PickthallLo! We have given thee (O Muhammad) a signal victory,
Yusuf AliVerily We have granted thee a manifest Victory:
The agreed readingGod has given you a clear victory - the commentaries place the surah's coming down on the return from Hudaybiya.
Urduبےشک ہم نے تمہیں ایک کھلی اور واضح فتح دی ہے، اور تفسیروں میں لکھا ہے کہ یہ سورت حدیبیہ کے صلح کے بعد واپسی کے سفر میں نازل ہوئی، اور یہ آنے والی فتح مکہ کا وعدہ تھی۔
Arabicإنا فتحنا لك أيها الرسول فتحا واضحا ظاهرا، وقد ذكرت كتب التفسير أن هذه السورة نزلت في الطريق عند الانصراف من الحديبية بعد صلحها، وعدا من الله لك بفتح مكة القريب.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا، وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرُّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ. كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهَا، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا، ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ إِنَّهَا أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا.
Narrated Al-Bara:Do you (people) consider the conquest of Mecca, the Victory (referred to in the Qur'an 48:1). Was the conquest of Mecca a victory? We really consider that the actual Victory was the Ar-Ridwan Pledge of allegiance which we gave on the day of Al-Hudaibiya (to the Prophet) . On the day of Al-Hudaibiya we were fourteen hundred men along with the Prophet (ﷺ) Al-Hudaibiya was a well, the water of which we used up leaving not a single drop of water in it. When the Prophet (ﷺ) was informed of that, he came and sat on its edge. Then he asked for a utensil of water, performed ablution from it, rinsed (his mouth), invoked (Allah), and poured the remaining water into the well. We …
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ ( سورۃ انا فتحنا میں ) فتح سے مراد مکہ کی فتح لیتے ہو۔ فتح مکہ تو بہرحال فتح ہی تھی لیکن ہم غزوہ حدیبیہ کی بیعت رضوان کو حقیقی فتح سمجھتے ہیں۔ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو آدمی تھے۔ حدیبیہ نامی ایک کنواں وہاں پر تھا ‘ ہم نے اس میں سے اتنا پانی کھینچا کہ اس کے اندر ایک قطرہ بھی پانی باقی نہ رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ہوئی ( کہ پانی ختم ہو گیا ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر کسی ایک برتن میں پانی طلب فرمایا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر سارا …
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was on one of his journeys, and one night Umar ibn al-Khattab, who was travelling with him, asked him about something, but he did not answer him. He asked him again, but he did not answer him. Then he asked him again, and again he did not answer him. Umar said, "May your mother be bereaved of you, Umar. Three times you have importuned the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, with a question and he has not answered you at all." Umar continued, "I got my camel moving until, when I was in front of the people, I feared that a piece of …
اسلم عدوی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سفر میں سوار ہو کر چل رہے تھے اور عمر بن خطاب بھی ان کے ساتھ تھے پس حضرت عمر نے ایک بات پوچھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جواب نہ دیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھی جب بھی جواب نہ دیا پھر پوچھی جب بھی جواب نہ دیا اس وقت حضرت عمر نے دل میں کہا کاش تو مر گیا ہوتا اے عمر تین بار تو نے گڑگڑا کر پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کسی بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا عمر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے اونٹ کو تیز کیا اور آگے بڑھ گیا لیکن میرے دل میں یہ خوف تھا کہ شاید میرے بارے میں کلام اللہ اترے گا تو تھوڑی دیر میں ٹھہرا تھا اتنے میں میں نے ایک پکارنے والے کو سنا جو مجھ کو پکارتا ہے اس وقت مجھے اور زیادہ خوف ہوا اس …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ أُنْزِلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلمَ : (ليغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ) مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ قَرَأَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمْ فَقَالُوا هَنِيئًا مَرِيئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يُفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يُفْعَلُ بِنَا فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ : ( ليُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ ) حَتَّى …
Narrated Anas [May Allah be pleased with him]:"While the Messenger of Allah (ﷺ) was returning from Al-Hudaibiyyah it was revealed to him, 'That Allah may forgive you your sins of the past and the future (48:2).' So the Prophet (ﷺ) said: 'An Ayah has been revealed to me which is dearer to me than whatever is upon the earth.' Then the Prophet (ﷺ) recited it for them and they said: 'Congratulations O Messenger of Allah! Allah has explained what He will do with you, but what will He do with us?' So (the following) was revealed: 'That He may admit the believing men and the believing women into Gardens under which rivers flow' up to (His Saying) 'a supreme success (48:)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپسی کے وقت «ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر» ” ( اللہ نے جہاد اس لیے فرض کیا ہے ) تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دے“ ( الفتح: ۲ ) ، نازل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“، پھر آپ نے وہ آیت سب کو پڑھ کر سنائی، لوگوں نے ( سن کر ) «هنيأ مريئًا» ( آپ کے لیے خوش گوار اور مبارک ہو ) کہا، اے اللہ کے نبی! اللہ نے آپ کو بتا دیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا مگر ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ اس پر آیت «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار» سے لے کر سے «فوزا عظيما» ”تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے …
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) recited often these words: Hallowed be Allah and with His praise, I seek the forgiveness of Allah and return to Him. She said: I asked: Messenger of Allah, I see that you often repeat the saying" subhan allahi bihamdihi astag firullahi watubuilaih" whereupon he said: My Lord informed me that I would soon see a sign in my Ummah, so when I see it I often recite (these) words: Hallowed be Allah and with His Praise, I seek forgiveness of Allah and return to Him. Indeed I saw it (when this verse) was revealed:" When Allah's help and victory came, it marked the victory of Mecca, and you see people entering into Allah's religion in troops, celebrate the …
عامر ( شعبی ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے : ’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا : ’’میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں توبکثرت کہوں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه تو ( وہ نشانی ) میں دیکھ چکا ہوں ۔ ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ‘ ‘ ( یعنی ) فتح مکہ …
Mughira b. Shu'ba reported that Allah's Apostle (ﷺ) worshipped so much that his feet were swollen. It was said to him:(Why do you undergo so much hardship despite the fact that) Allah has pardoned for you your earlier and later sins? Thereupon he said: May I not (prove myself) to be a grateful servant (of Allah)?
ابو عوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی ( اتنی لمبی ) نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے ۔ آپ سے کہاگیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں؟حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلےگناہوں کی مغفرت فرمادی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه ضَرَبَ ابْنًا لَهُ تَكَنَّى أَبَا عِيسَى وَأَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ تَكَنَّى بِأَبِي عِيسَى فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَمَا يَكْفِيكَ أَنْ تُكَنَّى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَنَّانِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَإِنَّا فِي جَلْجَلَتِنَا فَلَمْ يَزَلْ يُكْنَى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى هَلَكَ .
Narrated Umar ibn al-Khattab: Zayd ibn Aslam quoted his father as saying: Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him) struck one of his sons who was given the kunyah AbuIsa, and al-Mughirah ibn Shu'bah had the kunyah AbuIsa. Umar said to him: Is it not sufficient for you that you are called by the kunyah AbuAbdullah? He replied: The Messenger of Allah (ﷺ) gave me this kunyah. Thereupon he said: The Messenger of Allah (ﷺ) was forgiven all his sins, past and those followed. But we are among the people similar to us. Henceforth he was called by the kunyah AbuAbdullah until he died
اسلم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو؟ ۱؎وہ بولے: میری یہ کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے تھے، اور ہم تو اپنی ہی طرح کے چند لوگوں میں سے ایک ہیں ۲؎ چنانچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔
Narrated Al-Bara bin 'Azib:that the Prophet (ﷺ) said to 'Ali bin Abi Talib: "You are from me, and I am from you." And there is a story along with this Hadith
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی سے فرمایا: ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور اس حدیث میں ایک واقعہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
Narrated Mujammi' ibn Jariyah al-Ansari,: Khaybar was divided among the people of al-Hudaybiyyah. The Messenger of Allah (ﷺ) divided it into eighteen portions. The army contained one thousand and five hundred people. There were three hundred horsemen among them. He gave double share to the horsemen, and a single to the footmen
مجمع بن جاریہ انصاری (جو قرآن کے قاریوں میں سے ایک تھے) کہتے ہیں کہ خیبر ان لوگوں پر تقسیم کیا گیا جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا، لشکر کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، ان میں تین سو سوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو دو حصے دئیے اور پیادوں کو ایک ایک حصہ دیا۔
PickthallThat Allah may forgive thee of thy sin that which is past and that which is to come, and may perfect His favour unto thee, and may guide thee on a right path,
Yusuf AliThat Allah may forgive thee thy faults of the past and those to follow; fulfil His favour to thee; and guide thee on the Straight Way;
The agreed readingso that God may forgive you what has gone before of your fault and what came after, and complete His favour on you, and guide you on a straight path,
Urduتاکہ اللہ آپ کی وہ خطائیں معاف کر دے جو پہلے ہوئیں اور جو بعد میں ہوئیں، یعنی وہ معاملات جن میں آپ نے اپنی رائے یا اجتہاد سے کچھ کیا اور اللہ نے اسے پسند نہ کیا، اور تاکہ وہ اپنی نعمت آپ پر مکمل کر دے، اور آپ کو سیدھے راستے کی ہدایت دے۔
Arabicليغفر لك الله يا محمد ما تقدم من ذنبك، وهو ما كان من ترك الأولى أو الاجتهاد الذي لم يوافق الأفضل، وما تأخر منه أيضا، ويتم عليك نعمته كاملة، ويهديك صراطا مستقيما لا اعوجاج فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ أُنْزِلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلمَ : (ليغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ) مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ قَرَأَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمْ فَقَالُوا هَنِيئًا مَرِيئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يُفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يُفْعَلُ بِنَا فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ : ( ليُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ ) حَتَّى …
Narrated Anas [May Allah be pleased with him]:"While the Messenger of Allah (ﷺ) was returning from Al-Hudaibiyyah it was revealed to him, 'That Allah may forgive you your sins of the past and the future (48:2).' So the Prophet (ﷺ) said: 'An Ayah has been revealed to me which is dearer to me than whatever is upon the earth.' Then the Prophet (ﷺ) recited it for them and they said: 'Congratulations O Messenger of Allah! Allah has explained what He will do with you, but what will He do with us?' So (the following) was revealed: 'That He may admit the believing men and the believing women into Gardens under which rivers flow' up to (His Saying) 'a supreme success (48:)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپسی کے وقت «ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر» ” ( اللہ نے جہاد اس لیے فرض کیا ہے ) تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دے“ ( الفتح: ۲ ) ، نازل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“، پھر آپ نے وہ آیت سب کو پڑھ کر سنائی، لوگوں نے ( سن کر ) «هنيأ مريئًا» ( آپ کے لیے خوش گوار اور مبارک ہو ) کہا، اے اللہ کے نبی! اللہ نے آپ کو بتا دیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا مگر ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ اس پر آیت «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار» سے لے کر سے «فوزا عظيما» ”تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے …
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) recited often these words: Hallowed be Allah and with His praise, I seek the forgiveness of Allah and return to Him. She said: I asked: Messenger of Allah, I see that you often repeat the saying" subhan allahi bihamdihi astag firullahi watubuilaih" whereupon he said: My Lord informed me that I would soon see a sign in my Ummah, so when I see it I often recite (these) words: Hallowed be Allah and with His Praise, I seek forgiveness of Allah and return to Him. Indeed I saw it (when this verse) was revealed:" When Allah's help and victory came, it marked the victory of Mecca, and you see people entering into Allah's religion in troops, celebrate the …
عامر ( شعبی ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے : ’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا : ’’میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں توبکثرت کہوں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه تو ( وہ نشانی ) میں دیکھ چکا ہوں ۔ ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ‘ ‘ ( یعنی ) فتح مکہ …
Mughira b. Shu'ba reported that Allah's Apostle (ﷺ) worshipped so much that his feet were swollen. It was said to him:(Why do you undergo so much hardship despite the fact that) Allah has pardoned for you your earlier and later sins? Thereupon he said: May I not (prove myself) to be a grateful servant (of Allah)?
ابو عوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی ( اتنی لمبی ) نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے ۔ آپ سے کہاگیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں؟حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلےگناہوں کی مغفرت فرمادی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا، وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرُّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ. كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهَا، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا، ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ إِنَّهَا أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا.
Narrated Al-Bara:Do you (people) consider the conquest of Mecca, the Victory (referred to in the Qur'an 48:1). Was the conquest of Mecca a victory? We really consider that the actual Victory was the Ar-Ridwan Pledge of allegiance which we gave on the day of Al-Hudaibiya (to the Prophet) . On the day of Al-Hudaibiya we were fourteen hundred men along with the Prophet (ﷺ) Al-Hudaibiya was a well, the water of which we used up leaving not a single drop of water in it. When the Prophet (ﷺ) was informed of that, he came and sat on its edge. Then he asked for a utensil of water, performed ablution from it, rinsed (his mouth), invoked (Allah), and poured the remaining water into the well. We …
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ ( سورۃ انا فتحنا میں ) فتح سے مراد مکہ کی فتح لیتے ہو۔ فتح مکہ تو بہرحال فتح ہی تھی لیکن ہم غزوہ حدیبیہ کی بیعت رضوان کو حقیقی فتح سمجھتے ہیں۔ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو آدمی تھے۔ حدیبیہ نامی ایک کنواں وہاں پر تھا ‘ ہم نے اس میں سے اتنا پانی کھینچا کہ اس کے اندر ایک قطرہ بھی پانی باقی نہ رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ہوئی ( کہ پانی ختم ہو گیا ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر کسی ایک برتن میں پانی طلب فرمایا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر سارا …
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) was praying with his door bolted. I came and asked to have the door opened. He walked and opened the door for me. He then returned to his place for prayer. He (the narrator Urwah) mentioned that the door faced the qiblah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے ( حالت نماز میں ) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی ( نماز کی جگہ ) پر واپس لوٹ گئے ۱؎۔ اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔
A'isha reported that when Allah's Messenger (ﷺ) occupied himself in prayer, he observed such a (long) qiyam (posture of standing in prayer) that his feet were swollen. A'isha said:Allah's Messenger you do this (in spite of the fact) that your earlier and later sins have been pardoned for you? Thereupon, he said. A'isha should I not prove myself to be a thanksgiving servant (of Allah)?
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو ( بہت لمبا ) قیام کرتے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ایسا کرتے ہیں ۔ حالانکہ آپ کے اگلےپچھلے تمام گناہوں کی مغفرت کی ( یقین دہانی کرائی ) جاچکی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !کیا میں ( اللہ تعالیٰ کا ) شکرگزار بندہ نہ بنوں؟
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
Narrated Mujammi' ibn Jariyah al-Ansari,: Khaybar was divided among the people of al-Hudaybiyyah. The Messenger of Allah (ﷺ) divided it into eighteen portions. The army contained one thousand and five hundred people. There were three hundred horsemen among them. He gave double share to the horsemen, and a single to the footmen
مجمع بن جاریہ انصاری (جو قرآن کے قاریوں میں سے ایک تھے) کہتے ہیں کہ خیبر ان لوگوں پر تقسیم کیا گیا جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا، لشکر کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، ان میں تین سو سوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو دو حصے دئیے اور پیادوں کو ایک ایک حصہ دیا۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَعْقُوبَ بْنَ مُجَمِّعٍ، يَذْكُرُ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ قَالَ شَهِدْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْهَا إِذَا النَّاسُ يَهُزُّونَ الأَبَاعِرَ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ مَا لِلنَّاسِ قَالُوا أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ عِنْدَ …
Narrated Mujammi' ibn Jariyah al-Ansari: Mujammi' was one of the Qur'an-reciters (qaris), and he said: We were present with the Messenger of Allah (ﷺ) at al-Hudaybiyyah. When we returned, the people were driving their camels quickly. The people said to one another: What is the matter with them? They said: Revelation has come down to the Prophet (ﷺ). We also proceeded with the people, galloping (our camels). We found the Prophet (ﷺ) standing on his riding-animal at Kura' al-Ghamim. When the people gathered near him, he recited: "Verily We have granted thee a manifest victory. A man asked: Is this a victory, Messenger of Allah? He replied: Yes. By Him in Whose hands the soul of Muhammad is, …
مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ ان قاریوں میں سے ایک تھے جو قرآت قرآن میں ماہر تھے، وہ کہتے ہیں: ہم صلح حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم وہاں سے واپس لوٹے تو لوگ اپنی سواریوں کو حرکت دے رہے تھے، بعض نے بعض سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی گئی ہے تو ہم بھی لوگوں کے ساتھ ( اپنی سواریوں ) کو دوڑاتے اور ایڑ لگاتے ہوئے نکلے، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کراع الغمیم ۱؎کے پاس کھڑا پایا جب سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» پڑھی، تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، قسم اس ذات …
PickthallAnd that Allah may help thee with strong help -
Yusuf AliAnd that Allah may help thee with powerful help.
The agreed readingand help you with a mighty help that carries no humiliation along with it at all.
Urduاور اللہ آپ کو ایک زبردست اور غالب مدد دے گا، ایسی مدد جس میں کوئی ذلت یا رسوائی شامل نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل مدد ہوگی جس سے آپ کا دین سربلند اور آپ کی بات بلند ہو جائے گی۔
Arabicويمنحك الله نصرا عزيزا قويا غالبا، نصرا لا ذل فيه ولا هوان معه أبدا، بل هو نصر كامل يعز به دينك ويعلي به كلمتك على أعدائك جميعا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ أُنْزِلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلمَ : (ليغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ) مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ قَرَأَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمْ فَقَالُوا هَنِيئًا مَرِيئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يُفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يُفْعَلُ بِنَا فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ : ( ليُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ ) حَتَّى …
Narrated Anas [May Allah be pleased with him]:"While the Messenger of Allah (ﷺ) was returning from Al-Hudaibiyyah it was revealed to him, 'That Allah may forgive you your sins of the past and the future (48:2).' So the Prophet (ﷺ) said: 'An Ayah has been revealed to me which is dearer to me than whatever is upon the earth.' Then the Prophet (ﷺ) recited it for them and they said: 'Congratulations O Messenger of Allah! Allah has explained what He will do with you, but what will He do with us?' So (the following) was revealed: 'That He may admit the believing men and the believing women into Gardens under which rivers flow' up to (His Saying) 'a supreme success (48:)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپسی کے وقت «ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر» ” ( اللہ نے جہاد اس لیے فرض کیا ہے ) تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دے“ ( الفتح: ۲ ) ، نازل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“، پھر آپ نے وہ آیت سب کو پڑھ کر سنائی، لوگوں نے ( سن کر ) «هنيأ مريئًا» ( آپ کے لیے خوش گوار اور مبارک ہو ) کہا، اے اللہ کے نبی! اللہ نے آپ کو بتا دیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا مگر ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ اس پر آیت «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار» سے لے کر سے «فوزا عظيما» ”تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے …
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا، وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرُّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ. كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهَا، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا، ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ إِنَّهَا أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا.
Narrated Al-Bara:Do you (people) consider the conquest of Mecca, the Victory (referred to in the Qur'an 48:1). Was the conquest of Mecca a victory? We really consider that the actual Victory was the Ar-Ridwan Pledge of allegiance which we gave on the day of Al-Hudaibiya (to the Prophet) . On the day of Al-Hudaibiya we were fourteen hundred men along with the Prophet (ﷺ) Al-Hudaibiya was a well, the water of which we used up leaving not a single drop of water in it. When the Prophet (ﷺ) was informed of that, he came and sat on its edge. Then he asked for a utensil of water, performed ablution from it, rinsed (his mouth), invoked (Allah), and poured the remaining water into the well. We …
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ ( سورۃ انا فتحنا میں ) فتح سے مراد مکہ کی فتح لیتے ہو۔ فتح مکہ تو بہرحال فتح ہی تھی لیکن ہم غزوہ حدیبیہ کی بیعت رضوان کو حقیقی فتح سمجھتے ہیں۔ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو آدمی تھے۔ حدیبیہ نامی ایک کنواں وہاں پر تھا ‘ ہم نے اس میں سے اتنا پانی کھینچا کہ اس کے اندر ایک قطرہ بھی پانی باقی نہ رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ہوئی ( کہ پانی ختم ہو گیا ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر کسی ایک برتن میں پانی طلب فرمایا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر سارا …
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) recited often these words: Hallowed be Allah and with His praise, I seek the forgiveness of Allah and return to Him. She said: I asked: Messenger of Allah, I see that you often repeat the saying" subhan allahi bihamdihi astag firullahi watubuilaih" whereupon he said: My Lord informed me that I would soon see a sign in my Ummah, so when I see it I often recite (these) words: Hallowed be Allah and with His Praise, I seek forgiveness of Allah and return to Him. Indeed I saw it (when this verse) was revealed:" When Allah's help and victory came, it marked the victory of Mecca, and you see people entering into Allah's religion in troops, celebrate the …
عامر ( شعبی ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے : ’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا : ’’میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں توبکثرت کہوں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه تو ( وہ نشانی ) میں دیکھ چکا ہوں ۔ ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ‘ ‘ ( یعنی ) فتح مکہ …
Mughira b. Shu'ba reported that Allah's Apostle (ﷺ) worshipped so much that his feet were swollen. It was said to him:(Why do you undergo so much hardship despite the fact that) Allah has pardoned for you your earlier and later sins? Thereupon he said: May I not (prove myself) to be a grateful servant (of Allah)?
