Surah 110 of 114 · Madani · 3 ayat

An-Nasr النصر

The Divine Support

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
110:1#
إِذَا جَآءَ نَصْرُ ٱللَّهِ وَٱلْفَتْحُ

PickthallWhen Allah's succour and the triumph cometh

Yusuf AliWhen comes the Help of Allah, and Victory,

The agreed readingWhen the help of God comes, and the conquest. Every commentary on both sides names the conquest the same way, the taking of Mecca, and reads the sura as spoken before it happened - a promise made, not an event reported.
Urdu”نَصْر“ سے مراد اللہ کی وہ مدد ہے جو اس نے اپنے نبی ﷺ کو دی، یہاں تک کہ آپ کو دشمنوں پر غلبہ حاصل ہوا۔ اور ”فَتْح“ سے مراد فتحِ مکہ ہے اور اس کے نتیجے میں دین کو ملنے والی عزت اور کلمۂ حق کا بلند ہونا۔ بات ”اِذَا“ کے ساتھ کہی گئی، جو اُس چیز کے لیے آتا ہے جس کا ہونا یقینی ہو — چنانچہ یہ ایک قطعی وعدہ تھا جو واقعے سے پہلے اترا، پھر ویسا ہی ہو کر رہا۔
Arabic«النصر» إعانة الله لنبيه صلى الله عليه وسلم حتى غلب أعداءه. و«الفتح» فتحُ مكة وما ترتَّب عليه من إعزاز الدين وظهور كلمة الحق. وجاء الكلام بـ«إذا» التي هي للمُحقَّق الوقوع، فكان وعدًا قاطعًا نزل قبل أن يقع، ثم وقع كما قيل.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Zamakhsharī في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī on this āyah

al-Zamakhsharī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 4, no. 773

درجته: al-Majlisi: حسن

grading: al-Majlisi: حسن

درجہ: al-Majlisi: حسن

3ـ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ حَرِيزٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلاَم) قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ الله (صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) مَكَّةَ يَوْمَ افْتَتَحَهَا فَتَحَ بَابَ الْكَعْبَةِ فَأَمَرَ بِصُوَرٍ فِي الْكَعْبَةِ فَطُمِسَتْ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ لا إِلَهَ إِلاَّ الله وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ مَا ذَا تَقُولُونَ وَمَا ذَا تَظُنُّونَ قَالُوا نَظُنُّ خَيْراً وَنَقُولُ خَيْراً أَخٌ كَرِيمٌ وَابْنُ أَخٍ كَرِيمٍ وَقَدْ قَدَرْتَ قَالَ فَإِنِّي أَقُولُ كَمَا قَالَ أَخِي يُوسُفُ لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ الله لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ …
3. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Hammad ibn ‘Isa from Hariz who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, arrived in Makkah on the day of its liberation, he opened the door of al-Ka‘bah and ordered the pictures that were on the walls deleted. He was then holding the doorjamb on both sides and said, ‘No one except Allah deserves worship. He is the only One and has no partner. He makes His promise to come true, supports His servant, defeats the parties all by Himself alone. What do you say and what do you think?’ They replied, ‘We …
علی بن ابراہیم اپنے باپ سے، حماد بن عیسیٰ سے، حریز سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے فرمایا: جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) مکہ میں داخل ہوئے اس دن جب اس کو فتح کیا، تو بیت اللہ کے دروازے کو کھولا اور اندر کی تصویروں کو مٹانے کا حکم دیا۔ پھر دروازے کی دونوں جانب سے (دروازے کے چھڑ کو) پکڑا اور کہا: کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنے وعدے کو سچ کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکست دی۔ تم کیا کہتے ہو اور کیا خیال کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم آپ کے بارے میں نیکی سے سوچتے ہیں اور نیکی کہتے ہیں۔ آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں اور اب آپ کے پاس طاقت ہے۔ انہوں نے کہا: تو میں اپنے بھائی یوسف …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 2, no. 2094

درجته: al-Majlisi: صحيح

grading: al-Majlisi: صحيح

درجہ: al-Majlisi: صحيح

7ـ أَبُو عَلِيٍّ الأشْعَرِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيهِ السَّلام) قَالَ كَانَ أَبِي (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وآلِه) يَقُولُ قُلْ هُوَ الله أَحَدٌ ثُلُثُ الْقُرْآنِ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ رُبُعُ الْقُرْآنِ.
7. Abu Ali al-Ash’ari has narrated from Muhammad ibn ‘Abd al-Jabbar from Safwan ibn Yahya from Ya’qub ibn Shu’ayb from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “My father (a.s.) would say, ‘Chapter 112 of the Holy Quran is one third and Chapter 109 is one forth of the Holy Quran.’”
۷۔ ابو علی الاشعری نے محمد بن عبد الجبار سے، صفوان بن یحیی سے، یعقوب بن شعیب سے، ابی عبد اللہ علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: میرا باپ علیہ الصلاۃ و السلام فرمایا کرتا تھا "قُلْ هُوَ الله أَحَدٌ قرآن کا ایک تہائی ہے اور قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ قرآن کا ایک چوتھائی ہے"

