PickthallBy the heaven, holding mansions of the stars,
Yusuf AliBy the sky, (displaying) the Zodiacal Signs;
The agreed readingBy the sky of the constellations — the twelve stations the commentaries name, set out across it.
Urduقسم ہے برجوں والے آسمان کی — یعنی ان عظیم اور نمایاں منزلوں کی جن میں ستارے اور سیارے چلتے ہیں۔
Arabicقسمٌ بالسماءِ ذاتِ البروجِ، وهي المنازلُ العظيمةُ الظاهرةُ فيها التي تسيرُ فيها الكواكبُ.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ومنهم الحارث بن مضاض الجرهمي، عاش أربعمائة سنة،وهو القائل: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر
Harith bin Mazaz Jurhami also lived for 400 years; he composed the following two lines: As if there was no one on way from Hajun to Safa and in Mecca who was a worshipper, who spent the nights in prayers. Yes, we are from the worshippers of Mecca, who spend their nights in worship. We make the passage of days and nights old.
اور ان میں سے الحارث بن مضاض الجرہمی ہیں، جو أَرْبَعمائة سنة عمر کو پہنچے، اور وہی القائل ہیں: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر، بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Al-Yawmul-Maw’ud (the Promised Day) is the Day of Resurrection, and Al-Yawmul-Mashhud (the Attended Day) is the Day of Arafah, and Ash-Shahid (the witness) is Friday.” He said: “The sun does not rise nor set, upon a day that is more virtuous than it. In it, there is an hour in which no believing worshipper makes a supplication to Allah for good, except that Allah answers it for him, and he does not seek Allah’s aid for something, except that He aids him in it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی …
Maimunah bin Sa’d who was a servant for the Prophet, narrated that The Messenger of Allah said:“The parable of the woman who walks to impress others in adornments for other than her family, is that of darkness on the Day of Judgment: There is no light for her.”
میمونہ بنت سعد رضی الله عنہا کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، وہ صدوق ہیں، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے۔ ۳- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man said: “Even after death?” He said: “Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۱؎۔
Suhaib narrated:“When the Messenger of Allah had performed Asr, Hamasa (he began mumbling)” – and Al—Hams according to some of them, is moving the lips as if he is speaking – “It was said to him: ‘O Messenger of Allah! After you performed Asr, you were mumbling?’ He said: ‘There was a Prophet among the Prophets, he was amazed with his people, so he said: “Who can stand against these people?” Then Allah revealed to him, that they must choose between some of them suffering from wrath, and between enemies of theirs assaulting them. They chose the wrath. So death was inflicted upon them such that seventy-thousand of them died in one day.’”He said: And when he would narrated this Hadith, he …
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» ( سرگوشی ) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا ( ہلانا ) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے ( آخر کار ) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں ( کیا پڑھتے ہیں؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» ( سزا و بدلہ ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ …
Urwah bin Az-Zubair said:"I entered upon Mawan bin Al-Hakam and we mentioned the things for which Wudu' is done. Marwan said: 'Wudu' should be done after touching the penis.' 'Urwah said: 'I did not know that.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "And if any one of you touches his penis, let him do Wudu
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر ( عضو تناسل ) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے تو وضو کرے ۔
Ibrahim reported that the Messenger of Allah (ﷺ) asked 'Abdullah b. Mas'ud to recite to him (the Qur'an). He said:Should I recite it to you while it has been sent down or revealed to you? He (the Holy Prophet) said: I love to hear it from someone else. So he ('Abdullah b. Mas'ud) recited to him (from the beginning of Surat al Nisa' up to the verse:" How shall then it be when We bring from every people a witness and bring you as a witness against them?" He (the Holy Prophet) wept (on listening to it). It is narrated on the authority of Ibn Mas'ud through another chain of transmitters that the Messenger of Allah (ﷺ) also said that he had been a witness to his people as long as (said he): I …
مسعر نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : "" مجھے قرآن مجید سناؤ ۔ "" انھوں نے کہا : کیا میں آپ کو سناؤں جبکہ ( قرآن ) اترا ہی آپ پر ہے؟آپ نے فرمایا : "" مجھے اچھا لگتاہے کہ میں اسے کسی دوسرے سے سنوں ۔ "" ( ابراہیم ) نے کہا : انھوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء ابتداء سے اس آیت تک سنائی : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا "" اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ "" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس آیت پر ) رو پڑے ۔ مسعر نے ایک دوسری سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ …
The same tradition has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd through a different chain of transmitters with a slight difference in the wording
ابن عیینہ ، سعید بن ابی ہلال اور محمد بن مطرف ، ان سب نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ابن ابی ہلال کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک نشانہ بنایا گیا " اور ابن مطرف کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا
The agreed readingand the Day promised — the Day of Resurrection, the commentaries agree, promised and not yet come.
Urduاور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے، یعنی قیامت کا دن، جس میں اللہ تمام مخلوق کو جمع کرے گا۔
Arabicواليومِ الموعودِ الذي وعدَ اللهُ الخلقَ أن يجمعَهم فيه، وهو يومُ القيامةِ.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ومنهم الحارث بن مضاض الجرهمي، عاش أربعمائة سنة،وهو القائل: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر
Harith bin Mazaz Jurhami also lived for 400 years; he composed the following two lines: As if there was no one on way from Hajun to Safa and in Mecca who was a worshipper, who spent the nights in prayers. Yes, we are from the worshippers of Mecca, who spend their nights in worship. We make the passage of days and nights old.
اور ان میں سے الحارث بن مضاض الجرہمی ہیں، جو أَرْبَعمائة سنة عمر کو پہنچے، اور وہی القائل ہیں: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر، بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Al-Yawmul-Maw’ud (the Promised Day) is the Day of Resurrection, and Al-Yawmul-Mashhud (the Attended Day) is the Day of Arafah, and Ash-Shahid (the witness) is Friday.” He said: “The sun does not rise nor set, upon a day that is more virtuous than it. In it, there is an hour in which no believing worshipper makes a supplication to Allah for good, except that Allah answers it for him, and he does not seek Allah’s aid for something, except that He aids him in it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی …
Maimunah bin Sa’d who was a servant for the Prophet, narrated that The Messenger of Allah said:“The parable of the woman who walks to impress others in adornments for other than her family, is that of darkness on the Day of Judgment: There is no light for her.”
میمونہ بنت سعد رضی الله عنہا کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، وہ صدوق ہیں، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے۔ ۳- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man said: “Even after death?” He said: “Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۱؎۔
Suhaib narrated:“When the Messenger of Allah had performed Asr, Hamasa (he began mumbling)” – and Al—Hams according to some of them, is moving the lips as if he is speaking – “It was said to him: ‘O Messenger of Allah! After you performed Asr, you were mumbling?’ He said: ‘There was a Prophet among the Prophets, he was amazed with his people, so he said: “Who can stand against these people?” Then Allah revealed to him, that they must choose between some of them suffering from wrath, and between enemies of theirs assaulting them. They chose the wrath. So death was inflicted upon them such that seventy-thousand of them died in one day.’”He said: And when he would narrated this Hadith, he …
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» ( سرگوشی ) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا ( ہلانا ) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے ( آخر کار ) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں ( کیا پڑھتے ہیں؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» ( سزا و بدلہ ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ …
Urwah bin Az-Zubair said:"I entered upon Mawan bin Al-Hakam and we mentioned the things for which Wudu' is done. Marwan said: 'Wudu' should be done after touching the penis.' 'Urwah said: 'I did not know that.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "And if any one of you touches his penis, let him do Wudu
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر ( عضو تناسل ) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے تو وضو کرے ۔
Abu Hurairah narrated:"The Messenger of Allah (s.a.w) recited: That Day it will declare its information. And said: 'Do you know what its information is?' they said: 'Allah and His Messenger know best.' He said: 'Indeed its information is that it will testify against every servant, male and female, It will say that he did such and such, on such and such a day.' He said: 'With this it shall be ordered.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يومئذ تحدث أخبارها» کی تلاوت کی اور فرمایا: ”کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس کی خبریں کیا ہوں گی؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد اور عورت کے خلاف گواہی دے گی، جو کام بھی انہوں نے زمین پر کیا ہو گا، وہ کہے گی کہ اس نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کام کیا“، آپ نے فرمایا: ”یہی اس کی خبریں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Abu Hurairah, may Allah be pleased with him, said:“The Messenger of Allah recited this Ayah: ‘That Day it will declare its information.’ He said: “Do you know what its information is?” They said: “Allah and His Messenger know better.” He said: “That it testifies about what every male or female slave (of Allah) did upon its surface. It says: ‘He did this and that on this day.’ This is its information.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سورۃ الزلزال کی ) آیت «يومئذ تحدث أخبارها» ”اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی“ ( الزلزال: ۴ ) ، پڑھی، پھر آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اس کی خبریں یہ ہیں کہ اس کی پیٹھ پر یعنی زمین پر ہر بندے نے خواہ مرد ہو یا عورت جو کچھ کیا ہو گا اس کی وہ گواہی دے گی، وہ کہے گی: اس بندے نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا، یہی اس کی خبریں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ibrahim reported that the Messenger of Allah (ﷺ) asked 'Abdullah b. Mas'ud to recite to him (the Qur'an). He said:Should I recite it to you while it has been sent down or revealed to you? He (the Holy Prophet) said: I love to hear it from someone else. So he ('Abdullah b. Mas'ud) recited to him (from the beginning of Surat al Nisa' up to the verse:" How shall then it be when We bring from every people a witness and bring you as a witness against them?" He (the Holy Prophet) wept (on listening to it). It is narrated on the authority of Ibn Mas'ud through another chain of transmitters that the Messenger of Allah (ﷺ) also said that he had been a witness to his people as long as (said he): I …
مسعر نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : "" مجھے قرآن مجید سناؤ ۔ "" انھوں نے کہا : کیا میں آپ کو سناؤں جبکہ ( قرآن ) اترا ہی آپ پر ہے؟آپ نے فرمایا : "" مجھے اچھا لگتاہے کہ میں اسے کسی دوسرے سے سنوں ۔ "" ( ابراہیم ) نے کہا : انھوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء ابتداء سے اس آیت تک سنائی : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا "" اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ "" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس آیت پر ) رو پڑے ۔ مسعر نے ایک دوسری سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ …
PickthallAnd by the witness and that whereunto he beareth testimony,
Yusuf AliBy one that witnesses, and the subject of the witness;-
The agreed readingand a witness and what is witnessed — the commentaries offer several identifications and settle on none, so the oath is left in its own words.