ابو عوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی ( اتنی لمبی ) نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے ۔ آپ سے کہاگیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں؟حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلےگناہوں کی مغفرت فرمادی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟
Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Prophet of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا …
Narrated Mujammi' ibn Jariyah al-Ansari,: Khaybar was divided among the people of al-Hudaybiyyah. The Messenger of Allah (ﷺ) divided it into eighteen portions. The army contained one thousand and five hundred people. There were three hundred horsemen among them. He gave double share to the horsemen, and a single to the footmen
مجمع بن جاریہ انصاری (جو قرآن کے قاریوں میں سے ایک تھے) کہتے ہیں کہ خیبر ان لوگوں پر تقسیم کیا گیا جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا، لشکر کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، ان میں تین سو سوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو دو حصے دئیے اور پیادوں کو ایک ایک حصہ دیا۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَعْقُوبَ بْنَ مُجَمِّعٍ، يَذْكُرُ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ قَالَ شَهِدْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْهَا إِذَا النَّاسُ يَهُزُّونَ الأَبَاعِرَ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ مَا لِلنَّاسِ قَالُوا أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ عِنْدَ …
Narrated Mujammi' ibn Jariyah al-Ansari: Mujammi' was one of the Qur'an-reciters (qaris), and he said: We were present with the Messenger of Allah (ﷺ) at al-Hudaybiyyah. When we returned, the people were driving their camels quickly. The people said to one another: What is the matter with them? They said: Revelation has come down to the Prophet (ﷺ). We also proceeded with the people, galloping (our camels). We found the Prophet (ﷺ) standing on his riding-animal at Kura' al-Ghamim. When the people gathered near him, he recited: "Verily We have granted thee a manifest victory. A man asked: Is this a victory, Messenger of Allah? He replied: Yes. By Him in Whose hands the soul of Muhammad is, …
مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ ان قاریوں میں سے ایک تھے جو قرآت قرآن میں ماہر تھے، وہ کہتے ہیں: ہم صلح حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم وہاں سے واپس لوٹے تو لوگ اپنی سواریوں کو حرکت دے رہے تھے، بعض نے بعض سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی گئی ہے تو ہم بھی لوگوں کے ساتھ ( اپنی سواریوں ) کو دوڑاتے اور ایڑ لگاتے ہوئے نکلے، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کراع الغمیم ۱؎کے پاس کھڑا پایا جب سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» پڑھی، تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، قسم اس ذات …
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) was praying with his door bolted. I came and asked to have the door opened. He walked and opened the door for me. He then returned to his place for prayer. He (the narrator Urwah) mentioned that the door faced the qiblah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے ( حالت نماز میں ) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی ( نماز کی جگہ ) پر واپس لوٹ گئے ۱؎۔ اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔
It was narrated that Ziyad bin Ilaqah said:"I heard Al-Mughirah bin Shu'bah say: 'The Prophet (ﷺ) stood (in prayer at night) until his feet swelled up, and it was said to him: Allah has forgiven your past and future sins. He said: "Should I not be a thankful slave?
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پیر سوج جاتے، تو آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں ( پھر آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں ) تو آپ نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔
PickthallHe it is Who sent down peace of reassurance into the hearts of the believers that they might add faith unto their faith. Allah's are the hosts of the heavens and the earth, and Allah is ever Knower, Wise -
Yusuf AliIt is He Who sent down tranquillity into the hearts of the Believers, that they may add faith to their faith;- for to Allah belong the Forces of the heavens and the earth; and Allah is Full of Knowledge and Wisdom;-
The agreed readingHe is the One who sent down tranquillity into the hearts of the believers, so that they might grow in faith along with their faith. To God belong the hosts of the heavens and the earth, and God is Knowing, Wise.
Urduوہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکون، اطمینان اور ثابت قدمی نازل کی، اس مشکل وقت میں جب دل بےقرار ہو رہے تھے، تاکہ وہ اپنے پہلے ایمان کے ساتھ مزید یقین اور ایمان بڑھا لیں، اور آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اللہ ہی کے ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا اور ہر فیصلے میں حکمت والا ہے۔
Arabicهو الذي أنزل السكون والطمأنينة والثبات في قلوب المؤمنين عند نزول المحن الصعبة التي تزعج القلوب وتشوشها، وذلك ليزدادوا يقينا وإيمانا فوق إيمانهم الأول، ولله وحده جنود السموات والأرض جميعا، وكان الله عليما بكل شيء، حكيما في كل ما يقضيه ويقدره.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:“Allah said: ‘I have prepared for My righteous worshippers, what no eye has seen, nor ear has hear, and no human heart has conceived.’ So recite if you wish: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes as a reward for what they used to do. And in Paradise there is a tree under whose shade a rider can travel for one hundred years without stopping. Recite if you wish: And in shade extended. And the space occupied by a whip in Paradise is better than the world and whatever is in it. Recite if you wish: And whoever is removed away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful. The life of this …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کی ہیں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہے، تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھ کی ٹھنڈک کے طور پر جو چیز تیار کی گئی ہے اسے کوئی بھی نہیں جانتا“ ( السجدۃ: ۱۷ ) ، جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کی ( گھنی ) چھاؤں میں سوار سو برس تک بھی چلتا چلا جائے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، تم چاہو تو آیت کا یہ ٹکڑا «وظل ممدود» ”پھیلا ہوا لمبا لمبا سایہ“ ( الواقعہ: ۳۰ ) ، پڑھ لو، جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ برابر …
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَعْقُوبَ بْنَ مُجَمِّعٍ، يَذْكُرُ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ قَالَ شَهِدْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْهَا إِذَا النَّاسُ يَهُزُّونَ الأَبَاعِرَ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ مَا لِلنَّاسِ قَالُوا أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ عِنْدَ …
Narrated Mujammi' ibn Jariyah al-Ansari: Mujammi' was one of the Qur'an-reciters (qaris), and he said: We were present with the Messenger of Allah (ﷺ) at al-Hudaybiyyah. When we returned, the people were driving their camels quickly. The people said to one another: What is the matter with them? They said: Revelation has come down to the Prophet (ﷺ). We also proceeded with the people, galloping (our camels). We found the Prophet (ﷺ) standing on his riding-animal at Kura' al-Ghamim. When the people gathered near him, he recited: "Verily We have granted thee a manifest victory. A man asked: Is this a victory, Messenger of Allah? He replied: Yes. By Him in Whose hands the soul of Muhammad is, …
مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ ان قاریوں میں سے ایک تھے جو قرآت قرآن میں ماہر تھے، وہ کہتے ہیں: ہم صلح حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم وہاں سے واپس لوٹے تو لوگ اپنی سواریوں کو حرکت دے رہے تھے، بعض نے بعض سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی گئی ہے تو ہم بھی لوگوں کے ساتھ ( اپنی سواریوں ) کو دوڑاتے اور ایڑ لگاتے ہوئے نکلے، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کراع الغمیم ۱؎کے پاس کھڑا پایا جب سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» پڑھی، تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، قسم اس ذات …
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا، وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرُّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ. كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهَا، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا، ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ إِنَّهَا أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا.
Narrated Al-Bara:Do you (people) consider the conquest of Mecca, the Victory (referred to in the Qur'an 48:1). Was the conquest of Mecca a victory? We really consider that the actual Victory was the Ar-Ridwan Pledge of allegiance which we gave on the day of Al-Hudaibiya (to the Prophet) . On the day of Al-Hudaibiya we were fourteen hundred men along with the Prophet (ﷺ) Al-Hudaibiya was a well, the water of which we used up leaving not a single drop of water in it. When the Prophet (ﷺ) was informed of that, he came and sat on its edge. Then he asked for a utensil of water, performed ablution from it, rinsed (his mouth), invoked (Allah), and poured the remaining water into the well. We …
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ ( سورۃ انا فتحنا میں ) فتح سے مراد مکہ کی فتح لیتے ہو۔ فتح مکہ تو بہرحال فتح ہی تھی لیکن ہم غزوہ حدیبیہ کی بیعت رضوان کو حقیقی فتح سمجھتے ہیں۔ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو آدمی تھے۔ حدیبیہ نامی ایک کنواں وہاں پر تھا ‘ ہم نے اس میں سے اتنا پانی کھینچا کہ اس کے اندر ایک قطرہ بھی پانی باقی نہ رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ہوئی ( کہ پانی ختم ہو گیا ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر کسی ایک برتن میں پانی طلب فرمایا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر سارا …
PickthallThat He may bring the believing men and the believing women into Gardens underneath which rivers flow, wherein they will abide, and may remit from them their evil deeds - That, in the sight of Allah, is the supreme triumph -
Yusuf AliThat He may admit the men and women who believe, to Gardens beneath which rivers flow, to dwell therein for aye, and remove their ills from them;- and that is, in the sight of Allah, the highest achievement (for man),-
The agreed readingSo that He may bring the believing men and the believing women into Gardens with rivers running beneath, to stay there, and clear away their bad deeds from them. That, with God, is the supreme triumph.
Urduاور یہ بھی اس لیے کہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور ان کے گناہ مٹا دے، اور یہی اللہ کے نزدیک سب سے بڑی کامیابی ہے۔
Arabicوذلك أيضا ليُدخل الله المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحت أشجارها الأنهار، ماكثين فيها خالدين أبدا، ويمحو ويكفر عنهم سيئاتهم وذنوبهم، وكان ذلك الفوز والنجاح عند الله فوزا عظيما لا فوز أعظم منه.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Yazid bin Abi 'Ubaid: "I said to Salamah bin Al-Akwa': "For what did you pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Al-Hudaibiyyah?" He said: "For death." This Hadith is Hasan Sahih
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا: حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:“Allah said: ‘I have prepared for My righteous worshippers, what no eye has seen, nor ear has hear, and no human heart has conceived.’ So recite if you wish: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes as a reward for what they used to do. And in Paradise there is a tree under whose shade a rider can travel for one hundred years without stopping. Recite if you wish: And in shade extended. And the space occupied by a whip in Paradise is better than the world and whatever is in it. Recite if you wish: And whoever is removed away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful. The life of this …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کی ہیں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہے، تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھ کی ٹھنڈک کے طور پر جو چیز تیار کی گئی ہے اسے کوئی بھی نہیں جانتا“ ( السجدۃ: ۱۷ ) ، جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کی ( گھنی ) چھاؤں میں سوار سو برس تک بھی چلتا چلا جائے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، تم چاہو تو آیت کا یہ ٹکڑا «وظل ممدود» ”پھیلا ہوا لمبا لمبا سایہ“ ( الواقعہ: ۳۰ ) ، پڑھ لو، جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ برابر …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ بَايَعْتُمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ .
It was narrated that Yazid bin Abi 'Ubaid said:"I said to Salamah bin Al-Akwa': 'What pledge did you make to the Prophet on the Day of Al-Hudaibiyyah?' He said: 'For death
ہمیں خبر دی قتيبة نے۔ کہا: ہمیں حدیث سنائی حاتم بن إسماعيل نے يزيد بن أبي عبيد سے۔ کہا: میں نے سلمة بن الأكوع سے کہا: تم نے النبي صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ يوم الحديبية میں کس چیز پر بايعتم؟ سلمہ نے کہا: الموت کے لیے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Salama bin Al-Aqwa:We went out with Allah's Messenger (ﷺ) to Khaibar and we travelled during the night. A man amongst the people said to 'Amir bin Al-Aqwa', "Won't you let us hear your poetry?" 'Amir was a poet, and so he got down and started (chanting Huda) reciting for the people, poetry that keep pace with the camel's foot steps, saying, "O Allah! Without You we would not have been guided on the right path, neither would we have given in charity, nor would we have prayed. So please forgive us what we have committed. Let all of us be sacrificed for Your cause and when we meet our enemy, make our feet firm and bestow peace and calmness on us and if they (our enemy) will call us …
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے، ان سے برید ابن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ خیبر میں گئے اور ہم نے رات میں سفر کیا، اتنے میں مسلمانوں کے آدمی نے عامر بن اکوع رضی للہ عنہ سے کہا کہ اپنے کچھ شعر اشعار سناؤ۔ راوی نے بیان کیا کہ عامر شاعر تھے۔ وہ لوگوں کو اپنی حدی سنانے لگے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ دے سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے۔ ہم تجھ پر فدا ہوں، ہم نے جو کچھ پہلے گناہ کئے ان کو تو معاف کر دے اور جب ( دشمن سے ) ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہم پر سکون نازل فرما۔ جب ہمیں جنگ کے لیے بلایا جاتا ہے، تو ہم موجود ہو جاتے ہیں اور دشمن نے بھی پکار کر ہم سے نجات چاہی …
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ. قَالَ عَلَى الْمَوْتِ.
Narrated Yazid bin Abi Ubaid:I said to Salama bin Al-Akwa`, "For what did you give the Pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) on the day of Al-Hudaibiya?" He replied, "For death (in the Cause of Islam)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا کہ میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ موت پر۔
It has been narrated on the authority of Ma'qil b. Yasar who aaid:I remember being present on the Day of the Tree, and the Prophet (ﷺ) was taking the oath of the people and I was holding a twig of the tree over his head. We were fourteen hundred (in number). We did not take oath to the death, but to the effect that we would not run away from the battlefield
خالد ( حذاء ) نے حکم بن عبداللہ بن اعرج سے ، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے بیعت رضوان کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے اور میں نے اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو آپ کے سر انور سے اوپر اٹھا رکھا تھا ، ہم اس وقت چودہ سو تھے ۔ انہوں نے کہا : ہم نے ( اس موقع پر ) آپ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی ، ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے
PickthallAnd may punish the hypocritical men and the hypocritical women, and the idolatrous men and the idolatrous women, who think an evil thought concerning Allah. For them is the evil turn of fortune, and Allah is wroth against them and hath cursed them, and hath made ready for them hell, a hapless journey's end.
Yusuf AliAnd that He may punish the Hypocrites, men and women, and the Polytheists men and women, who imagine an evil opinion of Allah. On them is a round of Evil: the Wrath of Allah is on them: He has cursed them and got Hell ready for them: and evil is it for a destination.
The agreed readingAnd so that He may punish the hypocritical men and women and those men and women who set up partners with God, who think an evil thought about God. On them is the turn of evil; God is angry with them and has cursed them and prepared Hell for them - an evil journey's end.
Urduاور یہ بھی تاکہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں کو، اور مشرک مردوں اور عورتوں کو عذاب دے، جو اللہ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں کہ رسول اور مسلمان شکست کھا جائیں گے۔ ان پر برائی کا پھیرا پڑے گا، اور اللہ ان پر ناراض ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔
Arabicوليعذب أيضا المنافقين والمنافقات، والمشركين والمشركات، الذين يظنون بالله ظن السوء، ويحسبون أن الرسول وأصحابه سيُهزمون ويُقتلون ويزول الإسلام، عليهم تحيط بهم دائرة السوء وتنقلب عليهم، وغضب الله عليهم ولعنهم وأبعدهم عن رحمته، وأعد لهم جهنم، وبئس المصير الذي يصيرون إليه.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Yazid bin Abi 'Ubaid: "I said to Salamah bin Al-Akwa': "For what did you pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Al-Hudaibiyyah?" He said: "For death." This Hadith is Hasan Sahih
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا: حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:“Allah said: ‘I have prepared for My righteous worshippers, what no eye has seen, nor ear has hear, and no human heart has conceived.’ So recite if you wish: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes as a reward for what they used to do. And in Paradise there is a tree under whose shade a rider can travel for one hundred years without stopping. Recite if you wish: And in shade extended. And the space occupied by a whip in Paradise is better than the world and whatever is in it. Recite if you wish: And whoever is removed away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful. The life of this …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کی ہیں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہے، تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھ کی ٹھنڈک کے طور پر جو چیز تیار کی گئی ہے اسے کوئی بھی نہیں جانتا“ ( السجدۃ: ۱۷ ) ، جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کی ( گھنی ) چھاؤں میں سوار سو برس تک بھی چلتا چلا جائے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، تم چاہو تو آیت کا یہ ٹکڑا «وظل ممدود» ”پھیلا ہوا لمبا لمبا سایہ“ ( الواقعہ: ۳۰ ) ، پڑھ لو، جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ برابر …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ بَايَعْتُمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ .
It was narrated that Yazid bin Abi 'Ubaid said:"I said to Salamah bin Al-Akwa': 'What pledge did you make to the Prophet on the Day of Al-Hudaibiyyah?' He said: 'For death
ہمیں خبر دی قتيبة نے۔ کہا: ہمیں حدیث سنائی حاتم بن إسماعيل نے يزيد بن أبي عبيد سے۔ کہا: میں نے سلمة بن الأكوع سے کہا: تم نے النبي صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ يوم الحديبية میں کس چیز پر بايعتم؟ سلمہ نے کہا: الموت کے لیے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Salama bin Al-Aqwa:We went out with Allah's Messenger (ﷺ) to Khaibar and we travelled during the night. A man amongst the people said to 'Amir bin Al-Aqwa', "Won't you let us hear your poetry?" 'Amir was a poet, and so he got down and started (chanting Huda) reciting for the people, poetry that keep pace with the camel's foot steps, saying, "O Allah! Without You we would not have been guided on the right path, neither would we have given in charity, nor would we have prayed. So please forgive us what we have committed. Let all of us be sacrificed for Your cause and when we meet our enemy, make our feet firm and bestow peace and calmness on us and if they (our enemy) will call us …
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے، ان سے برید ابن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ خیبر میں گئے اور ہم نے رات میں سفر کیا، اتنے میں مسلمانوں کے آدمی نے عامر بن اکوع رضی للہ عنہ سے کہا کہ اپنے کچھ شعر اشعار سناؤ۔ راوی نے بیان کیا کہ عامر شاعر تھے۔ وہ لوگوں کو اپنی حدی سنانے لگے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ دے سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے۔ ہم تجھ پر فدا ہوں، ہم نے جو کچھ پہلے گناہ کئے ان کو تو معاف کر دے اور جب ( دشمن سے ) ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہم پر سکون نازل فرما۔ جب ہمیں جنگ کے لیے بلایا جاتا ہے، تو ہم موجود ہو جاتے ہیں اور دشمن نے بھی پکار کر ہم سے نجات چاہی …
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ. قَالَ عَلَى الْمَوْتِ.
Narrated Yazid bin Abi Ubaid:I said to Salama bin Al-Akwa`, "For what did you give the Pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) on the day of Al-Hudaibiya?" He replied, "For death (in the Cause of Islam)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا کہ میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ موت پر۔
It has been narrated on the authority of Ma'qil b. Yasar who aaid:I remember being present on the Day of the Tree, and the Prophet (ﷺ) was taking the oath of the people and I was holding a twig of the tree over his head. We were fourteen hundred (in number). We did not take oath to the death, but to the effect that we would not run away from the battlefield
خالد ( حذاء ) نے حکم بن عبداللہ بن اعرج سے ، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے بیعت رضوان کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے اور میں نے اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو آپ کے سر انور سے اوپر اٹھا رکھا تھا ، ہم اس وقت چودہ سو تھے ۔ انہوں نے کہا : ہم نے ( اس موقع پر ) آپ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی ، ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے
PickthallAllah's are the hosts of the heavens and the earth, and Allah is ever Mighty, Wise.
Yusuf AliFor to Allah belong the Forces of the heavens and the earth; and Allah is Exalted in Power, Full of Wisdom.
The agreed readingAnd to God belong the hosts of the heavens and the earth, and God is Mighty, Wise in all He does.
Urduاور آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اللہ ہی کے ہیں، اور اللہ ان کا بار بار ذکر اس لیے کرتا ہے تاکہ بندے جان لیں کہ عزت دینے والا اور ذلیل کرنے والا وہی ہے، اور اللہ زبردست ہے، اپنی ہر تدبیر میں حکمت والا ہے۔
Arabicولله وحده جنود السموات والأرض جميعا، وكرر الله ذكر ذلك ليعلم العباد أنه هو المعز لمن يشاء والمذل لمن يشاء، وكان الله عزيزا لا يُغلب، حكيما في كل تدبيره وتقديره.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 6 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة7 reports cited here — 6 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn ‘Isa from Ali ibn al-Hakam from al-Husayn ibn abu al-‘Ala’ from abu ‘Abd Allah recipient of divine supreme covenant who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, has not sent any prophet who would not be truthful in their words and trustworthy in returning the trust without discriminating between virtuous or otherwise people.”
1۔ محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے روایت کی، انہوں نے علی بن الحکم سے، انہوں نے حسین بن ابی العلاء سے، انہوں نے ابواعبداللہ علیہ السلام سے کہا: بیشک اللہ عز و جل نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر سچی بات اور امانت کی ادائیگی کے ساتھ - نیک اور برے دونوں کو برابری کے ساتھ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Yazid bin Abi 'Ubaid: "I said to Salamah bin Al-Akwa': "For what did you pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Al-Hudaibiyyah?" He said: "For death." This Hadith is Hasan Sahih
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا: حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:“Allah said: ‘I have prepared for My righteous worshippers, what no eye has seen, nor ear has hear, and no human heart has conceived.’ So recite if you wish: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes as a reward for what they used to do. And in Paradise there is a tree under whose shade a rider can travel for one hundred years without stopping. Recite if you wish: And in shade extended. And the space occupied by a whip in Paradise is better than the world and whatever is in it. Recite if you wish: And whoever is removed away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful. The life of this …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کی ہیں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہے، تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھ کی ٹھنڈک کے طور پر جو چیز تیار کی گئی ہے اسے کوئی بھی نہیں جانتا“ ( السجدۃ: ۱۷ ) ، جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کی ( گھنی ) چھاؤں میں سوار سو برس تک بھی چلتا چلا جائے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، تم چاہو تو آیت کا یہ ٹکڑا «وظل ممدود» ”پھیلا ہوا لمبا لمبا سایہ“ ( الواقعہ: ۳۰ ) ، پڑھ لو، جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ برابر …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2731، 2732)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2731، 2732)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2731، 2732)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشَرَةَ مِائَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْىَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ فَقَالَ النَّاسُ حَلْ حَلْ خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ . مَرَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا خَلأَتْ وَمَا ذَلِكَ لَهَا بِخُلُقٍ …
Al Miswar bin Makhramah said :The Messenger of Allah (ﷺ) came out in the year of al-Hudaibbiyyah with over ten hundreds of Companions and when he came to Dhu al Hulaifah. He garlanded and marked the sacrificial animals, and entered the sacred state of Umrah. He then went on with the tradition. The Prophet moved on and when he came to the mountain, pass by which one descends (to Mecca) to them, his riding-beast knelt down, and the people said twice: Go on, go on, al-Qaswa has become jaded. The Prophet (May peace be upon him) said: She has not become jaded and that is not a characteristic of hers, but He Who restrained the elephant has restrained her. He then said: By Him in Whose hand my …
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ہمراہ نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کو قلادہ پہنایا، اور اشعار کیا، اور عمرہ کا احرام باندھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے یہاں تک کہ جب ثنیہ میں جہاں سے مکہ میں اترتے ہیں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی، لوگوں نے کہا: حل حل ۱؎ قصواء اڑ گئی، قصواء اڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصواء اڑی نہیں اور نہ ہی اس کو اڑنے کی عادت ہے، لیکن اس کو ہاتھی کے روکنے والے نے روک دیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو چیز بھی …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ فَأَتَاهُ - يَعْنِي عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ - فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ وَقَالَ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ . فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ .
Al-Miswar b. Makhramah said :The prophet (ﷺ) went out during the time of (treaty of) al-Hudaibiyyah. He then mentioned the rest of the tradition. He said : ‘Urwah b. Mas’ud then came to him and began to speak to the Prophet (ﷺ). Whenever he talk to him, he caught his beard ; and al-Mughirah b. Shu’bah was standing near the head of the Prophet (ﷺ) with a sword with him and a helmet on him. He then struck his hand with the handle of the sword, saying : Keep away your hand from his beard. ‘Urwah then raised his head and said : Who is this ? The prophet said : Al-Mughirah b. Shu’bah
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں نکلے، پھر راوی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس وہ یعنی عروہ بن مسعود آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا، جب وہ آپ سے بات کرتا، تو آپ کی ڈاڑھی پر ہاتھ لگاتا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے، ان کے پاس تلوار تھی اور سر پر خود، انہوں نے تلوار کے پر تلے کے نچلے حصہ سے اس کے ہاتھ پر مارا اور کہا: اپنا ہاتھ ان کی ڈاڑھی سے دور رکھ، عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ بَايَعْتُمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ .
It was narrated that Yazid bin Abi 'Ubaid said:"I said to Salamah bin Al-Akwa': 'What pledge did you make to the Prophet on the Day of Al-Hudaibiyyah?' He said: 'For death
ہمیں خبر دی قتيبة نے۔ کہا: ہمیں حدیث سنائی حاتم بن إسماعيل نے يزيد بن أبي عبيد سے۔ کہا: میں نے سلمة بن الأكوع سے کہا: تم نے النبي صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ يوم الحديبية میں کس چیز پر بايعتم؟ سلمہ نے کہا: الموت کے لیے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that Al-Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al-Hakam said:"The Messenger of Allah went out during the time of Al-Hudabiyah with between one-thousand and three-hundred, and one-thousand and five-hundred of his Companions. Then, when they were in Dhul-Hulaifah, he garlanded and marked the Hadi and began the Talbiyah for 'Umrah (Abridged)
محمد بن عبد الأعلی نے خبر دی، کہا: محمد بن ثور نے ہمیں حديث سنائی، معمر سے، الزهری سے، عروة سے، المسور بن مخرمہ سے۔ انہوں نے کہا: رسول الله صلی الله علیہ وسلم نکلے۔ اور یعقوب بن ابراہيم نے ہمیں خبر دی، کہا: یحیی بن سعید نے ہمیں حديث سنائی، کہا: عبد الله بن المبارك نے ہمیں حديث سنائی، کہا: معمر نے الزهری سے حديث سنائی، عروة سے، المسور بن مخرمہ اور مروان بن الحكم سے۔ انہوں نے کہا: رسول الله صلی الله علیہ وسلم زمن الحديبيہ میں بضع عشرہ مائہ اپنے اصحاب میں سے نکلے، یہاں تک کہ جب وہ ذی الحليفہ پہنچے تو الهدی کو قلد کیا اور اشعر کیا اور عمرہ کے لیے احرام باندھا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallLo! We have sent thee (O Muhammad) as a witness and a bearer of good tidings and a warner,
Yusuf AliWe have truly sent thee as a witness, as a bringer of Glad Tidings, and as a Warner:
The agreed readingGod has sent you as a witness over your community, and as a bearer of good news, and as a warner,
Urduبےشک ہم نے تمہیں تمہاری امت پر گواہ بنا کر بھیجا ہے، تاکہ تم ان کے اعمال کی گواہی دو، اور ایمان لانے والوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور نافرمانوں کے لیے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
Arabicإنا أرسلناك أيها الرسول الكريم شاهدا على أمتك بما بلغتهم إياه من الحق وبأعمالهم من طاعة أو معصية، ومبشرا للمؤمنين المطيعين برضوان الله والجنة، ونذيرا محذرا للكافرين والعاصين بالعذاب الأليم.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It has been narrated on the authority of Ma'qil b. Yasar who aaid:I remember being present on the Day of the Tree, and the Prophet (ﷺ) was taking the oath of the people and I was holding a twig of the tree over his head. We were fourteen hundred (in number). We did not take oath to the death, but to the effect that we would not run away from the battlefield
خالد ( حذاء ) نے حکم بن عبداللہ بن اعرج سے ، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے بیعت رضوان کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے اور میں نے اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو آپ کے سر انور سے اوپر اٹھا رکھا تھا ، ہم اس وقت چودہ سو تھے ۔ انہوں نے کہا : ہم نے ( اس موقع پر ) آپ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی ، ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ " . قَالَ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَكُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلاَّ صَاحِبَ الْجَمَلِ الأَحْمَرِ " . فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا لَهُ تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ وَاللَّهِ لأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ …
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:He who climbed this hill, the hill of Murar, his sins would be obliterated as were obliterated the sins of Bani Isra'il. So the first to take their horses were the people of Banu Khazraj. Then there was a ceaseless flow of persons and Allah's Messenger (ﷺ) said to them: All of you are those who have been pardoned except the owner of a red camel. We came to him and said to him: You also come on, so that Allah's Messenger (ﷺ) may seek forgiveness for you. But he said: By Allah, so far as I am concerned, the finding of something lost is dearer to me than seeking of forgiveness for me by your companion (the Holy Prophet), and he …
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں قروہ بن خالد نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کون ہے جو اس گھاٹی ( یعنی ) مرار کی گھاٹی پرچڑھے گا!بے شک اس کے گناہ بھی اسی طرح جھڑ جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ جھڑ گئے تھے ۔ "" ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو سب سے پہلے جو اس گھاٹی پر چڑھے وہ ہمارے بنو خزرج کے گھوڑ ے تھے ، پھر لوگوں کا تانتابندھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم سب وہ ہو جن کے گناہ بخش دیئے گئے ، سوائے سرخ اونٹ والے شخص کے ۔ "" ہم اس کے پاس آئے اور ( اس سے ) کہا : آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے بھی استغفار فرمائیں ۔ اس نے کہا : اللہ کی …
Ibrahim reported that the Messenger of Allah (ﷺ) asked 'Abdullah b. Mas'ud to recite to him (the Qur'an). He said:Should I recite it to you while it has been sent down or revealed to you? He (the Holy Prophet) said: I love to hear it from someone else. So he ('Abdullah b. Mas'ud) recited to him (from the beginning of Surat al Nisa' up to the verse:" How shall then it be when We bring from every people a witness and bring you as a witness against them?" He (the Holy Prophet) wept (on listening to it). It is narrated on the authority of Ibn Mas'ud through another chain of transmitters that the Messenger of Allah (ﷺ) also said that he had been a witness to his people as long as (said he): I …
مسعر نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : "" مجھے قرآن مجید سناؤ ۔ "" انھوں نے کہا : کیا میں آپ کو سناؤں جبکہ ( قرآن ) اترا ہی آپ پر ہے؟آپ نے فرمایا : "" مجھے اچھا لگتاہے کہ میں اسے کسی دوسرے سے سنوں ۔ "" ( ابراہیم ) نے کہا : انھوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء ابتداء سے اس آیت تک سنائی : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا "" اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ "" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس آیت پر ) رو پڑے ۔ مسعر نے ایک دوسری سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ …
It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said:We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah (ﷺ) and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah (ﷺ) called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, …
حدثنا ابوبکر بن ابی شیبہ، ہاشم بن القاسم، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر العقدی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی، ابوعلی الحنفی، عبیداللہ بن عبدالمجید نے عکرمہ بن عمار سے حدیث روایت کی، جنہوں نے ایاس بن سلمہ سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ حدیبیہ پہنچے اور ہم چودہ سو تھے۔ ان کے لیے پچاس بکریاں تھیں جو ان کو سیراب نہ کر سکتی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کنویں کے کنارے بیٹھے، اور یا تو دعا کی یا اس میں تھوک دیا۔ تو پانی جاری ہو گیا۔ ہم نے پیا اور سیراب کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ہمیں بیعت کے لیے بلایا اور وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ میں سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا۔ پھر لوگوں نے بیعت کی۔ جب آدھے لوگ بیعت کر چکے تو انہوں نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Yazid bin Abi 'Ubaid: "I said to Salamah bin Al-Akwa': "For what did you pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Al-Hudaibiyyah?" He said: "For death." This Hadith is Hasan Sahih
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا: حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ibn Abbas narrated that:The Messenger of Allah said about the (Black) Stone: "By Allah! Allah will raise it on the Day of Resurrection with two eyes by which it sees and a tongue that it speaks with, testifying to whoever touched it in truth
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جس سے یہ دیکھے گا، ایک زبان ہو گی جس سے یہ بولے گا۔ اور یہ اس شخص کے ایمان کی گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ ( یعنی ایمان اور اجر کی نیت سے ) اس کا استلام کیا ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَتَاهُ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِي فَقَالَ " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .
Abdullah bin Abu Awfa said:“Whenever a man brought Sadaqah to the Messenger of Allah, he would bless him. I brought him the Sadaqah of my wealth and he said: 'Allhumma, salli ala ali abi awfa(O Allah! Send blessing upon the family of Abu Awfa).' ”
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی اپنے مال کی زکاۃ لاتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، میں بھی آپ کے پاس اپنے مال کی زکاۃ لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم صل على آل أبي أوفى» اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما ۱؎۔
PickthallThat ye (mankind) may believe in Allah and His messenger, and may honour Him, and may revere Him, and may glorify Him at early dawn and at the close of day.
Yusuf AliIn order that ye (O men) may believe in Allah and His Messenger, that ye may assist and honour Him, and celebrate His praise morning and evening.
The agreed readingso that you may believe in God and His messenger, and support him and honour him, and glorify God morning and evening.
Urduتاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور رسول کی مدد اور تقویت کرو، اور اس کی عزت اور توقیر کرو، اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔
Arabicأرسلناك أيها الرسول شاهدا ومبشرا ونذيرا لتؤمنوا بالله وبرسوله إيمانا كاملا، وتقووه وتنصروه في دينه، وتعظموه وتوقروه حق التوقير، وتسبحوا الله وتنزهوه عما لا يليق به سبحانه في أول النهار وآخره.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It has been narrated on the authority of Ma'qil b. Yasar who aaid:I remember being present on the Day of the Tree, and the Prophet (ﷺ) was taking the oath of the people and I was holding a twig of the tree over his head. We were fourteen hundred (in number). We did not take oath to the death, but to the effect that we would not run away from the battlefield
خالد ( حذاء ) نے حکم بن عبداللہ بن اعرج سے ، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے بیعت رضوان کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے اور میں نے اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو آپ کے سر انور سے اوپر اٹھا رکھا تھا ، ہم اس وقت چودہ سو تھے ۔ انہوں نے کہا : ہم نے ( اس موقع پر ) آپ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی ، ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ " . قَالَ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَكُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلاَّ صَاحِبَ الْجَمَلِ الأَحْمَرِ " . فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا لَهُ تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ وَاللَّهِ لأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ …
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:He who climbed this hill, the hill of Murar, his sins would be obliterated as were obliterated the sins of Bani Isra'il. So the first to take their horses were the people of Banu Khazraj. Then there was a ceaseless flow of persons and Allah's Messenger (ﷺ) said to them: All of you are those who have been pardoned except the owner of a red camel. We came to him and said to him: You also come on, so that Allah's Messenger (ﷺ) may seek forgiveness for you. But he said: By Allah, so far as I am concerned, the finding of something lost is dearer to me than seeking of forgiveness for me by your companion (the Holy Prophet), and he …
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں قروہ بن خالد نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کون ہے جو اس گھاٹی ( یعنی ) مرار کی گھاٹی پرچڑھے گا!بے شک اس کے گناہ بھی اسی طرح جھڑ جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ جھڑ گئے تھے ۔ "" ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو سب سے پہلے جو اس گھاٹی پر چڑھے وہ ہمارے بنو خزرج کے گھوڑ ے تھے ، پھر لوگوں کا تانتابندھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم سب وہ ہو جن کے گناہ بخش دیئے گئے ، سوائے سرخ اونٹ والے شخص کے ۔ "" ہم اس کے پاس آئے اور ( اس سے ) کہا : آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے بھی استغفار فرمائیں ۔ اس نے کہا : اللہ کی …
It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said:We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah (ﷺ) and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah (ﷺ) called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, …
حدثنا ابوبکر بن ابی شیبہ، ہاشم بن القاسم، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر العقدی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی، ابوعلی الحنفی، عبیداللہ بن عبدالمجید نے عکرمہ بن عمار سے حدیث روایت کی، جنہوں نے ایاس بن سلمہ سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ حدیبیہ پہنچے اور ہم چودہ سو تھے۔ ان کے لیے پچاس بکریاں تھیں جو ان کو سیراب نہ کر سکتی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کنویں کے کنارے بیٹھے، اور یا تو دعا کی یا اس میں تھوک دیا۔ تو پانی جاری ہو گیا۔ ہم نے پیا اور سیراب کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ہمیں بیعت کے لیے بلایا اور وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ میں سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا۔ پھر لوگوں نے بیعت کی۔ جب آدھے لوگ بیعت کر چکے تو انہوں نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Yazid bin Abi 'Ubaid: "I said to Salamah bin Al-Akwa': "For what did you pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Al-Hudaibiyyah?" He said: "For death." This Hadith is Hasan Sahih
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا: حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ibn Abbas narrated that:The Messenger of Allah said about the (Black) Stone: "By Allah! Allah will raise it on the Day of Resurrection with two eyes by which it sees and a tongue that it speaks with, testifying to whoever touched it in truth
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جس سے یہ دیکھے گا، ایک زبان ہو گی جس سے یہ بولے گا۔ اور یہ اس شخص کے ایمان کی گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ ( یعنی ایمان اور اجر کی نیت سے ) اس کا استلام کیا ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَتَاهُ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِي فَقَالَ " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .
Abdullah bin Abu Awfa said:“Whenever a man brought Sadaqah to the Messenger of Allah, he would bless him. I brought him the Sadaqah of my wealth and he said: 'Allhumma, salli ala ali abi awfa(O Allah! Send blessing upon the family of Abu Awfa).' ”
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی اپنے مال کی زکاۃ لاتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، میں بھی آپ کے پاس اپنے مال کی زکاۃ لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم صل على آل أبي أوفى» اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما ۱؎۔
Al Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al Hakam said “They agreed to abandon war for ten years during which the people which have security on the basis that there should be sincerity between them and that there should be not theft or treachery
عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے اس بات پر صلح کی کہ دس برس تک لڑائی بند رہے گی، اس مدت میں لوگ امن سے رہیں گے، طرفین کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف رہیں گے ۱؎ اور نہ اعلانیہ لوٹ مار ہو گی نہ چوری چھپے ۲؎۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدًا، لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَشْكُو حَاطِبًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَذَبْتَ لاَ يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Abu Az-Zubair:from Jabir, that a slave of Hatib [bin Abi Balt'ah] came to the Messenger of Allah (ﷺ) complaining about Hatib. So he said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! Hatib is going to enter the Fire!' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'You have lied! No one who participated in (the battle of) Badr and (the treaty of) Al-Hudaybiyah shall enter it
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کا ایک غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر حاطب کی شکایت کرنے لگا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے غلط کہا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ دونوں میں موجود رہے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
PickthallLo! those who swear allegiance unto thee (Muhammad), swear allegiance only unto Allah. The Hand of Allah is above their hands. So whosoever breaketh his oath, breaketh it only to his soul's hurt; while whosoever keepeth his covenant with Allah, on him will He bestow immense reward.
Yusuf AliVerily those who plight their fealty to thee do no less than plight their fealty to Allah: the Hand of Allah is over their hands: then any one who violates his oath, does so to the harm of his own soul, and any one who fulfils what he has covenanted with Allah,- Allah will soon grant him a great Reward.
The agreed readingThose who pledge allegiance to you pledge allegiance to God; God's hand is above their hands. So whoever breaks his oath breaks it against himself; and whoever keeps what he has pledged to God, God will give him a great reward.
Urduبےشک جو لوگ حدیبیہ کے موقع پر تم سے بیعت کرتے ہیں، وہ دراصل اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، یہ وہی بیعتِ رضوان ہے جس میں انہوں نے وعدہ کیا کہ میدان سے نہیں بھاگیں گے، اللہ کا ہاتھ اس بیعت میں ان کے ہاتھوں سے اوپر ہے۔ تو جو اس عہد کو توڑے، وہ خود اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اور جو اس عہد کو پورا کرے جو اس نے اللہ سے کیا تھا، تو اللہ اسے بہت بڑا اجر دے گا۔
Arabicإن الذين يبايعونك يا محمد على الحديبية إنما تكون بيعتهم في الحقيقة بيعة لله، وهي بيعة الرضوان التي بايعوك فيها على ألا يفروا، يد الله فوق أيديهم في هذه البيعة تأكيدا لعظمها، فمن نقض عهده فإنما يعود ضرر نقضه على نفسه هو، ومن أوفى بما عاهد الله عليه فسيعطيه الله أجرا عظيما.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
6. Muhammad ibn Yahya has narrated from Muhammad ibn al-Husayn from Muhammad ibn Isma‘il ibn Bazi‘a from his uncle, Hamza ibn Bazi‘a from abu ‘Abdallah (a.s.) who has said the following about the words of Allah. “When they invoked Our anger, (43:54). We took revenge on them . .” (43:55). “Allah, the Most Holy, the Most High, does not become frustrated the way we do. But He has created friends for his-Own-self who become frustrated and at times happy. They are created. They worship (Allah). He has designed their happiness to be His Own happiness and their anger as His-Own anger. It is because He has assigned them to guide people to Him and serve as proof of His existence. For this reason …
6ـ محمد بن يحيى نے محمد بن الحسين سے روایت کی، محمد بن إسماعيل بن بزيع سے، اس کے چچا حمزة بن بزيع سے، ابو عبد اللہ (عليہ السلام) سے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں: 'جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا' - انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کسی اور طرح غصہ میں نہیں آتا جیسے ہم آتے ہیں۔ لیکن اللہ نے اپنے لیے دوست بنائے ہیں جو غصہ آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ وہ مخلوق ہیں، پرورش شدہ ہیں۔ اللہ نے ان کی خوشی کو اپنی خوشی بنایا ہے اور ان کے غصے کو اپنا غصہ بنایا ہے۔ کیونکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف بلانے کا اور اس کا ثبوت بننے کا کام دیا ہے۔ اسی لیے وہ ایسے ہیں۔ لیکن یہ اللہ تک اسی طرح نہیں پہنچتا جیسے مخلوق تک پہنچتا ہے۔ یہ تو جو میں نے کہا وہ معنی ہے۔ اللہ نے کہا: 'جو میرے دوست کو ذلیل …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said:We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah (ﷺ) and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah (ﷺ) called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, …
حدثنا ابوبکر بن ابی شیبہ، ہاشم بن القاسم، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر العقدی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی، ابوعلی الحنفی، عبیداللہ بن عبدالمجید نے عکرمہ بن عمار سے حدیث روایت کی، جنہوں نے ایاس بن سلمہ سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ حدیبیہ پہنچے اور ہم چودہ سو تھے۔ ان کے لیے پچاس بکریاں تھیں جو ان کو سیراب نہ کر سکتی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کنویں کے کنارے بیٹھے، اور یا تو دعا کی یا اس میں تھوک دیا۔ تو پانی جاری ہو گیا۔ ہم نے پیا اور سیراب کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ہمیں بیعت کے لیے بلایا اور وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ میں سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا۔ پھر لوگوں نے بیعت کی۔ جب آدھے لوگ بیعت کر چکے تو انہوں نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It has been narrated on the authority of Ma'qil b. Yasar who aaid:I remember being present on the Day of the Tree, and the Prophet (ﷺ) was taking the oath of the people and I was holding a twig of the tree over his head. We were fourteen hundred (in number). We did not take oath to the death, but to the effect that we would not run away from the battlefield
خالد ( حذاء ) نے حکم بن عبداللہ بن اعرج سے ، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے بیعت رضوان کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے اور میں نے اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو آپ کے سر انور سے اوپر اٹھا رکھا تھا ، ہم اس وقت چودہ سو تھے ۔ انہوں نے کہا : ہم نے ( اس موقع پر ) آپ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی ، ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ " . قَالَ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَكُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلاَّ صَاحِبَ الْجَمَلِ الأَحْمَرِ " . فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا لَهُ تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ وَاللَّهِ لأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ …
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:He who climbed this hill, the hill of Murar, his sins would be obliterated as were obliterated the sins of Bani Isra'il. So the first to take their horses were the people of Banu Khazraj. Then there was a ceaseless flow of persons and Allah's Messenger (ﷺ) said to them: All of you are those who have been pardoned except the owner of a red camel. We came to him and said to him: You also come on, so that Allah's Messenger (ﷺ) may seek forgiveness for you. But he said: By Allah, so far as I am concerned, the finding of something lost is dearer to me than seeking of forgiveness for me by your companion (the Holy Prophet), and he …
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں قروہ بن خالد نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کون ہے جو اس گھاٹی ( یعنی ) مرار کی گھاٹی پرچڑھے گا!بے شک اس کے گناہ بھی اسی طرح جھڑ جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ جھڑ گئے تھے ۔ "" ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو سب سے پہلے جو اس گھاٹی پر چڑھے وہ ہمارے بنو خزرج کے گھوڑ ے تھے ، پھر لوگوں کا تانتابندھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم سب وہ ہو جن کے گناہ بخش دیئے گئے ، سوائے سرخ اونٹ والے شخص کے ۔ "" ہم اس کے پاس آئے اور ( اس سے ) کہا : آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے بھی استغفار فرمائیں ۔ اس نے کہا : اللہ کی …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Yazid bin Abi 'Ubaid: "I said to Salamah bin Al-Akwa': "For what did you pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Al-Hudaibiyyah?" He said: "For death." This Hadith is Hasan Sahih
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا: حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ibn Abbas narrated that:The Messenger of Allah said about the (Black) Stone: "By Allah! Allah will raise it on the Day of Resurrection with two eyes by which it sees and a tongue that it speaks with, testifying to whoever touched it in truth
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جس سے یہ دیکھے گا، ایک زبان ہو گی جس سے یہ بولے گا۔ اور یہ اس شخص کے ایمان کی گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ ( یعنی ایمان اور اجر کی نیت سے ) اس کا استلام کیا ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَتَاهُ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِي فَقَالَ " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .
Abdullah bin Abu Awfa said:“Whenever a man brought Sadaqah to the Messenger of Allah, he would bless him. I brought him the Sadaqah of my wealth and he said: 'Allhumma, salli ala ali abi awfa(O Allah! Send blessing upon the family of Abu Awfa).' ”
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی اپنے مال کی زکاۃ لاتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، میں بھی آپ کے پاس اپنے مال کی زکاۃ لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم صل على آل أبي أوفى» اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما ۱؎۔
Al Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al Hakam said “They agreed to abandon war for ten years during which the people which have security on the basis that there should be sincerity between them and that there should be not theft or treachery
عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے اس بات پر صلح کی کہ دس برس تک لڑائی بند رہے گی، اس مدت میں لوگ امن سے رہیں گے، طرفین کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف رہیں گے ۱؎ اور نہ اعلانیہ لوٹ مار ہو گی نہ چوری چھپے ۲؎۔
PickthallThose of the wandering Arabs who were left behind will tell thee: Our possessions and our households occupied us, so ask forgiveness for us! They speak with their tongues that which is not in their hearts. Say: Who can avail you aught against Allah, if He intend you hurt or intend you profit? Nay, but Allah is ever Aware of what ye do.
Yusuf AliThe desert Arabs who lagged behind will say to thee: "We were engaged in (looking after) our flocks and herds, and our families: do thou then ask forgiveness for us." They say with their tongues what is not in their hearts. Say: "Who then has any power at all (to intervene) on your behalf with Allah, if His Will is to give you some loss or to give you some profit? But Allah is well acquainted with all that ye do.
The agreed readingThose of the desert Arabs who stayed behind will say to you: our property and our households kept us busy, so ask forgiveness for us. They say with their tongues what is not in their hearts. Say: who can do anything for you against God, if He wills you harm or wills you good? God is aware of what you do.
Urduیہ اعراب، یعنی غفار، مزینہ، جہینہ اور اشجع جیسے قبیلوں کے وہ لوگ جو حدیبیہ کے سفر میں تمہارے ساتھ نہ گئے، تم سے کہیں گے: ہمارے مال اور اہل و عیال نے ہمیں مشغول کر رکھا تھا، تو ہمارے لیے بخشش مانگ دیں۔ وہ اپنی زبانوں سے وہ جھوٹا عذر کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں سچ نہیں ہوتا۔ ان سے کہہ دو: اگر اللہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے یا فائدہ پہنچانا چاہے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لیے کچھ کر سکے؟ بلکہ اللہ تمہارے سارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔
Arabicسيقول لك هؤلاء الأعراب الذين تخلفوا عن الخروج معك إلى الحديبية، وهم من قبائل غفار ومزينة وجهينة وأشجع وأسلم شغلتنا أموالنا وأهلونا عن الخروج معك، فادع الله واستغفر لنا، وهم يقولون بألسنتهم اعتذارا كاذبا ما ليس في قلوبهم من الصدق، قل لهم فمن يملك لكم شيئا من قضاء الله إن أراد بكم ضررا أو أراد بكم نفعا؟ بل كان الله بكل ما تعملونه خبيرا عليما.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik that he had heard that Abu Hurayra used to say, when morning came after it had rained on the people, "We have been rained upon by the rain of Allah's opening," and would then recite the ayat, "Whatever Allah opens to man of His mercy no-one can withhold, and whatever He withholds no-one can send forward after Him. " (Sura 35 ayat)
اور یحیٰ نے مالک کے بارے میں مجھے روایت کی کہ اسے معلوم ہوا کہ ابو ہریرہ جب صبح ہوتی تھی اور لوگوں کو بارش ہوتی تھی تو کہا کرتے تھے: ہم پر نوء الفتح کی بارش ہوئی ہے۔ پھر وہ یہ آیت پڑھتے تھے: جو رحمت اللہ لوگوں کے لیے کھول دے تو اس کو کوئی روک نہیں سکتا، اور جو وہ روک دے تو اس کے بعد کوئی بھیجنے والا نہیں ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallNay, but ye deemed that the messenger and the believers would never return to their own folk, and that was made fairseeming in your hearts, and ye did think an evil thought, and ye were worthless folk.
Yusuf Ali"Nay, ye thought that the Messenger and the Believers would never return to their families; this seemed pleasing in your hearts, and ye conceived an evil thought, for ye are a people lost (in wickedness)."
The agreed readingRather, you thought the Messenger and the believers would never come back to their households, and that was made to look fine in your hearts; you thought an evil thought, and you were a people gone to ruin.
Urduبلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور مومن کبھی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے، کیونکہ تم انہیں تھوڑی سی جماعت سمجھتے تھے جسے دشمن ختم کر دے گا، اور شیطان نے یہ گمان تمہارے دلوں میں خوبصورت بنا کر دکھایا، اور تم نے اللہ کے بارے میں برا گمان کیا، اور تم ایسی قوم تھے جو تباہی اور ہلاکت میں پڑی ہوئی تھی۔
Arabicبل ظننتم أيها المتخلفون أن الرسول والمؤمنين معه لن يرجعوا أبدا إلى أهليهم، لأنكم حسبتموهم قلة يستأصلهم عدوهم، وزين الشيطان هذا الظن في قلوبكم، وظننتم بالله ظنا سيئا، وكنتم قوما هالكين بائرين لا خير فيكم.
PickthallAnd so for him who believeth not in Allah and His messenger - Lo! We have prepared a flame for disbelievers.
Yusuf AliAnd if any believe not in Allah and His Messenger, We have prepared, for those who reject Allah, a Blazing Fire!
The agreed readingAnd whoever does not believe in God and His messenger - God has prepared a blaze for those who refuse.
Urduاور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول پر حقیقی ایمان نہیں لاتا، تو ہم نے ایسے کافروں کے لیے، جن میں یہ منافق بھی شامل ہیں، ایک بھڑکتی ہوئی سخت آگ تیار کر رکھی ہے۔
Arabicومن لم يؤمن ويصدق بالله وحده وبرسوله إيمانا حقيقيا صادقا، فإنا أعتدنا وهيأنا لجميع الكافرين، ومنهم هؤلاء المنافقون الذين كفروا في الحقيقة بنفاقهم وكذبهم، نارا مستعرة شديدة الاشتعال والحرارة.
PickthallAnd Allah's is the Sovereignty of the heavens and the earth. He forgiveth whom He will, and punisheth whom He will. And Allah is ever Forgiving, Merciful.
Yusuf AliTo Allah belongs the dominion of the heavens and the earth: He forgives whom He wills, and He punishes whom He wills: but Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.
The agreed readingAnd to God belongs the dominion of the heavens and the earth. He forgives whom He wills and punishes whom He wills; and God is Forgiving, Merciful.
Urduاور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی صرف اللہ ہی کی ہے، وہ اپنے بندوں سے بےنیاز ہے، اس نے انہیں صرف تکلیف اور آزمائش سے یہ دیکھنے کے لیے پرکھا کہ کون ایمان لاتا اور کون نہیں، وہ جسے چاہے معاف کر دے اور جسے چاہے عذاب دے، اور اللہ اپنے بندوں کے گناہ بخشنے والا اور ان پر مہربان ہے۔
Arabicولله وحده ملك السموات والأرض جميعا، وهو غني عن عباده، إنما ابتلاهم بالتكليف ليثيب من آمن وأطاع ويعاقب من كفر وعصى، يغفر لمن يشاء ممن تاب وأناب، ويعذب من يشاء ممن أصر على كفره، وكان الله غفورا لذنوب عباده، رحيما بهم.
PickthallThose who were left behind will say, when ye set forth to capture booty: Let us go with you. They fain would change the verdict of Allah. Say (unto them, O Muhammad): Ye shall not go with us. Thus hath Allah said beforehand. Then they will say: Ye are envious of us. Nay, but they understand not, save a little.
Yusuf AliThose who lagged behind (will say), when ye (are free to) march and take booty (in war): "Permit us to follow you." They wish to change Allah's decree: Say: "Not thus will ye follow us: Allah has already declared (this) beforehand": then they will say, "But ye are jealous of us." Nay, but little do they understand (such things).
The agreed readingThose who stayed behind will say, when you set out for spoils to take: let us follow you. They want to change God's word. Say: you will not follow us; God said so beforehand. Then they will say: rather, you envy us. No - they understand only a little.
Urduیہ پیچھے رہ جانے والے لوگ، جب تم خیبر کی ان غنیمتوں کی طرف چلو گے جن کا وعدہ اللہ نے خاص طور پر اہلِ حدیبیہ سے کیا تھا، کہیں گے: ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے اس مخصوص وعدے کو بدل دیں۔ ان سے کہہ دو: تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے، اللہ نے پہلے ہی ایسا کہہ دیا ہے۔ تو وہ کہیں گے: بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔ بلکہ یہ لوگ بہت کم سمجھ رکھتے ہیں۔
Arabicسيقول هؤلاء المتخلفون حين تنطلقون إلى غنائم خيبر التي وعد الله بها أهل الحديبية خاصة لتأخذوها اتركونا نتبعكم أيضا، يريدون بذلك أن يبدلوا ويغيروا ما وعد الله به أهل الحديبية وحدهم، قل لهم لن تتبعونا في هذا، كذلكم قال الله من قبل هذا الطلب، فسيقولون بل تحسدوننا على الغنيمة، بل هم قوم لا يفقهون ولا يفهمون إلا فهما قليلا.
PickthallSay unto those of the wandering Arabs who were left behind: Ye will be called against a folk of mighty prowess, to fight them until they surrender; and if ye obey, Allah will give you a fair reward; but if ye turn away as ye did turn away before, He will punish you with a painful doom.
Yusuf AliSay to the desert Arabs who lagged behind: "Ye shall be summoned (to fight) against a people given to vehement war: then shall ye fight, or they shall submit. Then if ye show obedience, Allah will grant you a goodly reward, but if ye turn back as ye did before, He will punish you with a grievous Penalty."
The agreed readingSay to those of the desert Arabs who stayed behind: you will be called against a people of great strength; you will fight them, or they will submit. If you obey, God will give you a good reward; and if you turn away as you turned away before, He will punish you with a painful punishment.
Urduان پیچھے رہ جانے والے اعراب سے کہہ دو: عنقریب تمہیں ایک زور آور اور سخت جنگجو قوم کے خلاف بلایا جائے گا، جیسے ہوازن یا ثقیف یا بنو حنیفہ، تم ان سے لڑو گے یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں یا تم غالب آ جاؤ، تو اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم منہ موڑو گے جیسے پہلے حدیبیہ کے موقع پر منہ موڑا تھا، تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔
Arabicقل لهؤلاء المتخلفين من الأعراب ستدعون قريبا لقتال قوم أشداء أقوياء في الحرب، كهوازن أو ثقيف أو بني حنيفة أو غيرهم من الأمم القوية، تقاتلونهم حتى يُسلموا أو تنتصروا عليهم، فإن أطعتم الله ورسوله في هذه الدعوة أعطاكم الله أجرا حسنا جميلا، وإن أعرضتم وتوليتم كما توليتم وتخلفتم من قبل عن الحديبية، عذبكم الله عذابا مؤلما موجعا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet (ﷺ) said: "When the reciter says Amin, then say: "Amin" too, for the angels say Amin and if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, Allah will forgive his previous sins
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری ( امام ) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2929) Sahih Muslim (2912)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2929) Sahih Muslim (2912)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2929) Sahih Muslim (2912)
Abu hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying:The last hour will not come before you fight with a people whose sandals are of hair, and the Last hour will not come before you fight with a people who have small eyes, short noses, and whose faces look as if they were shields covered with skin
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کی جوتیاں بالوں کی ہوں گی، اور قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناک چپٹی ہوں گی، اور ان کے چہرے اس طرح ہوں گے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں ۔
PickthallThere is no blame for the blind, nor is there blame for the lame, nor is there blame for the sick (that they go not forth to war). And whoso obeyeth Allah and His messenger, He will make him enter Gardens underneath which rivers flow; and whoso turneth back, him will He punish with a painful doom.
Yusuf AliNo blame is there on the blind, nor is there blame on the lame, nor on one ill (if he joins not the war): But he that obeys Allah and his Messenger,- (Allah) will admit him to Gardens beneath which rivers flow; and he who turns back, (Allah) will punish him with a grievous Penalty.
The agreed readingThere is no blame on the blind, nor on the lame, nor on the sick. And whoever obeys God and His messenger, God will bring him into Gardens with rivers running beneath; and whoever turns away, He will punish him with a painful punishment.
Urduجب پچھلی آیت میں پیچھے رہ جانے والوں کو عذاب کی دھمکی دی گئی تو معذور صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول، ہمارا کیا حکم ہے؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے، نہ لنگڑے پر، اور نہ بیمار پر کہ وہ پیچھے رہ جائیں، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور جو منہ موڑے، اسے دردناک عذاب دے گا۔
Arabicلما نزلت الآية السابقة التي تهدد المتخلفين بالعذاب، سأل أصحاب العاهات والأعذار كيف بنا يا رسول الله؟ فنزلت هذه الآية ليس على الأعمى إثم ولا حرج في التخلف، ولا على الأعرج، ولا على المريض، ومن يطع الله ورسوله يدخله جنات تجري من تحتها الأنهار، ومن يعرض ويتول يعذبه عذابا مؤلما موجعا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet (ﷺ) said: "When the reciter says Amin, then say: "Amin" too, for the angels say Amin and if a person's Amin coincides with the Amin of the angels, Allah will forgive his previous sins
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری ( امام ) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2929) Sahih Muslim (2912)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2929) Sahih Muslim (2912)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2929) Sahih Muslim (2912)
Abu hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying:The last hour will not come before you fight with a people whose sandals are of hair, and the Last hour will not come before you fight with a people who have small eyes, short noses, and whose faces look as if they were shields covered with skin
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کی جوتیاں بالوں کی ہوں گی، اور قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناک چپٹی ہوں گی، اور ان کے چہرے اس طرح ہوں گے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں ۔
PickthallAllah was well pleased with the believers when they swore allegiance unto thee beneath the tree, and He knew what was in their hearts, and He sent down peace of reassurance on them, and hath rewarded them with a near victory;
Yusuf AliAllah's Good Pleasure was on the Believers when they swore Fealty to thee under the Tree: He knew what was in their hearts, and He sent down Tranquillity to them; and He rewarded them with a speedy Victory;
The agreed readingGod was well pleased with the believers when they pledged allegiance to you under the tree; He knew what was in their hearts, so He sent down tranquillity upon them and rewarded them with a near victory,
Urduاللہ مومنوں سے راضی ہو گیا، جو تقریباً چودہ سو تھے، جب وہ حدیبیہ کی زمین میں ایک ببول کے درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے، تو اللہ نے ان کے دلوں کے سچے ایمان اور وفا کو جان لیا، اس لیے ان پر سکون اور اطمینان نازل کیا، اور انہیں جلد آنے والی فتح، یعنی خیبر کی فتح، سے نوازا۔
Arabicلقد رضي الله عن المؤمنين، وكانوا نحو ألف وأربعمائة، حين يبايعونك تحت شجرة السمرة في أرض الحديبية، فعلم صدق ما في قلوبهم من الإيمان والوفاء، فأنزل عليهم السكينة والطمأنينة، وكافأهم وأثابهم بفتح قريب سريع، وهو فتح خيبر.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Baghawī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ انْطَلَقْتُ حَاجًّا فَمَرَرْتُ بِقَوْمٍ يُصَلُّونَ قُلْتُ مَا هَذَا الْمَسْجِدُ قَالُوا هَذِهِ الشَّجَرَةُ، حَيْثُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْعَةَ الرُّضْوَانِ. فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَحْتَ الشَّجَرَةِ، قَالَ فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ نَسِينَاهَا، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهَا. فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَعْلَمُوهَا وَعَلِمْتُمُوهَا أَنْتُمْ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ.
Narrated Tariq bin `Abdur-Rahman:When I set out for Hajj, I passed by some people offering a prayer, I asked, "What is this mosque?" They said, "This is the Tree where Allah's Messenger (ﷺ) took the Ar-Ridwan Pledge of allegiance. Then I went to Sa`id bin Musaiyab and informed him about it. Sa`id said, "My father said that he was amongst those who had given the Pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) beneath the Tree. He (i.e. my father) said, "When we set out the following year, we forgot the Tree and were unable to recognize it. "Then Sa`id said (perhaps ironically) "The companions of the Prophet (ﷺ) could not recognize it; nevertheless, you do recognize it; therefore you have a …
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ حج کے ارادے سے جاتے ہوئے میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون سی مسجد ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان لی تھی۔ پھر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور میں نے انہیں اس کی خبر دی ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد مسیب بن حزن نے بیان کیا ‘ وہ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے جب میں دوسرے سال وہاں گیا تو اس درخت کی جگہ کو بھول گیا۔ سعید نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تو اس درخت کو پہچان نہ سکے۔ تم …
It has been narrated on the authority of Abu Zubair who heard Jabir being questioned as to how many people were there on the Day of Hudaibiya. He replied:We were fourteen hundred. We swore fealty to him, and Umar was holding his hand while he was sitting under the tree (to administer the oath). The tree was a samura (a wild tree found in deserts). All of as took the oath of fealty at his hands except Jadd b. Qais al-Ansari who hid himself under the belly of his camel
محمد بن حاتم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حجاج نے ابن جریج سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے پوچھا گیا تھا کہ حدیبیہ کے دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا : ہم چودہ سو تھے ، ہم نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ تھام رکھا تھا ، وہ ببول کا درخت تھا ، ہم سب نے آپ سے بیعت کی سوائے جد بن قیس انصاری کے ، ( اس نے آپ سے بیعت نہیں کی ) وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَتَاهُ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِي فَقَالَ " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .
Abdullah bin Abu Awfa said:“Whenever a man brought Sadaqah to the Messenger of Allah, he would bless him. I brought him the Sadaqah of my wealth and he said: 'Allhumma, salli ala ali abi awfa(O Allah! Send blessing upon the family of Abu Awfa).' ”
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی اپنے مال کی زکاۃ لاتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، میں بھی آپ کے پاس اپنے مال کی زکاۃ لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم صل على آل أبي أوفى» اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما ۱؎۔
Narrated Yahya bin Abi Kathir: From Abu Salamah, from Jabir bin Abdullah about the statement of Allah, most High: Allah was pleased with the believers when they gave the pledge to you under the tree (48:18). that Jabir said: "We pledged to the Messenger of Allah (ﷺ) that we would not flee, and we did not pledge to him for death." [He said:] There are narration on this topic from Salamah bin Al-Akwa', Ibn 'Umar, 'Ubadah, and Jarir bin 'Abdullah. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is been reported from 'Eisa bin Yunus, from Al-Awza'i, from Yahya bin Abi Kathir who said: "Jabir bin 'Abdullah said" and he did not mention Abu Salamah on it
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے آیت کریمہ: «لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة» ”اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے“۔ ( الفتح: ۱۸ ) کے بارے میں روایت ہے، جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرار نہ ہونے کی بیعت کی تھی، ہم نے آپ سے موت کے اوپر بیعت نہیں کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث بسند «عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن جابر بن عبد الله» مروی ہے، اس میں یحییٰ بن ابی کثیر اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے درمیان ابوسلمہ کے واسطے کا ذکر نہیں ہے، ۲- اس باب میں سلمہ بن الاکوع، ابن عمر، عبادہ اور جریر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ " .
Jabir reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:No one of those who took the oath of allegiance under the tree will go to hell
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہو گا، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی صلح حدیبیہ کے وقت بیعت رضوان میں شریک رہے ) ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“(Allah says) O son of Adam! I have given you two things which you do not deserve (except by mercy of Allah (SWT)): I allow you to dispose of a share of your wealth when you are on your deathbed, in order to cleanse and purify you, and my slaves pray for you after your life is over.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! میں نے دو ایسی چیزیں عنایت کیں جن میں سے ایک پر بھی تمہارا حق نہیں تھا، میں جس وقت تمہاری سانس روکوں اس وقت تمہیں مال کے ایک حصہ ( یعنی تہائی مال کے صدقہ کرنے ) کا اختیار دیا، تاکہ اس کے ذریعے سے میں تمہیں پاک کروں اور تمہارا تزکیہ کروں، دوسری چیز تمہارے مرنے کے بعد میرے بندوں کا تم پر نماز ( جنازہ ) پڑھنا ۔
Umm Mubashshir reported that she heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying in presence of Hafsa:God willing, the people of the Tree would never enter the fire of Hell one amongst those who owed allegiance under that. She said: Allah's Messenger, why not? He scolded her. Hafsa said: And there is none amongst you but shall have to pass over that (narrow Bridge). Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Allah, the Exalted and Glorious, has said: We would rescue those persons who are God-conscious and we would leave the tyrants to their fate there (xix)
ابو زبیر نے خبر دی کہا : انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ مجھےام مبشر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں یہ فرما تے ہو ئے سنا ، " ان شاء اللہ اصحاب شجرہ ( درخت والوں ) میں سے کو ئی ایک بھی جس نے اس کے نیچے بیعت کی تھی جہنم میں داخل نہ ہو گا ۔ وہ ( حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کہنے لگیں ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیوں نہیں ! ( داخل تو ہوں گے ۔ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جھڑک دیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آیت پڑھی : " تم میں سے کو ئی نہیں مگر اس پر وارد ہو نے والاہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( اس کے بعد ) اللہ تعا لیٰ نے یہ ( …
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَةٍ قَالَ " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ ". فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى ".
Narrated `Abdullah bin Abi `Aufa:(Who was one of those who had given the Pledge of allegiance to the Prophet (ﷺ) beneath the Tree) When the people brought Sadaqa (i.e. Zakat) to the Prophet (ﷺ) he used to say, "O Allah! Bless them with your Mercy." Once my father came with his Sadaqa to him whereupon he (i.e. the Prophet) said. "O Allah! Bless the family of Abu `Aufa
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی صدقہ لے کر حاضر ہوتا تو آپ دعا کرتے کہ اے اللہ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما۔ چنانچہ میرے والد بھی اپنا صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! آل ابی اوفی رضی اللہ عنہ پر اپنی رحمت نازل فرما۔
It has been narrated on the authority of Jabir who said:We were one thousand and four hundred on the Day of Hudaibiya. We swore fealty to hiin (the Holy Prophet) and 'Umar was holding the latter's hand (when he was sitting) under the tree (called) Samura (to administer the oath to the Companions). The narrator added: We took oath to the effect that we would not flee (from the battlefield if there was an encounter with the Meccans), but we did not take oath to fight to death
لیث نے ابوزبیر سے ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام رکھا تھا ۔ وہ ببول ( کیکر ) کا درخت تھا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم نے اس بات پر آپ سے بیعت کی کہ ہم فرار نہ ہوں گے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر موت کی بیعت نہیں کی
PickthallAnd much booty that they will capture. Allah is ever Mighty, Wise.
