The agreed readingBy the dawn — the daybreak of every day, the commentaries gloss, and the sūrah takes its name from it.
Urduاللہ تعالیٰ فجر کی قسم کھاتا ہے، جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، جب اندھیرا پھٹ کر روشنی نمودار ہوتی ہے۔ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں اس کی کامل قدرت کی نشانیاں ہیں اور یہ دلیل ہے کہ تمام امور کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ وقت ایک نہایت فضیلت والی نماز کا وقت بھی ہے، اس لیے اسی کے لائق ہے کہ اس کی قسم کھائی جائے۔
Arabicيُقسم الله بالفجر، وهو آخر الليل ومقدِّمة النهار حين ينفجر الضياء بعد الظلمة. وفي إدبار الليل وإقبال النهار آية على كمال قدرته وعلى أنه وحده مدبِّر الأمر كله. وهذا الوقت وقتُ عبادة معظَّمة، فهو أهلٌ لأن يُقسم به.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Sufyan bin Bukair bin ‘Ata’ said:“I heard ‘Abdur-Rahman bin Ya’mur Dili say: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was standing at ‘Arafat, and some people from Najd came to him and said: “O Messenger of Allah, what is Hajj?” He said: “Hajj is ‘Arafah. Whoever comes before Fajr prayer on the night of Jam’, he has completed his Hajj. The days at Mina are three. ‘But whosoever hastens to leave in two days, there is no sin on him and whosoever stays on, there is no sin on him.’” [2:203] Then he seated a man behind him on his mount and he started calling out these words.’” Another chain reports a similar hadith
عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں ( گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَجَاءَ نَاسٌ - أَوْ نَفَرٌ - مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَأَمَرُوا رَجُلاً فَنَادَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ الْحَجُّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً فَنَادَى " الْحَجُّ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ " . قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً خَلْفَهُ فَجَعَلَ يُنَادِي …
Narrated AbdurRahman Ya'mar ad-Dayli: I came to the Holy Prophet (ﷺ) when he was in Arafat. Some people or a group of people came from Najd. They commanded someone (to ask the Prophet about hajj). So he called the Messenger of Allah (ﷺ), saying: How is the hajj done? He (the Prophet) ordered a man (to reply). He shouted loudly: The hajj, the hajj is on the day of Arafah. If anyone comes over there before the dawn prayer on the night of al-Muzdalifah, his hajj will be complete. The period of halting at Mina is three days. Then whoever hastens (his departure) by two days, it is no sin for him, and whoever delays it there is no sin for him. The narrator said: He (the Prophet) then put a man …
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ عرفات میں تھے، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی: اللہ کے رسول! حج کیوں کر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا: حج عرفات میں وقوف ہے ۱؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے ( عرفات میں ) آ جائے تو اس کا حج پورا ہو گیا، منیٰ کے دن تین ہیں ( گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مہران …
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
The agreed readingand ten nights — the ten of Dhū l-Ḥijja, the commentaries agree, sworn on by their number.
Urduپھر دس راتوں کی قسم کھائی گئی، جن کی اللہ کے ہاں ایک خاص منزلت اور قدر ہے۔ یہ وہ راتیں ہیں جن میں ایسی عبادتیں اور تقرب کے کام ہوتے ہیں جو دوسرے دنوں میں نہیں ہوتے۔ قرآن نے انہیں نکرہ رکھا ہے، اور اسی ابہام میں ان کی عظمت اور قسم کے مقام کی مناسبت ہے۔
Arabicوأقسم بعشر ليالٍ لها عند الله شرف ومنزلة. هي ليالٍ تشتمل على أيام فاضلة، يقع فيها من العبادة والتقرُّب إلى الله ما لا يقع في غيرها. وتنكيرها في الآية يزيدها تعظيمًا وإبهامًا يليق بمقام القسم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Sufyan bin Bukair bin ‘Ata’ said:“I heard ‘Abdur-Rahman bin Ya’mur Dili say: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was standing at ‘Arafat, and some people from Najd came to him and said: “O Messenger of Allah, what is Hajj?” He said: “Hajj is ‘Arafah. Whoever comes before Fajr prayer on the night of Jam’, he has completed his Hajj. The days at Mina are three. ‘But whosoever hastens to leave in two days, there is no sin on him and whosoever stays on, there is no sin on him.’” [2:203] Then he seated a man behind him on his mount and he started calling out these words.’” Another chain reports a similar hadith
عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں ( گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَجَاءَ نَاسٌ - أَوْ نَفَرٌ - مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَأَمَرُوا رَجُلاً فَنَادَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ الْحَجُّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً فَنَادَى " الْحَجُّ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ " . قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً خَلْفَهُ فَجَعَلَ يُنَادِي …
Narrated AbdurRahman Ya'mar ad-Dayli: I came to the Holy Prophet (ﷺ) when he was in Arafat. Some people or a group of people came from Najd. They commanded someone (to ask the Prophet about hajj). So he called the Messenger of Allah (ﷺ), saying: How is the hajj done? He (the Prophet) ordered a man (to reply). He shouted loudly: The hajj, the hajj is on the day of Arafah. If anyone comes over there before the dawn prayer on the night of al-Muzdalifah, his hajj will be complete. The period of halting at Mina is three days. Then whoever hastens (his departure) by two days, it is no sin for him, and whoever delays it there is no sin for him. The narrator said: He (the Prophet) then put a man …
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ عرفات میں تھے، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی: اللہ کے رسول! حج کیوں کر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا: حج عرفات میں وقوف ہے ۱؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے ( عرفات میں ) آ جائے تو اس کا حج پورا ہو گیا، منیٰ کے دن تین ہیں ( گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مہران …
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا . قَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِثْلَهُ .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade making Nabidh* with dates and raisins together, or with unripe dates and fresh dates together.” Another chain reports the same
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور انگور کو ملا کر، اور کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Mu'awiyah:That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever drinks wine, then lash him. If he returns to it, then on the fourth time kill him
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئے تو اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معاویہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اسی طرح ثوری نے بطریق: «عاصم عن أبي صالح عن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور ابن جریج اور معمر نے بطریق: «سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابوصالح کی حدیث جو بواسطہ معاویہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں آئی ہے، یہ ابوصالح کی اس حدیث سے جو بواسطہ ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، شرید، شرحبیل بن اوس، جریر، …
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
The agreed readingand the even and the odd — the paired and the single, the commentaries gloss, and the oath is left at that.
Urdu”شَفْع“ کے معنی جفت اور ”وَتْر“ کے معنی طاق ہیں۔ ہر چیز انہی دو میں سے کسی ایک میں آتی ہے، اس کے سوا کوئی تیسری صورت نہیں۔ اس لیے ان دونوں کی قسم گویا ساری چیزوں کو سمیٹ لینے والی قسم ہے۔
Arabicالشَّفْع هو الزوج، والوَتْر هو الفرد. وكل شيء لا يخرج عن أحد هذين، فالقسم بهما قسمٌ يستوعب الأشياء كلها. وهو معطوف على ما قبله من الأزمنة والأشياء التي أقسم الله بها لعظم شأنها.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī and al-Qurṭubī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا
Sufyan bin Bukair bin ‘Ata’ said:“I heard ‘Abdur-Rahman bin Ya’mur Dili say: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was standing at ‘Arafat, and some people from Najd came to him and said: “O Messenger of Allah, what is Hajj?” He said: “Hajj is ‘Arafah. Whoever comes before Fajr prayer on the night of Jam’, he has completed his Hajj. The days at Mina are three. ‘But whosoever hastens to leave in two days, there is no sin on him and whosoever stays on, there is no sin on him.’” [2:203] Then he seated a man behind him on his mount and he started calling out these words.’” Another chain reports a similar hadith
عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں ( گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَجَاءَ نَاسٌ - أَوْ نَفَرٌ - مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَأَمَرُوا رَجُلاً فَنَادَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ الْحَجُّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً فَنَادَى " الْحَجُّ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ " . قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً خَلْفَهُ فَجَعَلَ يُنَادِي …
Narrated AbdurRahman Ya'mar ad-Dayli: I came to the Holy Prophet (ﷺ) when he was in Arafat. Some people or a group of people came from Najd. They commanded someone (to ask the Prophet about hajj). So he called the Messenger of Allah (ﷺ), saying: How is the hajj done? He (the Prophet) ordered a man (to reply). He shouted loudly: The hajj, the hajj is on the day of Arafah. If anyone comes over there before the dawn prayer on the night of al-Muzdalifah, his hajj will be complete. The period of halting at Mina is three days. Then whoever hastens (his departure) by two days, it is no sin for him, and whoever delays it there is no sin for him. The narrator said: He (the Prophet) then put a man …
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ عرفات میں تھے، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی: اللہ کے رسول! حج کیوں کر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا: حج عرفات میں وقوف ہے ۱؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے ( عرفات میں ) آ جائے تو اس کا حج پورا ہو گیا، منیٰ کے دن تین ہیں ( گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مہران …
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
The agreed readingand the night as it goes. The commentaries agree the oaths are on things that come round in their turn, and that what is sworn to is left unsaid because what follows makes it plain.
Urduاور رات کی قسم جب وہ چلتی ہے۔ ”سَیْر“ آنے اور جانے دونوں پر بولا جاتا ہے، اس لیے اس میں رات کا آنا بھی ہے اور اس کا رخصت ہونا بھی۔ رات کو چلنے والا کہنا مجاز ہے، جیسے کہتے ہیں ”سونے والی رات“، یعنی جس میں لوگ سوتے ہیں؛ اور رات دن کا یہ مسلسل تعاقب اپنے مدبر کی قدرت کی دلیل ہے۔
Arabicوأقسم بالليل حين يسري، والسير يصدُق على إقباله وعلى إدباره. وإسناد السُّرى إلى الليل من باب المجاز، كما يقال: ليلٌ نائم، أي يُسرى فيه. وفي تعاقب الليل والنهار على هذا النظام دليل على قدرة الذي دبَّره.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Sufyan bin Bukair bin ‘Ata’ said:“I heard ‘Abdur-Rahman bin Ya’mur Dili say: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was standing at ‘Arafat, and some people from Najd came to him and said: “O Messenger of Allah, what is Hajj?” He said: “Hajj is ‘Arafah. Whoever comes before Fajr prayer on the night of Jam’, he has completed his Hajj. The days at Mina are three. ‘But whosoever hastens to leave in two days, there is no sin on him and whosoever stays on, there is no sin on him.’” [2:203] Then he seated a man behind him on his mount and he started calling out these words.’” Another chain reports a similar hadith
عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں ( گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَجَاءَ نَاسٌ - أَوْ نَفَرٌ - مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَأَمَرُوا رَجُلاً فَنَادَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ الْحَجُّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً فَنَادَى " الْحَجُّ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ " . قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً خَلْفَهُ فَجَعَلَ يُنَادِي …
Narrated AbdurRahman Ya'mar ad-Dayli: I came to the Holy Prophet (ﷺ) when he was in Arafat. Some people or a group of people came from Najd. They commanded someone (to ask the Prophet about hajj). So he called the Messenger of Allah (ﷺ), saying: How is the hajj done? He (the Prophet) ordered a man (to reply). He shouted loudly: The hajj, the hajj is on the day of Arafah. If anyone comes over there before the dawn prayer on the night of al-Muzdalifah, his hajj will be complete. The period of halting at Mina is three days. Then whoever hastens (his departure) by two days, it is no sin for him, and whoever delays it there is no sin for him. The narrator said: He (the Prophet) then put a man …
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ عرفات میں تھے، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی: اللہ کے رسول! حج کیوں کر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا: حج عرفات میں وقوف ہے ۱؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے ( عرفات میں ) آ جائے تو اس کا حج پورا ہو گیا، منیٰ کے دن تین ہیں ( گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مہران …
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
PickthallThere surely is an oath for thinking man.
