Surah 92 of 114 · Makki · 21 ayat

Al-Layl الليل

The Night

92:1#
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ

PickthallBy the night enshrouding

Yusuf AliBy the Night as it conceals (the light);

The agreed readingBy the night when it covers over. The commentaries gloss the covering as darkness laid over everything between the sky and the earth, and they note what comes with it: every creature settles into its shelter and people rest from their labour. The sura is named from this first oath.
Urduاللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جب وہ ڈھانپ لے، یعنی جب اس کی تاریکی آسمان و زمین کے درمیان ہر چیز پر پردہ ڈال دے۔ یہ اُن متقابل جوڑوں میں سے پہلا ہے جن پر ان قسموں کی بنیاد ہے۔ وہ زمانہ جس میں بندوں کے اعمال واقع ہوتے ہیں، اسی لائق ہے کہ اعمال کے اختلاف کے بیان سے پہلے اس کی قسم کھائی جائے۔
Arabicأقسم الله بالليل إذا يغشى، أي إذا غطَّى بظلمته ما بين السماء والأرض فصار كل شيء مستورًا. وهو أول زوجٍ من الأزواج المتقابلة التي بُنيت عليها هذه الأقسام. والزمان الذي تقع فيه أعمال العباد جديرٌ بأن يُقسم به وهو يُقدَّم بين يدي الكلام على اختلاف تلك الأعمال.
92:2#
وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ

PickthallAnd the day resplendent

Yusuf AliBy the Day as it appears in glory;

The agreed readingAnd the day when it shines out. The commentaries gloss it as the day uncovering itself once the night's darkness lifts, and people going out by its light to the work they need to do.
Urduاور دن کی قسم جب وہ روشن ہو جائے، یعنی جب اپنی ضیا کے ساتھ کھل کر سامنے آئے اور رات کا اندھیرا اس سے چھٹ جائے۔ اس سے وہ سب کچھ ظاہر ہو جاتا ہے جو چھپا ہوا تھا اور چیزیں اپنی اصل صورت میں نظر آنے لگتی ہیں۔ یہ پہلی قسم کے بالکل مقابل ہے۔
Arabicوأقسم بالنهار إذا تجلَّى، أي انكشف وظهر بضيائه فزالت به ظلمة الليل. فبان به ما كان مستورًا واستبانت الأشياء على حقيقتها. وهو المقابل التامُّ لما قبله.
92:3#
وَمَا خَلَقَ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ

PickthallAnd Him Who hath created male and female,

Yusuf AliBy (the mystery of) the creation of male and female;-

The agreed readingAnd the One who created the male and the female. The commentaries agree the pair meant is not one couple only but every male and every female, from the first two onward.
Urduاور اس ذات کی قسم جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔ یہ بھی دو متقابل صنفیں ہیں جن سے نسل کا بقا اور زندگی کا نظام قائم ہے، جیسے رات اور دن سے زمانے کا نظام قائم ہے۔ دو تقابلوں کے بعد یہ تیسرے تقابل کی تمہید ہے، جو خود انسانوں کے اندر پایا جاتا ہے۔
Arabicوأقسم بخالق الزوجين: الذكر والأنثى. فهذان نوعان متقابلان يقوم بهما بقاء النسل وانتظام الحياة، كما يقوم نظام الزمان بالليل والنهار. وذكْرُ هذا التقابل بعد ذاك تمهيدٌ لتقابلٍ ثالث في الناس أنفسهم.
92:4#
إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ

PickthallLo! your effort is dispersed (toward divers ends).

Yusuf AliVerily, (the ends) ye strive for are diverse.