Yusuf AliAnd many gains will they acquire (besides): and Allah is Exalted in Power, Full of Wisdom.
The agreed readingand with many spoils that they would go on to take from it. And God is Mighty, Wise.
Urduاور بہت سی دوسری غنیمتیں بھی جو وہ حاصل کریں گے، یعنی خیبر کے مویشی، سازوسامان اور زرخیز باغات، اور اللہ اپنے دشمنوں سے بدلہ لینے میں زبردست، اور ہر معاملے کی تدبیر میں حکمت والا ہے۔
Arabicومغانم كثيرة متنوعة أخرى سيأخذونها ويحصلونها، وهي مغانم خيبر من الأنعام والمتاع والبساتين والحوائط الكثيرة الخصبة، وكان الله عزيزا غالبا في انتقامه من أعدائه، حكيما في تدبيره وتقديره لكل أمر.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ انْطَلَقْتُ حَاجًّا فَمَرَرْتُ بِقَوْمٍ يُصَلُّونَ قُلْتُ مَا هَذَا الْمَسْجِدُ قَالُوا هَذِهِ الشَّجَرَةُ، حَيْثُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْعَةَ الرُّضْوَانِ. فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَحْتَ الشَّجَرَةِ، قَالَ فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ نَسِينَاهَا، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهَا. فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَعْلَمُوهَا وَعَلِمْتُمُوهَا أَنْتُمْ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ.
Narrated Tariq bin `Abdur-Rahman:When I set out for Hajj, I passed by some people offering a prayer, I asked, "What is this mosque?" They said, "This is the Tree where Allah's Messenger (ﷺ) took the Ar-Ridwan Pledge of allegiance. Then I went to Sa`id bin Musaiyab and informed him about it. Sa`id said, "My father said that he was amongst those who had given the Pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) beneath the Tree. He (i.e. my father) said, "When we set out the following year, we forgot the Tree and were unable to recognize it. "Then Sa`id said (perhaps ironically) "The companions of the Prophet (ﷺ) could not recognize it; nevertheless, you do recognize it; therefore you have a …
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ حج کے ارادے سے جاتے ہوئے میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون سی مسجد ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان لی تھی۔ پھر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور میں نے انہیں اس کی خبر دی ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد مسیب بن حزن نے بیان کیا ‘ وہ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے جب میں دوسرے سال وہاں گیا تو اس درخت کی جگہ کو بھول گیا۔ سعید نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تو اس درخت کو پہچان نہ سکے۔ تم …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا الْغَدَاةَ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنِّي لأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " . قَالَهَا …
It was narrated from Anas:"The Messenger of Allah invaded Khaibar and we prayed Al-Ghadah (Fajr) there (early in the morning) when it was still dark. Then the Prophet rode and Abu Talha rode, and I was riding behind Abu Talha. The Prophet of Allah passed through the lane of Khaibar quickly, and my knee was touching the thigh of the Messenger of Allah, and I could see the whiteness of the thigh of the Prophet. When he entered the town he said: 'Allahu Akbar, Khaibar is destroyed! Whenever we approach a (hostile) nation to fight, evil will be the morning for those who have been warned.' He said this three times. The people came out for their work." (One of the narrators) 'Abdul-'Aziz said: …
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کرنے کے ارادے سے نکلے، ہم نے نماز فجر خیبر کے قریب اندھیرے ہی میں پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے تنگ راستے سے گزرنے لگے تو میرا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھونے اور ٹکرانے لگا، ( اور یہ واقعہ میری نظروں میں اس طرح تازہ ہے گویا کہ ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی ( و چمک ) دیکھ رہا ہوں، جب آپ بستی میں داخل ہوئے تو تین بار کہا: «اللہ أكبر خربت خيبر إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين» ”اللہ بہت بڑا ہے، خیبر کی بربادی آئی، جب ہم کسی قوم کی آبادی ( و حدود ) …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَتَاهُ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِي فَقَالَ " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .
Abdullah bin Abu Awfa said:“Whenever a man brought Sadaqah to the Messenger of Allah, he would bless him. I brought him the Sadaqah of my wealth and he said: 'Allhumma, salli ala ali abi awfa(O Allah! Send blessing upon the family of Abu Awfa).' ”
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی اپنے مال کی زکاۃ لاتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، میں بھی آپ کے پاس اپنے مال کی زکاۃ لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم صل على آل أبي أوفى» اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما ۱؎۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ فَخَرَجُوا إِلَيْنَا وَمَعَهُمُ الْمَسَاحِي فَلَمَّا رَأَوْنَا قَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ . وَرَجَعُوا إِلَى الْحِصْنِ يَسْعَوْنَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " . فَأَصَبْنَا فِيهَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ …
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah reached Khaibar in the morning, and they came out to us carrying their shovels. When they saw us they said: 'Muhammad and the army!' And they rushed back inot the fortress. The Messenger of Allah raised his hands, then he said: ' Allahu Akbar, Allahu Akbar, Khaibar is destroyed. Verily, when we descend in field of a people (i.e. near to them), evil will be the morning for those who had been warned! Acquired some donkeys there and we cooked the., Then the caller of the Prophet called out: 'Allah and His Messenger forbid you to eat the flesh of donkeys, for it is an abomination
ہمیں اِطلاع ہوئی کہ انس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر پر صبح پہنچے۔ وہاں والے ہمارے پاس بیلچے لے کر نکلے۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو کہا: محمد اور جیش۔ اور قلعے کی طرف دوڑے۔ رسول اللہ نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتریں تو ڈرائے ہوؤں کی صبح برائی ہوتی ہے۔ ہمیں خیبر میں گدھے ملے اور ہم نے انہیں پکایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے پکارا: اللہ عز و جل اور رسول تمہیں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ یہ ناپاک ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“(Allah says) O son of Adam! I have given you two things which you do not deserve (except by mercy of Allah (SWT)): I allow you to dispose of a share of your wealth when you are on your deathbed, in order to cleanse and purify you, and my slaves pray for you after your life is over.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! میں نے دو ایسی چیزیں عنایت کیں جن میں سے ایک پر بھی تمہارا حق نہیں تھا، میں جس وقت تمہاری سانس روکوں اس وقت تمہیں مال کے ایک حصہ ( یعنی تہائی مال کے صدقہ کرنے ) کا اختیار دیا، تاکہ اس کے ذریعے سے میں تمہیں پاک کروں اور تمہارا تزکیہ کروں، دوسری چیز تمہارے مرنے کے بعد میرے بندوں کا تم پر نماز ( جنازہ ) پڑھنا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُو بِنَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَنْظُرَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ، قَالَ فَخَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلاً، فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا رَكِبَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ فَخَرَجُوا إِلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ فَلَمَّا رَأَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ …
Narrated Humaid:Anas bin Malik said, "Whenever the Prophet (ﷺ) went out with us to fight (in Allah's cause) against any nation, he never allowed us to attack till morning and he would wait and see: if he heard Adhan he would postpone the attack and if he did not hear Adhan he would attack them." Anas added, "We reached Khaibar at night and in the morning when he did not hear the Adhan for the prayer, he (the Prophet ) rode and I rode behind Abi Talha and my foot was touching that of the Prophet. The inhabitants of Khaibar came out with their baskets and spades and when they saw the Prophet (ﷺ) they shouted 'Muhammad! By Allah, Muhammad and his army.' When Allah's Messenger (ﷺ) saw them, he …
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر انصاری نے حمید سے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر کہیں جہاد کے لیے تشریف لے جاتے، تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے تھے۔ صبح ہوتی اور پھر آپ انتظار کرتے اگر اذان کی آواز سن لیتے تو حملہ کا ارادہ ترک کر دیتے اور اگر اذان کی آواز نہ سنائی دیتی تو حملہ کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم خیبر کی طرف گئے اور رات کے وقت وہاں پہنچے۔ صبح کے وقت جب اذان کی آواز نہیں سنائی دی تو آپ اپنی سواری پر بیٹھ گئے اور میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ گیا۔ چلنے میں میرے قدم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سے چھو چھو جاتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے …
Suhail reported on the authority of Abu Huraira that Allah's Messenger (ﷺ) said on the Day of Khaibar:I shall certainly give this standard in the hand of one who loves Allah and his Messenger and Allah will grant victory at his hand. Umar b. Khattab said: Never did I cherish for leadership but on that day. I came before him with the hope that I may be called for this, but Allah's Messenger (ﷺ) called 'Ali b. Abu Talib and he conferred (this honour) upon him and said: Proceed on and do not look about until Allah grants you victory, and 'Ali went a bit and then halted and did not look about and then said in a loud voice: Allah's Messenger, on what issue should I fight with the people? …
سہیل کے والد ( ابو صالح ) نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کےدن فرمایا : " کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے ، اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطافرمائے گا ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب نے کہا : اس ایک دن کے علاوہ میں نے کبھی امارت کی تمنا نہیں کی ، کہا : میں نے اس امید کہ مجھے اس کے لئے بلایا جائے گا اپنی گردن اونچی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا ، ان کو وہ جھنڈا دیا اور فرمایا : " جاؤ ، پیچھےمڑ کر نہ دیکھو ، یہاں تک کہ اللہ تمھیں فتح عطا کردے ۔ " کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ دور گئے ، پھر ٹھر گئے ، پیچھے مڑ کر …
Narrated Anas bin Malik:We had no alcoholic drink except that which was produced from dates and which you call Fadikh. While I was standing offering drinks to Abu Talha and so-and-so and so-and-so, a man came and said, "Has the news reached you? They said, "What is that?" He said, "Alcoholic drinks have been prohibited. They said, "Spill (the contents of these pots, O Anas!" Then they neither asked about it (alcoholic drinks) nor returned to it after the news from that man
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم لوگ تمہاری «فضيخ» ( کھجور سے بنائی ہوئی شراب ) کے سوا اور کوئی شراب استعمال نہیں کرتے تھے، یہی جس کا نام تم نے «فضيخ» رکھ رکھا ہے۔ میں کھڑا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو پلا رہا تھا اور فلاں اور فلاں کو، کہ ایک صاحب آئے اور کہا: تمہیں کچھ خبر بھی ہے؟ لوگوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شراب حرام قرار دی جا چکی ہے۔ فوراً ہی ان لوگوں نے کہا: انس رضی اللہ عنہ اب ان شراب کے مٹکوں کو بہا دو۔ انہوں نے بیان کیا کہ ان کی اطلاع کے بعد ان لوگوں نے اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ مانگا اور نہ پھر اس کا استعمال کیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنَ النَّاسِ مُسْلِمٌ يَمُوتُ لَهُ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلاَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ ".
Narrated Anas bin Malik:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Any Muslim whose three children died before the age of puberty will be granted Paradise by Allah because of His mercy to them
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مر جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے جو ان بچوں پر کرے گا ‘ ان کو بہشت میں لے جائے گا۔
PickthallAllah promiseth you much booty that ye will capture, and hath given you this in advance, and hath withheld men's hands from you, that it may be a token for the believers, and that He may guide you on a right path.
Yusuf AliAllah has promised you many gains that ye shall acquire, and He has given you these beforehand; and He has restrained the hands of men from you; that it may be a Sign for the Believers, and that He may guide you to a Straight Path;
The agreed readingGod has promised you many spoils that you will take, and has hurried this one to you, and has held people's hands back from you - so that it may be a sign for the believers, and so that He may guide you on a straight path.
Urduاللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جو تم قیامت تک حاصل کرو گے، تو اس نے یہ قریبی غنیمتیں، یعنی خیبر کی، تمہیں پہلے دے دیں، اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے، یعنی خیبر کے باشندے اور ان کے حلیف قبیلے اسد اور غطفان جو ان کی مدد کرنا چاہتے تھے، تاکہ یہ واقعہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے، اور تاکہ وہ تمہیں سیدھے راستے کی طرف رہنمائی دے۔
Arabicوعدكم الله مغانم كثيرة تأخذونها إلى يوم القيامة، فعجل وقدم لكم هذه المغانم القريبة، وهي مغانم خيبر، وكف ومنع أيدي الناس عنكم، وهم أهل خيبر وحلفاؤهم من قبيلتي أسد وغطفان الذين أرادوا نصرتهم، ولتكون هذه الحادثة علامة وآية للمؤمنين، ويهديكم بها إلى طريق مستقيم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Baghawī، al-Ṭabrisī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Baghawī, al-Ṭabrisī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Baghawī، al-Ṭabrisī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said:We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah (ﷺ) and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah (ﷺ) called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, …
حدثنا ابوبکر بن ابی شیبہ، ہاشم بن القاسم، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر العقدی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی، ابوعلی الحنفی، عبیداللہ بن عبدالمجید نے عکرمہ بن عمار سے حدیث روایت کی، جنہوں نے ایاس بن سلمہ سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ حدیبیہ پہنچے اور ہم چودہ سو تھے۔ ان کے لیے پچاس بکریاں تھیں جو ان کو سیراب نہ کر سکتی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کنویں کے کنارے بیٹھے، اور یا تو دعا کی یا اس میں تھوک دیا۔ تو پانی جاری ہو گیا۔ ہم نے پیا اور سیراب کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ہمیں بیعت کے لیے بلایا اور وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ میں سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا۔ پھر لوگوں نے بیعت کی۔ جب آدھے لوگ بیعت کر چکے تو انہوں نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا الْغَدَاةَ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنِّي لأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " . قَالَهَا …
It was narrated from Anas:"The Messenger of Allah invaded Khaibar and we prayed Al-Ghadah (Fajr) there (early in the morning) when it was still dark. Then the Prophet rode and Abu Talha rode, and I was riding behind Abu Talha. The Prophet of Allah passed through the lane of Khaibar quickly, and my knee was touching the thigh of the Messenger of Allah, and I could see the whiteness of the thigh of the Prophet. When he entered the town he said: 'Allahu Akbar, Khaibar is destroyed! Whenever we approach a (hostile) nation to fight, evil will be the morning for those who have been warned.' He said this three times. The people came out for their work." (One of the narrators) 'Abdul-'Aziz said: …
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کرنے کے ارادے سے نکلے، ہم نے نماز فجر خیبر کے قریب اندھیرے ہی میں پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے تنگ راستے سے گزرنے لگے تو میرا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھونے اور ٹکرانے لگا، ( اور یہ واقعہ میری نظروں میں اس طرح تازہ ہے گویا کہ ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی ( و چمک ) دیکھ رہا ہوں، جب آپ بستی میں داخل ہوئے تو تین بار کہا: «اللہ أكبر خربت خيبر إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين» ”اللہ بہت بڑا ہے، خیبر کی بربادی آئی، جب ہم کسی قوم کی آبادی ( و حدود ) …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2731، 2732)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2731، 2732)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2731، 2732)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشَرَةَ مِائَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْىَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ فَقَالَ النَّاسُ حَلْ حَلْ خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ . مَرَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا خَلأَتْ وَمَا ذَلِكَ لَهَا بِخُلُقٍ …
Al Miswar bin Makhramah said :The Messenger of Allah (ﷺ) came out in the year of al-Hudaibbiyyah with over ten hundreds of Companions and when he came to Dhu al Hulaifah. He garlanded and marked the sacrificial animals, and entered the sacred state of Umrah. He then went on with the tradition. The Prophet moved on and when he came to the mountain, pass by which one descends (to Mecca) to them, his riding-beast knelt down, and the people said twice: Go on, go on, al-Qaswa has become jaded. The Prophet (May peace be upon him) said: She has not become jaded and that is not a characteristic of hers, but He Who restrained the elephant has restrained her. He then said: By Him in Whose hand my …
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ہمراہ نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کو قلادہ پہنایا، اور اشعار کیا، اور عمرہ کا احرام باندھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے یہاں تک کہ جب ثنیہ میں جہاں سے مکہ میں اترتے ہیں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی، لوگوں نے کہا: حل حل ۱؎ قصواء اڑ گئی، قصواء اڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصواء اڑی نہیں اور نہ ہی اس کو اڑنے کی عادت ہے، لیکن اس کو ہاتھی کے روکنے والے نے روک دیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو چیز بھی …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ فَأَتَاهُ - يَعْنِي عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ - فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ وَقَالَ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ . فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ .
Al-Miswar b. Makhramah said :The prophet (ﷺ) went out during the time of (treaty of) al-Hudaibiyyah. He then mentioned the rest of the tradition. He said : ‘Urwah b. Mas’ud then came to him and began to speak to the Prophet (ﷺ). Whenever he talk to him, he caught his beard ; and al-Mughirah b. Shu’bah was standing near the head of the Prophet (ﷺ) with a sword with him and a helmet on him. He then struck his hand with the handle of the sword, saying : Keep away your hand from his beard. ‘Urwah then raised his head and said : Who is this ? The prophet said : Al-Mughirah b. Shu’bah
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں نکلے، پھر راوی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس وہ یعنی عروہ بن مسعود آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا، جب وہ آپ سے بات کرتا، تو آپ کی ڈاڑھی پر ہاتھ لگاتا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے، ان کے پاس تلوار تھی اور سر پر خود، انہوں نے تلوار کے پر تلے کے نچلے حصہ سے اس کے ہاتھ پر مارا اور کہا: اپنا ہاتھ ان کی ڈاڑھی سے دور رکھ، عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ فَخَرَجُوا إِلَيْنَا وَمَعَهُمُ الْمَسَاحِي فَلَمَّا رَأَوْنَا قَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ . وَرَجَعُوا إِلَى الْحِصْنِ يَسْعَوْنَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " . فَأَصَبْنَا فِيهَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ …
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah reached Khaibar in the morning, and they came out to us carrying their shovels. When they saw us they said: 'Muhammad and the army!' And they rushed back inot the fortress. The Messenger of Allah raised his hands, then he said: ' Allahu Akbar, Allahu Akbar, Khaibar is destroyed. Verily, when we descend in field of a people (i.e. near to them), evil will be the morning for those who had been warned! Acquired some donkeys there and we cooked the., Then the caller of the Prophet called out: 'Allah and His Messenger forbid you to eat the flesh of donkeys, for it is an abomination
ہمیں اِطلاع ہوئی کہ انس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر پر صبح پہنچے۔ وہاں والے ہمارے پاس بیلچے لے کر نکلے۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو کہا: محمد اور جیش۔ اور قلعے کی طرف دوڑے۔ رسول اللہ نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتریں تو ڈرائے ہوؤں کی صبح برائی ہوتی ہے۔ ہمیں خیبر میں گدھے ملے اور ہم نے انہیں پکایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے پکارا: اللہ عز و جل اور رسول تمہیں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ یہ ناپاک ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that Al-Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al-Hakam said:"The Messenger of Allah went out during the time of Al-Hudabiyah with between one-thousand and three-hundred, and one-thousand and five-hundred of his Companions. Then, when they were in Dhul-Hulaifah, he garlanded and marked the Hadi and began the Talbiyah for 'Umrah (Abridged)
محمد بن عبد الأعلی نے خبر دی، کہا: محمد بن ثور نے ہمیں حديث سنائی، معمر سے، الزهری سے، عروة سے، المسور بن مخرمہ سے۔ انہوں نے کہا: رسول الله صلی الله علیہ وسلم نکلے۔ اور یعقوب بن ابراہيم نے ہمیں خبر دی، کہا: یحیی بن سعید نے ہمیں حديث سنائی، کہا: عبد الله بن المبارك نے ہمیں حديث سنائی، کہا: معمر نے الزهری سے حديث سنائی، عروة سے، المسور بن مخرمہ اور مروان بن الحكم سے۔ انہوں نے کہا: رسول الله صلی الله علیہ وسلم زمن الحديبيہ میں بضع عشرہ مائہ اپنے اصحاب میں سے نکلے، یہاں تک کہ جب وہ ذی الحليفہ پہنچے تو الهدی کو قلد کیا اور اشعر کیا اور عمرہ کے لیے احرام باندھا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُو بِنَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَنْظُرَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ، قَالَ فَخَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلاً، فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا رَكِبَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ فَخَرَجُوا إِلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ فَلَمَّا رَأَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ …
Narrated Humaid:Anas bin Malik said, "Whenever the Prophet (ﷺ) went out with us to fight (in Allah's cause) against any nation, he never allowed us to attack till morning and he would wait and see: if he heard Adhan he would postpone the attack and if he did not hear Adhan he would attack them." Anas added, "We reached Khaibar at night and in the morning when he did not hear the Adhan for the prayer, he (the Prophet ) rode and I rode behind Abi Talha and my foot was touching that of the Prophet. The inhabitants of Khaibar came out with their baskets and spades and when they saw the Prophet (ﷺ) they shouted 'Muhammad! By Allah, Muhammad and his army.' When Allah's Messenger (ﷺ) saw them, he …
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر انصاری نے حمید سے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر کہیں جہاد کے لیے تشریف لے جاتے، تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے تھے۔ صبح ہوتی اور پھر آپ انتظار کرتے اگر اذان کی آواز سن لیتے تو حملہ کا ارادہ ترک کر دیتے اور اگر اذان کی آواز نہ سنائی دیتی تو حملہ کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم خیبر کی طرف گئے اور رات کے وقت وہاں پہنچے۔ صبح کے وقت جب اذان کی آواز نہیں سنائی دی تو آپ اپنی سواری پر بیٹھ گئے اور میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ گیا۔ چلنے میں میرے قدم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سے چھو چھو جاتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے …
Suhail reported on the authority of Abu Huraira that Allah's Messenger (ﷺ) said on the Day of Khaibar:I shall certainly give this standard in the hand of one who loves Allah and his Messenger and Allah will grant victory at his hand. Umar b. Khattab said: Never did I cherish for leadership but on that day. I came before him with the hope that I may be called for this, but Allah's Messenger (ﷺ) called 'Ali b. Abu Talib and he conferred (this honour) upon him and said: Proceed on and do not look about until Allah grants you victory, and 'Ali went a bit and then halted and did not look about and then said in a loud voice: Allah's Messenger, on what issue should I fight with the people? …
سہیل کے والد ( ابو صالح ) نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کےدن فرمایا : " کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے ، اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطافرمائے گا ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب نے کہا : اس ایک دن کے علاوہ میں نے کبھی امارت کی تمنا نہیں کی ، کہا : میں نے اس امید کہ مجھے اس کے لئے بلایا جائے گا اپنی گردن اونچی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا ، ان کو وہ جھنڈا دیا اور فرمایا : " جاؤ ، پیچھےمڑ کر نہ دیکھو ، یہاں تک کہ اللہ تمھیں فتح عطا کردے ۔ " کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ دور گئے ، پھر ٹھر گئے ، پیچھے مڑ کر …
Narrated Anas bin Malik:We had no alcoholic drink except that which was produced from dates and which you call Fadikh. While I was standing offering drinks to Abu Talha and so-and-so and so-and-so, a man came and said, "Has the news reached you? They said, "What is that?" He said, "Alcoholic drinks have been prohibited. They said, "Spill (the contents of these pots, O Anas!" Then they neither asked about it (alcoholic drinks) nor returned to it after the news from that man
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم لوگ تمہاری «فضيخ» ( کھجور سے بنائی ہوئی شراب ) کے سوا اور کوئی شراب استعمال نہیں کرتے تھے، یہی جس کا نام تم نے «فضيخ» رکھ رکھا ہے۔ میں کھڑا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو پلا رہا تھا اور فلاں اور فلاں کو، کہ ایک صاحب آئے اور کہا: تمہیں کچھ خبر بھی ہے؟ لوگوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شراب حرام قرار دی جا چکی ہے۔ فوراً ہی ان لوگوں نے کہا: انس رضی اللہ عنہ اب ان شراب کے مٹکوں کو بہا دو۔ انہوں نے بیان کیا کہ ان کی اطلاع کے بعد ان لوگوں نے اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ مانگا اور نہ پھر اس کا استعمال کیا۔
PickthallAnd other (gain), which ye have not been able to achieve, Allah will compass it, Allah is Able to do all things.