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 6, no. 2184

درجته: al-Majlisi: حسن

grading: al-Majlisi: حسن

درجہ: al-Majlisi: حسن

عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ جَمِيلِ بْنِ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) أَوْصَانِي جَبْرَئِيلُ ( عليه السلام ) بِالسِّوَاكِ حَتَّى خِفْتُ عَلَى أَسْنَانِي .
8. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Jamil ibn Darraj who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, has said, ‘Jibril recommend me to brush my teeth so much so that I began to fear for my teeth.’”
علی بن ابراہیم روایت کرتے ہیں اپنے والد سے، ابن ابی عمیر سے، جمیل بن درّاج سے، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: جبریل (علیہ السلام) نے مجھے السواك کی وصیت کی یہاں تک کہ میں اپنے أسنان کے لیے خوف زدہ ہو گیا۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Ṭabarī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 1088

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ خَبَّرَنِي رَبِّي أَنِّي سَأَرَى عَلاَمَةً فِي أُمَّتِي فَإِذَا رَأَيْتُهَا أَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏.‏ فَقَدْ رَأَيْتُهَا ‏{‏ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ‏}‏ فَتْحُ مَكَّةَ ‏{‏ …
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) recited often these words: Hallowed be Allah and with His praise, I seek the forgiveness of Allah and return to Him. She said: I asked: Messenger of Allah, I see that you often repeat the saying" subhan allahi bihamdihi astag firullahi watubuilaih" whereupon he said: My Lord informed me that I would soon see a sign in my Ummah, so when I see it I often recite (these) words: Hallowed be Allah and with His Praise, I seek forgiveness of Allah and return to Him. Indeed I saw it (when this verse) was revealed:" When Allah's help and victory came, it marked the victory of Mecca, and you see people entering into Allah's religion in troops, celebrate the …
عامر ( شعبی ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے : ’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا : ’’میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں توبکثرت کہوں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه تو ( وہ نشانی ) میں دیکھ چکا ہوں ۔ ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ‘ ‘ ( یعنی ) فتح مکہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī، Ibn Kathīr، al-Saʿdī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī, Ibn Kathīr and al-Saʿdī on this āyah

al-Ṭabarī، Ibn Kathīr، al-Saʿdī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 1085

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ‏ "‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ‏"‏ ‏.‏ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ ‏.‏
A'isha reported:The Messenger of Allah (may peace be upon him') often said while bowing and prostrating himself:" Glory be to Thee, O Allah, our Lord, and praise be to Thee, O Allah, forgive me," thus complying with the (command in) the Qur'an
منصور نے ابو ضحیٰ ( مسلم بن صبیح القرشی ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : : رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں بکثرت ( یہ کلمات ) کہا کرتے تھے : ’’تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے میرے اللہ! ہمارے رب! تیری حمد کے ساتھ ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے ۔ ‘ ‘ آپ ( یہ کلمات ) قرآن مجید کی تاویل ( حکم کی تعمیل ) کے طور پر فرمایا کرتے تھے ۔

وأخرجه أيضا: Sunan Abī Dāwūd 877 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 817 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4968

also recorded in: Sunan Abī Dāwūd 877 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 817 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4968

یہ روایت ان کتب میں بھی ہے: Sunan Abī Dāwūd 877 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 817 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4968

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabrisī، al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabrisī and al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ṭabrisī، al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 5055

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Hasan

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Hasan

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Hasan

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِنَوْفَلٍ ‏"‏ اقْرَأْ ‏{‏ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‏}‏ ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ ‏"‏ ‏.‏
Farwah b. Nawfal quoted his father as saying that the Prophet (ﷺ) said to Nawfal (his father):Recite (the Surah) 'Say, O you disbelievers!' and then go to sleep at its end, for it is a declaration of freedom from polytheism
نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھو ( یعنی پوری سورۃ ) اور پھر اسے ختم کر کے سو جاؤ، کیونکہ یہ سورۃ شرک سے براءت ہے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 3022

درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ بَعْضِ، أَهْلِهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ الظَّهْرَانِ قَالَ الْعَبَّاسُ قُلْتُ وَاللَّهِ لَئِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ عَنْوَةً قَبْلَ أَنْ يَأْتُوهُ فَيَسْتَأْمِنُوهُ إِنَّهُ لَهَلاَكُ قُرَيْشٍ فَجَلَسْتُ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَعَلِّي أَجِدُ ذَا حَاجَةٍ يَأْتِي أَهْلَ مَكَّةَ فَيُخْبِرُهُمْ بِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَخْرُجُوا إِلَيْهِ فَيَسْتَأْمِنُوهُ فَإِنِّي …
Narrated Abdullah Ibn Abbas: When the Prophet (ﷺ) alighted at Marr az-Zahran, al-Abbas said: I thought, I swear by Allah, if the Messenger of Allah (ﷺ) enters Mecca with the army by force before the Quraysh come to him and seek protection from him, it will be their total ruin. So I rode on the mule of the Messenger of Allah (ﷺ) and thought, Perhaps I may find a man coming for his needs who will to the people of Mecca and inform them of the position of the Messenger of Allah (ﷺ), so that they may come to him and seek protection from him. While I was on my way, I heard AbuSufyan and Budayl ibn Warqa' speaking. I said: O AbuHanzalah! He recognized my voice and said: AbulFadl? I replied: Yes. …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرالظہران میں ( فتح مکہ کے لیے آنے والے مبارک لشکر کے ساتھ ) پڑاؤ کیا، عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بزور مکہ میں داخل ہوئے اور قریش نے آپ کے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حاضر ہو کر امان حاصل نہ کر لی تو قریش تباہ ہو جائیں گے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر سوار ہو کر نکلا، میں نے ( اپنے جی ) میں کہا: شاید کوئی ضرورت مند اپنی ضرورت سے مکہ جاتا ہوا مل جائے ( تو میں اسے بتا دوں ) اور وہ جا کر اہل مکہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبر کر دے ( کہ آپ مع لشکر جرار تمہارے سر پر آ پہنچے ہیں ) تاکہ وہ آپ کے حضور میں پہنچ کر آپ سے امان حاصل کر لیں۔ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 3021

درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ جَاءَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ فَأَسْلَمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ هَذَا الْفَخْرَ فَلَوْ جَعَلْتَ لَهُ شَيْئًا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Abbas: Al-Abbas ibn AbdulMuttalib brought AbuSufyan ibn Harb to the Messenger of Allah (ﷺ) in the year of the conquest (of Mecca). So he embraced Islam at Marr az-Zahran. Al-Abbas said to him: Messenger of Allah, AbuSufyan is a man who likes taking this pride, if you may do something for him. He said: Yes, he who enters the house of AbuSufyan is safe, and he who closes his door is safe
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال ۱؎ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ابوسفیان بن حرب کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ مرالظہران ۲؎ میں مسلمان ہو گئے، اس وقت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان ایک ایسے شخص ہیں جو فخر اور نمود و نمائش کو پسند کرتے ہیں، تو آپ اگر ان کے لیے کوئی چیز کر دیتے ( جس سے ان کے اس جذبہ کو تسکین ہوتی تو اچھا ہوتا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( یعنی ٹھیک ہے میں ایسا کر دیتا ہوں ) جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے تو وہ مامون ہے، اور جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے وہ بھی مامون ہے ( ہم اسے نہیں ماریں گے ) ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2667

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو شَاهٍ اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ مِثْلَ هَذَا ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:That the Messenger of Allah (ﷺ) gave an address. So he mentioned a story in the Hadith, and Abu Shah said: 'Have it written for me O Messenger of Allah! So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Write it for Abu Shah
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور دوران خطبہ آپ نے کوئی قصہ ( کوئی واقعہ ) بیان کیا تو ابو شاہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے لیے لکھوا دیجئیے ( یعنی کسی سے لکھا دیجئیے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صحابہ سے ) کہا ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔ حدیث میں پورا واقعہ مذکور ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شیبان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی جیسی روایت بیان کی ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

110:2#
وَرَأَيْتَ ٱلنَّاسَ يَدْخُلُونَ فِى دِينِ ٱللَّهِ أَفْوَاجًا

PickthallAnd thou seest mankind entering the religion of Allah in troops,

Yusuf AliAnd thou dost see the people enter Allah's Religion in crowds,

The agreed readingAnd you see people entering the religion of God in crowds. Both traditions gloss the last word identically, group after group and company after company, and they set it against what had gone before: until then they had been coming in one at a time.
Urdu”اور آپ لوگوں کو دیکھیں کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں“ — یعنی جماعت در جماعت، جبکہ اس سے پہلے ایک ایک، دو دو کر کے داخل ہوتے تھے۔ عرب قبائل اس بات کے منتظر تھے کہ آپ ﷺ اور آپ کی قوم کے درمیان کیا فیصلہ ہوتا ہے؛ پھر جب مکہ فتح ہو گیا تو وہ اپنی خوشی سے چلے آئے۔ یوں سختی کے بعد معاملہ اس آسانی تک پہنچا۔
Arabicورأيت الناس يدخلون في دين الله أفواجًا، أي جماعاتٍ بعد جماعات، بعد أن كانوا يدخلون فيه واحدًا واحدًا. فقد كانت قبائل العرب تنتظر ما يكون بينه وبين قومه، فلمَّا فُتحت مكة أقبلوا طائعين. فصار الأمر بعد الشدَّة إلى هذا اليُسر.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Zamakhsharī في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī on this āyah

