PickthallSay (O Muhammad): It is revealed unto me that a company of the Jinn gave ear, and they said: Lo! we have heard a marvellous Qur'an,
Yusuf AliSay: It has been revealed to me that a company of Jinns listened (to the Qur'an). They said, 'We have really heard a wonderful Recital!
The agreed readingSay: it has been revealed to me that a company of the jinn listened, and said: we have heard a wondrous recitation. The commentaries agree they heard the Prophet reciting and that he was not told of it until this revelation came.
Urduکہہ دیجیے: میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے کان لگا کر سنا، تو انہوں نے کہا: ہم نے ایک عجیب قرآن سنا۔ قرطبی لکھتے ہیں کہ سورۃ الجن سب کے نزدیک مکی ہے اور اس کی اٹھائیس آیات ہیں۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ اللہ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی قوم کو خبر دیں کہ جنوں نے قرآن سنا، اس پر ایمان لائے، اس کی تصدیق کی اور اس کے مطیع ہو گئے۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے رسول کی طرف اپنی آیات سننے کے لیے موڑ دیا تاکہ ان پر حجت قائم ہو اور نعمت مکمل ہو اور وہ اپنی قوم کے لیے ڈرانے والے بنیں۔
Arabicقل أوحي إلي أنه استمع نفر من الجن فقالوا إنا سمعنا قرآنا عجبا. ذكر القرطبي أن سورة الجن مكية في قول الجميع، وهي ثمان وعشرون آية. وذكر ابن كثير أن الله يأمر رسوله صلى الله عليه وسلم أن يخبر قومه أن الجن استمعوا القرآن فآمنوا به وصدقوه وانقادوا له. وذكر السعدي أن الله صرفهم إلى رسوله لسماع آياته، لتقوم عليهم الحجة وتتم عليهم النعمة ويكونوا منذرين لقومهم.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Rāzī, al-Qurṭubī and Ṭanṭāwī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) neither recited the Qur'an to the Jinn nor did he see them. The Messenger of Allah (ﷺ) went out with some of his Companions with the intention of going to the bazaar of 'Ukaz And there had been (at that time) obstructions between satans and the news from the Heaven, and there were flung flames upon them. So satan went back to their people and they said: What has happened to you? They said: There have been created obstructions between us and the news from the Heaven. And there have been flung upon us flames. They said: It cannot happen but for some (important) event. So traverse the eastern parts of the earth and the western parts and find out …
سعید نے جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں کو قرآن سنایا نہ ان کو دیکھا ۔ ( اصل واقعہ یہ ہے کہ ) رسول اللہﷺ اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف جانے کے ارادے سے چلے ( ان دنوں ) آسمانی خبر اور شیطانوں کے درمیان رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی ( شیطان آسمانی خبریں نہ سن سکتے تھے ) اور ان پر انگارے پھینکے جانے لگے تھے تو شیاطین ( خبریں حاصل کیے بغیر ) اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔ اس پر انہوں نے پوچھا : تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ انہوں ( واپس آنے والوں ) نے کہا : ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا اور ہم پر انگارے پھینکے گئے ۔ انہوں نے کہا : اس کے سوا یہ کسی اور سبب سے نہیں ہوا کہ کوئی نئی بات ظہور پذیر ہوئی ہے ، اس لیے تم زمین کے مشر ق ومغرب …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَلاَ رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ …
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said:the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ …
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) set out with the intention of going to Suq `Ukaz (market of `Ukaz) along with some of his companions. At the same time, a barrier was put between the devils and the news of heaven. Fire commenced to be thrown at them. The Devils went to their people, who asked them, "What is wrong with you?" They said, "A barrier has been placed between us and the news of heaven. And fire has been thrown at us." They said, "The thing which has put a barrier between you and the news of heaven must be something which has happened recently. Go eastward and westward and see what has put a barrier between you and the news of heaven." Those who went towards Tihama came across …
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے ( شہاب ثاقب ) پھینکے جانے لگے تھے۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور ( جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو ) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس …
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) went out along with a group of his companions towards `Ukaz Market. At that time something intervened between the devils and the news of the Heaven, and flames were sent down upon them, so the devils returned. Their fellow-devils said, "What is wrong with you? " They said, "Something has intervened between us and the news of the Heaven, and fires (flames) have been shot at us." Their fellow-devils said, "Nothing has intervened between you and the news of the Heaven, but an important event has happened. Therefore, travel all over the world, east and west, and try to find out what has happened." And so they set out and travelled all over the world, …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ سوق عکاظ ( مکہ اور طائف کے درمیان ایک میدان جہاں عربوں کا مشہور میلہ لگتا تھا ) کا قصد کیا اس زمانہ میں شیاطین تک آسمان کی خبروں کے چرا لینے میں رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی اور ان پر آسمان سے آگ کے انگارے چھوڑے جاتے تھے جب وہ جِن اپنی قوم کے پاس لوٹ کر آئے تو ان کی قوم نے ان سے پوچھا کہ کیا بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ آسمان کی خبروں میں اور ہمارے درمیان رکاوٹ کر دی گئی ہے اور ہم پر آسمان سے آگ کے انگارے برسائے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ آسمان کی خبروں اور تمہارے درمیان رکاوٹ ہونے کی وجہ یہ …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَ رَجُلاً يَقْرَأُ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ * لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ * وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ } فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَجَبَتْ " . فَسَأَلْتُهُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْجَنَّةُ " .
It was narrated that Ubaid bin Hunain, the freed slave of the family of Zaib bin Al-Khattab, said:"I heard Abu Hurairah say: 'I came back (from a journey) with the Messenger of Allah (ﷺ) and he heard a man reciting 'Say: He is Allah, (the) One, Allah-us-Samad (the Self-Sufficient Master). He begets not, nor was He begotten. And there is none equal or comparable unto Him.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is guaranteed.' We asked him: 'What, O Messenger of Allah?' He said: 'Paradise
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» پڑھتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ، میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت ۔
Narrated AbuHurayrah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He then mentioned a tradition like it. This version adds: When they propound that, say: "Say Allah is one. Allah is He to Whom men repair. He has not begotten and He has not been begotten, and no one is equal to Him." Then one should spit three times on his left side and seek refuge in Allah from Satan
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، پھر اس جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے، آپ نے فرمایا: جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو: «الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ۱؎، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے ۔
Ibn Abbas said:“The jinns used to ascent through the heavens, trying to listen about the Revealation. So when they heard a statement, they would add nine to it. The statement that they heard would be true, while what they added was false. So it was with the advent of the Messenger of Allah that they were prevented from their places. So they mentioned that to Iblis – and the stars were not shot at them before that. So Iblis said to them: ‘This is naught but an event that has occurred in the earth.’ So he sent out his armies, and they found the Messenger of Allah standing in Salat between two mountains” – I think he said “in Makkah” – “So they (returned) to meet with him (Iblis), and informed …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جن آسمان کی طرف چڑھ کر وحی سننے جایا کرتے تھے، اور جب وہ ایک بات سن لیتے تو اس میں اور بڑھا لیتے، تو جو بات وہ سنتے وہ تو حق ہوتی لیکن جو بات وہ اس کے ساتھ بڑھا دیتے وہ باطل ہوتی، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرما دیئے گئے تو انہیں ( جنوں کو ) ان کی نشست گاہوں سے روک دیا گیا تو انہوں نے اس بات کا ذکر ابلیس سے کیا: اس سے پہلے انہیں تارے پھینک پھینک کر نہ مارا جاتا تھا، ابلیس نے کہا: زمین میں کوئی نیا حادثہ وقوع پذیر ہوا ہے جبھی ایسا ہوا ہے، اس نے پتا لگانے کے لیے اپنے لشکر کو بھیجا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو پہاڑوں کے درمیان کھڑے نماز پڑھتے ہوئے ملے۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ واقعہ …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ فَقَالَ عَلْقَمَةُ أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ لاَ وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ - قَالَ - فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءٍ مِنْ قِبَلِ حِرَاءٍ - قَالَ - فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ …
Dawud reported from 'Amir who said:I asked 'Alqama if Ibn Mas'ud was present with the Messenger of Allah (ﷺ) on the night of the Jinn (the night when the Prophet met them). He (Ibn Mas'uad) said: No, but we were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) one night and we missed him. We searched for him in the valleys and the hills and said. He has either been taken away (by jinn) or has been secretly killed. He (the narrator) said. We spent the worst night which people could ever spend. When it was dawn we saw him coming from the side of Hiri'. He (the narrator) reported. We said: Messenger of Allah, we missed you and searched for you, but we could not find you and we spent the worst …
۔ عبد الاعلیٰ نے داؤد سے اور انہوں نے عامر ( بن شراحیل ) سے روایت کی ، کہا : میں نے علقمہ سے پوچھا : کیا جنوں ( سے ملاقات ) کی رات عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ کے ساتھ تھے؟ کہا : علقمہ نے جواب دیا : میں نے خود ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ لوگوں میں سے کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہﷺ کے ساتھ موجود تھا؟ انہوں نے کہا : نہیں ، لیکن ایک رات ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے تو ہم نے آپ کو گم پایا ، ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا ، ( آپ نہ ملے ) تو ہم نے کہا کہ آپ کو اڑا لیا گیا ہے یا آپ کو بے خبری میں قتل کر دیا گیا ہے ، کہا : ہم نے بدترین رات گزاری جو کسی قوم نے ( کبھی ) گزاری ہو گی ۔ جب ہم نے صبح کی تو اچانک دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں ، …
PickthallWhich guideth unto righteousness, so we believe in it and we ascribe no partner unto our Lord.
Yusuf Ali'It gives guidance to the Right, and we have believed therein: we shall not join (in worship) any (gods) with our Lord.
The agreed readingIt guides to right conduct, so we have believed in it; and we shall never set up any partner with our Lord. The commentaries note that hearing was enough — they believed on the spot.
Urduوہ سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے، اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ تفسیر مقباس کے مطابق قرآن پر ایمان اس کے لانے والے اور اسے اتارنے والے پر ایمان کا تقاضا کرتا ہے، اسی لیے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور ان جنوں کو اللہ اور اس کی صفات کی معرفت کا شرف حاصل ہوا۔
Arabicيهدي إلى الرشد فآمنا به ولن نشرك بربنا أحدا. جاء في تفسير مقباس أن الإيمان بالقرآن يقتضي الإيمان بمن جاء به وبمن أنزله، ولذلك قالوا ولن نشرك بربنا أحدا، وقد حصل لهؤلاء النفر من الجن شرف المعرفة بالله وصفاته.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Rāzī and al-Qurṭubī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) neither recited the Qur'an to the Jinn nor did he see them. The Messenger of Allah (ﷺ) went out with some of his Companions with the intention of going to the bazaar of 'Ukaz And there had been (at that time) obstructions between satans and the news from the Heaven, and there were flung flames upon them. So satan went back to their people and they said: What has happened to you? They said: There have been created obstructions between us and the news from the Heaven. And there have been flung upon us flames. They said: It cannot happen but for some (important) event. So traverse the eastern parts of the earth and the western parts and find out …
سعید نے جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں کو قرآن سنایا نہ ان کو دیکھا ۔ ( اصل واقعہ یہ ہے کہ ) رسول اللہﷺ اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف جانے کے ارادے سے چلے ( ان دنوں ) آسمانی خبر اور شیطانوں کے درمیان رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی ( شیطان آسمانی خبریں نہ سن سکتے تھے ) اور ان پر انگارے پھینکے جانے لگے تھے تو شیاطین ( خبریں حاصل کیے بغیر ) اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔ اس پر انہوں نے پوچھا : تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ انہوں ( واپس آنے والوں ) نے کہا : ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا اور ہم پر انگارے پھینکے گئے ۔ انہوں نے کہا : اس کے سوا یہ کسی اور سبب سے نہیں ہوا کہ کوئی نئی بات ظہور پذیر ہوئی ہے ، اس لیے تم زمین کے مشر ق ومغرب …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَلاَ رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ …
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said:the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ …
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) set out with the intention of going to Suq `Ukaz (market of `Ukaz) along with some of his companions. At the same time, a barrier was put between the devils and the news of heaven. Fire commenced to be thrown at them. The Devils went to their people, who asked them, "What is wrong with you?" They said, "A barrier has been placed between us and the news of heaven. And fire has been thrown at us." They said, "The thing which has put a barrier between you and the news of heaven must be something which has happened recently. Go eastward and westward and see what has put a barrier between you and the news of heaven." Those who went towards Tihama came across …
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے ( شہاب ثاقب ) پھینکے جانے لگے تھے۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور ( جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو ) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَ رَجُلاً يَقْرَأُ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ * لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ * وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ } فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَجَبَتْ " . فَسَأَلْتُهُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْجَنَّةُ " .
It was narrated that Ubaid bin Hunain, the freed slave of the family of Zaib bin Al-Khattab, said:"I heard Abu Hurairah say: 'I came back (from a journey) with the Messenger of Allah (ﷺ) and he heard a man reciting 'Say: He is Allah, (the) One, Allah-us-Samad (the Self-Sufficient Master). He begets not, nor was He begotten. And there is none equal or comparable unto Him.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is guaranteed.' We asked him: 'What, O Messenger of Allah?' He said: 'Paradise
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» پڑھتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ، میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت ۔
Narrated AbuHurayrah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He then mentioned a tradition like it. This version adds: When they propound that, say: "Say Allah is one. Allah is He to Whom men repair. He has not begotten and He has not been begotten, and no one is equal to Him." Then one should spit three times on his left side and seek refuge in Allah from Satan
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، پھر اس جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے، آپ نے فرمایا: جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو: «الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ۱؎، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے ۔
Ibn Abbas said:“The jinns used to ascent through the heavens, trying to listen about the Revealation. So when they heard a statement, they would add nine to it. The statement that they heard would be true, while what they added was false. So it was with the advent of the Messenger of Allah that they were prevented from their places. So they mentioned that to Iblis – and the stars were not shot at them before that. So Iblis said to them: ‘This is naught but an event that has occurred in the earth.’ So he sent out his armies, and they found the Messenger of Allah standing in Salat between two mountains” – I think he said “in Makkah” – “So they (returned) to meet with him (Iblis), and informed …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جن آسمان کی طرف چڑھ کر وحی سننے جایا کرتے تھے، اور جب وہ ایک بات سن لیتے تو اس میں اور بڑھا لیتے، تو جو بات وہ سنتے وہ تو حق ہوتی لیکن جو بات وہ اس کے ساتھ بڑھا دیتے وہ باطل ہوتی، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرما دیئے گئے تو انہیں ( جنوں کو ) ان کی نشست گاہوں سے روک دیا گیا تو انہوں نے اس بات کا ذکر ابلیس سے کیا: اس سے پہلے انہیں تارے پھینک پھینک کر نہ مارا جاتا تھا، ابلیس نے کہا: زمین میں کوئی نیا حادثہ وقوع پذیر ہوا ہے جبھی ایسا ہوا ہے، اس نے پتا لگانے کے لیے اپنے لشکر کو بھیجا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو پہاڑوں کے درمیان کھڑے نماز پڑھتے ہوئے ملے۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ واقعہ …
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) went out along with a group of his companions towards `Ukaz Market. At that time something intervened between the devils and the news of the Heaven, and flames were sent down upon them, so the devils returned. Their fellow-devils said, "What is wrong with you? " They said, "Something has intervened between us and the news of the Heaven, and fires (flames) have been shot at us." Their fellow-devils said, "Nothing has intervened between you and the news of the Heaven, but an important event has happened. Therefore, travel all over the world, east and west, and try to find out what has happened." And so they set out and travelled all over the world, …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ سوق عکاظ ( مکہ اور طائف کے درمیان ایک میدان جہاں عربوں کا مشہور میلہ لگتا تھا ) کا قصد کیا اس زمانہ میں شیاطین تک آسمان کی خبروں کے چرا لینے میں رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی اور ان پر آسمان سے آگ کے انگارے چھوڑے جاتے تھے جب وہ جِن اپنی قوم کے پاس لوٹ کر آئے تو ان کی قوم نے ان سے پوچھا کہ کیا بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ آسمان کی خبروں میں اور ہمارے درمیان رکاوٹ کر دی گئی ہے اور ہم پر آسمان سے آگ کے انگارے برسائے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ آسمان کی خبروں اور تمہارے درمیان رکاوٹ ہونے کی وجہ یہ …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ فَقَالَ عَلْقَمَةُ أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ لاَ وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ - قَالَ - فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءٍ مِنْ قِبَلِ حِرَاءٍ - قَالَ - فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ …
Dawud reported from 'Amir who said:I asked 'Alqama if Ibn Mas'ud was present with the Messenger of Allah (ﷺ) on the night of the Jinn (the night when the Prophet met them). He (Ibn Mas'uad) said: No, but we were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) one night and we missed him. We searched for him in the valleys and the hills and said. He has either been taken away (by jinn) or has been secretly killed. He (the narrator) said. We spent the worst night which people could ever spend. When it was dawn we saw him coming from the side of Hiri'. He (the narrator) reported. We said: Messenger of Allah, we missed you and searched for you, but we could not find you and we spent the worst …
۔ عبد الاعلیٰ نے داؤد سے اور انہوں نے عامر ( بن شراحیل ) سے روایت کی ، کہا : میں نے علقمہ سے پوچھا : کیا جنوں ( سے ملاقات ) کی رات عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ کے ساتھ تھے؟ کہا : علقمہ نے جواب دیا : میں نے خود ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ لوگوں میں سے کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہﷺ کے ساتھ موجود تھا؟ انہوں نے کہا : نہیں ، لیکن ایک رات ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے تو ہم نے آپ کو گم پایا ، ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا ، ( آپ نہ ملے ) تو ہم نے کہا کہ آپ کو اڑا لیا گیا ہے یا آپ کو بے خبری میں قتل کر دیا گیا ہے ، کہا : ہم نے بدترین رات گزاری جو کسی قوم نے ( کبھی ) گزاری ہو گی ۔ جب ہم نے صبح کی تو اچانک دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں ، …
PickthallAnd (we believe) that He - exalted be the glory of our Lord! - hath taken neither wife nor son,
Yusuf Ali'And Exalted is the Majesty of our Lord: He has taken neither a wife nor a son.
The agreed readingAnd that our Lord — exalted be His majesty — has taken neither consort nor child.
Urduاور ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے، اس نے نہ کوئی بیوی بنائی اور نہ اولاد۔ علامہ سعدی کے مطابق اس کی عظمت اور تقدس اسی سے ظاہر ہے۔
Arabicوأنه تعالى جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا. ذكر السعدي أن معنى ذلك أنه تعالت عظمته وتقدست أسماؤه سبحانه عن كل نقص، فبطل زعم من زعم له صاحبة أو ولدا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Hadith.5205 - Ibn Mahbub narrated from Ali ibn Ri'ab from Abdullah ibn Sinan from Abu Abdullah (as) regarding a man who pushed another man onto someone else, causing that person's death. Imam (as) said: "The blood money (diyyah) is upon the one who fell onto the man and killed him, and it must be paid to the heirs of the murdered person." Imam (as) further said: "Then the one who was pushed may seek the diyyah from the one who pushed him." Imam (as) also said: "And if the one who was pushed suffers any harm, the responsibility falls upon the one who pushed him as well."
ابن محبوب سے علي بن رئاب سے عبد اللہ بن سنان سے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے: رجل جو رجل کو رجل کے اوپر دھکا دیتا ہے تو وہ مار دیتا ہے۔ فرمایا: دیہ اس پر ہے جو رجل کے اوپر گرا اور وہ قتل ہوا، مقتول کے ولیوں کے لیے۔ اور جو دھکا دیا گیا وہ دیہ کے ساتھ واپس لوٹائے گا جس نے اسے دھکیا۔ اور اگر مدفوع کو کچھ نقصان ہو تو وہ بھی دافع پر ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) neither recited the Qur'an to the Jinn nor did he see them. The Messenger of Allah (ﷺ) went out with some of his Companions with the intention of going to the bazaar of 'Ukaz And there had been (at that time) obstructions between satans and the news from the Heaven, and there were flung flames upon them. So satan went back to their people and they said: What has happened to you? They said: There have been created obstructions between us and the news from the Heaven. And there have been flung upon us flames. They said: It cannot happen but for some (important) event. So traverse the eastern parts of the earth and the western parts and find out …
سعید نے جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں کو قرآن سنایا نہ ان کو دیکھا ۔ ( اصل واقعہ یہ ہے کہ ) رسول اللہﷺ اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف جانے کے ارادے سے چلے ( ان دنوں ) آسمانی خبر اور شیطانوں کے درمیان رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی ( شیطان آسمانی خبریں نہ سن سکتے تھے ) اور ان پر انگارے پھینکے جانے لگے تھے تو شیاطین ( خبریں حاصل کیے بغیر ) اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔ اس پر انہوں نے پوچھا : تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ انہوں ( واپس آنے والوں ) نے کہا : ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا اور ہم پر انگارے پھینکے گئے ۔ انہوں نے کہا : اس کے سوا یہ کسی اور سبب سے نہیں ہوا کہ کوئی نئی بات ظہور پذیر ہوئی ہے ، اس لیے تم زمین کے مشر ق ومغرب …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَلاَ رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ …
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said:the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ …
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) set out with the intention of going to Suq `Ukaz (market of `Ukaz) along with some of his companions. At the same time, a barrier was put between the devils and the news of heaven. Fire commenced to be thrown at them. The Devils went to their people, who asked them, "What is wrong with you?" They said, "A barrier has been placed between us and the news of heaven. And fire has been thrown at us." They said, "The thing which has put a barrier between you and the news of heaven must be something which has happened recently. Go eastward and westward and see what has put a barrier between you and the news of heaven." Those who went towards Tihama came across …
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے ( شہاب ثاقب ) پھینکے جانے لگے تھے۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور ( جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو ) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَ رَجُلاً يَقْرَأُ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ * لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ * وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ } فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَجَبَتْ " . فَسَأَلْتُهُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْجَنَّةُ " .
It was narrated that Ubaid bin Hunain, the freed slave of the family of Zaib bin Al-Khattab, said:"I heard Abu Hurairah say: 'I came back (from a journey) with the Messenger of Allah (ﷺ) and he heard a man reciting 'Say: He is Allah, (the) One, Allah-us-Samad (the Self-Sufficient Master). He begets not, nor was He begotten. And there is none equal or comparable unto Him.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is guaranteed.' We asked him: 'What, O Messenger of Allah?' He said: 'Paradise
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» پڑھتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ، میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت ۔
Narrated AbuHurayrah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He then mentioned a tradition like it. This version adds: When they propound that, say: "Say Allah is one. Allah is He to Whom men repair. He has not begotten and He has not been begotten, and no one is equal to Him." Then one should spit three times on his left side and seek refuge in Allah from Satan
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، پھر اس جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے، آپ نے فرمایا: جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو: «الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ۱؎، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے ۔
Ibn Abbas said:“The jinns used to ascent through the heavens, trying to listen about the Revealation. So when they heard a statement, they would add nine to it. The statement that they heard would be true, while what they added was false. So it was with the advent of the Messenger of Allah that they were prevented from their places. So they mentioned that to Iblis – and the stars were not shot at them before that. So Iblis said to them: ‘This is naught but an event that has occurred in the earth.’ So he sent out his armies, and they found the Messenger of Allah standing in Salat between two mountains” – I think he said “in Makkah” – “So they (returned) to meet with him (Iblis), and informed …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جن آسمان کی طرف چڑھ کر وحی سننے جایا کرتے تھے، اور جب وہ ایک بات سن لیتے تو اس میں اور بڑھا لیتے، تو جو بات وہ سنتے وہ تو حق ہوتی لیکن جو بات وہ اس کے ساتھ بڑھا دیتے وہ باطل ہوتی، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرما دیئے گئے تو انہیں ( جنوں کو ) ان کی نشست گاہوں سے روک دیا گیا تو انہوں نے اس بات کا ذکر ابلیس سے کیا: اس سے پہلے انہیں تارے پھینک پھینک کر نہ مارا جاتا تھا، ابلیس نے کہا: زمین میں کوئی نیا حادثہ وقوع پذیر ہوا ہے جبھی ایسا ہوا ہے، اس نے پتا لگانے کے لیے اپنے لشکر کو بھیجا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو پہاڑوں کے درمیان کھڑے نماز پڑھتے ہوئے ملے۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ واقعہ …
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) went out along with a group of his companions towards `Ukaz Market. At that time something intervened between the devils and the news of the Heaven, and flames were sent down upon them, so the devils returned. Their fellow-devils said, "What is wrong with you? " They said, "Something has intervened between us and the news of the Heaven, and fires (flames) have been shot at us." Their fellow-devils said, "Nothing has intervened between you and the news of the Heaven, but an important event has happened. Therefore, travel all over the world, east and west, and try to find out what has happened." And so they set out and travelled all over the world, …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ سوق عکاظ ( مکہ اور طائف کے درمیان ایک میدان جہاں عربوں کا مشہور میلہ لگتا تھا ) کا قصد کیا اس زمانہ میں شیاطین تک آسمان کی خبروں کے چرا لینے میں رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی اور ان پر آسمان سے آگ کے انگارے چھوڑے جاتے تھے جب وہ جِن اپنی قوم کے پاس لوٹ کر آئے تو ان کی قوم نے ان سے پوچھا کہ کیا بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ آسمان کی خبروں میں اور ہمارے درمیان رکاوٹ کر دی گئی ہے اور ہم پر آسمان سے آگ کے انگارے برسائے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ آسمان کی خبروں اور تمہارے درمیان رکاوٹ ہونے کی وجہ یہ …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ فَقَالَ عَلْقَمَةُ أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ لاَ وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ - قَالَ - فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءٍ مِنْ قِبَلِ حِرَاءٍ - قَالَ - فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ …
Dawud reported from 'Amir who said:I asked 'Alqama if Ibn Mas'ud was present with the Messenger of Allah (ﷺ) on the night of the Jinn (the night when the Prophet met them). He (Ibn Mas'uad) said: No, but we were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) one night and we missed him. We searched for him in the valleys and the hills and said. He has either been taken away (by jinn) or has been secretly killed. He (the narrator) said. We spent the worst night which people could ever spend. When it was dawn we saw him coming from the side of Hiri'. He (the narrator) reported. We said: Messenger of Allah, we missed you and searched for you, but we could not find you and we spent the worst …
۔ عبد الاعلیٰ نے داؤد سے اور انہوں نے عامر ( بن شراحیل ) سے روایت کی ، کہا : میں نے علقمہ سے پوچھا : کیا جنوں ( سے ملاقات ) کی رات عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ کے ساتھ تھے؟ کہا : علقمہ نے جواب دیا : میں نے خود ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ لوگوں میں سے کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہﷺ کے ساتھ موجود تھا؟ انہوں نے کہا : نہیں ، لیکن ایک رات ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے تو ہم نے آپ کو گم پایا ، ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا ، ( آپ نہ ملے ) تو ہم نے کہا کہ آپ کو اڑا لیا گیا ہے یا آپ کو بے خبری میں قتل کر دیا گیا ہے ، کہا : ہم نے بدترین رات گزاری جو کسی قوم نے ( کبھی ) گزاری ہو گی ۔ جب ہم نے صبح کی تو اچانک دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں ، …
PickthallAnd that the foolish one among us used to speak concerning Allah an atrocious lie.
Yusuf Ali'There were some foolish ones among us, who used to utter extravagant lies against Allah;
The agreed readingAnd that the foolish among us used to say an outrageous thing about God — outrageous, the commentaries gloss, in going far past the truth in what it ascribed to Him.
Urduاور ہمارا بےوقوف اللہ کے بارے میں انتہائی بےجا بات کہتا رہا۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ سفیہ سے مراد یہاں وہ ہے جو ہلکی عقل رکھتا ہو۔ رازی بتاتے ہیں کہ سفہ کا مطلب عقل کی ہلکاپن اور شطط کا مطلب ظلم وغیرہ میں حد سے تجاوز کرنا ہے۔ بغوی مجاہد اور قتادہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ اس سے مراد ابلیس ہے، اور علی اللہ شططا کا مطلب جھوٹ اور زیادتی ہے، یعنی اللہ کو شریک اور اولاد سے متصف کرنا۔
Arabicوأنه كان يقول سفيهنا على الله شططا. ذكر القرطبي أن السفيه هنا من كان خفيف العقل. وذكر الرازي أن السفه خفة العقل، والشطط مجاوزة الحد في الظلم وغيره. وذكر البغوي عن مجاهد وقتادة أنه إبليس، وعلى الله شططا يعني كذبا وعدوانا، وهو وصفه بالشريك والولد.
PickthallAnd lo! we had supposed that humankind and jinn would not speak a lie concerning Allah -
Yusuf Ali'But we do think that no man or spirit should say aught that untrue against Allah.
The agreed readingAnd we had supposed that no human or jinn would ever speak a lie about God — until, the commentaries add, they heard the Qur'ān and knew that some had.
Urduاور ہم نے گمان کیا تھا کہ انسان اور جن اللہ پر کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ ہم اس سے پہلے دھوکے میں تھے، جنوں اور انسانوں کے سرداروں نے ہمیں دھوکہ دیا تھا، ہم نے ان کے بارے میں اچھا گمان کیا اور سمجھا کہ وہ اللہ پر جھوٹ بولنے کی جرأت نہیں کریں گے، تو ہم اس سے پہلے ان کے راستے پر تھے۔
Arabicوأنا ظننا أن لن تقول الإنس والجن على الله كذبا. ذكر السعدي أنا كنا مغترين قبل ذلك، غرتنا السادة والرؤساء من الجن والإنس، فأحسنا بهم الظن، وحسبناهم لا يتجرؤون على الكذب على الله، فلذلك كنا قبل ذلك على طريقهم.
PickthallAnd indeed (O Muhammad) individuals of humankind used to invoke the protection of individuals of the jinn, so that they increased them in revolt against Allah);
Yusuf Ali'True, there were persons among mankind who took shelter with persons among the Jinns, but they increased them in folly.
The agreed readingAnd that men among humankind used to seek refuge with men among the jinn, and so increased them in insolence. The commentaries carry the same custom together: a traveller halting at a frightening place would call on the master of the valley for protection, and the jinn grew in arrogance by it.
Urduاور انسانوں میں سے کچھ مرد جنوں میں سے کچھ مردوں کی پناہ مانگتے تھے، تو انہوں نے ان کی سرکشی بڑھا دی۔ رازی اکثر مفسرین کا قول نقل کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی آدمی سفر کرتا اور کسی ویرانے میں شام ہو جاتی اور اسے خوف لاحق ہوتا تو وہ کہتا۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ عرب کا آدمی کسی سنسان وادی میں شام ہونے پر ڈرتا تو کہتا: میں اس وادی کے سردار کی پناہ لیتا ہوں اس کی قوم کے بےوقوفوں سے، یعنی جنوں اور ان کے سردار سے، تو جب جن یہ سنتے تو مزید متکبر ہو جاتے۔ علامہ سعدی بتاتے ہیں کہ انسان خوف اور گھبراہٹ کے وقت جنوں کی پناہ مانگتے اور ان کی عبادت کرتے، تو انسانوں نے جنوں کی سرکشی اور تکبر بڑھا دیا۔
Arabicوأنه كان رجال من الإنس يعوذون برجال من الجن فزادوهم رهقا. ذكر الرازي عن جمهور المفسرين أن الرجل في الجاهلية إذا سافر فأمسى في قفر من الأرض خاف على نفسه. وفسر الزمخشري الرهق بأنه غشيان المحارم، وأن الإنس باستعاذتهم بهم زادوهم كبرا وكفرا، وذلك أن الرجل من العرب كان إذا أمسى في واد قفر في بعض مسايره وخاف على نفسه قال أعوذ بسيد هذا الوادي من سفهاء قومه، يريد الجن وكبيرهم، فإذا سمعوا بذلك ازدادوا. وذكر السعدي أن الإنس كانوا يعوذون بالجن عند المخاوف والأفزاع ويعبدونهم، فزاد الإنس الجن رهقا.
PickthallAnd indeed they supposed, even as ye suppose, that Allah would not raise anyone (from the dead) -
Yusuf Ali'And they (came to) think as ye thought, that Allah would not raise up any one (to Judgment).
The agreed readingAnd they supposed, as you supposed, that God would never raise anyone up — the same denial of the resurrection, the commentaries note, held by jinn and by people alike.
Urduاور انہوں نے بھی ویسا ہی گمان کیا جیسا تم نے گمان کیا کہ اللہ کسی کو ہرگز نہیں اٹھائے گا۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ جب انہوں نے قیامت کا انکار کیا تو شرک اور سرکشی پر اتر آئے۔
Arabicوأنهم ظنوا كما ظننتم أن لن يبعث الله أحدا. ذكر السعدي أنه لما أنكر هؤلاء الجن والإنس البعث، أقدموا على الشرك والطغيان، وهو نفس الظن الباطل الذي ظنه الفريقان معا.
PickthallAnd (the Jinn who had listened to the Qur'an said): We had sought the heaven but had found it filled with strong warders and meteors.
Yusuf Ali'And we pried into the secrets of heaven; but we found it filled with stern guards and flaming fires.
The agreed readingAnd that we sought to reach the heaven and found it filled with stern guards and flames —
Urduاور ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہرے داروں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ جنوں کا قول ہے، یعنی ہم نے اس کی خبر لینی چاہی جیسا ہماری عادت تھی، تو ہم نے پایا کہ وہ سخت نگہبانوں یعنی فرشتوں سے بھری ہوئی ہے۔
Arabicوأنا لمسنا السماء فوجدناها ملئت حرسا شديدا وشهبا. ذكر القرطبي أن هذا من قول الجن، أي طلبنا خبرها كما جرت عادتنا، فوجدناها قد ملئت حرسا شديدا أي حفظة، يعني الملائكة.
PickthallAnd we used to sit on places (high) therein to listen. But he who listeneth now findeth a flame in wait for him;
Yusuf Ali'We used, indeed, to sit there in (hidden) stations, to (steal) a hearing; but any who listen now will find a flaming fire watching him in ambush.
The agreed readingand we used to take up positions there to listen, but whoever listens now finds a flame lying in wait for him. The commentaries agree the barring began when the Prophet was sent, and that this is what sent the jinn looking for its cause.
Urduاور ہم اس میں سننے کے لیے جگہیں پکڑ کر بیٹھتے تھے، تو اب جو کوئی سنے وہ اپنے لیے تاک میں بیٹھا ہوا شعلہ پائے گا۔ جلالین وضاحت کرتے ہیں کہ یہ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے کی بات ہے، اور شعلہ رصدا کا مطلب ہے وہ شعلہ جو اسے مارنے کے لیے تیار کیا گیا ہو۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ وانا کا لفظ دوبارہ لایا گیا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ اس میں موجود خبر ہی اصل مقصود ہے اور اس سے پہلے کی بات محض تمہید تھی۔
Arabicوأنا كنا نقعد منها مقاعد للسمع فمن يستمع الآن يجد له شهابا رصدا. فسر الجلالين هذا بأنه قبل مبعثه، نقعد منها مقاعد للسمع أي نستمع، فمن يستمع الآن يجد له شهابا رصدا أي أرصد له ليرمى به. وفي تفسير مقباس أن كلمة وإنا أعيدت للدلالة على أن الخبر الذي تضمنه هو المقصود وأن ما قبله كالتوطئة له.