Yusuf AliIs there (not) in these an adjuration (or evidence) for those who understand?
The agreed readingIs there in that an oath for one who has sense? The commentaries gloss the word as understanding, and read the question as saying that the oath is enough for anyone who has it.
Urdu”حِجْر“ عقل کو کہتے ہیں، اس لیے کہ وہ انسان کو نامناسب کاموں سے روکتی اور باز رکھتی ہے۔ سوال یہاں اقرار کے لیے ہے: یعنی ان قسموں میں ہر صاحبِ عقل کے لیے کافی سامان ہے۔ قسم کا جواب یہاں حذف ہے، جس پر آگے آنے والا سرکش قوموں کی ہلاکت کا بیان دلالت کرتا ہے۔
Arabicالحِجْر: العقل، سُمِّي بذلك لأنه يحجُر صاحبه ويمنعه عمَّا لا ينبغي. والاستفهام للتقرير، أي: في هذا القسم ما يكفي ويُقنِع كل ذي عقل. وجواب القسم محذوف دلَّ عليه ما بعده من إهلاك الأمم الطاغية.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 5 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة7 reports cited here — 5 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
6. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ali ibn Ma’bad from ‘Abd Allah ibn al-Qasim from ‘Abd Allah ibn Sinan from abu ‘Abd Allah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, sent revelation to Moses son of ‘Imran, peace be upon him, ‘Whenever you stand before me, do so like a humble and poor person, whenever you read the Torah, read it with sad voice.’”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے، اور باپ نے علی بن معبد سے، علی نے عبد الله بن القاسم سے، عبد الله نے عبد الله بن سنان سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں: ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: الله عز و جل نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو وحی کی: جب تم میری بارگاہ میں کھڑے ہو تو ذلیل اور فقیر کی طرح کھڑے ہو، اور جب تم تورات پڑھو تو اسے حزین آواز میں مجھے سنا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Hadith.2865 - Abdullah ibn Sinan narrated from Abu Abdullah (as), who said: "Indeed, the Commander of the Faithful Imam Ali Ibn Abi Talib (as) instructed an elderly man who had never performed Hajj and was unable to do so due to his old age to arrange for someone to perform Hajj on his behalf."
عبداللہ بن سنان نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی، انہوں نے کہا: "بیشک امیر المومنین علیہ السلام نے ایک بزرگ شخص کو جس نے کبھی حج نہیں کیا تھا اور اپنی بڑھاپے کی وجہ سے حج کی طاقت نہیں رکھتا تھا، حکم دیا کہ ایک آدمی کو تیار کرے جو اس کی طرف سے حج کرے۔"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Sufyan bin Bukair bin ‘Ata’ said:“I heard ‘Abdur-Rahman bin Ya’mur Dili say: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was standing at ‘Arafat, and some people from Najd came to him and said: “O Messenger of Allah, what is Hajj?” He said: “Hajj is ‘Arafah. Whoever comes before Fajr prayer on the night of Jam’, he has completed his Hajj. The days at Mina are three. ‘But whosoever hastens to leave in two days, there is no sin on him and whosoever stays on, there is no sin on him.’” [2:203] Then he seated a man behind him on his mount and he started calling out these words.’” Another chain reports a similar hadith
عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں ( گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَجَاءَ نَاسٌ - أَوْ نَفَرٌ - مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَأَمَرُوا رَجُلاً فَنَادَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ الْحَجُّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً فَنَادَى " الْحَجُّ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ " . قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً خَلْفَهُ فَجَعَلَ يُنَادِي …
Narrated AbdurRahman Ya'mar ad-Dayli: I came to the Holy Prophet (ﷺ) when he was in Arafat. Some people or a group of people came from Najd. They commanded someone (to ask the Prophet about hajj). So he called the Messenger of Allah (ﷺ), saying: How is the hajj done? He (the Prophet) ordered a man (to reply). He shouted loudly: The hajj, the hajj is on the day of Arafah. If anyone comes over there before the dawn prayer on the night of al-Muzdalifah, his hajj will be complete. The period of halting at Mina is three days. Then whoever hastens (his departure) by two days, it is no sin for him, and whoever delays it there is no sin for him. The narrator said: He (the Prophet) then put a man …
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ عرفات میں تھے، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی: اللہ کے رسول! حج کیوں کر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا: حج عرفات میں وقوف ہے ۱؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے ( عرفات میں ) آ جائے تو اس کا حج پورا ہو گیا، منیٰ کے دن تین ہیں ( گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مہران …
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
PickthallDost thou not consider how thy Lord dealt with (the tribe of) A'ad,
Yusuf AliSeest thou not how thy Lord dealt with the 'Ad (people),-
The agreed readingHave you not seen what your Lord did with ʿĀd — seen it, the commentaries gloss, in the sense of knowing it as settled fact.
Urduیہ نبی ﷺ سے اقراری انداز میں خطاب ہے: کیا آپ کو معلوم نہیں ہوا کہ آپ کے رب نے قومِ عاد کے ساتھ کیا کیا؟ یہاں ”دیکھنا“ سے مراد علم و یقین ہے، کیونکہ ان قوموں کے قصے مخاطبین میں معروف تھے اور ان کے آثار سامنے تھے۔ ان کا ذکر بعد میں آنے والے جھٹلانے والوں کے لیے ایک مثال کے طور پر ہے۔
Arabicخطاب للنبي صلى الله عليه وسلم على وجه التقرير: ألم يبلغك ويتَّضح لك ما صنع ربك بعاد؟ والرؤية هنا رؤية علمٍ ويقين، فأخبار هذه الأمم كانت معروفة عند المخاطبين، وآثارها قائمة. وذِكْرُها هنا مثَلٌ يُضرب لمن كذَّب الرسول من بعدهم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
Yusuf AliOf the (city of) Iram, with lofty pillars,
The agreed readingwith Iram of the pillars — the earlier ʿĀd, the commentaries agree, named for what they built.
Urdu”اِرَم“ وہ نام ہے جس کی طرف یہ قوم منسوب ہوئی، اور مراد عادِ اولیٰ ہے جن کی طرف حضرت ہود علیہ السلام بھیجے گئے۔ ”ذَاتِ الْعِمَاد“ ان کی قوت اور دراز قامتی کی طرف بھی اشارہ ہے اور اس کی طرف بھی کہ وہ ستونوں پر بلند و بالا عمارتیں کھڑی کرتے تھے۔ یوں ان میں جسمانی طاقت اور تعمیر کی مہارت دونوں جمع تھیں۔
Arabicإرَم اسمٌ تُنسب إليه هذه القبيلة، والمراد عادٌ الأولى التي أُرسل إليها هود عليه السلام. و«ذات العماد» وصفٌ لهم بالقوة وضخامة الأجساد، وببناء العمارات المرفوعة على الأعمدة. فقد جمعوا شدة البأس وعظمة البنيان.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
PickthallThe like of which was not created in the lands;
Yusuf AliThe like of which were not produced in (all) the land?
The agreed readingthe like of which was never made in the lands — never made, the commentaries gloss, in their reach and their strength.
Urduیعنی قوت، سختی اور جسمانی ڈیل ڈول میں شہروں کے اندر ان جیسی کوئی قوم پیدا نہیں کی گئی۔ یہی لوگ اپنی طاقت پر نازاں ہو کر کہتے تھے ”ہم سے زیادہ زور آور کون ہے؟“۔ چنانچہ جو نعمت انہیں دی گئی تھی، وہی ان کے تکبر اور سرکشی کا سبب بن گئی۔
Arabicأي: لم يُخلق في البلاد مثلُ هذه القبيلة في القوة وشدة البطش وضخامة الأجساد. وهم الذين قالوا معتزِّين بقوتهم: «من أشدُّ منا قوة». فكانت هذه النعمة نفسها سبب استكبارهم وطغيانهم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
PickthallAnd with (the tribe of) Thamud, who clove the rocks in the valley;
Yusuf AliAnd with the Thamud (people), who cut out (huge) rocks in the valley?-
The agreed readingand with Thamūd, who cut the rock in the valley — cutting the rock, the commentaries gloss, and making houses out of it.
Urduاور قومِ ثمود، جو حضرت صالح علیہ السلام کی قوم تھی۔ ”جَابُوا“ کے معنی ہیں کاٹنا اور تراشنا؛ انہوں نے وادی میں چٹانوں کو تراش کر ان کے اندر اپنے گھر اور محلات بنائے تھے۔ ان کی رہائش گاہیں معروف تھیں اور ان کے آثار آج بھی موجود ہیں۔
Arabicوثمود قوم صالح عليه السلام. «جابوا» أي قطعوا وخرقوا؛ فقد نحتوا الصخر في الوادي واتخذوا منه بيوتًا ومساكن. وكانت مساكنهم معروفة، آثارها باقية يراها المارُّ بها.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
The agreed readingand with Pharaoh of the stakes — the stakes he drove, the commentaries say, to pin down whoever he punished.