al-Zamakhsharī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 4, no. 773

درجته: al-Majlisi: حسن

grading: al-Majlisi: حسن

درجہ: al-Majlisi: حسن

3ـ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ حَرِيزٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلاَم) قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ الله (صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) مَكَّةَ يَوْمَ افْتَتَحَهَا فَتَحَ بَابَ الْكَعْبَةِ فَأَمَرَ بِصُوَرٍ فِي الْكَعْبَةِ فَطُمِسَتْ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ لا إِلَهَ إِلاَّ الله وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ مَا ذَا تَقُولُونَ وَمَا ذَا تَظُنُّونَ قَالُوا نَظُنُّ خَيْراً وَنَقُولُ خَيْراً أَخٌ كَرِيمٌ وَابْنُ أَخٍ كَرِيمٍ وَقَدْ قَدَرْتَ قَالَ فَإِنِّي أَقُولُ كَمَا قَالَ أَخِي يُوسُفُ لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ الله لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ …
3. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Hammad ibn ‘Isa from Hariz who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, arrived in Makkah on the day of its liberation, he opened the door of al-Ka‘bah and ordered the pictures that were on the walls deleted. He was then holding the doorjamb on both sides and said, ‘No one except Allah deserves worship. He is the only One and has no partner. He makes His promise to come true, supports His servant, defeats the parties all by Himself alone. What do you say and what do you think?’ They replied, ‘We …
علی بن ابراہیم اپنے باپ سے، حماد بن عیسیٰ سے، حریز سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے فرمایا: جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) مکہ میں داخل ہوئے اس دن جب اس کو فتح کیا، تو بیت اللہ کے دروازے کو کھولا اور اندر کی تصویروں کو مٹانے کا حکم دیا۔ پھر دروازے کی دونوں جانب سے (دروازے کے چھڑ کو) پکڑا اور کہا: کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنے وعدے کو سچ کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکست دی۔ تم کیا کہتے ہو اور کیا خیال کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم آپ کے بارے میں نیکی سے سوچتے ہیں اور نیکی کہتے ہیں۔ آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں اور اب آپ کے پاس طاقت ہے۔ انہوں نے کہا: تو میں اپنے بھائی یوسف …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَدْخُلُونَ فِى دِينِ ٱللَّهِ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Ṭabarī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 1088

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ خَبَّرَنِي رَبِّي أَنِّي سَأَرَى عَلاَمَةً فِي أُمَّتِي فَإِذَا رَأَيْتُهَا أَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏.‏ فَقَدْ رَأَيْتُهَا ‏{‏ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ‏}‏ فَتْحُ مَكَّةَ ‏{‏ …
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) recited often these words: Hallowed be Allah and with His praise, I seek the forgiveness of Allah and return to Him. She said: I asked: Messenger of Allah, I see that you often repeat the saying" subhan allahi bihamdihi astag firullahi watubuilaih" whereupon he said: My Lord informed me that I would soon see a sign in my Ummah, so when I see it I often recite (these) words: Hallowed be Allah and with His Praise, I seek forgiveness of Allah and return to Him. Indeed I saw it (when this verse) was revealed:" When Allah's help and victory came, it marked the victory of Mecca, and you see people entering into Allah's religion in troops, celebrate the …
عامر ( شعبی ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے : ’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا : ’’میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں توبکثرت کہوں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه تو ( وہ نشانی ) میں دیکھ چکا ہوں ۔ ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ‘ ‘ ( یعنی ) فتح مکہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَفْوَاجًا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī، Ibn Kathīr، al-Saʿdī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī, Ibn Kathīr and al-Saʿdī on this āyah

al-Ṭabarī، Ibn Kathīr، al-Saʿdī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 1085

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ‏ "‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ‏"‏ ‏.‏ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ ‏.‏
A'isha reported:The Messenger of Allah (may peace be upon him') often said while bowing and prostrating himself:" Glory be to Thee, O Allah, our Lord, and praise be to Thee, O Allah, forgive me," thus complying with the (command in) the Qur'an
منصور نے ابو ضحیٰ ( مسلم بن صبیح القرشی ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : : رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں بکثرت ( یہ کلمات ) کہا کرتے تھے : ’’تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے میرے اللہ! ہمارے رب! تیری حمد کے ساتھ ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے ۔ ‘ ‘ آپ ( یہ کلمات ) قرآن مجید کی تاویل ( حکم کی تعمیل ) کے طور پر فرمایا کرتے تھے ۔

وأخرجه أيضا: Sunan Abī Dāwūd 877 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 817 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4968

also recorded in: Sunan Abī Dāwūd 877 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 817 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4968

