Surah 63 of 114 · Madani · 11 ayat

Al-Munafiqun المنافقون

The Hypocrites

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
63:1#
إِذَا جَآءَكَ ٱلْمُنَٰفِقُونَ قَالُوا۟ نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ لَكَٰذِبُونَ

PickthallWhen the hypocrites come unto thee (O Muhammad), they say: We bear witness that thou art indeed Allah's messenger. And Allah knoweth that thou art indeed His messenger, and Allah beareth witness that the hypocrites indeed are speaking falsely.

Yusuf AliWhen the Hypocrites come to thee, they say, "We bear witness that thou art indeed the Messenger of Allah." Yea, Allah knoweth that thou art indeed His Messenger, and Allah beareth witness that the Hypocrites are indeed liars.

The agreed readingWhen the hypocrites come to him they say: we bear witness that you are God's messenger. The words themselves are true, and God confirms them. What God calls a lie is not the statement but the claim carried inside it — that the heart agrees with the tongue. A testimony the heart does not stand behind is not testimony at all.
Urduجب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ یہ الفاظ خود سچے ہیں اور اللہ ان کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اللہ جس چیز کو جھوٹ قرار دیتا ہے وہ بیان نہیں بلکہ اس میں چھپا ہوا دعویٰ ہے، یعنی یہ کہ دل زبان کی تصدیق کرتا ہے۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ ان کا مطلب اپنے قول ہم گواہی دیتے ہیں سے یہ تھا کہ ان کے دل ان کی زبانوں سے موافقت رکھتے تھے، تو اللہ نے انہیں اسی موافقت کے دعوے میں جھٹلا دیا۔ علامہ سعدی لکھتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے اور وہاں اسلام زیادہ اور مضبوط ہو گیا، تو اوس و خزرج میں سے کچھ لوگ ایمان ظاہر اور کفر چھپانے لگے تاکہ ان کا مقام باقی رہے اور ان کا خون محفوظ رہے۔
Arabicإذا جاءك المنافقون قالوا نشهد إنك لرسول الله والله يعلم إنك لرسوله والله يشهد إن المنافقين لكاذبون. فسر الزمخشري هذا بأنهم أرادوا بقولهم نشهد إنك لرسول الله شهادة واطأت فيها قلوبهم ألسنتهم، فكذبهم الله في هذه المواطأة المزعومة. وذكر السعدي أنه لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة، وكثر الإسلام فيها وعز، صار أناس من أهلها من الأوس والخزرج يظهرون الإيمان ويبطنون الكفر ليبقى جاههم وتحقن دماؤهم. وفي تفسير مقباس أن نزول هذه السورة كان عقب خصومة المهاجري والأنصاري.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 211

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ، نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا ائْتُمِنَ خَانَ ‏"‏ ‏.‏
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) said:Three are the signs of a hypocrite: when he spoke he told a lie, when he made a promise he acted treacherously against it, when he was trusted he betrayed
نافع بن مالک بن ابی عامر نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ منافق کی تین علامتیں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو ( اس کی ) خلاف ورزی کرے اور جب اسے ( کسی چیز کا ) امین بنایا جائے تو ( اس میں ) خیانت کرے ۔ ‘ ‘

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱلْمُنَٰفِقُونَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 34

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ شُعْبَةُ عَنِ الأَعْمَشِ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: The Prophet (ﷺ) said, "Whoever has the following four (characteristics) will be a pure hypocrite and whoever has one of the following four characteristics will have one characteristic of hypocrisy unless and until he gives it up. 1. Whenever he is entrusted, he betrays. 2. Whenever he speaks, he tells a lie. 3. Whenever he makes a covenant, he proves treacherous. 4. Whenever he quarrels, he behaves in a very imprudent, evil and insulting manner
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے یہ حدیث بیان کی، ان سے سفیان نے، وہ اعمش بن عبیداللہ بن مرہ سے نقل کرتے ہیں، وہ مسروق سے، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار عادتیں جس کسی میں ہوں تو وہ خالص منافق ہے اور جس کسی میں ان چاروں میں سے ایک عادت ہو تو وہ ( بھی ) نفاق ہی ہے، جب تک اسے نہ چھوڑ دے۔ ( وہ یہ ہیں ) جب اسے امین بنایا جائے تو ( امانت میں ) خیانت کرے اور بات کرتے وقت جھوٹ بولے اور جب ( کسی سے ) عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے اور جب ( کسی سے ) لڑے تو گالیوں پر اتر آئے۔ اس حدیث کو شعبہ نے ( بھی ) سفیان کے ساتھ اعمش سے روایت کیا ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَكَٰذِبُونَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4904

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ ابْنَ سَلُولَ، يَقُولُ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا، وَلَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ‏.‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي، فَذَكَرَ عَمِّي لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏{‏فَدَعَانِي فَحَدَّثْتُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا، وَكَذَّبَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏}‏ وَصَدَّقَهُمْ، فَأَصَابَنِي غَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ قَطُّ، فَجَلَسْتُ فِي بَيْتِي وَقَالَ عَمِّي مَا أَرَدْتَ …
Narrated Zaid bin Arqam:While I was with my uncle, I heard `Abdullah bin Ubai bin Salul saying, "Do not spend on those who are with Allah's Messenger (ﷺ), that they may disperse and go away (from him). And if we return to Medina, surely, the more honorable will expel therefrom the meaner. "I mentioned that to my uncle who, in turn, mentioned it to the Prophet. The Prophet (ﷺ) called me and I told him about that. Then he sent for `Abdullah bin Ubai and his companions, and they swore that they did not say so. The Prophet (ﷺ) disbelieved my statement and believed theirs. I was distressed as I have never been before, and I remained in my house. My uncle said to me, "You just wanted the Prophet …
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے اپنے چچا کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہو جائیں اور اگر اب ہم مدینہ واپس لوٹیں گے تو ہم میں سے جو عزت والے ہیں ان ذلیلوں کو نکال باہر کر دیں گے۔ میں نے اس کا ذکر اپنے چچا سے کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کی تصدیق کر دی تو مجھے اس کا اتنا افسوس ہوا کہ پہلے کبھی کسی بات پر نہ ہوا ہو گا، میں غم سے اپنے گھر میں بیٹھ گیا۔ میرے چچا نے کہا کہ تمہارا کیا ایسا خیال تھا کہ نبی کریم صلی اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

نَشْهَدُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4901

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ ابْنَ سَلُولَ يَقُولُ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا‏.‏ وَقَالَ أَيْضًا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ‏.‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي فَذَكَرَ عَمِّي لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ وَأَصْحَابِهِ، فَحَلَفُوا مَا قَالُوا، فَصَدَّقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَذَّبَنِي، فَأَصَابَنِي هَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ، فَجَلَسْتُ …
Narrated Zaid bin Arqam:I was with my uncle and I heard `Abdullah bin Ubai bin Salul, saying, "Don't spend on those who are with Allah's Messenger (ﷺ) that they may disperse and go away from him." He also said, "If we return to Medina, surely, the more honorable will expel the meaner." So I informed my uncle of that and then my uncle informed Allah's Messenger (ﷺ) thereof. Allah's Messenger (ﷺ) sent for `Abdullah bin Ubai and his companions. They swore that they did not say anything of that sort Allah's Messenger (ﷺ) deemed their statement true and rejected mine. Thereof I became as distressed as I have never been before, and stayed at home. Then Allah revealed (Surat Al-Munafiqin): 'When …
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اپنے چچا ( سعد بن عبادہ یا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما ) کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے بھاگ جائیں۔ یہ بھی کہا کہ اگر اب ہم مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال کر باہر کر دے گا۔ میں نے اس کی یہ بات چچا سے آ کر کہی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا انہوں نے قسم کھا لی کہ ایسی …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَرَسُولُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3312

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىِّ ابْنَ سَلُولَ، يَقُولُ لأَصْحَابِهِ ‏:‏ ‏(‏ لا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا ‏)‏ و ‏(‏لئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ‏)‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي فَذَكَرَ ذَلِكَ عَمِّي لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثْتُهُ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا فَكَذَّبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله …
Zaid bin Aslam said:“I was with my uncle when I heard Abdullah bin Ubayy bin Salul saying to his companions: Do not spend on those who are with the Messenger of Allah until they desert from him. If we return to Al-Madinah then the more honorable will expel the meaner among them. So I mentioned that to my uncle, then my uncle mentioned it to the Prophet. So the Prophet called for me to narrated it to him. Then the Messenger of Allah sent message to Abdullah bin Ubayy and his companions but they took an oath that they had not said it. So he did not believe me and he trusted what they said. I was struck with distress the likes of which I had not suffered before. So I just at in my house, and …
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا، میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو اپنے ساتھیوں سے کہتے ہوئے سنا کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں، یہاں تک کہ وہ تتربتر ہو جائیں، اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا، میں نے یہ بات اپنے چچا کو بتائی تو میرے چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر دیا، آپ نے مجھے بلا کر پوچھا تو میں نے آپ کو ( بھی ) بتا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا کر پوچھا، تو انہوں نے قسم کھا لی کہ ہم نے نہیں کہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا اور اسے سچا تسلیم کر لیا، اس کا مجھے اتنا رنج و ملال ہوا کہ اس جیسا صدمہ، اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

قَالُوا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Saʿdī في هذه الآية

Cited by al-Saʿdī on this āyah

al-Saʿdī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4672

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّنَهُ فِيهِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِثَوْبِهِ فَقَالَ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَهْوَ مُنَافِقٌ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ أَوْ أَخْبَرَنِي فَقَالَ ‏{‏اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ …
Narrated Ibn `Umar:When `Abdullah bin Ubai died, his son `Abdullah bin `Abdullah came to Allah's Messenger (ﷺ) who gave his shirt to him and ordered him to shroud his father in it. Then he stood up to offer the funeral prayer for the deceased, but `Umar bin Al-Khattab took hold of his garment and said, "Do you offer the funeral prayer for him though he was a hypocrite and Allah has forbidden you to ask forgiveness for hypocrites?" The Prophet (ﷺ) said, "Allah has given me the choice (or Allah has informed me) saying: "Whether you, O Muhammad, ask forgiveness for them, or do not ask forgiveness for them, even if you ask forgiveness for them seventy times, Allah will not forgive them," (9.80) …
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ بن ابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کرتہ عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اس کرتے سے اسے کفن دیا جائے پھر آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے تیار ہو گئے حالانکہ یہ منافق ہے، اللہ تعالیٰ بھی آپ کو ان کے لیے استغفار سے منع کر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے۔ یا راوی نے «خيرني» کی جگہ لفظ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَعْلَمُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3313

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الأَزْدِيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ مَعَنَا أُنَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ فَكُنَّا نَبْتَدِرُ الْمَاءَ وَكَانَ الأَعْرَابُ يَسْبِقُونَّا إِلَيْهِ فَسَبَقَ أَعْرَابِيٌّ أَصْحَابَهُ فَسَبَقَ الأَعْرَابِيُّ فَيَمْلأُ الْحَوْضَ وَيَجْعَلُ حَوْلَهُ حِجَارَةً وَيَجْعَلُ النَّطْعَ عَلَيْهِ حَتَّى يَجِيءَ أَصْحَابُهُ ‏.‏ قَالَ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَعْرَابِيًّا فَأَرْخَى زِمَامَ نَاقَتِهِ لِتَشْرَبَ فَأَبَى أَنْ يَدَعَهُ فَانْتَزَعَ قِبَاضَ الْمَاءِ فَرَفَعَ الأَعْرَابِيُّ خَشَبَتَهُ فَضَرَبَ …
Zaid bin Arqam said:“We were participating in a battle along with the Messenger of Allah, and there were some people from the Bedouins with us. So we all rushed toward some water and the Bedouins raced us to it. One of the Bedouins beat his companions to it and he (tried to obstruct) the pond, he placed rocks around it and he put a leather sheet over it until his companions came.” He said: “A man among the Ansar reached the Bedouin and he dropped the reigns of his camel to drink, but the Bedouin would not allow him. So he started removing the barriers around the water, but the Bedouin raised a stick beating the Ansari man on the head, and smashed it. He went to Abdullah bin Ubayy, the head …
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( غزوہ بنی مصطلق میں ) جہاد کے لیے نکلے، ہمارے ساتھ کچھ اعرابی بھی تھے ( جب کہیں پانی نظر آتا ) تو ہم ایک دوسرے سے پہلے پہنچ کر حاصل کر لینے کی کوشش کرتے، اعرابی پانی تک پہنچنے میں ہم سے آگے بڑھ جاتے ( اس وقت ایسا ہوا ) ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، جب آگے نکلتا تو حوض کو بھرتا اور اس کے اردگرد پتھر رکھتا، اس پر چمڑے کی چٹائی ڈال دیتا، پھر اس کے ساتھی آتے، اسی موقع پر انصاریوں میں سے ایک اعرابی کے پاس آیا، اور اپنی اونٹنی کی مہار ڈھیلی کر دی تاکہ وہ پانی پی لے، مگر اس اعرابی شخص نے پانی پینے نہ دیا، انصاری نے باندھ توڑ دیا اعرابی نے لٹھ اٹھائی اور انصاری کے سر پر مار کر اس کا سر توڑ دیا، وہ انصاری …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱللَّهُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās on this āyah

Tanwīr al-Miqbās نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 4655

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلاَؤُكِ ‏.‏ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ …
It was narrated from'Aishah that Barirah came to 'Aishah asking her to help her with her contract of manumission.' Aishah said:"Go back to your masters, and if they agree to let me pay off your contract of manumission, and let your loyalty be to me, then I will do it" Barirah told her masters about that, but they refused and said: "If she wants to seek reward (with Allah) by freeing you, let her do so, but your loyalty will be to us." She told the Messenger of Allah about that , and the Messenger of Allah said to her; "Buy her and set her free, and loyalty belongs to the one who set the slave free," Then the Messenger of Allah said: "What is the matter with people who stipulate conditions …
قتیبہ بن سعید نے ہمیں خبر دی، کہا: لیث نے ہمیں حدیث سنائی، ابن شہاب سے، عروہ سے، عائشہ سے، انہوں نے خبر دی کہ بریرہ عائشہ کے پاس آئی ان سے اپنی کتابت میں مدد مانگنے کے لیے۔ عائشہ نے اس سے کہا: اپنے لوگوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری کتابت ادا کر دوں اور تمہاری ولا میری ہو جائے، تو میں ایسا کروں گی۔ تو بریرہ نے اپنے لوگوں سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے انکار کیا اور کہا: اگر وہ اپنا ثواب رکھنے کے لیے تمہیں آزاد کرنا چاہے تو کرے، لیکن تمہاری ولا ہماری ہے۔ تو اس نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس سے فرمایا: خریدو اور آزاد کرو، کیونکہ ولا اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ایسے لوگوں کو کیا …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4768

وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ـ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ ـ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَةُ ‏"‏‏.‏ الْغَبَرَةُ هِيَ الْقَتَرَةُ‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection Abraham will see his father covered with Qatara and Ghabara. (i.e. having a dark face)
اور ہم سے ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد ( آذر ) کو قیامت کے دن گرد آلود کالا کلوٹا دیکھیں گے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا «غبرة» اور «قترة‏.‏» ہم معنی ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَشْهَدُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

63:2#
ٱتَّخَذُوٓا۟ أَيْمَٰنَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

PickthallThey make their faith a pretext so that they may turn (men) from the way of Allah. Verily evil is that which they are wont to do,

Yusuf AliThey have made their oaths a screen (for their misdeeds): thus they obstruct (men) from the Path of Allah: truly evil are their deeds.