Urduاور گواہی دینے والے کی، اور اس کی جس پر گواہی دی جائے گی۔
Arabicوشاهدٍ يشهدُ، ومشهودٍ يُشهَدُ عليه. وأُقسِمَ بهما تعظيمًا لشأنِ ما يأتي بعدَهما.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ومنهم الحارث بن مضاض الجرهمي، عاش أربعمائة سنة،وهو القائل: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر
Harith bin Mazaz Jurhami also lived for 400 years; he composed the following two lines: As if there was no one on way from Hajun to Safa and in Mecca who was a worshipper, who spent the nights in prayers. Yes, we are from the worshippers of Mecca, who spend their nights in worship. We make the passage of days and nights old.
اور ان میں سے الحارث بن مضاض الجرہمی ہیں، جو أَرْبَعمائة سنة عمر کو پہنچے، اور وہی القائل ہیں: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر، بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Al-Yawmul-Maw’ud (the Promised Day) is the Day of Resurrection, and Al-Yawmul-Mashhud (the Attended Day) is the Day of Arafah, and Ash-Shahid (the witness) is Friday.” He said: “The sun does not rise nor set, upon a day that is more virtuous than it. In it, there is an hour in which no believing worshipper makes a supplication to Allah for good, except that Allah answers it for him, and he does not seek Allah’s aid for something, except that He aids him in it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی …
Maimunah bin Sa’d who was a servant for the Prophet, narrated that The Messenger of Allah said:“The parable of the woman who walks to impress others in adornments for other than her family, is that of darkness on the Day of Judgment: There is no light for her.”
میمونہ بنت سعد رضی الله عنہا کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، وہ صدوق ہیں، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے۔ ۳- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man said: “Even after death?” He said: “Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۱؎۔
Suhaib narrated:“When the Messenger of Allah had performed Asr, Hamasa (he began mumbling)” – and Al—Hams according to some of them, is moving the lips as if he is speaking – “It was said to him: ‘O Messenger of Allah! After you performed Asr, you were mumbling?’ He said: ‘There was a Prophet among the Prophets, he was amazed with his people, so he said: “Who can stand against these people?” Then Allah revealed to him, that they must choose between some of them suffering from wrath, and between enemies of theirs assaulting them. They chose the wrath. So death was inflicted upon them such that seventy-thousand of them died in one day.’”He said: And when he would narrated this Hadith, he …
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» ( سرگوشی ) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا ( ہلانا ) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے ( آخر کار ) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں ( کیا پڑھتے ہیں؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» ( سزا و بدلہ ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ …
Urwah bin Az-Zubair said:"I entered upon Mawan bin Al-Hakam and we mentioned the things for which Wudu' is done. Marwan said: 'Wudu' should be done after touching the penis.' 'Urwah said: 'I did not know that.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "And if any one of you touches his penis, let him do Wudu
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر ( عضو تناسل ) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے تو وضو کرے ۔
Abu Hurairah narrated:"The Messenger of Allah (s.a.w) recited: That Day it will declare its information. And said: 'Do you know what its information is?' they said: 'Allah and His Messenger know best.' He said: 'Indeed its information is that it will testify against every servant, male and female, It will say that he did such and such, on such and such a day.' He said: 'With this it shall be ordered.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يومئذ تحدث أخبارها» کی تلاوت کی اور فرمایا: ”کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس کی خبریں کیا ہوں گی؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد اور عورت کے خلاف گواہی دے گی، جو کام بھی انہوں نے زمین پر کیا ہو گا، وہ کہے گی کہ اس نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کام کیا“، آپ نے فرمایا: ”یہی اس کی خبریں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Abu Hurairah, may Allah be pleased with him, said:“The Messenger of Allah recited this Ayah: ‘That Day it will declare its information.’ He said: “Do you know what its information is?” They said: “Allah and His Messenger know better.” He said: “That it testifies about what every male or female slave (of Allah) did upon its surface. It says: ‘He did this and that on this day.’ This is its information.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سورۃ الزلزال کی ) آیت «يومئذ تحدث أخبارها» ”اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی“ ( الزلزال: ۴ ) ، پڑھی، پھر آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اس کی خبریں یہ ہیں کہ اس کی پیٹھ پر یعنی زمین پر ہر بندے نے خواہ مرد ہو یا عورت جو کچھ کیا ہو گا اس کی وہ گواہی دے گی، وہ کہے گی: اس بندے نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا، یہی اس کی خبریں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ibrahim reported that the Messenger of Allah (ﷺ) asked 'Abdullah b. Mas'ud to recite to him (the Qur'an). He said:Should I recite it to you while it has been sent down or revealed to you? He (the Holy Prophet) said: I love to hear it from someone else. So he ('Abdullah b. Mas'ud) recited to him (from the beginning of Surat al Nisa' up to the verse:" How shall then it be when We bring from every people a witness and bring you as a witness against them?" He (the Holy Prophet) wept (on listening to it). It is narrated on the authority of Ibn Mas'ud through another chain of transmitters that the Messenger of Allah (ﷺ) also said that he had been a witness to his people as long as (said he): I …
مسعر نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : "" مجھے قرآن مجید سناؤ ۔ "" انھوں نے کہا : کیا میں آپ کو سناؤں جبکہ ( قرآن ) اترا ہی آپ پر ہے؟آپ نے فرمایا : "" مجھے اچھا لگتاہے کہ میں اسے کسی دوسرے سے سنوں ۔ "" ( ابراہیم ) نے کہا : انھوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء ابتداء سے اس آیت تک سنائی : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا "" اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ "" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس آیت پر ) رو پڑے ۔ مسعر نے ایک دوسری سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ …
Pickthall(Self-)destroyed were the owners of the ditch
Yusuf AliWoe to the makers of the pit (of fire),
The agreed readingruin take the people of the trench — the trench, the commentaries gloss, being a long cut dug in the ground.
Urduہلاک ہوئے وہ خندقوں والے — یعنی جنہوں نے زمین میں گہری خندقیں کھودیں۔
Arabicلُعِنَ أصحابُ الأخدودِ، وهو الشقُّ العظيمُ الذي حفروه في الأرضِ.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ومنهم الحارث بن مضاض الجرهمي، عاش أربعمائة سنة،وهو القائل: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر
Harith bin Mazaz Jurhami also lived for 400 years; he composed the following two lines: As if there was no one on way from Hajun to Safa and in Mecca who was a worshipper, who spent the nights in prayers. Yes, we are from the worshippers of Mecca, who spend their nights in worship. We make the passage of days and nights old.