یہ روایت ان کتب میں بھی ہے: Sunan Abī Dāwūd 877 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 817 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4968

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱلنَّاسَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī on this āyah

al-Ṭabarī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 889

درجته: Al-Albani: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim

grading: Al-Albani: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim

درجہ: Al-Albani: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: ‏ "‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ. اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ‏"‏ ‏.‏ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) often used to say when bowing and prostrating: ‘Subhanak Allahumma wa bi hamdika, Allahummaghfir li (Glory be to You, O Allah, and praise; O Allah forgive me),’ following the command given by the Qur’an.”[Surat An-Nasr]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر کرتے ہوئے اکثر اپنے رکوع میں «سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفر لي» اے اللہ! تو پاک ہے، اور سب تعریف تیرے لیے ہے، اے اللہ! تو مجھے بخش دے پڑھتے ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَدْخُلُونَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 1776

درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَأَشْتَرِطُ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَكَيْفَ أَقُولُ قَالَ ‏"‏ قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَمَحِلِّي مِنَ الأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي ‏"‏ ‏.‏
Ibn `Abbas said:Duba`ah, daughter of al-Zubair bin `Abd al-Muttalib, came to the Messenger of Allah(SWAS) and said Messenger of Allah (SWAS) I want to perform Hajj; may I make a provision? He said Yes. She asked how should I say? He replied : Say “ Labbaik Allahumma Labbaik (I am at Thy service, Oh Allah, I am at Thy service). The place where I took off Ihram will be where Thou restrainest me.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ( لگا سکتی ہو ) ، انہوں نے کہا: تو میں کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «لبيك اللهم لبيك، ومحلي من الأرض حيث حبستني» حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

دِينِ ٱللَّهِ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 3520

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ فَدَعَا لَهُ قَالَ ‏ "‏ أَذْهِبِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) came to a sick person, he would make supplication for him, and would say: Adhhibil-bas, Rabban-nas, washfi Antash-Shafi, la shifa’a illa shifa’uka shifa’an la yughadiru saqama (Take away the pain, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer, and there is no healing but Your healing that leaves no trace of sickness).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے پاس آتے تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، اور کہتے: «أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے لوگوں کے رب! تو بیماری دور فرما، اور صحت عطا کر، تو ہی صحت عطا کرنے والا ہے، شفاء اور صحت وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفاء عطا کر کہ پھر کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱلنَّاسَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 3877

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَضَعَ يَدَهُ - يَعْنِي الْيُمْنَى - تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ - أَوْ تَجْمَعُ - عِبَادَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah that:whenever the Prophet (saas) went to his bed, he would put his hand - meaning his right hand - beneath his cheek then say: "Allahumma qini 'adhabaka yawm tab'athu - [or: tajma'u] - 'ibadaka (O Allah, save me from Your punishment on the Day when You resurrect - or gather - Your slaves)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھتے، پھر ( یہ دعا ) پڑھتے: «اللهم قني عذابك يوم تبعث ( أو تجمع ) عبادك» اے اللہ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَفْوَاجًا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī on this āyah

al-Ṭabarī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 2854

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مُحْرِمًا صُرِعَ عَنْ نَاقَتِهِ، فَأُوقِصَ ذُكِرَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ عَلَى إِثْرِهِ ‏"‏ خَارِجًا رَأْسُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلاَ تُمِسُّوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ فَسَأَلْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ فَجَاءَ بِالْحَدِيثِ كَمَا كَانَ يَجِيءُ بِهِ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ وَلاَ تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Abbas:That a man in Ihram was thrown by his she-camel and his neck was broken. It was said that he had died, so the Prophet said: "Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths." Then he said: "Do not put any perfume on him for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah." Shubah said: "Ten years later, I asked him (the narrator Abu Bishr) anbut that, and he narrated the Hadith as he had the first time, except that he said: 'And do not cover his face and head
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو“، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: ”اس کا سر کفن سے باہر رہے“، فرمایا: ”اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ شعبہ ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے ان سے ( یعنی اپنے استاد ابوبشر سے ) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے ( اس بار اتنا مزید ) کہا کہ ”اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو“۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَدْخُلُونَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 17