Urduاور فرعون، جو ”ذِی الْاَوْتَاد“ یعنی میخوں والا تھا۔ میخ اُس چیز کو کہتے ہیں جس سے کوئی شے جمائی اور مضبوط کی جاتی ہے؛ اس وصف میں اس کے لشکروں کی کثرت اور اس کی سلطنت کی مضبوطی کا بیان بھی ہے اور لوگوں کو دی جانے والی اس کی سزاؤں کا اشارہ بھی۔ یہ تیسرا سرکش ہے جس میں قوت اور ظلم دونوں جمع تھے۔
Arabicوفرعون صاحب الأوتاد. والأوتاد ما يُثبَّت به الشيء، وقد وُصف بها لعظم مُلكه وثبات سلطانه بجنوده، ولِما كان يفعله بالناس من التعذيب. فهو ثالث المذكورين ممن جمعوا القوة والبطش.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 5 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة6 reports cited here — 5 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
حدثنا مشايخنا - رضي الله عنهم - بأسانيد مرفوعة متصلة قد ذكرتها في كتاب علل الشرائع والاحكام والأسباب في أبواب متفرقة [و] رتبتها فيه: أن معنى آدم: أنه خلق من أديم الأرض - والأديم الأرض الرابعة - ومعنى حواء. أنها خلقت من حي وهو من آدم، ومعنى الانسان: أنه ينسى، ومعنى النساء إنهن أنس للرجال، ومعنى المرأة: أنها خلقت من المرء، ومعنى إدريس: أنه كان يكثر الدرس بحكم الله عز وجل وسنن الاسلام، ومعنى نوح: أنه كان ينوح على نفسه، وبكى خمس مائه عام، ونحى نفسه عما كان فيه قومه من الضلالة، ومعنى الطوفان في أيامه: أنه طفا الماء فوق كل شئ، ومعنى هود: أنه هدي إلى ما ضل عنه قومه، وبعث ليهديهم من ضلالتهم، ومعنى الريح العقيم التي أهلك الله عز وجل بها عادا: أنها تلقحت بالعذاب، وتعقمت عن الريح كتعقم الرجل إذا كان …
1. We were told by our teachers, may Allah be pleased with them, with attributed, connected, chains which I have mentioned in the book ‘Ilal-ush-Shara’I’ wal-Ahkam wal-Asbab in diffused chapters and which I have put in order, and it includes that the meaning of Adam is that he was created from the tanned soil, and the tanned is the Fourth Earth. The meaning of Hawwa’ is that she was created from a living, that is Adam. The meaning of a human being is that he forgets , and the meaning of women is that they are a company to men, and the meaning of a woman is that she was created from an individual . The meaning of Idrees is that he engaged in much teaching of the Law of Allah, Exalted and …
ہمیں ہمارے اساتذہ نے - اللہ ان سے راضی ہو - مسندوں کے ساتھ جو متصل اور منسوب ہیں، ہمیں بتایا۔ میں نے ان کو علل الشرائع والاحکام والأسباب کی کتاب میں مختلف ابواب میں ذکر کیا ہے اور انہیں ترتیب دی ہے: آدم کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ زمین کی چمڑی سے پیدا کیے گئے تھے - اور چمڑی چوتھی زمین ہے۔ حوّاء کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ جیتے سے پیدا کی گئیں اور وہ جیتا آدم سے ہے۔ انسان کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ بھول جاتے ہیں۔ نساء کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ مردوں کے لیے ساتھ ہیں۔ عورت کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ مرد سے پیدا کی گئی ہے۔ ادریس کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اللہ عزوجل کے حکم کے ساتھ بہت زیادہ درس اور تعلیم دیا کرتے تھے، اسلام کی سنتوں کے مطابق۔ نوح کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اپنے نفس پر نوحہ کیا کرتے تھے، اور پانچ سو سال رویا کرتے تھے، …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Sufyan bin Bukair bin ‘Ata’ said:“I heard ‘Abdur-Rahman bin Ya’mur Dili say: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was standing at ‘Arafat, and some people from Najd came to him and said: “O Messenger of Allah, what is Hajj?” He said: “Hajj is ‘Arafah. Whoever comes before Fajr prayer on the night of Jam’, he has completed his Hajj. The days at Mina are three. ‘But whosoever hastens to leave in two days, there is no sin on him and whosoever stays on, there is no sin on him.’” [2:203] Then he seated a man behind him on his mount and he started calling out these words.’” Another chain reports a similar hadith
عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں ( گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَجَاءَ نَاسٌ - أَوْ نَفَرٌ - مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَأَمَرُوا رَجُلاً فَنَادَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ الْحَجُّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً فَنَادَى " الْحَجُّ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ " . قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً خَلْفَهُ فَجَعَلَ يُنَادِي …
Narrated AbdurRahman Ya'mar ad-Dayli: I came to the Holy Prophet (ﷺ) when he was in Arafat. Some people or a group of people came from Najd. They commanded someone (to ask the Prophet about hajj). So he called the Messenger of Allah (ﷺ), saying: How is the hajj done? He (the Prophet) ordered a man (to reply). He shouted loudly: The hajj, the hajj is on the day of Arafah. If anyone comes over there before the dawn prayer on the night of al-Muzdalifah, his hajj will be complete. The period of halting at Mina is three days. Then whoever hastens (his departure) by two days, it is no sin for him, and whoever delays it there is no sin for him. The narrator said: He (the Prophet) then put a man …
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ عرفات میں تھے، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی: اللہ کے رسول! حج کیوں کر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا: حج عرفات میں وقوف ہے ۱؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے ( عرفات میں ) آ جائے تو اس کا حج پورا ہو گیا، منیٰ کے دن تین ہیں ( گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مہران …
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
PickthallWho (all) were rebellious (to Allah) in these lands,
Yusuf Ali(All) these transgressed beyond bounds in the lands,
The agreed readingthose who overstepped in the lands — going past every bound, the commentaries gloss, against God's messengers.
Urduیہ وصف ان سب کا ہے — عاد، ثمود، فرعون اور ان کے پیروکار۔ ”طَغَوْا“ یعنی انہوں نے سرکشی، جبر اور ظلم میں ہر حد پار کر دی، ہر ایک نے اپنے اپنے علاقے میں۔ اللہ نے جو قوت انہیں دی تھی، اسی کو انہوں نے اس کی مخلوق پر برتری جتانے میں استعمال کیا۔
Arabicالوصف عائد إلى هؤلاء جميعًا: عادٍ وثمودَ وفرعون ومن تبعهم. «طغَوا» أي تجاوزوا الحدَّ في التجبُّر والظلم، كلٌّ في بلده. فاستعملوا ما آتاهم الله من قوة في الاستعلاء على خلقه.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
Yusuf AliAnd heaped therein mischief (on mischief).
The agreed readingand made much corruption in them — killing and the rest of it, the commentaries gloss, and much of it.
Urduسرکشی کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے ان شہروں میں بکثرت فساد پھیلا دیا۔ فساد میں کفر بھی شامل ہے اور اس سے پیدا ہونے والی وہ ساری معصیتیں بھی جن سے لوگوں کے دین اور دنیا دونوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ سرکشی جڑ ہے اور فساد اس کی شاخ — اور یہ ایک مستقل قاعدہ ہے۔
Arabicفترتَّب على الطغيان أن أكثروا في البلاد الفساد. والفساد هنا يجمع الكفر وما يتفرع عنه من المعاصي وأذى الناس في دينهم ودنياهم. فالطغيان أصلٌ والفساد فرعُه، وهذه سنة مطَّردة.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
PickthallTherefore thy Lord poured on them the disaster of His punishment.
Yusuf AliTherefore did thy Lord pour on them a scourge of diverse chastisements:
The agreed readingso your Lord poured on them a scourge of punishment. The commentaries agree the three are named as cases already closed, and that their strength is exactly what did not save them.
Urduتو آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا اور انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ ”کوڑا“ کہنے میں تشبیہ ہے: تیزی، چبھن اور پے در پے پڑنے میں۔ اور ”صَبَّ“ (انڈیل دینا) کا لفظ بتاتا ہے کہ عذاب ان پر ہر طرف سے انڈیلا گیا اور کوئی بچ کر نہ نکل سکا۔
Arabicفأنزل عليهم ربك عذابًا شديدًا استأصلهم به. وتسميته «سوطًا» تشبيه بليغ: سرعةً ونكايةً وتتابعًا. والتعبير بـ«صبَّ» يدلُّ على أن العذاب أُفرغ عليهم إفراغًا فعمَّهم ولم يُفلت منهم أحد.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
Yusuf AliFor thy Lord is (as a Guardian) on a watch-tower.
The agreed readingYour Lord is ever on the watch — watching what people do, the commentaries gloss, so that nothing of it escapes Him.
Urdu”مِرْصَاد“ وہ جگہ ہے جہاں سے گزرنے والوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔ یعنی آپ کا رب بندوں کے اعمال کی تاک میں ہے، سب کچھ گن رہا ہے، اس سے کچھ چھوٹتا نہیں، تاکہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے۔ اس میں سرکشوں کے لیے تنبیہ ہے اور مظلوموں کے لیے تسلی — مہلت دینا نظر انداز کر دینا نہیں ہے۔
Arabicالمِرصاد: الموضع الذي يُرقَب منه المارُّ. أي إن ربك يرصد أعمال العباد ويحصيها فلا يفوته منها شيء، ليجازي كلًّا بعمله. وفي هذا تهديد للطاغي وتثبيت لمن ظُلِم، فالإمهال ليس إهمالًا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Imran bin Husain narrated that:The Prophet was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah has ninety-nine names, i.e. one-hundred minus one, and whoever knows them will go to Paradise." (Please see Hadith No. 419 Vol)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان سب کو محفوظ رکھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
PickthallAs for man, whenever his Lord trieth him by honouring him, and is gracious unto him, he saith: My Lord honoureth me.
Yusuf AliNow, as for man, when his Lord trieth him, giving him honour and gifts, then saith he, (puffed up), "My Lord hath honoured me."
The agreed readingAs for man, when his Lord tests him by honouring him and giving him ease, he says: my Lord has honoured me.
Urduیہ انسان کی فطرت کا بیان ہے: جب اس کا رب اسے آزمائش کے طور پر عزت اور رزق کی فراخی دیتا ہے، تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ اللہ کے ہاں اس کی قدر و منزلت کی دلیل ہے۔ چنانچہ کہتا ہے: میرے رب نے مجھے عزت دی، یعنی میں اسی لائق تھا۔ یہ دراصل غیب کے معاملے کا فیصلہ محض دنیا کے پیمانے سے کرنا ہے۔
Arabicهذا وصف لطبع الإنسان: إذا اختبره ربه فوسَّع عليه رزقه وأنعم عليه، ظنَّ أن ذلك دليل كرامته عند الله. فقال: ربي أكرمني، أي لاستحقاقي ذلك. وهو حكمٌ منه على الغيب بمقياس الدنيا وحدها.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله المحمود لنعمته المعبود لقدرته ، المطاع في سلطانه المرهوب لجلاله ، المرغوب إليه فيما عنده ، النافذ أمره في جميع خلقه ، علا فاستعلى ودنا فتعالى ، وارتفع فوق كل منظر ، الذي لا بدء لأوليته ، ولا غاية لأزليته ، القائم قبل الأشياء ، والدائم الذي به قوامها ، والقاهر الذي لا يؤوده حفظها والقادر الذي بعظمته تفرد بالملكوت وبقدرته توحد بالجبروت ، وبحكمته أظهر حججه على خلقه . اخترع الأشياء إنشاء ، وابتدعها ابتداء ، بقدرته وحكمته ، لا من شئ فيبطل الاختراع ولا لعلة فلا يصح الابتداع ، خلق ما شاء كيف شاء ، متوحدا ” بذلك لإظهار حكمته ، وحقيقة ربوبيته ، لا تضبطه العقول ، ولا تبلغه الأوهام ، ولا تدركه الأبصار ، ولا يحيط به مقدار ، عجزت دونه العبارة ، وكلت دونه الأبصار ، وضل …
In the Praise of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah Who is praised for His bounties, worshipped for His Might, obeyed in His rule and feared for His Majesty. He possesses all that is attractive; His commands pervade in all of His creation. He is High, the Most High. He is near in His Highness and the Most High above being seen. His being the first has had no beginning and He is eternal. He existed before the existence of all things and He is the eternal Who guards all things. He is the overwhelming power and the preservation of the things does not burden Him. He is the only Almighty in His kingdom and only power to compel what is to compel. Through wisdom He has …
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے جو اپنی نعمتوں پر تعریف شائستہ ہے، اپنی قدرت پر معبود ہے، اپنی سلطان میں مطاع ہے، اپنی عظمت پر مخوف ہے۔ جس کے پاس ہر دل پسند چیز ہے، جس کا حکم تمام خلق میں جاری ہے۔ وہ بلند ہے پھر مزید بلند ہوا، نزدیک ہے پھر عالیٰ ہوا، ہر نظر سے بلند ہے۔ جس کی ابتدا کا کوئی آغاز نہیں، جس کی ازل کا کوئی انجام نہیں۔ وہ تمام چیزوں سے پہلے قائم تھا، وہ ابدی ہے جو سب کو قائم رکھتا ہے۔ وہ غالب قاہر ہے جس کو نگرانی میں تکلیف نہیں، وہ قدیر ہے جس کی عظمت سے ملکوت میں منفرد ہے اور جس کی قدرت سے جبروت میں تنہا ہے، اور اپنی حکمت سے اپنی حجتوں کو خلق پر ظاہر کیا۔ اس نے اشیاء کو ایجاد سے خلق کیا، اور انہیں ابتدائے سے بنایا، اپنی قدرت اور حکمت سے، کسی چیز سے نہیں کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Sahl (b. Sa’d) reported the prophet (May peace be upon him) as saying; I and the one who takes the responsibility of an orphan will be in Paradise thus, and he joined his middle finger and forefinger
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ( قریب قریب ) ہوں گے آپ نے بیچ کی، اور انگوٹھے سے قریب کی انگلی، کو ملا کر دکھایا۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"The best house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated well. And the worst house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated badly
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ( پرورش پاتا ) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو ۔
PickthallBut whenever He trieth him by straitening his means of life, he saith: My Lord despiseth me.