اور ان میں سے الحارث بن مضاض الجرہمی ہیں، جو أَرْبَعمائة سنة عمر کو پہنچے، اور وہی القائل ہیں: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر، بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Al-Yawmul-Maw’ud (the Promised Day) is the Day of Resurrection, and Al-Yawmul-Mashhud (the Attended Day) is the Day of Arafah, and Ash-Shahid (the witness) is Friday.” He said: “The sun does not rise nor set, upon a day that is more virtuous than it. In it, there is an hour in which no believing worshipper makes a supplication to Allah for good, except that Allah answers it for him, and he does not seek Allah’s aid for something, except that He aids him in it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی …
Suhaib narrated:“When the Messenger of Allah had performed Asr, Hamasa (he began mumbling)” – and Al—Hams according to some of them, is moving the lips as if he is speaking – “It was said to him: ‘O Messenger of Allah! After you performed Asr, you were mumbling?’ He said: ‘There was a Prophet among the Prophets, he was amazed with his people, so he said: “Who can stand against these people?” Then Allah revealed to him, that they must choose between some of them suffering from wrath, and between enemies of theirs assaulting them. They chose the wrath. So death was inflicted upon them such that seventy-thousand of them died in one day.’”He said: And when he would narrated this Hadith, he …
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» ( سرگوشی ) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا ( ہلانا ) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے ( آخر کار ) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں ( کیا پڑھتے ہیں؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» ( سزا و بدلہ ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ …
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man said: “Even after death?” He said: “Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۱؎۔
Maimunah bin Sa’d who was a servant for the Prophet, narrated that The Messenger of Allah said:“The parable of the woman who walks to impress others in adornments for other than her family, is that of darkness on the Day of Judgment: There is no light for her.”
میمونہ بنت سعد رضی الله عنہا کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، وہ صدوق ہیں، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے۔ ۳- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Suhaib reported that Allah's Messenger (ﷺ) thus said:There lived a king before you and he had a (court) magician. As he (the magician) grew old, he said to the king: I have grown old, send some young boy to me so that I should teach him magic. He (the king) sent to him a young man so that he should train him (in magic). And on his way (to the magician) he (the young man) found a monk sitting there. He (the young man) listened to his (the monk's) talk and was impressed by it. It became his habit that on his way to the magician he met the monk and set there and he came to the magician (late). He (the magician) beat him because of delay. He made a complaint of that to the monk and he said to …
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا ۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو بادشاہ سے بولا کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، میرے پاس کوئی لڑکا بھیج کہ میں اس کو جادو سکھلاؤں ۔ بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیجا ، وہ اس کو جادو سکھلاتا تھا ۔ اس لڑکے کی آمدورفت کی راہ میں ایک راہب تھا ( عیسائی درویش یعنی پادری تارک الدنیا ) ، وہ لڑکا اس کے پاس بیٹھا اور اس کا کلام سنا تو اسے اس کی باتیں اچھی لگیں ۔ اب جادوگر کے پاس جاتا تو راہب کی طرف سے ہو کر نکلتا اور اس کے پاس بیٹھتا ، پھر جب جادوگر کے پاس جاتا تو جادوگر اس کو ( دیر سے آنے کی وجہ سے ) مارتا ۔ آخر لڑکے نے جادوگر کے مارنے کا راہب سے گلہ کیا تو راہب نے …
Urwah bin Az-Zubair said:"I entered upon Mawan bin Al-Hakam and we mentioned the things for which Wudu' is done. Marwan said: 'Wudu' should be done after touching the penis.' 'Urwah said: 'I did not know that.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "And if any one of you touches his penis, let him do Wudu
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر ( عضو تناسل ) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے تو وضو کرے ۔
Ibrahim reported that the Messenger of Allah (ﷺ) asked 'Abdullah b. Mas'ud to recite to him (the Qur'an). He said:Should I recite it to you while it has been sent down or revealed to you? He (the Holy Prophet) said: I love to hear it from someone else. So he ('Abdullah b. Mas'ud) recited to him (from the beginning of Surat al Nisa' up to the verse:" How shall then it be when We bring from every people a witness and bring you as a witness against them?" He (the Holy Prophet) wept (on listening to it). It is narrated on the authority of Ibn Mas'ud through another chain of transmitters that the Messenger of Allah (ﷺ) also said that he had been a witness to his people as long as (said he): I …
مسعر نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : "" مجھے قرآن مجید سناؤ ۔ "" انھوں نے کہا : کیا میں آپ کو سناؤں جبکہ ( قرآن ) اترا ہی آپ پر ہے؟آپ نے فرمایا : "" مجھے اچھا لگتاہے کہ میں اسے کسی دوسرے سے سنوں ۔ "" ( ابراہیم ) نے کہا : انھوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء ابتداء سے اس آیت تک سنائی : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا "" اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ "" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس آیت پر ) رو پڑے ۔ مسعر نے ایک دوسری سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ …
The same tradition has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd through a different chain of transmitters with a slight difference in the wording
ابن عیینہ ، سعید بن ابی ہلال اور محمد بن مطرف ، ان سب نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ابن ابی ہلال کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک نشانہ بنایا گیا " اور ابن مطرف کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا
The agreed readingof the fire with its fuel — a fire fed and kept burning, the commentaries gloss, in the trench itself.
Urduوہ آگ جو بہت زیادہ ایندھن ڈال کر بھڑکائی گئی تھی۔
Arabicالنارِ ذاتِ الوَقودِ، أي التي أُضرِمَتْ فيه وأُلقِيَ فيها حطبٌ كثيرٌ.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ومنهم الحارث بن مضاض الجرهمي، عاش أربعمائة سنة،وهو القائل: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر
Harith bin Mazaz Jurhami also lived for 400 years; he composed the following two lines: As if there was no one on way from Hajun to Safa and in Mecca who was a worshipper, who spent the nights in prayers. Yes, we are from the worshippers of Mecca, who spend their nights in worship. We make the passage of days and nights old.
اور ان میں سے الحارث بن مضاض الجرہمی ہیں، جو أَرْبَعمائة سنة عمر کو پہنچے، اور وہی القائل ہیں: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر، بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Al-Yawmul-Maw’ud (the Promised Day) is the Day of Resurrection, and Al-Yawmul-Mashhud (the Attended Day) is the Day of Arafah, and Ash-Shahid (the witness) is Friday.” He said: “The sun does not rise nor set, upon a day that is more virtuous than it. In it, there is an hour in which no believing worshipper makes a supplication to Allah for good, except that Allah answers it for him, and he does not seek Allah’s aid for something, except that He aids him in it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی …
Suhaib narrated:“When the Messenger of Allah had performed Asr, Hamasa (he began mumbling)” – and Al—Hams according to some of them, is moving the lips as if he is speaking – “It was said to him: ‘O Messenger of Allah! After you performed Asr, you were mumbling?’ He said: ‘There was a Prophet among the Prophets, he was amazed with his people, so he said: “Who can stand against these people?” Then Allah revealed to him, that they must choose between some of them suffering from wrath, and between enemies of theirs assaulting them. They chose the wrath. So death was inflicted upon them such that seventy-thousand of them died in one day.’”He said: And when he would narrated this Hadith, he …
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» ( سرگوشی ) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا ( ہلانا ) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے ( آخر کار ) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں ( کیا پڑھتے ہیں؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» ( سزا و بدلہ ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ …
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man said: “Even after death?” He said: “Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۱؎۔
Maimunah bin Sa’d who was a servant for the Prophet, narrated that The Messenger of Allah said:“The parable of the woman who walks to impress others in adornments for other than her family, is that of darkness on the Day of Judgment: There is no light for her.”
میمونہ بنت سعد رضی الله عنہا کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، وہ صدوق ہیں، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے۔ ۳- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Urwah bin Az-Zubair said:"I entered upon Mawan bin Al-Hakam and we mentioned the things for which Wudu' is done. Marwan said: 'Wudu' should be done after touching the penis.' 'Urwah said: 'I did not know that.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "And if any one of you touches his penis, let him do Wudu
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر ( عضو تناسل ) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے تو وضو کرے ۔
Ibrahim reported that the Messenger of Allah (ﷺ) asked 'Abdullah b. Mas'ud to recite to him (the Qur'an). He said:Should I recite it to you while it has been sent down or revealed to you? He (the Holy Prophet) said: I love to hear it from someone else. So he ('Abdullah b. Mas'ud) recited to him (from the beginning of Surat al Nisa' up to the verse:" How shall then it be when We bring from every people a witness and bring you as a witness against them?" He (the Holy Prophet) wept (on listening to it). It is narrated on the authority of Ibn Mas'ud through another chain of transmitters that the Messenger of Allah (ﷺ) also said that he had been a witness to his people as long as (said he): I …
مسعر نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : "" مجھے قرآن مجید سناؤ ۔ "" انھوں نے کہا : کیا میں آپ کو سناؤں جبکہ ( قرآن ) اترا ہی آپ پر ہے؟آپ نے فرمایا : "" مجھے اچھا لگتاہے کہ میں اسے کسی دوسرے سے سنوں ۔ "" ( ابراہیم ) نے کہا : انھوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء ابتداء سے اس آیت تک سنائی : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا "" اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ "" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس آیت پر ) رو پڑے ۔ مسعر نے ایک دوسری سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ …
The same tradition has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd through a different chain of transmitters with a slight difference in the wording
ابن عیینہ ، سعید بن ابی ہلال اور محمد بن مطرف ، ان سب نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ابن ابی ہلال کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک نشانہ بنایا گیا " اور ابن مطرف کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا
Ibn Mas'ud said:Since our acceptance of Islam and the revelation of this verse in which Allah has shown annoyance to us:" Has not the time yet come for the believers that their hearts should be humble for the remembrance of Allah?" (lvii. 16), there was a gap of four years
عون بن عبداللہ کے والد سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذ ریعے سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے درمیان چار سال سے زیادہ کا وقفہ نہ تھا : " کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یادکرتے ہوئے گڑگڑائیں ۔
Yusuf AliBehold! they sat over against the (fire),
The agreed readingwhen they were seated over it — sitting on its edge, the commentaries gloss, on seats set there for them.