PickthallAnd we know not whether harm is boded unto all who are in the earth, or whether their Lord intendeth guidance for them.
Yusuf Ali'And we understand not whether ill is intended to those on earth, or whether their Lord (really) intends to guide them to right conduct.
The agreed readingAnd we do not know whether harm is intended for those on earth, or whether their Lord intends right guidance for them — the commentaries note they could tell something had changed, but not what.
Urduاور ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ معاملہ ان پر بدل گیا، تو اپنی فطانت سے سمجھ گئے کہ یہ اللہ کا ارادہ ہے۔
Arabicوأنا لا ندري أشر أريد بمن في الأرض أم أراد بهم ربهم رشدا. ذكر السعدي أنهم رأوا الأمر تغير عليهم تغيرا أنكروه، فعرفوا بفطنتهم أن هذا الأمر يريده الله ويحدثه في الأرض، وفي هذا بيان لأدبهم إذ أضافوا الخير إلى الله تعالى، والشر حذفوا فاعله تأدبا. وذكر الزمخشري أنهم قالوا: لما حدث هذا الحادث من كثرة الرجم ومنع الاستراق، قلنا ما هذا إلا لأمر أراده الله بأهل الأرض، ولا يخلو من أن يكون شرا أو رشدا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 3 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة4 reports cited here — 3 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
و ما كان فيه عن جرّاح المدائنيّ فقد رويته عن أبي رضي اللّه عنه- عن سعد ابن عبد اللّه، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسين بن سعيد، عن النضر بن سويد، عن القاسم بن سليمان، عن جرّاح المدائنيّ.
Everything in this book that is narrated from Jarrah Al-Mada'ini has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ahmad ibn Muhammad ibn 'Isa, from Al-Husayn ibn Sa'id, from Al-Nadr ibn Suwayd, from Al-Qasim ibn Sulayman, from Jarrah Al-Mada'ini.
اور جو اس کتاب میں جرّاح المدائنی سے روایت ہے تو میں نے اسے اپنے باپ سے روایت کی ہے - اللہ انہیں رضی کرے - سعد بن عبداللہ سے، احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، الحسین بن سعید سے، نضر بن سوید سے، قاسم بن سلیمان سے، جرّاح المدائنی سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَلاَ رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ …
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said:the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ …
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) neither recited the Qur'an to the Jinn nor did he see them. The Messenger of Allah (ﷺ) went out with some of his Companions with the intention of going to the bazaar of 'Ukaz And there had been (at that time) obstructions between satans and the news from the Heaven, and there were flung flames upon them. So satan went back to their people and they said: What has happened to you? They said: There have been created obstructions between us and the news from the Heaven. And there have been flung upon us flames. They said: It cannot happen but for some (important) event. So traverse the eastern parts of the earth and the western parts and find out …
سعید نے جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں کو قرآن سنایا نہ ان کو دیکھا ۔ ( اصل واقعہ یہ ہے کہ ) رسول اللہﷺ اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف جانے کے ارادے سے چلے ( ان دنوں ) آسمانی خبر اور شیطانوں کے درمیان رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی ( شیطان آسمانی خبریں نہ سن سکتے تھے ) اور ان پر انگارے پھینکے جانے لگے تھے تو شیاطین ( خبریں حاصل کیے بغیر ) اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔ اس پر انہوں نے پوچھا : تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ انہوں ( واپس آنے والوں ) نے کہا : ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا اور ہم پر انگارے پھینکے گئے ۔ انہوں نے کہا : اس کے سوا یہ کسی اور سبب سے نہیں ہوا کہ کوئی نئی بات ظہور پذیر ہوئی ہے ، اس لیے تم زمین کے مشر ق ومغرب …
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) set out with the intention of going to Suq `Ukaz (market of `Ukaz) along with some of his companions. At the same time, a barrier was put between the devils and the news of heaven. Fire commenced to be thrown at them. The Devils went to their people, who asked them, "What is wrong with you?" They said, "A barrier has been placed between us and the news of heaven. And fire has been thrown at us." They said, "The thing which has put a barrier between you and the news of heaven must be something which has happened recently. Go eastward and westward and see what has put a barrier between you and the news of heaven." Those who went towards Tihama came across …
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے ( شہاب ثاقب ) پھینکے جانے لگے تھے۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور ( جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو ) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس …
PickthallAnd among us there are righteous folk and among us there are far from that. We are sects having different rules.
Yusuf Ali'There are among us some that are righteous, and some the contrary: we follow divergent paths.
The agreed readingAnd among us are the righteous, and among us are those below that; we are of differing kinds. The commentaries agree the jinn are not one sort, but divided as people are.
Urduاور ہم میں سے کچھ نیک لوگ ہیں اور کچھ اس کے علاوہ، ہم مختلف طریقوں پر تھے۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ جنوں نے اپنے بارے میں خبر دی کہ ہم میں سے نیک لوگ ہیں اور ہم میں سے اس کے سوا بھی ہیں، اور کنا طرائق قددا کا مطلب ہے متعدد اور مختلف راستے۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کے سوا سے مراد فاسق، فاجر اور کافر ہیں، اور طرائق قددا کا مطلب مختلف جماعتیں اور بکھری ہوئی خواہشات ہیں، ہر جماعت اپنے پاس موجود چیز پر خوش ہے۔
Arabicوأنا منا الصالحون ومنا دون ذلك كنا طرائق قددا. ذكر ابن كثير أن الجن أخبروا عن أنفسهم أنا منا الصالحون ومنا دون ذلك، أي غير ذلك، كنا طرائق قددا أي طرائق متعددة مختلفة. وذكر السعدي أن دون ذلك يعني فساقا وفجارا وكفارا، وكنا طرائق قددا أي فرقا متنوعة وأهواء متفرقة، كل حزب بما لديهم فرحون.
PickthallAnd we know that we cannot escape from Allah in the earth, nor can we escape by flight.
Yusuf Ali'But we think that we can by no means frustrate Allah throughout the earth, nor can we frustrate Him by flight.
The agreed readingAnd we know that we can never thwart God on earth, nor thwart Him by flight — not by staying and not by fleeing.
Urduاور ہم جان چکے ہیں کہ نہ زمین میں اللہ کو عاجز کر سکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے عاجز کر سکتے ہیں۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ اب ہم پر اللہ کی مکمل قدرت اور اپنی مکمل بےبسی واضح ہو چکی ہے، اور ہماری پیشانیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں سوائے اسی کی طرف کے۔
Arabicوأنا ظننا أن لن نعجز الله في الأرض ولن نعجزه هربا. ذكر السعدي أنه في وقتنا الآن تبين لنا كمال قدرة الله وكمال عجزنا، وأن نواصينا بيد الله، فلن نعجزه في الأرض ولن نعجزه إن هربنا وسعينا بأسباب الفرار، لا ملجأ منه إلا إليه.
PickthallAnd when we heard the guidance, we believed therein, and whoso believeth in his Lord, he feareth neither loss nor oppression.
Yusuf Ali'And as for us, since we have listened to the Guidance, we have accepted it: and any who believes in his Lord has no fear, either of a short (account) or of any injustice.
The agreed readingAnd when we heard the guidance we believed in it; and whoever believes in his Lord fears neither loss nor oppression. The commentaries gloss the pair as nothing taken from his good deeds, and nothing added to his bad.
Urduاور جب ہم نے ہدایت سنی تو اس پر ایمان لے آئے، تو جو اپنے رب پر ایمان لائے وہ نہ نقصان سے ڈرے گا نہ زیادتی سے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ الھدی سے مراد قرآن ہے، ہم اس پر اور اللہ پر ایمان لائے، اور محمد ﷺ کی رسالت کی تصدیق کی، اور وہ انسانوں اور جنوں دونوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ الھدی سے مراد وہ قرآن کریم ہے جو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے، ہم نے اس کی ہدایت پہچانی تو ہمارے دلوں پر اثر ہوا اور ہم اس پر ایمان لے آئے۔
Arabicوأنا لما سمعنا الهدى آمنا به فمن يؤمن بربه فلا يخاف بخسا ولا رهقا. ذكر القرطبي أن الهدى يعني القرآن، آمنا به وبالله، وصدقنا محمدا صلى الله عليه وسلم على رسالته، وكان مبعوثا إلى الإنس والجن. وذكر السعدي أن الهدى هو القرآن الكريم الهادي إلى الصراط المستقيم، وعرفنا هدايته وإرشاده، أثر في قلوبنا، فآمنا به.
PickthallAnd there are among us some who have surrendered (to Allah) and there are among us some who are unjust. And whoso hath surrendered to Allah, such have taken the right path purposefully.
Yusuf Ali'Amongst us are some that submit their wills (to Allah), and some that swerve from justice. Now those who submit their wills - they have sought out (the path) of right conduct:
The agreed readingAnd among us are those who submit, and among us are those who deviate. Whoever submits — those have sought out right guidance.
Urduاور ہم میں سے کچھ فرمانبردار ہیں اور کچھ ناانصافی کرنے والے، تو جو فرمانبردار ہوا اس نے سیدھی راہ تلاش کر لی۔ رازی بتاتے ہیں کہ قاسط کا مطلب ظالم اور مقسط کا مطلب انصاف کرنے والا ہے۔
Arabicوأنا منا المسلمون ومنا القاسطون فمن أسلم فأولئك تحروا رشدا. ذكر الرازي أن القاسط الجائر، والمقسط العادل. وروى الزمخشري عن سعيد بن جبير رضي الله عنه أن الحجاج قال له حين أراد قتله: ما تقول في؟ قال: قاسط عادل، فقال القوم: ما أحسن ما قال، حسبوا أنه يصفه بالقسط والعدل، فقال الحجاج: يا جهلة، إنه سماني ظالما.
PickthallAnd as for those who are unjust, they are firewood for hell.
Yusuf Ali'But those who swerve,- they are (but) fuel for Hell-fire'-
The agreed readingBut as for those who deviate, they are firewood for Hell — those who turned off the way of truth, the commentaries gloss, and the two halves of the jinn are parted here for good.
Urduلیکن جو ناانصافی کرنے والے ہیں وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔ تفسیر مقباس کے مطابق ان کے سامنے اللہ کا یہ فرمان بھی پڑھا گیا: واما القاسطون فکانوا لجھنم حطبا، اور یہ بھی: ثم الذین کفروا بربھم یعدلون، اور کافروں کے جہنم میں پڑنے کو آگ میں لکڑی پڑنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Arabicوأما القاسطون فكانوا لجهنم حطبا. جاء في تفسير مقباس أنه تلا لهم قوله تعالى وأما القاسطون فكانوا لجهنم حطبا، وقوله تعالى ثم الذين كفروا بربهم يعدلون، وشبه حلول الكافرين في جهنم بحلول الحطب في النار.
PickthallIf they (the idolaters) tread the right path, We shall give them to drink of water in abundance
Yusuf Ali(And Allah's Message is): "If they (the Pagans) had (only) remained on the (right) Way, We should certainly have bestowed on them Rain in abundance.
The agreed readingAnd if they had kept straight on the way, We would have given them abundant water to drink — the commentaries take the abundance as provision opened wide for them, had they held to it.