Yusuf AliBut when He trieth him, restricting his subsistence for him, then saith he (in despair), "My Lord hath humiliated me!"
The agreed readingBut when He tests him and restricts his provision, he says: my Lord has humiliated me. The commentaries agree both readings are wrong: he takes the giving as a verdict in his favour and the withholding as one against him, when both are a test.
Urduاور جب آزمائش کے طور پر اس کا رزق تنگ کر دیا جاتا ہے اور بس گزارے کے برابر رہ جاتا ہے، تو وہ اسے اپنی توہین سمجھتا ہے۔ کہتا ہے: میرے رب نے میری بے قدری کی — جھنجھلاہٹ اور ناراضی کے انداز میں۔ یوں دونوں حالتوں میں وہ مال ہی کو عزت اور ذلت کا ترازو بنائے ہوئے ہے۔
Arabicوإذا اختبره فضيَّق عليه رزقه فجعله بقدر كفايته، ظنَّ أن ذلك إهانة له عند الله. فقال: ربي أهانني، على وجه التضجُّر وقلة الرضا. فهو في الحالين يجعل المال ميزانًا للعزة والذل.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 4 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة5 reports cited here — 4 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله المحمود لنعمته المعبود لقدرته ، المطاع في سلطانه المرهوب لجلاله ، المرغوب إليه فيما عنده ، النافذ أمره في جميع خلقه ، علا فاستعلى ودنا فتعالى ، وارتفع فوق كل منظر ، الذي لا بدء لأوليته ، ولا غاية لأزليته ، القائم قبل الأشياء ، والدائم الذي به قوامها ، والقاهر الذي لا يؤوده حفظها والقادر الذي بعظمته تفرد بالملكوت وبقدرته توحد بالجبروت ، وبحكمته أظهر حججه على خلقه . اخترع الأشياء إنشاء ، وابتدعها ابتداء ، بقدرته وحكمته ، لا من شئ فيبطل الاختراع ولا لعلة فلا يصح الابتداع ، خلق ما شاء كيف شاء ، متوحدا ” بذلك لإظهار حكمته ، وحقيقة ربوبيته ، لا تضبطه العقول ، ولا تبلغه الأوهام ، ولا تدركه الأبصار ، ولا يحيط به مقدار ، عجزت دونه العبارة ، وكلت دونه الأبصار ، وضل …
In the Praise of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah Who is praised for His bounties, worshipped for His Might, obeyed in His rule and feared for His Majesty. He possesses all that is attractive; His commands pervade in all of His creation. He is High, the Most High. He is near in His Highness and the Most High above being seen. His being the first has had no beginning and He is eternal. He existed before the existence of all things and He is the eternal Who guards all things. He is the overwhelming power and the preservation of the things does not burden Him. He is the only Almighty in His kingdom and only power to compel what is to compel. Through wisdom He has …
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے جو اپنی نعمتوں پر تعریف شائستہ ہے، اپنی قدرت پر معبود ہے، اپنی سلطان میں مطاع ہے، اپنی عظمت پر مخوف ہے۔ جس کے پاس ہر دل پسند چیز ہے، جس کا حکم تمام خلق میں جاری ہے۔ وہ بلند ہے پھر مزید بلند ہوا، نزدیک ہے پھر عالیٰ ہوا، ہر نظر سے بلند ہے۔ جس کی ابتدا کا کوئی آغاز نہیں، جس کی ازل کا کوئی انجام نہیں۔ وہ تمام چیزوں سے پہلے قائم تھا، وہ ابدی ہے جو سب کو قائم رکھتا ہے۔ وہ غالب قاہر ہے جس کو نگرانی میں تکلیف نہیں، وہ قدیر ہے جس کی عظمت سے ملکوت میں منفرد ہے اور جس کی قدرت سے جبروت میں تنہا ہے، اور اپنی حکمت سے اپنی حجتوں کو خلق پر ظاہر کیا۔ اس نے اشیاء کو ایجاد سے خلق کیا، اور انہیں ابتدائے سے بنایا، اپنی قدرت اور حکمت سے، کسی چیز سے نہیں کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5064) Sahih Muslim (3018)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5064) Sahih Muslim (3018)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5064) Sahih Muslim (3018)
Ibn Shihab said “’Urwah bin Al Zubair asked A’ishah , wife of the Prophet(ﷺ) about the Qur’anic verse “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you.” She said “O my nephew, this means the female orphan who is under the protection of her guardian and she holds a share in his property and her property and beauty attracts him; so her guardian intends to marry her without doing justice to her in respect of her dower and he gives her the same amount of dower as others give her. They (i.e., the guardians) were prohibited to marry them except that they do justice to them and pay them their maximum customary dower and they were asked to marry …
عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء سورة النساء» ۱؎ کے بارے میں دریافت کیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے، جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ شریک ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کئے نکاح کرنا چاہتا ہو ( یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو ) چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا، اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لیں۔ عروہ کا …
Sahl (b. Sa’d) reported the prophet (May peace be upon him) as saying; I and the one who takes the responsibility of an orphan will be in Paradise thus, and he joined his middle finger and forefinger
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ( قریب قریب ) ہوں گے آپ نے بیچ کی، اور انگوٹھے سے قریب کی انگلی، کو ملا کر دکھایا۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"The best house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated well. And the worst house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated badly
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ( پرورش پاتا ) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو ۔
Urwa b. Zubair reported that he asked 'A'isha about the words of Allah:" If you fear that you will not be able to maintain equity amongst the orphan girls, then marry (those) you like from amongst the women two, three or four." She said: O, the son of my sister, the orphan girl is one who is under the patronage of her guardian and she shares with him in his property and her property and beauty fascinate him and her guardian makes up his mind to marry her without giving her due share of the wedding money and is not prepared (to pay so much amount) which anyone else is prepared to pay and so Allah has forbidden to marry these girls but in case when equity is observed as regards the wedding …
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ عزوجل نے فرمان : "" اگر تمھیں خدشہ ہوکہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو ان عورتوں میں سے ، جو تمھیں اچھی لگیں دو ، دو ، تین ، تین چار ، چار سے نکاح کرلو "" کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : میرے بھانجے!یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی کفالت میں ہوتی ہے اس کے ( موروثی ) مال میں اسکے ساتھ شریک ہوتی ہے تو اس کے ولی ( چچازاد وغیرہ ) کو اس کا مال اور جمال دونوں پسند ہوتے ہیں اور اس کا ولی چاہتا ہے کہ اس کے مہر میں انصاف کیے بغیر اس سے شادی کرلےاور وہ بھی اسے اتنا مہر دے جتنا کوئی دوسرااسے دے گا ، چنانچہ ان ( لوگوں ) کو اس با ت سے روک …
PickthallNay, but ye (for your part) honour not the orphan
Yusuf AliNay, nay! but ye honour not the orphans!
The agreed readingNo — rather you do not honour the orphan. The commentaries note the turn: the answer to both claims is in what they do, not in what they have.
Urdu”کَلَّا“ اس خیال کی تردید ہے: نہ دولت عزت کی دلیل ہے اور نہ تنگ دستی ذلت کی؛ یہ دونوں تو آزمائش ہیں جن سے اللہ دیکھتا ہے کہ کون شکر کرتا ہے اور کون صبر۔ پھر بات ان کے قول کی مذمت سے ان کے عمل کی مذمت کی طرف بڑھتی ہے: تم یتیم کی عزت نہیں کرتے، جو باپ سے محروم ہو گیا اور دلجوئی اور احسان کا محتاج ہے۔
Arabic«كلَّا» ردعٌ لهذا الظن: فليس الإكرام بالغنى ولا الإهانة بالفقر، وإنما هما ابتلاء يمتحن الله به عباده لينظر من يشكر ومن يصبر. ثم انتقل من ذمِّ قولهم إلى ذمِّ فعلهم: لا تُكرمون اليتيم الذي فقد أباه واحتاج إلى جبر خاطره والإحسان إليه.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 4 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة5 reports cited here — 4 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله المحمود لنعمته المعبود لقدرته ، المطاع في سلطانه المرهوب لجلاله ، المرغوب إليه فيما عنده ، النافذ أمره في جميع خلقه ، علا فاستعلى ودنا فتعالى ، وارتفع فوق كل منظر ، الذي لا بدء لأوليته ، ولا غاية لأزليته ، القائم قبل الأشياء ، والدائم الذي به قوامها ، والقاهر الذي لا يؤوده حفظها والقادر الذي بعظمته تفرد بالملكوت وبقدرته توحد بالجبروت ، وبحكمته أظهر حججه على خلقه . اخترع الأشياء إنشاء ، وابتدعها ابتداء ، بقدرته وحكمته ، لا من شئ فيبطل الاختراع ولا لعلة فلا يصح الابتداع ، خلق ما شاء كيف شاء ، متوحدا ” بذلك لإظهار حكمته ، وحقيقة ربوبيته ، لا تضبطه العقول ، ولا تبلغه الأوهام ، ولا تدركه الأبصار ، ولا يحيط به مقدار ، عجزت دونه العبارة ، وكلت دونه الأبصار ، وضل …
In the Praise of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah Who is praised for His bounties, worshipped for His Might, obeyed in His rule and feared for His Majesty. He possesses all that is attractive; His commands pervade in all of His creation. He is High, the Most High. He is near in His Highness and the Most High above being seen. His being the first has had no beginning and He is eternal. He existed before the existence of all things and He is the eternal Who guards all things. He is the overwhelming power and the preservation of the things does not burden Him. He is the only Almighty in His kingdom and only power to compel what is to compel. Through wisdom He has …
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے جو اپنی نعمتوں پر تعریف شائستہ ہے، اپنی قدرت پر معبود ہے، اپنی سلطان میں مطاع ہے، اپنی عظمت پر مخوف ہے۔ جس کے پاس ہر دل پسند چیز ہے، جس کا حکم تمام خلق میں جاری ہے۔ وہ بلند ہے پھر مزید بلند ہوا، نزدیک ہے پھر عالیٰ ہوا، ہر نظر سے بلند ہے۔ جس کی ابتدا کا کوئی آغاز نہیں، جس کی ازل کا کوئی انجام نہیں۔ وہ تمام چیزوں سے پہلے قائم تھا، وہ ابدی ہے جو سب کو قائم رکھتا ہے۔ وہ غالب قاہر ہے جس کو نگرانی میں تکلیف نہیں، وہ قدیر ہے جس کی عظمت سے ملکوت میں منفرد ہے اور جس کی قدرت سے جبروت میں تنہا ہے، اور اپنی حکمت سے اپنی حجتوں کو خلق پر ظاہر کیا۔ اس نے اشیاء کو ایجاد سے خلق کیا، اور انہیں ابتدائے سے بنایا، اپنی قدرت اور حکمت سے، کسی چیز سے نہیں کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5064) Sahih Muslim (3018)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5064) Sahih Muslim (3018)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5064) Sahih Muslim (3018)
Ibn Shihab said “’Urwah bin Al Zubair asked A’ishah , wife of the Prophet(ﷺ) about the Qur’anic verse “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you.” She said “O my nephew, this means the female orphan who is under the protection of her guardian and she holds a share in his property and her property and beauty attracts him; so her guardian intends to marry her without doing justice to her in respect of her dower and he gives her the same amount of dower as others give her. They (i.e., the guardians) were prohibited to marry them except that they do justice to them and pay them their maximum customary dower and they were asked to marry …
عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء سورة النساء» ۱؎ کے بارے میں دریافت کیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے، جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ شریک ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کئے نکاح کرنا چاہتا ہو ( یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو ) چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا، اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لیں۔ عروہ کا …
Sahl (b. Sa’d) reported the prophet (May peace be upon him) as saying; I and the one who takes the responsibility of an orphan will be in Paradise thus, and he joined his middle finger and forefinger
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ( قریب قریب ) ہوں گے آپ نے بیچ کی، اور انگوٹھے سے قریب کی انگلی، کو ملا کر دکھایا۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"The best house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated well. And the worst house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated badly
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ( پرورش پاتا ) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو ۔
Urwa b. Zubair reported that he asked 'A'isha about the words of Allah:" If you fear that you will not be able to maintain equity amongst the orphan girls, then marry (those) you like from amongst the women two, three or four." She said: O, the son of my sister, the orphan girl is one who is under the patronage of her guardian and she shares with him in his property and her property and beauty fascinate him and her guardian makes up his mind to marry her without giving her due share of the wedding money and is not prepared (to pay so much amount) which anyone else is prepared to pay and so Allah has forbidden to marry these girls but in case when equity is observed as regards the wedding …
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ عزوجل نے فرمان : "" اگر تمھیں خدشہ ہوکہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو ان عورتوں میں سے ، جو تمھیں اچھی لگیں دو ، دو ، تین ، تین چار ، چار سے نکاح کرلو "" کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : میرے بھانجے!یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی کفالت میں ہوتی ہے اس کے ( موروثی ) مال میں اسکے ساتھ شریک ہوتی ہے تو اس کے ولی ( چچازاد وغیرہ ) کو اس کا مال اور جمال دونوں پسند ہوتے ہیں اور اس کا ولی چاہتا ہے کہ اس کے مہر میں انصاف کیے بغیر اس سے شادی کرلےاور وہ بھی اسے اتنا مہر دے جتنا کوئی دوسرااسے دے گا ، چنانچہ ان ( لوگوں ) کو اس با ت سے روک …
Yusuf AliNor do ye encourage one another to feed the poor!-
The agreed readingand do not urge one another to feed the poor — not doing it, the commentaries note, and not pressing anyone else to.