Urduجب وہ ان خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ہوئے تھے۔
Arabicإذ هم قعودٌ على جوانبِ ذلك الأخدودِ ملازمون له.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ومنهم الحارث بن مضاض الجرهمي، عاش أربعمائة سنة،وهو القائل: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر
Harith bin Mazaz Jurhami also lived for 400 years; he composed the following two lines: As if there was no one on way from Hajun to Safa and in Mecca who was a worshipper, who spent the nights in prayers. Yes, we are from the worshippers of Mecca, who spend their nights in worship. We make the passage of days and nights old.
اور ان میں سے الحارث بن مضاض الجرہمی ہیں، جو أَرْبَعمائة سنة عمر کو پہنچے، اور وہی القائل ہیں: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر، بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Al-Yawmul-Maw’ud (the Promised Day) is the Day of Resurrection, and Al-Yawmul-Mashhud (the Attended Day) is the Day of Arafah, and Ash-Shahid (the witness) is Friday.” He said: “The sun does not rise nor set, upon a day that is more virtuous than it. In it, there is an hour in which no believing worshipper makes a supplication to Allah for good, except that Allah answers it for him, and he does not seek Allah’s aid for something, except that He aids him in it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی …
Suhaib narrated:“When the Messenger of Allah had performed Asr, Hamasa (he began mumbling)” – and Al—Hams according to some of them, is moving the lips as if he is speaking – “It was said to him: ‘O Messenger of Allah! After you performed Asr, you were mumbling?’ He said: ‘There was a Prophet among the Prophets, he was amazed with his people, so he said: “Who can stand against these people?” Then Allah revealed to him, that they must choose between some of them suffering from wrath, and between enemies of theirs assaulting them. They chose the wrath. So death was inflicted upon them such that seventy-thousand of them died in one day.’”He said: And when he would narrated this Hadith, he …
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» ( سرگوشی ) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا ( ہلانا ) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے ( آخر کار ) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں ( کیا پڑھتے ہیں؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» ( سزا و بدلہ ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ …
Maimunah bin Sa’d who was a servant for the Prophet, narrated that The Messenger of Allah said:“The parable of the woman who walks to impress others in adornments for other than her family, is that of darkness on the Day of Judgment: There is no light for her.”
میمونہ بنت سعد رضی الله عنہا کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، وہ صدوق ہیں، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے۔ ۳- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Urwah bin Az-Zubair said:"I entered upon Mawan bin Al-Hakam and we mentioned the things for which Wudu' is done. Marwan said: 'Wudu' should be done after touching the penis.' 'Urwah said: 'I did not know that.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "And if any one of you touches his penis, let him do Wudu
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر ( عضو تناسل ) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے تو وضو کرے ۔
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man said: “Even after death?” He said: “Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۱؎۔
The same tradition has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd through a different chain of transmitters with a slight difference in the wording
ابن عیینہ ، سعید بن ابی ہلال اور محمد بن مطرف ، ان سب نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ابن ابی ہلال کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک نشانہ بنایا گیا " اور ابن مطرف کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا
Ibn Mas'ud said:Since our acceptance of Islam and the revelation of this verse in which Allah has shown annoyance to us:" Has not the time yet come for the believers that their hearts should be humble for the remembrance of Allah?" (lvii. 16), there was a gap of four years
عون بن عبداللہ کے والد سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذ ریعے سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے درمیان چار سال سے زیادہ کا وقفہ نہ تھا : " کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یادکرتے ہوئے گڑگڑائیں ۔
Suhaib reported that Allah's Messenger (ﷺ) thus said:There lived a king before you and he had a (court) magician. As he (the magician) grew old, he said to the king: I have grown old, send some young boy to me so that I should teach him magic. He (the king) sent to him a young man so that he should train him (in magic). And on his way (to the magician) he (the young man) found a monk sitting there. He (the young man) listened to his (the monk's) talk and was impressed by it. It became his habit that on his way to the magician he met the monk and set there and he came to the magician (late). He (the magician) beat him because of delay. He made a complaint of that to the monk and he said to …
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا ۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو بادشاہ سے بولا کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، میرے پاس کوئی لڑکا بھیج کہ میں اس کو جادو سکھلاؤں ۔ بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیجا ، وہ اس کو جادو سکھلاتا تھا ۔ اس لڑکے کی آمدورفت کی راہ میں ایک راہب تھا ( عیسائی درویش یعنی پادری تارک الدنیا ) ، وہ لڑکا اس کے پاس بیٹھا اور اس کا کلام سنا تو اسے اس کی باتیں اچھی لگیں ۔ اب جادوگر کے پاس جاتا تو راہب کی طرف سے ہو کر نکلتا اور اس کے پاس بیٹھتا ، پھر جب جادوگر کے پاس جاتا تو جادوگر اس کو ( دیر سے آنے کی وجہ سے ) مارتا ۔ آخر لڑکے نے جادوگر کے مارنے کا راہب سے گلہ کیا تو راہب نے …
PickthallAnd were themselves the witnesses of what they did to the believers.
Yusuf AliAnd they witnessed (all) that they were doing against the Believers.
The agreed readingand were themselves witnesses of what they were doing to the believers. The commentaries carry the same account: believers were thrown into a burning trench for their belief, and those who did it sat and watched.
Urduاور جو کچھ وہ اہلِ ایمان کے ساتھ کر رہے تھے، خود اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی رہے تھے۔ انہوں نے صرف حکم دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس منظر کا تماشا بھی کیا۔
Arabicوهم على ما يفعلون بالمؤمنين من التعذيبِ حضورٌ يشهدونه بأعينِهم. فلم يكتفوا بالأمرِ به حتى تولَّوا مشاهدتَه.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ومنهم الحارث بن مضاض الجرهمي، عاش أربعمائة سنة،وهو القائل: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر
Harith bin Mazaz Jurhami also lived for 400 years; he composed the following two lines: As if there was no one on way from Hajun to Safa and in Mecca who was a worshipper, who spent the nights in prayers. Yes, we are from the worshippers of Mecca, who spend their nights in worship. We make the passage of days and nights old.
اور ان میں سے الحارث بن مضاض الجرہمی ہیں، جو أَرْبَعمائة سنة عمر کو پہنچے، اور وہی القائل ہیں: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر، بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Al-Yawmul-Maw’ud (the Promised Day) is the Day of Resurrection, and Al-Yawmul-Mashhud (the Attended Day) is the Day of Arafah, and Ash-Shahid (the witness) is Friday.” He said: “The sun does not rise nor set, upon a day that is more virtuous than it. In it, there is an hour in which no believing worshipper makes a supplication to Allah for good, except that Allah answers it for him, and he does not seek Allah’s aid for something, except that He aids him in it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی …
Suhaib narrated:“When the Messenger of Allah had performed Asr, Hamasa (he began mumbling)” – and Al—Hams according to some of them, is moving the lips as if he is speaking – “It was said to him: ‘O Messenger of Allah! After you performed Asr, you were mumbling?’ He said: ‘There was a Prophet among the Prophets, he was amazed with his people, so he said: “Who can stand against these people?” Then Allah revealed to him, that they must choose between some of them suffering from wrath, and between enemies of theirs assaulting them. They chose the wrath. So death was inflicted upon them such that seventy-thousand of them died in one day.’”He said: And when he would narrated this Hadith, he …
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» ( سرگوشی ) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا ( ہلانا ) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے ( آخر کار ) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں ( کیا پڑھتے ہیں؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» ( سزا و بدلہ ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ …
Maimunah bin Sa’d who was a servant for the Prophet, narrated that The Messenger of Allah said:“The parable of the woman who walks to impress others in adornments for other than her family, is that of darkness on the Day of Judgment: There is no light for her.”