The agreed readingTruly your striving goes different ways. This is what the oaths were sworn to, and both traditions read it alike: among you is one who strives towards good and one who strives towards evil, and the whole difference lies in what the striving is for.
Urduیہ قسموں کا جواب ہے: بیشک تمہاری کوشش الگ الگ اور ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ محنت اور بھاگ دوڑ تو سب کا مقدر ہے، مگر رخ مختلف ہے: کوئی طاعت کے ذریعے آخرت کے لیے کام کر رہا ہے اور کوئی نافرمانی کے ساتھ صرف دنیا کے لیے۔ جب کوشش مختلف ہوئی تو اس کا پھل بھی لازماً مختلف ہوگا۔
Arabicهذا جواب القسم: إن سعيكم -أيها الناس- لمختلفٌ متبايِن. فالسعي والكدح لازمٌ للجميع، لكن الوجهة تختلف: عاملٌ للآخرة بالطاعة، وعاملٌ للدنيا وحدها بالمعصية. فلمَّا اختلف السعي اختلف بالضرورة ما يُثمره.
92:5#
فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَٱتَّقَىٰ

PickthallAs for him who giveth and is dutiful (toward Allah)

Yusuf AliSo he who gives (in charity) and fears (Allah),

The agreed readingAs for him who gives and is mindful of God - the commentaries gloss the giving as handing over what God has made due from him, and the mindfulness as keeping clear of what God forbade.
Urduپس جس نے دیا — یعنی اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کیا اور جو اس پر لازم تھا وہ ادا کیا — اور تقویٰ اختیار کیا، یعنی جن کاموں سے روکا گیا تھا ان سے بچا۔ یوں اس نے ہاتھ کے بذل کو دل کے ڈر کے ساتھ جمع کر لیا۔ یہ آسانی کے راستے کے پہلے دو اوصاف ہیں۔
Arabicفأما من أعطى مما آتاه الله وبذل ما يلزمه بذله، واتقى ربه فاجتنب ما نهى عنه. فجمع بين بذلٍ باليد وحذرٍ في القلب. وهذان أول وصفين من أوصاف طريق اليُسر.
92:6#
وَصَدَّقَ بِٱلْحُسْنَىٰ

PickthallAnd believeth in goodness;

Yusuf AliAnd (in all sincerity) testifies to the best,-

The agreed readingAnd affirmed the best. The commentaries take the best as what God has promised and what leads to it, and the affirming as holding it for true rather than merely hearing it.
Urduاور اس نے ”حُسنیٰ“ کی تصدیق کی، یعنی اُس اچھی بات پر ایمان لایا اور اُس بدلے پر یقین رکھا جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ چنانچہ اس کا خرچ کرنا اس یقین سے نکلا کہ جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اسی تصدیق سے دینا محض سخاوت نہیں رہتا، عبادت بن جاتا ہے۔
Arabicوصدَّق بالحسنى، أي آمن بالكلمة الحسنى وبما وعد الله عليها من الجزاء والخَلَف. فصار عطاؤه صادرًا عن يقينٍ بأن ما عند الله خيرٌ وأبقى. وبهذا التصديق يُصبح البذل عبادةً لا مجرَّد كرم.
92:7#
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْيُسْرَىٰ

PickthallSurely We will ease his way unto the state of ease.

Yusuf AliWe will indeed make smooth for him the path to Bliss.

The agreed readingWe will ease him towards the way of ease. The commentaries agree the easing runs both ways at once - every good made light for him, every evil made easy to leave - because he came by the road on which things are made easy.
Urduتو ہم اسے آسانی کے راستے کی توفیق دیں گے، یعنی خیر کا راستہ اس پر آسان کر دیں گے یہاں تک کہ طاعت اور خرچ کرنا اسے ہلکا لگنے لگے۔ اور انجام کار اسے وہاں پہنچا دیں گے جہاں ہر طرح کی آسانی ہے۔ بدلہ عمل ہی کی جنس سے ہے: جس نے دیا، اسے دینا آسان کر دیا گیا؛ جو ڈرا، اس کے لیے تقویٰ آسان کر دیا گیا۔
Arabicفسنيسِّره لليُسرى، أي نُسهِّل عليه سبيل الخير ونوفِّقه له حتى تخفَّ عليه الطاعة والنفقة. ثم تكون عاقبته اليُسر كله في الآخرة. فالجزاء من جنس العمل: من أعطى يُسِّر له العطاء، ومن اتقى يُسِّرت له التقوى.
92:8#
وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسْتَغْنَىٰ

PickthallBut as for him who hoardeth and deemeth himself independent,

Yusuf AliBut he who is a greedy miser and thinks himself self-sufficient,

The agreed readingBut as for him who holds back and counts himself in need of nothing - the commentaries gloss the holding back as withholding what God made due, and the self-sufficiency as having no use for what God would give in return.
Urduاور جس نے بخل کیا، یعنی جو خرچ کرنا اس پر لازم تھا اسے روک رکھا، اور بےپروا ہو گیا کہ نہ اپنے رب کا محتاج سمجھا اور نہ اس کے فضل کا طلب گار ہوا۔ یہ پہلے کے بالکل مقابل ہے: ہاتھ سے روکا اور دل سے بےنیاز ہوا۔ اور اللہ سے بےنیازی ہی ہر رو گردانی کی جڑ ہے۔
Arabicوأما من بخل بما يلزمه بذله، واستغنى فلم يَفتقر إلى ربه ولم يطلب من فضله. فهذا مقابل الأول تمامًا: أمسك بيده واستغنى بقلبه. والاستغناء عن الله أصلُ كل انصرافٍ عنه.
92:9#
وَكَذَّبَ بِٱلْحُسْنَىٰ

PickthallAnd disbelieveth in goodness;

Yusuf AliAnd gives the lie to the best,-

The agreed readingAnd called the best a lie. The commentaries set this line exactly against the sixth: the same thing is held true there and denied here, and everything that follows turns on which of the two a man did.
Urduاور اس نے ”حُسنیٰ“ کو جھٹلا دیا، یعنی اُس اچھی بات اور اُس بدلے کا انکار کیا جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا۔ جب اسے بدلے پر یقین ہی نہ رہا تو خرچ کرنے پر آمادہ کرنے والی کوئی چیز باقی نہ رہی۔ یعنی یہاں بخل محض طبیعت کی کنجوسی نہیں، تکذیب کا پھل ہے۔
Arabicوكذَّب بالحسنى، فأنكر الكلمة الحسنى وما وعد الله عليها من الخَلَف والثواب. فلما لم يصدِّق بالجزاء لم يجد ما يحمله على البذل. فالبخل هنا ثمرةُ التكذيب لا مجرَّد شحٍّ في الطبع.
92:10#
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْعُسْرَىٰ

PickthallSurely We will ease his way unto adversity.

Yusuf AliWe will indeed make smooth for him the path to Misery;

The agreed readingWe will ease him towards the way of hardship. The commentaries gloss it as the same easing turned the other way: what he chose is made easy for him, and nothing of the evil he wants is kept back from him.
Urduتو ہم اس کے لیے تنگی کا راستہ آسان کر دیں گے، یعنی برائی اس پر سہل اور بھلائی اس پر بھاری کر دیں گے، اور انجام کار وہ ہر طرح کی تنگی میں جا پڑے گا۔ جو ہدایت سے منہ موڑے، اسے اس کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ اور دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ ایک مستقل قاعدے کا بیان ہے، اس پر کیے جانے والے کسی ظلم کا نہیں۔
Arabicفسنيسِّره للعسرى، أي نُسهِّل عليه سبيل الشرِّ ونُعسِّر عليه الخير، ثم تكون عاقبته العسر كله. فمن أدبر عن الهدى وُكِل إلى نفسه فازداد بُعدًا. وهذا شرح لسنَّةٍ ماضية، لا لظلمٍ يقع به.
92:11#
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُۥٓ إِذَا تَرَدَّىٰٓ

PickthallHis riches will not save him when he perisheth.

Yusuf AliNor will his wealth profit him when he falls headlong (into the Pit).