Urduاور تم آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کے کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے، اُس محتاج کو جس کے پاس گزارے کا سامان نہیں۔ ترغیب دینے کی نفی سے خود کھلانے کی نفی بدرجۂ اولیٰ نکلتی ہے۔ یعنی دل رحم سے خالی ہو چکے ہیں: نہ خود دیتے ہیں اور نہ دوسروں کو دینے پر ابھارتے ہیں۔
Arabicولا يحضُّ بعضكم بعضًا على إطعام المسكين الذي لا يجد ما يسدُّ حاجته. ونفيُ الحضِّ على الإطعام نفيٌ للإطعام نفسه من باب أولى. فهي قلوبٌ خلت من الرحمة، لا تُعطي ولا تدعو غيرها إلى العطاء.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 4 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة5 reports cited here — 4 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله المحمود لنعمته المعبود لقدرته ، المطاع في سلطانه المرهوب لجلاله ، المرغوب إليه فيما عنده ، النافذ أمره في جميع خلقه ، علا فاستعلى ودنا فتعالى ، وارتفع فوق كل منظر ، الذي لا بدء لأوليته ، ولا غاية لأزليته ، القائم قبل الأشياء ، والدائم الذي به قوامها ، والقاهر الذي لا يؤوده حفظها والقادر الذي بعظمته تفرد بالملكوت وبقدرته توحد بالجبروت ، وبحكمته أظهر حججه على خلقه . اخترع الأشياء إنشاء ، وابتدعها ابتداء ، بقدرته وحكمته ، لا من شئ فيبطل الاختراع ولا لعلة فلا يصح الابتداع ، خلق ما شاء كيف شاء ، متوحدا ” بذلك لإظهار حكمته ، وحقيقة ربوبيته ، لا تضبطه العقول ، ولا تبلغه الأوهام ، ولا تدركه الأبصار ، ولا يحيط به مقدار ، عجزت دونه العبارة ، وكلت دونه الأبصار ، وضل …
In the Praise of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah Who is praised for His bounties, worshipped for His Might, obeyed in His rule and feared for His Majesty. He possesses all that is attractive; His commands pervade in all of His creation. He is High, the Most High. He is near in His Highness and the Most High above being seen. His being the first has had no beginning and He is eternal. He existed before the existence of all things and He is the eternal Who guards all things. He is the overwhelming power and the preservation of the things does not burden Him. He is the only Almighty in His kingdom and only power to compel what is to compel. Through wisdom He has …
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے جو اپنی نعمتوں پر تعریف شائستہ ہے، اپنی قدرت پر معبود ہے، اپنی سلطان میں مطاع ہے، اپنی عظمت پر مخوف ہے۔ جس کے پاس ہر دل پسند چیز ہے، جس کا حکم تمام خلق میں جاری ہے۔ وہ بلند ہے پھر مزید بلند ہوا، نزدیک ہے پھر عالیٰ ہوا، ہر نظر سے بلند ہے۔ جس کی ابتدا کا کوئی آغاز نہیں، جس کی ازل کا کوئی انجام نہیں۔ وہ تمام چیزوں سے پہلے قائم تھا، وہ ابدی ہے جو سب کو قائم رکھتا ہے۔ وہ غالب قاہر ہے جس کو نگرانی میں تکلیف نہیں، وہ قدیر ہے جس کی عظمت سے ملکوت میں منفرد ہے اور جس کی قدرت سے جبروت میں تنہا ہے، اور اپنی حکمت سے اپنی حجتوں کو خلق پر ظاہر کیا۔ اس نے اشیاء کو ایجاد سے خلق کیا، اور انہیں ابتدائے سے بنایا، اپنی قدرت اور حکمت سے، کسی چیز سے نہیں کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5064) Sahih Muslim (3018)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5064) Sahih Muslim (3018)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5064) Sahih Muslim (3018)
Ibn Shihab said “’Urwah bin Al Zubair asked A’ishah , wife of the Prophet(ﷺ) about the Qur’anic verse “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you.” She said “O my nephew, this means the female orphan who is under the protection of her guardian and she holds a share in his property and her property and beauty attracts him; so her guardian intends to marry her without doing justice to her in respect of her dower and he gives her the same amount of dower as others give her. They (i.e., the guardians) were prohibited to marry them except that they do justice to them and pay them their maximum customary dower and they were asked to marry …
عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء سورة النساء» ۱؎ کے بارے میں دریافت کیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے، جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ شریک ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کئے نکاح کرنا چاہتا ہو ( یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو ) چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا، اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لیں۔ عروہ کا …
Sahl (b. Sa’d) reported the prophet (May peace be upon him) as saying; I and the one who takes the responsibility of an orphan will be in Paradise thus, and he joined his middle finger and forefinger
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ( قریب قریب ) ہوں گے آپ نے بیچ کی، اور انگوٹھے سے قریب کی انگلی، کو ملا کر دکھایا۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"The best house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated well. And the worst house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated badly
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ( پرورش پاتا ) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو ۔
Urwa b. Zubair reported that he asked 'A'isha about the words of Allah:" If you fear that you will not be able to maintain equity amongst the orphan girls, then marry (those) you like from amongst the women two, three or four." She said: O, the son of my sister, the orphan girl is one who is under the patronage of her guardian and she shares with him in his property and her property and beauty fascinate him and her guardian makes up his mind to marry her without giving her due share of the wedding money and is not prepared (to pay so much amount) which anyone else is prepared to pay and so Allah has forbidden to marry these girls but in case when equity is observed as regards the wedding …
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ عزوجل نے فرمان : "" اگر تمھیں خدشہ ہوکہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو ان عورتوں میں سے ، جو تمھیں اچھی لگیں دو ، دو ، تین ، تین چار ، چار سے نکاح کرلو "" کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : میرے بھانجے!یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی کفالت میں ہوتی ہے اس کے ( موروثی ) مال میں اسکے ساتھ شریک ہوتی ہے تو اس کے ولی ( چچازاد وغیرہ ) کو اس کا مال اور جمال دونوں پسند ہوتے ہیں اور اس کا ولی چاہتا ہے کہ اس کے مہر میں انصاف کیے بغیر اس سے شادی کرلےاور وہ بھی اسے اتنا مہر دے جتنا کوئی دوسرااسے دے گا ، چنانچہ ان ( لوگوں ) کو اس با ت سے روک …
PickthallAnd ye devour heritages with devouring greed.
Yusuf AliAnd ye devour inheritance - all with greed,
The agreed readingand you devour the inheritance greedily — taking it all in, the commentaries gloss, including the shares of the women and the children.