The agreed readingThey took their oaths as a shield — cover for their lives and their property, since a sworn profession of faith put them beyond being fought — and from behind that shield they turned others from God's way. Evil is what they were doing.
Urduانہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا، تو وہ اللہ کے راستے سے روکنے لگے، بےشک وہ برا کام کرتے رہے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ جنۃ کا مطلب پردہ اور آڑ ہے، اور یہ بات نشہد انک لرسول اللہ کی طرف نہیں لوٹتی بلکہ اس آیت کے سببِ نزول کی طرف لوٹتی ہے۔ تفسیر مقباس کہتی ہے کہ یہ ایک وضاحتی جملہ ہے، کیونکہ اللہ کا انہیں ان کے قول ہم گواہی دیتے ہیں میں جھٹلانا ایک سوال پیدا کرتا ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا۔
Arabicاتخذوا أيمانهم جنة فصدوا عن سبيل الله إنهم ساء ما كانوا يعملون. ذكر القرطبي في هذه الآية ثلاث مسائل، أولها أن جنة أي سترة، وليس يرجع إلى قوله نشهد إنك لرسول الله وإنما يرجع إلى سبب الآية التي نزلت. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية استئناف بياني لأن تكذيب الله تعالى إياهم في قولهم للنبي صلى الله عليه وسلم نشهد إنك لرسول الله يثير سؤالا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Saʿdī في هذه الآية

Cited by al-Saʿdī on this āyah

al-Saʿdī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4672

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّنَهُ فِيهِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِثَوْبِهِ فَقَالَ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَهْوَ مُنَافِقٌ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ أَوْ أَخْبَرَنِي فَقَالَ ‏{‏اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ …
Narrated Ibn `Umar:When `Abdullah bin Ubai died, his son `Abdullah bin `Abdullah came to Allah's Messenger (ﷺ) who gave his shirt to him and ordered him to shroud his father in it. Then he stood up to offer the funeral prayer for the deceased, but `Umar bin Al-Khattab took hold of his garment and said, "Do you offer the funeral prayer for him though he was a hypocrite and Allah has forbidden you to ask forgiveness for hypocrites?" The Prophet (ﷺ) said, "Allah has given me the choice (or Allah has informed me) saying: "Whether you, O Muhammad, ask forgiveness for them, or do not ask forgiveness for them, even if you ask forgiveness for them seventy times, Allah will not forgive them," (9.80) …
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ بن ابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کرتہ عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اس کرتے سے اسے کفن دیا جائے پھر آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے تیار ہو گئے حالانکہ یہ منافق ہے، اللہ تعالیٰ بھی آپ کو ان کے لیے استغفار سے منع کر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے۔ یا راوی نے «خيرني» کی جگہ لفظ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

جُنَّةً

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4768

وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ـ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ ـ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَةُ ‏"‏‏.‏ الْغَبَرَةُ هِيَ الْقَتَرَةُ‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection Abraham will see his father covered with Qatara and Ghabara. (i.e. having a dark face)
اور ہم سے ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد ( آذر ) کو قیامت کے دن گرد آلود کالا کلوٹا دیکھیں گے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا «غبرة» اور «قترة‏.‏» ہم معنی ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَصَدُّوا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

63:3#
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ

PickthallThat is because they believed, then disbelieved, therefore their hearts are sealed so that they understand not.

Yusuf AliThat is because they believed, then they rejected Faith: So a seal was set on their hearts: therefore they understand not.

The agreed readingThat is because they professed faith with the tongue and then refused with the heart, and held to the refusal. So their hearts were sealed, and they do not understand; the thing they no longer understand is faith itself.
Urduیہ اس لیے ہے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہو گئے، تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، تو وہ سمجھتے نہیں۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے یہ اعلان ہے کہ منافق دراصل کافر ہے، یعنی زبان سے اقرار کیا پھر دل سے کفر کیا، اور بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لائے پھر مرتد ہو گئے۔ فطبع علی قلوبھم کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ تفسیر مقباس کے مطابق یہ جملہ اتخذوا ایمانھم جنۃ کی علت میں ہے، اور اس کا اشارہ انھم ساء ما کانوا یعملون کے مضمون کی طرف ہے۔
Arabicذلك بأنهم آمنوا ثم كفروا فطبع على قلوبهم فهم لا يفقهون. ذكر القرطبي أن هذا إعلام من الله تعالى بأن المنافق كافر، أي أقروا باللسان ثم كفروا بالقلب، وقيل نزلت الآية في قوم آمنوا ثم ارتدوا، وفطبع على قلوبهم أي ختم عليها. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية في موضع العلة لمضمون جملة اتخذوا أيمانهم جنة، والإشارة إلى مضمون قوله إنهم ساء ما كانوا يعملون.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Saʿdī في هذه الآية

Cited by al-Saʿdī on this āyah

al-Saʿdī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4672

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّنَهُ فِيهِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِثَوْبِهِ فَقَالَ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَهْوَ مُنَافِقٌ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ أَوْ أَخْبَرَنِي فَقَالَ ‏{‏اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ …
Narrated Ibn `Umar:When `Abdullah bin Ubai died, his son `Abdullah bin `Abdullah came to Allah's Messenger (ﷺ) who gave his shirt to him and ordered him to shroud his father in it. Then he stood up to offer the funeral prayer for the deceased, but `Umar bin Al-Khattab took hold of his garment and said, "Do you offer the funeral prayer for him though he was a hypocrite and Allah has forbidden you to ask forgiveness for hypocrites?" The Prophet (ﷺ) said, "Allah has given me the choice (or Allah has informed me) saying: "Whether you, O Muhammad, ask forgiveness for them, or do not ask forgiveness for them, even if you ask forgiveness for them seventy times, Allah will not forgive them," (9.80) …
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ بن ابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کرتہ عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اس کرتے سے اسے کفن دیا جائے پھر آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے تیار ہو گئے حالانکہ یہ منافق ہے، اللہ تعالیٰ بھی آپ کو ان کے لیے استغفار سے منع کر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے۔ یا راوی نے «خيرني» کی جگہ لفظ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Nahj al-Balāgha, no. 1061

[المنافقون :] رَجُلٌ مُنَافِقٌ مُظْهِرٌ لِلاْيمَانِ، مُتَصَنِّعٌ بِالاْسْلاَمِ، لاَيَتَأَثَّمُ وَلاَ يَتَحَرَّجُ، يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللهِ (صلى الله عليه وآله) مُتَعَمِّداً، فَلَوْ عَلِمَ النَّاسُ أَنَّهُ مُنَافِقٌ كَاذِبٌ لَمْ يَقْبَلُوا مِنْهُ، وَلَمْ يُصَدِّقُوا قَوْلَهُ، وَلكِنَّهُمْ قَالُوا: صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ (صلى الله عليه وآله) رآهُ، وَسَمِعَ مِنْهُ، وَلَقِفَ عَنْهُ، فَيَأْخُذُونَ بِقَوْلِهِ،
[First : The hypocrites :] The hypocrite is a person who makes a show of faith and adopts the appearance of a Muslim; he does not hesitate in sinning nor does he keep aloof from vice; he wilfully attributes false things against the Messenger of Allāh - may Allāh bless him and his descendants. If people knew that he was a hypocrite and a liar, they would not accept anything from him and would not confirm what he says. Rather they say that he is the companion of the Prophet, has met him, heard (his sayings) from him and acquired (knowledge) from him. They therefore accept what he says.
منافقون: ایک آدمی منافق ہے، ایمان کو ظاہر کرنے والا، اسلام میں بناؤ بنانے والا، گناہ سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی حرج محسوس کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ پر قصداً جھوٹ بولتا ہے۔ اگر لوگ جان لیں کہ وہ منافق اور جھوٹا ہے تو وہ اس سے کچھ قبول نہیں کریں گے، اور نہ ہی اس کی بات کو سچ سمجھیں گے، لیکن وہ کہتے ہیں: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا ساتھی ہے، اسے دیکھا ہے، اس سے سنا ہے، اس سے سیکھا ہے، تو وہ اس کی بات کو لے لیتے ہیں۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4768

وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ـ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ ـ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَةُ ‏"‏‏.‏ الْغَبَرَةُ هِيَ الْقَتَرَةُ‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection Abraham will see his father covered with Qatara and Ghabara. (i.e. having a dark face)
اور ہم سے ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد ( آذر ) کو قیامت کے دن گرد آلود کالا کلوٹا دیکھیں گے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا «غبرة» اور «قترة‏.‏» ہم معنی ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَا يَفْقَهُونَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

63:4#
وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ وَإِن يَقُولُوا۟ تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ ٱلْعَدُوُّ فَٱحْذَرْهُمْ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ

PickthallAnd when thou seest them their figures please thee; and if they speak thou givest ear unto their speech. (They are) as though they were blocks of wood in striped cloaks. They deem every shout to be against them. They are the enemy, so beware of them. Allah confound them! How they are perverted!

Yusuf AliWhen thou lookest at them, their exteriors please thee; and when they speak, thou listenest to their words. They are as (worthless as hollow) pieces of timber propped up, (unable to stand on their own). They think that every cry is against them. They are the enemies; so beware of them. The curse of Allah be on them! How are they deluded (away from the Truth)!

The agreed readingTheir bodies impress you, and their speech is worth hearing for the polish of it. But they are like timbers propped against a wall — bulk holding nothing up, because they will not understand. Every shout raised, a call across the camp or a cry over something lost, they take to be aimed at them, from what they carry inside. They are the enemy, so beware of them.
Urduاور جب تم انہیں دیکھو تو ان کے جسم تمہیں اچھے لگیں، اور اگر وہ بات کریں تو تم ان کی بات سنو، گویا وہ دیوار سے ٹیکی ہوئی لکڑیاں ہیں، وہ ہر آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں، وہی دشمن ہیں، ان سے بچو۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ اجسامھم سے مراد ان کی شکل و صورت اور ظاہری وضع ہے، اور وان یقولوا تسمع لقولھم سے مراد عبداللہ بن ابی ہیں۔ زمخشری بتاتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی ایک بڑے جسم والا، خوبصورت، فصیح اور تیز زبان والا شخص تھا، اور منافقین کی ایک جماعت اس کی صفت پر تھی، وہ مدینہ کے سردار تھے، رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے اور اس میں ٹیک لگا کر بیٹھتے۔
Arabicوإذا رأيتهم تعجبك أجسامهم وإن يقولوا تسمع لقولهم كأنهم خشب مسندة يحسبون كل صيحة عليهم هم العدو فاحذرهم. فسر القرطبي أجسامهم بأنها هيئاتهم ومناظرهم، وإن يقولوا تسمع لقولهم يعني عبد الله بن أبي. وذكر الزمخشري أن عبد الله بن أبي كان رجلا جسيما صبيحا فصيحا ذلق اللسان، وقوم من المنافقين في مثل صفته، وهم رؤساء المدينة، وكانوا يحضرون مجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم فيستندون فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Saʿdī في هذه الآية

Cited by al-Saʿdī on this āyah

al-Saʿdī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4672

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّنَهُ فِيهِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِثَوْبِهِ فَقَالَ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَهْوَ مُنَافِقٌ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ أَوْ أَخْبَرَنِي فَقَالَ ‏{‏اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ …
Narrated Ibn `Umar:When `Abdullah bin Ubai died, his son `Abdullah bin `Abdullah came to Allah's Messenger (ﷺ) who gave his shirt to him and ordered him to shroud his father in it. Then he stood up to offer the funeral prayer for the deceased, but `Umar bin Al-Khattab took hold of his garment and said, "Do you offer the funeral prayer for him though he was a hypocrite and Allah has forbidden you to ask forgiveness for hypocrites?" The Prophet (ﷺ) said, "Allah has given me the choice (or Allah has informed me) saying: "Whether you, O Muhammad, ask forgiveness for them, or do not ask forgiveness for them, even if you ask forgiveness for them seventy times, Allah will not forgive them," (9.80) …
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ بن ابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کرتہ عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اس کرتے سے اسے کفن دیا جائے پھر آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے تیار ہو گئے حالانکہ یہ منافق ہے، اللہ تعالیٰ بھی آپ کو ان کے لیے استغفار سے منع کر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے۔ یا راوی نے «خيرني» کی جگہ لفظ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4768

وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ـ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ ـ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَةُ ‏"‏‏.‏ الْغَبَرَةُ هِيَ الْقَتَرَةُ‏.‏
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection Abraham will see his father covered with Qatara and Ghabara. (i.e. having a dark face)
اور ہم سے ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد ( آذر ) کو قیامت کے دن گرد آلود کالا کلوٹا دیکھیں گے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا «غبرة» اور «قترة‏.‏» ہم معنی ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

خُشُبٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

63:5#
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوْا۟ رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ

PickthallAnd when it is said unto them: Come! The messenger of Allah will ask forgiveness for you! they avert their faces and thou seest them turning away, disdainful.

Yusuf AliAnd when it is said to them, "Come, the Messenger of Allah will pray for your forgiveness", they turn aside their heads, and thou wouldst see them turning away their faces in arrogance.