Yusuf AliAnd other gains (there are), which are not within your power, but which Allah has compassed: and Allah has power over all things.
The agreed readingAnd other spoils you have not been able to reach - God has them in His grasp. God has power over all things.
Urduاور کچھ اور غنیمتیں بھی ہیں جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے، یعنی ہوازن کی غنیمتیں جو غزوہ حنین میں ملیں گی، اللہ نے انہیں پہلے ہی اپنے احاطے میں لے رکھا ہے، اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
Arabicوثمة مغانم أخرى لم تقدروا بعد على أخذها، وهي مغانم هوازن في غزوة حنين التي ستكون لاحقا، قد أحاط الله بها وقدر عليها من الآن واستولى عليها لكم، وكان الله على كل شيء قديرا لا يعجزه شيء.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Baghawī، al-Ṭabrisī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Baghawī, al-Ṭabrisī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Baghawī، al-Ṭabrisī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said:We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah (ﷺ) and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah (ﷺ) called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, …
حدثنا ابوبکر بن ابی شیبہ، ہاشم بن القاسم، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر العقدی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی، ابوعلی الحنفی، عبیداللہ بن عبدالمجید نے عکرمہ بن عمار سے حدیث روایت کی، جنہوں نے ایاس بن سلمہ سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ حدیبیہ پہنچے اور ہم چودہ سو تھے۔ ان کے لیے پچاس بکریاں تھیں جو ان کو سیراب نہ کر سکتی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کنویں کے کنارے بیٹھے، اور یا تو دعا کی یا اس میں تھوک دیا۔ تو پانی جاری ہو گیا۔ ہم نے پیا اور سیراب کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ہمیں بیعت کے لیے بلایا اور وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ میں سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا۔ پھر لوگوں نے بیعت کی۔ جب آدھے لوگ بیعت کر چکے تو انہوں نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ، رَجُلاً مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سَلَمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ}
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik that eighty Persons from the inhabitants of Mecca swooped down upon the Messenger of Allah (ﷺ) from the mountain of Tan'im. They were armed and wanted to attack the Prophet (ﷺ) and his Companions unawares. He (the Holy Prophet) captured them but spared their lives. So, God, the Exalted and Glorious, revealed the verses:" It is He Who restrained your hands from them and their hands from you in the valley of Mecca after He had given you a victory over them
انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے اسی آدمی مکہ والے رسول اﷲؐ کے اوپر اترے تنعیم کے پہاڑ سے ، وہ چاہتے تھے آپ کو دھوکا دیں او رغفلت میں حملہ کریں ۔ پھرآپ نے ان کو پکڑ لیا اور قید کیا ۔ بعد اس کے آپ نے چھوڑ دیا تب اﷲ تعایٰ نے اس آیت کو اتارا : وھو الذی کف ایدیھم عنکم یعنی خدا وہ ہے جس نے روکا ان کے ہاتھوں کو تم سے ( اور ان کا فریب کچھ نہ چلا ) اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ( تم نے ان کو قتل نہ کیا ) مکہ کی سرحد میں تمہارے فتح ہوجانے کے بعد ان پر ۔ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا ۔
PickthallAnd if those who disbelieve join battle with you they will take to flight, and afterward they will find no protecting friend nor helper.
Yusuf AliIf the Unbelievers should fight you, they would certainly turn their backs; then would they find neither protector nor helper.
The agreed readingAnd if those who refuse had fought you, they would have turned their backs; then they would find no protector and no helper.
Urduاور اگر یہ کافر تم سے حدیبیہ میں واقعی لڑتے، تو وہ ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے، پھر انہیں نہ کوئی سرپرست ملتا جو ان کا معاملہ سنبھالے، اور نہ کوئی مددگار جو ان کی مدد کرے، بلکہ وہ بےبس اور مغلوب ہو جاتے۔
Arabicولو أن هؤلاء الكافرين من أهل مكة قاتلوكم فعلا في الحديبية، لولوا الأدبار منهزمين فارين، ثم لا يجدون بعد ذلك وليا يتولى أمرهم، ولا نصيرا ينصرهم ويعينهم عليكم، بل كانوا مخذولين مغلوبين.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said:We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah (ﷺ) and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah (ﷺ) called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, …
حدثنا ابوبکر بن ابی شیبہ، ہاشم بن القاسم، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر العقدی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی، ابوعلی الحنفی، عبیداللہ بن عبدالمجید نے عکرمہ بن عمار سے حدیث روایت کی، جنہوں نے ایاس بن سلمہ سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ حدیبیہ پہنچے اور ہم چودہ سو تھے۔ ان کے لیے پچاس بکریاں تھیں جو ان کو سیراب نہ کر سکتی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کنویں کے کنارے بیٹھے، اور یا تو دعا کی یا اس میں تھوک دیا۔ تو پانی جاری ہو گیا۔ ہم نے پیا اور سیراب کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ہمیں بیعت کے لیے بلایا اور وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ میں سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا۔ پھر لوگوں نے بیعت کی۔ جب آدھے لوگ بیعت کر چکے تو انہوں نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ، رَجُلاً مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سَلَمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ}
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik that eighty Persons from the inhabitants of Mecca swooped down upon the Messenger of Allah (ﷺ) from the mountain of Tan'im. They were armed and wanted to attack the Prophet (ﷺ) and his Companions unawares. He (the Holy Prophet) captured them but spared their lives. So, God, the Exalted and Glorious, revealed the verses:" It is He Who restrained your hands from them and their hands from you in the valley of Mecca after He had given you a victory over them
انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے اسی آدمی مکہ والے رسول اﷲؐ کے اوپر اترے تنعیم کے پہاڑ سے ، وہ چاہتے تھے آپ کو دھوکا دیں او رغفلت میں حملہ کریں ۔ پھرآپ نے ان کو پکڑ لیا اور قید کیا ۔ بعد اس کے آپ نے چھوڑ دیا تب اﷲ تعایٰ نے اس آیت کو اتارا : وھو الذی کف ایدیھم عنکم یعنی خدا وہ ہے جس نے روکا ان کے ہاتھوں کو تم سے ( اور ان کا فریب کچھ نہ چلا ) اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ( تم نے ان کو قتل نہ کیا ) مکہ کی سرحد میں تمہارے فتح ہوجانے کے بعد ان پر ۔ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنهم ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَأْتِي زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيُقَالُ نَعَمْ. فَيُفْتَحُ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُقَالُ نَعَمْ. فَيُفْتَحُ، ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُقَالُ نَعَمْ. فَيُفْتَحُ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "A time will come when groups of people will go for Jihad and it will be asked, 'Is there anyone amongst you who has enjoyed the company of the Prophet?' The answer will be, 'Yes.' Then they will be given victory (by Allah) (because of him). Then a time will come when it will be asked. 'Is there anyone amongst you who has enjoyed the company of the companions of the Prophet?' It will be said, 'Yes,' and they will be given victory (by Allah). Then a time will come when it will be said. 'Is there anyone amongst you who has enjoyed the company of the companions of the companions of the Prophet?' It will be said, 'Yes,' and they will be given …
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی فوج کی فوج جہاں پر ہوں گی جن میں پوچھا جائے گا کہ کیا فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہو، کہا جائے گا کہ ہاں تو ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا اس وقت اس کی تلاش ہو گی کہ کوئی ایسے بزرگ مل جائیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت اٹھائی ہو، ( یعنی تابعی ) ایسے بھی بزرگ مل جائیں گے اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی اس کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے …
PickthallIt is the law of Allah which hath taken course aforetime. Thou wilt not find for the law of Allah aught of power to change.
Yusuf Ali(Such has been) the practice (approved) of Allah already in the past: no change wilt thou find in the practice (approved) of Allah.
The agreed readingThat is God's way, which has run its course before; and you will find no change in God's way.
Urduیہ اللہ کا وہی طریقہ اور دستور ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے، کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کو ان کے دشمنوں پر مدد دیتا ہے، اور تم اللہ کے اس دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔
Arabicتلك سنة الله الثابتة وعادته الجارية التي مضت من قبل مع جميع أنبيائه ورسله، أنه ينصرهم دائما على أعدائهم مهما اشتد الأمر، ولن تجد أبدا لسنة الله هذه أي تبديل أو تغيير في مكان أو زمان.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said:We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah (ﷺ) and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah (ﷺ) called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, …
حدثنا ابوبکر بن ابی شیبہ، ہاشم بن القاسم، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر العقدی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی، ابوعلی الحنفی، عبیداللہ بن عبدالمجید نے عکرمہ بن عمار سے حدیث روایت کی، جنہوں نے ایاس بن سلمہ سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ حدیبیہ پہنچے اور ہم چودہ سو تھے۔ ان کے لیے پچاس بکریاں تھیں جو ان کو سیراب نہ کر سکتی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کنویں کے کنارے بیٹھے، اور یا تو دعا کی یا اس میں تھوک دیا۔ تو پانی جاری ہو گیا۔ ہم نے پیا اور سیراب کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ہمیں بیعت کے لیے بلایا اور وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ میں سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا۔ پھر لوگوں نے بیعت کی۔ جب آدھے لوگ بیعت کر چکے تو انہوں نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنهم ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَأْتِي زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيُقَالُ نَعَمْ. فَيُفْتَحُ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُقَالُ نَعَمْ. فَيُفْتَحُ، ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ فَيُقَالُ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُقَالُ نَعَمْ. فَيُفْتَحُ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "A time will come when groups of people will go for Jihad and it will be asked, 'Is there anyone amongst you who has enjoyed the company of the Prophet?' The answer will be, 'Yes.' Then they will be given victory (by Allah) (because of him). Then a time will come when it will be asked. 'Is there anyone amongst you who has enjoyed the company of the companions of the Prophet?' It will be said, 'Yes,' and they will be given victory (by Allah). Then a time will come when it will be said. 'Is there anyone amongst you who has enjoyed the company of the companions of the companions of the Prophet?' It will be said, 'Yes,' and they will be given …
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی فوج کی فوج جہاں پر ہوں گی جن میں پوچھا جائے گا کہ کیا فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہو، کہا جائے گا کہ ہاں تو ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا اس وقت اس کی تلاش ہو گی کہ کوئی ایسے بزرگ مل جائیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت اٹھائی ہو، ( یعنی تابعی ) ایسے بھی بزرگ مل جائیں گے اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی اس کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے …
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ، رَجُلاً مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سَلَمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ}
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik that eighty Persons from the inhabitants of Mecca swooped down upon the Messenger of Allah (ﷺ) from the mountain of Tan'im. They were armed and wanted to attack the Prophet (ﷺ) and his Companions unawares. He (the Holy Prophet) captured them but spared their lives. So, God, the Exalted and Glorious, revealed the verses:" It is He Who restrained your hands from them and their hands from you in the valley of Mecca after He had given you a victory over them
انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے اسی آدمی مکہ والے رسول اﷲؐ کے اوپر اترے تنعیم کے پہاڑ سے ، وہ چاہتے تھے آپ کو دھوکا دیں او رغفلت میں حملہ کریں ۔ پھرآپ نے ان کو پکڑ لیا اور قید کیا ۔ بعد اس کے آپ نے چھوڑ دیا تب اﷲ تعایٰ نے اس آیت کو اتارا : وھو الذی کف ایدیھم عنکم یعنی خدا وہ ہے جس نے روکا ان کے ہاتھوں کو تم سے ( اور ان کا فریب کچھ نہ چلا ) اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ( تم نے ان کو قتل نہ کیا ) مکہ کی سرحد میں تمہارے فتح ہوجانے کے بعد ان پر ۔ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا ۔
PickthallAnd He it is Who hath withheld men's hands from you, and hath withheld your hands from them, in the valley of Mecca, after He had made you victors over them. Allah is Seer of what ye do.
Yusuf AliAnd it is He Who has restrained their hands from you and your hands from them in the midst of Makka, after that He gave you the victory over them. And Allah sees well all that ye do.
The agreed readingAnd He is the One who held their hands back from you and your hands from them in the valley of Mecca, after He had given you the upper hand over them. God sees what you do.
Urduاور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی، یعنی حدیبیہ میں، ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غالب اور قابو دے دیا تھا، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔
Arabicوهو الذي منع أيدي أهل مكة عنكم، ومنع أيديكم عنهم في بطن مكة، وهي الحديبية، من بعد أن مكنكم وأظفركم عليهم وصاروا تحت قدرتكم، وكان الله بكل ما تعملونه بصيرا مطلعا عليه.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭūsī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Qummī, al-Ṭūsī, al-Baghawī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr, Ibn ʿĀshūr, Ṭabāṭabāʾī and Ṭanṭāwī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭūsī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said:We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah (ﷺ) and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah (ﷺ) called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, …
حدثنا ابوبکر بن ابی شیبہ، ہاشم بن القاسم، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر العقدی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی، ابوعلی الحنفی، عبیداللہ بن عبدالمجید نے عکرمہ بن عمار سے حدیث روایت کی، جنہوں نے ایاس بن سلمہ سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ حدیبیہ پہنچے اور ہم چودہ سو تھے۔ ان کے لیے پچاس بکریاں تھیں جو ان کو سیراب نہ کر سکتی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کنویں کے کنارے بیٹھے، اور یا تو دعا کی یا اس میں تھوک دیا۔ تو پانی جاری ہو گیا۔ ہم نے پیا اور سیراب کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ہمیں بیعت کے لیے بلایا اور وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ میں سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا۔ پھر لوگوں نے بیعت کی۔ جب آدھے لوگ بیعت کر چکے تو انہوں نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ، رَجُلاً مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سَلَمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ}
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik that eighty Persons from the inhabitants of Mecca swooped down upon the Messenger of Allah (ﷺ) from the mountain of Tan'im. They were armed and wanted to attack the Prophet (ﷺ) and his Companions unawares. He (the Holy Prophet) captured them but spared their lives. So, God, the Exalted and Glorious, revealed the verses:" It is He Who restrained your hands from them and their hands from you in the valley of Mecca after He had given you a victory over them
انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے اسی آدمی مکہ والے رسول اﷲؐ کے اوپر اترے تنعیم کے پہاڑ سے ، وہ چاہتے تھے آپ کو دھوکا دیں او رغفلت میں حملہ کریں ۔ پھرآپ نے ان کو پکڑ لیا اور قید کیا ۔ بعد اس کے آپ نے چھوڑ دیا تب اﷲ تعایٰ نے اس آیت کو اتارا : وھو الذی کف ایدیھم عنکم یعنی خدا وہ ہے جس نے روکا ان کے ہاتھوں کو تم سے ( اور ان کا فریب کچھ نہ چلا ) اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ( تم نے ان کو قتل نہ کیا ) مکہ کی سرحد میں تمہارے فتح ہوجانے کے بعد ان پر ۔ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا ۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَتِ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلاَ يُشَارِبُوهُنَّ وَلاَ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى } الآيَةَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَىْءٍ مَا خَلاَ الْجِمَاعَ . فَقَالَتِ الْيَهُودُ مَا يَدَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا مِنْ …
It was narrated that Anas said:"When one of their womenfolk menstruated, the Jews would not eat or drink with them, or mix with them in their houses. They (the Companions) asked the Prophet of Allah (ﷺ) about that, and Allah, the Mighty and Sublime, revealed the Ayah: They ask you concerning menstruation. Say: "That is an Adha (a harmful thing).[2] So the Messenger of Allah (ﷺ) commanded them to eat and drink with them (menstruating women) and to mix them in their houses, and to do everything with them except intercourse. The Jews said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) does not leave anything of our affairs except he goes against it.' Usaid bin Hudair and 'Abbad bin Bishr went and told the …
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہو جاتیں تھی تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھتے تھے، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے متعلق ) پوچھا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» آپ سے لوگ حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے وہ گندگی ہے ( البقرہ: ۲۲۲ ) نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں پئیں اور انہیں اپنے گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں، اس پر یہود کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی معاملہ ایسا نہیں چھوڑتے جس میں ہماری مخالفت نہ کرتے ہوں، اس پر اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہم دونوں اٹھے، اور جا کر …
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَتِ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَمْ يُشَارِبُوهُنَّ وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى } الآيَةَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَىْءٍ مَا خَلاَ الْجِمَاعَ .
It was narrated that Anas said:"When one of their womenfolk menstruated, the Jews would not eat or drink with them, nor mix with them in their houses. They asked the Prophet of Allah (ﷺ) about that, and Allah the Mighty and Sublime revealed: The ask you concerning menstruation. Say: 'That is an Adha (a harmful thing).'[2] So the Messenger of Allah (ﷺ) commanded them to eat and drink with them (menstruating women) and to mix with them in their houses, and to do everything with them except intercourse. The Jews said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) does not leave anything against it.' Usaid bin Hudair and 'Abbad bin Bishr went and told the Messenger of Allah (ﷺ) and they said: 'Should we have …
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہوتیں تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں گھروں میں اپنے ساتھ رکھتے، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» ( البقرہ: ۲۲۲ ) لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجئیے: وہ گندگی ہے نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں، پئیں اور انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ، هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَقْتُلُوهُ فَأُخِذُوا أَخْذًا فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ : ( هُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ ) الآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Anas:that eighty people swooped down from the mountain of At-Tan'im to kill the Messenger of Allah (ﷺ) during Salat As-Subh, but he captured them and (later) let them go. So Allah revealed the Ayah: And it is He Who has withheld their hands from you and your hands from them (48:)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر حملہ آور ہونے کے لیے اسی ( ۸۰ ) کی تعداد میں کافر تنعیم پہاڑ سے نماز فجر کے وقت اترے، وہ چاہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں، مگر سب کے سب پکڑے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم» ”وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے“ ( الفتح: ۲۴ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ، يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثَ صَاحِبِهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، حَتَّى كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةً فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ ". فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا هُمْ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ، فَانْطَلَقَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا …
Narrated Al-Miswar bin Makhrama and Marwan:(whose narrations attest each other) Allah's Messenger (ﷺ) set out at the time of Al-Hudaibiya (treaty), and when they proceeded for a distance, he said, "Khalid bin Al-Walid leading the cavalry of Quraish constituting the front of the army, is at a place called Al-Ghamim, so take the way on the right." By Allah, Khalid did not perceive the arrival of the Muslims till the dust arising from the march of the Muslim army reached him, and then he turned back hurriedly to inform Quraish. The Prophet (ﷺ) went on advancing till he reached the Thaniya (i.e. a mountainous way) through which one would go to them (i.e. people of Quraish). The she-camel of the …
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو معمر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے زہری نے خبر دی ‘ کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان نے ‘ دونوں کے بیان سے ایک دوسرے کی حدیث کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر ( مکہ ) جا رہے تھے ‘ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے ہی میں تھے ‘ فرمایا خالد بن ولید قریش کے ( دو سو ) سواروں کے ساتھ ہماری نقل و حرکت کا اندازہ لگانے کے لیے مقام غمیم میں مقیم ہے ( یہ قریش کا مقدمۃ الجیش ہے ) اس لیے تم لوگ داہنی طرف سے جاؤ ‘ پس اللہ کی قسم خالد کو ان کے متعلق کچھ بھی علم نہ ہو سکا اور جب انہوں نے اس لشکر کا غبار اٹھتا ہوا دیکھا تو …
PickthallThese it was who disbelieved and debarred you from the Inviolable Place of Worship, and debarred the offering from reaching its goal. And if it had not been for believing men and believing women, whom ye know not - lest ye should tread them under foot and thus incur guilt for them unknowingly; that Allah might bring into His mercy whom He will - If (the believers and the disbelievers) had been clearly separated We verily had punished those of them who disbelieved with painful punishment.
Yusuf AliThey are the ones who denied Revelation and hindered you from the Sacred Mosque and the sacrificial animals, detained from reaching their place of sacrifice. Had there not been believing men and believing women whom ye did not know that ye were trampling down and on whose account a crime would have accrued to you without (your) knowledge, (Allah would have allowed you to force your way, but He held back your hands) that He may admit to His Mercy whom He will. If they had been apart, We should certainly have punished the Unbelievers among them with a grievous Punishment.
The agreed readingThey are the ones who refused and barred you from the Sacred Mosque, and kept the offering from reaching its place. And were it not for believing men and believing women you did not know, whom you might have trampled without knowing and so incurred guilt through them - so that God may bring into His mercy whom He wills. Had they been separated out, God would have punished those of them who refused with a painful punishment.