Urdu”تُرَاث“ سے مراد میراث کا مال ہے، اور ”اَکْلًا لَّمًّا“ کا مطلب ہے سمیٹ کر، بغیر کچھ چھوڑے کھا جانا۔ وہ اپنا حصہ بھی لیتے ہیں اور کمزوروں کا حصہ بھی، اور حلال و حرام میں کوئی تمیز نہیں کرتے۔ ”کھانے“ کا لفظ اس لیے آیا کہ اس میں مال کے تصرف کی بیشتر صورتیں آ جاتی ہیں۔
Arabicالتُّراث هو المال الموروث، و«أكلًا لَمًّا» أي جمعًا شديدًا لا يُترك منه شيء. فيأخذون حقَّهم وحقَّ غيرهم من الضعفاء، ولا يفرِّقون بين حلاله وحرامه. وذِكرُ الأكل لأنه يشمل معظم وجوه التصرُّف في المال.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 4 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة5 reports cited here — 4 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله المحمود لنعمته المعبود لقدرته ، المطاع في سلطانه المرهوب لجلاله ، المرغوب إليه فيما عنده ، النافذ أمره في جميع خلقه ، علا فاستعلى ودنا فتعالى ، وارتفع فوق كل منظر ، الذي لا بدء لأوليته ، ولا غاية لأزليته ، القائم قبل الأشياء ، والدائم الذي به قوامها ، والقاهر الذي لا يؤوده حفظها والقادر الذي بعظمته تفرد بالملكوت وبقدرته توحد بالجبروت ، وبحكمته أظهر حججه على خلقه . اخترع الأشياء إنشاء ، وابتدعها ابتداء ، بقدرته وحكمته ، لا من شئ فيبطل الاختراع ولا لعلة فلا يصح الابتداع ، خلق ما شاء كيف شاء ، متوحدا ” بذلك لإظهار حكمته ، وحقيقة ربوبيته ، لا تضبطه العقول ، ولا تبلغه الأوهام ، ولا تدركه الأبصار ، ولا يحيط به مقدار ، عجزت دونه العبارة ، وكلت دونه الأبصار ، وضل …
In the Praise of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah Who is praised for His bounties, worshipped for His Might, obeyed in His rule and feared for His Majesty. He possesses all that is attractive; His commands pervade in all of His creation. He is High, the Most High. He is near in His Highness and the Most High above being seen. His being the first has had no beginning and He is eternal. He existed before the existence of all things and He is the eternal Who guards all things. He is the overwhelming power and the preservation of the things does not burden Him. He is the only Almighty in His kingdom and only power to compel what is to compel. Through wisdom He has …
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے جو اپنی نعمتوں پر تعریف شائستہ ہے، اپنی قدرت پر معبود ہے، اپنی سلطان میں مطاع ہے، اپنی عظمت پر مخوف ہے۔ جس کے پاس ہر دل پسند چیز ہے، جس کا حکم تمام خلق میں جاری ہے۔ وہ بلند ہے پھر مزید بلند ہوا، نزدیک ہے پھر عالیٰ ہوا، ہر نظر سے بلند ہے۔ جس کی ابتدا کا کوئی آغاز نہیں، جس کی ازل کا کوئی انجام نہیں۔ وہ تمام چیزوں سے پہلے قائم تھا، وہ ابدی ہے جو سب کو قائم رکھتا ہے۔ وہ غالب قاہر ہے جس کو نگرانی میں تکلیف نہیں، وہ قدیر ہے جس کی عظمت سے ملکوت میں منفرد ہے اور جس کی قدرت سے جبروت میں تنہا ہے، اور اپنی حکمت سے اپنی حجتوں کو خلق پر ظاہر کیا۔ اس نے اشیاء کو ایجاد سے خلق کیا، اور انہیں ابتدائے سے بنایا، اپنی قدرت اور حکمت سے، کسی چیز سے نہیں کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5064) Sahih Muslim (3018)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5064) Sahih Muslim (3018)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5064) Sahih Muslim (3018)
Ibn Shihab said “’Urwah bin Al Zubair asked A’ishah , wife of the Prophet(ﷺ) about the Qur’anic verse “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you.” She said “O my nephew, this means the female orphan who is under the protection of her guardian and she holds a share in his property and her property and beauty attracts him; so her guardian intends to marry her without doing justice to her in respect of her dower and he gives her the same amount of dower as others give her. They (i.e., the guardians) were prohibited to marry them except that they do justice to them and pay them their maximum customary dower and they were asked to marry …
عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء سورة النساء» ۱؎ کے بارے میں دریافت کیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے، جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ شریک ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کئے نکاح کرنا چاہتا ہو ( یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو ) چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا، اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لیں۔ عروہ کا …
Sahl (b. Sa’d) reported the prophet (May peace be upon him) as saying; I and the one who takes the responsibility of an orphan will be in Paradise thus, and he joined his middle finger and forefinger
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ( قریب قریب ) ہوں گے آپ نے بیچ کی، اور انگوٹھے سے قریب کی انگلی، کو ملا کر دکھایا۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"The best house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated well. And the worst house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated badly
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ( پرورش پاتا ) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو ۔
Urwa b. Zubair reported that he asked 'A'isha about the words of Allah:" If you fear that you will not be able to maintain equity amongst the orphan girls, then marry (those) you like from amongst the women two, three or four." She said: O, the son of my sister, the orphan girl is one who is under the patronage of her guardian and she shares with him in his property and her property and beauty fascinate him and her guardian makes up his mind to marry her without giving her due share of the wedding money and is not prepared (to pay so much amount) which anyone else is prepared to pay and so Allah has forbidden to marry these girls but in case when equity is observed as regards the wedding …
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ عزوجل نے فرمان : "" اگر تمھیں خدشہ ہوکہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو ان عورتوں میں سے ، جو تمھیں اچھی لگیں دو ، دو ، تین ، تین چار ، چار سے نکاح کرلو "" کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : میرے بھانجے!یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی کفالت میں ہوتی ہے اس کے ( موروثی ) مال میں اسکے ساتھ شریک ہوتی ہے تو اس کے ولی ( چچازاد وغیرہ ) کو اس کا مال اور جمال دونوں پسند ہوتے ہیں اور اس کا ولی چاہتا ہے کہ اس کے مہر میں انصاف کیے بغیر اس سے شادی کرلےاور وہ بھی اسے اتنا مہر دے جتنا کوئی دوسرااسے دے گا ، چنانچہ ان ( لوگوں ) کو اس با ت سے روک …
The agreed readingand you love wealth with a great love. The commentaries agree the four together answer the two claims before them: honour is not wealth, and what they do with wealth is the measure.
Urduاور تم مال سے بہت زیادہ اور حد سے بڑھی ہوئی محبت کرتے ہو۔ یہی محبت پچھلی سب باتوں کی جڑ ہے: اسی کی وجہ سے یتیم کی عزت اور مسکین کا کھانا رک جاتا ہے، اور اسی کی وجہ سے ہر راستے سے مال جمع کیا جاتا ہے۔ خرچ سے بخل اور جمع کرنے کی حرص — دونوں ایک ہی بیماری کے دو رخ ہیں۔
Arabicوتحبون المال حبًّا كثيرًا مفرِطًا. وهذا الحبُّ هو أصل ما قبله: به يمتنعون عن إكرام اليتيم وإطعام المسكين، وبه يجمعون المال من كل وجه. فالشُّحُّ عن الإنفاق والشَّرَه في الجمع وجهان لعلَّة واحدة.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Sahl (b. Sa’d) reported the prophet (May peace be upon him) as saying; I and the one who takes the responsibility of an orphan will be in Paradise thus, and he joined his middle finger and forefinger
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ( قریب قریب ) ہوں گے آپ نے بیچ کی، اور انگوٹھے سے قریب کی انگلی، کو ملا کر دکھایا۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"The best house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated well. And the worst house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated badly
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ( پرورش پاتا ) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو ۔
PickthallNay, but when the earth is ground to atoms, grinding, grinding,
Yusuf AliNay! When the earth is pounded to powder,
The agreed readingNo — when the earth is pounded to dust, shaken, the commentaries gloss, until nothing built on it is left standing.
Urdu”کَلَّا“ اس ساری روش کی تردید ہے: جس مال سے تم محبت کرتے ہو وہ تمہارے پاس رہنے والا نہیں، آگے ایک بہت بڑا دن ہے۔ اس دن زمین اور جو کچھ اس پر ہے، سب کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا، ہر عمارت ڈھے جائے گی اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی۔ ”دَکًّا دَکًّا“ کی تکرار بتاتی ہے کہ یہ سب کچھ پوری زمین پر ہوگا۔
Arabic«كلَّا» ردعٌ عن هذا كله: ليس ما أحببتم من المال بباقٍ لكم، فأمامكم يوم عظيم. تُدَكُّ فيه الأرض وما عليها دكًّا بعد دكٍّ، حتى يتحطَّم كل بناء وتصير قاعًا مستويًا. وتكرار «دكًّا» يفيد استيعاب ذلك للأرض كلها.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Hell will be brought forth on that Day (of Resurrection) having seventy thousand bridles, and with every handle will be seventy thousand angels dragging it'". Other chains report similar narrations
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abdullah b. Mas`ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Hell would be brought on that day (the Day of Judgment) with seventy thousand bridles, and seventy thousand angels dragging each bridle
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔
PickthallAnd thy Lord shall come with angels, rank on rank,
Yusuf AliAnd thy Lord cometh, and His angels, rank upon rank,
The agreed readingand your Lord comes, and the angels rank upon rank — the angels in their ranks, the commentaries gloss, each by its own standing.
Urduاور آپ کا رب بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے آئے گا، اور فرشتے صف در صف حاضر ہوں گے۔ ہر آسمان کے فرشتوں کی الگ صف ہوگی جو اپنے سے نیچے والوں کو گھیرے ہوئے ہوگی؛ یہ صفیں عاجزی اور بادشاہِ جبار کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی صفیں ہیں۔ اس دن اس کے اقتدار کے وہ آثار ظاہر ہوں گے جو محض لشکروں کی آمد سے ظاہر نہیں ہوتے۔
Arabicويجيء ربك لفصل القضاء بين خلقه، وتجيء الملائكة صفًّا بعد صف. أهل كل سماء صفٌّ يحيط بمن دونه، وهي صفوف خضوع وذُلٍّ للملك الجبار. فيظهر يومئذ من آثار سلطانه ما لا يظهر بحضور الجنود وحدهم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Hell will be brought forth on that Day (of Resurrection) having seventy thousand bridles, and with every handle will be seventy thousand angels dragging it'". Other chains report similar narrations
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abdullah b. Mas`ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Hell would be brought on that day (the Day of Judgment) with seventy thousand bridles, and seventy thousand angels dragging each bridle
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔
PickthallAnd hell is brought near that day; on that day man will remember, but how will the remembrance (then avail him)?
Yusuf AliAnd Hell, that Day, is brought (face to face),- on that Day will man remember, but how will that remembrance profit him?
The agreed readingand Hell is brought near that Day — that Day man will remember, and how will remembering help him then?
Urduاور اس دن جہنم کو لایا جائے گا، کھینچ کر مخلوق کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اُس وقت انسان کو یاد آئے گا کہ اس نے کیا کوتاہی کی اور کیا نیکی یا بدی آگے بھیجی، اور اس کی آنکھیں کھلیں گی۔ مگر اب اس یاد آنے کا کیا فائدہ، جب اس کا وقت گزر چکا؟ یہ جزا کا دن ہے، عمل کا دن نہیں۔
Arabicويُؤتى في ذلك اليوم بجهنم تُقاد وتُجَرُّ حتى تُعرض على الخلائق. فعندها يتذكَّر الإنسان ما فرَّط فيه وما قدَّم من خير وشر، ويستيقظ قلبه. لكن أنَّى له الذكرى وقد فات أوانها؟ فذاك يوم جزاء لا يوم عمل.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 2 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة5 reports cited here — 2 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
و كل ما كان فيه جاء نفر من اليهود إلى رسول اللّه صلى اللّه عليه و آله فسألوه عن مسائل و كان فيما سألوه أخبرنا يا محمّد لأيّ علّة توضّأ هذه الجوارح الأربع؟ و ما أشبه ذلك من مسائلهم فقد رويته عن عليّ بن أحمد بن عبد اللّه البرقيّ- رضي اللّه عنه- عن أبيه، عن جدّه أحمد بن أبي عبد اللّه، عن أبيه، عن أبي الحسن عليّ بن الحسين البرقيّ عن عبد اللّه بن جبلة، عن معاوية بن عمّار، عن الحسن بن عبد اللّه، عن آبائه عن جدّه الحسن بن عليّ بن أبي طالب عليهما السّلام.
