Sunan al-Nasāʾī

Sunan al-Nasāʾī 904

Sunan al-Nasāʾī 904

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ بَيْنَمَا ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا - يُرِيدُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا لَهُ مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نَزَلَتْ عَلَىَّ آنِفًا سُورَةُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ‏{‏ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ * إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ آنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْكَوَاكِبِ تَرِدُهُ عَلَىَّ أُمَّتِي فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي ‏.‏ فَيَقُولُ لِي إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas in Malik said:"One day when he-the Prophet (ﷺ)- was still among us, he took a nap, then he raised his head, smiling. We said to him: 'Why are you smiling, O Messenger of Allah?' He said: 'Just now this Surah was revealed to me: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. Verily, We have granted you (O Muahmmad) Al-Kawthar. Therefore turn in prayer to your Lord and sacrifice (to Him only). For he who hates you, he will be cut off.' Then he said: 'Do you know what Al-Kawthar is?' We said: 'Allah and His Messenger know best.' He said: 'It is a river that my Lord has promised me in Paradise. Its vessels are more than the number of the stars. My Ummah will come to me, then a man among them will be pulled away and I will say: "O Lord, he is one of my Ummah" and He will say to me: 'You do not know what he did after you were gone
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ یکایک آپ کو جھپکی سی آئی، پھر مسکراتے ہوئے نے اپنا سر اٹھایا، تو ہم نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت اتری ہے«‏‏‏‏بسم اللہ الرحمن الرحيم ‏* إنا أعطيناك الكوثر * فصل لربك وانحر * إن شانئك هو الأبتر» شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے، یقیناً ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی، تو آپ اپنے رب کے لیے صلاۃ پڑھیں، اور قربانی کریں، یقیناً آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے وعدہ کیا ہے، جس کے آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، میری امت اس حوض پر میرے پاس آئے گی، ان میں سے ایک شخص کھینچ لیا جائے گا تو میں کہوں گا: میرے رب! یہ تو میری امت میں سے ہے؟ تو اللہ تعالیٰ مجھ سے فرمائے گا: تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی ہیں ۔

cited on 7 āyāt

ذكرها في 7 من الآيات

7 آیات پر نقل کیا

ĀyahCited byPickthall
107:4Ibn ʿĀshūrAh, woe unto worshippers
107:5Ibn ʿĀshūrWho are heedless of their prayer;
107:6Ibn ʿĀshūrWho would be seen (at worship)
107:7Ibn ʿĀshūrYet refuse small kindnesses!
108:1al-Baghawī, al-Qurṭubī and Ibn KathīrLo! We have given thee Abundance;
108:2Ibn KathīrSo pray unto thy Lord, and sacrifice.
108:3Ibn KathīrLo! it is thy insulter (and not thou) who is without posterity.