The agreed readingAnd his wealth will not avail him when he falls. Both traditions gloss the falling the same way - not a fall from a hill or down a well, but the fall into the Fire - and there the wealth he held on to is worth nothing to him.
Urduاور جب وہ گرے گا — یعنی ہلاک ہو کر آگ میں جا پڑے گا — تو اس کا وہ مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا جسے وہ روکے بیٹھا تھا۔ جو مال دنیا میں خرچ کرنے سے بچا لیا گیا، وہ آخرت میں فدیہ نہیں بن سکتا۔ جس مال کے بل پر وہ اپنے رب سے بےنیاز بنا ہوا تھا، وہی سب سے زیادہ ضرورت کی گھڑی میں سب سے زیادہ بےکار نکلا۔
Arabicوما يغني عنه ماله الذي بخل به شيئًا إذا تردَّى، أي سقط وهلك ودخل النار. فالمال الذي منعه في الدنيا لا يفتديه في الآخرة. وهو الذي استغنى به عن ربه، فإذا هو أعجزُ ما يكون عنه في أحوج ساعاته.
92:12#
إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ

PickthallLo! Ours it is (to give) the guidance

Yusuf AliVerily We take upon Ourselves to guide,

The agreed readingOurs is the guidance. The commentaries agree the showing is God's own undertaking: to make the road of guidance plain and mark it off from the road of straying, so that what He commands can be followed.
Urdu”اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدٰی“ یعنی یہ ہمارے ذمے ہے کہ اپنے فضل و حکمت سے ہدایت کا راستہ گمراہی کے راستے سے الگ کر کے واضح کر دیں۔ اور یہ کام اللہ نے عقل و فطرت کے ذریعے بھی کیا اور رسول بھیج کر اور کتابیں اتار کر بھی۔ چنانچہ بیان مکمل ہو چکا، اب مکلّف کے پاس راستے کے دھندلے ہونے کا کوئی عذر نہیں۔
Arabicإنَّ علينا للهدى، أي إن علينا بفضلنا وحكمتنا أن نُبيِّن طريق الهدى من طريق الضلال. وقد وفَّى سبحانه بذلك بالعقل والفطرة وبإرسال الرسل وإنزال الكتب. فالبيان قد تمَّ، ولم يبق للمكلَّف عذرٌ بغموض الطريق.
92:13#
وَإِنَّ لَنَا لَلْـَٔاخِرَةَ وَٱلْأُولَىٰ

PickthallAnd lo! unto Us belong the latter portion and the former.

Yusuf AliAnd verily unto Us (belong) the End and the Beginning.

The agreed readingAnd Ours is the last and the first. The commentaries gloss the two as the life to come and this one, both belonging to God in ownership and in disposal, so that whoever seeks either of them from anyone else has gone to the wrong door.
Urduاور آخرت اور دنیا دونوں کی ملکیت ہماری ہی ہے، ہم ان میں جیسا چاہیں تصرف کریں۔ چنانچہ جو ان میں سے کوئی چیز کسی اور سے مانگے، اس نے غلط دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ راستہ بتانا اسی کا کام ہے اور بدلہ دینا بھی اسی کے ہاتھ میں، ان دونوں میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔
Arabicوإنَّ لنا للآخرة والأولى، فمُلك الدارين له وحده يتصرَّف فيهما كيف يشاء. فمن طلب إحداهما من غيره فقد أخطأ الباب. وفي هذا أن الهداية بيانٌ منه والجزاء إليه، وليس لأحد سواه شيء منهما.
92:14#
فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ

PickthallTherefor have I warned you of the flaming Fire

Yusuf AliTherefore do I warn you of a Fire blazing fiercely;

The agreed readingSo I have warned you of a Fire that blazes. The commentaries gloss the last word as flaming up and burning fiercely, and they agree this warning is what the whole sura has been building towards.
Urdu”پس میں نے تمہیں ڈرا دیا“ — ایسی آگ سے جو بھڑک رہی ہے اور جس کے شعلے تیز ہیں۔ ڈرانا عذاب سے پہلے آتا ہے، اس لیے یہ خوف کی صورت میں دراصل رحمت ہے۔ اور یہ تنبیہ دونوں راستوں کے بیان کے بعد آئی تاکہ معلوم ہو کہ ان میں سے ایک کا انجام کیا ہے۔
Arabicفأنذرتكم -أيها الناس- وخوَّفتكم نارًا تتوقَّد ويشتدُّ لهبها. والإنذار سابقٌ للعذاب، فهو رحمةٌ في صورة تخويف. وقد جاء بعد بيان الطريقين ليكون تحذيرًا ممَّا يؤول إليه أحدهما.
92:15#
لَا يَصْلَىٰهَآ إِلَّا ٱلْأَشْقَى