Urduیہی وہ لوگ ہیں، یعنی قریش، جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام میں جانے سے روکا، اور قربانی کے جانوروں کو بھی روک دیا کہ وہ اپنی جگہ تک نہ پہنچ سکیں۔ اور اگر مکہ میں کچھ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں جنہیں تم پہچانتے نہیں تھے، اس ڈر سے کہ تم انہیں انجانے میں نقصان پہنچا بیٹھو اور تم پر بےعلمی میں کوئی گناہ آ جائے، تو اللہ تمہیں لڑنے کی اجازت دے دیتا۔ یہ اس لیے ہوا تاکہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے۔ اور اگر مومن اور کافر الگ الگ ہو چکے ہوتے تو ہم ان میں سے کافروں کو ضرور دردناک عذاب دیتے۔
Arabicهؤلاء المشركون من قريش هم الذين كفروا وصدوكم ومنعوكم عن دخول المسجد الحرام، ومنعوا هدي القربان محبوسا موقوفا لا يستطيع أن يبلغ مكانه الذي يُنحر فيه، ولولا وجود رجال مؤمنين ونساء مؤمنات في مكة لا تعرفونهم، خشية أن تطأوهم وتصيبوهم بأذى وأنتم لا تعلمون فيصيبكم بسببهم إثم ومعرة بغير علم منكم، لأذن الله لكم بدخولها قتالا، وذلك ليدخل الله في رحمته من يشاء منهم، ولو تميز المؤمنون عن الكافرين وانفصلوا لعذبنا الذين كفروا منهم عذابا مؤلما موجعا شديدا.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 6 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة7 reports cited here — 6 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
4. He has narrated from Hisham ibn Salim from Habib al-Sajistani from abu Ja‘far (a.s.) who has said the following. “Allah, the Most Holy, the Most High, has said, ’I will cause to suffer punishment all those who live a religious life in Islam under the guardianship of unjust Imams who possesses no authority from Allah even though such followers would be virtuous and pious in their deeds. I will forgive all those who live a religious life in Islamunder the guardianship of an Imam who is just in his dealings and possess authority from Allah even though such followers in their dealings would be unjust sinners.”
وہ ہشام بن سالم سے روایت کی، وہ حبیب سجستانی سے، وہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے کہا: میں ضرور اسلام میں ہر ایسے رعایا کو عذاب دوں گا جو کسی ظالم امام کی ولایت میں داخل ہو گیا جو اللہ کی طرف سے نہیں، اگرچہ وہ رعایا اپنے اعمال میں نیک اور پرہیزگار ہوں، اور میں ضرور ہر ایسے رعایا کو معاف کروں گا جو اسلام میں اللہ کی طرف سے کسی عادل امام کی ولایت میں داخل ہو گیا، اگرچہ وہ رعایا اپنے نفس میں ظالم اور مسیء ہوں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ، يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثَ صَاحِبِهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، حَتَّى كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةً فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ ". فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا هُمْ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ، فَانْطَلَقَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا …
Narrated Al-Miswar bin Makhrama and Marwan:(whose narrations attest each other) Allah's Messenger (ﷺ) set out at the time of Al-Hudaibiya (treaty), and when they proceeded for a distance, he said, "Khalid bin Al-Walid leading the cavalry of Quraish constituting the front of the army, is at a place called Al-Ghamim, so take the way on the right." By Allah, Khalid did not perceive the arrival of the Muslims till the dust arising from the march of the Muslim army reached him, and then he turned back hurriedly to inform Quraish. The Prophet (ﷺ) went on advancing till he reached the Thaniya (i.e. a mountainous way) through which one would go to them (i.e. people of Quraish). The she-camel of the …
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو معمر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے زہری نے خبر دی ‘ کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان نے ‘ دونوں کے بیان سے ایک دوسرے کی حدیث کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر ( مکہ ) جا رہے تھے ‘ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے ہی میں تھے ‘ فرمایا خالد بن ولید قریش کے ( دو سو ) سواروں کے ساتھ ہماری نقل و حرکت کا اندازہ لگانے کے لیے مقام غمیم میں مقیم ہے ( یہ قریش کا مقدمۃ الجیش ہے ) اس لیے تم لوگ داہنی طرف سے جاؤ ‘ پس اللہ کی قسم خالد کو ان کے متعلق کچھ بھی علم نہ ہو سکا اور جب انہوں نے اس لشکر کا غبار اٹھتا ہوا دیکھا تو …
It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said:We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah (ﷺ) and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah (ﷺ) called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, …
حدثنا ابوبکر بن ابی شیبہ، ہاشم بن القاسم، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر العقدی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی، ابوعلی الحنفی، عبیداللہ بن عبدالمجید نے عکرمہ بن عمار سے حدیث روایت کی، جنہوں نے ایاس بن سلمہ سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ حدیبیہ پہنچے اور ہم چودہ سو تھے۔ ان کے لیے پچاس بکریاں تھیں جو ان کو سیراب نہ کر سکتی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کنویں کے کنارے بیٹھے، اور یا تو دعا کی یا اس میں تھوک دیا۔ تو پانی جاری ہو گیا۔ ہم نے پیا اور سیراب کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ہمیں بیعت کے لیے بلایا اور وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ میں سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا۔ پھر لوگوں نے بیعت کی۔ جب آدھے لوگ بیعت کر چکے تو انہوں نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Al Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al Hakam said “They agreed to abandon war for ten years during which the people which have security on the basis that there should be sincerity between them and that there should be not theft or treachery
عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے اس بات پر صلح کی کہ دس برس تک لڑائی بند رہے گی، اس مدت میں لوگ امن سے رہیں گے، طرفین کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف رہیں گے ۱؎ اور نہ اعلانیہ لوٹ مار ہو گی نہ چوری چھپے ۲؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2731، 2732)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2731، 2732)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2731، 2732)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشَرَةَ مِائَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْىَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ فَقَالَ النَّاسُ حَلْ حَلْ خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ . مَرَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا خَلأَتْ وَمَا ذَلِكَ لَهَا بِخُلُقٍ …
Al Miswar bin Makhramah said :The Messenger of Allah (ﷺ) came out in the year of al-Hudaibbiyyah with over ten hundreds of Companions and when he came to Dhu al Hulaifah. He garlanded and marked the sacrificial animals, and entered the sacred state of Umrah. He then went on with the tradition. The Prophet moved on and when he came to the mountain, pass by which one descends (to Mecca) to them, his riding-beast knelt down, and the people said twice: Go on, go on, al-Qaswa has become jaded. The Prophet (May peace be upon him) said: She has not become jaded and that is not a characteristic of hers, but He Who restrained the elephant has restrained her. He then said: By Him in Whose hand my …
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ہمراہ نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کو قلادہ پہنایا، اور اشعار کیا، اور عمرہ کا احرام باندھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے یہاں تک کہ جب ثنیہ میں جہاں سے مکہ میں اترتے ہیں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی، لوگوں نے کہا: حل حل ۱؎ قصواء اڑ گئی، قصواء اڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصواء اڑی نہیں اور نہ ہی اس کو اڑنے کی عادت ہے، لیکن اس کو ہاتھی کے روکنے والے نے روک دیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو چیز بھی …
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ قُرَيْشًا، صَالَحُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَلِيٍّ " اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " . قَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا بِاسْمِ اللَّهِ فَمَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَكِنِ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ " اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ " . قَالُوا لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لاَتَّبَعْنَاكَ وَلَكِنِ اكْتُبِ اسْمَكَ وَاسْمَ أَبِيكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ …
It has been narrated on the authority of Anas that the Quraish made peace with the Prophet (ﷺ). Among them was Suhail b. Amr. The Prophet (ﷺ) said to 'Ali:Write" In the name of Allah, most Gracious and most Merciful." Suhail said: As for" Bismillah," we do not know what is meant by" Bismillah-ir-Rahman-ir-Rahim" (In the name of Allah most Gracious and most Merciful). But write what we understand, i. e. Bi ismika allahumma (in thy name. O Allah). Then, the Prophet (ﷺ) said: Write:" From Muhammad, the Messenger of Allah." They said: If we knew that thou welt the Messenger of Allah, we would follow you. Therefore, write your name and the name of your father. So the Prophet (ﷺ) said: Write" …
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مصالحت کی ، ان میں سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : " لکھو : بسم الله الرحمن الرحيم سہیل کہنے لگے : جہاں تک بسم اللہ کا تعلق ہے تو ہم بسم الله الرحمن الرحيم کو نہیں جانتے ، لیکن وہ لکھو جسے ہم جانتے ہیں : باسمك اللهم پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لکھو : محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ۔ " وہ لوگ کہنے لگے : اگر ہم یقین جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کی پیروی کرتے ، لیکن اپنا اور اپنے والد کا نام لکھو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لکھو : محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ۔ " ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ …
Narrated Al-Miswar bin Makhrama and Marwan bin Al-Hakam:(one of them said more than his friend): The Prophet (ﷺ) set out in the company of more than onethousand of his companions in the year of Al-Hudaibiya, and when he reached Dhul-Hulaifa, he garlanded his Hadi (i.e. sacrificing animal), assumed the state of Ihram for `Umra from that place and sent a spy of his from Khuzi'a (tribe). The Prophet (ﷺ) proceeded on till he reached (a village called) Ghadir-al-Ashtat. There his spy came and said, "The Quraish (infidels) have collected a great number of people against you, and they have collected against you the Ethiopians, and they will fight with you, and will stop you from entering the Ka`ba …
ہمیں بتایا عبد اللہ بن محمد نے، کہا: ہمیں حدیث سنائی سفیان نے۔ کہتے ہیں: میں نے الزہری کو سنا جب انہوں نے یہ حدیث بیان کی، تو میں نے اس میں سے کچھ حفظ کیا، اور معمر نے مجھے مضبوط کیا - وہ عروہ بن الزبیر سے، وہ مسور بن مخرمہ اور مروان بن الحکم سے۔ ایک سے دوسرا زیادہ بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں: نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) سنہ حدیبیہ میں نکلے اپنے ساتھ ہزار سے کچھ کم صحابہ لے کر۔ جب ذو الحلیفہ پہنچے تو قربانی کو (گلے میں) رسی باندھی اور اس کے کان چیرے اور یہاں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ اور اپنے خزاعہ قبیلے سے ایک جاسوس بھیجا۔ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) چلتے رہے یہاں تک کہ غدیر الاشطاط پہنچے۔ وہاں اس کا جاسوس آیا اور کہا: قریش نے تمہارے خلاف لشکر جمع کر دیا ہے اور انہوں نے اپنے حلیف اہل حبش کو بھی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWhen those who disbelieve had set up in their hearts zealotry, the zealotry of the Age of Ignorance, then Allah sent down His peace of reassurance upon His messenger and upon the believers and imposed on them the word of self-restraint, for they were worthy of it and meet for it. And Allah is Aware of all things.
Yusuf AliWhile the Unbelievers got up in their hearts heat and cant - the heat and cant of ignorance,- Allah sent down His Tranquillity to his Messenger and to the Believers, and made them stick close to the command of self-restraint; and well were they entitled to it and worthy of it. And Allah has full knowledge of all things.
The agreed readingWhen those who refused set in their hearts the fierce partisanship of the age of ignorance, God sent down His tranquillity upon His messenger and upon the believers, and bound them to the word of restraint; they were most entitled to it and worthy of it. And God knows all things.
Urduجب ان کافروں نے اپنے دلوں میں ضد اور تعصب، یعنی زمانہ جاہلیت کا تعصب، بٹھا لیا، یہاں تک کہ صلح حدیبیہ میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے سے بھی انکار کیا، اور اس سال تمہیں مکہ میں داخل ہونے سے بھی روکا، تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنا سکون نازل کیا، اور انہیں کلمہ توحید اور تقویٰ پر قائم رکھا، اور وہی اس کے سب سے زیادہ حق دار اور اہل تھے، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
Arabicحين وضع هؤلاء الكافرون في قلوبهم الأنفة والعصبية، عصبية أهل الجاهلية القديمة، حتى أنفوا من كتابة بسم الله الرحمن الرحيم في صلح الحديبية، وأنفوا من دخولكم مكة تلك السنة، فأنزل الله سكونه وطمأنينته على رسوله وعلى المؤمنين، وألزمهم كلمة لا إله إلا الله، كلمة التقوى والإخلاص، وكانوا هم أحق الناس بها وأهلها المستحقين لها، وكان الله بكل شيء عليما لا يخفى عليه شيء.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ نُوحِ بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِنَا عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) إِذَا أَكَلَ السَّمَكَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَ أَبْدِلْنَا بِهِ خَيْراً مِنْهُ .
2. A number of our people have narrated from Ahmad ibn abu ‘Abd Allah from Nuh ibn Shu’ayb from certain persons of our people who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, when eating fish would say, ’O Lord, make it a blessing for us and change it for us with what is better.’”
کچھ اصحاب نے احمد بن أبي عبد الله سے، نوح بن شعيب سے، کچھ اصحاب سے، ابو عبد الله علیہ السلام سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ جب مچھلی کھاتے تو کہتے: اے اللہ! اس میں ہمارے لیے برکت دے اور اس کو ہمارے لیے بہتر چیز سے بدل دے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn ‘Isa from Ali ibn al-Hakam from al-Husayn ibn abu al-‘Ala’ from abu ‘Abd Allah recipient of divine supreme covenant who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, has not sent any prophet who would not be truthful in their words and trustworthy in returning the trust without discriminating between virtuous or otherwise people.”
1۔ محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے روایت کی، انہوں نے علی بن الحکم سے، انہوں نے حسین بن ابی العلاء سے، انہوں نے ابواعبداللہ علیہ السلام سے کہا: بیشک اللہ عز و جل نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر سچی بات اور امانت کی ادائیگی کے ساتھ - نیک اور برے دونوں کو برابری کے ساتھ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
7. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father and Ali ibn Muhammad al-Qasani from al-Qasim ibn Muhammad from al-Minqari from ‘Abd al-Razzaq from Mu’ammar from al-Zuhri who has said the following: “Once, Ali ibn al-Husayn (a.s.) was asked about racist feelings. He said, ‘The racist feeling that is a sin is the one that makes a person call the evil doers of his own people better than the virtuous individuals of the other people. A man’s loving his own people is not racism but it is a sin to help one’s own people to commit injustice.”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپا اور علی بن محمد القاسانی سے روایت کی، القاسم بن محمد سے، منقری سے، عبد الرزاق سے، معمر سے، الزہری سے کہتے ہیں: علی بن الحسین سے عصبیت کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے کہا: جس عصبیت پر آدمی گناہ گار ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی اپنی قوم کے برے لوگوں کو دوسری قوم کے اچھے لوگوں سے بہتر سمجھے۔ لیکن یہ عصبیت نہیں ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت کرے۔ لیکن عصبیت یہ ہے کہ آدمی اپنی قوم کو ظلم کرنے میں مدد دے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ، يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثَ صَاحِبِهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، حَتَّى كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةً فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ ". فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا هُمْ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ، فَانْطَلَقَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا …
Narrated Al-Miswar bin Makhrama and Marwan:(whose narrations attest each other) Allah's Messenger (ﷺ) set out at the time of Al-Hudaibiya (treaty), and when they proceeded for a distance, he said, "Khalid bin Al-Walid leading the cavalry of Quraish constituting the front of the army, is at a place called Al-Ghamim, so take the way on the right." By Allah, Khalid did not perceive the arrival of the Muslims till the dust arising from the march of the Muslim army reached him, and then he turned back hurriedly to inform Quraish. The Prophet (ﷺ) went on advancing till he reached the Thaniya (i.e. a mountainous way) through which one would go to them (i.e. people of Quraish). The she-camel of the …
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو معمر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے زہری نے خبر دی ‘ کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان نے ‘ دونوں کے بیان سے ایک دوسرے کی حدیث کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر ( مکہ ) جا رہے تھے ‘ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے ہی میں تھے ‘ فرمایا خالد بن ولید قریش کے ( دو سو ) سواروں کے ساتھ ہماری نقل و حرکت کا اندازہ لگانے کے لیے مقام غمیم میں مقیم ہے ( یہ قریش کا مقدمۃ الجیش ہے ) اس لیے تم لوگ داہنی طرف سے جاؤ ‘ پس اللہ کی قسم خالد کو ان کے متعلق کچھ بھی علم نہ ہو سکا اور جب انہوں نے اس لشکر کا غبار اٹھتا ہوا دیکھا تو …
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is non worthy or worship except Allah). Whoever says it, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ملا ہے کہ جب تک لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں میں ان سے لڑوں تو جس نے اسے کہہ لیا ( قبول کر لیا ) تو اس نے مجھ سے اپنی جان و مال محفوظ کر لیا۔ اب ان پر صرف اسی وقت ہاتھ ڈالا جا سکے گا جب اس کا حق ( وقت و نوبت ) آ جائے ۱؎۔ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کرے گا ۲؎۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُغِيرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، ح وَأَنْبَأَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ …
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah bin Mas'ud that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) died and Abu Bakr (was appointed Khalifah) after him, and some of the 'Arabs disbelieved, 'Umar, may Allah be pleased with him, said: 'O Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah (ﷺ) said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah.) Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah?'" Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: "I will surely fight those who separate prayer and …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ ہوئے اور عربوں میں جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ( اور یہ زکاۃ نہ دینے والے «لا إله إلا …
It was narrated that Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah [SAW] died, and Abu Bakr (became Khalifah) after him, and the 'Arabs reverted to Kufr, 'Umar said: 'O Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah [SAW] said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah, and whoever says La ilaha illallah, his wealth and his life are safe from me, except for a right that is due, and his reckoning will be with Allah, the Mighty and Sublime?' Abu Bakr said: 'I will fight whoever separates Salah and Zakah, for Zakah is the compulsory right to be taken from wealth. By Allah, if they withhold from me a young goat that they used to give to the …
اخبار دیا احمد بن محمد بن المغیرہ نے، کہا ہمیں حدیث سنائی عثمان نے، شعیب سے، زہری سے، کہا ہمیں حدیث سنائی عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے، کہ ابو ہریرہ نے کہا: جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا وصال ہوا اور ابو بکر ان کے بعد (خلیفہ) بنے، اور بعض عربوں نے کفر کیا، تو عمر نے کہا: اے ابو بکر! لوگوں سے جنگ کیسے کریں گے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے لوگوں سے لڑوں جب تک وہ لا إله إلا الله نہ کہیں، پس جو لا إله إلا الله کہے تو ان کا مال اور جان میرے سے محفوظ ہے سوائے حق کے، اور ان کی حساب اللہ کے پاس ہے۔ تو ابو بکر نے کہا: میں ان سے ضرور لڑوں جو نماز اور زکوۃ کو الگ کریں، کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے۔ واللہ اگر وہ مجھ سے ایک بکری روک دیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It is narrated on the authority of Abu Huraira that when the Messenger of Allah (ﷺ) breathed his last and Abu Bakr was appointed as his successor (Caliph), those amongst the Arabs who wanted to become apostates became apostates. 'Umar b. Khattab said to Abu Bakr:Why would you fight against the people, when the Messenger of Allah declared: I have been directed to fight against people so long as they do not say: There is no god but Allah, and he who professed it was granted full protection of his property and life on my behalf except for a right? His (other) affairs rest with Allah. Upon this Abu Bakr said: By Allah, I would definitely fight against him who severed prayer from Zakat, for it …
جناب عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول ا للہﷺ نے وفات پائی اور آپ کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو عربوں میں سے کافر ہونے والے کافر ہو گئے ( اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نےمانعین زکاۃ سے جنگ کا ارادہ کیا ) تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ان لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جبکہ رسول ا للہ ﷺ فرما چکے ہیں : ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ لا اله الاالله کا اقرار کر لیں ، پس جو کوئی لا اله الا الله کا قائل ہو گیا ، اس نے میری طرف سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیا ، الا یہ کہ اس ( لا اله الا الله ) کا حق ہو ، اور اس کا …
Al Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al Hakam said “They agreed to abandon war for ten years during which the people which have security on the basis that there should be sincerity between them and that there should be not theft or treachery
عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے اس بات پر صلح کی کہ دس برس تک لڑائی بند رہے گی، اس مدت میں لوگ امن سے رہیں گے، طرفین کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف رہیں گے ۱؎ اور نہ اعلانیہ لوٹ مار ہو گی نہ چوری چھپے ۲؎۔
PickthallAllah hath fulfilled the vision for His messenger in very truth. Ye shall indeed enter the Inviolable Place of Worship, if Allah will, secure, (having your hair) shaven and cut, not fearing. But He knoweth that which ye know not, and hath given you a near victory beforehand.
Yusuf AliTruly did Allah fulfil the vision for His Messenger: ye shall enter the Sacred Mosque, if Allah wills, with minds secure, heads shaved, hair cut short, and without fear. For He knew what ye knew not, and He granted, besides this, a speedy victory.
The agreed readingGod has confirmed the vision for His messenger with the truth: you will enter the Sacred Mosque, if God wills, in safety, with heads shaved or hair shortened, without fear. He knew what you did not know, and set before that a near victory.