Urduاور اگر وہ سیدھے راستے پر قائم رہتے تو ہم انہیں خوب پانی پلاتے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے، یعنی اگر یہ کافر ایمان لے آتے تو ہم دنیا میں ان پر کشادگی کرتے اور رزق میں وسعت دیتے۔ زمخشری بتاتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے: مجھ پر یہ بھی وحی کی گئی کہ اگر جن اپنے آبا الجان کی طرح اللہ کی عبادت اور اطاعت پر قائم رہتے اور آدم کو سجدہ کرنے سے تکبر نہ کرتے تو انہیں یہ نعمت دی جاتی۔
Arabicوأن لو استقاموا على الطريقة لأسقيناهم ماء غدقا. ذكر القرطبي أن هذا من قول الله تعالى، أي لو آمن هؤلاء الكفار لوسعنا عليهم في الدنيا وبسطنا لهم في الرزق. وفسر الزمخشري ذلك بأنه أوحي إلي أن الشأن والحديث لو استقام الجن على الطريقة المثلى، أي لو ثبت أبوهم الجان على ما كان عليه من عبادة الله والطاعة ولم يستكبر عن السجود لآدم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Sa'id al-Khudri reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:The most dreadful thing I fear in your case is what Allah brings forth for you in the form of the adornment of the world. They (the Prophet's Companions) said: Messenger of Allah, what is the adornment of the world? He said: Blessings (the natural resources) of the earth. They (again) said: Messenger of Allah, does good produce evil? He said: No, only good comes out of good. No, only good comes out of good. No. only good comes out of good. All that which the spring rain helps to grow kills or is about to kill but (the animal) which feeds on vegetation. It eats and when its flanks are distended, it faces the sun, it chews …
زید بن اسلم نے عطا ء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مجھے تمھارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر دنیا کی اس شادابی اور زینت سے ہے جو اللہ تعا لیٰ تمھا رے لیے ظا ہر کر ے گا ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی دنیا کی شادا بی اور زینت کیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " زمین کی بر کا ت ۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر شر کو لے آتی ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لا تی خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لاتی خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لا تی خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لا تی وہ سب کچھ جو بہا ر اگا تی ہے وہ ( زیادہ کھا نے کی وجہ سے ہو نے والی بد ہضمی کا سبب بن کر ) مار دیتا ہے یا موت …
PickthallThat We may test them thereby, and whoso turneth away from the remembrance of his Lord; He will thrust him into ever-growing torment.
Yusuf Ali"That We might try them by that (means). But if any turns away from the remembrance of his Lord, He will cause him to undergo a severe Penalty.
The agreed readingso as to test them by it. And whoever turns away from the remembrance of his Lord, He will drive him into a mounting punishment. The commentaries agree the giving is itself the test, and that what is given can become the trial.
Urduتاکہ ہم اس میں انہیں آزمائیں، اور جو اپنے رب کے ذکر سے منہ موڑے، اللہ اسے بڑھتے ہوئے عذاب میں ڈال دے گا۔ تفسیر مقباس کے مطابق لنفتنھم فیہ میں فتنہ کی علت پچھلے جملے سے مناسبت رکھتی ہے، کیونکہ یہ پانی پلانے کے تسلسل کی علت ہے، اور پانی پلانا خود ایک آزمائش بن جاتا ہے۔
Arabicلنفتنهم فيه ومن يعرض عن ذكر ربه يسلكه عذابا صعدا. جاء في تفسير مقباس أن التعليل بالإفتان في قوله لنفتنهم فيه يتناسب مع الجملة السابقة إذ يكون تعليلا لما تضمنه معنى إدامة الإسقاء، فإنه تعليل للإسقاء نفسه إذ يصبح هو الفتنة.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Sa'id al-Khudri reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:The most dreadful thing I fear in your case is what Allah brings forth for you in the form of the adornment of the world. They (the Prophet's Companions) said: Messenger of Allah, what is the adornment of the world? He said: Blessings (the natural resources) of the earth. They (again) said: Messenger of Allah, does good produce evil? He said: No, only good comes out of good. No, only good comes out of good. No. only good comes out of good. All that which the spring rain helps to grow kills or is about to kill but (the animal) which feeds on vegetation. It eats and when its flanks are distended, it faces the sun, it chews …
زید بن اسلم نے عطا ء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مجھے تمھارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر دنیا کی اس شادابی اور زینت سے ہے جو اللہ تعا لیٰ تمھا رے لیے ظا ہر کر ے گا ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی دنیا کی شادا بی اور زینت کیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " زمین کی بر کا ت ۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر شر کو لے آتی ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لا تی خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لاتی خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لا تی خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لا تی وہ سب کچھ جو بہا ر اگا تی ہے وہ ( زیادہ کھا نے کی وجہ سے ہو نے والی بد ہضمی کا سبب بن کر ) مار دیتا ہے یا موت …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَلاَ رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ …
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said:the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ …
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) set out with the intention of going to Suq `Ukaz (market of `Ukaz) along with some of his companions. At the same time, a barrier was put between the devils and the news of heaven. Fire commenced to be thrown at them. The Devils went to their people, who asked them, "What is wrong with you?" They said, "A barrier has been placed between us and the news of heaven. And fire has been thrown at us." They said, "The thing which has put a barrier between you and the news of heaven must be something which has happened recently. Go eastward and westward and see what has put a barrier between you and the news of heaven." Those who went towards Tihama came across …
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے ( شہاب ثاقب ) پھینکے جانے لگے تھے۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور ( جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو ) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس …
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) neither recited the Qur'an to the Jinn nor did he see them. The Messenger of Allah (ﷺ) went out with some of his Companions with the intention of going to the bazaar of 'Ukaz And there had been (at that time) obstructions between satans and the news from the Heaven, and there were flung flames upon them. So satan went back to their people and they said: What has happened to you? They said: There have been created obstructions between us and the news from the Heaven. And there have been flung upon us flames. They said: It cannot happen but for some (important) event. So traverse the eastern parts of the earth and the western parts and find out …
سعید نے جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں کو قرآن سنایا نہ ان کو دیکھا ۔ ( اصل واقعہ یہ ہے کہ ) رسول اللہﷺ اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف جانے کے ارادے سے چلے ( ان دنوں ) آسمانی خبر اور شیطانوں کے درمیان رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی ( شیطان آسمانی خبریں نہ سن سکتے تھے ) اور ان پر انگارے پھینکے جانے لگے تھے تو شیاطین ( خبریں حاصل کیے بغیر ) اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔ اس پر انہوں نے پوچھا : تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ انہوں ( واپس آنے والوں ) نے کہا : ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا اور ہم پر انگارے پھینکے گئے ۔ انہوں نے کہا : اس کے سوا یہ کسی اور سبب سے نہیں ہوا کہ کوئی نئی بات ظہور پذیر ہوئی ہے ، اس لیے تم زمین کے مشر ق ومغرب …
PickthallAnd the places of worship are only for Allah, so pray not unto anyone along with Allah.
Yusuf Ali"And the places of worship are for Allah (alone): So invoke not any one along with Allah;
The agreed readingAnd that the places of prostration belong to God, so call on no one alongside God. The commentaries take it as a bar on associating anything with Him at the very moment of worship.
Urduاور یہ کہ سجدہ گاہیں اللہ ہی کے لیے ہیں، تو اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ آیت واپس اللہ کے فرمان قل اوحی الی کی طرف لوٹتی ہے۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ عبادت کے میدان میں اسے یکتا مانیں۔
Arabicوأن المساجد لله فلا تدعوا مع الله أحدا. ذكر القرطبي أن هذا مردود إلى قوله تعالى قل أوحي إلي، أي قل أوحي إلي أن المساجد لله. وذكر ابن كثير أن الله يأمر عباده أن يوحدوه في مجال عبادته، ولا يدعى معه أحد ولا يشرك به. وذكر السعدي أن معناه لا دعاء عبادة ولا دعاء مسألة، فإن المساجد التي هي أعظم محال العبادة مبنية على الإخلاص لله والخضوع لعظمته.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 6 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة7 reports cited here — 6 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Hammad ibn ‘Isa who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘One who enters Makkah in the months of al-Hajj for al- Hajj al-Tamattu‘ (advantageous) must not leave Makkah until he completes al-Hajj. If he for an urgent reason needs to go to ‘Usfan or to Ta’if or to Dhat ‘Irq, he must go in the state of Ihram and enter Makkah saying Talbiyah for al-Hajj. He then continues with his Ihram. If he returns to Makkah, he does so in the state of Ihram and must not go near the House until he goes out with people to Mina’ with his Ihram, as if Mina is his destination.’ I then asked, ‘What happens if he out of ignorance goes to …
علي بن إبراهيم نے اپنے باپ سے، حماد بن عيسی کے ذریعے ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا: جو شخص حج کے مہینوں میں متعے کے لیے مکّہ میں داخل ہو تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ نکلے جب تک کہ حج کو مکمل نہ کر لے۔ اگر اسے عسفان یا طائف یا ذات عرق کو جانے کی ضرورت پیش آئے تو وہ محرم ہو کر نکلے اور لبیّک کہتے ہوئے حج کے لیے داخل ہو۔ تو وہ اپنی احرام پر رہے۔ اگر وہ مکّہ کو واپس آئے تو محرم ہو کر آئے اور بیت کے قریب نہ آئے جب تک کہ وہ لوگوں کے ساتھ منیٰ کو اپنی احرام کے ساتھ نہ نکلے۔ اور اگر وہ چاہے تو اس کا رخ منیٰ کی طرف ہو۔ میں نے کہا: اگر وہ نہ جانتے ہوئے مدینے یا اس جیسی جگہ بغیر احرام کے نکل جائے، پھر حج کے وقت میں، حج کے مہینوں میں واپس آئے اور حج کا قصد رکھے تو کیا وہ مکّہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَلاَ رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ …
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said:the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ …
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "Salat is this Masjid of mine is better than a thousand Salat in another, except for Masjid Al-Haram
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد کی ایک نماز دوسری مساجد کی ہزار نمازوں سے زیادہ بہتر ہے، سوائے مسجد الحرام کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی سندوں سے مروی ہے، ۳- اس باب میں علی، میمونہ، ابوسعید، جبیر بن مطعم، ابن عمر، عبداللہ بن زبیر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, held a race between horses which had been made lean by training, from al-Hafya to Thaniyatu-lWada. He held a race between horses which had not been made lean from the Thaniya (a mountain pass near Madina) to the mosque of the Banu Zurayq. Abdullah ibn Umar was among those who raced them
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط لگائی آگے بڑھنے کی ان گھوڑوں میں جو تیار کئے گئے تھے گھوڑ دوڑ کے لئے خفیا سے ثینہ الوداع تک اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی حدی ثینہ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقرر کی عبداللہ بن عمر بھی گھوڑ دوڑ میں شریک تھے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah organized a race for horses that had been made lean, from Al-Hafya' and its finish line was Thaniyyat Al-Wada', and he organized another race for horses that had not been made lean, from Ath-Thaniyyah to the Masjid of Banu Zuraiq, and 'Abdullah was among those who took part in the race
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدھائے ہوئے گھوڑوں کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ کرایا، ( دوڑ کی ) آخری حد حفیاء سے شروع ہو کر ثنیۃ الوداع تک تھی، ( ایسے ہی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کے درمیان بھی ثنیۃ سے لے کر مسجد بنی زریق کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کرایا جو، غیر تربیت یافتہ تھے ( جو مشقت اور بھوک و تکلیف کے عادی نہ تھے ) ۔ نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اس مقابلے کے دوڑ میں حصہ لیا تھا۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that :The Messenger of Allah (ﷺ) said: "I have been commanded to prostrate on seven and not to tuck up my hair or garment
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that :The Messenger of Allah (ﷺ) said: "I have been commanded to prostrate on seven, and not to tuck up my hair nor my garment: the forehead, the nose, the hands, the knees and the feet
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سات اعضاء: پیشانی اور ناک، دونوں ہتھیلی، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں ۔
PickthallAnd when the slave of Allah stood up in prayer to Him, they crowded on him, almost stifling.
