان نے ربیعہ جرشی سے …
PickthallSo wait patiently (O Muhammad) for thy Lord's decree, for surely thou art in Our sight; and hymn the praise of thy Lord when thou uprisest,
Yusuf AliNow await in patience the command of thy Lord: for verily thou art in Our eyes: and celebrate the praises of thy Lord the while thou standest forth,
The agreed readingSo wait patiently for the judgement of your Lord, and do not let your heart be narrowed - you are before Our eyes, seen and kept. And glorify your Lord with praise when you rise.
Urduسو اپنے رب کے فیصلے کا صبر کے ساتھ انتظار کرو، اور اپنا دل تنگ نہ ہونے دو - تم ہماری آنکھوں کے سامنے ہو، دیکھے اور محفوظ رکھے جا رہے ہو۔ اور جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو۔
Arabicواصبر لحكم ربك وقضائه، ولا يضق صدرك بما يقولون - فإنك بأعيننا محفوظ مرعي مشمول برعايتنا. وسبّح بحمد ربك حين تقوم من مجلسك أو من نومك.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by al-Baghawī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sits in a sitting and engages in much empty, meaningless speech and then says before getting from that sitting of his: ‘Glory is to You, O Allah, and praise, I bear witness that there is none worthy of worship except You, I seek You forgiveness, and I repent to You, (Subḥānaka Allāhumma wa biḥamdika, ashhadu an lā ilāha illā anta, astaghfiruka wa atūbu ilaik)’ whatever occurred in that sitting would be forgiven to him.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہو جائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اور ہم اسے سہیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ubadah bin As-Samit, may Allah be pleased with him, narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wakes up in the night and says, ‘None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner, to Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He has power over all things. And Glory is to Allah, and all the praise is to Allah, and ‘None has the right to be worshiped but Allah, and Allah is the greatest, and there is no might nor power except by Allah (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Wa subḥān Allah, walḥamdulillāh, wa lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā …
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated 'Ubada bin As-Samit:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever gets up at night and says: -- 'La ilaha il-lallah Wahdahu la Sharika lahu Lahu-lmulk, waLahu-l-hamd wahuwa 'ala kullishai'in Qadir. Al hamdu lil-lahi wa subhanal-lahi wa la-ilaha il-lal-lah wa-l-lahu akbar wa la hawla Wala Quwata il-la-bil-lah.' (None has the right to be worshipped but Allah. He is the Only One and has no partners . For Him is the Kingdom and all the praises are due for Him. He is Omnipotent. All the praises are for Allah. All the glories are for Allah. And none has the right to be worshipped but Allah, And Allah is Great And there is neither Might nor Power Except with Allah). And then says: -- Allahumma, Ighfir …
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے امام اوزاعی سے خبر دی، کہا کہ مجھ کو عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله، وسبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله» ( ترجمہ ) ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا …
‘Ubadah b. al-Samit reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; If anyone is alarmed while asleep and he says when awakes :there is no god but Allah alone Who has no partner, to whom dominion belongs, to whom praise is due, and who has power over everything (omnipotent). Glory be to Allah, and praise be to Allah, and there is no god but Allah, and then he prays: O my Lord, forgive me. Abu Dawud said : Al-Walid’s version has; and he prays, his prayer will be answered. If he gets up, performs ablution, and prays, his prayer will be accepted
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے«لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہا پھر دعا کی «رب اغفر لي» کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے ( ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی ) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی ۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran.' He said: 'Say: SubhanAllah, wal-hamdulilah, wa la illaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent)
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
Narrated 'Aishah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What an excellent condiment vinegar is." Another chain with similar except that he (ﷺ) said: "What an excellent condiment, or, (the most excellent of) condiments is vinegar." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib from this route. It is not known as a Hadith of Hisham bin 'Urwah except through the narration of Sulaiman bin Bilal
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“۔