PickthallWhich only the most wretched must endure,

Yusuf AliNone shall reach it but those most unfortunate ones

The agreed readingNone will burn in it but the most wretched. The commentaries gloss the superlative as standing for the wretched man himself, and the next ayah names who he is.
Urduاس میں وہی داخل ہوگا اور اس کی تپش وہی جھیلے گا جو ”اَشْقیٰ“ ہے، یعنی بدبختی میں انتہا کو پہنچا ہوا۔ مفسرین اس سے جھٹلانے والے منکر کو مراد لیتے ہیں۔ آگ اپنی اصل تخلیق میں انہی کے لیے تیار کی گئی ہے اور یہی اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
Arabicلا يصلاها -أي يدخلها فيقاسي حرَّها- إلا الأشقى، وهو الشقيُّ الذي بلغ الغاية في الشقاء. وقد فُسِّر بالكافر المكذِّب. فالنار في أصل خلقها إنما أُعِدَّت لهؤلاء، وهم الخالدون فيها.
92:16#
ٱلَّذِى كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ

PickthallHe who denieth and turneth away.

Yusuf AliWho give the lie to Truth and turn their backs.

The agreed readingThe one who called it a lie and turned away. The commentaries agree the two go together - denying the message, then turning his back on it - and that this pair is what the sura has set against giving and being mindful of God.
Urduوہ جس نے رسول کی لائی ہوئی بات کو جھٹلایا اور ایمان و اطاعت سے منہ موڑ لیا۔ یعنی اس نے زبان کی تکذیب اور عمل کی رو گردانی، دونوں کو جمع کر لیا۔ یہ دو وصف اُس دینے والے، ڈرنے والے اور تصدیق کرنے والے کے دو وصفوں کے بالکل مقابل ہیں۔
Arabicالذي كذَّب بما جاء به الرسول وأعرض عن الإيمان والطاعة. فجمع بين التكذيب باللسان والتولِّي بالعمل. وهذان وصفان يُقابلان وصفَي المُعطي المتَّقي المصدِّق.
92:17#
وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلْأَتْقَى

PickthallFar removed from it will be the righteous

Yusuf AliBut those most devoted to Allah shall be removed far from it,-

The agreed readingAnd the one most mindful of God will be kept far from it. The commentaries read the superlative here as they read the last one, standing for the man of mindfulness himself, and the keeping-far as being moved right away from the Fire.
Urduاور اس آگ سے بچا لیا جائے گا اور دور رکھا جائے گا وہ جو ”اَتْقیٰ“ ہے، یعنی تقویٰ میں انتہا کو پہنچا ہوا۔ یہاں اسمِ تفضیل اس لیے آیا تاکہ اس کا حال پچھلی آیت کے ”اَشْقیٰ“ کے حال سے الگ کر کے دکھایا جائے۔ ان دو آدمیوں کے درمیان دو ہی راستے ہیں، تیسرا کوئی نہیں۔
Arabicوسيُجنَّب النار ويُبعَد عنها الأتقى، وهو البالغ في التقوى. والوصف بالتفضيل هنا لتمييز حاله عن حال الأشقى المذكور قبله. فبين الرجلين طريقان لا ثالث لهما.
92:18#
ٱلَّذِى يُؤْتِى مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ

PickthallWho giveth his wealth that he may grow (in goodness).