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِحَاجَتِهِ فَقَالَ ‏"‏ الْتَمِسْ لِي ثَلاَثَةَ أَحْجَارٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّهَا رِكْسٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَكَذَا رَوَى قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ ‏.‏ وَرَوَى مَعْمَرٌ وَعَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ وَرَوَى زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ …
Abdullah said:"Allah's Messenger went out to relieve himself. So he said: 'Bring me tree stones.'" He said, "So I came with two stones and a piece of dung. So he took the two stones, and left the dung. He said: 'It is Riks (a degenerative or filthy thing)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: ”میرے لیے تین پتھر ڈھونڈ لاؤ“، میں دو پتھر اور ایک گوبر کا ٹکڑا لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے دونوں پتھروں کو لے لیا اور گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور فرمایا: ”یہ ناپاک ہے“ ۱؎۔ ( ابواسحاق سبیعی ثقہ اور مدلس راوی ہیں، بڑھاپے میں حافظہ میں اختلاط ہو گیا تھا اس لیے جن رواۃ نے ان سے اختلاط سے پہلے سنا ان کی روایت مقبول ہے، اور جن لوگوں نے اختلاط کے بعد سنا ان کی روایت ضعیف، یہ حدیث ابواسحاق سے ان کے تلامذہ نے مختلف انداز سے روایت کی ہے ) ۔ امام ترمذی نے یہاں: ابن مسعود کی اس حدیث کو بسند «اسرائیل عن ابی اسحاق عن ابی عبیدہ عن ابن مسعود» روایت کرنے کے بعد اسرائیل کی متابعت ۲؎ میں …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فِى

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

110:3#
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَٱسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابًۢا

PickthallThen hymn the praises of thy Lord, and seek forgiveness of Him. Lo! He is ever ready to show mercy.

Yusuf AliCelebrate the praises of thy Lord, and pray for His Forgiveness: For He is Oft-Returning (in Grace and Mercy).

The agreed readingThen glorify your Lord with His praise, and ask His forgiveness; He is ever ready to turn. Both traditions record the same two things here: that after it came down the Prophet said these words often, and that he understood from the sura itself that his own term had drawn near.
Urdu”تو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے اور اس سے مغفرت مانگیے۔“ یعنی جب یہ سب ہو جائے تو اس کا استقبال اللہ کی پاکی اور حمد بیان کر کے کیجیے، اس نعمتِ نصرت کے شکر کے طور پر، اور اس سے بخشش طلب کیجیے۔ فتح کا جواب اپنی ذات پر ناز نہیں، بلکہ تسبیح اور استغفار میں اضافہ ہے۔ ”اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا“ یعنی وہ اپنے بندوں کی توبہ بہت قبول کرنے والا ہے؛ جو اس کی طرف پلٹے، وہ اس پر متوجہ ہوتا اور اس پر رحم فرماتا ہے۔
Arabicفسبِّح بحمد ربك واستغفره. أي: إذا تمَّ ذلك فقابِله بتنزيه الله وحمده شكرًا على نعمة النصر، وبطلب مغفرته. وليس جزاء الفتح إعجابًا بالنفس بل ازديادًا في التسبيح والاستغفار. «إنه كان توابًا» أي كثير القبول لتوبة عباده، فهو يتوب على من تاب إليه ويرحمه.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 1088

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ خَبَّرَنِي رَبِّي أَنِّي سَأَرَى عَلاَمَةً فِي أُمَّتِي فَإِذَا رَأَيْتُهَا أَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏.‏ فَقَدْ رَأَيْتُهَا ‏{‏ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ‏}‏ فَتْحُ مَكَّةَ ‏{‏ …
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) recited often these words: Hallowed be Allah and with His praise, I seek the forgiveness of Allah and return to Him. She said: I asked: Messenger of Allah, I see that you often repeat the saying" subhan allahi bihamdihi astag firullahi watubuilaih" whereupon he said: My Lord informed me that I would soon see a sign in my Ummah, so when I see it I often recite (these) words: Hallowed be Allah and with His Praise, I seek forgiveness of Allah and return to Him. Indeed I saw it (when this verse) was revealed:" When Allah's help and victory came, it marked the victory of Mecca, and you see people entering into Allah's religion in troops, celebrate the …
عامر ( شعبی ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے : ’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا : ’’میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں توبکثرت کہوں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه تو ( وہ نشانی ) میں دیکھ چکا ہوں ۔ ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ‘ ‘ ( یعنی ) فتح مکہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَسَبِّحْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Saʿdī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr and al-Saʿdī on this āyah

al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Saʿdī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4968

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ‏ "‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ‏"‏‏.‏ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ‏.‏
Narrated Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) used to say very often in bowing and prostration (during his prayers), Subhanka Allahumma Rabbana wa bihamdika; Allahumma ighfirli," according to the order of the Qur'an
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سورۃ الفتح نازل ہونے کے بعد ) اپنے رکوع اور سجدوں میں بکثرت یہ دعا پڑھتے تھے «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك،‏‏‏‏ اللهم اغفر لي» یعنی ”پاک ہے تیری ذات، اے اللہ! اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، اے اللہ! میری مغفرت فرما دے۔“ قرآن مجید کے حکم مذکور پر اس طرح آپ عمل کرتے تھے۔

وأخرجه أيضا: Sunan Abī Dāwūd 877 · Ṣaḥīḥ Muslim 1085 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 817

also recorded in: Sunan Abī Dāwūd 877 · Ṣaḥīḥ Muslim 1085 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 817