Aishah narrated:"When the Prophet opened the Salat he would say: (Subhanaka Allahumma wa bihamdika wa tabarakasmuka, wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk)" 'Glorious You are O Allah, and with Your praise, and blessed is Your Name, and exalted is Your majesty, and none has the right to be worshipped but You
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حارثہ کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے۔
It was narrated that Abu Sa'eed said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) started to pray, he would say: 'Subhanakallahumma, wa bihamdika tabarakasmuka wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk (Glory and praise be to You, O Allah. Blessed be Your name and exalted be Your majesty, there is none worthy of worship except You)
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سبحانك اللہم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» اے اللہ! تو ( تمام عیبوں سے ) پاک ہے، اور لائق حمد تو ہی ہے، اور بابرکت ہے تیرا نام، اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Asim ibn Humayd said: I asked Aisha: By what words the Messenger of Allah (ﷺ) would begin his supererogatory prayer at night? She replied: You ask me about a thing of which no one asked me before you. When he stood up, be uttered the takbir (Allah is most great) ten times, and uttered "Praise be to Allah" ten times, and uttered "Glory be to Allah " ten times, and uttered "There is no god but Allah" ten times, and sought forgiveness ten times, and said: O Allah, forgive me, and guide me, and give me sustenance, and keep me well, and he sought refuge in Allah from the hardship of standing before Allah on the Day of Judgment. Abu Dawud said: This tradition has …
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل ( تہجد ) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دس بار «الله اكبر» ، دس بار «الحمد الله» ، دس بار«سبحان الله» ، دس بار «لا إله إلا الله» ، اور دس بار «استغفر الله» کہتے اور یہ دعا کرتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ ، پھر قیامت کے دن ( سوال کے لیے ) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پناہ مانگتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن معدان نے ربیعہ جرشی سے …
PickthallAnd in the night-time also hymn His praise, and at the setting of the stars.
Yusuf AliAnd for part of the night also praise thou Him,- and at the retreat of the stars!
The agreed readingAnd in the night glorify Him, and at the setting of the stars, when they fade at the coming of dawn. The commentaries carry two senses together and do not set them against each other: the words command the remembrance of God in those hours, and they are also read as the prayers that fall in them - the prayers of the night, and the prayer at daybreak.
Urduاور رات کے کچھ حصے میں اس کی تسبیح کرو، اور ستاروں کے ڈوبنے کے وقت بھی، جب وہ صبح کی آمد پر ماند پڑ جاتے ہیں۔ مفسرین دو مفہوم اکٹھے رکھتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے مقابل نہیں رکھتے: یہ الفاظ ان اوقات میں اللہ کے ذکر کا حکم دیتے ہیں، اور انہیں ان اوقات میں آنے والی نمازوں کے طور پر بھی پڑھا جاتا ہے - رات کی نمازیں، اور صبح کی نماز۔
Arabicومن الليل فسبّحه في جزء منه، وإدبار النجوم أيضًا، حين تخفت وتضعف عند مجيء الفجر. ويحمل المفسرون معنيين معًا دون أن يضعوا أحدهما في مقابل الآخر: الألفاظ تأمر بذكر الله في هذه الأوقات، وتُقرأ أيضًا على أنها الصلوات التي تقع فيها - صلوات الليل، وصلاة الفجر عند طلوعه.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
1. Ali has narrated from his father from Hammad ibn ‘Isa and Muhammad ibn Isma’il from al-Fadl ibn Shadhan from Hammad ibn ‘Isa and Muhammad ibn Yahya from Ahmad ibn Muhammad from Hammad ibn ‘Isa from Hariz from Zurarah who has said the following: “Abu Ja’far (a.s.), has said, ‘When you stand up for Salah (prayer) do not allow one foot to touch the other, leave between them a distance of one finger at the least and one Shibr (about 8 inches) at most. Allow your shoulders to relax and leave your hands alone. Do not crisscross your fingers. Instead they should be kept on your thighs on its front side and your eyes should look at the place for prostration. During Ruku‘ position line up your …
علی نے اپنے باپا سے، حماد بن عیسیٰ سے اور محمد بن اسماعیل نے فضل بن شاذان سے، حماد بن عیسیٰ سے روایت کی اور محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، حماد بن عیسیٰ سے، حریز سے، زرارہ سے کہا: ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم نماز میں کھڑے ہو تو اپنا ایک پیر دوسرے سے ملاؤ نہیں، بلکہ ان کے درمیان ایک انگلی کے برابر فاصلہ رکھو، کم از کم ایک انگلی اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت ہو۔ اپنے کندھوں کو آرام دو، اپنے ہاتھوں کو چھوڑ دو، اپنی انگلیوں کو آپس میں ملاؤ نہیں، بلکہ انہیں اپنی رانوں پر اپنے گھٹنوں کے سامنے رکھو، اور اپنی نظر سجدہ کی جگہ پر رکھو۔ جب تم رکوع کرو تو اپنے پیروں کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رکھتے ہوئے صف بندی کرو، اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر مکمل طور پر رکھو، اپنا دایا ہاتھ اپنے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sits in a sitting and engages in much empty, meaningless speech and then says before getting from that sitting of his: ‘Glory is to You, O Allah, and praise, I bear witness that there is none worthy of worship except You, I seek You forgiveness, and I repent to You, (Subḥānaka Allāhumma wa biḥamdika, ashhadu an lā ilāha illā anta, astaghfiruka wa atūbu ilaik)’ whatever occurred in that sitting would be forgiven to him.