Everything in this book that narrates the incident where a group of Jews came to the Messenger of Allah (swt), peace and blessings be upon him and his family, and asked him various questions - including when they asked: "O' Muhammad, for what reason do you perform ablution on these four limbs?" and similar questions - has been transmitted by me from Ali ibn Ahmad ibn Abdullah Al-Barqi - may Allah (swt) be pleased with him - from his father, from his grandfather Ahmad ibn Abi Abdullah, from his father, from Abu Al-Hasan Ali ibn Al-Husayn Al-Barqi, from Abdullah ibn Jabala, from Mu'awiyah ibn Ammar, from Al-Hasan ibn Abdullah, from his forefathers, from his grandfather Al-Hasan ibn Ali ibn …
یہ کتاب میں جو کچھ ہے جس میں یہود کے ایک گروپ کا ذکر ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آئے اور انہوں نے مختلف سوالات پوچھے۔ ان کے سوالات میں سے ایک یہ تھا کہ اے محمد! آپ ان چار اعضاء کی وضو کیوں کرتے ہیں؟ اور ان جیسے دوسرے سوالات۔ یہ سب کچھ مجھے علی بن احمد بن عبداللہ البرقی سے ملا - اللہ انہیں خوش رکھے - ان کے باپا سے، ان کے دادا احمد بن ابی عبداللہ سے، ان کے باپا سے، ابو الحسن علی بن الحسین البرقی سے، عبداللہ بن جبلہ سے، معاویہ بن عمار سے، الحسن بن عبداللہ سے، ان کے اجداد سے، ان کے دادا الحسن بن علی بن ابی طالب علیہما السلام سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
31-191 Al-Hassan ibn Muhammad ibn Sa’eed al-Hashemi narrated in the Kufa Mosque that Forat ibn Ibrahim ibn Forat al-Kufi quoted on the authority of Abul Hassan Muhammad ibn Dhaheer, on the authority of Abul Hassan Muhammad ibn Al-Husayn, the brother of Yunus al-Baghdadi at Baghdad, on the authority of Muhammad ibn Yaqoob al-Nahsheli that Ali ibn Musa Ar-Ridha’ (a.s.) quoted on the authority of his father Musa ibn Ja’far (a.s.), on the authority of his father Ja’far ibn Muhammad (a.s.), on the authority of his father Muhammad ibn Ali (a.s.), on the authority of his father Al-Husayn ibn Ali (a.s.), on the authority of his father Ali ibn Abi Talib (a.s.), on the authority of the Prophet (S), …
حسن بن محمد بن سعید الہاشمی نے کوفے کی مسجد میں روایت کیا ہے کہ فرات بن ابراہیم بن فرات الکوفی نے کہا کہ ابو الحسن محمد بن ظہیر نے روایت کیا، انہوں نے ابو الحسن محمد بن حسین بن اخی یونس البغدادی سے روایت کیا بغداد میں، انہوں نے محمد بن یعقوب النہشلی سے روایت کی، انہوں نے علی بن موسیٰ الرضا (علیہ السلام) سے روایت کی، وہ اپنے والد موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) سے، وہ اپنے والد جعفر بن محمد (علیہ السلام) سے، وہ اپنے والد ابو محمد بن علی سے، وہ اپنے والد علی بن حسین سے، وہ اپنے والد حسین بن علی سے، وہ اپنے والد علی بن ابی طالب (علیہ السلام) سے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے، وہ جبریل سے، وہ میکائیل سے، وہ اسرافیل سے، کہ اللہ تعالیٰ جل جلاله نے کہا: میں اللہ ہوں، میرے علاوہ کوئی خدا نہیں۔ میں نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Hell will be brought forth on that Day (of Resurrection) having seventy thousand bridles, and with every handle will be seventy thousand angels dragging it'". Other chains report similar narrations
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abdullah b. Mas`ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Hell would be brought on that day (the Day of Judgment) with seventy thousand bridles, and seventy thousand angels dragging each bridle
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔
Hadith.643 - It was narrated from Imam Hasan ibn Ali (as) said that a group of Jews came to The Prophet (sw) and the most knowledgeable among them asked him about various matters. Among the questions was: 'Tell me, why did Allah (swt), the Mighty and Majestic, prescribe these five prayers at five specific times for your Ummah during the day and night?'" The Prophet, replied: "(As for the Dhuhr prayer), When the sun reaches its zenith, it enters a ring, and when it enters this ring, everything under the Throne praises the glory of my Lord (azj), the Exalted. It is at this hour that my Lord (azj), the Mighty and Majestic, sends blessings upon me, and therefore Allah (swt) made this hour …
حسن بن علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: یہود کا ایک گروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ کے پاس آیا اور ان میں سے سب سے زیادہ علم رکھنے والا شخص آپ سے مختلف مسائل کے بارے میں پوچھنے لگا۔ اس نے آپ سے پوچھا: مجھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ پانچ نمازیں پانچ مخصوص اوقات میں رات اور دن کی ساعتوں میں آپ کی امت پر کس وجہ سے فرض کی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ نے جواب دیا: جب سورج زوال پر آتا ہے تو اس کا ایک حلقہ ہے۔ جب وہ اس میں داخل ہوتا ہے تو سورج ڈھل جاتا ہے اور عرش سے نیچے ہر چیز اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جس میں میرا رب مجھ پر رحمت بھیجتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اور میری امت پر اس وقت میں نماز فرض کی۔ اور اس لیے فرمایا: …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallHe will say: Ah, would that I had sent before me (some provision) for my life!
Yusuf AliHe will say: "Ah! Would that I had sent forth (good deeds) for (this) my (Future) Life!"
The agreed readingHe will say: if only I had sent something ahead for my life. The commentaries agree the life meant is the one he has now entered, and that the sending ahead was to have been done in the one he left.
Urduوہ حسرت کے ساتھ کہے گا: کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا۔ آخرت کو ”میری زندگی“ اس لیے کہا کہ اصل اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی وہی ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ جس زندگی کے لیے تیاری اور کوشش کرنی چاہیے، وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے۔
Arabicيقول متحسِّرًا على ما ضيَّع: يا ليتني قدَّمت لحياتي عملًا صالحًا. وسمَّى الآخرة «حياتي» لأنها هي الحياة الباقية الدائمة حقًّا. وفي هذا دليل على أن الحياة التي يستحقُّ أن يُسعى لها هي حياة الدار الآخرة.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Hell will be brought forth on that Day (of Resurrection) having seventy thousand bridles, and with every handle will be seventy thousand angels dragging it'". Other chains report similar narrations
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abdullah b. Mas`ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Hell would be brought on that day (the Day of Judgment) with seventy thousand bridles, and seventy thousand angels dragging each bridle
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔
PickthallNone punisheth as He will punish on that day!
Yusuf AliFor, that Day, His Chastisement will be such as none (else) can inflict,
The agreed readingSo that Day no one punishes as He punishes — no one else is given the punishing, the commentaries gloss, and none of it is passed to another.
Urduاس دن کوئی اللہ کے عذاب جیسا عذاب نہ دے سکے گا۔ مخلوق ایک دوسرے کو جو تکلیف دیتی ہے، وہ اس عذاب کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، کیونکہ اللہ کا عذاب سب سے سخت اور سب سے دیرپا ہے۔ دنیا میں جباروں نے جو ظلم ڈھایا، وہ اس انجام کے سامنے حقیر ہے۔
Arabicففي ذلك اليوم لا يُعذِّب أحدٌ مثلَ عذاب الله. فليس في عذاب الخلق بعضِهم بعضًا ما يُقاس بعذابه، لأنه أشدُّ وأدوم. وما وقع من بطش الجبارين في الدنيا صغيرٌ بجانب ما ينتظرهم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Hell will be brought forth on that Day (of Resurrection) having seventy thousand bridles, and with every handle will be seventy thousand angels dragging it'". Other chains report similar narrations
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abdullah b. Mas`ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Hell would be brought on that day (the Day of Judgment) with seventy thousand bridles, and seventy thousand angels dragging each bridle
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔
Yusuf AliAnd His bonds will be such as none (other) can bind.
The agreed readingand no one binds as He binds — no binding is like His binding, the commentaries gloss, and it is spoken of the one who refused.
Urduاور نہ کوئی اس کے جکڑنے جیسا جکڑ سکے گا۔ ”وَثَاق“ وہ رسی اور بندھن ہے جس سے قیدی کو باندھا جاتا ہے؛ انہیں زنجیروں اور طوقوں میں کس دیا جائے گا۔ یوں اس دن ان پر عذاب کی سختی اور قید کی سختی، دونوں جمع ہو جائیں گی۔
Arabicولا يوثِق أحدٌ مثلَ وثاقه. والوَثاق: الرباط الذي يُشَدُّ به الأسير، فيُشَدُّون في السلاسل والأغلال. فاجتمع عليهم في ذلك اليوم شدة العذاب وشدة القيد معًا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Hell will be brought forth on that Day (of Resurrection) having seventy thousand bridles, and with every handle will be seventy thousand angels dragging it'". Other chains report similar narrations
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abdullah b. Mas`ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Hell would be brought on that day (the Day of Judgment) with seventy thousand bridles, and seventy thousand angels dragging each bridle
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔
Yusuf Ali(To the righteous soul will be said:) "O (thou) soul, in (complete) rest and satisfaction!
The agreed readingO soul at peace — settled and secure, the commentaries gloss, and the soul meant is the believing one.
Urduیہ اہلِ ایمان کی روح سے خطاب ہے، جو موت کے وقت بھی کیا جائے گا اور قیامت کے دن بھی۔ ”مُطْمَئِنَّہ“ وہ نفس ہے جو اللہ کے ذکر اور ایمان پر سکون پا چکا، خوف اور غم سے محفوظ ہے اور اپنے رب کے وعدے پر مطمئن ہے۔ یہ اُس نفس کے بالکل مقابل ہے جس نے مال کو اپنا پیمانہ بنا رکھا تھا۔
Arabicخطابٌ لنفس المؤمن، تُنادى به عند الموت ويوم القيامة. و«المطمئنة» هي التي سكنت إلى الإيمان بالله وذكرِه، فأمِنت من الخوف والحزن ووثقت بموعوده. فهي في المقابل التام لتلك النفس التي جعلت المال مقياسها.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Hell will be brought forth on that Day (of Resurrection) having seventy thousand bridles, and with every handle will be seventy thousand angels dragging it'". Other chains report similar narrations
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abdullah b. Mas`ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Hell would be brought on that day (the Day of Judgment) with seventy thousand bridles, and seventy thousand angels dragging each bridle
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔
A'isha reported:I heard that never a prophet dies until he is given an option to opt the life of (this) world or that of the Hereafter. She further said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say in his last illness in which he' died. I heard him saying in gruffness of the voice: Along with those persons upon whom Allah bestowed favours from amongst the Apostles, the testifiers of truth, the martyrs, the pious and goodly company are they (iv. 69). (It was on bearing these words) that I thought that he had been given choice (and he opted to live with these pious persons in the Paradise)
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سعد بن ابرا ہیم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، فر ما یا : میں سناکرتی تھی ۔ کہ کو ئی نبی فوت نہیں ہو تا یہاں تک کہ اس کو دنیا آخرت کے درمیان اختیار دیا جا تا ہے کہا : تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں یہ فر ما تے ہو ئے سنا ۔ اس وقت آپ کی آواز بھا ری ہو گئی تھی آپ فر ما رہے تھے : " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعا لیٰ نے انعام فر ما یا : " یعنی انبیاء ، صدیقین شہداء اور صالحین ( کے ساتھ ) اور یہی بہترین رفیق ہیں ۔ " کہا : تو میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ کو اختیا ردے دیا گیا ہے ۔
PickthallReturn unto thy Lord, content in His good pleasure!
Yusuf Ali"Come back thou to thy Lord,- well pleased (thyself), and well-pleasing unto Him!
The agreed readingreturn to your Lord, well pleased and pleasing — pleased with what it is given, the commentaries gloss, and approved in what it brought.