Yusuf Ali"Yet when the Devotee of Allah stands forth to invoke Him, they just make round him a dense crowd."
The agreed readingAnd that when the servant of God stood calling on Him, they were all but on top of him in a crowd. The commentaries agree the servant is the Prophet, and the crowding was of those pressing in at what they saw and heard.
Urduاور جب اللہ کا بندہ اسے پکارنے کھڑا ہوا تو وہ اس پر ٹوٹ پڑنے کے قریب ہو گئے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ عبداللہ سے مراد یہاں محمد ﷺ ہیں، جب وہ وادی نخلہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ رازی بتاتے ہیں کہ عبداللہ سب کے نزدیک نبی ﷺ ہی ہیں۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ اگر پوچھا جائے کہ رسول اللہ یا النبی کیوں نہیں کہا گیا، تو جواب یہ ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا اپنے بارے میں کلام ہے، تو اسے عاجزی اور انکساری کے تقاضے کے مطابق لایا گیا۔
Arabicوأنه لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا. ذكر القرطبي أن عبد الله هنا محمد صلى الله عليه وسلم حين كان يصلي ببطن نخلة. وذكر الرازي أن عبد الله هو النبي صلى الله عليه وسلم في قول الجميع. وفسر الزمخشري ذلك بأنه لما كان واقعا في كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نفسه، جيء به على ما يقتضيه التواضع والتذلل.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَلاَ رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ …
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said:the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ …
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ ـ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ ـ وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ، وَلاَ نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "I have been ordered to prostrate on seven bones i.e. on the forehead along with the tip of the nose and the Prophet (ﷺ) pointed towards his nose, both hands, both knees and the toes of both feet and not to gather the clothes or the hair
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال۔
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا.
Narrated Tawus:Ibn `Abbas said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Do not go to meet the caravans on the way (for buying their goods without letting them know the market price); a town dweller should not sell the goods of a desert dweller on behalf of the latter.' I asked Ibn `Abbas, 'What does he mean by not selling the goods of a desert dweller by a town dweller?' He said, 'He should not become his broker
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو ( ان کو منڈی میں آنے دو ) اور کوئی شہری، کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے“ کا مطلب کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that they (the Arabs of pre-Islamic days) looked upon Umra during the months of Hajj as the greatest of sins on the earth. So they intercalated the month of Muharram for Safar and said:When the backs of their camels would become all right and traces (if the pilgrims) would be effaced (from the paths) and the month of Safar would be over, then Umra would be permissible for one who wants to perform it. When Allah's Apostle (ﷺ) and his Companions came in the state of Ihram for performing Hajj on the fourth (of Dhu'l-Hijja) he (Allah's Apostle) commanded them to change their state of Ihram (from Hajj) to that of 'Umra. It was something …
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے ، انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ( جاہلیت میں ) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ، زمین میں سب سے براکام ہے ۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے : جب ( اونٹوں کا ) پیٹھ کا زخم مندمل ہوجائے ، ( مسافروں کا ) نشان ( قدم ) مٹ جائے اورصفر ( اصل میں محر م ) گزر جائے تو عمرہ والے کے لئے عمرہ کرناجائز ہے ۔ ( حالانکہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ا اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے ، اور ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اپنے حج ( کی نیت ) کو عمرے میں بدل دیں ، یہ بات ان ( صحابہ رضوان …
PickthallSay (unto them, O Muhammad): I pray unto Allah only, and ascribe unto Him no partner.
Yusuf AliSay: "I do no more than invoke my Lord, and I join not with Him any (false god)."
The agreed readingSay: I call only on my Lord, and I set up no partner with Him. The commentaries take it as his answer to those who told him to give up what he was doing.
Urduکہہ دیجیے: میں تو صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ تفسیر مقباس کے مطابق یہ اس بات کی وضاحت ہے کہ نبی ﷺ اکیلے اللہ کی عبادت کرنے کھڑے ہوئے، کیونکہ وہ بتوں کے سوا کسی کو پکارنے کے عادی نہیں تھے، تو وہ اس عظیم واقعے پر جمع ہو گئے جو ان پر گراں گزرا۔
Arabicقل إنما أدعو ربي ولا أشرك به أحدا. جاء في تفسير مقباس أن هذا بيان لكونه قام يعبد الله وحده، فهم لما لم يعتادوا دعاء غير الأصنام تجمعوا لهذا الحدث العظيم عليهم.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَلاَ رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ …
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said:the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ …
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ ـ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ ـ وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ، وَلاَ نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "I have been ordered to prostrate on seven bones i.e. on the forehead along with the tip of the nose and the Prophet (ﷺ) pointed towards his nose, both hands, both knees and the toes of both feet and not to gather the clothes or the hair
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال۔
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا.
Narrated Tawus:Ibn `Abbas said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Do not go to meet the caravans on the way (for buying their goods without letting them know the market price); a town dweller should not sell the goods of a desert dweller on behalf of the latter.' I asked Ibn `Abbas, 'What does he mean by not selling the goods of a desert dweller by a town dweller?' He said, 'He should not become his broker
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو ( ان کو منڈی میں آنے دو ) اور کوئی شہری، کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے“ کا مطلب کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that they (the Arabs of pre-Islamic days) looked upon Umra during the months of Hajj as the greatest of sins on the earth. So they intercalated the month of Muharram for Safar and said:When the backs of their camels would become all right and traces (if the pilgrims) would be effaced (from the paths) and the month of Safar would be over, then Umra would be permissible for one who wants to perform it. When Allah's Apostle (ﷺ) and his Companions came in the state of Ihram for performing Hajj on the fourth (of Dhu'l-Hijja) he (Allah's Apostle) commanded them to change their state of Ihram (from Hajj) to that of 'Umra. It was something …
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے ، انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ( جاہلیت میں ) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ، زمین میں سب سے براکام ہے ۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے : جب ( اونٹوں کا ) پیٹھ کا زخم مندمل ہوجائے ، ( مسافروں کا ) نشان ( قدم ) مٹ جائے اورصفر ( اصل میں محر م ) گزر جائے تو عمرہ والے کے لئے عمرہ کرناجائز ہے ۔ ( حالانکہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ا اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے ، اور ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اپنے حج ( کی نیت ) کو عمرے میں بدل دیں ، یہ بات ان ( صحابہ رضوان …
PickthallSay: Lo! I control not hurt nor benefit for you.
Yusuf AliSay: "It is not in my power to cause you harm, or to bring you to right conduct."
The agreed readingSay: I hold no power to harm you or to guide you rightly — neither of the two is his to give, the commentaries agree, and saying so is part of the message.
Urduکہہ دیجیے: میں تمہارے لیے نہ نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ ہدایت کا۔ تفسیر مقباس کے مطابق یہ ایک ابتدائی جملہ ہے، جو نبی ﷺ پر جو وحی ہوئی اس کے ذکر سے آپ کی طرف ایک نئے خطاب کی طرف انتقال ہے، اس سورت میں جو کچھ اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر وحی کیا اسے بیان کرنے کے بعد۔
Arabicقل إني لا أملك لكم ضرا ولا رشدا. جاء في تفسير مقباس أن هذا استئناف ابتدائي، وهو انتقال من ذكر ما أوحي به إلى النبي صلى الله عليه وسلم إلى توجيه خطاب مستأنف إليه، فبعد أن حكي في هذه السورة ما أوحى الله إلى رسوله صلى الله عليه وسلم.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَلاَ رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ …
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said:the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ …
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ ـ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ ـ وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ، وَلاَ نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "I have been ordered to prostrate on seven bones i.e. on the forehead along with the tip of the nose and the Prophet (ﷺ) pointed towards his nose, both hands, both knees and the toes of both feet and not to gather the clothes or the hair
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال۔
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا.
Narrated Tawus:Ibn `Abbas said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Do not go to meet the caravans on the way (for buying their goods without letting them know the market price); a town dweller should not sell the goods of a desert dweller on behalf of the latter.' I asked Ibn `Abbas, 'What does he mean by not selling the goods of a desert dweller by a town dweller?' He said, 'He should not become his broker
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو ( ان کو منڈی میں آنے دو ) اور کوئی شہری، کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے“ کا مطلب کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that they (the Arabs of pre-Islamic days) looked upon Umra during the months of Hajj as the greatest of sins on the earth. So they intercalated the month of Muharram for Safar and said:When the backs of their camels would become all right and traces (if the pilgrims) would be effaced (from the paths) and the month of Safar would be over, then Umra would be permissible for one who wants to perform it. When Allah's Apostle (ﷺ) and his Companions came in the state of Ihram for performing Hajj on the fourth (of Dhu'l-Hijja) he (Allah's Apostle) commanded them to change their state of Ihram (from Hajj) to that of 'Umra. It was something …
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے ، انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ( جاہلیت میں ) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ، زمین میں سب سے براکام ہے ۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے : جب ( اونٹوں کا ) پیٹھ کا زخم مندمل ہوجائے ، ( مسافروں کا ) نشان ( قدم ) مٹ جائے اورصفر ( اصل میں محر م ) گزر جائے تو عمرہ والے کے لئے عمرہ کرناجائز ہے ۔ ( حالانکہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ا اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے ، اور ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اپنے حج ( کی نیت ) کو عمرے میں بدل دیں ، یہ بات ان ( صحابہ رضوان …
PickthallSay: Lo! none can protect me from Allah, nor can I find any refuge beside Him
Yusuf AliSay: "No one can deliver me from Allah (If I were to disobey Him), nor should I find refuge except in Him,
The agreed readingSay: no one can shield me from God, and I shall find no refuge apart from Him. The commentaries read the three sayings as one answer: he claims nothing for himself that belongs to God.
Urduکہہ دیجیے: مجھے اللہ سے کوئی نہیں بچا سکتا، اور نہ میں اس کے سوا کوئی پناہ گاہ پاؤں گا۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے اگر میں اس سے پناہ چاہوں تو کوئی اس کا عذاب مجھ سے نہیں ٹال سکتا، اور یہ اس لیے کہا گیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ جو دعوت دے رہے ہو وہ چھوڑ دو تو ہم تمہیں پناہ دیں گے۔ جلالین وضاحت کرتے ہیں کہ اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو اس کے عذاب سے، اور ملتحدا کا مطلب پناہ گاہ ہے۔
Arabicقل إني لن يجيرني من الله أحد ولن أجد من دونه ملتحدا. ذكر القرطبي أن معناه لا يدفع عذابه عني أحد إن استحفظته، وهذا لأنهم قالوا اترك ما تدعو إليه ونحن نجيرك. وفسر الجلالين لن يجيرني من الله بأنه من عذابه إن عصيته، وملتحدا بأنه ملتجأ.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَلاَ رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ …
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said:the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ …
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ ـ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ ـ وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ، وَلاَ نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "I have been ordered to prostrate on seven bones i.e. on the forehead along with the tip of the nose and the Prophet (ﷺ) pointed towards his nose, both hands, both knees and the toes of both feet and not to gather the clothes or the hair
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال۔
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا.