میمونہ بنت سعد رضی الله عنہا کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، وہ صدوق ہیں، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے۔ ۳- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Urwah bin Az-Zubair said:"I entered upon Mawan bin Al-Hakam and we mentioned the things for which Wudu' is done. Marwan said: 'Wudu' should be done after touching the penis.' 'Urwah said: 'I did not know that.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "And if any one of you touches his penis, let him do Wudu
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر ( عضو تناسل ) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے تو وضو کرے ۔
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man said: “Even after death?” He said: “Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۱؎۔
The same tradition has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd through a different chain of transmitters with a slight difference in the wording
ابن عیینہ ، سعید بن ابی ہلال اور محمد بن مطرف ، ان سب نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ابن ابی ہلال کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک نشانہ بنایا گیا " اور ابن مطرف کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا
Ibn Mas'ud said:Since our acceptance of Islam and the revelation of this verse in which Allah has shown annoyance to us:" Has not the time yet come for the believers that their hearts should be humble for the remembrance of Allah?" (lvii. 16), there was a gap of four years
عون بن عبداللہ کے والد سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذ ریعے سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے درمیان چار سال سے زیادہ کا وقفہ نہ تھا : " کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یادکرتے ہوئے گڑگڑائیں ۔
Suhaib reported that Allah's Messenger (ﷺ) thus said:There lived a king before you and he had a (court) magician. As he (the magician) grew old, he said to the king: I have grown old, send some young boy to me so that I should teach him magic. He (the king) sent to him a young man so that he should train him (in magic). And on his way (to the magician) he (the young man) found a monk sitting there. He (the young man) listened to his (the monk's) talk and was impressed by it. It became his habit that on his way to the magician he met the monk and set there and he came to the magician (late). He (the magician) beat him because of delay. He made a complaint of that to the monk and he said to …
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا ۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو بادشاہ سے بولا کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، میرے پاس کوئی لڑکا بھیج کہ میں اس کو جادو سکھلاؤں ۔ بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیجا ، وہ اس کو جادو سکھلاتا تھا ۔ اس لڑکے کی آمدورفت کی راہ میں ایک راہب تھا ( عیسائی درویش یعنی پادری تارک الدنیا ) ، وہ لڑکا اس کے پاس بیٹھا اور اس کا کلام سنا تو اسے اس کی باتیں اچھی لگیں ۔ اب جادوگر کے پاس جاتا تو راہب کی طرف سے ہو کر نکلتا اور اس کے پاس بیٹھتا ، پھر جب جادوگر کے پاس جاتا تو جادوگر اس کو ( دیر سے آنے کی وجہ سے ) مارتا ۔ آخر لڑکے نے جادوگر کے مارنے کا راہب سے گلہ کیا تو راہب نے …
PickthallThey had naught against them save that they believed in Allah, the Mighty, the Owner of Praise,
Yusuf AliAnd they ill-treated them for no other reason than that they believed in Allah, Exalted in Power, Worthy of all Praise!-
The agreed readingThey held nothing against them except that they believed in God, the Mighty, the Praised —
Urduاور انہیں ان لوگوں سے کوئی شکایت نہ تھی سوائے اس کے کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے — اس اللہ پر جو غالب ہے، جسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا، اور جو ہر اعتبار سے قابلِ تعریف ہے۔ گویا ان کا واحد جرم ایمان تھا۔
Arabicوما عابوا عليهم شيئًا ولا نقَموا منهم إلا أن آمنوا باللهِ العزيزِ الذي لا يُغلَبُ، الحميدِ المحمودِ في كلِّ شيءٍ. فكان ذنبُهم الوحيدَ هو الإيمانُ.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ومنهم الحارث بن مضاض الجرهمي، عاش أربعمائة سنة،وهو القائل: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر
Harith bin Mazaz Jurhami also lived for 400 years; he composed the following two lines: As if there was no one on way from Hajun to Safa and in Mecca who was a worshipper, who spent the nights in prayers. Yes, we are from the worshippers of Mecca, who spend their nights in worship. We make the passage of days and nights old.
اور ان میں سے الحارث بن مضاض الجرہمی ہیں، جو أَرْبَعمائة سنة عمر کو پہنچے، اور وہی القائل ہیں: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر، بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Al-Yawmul-Maw’ud (the Promised Day) is the Day of Resurrection, and Al-Yawmul-Mashhud (the Attended Day) is the Day of Arafah, and Ash-Shahid (the witness) is Friday.” He said: “The sun does not rise nor set, upon a day that is more virtuous than it. In it, there is an hour in which no believing worshipper makes a supplication to Allah for good, except that Allah answers it for him, and he does not seek Allah’s aid for something, except that He aids him in it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی …
Maimunah bin Sa’d who was a servant for the Prophet, narrated that The Messenger of Allah said:“The parable of the woman who walks to impress others in adornments for other than her family, is that of darkness on the Day of Judgment: There is no light for her.”
میمونہ بنت سعد رضی الله عنہا کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، وہ صدوق ہیں، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے۔ ۳- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Suhaib narrated:“When the Messenger of Allah had performed Asr, Hamasa (he began mumbling)” – and Al—Hams according to some of them, is moving the lips as if he is speaking – “It was said to him: ‘O Messenger of Allah! After you performed Asr, you were mumbling?’ He said: ‘There was a Prophet among the Prophets, he was amazed with his people, so he said: “Who can stand against these people?” Then Allah revealed to him, that they must choose between some of them suffering from wrath, and between enemies of theirs assaulting them. They chose the wrath. So death was inflicted upon them such that seventy-thousand of them died in one day.’”He said: And when he would narrated this Hadith, he …
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» ( سرگوشی ) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا ( ہلانا ) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے ( آخر کار ) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں ( کیا پڑھتے ہیں؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» ( سزا و بدلہ ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ …
Urwah bin Az-Zubair said:"I entered upon Mawan bin Al-Hakam and we mentioned the things for which Wudu' is done. Marwan said: 'Wudu' should be done after touching the penis.' 'Urwah said: 'I did not know that.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "And if any one of you touches his penis, let him do Wudu
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر ( عضو تناسل ) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے تو وضو کرے ۔
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man said: “Even after death?” He said: “Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۱؎۔
The same tradition has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd through a different chain of transmitters with a slight difference in the wording
ابن عیینہ ، سعید بن ابی ہلال اور محمد بن مطرف ، ان سب نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ابن ابی ہلال کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک نشانہ بنایا گیا " اور ابن مطرف کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا
Ibn Mas'ud said:Since our acceptance of Islam and the revelation of this verse in which Allah has shown annoyance to us:" Has not the time yet come for the believers that their hearts should be humble for the remembrance of Allah?" (lvii. 16), there was a gap of four years
عون بن عبداللہ کے والد سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذ ریعے سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے درمیان چار سال سے زیادہ کا وقفہ نہ تھا : " کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یادکرتے ہوئے گڑگڑائیں ۔
PickthallHim unto Whom belongeth the Sovereignty of the heavens and the earth; and Allah is of all things the Witness.
Yusuf AliHim to Whom belongs the dominion of the heavens and the earth! And Allah is Witness to all things.
The agreed readingto whom belongs the kingdom of the heavens and the earth; and God is witness over everything. The commentaries mark the point: the only charge was belief, and the One they believed in was watching.
Urduوہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے، اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔
Arabicالذي له وحدَه مُلكُ السماواتِ والأرضِ، واللهُ على كلِّ شيءٍ شهيدٌ لا يخفى عليه شيءٌ.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ومنهم الحارث بن مضاض الجرهمي، عاش أربعمائة سنة،وهو القائل: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر
Harith bin Mazaz Jurhami also lived for 400 years; he composed the following two lines: As if there was no one on way from Hajun to Safa and in Mecca who was a worshipper, who spent the nights in prayers. Yes, we are from the worshippers of Mecca, who spend their nights in worship. We make the passage of days and nights old.
اور ان میں سے الحارث بن مضاض الجرہمی ہیں، جو أَرْبَعمائة سنة عمر کو پہنچے، اور وہی القائل ہیں: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر، بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Al-Yawmul-Maw’ud (the Promised Day) is the Day of Resurrection, and Al-Yawmul-Mashhud (the Attended Day) is the Day of Arafah, and Ash-Shahid (the witness) is Friday.” He said: “The sun does not rise nor set, upon a day that is more virtuous than it. In it, there is an hour in which no believing worshipper makes a supplication to Allah for good, except that Allah answers it for him, and he does not seek Allah’s aid for something, except that He aids him in it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی …
Maimunah bin Sa’d who was a servant for the Prophet, narrated that The Messenger of Allah said:“The parable of the woman who walks to impress others in adornments for other than her family, is that of darkness on the Day of Judgment: There is no light for her.”