Yusuf AliThose who spend their wealth for increase in self-purification,

The agreed readingWho gives his wealth to purify himself. Both traditions gloss the purpose the same way: the giving is for the cleansing of his own soul, and it is done for God, not for anyone to see.
Urduوہ جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ پاک ہو — یعنی نیکی کے کاموں میں خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی پاک ہو اور اس کا مال بھی۔ اس کے پیشِ نظر اللہ کے ہاں پاکیزگی ہے، لوگوں میں نمود نہیں؛ نہ ریا ہے نہ شہرت کی طلب۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ یہ آیات ایسے شخص کے بارے میں اتریں جس نے ایک غلام کو خرید کر آزاد کیا جسے اس کے ایمان کی وجہ سے اذیت دی جا رہی تھی۔
Arabicالذي يُؤتي ماله يتزكَّى، أي يبذله في وجوه البرِّ طلبًا لطهارة نفسه وماله. فمقصوده التزكِّي عند الله لا الظهور عند الناس، لا رياء فيه ولا سُمعة. وقد ذكر المفسرون أنها نزلت في رجلٍ اشترى مملوكًا كان يُعذَّب على إيمانه فأعتقه.
92:19#
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰٓ

PickthallAnd none hath with him any favour for reward,

Yusuf AliAnd have in their minds no favour from anyone for which a reward is expected in return,

The agreed readingWhile no one has a favour standing with him that is being repaid. The commentaries agree the point is that nothing is owed and nothing is being settled - he is not paying anyone back, and he is not putting anyone under obligation.
Urduاور کسی کا اس پر کوئی پہلا احسان نہیں کہ وہ اس خرچ سے اس کا بدلہ اتار رہا ہو۔ یعنی اس کا دینا ابتدا ہے، کسی کا معاوضہ نہیں؛ احسان ہے، احسان کا جواب نہیں۔ اسی سے یہ عمل نفس کے ہر حصے سے خالص ہو جاتا ہے۔
Arabicوليس لأحدٍ عنده نعمةٌ سابقة يكافئه عليها بهذا البذل. فبذلُه ابتداءٌ لا مجازاة، وإحسانٌ لا ردُّ جميل. وبهذا يخلص العمل من كل حظٍّ للنفس فيه.
92:20#
إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ ٱلْأَعْلَىٰ

PickthallExcept as seeking (to fulfil) the purpose of his Lord Most High.

Yusuf AliBut only the desire to seek for the Countenance of their Lord Most High;

The agreed readingBut only seeking the face of his Lord Most High. Both traditions gloss the seeking as wanting what God gives and what God is pleased with, and nothing besides that.
Urduبلکہ وہ صرف اپنے بلند و برتر رب کی رضا چاہتا ہے۔ ”اَلْاَعْلٰی“ اللہ کی اُس بلندی کا وصف ہے جو اپنی مخلوق پر اسے حاصل ہے، اور یہاں اس کا ذکر بتاتا ہے کہ اس دینے والے نے کتنی بڑی چیز مانگی ہے۔ اس نے دنیا کے سارے عوض چھوڑ کر ایک ہی عوض پر نظر جمائی۔
Arabicإلا ابتغاء وجه ربه الأعلى، أي لكنه يبذل طلبًا لرضاه وحده. و«الأعلى» وصفٌ له سبحانه بعلوِّه على خلقه، وفي ذكره هنا بيانٌ لعِظَم ما طلبه هذا الباذل. فقد ترك عوض الدنيا كله لعوضٍ واحد.
92:21#
وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ

PickthallHe verily will be content.

Yusuf AliAnd soon will they attain (complete) satisfaction.

The agreed readingAnd he will be well pleased. The commentaries agree the promise is not tied to one man: it holds for anyone who does what he did, and the being pleased is with what God gives him in the Garden.
Urduاور عنقریب وہ راضی ہو جائے گا اُس عزت والے بدلے سے جو اللہ اسے دے گا۔ جس نے نقد کی خوشنودی چھوڑ کر اپنے رب کی رضا چاہی، اسے وہ رضا دی جائے گی جس کا بیان ممکن نہیں۔ یوں یہ سورت بہترین انجام پر ختم ہوتی ہے: شروع میں دینا، آخر میں راضی ہونا۔
Arabicولسوف يرضى بما يُعطيه الله من الجزاء الكريم. فمن ترك الرضا العاجل ابتغاء وجه ربه، أُعطي من الرضا ما لا يبلغه وصف. وبهذا خُتمت السورة على أحسن ما يُختم به: بذلٌ في أولها ورضًا في آخرها.