یہ روایت ان کتب میں بھی ہے: Sunan Abī Dāwūd 877 · Ṣaḥīḥ Muslim 1085 · Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 817

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

بِحَمْدِ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī on this āyah

al-Ṭabarī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 889

درجته: Al-Albani: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim

grading: Al-Albani: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim

درجہ: Al-Albani: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: ‏ "‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ. اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ‏"‏ ‏.‏ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) often used to say when bowing and prostrating: ‘Subhanak Allahumma wa bi hamdika, Allahummaghfir li (Glory be to You, O Allah, and praise; O Allah forgive me),’ following the command given by the Qur’an.”[Surat An-Nasr]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر کرتے ہوئے اکثر اپنے رکوع میں «سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفر لي» اے اللہ! تو پاک ہے، اور سب تعریف تیرے لیے ہے، اے اللہ! تو مجھے بخش دے پڑھتے ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱسْتَغْفِرْهُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4970

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ عُمَرُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ، فَكَأَنَّ بَعْضَهُمْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ فَقَالَ لِمَ تُدْخِلُ هَذَا مَعَنَا وَلَنَا أَبْنَاءٌ مِثْلُهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ عَلِمْتُمْ‏.‏ فَدَعَا ذَاتَ يَوْمٍ ـ فَأَدْخَلَهُ مَعَهُمْ ـ فَمَا رُئِيتُ أَنَّهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلاَّ لِيُرِيَهُمْ‏.‏ قَالَ مَا تَقُولُونَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ‏}‏ فَقَالَ بَعْضُهُمْ أُمِرْنَا نَحْمَدُ اللَّهَ وَنَسْتَغْفِرُهُ، إِذَا نُصِرْنَا وَفُتِحَ عَلَيْنَا‏.‏ وَسَكَتَ بَعْضُهُمْ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا فَقَالَ …
Narrated Ibn `Abbas:`Umar used to make me sit with the elderly men who had fought in the Battle of Badr. Some of them felt it (did not like that) and said to `Umar "Why do you bring in this boy to sit with us while we have sons like him?" `Umar replied, "Because of what you know of his position (i.e. his religious knowledge.)" One day `Umar called me and made me sit in the gathering of those people; and I think that he called me just to show them. (my religious knowledge). `Umar then asked them (in my presence). "What do you say about the interpretation of the Statement of Allah: 'When comes Help of Allah (to you O, Muhammad against your enemies) and the conquest (of Mecca).' (110.1) Some …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجھے بوڑھے بدری صحابہ کے ساتھ مجلس میں بٹھاتے تھے۔ بعض ( عبدالرحمٰن بن عوف ) کو اس پر اعتراض ہوا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اسے آپ مجلس میں ہمارے ساتھ بٹھاتے ہیں، اس کے جیسے تو ہمارے بھی بچے ہیں؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کی وجہ تمہیں معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ایک دن ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بلایا اور انہیں بوڑھے بدری صحابہ کے ساتھ بٹھایا ( ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ) میں سمجھ گیا کہ آپ نے مجھے انہیں دکھانے کے لیے بلایا ہے، پھر ان سے پوچھا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

رَبِّكَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Zamakhsharī في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī on this āyah

al-Zamakhsharī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 4, no. 773

درجته: al-Majlisi: حسن

grading: al-Majlisi: حسن

درجہ: al-Majlisi: حسن

3ـ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ حَرِيزٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلاَم) قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ الله (صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) مَكَّةَ يَوْمَ افْتَتَحَهَا فَتَحَ بَابَ الْكَعْبَةِ فَأَمَرَ بِصُوَرٍ فِي الْكَعْبَةِ فَطُمِسَتْ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ لا إِلَهَ إِلاَّ الله وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ مَا ذَا تَقُولُونَ وَمَا ذَا تَظُنُّونَ قَالُوا نَظُنُّ خَيْراً وَنَقُولُ خَيْراً أَخٌ كَرِيمٌ وَابْنُ أَخٍ كَرِيمٍ وَقَدْ قَدَرْتَ قَالَ فَإِنِّي أَقُولُ كَمَا قَالَ أَخِي يُوسُفُ لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ الله لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ …
3. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Hammad ibn ‘Isa from Hariz who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, arrived in Makkah on the day of its liberation, he opened the door of al-Ka‘bah and ordered the pictures that were on the walls deleted. He was then holding the doorjamb on both sides and said, ‘No one except Allah deserves worship. He is the only One and has no partner. He makes His promise to come true, supports His servant, defeats the parties all by Himself alone. What do you say and what do you think?’ They replied, ‘We …
علی بن ابراہیم اپنے باپ سے، حماد بن عیسیٰ سے، حریز سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے فرمایا: جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) مکہ میں داخل ہوئے اس دن جب اس کو فتح کیا، تو بیت اللہ کے دروازے کو کھولا اور اندر کی تصویروں کو مٹانے کا حکم دیا۔ پھر دروازے کی دونوں جانب سے (دروازے کے چھڑ کو) پکڑا اور کہا: کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنے وعدے کو سچ کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکست دی۔ تم کیا کہتے ہو اور کیا خیال کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم آپ کے بارے میں نیکی سے سوچتے ہیں اور نیکی کہتے ہیں۔ آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں اور اب آپ کے پاس طاقت ہے۔ انہوں نے کہا: تو میں اپنے بھائی یوسف …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

كَانَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabrisī، al-Ḥuwayzī، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabrisī, al-Ḥuwayzī and Ṭabāṭabāʾī on this āyah

al-Ṭabrisī، al-Ḥuwayzī، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 4067

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُفَضَّلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ، قَالَ زَعَمَ السُّدِّيُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ إِلاَّ أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَقَالَ ‏"‏ اقْتُلُوهُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ‏"‏ ‏.‏ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ وَمِقْيَسُ بْنُ صُبَابَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِكَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَاسْتَبَقَ إِلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ وَعَمَّارُ …
It was narrated from Mus'ab bin Sa'd that his father said:"On the day of the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah [SAW] granted amnesty to the people, except four men and two women. He said: 'Kill them, even if you find them clinging to the covers of Ka'bah.' (They were) 'Ikrimah bin Abi Jahl, 'Abdullah bin Khatal, Miqyas bin Subabah and 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh. 'Abdullah bin Khatl was caught while he was clinging to the covers of Ka'bah. Sa'eed bin Huraith and 'Ammar bin Yasir both rushed toward him, but Sa'eed, who was the younger of the two, got there before 'Ammar, and he killed him. Miqyas bin Subabah was caught by the people in the marketplace, and they killed him. …
القاسم بن زكریا بن دينار نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا کہ احمد بن مفضل نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ اسباط نے حدیث سنائی، اور اسباط نے کہا کہ السدي نے کہا مصعب بن سعد سے، اس کے والد سے، کہا: جب مکے کی فتح کا دن آیا تو رسول اللہ نے لوگوں کو امان دی صرف چار آدمیوں اور دو عورتوں کے سوا۔ اور آپ نے فرمایا: انہیں قتل کرو اگرچہ انہیں کعبے کے پردے کو پکڑے ہوئے پاؤ۔ وہ عکرمہ بن ابی جہل، عبد اللہ بن خطل، میقیس بن صبابہ، اور عبد اللہ بن سعد بن ابی السرح تھے۔ عبد اللہ بن خطل کو پایا گیا جو کعبے کے پردے کو پکڑے ہوئے تھا۔ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر دونوں اس کی طرف دوڑے، لیکن سعید جو دونوں میں سے نوجوان تھا، عمار سے پہلے پہنچا۔ اس نے اسے قتل کر دیا۔ میقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا اور …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

تَوَّابًۢا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 3520

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ فَدَعَا لَهُ قَالَ ‏ "‏ أَذْهِبِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) came to a sick person, he would make supplication for him, and would say: Adhhibil-bas, Rabban-nas, washfi Antash-Shafi, la shifa’a illa shifa’uka shifa’an la yughadiru saqama (Take away the pain, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer, and there is no healing but Your healing that leaves no trace of sickness).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے پاس آتے تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، اور کہتے: «أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے لوگوں کے رب! تو بیماری دور فرما، اور صحت عطا کر، تو ہی صحت عطا کرنے والا ہے، شفاء اور صحت وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفاء عطا کر کہ پھر کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَسَبِّحْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī on this āyah

al-Ṭabarī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 2854

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مُحْرِمًا صُرِعَ عَنْ نَاقَتِهِ، فَأُوقِصَ ذُكِرَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ عَلَى إِثْرِهِ ‏"‏ خَارِجًا رَأْسُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلاَ تُمِسُّوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ فَسَأَلْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ فَجَاءَ بِالْحَدِيثِ كَمَا كَانَ يَجِيءُ بِهِ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ وَلاَ تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Abbas:That a man in Ihram was thrown by his she-camel and his neck was broken. It was said that he had died, so the Prophet said: "Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths." Then he said: "Do not put any perfume on him for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah." Shubah said: "Ten years later, I asked him (the narrator Abu Bishr) anbut that, and he narrated the Hadith as he had the first time, except that he said: 'And do not cover his face and head
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو“، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: ”اس کا سر کفن سے باہر رہے“، فرمایا: ”اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ شعبہ ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے ان سے ( یعنی اپنے استاد ابوبشر سے ) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے ( اس بار اتنا مزید ) کہا کہ ”اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو“۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱسْتَغْفِرْهُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.