میمونہ بنت سعد رضی الله عنہا کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، وہ صدوق ہیں، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے۔ ۳- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Suhaib narrated:“When the Messenger of Allah had performed Asr, Hamasa (he began mumbling)” – and Al—Hams according to some of them, is moving the lips as if he is speaking – “It was said to him: ‘O Messenger of Allah! After you performed Asr, you were mumbling?’ He said: ‘There was a Prophet among the Prophets, he was amazed with his people, so he said: “Who can stand against these people?” Then Allah revealed to him, that they must choose between some of them suffering from wrath, and between enemies of theirs assaulting them. They chose the wrath. So death was inflicted upon them such that seventy-thousand of them died in one day.’”He said: And when he would narrated this Hadith, he …
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» ( سرگوشی ) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا ( ہلانا ) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے ( آخر کار ) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں ( کیا پڑھتے ہیں؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» ( سزا و بدلہ ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ …
Urwah bin Az-Zubair said:"I entered upon Mawan bin Al-Hakam and we mentioned the things for which Wudu' is done. Marwan said: 'Wudu' should be done after touching the penis.' 'Urwah said: 'I did not know that.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "And if any one of you touches his penis, let him do Wudu
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر ( عضو تناسل ) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے تو وضو کرے ۔
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man said: “Even after death?” He said: “Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۱؎۔
The same tradition has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd through a different chain of transmitters with a slight difference in the wording
ابن عیینہ ، سعید بن ابی ہلال اور محمد بن مطرف ، ان سب نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ابن ابی ہلال کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک نشانہ بنایا گیا " اور ابن مطرف کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا
Ibn Mas'ud said:Since our acceptance of Islam and the revelation of this verse in which Allah has shown annoyance to us:" Has not the time yet come for the believers that their hearts should be humble for the remembrance of Allah?" (lvii. 16), there was a gap of four years
عون بن عبداللہ کے والد سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذ ریعے سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے درمیان چار سال سے زیادہ کا وقفہ نہ تھا : " کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یادکرتے ہوئے گڑگڑائیں ۔
PickthallLo! they who persecute believing men and believing women and repent not, theirs verily will be the doom of hell, and theirs the doom of burning.
Yusuf AliThose who persecute (or draw into temptation) the Believers, men and women, and do not turn in repentance, will have the Penalty of Hell: They will have the Penalty of the Burning Fire.
The agreed readingThose who put the believing men and the believing women to the trial and then did not repent — for them is the punishment of Hell, and for them the punishment of the burning.
Urduبےشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے دین سے پھیرنے کے لیے ستایا اور پھر توبہ بھی نہ کی، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلا ڈالنے والا عذاب ہے۔
Arabicإنَّ الذين عذَّبوا المؤمنين والمؤمناتِ ليصُدُّوهم عن دينِهم ثم لم يتوبوا، فلهم عذابُ جهنمَ، ولهم عذابُ النارِ المُحرِقةِ.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ومنهم الحارث بن مضاض الجرهمي، عاش أربعمائة سنة،وهو القائل: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر
Harith bin Mazaz Jurhami also lived for 400 years; he composed the following two lines: As if there was no one on way from Hajun to Safa and in Mecca who was a worshipper, who spent the nights in prayers. Yes, we are from the worshippers of Mecca, who spend their nights in worship. We make the passage of days and nights old.
اور ان میں سے الحارث بن مضاض الجرہمی ہیں، جو أَرْبَعمائة سنة عمر کو پہنچے، اور وہی القائل ہیں: كان لم يكن بين الحجون إلى الصفا أنيس ولم يسمر بمكة سامر، بلى نحن كنا أهلها فأبادنا صروف الليالي والجدود العواثر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: “Al-Yawmul-Maw’ud (the Promised Day) is the Day of Resurrection, and Al-Yawmul-Mashhud (the Attended Day) is the Day of Arafah, and Ash-Shahid (the witness) is Friday.” He said: “The sun does not rise nor set, upon a day that is more virtuous than it. In it, there is an hour in which no believing worshipper makes a supplication to Allah for good, except that Allah answers it for him, and he does not seek Allah’s aid for something, except that He aids him in it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی …
Suhaib narrated:“When the Messenger of Allah had performed Asr, Hamasa (he began mumbling)” – and Al—Hams according to some of them, is moving the lips as if he is speaking – “It was said to him: ‘O Messenger of Allah! After you performed Asr, you were mumbling?’ He said: ‘There was a Prophet among the Prophets, he was amazed with his people, so he said: “Who can stand against these people?” Then Allah revealed to him, that they must choose between some of them suffering from wrath, and between enemies of theirs assaulting them. They chose the wrath. So death was inflicted upon them such that seventy-thousand of them died in one day.’”He said: And when he would narrated this Hadith, he …
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» ( سرگوشی ) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا ( ہلانا ) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے ( آخر کار ) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں ( کیا پڑھتے ہیں؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» ( سزا و بدلہ ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ …
Urwah bin Az-Zubair said:"I entered upon Mawan bin Al-Hakam and we mentioned the things for which Wudu' is done. Marwan said: 'Wudu' should be done after touching the penis.' 'Urwah said: 'I did not know that.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "And if any one of you touches his penis, let him do Wudu
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر ( عضو تناسل ) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے تو وضو کرے ۔
Maimunah bin Sa’d who was a servant for the Prophet, narrated that The Messenger of Allah said:“The parable of the woman who walks to impress others in adornments for other than her family, is that of darkness on the Day of Judgment: There is no light for her.”
میمونہ بنت سعد رضی الله عنہا کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، وہ صدوق ہیں، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے۔ ۳- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man said: “Even after death?” He said: “Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۱؎۔
The same tradition has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd through a different chain of transmitters with a slight difference in the wording
ابن عیینہ ، سعید بن ابی ہلال اور محمد بن مطرف ، ان سب نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ابن ابی ہلال کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک نشانہ بنایا گیا " اور ابن مطرف کی حدیث میں ہے : " آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا
Ibn Mas'ud said:Since our acceptance of Islam and the revelation of this verse in which Allah has shown annoyance to us:" Has not the time yet come for the believers that their hearts should be humble for the remembrance of Allah?" (lvii. 16), there was a gap of four years
عون بن عبداللہ کے والد سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذ ریعے سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے درمیان چار سال سے زیادہ کا وقفہ نہ تھا : " کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یادکرتے ہوئے گڑگڑائیں ۔
PickthallLo! those who believe and do good works, theirs will be Gardens underneath which rivers flow. That is the Great Success.
Yusuf AliFor those who believe and do righteous deeds, will be Gardens; beneath which rivers flow: That is the great Salvation, (the fulfilment of all desires),
The agreed readingThose who believed and did right have Gardens with rivers running beneath them. That is the great triumph.
Urduبےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے، جس کے سامنے ساری دنیا حقیر ہے۔
Arabicإنَّ الذين آمنوا وعمِلوا الصالحاتِ لهم جناتٌ تجري من تحتِها الأنهارُ. ذلك هو الفوزُ الكبيرُ الذي تصغُرُ الدنيا كلُّها دونَه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
9. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Mahbub from abu Ayyub from Sama‘ah who has said the following: “This is concerning my question before abu ‘ Abd Allah (a.s.), about the case of a man who had found a certain amount of property from banu ’Umayyah. He gives charity thereof, helps his relatives, performs al-Hajj therewith, so that Allah may forgive what he has earned and says, ’Good deeds remove bad deeds.’ Abu ‘Abd Allah (a.s.), said, ’Sins do not expiate sins. Only good deeds remove sins.’ He (the Imam) then said, ’If he has mixed lawful with unlawful and is not able to distinguish, then it is not harmful.’”
عدہ اصحاب ہمیں احمد بن محمد سے خبر دیتے ہیں، ابن محبوب سے، ابو ایوب سے، سماعہ سے، کہتے ہیں: میں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا جو بنو امیہ کے دور میں مال حاصل کرتے تھے اور وہ اس میں سے صدقہ کرتے ہیں، اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتے ہیں، اور حج کرتے ہیں تاکہ اللہ اسے معاف کر دے جو وہ کمایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے کہا: ایک برائی دوسری برائی کو ختم نہیں کرتی، بلکہ نیکی برائی کو ختم کرتی ہے۔ پھر فرمایا: اگر اس نے حلال کو حرام سے ملا دیا ہے اور ہو اس طرح آپس میں مختلط ہو جائے کہ حلال کو حرام سے الگ نہ کیا جا سکے تو کوئی حرج نہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Yusuf AliAnd He is the Oft-Forgiving, Full of Loving-Kindness,
The agreed readingand He is the Forgiving, the Loving — forgiving to the believers who sin, the commentaries gloss, and showing love to those close to Him.
Urduاور وہ بخشنے والا ہے اس کو جو توبہ کرے، اور بہت محبت کرنے والا ہے — اپنے دوستوں سے محبت کرتا اور انہیں اپنی نوازشوں سے نوازتا ہے۔
Arabicوهو الغفورُ لمن تابَ من عبادِه، الوَدودُ الذي يُحِبُّ أولياءَه ويتودَّدُ إليهم بالكرامةِ.
Yusuf AliDoer (without let) of all that He intends.
The agreed readingdoer of whatever He intends. The commentaries take the names together as the answer to the trench: the One who forgives and loves is also the One nothing can stop.
Urduجو ارادہ کرے اسے کر گزرنے والا ہے؛ نہ کوئی اسے عاجز کر سکتا ہے اور نہ اس کے ارادے کے آگے کوئی رکاوٹ ٹھہر سکتی ہے۔
Arabicفعَّالٌ لما يريدُ، لا يُعجِزُه شيءٌ ولا يمتنعُ عليه مرادٌ ولا يَحُولُ دونَه حائلٌ.
The agreed readingof Pharaoh and Thamūd? The commentaries agree the two are named as cases already settled, so that what happened to them stands as the answer.