The agreed readingWhen they are told to come so that God's messenger may ask forgiveness for them, they turn their heads away, and are seen refusing, in arrogance. What is being offered is the one thing they most need, and they treat the offer as beneath them.
Urduاور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ، اللہ کے رسول تمہارے لیے بخشش مانگیں، تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں اور تم انہیں دیکھو گے کہ وہ تکبر کرتے ہوئے منہ موڑ لیتے ہیں۔ قرطبی لکھتے ہیں کہ جب قرآن نے ان کی یہ صفت بیان کی تو ان کے اپنے قبیلے والے ان کے پاس گئے اور کہا: تم نفاق کے سبب رسوا ہو گئے، تو رسول اللہ ﷺ سے توبہ کر لو۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ یہ سر پھیرنا تکبر کی وجہ سے تھا۔ تفسیر مقباس اسے ان کی ضد اور رسول اللہ ﷺ سے دوری کی حالت قرار دیتی ہے۔
Arabicوإذا قيل لهم تعالوا يستغفر لكم رسول الله لووا رؤوسهم ورأيتهم يصدون وهم مستكبرون. ذكر القرطبي أنه لما نزل القرآن بصفتهم مشى إليهم عشائرهم وقالوا افتضحتم بالنفاق فتوبوا إلى رسول الله. وذكر ابن كثير أن الله يخبر عن المنافقين، عليهم لعائن الله، أنهم إذا قيل لهم تعالوا يستغفر لكم رسول الله لووا رؤوسهم، أي صدوا وأعرضوا عما قيل لهم، استكبارا. وفي تفسير مقباس أن هذا حالهم في العناد ومجافاة الرسول صلى الله عليه وسلم والإعراض عن التفكر في الآخرة.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Ṭabarī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Ṭabarī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3314

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، رضى الله عنه أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ‏:‏ ‏(‏لئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ‏)‏ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَحَلَفَ مَا قَالَهُ فَلاَمَنِي قَوْمِي وَقَالُوا مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذِهِ فَأَتَيْتُ الْبَيْتَ وَنِمْتُ كَئِيبًا حَزِينًا فَأَتَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَتَيْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ …
Al-Hakam bin Utaibah said:“I heard Muhammad bin Ka’b Al-Qurazi – forty years ago – narrating from Zaid bin Arqam [may Allah be pleased with him] that during the battle of Tabuk, Abdullah bin Ubayy said: “If we return to Al-Madinah, indeed the more honorable will expel therefrom the meaner.” He said: ‘So I went to the Prophet and mentioned that to him, but he (Abdullah) took an oath that he did not say it. My people blamed me for that, they said: “What did you expect to accomplish from this?’ So I went to my house and slept full of grief. Then the Prophet came to me’ or ‘I went to him, and he said: “Indeed Allah has verified the truth of what you said.” He said: ‘So this Ayah was revealed: …
حکم بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن کعب قرظی کو چالیس سال سے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کرتے سن رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والے لوگ ذلت والوں کو مدینہ سے ضرور نکال باہر کریں گے، وہ کہتے ہیں: میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اور آپ کو یہ بات بتا دی ( جب اس سے بازپرس ہوئی ) تو وہ قسم کھا گیا کہ اس نے تو ایسی کوئی بات کہی ہی نہیں ہے، میری قوم نے مجھے ملامت کی، لوگوں نے کہا: تجھے اس طرح کی ( جھوٹ ) بات کہنے سے کیا ملا؟ میں گھر آ گیا، رنج و غم میں ڈوبا ہوا لیٹ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے یا میں آپ کے پاس پہنچا ( راوی کو شک ہو گیا ہے کہ زید بن ارقم رضی الله عنہ نے یہ کہا یا وہ کہا ) آپ نے فرمایا: …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَسْتَغْفِرْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Ṭabarī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4902

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ‏.‏ وَقَالَ أَيْضًا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ أَخْبَرْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلاَمَنِي الأَنْصَارُ، وَحَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ مَا قَالَ ذَلِكَ، فَرَجَعْتُ إِلَى الْمَنْزِلِ فَنِمْتُ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ ‏"‏‏.‏ وَنَزَلَ ‏{‏هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لاَ تُنْفِقُوا‏}‏ الآيَةَ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الأَعْمَشِ …
Narrated Zaid bin Arqam:When `Abdullah bin Ubai said, "Do not spend on those who are with Allah's Messenger (ﷺ)," and also said, "If we return to Medina," I informed the Prophet (ﷺ) of his saying. The Ansar blamed me for that, and `Abdullah bin Ubai swore that he did not say. I returned to my house and slept. Allah's Messenger (ﷺ) then called me and I went to him. He said, "Allah has confirmed your statement." The Verse: "They are the one who say: Spend nothing......(63.7) was revealed
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن کعب قرظی سے سنا، کہا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہ بھی کہا کہ اب اگر ہم مدینہ واپس گئے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال باہر کرے گا تو میں نے یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی۔ اس پر کفار نے مجھے ملامت کی اور عبداللہ بن ابی نے قسم کھا لی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی تھی پھر میں گھر واپس آ گیا اور سو گیا۔ اس کے بعد مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طلب فرمایا اور میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

قِيلَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Saʿdī في هذه الآية

Cited by al-Saʿdī on this āyah

al-Saʿdī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4672

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّنَهُ فِيهِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِثَوْبِهِ فَقَالَ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَهْوَ مُنَافِقٌ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ أَوْ أَخْبَرَنِي فَقَالَ ‏{‏اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ …
Narrated Ibn `Umar:When `Abdullah bin Ubai died, his son `Abdullah bin `Abdullah came to Allah's Messenger (ﷺ) who gave his shirt to him and ordered him to shroud his father in it. Then he stood up to offer the funeral prayer for the deceased, but `Umar bin Al-Khattab took hold of his garment and said, "Do you offer the funeral prayer for him though he was a hypocrite and Allah has forbidden you to ask forgiveness for hypocrites?" The Prophet (ﷺ) said, "Allah has given me the choice (or Allah has informed me) saying: "Whether you, O Muhammad, ask forgiveness for them, or do not ask forgiveness for them, even if you ask forgiveness for them seventy times, Allah will not forgive them," (9.80) …
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ بن ابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کرتہ عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اس کرتے سے اسے کفن دیا جائے پھر آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے تیار ہو گئے حالانکہ یہ منافق ہے، اللہ تعالیٰ بھی آپ کو ان کے لیے استغفار سے منع کر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے۔ یا راوی نے «خيرني» کی جگہ لفظ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

رَسُولُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī on this āyah

al-Ṭabarī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3312

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىِّ ابْنَ سَلُولَ، يَقُولُ لأَصْحَابِهِ ‏:‏ ‏(‏ لا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا ‏)‏ و ‏(‏لئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ‏)‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي فَذَكَرَ ذَلِكَ عَمِّي لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثْتُهُ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا فَكَذَّبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله …
Zaid bin Aslam said:“I was with my uncle when I heard Abdullah bin Ubayy bin Salul saying to his companions: Do not spend on those who are with the Messenger of Allah until they desert from him. If we return to Al-Madinah then the more honorable will expel the meaner among them. So I mentioned that to my uncle, then my uncle mentioned it to the Prophet. So the Prophet called for me to narrated it to him. Then the Messenger of Allah sent message to Abdullah bin Ubayy and his companions but they took an oath that they had not said it. So he did not believe me and he trusted what they said. I was struck with distress the likes of which I had not suffered before. So I just at in my house, and …
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا، میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو اپنے ساتھیوں سے کہتے ہوئے سنا کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں، یہاں تک کہ وہ تتربتر ہو جائیں، اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا، میں نے یہ بات اپنے چچا کو بتائی تو میرے چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر دیا، آپ نے مجھے بلا کر پوچھا تو میں نے آپ کو ( بھی ) بتا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا کر پوچھا، تو انہوں نے قسم کھا لی کہ ہم نے نہیں کہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا اور اسے سچا تسلیم کر لیا، اس کا مجھے اتنا رنج و ملال ہوا کہ اس جیسا صدمہ، اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَوَّوْا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3313

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الأَزْدِيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ مَعَنَا أُنَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ فَكُنَّا نَبْتَدِرُ الْمَاءَ وَكَانَ الأَعْرَابُ يَسْبِقُونَّا إِلَيْهِ فَسَبَقَ أَعْرَابِيٌّ أَصْحَابَهُ فَسَبَقَ الأَعْرَابِيُّ فَيَمْلأُ الْحَوْضَ وَيَجْعَلُ حَوْلَهُ حِجَارَةً وَيَجْعَلُ النَّطْعَ عَلَيْهِ حَتَّى يَجِيءَ أَصْحَابُهُ ‏.‏ قَالَ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَعْرَابِيًّا فَأَرْخَى زِمَامَ نَاقَتِهِ لِتَشْرَبَ فَأَبَى أَنْ يَدَعَهُ فَانْتَزَعَ قِبَاضَ الْمَاءِ فَرَفَعَ الأَعْرَابِيُّ خَشَبَتَهُ فَضَرَبَ …
Zaid bin Arqam said:“We were participating in a battle along with the Messenger of Allah, and there were some people from the Bedouins with us. So we all rushed toward some water and the Bedouins raced us to it. One of the Bedouins beat his companions to it and he (tried to obstruct) the pond, he placed rocks around it and he put a leather sheet over it until his companions came.” He said: “A man among the Ansar reached the Bedouin and he dropped the reigns of his camel to drink, but the Bedouin would not allow him. So he started removing the barriers around the water, but the Bedouin raised a stick beating the Ansari man on the head, and smashed it. He went to Abdullah bin Ubayy, the head …
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( غزوہ بنی مصطلق میں ) جہاد کے لیے نکلے، ہمارے ساتھ کچھ اعرابی بھی تھے ( جب کہیں پانی نظر آتا ) تو ہم ایک دوسرے سے پہلے پہنچ کر حاصل کر لینے کی کوشش کرتے، اعرابی پانی تک پہنچنے میں ہم سے آگے بڑھ جاتے ( اس وقت ایسا ہوا ) ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، جب آگے نکلتا تو حوض کو بھرتا اور اس کے اردگرد پتھر رکھتا، اس پر چمڑے کی چٹائی ڈال دیتا، پھر اس کے ساتھی آتے، اسی موقع پر انصاریوں میں سے ایک اعرابی کے پاس آیا، اور اپنی اونٹنی کی مہار ڈھیلی کر دی تاکہ وہ پانی پی لے، مگر اس اعرابی شخص نے پانی پینے نہ دیا، انصاری نے باندھ توڑ دیا اعرابی نے لٹھ اٹھائی اور انصاری کے سر پر مار کر اس کا سر توڑ دیا، وہ انصاری …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَرَأَيْتَهُمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3214

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ خَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاعْتَذَرْتُ إِلَيْهِ فَعَذَرَنِي ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏:‏ ‏(‏إنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللاَّتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالاَتِكَ اللاَّتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ ‏)‏ الآيَةَ قَالَتْ فَلَمْ أَكُنْ أَحِلُّ لَهُ لأَنِّي لَمْ أُهَاجِرْ كُنْتُ مِنَ الطُّلَقَاءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو …
Narrated Umm Hani bint Abu Talib:"The Messenger of Allah (ﷺ) proposed to me, but I asked him to excuse me. Then Allah [Most High] revealed: 'Verily We have made lawful to you your wives, to whom you have paid their due, and those whom your right hand possess - whom Allah has given to you, and the daughters of your paternal uncles, and the daughters of your paternal aunts, and the daughters of your maternal uncles, and the daughters of your maternal aunts, who migrated with you, and a believing woman if she offers herself to the Prophet... (33:50)' She said: "So I was not lawful for him because I did not perform Hijrah; I was one of the Tulaqa (those that accepted Islam after the conquest of …
ام ہانی بنت ابی طالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شادی کا پیغام دیا، تو میں نے آپ سے معذرت کر لی ۱؎ تو آپ نے میری معذرت قبول کر لی، پھر اللہ نے یہ آیت «إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورهن وما ملكت يمينك مما أفاء الله عليك وبنات عمك وبنات عماتك وبنات خالك وبنات خالاتك اللاتي هاجرن معك وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اے نبی ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموؤں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے“ ( الاحزاب: ۵۰ ) ، نازل …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَصُدُّونَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7024

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ لأَصْحَابِهِ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ وَهِيَ قِرَاءَةُ مَنْ خَفَضَ حَوْلَهُ ‏.‏ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ - قَالَ - فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ …
Zaid b. Arqam reported:We set out on a journey along with Allah's Messenger (ﷺ) in which we faced many hardships. 'Abdullah b. Ubayy said to his friends: Do not give what you have in your possession to those who are with Allah's Messenger (ﷺ) until they desert him. Zubair said: That is the reciting of that person who recited as min haulahu (from around him) and the other reciting is man haulahia (who are around him). And in this case when we would return to Medina the honourable would drive out the meaner therefrom (lxiv. 8). I came to Allah's Apostle (ﷺ) and informed him about that and he sent someone to 'Abdullah b. Ubayy and he asked him whether he had said that or not. He took an oath …
ہمیں زہیر بن معاویہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابواسحٰق نے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے ، اس میں لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا : جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ نہ ہو جائیں ، ان پر کچھ خرچ نہ کرو ( مہاجرین سے تعاون بند کر دو ۔ ) زہیر نے کہا : اور یہ اس کی قراءت ہے جس نے حوله کو زیر کے ساتھ من حوله پڑھا ۔ اور اس نے ( یہ بھی ) کہا : اگر ہم مدینہ کو لوٹ گئے تو جو عزت والے ہیں وہ وہاں سے ذلت والوں کو نکال دیں گے ۔ ( زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

تَعَالَوْا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4903

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ لأَصْحَابِهِ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ‏.‏ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ‏.‏ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ فَسَأَلَهُ، فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ، قَالُوا كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوا …
Narrated Zaid bin Arqam:We went out with the Prophet (ﷺ) : on a journey and the people suffered from lack of provisions. So `Abdullah bin Ubai said to his companions, "Don't spend on those who are with Allah's Messenger (ﷺ), that they may disperse and go away from him." He also said, "If we return to Medina, surely, the more honorable will expel therefrom the meaner. So I went to the Prophet (ﷺ) and informed him of that. He sent for `Abdullah bin Ubai and asked him, but `Abdullah bin Ubai swore that he did not say so. The people said, "Zaid told a lie to 'Allah's Messenger (ﷺ)." What they said distressed me very much. Later Allah revealed the confirmation of my statement in his saying:-- …
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر ( غزوہ تبوک یا بنی مصطلق ) میں تھے جس میں لوگوں پر بڑے تنگ اوقات آئے تھے۔ عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے منتشر ہو جائیں گے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم اب مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال باہر کرے گا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی اس گفتگو کی اطلاع دی تو آپ نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو بلا کر پوچھا۔ اس نے بڑی قسمیں کھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَهُمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

63:6#
سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ ٱللَّهُ لَهُمْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَٰسِقِينَ

PickthallWhether thou ask forgiveness for them or ask not forgiveness for them is all one for them; Allah will not forgive them. Lo! Allah guideth not the evil-living folk.

Yusuf AliIt is equal to them whether thou pray for their forgiveness or not. Allah will not forgive them. Truly Allah guides not rebellious transgressors.

The agreed readingWhether he asks forgiveness for them or does not ask is the same, and God will not forgive them. The asking was never what was missing; what is missing is on their side, and God does not guide those who have left obedience.
Urduتم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو، دونوں برابر ہیں، اللہ ہرگز انہیں معاف نہیں کرے گا، بےشک اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے یہ سب برابر ہے، آپ کا استغفار کچھ فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا، اور اس کی نظیر سورۃ البقرہ کی وہ آیت ہے جس میں کافروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں ڈرانا نہ ڈرانا برابر ہے۔ تفسیر مقباس اس فقرے سواء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفر لھم کو ایک مکمل جملہ قرار دیتی ہے۔
Arabicسواء عليهم أستغفرت لهم أم لم تستغفر لهم لن يغفر الله لهم إن الله لا يهدي القوم الفاسقين. ذكر القرطبي أن معنى ذلك أن كل ذلك سواء، لا ينفع استغفارك شيئا، لأن الله لا يغفر لهم، ونظيره سواء عليهم أأنذرتهم في آية أخرى. وفي تفسير مقباس أن جملة سواء عليهم أستغفرت لهم أم لم تستغفر لهم جملة مستقلة.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Ṭabarī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Ṭabarī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3314

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، رضى الله عنه أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ‏:‏ ‏(‏لئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ‏)‏ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَحَلَفَ مَا قَالَهُ فَلاَمَنِي قَوْمِي وَقَالُوا مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذِهِ فَأَتَيْتُ الْبَيْتَ وَنِمْتُ كَئِيبًا حَزِينًا فَأَتَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَتَيْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ …
Al-Hakam bin Utaibah said:“I heard Muhammad bin Ka’b Al-Qurazi – forty years ago – narrating from Zaid bin Arqam [may Allah be pleased with him] that during the battle of Tabuk, Abdullah bin Ubayy said: “If we return to Al-Madinah, indeed the more honorable will expel therefrom the meaner.” He said: ‘So I went to the Prophet and mentioned that to him, but he (Abdullah) took an oath that he did not say it. My people blamed me for that, they said: “What did you expect to accomplish from this?’ So I went to my house and slept full of grief. Then the Prophet came to me’ or ‘I went to him, and he said: “Indeed Allah has verified the truth of what you said.” He said: ‘So this Ayah was revealed: …
حکم بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن کعب قرظی کو چالیس سال سے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کرتے سن رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والے لوگ ذلت والوں کو مدینہ سے ضرور نکال باہر کریں گے، وہ کہتے ہیں: میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اور آپ کو یہ بات بتا دی ( جب اس سے بازپرس ہوئی ) تو وہ قسم کھا گیا کہ اس نے تو ایسی کوئی بات کہی ہی نہیں ہے، میری قوم نے مجھے ملامت کی، لوگوں نے کہا: تجھے اس طرح کی ( جھوٹ ) بات کہنے سے کیا ملا؟ میں گھر آ گیا، رنج و غم میں ڈوبا ہوا لیٹ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے یا میں آپ کے پاس پہنچا ( راوی کو شک ہو گیا ہے کہ زید بن ارقم رضی الله عنہ نے یہ کہا یا وہ کہا ) آپ نے فرمایا: …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَسْتَغْفَرْتَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Saʿdī في هذه الآية