Urduبےشک اللہ نے اپنے رسول کا وہ سچا خواب پورا کر دکھایا جو انہوں نے حدیبیہ جانے سے پہلے دیکھا تھا، کہ تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہو گے، اگر اللہ چاہے، امن کے ساتھ، اپنے سر منڈواتے اور بال کتراتے ہوئے، بغیر کسی خوف کے۔ اللہ کو وہ باتیں معلوم تھیں جو تمہیں معلوم نہیں تھیں، اس نے اس سے پہلے ایک قریبی فتح، یعنی خیبر کی فتح، رکھ دی۔
Arabicلقد صدق الله رسوله في رؤياه الصادقة التي رآها قبل خروجه إلى الحديبية، وهي أنه وأصحابه يدخلون مكة آمنين، لتدخلن المسجد الحرام إن شاء الله آمنين لا خوف عليكم، حالقين رؤوسكم ومقصرين شعركم، لا تخافون أحدا، فعلم الله ما لم تعلموه أنتم من الحكمة في التأخير، فجعل قبل ذلك فتحا قريبا، وهو فتح خيبر.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
3. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from his father from fadalah from Rifa‘ah who has said the following: “I once heard abu ‘Abd Allah (a.s.), saying, ‘When Allah, most Blessed, most High, granted good health to Ayyub (a.s.), he looked to the Israelites who had their plantations. He raised his eyes to the sky and said, ‘O Lord, my Master, this is Your slave Ayyub who was in suffering and You granted him good health but he does not have any plantation. These are people of banu Israel who have their plantations.’ Allah, most Majestic, most Glorious, sent him revelation that said, ‘Take a handful from you rosary beads and use it as seed .’ His rosary …
عدة من اصحابنا نے احمد بن محمد بن خالد سے، ان کے باپا سے، فضالة سے، رفاعة سے روایت کی، کہا: میں نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) کو کہتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ جب ایوب (علیہ السلام) کو عافیت دے دی، تو اس نے بنی اسرائیل کو دیکھا کہ وہ بوئے بو رہے ہیں، تو اس نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا: اے میرے خدا اور میرے سیاہی! تمہارا بندہ ایوب جو مبتلا تھا، انہیں عافیت دے دی، اور انہوں نے کوئی بوا نہ بویا، اور یہ بنی اسرائیل ہیں جن کے پاس کھیت ہیں۔ تو اللہ عزّ وجلّ نے اس کی طرف وحی کی: اے ایوب، اپنے تسبیح سے ایک مٹھی لے اور اسے بو۔ اور اس کی تسبیح میں نمک تھی۔ تو ایوب (علیہ السلام) نے اس سے ایک مٹھی لی اور اسے بویا، تو عدس نکلی، اور تم اسے چنے کا نام دیتے ہو، اور ہم اسے عدس کہتے ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) said:“When one of you eats food, let him not wipe his hand until he has licked it or has someone else to lick it.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ نہ پونچھے یہاں تک کہ وہ چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے، سفیان ( ابن عیینہ ) کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن قیس کو عمرو بن دینار سے سوال کرتے سنا کہ عطا کی حدیث: تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ نہ صاف کرے یہاں تک کہ وہ اسے چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے کے بارے میں بتاؤ، وہ کس سے مروی ہے؟ عمرو بن دینار نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمیں یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے، عمرو بن دینار نے کہا: ہم نے یہ حدیث عطاء سے اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یاد کی ہے، اور یہ بات جابر رضی اللہ عنہ کے ہمارے پاس آنے سے پہلے کی ہے جب کہ عطاء کی ملاقات …
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“O Allah, forgive those who shave (their heads).” They said: “O Messenger of Allah, and those who cut (their hair)?’ He said; “O Allah, forgive those who shave (their heads),” three times. They said: “O Messenger of Allah, and those who cut (their hair)?” He said: “And those who cut (their hair).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، آپ نے یہ تین بار فرمایا: تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بال کتروانے والوں کو بھی ۱؎۔
Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:May Allah have mercy upon those who have got their heads shaved. They said: Messenger of Allah, (what about) those who got their hair clipped? He said: May Allah have mercy upon those who have got their heads shaved. They said: Messenger of Allah, (what about those who have got their hair clipped)? He said: May Allah have mercy upon those who got their hair shaved. They said: Messenger of Allah, (what about) those who got their hair clipped? He said: (O Allah, have mercy upon) those who got their hair clipped
ہمیں عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عبیداللہ بن عمر نے نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" : "" اے اللہ !سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ "" لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اور بال کٹوانے والوں پر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !فرمایا : "" اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ "" صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پھر عرض کی : اور بال کٹوانے والوں پر ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا : "" اور بال کٹوانے والوں پربھی ۔ حدیث نمبر ۔ 3147 ۔ ہمیں عبدالوہاب نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں عبیداللہ نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں کہا : جب …
Ibn 'Abbas (At lab be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) and his Companions came to Mecca and the fever in Medina had weakened them. Thereupon the polytheists (of Mecca) said: There would come to you a people whom the fever has made weak and they have suffered severely from it. They sat in Hatim. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) commanded them to walk quickly ift three circuits and walk (in four) between the two corners. so that the polytheists should. see their endurance. The polytheists then said (to one anothery You were under the impression that fever had emaciated them. whereas they are stronger than so and so. Ibn Abbas said: He (the Holy Prophet) did not command them (the …
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ( عمرہ قضا کےلیے ) مکہ آئے تو انھیں یثرب ( مدینہ ) کے بخار نے کمزور کردیا تھا ۔ مشرکین نے کہا : کل تمھارے ہاں ایسے لوگ آرہے ہیں جنھیں بخار نے کمزور کردیا ہے ۔ اورانھیں اس سے بڑی تکلیف پہنچی ہے ۔ اور وہ لوگ حطیم کے ساتھ ( لگ کر ) بیٹھ گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ بیت اللہ کے تین چکروں میں چھوٹے قدموں کی تیز ، مضبوط چال چلیں ، اور دونوں ( یمانی ) کونوں کےدرمیان عام چال چلیں تاکہ مشرکوں کوان کی مضبوطی نظرآجائے ۔ ( مسلمانوں کی مضبوط چال دیکھ کر ) مشرکوں نے کہا : یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تمھارا …
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ وَفْدٌ وَهَنَهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ. وَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ الثَّلاَثَةَ، وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلاَّ الإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ. وَزَادَ ابْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَامِهِ الَّذِي …
Narrated Ibn `Abbas:When Allah's Messenger (ﷺ) and his companions arrived (at Mecca), the pagans said, "There have come to you a group of people who have been weakened by the fever of Yathrib (i.e. Medina)." So the Prophet (ﷺ) ordered his companions to do Ramal (i.e. fast walking) in the first three rounds of Tawaf around the Ka`ba and to walk in between the two corners (i.e. the black stone and the Yemenite corner). The only cause which prevented the Prophet (ﷺ) from ordering them to do Ramal in all the rounds of Tawaf, was that he pitied them
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ( عمرہ کے لیے مکہ ) تشریف لائے تو مشرکین نے کہا کہ تمہارے یہاں وہ لوگ آ رہے ہیں جنہیں یثرب ( مدینہ ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں اکڑ کر چلا جائے اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان حسب معمول چلیں۔ تمام چکروں میں اکڑ کر چلنے کا حکم آپ نے اس لیے نہیں دیا کہ کہیں یہ ( امت پر ) دشوار نہ ہو جائے۔ اور حماد بن سلمہ نے ایوب سے اس حدیث کو روایت کر کے یہ اضافہ کیا ہے۔ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن …
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ لَمَّا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَتَرْنَاهُ مِنْ غِلْمَانِ الْمُشْرِكِينَ وَمِنْهُمْ، أَنْ يُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Ibn Abi `Aufa:When Allah's Messenger (ﷺ) performed the `Umra (which he performed in the year following the treaty of Al-Hudaibiya) we were screening Allah's Messenger (ﷺ) from the infidels and their boys lest they should harm him
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو ہم آپ پر آڑ کئے ہوئے مشرکین کے لڑکوں اور مشرکین سے آپ کی حفاظت کرتے رہتے تھے تاکہ وہ آپ کو کوئی ایذا نہ دے سکیں۔
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) set out for the `Umra but the pagans of Quraish prevented him from reaching the Ka`ba. So, he slaughtered his sacrifice and got his head shaved at Al-Hudaibiya, and agreed with them that he would perform `Umra the following year and would not carry weapons except swords and would not stay in Mecca except for the period they allowed. So, the Prophet (ﷺ) performed the `Umra in the following year and entered Mecca according to the treaty, and when he stayed for three days, the pagans ordered him to depart, and he departed
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن نعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کا احرام باندھ کر نکلے، تو کفار قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ جانے سے روک دیا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور حدیبیہ میں ذبح کر دیا اور سر بھی وہیں منڈوا لیا اور کفار مکہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال عمرہ کر سکیں گے۔ تلواروں کے سوا اور کوئی ہتھیار ساتھ نہ لائیں گے۔ ( اور وہ بھی نیام میں ہوں گی ) اور قریش جتنے دن چاہیں گے اس سے زیادہ مکہ میں نہ ٹھہر سکیں گے۔ ( یعنی تین دن ) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عمرہ کیا اور …
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) set out with the intention of performing `Umra, but the infidels of Quraish intervened between him and the Ka`ba, so the Prophet (ﷺ) slaughtered his Hadi (i.e. sacrificing animals and shaved his head at Al-Hudaibiya and concluded a peace treaty with them (i.e. the infidels) on condition that he would perform the `Umra the next year and that he would not carry arms against them except swords, and would not stay (in Mecca) more than what they would allow. So the Prophet (ﷺ) performed the `Umra in the following year and according to the peace treaty, he entered Mecca, and when he had stayed there for three days, the infidels ordered him to leave, and he …
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سریج نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا۔ (دوسری سند اور مجھ سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے ارادے سے نکلے ‘ لیکن کفار قریش نے بیت اللہ پہنچنے سے آپ کو روکا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قربانی کا جانور حدیبیہ میں ہی ذبح کر دیا اور وہیں سر بھی منڈوایا اور ان سے معاہدہ کیا کہ آپ آئندہ سال عمرہ کر سکتے ہیں لیکن (نیام میں تلواروں کے سوا اور) کوئی ہتھیار ساتھ نہیں لا سکتے اور جتنے دنوں مکہ والے چاہیں گے ‘ اس سے زیادہ آپ وہاں ٹھہر نہیں سکیں گے۔ اس لیے نبی کریم صلی …
PickthallHe it is Who hath sent His messenger with the guidance and the religion of truth, that He may cause it to prevail over all religion. And Allah sufficeth as a Witness.
Yusuf AliIt is He Who has sent His Messenger with Guidance and the Religion of Truth, to proclaim it over all religion: and enough is Allah for a Witness.
The agreed readingHe is the One who sent His messenger with the guidance and the religion of truth, to show it above every religion. And God is enough as a witness.
Urduوہی اللہ ہے جس نے اپنے رسول محمد کو ہدایت اور دینِ حق، یعنی اسلام، دے کر بھیجا، تاکہ وہ اسے باقی سب ادیان پر غالب کر دے، اور اللہ اس بات کی گواہی کے لیے کافی ہے۔
Arabicهو الله الذي أرسل رسوله محمدا بالهدى والقرآن، ودين الإسلام الذي هو دين الحق، ليعليه ويظهره على كل الأديان الأخرى مهما كانت، وكفى بالله شاهدا على صدق ذلك ورقيبا عليه.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated 'Abdur-Rahman bin 'Awf:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Abu Bakr is in Paradise, 'Umar is in Paradise, 'Uthman is in Paradise, 'Ali is in Paradise, Talhah is in Paradise, Az-Zubair is in Paradise, 'Abdur-Rahman bin 'Awf is in Paradise, Sa'd bin Abi Waqqas is in Paradise, Sa'eed bin Zaid is in Paradise, and Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah is in Paradise
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد جنتی ہیں، سعید ( سعید بن زید ) جنتی ہیں اور ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں ۱؎ ( رضی اللہ علیہم اجمعین ) “ ابومصعب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عبدالعزیز بن محمد کے آگے پڑھا اور عبدالعزیز نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اور عبدالرحمٰن نے اپنے والد حمید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی لیکن اس میں عبدالرحمٰن بن عوف کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث عبدالرحمٰن بن حمید سے بطریق: «عن أبيه عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے، ( اور …
It was narrated that Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail said:"The Messenger of Allah was one of the Ten (given glad tidings of Paradise). He said: 'Abu Bakr will be in Paradise; 'Umar will be in Paradise; 'Uthman will be in Paradise; 'Ali will be in Paradise; Talhah will be in Paradise; Zubair will be in Paradise; Sa'd will be in Paradise; 'Abdur-Rahman will be in Paradise." He was asked: 'Who will be the ninth?' He said: 'I will
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، عبدالرحمٰن جنت میں ہیں ، سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: نواں کون تھا؟ بولے: میں ۱؎۔
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The most merciful of my nation to my nation is Abu Bakr, and the most severe of them concerning the order of Allah is 'Umar, and the most truly modest of them is 'Uthman bin 'Affan. The most knowledgeable of them concerning the lawful and unlawful is Mu'adh Bin Jabal, the most knowledgeable of them concerning (the laws of) inheritance is Zaid bin Thabit, the best reciter (of the Qur'an) among them is Ubayy bin Ka'b, and every nation has a trustworthy one, and the trustworthy one of this nation is Abu 'Ubaidah Bin Al-Jarrah
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان بن عفان ہیں، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض ( میراث ) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ۲- اسے ابوقلابہ نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور مشہور ابوقلابہ والی روایت ہے۔
Narrated Ibn Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Take as examples the two after me from my Companions, Abu Bakr and 'Umar. And act upon the guidance of 'Ammar, and hold fast to the advice of Ibn Mas'ud
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی، اور عمار کی روش پر چلو، اور ابن مسعود کے عہد ( وصیت ) کو مضبوطی سے تھامے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سلمہ حدیث میں ضعیف ہیں، ۳- ابوالزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ٔ ہے، اور وہ ابوالزعراء جن سے شعبہ، ثوری اور ابن عیینہ نے روایت کی ہے ان کا نام عمرو بن عمرو ہے، اور وہ عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص کے بھتیجے ہیں۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ عَهِدَ إِلَىَّ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ لاَ يُحِبُّنِي إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يُبْغِضُنِي إِلاَّ مُنَافِقٌ .
It was narrated that 'Ali said:"The Unlettered Prophet informed me (saying) that none but a believer would love me and none but a hypocrite would hate me
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی امّی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا، مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا ۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ عِرَاضَ الْوُجُوهِ كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ يَرْبِطُونَ خَيْلَهُمْ بِالنَّخْلِ " .
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Hour will not begin until you fight people with small eyes and wide faces, as if their eyes are the pupils of locusts and as if their faces are hammered shields. They will be wearing shoes of hair, using leather shields and tying their horses to date-palm trees.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چوڑے ہوں گے، گویا کہ ان کی آنکھیں ٹڈی کی آنکھیں ہیں، اور ان کے چہرے چپٹی ڈھالیں ہیں، وہ بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں بنائیں گے اور کھجور کے درختوں کی جڑوں سے اپنے گھوڑے باندھیں گے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) said:“When one of you eats food, let him not wipe his hand until he has licked it or has someone else to lick it.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ نہ پونچھے یہاں تک کہ وہ چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے، سفیان ( ابن عیینہ ) کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن قیس کو عمرو بن دینار سے سوال کرتے سنا کہ عطا کی حدیث: تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ نہ صاف کرے یہاں تک کہ وہ اسے چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے کے بارے میں بتاؤ، وہ کس سے مروی ہے؟ عمرو بن دینار نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمیں یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے، عمرو بن دینار نے کہا: ہم نے یہ حدیث عطاء سے اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یاد کی ہے، اور یہ بات جابر رضی اللہ عنہ کے ہمارے پاس آنے سے پہلے کی ہے جب کہ عطاء کی ملاقات …
PickthallMuhammad is the messenger of Allah. And those with him are hard against the disbelievers and merciful among themselves. Thou (O Muhammad) seest them bowing and falling prostrate (in worship), seeking bounty from Allah and (His) acceptance. The mark of them is on their foreheads from the traces of prostration. Such is their likeness in the Torah and their likeness in the Gospel - like as sown corn that sendeth forth its shoot and strengtheneth it and riseth firm upon its stalk, delighting the sowers - that He may enrage the disbelievers with (the sight of) them. Allah hath promised, unto such of them as believe and do good works, forgiveness and immense reward.
Yusuf AliMuhammad is the messenger of Allah; and those who are with him are strong against Unbelievers, (but) compassionate amongst each other. Thou wilt see them bow and prostrate themselves (in prayer), seeking Grace from Allah and (His) Good Pleasure. On their faces are their marks, (being) the traces of their prostration. This is their similitude in the Taurat; and their similitude in the Gospel is: like a seed which sends forth its blade, then makes it strong; it then becomes thick, and it stands on its own stem, (filling) the sowers with wonder and delight. As a result, it fills the Unbelievers with rage at them. Allah has promised those among them who believe and do righteous deeds forgiveness, and a great Reward.
The agreed readingMuhammad is God's messenger; and those with him are firm against those who refuse, merciful among themselves. You see them bowing and prostrating, seeking bounty from God and His good pleasure. Their mark is on their faces from the trace of prostration. That is their likeness in the Torah; and their likeness in the Gospel is a seed that puts out its shoot and strengthens it, so it grows thick and stands firm on its stalk, delighting the sowers - so that through them He may enrage those who refuse. God has promised those of them who believe and do good forgiveness and a great reward.
Urduمحمد اللہ کے سچے رسول ہیں، اور جو ان کے ساتھ ہیں، یعنی مہاجرین اور انصار، وہ کافروں کے خلاف سخت اور جانفشاں ہیں، اور آپس میں ایک دوسرے پر بہت مہربان اور نرم دل ہیں، تم انہیں رکوع اور سجدے میں دیکھو گے، وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے طلب گار ہیں، ان کی پہچان کثرتِ سجود کے اثر سے ان کے چہروں پر نظر آتی ہے۔ یہی ان کی صفت تورات میں ہے، اور انجیل میں ان کی مثال اس کھیتی جیسی ہے جس نے پہلے اپنی نازک کونپلیں نکالیں، پھر انہیں مضبوط کیا، یہاں تک کہ وہ موٹی اور طاقتور ہو گئیں اور اپنے تنوں پر سیدھی کھڑی ہو گئیں، جس سے کسان خوش ہوتے ہیں، تاکہ اس کثرت اور طاقت سے کافروں کو غصہ آئے۔ اللہ نے ان میں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان سے مغفرت اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔
Arabicمحمد رسول الله حقا بلا شك ولا ريب، والذين معه من المهاجرين والأنصار أشداء وجادون مجتهدون في عداوة الكفار، رحماء رقيقو القلوب فيما بينهم، تراهم راكعين ساجدين في صلاتهم، يطلبون فضلا من الله ورضوانه ورضاه عنهم، علامتهم وسمتهم في وجوههم من أثر كثرة السجود، ذلك وصفهم في التوراة، ووصفهم في الإنجيل كزرع أخرج فراخه الصغيرة الأولى، فقواها وشدها، فصار الزرع غليظا قويا، واستوى قائما على سوقه وجذوعه، يعجب الزراع بقوته وكثافته، ليغيظ بهم وبكثرتهم وقوتهم الكفار، وقد وعد الله الذين آمنوا منهم وعملوا الأعمال الصالحة مغفرة لذنوبهم وأجرا عظيما لا حدود له.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
أبي - رحمه الله - قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن أحمد بن أبي عبد الله، عن أبيه، عن محمد بن أبي عمير، عن معاوية بن عمار، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قلت له: جعلت فداك، ما حد الجار؟ قال: أربعين دارا من كل جانب.
1. My father, may Allah grant him mercy, said: We were told by Sa’d bin Abdullah, from Ahmad bin Abi Abdillah, from his father, from Muhammed bin Abi ‘Umayr, from Mu’awiya bin Ammar, from Abu Abdillah, peace be upon him, that he said: I said to him: May I be sacrificed for you, what is the limit of a neighbor? He said: Forty houses from every side.
ابي رحمه الله کہا: سعد بن عبد الله نے احمد بن ابي عبد الله سے اس کے باپا سے محمد بن ابي عمير سے معاوية بن عمار سے ابو عبد الله عليه السلام سے روایت کی۔ کہا: میں نے اس سے کہا: تمہارے لیے فدا، پڑوسی کی حد کیا ہے؟ فرمایا: ہر طرف سے چالیس گھر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated 'Abdur-Rahman bin 'Awf:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Abu Bakr is in Paradise, 'Umar is in Paradise, 'Uthman is in Paradise, 'Ali is in Paradise, Talhah is in Paradise, Az-Zubair is in Paradise, 'Abdur-Rahman bin 'Awf is in Paradise, Sa'd bin Abi Waqqas is in Paradise, Sa'eed bin Zaid is in Paradise, and Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah is in Paradise
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد جنتی ہیں، سعید ( سعید بن زید ) جنتی ہیں اور ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں ۱؎ ( رضی اللہ علیہم اجمعین ) “ ابومصعب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عبدالعزیز بن محمد کے آگے پڑھا اور عبدالعزیز نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اور عبدالرحمٰن نے اپنے والد حمید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی لیکن اس میں عبدالرحمٰن بن عوف کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث عبدالرحمٰن بن حمید سے بطریق: «عن أبيه عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے، ( اور …
It was narrated that Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail said:"The Messenger of Allah was one of the Ten (given glad tidings of Paradise). He said: 'Abu Bakr will be in Paradise; 'Umar will be in Paradise; 'Uthman will be in Paradise; 'Ali will be in Paradise; Talhah will be in Paradise; Zubair will be in Paradise; Sa'd will be in Paradise; 'Abdur-Rahman will be in Paradise." He was asked: 'Who will be the ninth?' He said: 'I will
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، عبدالرحمٰن جنت میں ہیں ، سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: نواں کون تھا؟ بولے: میں ۱؎۔
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The most merciful of my nation to my nation is Abu Bakr, and the most severe of them concerning the order of Allah is 'Umar, and the most truly modest of them is 'Uthman bin 'Affan. The most knowledgeable of them concerning the lawful and unlawful is Mu'adh Bin Jabal, the most knowledgeable of them concerning (the laws of) inheritance is Zaid bin Thabit, the best reciter (of the Qur'an) among them is Ubayy bin Ka'b, and every nation has a trustworthy one, and the trustworthy one of this nation is Abu 'Ubaidah Bin Al-Jarrah
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان بن عفان ہیں، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض ( میراث ) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ۲- اسے ابوقلابہ نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور مشہور ابوقلابہ والی روایت ہے۔
Narrated Ibn Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Take as examples the two after me from my Companions, Abu Bakr and 'Umar. And act upon the guidance of 'Ammar, and hold fast to the advice of Ibn Mas'ud
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی، اور عمار کی روش پر چلو، اور ابن مسعود کے عہد ( وصیت ) کو مضبوطی سے تھامے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سلمہ حدیث میں ضعیف ہیں، ۳- ابوالزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ٔ ہے، اور وہ ابوالزعراء جن سے شعبہ، ثوری اور ابن عیینہ نے روایت کی ہے ان کا نام عمرو بن عمرو ہے، اور وہ عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص کے بھتیجے ہیں۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ عَهِدَ إِلَىَّ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ لاَ يُحِبُّنِي إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يُبْغِضُنِي إِلاَّ مُنَافِقٌ .
It was narrated that 'Ali said:"The Unlettered Prophet informed me (saying) that none but a believer would love me and none but a hypocrite would hate me
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی امّی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا، مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا ۔
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ عِرَاضَ الْوُجُوهِ كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ يَرْبِطُونَ خَيْلَهُمْ بِالنَّخْلِ " .
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Hour will not begin until you fight people with small eyes and wide faces, as if their eyes are the pupils of locusts and as if their faces are hammered shields. They will be wearing shoes of hair, using leather shields and tying their horses to date-palm trees.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چوڑے ہوں گے، گویا کہ ان کی آنکھیں ٹڈی کی آنکھیں ہیں، اور ان کے چہرے چپٹی ڈھالیں ہیں، وہ بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں بنائیں گے اور کھجور کے درختوں کی جڑوں سے اپنے گھوڑے باندھیں گے ۔