Urduیعنی فرعون اور ثمود۔ اللہ نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے ہلاک کر دیا، اور اس میں بعد والوں کے لیے عبرت ہے۔
Arabicفرعونَ وثمودَ. وقد أهلكَهم اللهُ بكفرِهم، وفي ذلك عبرةٌ لمن بعدَهم.
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them.” A man said: “Even after death?” He said: “Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet of Allah is alive and receives provision.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۱؎۔
The agreed readingon a guarded tablet — guarded, the commentaries agree, from the devils and from any alteration.
Urduلوحِ محفوظ میں لکھا ہوا، جہاں نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے، نہ تحریف، نہ کمی اور نہ زیادتی۔
Arabicفي لوحٍ محفوظٍ من التبديلِ والتحريفِ والزيادةِ والنقصِ.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 2 من كتب أهل السنة، 6 من كتب الشيعة8 reports cited here — 2 Sunnī, 6 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 6 شیعہ کتب سے
2 - قال: أخبرني أبو بكر محمد بن عمر الجعابي قال: حدثنا أبو عبد الله الحسين بن علي المالكي قال: حدثنا أبو الصلت الهروي قال: حدثنا الرضا علي بن موسى عليهما السلام، عن أبيه موسى بن جعفر، عن أبيه جعفر بن محمد، عن أبيه محمد بن علي، عن أبيه علي بن الحسين زين العابدين، عن أبيه الحسين بن علي الشهيد، عن أبيه أمير المؤمنين علي بن أبي طالب عليهم السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: الإيمان قول مقول، وعمل معمول، وعرفان العقول . قال أبو الصلت: فحدثت بهذا الحديث في مجلس أحمد بن حنبل، فقال لي أحمد: يا أبا الصلت لو قرء هذا الإسناد على المجانين لأفاقوا.
2. He said: Abu Bakr, Muhammad ibn Umar al-Ji’abi reported from Abu Abdillah al-Husayn ibn ‘Ali al-Maliki, who reported from Abu al-Swalt al-Hirawi, who reported from al-Ridha, ‘Ali ibn Musa, peace be upon him, from his father Musa ibn Ja’far, peace be upon him, from his father Ja’far ibn Muhammad, peace be upon him, from his father Muhammad ibn ‘Ali, peace be upon him, from his father ‘Ali ibn al-Husayn Zainul Abedeen, peace be upon him, from his father al-Husayn ibn ‘Ali al-Shaheed, peace be upon him, from his father Amirul Mu’mineen ‘Ali ibn Abi Talib, peace be upon him, who reported that: The Prophet, peace be upon him and his progeny, said: "Faith is a statement to be uttered, a deed …
کہا: ابو بکر محمد بن عمر الجعابی نے کہا: ابو عبد الله الحسین بن علی نے کہا: ابو الصلت نے کہا: الرضا علی بن موسی علیہ السلام نے اپنے باپ موسی سے، اپنے باپ جعفر سے، اپنے باپ محمد سے، اپنے باپ علی بن الحسین زین العابدین سے، اپنے باپ الحسین الشہید سے، اپنے باپ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب سے کہا: رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: الایمان قول مقول اور عمل معمول اور عرفان العقول۔ ابو الصلت کہا: میں نے یہ حدیث احمد بن حنبل کی مجلس میں سنائی تو احمد نے کہا: اے ابو الصلت اگر یہ اسناد المجانین کو پڑھا جائے تو وہ ہوش میں آجائیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
11 - حدثنا الحسين بن إبراهيم بن أحمد المؤدب رضي الله عنه، قال: حدثنا علي بن إبراهيم بن هاشم، عن أبيه، عن علي بن معبد، عن الحسين بن خالد، عن علي بن موسى الرضا، عن أبيه موسى بن جعفر، عن أبيه جعفر بن محمد، عن أبيه محمد بن علي، عن أبيه علي بن الحسين، عن أبيه الحسين بن علي، عن أبيه علي ابن أبي طالب عليهم السلام، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: قال الله جل جلاله: من لم يرض بقضائي ولم يؤمن بقدري فليلتمس إلها غيري، وقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: في كل قضاء الله خيرة للمؤمن.
11. Al- Husayn ibn Ibrahim ibn Ahmad al-Mu`adab (RA) said: `Ali ibn Ibrahim ibn Hashim said, on the authority of his father, on the authority fo `Ali ibn Ma`bad, on the authority of al-Husayn ibn Khalid, on the authority of `Ali ibn Musa al-Rida, on the authority of his father Musa ibn Ja`far, on the authority of his father Ja`far ibn Muhammad, on the authority of his father Muhammad ibn `Ali, on the authority of his father `Ali ibn al-Husayn, on the authority of his father al-Husayn ibn `Ali, on the authority of his father `Ali ibn Abu Talib (AS) that I heard the Messenger of Allah (SA) saying, “Allah, Great be His Glory, says: `Whoever is displeased with My Destiny, and does not believe …
۱۱۔ الحسين بن إبراهيم بن أحمد المؤدب رضي الله عنه نے ہمیں حدیث کی، کہا: علي بن إبراهيم بن هاشم نے مجھے حدیث کی، اپنے والد سے، علي بن معبد سے، الحسين بن خالد سے، علي بن موسى الرضا سے، اپنے والد موسى بن جعفر سے، اپنے والد جعفر بن محمد سے، اپنے والد محمد بن علي سے، اپنے والد علي بن الحسين سے، اپنے والد الحسين بن علي سے، اپنے والد علي بن أبي طالب علیہم السلام سے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے سنا: اللہ جل جلاله فرماتے ہیں: جو میری قضا سے ناراض ہو اور میری قدر پر ایمان نہ لائے تو وہ مجھے چھوڑ کر کوئی اور معبود تلاش کرے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر قضاء میں اللہ کی طرف سے مومن کے لیے بہتری ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
9 - قال: حدثنا أبو بكر محمد بن عمر الجعابي يوم الاثنين لخمس بقين من شعبان سنة ثلاث وخمسين وثلاثمائة قال: حدثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله بن علي بن الحسين بن زيد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب عليه السلام قال: حدثني الرضا علي بن موسى، عن أبيه موسى بن جعفر، عن أبيه جعفر بن محمد، عن أبيه محمد بن علي، عن أبيه علي بن الحسين، عن أبيه الحسين بن علي، عن أبيه أمير المؤمنين علي بن أبي طالب عليهم السلام قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وآله: يا علي بكم يفتح هذا الأمر، وبكم يختم ، عليكم بالصبر، فإن العاقبة للمتقين، أنتم حزب الله، وأعداؤكم حزب الشيطان، طوبى لمن أطاعكم، وويل لمن عصاكم، أنتم حجة الله على خلقه، والعروة الوثقى، من تمسك بها اهتدى، ومن تركها ضل. أسأل الله لكم الجنة، لا يسبقكم أحد إلى …
9. He said: Abu Bakr Muhammad ibn Umar al-Ji’abi reported to me on Monday, when five days of Shaban remained, in the year 353, from Abu Ja’far Muhammad ibn Abdillah ibn ‘Ali ibn al-Husayn ibn Zayd ibn ‘Ali ibn Al-Husayn ibn ‘Ali Abi Talib (peace be upon him) who said: It was related to me by al-Ridha ‘Ali ibn Musa from his father Musa ibn Ja’far, from his father Ja’far ibn Muhammad, from his father Muhammad ibn ‘Ali, from his father ‘Ali ibn al-Husayn, from his father al-Husayn ibn ‘Ali from his father Amirul Mu’mineen ‘Ali ibn Abu Talib, Peace be upon them all, that: The Prophet, peace be upon him and his progeny said: "O ‘Ali! With you (all) has Allah begun this matter (i.e. Imamat) and …
نو۔ کہا: ابو بکر محمد بن عمر الجعابی نے ہمیں ہفتہ کے دن روایت کی جب شعبان کے پانچ دن باقی رہ گئے سنہ 353 میں، کہا: ابو جعفر محمد بن عبد اللہ بن علی بن حسین بن زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب علیہ السلام نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: الرضا علی بن موسیٰ نے مجھ سے حدیث سنائی، اپنے والد موسیٰ بن جعفر سے، اپنے والد جعفر بن محمد سے، اپنے والد محمد بن علی سے، اپنے والد علی بن حسین سے، اپنے والد حسین بن علی سے، اپنے والد امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہم السلام سے، کہا: رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و آلہ نے مجھ سے فرمایا: اے علی! تمہارے ذریعے یہ امر شروع ہو رہا ہے اور تمہارے ذریعے ختم ہو گا۔ صبر اختیار کرو، کیونکہ آخری کامیابی متقی لوگوں کے لیے ہے۔ تم اللہ کی جماعت ہو اور تمہارے دشمن شیطان کی جماعت …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated 'Ali bin Husain:from his father, from his grandfather, 'Ali bin Abi Talib: "The Prophet (ﷺ) took Hasan and Husain by the hand and said: 'Whoever loves me and loves these two, and their father and mother, he shall be with me in my level on the Day of Judgement