Urduلوٹ چل اپنے رب کی طرف، جس نے اپنی نعمتوں سے تیری پرورش کی — اس حال میں کہ تو اپنے ملنے والے اجر پر راضی ہے اور تیرا رب تیرے عمل سے تجھ سے راضی ہے۔ یہاں دونوں وصف اکٹھے کر دیے گئے: بندے کا رب سے راضی ہونا اور رب کا بندے سے راضی ہونا۔ اُس دن اس سے بڑھ کر کچھ نہیں مل سکتا۔
Arabicارجعي إلى ربك الذي ربَّاك بنعمه، راضيةً بما نلتِ من ثوابه، مرضيًّا عنكِ بما قدَّمتِ من عمل. فجمع لها الوصفين معًا: رضاها عن ربها ورضا ربها عنها. وهذا غاية ما يُنال في ذلك اليوم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Hell will be brought forth on that Day (of Resurrection) having seventy thousand bridles, and with every handle will be seventy thousand angels dragging it'". Other chains report similar narrations
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abdullah b. Mas`ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Hell would be brought on that day (the Day of Judgment) with seventy thousand bridles, and seventy thousand angels dragging each bridle
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔
A'isha reported:I heard that never a prophet dies until he is given an option to opt the life of (this) world or that of the Hereafter. She further said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say in his last illness in which he' died. I heard him saying in gruffness of the voice: Along with those persons upon whom Allah bestowed favours from amongst the Apostles, the testifiers of truth, the martyrs, the pious and goodly company are they (iv. 69). (It was on bearing these words) that I thought that he had been given choice (and he opted to live with these pious persons in the Paradise)
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سعد بن ابرا ہیم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، فر ما یا : میں سناکرتی تھی ۔ کہ کو ئی نبی فوت نہیں ہو تا یہاں تک کہ اس کو دنیا آخرت کے درمیان اختیار دیا جا تا ہے کہا : تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں یہ فر ما تے ہو ئے سنا ۔ اس وقت آپ کی آواز بھا ری ہو گئی تھی آپ فر ما رہے تھے : " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعا لیٰ نے انعام فر ما یا : " یعنی انبیاء ، صدیقین شہداء اور صالحین ( کے ساتھ ) اور یہی بہترین رفیق ہیں ۔ " کہا : تو میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ کو اختیا ردے دیا گیا ہے ۔
The agreed readingenter among My servants — among the righteous of them, the commentaries gloss, and in their company.
Urduپس میرے بندوں میں شامل ہو جا اور انہی میں سے ہو جا۔ ”عِبَادِیْ“ (میرے بندے) کی اضافت شرف اور اعزاز کی اضافت ہے۔ چنانچہ اس نفس کو سب سے پہلے اس مقام والوں کی رفاقت عطا کی گئی، ٹھکانے کے ذکر سے بھی پہلے۔
Arabicفادخلي في جملة عبادي الصالحين وكوني منهم. والإضافة في «عبادي» إضافة تشريف وتكريم. فأول ما تُعطاه هذه النفس صحبةُ أهل هذا المقام قبل ذكر المسكن.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 3 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة5 reports cited here — 3 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
24 - أخبرنا أحمد بن محمد بن سعيد قال: حدثنا أحمد بن يوسف بن يعقوب الجعفي قال: حدثنا إسماعيل بن مهران، قال: حدثنا الحسن بن علي بن أبي حمزة، عن أبيه، عن أبي بصير، عن أبي عبد الله أنه قال: إذا صعد العباسي أعواد منبر مروان أدرج ملك بني العباس. وقال: قال لي أبي (يعني الباقر ) لا بدّ لنار من آذربيجان لا يقوم لها شيء، فإذا كان ذلك فكونوا أحلاس بيوتكم، وألبدوا ما ألبدنا، فإذا تحرك متحركنا فاسعوا إليه ولو حبواً، والله لكأني أنظر إليه بين الركن والمقام يبايع الناس على كتاب جديد على العرب شديد. قال: وويل للعرب من شر قد اقترب.
(24) Ahmad bin Muhammad bin Sa’eed narrated from Ahmad bin Yousuf bin Ya’qoob al-Ju’fi from Issma’eel bin Mihran from al-Hasan bin Ali bin Abu Hamza from his father from Abu Baseer that Abu Abdullah as-Sadiq (as) had said: “If the Abbasid ruler ascends the minbar of Marwan, the state of the Abbasids will begin to decline gradually. My father has said to me: “There must be a fire coming from Azerbaijan that will destroy everything. When that occurs, you are to stay at homes as long as we have stayed. When our man (al-Qa’im) rises, then hurry up to him even crawling. By Allah, as if I see him between the corner and the temple being paid homage to rule over the people with a new method. He …
اخبار دیا احمد بن محمد بن سعید نے، کہا ہمیں حدیث سنائی احمد بن یوسف بن یعقوب الجعفی نے، کہا ہمیں حدیث سنائی اسماعیل بن مہران نے، کہا ہمیں حدیث سنائی الحسن بن علی بن ابی حمزہ نے، ان کے باپا سے، ابو بصیر سے، ابو عبداللہ سے، انہوں نے فرمایا: جب عباسی حاکم مروان کے منبر پر چڑھے تو بنی عباس کی حکومت تدریجی طور پر ختم ہونے لگے گی۔ اور کہا: میرے باپا (یعنی الباقر) نے مجھ سے کہا: آذربائیجان سے ایک آگ ضرور آنی ہے جس کے آگے کوئی چیز نہیں ٹھہرے گی۔ تو جب ایسا ہو تو اپنے گھروں میں بیٹھے رہو جیسا کہ ہم بیٹھے رہے۔ اور جب ہمارا حاکی (قائم) اٹھے تو اس کی طرف بھاگو، خواہ الہاتے ہوئے۔ اللہ کی قسم! میں ایسے اسے دیکھتا ہوں جو رکن اور مقام کے درمیان لوگوں کی بیعت لے رہا ہو، ایک نیے طریقہ پر، عربوں کے لیے سخت۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Hell will be brought forth on that Day (of Resurrection) having seventy thousand bridles, and with every handle will be seventy thousand angels dragging it'". Other chains report similar narrations
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abdullah b. Mas`ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Hell would be brought on that day (the Day of Judgment) with seventy thousand bridles, and seventy thousand angels dragging each bridle
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔
A'isha reported:I heard that never a prophet dies until he is given an option to opt the life of (this) world or that of the Hereafter. She further said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say in his last illness in which he' died. I heard him saying in gruffness of the voice: Along with those persons upon whom Allah bestowed favours from amongst the Apostles, the testifiers of truth, the martyrs, the pious and goodly company are they (iv. 69). (It was on bearing these words) that I thought that he had been given choice (and he opted to live with these pious persons in the Paradise)
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سعد بن ابرا ہیم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، فر ما یا : میں سناکرتی تھی ۔ کہ کو ئی نبی فوت نہیں ہو تا یہاں تک کہ اس کو دنیا آخرت کے درمیان اختیار دیا جا تا ہے کہا : تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں یہ فر ما تے ہو ئے سنا ۔ اس وقت آپ کی آواز بھا ری ہو گئی تھی آپ فر ما رہے تھے : " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعا لیٰ نے انعام فر ما یا : " یعنی انبیاء ، صدیقین شہداء اور صالحین ( کے ساتھ ) اور یہی بہترین رفیق ہیں ۔ " کہا : تو میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ کو اختیا ردے دیا گیا ہے ۔
حدثنا مشايخنا - رضي الله عنهم - بأسانيد مرفوعة متصلة قد ذكرتها في كتاب علل الشرائع والاحكام والأسباب في أبواب متفرقة [و] رتبتها فيه: أن معنى آدم: أنه خلق من أديم الأرض - والأديم الأرض الرابعة - ومعنى حواء. أنها خلقت من حي وهو من آدم، ومعنى الانسان: أنه ينسى، ومعنى النساء إنهن أنس للرجال، ومعنى المرأة: أنها خلقت من المرء، ومعنى إدريس: أنه كان يكثر الدرس بحكم الله عز وجل وسنن الاسلام، ومعنى نوح: أنه كان ينوح على نفسه، وبكى خمس مائه عام، ونحى نفسه عما كان فيه قومه من الضلالة، ومعنى الطوفان في أيامه: أنه طفا الماء فوق كل شئ، ومعنى هود: أنه هدي إلى ما ضل عنه قومه، وبعث ليهديهم من ضلالتهم، ومعنى الريح العقيم التي أهلك الله عز وجل بها عادا: أنها تلقحت بالعذاب، وتعقمت عن الريح كتعقم الرجل إذا كان …
1. We were told by our teachers, may Allah be pleased with them, with attributed, connected, chains which I have mentioned in the book ‘Ilal-ush-Shara’I’ wal-Ahkam wal-Asbab in diffused chapters and which I have put in order, and it includes that the meaning of Adam is that he was created from the tanned soil, and the tanned is the Fourth Earth. The meaning of Hawwa’ is that she was created from a living, that is Adam. The meaning of a human being is that he forgets , and the meaning of women is that they are a company to men, and the meaning of a woman is that she was created from an individual . The meaning of Idrees is that he engaged in much teaching of the Law of Allah, Exalted and …
ہمیں ہمارے اساتذہ نے - اللہ ان سے راضی ہو - مسندوں کے ساتھ جو متصل اور منسوب ہیں، ہمیں بتایا۔ میں نے ان کو علل الشرائع والاحکام والأسباب کی کتاب میں مختلف ابواب میں ذکر کیا ہے اور انہیں ترتیب دی ہے: آدم کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ زمین کی چمڑی سے پیدا کیے گئے تھے - اور چمڑی چوتھی زمین ہے۔ حوّاء کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ جیتے سے پیدا کی گئیں اور وہ جیتا آدم سے ہے۔ انسان کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ بھول جاتے ہیں۔ نساء کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ مردوں کے لیے ساتھ ہیں۔ عورت کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ مرد سے پیدا کی گئی ہے۔ ادریس کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اللہ عزوجل کے حکم کے ساتھ بہت زیادہ درس اور تعلیم دیا کرتے تھے، اسلام کی سنتوں کے مطابق۔ نوح کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اپنے نفس پر نوحہ کیا کرتے تھے، اور پانچ سو سال رویا کرتے تھے، …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
The agreed readingand enter My Garden. The commentaries agree the soul addressed is the one settled on the truth, and that the words are said to it at its going.
Urduاور ان کے ساتھ میری اُس جنت میں داخل ہو جا جو میں نے ان کے لیے تیار کی ہے۔ جنت کو اپنی طرف منسوب کرنے میں تکریم اور قرب کی انتہا ہے۔ یوں یہ سورت، جو قسموں سے شروع ہوئی تھی، اُس بہترین بشارت پر ختم ہوتی ہے جو کسی مومن بندے کو دی جا سکتی ہے۔
Arabicوادخلي معهم جنتي التي أعددتها لهم. وفي إضافة الجنة إليه سبحانه غاية التكريم والتقريب. وبهذا تُختم السورة التي بدأت بالقسم وانتهت بأحسن ما يُبشَّر به عبدٌ مؤمن.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Hell will be brought forth on that Day (of Resurrection) having seventy thousand bridles, and with every handle will be seventy thousand angels dragging it'". Other chains report similar narrations
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abdullah b. Mas`ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Hell would be brought on that day (the Day of Judgment) with seventy thousand bridles, and seventy thousand angels dragging each bridle
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔
A'isha reported:I heard that never a prophet dies until he is given an option to opt the life of (this) world or that of the Hereafter. She further said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say in his last illness in which he' died. I heard him saying in gruffness of the voice: Along with those persons upon whom Allah bestowed favours from amongst the Apostles, the testifiers of truth, the martyrs, the pious and goodly company are they (iv. 69). (It was on bearing these words) that I thought that he had been given choice (and he opted to live with these pious persons in the Paradise)
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سعد بن ابرا ہیم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، فر ما یا : میں سناکرتی تھی ۔ کہ کو ئی نبی فوت نہیں ہو تا یہاں تک کہ اس کو دنیا آخرت کے درمیان اختیار دیا جا تا ہے کہا : تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں یہ فر ما تے ہو ئے سنا ۔ اس وقت آپ کی آواز بھا ری ہو گئی تھی آپ فر ما رہے تھے : " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعا لیٰ نے انعام فر ما یا : " یعنی انبیاء ، صدیقین شہداء اور صالحین ( کے ساتھ ) اور یہی بہترین رفیق ہیں ۔ " کہا : تو میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ کو اختیا ردے دیا گیا ہے ۔