Narrated Tawus:Ibn `Abbas said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Do not go to meet the caravans on the way (for buying their goods without letting them know the market price); a town dweller should not sell the goods of a desert dweller on behalf of the latter.' I asked Ibn `Abbas, 'What does he mean by not selling the goods of a desert dweller by a town dweller?' He said, 'He should not become his broker
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو ( ان کو منڈی میں آنے دو ) اور کوئی شہری، کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے“ کا مطلب کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that they (the Arabs of pre-Islamic days) looked upon Umra during the months of Hajj as the greatest of sins on the earth. So they intercalated the month of Muharram for Safar and said:When the backs of their camels would become all right and traces (if the pilgrims) would be effaced (from the paths) and the month of Safar would be over, then Umra would be permissible for one who wants to perform it. When Allah's Apostle (ﷺ) and his Companions came in the state of Ihram for performing Hajj on the fourth (of Dhu'l-Hijja) he (Allah's Apostle) commanded them to change their state of Ihram (from Hajj) to that of 'Umra. It was something …
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے ، انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ( جاہلیت میں ) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ، زمین میں سب سے براکام ہے ۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے : جب ( اونٹوں کا ) پیٹھ کا زخم مندمل ہوجائے ، ( مسافروں کا ) نشان ( قدم ) مٹ جائے اورصفر ( اصل میں محر م ) گزر جائے تو عمرہ والے کے لئے عمرہ کرناجائز ہے ۔ ( حالانکہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ا اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے ، اور ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اپنے حج ( کی نیت ) کو عمرے میں بدل دیں ، یہ بات ان ( صحابہ رضوان …
Pickthall(Mine is) but conveyance (of the Truth) from Allah, and His messages; and whoso disobeyeth Allah and His messenger, lo! his is fire of hell, wherein such dwell for ever.
Yusuf Ali"Unless I proclaim what I receive from Allah and His Messages: for any that disobey Allah and His Messenger,- for them is Hell: they shall dwell therein for ever."
The agreed readingOnly a delivering from God, and His messages. And whoever disobeys God and His messenger — for him is the fire of Hell, to remain in it always. The commentaries agree that delivering the message is the whole of what he was given to do.
Urduسوائے اللہ کی طرف سے پہنچانے اور اس کے پیغامات کے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ رازی اس استثنا کے بارے میں کئی پہلو ذکر کرتے ہیں، ایک یہ کہ یہ لا املک سے استثنا ہے، یعنی میں تمہیں نقصان یا ہدایت پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا سوائے اللہ کی طرف سے پہنچانے کے۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ یہ استثنا ضرا اور رشدا سے منقطع ہے، متصل نہیں۔
Arabicإلا بلاغا من الله ورسالاته ومن يعص الله ورسوله فإن له نار جهنم خالدين فيها أبدا. ذكر الرازي في هذا الاستثناء وجوها، أحدها أنه استثناء من قوله لا أملك، أي لا أملك لكم ضرا ولا رشدا إلا بلاغا من الله. وفي تفسير مقباس أن هذا الاستثناء منقطع من ضرا ورشدا، وليس متصلا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَلاَ رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ …
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said:the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ …
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ ـ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ ـ وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ، وَلاَ نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "I have been ordered to prostrate on seven bones i.e. on the forehead along with the tip of the nose and the Prophet (ﷺ) pointed towards his nose, both hands, both knees and the toes of both feet and not to gather the clothes or the hair
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال۔
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا.
Narrated Tawus:Ibn `Abbas said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Do not go to meet the caravans on the way (for buying their goods without letting them know the market price); a town dweller should not sell the goods of a desert dweller on behalf of the latter.' I asked Ibn `Abbas, 'What does he mean by not selling the goods of a desert dweller by a town dweller?' He said, 'He should not become his broker
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو ( ان کو منڈی میں آنے دو ) اور کوئی شہری، کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے“ کا مطلب کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that they (the Arabs of pre-Islamic days) looked upon Umra during the months of Hajj as the greatest of sins on the earth. So they intercalated the month of Muharram for Safar and said:When the backs of their camels would become all right and traces (if the pilgrims) would be effaced (from the paths) and the month of Safar would be over, then Umra would be permissible for one who wants to perform it. When Allah's Apostle (ﷺ) and his Companions came in the state of Ihram for performing Hajj on the fourth (of Dhu'l-Hijja) he (Allah's Apostle) commanded them to change their state of Ihram (from Hajj) to that of 'Umra. It was something …
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے ، انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ( جاہلیت میں ) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ، زمین میں سب سے براکام ہے ۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے : جب ( اونٹوں کا ) پیٹھ کا زخم مندمل ہوجائے ، ( مسافروں کا ) نشان ( قدم ) مٹ جائے اورصفر ( اصل میں محر م ) گزر جائے تو عمرہ والے کے لئے عمرہ کرناجائز ہے ۔ ( حالانکہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ا اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے ، اور ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اپنے حج ( کی نیت ) کو عمرے میں بدل دیں ، یہ بات ان ( صحابہ رضوان …
PickthallTill (the day) when they shall behold that which they are promised (they may doubt); but then they will know (for certain) who is weaker in allies and less in multitude.
Yusuf AliAt length, when they see (with their own eyes) that which they are promised,- then will they know who it is that is weakest in (his) helper and least important in point of numbers.
The agreed readingUntil, when they see what they are promised, they will know who is weaker in helpers and fewer in number. The commentaries note it answers those who counted his followers and found them few.
Urduیہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے جس کا انہیں وعدہ کیا جاتا ہے، تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون مددگار میں کمزور اور تعداد میں کم ہے۔ تفسیر مقباس کے مطابق جب وہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی دنیا اور آخرت میں مدد کے وعدے کی آیات سنتے اور مشرکین کے شکست اور آخرت کے عذاب کی دھمکی کی آیات سنتے تو یہ آیت انہیں جواب دیتی تھی۔
Arabicحتى إذا رأوا ما يوعدون فسيعلمون من أضعف ناصرا وأقل عددا. جاء في تفسير مقباس أنهم كانوا إذا سمعوا آيات الوعد بنصر الرسول صلى الله عليه وسلم والمسلمين في الدنيا والآخرة، وآيات الوعيد للمشركين بالانهزام وعذاب الآخرة، كانت هذه الآية جوابا لهم.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَلاَ رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ …
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said:the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ …
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ ـ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ ـ وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ، وَلاَ نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "I have been ordered to prostrate on seven bones i.e. on the forehead along with the tip of the nose and the Prophet (ﷺ) pointed towards his nose, both hands, both knees and the toes of both feet and not to gather the clothes or the hair
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال۔
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا.
Narrated Tawus:Ibn `Abbas said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Do not go to meet the caravans on the way (for buying their goods without letting them know the market price); a town dweller should not sell the goods of a desert dweller on behalf of the latter.' I asked Ibn `Abbas, 'What does he mean by not selling the goods of a desert dweller by a town dweller?' He said, 'He should not become his broker
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو ( ان کو منڈی میں آنے دو ) اور کوئی شہری، کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے“ کا مطلب کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that they (the Arabs of pre-Islamic days) looked upon Umra during the months of Hajj as the greatest of sins on the earth. So they intercalated the month of Muharram for Safar and said:When the backs of their camels would become all right and traces (if the pilgrims) would be effaced (from the paths) and the month of Safar would be over, then Umra would be permissible for one who wants to perform it. When Allah's Apostle (ﷺ) and his Companions came in the state of Ihram for performing Hajj on the fourth (of Dhu'l-Hijja) he (Allah's Apostle) commanded them to change their state of Ihram (from Hajj) to that of 'Umra. It was something …
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے ، انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ( جاہلیت میں ) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ، زمین میں سب سے براکام ہے ۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے : جب ( اونٹوں کا ) پیٹھ کا زخم مندمل ہوجائے ، ( مسافروں کا ) نشان ( قدم ) مٹ جائے اورصفر ( اصل میں محر م ) گزر جائے تو عمرہ والے کے لئے عمرہ کرناجائز ہے ۔ ( حالانکہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ا اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے ، اور ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اپنے حج ( کی نیت ) کو عمرے میں بدل دیں ، یہ بات ان ( صحابہ رضوان …
PickthallSay (O Muhammad, unto the disbelievers): I know not whether that which ye are promised is nigh, or if my Lord hath set a distant term for it.
Yusuf AliSay: "I know not whether the (Punishment) which ye are promised is near, or whether my Lord will appoint for it a distant term.
The agreed readingSay: I do not know whether what you are promised is near, or whether my Lord will set a long term for it.
Urduکہہ دیجیے: مجھے نہیں معلوم کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لیے کوئی لمبی مدت رکھے گا۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ اللہ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں سے کہہ دیں کہ قیامت کے وقت کا علم انہیں نہیں۔
Arabicقل إن أدري أقريب ما توعدون أم يجعل له ربي أمدا. ذكر ابن كثير أن الله يأمر رسوله صلى الله عليه وسلم أن يقول للناس إنه لا علم له بوقت الساعة، ولا يدري أقريب وقتها أم بعيد.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 5 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة7 reports cited here — 5 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
و ما كان فيه عن مصادف فقد رويته عن محمّد بن موسى بن المتوكّل- رحمه اللّه- عن عبد اللّه بن جعفر الحميريّ، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسن بن محبوب، عن عليّ بن رئاب، عن مصادف.
Everything in this book that is narrated from Musadif has been transmitted by me from Muhammad ibn Musa ibn Al-Mutawakkil - may Allah (swt) have mercy on him - from Abdullah ibn Jafar Al-Himyari, from Ahmad ibn Muhammad ibn Isa, from Al-Hasan ibn Mahbub, from Ali ibn Ri'ab, from Musadif.
اور جو کچھ اس میں مصادف سے ہے تو میں نے اسے محمد بن موسیٰ بن المتوکل سے روایت کیا - اللہ انہیں رحمت دے - عبد اللہ بن جعفر الحمیری سے، احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، الحسن بن محبوب سے، علی بن ریاب سے، مصادف سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
3-18 4 حدثنا أبي رضي الله عنه قال: حدثنا عبد الله بن جعفر الحميري، عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن الحسن بن محبوب، عن علي بن رئاب، عن الحلبي، عن أبي عبد الله عليه السلام قال:ليس يتبع الرجل بعد موته من الاجر إلا ثلاث خصال: صدقة أجراها في حياته فهي تجري بعد موته إلى يوم القيامة صدقة موقوفة لا تورث -، أو سنة هدى سنها فكان يعمل بها، وعمل بها من بعده غيره، أو ولد صالح يستغفر له
3-184 (The compiler of the book narrated) that his father - may God be pleased with him - narrated that Abdullah ibn Ja’far al-Homayry quoted Ahmad ibn Muhammad ibn Isa, on the authority of Al-Hassan ibn Mahboob, on the authority of Ali ibn Re’ab, on the authority of Al-Halabi that Aba Abdullah as-Sadiq (MGB) said, “No one would get any added rewards after he dies unless for three things: an on-going charity which he has established during his lifetime and is in effect after he dies all the way up until the Resurrection Day; a public donation left which is not to be inherited by anyone; a good rule he has established which he followed and others follow after his demise; and a well-mannered …
حدثنا أبي رضي الله عنه قال حدثنا عبد الله بن جعفر الحميري عن احمد بن محمد بن عيسى عن الحسن بن محبوب عن علي بن رئاب عن الحلبي عن ابو عبد الله عليه السلام کہا: انسان کے بعد موت میں کوئی اجر تابع نہیں ہوتی سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جو وہ اپنی حياة میں جاری کرے تو وہ يوم القيامة تک جاری رہتا ہے - موقوفہ صدقہ جو وراثت میں نہیں جاتا - یا سنة ہدی جو انہوں نے سنا اور وہ اس پر عمل کرتے تھے اور دوسرے بھی اس کے بعد اس پر عمل کرتے ہیں یا ولد صالح جو ان کے لیے استغفار کرے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Sa'd ibn AbuWaqqas: The Prophet (ﷺ) said: I hope my community will not fail to maintain their position in the sight of their Lord if He delays them half a day. Sa'd was asked: How long is half a day? He said: It is five hundred years
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہو گی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے ۔ سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
Abu Tha'laba reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:If you shoot with your arrow and (the game) goes out of your sight and you find it (later on), then eat that if it has not gone rotten
ابو عبداللہ حماد بن خالد خیاط نے معاویہ بن صالح سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن جبیر سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " جب تم ( شکارپر ) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ تم سے غائب ہوجائے ، پھر تم کو مل جائے تو کھالو جب تک بدبودار نہ ہو ۔
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There had been among the people before you inspired persons and if there were any such among my Umma Umar b. Khattab would be one of them. Ibn Wahb explained the word Muhaddathun as those who receive hint from the High (Mulhamun)
ابرا ہیم سعد نے اپنے والد سعد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا کرتے تھے ۔ " تم سے پہلے کی امتوں میں ایسے لوگ تھے جن سے بات کی جا تی تھیں اگر ان میں سے کو ئی میری امت میں ہے تو عمر خطاب انھی میں سے ہے ۔ " ابن وہب نے کہا : مُحَدَّثُونَکا مطلب ہے جن پر الہام کیا جا تا ہو ۔
Pickthall(He is) the Knower of the Unseen, and He revealeth unto none His secret,
Yusuf Ali"He (alone) knows the Unseen, nor does He make any one acquainted with His Mysteries,-
The agreed readingKnower of the unseen — He discloses His unseen to no one. The commentaries agree the knowledge is His alone, and that no one reaches it from himself.