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہو جائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اور ہم اسے سہیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ubadah bin As-Samit, may Allah be pleased with him, narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wakes up in the night and says, ‘None has the right to be worshiped but Allah, alone, without partner, to Him belongs the Dominion, and to Him is the praise, and He has power over all things. And Glory is to Allah, and all the praise is to Allah, and ‘None has the right to be worshiped but Allah, and Allah is the greatest, and there is no might nor power except by Allah (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, wa huwa `alā kulli shai'in qadīr. Wa subḥān Allah, walḥamdulillāh, wa lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā …
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated 'Ubada bin As-Samit:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever gets up at night and says: -- 'La ilaha il-lallah Wahdahu la Sharika lahu Lahu-lmulk, waLahu-l-hamd wahuwa 'ala kullishai'in Qadir. Al hamdu lil-lahi wa subhanal-lahi wa la-ilaha il-lal-lah wa-l-lahu akbar wa la hawla Wala Quwata il-la-bil-lah.' (None has the right to be worshipped but Allah. He is the Only One and has no partners . For Him is the Kingdom and all the praises are due for Him. He is Omnipotent. All the praises are for Allah. All the glories are for Allah. And none has the right to be worshipped but Allah, And Allah is Great And there is neither Might nor Power Except with Allah). And then says: -- Allahumma, Ighfir …
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے امام اوزاعی سے خبر دی، کہا کہ مجھ کو عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله، وسبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله» ( ترجمہ ) ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا …
‘Ubadah b. al-Samit reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying; If anyone is alarmed while asleep and he says when awakes :there is no god but Allah alone Who has no partner, to whom dominion belongs, to whom praise is due, and who has power over everything (omnipotent). Glory be to Allah, and praise be to Allah, and there is no god but Allah, and then he prays: O my Lord, forgive me. Abu Dawud said : Al-Walid’s version has; and he prays, his prayer will be answered. If he gets up, performs ablution, and prays, his prayer will be accepted
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے«لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہا پھر دعا کی «رب اغفر لي» کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے ( ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی ) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی ۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran.' He said: 'Say: SubhanAllah, wal-hamdulilah, wa la illaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent)
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (765) Sahih Muslim (463)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (765) Sahih Muslim (463)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (765) Sahih Muslim (463)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِالطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ .
Jubair b. Mut’im said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting al-Tur(surah lii) in the sunset prayer
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ الطور پڑھتے ہوئے سنا۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ بِالطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ .
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Muhammad ibn Jubayr ibn Mutim that his father said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, recite at-Tur (Sura 52) in the maghrib prayer
جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ سنا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا سورت طور کو مغرب کی نماز میں
Narrated AbuBarzah al-Aslami: When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to get up from the assembly he used to say in the last. Glory be to Thee. O Allah, and I begin with praise of Thee, I testify that there is no god but Thou; I ask Thy pardon, and return to Thee in repentance. The man asked: Messenger of Allah! you utter the words now which you did not do in the past? He replied: (This is an) atonement for what takes place in the assembly
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے، تو آخر میں فرماتے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اب ایک ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: یہ کفارہ ہے ان ( لغزشوں ) کا جو مجلس میں ہو جاتی ہیں ۔