Cited by al-Saʿdī on this āyah

al-Saʿdī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4672

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّنَهُ فِيهِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِثَوْبِهِ فَقَالَ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَهْوَ مُنَافِقٌ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ أَوْ أَخْبَرَنِي فَقَالَ ‏{‏اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ …
Narrated Ibn `Umar:When `Abdullah bin Ubai died, his son `Abdullah bin `Abdullah came to Allah's Messenger (ﷺ) who gave his shirt to him and ordered him to shroud his father in it. Then he stood up to offer the funeral prayer for the deceased, but `Umar bin Al-Khattab took hold of his garment and said, "Do you offer the funeral prayer for him though he was a hypocrite and Allah has forbidden you to ask forgiveness for hypocrites?" The Prophet (ﷺ) said, "Allah has given me the choice (or Allah has informed me) saying: "Whether you, O Muhammad, ask forgiveness for them, or do not ask forgiveness for them, even if you ask forgiveness for them seventy times, Allah will not forgive them," (9.80) …
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ بن ابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کرتہ عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اس کرتے سے اسے کفن دیا جائے پھر آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے تیار ہو گئے حالانکہ یہ منافق ہے، اللہ تعالیٰ بھی آپ کو ان کے لیے استغفار سے منع کر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے۔ یا راوی نے «خيرني» کی جگہ لفظ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3313

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الأَزْدِيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ مَعَنَا أُنَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ فَكُنَّا نَبْتَدِرُ الْمَاءَ وَكَانَ الأَعْرَابُ يَسْبِقُونَّا إِلَيْهِ فَسَبَقَ أَعْرَابِيٌّ أَصْحَابَهُ فَسَبَقَ الأَعْرَابِيُّ فَيَمْلأُ الْحَوْضَ وَيَجْعَلُ حَوْلَهُ حِجَارَةً وَيَجْعَلُ النَّطْعَ عَلَيْهِ حَتَّى يَجِيءَ أَصْحَابُهُ ‏.‏ قَالَ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَعْرَابِيًّا فَأَرْخَى زِمَامَ نَاقَتِهِ لِتَشْرَبَ فَأَبَى أَنْ يَدَعَهُ فَانْتَزَعَ قِبَاضَ الْمَاءِ فَرَفَعَ الأَعْرَابِيُّ خَشَبَتَهُ فَضَرَبَ …
Zaid bin Arqam said:“We were participating in a battle along with the Messenger of Allah, and there were some people from the Bedouins with us. So we all rushed toward some water and the Bedouins raced us to it. One of the Bedouins beat his companions to it and he (tried to obstruct) the pond, he placed rocks around it and he put a leather sheet over it until his companions came.” He said: “A man among the Ansar reached the Bedouin and he dropped the reigns of his camel to drink, but the Bedouin would not allow him. So he started removing the barriers around the water, but the Bedouin raised a stick beating the Ansari man on the head, and smashed it. He went to Abdullah bin Ubayy, the head …
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( غزوہ بنی مصطلق میں ) جہاد کے لیے نکلے، ہمارے ساتھ کچھ اعرابی بھی تھے ( جب کہیں پانی نظر آتا ) تو ہم ایک دوسرے سے پہلے پہنچ کر حاصل کر لینے کی کوشش کرتے، اعرابی پانی تک پہنچنے میں ہم سے آگے بڑھ جاتے ( اس وقت ایسا ہوا ) ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، جب آگے نکلتا تو حوض کو بھرتا اور اس کے اردگرد پتھر رکھتا، اس پر چمڑے کی چٹائی ڈال دیتا، پھر اس کے ساتھی آتے، اسی موقع پر انصاریوں میں سے ایک اعرابی کے پاس آیا، اور اپنی اونٹنی کی مہار ڈھیلی کر دی تاکہ وہ پانی پی لے، مگر اس اعرابی شخص نے پانی پینے نہ دیا، انصاری نے باندھ توڑ دیا اعرابی نے لٹھ اٹھائی اور انصاری کے سر پر مار کر اس کا سر توڑ دیا، وہ انصاری …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3214

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ خَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاعْتَذَرْتُ إِلَيْهِ فَعَذَرَنِي ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏:‏ ‏(‏إنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللاَّتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالاَتِكَ اللاَّتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ ‏)‏ الآيَةَ قَالَتْ فَلَمْ أَكُنْ أَحِلُّ لَهُ لأَنِّي لَمْ أُهَاجِرْ كُنْتُ مِنَ الطُّلَقَاءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو …
Narrated Umm Hani bint Abu Talib:"The Messenger of Allah (ﷺ) proposed to me, but I asked him to excuse me. Then Allah [Most High] revealed: 'Verily We have made lawful to you your wives, to whom you have paid their due, and those whom your right hand possess - whom Allah has given to you, and the daughters of your paternal uncles, and the daughters of your paternal aunts, and the daughters of your maternal uncles, and the daughters of your maternal aunts, who migrated with you, and a believing woman if she offers herself to the Prophet... (33:50)' She said: "So I was not lawful for him because I did not perform Hijrah; I was one of the Tulaqa (those that accepted Islam after the conquest of …
ام ہانی بنت ابی طالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شادی کا پیغام دیا، تو میں نے آپ سے معذرت کر لی ۱؎ تو آپ نے میری معذرت قبول کر لی، پھر اللہ نے یہ آیت «إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورهن وما ملكت يمينك مما أفاء الله عليك وبنات عمك وبنات عماتك وبنات خالك وبنات خالاتك اللاتي هاجرن معك وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اے نبی ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموؤں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے“ ( الاحزاب: ۵۰ ) ، نازل …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَغْفِرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4902

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ‏.‏ وَقَالَ أَيْضًا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ أَخْبَرْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلاَمَنِي الأَنْصَارُ، وَحَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ مَا قَالَ ذَلِكَ، فَرَجَعْتُ إِلَى الْمَنْزِلِ فَنِمْتُ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ ‏"‏‏.‏ وَنَزَلَ ‏{‏هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لاَ تُنْفِقُوا‏}‏ الآيَةَ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الأَعْمَشِ …
Narrated Zaid bin Arqam:When `Abdullah bin Ubai said, "Do not spend on those who are with Allah's Messenger (ﷺ)," and also said, "If we return to Medina," I informed the Prophet (ﷺ) of his saying. The Ansar blamed me for that, and `Abdullah bin Ubai swore that he did not say. I returned to my house and slept. Allah's Messenger (ﷺ) then called me and I went to him. He said, "Allah has confirmed your statement." The Verse: "They are the one who say: Spend nothing......(63.7) was revealed
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن کعب قرظی سے سنا، کہا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہ بھی کہا کہ اب اگر ہم مدینہ واپس گئے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال باہر کرے گا تو میں نے یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی۔ اس پر کفار نے مجھے ملامت کی اور عبداللہ بن ابی نے قسم کھا لی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی تھی پھر میں گھر واپس آ گیا اور سو گیا۔ اس کے بعد مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طلب فرمایا اور میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7024

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ لأَصْحَابِهِ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ وَهِيَ قِرَاءَةُ مَنْ خَفَضَ حَوْلَهُ ‏.‏ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ - قَالَ - فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ …
Zaid b. Arqam reported:We set out on a journey along with Allah's Messenger (ﷺ) in which we faced many hardships. 'Abdullah b. Ubayy said to his friends: Do not give what you have in your possession to those who are with Allah's Messenger (ﷺ) until they desert him. Zubair said: That is the reciting of that person who recited as min haulahu (from around him) and the other reciting is man haulahia (who are around him). And in this case when we would return to Medina the honourable would drive out the meaner therefrom (lxiv. 8). I came to Allah's Apostle (ﷺ) and informed him about that and he sent someone to 'Abdullah b. Ubayy and he asked him whether he had said that or not. He took an oath …
ہمیں زہیر بن معاویہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابواسحٰق نے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے ، اس میں لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا : جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ نہ ہو جائیں ، ان پر کچھ خرچ نہ کرو ( مہاجرین سے تعاون بند کر دو ۔ ) زہیر نے کہا : اور یہ اس کی قراءت ہے جس نے حوله کو زیر کے ساتھ من حوله پڑھا ۔ اور اس نے ( یہ بھی ) کہا : اگر ہم مدینہ کو لوٹ گئے تو جو عزت والے ہیں وہ وہاں سے ذلت والوں کو نکال دیں گے ۔ ( زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَهْدِى

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4903

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ لأَصْحَابِهِ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ‏.‏ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ‏.‏ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ فَسَأَلَهُ، فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ، قَالُوا كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوا …
Narrated Zaid bin Arqam:We went out with the Prophet (ﷺ) : on a journey and the people suffered from lack of provisions. So `Abdullah bin Ubai said to his companions, "Don't spend on those who are with Allah's Messenger (ﷺ), that they may disperse and go away from him." He also said, "If we return to Medina, surely, the more honorable will expel therefrom the meaner. So I went to the Prophet (ﷺ) and informed him of that. He sent for `Abdullah bin Ubai and asked him, but `Abdullah bin Ubai swore that he did not say so. The people said, "Zaid told a lie to 'Allah's Messenger (ﷺ)." What they said distressed me very much. Later Allah revealed the confirmation of my statement in his saying:-- …
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر ( غزوہ تبوک یا بنی مصطلق ) میں تھے جس میں لوگوں پر بڑے تنگ اوقات آئے تھے۔ عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے منتشر ہو جائیں گے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم اب مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال باہر کرے گا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی اس گفتگو کی اطلاع دی تو آپ نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو بلا کر پوچھا۔ اس نے بڑی قسمیں کھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

الْفَٰسِقِينَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

63:7#
هُمُ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا۟ عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا۟ وَلِلَّهِ خَزَآئِنُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ

PickthallThey it is who say: Spend not on behalf of those (who dwell) with Allah's messenger that they may disperse (and go away from you); when Allah's are the treasures of the heavens and the earth; but the hypocrites comprehend not.

Yusuf AliThey are the ones who say, "Spend nothing on those who are with Allah's Messenger, to the end that they may disperse (and quit Medina)." But to Allah belong the treasures of the heavens and the earth; but the Hypocrites understand not.

The agreed readingThey tell their own people not to spend on the men around God's messenger, so that those men will disperse for want of support — the commentaries name the intended targets as the emigrants, who had arrived with nothing. The answer is that the treasuries of the heavens and the earth belong to God: He is the one providing, and the supply they imagine they control was never theirs to withhold.
Urduیہی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے پاس رہنے والوں پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں، حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے پاس ہیں، مگر منافق سمجھتے نہیں۔ قرطبی لکھتے ہیں کہ ابن ابی نے کہا: محمد کے پاس رہنے والوں پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ اس سے الگ ہو جائیں، تو اللہ نے انہیں بتا دیا کہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اسی کے پاس ہیں۔ زمخشری روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب بنو مصطلق کا مقابلہ مریسیع کے مقام پر کیا اور انہیں شکست دی، تو پانی پر جھجاہ بن سعید، جو عمر کا ایک ملازم تھا اور اپنا گھوڑا لے جا رہا تھا، اور سنان جہنی، جو عبداللہ بن ابی کا حلیف تھا، آپس میں دھکم پیل ہوئی، پھر لڑ پڑے، تو جھجاہ نے پکارا: اے مہاجرین! علامہ سعدی لکھتے ہیں کہ یہ ان کی نبی ﷺ اور مسلمانوں سے شدید دشمنی کا اظہار تھا۔
Arabicهم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا ولله خزائن السماوات والأرض ولكن المنافقين لا يفقهون. ذكر القرطبي أن ابن أبي قال لا تنفقوا على من عند محمد حتى ينفضوا، حتى يتفرقوا عنه، فأعلمهم الله سبحانه أن خزائن السماوات والأرض له. وروى الزمخشري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حين لقي بني المصطلق على المريسيع وهو ماء لهم وهزمهم وقتل منهم، ازدحم على الماء جهجاه بن سعيد أجير لعمر يقود فرسه، وسنان الجهني حليف لعبد الله بن أبي، واقتتلا، فصرخ جهجاه: يا للمهاجرين. وذكر السعدي أن هذا من شدة عداوتهم للنبي صلى الله عليه وسلم والمسلمين.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Ṭabarī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Ṭabarī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3314

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، رضى الله عنه أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ‏:‏ ‏(‏لئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ‏)‏ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَحَلَفَ مَا قَالَهُ فَلاَمَنِي قَوْمِي وَقَالُوا مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذِهِ فَأَتَيْتُ الْبَيْتَ وَنِمْتُ كَئِيبًا حَزِينًا فَأَتَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَتَيْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ …
Al-Hakam bin Utaibah said:“I heard Muhammad bin Ka’b Al-Qurazi – forty years ago – narrating from Zaid bin Arqam [may Allah be pleased with him] that during the battle of Tabuk, Abdullah bin Ubayy said: “If we return to Al-Madinah, indeed the more honorable will expel therefrom the meaner.” He said: ‘So I went to the Prophet and mentioned that to him, but he (Abdullah) took an oath that he did not say it. My people blamed me for that, they said: “What did you expect to accomplish from this?’ So I went to my house and slept full of grief. Then the Prophet came to me’ or ‘I went to him, and he said: “Indeed Allah has verified the truth of what you said.” He said: ‘So this Ayah was revealed: …
حکم بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن کعب قرظی کو چالیس سال سے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کرتے سن رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والے لوگ ذلت والوں کو مدینہ سے ضرور نکال باہر کریں گے، وہ کہتے ہیں: میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اور آپ کو یہ بات بتا دی ( جب اس سے بازپرس ہوئی ) تو وہ قسم کھا گیا کہ اس نے تو ایسی کوئی بات کہی ہی نہیں ہے، میری قوم نے مجھے ملامت کی، لوگوں نے کہا: تجھے اس طرح کی ( جھوٹ ) بات کہنے سے کیا ملا؟ میں گھر آ گیا، رنج و غم میں ڈوبا ہوا لیٹ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے یا میں آپ کے پاس پہنچا ( راوی کو شک ہو گیا ہے کہ زید بن ارقم رضی الله عنہ نے یہ کہا یا وہ کہا ) آپ نے فرمایا: …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هُمُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn Kathīr on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7024

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ لأَصْحَابِهِ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ وَهِيَ قِرَاءَةُ مَنْ خَفَضَ حَوْلَهُ ‏.‏ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ - قَالَ - فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ …
Zaid b. Arqam reported:We set out on a journey along with Allah's Messenger (ﷺ) in which we faced many hardships. 'Abdullah b. Ubayy said to his friends: Do not give what you have in your possession to those who are with Allah's Messenger (ﷺ) until they desert him. Zubair said: That is the reciting of that person who recited as min haulahu (from around him) and the other reciting is man haulahia (who are around him). And in this case when we would return to Medina the honourable would drive out the meaner therefrom (lxiv. 8). I came to Allah's Apostle (ﷺ) and informed him about that and he sent someone to 'Abdullah b. Ubayy and he asked him whether he had said that or not. He took an oath …
ہمیں زہیر بن معاویہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابواسحٰق نے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے ، اس میں لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا : جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ نہ ہو جائیں ، ان پر کچھ خرچ نہ کرو ( مہاجرین سے تعاون بند کر دو ۔ ) زہیر نے کہا : اور یہ اس کی قراءت ہے جس نے حوله کو زیر کے ساتھ من حوله پڑھا ۔ اور اس نے ( یہ بھی ) کہا : اگر ہم مدینہ کو لوٹ گئے تو جو عزت والے ہیں وہ وہاں سے ذلت والوں کو نکال دیں گے ۔ ( زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَقُولُونَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn Kathīr on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4903

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ لأَصْحَابِهِ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ‏.‏ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ‏.‏ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ فَسَأَلَهُ، فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ، قَالُوا كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوا …
Narrated Zaid bin Arqam:We went out with the Prophet (ﷺ) : on a journey and the people suffered from lack of provisions. So `Abdullah bin Ubai said to his companions, "Don't spend on those who are with Allah's Messenger (ﷺ), that they may disperse and go away from him." He also said, "If we return to Medina, surely, the more honorable will expel therefrom the meaner. So I went to the Prophet (ﷺ) and informed him of that. He sent for `Abdullah bin Ubai and asked him, but `Abdullah bin Ubai swore that he did not say so. The people said, "Zaid told a lie to 'Allah's Messenger (ﷺ)." What they said distressed me very much. Later Allah revealed the confirmation of my statement in his saying:-- …
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر ( غزوہ تبوک یا بنی مصطلق ) میں تھے جس میں لوگوں پر بڑے تنگ اوقات آئے تھے۔ عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے منتشر ہو جائیں گے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم اب مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال باہر کرے گا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی اس گفتگو کی اطلاع دی تو آپ نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو بلا کر پوچھا۔ اس نے بڑی قسمیں کھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Zamakhsharī في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī on this āyah

al-Zamakhsharī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3312

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىِّ ابْنَ سَلُولَ، يَقُولُ لأَصْحَابِهِ ‏:‏ ‏(‏ لا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا ‏)‏ و ‏(‏لئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ‏)‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي فَذَكَرَ ذَلِكَ عَمِّي لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثْتُهُ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا فَكَذَّبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله …
Zaid bin Aslam said:“I was with my uncle when I heard Abdullah bin Ubayy bin Salul saying to his companions: Do not spend on those who are with the Messenger of Allah until they desert from him. If we return to Al-Madinah then the more honorable will expel the meaner among them. So I mentioned that to my uncle, then my uncle mentioned it to the Prophet. So the Prophet called for me to narrated it to him. Then the Messenger of Allah sent message to Abdullah bin Ubayy and his companions but they took an oath that they had not said it. So he did not believe me and he trusted what they said. I was struck with distress the likes of which I had not suffered before. So I just at in my house, and …
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا، میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو اپنے ساتھیوں سے کہتے ہوئے سنا کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں، یہاں تک کہ وہ تتربتر ہو جائیں، اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا، میں نے یہ بات اپنے چچا کو بتائی تو میرے چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر دیا، آپ نے مجھے بلا کر پوچھا تو میں نے آپ کو ( بھی ) بتا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا کر پوچھا، تو انہوں نے قسم کھا لی کہ ہم نے نہیں کہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا اور اسے سچا تسلیم کر لیا، اس کا مجھے اتنا رنج و ملال ہوا کہ اس جیسا صدمہ، اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

تُنْفِقُوا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3313

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الأَزْدِيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ مَعَنَا أُنَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ فَكُنَّا نَبْتَدِرُ الْمَاءَ وَكَانَ الأَعْرَابُ يَسْبِقُونَّا إِلَيْهِ فَسَبَقَ أَعْرَابِيٌّ أَصْحَابَهُ فَسَبَقَ الأَعْرَابِيُّ فَيَمْلأُ الْحَوْضَ وَيَجْعَلُ حَوْلَهُ حِجَارَةً وَيَجْعَلُ النَّطْعَ عَلَيْهِ حَتَّى يَجِيءَ أَصْحَابُهُ ‏.‏ قَالَ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَعْرَابِيًّا فَأَرْخَى زِمَامَ نَاقَتِهِ لِتَشْرَبَ فَأَبَى أَنْ يَدَعَهُ فَانْتَزَعَ قِبَاضَ الْمَاءِ فَرَفَعَ الأَعْرَابِيُّ خَشَبَتَهُ فَضَرَبَ …
Zaid bin Arqam said:“We were participating in a battle along with the Messenger of Allah, and there were some people from the Bedouins with us. So we all rushed toward some water and the Bedouins raced us to it. One of the Bedouins beat his companions to it and he (tried to obstruct) the pond, he placed rocks around it and he put a leather sheet over it until his companions came.” He said: “A man among the Ansar reached the Bedouin and he dropped the reigns of his camel to drink, but the Bedouin would not allow him. So he started removing the barriers around the water, but the Bedouin raised a stick beating the Ansari man on the head, and smashed it. He went to Abdullah bin Ubayy, the head …
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( غزوہ بنی مصطلق میں ) جہاد کے لیے نکلے، ہمارے ساتھ کچھ اعرابی بھی تھے ( جب کہیں پانی نظر آتا ) تو ہم ایک دوسرے سے پہلے پہنچ کر حاصل کر لینے کی کوشش کرتے، اعرابی پانی تک پہنچنے میں ہم سے آگے بڑھ جاتے ( اس وقت ایسا ہوا ) ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، جب آگے نکلتا تو حوض کو بھرتا اور اس کے اردگرد پتھر رکھتا، اس پر چمڑے کی چٹائی ڈال دیتا، پھر اس کے ساتھی آتے، اسی موقع پر انصاریوں میں سے ایک اعرابی کے پاس آیا، اور اپنی اونٹنی کی مہار ڈھیلی کر دی تاکہ وہ پانی پی لے، مگر اس اعرابی شخص نے پانی پینے نہ دیا، انصاری نے باندھ توڑ دیا اعرابی نے لٹھ اٹھائی اور انصاری کے سر پر مار کر اس کا سر توڑ دیا، وہ انصاری …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَلَىٰ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3214

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ خَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاعْتَذَرْتُ إِلَيْهِ فَعَذَرَنِي ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏:‏ ‏(‏إنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللاَّتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالاَتِكَ اللاَّتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ ‏)‏ الآيَةَ قَالَتْ فَلَمْ أَكُنْ أَحِلُّ لَهُ لأَنِّي لَمْ أُهَاجِرْ كُنْتُ مِنَ الطُّلَقَاءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو …
Narrated Umm Hani bint Abu Talib:"The Messenger of Allah (ﷺ) proposed to me, but I asked him to excuse me. Then Allah [Most High] revealed: 'Verily We have made lawful to you your wives, to whom you have paid their due, and those whom your right hand possess - whom Allah has given to you, and the daughters of your paternal uncles, and the daughters of your paternal aunts, and the daughters of your maternal uncles, and the daughters of your maternal aunts, who migrated with you, and a believing woman if she offers herself to the Prophet... (33:50)' She said: "So I was not lawful for him because I did not perform Hijrah; I was one of the Tulaqa (those that accepted Islam after the conquest of …
ام ہانی بنت ابی طالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شادی کا پیغام دیا، تو میں نے آپ سے معذرت کر لی ۱؎ تو آپ نے میری معذرت قبول کر لی، پھر اللہ نے یہ آیت «إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورهن وما ملكت يمينك مما أفاء الله عليك وبنات عمك وبنات عماتك وبنات خالك وبنات خالاتك اللاتي هاجرن معك وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اے نبی ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموؤں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے“ ( الاحزاب: ۵۰ ) ، نازل …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

مَنْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Zamakhsharī في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī on this āyah

al-Zamakhsharī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4904

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ ابْنَ سَلُولَ، يَقُولُ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا، وَلَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ‏.‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي، فَذَكَرَ عَمِّي لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏{‏فَدَعَانِي فَحَدَّثْتُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا، وَكَذَّبَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏}‏ وَصَدَّقَهُمْ، فَأَصَابَنِي غَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ قَطُّ، فَجَلَسْتُ فِي بَيْتِي وَقَالَ عَمِّي مَا أَرَدْتَ …
Narrated Zaid bin Arqam:While I was with my uncle, I heard `Abdullah bin Ubai bin Salul saying, "Do not spend on those who are with Allah's Messenger (ﷺ), that they may disperse and go away (from him). And if we return to Medina, surely, the more honorable will expel therefrom the meaner. "I mentioned that to my uncle who, in turn, mentioned it to the Prophet. The Prophet (ﷺ) called me and I told him about that. Then he sent for `Abdullah bin Ubai and his companions, and they swore that they did not say so. The Prophet (ﷺ) disbelieved my statement and believed theirs. I was distressed as I have never been before, and I remained in my house. My uncle said to me, "You just wanted the Prophet …
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے اپنے چچا کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہو جائیں اور اگر اب ہم مدینہ واپس لوٹیں گے تو ہم میں سے جو عزت والے ہیں ان ذلیلوں کو نکال باہر کر دیں گے۔ میں نے اس کا ذکر اپنے چچا سے کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کی تصدیق کر دی تو مجھے اس کا اتنا افسوس ہوا کہ پہلے کبھی کسی بات پر نہ ہوا ہو گا، میں غم سے اپنے گھر میں بیٹھ گیا۔ میرے چچا نے کہا کہ تمہارا کیا ایسا خیال تھا کہ نبی کریم صلی اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عِنْدَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4902

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ‏.‏ وَقَالَ أَيْضًا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ أَخْبَرْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلاَمَنِي الأَنْصَارُ، وَحَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ مَا قَالَ ذَلِكَ، فَرَجَعْتُ إِلَى الْمَنْزِلِ فَنِمْتُ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ ‏"‏‏.‏ وَنَزَلَ ‏{‏هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لاَ تُنْفِقُوا‏}‏ الآيَةَ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الأَعْمَشِ …
Narrated Zaid bin Arqam:When `Abdullah bin Ubai said, "Do not spend on those who are with Allah's Messenger (ﷺ)," and also said, "If we return to Medina," I informed the Prophet (ﷺ) of his saying. The Ansar blamed me for that, and `Abdullah bin Ubai swore that he did not say. I returned to my house and slept. Allah's Messenger (ﷺ) then called me and I went to him. He said, "Allah has confirmed your statement." The Verse: "They are the one who say: Spend nothing......(63.7) was revealed
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن کعب قرظی سے سنا، کہا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہ بھی کہا کہ اب اگر ہم مدینہ واپس گئے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال باہر کرے گا تو میں نے یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی۔ اس پر کفار نے مجھے ملامت کی اور عبداللہ بن ابی نے قسم کھا لی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی تھی پھر میں گھر واپس آ گیا اور سو گیا۔ اس کے بعد مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طلب فرمایا اور میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

رَسُولِ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

63:8#
يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَآ إِلَى ٱلْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ ٱلْأَعَزُّ مِنْهَا ٱلْأَذَلَّ وَلِلَّهِ ٱلْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَٰكِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ

PickthallThey say: Surely, if we return to Al-Madinah the mightier will soon drive out the weaker; when might belongeth to Allah and to His messenger and to the believers; but the hypocrites know not.

Yusuf AliThey say, "If we return to Medina, surely the more honourable (element) will expel therefrom the meaner." But honour belongs to Allah and His Messenger, and to the Believers; but the Hypocrites know not.

The agreed readingThey said that once back in Medina the mightier would drive out the weaker, meaning themselves and the believers, and the commentaries place the words on the return from an expedition. The answer turns the claim over: might belongs to God, to His messenger and to the believers — but the hypocrites do not know it.
Urduوہ کہتے ہیں: اگر ہم مدینہ لوٹے تو زبردست لوگ کمزوروں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے، حالانکہ عزت تو اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے ہے، مگر منافق جانتے نہیں۔ قرطبی لکھتے ہیں کہ یہ بات کہنے والا ابن ابی تھا جیسا کہ پہلے گزر چکا، اور بعض کہتے ہیں کہ جب اس نے یہ کہا اور مدینہ لوٹا تو صرف چند دن ہی زندہ رہا اور مر گیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے استغفار کیا۔ تفسیر مقباس اس آیت کو گنتی اور تکرار کے انداز پر دوسرا وضاحتی جملہ قرار دیتی ہے۔
Arabicيقولون لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الأعز منها الأذل ولله العزة ولرسوله وللمؤمنين ولكن المنافقين لا يعلمون. ذكر القرطبي أن القائل ابن أبي كما تقدم، وقيل إنه لما قال ليخرجن الأعز منها الأذل ورجع إلى المدينة لم يلبث إلا أياما يسيرة حتى مات، فاستغفر له رسول الله. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية استئناف ثان على أسلوب التعداد والتكرير.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3314

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، رضى الله عنه أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ‏:‏ ‏(‏لئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ‏)‏ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَحَلَفَ مَا قَالَهُ فَلاَمَنِي قَوْمِي وَقَالُوا مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذِهِ فَأَتَيْتُ الْبَيْتَ وَنِمْتُ كَئِيبًا حَزِينًا فَأَتَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَتَيْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ …
Al-Hakam bin Utaibah said:“I heard Muhammad bin Ka’b Al-Qurazi – forty years ago – narrating from Zaid bin Arqam [may Allah be pleased with him] that during the battle of Tabuk, Abdullah bin Ubayy said: “If we return to Al-Madinah, indeed the more honorable will expel therefrom the meaner.” He said: ‘So I went to the Prophet and mentioned that to him, but he (Abdullah) took an oath that he did not say it. My people blamed me for that, they said: “What did you expect to accomplish from this?’ So I went to my house and slept full of grief. Then the Prophet came to me’ or ‘I went to him, and he said: “Indeed Allah has verified the truth of what you said.” He said: ‘So this Ayah was revealed: …
حکم بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن کعب قرظی کو چالیس سال سے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کرتے سن رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والے لوگ ذلت والوں کو مدینہ سے ضرور نکال باہر کریں گے، وہ کہتے ہیں: میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اور آپ کو یہ بات بتا دی ( جب اس سے بازپرس ہوئی ) تو وہ قسم کھا گیا کہ اس نے تو ایسی کوئی بات کہی ہی نہیں ہے، میری قوم نے مجھے ملامت کی، لوگوں نے کہا: تجھے اس طرح کی ( جھوٹ ) بات کہنے سے کیا ملا؟ میں گھر آ گیا، رنج و غم میں ڈوبا ہوا لیٹ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے یا میں آپ کے پاس پہنچا ( راوی کو شک ہو گیا ہے کہ زید بن ارقم رضی الله عنہ نے یہ کہا یا وہ کہا ) آپ نے فرمایا: …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَيُخْرِجَنَّ ٱلْأَعَزُّ مِنْهَا ٱلْأَذَلَّ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī on this āyah

al-Ṭabarī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3315

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كُنَّا فِي غَزَاةٍ قَالَ سُفْيَانُ يَرَوْنَ أَنَّهَا غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَقَالَ الأَنْصَارِيُّ يَا لَلأَنْصَارِ فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَسَمِعَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ فَقَالَ أَوَقَدْ فَعَلُوهَا …
Sufyan narrated from Amr bin Dinar that he heard Jabir bin Abdullah saying:“We were in a battle” – Sufyan said: “They say it was the battle of Banu Mustaliq” – “A man from the Muhajirin kicked a man from the Ansar. The man from the Muhajirin said: ‘O Muhajirin!’ the man from the Ansar said: ‘O Ansar!’ The Prophet heard that and said: ‘What is this evil call of Jahliyyah?’ They said: ‘A man from the Muhajirin kicked a man from the Ansar.’ So the Prophet said: ‘Leave that, for it is offensive.’ Abdullah bin Ubayy bin Salul heard that and said: ‘Did they really do that? By Allah! If we return to Al-Madinah indeed the more honorable will expel therefrom the meaner.’ Umar said: ‘Allow me to chop …
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، ( سفیان کہتے ہیں: لوگوں کا خیال یہ تھا کہ وہ غزوہ بنی مصطلق تھا ) ، مہاجرین میں سے ایک شخص نے ایک انصاری شخص کے چوتڑ پر لات مار دی، مہاجر نے پکارا: اے مہاجرین، انصاری نے کہا: اے انصاریو! یہ ( آواز ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی، فرمایا: ”جاہلیت کی کیسی پکار ہو رہی ہے؟“ لوگوں نے بتایا: ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کو لات مار دی ہے، آپ نے فرمایا: ”یہ ( پکار ) چھوڑ دو، یہ قبیح و ناپسندیدہ پکار ہے“، یہ بات عبداللہ بن ابی بن سلول نے سنی تو اس نے کہا: واقعی انہوں نے ایسا کیا ہے؟ قسم اللہ کی مدینہ پہنچ کر ہم میں سے عزت دار لوگ ذلیل و بےوقعت لوگوں کو نکال دیں گے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَئِن رَّجَعْنَآ إِلَى ٱلْمَدِينَةِ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Zamakhsharī في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī on this āyah

al-Zamakhsharī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3312

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىِّ ابْنَ سَلُولَ، يَقُولُ لأَصْحَابِهِ ‏:‏ ‏(‏ لا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا ‏)‏ و ‏(‏لئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ‏)‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي فَذَكَرَ ذَلِكَ عَمِّي لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثْتُهُ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا فَكَذَّبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله …
Zaid bin Aslam said:“I was with my uncle when I heard Abdullah bin Ubayy bin Salul saying to his companions: Do not spend on those who are with the Messenger of Allah until they desert from him. If we return to Al-Madinah then the more honorable will expel the meaner among them. So I mentioned that to my uncle, then my uncle mentioned it to the Prophet. So the Prophet called for me to narrated it to him. Then the Messenger of Allah sent message to Abdullah bin Ubayy and his companions but they took an oath that they had not said it. So he did not believe me and he trusted what they said. I was struck with distress the likes of which I had not suffered before. So I just at in my house, and …
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا، میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو اپنے ساتھیوں سے کہتے ہوئے سنا کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں، یہاں تک کہ وہ تتربتر ہو جائیں، اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا، میں نے یہ بات اپنے چچا کو بتائی تو میرے چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر دیا، آپ نے مجھے بلا کر پوچھا تو میں نے آپ کو ( بھی ) بتا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا کر پوچھا، تو انہوں نے قسم کھا لی کہ ہم نے نہیں کہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا اور اسے سچا تسلیم کر لیا، اس کا مجھے اتنا رنج و ملال ہوا کہ اس جیسا صدمہ، اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَلِلْمُؤْمِنِينَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Zamakhsharī في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī on this āyah

al-Zamakhsharī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4904

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَمِّي فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ ابْنَ سَلُولَ، يَقُولُ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا، وَلَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ‏.‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي، فَذَكَرَ عَمِّي لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏{‏فَدَعَانِي فَحَدَّثْتُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا، وَكَذَّبَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏}‏ وَصَدَّقَهُمْ، فَأَصَابَنِي غَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ قَطُّ، فَجَلَسْتُ فِي بَيْتِي وَقَالَ عَمِّي مَا أَرَدْتَ …
Narrated Zaid bin Arqam:While I was with my uncle, I heard `Abdullah bin Ubai bin Salul saying, "Do not spend on those who are with Allah's Messenger (ﷺ), that they may disperse and go away (from him). And if we return to Medina, surely, the more honorable will expel therefrom the meaner. "I mentioned that to my uncle who, in turn, mentioned it to the Prophet. The Prophet (ﷺ) called me and I told him about that. Then he sent for `Abdullah bin Ubai and his companions, and they swore that they did not say so. The Prophet (ﷺ) disbelieved my statement and believed theirs. I was distressed as I have never been before, and I remained in my house. My uncle said to me, "You just wanted the Prophet …
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے اپنے چچا کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہو جائیں اور اگر اب ہم مدینہ واپس لوٹیں گے تو ہم میں سے جو عزت والے ہیں ان ذلیلوں کو نکال باہر کر دیں گے۔ میں نے اس کا ذکر اپنے چچا سے کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کی تصدیق کر دی تو مجھے اس کا اتنا افسوس ہوا کہ پہلے کبھی کسی بات پر نہ ہوا ہو گا، میں غم سے اپنے گھر میں بیٹھ گیا۔ میرے چچا نے کہا کہ تمہارا کیا ایسا خیال تھا کہ نبی کریم صلی اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَلِلْمُؤْمِنِينَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4902

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ‏.‏ وَقَالَ أَيْضًا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ أَخْبَرْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلاَمَنِي الأَنْصَارُ، وَحَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ مَا قَالَ ذَلِكَ، فَرَجَعْتُ إِلَى الْمَنْزِلِ فَنِمْتُ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ ‏"‏‏.‏ وَنَزَلَ ‏{‏هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لاَ تُنْفِقُوا‏}‏ الآيَةَ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الأَعْمَشِ …
Narrated Zaid bin Arqam:When `Abdullah bin Ubai said, "Do not spend on those who are with Allah's Messenger (ﷺ)," and also said, "If we return to Medina," I informed the Prophet (ﷺ) of his saying. The Ansar blamed me for that, and `Abdullah bin Ubai swore that he did not say. I returned to my house and slept. Allah's Messenger (ﷺ) then called me and I went to him. He said, "Allah has confirmed your statement." The Verse: "They are the one who say: Spend nothing......(63.7) was revealed
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن کعب قرظی سے سنا، کہا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہ بھی کہا کہ اب اگر ہم مدینہ واپس گئے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال باہر کرے گا تو میں نے یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی۔ اس پر کفار نے مجھے ملامت کی اور عبداللہ بن ابی نے قسم کھا لی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی تھی پھر میں گھر واپس آ گیا اور سو گیا۔ اس کے بعد مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طلب فرمایا اور میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَلَٰكِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7024

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ لأَصْحَابِهِ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ وَهِيَ قِرَاءَةُ مَنْ خَفَضَ حَوْلَهُ ‏.‏ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ - قَالَ - فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ …
Zaid b. Arqam reported:We set out on a journey along with Allah's Messenger (ﷺ) in which we faced many hardships. 'Abdullah b. Ubayy said to his friends: Do not give what you have in your possession to those who are with Allah's Messenger (ﷺ) until they desert him. Zubair said: That is the reciting of that person who recited as min haulahu (from around him) and the other reciting is man haulahia (who are around him). And in this case when we would return to Medina the honourable would drive out the meaner therefrom (lxiv. 8). I came to Allah's Apostle (ﷺ) and informed him about that and he sent someone to 'Abdullah b. Ubayy and he asked him whether he had said that or not. He took an oath …
ہمیں زہیر بن معاویہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابواسحٰق نے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے ، اس میں لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا : جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ نہ ہو جائیں ، ان پر کچھ خرچ نہ کرو ( مہاجرین سے تعاون بند کر دو ۔ ) زہیر نے کہا : اور یہ اس کی قراءت ہے جس نے حوله کو زیر کے ساتھ من حوله پڑھا ۔ اور اس نے ( یہ بھی ) کہا : اگر ہم مدینہ کو لوٹ گئے تو جو عزت والے ہیں وہ وہاں سے ذلت والوں کو نکال دیں گے ۔ ( زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3313

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad · Al-Albani: Sahih Isnaad · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الأَزْدِيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ مَعَنَا أُنَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ فَكُنَّا نَبْتَدِرُ الْمَاءَ وَكَانَ الأَعْرَابُ يَسْبِقُونَّا إِلَيْهِ فَسَبَقَ أَعْرَابِيٌّ أَصْحَابَهُ فَسَبَقَ الأَعْرَابِيُّ فَيَمْلأُ الْحَوْضَ وَيَجْعَلُ حَوْلَهُ حِجَارَةً وَيَجْعَلُ النَّطْعَ عَلَيْهِ حَتَّى يَجِيءَ أَصْحَابُهُ ‏.‏ قَالَ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَعْرَابِيًّا فَأَرْخَى زِمَامَ نَاقَتِهِ لِتَشْرَبَ فَأَبَى أَنْ يَدَعَهُ فَانْتَزَعَ قِبَاضَ الْمَاءِ فَرَفَعَ الأَعْرَابِيُّ خَشَبَتَهُ فَضَرَبَ …
Zaid bin Arqam said:“We were participating in a battle along with the Messenger of Allah, and there were some people from the Bedouins with us. So we all rushed toward some water and the Bedouins raced us to it. One of the Bedouins beat his companions to it and he (tried to obstruct) the pond, he placed rocks around it and he put a leather sheet over it until his companions came.” He said: “A man among the Ansar reached the Bedouin and he dropped the reigns of his camel to drink, but the Bedouin would not allow him. So he started removing the barriers around the water, but the Bedouin raised a stick beating the Ansari man on the head, and smashed it. He went to Abdullah bin Ubayy, the head …
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( غزوہ بنی مصطلق میں ) جہاد کے لیے نکلے، ہمارے ساتھ کچھ اعرابی بھی تھے ( جب کہیں پانی نظر آتا ) تو ہم ایک دوسرے سے پہلے پہنچ کر حاصل کر لینے کی کوشش کرتے، اعرابی پانی تک پہنچنے میں ہم سے آگے بڑھ جاتے ( اس وقت ایسا ہوا ) ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، جب آگے نکلتا تو حوض کو بھرتا اور اس کے اردگرد پتھر رکھتا، اس پر چمڑے کی چٹائی ڈال دیتا، پھر اس کے ساتھی آتے، اسی موقع پر انصاریوں میں سے ایک اعرابی کے پاس آیا، اور اپنی اونٹنی کی مہار ڈھیلی کر دی تاکہ وہ پانی پی لے، مگر اس اعرابی شخص نے پانی پینے نہ دیا، انصاری نے باندھ توڑ دیا اعرابی نے لٹھ اٹھائی اور انصاری کے سر پر مار کر اس کا سر توڑ دیا، وہ انصاری …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱلْأَعَزُّ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī on this āyah

al-Ṭabarī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 4338

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ‏"‏ ‏.‏ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah said that a person among the Ansar declared his slave free after his death, as he had no other property. This news reached the Messenger of Allah (ﷺ) and he said:Who will buy him from me? And Nu'aim b. al-Nahham bought him for eight hundred dirhams and he handed them over to him, 'Amr (one of the narrators) said: I heard Jabir b. 'Abdullah as saying: He was a Coptic slave, and he died in the first year (of the Caliphate of 'Abdullah b. Zubair)
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے اپنی موت کے بعد اپنے غلام کو آزاد قرار دیا ، اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہ تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : "" اس ( غلام ) کو مجھ سے کون خریدے گا؟ "" اسے نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا تو آپ نے وہ ( رقم ) اس آدمی کے حوالے کر دی ۔ عمرو نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : وہ قبطی غلام تھا ( ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے ) پہلے سال فوت ہوا ۔ ( اپنی فوت کے بعد غلام کو آزاد کرنے والے کو ایک تہائی سے زیادہ ترکے میں وصیت کا اختیار ہی نہ تھا)

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱلْأَذَلَّ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3214

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ خَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاعْتَذَرْتُ إِلَيْهِ فَعَذَرَنِي ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏:‏ ‏(‏إنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللاَّتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالاَتِكَ اللاَّتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ ‏)‏ الآيَةَ قَالَتْ فَلَمْ أَكُنْ أَحِلُّ لَهُ لأَنِّي لَمْ أُهَاجِرْ كُنْتُ مِنَ الطُّلَقَاءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو …
Narrated Umm Hani bint Abu Talib:"The Messenger of Allah (ﷺ) proposed to me, but I asked him to excuse me. Then Allah [Most High] revealed: 'Verily We have made lawful to you your wives, to whom you have paid their due, and those whom your right hand possess - whom Allah has given to you, and the daughters of your paternal uncles, and the daughters of your paternal aunts, and the daughters of your maternal uncles, and the daughters of your maternal aunts, who migrated with you, and a believing woman if she offers herself to the Prophet... (33:50)' She said: "So I was not lawful for him because I did not perform Hijrah; I was one of the Tulaqa (those that accepted Islam after the conquest of …
ام ہانی بنت ابی طالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شادی کا پیغام دیا، تو میں نے آپ سے معذرت کر لی ۱؎ تو آپ نے میری معذرت قبول کر لی، پھر اللہ نے یہ آیت «إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورهن وما ملكت يمينك مما أفاء الله عليك وبنات عمك وبنات عماتك وبنات خالك وبنات خالاتك اللاتي هاجرن معك وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اے نبی ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموؤں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے“ ( الاحزاب: ۵۰ ) ، نازل …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَلِلَّهِ ٱلْعِزَّةُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

63:9#
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَٰلُكُمْ وَلَآ أَوْلَٰدُكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

PickthallO ye who believe! Let not your wealth nor your children distract you from remembrance of Allah. Those who do so, they are the losers.

Yusuf AliO ye who believe! Let not your riches or your children divert you from the remembrance of Allah. If any act thus, the loss is their own.

The agreed readingDo not let your wealth and your children take you away from the remembrance of God; the commentaries take that remembrance to be the prayer above all. Neither the wealth nor the children are condemned — the taking away is. Whoever lets it happen has traded what lasts for what does not, and those are the losers.
Urduاے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کریں، اور جو ایسا کرے تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ مومنوں کو منافقین کے اخلاق سے خبردار کرتا ہے، یعنی اپنے مال میں اس طرح مشغول نہ ہو جاؤ جیسے منافقین نے کیا جب انہوں نے اپنے مال کی بخیلی میں کہا کہ رسول اللہ کے پاس رہنے والوں پر خرچ نہ کرو، اور عن ذکر اللہ سے مراد نماز ہے۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ اپنے مومن بندوں کو اپنے ذکر کی کثرت کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس میں نفع اور کامیابی اور بہت سی بھلائیاں ہیں، اور انہیں روکتا ہے کہ مال اور اولاد انہیں اس کے ذکر سے مشغول کر دیں، کیونکہ مال اور اولاد کی محبت اکثر نفسوں میں فطری ہے، تو وہ اسے اللہ کی محبت پر مقدم کر لیتے ہیں۔ تفسیر مقباس اسے منافقین کی حالتوں سے آگاہ کرنے سے انتقال قرار دیتی ہے۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فأولئك هم الخاسرون. ذكر القرطبي أن هذا تحذير للمؤمنين من أخلاق المنافقين، أي لا تشتغلوا بأموالكم كما فعل المنافقون إذ قالوا للشح بأموالهم لا تنفقوا على من عند رسول الله، وأن عن ذكر الله يعني الصلاة. وذكر السعدي أن الله يأمر عباده المؤمنين بالإكثار من ذكره، فإن في ذلك الربح والفلاح والخيرات الكثيرة، وينهاهم أن تشغلهم أموالهم وأولادهم عن ذكره، فإن محبة المال والأولاد مجبولة عليها أكثر النفوس، فتقدمها على محبة الله. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية انتقال من كشف أحوال المنافقين المسوق للحذر منهم والتحذير من صفاتهم.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 2 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة5 reports cited here — 2 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، Ibn ʿĀshūr، Muftī Muḥammad Shafīʿ، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Ṭūsī, al-Ṭabrisī, Ibn Kathīr, al-Fayḍ al-Kāshānī, Ibn ʿĀshūr, Muftī Muḥammad Shafīʿ and Ṭabāṭabāʾī on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، Ibn ʿĀshūr، Muftī Muḥammad Shafīʿ، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3316

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يُبَلِّغُهُ حَجَّ بَيْتِ رَبِّهِ أَوْ تَجِبُ عَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةُ فَلَمْ يَفْعَلْ سَأَلَ الرَّجْعَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ اتَّقِ اللَّهَ إِنَّمَا سَأَلَ الرَّجْعَةَ الْكُفَّارُ قَالَ سَأَتْلُو عَلَيْكَ بِذَلِكَ قُرْآنًا ‏:‏ ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلاَ أَوْلاَدُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ‏)‏ ‏:‏ ‏(‏وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏ واللَّهُ …
Ad-Dahhak bin Muzahim narrated:From Ibn Abbas [may Allah be pleased with him] who said: “Whoever has wealth, required him to perform Hajj to the House of his Lord, or upon which Zakat is obligatory, but he does not do it, then he shall ask to return (the world) upon his death.” A man said: “Oh Ibn Abbas! Have Taqwa of Allah! It is only the disbelievers who will be asked to return.” He said: “For that, I shall recite to you from the Qur’an: You who believe! Let not your properties or your children divert you from the remembrance of Allah. And whosever does that, then they are with the losers. And spend of that which We have provided you before death comes to one of you, and says: “My Lord! …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حج بیت اللہ کو جا سکے یا اس پر اس میں زکاۃ واجب ہوتی ہو اور وہ حج کو نہ جائے، زکاۃ ادا نہ کرے تو وہ مرتے وقت اللہ سے درخواست کرے گا کہ اسے وہ دنیا میں دوبارہ لوٹا دے، ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اللہ سے ڈرو، دوبارہ لوٹا دیئے جانے کی آرزو تو کفار کریں گے ( نہ کہ مسلمین ) ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے متعلق قرآن پڑھ کر سناتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فأولئك هم الخاسرون وأنفقوا من ما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت» سے «والله خبير بما تعملون» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَمْوَٰلُكُمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 2, no. 1749

درجته: al-Majlisi: حسن كالصحيح

grading: al-Majlisi: حسن كالصحيح

درجہ: al-Majlisi: حسن كالصحيح

1ـ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيهِ السَّلام) قَالَ إِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ مَنْ شُغِلَ بِذِكْرِي عَنْ مَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي مَنْ سَأَلَنِي.
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, says, ‘One who is occupied in speaking of Me instead of asking Me for help, I will grant him better than what 1 am to grant to one who asks Me for help.’”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی، وہ ابن ابی عمیر سے، وہ ہشام بن سالم سے، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل فرماتے ہیں: جو شخص میری یاد میں مشغول ہو کر سوال کرنے سے غافل رہے تو میں اسے بہتر دوں گا اس سے جو میں سوال کرنے والوں کو دیتا ہوں۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ذِكْرِ ٱللَّهِ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 7, no. 12

درجته: al-Majlisi: مرفوع

grading: al-Majlisi: مرفوع

درجہ: al-Majlisi: مرفوع

7- عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رِجَالِهِ رَفَعَهُ قَالَ خَرَجَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ وَابْنُ بَيْدِيٍّ وَابْنُ أَبِي مَارِيَةَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ مُسْلِماً وَابْنُ بَيْدِيٍّ وَابْنُ أَبِي مَارِيَةَ نَصْرَانِيَّيْنِ وَكَانَ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ خُرْجٌ لَهُ فِيهِ مَتَاعٌ وَآنِيَةٌ مَنْقُوشَةٌ بِالذَّهَبِ وَقِلادَةٌ أَخْرَجَهَا إِلَى بَعْضِ أَسْوَاقِ الْعَرَبِ لِلْبَيْعِ فَاعْتَلَّ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ عِلَّةً شَدِيدَةً فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَفَعَ مَا كَانَ مَعَهُ إِلَى ابْنِ بَيْدِيٍّ وَابْنِ أَبِي مَارِيَةَ وَأَمَرَهُمَا أَنْ يُوصِ��اهُ إِلَى وَرَثَتِهِ فَقَدِمَا الْمَدِينَةَ وَقَدْ أَخَذَا مِنَ الْمَتَاعِ الآنِيَةَ وَالْقِلادَةَ وَأَوْصَلا سَائِرَ ذَلِكَ إِلَى …
7. Ali ibn Ibrahim has narrated from his people in a marfu‘ manner has said the following: “Tamim al-Dariy, ibn Baydiy and ibn Mariya once left for a journey. Tamim al-Dariy was a Muslim but ibn Baydiy and ibn Mariya were Christians and they were with Tamim al-Dariy who had certain assets and utensils, which were decorated with gold, and a necklace that he took for the Arab markets for sale. Tamim al-Dariy became ill severely and the time of his death came. He gave whatever he had to ibn Baydiy and ibn Mariya and asked them to deliver it to his heirs. The two came to al-Madinah, delivered the other things but they had taken the utensils and the necklace. The heirs found the utensils …
علی بن ابراہیم نے اپنے لوگوں سے روایت کی اور اسے بلند درجہ دیا: تمیم الداری، ابن بیدی اور ابن ابی ماریہ ایک سفر میں نکلے۔ تمیم الداری مسلمان تھا لیکن ابن بیدی اور ابن ابی ماریہ عیسائی تھے۔ تمیم الداری کے ساتھ سامان اور بھاندے تھے جو سونے سے سجے ہوئے تھے اور ایک ہار تھا جو وہ عرب کے بازاروں میں بیچنے کے لیے لے کر گیا تھا۔ تمیم الداری کو سخت بیماری ہوئی اور موت کا وقت آ گیا۔ اس نے جو کچھ اپنے پاس تھا وہ ابن بیدی اور ابن ابی ماریہ کو دے دیا اور ان سے کہا کہ یہ اس کے وارثین تک پہنچا دو۔ وہ دونوں مدینہ آئے اور اس سامان میں سے بھاندے اور ہار لے کر باقی چیزیں وارثین تک پہنچا دیں۔ تمیم کے خاندان والوں نے بھاندے اور ہار کو تلاش کیا تو نہ ملے۔ تمیم کے گھر والوں نے ان دونوں سے کہا: کیا ہمارے ساتھی کو …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَمْوَٰلُكُمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3059

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بَاذَانَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، فِي هَذِهِ الآيَةِ ‏:‏ ‏(‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ‏)‏ قَالَ بَرِئَ مِنْهَا النَّاسُ غَيْرِي وَغَيْرَ عَدِيِّ بْنِ بَدَّاءٍ وَكَانَا نَصْرَانِيَّيْنِ يَخْتَلِفَانِ إِلَى الشَّامِ قَبْلَ الإِسْلاَمِ فَأَتَيَا الشَّامَ لِتِجَارَتِهِمَا وَقَدِمَ عَلَيْهِمَا مَوْلًى لِبَنِي سَهْمٍ يُقَالُ لَهُ بُدَيْلُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ بِتِجَارَةٍ وَمَعَهُ جَامٌ مِنْ فِضَّةٍ يُرِيدُ بِهِ …
Narrated Ibn 'Abbas:from Tamim Ad-Dari, regarding this Ayah: O you who believe! When death approaches any of you then take the testimony (5:106). He said: "The people are innocent of it, other than myself and 'Adi bin Badda.' We were Christians who used to frequent Ash-Sham before Islam." They went to Ash-Sham for their business, and they were approached by a freed slave of Banu Sahm, who was called Budail bin Abi Maryam, with some trade. He had a bowl they wanted made of silver, but he wanted a great deal for it. Then he became ill, and willed it to them, and he commissioned them to deliver what was left to his family. Tamim said: "When he died, we took that bowl and we sold it for …
تمیم داری رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ اس آیت «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» ۱؎ کے سلسلے میں کہتے ہیں: میرے اور عدی بن بداء کے سواء سبھی لوگ اس آیت کی زد میں آنے سے محفوظ ہیں، ہم دونوں نصرانی تھے، اسلام سے پہلے شام آتے جاتے تھے تو ہم دونوں اپنی تجارت کی غرض سے شام گئے، ہمارے پاس بنی ہاشم کا ایک غلام بھی پہنچا، اسے بدیل بن ابی مریم کہا جاتا تھا، وہ بھی تجارت کی غرض سے آیا تھا، اس کے پاس چاندی کا ایک پیالہ تھا جسے وہ بادشاہ کے ہاتھ بیچ کر اچھے پیسے حاصل کرنا چاہتا تھا، یہی اس کی تجارت کے سامان میں سب سے بڑی چیز تھی۔ ( اتفاق ایسا ہوا کہ ) وہ بیمار پڑ گیا، تو اس نے ہم دونوں کو وصیت کی اور ہم سے عرض کیا کہ وہ جو کچھ چھوڑ کر مرے وہ اسے اس کے گھر والوں کو پہنچا دیں۔ جب …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَلَآ أَوْلَٰدُكُمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 2, no. 1594

[الذبح] واشتر هديك إن كان من البدن أو من البقر أو من الغنم وإلا فاجعله كبشا سمينا فحلا، فإن لم تجد فحلا فموجوءا من الضأن فإن لم تجد فتيسا فحلا، وإن لم تجد فما تيسر لك، وعظم شعائر الله عز وجل فإنها من تقوى القلوب، ولا تعط الجزار جلودها ولا قلائدها ولا جلالها ولكن تصدق بها، ولا تعط السلاخ منها شيئا. فإذا اشتريت هديك فاستقبل القبلة وانحره أو اذبحه وقل: " وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين، اللهم منك ولك بسم الله والله أكبر، اللهم تقبل مني " ثم اذبح ولا تنخع حتى يموت ويبرد ثم كل وتصدق وأطعم وأهد إلى من شئت، ثم احلق رأسك. وقد ذكرت الأضاحي في هذا الكتاب وأنا أعيد ذكر ما لا بد من …
THE SACRIFICE Purchase your sacrificial animal—whether it be a camel, cow, or sheep. If not, choose a well-fed ram; if not a ram, then a castrated sheep. If even that is unavailable, a goat will suffice. Magnify the sacred rites of Allah (swt), for they stem from the piety of hearts. Do not give the butcher the hide, collars, or saddle cloths of the animal. Instead, distribute these as charity. Do not give the skin or any part of it as payment to the slaughterer. When you have purchased your sacrificial animal, face the Qibla and slaughter or sacrifice it while saying: "I turn my face to the One who originated the heavens and the earth, as a true monotheist, submitting to Him, and I am not …
قربانی کے بارے میں: اپنی قربانی خریدو، اگر اونٹ یا گائے یا بکریاں ہوں تو ٹھیک ہے، ورنہ ایک موٹی اور نر دنبہ لو۔ اگر نہ ملے تو بھیڑ کا خصی لو۔ اگر وہ بھی نہ ملے تو بکرا لو۔ اگر وہ بھی نہ ملے تو جو سہولت سے مل جائے۔ اور اللہ کے شعائر کو عظمت دو کیونکہ یہ دلوں کی تقویٰ سے آتے ہیں۔ قصائی کو جلدیں اور نیاز اور برسالیں نہ دینا بلکہ صدقہ کرنا۔ اور کھال نچھالنے والے کو کوئی چیز نہ دینا۔ جب تم قربانی خرید لو تو قبلے کی طرف پھیرو اور اسے نحر کرو یا ذبح کرو اور کہو: میں نے اپنا رخ اس طرف کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، خالص ایمان کے ساتھ مسلمانانہ طریقے سے، اور میں مشرکوں میں سے نہیں۔ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو تمام عالموں کا رب ہے۔ اس کا کوئی …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱلْخَٰسِرُونَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

63:10#
وَأَنفِقُوا۟ مِن مَّا رَزَقْنَٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَآ أَخَّرْتَنِىٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

PickthallAnd spend of that wherewith We have provided you before death cometh unto one of you and he saith: My Lord! If only thou wouldst reprieve me for a little while, then I would give alms and be among the righteous.

Yusuf Aliand spend something (in charity) out of the substance which We have bestowed on you, before Death should come to any of you and he should say, "O my Lord! why didst Thou not give me respite for a little while? I should then have given (largely) in charity, and I should have been one of the doers of good".

The agreed readingSpend out of what We have provided you before death comes to one of you and he says: my Lord, if only You would hold me back for a short term, that I might give and be among the righteous. The commentaries read the spending as the zakat, and take the coming of death to mean the sight of its signs — so the moment the request is made is the moment it can no longer be granted.
Urduاور اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہیں دیا ہے، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آئے، پھر وہ کہے: اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی سی مدت کے لیے مہلت کیوں نہ دی، تاکہ میں صدقہ دوں اور نیک لوگوں میں شامل ہو جاؤں۔ قرطبی اس آیت میں چار مسئلے بیان کرتے ہیں، پہلا یہ کہ یہ زکوٰۃ کی جلد ادائیگی کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور اسے ہرگز مؤخر کرنا جائز نہیں۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ من قبل ان یاتی احدکم الموت کا مطلب ہے موت کی علامات دیکھنے سے پہلے، جب انسان وہ کچھ دیکھتا ہے جس سے اسے مہلت کی امید نہیں رہتی، اس کا دم گھٹنے لگتا ہے، اور اس کے لیے خرچ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے اور قبولیت کا وقت نکل جاتا ہے، تو وہ افسوس کرتا ہے۔ تفسیر مقباس اسے منافقین کی چال کا رد اور توڑ قرار دیتی ہے جب انہوں نے کہا تھا کہ رسول اللہ کے پاس رہنے والوں پر خرچ نہ کرو۔
Arabicوأنفقوا مما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت فيقول رب لولا أخرتني إلى أجل قريب فأصدق وأكن من الصالحين. ذكر القرطبي في هذه الآية أربع مسائل، أولها أن هذا يدل على وجوب تعجيل أداء الزكاة، ولا يجوز تأخيرها أصلا. وفسر الزمخشري من قبل أن يأتي أحدكم الموت بأنه من قبل أن يرى دلائل الموت، ويعاين ما بيأس معه من الإمهال، ويضيق به الخناق، ويتعذر عليه الإنفاق ويفوت وقت القبول، فيتحسر. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية إبطال ونقض لكيد المنافقين حين قالوا لا تنفقوا على من عند رسول الله.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3316

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يُبَلِّغُهُ حَجَّ بَيْتِ رَبِّهِ أَوْ تَجِبُ عَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةُ فَلَمْ يَفْعَلْ سَأَلَ الرَّجْعَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ اتَّقِ اللَّهَ إِنَّمَا سَأَلَ الرَّجْعَةَ الْكُفَّارُ قَالَ سَأَتْلُو عَلَيْكَ بِذَلِكَ قُرْآنًا ‏:‏ ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلاَ أَوْلاَدُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ‏)‏ ‏:‏ ‏(‏وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏ واللَّهُ …
Ad-Dahhak bin Muzahim narrated:From Ibn Abbas [may Allah be pleased with him] who said: “Whoever has wealth, required him to perform Hajj to the House of his Lord, or upon which Zakat is obligatory, but he does not do it, then he shall ask to return (the world) upon his death.” A man said: “Oh Ibn Abbas! Have Taqwa of Allah! It is only the disbelievers who will be asked to return.” He said: “For that, I shall recite to you from the Qur’an: You who believe! Let not your properties or your children divert you from the remembrance of Allah. And whosever does that, then they are with the losers. And spend of that which We have provided you before death comes to one of you, and says: “My Lord! …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حج بیت اللہ کو جا سکے یا اس پر اس میں زکاۃ واجب ہوتی ہو اور وہ حج کو نہ جائے، زکاۃ ادا نہ کرے تو وہ مرتے وقت اللہ سے درخواست کرے گا کہ اسے وہ دنیا میں دوبارہ لوٹا دے، ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اللہ سے ڈرو، دوبارہ لوٹا دیئے جانے کی آرزو تو کفار کریں گے ( نہ کہ مسلمین ) ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے متعلق قرآن پڑھ کر سناتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فأولئك هم الخاسرون وأنفقوا من ما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت» سے «والله خبير بما تعملون» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَآ أَخَّرْتَنِىٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

63:11#
وَلَن يُؤَخِّرَ ٱللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَآءَ أَجَلُهَا وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

PickthallBut Allah reprieveth no soul when its term cometh, and Allah is Informed of what ye do.

Yusuf AliBut to no soul will Allah grant respite when the time appointed (for it) has come; and Allah is well acquainted with (all) that ye do.

The agreed readingGod holds no soul back once its term has come. The plea of the āyah before it is answered here, and the answer is no. The term is fixed, and the time to spend is while the asking is still possible. God is aware of what you do.
Urduاور اللہ کسی جان کو مہلت نہیں دیتا جب اس کی مقررہ مدت آ جائے، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے خوب باخبر ہے۔ تفسیر مقباس کے مطابق یہ کلام کے آخر میں ایک اعتراضی جملہ ہے، واو یہاں اعتراضیہ ہے، جو مومنوں کو ہر روح کی مقررہ مدت کی یاد دلاتا ہے جب وہ آ پہنچے۔ اس طرح پچھلی آیت میں جو دعا کی گئی تھی کہ مجھے تھوڑی مہلت دے دی جائے، اس کا جواب یہاں مل جاتا ہے، اور جواب نفی میں ہے: مدت مقرر ہو چکی، اور خرچ کرنے کا وقت وہی ہے جب تک مانگنا ممکن ہو۔
Arabicولن يؤخر الله نفسا إذا جاء أجلها والله خبير بما تعملون. جاء في تفسير مقباس أن هذه الآية اعتراض في آخر الكلام، فالواو اعتراضية تذكيرا للمؤمنين بالأجل لكل روح عند حلوله. وبهذا يكون الجواب على دعاء الآية السابقة رب لولا أخرتني إلى أجل قريب قد جاء هنا، والجواب بالنفي: فالأجل قد تحدد، ووقت الإنفاق هو ما دام السؤال ممكنا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 3 من كتب أهل السنة، 6 من كتب الشيعة9 reports cited here — 3 Sunnī, 6 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 6 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī, Ibn Kathīr and Ṭabāṭabāʾī on this āyah

al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3316

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يُبَلِّغُهُ حَجَّ بَيْتِ رَبِّهِ أَوْ تَجِبُ عَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةُ فَلَمْ يَفْعَلْ سَأَلَ الرَّجْعَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ اتَّقِ اللَّهَ إِنَّمَا سَأَلَ الرَّجْعَةَ الْكُفَّارُ قَالَ سَأَتْلُو عَلَيْكَ بِذَلِكَ قُرْآنًا ‏:‏ ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلاَ أَوْلاَدُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ‏)‏ ‏:‏ ‏(‏وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏ واللَّهُ …
Ad-Dahhak bin Muzahim narrated:From Ibn Abbas [may Allah be pleased with him] who said: “Whoever has wealth, required him to perform Hajj to the House of his Lord, or upon which Zakat is obligatory, but he does not do it, then he shall ask to return (the world) upon his death.” A man said: “Oh Ibn Abbas! Have Taqwa of Allah! It is only the disbelievers who will be asked to return.” He said: “For that, I shall recite to you from the Qur’an: You who believe! Let not your properties or your children divert you from the remembrance of Allah. And whosever does that, then they are with the losers. And spend of that which We have provided you before death comes to one of you, and says: “My Lord! …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حج بیت اللہ کو جا سکے یا اس پر اس میں زکاۃ واجب ہوتی ہو اور وہ حج کو نہ جائے، زکاۃ ادا نہ کرے تو وہ مرتے وقت اللہ سے درخواست کرے گا کہ اسے وہ دنیا میں دوبارہ لوٹا دے، ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اللہ سے ڈرو، دوبارہ لوٹا دیئے جانے کی آرزو تو کفار کریں گے ( نہ کہ مسلمین ) ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے متعلق قرآن پڑھ کر سناتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فأولئك هم الخاسرون وأنفقوا من ما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت» سے «والله خبير بما تعملون» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَجَلُهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3774

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، ‏:‏ بُرَيْدَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ إنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ ‏)‏ نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا …
Narrated Buraidah:"The Messenger of Allah (ﷺ) was delivering a Khutbah to us when Al-Hasan and Al-Husain [peace be upon them] came, wearing red shirts, walking and falling down. So the Messenger of Allah (ﷺ) descended from the Minbar and carried them, and placed them in front of him. Then he said: 'Allah spoke the Truth: Indeed, your wealth and your children are a trial (64:15). I looked at these two children walking and falling down, and I could not bear patiently anymore until I interrupted my talk and picked them up
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 2, no. 1436

درجته: al-Majlisi: مرسل

grading: al-Majlisi: مرسل

درجہ: al-Majlisi: مرسل

2ـ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ يُونُسَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (عَلَيهِ السَّلام) قَالَ قُلْتُ لَهُ فَمَا تَقُولُ فِي مُنَاكَحَةِ النَّاسِ فَإِنِّي قَدْ بَلَغْتُ مَا تَرَاهُ وَمَا تَزَوَّجْتُ قَطُّ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُكَ مِنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ مَا يَمْنَعُنِي إِلا أَنَّنِي أَخْشَى أَنْ لا تَحِلَّ لِي مُنَاكَحَتُهُمْ فَمَا تَأْمُرُنِي فَقَالَ فَكَيْفَ تَصْنَعُ وَأَنْتَ شَابٌّ أَ تَصْبِرُ قُلْتُ أَتَّخِذُ الْجَوَارِيَ قَالَ فَهَاتِ الآنَ فَبِمَا تَسْتَحِلُّ الْجَوَارِيَ قُلْتُ إِنَّ الأمَةَ لَيْسَتْ بِمَنْزِلَةِ الْحُرَّةِ إِنْ رَابَتْنِي بِشَيْ‏ءٍ بِعْتُهَا وَاعْتَزَلْتُهَا قَالَ فَحَدِّثْنِي بِمَا اسْتَحْلَلْتَهَا قَالَ فَلَمْ يَكُنْ …
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from Muhammad ibn ‘Isa from Yunus from a man from Zurara who has said the following: “Once I asked abu Ja’far (a.s.) ‘What do you say about marriage of the people. I have reached this age as you can see and I am not married yet.’ The Imam asked, ‘What prevents you from becoming married?’ I said, ‘What prevents me is fear that it may not be lawful to marry from them. What is your instruction?’ The Imam asked, ‘How can you live and you are young, can you exercise patience?’ I said, ‘I can buy slaves.’ The Imam asked, ‘Here you are, how, can slaves be lawful?’ I said, ‘A slave is not like a free person. If something may make me suspicious I can sell her and stay …
علی بن ابراہیم نے محمد بن عیسیٰ سے روایت کی اور محمد بن عیسیٰ نے یونس سے روایت کی اور یونس نے ایک شخص سے روایت کی اور اس نے زرارہ بن أعین سے روایت کی۔ زرارہ بن أعین کہتے ہیں: میں ابو جعفر محمد بن علی الباقر علیہ السلام کے سامنے حاضر تھا اور میں نے ان سے درخواست کی اور کہا: ابا جعفر! آپ کا نظریہ اور رائے کیا ہے لوگوں سے نکاح کے معاملے میں؟ کیونکہ میں تو اس عمر کو پہنچ گیا ہوں جیسا آپ دیکھ رہے ہیں اور میں نے ہنوز تک کسی عورت سے نکاح نہیں کیا۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں اس سے کیا روک رہا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ تم نکاح نہیں کر رہے؟ میں نے جواب دیا اور کہا: جو چیز مجھے روک رہی ہے وہ یہ ہے کہ میں خوف میں ہوں اور ڈرتا ہوں کہ ان لوگوں سے میرا نکاح ممکن ہے کہ مجھے حلال نہ ہو۔ تو براہ کرم آپ …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَلَن يُؤَخِّرَ ٱللَّهُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 309

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الآخِرَةِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الآخِرَةِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِسُوَرٍ مِنْ أَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ نَحْوِ سُورَةِ …
Abdullah bin Buraidah narrated that his father (Buraidah) said:"Allah's Messenger would recite: By the sun and its brightness, or similar Surah for the latter Isha (prayer)
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں براء بن عازب اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔ ۴- عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ وہ عشاء میں «وساط مفصل» کی سورتیں جیسے سورۃ المنافقون اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے، ۵- صحابہ کرام اور تابعین سے یہ بھی مروی ہے کہ ان لوگوں نے اس سے زیادہ اور اس سے کم بھی پڑھی ہے۔ گویا ان کے نزدیک معاملے میں وسعت ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بہتر چیز جو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے وہ یہ کہ آپ نے سورۃ «والشمس …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

نَفْسًا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 5, no. 33

درجته: Mohseni: صحيح

grading: Mohseni: صحيح

درجہ: Mohseni: صحيح

و ما كان فيه عن محمّد بن حمران؛ و جميل بن درّاج فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن يعقوب بن يزيد، عن محمّد بن أبي عمير، عن محمّد بن حمران؛ و جميل بن درّاج‌.
Everything in this book that is narrated from Muhammad ibn Hurman and Jamil ibn Darraj has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ya'qub ibn Yazid, from Muhammad ibn Abi 'Umayr, from Muhammad ibn Hurman and Jamil ibn Darraj.
اور جو اس میں محمد بن حمران اور جميل بن دراج سے ہے تو میں نے اسے اپنے والد رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے، والد نے سعد بن عبد الله سے، سعد نے يعقوب بن يزيد سے، يعقوب نے محمد بن أبي عمير سے، محمد نے محمد بن حمران اور جميل بن دراج سے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 5, no. 5

درجته: Mohseni: احد الطرق معتبر

grading: Mohseni: احد الطرق معتبر

درجہ: Mohseni: احد الطرق معتبر

و ما كان فيه عن يعقوب بن عثيم‌ فقد رويته عن محمّد بن موسى بن المتوكّل- رضي اللّه عنه- عن عليّ بن إبراهيم بن هاشم، عن محمّد بن أبي عمير، عن يعقوب بن عثيم. و رويته عن أبي- رحمه اللّه- عن سعد بن عبد اللّه، عن يعقوب بن يزيد، عن محمّد بن أبي عمير، عن يعقوب بن عثيم‌.
Everything in this book that is narrated from Ya'qub ibn 'Athim has been transmitted by me from Muhammad ibn Musa ibn Al-Mutawakkil - may Allah (swt) be pleased with him - from Ali ibn Ibrahim ibn Hashim, from Muhammad ibn Abi Umayr, from Ya'qub ibn 'Athim. I have also narrated it from my father - may Allah (swt) have mercy on him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ya'qub ibn Yazid, from Muhammad ibn Abi Umayr, from Ya'qub ibn 'Athim.
اور جو کچھ اس کتاب میں یعقوب بن عثیم سے روایت کی گئی ہے تو میں نے اسے محمد بن موسیٰ بن المتوکل - رضی اللہ عنہ - سے روایت کیا، وہ علی بن ابراہیم بن ہاشم سے، وہ محمد بن ابی عمیر سے، وہ یعقوب بن عثیم سے۔ اور میں نے اسے اپنے باپ - رحمہ اللہ - سے روایت کیا، وہ سعد بن عبد اللہ سے، وہ یعقوب بن یزید سے، وہ محمد بن ابی عمیر سے، وہ یعقوب بن عثیم سے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

خَبِيرٌۢ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 5, no. 108

درجته: Mohseni: معتبر

grading: Mohseni: معتبر

درجہ: Mohseni: معتبر

و ما كان فيه عن رفاعة بن موسى النخّاس فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن يعقوب بن يزيد، عن محمّد بن أبي عمير، عن رفاعة بن موسى النخّاس‌.
Everything in this book that is narrated from Rifa'ah ibn Musa Al-Nakhkhas has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ya'qub ibn Yazid, from Muhammad ibn Abi 'Umayr, from Rifa'ah ibn Musa Al-Nakhkhas.
اور جو کچھ اس میں رفاعہ بن موسیٰ النخاس سے ہے تو میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا - اللہ ان سے راضی ہو - سعد بن عبد اللہ سے، یعقوب بن یزید سے، محمد بن ابی عمیر سے، رفاعہ بن موسیٰ النخاس سے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱللَّهُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 5, no. 144

درجته: Mohseni: معتبر

grading: Mohseni: معتبر

درجہ: Mohseni: معتبر

و ما كان فيه عن عمر بن اذينة فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسين بن سعيد، عن محمّد بن أبي عمير، عن عمر بن اذينة.
Everything in this book that is narrated from Umar ibn Udhaynah has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ahmad ibn Muhammad ibn 'Isa, from Al-Husayn ibn Sa'id, from Muhammad ibn Abi 'Umayr, from Umar ibn Udhaynah.
اور جو کچھ اس میں عمر بن اذينة سے ہے تو میں نے اسے اپنے باپ رضي الله عنه سے روايت کیا ہے، سعد بن عبد الله سے، احمد بن محمد بن عيسى سے، الحسين بن سعيد سے، محمد بن ابي عمير سے، عمر بن اذينة سے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يُؤَخِّرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 5, no. 361

درجته: Mohseni: مجهول

grading: Mohseni: مجهول

درجہ: Mohseni: مجهول

و ما كان فيه عن جعفر بن عثمان فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن عليّ بن موسى الكمندانيّ، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسين بن سعيد، عن محمّد بن‌ أبي عمير، عن أبي جعفر الشاميّ، عن جعفر بن عثمان‌.
And whatever is narrated from Jafar ibn Uthman, I have narrated it from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Ali ibn Musa Al-Kamandani, from Ahmad ibn Muhammad ibn ʿIsa, from Al-Husayn ibn Saʿid, from Muhammad ibn Abi Umayr, from Abu Jafar Al-Shami, from Jafar ibn Uthman.
اور جو اس میں جعفر بن عثمان سے ہے تو میں نے اس کو اپنے باپ - رضي الله عنه - سے روایت کیا ہے، علي بن موسى الكمنداني سے، احمد بن محمد بن عيسى سے، الحسين بن سعيد سے، محمد بن أبي عمير سے، أبي جعفر الشامي سے، جعفر بن عثمان سے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱللَّهُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.