Urduغیب کا جاننے والا، وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ جلالین وضاحت کرتے ہیں کہ غیب سے مراد وہ ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہے، اور لا یظھر کا مطلب مطلع نہیں کرتا۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ یہ آیت پچھلی آیت ان ادری اقریب ما توعدون کی علت ہے۔
Arabicعالم الغيب فلا يظهر على غيبه أحدا. فسر الجلالين عالم الغيب بأنه ما غاب عن العباد، ولا يظهر بمعنى لا يطلع، على غيبه أحدا أي من الناس. وفي تفسير مقباس أن هذه الجملة في موضع العلة لجملة إن أدري أقريب ما توعدون.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Sa'd ibn AbuWaqqas: The Prophet (ﷺ) said: I hope my community will not fail to maintain their position in the sight of their Lord if He delays them half a day. Sa'd was asked: How long is half a day? He said: It is five hundred years
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہو گی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے ۔ سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
Abu Tha'laba reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:If you shoot with your arrow and (the game) goes out of your sight and you find it (later on), then eat that if it has not gone rotten
ابو عبداللہ حماد بن خالد خیاط نے معاویہ بن صالح سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن جبیر سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " جب تم ( شکارپر ) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ تم سے غائب ہوجائے ، پھر تم کو مل جائے تو کھالو جب تک بدبودار نہ ہو ۔
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There had been among the people before you inspired persons and if there were any such among my Umma Umar b. Khattab would be one of them. Ibn Wahb explained the word Muhaddathun as those who receive hint from the High (Mulhamun)
ابرا ہیم سعد نے اپنے والد سعد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا کرتے تھے ۔ " تم سے پہلے کی امتوں میں ایسے لوگ تھے جن سے بات کی جا تی تھیں اگر ان میں سے کو ئی میری امت میں ہے تو عمر خطاب انھی میں سے ہے ۔ " ابن وہب نے کہا : مُحَدَّثُونَکا مطلب ہے جن پر الہام کیا جا تا ہو ۔
PickthallSave unto every messenger whom He hath chosen, and then He maketh a guard to go before him and a guard behind him
Yusuf Ali"Except a messenger whom He has chosen: and then He makes a band of watchers march before him and behind him,
The agreed readingexcept to a messenger He has approved, and then He sends watchers before him and behind him. The commentaries agree the guard is set so that what is revealed reaches its destination unaltered.
Urduسوائے اس رسول کے جسے وہ پسند کر لے، تو وہ اس کے آگے اور پیچھے نگہبان بھیج دیتا ہے۔ رازی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے جسے رسالت کے لیے پسند کیا اس کے آگے اور پیچھے نگہبان، یعنی فرشتوں میں سے محافظ جو اسے وسوسوں سے بچاتے ہیں۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ ارتضی کا لفظ احدا کے عموم سے مستثنیٰ ہے، یعنی سوائے اس کے جسے اس نے پسند کیا، یعنی کسی حکمت کے تحت غیب کی کسی بات پر مطلع کرنے کے لیے چنا۔
Arabicإلا من ارتضى من رسول فإنه يسلك من بين يديه ومن خلفه رصدا. ذكر الرازي أن معناه أنه يسلك من بين يدي من ارتضى للرسالة، ومن خلفه رصدا أي حفظة من الملائكة يحفظونه من وساوس. وفي تفسير مقباس أن كلمة ارتضى مستثنى من عموم أحدا، والتقدير إلا أحدا ارتضاه، أي اختاره للاطلاع على شيء من الغيب لحكمة أرادها الله.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 4 من كتب أهل السنة، 4 من كتب الشيعة8 reports cited here — 4 Sunnī, 4 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 4 شیعہ کتب سے
2. A number of our people has narrated from Ahmad ibn Muhammad from al-Husayn ibn Sa‘id from al-Qasim ibn Muhammad from Ali ibn abu Hamzah from abu Basir from abu ‘Abdallah (a.s.) who has said the following. “Allah, the Most Holy, the Most High, has two kinds of knowledge. One kind is His only and no creature knows about it. The other kind is that which He has thrown unto His angels and His Messenger. Whatever is thrown to the angels and the Messengers have reached us.”
ہمارے کچھ اصحاب نے احمد بن محمد سے روایت کی، وہ حسین بن سعید سے، وہ قاسم بن محمد سے، وہ علی بن ابی حمزہ سے، وہ ابو بصیر سے، اور ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل کے دو علم ہیں۔ ایک علم تو وہ ہے جو اس کے پاس ہے اور اس نے اپنی کسی مخلوق کو اس کا علم نہیں دیا۔ اور ایک علم وہ ہے جسے اس نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے۔ سو جو علم اس نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے، وہ ہم تک پہنچ گیا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
5. A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad from ibn Mahbub from ibn Ri’ab from abu Basir from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, has His most sincere of all of His servants on earth. He does not send any gift from the heavens but that is diverted away from them (His most sincere servants) to others and no misfortune comes down but that is directed to them (His most sincere servants).”
ہمارے اصحاب میں سے جماعت نے سہل بن زياد سے، ابن محبوب سے، ابن رئاب سے، ابو بصير سے روایت کی ہے کہ ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: الله عز و جل کے بندے زمین پر ہیں اپنی خالص بندوں میں سے، جو نعمت آسمان سے نہ اتریں تو وہ انہیں سے پھیر کر دوسروں کی طرف کر دے، اور جو مصیبت اتریں تو وہ انہیں کی طرف کر دے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There had been among the people before you inspired persons and if there were any such among my Umma Umar b. Khattab would be one of them. Ibn Wahb explained the word Muhaddathun as those who receive hint from the High (Mulhamun)
ابرا ہیم سعد نے اپنے والد سعد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا کرتے تھے ۔ " تم سے پہلے کی امتوں میں ایسے لوگ تھے جن سے بات کی جا تی تھیں اگر ان میں سے کو ئی میری امت میں ہے تو عمر خطاب انھی میں سے ہے ۔ " ابن وہب نے کہا : مُحَدَّثُونَکا مطلب ہے جن پر الہام کیا جا تا ہو ۔
Narrated Sa'd ibn AbuWaqqas: The Prophet (ﷺ) said: I hope my community will not fail to maintain their position in the sight of their Lord if He delays them half a day. Sa'd was asked: How long is half a day? He said: It is five hundred years
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہو گی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے ۔ سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔
3. Ali ibn Ibrahim has narrated from Salih ibn al-Sindi from Ja‘far ibn Bashir from Durays who has said that he heard abu Ja‘far (a.s.) say the following. “Allah, the Most Holy, the Most High, has two kinds of knowledge. One kind is that which is granted and the kind is that which I withheld. Of the one which, is granted, nothing is known to the angels and the Messengers, but only we know it. The one which is withheld iis the kind that is before Allah, the Most Holy, the Most High in the original Book. When it appears it permeates.” come of Allah said:
علی بن ابراہیم سے صالح بن السندی نے، صالح سے جعفر بن بشیر نے، جعفر سے دریس نے روایت کی۔ دریس کہتے ہیں: میں نے ابو جعفر علیہ السلام کو یہ کہتے ہوئے سنا: بیشک اللہ عز و جل کے پاس دو قسم کے علم ہیں۔ ایک علم بکھیرا ہوا ہے اور دوسرا علم روکا ہوا ہے۔ جہاں تک بکھیرے ہوئے علم کا معاملہ ہے تو فرشتوں اور رسولوں میں سے کوئی بھی ایسی چیز نہیں جانتا جو ہم نہ جانتے ہوں، اور جہاں تک روکے ہوئے علم کا معاملہ ہے تو یہ وہ ہے جو اللہ عز و جل کے پاس ام الکتاب میں ہے، جب یہ نکلتا ہے تو نافذ ہو جاتا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
27. Abu Afi ai-Ash’ariy has narrated from Muhammad ibn ‘Abd af-Jabbar from Safwan from ibn Muskan from Muhammad Marwan who has said the foiiowing: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that the Messenger of Allah has said, ‘Jibril came to me and said, “We the community of angels do not enter a house in which a dog exists, or there is a statue of a body or there is a pot with urine in it.””
۲۷ـ ابو علي الاشعري نے محمد بن عبد الجبار سے روايت کی ہے، وہ صفوان سے، وہ ابن مسکان سے، وہ محمد بن مروان سے، وہ ابو عبد الله (علیہ السلام) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: بیشک جبریل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور کہا: ہم ملائکہ کا گروہ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی کلب ہو، نہ ہی جس میں کوئی تمثال جسد ہو، اور نہ اس اناء میں جس میں پیشاب کی گئی ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThat He may know that they have indeed conveyed the messages of their Lord. He surroundeth all their doings, and He keepeth count of all things.
Yusuf Ali"That He may know that they have (truly) brought and delivered the Messages of their Lord: and He surrounds (all the mysteries) that are with them, and takes account of every single thing."
The agreed readingso that He may know that they have delivered the messages of their Lord. He encompasses all that is with them, and He has counted everything by number.
Urduتاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے، اور اس نے ان کے پاس جو کچھ ہے اسے گھیر رکھا ہے، اور ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے۔ قرطبی حضرت قتادہ اور مقاتل کا قول نقل کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے تاکہ محمد ﷺ جان لیں کہ ان سے پہلے کے رسولوں نے بھی رسالت اسی طرح پہنچائی جیسے انہوں نے پہنچائی۔ رازی وضاحت کرتے ہیں کہ واحاط بما لدیھم اللہ کے جزئیات کے علم پر دلالت کرتا ہے۔
Arabicليعلم أن قد أبلغوا رسالات ربهم وأحاط بما لديهم وأحصى كل شيء عددا. ذكر القرطبي عن قتادة ومقاتل أن معناه ليعلم محمد أن الرسل قبله قد أبلغوا الرسالة كما بلغ هو الرسالة. وذكر الرازي أن قوله وأحاط بما لديهم يدل على كونه تعالى عالما بالجزئيات.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Sa'd ibn AbuWaqqas: The Prophet (ﷺ) said: I hope my community will not fail to maintain their position in the sight of their Lord if He delays them half a day. Sa'd was asked: How long is half a day? He said: It is five hundred years
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہو گی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے ۔ سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔
Abu Tha'laba reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:If you shoot with your arrow and (the game) goes out of your sight and you find it (later on), then eat that if it has not gone rotten
ابو عبداللہ حماد بن خالد خیاط نے معاویہ بن صالح سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن جبیر سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " جب تم ( شکارپر ) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ تم سے غائب ہوجائے ، پھر تم کو مل جائے تو کھالو جب تک بدبودار نہ ہو ۔