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”جو مجھ سے محبت کرے، اور ان دونوں سے، اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت کرے، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے جعفر بن محمد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated Al-Harith Al-A'war:"I passed by the Masjid when the people were absorbed in story-telling. So I entered upon 'Ali and said: 'O Commander of the believers! Do you not see the people are becoming engrossed in story-telling?' He said: 'They have been consumed with it?' I said: "Yes.' He said: 'As for me, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "Indeed there comes a Fitnah" So I said: "What is the way out from it O Messenger of Allah?" He said: "Allah's book. In it is news for what happened before you, and information about what comes after you, and judgement for what happens between you. It is the Criterion (between right and wrong) without jest. Whoever among the oppressive …
حارث اعور کہتے ہیں کہ مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں، میں علی رضی الله عنہ کے پاس پہنچا۔ میں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں؟ ۔ انہوں نے کہا: کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: مگر میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب کوئی فتنہ برپا ہو گا“، میں نے کہا: اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہو گی؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان کے امور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے، اور وہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے۔ …
7 - حدثنا أحمد بن الحسن القطان، قال: حدثنا الحسن بن علي السكري قال: حدثنا محمد بن زكريا، عن جعفر بن محمد بن عمارة، عن أبيه، عن جعفر بن محمد، عن أبيه محمد بن علي، عن أبيه علي بن الحسين، عن أبيه الحسين عليهم السلام، قال: قال أمير المؤمنين عليه السلام: إن للجسم ستة أحوال: الصحة والمرض والموت و الحياة والنوم واليقظة، وكذلك الروح فحياتها علمها، وموتها جهلها، ومرضها شكها، وصحتها يقينها، ونومها غفلتها، ويقظتها حفظها، ومن الدليل على أن الأجسام محدثة أن الأجسام لا تخلو من أن تكون مجتمعة أو مفترقة، ومتحركة أو ساكنة، والاجتماع والافتراق والحركة والسكون محدثة، فعلمنا أن الجسم محدث لحدوث ما لا ينفك منه ولا يتقدمه. فإن قال قائل: ولم قلتم: إن الاجتماع والافتراق مبنيان وكذلك الحركة والسكون حتى زعمتم أن …
7. Ahmad ibn al-Hasan al-Qittan said: al-Hasan ibn `Ali al-Sukkari said: Muhammad ibn Zakariyya said, on the authority of Ja`far ibn Muhammad ibn `Uamrah, on the authority of his father, on the authority of Ja`far ibn Muhammad, on the authority of his father Muhammad ibn `Ali, on the authority of his father `Ali ibn al-Husayn, on the authority of his father, al-Husayn (AS) that The Commander of the Faithful (AS) said: Verily, the body has six states: health, illness, death, life, sleep and wakefulness. Similar is the spirit: its life is its knowledge, its death is its ignorance, its illness is its doubt, its health is its certainty, it sleep is its negligence, and its wakefulness is its …
ہمیں احمد بن الحسن القطان نے خبر دی، انہوں نے کہا: الحسن بن علی السکری نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: محمد بن زکریا نے ہمیں خبر دی جعفر بن محمد بن عمارہ کے واسطے سے، وہ اپنے باپ سے، وہ جعفر بن محمد سے، وہ اپنے باپ محمد بن علی سے، وہ اپنے باپ علی بن الحسین سے، وہ اپنے باپ الحسین علیہم السلام سے، کہا: امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: جسم کے لیے چھ حالات ہیں: صحت، بیماری، موت، حیات، نیند اور بیداری۔ روح کے لیے بھی اسی طرح ہے: اس کی حیات اس کا علم ہے، اس کی موت اس کی جہالت ہے، اس کی بیماری اس کا شک ہے، اس کی صحت اس کا یقین ہے، اس کی نیند اس کی غفلت ہے، اور اس کی بیداری اس کا محفوظ رہنا ہے۔ اور جسموں کے حادث ہونے پر دلیل یہ ہے کہ جسمیں کبھی جمع سے خالی نہیں ہو سکتیں یا الگ ہونے سے، اور نہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
31-191 Al-Hassan ibn Muhammad ibn Sa’eed al-Hashemi narrated in the Kufa Mosque that Forat ibn Ibrahim ibn Forat al-Kufi quoted on the authority of Abul Hassan Muhammad ibn Dhaheer, on the authority of Abul Hassan Muhammad ibn Al-Husayn, the brother of Yunus al-Baghdadi at Baghdad, on the authority of Muhammad ibn Yaqoob al-Nahsheli that Ali ibn Musa Ar-Ridha’ (a.s.) quoted on the authority of his father Musa ibn Ja’far (a.s.), on the authority of his father Ja’far ibn Muhammad (a.s.), on the authority of his father Muhammad ibn Ali (a.s.), on the authority of his father Al-Husayn ibn Ali (a.s.), on the authority of his father Ali ibn Abi Talib (a.s.), on the authority of the Prophet (S), …
حسن بن محمد بن سعید الہاشمی نے کوفے کی مسجد میں روایت کیا ہے کہ فرات بن ابراہیم بن فرات الکوفی نے کہا کہ ابو الحسن محمد بن ظہیر نے روایت کیا، انہوں نے ابو الحسن محمد بن حسین بن اخی یونس البغدادی سے روایت کیا بغداد میں، انہوں نے محمد بن یعقوب النہشلی سے روایت کی، انہوں نے علی بن موسیٰ الرضا (علیہ السلام) سے روایت کی، وہ اپنے والد موسیٰ بن جعفر (علیہ السلام) سے، وہ اپنے والد جعفر بن محمد (علیہ السلام) سے، وہ اپنے والد ابو محمد بن علی سے، وہ اپنے والد علی بن حسین سے، وہ اپنے والد حسین بن علی سے، وہ اپنے والد علی بن ابی طالب (علیہ السلام) سے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے، وہ جبریل سے، وہ میکائیل سے، وہ اسرافیل سے، کہ اللہ تعالیٰ جل جلاله نے کہا: میں اللہ ہوں، میرے علاوہ کوئی خدا نہیں۔ میں نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
24 - أخبرنا أحمد بن محمد بن سعيد قال: حدثنا أحمد بن يوسف بن يعقوب الجعفي قال: حدثنا إسماعيل بن مهران، قال: حدثنا الحسن بن علي بن أبي حمزة، عن أبيه، عن أبي بصير، عن أبي عبد الله أنه قال: إذا صعد العباسي أعواد منبر مروان أدرج ملك بني العباس. وقال: قال لي أبي (يعني الباقر ) لا بدّ لنار من آذربيجان لا يقوم لها شيء، فإذا كان ذلك فكونوا أحلاس بيوتكم، وألبدوا ما ألبدنا، فإذا تحرك متحركنا فاسعوا إليه ولو حبواً، والله لكأني أنظر إليه بين الركن والمقام يبايع الناس على كتاب جديد على العرب شديد. قال: وويل للعرب من شر قد اقترب.
(24) Ahmad bin Muhammad bin Sa’eed narrated from Ahmad bin Yousuf bin Ya’qoob al-Ju’fi from Issma’eel bin Mihran from al-Hasan bin Ali bin Abu Hamza from his father from Abu Baseer that Abu Abdullah as-Sadiq (as) had said: “If the Abbasid ruler ascends the minbar of Marwan, the state of the Abbasids will begin to decline gradually. My father has said to me: “There must be a fire coming from Azerbaijan that will destroy everything. When that occurs, you are to stay at homes as long as we have stayed. When our man (al-Qa’im) rises, then hurry up to him even crawling. By Allah, as if I see him between the corner and the temple being paid homage to rule over the people with a new method. He …
اخبار دیا احمد بن محمد بن سعید نے، کہا ہمیں حدیث سنائی احمد بن یوسف بن یعقوب الجعفی نے، کہا ہمیں حدیث سنائی اسماعیل بن مہران نے، کہا ہمیں حدیث سنائی الحسن بن علی بن ابی حمزہ نے، ان کے باپا سے، ابو بصیر سے، ابو عبداللہ سے، انہوں نے فرمایا: جب عباسی حاکم مروان کے منبر پر چڑھے تو بنی عباس کی حکومت تدریجی طور پر ختم ہونے لگے گی۔ اور کہا: میرے باپا (یعنی الباقر) نے مجھ سے کہا: آذربائیجان سے ایک آگ ضرور آنی ہے جس کے آگے کوئی چیز نہیں ٹھہرے گی۔ تو جب ایسا ہو تو اپنے گھروں میں بیٹھے رہو جیسا کہ ہم بیٹھے رہے۔ اور جب ہمارا حاکی (قائم) اٹھے تو اس کی طرف بھاگو، خواہ الہاتے ہوئے۔ اللہ کی قسم! میں ایسے اسے دیکھتا ہوں جو رکن اور مقام کے درمیان لوگوں کی بیعت لے رہا ہو، ایک نیے طریقہ پر، عربوں کے لیے سخت۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا