PickthallO Prophet! When ye (men) put away women, put them away for their (legal) period and reckon the period, and keep your duty to Allah, your Lord. Expel them not from their houses nor let them go forth unless they commit open immorality. Such are the limits (imposed by) Allah; and whoso transgresseth Allah's limits, he verily wrongeth his soul. Thou knowest not: it may be that Allah will afterward bring some new thing to pass.
Yusuf AliO Prophet! When ye do divorce women, divorce them at their prescribed periods, and count (accurately), their prescribed periods: And fear Allah your Lord: and turn them not out of their houses, nor shall they (themselves) leave, except in case they are guilty of some open lewdness, those are limits set by Allah: and any who transgresses the limits of Allah, does verily wrong his (own) soul: thou knowest not if perchance Allah will bring about thereafter some new situation.
The agreed readingWhen you intend to divorce women, divorce them at the outset of their waiting period — in a time of purity, as the commentaries of both traditions read it — and count the period. Be mindful of God your Lord. Do not turn them out of their houses, and let them not leave, unless they commit a plain indecency. These are God's limits, and whoever oversteps God's limits has wronged himself. You do not know: God may bring something new to pass after that.
Urduاے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے آغاز میں طلاق دو، اور عدت شمار کرو، اور اللہ اپنے رب سے ڈرو، انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بےحیائی کریں، یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا، تمہیں معلوم نہیں شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کر دے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ پہلے نبی ﷺ کو عزت اور تکریم کے طور پر خطاب کیا گیا، پھر امت کو تبعاً خطاب کیا گیا۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ اپنے نبی ﷺ اور مومنوں سے خطاب کرتا ہے، یعنی اگر تم انہیں طلاق دینے کا ارادہ کرو تو ان کی طلاق کے لیے شرعی طریقہ اختیار کرو۔ قرطبی کے مطابق سورۃ الطلاق سب کے نزدیک مدنی ہے اور اس کی گیارہ یا بارہ آیات ہیں۔
Arabicيا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن وأحصوا العدة واتقوا الله ربكم لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وتلك حدود الله ومن يتعد حدود الله فقد ظلم نفسه لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا. ذكر ابن كثير أن النبي صلى الله عليه وسلم خوطب أولا تشريفا وتكريما، ثم خاطب الأمة تبعا. وذكر السعدي أن الله يخاطب نبيه صلى الله عليه وسلم وللمؤمنين: يا أيها النبي إذا طلقتم النساء، أي إذا أردتم طلاقهن، فالتمسوا لطلاقهن الأمر المشروع. وذكر القرطبي أن سورة الطلاق مدنية في قول الجميع، وهي إحدى عشرة آية أو اثنتا عشرة آية.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 6 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة8 reports cited here — 6 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Allah (swt), the Exalted, said: "And if you are ill, or on a journey, or one of you comes from relieving himself, or you have touched women and you do not find water, then seek clean earth and wipe over your faces and hands with it. Allah (swt) does not intend to make difficulty for you, but He intends to purify you and complete His favour upon you so that you may be grateful." (Surah Al-Ma’idah 5:6).
الله عز وجل فرماتا ہے: "اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی غائط سے آیا ہو یا تم نے نساء کو لامس کیا ہو اور پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو صعید طیب سے اور اپنے وجوہ اور اپنی ایدی مسح کرو۔ الله تم پر کوئی حرج نہیں چاہتا بلکہ تمہیں طہر کرنا اور اپنی نعمت تم پر اتمام کرنا چاہتا ہے تاکہ تم شکور ہو۔"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
244. Ali Bin Ibrahim, from his father, from Ibn Abi ‘Umayr, from Muawiya Bin Ammar, who has said the following: Abu Abdullah (asws), said, ‘I heard him (asws) saying regarding this Verse: “[8:70] O Prophet! say to those of the captives who are in your hands: If Allah knows anything good in your hearts, He will give to you better than that which has been taken away from you and will forgive you”, he (asws) said: ‘This was Revealed regarding Al-Abbas, and Aqeel, and Naufal’. And he (asws) said that: ‘The Rasool Allah (saww) prohibited the killing of anyone from the Clan of Hashim (as) and Abu Al-Bakhtary on the Day of Badr. So they were made captives. The Rasool Allah (saww) sent for Ali …
علی بن ابراہیم اپنے والد سے، وہ ابن ابی عمیر سے، وہ معاویہ بن عمار سے روایت کرتے ہیں، کہا: میں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام کو سنا کہ وہ اس آیت کے بارے میں فرما رہے ہیں: "اے نبی! جو قیدی تمہارے ہاتھوں میں ہیں ان سے کہو کہ اگر اللہ تمہارے دلوں میں خیر جانتا ہے تو تمہیں اس سے بہتر چیز دے گا جو تم سے لی گئی ہے اور تمہاری بخشش کرے گا"۔ انہوں نے کہا: یہ عباس، عقیل اور نوفل کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے بدر کے دن بنی ہاشم میں سے کسی کو قتل کرنے سے منع فرمایا تھا اور ابو البختری نے بھی۔ تو یہ لوگ قیدی بنایے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے علی علیہ السلام کو بھیجا اور فرمایا: جاؤ اور دیکھو کہ بنی ہاشم میں سے یہاں کون ہیں۔ تو علی علیہ السلام عقیل …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Ishaq reported:I was with al-Aswad b. Yazid sitting in the great mosque, and there was with us al-Sha'bi, and he narrated the narration of Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) that Allah's Messenger (ﷺ) did not make any provision for lodging and maintenance allowance for her. Al-Aswad caught hold of some pebbles in his fist and he threw them towards him saying: Woe be to thee, you narrate like it, whereas Umar said: We cannot abandon the Book of Allah and the Sunnah of our Apostle (ﷺ) for the words of a woman. We do not know whether she remembers that or she forgets. For her, there is a provision of lodging and maintenance allowance. Allah, the Exalted and Majestic, said:" Turn …
ابواحمد نے ہمیں خبر دی ، ( کہا : ) عمار بن رزیق نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں اسود بن یزید ( نخعی ) کے ساتھ ( کوفہ کی ) بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ، شعبی بھی ہمارے ساتھ تھے ، تو شعبی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور خرچ ( کا حق ) نہیں دیا ۔ پھر اسود نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں دے ماریں اور کہا : تم پر افسوس! تم اس طرح کی حدیث بیان کر رہے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا : ہم ایک عورت کے قول کی وجہ سے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتے ، ہم نہیں جانتے کہ اس نے ( اس مسئلے کو ) یاد رکھا ہے یا بھول گئی ، اس کے لیے رہائش اور خرچ ہے ۔ ( اور یہ آیت تلاوت کی ) اللہ عزوجل نے فرمایا : " تم …
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:that he had divorced his wife while she was menstruating during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) . `Umar bin Al-Khattab asked Allah's Messenger (ﷺ) about that. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Order him (your son) to take her back and keep her till she is clean and then to wait till she gets her next period and becomes clean again, whereupon, if he wishes to keep her, he can do so, and if he wishes to divorce her he can divorce her before having sexual intercourse with her; and that is the prescribed period which Allah has fixed for the women meant to be divorced
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے اپنی بیوی ( آمنہ بنت غفار ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( حالت حیض میں ) طلاق دے دی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں اور پھر اپنے نکاح میں باقی رکھیں۔ جب ماہواری ( حیض ) بند ہو جائے، پھر ماہواری آئے اور پھر بند ہو، تب اگر چاہیں تو اپنی بیوی کو اپنی نکاح میں باقی رکھیں اور اگر چاہیں تو طلاق دے دیں ( لیکن طلاق اس طہر میں ) ان کے ساتھ ہمبستری سے پہلے ہونا چاہئے۔ یہی ( طہر کی ) وہ مدت …
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَغَيَّظَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْهُرَ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ ".
Narrated Salim:That `Abdullah bin `Umar told him that he had divorced his wife while she was in her menses so `Umar informed Allah's Messenger (ﷺ) of that. Allah's Messenger (ﷺ) became very angry at that and said, "(Ibn `Umar must return her to his house and keep her as his wife till she becomes clean and then menstruates and becomes clean again, whereupon, if he wishes to divorce her, he may do so while she is still clean and before having any sexual relations with her, for that is the legally prescribed period for divorce as Allah has ordered)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے اپنی بیوی آمنہ بنت غفار کو جبکہ وہ حائضہ تھیں طلاق دے دی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ اس پر بہت غصہ ہوئے اور فرمایا کہ وہ ان سے ( اپنی بیوی سے ) رجوع کر لیں اور اپنے نکاح میں رکھیں یہاں تک کہ وہ ماہواری سے پاک ہو جائے پھر ماہواری آئے اور پھر وہ اس سے پاک ہو، اب اگر وہ طلاق دینا مناسب سمجھیں تو اس کی پاکی ( طہر ) کے زمانہ میں ان کے ساتھ ہمبستری سے پہلے طلاق دے سکتے ہیں بس یہی وہ وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ( مردوں کو ) حکم دیا ہے کہ اس …
Ubaidullah b. 'Abdullah b. 'Utba reported that 'Amr b. Hafs b. al-Mughira set out along with 'Ali b. Abi Talib (Allah be pleased with him) to the Yemen and sent to his wife the one pronouncement of divorce which was still left from the (irrevocable) divorce; and he commanded al-Harith b. Hisham and 'Ayyash b. Abu Rabi'a to give her maintenance allowance. They said to her:By Allah, there is no maintenance allowance for you, except in case you are pregnant. She came to Allah's Apostle (may peace he upon him) and mentioned their opinion to him, whereupon he said: There is no maintenance allowance for you. Then she sought permission to move (to another place), and he (the Holy Prophet) …
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی جانب گئے اور اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو اس کی ( تین ) طلاقوں میں سے جو طلاق باقی تھی بھیج دی ، اور انہوں نے ان کے بارے میں ( اپنے عزیزوں ) حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ سے کہا کہ وہ انہیں خرچ دیں ، تو ان دونوں نے ان ( فاطمہ ) سے کہا : اللہ کی قسم! تمہارے لیے کوئی خرچ نہیں الا یہ کہ تم حاملہ ہوتی ۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو ان دونوں کی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے لیے خرچ نہیں ( بنتا ۔ ) " انہوں نے آپ سے نقل مکانی کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife while she was menstruating, during the time of the Messenger of Allah. 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, asked the Messenger of Allah about that, and the Messenger of Allah said:"Tell him to take her back and keep her until she becomes pure, then menstruates again and becomes pure again. Then if he wishes he may keep her, or if he wishes, he may divorce her before he touches (has intercourse with) her. This is the time when Allah, the Mighty and Sublime, has stated that women may be divorced
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے ( یعنی طلاق ختم کر کے اسے اپنی بیوی بنا لے ) پھر اسے روکے رکھے جب تک کہ وہ حیض سے پاک نہ ہو جائے پھر اسے حیض آئے پھر پاک ہو ( جب وہ دوبارہ حیض سے پاک ہو جائے ) تو چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو اسے چھونے ( اس کے پاس جانے اور اس سے صحبت کرنے ) سے پہلے اسے طلاق دیدے۔ یہی وہ عدت ہے جسے ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورت کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5251) Sahih Muslim (1471)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5251) Sahih Muslim (1471)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5251) Sahih Muslim (1471)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
‘Abd Allah bin Umar said that he divorced his wife while she was menstruating during the time of the Apostle of Allaah(ﷺ). So ‘Umar bin Al Khattab asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about this matter. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Order him, he must take her back and keep her back till she is purified, then has another menstrual period and is purified. Thereafter if he desires he may divorce her before having intercourse with her, for that is the period of waiting which Allaah the Glorified has commanded for the divorce of women.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے، پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر حیض آ جائے، پھر پاک ہو جائے، پھر اس کے بعد اگر چاہے تو رکھے، ورنہ چھونے سے پہلے طلاق دیدے، یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کے سلسلے میں حکم دیا ہے ۱؎ ۔
PickthallThen, when they have reached their term, take them back in kindness or part from them in kindness, and call to witness two just men among you, and keep your testimony upright for Allah. Whoso believeth in Allah and the Last Day is exhorted to act thus. And whosoever keepeth his duty to Allah, Allah will appoint a way out for him,
Yusuf AliThus when they fulfil their term appointed, either take them back on equitable terms or part with them on equitable terms; and take for witness two persons from among you, endued with justice, and establish the evidence (as) before Allah. Such is the admonition given to him who believes in Allah and the Last Day. And for those who fear Allah, He (ever) prepares a way out,
The agreed readingWhen they have all but reached the end of the term — the commentaries read reaching it as nearing it — either keep them in kindness or part from them in kindness. In both directions the kindness is defined against harm: no taking her back in order to hurt her, and no parting with abuse or reproach. Call two just men from among you to witness, and let the testimony be given for God's sake. Whoever believes in God and the Last Day is admonished by this. And whoever is mindful of God, He makes a way out for him.
Urduپھر جب وہ اپنی مدت کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے سے جدا کر دو، اور اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بناؤ، اور اللہ کے لیے گواہی قائم کرو، اسی سے اسے نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ فاذا بلغن اجلھن کا مطلب ہے عدت کی تکمیل کے قریب پہنچ جائیں، جیسے سورۃ البقرہ میں اللہ کا فرمان ہے۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ جب عدت والی عورتیں اپنی مدت کے قریب پہنچ جائیں، یعنی عدت کی تکمیل کے قریب ہو جائیں مگر عدت پوری طرح ختم نہ ہوئی ہو، تو اس وقت یا تو شوہر رجوع کا ارادہ کرے۔
Arabicفإذا بلغن أجلهن فأمسكوهن بمعروف أو فارقوهن بمعروف وأشهدوا ذوي عدل منكم وأقيموا الشهادة لله ذلكم يوعظ به من كان يؤمن بالله واليوم الآخر ومن يتق الله يجعل له مخرجا. ذكر القرطبي أن فإذا بلغن أجلهن معناه قاربن انقضاء العدة، كقوله تعالى في البقرة. وذكر ابن كثير أنه إذا بلغت المعتدات أجلهن، أي شارفن على انقضاء العدة وقاربن ذلك، ولكن لم تفرغ العدة بالكلية، فحينئذ إما أن يعزم الزوج على إمساكها.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Rāzī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī and al-Rāzī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Rāzī نے اس آیت پر نقل کیا
اضطجع بين ركعتي الفجر وركعتي الغداة على يمينك مستقبل القبلة وقل في ضجعتك استمسكت بعروة الله الوثقى التي لا انفصام لها، واعتصمت بحبل الله المتين، وأعوذ بالله من شر فسقة العرب والعجم، وأعوذ بالله من شر فسقه الجن والإنس ، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح فالق الاصباح " ثم تقول: " بسم الله وضعت جنبي لله، فوضت أمري إلى الله أطلب حاجتي من الله توكلت على الله حسبي الله ونعم الوكيل ومن يتوكل على الله فهو حسبه إن الله بالغ أمره قد جعل الله لكل شئ قدرا اللهم ومن أصبح وحاجته إلى مخلوق فإن حاجتي ورغبتي إليك " وتقرأ خمس آيات من آخر آل عمران " إن في خلق السماوات والأرض - إلى قوله: - إنك لا تخلف الميعاد. وصل على محمد وآله مائة مرة فإنه
Between the two Rak'ahs of Fajr and the two Rak'ahs of Ghadah (morning prayer), lie down on your right side facing the Qibla and say: "I have held firmly to the strong rope of Allah (swt) which cannot be broken, and I have sought refuge in the strong handhold of Allah (swt). I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the Arabs and non-Arabs, and I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the jinn and humans. Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning." Then say: "In the …
فجر کی دونوں رکعات اور صبح کی نماز کی دونوں رکعات کے درمیان اپنے دائیں جانب لیٹو اور قبلہ کی طرف رخ کیے ہوئے کہو: میں نے اللہ کی مضبوط رسی کو مضبوطی سے تھاما ہے جس میں کوئی شگاف نہیں، اور میں نے اللہ کی متین رسی سے اعتصام کیا، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں عرب اور عجم کے فاسقوں کی شرائی سے، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں جن اور انسان کے فاسقوں کی شرائی سے۔ صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا۔ پھر کہو: اللہ کے نام سے میں نے اپنا جسم اللہ کے لیے رکھا، میں نے اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کیا، میں اللہ سے اپنی حاجت مانگتا ہوں، میں اللہ پر توکل کرتا ہوں، اللہ مجھ کے لیے کافی ہے اور بہترین محافظ ہے، اور جو …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that :the Messenger of Allah said: "Whoever persists in asking for forgiveness, Allah will grant him relief from every worry, and a way out from every hardship, and will grant him provision from (sources) he could never imagine
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا ۱؎۔
Mujahid said “I was with Ibn ‘Abbas”. A man came to him and said that he divorced his wife by three pronouncements. I kept silence and thought that he was going to restore het to him. He then said “A man goes and commits a foolish act and then says “O, Ibn ‘Abbas! Alaah has said “And for those who fear Allaah, He (ever) prepares a way out.” Since you did not keep duty to Allaah I do not find a way out for you. You disobeyed your Lord and your wife was separated from you. Allaah has said “O Prophet! When you divorce women divorce them in the beginning of their waiting period.” Abu Dawud said “This tradition has been transmitted by Humaid Al A’raj and by others from Mujahid on the authority …
مجاہد کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے کہنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے اس کی طرف لوٹا دیں گے، پھر انہوں نے کہا: تم لوگ بیوقوفی تو خود کرتے ہو پھر آ کر کہتے ہو: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» ۱؎ اور تو اللہ سے نہیں ڈرا لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راستہ بھی نہیں پاتا، تو نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہٰذا تیری بیوی تیرے لیے بائنہ ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» ، «في قبل عدتهن» ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما …
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I divorced my wife when she was menstruating. 'Umar mentioned that to the Messenger of Allah and he said: 'Tell him to take her back until she becomes pure (i.e., her period ends), then she has her period (again), then she becomes pure (again), then if he wishes he may divorce her before having sexual relations with her, and if he wishes he may keep her. This is the waiting period that Allah has enjoined
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں یہاں تک کہ وہ عورت حیض سے پاک ہو جائے پھر اسے حیض آئے، اور اس سے بھی پاک ہو جائے، پھر ابن عمر اگر چاہیں تو جماع سے پہلے اسے طلاق دے دیں، اور اگر چاہیں تو روکے رکھیں یہی عورتوں کی عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے ۱؎۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife while she was menstruating, during the time of the Messenger of Allah. 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, asked the Messenger of Allah about that, and the Messenger of Allah said:"Tell him to take her back and keep her until she becomes pure, then menstruates again and becomes pure again. Then if he wishes he may keep her, or if he wishes, he may divorce her before he touches (has intercourse with) her. This is the time when Allah, the Mighty and Sublime, has stated that women may be divorced
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے ( یعنی طلاق ختم کر کے اسے اپنی بیوی بنا لے ) پھر اسے روکے رکھے جب تک کہ وہ حیض سے پاک نہ ہو جائے پھر اسے حیض آئے پھر پاک ہو ( جب وہ دوبارہ حیض سے پاک ہو جائے ) تو چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو اسے چھونے ( اس کے پاس جانے اور اس سے صحبت کرنے ) سے پہلے اسے طلاق دیدے۔ یہی وہ عدت ہے جسے ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورت کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5251) Sahih Muslim (1471)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5251) Sahih Muslim (1471)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5251) Sahih Muslim (1471)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
‘Abd Allah bin Umar said that he divorced his wife while she was menstruating during the time of the Apostle of Allaah(ﷺ). So ‘Umar bin Al Khattab asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about this matter. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Order him, he must take her back and keep her back till she is purified, then has another menstrual period and is purified. Thereafter if he desires he may divorce her before having intercourse with her, for that is the period of waiting which Allaah the Glorified has commanded for the divorce of women.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے، پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر حیض آ جائے، پھر پاک ہو جائے، پھر اس کے بعد اگر چاہے تو رکھے، ورنہ چھونے سے پہلے طلاق دیدے، یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کے سلسلے میں حکم دیا ہے ۱؎ ۔
‘Ubaid Allah said “Marwan sent someone (Qabisah) to Fatimah and asked her (about the case). She said that she was the wife of Abu Hafs. The Prophet (ﷺ) appointed ‘Ali as governor in a certain part of Yemen. Her husband also proceeded with him. From there he sent a message to her pronouncing one divorce that had yet remained. He commanded ‘Ayyash bin Abi Rabi’ah and Al Harith bin Hisham to provide maintenance to her. They said “By Allah there is no sustenance for her except in case she is pregnant.” She came to the Prophet(ﷺ) who said “There is no sustenance for you except in case you are pregnant. She then asked permission to shift (from her house) and he gave her permission.” She asked …
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ مروان نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو بلوایا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابوحفص رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا یعنی یمن کے بعض علاقے کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کے شوہر بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے اور وہیں سے انہیں بقیہ ایک طلاق بھیج دی، اور عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن ہشام کو انہیں نفقہ دینے کے لیے کہہ دیا تو وہ دونوں کہنے لگے: اللہ کی قسم حاملہ ہونے کی صورت ہی میں وہ نفقہ کی حقدار ہو سکتی ہیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ( اور آپ سے دریافت کیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے نفقہ صرف اس صورت میں ہے کہ تم حاملہ ہو ، پھر …
Narrated Mutarrif ibn Abdullah: Imran ibn Husayn was asked about a person who divorces his wife, and then has intercourse with her, but he does not call any witness to her divorce nor to her restoration. He said: You divorced against the sunnah and took her back against the sunnah. Call someone to bear witness to her divorce, and to her return in marriage, and do not repeat it
مطرف بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس کے ساتھ صحبت بھی کر لے اور اپنی طلاق اور رجعت کے لیے کسی کو گواہ نہ بنائے تو انہوں نے کہا کہ تم نے سنت کے خلاف طلاق دی اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گواہ بناؤ اور پھر اس طرح نہ کرنا۔
Imran bin Husain:was asked about a man who divorced his wife then had intercourse with her, and there were no witnesses to his divorcing her or his taking her back. 'Imran said: "You have divorced (her) in a manner that is not according to the Sunnah, and you have taken her back in a manner that is not according to the Sunnah. Bring people to witness your divorcing her and taking her back
مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس سے جماع کرے، اور اپنی طلاق اور رجعت پہ کسی کو گواہ نہ بنائے؟ تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سنت کے خلاف طلاق دی، اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت پہ گواہ بناؤ ۱؎۔
PickthallAnd will provide for him from (a quarter) whence he hath no expectation. And whosoever putteth his trust in Allah, He will suffice him. Lo! Allah bringeth His command to pass. Allah hath set a measure for all things.
Yusuf AliAnd He provides for him from (sources) he never could imagine. And if any one puts his trust in Allah, sufficient is (Allah) for him. For Allah will surely accomplish his purpose: verily, for all things has Allah appointed a due proportion.
The agreed readingAnd He provides for him from where he does not reckon on it — from a quarter that never entered his mind. Whoever relies on God, God is enough for him. The way out and the provision are promised together, and to the same man: the one who is mindful and who relies. God attains His purpose, and He has set a measure for everything, ease and hardship alike, each with its appointed time.
Urduاور وہ اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو، اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہی اس کے لیے کافی ہے، بےشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ تفسیر مقباس اس آیت کے آخری حصے کو قد جعل اللہ لکل شیء قدرا کی نوعیت سے جوڑتی ہے، اور یہی وہ قدر ہے جس کا ذکر آیت میں ہوا۔
Arabicويرزقه من حيث لا يحتسب، أي من جهة لم تخطر له على بال، ومن يتوكل على الله فهو حسبه، إن الله بالغ أمره لا يعجزه شيء، قد جعل الله لكل شيء قدرا، لليسر وللعسر جميعا، وكل واحد منهما ينتهي في وقته المقدر له. جاء في تفسير مقباس أن آخر هذه الآية من قبيل قوله قد جعل الله لكل شيء قدرا، وأن المخرج والرزق موعودان معا لمن يتقي الله ويتوكل عليه.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 6 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة8 reports cited here — 6 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Rāzī، al-Ḥuwayzī، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Ṭūsī, al-Rāzī, al-Ḥuwayzī, Ṭabāṭabāʾī and Ṭanṭāwī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Rāzī، al-Ḥuwayzī، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
اضطجع بين ركعتي الفجر وركعتي الغداة على يمينك مستقبل القبلة وقل في ضجعتك استمسكت بعروة الله الوثقى التي لا انفصام لها، واعتصمت بحبل الله المتين، وأعوذ بالله من شر فسقة العرب والعجم، وأعوذ بالله من شر فسقه الجن والإنس ، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح فالق الاصباح " ثم تقول: " بسم الله وضعت جنبي لله، فوضت أمري إلى الله أطلب حاجتي من الله توكلت على الله حسبي الله ونعم الوكيل ومن يتوكل على الله فهو حسبه إن الله بالغ أمره قد جعل الله لكل شئ قدرا اللهم ومن أصبح وحاجته إلى مخلوق فإن حاجتي ورغبتي إليك " وتقرأ خمس آيات من آخر آل عمران " إن في خلق السماوات والأرض - إلى قوله: - إنك لا تخلف الميعاد. وصل على محمد وآله مائة مرة فإنه
Between the two Rak'ahs of Fajr and the two Rak'ahs of Ghadah (morning prayer), lie down on your right side facing the Qibla and say: "I have held firmly to the strong rope of Allah (swt) which cannot be broken, and I have sought refuge in the strong handhold of Allah (swt). I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the Arabs and non-Arabs, and I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the jinn and humans. Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning." Then say: "In the …
فجر کی دونوں رکعات اور صبح کی نماز کی دونوں رکعات کے درمیان اپنے دائیں جانب لیٹو اور قبلہ کی طرف رخ کیے ہوئے کہو: میں نے اللہ کی مضبوط رسی کو مضبوطی سے تھاما ہے جس میں کوئی شگاف نہیں، اور میں نے اللہ کی متین رسی سے اعتصام کیا، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں عرب اور عجم کے فاسقوں کی شرائی سے، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں جن اور انسان کے فاسقوں کی شرائی سے۔ صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا۔ پھر کہو: اللہ کے نام سے میں نے اپنا جسم اللہ کے لیے رکھا، میں نے اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کیا، میں اللہ سے اپنی حاجت مانگتا ہوں، میں اللہ پر توکل کرتا ہوں، اللہ مجھ کے لیے کافی ہے اور بہترین محافظ ہے، اور جو …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
O Abū Dharr! You showed anger in the name of Allāh therefore have hope in Him for whom you became angry. The people were afraid of you in the matter of their (pleasure of this) world while you feared them for your faith. Then leave to them that for which they are afraid of you and get away from them taking away what you fear them about. How needy are they for what you dissuade them from and how heedless are you towards what they are denying you. You will shortly know who is the gainer tomorrow (on the Day of Judgement) and who is more enviable. Even if these skies and earth were closed to some individual and he feared Allāh, then Allāh would open them for him. Only rightfulness should …
اے ابا ذر! تم اللہ کے لیے غضب ہو گئے، تو اس سے رجا رکھو جس کے لیے تم غضب ہوئے۔ القوم تمہیں اپنے دنيا پر خوف خاتے تھے، اور تم ان سے اپنے دين پر خوف کھاتے تھے۔ تو جو وہ تم سے اس میں خوف کھاتے ہیں اسے ان کے ہاتھ میں چھوڑ دو، اور جس سے تم ان سے خوف کھاتے ہو اس کے ساتھ ان سے بھاگو۔ تو وہ جس سے ہیں كتنے احوج، اور تم جو سے منع کیے اس سے كتنے اغنی! اور تم کل جان جاؤ گے کہ الرابح كون ہے اور الأكثر حسدا۔ اور اگر السموات و الأرضین کسی عبد پر رتق ہوں، پھر وہ اللہ سے اتقی، تو اللہ اسے ان سے مخرج دے گا! صرف الحق تمہیں أنس دے، اور صرف الباطل تمہیں وحش کرے۔ تو اگر تم ان کے دنيا قبل کرتے تو وہ تم سے محبت کرتے، اور اگر تم اس سے قرض کرتے تو وہ تمہیں آمن دیتے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas that :the Messenger of Allah said: "Whoever persists in asking for forgiveness, Allah will grant him relief from every worry, and a way out from every hardship, and will grant him provision from (sources) he could never imagine
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا " .
‘Umar said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘If you were to rely upon Allah with the reliance He is due, you would be given provision like the birds: They go out hungry in the morning and come back with full bellies in the evening.”
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل ( بھروسہ ) کرو جیسا کہ اس پر توکل ( بھروسہ ) کرنے کا حق ہے، تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں ۔
Mujahid said “I was with Ibn ‘Abbas”. A man came to him and said that he divorced his wife by three pronouncements. I kept silence and thought that he was going to restore het to him. He then said “A man goes and commits a foolish act and then says “O, Ibn ‘Abbas! Alaah has said “And for those who fear Allaah, He (ever) prepares a way out.” Since you did not keep duty to Allaah I do not find a way out for you. You disobeyed your Lord and your wife was separated from you. Allaah has said “O Prophet! When you divorce women divorce them in the beginning of their waiting period.” Abu Dawud said “This tradition has been transmitted by Humaid Al A’raj and by others from Mujahid on the authority …
مجاہد کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے کہنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے اس کی طرف لوٹا دیں گے، پھر انہوں نے کہا: تم لوگ بیوقوفی تو خود کرتے ہو پھر آ کر کہتے ہو: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» ۱؎ اور تو اللہ سے نہیں ڈرا لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راستہ بھی نہیں پاتا، تو نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہٰذا تیری بیوی تیرے لیے بائنہ ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» ، «في قبل عدتهن» ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما …
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I divorced my wife when she was menstruating. 'Umar mentioned that to the Messenger of Allah and he said: 'Tell him to take her back until she becomes pure (i.e., her period ends), then she has her period (again), then she becomes pure (again), then if he wishes he may divorce her before having sexual relations with her, and if he wishes he may keep her. This is the waiting period that Allah has enjoined
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں یہاں تک کہ وہ عورت حیض سے پاک ہو جائے پھر اسے حیض آئے، اور اس سے بھی پاک ہو جائے، پھر ابن عمر اگر چاہیں تو جماع سے پہلے اسے طلاق دے دیں، اور اگر چاہیں تو روکے رکھیں یہی عورتوں کی عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے ۱؎۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife while she was menstruating, during the time of the Messenger of Allah. 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, asked the Messenger of Allah about that, and the Messenger of Allah said:"Tell him to take her back and keep her until she becomes pure, then menstruates again and becomes pure again. Then if he wishes he may keep her, or if he wishes, he may divorce her before he touches (has intercourse with) her. This is the time when Allah, the Mighty and Sublime, has stated that women may be divorced
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے ( یعنی طلاق ختم کر کے اسے اپنی بیوی بنا لے ) پھر اسے روکے رکھے جب تک کہ وہ حیض سے پاک نہ ہو جائے پھر اسے حیض آئے پھر پاک ہو ( جب وہ دوبارہ حیض سے پاک ہو جائے ) تو چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو اسے چھونے ( اس کے پاس جانے اور اس سے صحبت کرنے ) سے پہلے اسے طلاق دیدے۔ یہی وہ عدت ہے جسے ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورت کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5251) Sahih Muslim (1471)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5251) Sahih Muslim (1471)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5251) Sahih Muslim (1471)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
‘Abd Allah bin Umar said that he divorced his wife while she was menstruating during the time of the Apostle of Allaah(ﷺ). So ‘Umar bin Al Khattab asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about this matter. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Order him, he must take her back and keep her back till she is purified, then has another menstrual period and is purified. Thereafter if he desires he may divorce her before having intercourse with her, for that is the period of waiting which Allaah the Glorified has commanded for the divorce of women.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے، پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر حیض آ جائے، پھر پاک ہو جائے، پھر اس کے بعد اگر چاہے تو رکھے، ورنہ چھونے سے پہلے طلاق دیدے، یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کے سلسلے میں حکم دیا ہے ۱؎ ۔
PickthallAnd for such of your women as despair of menstruation, if ye doubt, their period (of waiting) shall be three months, along with those who have it not. And for those with child, their period shall be till they bring forth their burden. And whosoever keepeth his duty to Allah, He maketh his course easy for him.
Yusuf AliSuch of your women as have passed the age of monthly courses, for them the prescribed period, if ye have any doubts, is three months, and for those who have no courses (it is the same): for those who carry (life within their wombs), their period is until they deliver their burdens: and for those who fear Allah, He will make their path easy.
The agreed readingFor those of your women who have despaired of menstruation, if you are in doubt, the waiting period is three months; and the same for those who have not menstruated at all. The doubt the āyah allows for is doubt about the cause — whether the periods have stopped for age or for something passing. And for those carrying a child, the term runs until they deliver. Whoever is mindful of God, He makes his affair easy for him.
Urduاور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اگر تمہیں شک ہو، تو ان کی عدت تین مہینے ہے، اور اسی طرح ان کی بھی جنہیں ابھی حیض نہیں آیا، اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں، اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔ ابن کثیر وضاحت کرتے ہیں کہ یہ آیس یعنی وہ عورت جس کا حیض عمر رسیدگی کی وجہ سے بند ہو چکا ہو، اس کی عدت تین مہینے بتاتی ہے، تین حیض کے بدلے، جیسا کہ حیض والی عورت کے حق میں ایک اور آیت میں بتایا گیا۔ علامہ سعدی لکھتے ہیں کہ اللہ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ طلاق کا حکم عورتوں کی عدت کے لیے ہے، عدت کا ذکر کیا، یعنی جو عورتیں حیض آتی رہیں پھر عمر رسیدگی یا کسی اور وجہ سے بند ہو گیا اور اس کے لوٹنے کی امید نہ رہے، تو اس کی عدت تین مہینے ہے۔ زمخشری روایت نقل کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے کہا: ہمیں حیض والیوں کی عدت معلوم ہے، ان کی عدت کیا ہے جنہیں حیض نہیں آتا؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
Arabicواللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر واللائي لم يحضن وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن ومن يتق الله يجعل له من أمره يسرا. ذكر ابن كثير أن عدة الآيسة، وهي التي قد انقطع عنها الحيض لكبرها، ثلاثة أشهر، عوضا عن الثلاثة قروء في حق من تحيض. وذكر السعدي أنه لما ذكر تعالى أن الطلاق المأمور به يكون لعدة النساء، ذكر العدة، فقال واللائي يئسن من المحيض من نسائكم بأن كن يحضن ثم ارتفع حيضهن لكبر أو غيره ولم يرج رجوعه فإن عدتها ثلاثة أشهر. وروى الزمخشري أن ناسا قالوا: قد عرفنا عدة ذوات الأقراء، فما عدة اللائي لا يحضن، فنزلت.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
2. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad and Ali ibn Ibrahim has narrated from his father all from ibn Mahbub from abu Ja‘far al-Ahwal from Salam ibn al-Mustanir who has narrated the following: “This is about the meaning of the words of Allah, most Majestic, most Glorious. ‘. . . We made a covenant with Adam (a.s.), before but he forgot and We did not find in him firm determination.’ (20:115) Abu Ja‘far (a.s.), has said, ‘When Allah, most Majestic, most Glorious, said to Adam (a.s.), to enter in the garden (paradises) He said, “O Adam, you must not go near this tree.’” He (the Imam) said that He showed it to him and Adam said to his Lord, “How will I go near the tree when …
محمد بن یحییٰ نے احمد بن محمد سے روایت کی اور علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی، سب ابن محبوب سے، وہ ابو جعفر الاحول سے، وہ سلام بن المستنیر سے، وہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، اللہ عز و جل کے اس قول کے بارے میں: اور بے شک ہم نے آدم سے پہلے سے عہد لیا تھا، پھر وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں عزم نہ پایا۔ انہوں نے کہا: جب اللہ عز و جل نے آدم سے کہا جنت میں داخل ہو، تو اس نے کہا: اے آدم! اس درخت کے قریب نہ جاؤ۔ انہوں نے کہا: اور اس نے اسے وہ درخت دکھایا۔ تو آدم نے اپنے رب سے کہا: میں اس درخت کے قریب کیسے جاؤں جب تم نے مجھے اور میری بیوی کو اس سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: تو اللہ نے ان دونوں سے کہا اس درخت کے قریب نہ جاؤ، یعنی اس سے نہ کھاؤ۔ تو آدم اور اس کی بیوی نے کہا: ہاں، اے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad and Ali ibn Ibrahim his father all from ibn Mahbub from al-Ri’ab from Abu Basir from Abu ‘Abdallah (a.s.) who said: “Allah, the Most High, revealed to ʿImrān: “I will grant you a righteous and blessed son who will cure the blind and the leper and bring the dead back to life by Allah’s permission. I will make him a messenger to the Children of Israel.” ʿImrān conveyed this to his wife, Ḥannah, the mother of Maryam. When she became pregnant, she assumed the child in her womb was a boy. However, when she gave birth, she said: “O my Lord, I have delivered a female.” Allah says: “And the male is not like the female,” meaning that a …
محمد بن یحیی نے احمد بن محمد سے روایت کی، اور علی بن ابراہیم اپنے باپا سے، دونوں ابن محبوب سے، انہوں نے ابن ریاب سے، انہوں نے ابو بصیر سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے کہا: اللہ تعالیٰ نے عمران کو وحی بھیجی: میں تمہیں ایک نیک اور بہترین بیٹا دوں گا، جو تمام معیوبیوں سے پاک ہے۔ وہ اندھے کو شفا دے گا، کوڑھی کو صحت بخشے گا، اور اللہ کی اجازت سے مردے کو زندہ کرے گا، اور میں اسے بنی اسرائیل کا رسول بناتا ہوں۔ تو عمران نے اپنی بیوی ہنہ کو یہ خبر دی، جو مریم کی ماں تھی۔ جب وہ حاملہ ہوئی تو اسے اپنے نفس میں یقین تھا کہ یہ لڑکا ہے۔ جب وہ اسے جنم دے دیا تو کہا: اے میرے ربّ، میں نے تو لڑکی دی ہے۔ اللہ فرماتا ہے: اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں ہے۔ یعنی بیٹی رسول نہیں ہو سکتی۔ اللہ عز و جل فرماتے ہیں: اور اللہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
8. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ahmad ibn Muhammad from Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from Muhammad ibn ’Isma‘il ibn Bazi‘ all from Hanan ibn Sadir from his father who has said the following: “My father, grandfather, uncle and I once entered a bathhouse in al-Madinah and there was a man in the room for undressing. He asked, ‘From where are you people ?’ We replied, ‘We are from Iraq.’ He then asked, ‘From which part of Iraq are you?’ We replied that we are from al-Kufah.’ He said, ‘Welcome, O people of al-Kufah, but you wear only one layer of clothes and why do you not have loincloths? The Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to …
علي بن إبراهيم نے اپنے باپ سے، اور محمد بن يحيى نے أحمد بن محمد سے، اور أحمد بن محمد نے محمد بن إسماعيل بن بزيع سے، یہ سب حنان بن سدير سے، اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: میں اور میرے باپ اور میرے دادا اور میرے چاچا مدینہ میں ایک حمام میں داخل ہوئے۔ تو ایک آدمی غسل خانے میں (کپڑے اتارنے کی جگہ) تھا۔ اس نے ہم سے کہا: تم لوگ کون ہو؟ ہم نے کہا: ہم عراق سے ہیں۔ اس نے کہا: عراق کے کون سے حصے سے؟ ہم نے کہا: کوفہ سے۔ اس نے کہا: خوش آمدید اہل کوفہ! تم بیرونی کپڑے کے بغیر اندرونی کپڑا ہو (یعنی لباس غیر مناسب ہے)۔ پھر اس نے کہا: تمہیں تہبند پہننے سے کیا روکتا ہے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: مومن کی عورت مومن پر حرام ہے۔ پھر اس نے میرے باپ کے پاس ایک کرباس (سفید …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Salama:A man came to Ibn `Abbas while Abu Huraira was sitting with him and said, "Give me your verdict regarding a lady who delivered a baby forty days after the death of her husband." Ibn `Abbas said, "This indicates the end of one of the two prescribed periods." I said "For those who are pregnant, their prescribed period is until they deliver their burdens." Abu Huraira said, I agree with my cousin (Abu Salama)." Then Ibn `Abbas sent his slave, Kuraib to Um Salama to ask her (regarding this matter). She replied. "The husband of Subai'a al Aslamiya was killed while she was pregnant, and she delivered a baby forty days after his death. Then her hand was asked in marriage and …
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آنے والے نے پوچھا کہ آپ مجھے اس عورت کے متعلق مسئلہ بتائیے جس نے اپنے شوہر کی وفات کے چار مہینے بعد بچہ جنا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جس کا خاوند فوت ہو وہ عدت کی دو مدتوں میں جو مدت لمبی ہو اس کی رعایت کرے۔ ( ابوسلمہ نے بیان کیا کہ ) میں نے عرض کیا کہ ( قرآن مجید میں تو ان کی عدت کا یہ حکم ہے ) حمل والیوں کی عدت ان کے حمل کا پیدا ہو جانا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بھی اس مسئلہ میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ہوں۔ ان کی مراد ابوسلمہ بن …
Narrated Muhammad bin Seereen:I sat in a gathering in which the chiefs of the Ansar were present, and `Abdur-Rahman bin Abu Laila was amongst them. I mentioned the narration of `Abdullah bin `Utba regarding the question of Subai'a bint Al-Harith. `Abdur-Rahman said, "But `Abdullah's uncle used not to say so." I said, "I am too brave if I tell a lie concerning a person who is now in Al-Kufa," and I raised my voice. Then I went out and met Malik bin 'Amir or Malik bin `Auf, and said, "What was the verdict of Ibn Mas`ud about the pregnant widow whose husband had died?" He replied, "Ibn Mas`ud said, 'Why do you impose on her the hard order and don't let her make use of the leave? The shorter …
ہم سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے، کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں حاضر ہوا۔ بڑے بڑے انصاری وہاں موجود تھے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بھی موجود تھے۔ میں نے وہاں سبیعہ بنت حارث کے باب سے متعلق عبداللہ بن عتبہ کی حدیث کا ذکر کیا۔ عبدالرحمٰن نے کہا لیکن عبداللہ بن عتبہ کے چچا ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) ایسا نہیں کہتے تھے۔ ( محمد بن سیرین نے کہا ) کہ میں نے کہا کہ پھر تو میں نے ایک ایسے بزرگ عبداللہ بن عتبہ کے متعلق جھوٹ بولنے میں دلیری کی ہے کہ جو کوفہ میں ابھی زندہ موجود ہیں۔ میری آواز بلند ہو گئی تھی۔ ابن سیرین نے کہا کہ پھر جب میں باہر نکلا تو راستے میں مالک بن عامر یا مالک بن عوف سے …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (3991) Sahih Muslim (1484)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (3991) Sahih Muslim (1484)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (3991) Sahih Muslim (1484)
‘Ubaid Allah bin ‘Abd Allah bin ‘Utbah said that his father wrote (a letter) to ‘Abd Allaah bin Al Arqam Al Zuhri asking him to visit Subai’ah daughter of Al Harith Al Aslamiyyah and ask her about her story and what the Apostle of Allaah(ﷺ) said to her when she asked his opinion (about her). So, ‘Umar bin Abd allah wrote in reply to ‘Abd Allah bin ‘Utbah informing him what she told him. She told that she was under (i.e., the wife of) Sa’d bin Khawlah who belonged to Banu Amir bin Luwayy. He was one of those who participated in the battle of Badr. He died at the Farwell Pilgrimage while she was pregnant. Soon after his death she gave birth to a child. When she was purified from her bleeding …
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان کی حدیث معلوم کریں، نیز معلوم کریں کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے کیا ارشاد فرمایا؟ چنانچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھا، وہ انہیں بتا رہے تھے کہ انہیں سبیعہ نے بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ( وہ بنی عامر بن لوی کے ایک فرد، اور بدری صحابی ہیں ) حجۃ الوداع کے موقعہ پر جب وہ حاملہ تھیں تو ان کا انتقال ہو گیا، انتقال کے بعد انہوں نے بچہ جنا، جب نفاس سے پاک ہو گئیں تو نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے بناؤ سنگار کیا تو بنی عبدالدار …
Ubaidullah bin 'Abdullah narrated that his father wrote to 'Umar bin 'Abdullah bin Arqam Az-Zuhri, telling him to go to Subai'ah bint Al-Harith Al-Aslamiyyah and ask her about her Hadith and what the Messenger of Allah had said to her when she consulted him. 'Umar bin 'Abdullah wrote back to 'Abdullah bin 'Utbah telling him that Subai'ah told him, that she was married to Sahl bin Khawlah -who was from Banu 'Amir bin Lu-ayy and was one of those who had been present at Badr- and her husband died during the Farewell Pilgrimage while she was pregnant. She gave birth soon after he died, and when her Nifas ended she adorned herself to receive proposals of marriage. Abu As-Sanabil bin Ba'kak -a …
عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ان کے باپ عبداللہ ( عبداللہ بن عتبہ ) نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو خط لکھ کر حکم دیا کہ تم سبیعہ اسلمی بنت حارث رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان کا قصہ معلوم کرو اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کیا فرمایا تھا جس وقت انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، عمر بن عبداللہ نے ( سبیعہ اسلمی سے ملاقات کر کے ) عبیداللہ بن عتبہ کو باخبر کرتے ہوئے لکھا: سبیعہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں اور وہ ( سعد ) بنو عامر بن لوئی کے قبیلے سے تھے اور بدری بھی تھے، ان کا انتقال حجۃ الوداع میں ہوا اور اس وقت وہ حاملہ تھیں اور ان کی وفات کے بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئیں تو انہوں نے شادی …
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) said: It is not lawful for a man to separate two persons except with their permission
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر گھس کر دونوں میں جدائی ڈال دے ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) said: Three types of people attend Friday prayer; One is present in a frivolous way and that is all he gets from it; another comes with a supplication, Allah may grant or refuse his request as He wishes; another is present silently and quietly with-out stepping over a Muslim or annoying anyone, and that is an atonement for his sins till the next Friday and three days more, the reason being that Allah, the Exalted, says: "He who does a good deed will have ten times as much" (vi)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ میں تین طرح کے لوگ حاضر ہوتے ہیں: ایک آدمی وہ جو جمعہ میں حاضر ہو کر لغو و بیہودہ گفتگو کرے، اس میں سے اس کا حصہ یہی ہے ۱؎، دوسرا آدمی وہ ہے جو اس میں حاضر ہو کر اللہ سے دعا کرے تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ سے دعا کی ہے اگر وہ چاہے تو اسے دے اور چاہے تو نہ دے، تیسرا وہ آدمی ہے جو حاضر ہو کر خاموشی سے خطبہ سنے، نہ کسی مسلمان کی گردن پھاندے، نہ کسی کو تکلیف دے، تو یہ اس کے لیے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا کیونکہ اللہ فرماتا ہے: جو نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ثواب ملے گا ۔
PickthallThat is the commandment of Allah which He revealeth unto you. And whoso keepeth his duty to Allah, He will remit from him his evil deeds and magnify reward for him.
Yusuf AliThat is the Command of Allah, which He has sent down to you: and if any one fears Allah, He will remove his ills, from him, and will enlarge his reward.
The agreed readingThat — all that has been said about the waiting period — is God's command, which He has sent down to you. And whoever is mindful of God has his bad deeds struck off him and his reward made great. The commentaries note this as one more of the rewards attached to mindfulness through this passage, named again each time a ruling is given.
Urduیہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے، اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے لیے اجر بڑا کر دیتا ہے۔ طبری وضاحت کرتے ہیں کہ یہ وہ سب کچھ ہے جو میں نے تمہیں طلاق، رجوع اور عدت کے حکم میں واضح کیا، یہ اللہ کا حکم ہے۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ ذلک امر اللہ میں اشارہ سورت کے آغاز سے پہلے بیان ہونے والے احکام کی طرف ہے، اور یہ جملہ دو عطف والے جملوں کے درمیان ایک اعتراضی جملہ ہے۔
Arabicذلك أمر الله أنزله إليكم ومن يتق الله يكفر عنه سيئاته ويعظم له أجرا. فسر الطبري هذا بأنه ما بينت لكم من حكم الطلاق والرجعة والعدة، أمر الله. وفي تفسير مقباس أن الإشارة بقوله ذلك أمر الله إلى الأحكام المتقدمة من أول السورة، وهذه الجملة معترضة بين المتعاطفتين.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Salama:A man came to Ibn `Abbas while Abu Huraira was sitting with him and said, "Give me your verdict regarding a lady who delivered a baby forty days after the death of her husband." Ibn `Abbas said, "This indicates the end of one of the two prescribed periods." I said "For those who are pregnant, their prescribed period is until they deliver their burdens." Abu Huraira said, I agree with my cousin (Abu Salama)." Then Ibn `Abbas sent his slave, Kuraib to Um Salama to ask her (regarding this matter). She replied. "The husband of Subai'a al Aslamiya was killed while she was pregnant, and she delivered a baby forty days after his death. Then her hand was asked in marriage and …
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آنے والے نے پوچھا کہ آپ مجھے اس عورت کے متعلق مسئلہ بتائیے جس نے اپنے شوہر کی وفات کے چار مہینے بعد بچہ جنا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جس کا خاوند فوت ہو وہ عدت کی دو مدتوں میں جو مدت لمبی ہو اس کی رعایت کرے۔ ( ابوسلمہ نے بیان کیا کہ ) میں نے عرض کیا کہ ( قرآن مجید میں تو ان کی عدت کا یہ حکم ہے ) حمل والیوں کی عدت ان کے حمل کا پیدا ہو جانا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بھی اس مسئلہ میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ہوں۔ ان کی مراد ابوسلمہ بن …
Abu Salamah bin ‘Abd Al Rahman reported on the authority of Fatimah daughter of Qais Abu ‘Amr bin Hafs divorced her (Fatimah daughter of Qais) absolutely when he was away from home and his agent sent her home barley. She was displeased with it. He said “I swear by Allah, you have no claim on us. She then came to Apostle of Allah (ﷺ) and mentioned that to him. He said to her “No maintenance is due to you from him. He ordered her to spend the waiting period in the house of Umm Sharik but he said afterwards “that is a woman whom my Companions visit. Spend the waiting period in the house of Ibn Umm Maktum for he is blind and you can undress. Then when you are in a position of being remarried, …
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی ۱؎ ابوعمرو موجود نہیں تھے تو ان کے وکیل نے فاطمہ کے پاس کچھ جو بھیجے، اس پر وہ برہم ہوئیں، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں بنتا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ماجرا بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ سے فرمایا: اس کے ذمہ تمہارا نفقہ نہیں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ام شریک کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی عورت ہے کہ اس کے پاس میرے صحابہ کا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں، پردے کی دقت …
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Yazid, the mawla of al-Aswad ibn Sufyan from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman ibn Awf from Fatima bint Qays that Abu Amr ibn Hafs divorced her absolutely while he was away in Syria. His agent sent her some barley and she was displeased with it, saying, "By Allah, I don't expect anything from you." She went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and mentioned it to him. He said, "You have no maintenance." He then ordered her to spend her idda in the house of Umm Sharik. Then he said, "This is a woman whom my companions visit. Spend the idda in the house of Ibn Umm Maktum. He is a blind man and you can undress at his …
فاطمہ بنت قیس کو ابوعمرو بن حفص نے طلاق بتہ دی اور وہ شام میں تھیں انہوں نے اپنے وکیل کو جو دے کر بھیجا فاطمہ بنت قیس خفا ہوئی وکیل بولا تمہارا تو کچھ نہیں دینا فاطمہ خفا ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تیرا خرچ خاوند پر نہیں ہے ۔ اور تو شریک کے گھر میں عدت گزار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام شریک کے گھر میں رات دن میرے اصحاب آیا جایا کرتے ہیں عبداللہ بن ام مکتوم کے گھر میں تو عدت کر کیونکہ وہ اندھا ہے تو اگر تو اپنے کپڑے اتارے گی تو بھی کچھ قباحت نہیں جب تیری عدت گزر جائے تو مجھے کہنا فاطمہ بنت قیس نے کہا جب میری عدت گزر گئی تو میں نے حضرت سے کہا کہ معاویہ بن ابوسفیان اور ابوفہم بن ہشام دونوں نے مجھے پیام دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے …
It was narrated from Fatimah bint Qais that Abu 'Amr bin Hafs issued a final divorce to her while he was absent. His deputy sent some barley to her but she did not like it. He said:"By Allah, you have no rights over us." She went to the Messenger of Allah and told him about that, and he said: "You have no right to maintenance." He told her to observe her 'Iddah in the house of Umm Sharik, then he said: "She is a woman whose house is frequented by my Companions. Observe your 'Iddah in the house of Ibn Umm Maktum, for he is a blind man and you can take off your garment. And when your 'Iddah is over, let me know." She said: "When my 'Iddah was over I told him that Mu'awiyah bin Abi Sufyan and …
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی اور وہ موجود نہ تھے۔ ( شہر سے باہر سفر پر تھے ) پھر ان کے پاس اپنے وکیل کو کچھ جو دے کر بھیجا تو وہ ان پر غصہ اور ناراض ہوئیں، تو وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا تو ہم پر کوئی حق ہی نہیں بنتا ( یوں سمجھئے کہ یہ جو تو تمہاری دلداری کے لیے ہے ) ۔ تو فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے بھی فرمایا: ”تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے“ اور انہیں حکم دیا کہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہ کر عدت پوری کرو، پھر کہا: ام شریک کو ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں ( ان کے گھر نہیں بلکہ ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی عدت کے دن پوری کرو، وہ اندھے آدمی ہیں، …
Yahya related to me from Malik from Said ibn Ishaq ibn Kab ibn Ujra from his paternal aunt, Zaynab bint Kab ibn Ujra that al-Furaya bint Malik ibn Sinan, the sister of Abu Said al-Khudri, informed her that she went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and asked to be able to return to her people among the Banu Khudra since her husband had gone out in search of some of his slaves who had run away and he had caught up with them near al-Qudum, (which is 6 miles from Madina), and they had killed him. She said, "I asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, if I could return to my people in the Banu Khudra, as my husband had not left me …
زینت بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان جو ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور پوچھا کہ مجھے اپنے لوگوں میں جانے کی اجازت ہے کیونکہ میرے خاوند کے چند غلام بھاگ گئے تھے وہ ان کو ڈھونڈنے کو نکلے جب قدوم (ایک مقام ہے مدینہ سے سات میل پر) میں پہنچی وہاں غلاموں کو پایا اور غلاموں نے میرے خاوند کو مار ڈالا اور میرا خاوند میرے لئے نہ کوئی مکان ذات کا چھوڑ گیا ہے نہ کچھ خرچ دے گیا ہے اگر آپ کہئے تو میں اپنے کنبے والوں میں چلی جاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلی جا جب میں لوٹ کر چلی حجرہ کے باہر نہیں پہنچی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا یا کسی اور نے آپ کے کہنے پر پکارا اور مجھ سے پوچھا میں نے سارا واقعہ بیان کیا آپ …
Zainab bint Ka'b bin Ujrah narrated that :Al-Furay'ah bint Malik bin Sinan - the sister of the Abu Sa'eed Al-Khudri - informed her that she went to the Messenger of Allah to ask him if she could return to her family in Banu Khudrah. Her husband had gone out searching for his runaway slaves, and when he was in Turaf Al-Qadum he caught up with them and they killed him. She said: "So I asked the Messenger of Allah if I could return to my family since my husband had not left me a home that he owned nor any maintenance." She said: "So the Messenger of Allah said: 'Yes.' Then I left. When I was in the courtyard," or, "in the Masjid, the Messenger of Allah called me" or, "summoned for me to come …
زینب بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی الله عنہا جو ابو سعید خدری کی بہن ہیں نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس بنی خدرہ میں واپس چلی جائیں ( ہوا یہ تھا کہ ) ان کے شوہر اپنے ان غلاموں کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے تھے جو بھاگ گئے تھے، جب وہ مقام قدوم کے کنارے پر ان سے ملے، تو ان غلاموں نے انہیں مار ڈالا۔ فریعہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں؟ کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے اپنی ملکیت کا نہ تو کوئی مکان چھوڑا ہے اور نہ کچھ خرچ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، چنانچہ میں واپس جانے لگی یہاں تک کہ میں حجرہ شریفہ یا مسجد …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (3991) Sahih Muslim (1484)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (3991) Sahih Muslim (1484)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (3991) Sahih Muslim (1484)
‘Ubaid Allah bin ‘Abd Allah bin ‘Utbah said that his father wrote (a letter) to ‘Abd Allaah bin Al Arqam Al Zuhri asking him to visit Subai’ah daughter of Al Harith Al Aslamiyyah and ask her about her story and what the Apostle of Allaah(ﷺ) said to her when she asked his opinion (about her). So, ‘Umar bin Abd allah wrote in reply to ‘Abd Allah bin ‘Utbah informing him what she told him. She told that she was under (i.e., the wife of) Sa’d bin Khawlah who belonged to Banu Amir bin Luwayy. He was one of those who participated in the battle of Badr. He died at the Farwell Pilgrimage while she was pregnant. Soon after his death she gave birth to a child. When she was purified from her bleeding …
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان کی حدیث معلوم کریں، نیز معلوم کریں کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے کیا ارشاد فرمایا؟ چنانچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھا، وہ انہیں بتا رہے تھے کہ انہیں سبیعہ نے بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ( وہ بنی عامر بن لوی کے ایک فرد، اور بدری صحابی ہیں ) حجۃ الوداع کے موقعہ پر جب وہ حاملہ تھیں تو ان کا انتقال ہو گیا، انتقال کے بعد انہوں نے بچہ جنا، جب نفاس سے پاک ہو گئیں تو نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے بناؤ سنگار کیا تو بنی عبدالدار …
Ubaidullah bin 'Abdullah narrated that his father wrote to 'Umar bin 'Abdullah bin Arqam Az-Zuhri, telling him to go to Subai'ah bint Al-Harith Al-Aslamiyyah and ask her about her Hadith and what the Messenger of Allah had said to her when she consulted him. 'Umar bin 'Abdullah wrote back to 'Abdullah bin 'Utbah telling him that Subai'ah told him, that she was married to Sahl bin Khawlah -who was from Banu 'Amir bin Lu-ayy and was one of those who had been present at Badr- and her husband died during the Farewell Pilgrimage while she was pregnant. She gave birth soon after he died, and when her Nifas ended she adorned herself to receive proposals of marriage. Abu As-Sanabil bin Ba'kak -a …
عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ان کے باپ عبداللہ ( عبداللہ بن عتبہ ) نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو خط لکھ کر حکم دیا کہ تم سبیعہ اسلمی بنت حارث رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان کا قصہ معلوم کرو اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کیا فرمایا تھا جس وقت انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، عمر بن عبداللہ نے ( سبیعہ اسلمی سے ملاقات کر کے ) عبیداللہ بن عتبہ کو باخبر کرتے ہوئے لکھا: سبیعہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں اور وہ ( سعد ) بنو عامر بن لوئی کے قبیلے سے تھے اور بدری بھی تھے، ان کا انتقال حجۃ الوداع میں ہوا اور اس وقت وہ حاملہ تھیں اور ان کی وفات کے بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئیں تو انہوں نے شادی …
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) said: It is not lawful for a man to separate two persons except with their permission
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر گھس کر دونوں میں جدائی ڈال دے ۔
PickthallLodge them where ye dwell, according to your wealth, and harass them not so as to straiten life for them. And if they are with child, then spend for them till they bring forth their burden. Then, if they give suck for you, give them their due payment and consult together in kindness; but if ye make difficulties for one another, then let some other woman give suck for him (the father of the child).
Yusuf AliLet the women live (in 'iddat) in the same style as ye live, according to your means: Annoy them not, so as to restrict them. And if they carry (life in their wombs), then spend (your substance) on them until they deliver their burden: and if they suckle your (offspring), give them their recompense: and take mutual counsel together, according to what is just and reasonable. And if ye find yourselves in difficulties, let another woman suckle (the child) on the (father's) behalf.
The agreed readingLodge them where you yourselves live, according to your means — which the commentaries take to be your ability, so that a corner of the house is enough where there is no more. And do not harm them by making the place too narrow for them, which is a way of forcing them out before the term is up; both traditions read the prohibition in exactly that sense. If they are carrying a child, maintain them until they deliver. If they suckle the child for you, give them their due, and settle it between you in kindness; and if you make it hard for one another, let another woman suckle for him.
Urduانہیں وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو، اپنی وسعت کے مطابق، اور انہیں تکلیف نہ دو تاکہ ان پر تنگی کرو، اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وہ اپنا حمل جن لیں، پھر اگر وہ تمہارے لیے دودھ پلائیں تو انہیں ان کا اجر دو، اور آپس میں بھلے طریقے سے مشورہ کرو، اور اگر تم ایک دوسرے کے لیے مشکل پیدا کرو تو کوئی اور عورت اس کے لیے دودھ پلا دے گی۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ نے پہلے مطلقہ عورتوں کو گھروں سے نکالنے سے منع کیا تھا، اور یہاں انہیں بھلے طریقے سے رہائش دینے کا حکم دیا، یعنی وہ گھر جس میں اس جیسا اور اس جیسی رہتی ہو، شوہر کی وسعت اور تنگی کے مطابق۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ جب ان میں سے کوئی بیوی کو طلاق دے تو اسے ایسی جگہ رہائش دے جہاں تک اس کی عدت پوری ہو جائے۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ اسکنوھن اور اس کے بعد کا حصہ اس تقویٰ کی وضاحت ہے جس کی شرط پچھلی آیت ومن یتق اللہ میں لگائی گئی تھی۔
Arabicأسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم ولا تضاروهن لتضيقوا عليهن وإن كن أولات حمل فأنفقوا عليهن حتى يضعن حملهن فإن أرضعن لكم فآتوهن أجورهن وأتمروا بينكم بمعروف وإن تعاسرتم فسترضع له أخرى. ذكر السعدي أنه تقدم أن الله نهى عن إخراج المطلقات عن البيوت، وهنا أمر بإسكانهن وقدر إسكانهن بالمعروف، وهو البيت الذي يسكنه مثله ومثلها، بحسب وجد الزوج وعسره. وذكر ابن كثير أن الله يأمر عباده إذا طلق أحدهم المرأة أن يسكنها في منزل حتى تنقضي عدتها. وفسر الزمخشري أسكنوهن وما بعده بأنه بيان لما شرط من التقوى في قوله ومن يتق الله.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
6. Abu Ali al-Ash’ariy has narrated from Muhammad ibn ‘Abd al-Jabbar and Muhammad ibn Isma‘il from al-Fadl ibn Shadhan all from Safwan from ibn Muskan from al-Halabiy who has said the following: “Once, I asked abu ‘Abd Allah (a.s.), ‘Had any of your ancestors ever fasted during the month of Sha‘ban?’ He (the Imam) replied, ‘The best of my ancestors, the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, fasted in it.’” Ali ibn Ibrahim has narrated from Muhammad ibn ‘Isa ibn ‘Ubayd from Yunus from ibn Muskan from al-Halabiy from abu ‘Abd Allah (a.s.), a similar Hadith. There are narrations about fasting in the month of …
ابو علی الاشعری سے روایت ہے محمد بن عبدالجبار سے اور محمد بن اسماعیل نے فضل بن شاذان سے، سب صفوان سے، ابن مسکان سے، الحلبی سے روایت کی۔ الحلبی کہتے ہیں: میں نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے پوچھا: کیا آپ کے آباء و اجداد میں سے کسی نے شعبان کے روزے رکھے ہیں؟ انہوں نے کہا: میرے بہترین آباء و اجداد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس میں روزہ رکھا۔ علی بن ابراہیم محمد بن عیسیٰ بن عبید سے، یونس سے، ابن مسکان سے، الحلبی سے ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے اسی طرح روایت بیان کرتے ہیں۔ جو کچھ شعبان کے روزے کے بارے میں ان سے پوچھا گیا ہے اور انہوں نے جواب دیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس میں روزہ نہیں رکھا، اور نہ ہی میرے آباء و اجداد میں سے کسی نے۔ انہوں نے کہا یہ اس وجہ سے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
8. Humayd ibn Ziyad has narrated from ibn Sama‘ah from Muhammad ibn Ziyad from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ’Abd Allah (a.s.), has said that ’Amir al-Mu’minin issued a judgment about one whose husband had died before going to bed with her, that said, ’She must not marry until her waiting period of four months and ten days is complete, which is the waiting period for one whose husband dies.’”
حمید بن زیاد ابن سماعہ سے، محمد بن زیاد سے، عبد اللہ بن سنان سے، ابو عبد اللہ (علیہ السلام) سے، کہتے ہیں: امیر المومنین (علیہ السلام) نے قضا کی المتوفی عنہا زوجہا میں اور وہ اسے نہیں چھوا تھا، کہا: تنکح نہ کرے جب تک اعتداد چار اشہر اور عشر کریں، عدة المتوفی عنہا زوجہا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
6. Humayd ibn Ziyad has narrated from ibn Sama‘ah from Muhammad ibn Ziyad from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘Waiting period of a pregnant widow ends with the end of the longer of the two time periods.’”
حميد بن زياد نے ابن سماعة سے، محمد بن زياد سے، عبد الله بن سنان سے روايت کی ہے کہ ابو عبد الله علیہ السلام نے کہا: حاملہ ستی جس کا شوہر فوت ہو گیا اس کا عدت دونوں اجل میں سے آخر والی ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Salamah bin ‘Abd Al Rahman reported on the authority of Fatimah daughter of Qais Abu ‘Amr bin Hafs divorced her (Fatimah daughter of Qais) absolutely when he was away from home and his agent sent her home barley. She was displeased with it. He said “I swear by Allah, you have no claim on us. She then came to Apostle of Allah (ﷺ) and mentioned that to him. He said to her “No maintenance is due to you from him. He ordered her to spend the waiting period in the house of Umm Sharik but he said afterwards “that is a woman whom my Companions visit. Spend the waiting period in the house of Ibn Umm Maktum for he is blind and you can undress. Then when you are in a position of being remarried, …
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی ۱؎ ابوعمرو موجود نہیں تھے تو ان کے وکیل نے فاطمہ کے پاس کچھ جو بھیجے، اس پر وہ برہم ہوئیں، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں بنتا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ماجرا بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ سے فرمایا: اس کے ذمہ تمہارا نفقہ نہیں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ام شریک کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی عورت ہے کہ اس کے پاس میرے صحابہ کا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں، پردے کی دقت …
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Yazid, the mawla of al-Aswad ibn Sufyan from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman ibn Awf from Fatima bint Qays that Abu Amr ibn Hafs divorced her absolutely while he was away in Syria. His agent sent her some barley and she was displeased with it, saying, "By Allah, I don't expect anything from you." She went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and mentioned it to him. He said, "You have no maintenance." He then ordered her to spend her idda in the house of Umm Sharik. Then he said, "This is a woman whom my companions visit. Spend the idda in the house of Ibn Umm Maktum. He is a blind man and you can undress at his …
فاطمہ بنت قیس کو ابوعمرو بن حفص نے طلاق بتہ دی اور وہ شام میں تھیں انہوں نے اپنے وکیل کو جو دے کر بھیجا فاطمہ بنت قیس خفا ہوئی وکیل بولا تمہارا تو کچھ نہیں دینا فاطمہ خفا ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تیرا خرچ خاوند پر نہیں ہے ۔ اور تو شریک کے گھر میں عدت گزار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام شریک کے گھر میں رات دن میرے اصحاب آیا جایا کرتے ہیں عبداللہ بن ام مکتوم کے گھر میں تو عدت کر کیونکہ وہ اندھا ہے تو اگر تو اپنے کپڑے اتارے گی تو بھی کچھ قباحت نہیں جب تیری عدت گزر جائے تو مجھے کہنا فاطمہ بنت قیس نے کہا جب میری عدت گزر گئی تو میں نے حضرت سے کہا کہ معاویہ بن ابوسفیان اور ابوفہم بن ہشام دونوں نے مجھے پیام دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے …
It was narrated from Fatimah bint Qais that Abu 'Amr bin Hafs issued a final divorce to her while he was absent. His deputy sent some barley to her but she did not like it. He said:"By Allah, you have no rights over us." She went to the Messenger of Allah and told him about that, and he said: "You have no right to maintenance." He told her to observe her 'Iddah in the house of Umm Sharik, then he said: "She is a woman whose house is frequented by my Companions. Observe your 'Iddah in the house of Ibn Umm Maktum, for he is a blind man and you can take off your garment. And when your 'Iddah is over, let me know." She said: "When my 'Iddah was over I told him that Mu'awiyah bin Abi Sufyan and …
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی اور وہ موجود نہ تھے۔ ( شہر سے باہر سفر پر تھے ) پھر ان کے پاس اپنے وکیل کو کچھ جو دے کر بھیجا تو وہ ان پر غصہ اور ناراض ہوئیں، تو وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا تو ہم پر کوئی حق ہی نہیں بنتا ( یوں سمجھئے کہ یہ جو تو تمہاری دلداری کے لیے ہے ) ۔ تو فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے بھی فرمایا: ”تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے“ اور انہیں حکم دیا کہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہ کر عدت پوری کرو، پھر کہا: ام شریک کو ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں ( ان کے گھر نہیں بلکہ ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی عدت کے دن پوری کرو، وہ اندھے آدمی ہیں، …
Yahya related to me from Malik from Said ibn Ishaq ibn Kab ibn Ujra from his paternal aunt, Zaynab bint Kab ibn Ujra that al-Furaya bint Malik ibn Sinan, the sister of Abu Said al-Khudri, informed her that she went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and asked to be able to return to her people among the Banu Khudra since her husband had gone out in search of some of his slaves who had run away and he had caught up with them near al-Qudum, (which is 6 miles from Madina), and they had killed him. She said, "I asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, if I could return to my people in the Banu Khudra, as my husband had not left me …
زینت بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان جو ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور پوچھا کہ مجھے اپنے لوگوں میں جانے کی اجازت ہے کیونکہ میرے خاوند کے چند غلام بھاگ گئے تھے وہ ان کو ڈھونڈنے کو نکلے جب قدوم (ایک مقام ہے مدینہ سے سات میل پر) میں پہنچی وہاں غلاموں کو پایا اور غلاموں نے میرے خاوند کو مار ڈالا اور میرا خاوند میرے لئے نہ کوئی مکان ذات کا چھوڑ گیا ہے نہ کچھ خرچ دے گیا ہے اگر آپ کہئے تو میں اپنے کنبے والوں میں چلی جاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلی جا جب میں لوٹ کر چلی حجرہ کے باہر نہیں پہنچی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا یا کسی اور نے آپ کے کہنے پر پکارا اور مجھ سے پوچھا میں نے سارا واقعہ بیان کیا آپ …
Zainab bint Ka'b bin Ujrah narrated that :Al-Furay'ah bint Malik bin Sinan - the sister of the Abu Sa'eed Al-Khudri - informed her that she went to the Messenger of Allah to ask him if she could return to her family in Banu Khudrah. Her husband had gone out searching for his runaway slaves, and when he was in Turaf Al-Qadum he caught up with them and they killed him. She said: "So I asked the Messenger of Allah if I could return to my family since my husband had not left me a home that he owned nor any maintenance." She said: "So the Messenger of Allah said: 'Yes.' Then I left. When I was in the courtyard," or, "in the Masjid, the Messenger of Allah called me" or, "summoned for me to come …
زینب بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی الله عنہا جو ابو سعید خدری کی بہن ہیں نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس بنی خدرہ میں واپس چلی جائیں ( ہوا یہ تھا کہ ) ان کے شوہر اپنے ان غلاموں کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے تھے جو بھاگ گئے تھے، جب وہ مقام قدوم کے کنارے پر ان سے ملے، تو ان غلاموں نے انہیں مار ڈالا۔ فریعہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں؟ کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے اپنی ملکیت کا نہ تو کوئی مکان چھوڑا ہے اور نہ کچھ خرچ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، چنانچہ میں واپس جانے لگی یہاں تک کہ میں حجرہ شریفہ یا مسجد …
Fatimah bint Qais narrated that Abu 'Amr bin Hafs Al-Makhzumi divorced her thrice. Khalid bin Al-Walid went with a group of (the tribe of) Makhzum to the Messenger of Allah and said:"O Messenger of Allah! Abu 'Amr bin Hafs has divorced Fatimah thrice, is she entitled to provision?" He said: "She is not entitled to provision nor shelter
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تین طلاقیں دیں، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اللہ کے رسول! ابوعمرو بن حفص نے فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو کیا اسے ( عدت کے دوران ) نفقہ ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نہ نفقہ ہے اور نہ سکنی“۔
PickthallLet him who hath abundance spend of his abundance, and he whose provision is measured, let him spend of that which Allah hath given him. Allah asketh naught of any soul save that which He hath given it. Allah will vouchsafe, after hardship, ease.
Yusuf AliLet the man of means spend according to his means: and the man whose resources are restricted, let him spend according to what Allah has given him. Allah puts no burden on any person beyond what He has given him. After a difficulty, Allah will soon grant relief.
The agreed readingLet a man of means spend out of his means, and let one whose provision is measured out spend from what God has given him. The commentaries apply this to the maintenance of the divorced and the nursing women: the amount is set by what the man actually has, not by what she might wish. God lays on no soul more than He has given it. God will bring ease after hardship.
Urduچاہیے کہ وسعت والا اپنی وسعت میں سے خرچ کرے، اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے، اللہ کسی جان کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جو اس نے اسے دیا ہے، اللہ عنقریب تنگی کے بعد آسانی پیدا کر دے گا۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ لینفق کا مطلب ہے شوہر اپنی بیوی اور چھوٹے بچے پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، یہاں تک کہ اگر اسے وسعت دی گئی ہو تو دونوں پر وسعت کرے۔ تفسیر مقباس اس آیت کو پچھلے خرچ کے احکام کا خلاصہ اور نتیجہ قرار دیتی ہے۔
Arabicلينفق ذو سعة من سعته ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله لا يكلف الله نفسا إلا ما آتاها سيجعل الله بعد عسر يسرا. ذكر القرطبي أن لينفق أي لينفق الزوج على زوجته وعلى ولده الصغير على قدر وسعه حتى يوسع عليهما إذا كان موسعا عليه. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية تذييل لما سبق من أحكام الإنفاق.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Fatimah bint Qais narrated that Abu 'Amr bin Hafs Al-Makhzumi divorced her thrice. Khalid bin Al-Walid went with a group of (the tribe of) Makhzum to the Messenger of Allah and said:"O Messenger of Allah! Abu 'Amr bin Hafs has divorced Fatimah thrice, is she entitled to provision?" He said: "She is not entitled to provision nor shelter
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تین طلاقیں دیں، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اللہ کے رسول! ابوعمرو بن حفص نے فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو کیا اسے ( عدت کے دوران ) نفقہ ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نہ نفقہ ہے اور نہ سکنی“۔
Abdur Rahman ibn Ayman, the client of Urwah, asked Ibn Umar and Abu al-Zubayr was was listening:What do you think if a man divorces his wife while she is menstruating? He said: Abdullah ibn Umar divorced his wife while she was menstruating during the time of the Messenger of Allah (ﷺ).So Umar asked the Messenger of Allah (ﷺ) saying: Abdullah ibn Umar divorced his wife while she was menstruating. Abdullah said: He returned her to me and did not count it (the pronouncement) anything. He said: When she is purified, he may divorce her or keep her with him. Ibn Umar said: The Prophet (ﷺ) recited the Qur'anic verse: O Prophet, when you divorce women, divorce them in the beginning of their waiting …
ابن جریج کہتے ہیں کہ ہمیں ابوالزبیر نے خبر دی ہے کہ انہوں نے عروہ کے غلام عبدالرحمٰن بن ایمن کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے سنا اور وہ سن رہے تھے کہ آپ اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اور کہا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے، عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مجھ پر لوٹا دیا اور اس طلاق کو شمار نہیں کیا اور فرمایا: جب وہ پاک ہو جائے تو وہ طلاق دے یا اسے روک لے ، ابن عمر رضی اللہ عنہما …
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَغَيَّظَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْهُرَ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ ".
Narrated Salim:That `Abdullah bin `Umar told him that he had divorced his wife while she was in her menses so `Umar informed Allah's Messenger (ﷺ) of that. Allah's Messenger (ﷺ) became very angry at that and said, "(Ibn `Umar must return her to his house and keep her as his wife till she becomes clean and then menstruates and becomes clean again, whereupon, if he wishes to divorce her, he may do so while she is still clean and before having any sexual relations with her, for that is the legally prescribed period for divorce as Allah has ordered)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے اپنی بیوی آمنہ بنت غفار کو جبکہ وہ حائضہ تھیں طلاق دے دی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ اس پر بہت غصہ ہوئے اور فرمایا کہ وہ ان سے ( اپنی بیوی سے ) رجوع کر لیں اور اپنے نکاح میں رکھیں یہاں تک کہ وہ ماہواری سے پاک ہو جائے پھر ماہواری آئے اور پھر وہ اس سے پاک ہو، اب اگر وہ طلاق دینا مناسب سمجھیں تو اس کی پاکی ( طہر ) کے زمانہ میں ان کے ساتھ ہمبستری سے پہلے طلاق دے سکتے ہیں بس یہی وہ وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ( مردوں کو ) حکم دیا ہے کہ اس …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَتَغَيَّظَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " لِيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْهُرَ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:That he had divorced his wife during her menses. `Umar mentioned that to the Prophet. Allah's Apostle became angry and said, "He must take her back (his wife) and keep her with him till she becomes clean from her menses and then to wait till she gets her next period and becomes clean again from it and only then, if he wants to divorce her, he may do so
ہم سے محمد بن ابی یعقوب الکرمانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، محمد نے بیان کیا کہ مجھے سالم نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے اپنی بیوی کو جب کہ وہ حالت حیض میں تھیں ( آمنہ بنت غفار ) طلاق دے دی، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ بہت خفا ہوئے پھر فرمایا ”انہیں چاہئے کہ وہ رجوع کر لیں اور انہیں اپنے پاس رکھیں، یہاں تک کہ جب وہ پاک ہو جائیں پھر حائضہ ہوں اور پھر پاک ہوں تب اگر چاہے تو اسے طلاق دیدے۔“
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ، مَوْلَى عَزَّةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ ذَلِكَ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَقَالَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لِيُرَاجِعْهَا " . فَرَدَّهَا وَقَالَ " إِذَا طَهَرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ " . قَالَ …
Abu Zubair reported that he heard 'Abd al-Rahman b. Aiman (the freed slave of 'Azza) say that he asked Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) and Abu Zubair heard:What is your opinion about the person who divorced his wife in the state of menses? Thereupon he said: Ibn Umar (Allah be pleased with them) divorced his wife during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) while she was in the state of menses. Upon this Allah's Messenger (ﷺ) told him to take her back and so he took her back and he (further) said: When she is pure, then either divorce her or retain her. Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) said that Allah's Apostle (ﷺ) then recited this verse:" O Apostle, when you divorce women, …
حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عَزہ کے مولیٰ عبدالرحمٰن بن ایمن سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے اور ابوزبیر بھی یہ بات سن رہے تھے کہ آپ کی اس آدمی کے بارے میں کیا رائے ہے جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی؟ انہوں نے جواب دیا : ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور بتایا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : "" وہ اس سے رجوع کرے ۔ "" چنانچہ انہوں نے اس سے رجوع …
Ubaidullah b. 'Abdullah b. 'Utba reported that 'Amr b. Hafs b. al-Mughira set out along with 'Ali b. Abi Talib (Allah be pleased with him) to the Yemen and sent to his wife the one pronouncement of divorce which was still left from the (irrevocable) divorce; and he commanded al-Harith b. Hisham and 'Ayyash b. Abu Rabi'a to give her maintenance allowance. They said to her:By Allah, there is no maintenance allowance for you, except in case you are pregnant. She came to Allah's Apostle (may peace he upon him) and mentioned their opinion to him, whereupon he said: There is no maintenance allowance for you. Then she sought permission to move (to another place), and he (the Holy Prophet) …
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی جانب گئے اور اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو اس کی ( تین ) طلاقوں میں سے جو طلاق باقی تھی بھیج دی ، اور انہوں نے ان کے بارے میں ( اپنے عزیزوں ) حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ سے کہا کہ وہ انہیں خرچ دیں ، تو ان دونوں نے ان ( فاطمہ ) سے کہا : اللہ کی قسم! تمہارے لیے کوئی خرچ نہیں الا یہ کہ تم حاملہ ہوتی ۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو ان دونوں کی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے لیے خرچ نہیں ( بنتا ۔ ) " انہوں نے آپ سے نقل مکانی کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت …
PickthallAnd how many a community revolted against the ordinance of its Lord and His messengers, and We called it to a stern account and punished it with dire punishment,
Yusuf AliHow many populations that insolently opposed the Command of their Lord and of His messengers, did We not then call to account,- to severe account?- and We imposed on them an exemplary Punishment.
The agreed readingHow many a town went insolently past its Lord's command and His messengers, so We called it to a severe reckoning and punished it with a terrible punishment. The commentaries of both traditions note the past tense used of something still to come: it is put in the past because its coming is certain.
Urduاور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی، تو ہم نے ان سے سخت حساب لیا اور انہیں ہولناک عذاب دیا۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ احکام بیان کرنے کے بعد، حکم کی مخالفت سے ڈرایا گیا اور ایک قوم کی سرکشی اور ان پر عذاب کے نازل ہونے کا ذکر کیا گیا۔ زمخشری بتاتے ہیں کہ عتت عن امر ربھا کا مطلب ہے سرکشی اور ضد کے انداز میں اس سے منہ موڑ لیا، اور حسابا شدیدا کا مطلب ہے پوری چھان بین اور جانچ کے ساتھ، اور اس سے مراد آخرت کا حساب اور اس کا عذاب ہے، اور اسے ماضی کے صیغے میں لایا گیا۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ جب مسلمانوں کے لیے طلاق اور اس کے متعلقہ بہت سے احکام مقرر کیے گئے، اور یہ سب ایسے فرائض تھے جن سے کچھ نفوس سکڑ سکتے تھے۔
Arabicوكأين من قرية عتت عن أمر ربها ورسله فحاسبناها حسابا شديدا وعذبناها عذابا نكرا. ذكر القرطبي أنه لما ذكر الأحكام ذكر وحذر مخالفة الأمر، وذكر عتو قوم وحلول العذاب بهم. وذكر الزمخشري أن عتت عن أمر ربها بمعنى أعرضت عنه على وجه العتو والعناد، وحسابا شديدا بالاستقصاء والمناقشة، والمراد حساب الآخرة وعذابها، وجيء به على لفظ الماضي. وفي تفسير مقباس أنه لما شرعت للمسلمين أحكام كثيرة من الطلاق ولواحقه، وكانت كلها تكاليف قد تحجم بعض الأنفس عنها.
PickthallSo that it tasted the ill-effects of its conduct, and the consequence of its conduct was loss.
Yusuf AliThen did they taste the evil result of their conduct, and the End of their conduct was Perdition.
The agreed readingSo it tasted the heaviness of its own conduct, and the end of its affair was loss — the word carrying both loss and ruin together, as the commentaries gloss it.
Urduتو اس نے اپنے کام کا وبال چکھا، اور اس کے کام کا انجام نقصان تھا۔ جلالین وبال امرھا کا مطلب اس کی سزا بتاتے ہیں، اور خسرا کا مطلب نقصان اور ہلاکت دونوں بتاتے ہیں۔ تفسیر مقباس کے مطابق فذاقت وبال امرھا میں فاء فحاسبناھا اور عذبناھا پر تفریع کے لیے ہے، اور یہاں ذوق سے مراد مطلق احساس ہے، جو ایک مجازِ مرسل ہے۔
Arabicفذاقت وبال أمرها وكان عاقبة أمرها خسرا. فسر الجلالين فذاقت وبال أمرها بأنه عقوبته، وكان عاقبة أمرها خسرا بأنه خسارا وهلاكا. وفي تفسير مقباس أن الفاء في فذاقت وبال أمرها لتفريع فحاسبناها وعذبناها، والذوق هنا الإحساس مطلقا، وهو مجاز مرسل.
PickthallAllah hath prepared for them stern punishment; so keep your duty to Allah, O men of understanding! O ye who believe! Now Allah hath sent down unto you a reminder,
Yusuf AliAllah has prepared for them a severe Punishment (in the Hereafter). Therefore fear Allah, O ye men of understanding - who have believed!- for Allah hath indeed sent down to you a Message,-
The agreed readingGod has prepared a severe punishment for them, and the commentaries read this second mention of the threat as emphasis. So be mindful of God, you who have understanding — those of you who believe. God has sent down to you a reminder.
Urduاللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، تو اے عقل والو، اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو، اللہ نے تمہاری طرف نصیحت اتاری ہے۔ تفسیر مقباس کے مطابق اعد اللہ لھم عذابا شدیدا کا جملہ پچھلی آیت کان عاقبۃ امرھا خسرا کا بدلِ اشتمال ہے۔ مفسرین اس دوسری مرتبہ دھمکی کے ذکر کو تاکید کے طور پر پڑھتے ہیں۔
Arabicأعد الله لهم عذابا شديدا فاتقوا الله يا أولي الألباب الذين آمنوا قد أنزل الله إليكم ذكرا. جاء في تفسير مقباس أن جملة أعد الله لهم عذابا شديدا بدل اشتمال من جملة وكان عاقبة أمرها خسرا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ، - بَصْرِيٌّ - عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَذَكَرَ، آخَرِينَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهَا فَقَالَتْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَاصَمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ قَالَتْ فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ .
It was narrated that Ash-Sha'bi said:"I came to Fatimah bint Qais and asked her about the ruling of the Messenger of Allah concerning her. She said that her husband divorced her irrevocably, and she referred her dispute with him, concerning accommodation and maintenance, to the Messenger of Allah. She said: 'He did not give me (the right to) accommodation and maintenance, and he told me to observe my 'Iddah in the house of Ibn Umm Maktum
شعبی کہتے ہیں کہ میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے ان کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پوچھا؟ انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق بتہ ( تین طلاق قطعی ) دی تو میں ان سے نفقہ و سکنیٰ حاصل کرنے کا اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی تو آپ نے مجھے نفقہ و سکنیٰ پانے کا حقدار نہ ٹھہرایا اور مجھے حکم دیا کہ میں اب ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت کے دن گزاروں۔
‘Ubaid Allah said “Marwan sent someone (Qabisah) to Fatimah and asked her (about the case). She said that she was the wife of Abu Hafs. The Prophet (ﷺ) appointed ‘Ali as governor in a certain part of Yemen. Her husband also proceeded with him. From there he sent a message to her pronouncing one divorce that had yet remained. He commanded ‘Ayyash bin Abi Rabi’ah and Al Harith bin Hisham to provide maintenance to her. They said “By Allah there is no sustenance for her except in case she is pregnant.” She came to the Prophet(ﷺ) who said “There is no sustenance for you except in case you are pregnant. She then asked permission to shift (from her house) and he gave her permission.” She asked …
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ مروان نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو بلوایا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابوحفص رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا یعنی یمن کے بعض علاقے کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کے شوہر بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے اور وہیں سے انہیں بقیہ ایک طلاق بھیج دی، اور عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن ہشام کو انہیں نفقہ دینے کے لیے کہہ دیا تو وہ دونوں کہنے لگے: اللہ کی قسم حاملہ ہونے کی صورت ہی میں وہ نفقہ کی حقدار ہو سکتی ہیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ( اور آپ سے دریافت کیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے نفقہ صرف اس صورت میں ہے کہ تم حاملہ ہو ، پھر …
PickthallA messenger reciting unto you the revelations of Allah made plain, that He may bring forth those who believe and do good works from darkness unto light. And whosoever believeth in Allah and doeth right, He will bring him into Gardens underneath which rivers flow, therein to abide for ever. Allah hath made good provision for him.
Yusuf AliAn Messenger, who rehearses to you the Signs of Allah containing clear explanations, that he may lead forth those who believe and do righteous deeds from the depths of Darkness into Light. And those who believe in Allah and work righteousness, He will admit to Gardens beneath which Rivers flow, to dwell therein for ever: Allah has indeed granted for them a most excellent Provision.
The agreed readingA messenger, reciting to you God's signs made clear, so as to bring those who believe and do right out of the darknesses into the light — the darkness being refusal and the light faith. And whoever believes in God and does right, He admits him into Gardens with rivers running beneath them, to stay there for ever. God has made good provision for him.
Urduایک رسول جو تم پر اللہ کی واضح آیتیں پڑھ کر سناتا ہے، تاکہ وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے، اندھیرے سے مراد کفر اور روشنی سے مراد ایمان ہے۔ اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے اس کے لیے بہترین رزق مقرر کیا ہے۔ احسن البیان بتاتے ہیں کہ رسول کا لفظ ذکر کا بدل ہے، مبالغے کے طور پر رسول کو ذکر سے تعبیر کیا گیا، جیسے کہا جاتا ہے کہ وہ تو مجسم عدل ہے، یا ذکر سے مراد قرآن ہے اور رسولا سے پہلے ارسلنا محذوف ہے، یعنی ذکر یعنی قرآن نازل کیا اور رسول کو بھیجا۔
Arabicرسولا يتلو عليكم آيات الله مبينات ليخرج الذين آمنوا وعملوا الصالحات من الظلمات إلى النور، ومن يؤمن بالله ويعمل صالحا يدخله جنات تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها أبدا قد أحسن الله له رزقا. جاء في تفسير مقباس أن رسولا يتلو عليكم آيات الله مبينات ليخرج الذين آمنوا وعملوا الصالحات من الظلمات إلى النور. وذكر أحسن البيان أن رسولا بدل من ذكرا، وعبر عن الرسول بالذكر مبالغة، وقيل ذكرا يعني القرآن، وقبل رسولا محذوف تقديره أرسلنا، أي أنزلنا ذكرا وأرسلنا رسولا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَالِمًا الْفَرَّاءَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّهُ حَدَّثَتْهُ وَكَانَتْ، تَخْدِمُ بَعْضَ بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ بِنْتَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهَا فَيَقُولُ " قُولِي حِينَ تُصْبِحِينَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُصْبِحُ …
Narrated Daughter of the Prophet: AbdulHamid, a client of Banu Hashim, said that his mother who served some of the daughters of the Prophet (ﷺ) told him that one of the daughters of the Prophet (ﷺ) said that the Prophet (ﷺ) used to teach her saying: Say in the morning: Glory be to Allah, and I begin with praise of Him; there is no power but in Allah ; what Allah wills comes to pass and what He does not will does not come to pass; I know that Allah is Omnipotent and that Allah has comprehended everything in knowledge" ; for whoever says it in the morning will be guarded till the evening, and whoever says it in the evening will be guarded till the morning
بنی ہاشم کے غلام عبدالحمید بیان کرتے ہیں کہ ان کی ماں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کی خدمت میں رہا کرتی تھیں انہیں بتایا کہ ان کی صاحبزادی نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب تم صبح کرو تو کہو «سبحان الله وبحمده لا قوة إلا بالله ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن أعلم أن الله على كل شىء قدير وأن الله قد أحاط بكل شىء علما» میں اللہ کی پاکی بیان کرتا، اور اس کی تعریف کرتا ہوں، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، جو اللہ چاہے گا وہی ہو گا، اور جو وہ نہیں چاہے وہ نہیں ہو گا، میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ اپنے علم سے ہر چیز کو محیط ہے جو شخص ان کلمات کو صبح کے وقت کہے گا اس کی ( اللہ کی طرف سے ) شام تک حفاظت کی جائے گی، اور جو …
PickthallAllah it is who hath created seven heavens, and of the earth the like thereof. The commandment cometh down among them slowly, that ye may know that Allah is Able to do all things, and that Allah surroundeth all things in knowledge.
Yusuf AliAllah is He Who created seven Firmaments and of the earth a similar number. Through the midst of them (all) descends His Command: that ye may know that Allah has power over all things, and that Allah comprehends, all things in (His) Knowledge.
The agreed readingGod is the One who created seven heavens, and of the earth their like. The command comes down among them — that command being the revelation, brought down through them — so that you may know that God has power over everything, and that God encompasses everything in knowledge.
Urduاللہ وہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین میں سے بھی ان جیسی، ان کے درمیان حکم اترتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور یہ کہ اللہ نے ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ آیت اللہ کی مکمل قدرت پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ وہ دوبارہ اٹھانے اور حساب لینے پر قادر ہے، اور یہ کہ آسمان سات ہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں، ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ اللہ اپنی مکمل قدرت اور عظیم بادشاہی کی خبر دیتا ہے تاکہ یہ اس دین کی عظمت کا باعث بنے جو اس نے مقرر کیا۔ زمخشری روایت نقل کرتے ہیں کہ کچھ کہتے ہیں: قرآن میں کوئی آیت زمینوں کے سات ہونے پر اسی کے سوا دلالت نہیں کرتی، اور کہا گیا ہے کہ ہر دو آسمانوں کے درمیان پانچ سو سال کا سفر ہے، اور ہر آسمان کی موٹائی بھی اتنی ہی ہے۔
Arabicالله الذي خلق سبع سماوات ومن الأرض مثلهن يتنزل الأمر بينهن لتعلموا أن الله على كل شيء قدير وأن الله قد أحاط بكل شيء علما. ذكر القرطبي أن هذا يدل على كمال قدرته وأنه يقدر على البعث والمحاسبة، ولا خلاف في السماوات أنها سبع بعضها فوق بعض. وذكر ابن كثير أن الله يخبر عن قدرته التامة وسلطانه العظيم ليكون ذلك باعثا على تعظيم ما شرع من الدين القويم. وروى الزمخشري أنه قيل: ما في القرآن آية تدل على أن الأرضين سبع إلا هذه، وقيل بين كل سماءين مسيرة خمسمائة عام، وغلظ كل سماء كذلك.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, Ibn ʿĀshūr and Ṭanṭāwī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَالِمًا الْفَرَّاءَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّهُ حَدَّثَتْهُ وَكَانَتْ، تَخْدِمُ بَعْضَ بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ بِنْتَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهَا فَيَقُولُ " قُولِي حِينَ تُصْبِحِينَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُصْبِحُ …
Narrated Daughter of the Prophet: AbdulHamid, a client of Banu Hashim, said that his mother who served some of the daughters of the Prophet (ﷺ) told him that one of the daughters of the Prophet (ﷺ) said that the Prophet (ﷺ) used to teach her saying: Say in the morning: Glory be to Allah, and I begin with praise of Him; there is no power but in Allah ; what Allah wills comes to pass and what He does not will does not come to pass; I know that Allah is Omnipotent and that Allah has comprehended everything in knowledge" ; for whoever says it in the morning will be guarded till the evening, and whoever says it in the evening will be guarded till the morning
بنی ہاشم کے غلام عبدالحمید بیان کرتے ہیں کہ ان کی ماں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کی خدمت میں رہا کرتی تھیں انہیں بتایا کہ ان کی صاحبزادی نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب تم صبح کرو تو کہو «سبحان الله وبحمده لا قوة إلا بالله ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن أعلم أن الله على كل شىء قدير وأن الله قد أحاط بكل شىء علما» میں اللہ کی پاکی بیان کرتا، اور اس کی تعریف کرتا ہوں، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، جو اللہ چاہے گا وہی ہو گا، اور جو وہ نہیں چاہے وہ نہیں ہو گا، میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ اپنے علم سے ہر چیز کو محیط ہے جو شخص ان کلمات کو صبح کے وقت کہے گا اس کی ( اللہ کی طرف سے ) شام تک حفاظت کی جائے گی، اور جو …
Narrated Sa`id bin Zaid bin `Amr bin Nufail:That Arwa sued him before Marwan for a right, which she claimed, he had deprived her of. On that Sa`id said, "How should I deprive her of her right? I testify that I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'If anyone takes a span of land unjustly, his neck will be encircled with it down seven earths on the Day of Resurrection
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نے کہ ارویٰ بنت ابی اوس سے ان کا ایک ( زمین کے ) بارے میں جھگڑا ہوا۔ جس کے متعلق ارویٰ کہتی تھی کہ سعید نے میری زمین چھین لی۔ یہ مقدمہ مروان خلیفہ کے یہاں فیصلہ کے لیے گیا جو مدینہ کا حاکم تھا۔ سعید رضی اللہ عنہ نے کہا بھلا کیا میں ان کا حق دبا لوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے کسی کی دبا لی تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔ ابن ابی الزناد نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، اور ان سے سعید بن زید …
It was narrated from 'Ata bin Abi Marwan, from his father, that:Ka'b swore to him: "By Allah (SWT) Who parted the sea for Musa, we find in the Tawrah that when Dawud, the Prophet of Allah, finished his prayer, he would say: 'Allahumma Aslih li dinya-lladhi ja'altahu li ismatan wa aslih li dunyaya-llati ja'alta fiha ma'ashi, Allahumma inni a-udhu biridaka min sakhatik wa a-udhu bi'afwika min naqmatika wa a-udhu bika mink, la mani' lima a'taita wa la mu'tia lima mana'ta wa la yanfa'u dhal-jaddi minka al-jadd (O Allah, set straight my religious commitment that You have made a protection for me, and set straight my worldly affairs which You have made a means of my livelihood. O Allah, I seek …
ابومروان روایت کرتے ہیں کہ کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس نے موسیٰ کے لیے سمندر پھاڑا کہ ہم لوگ تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی داود علیہ السلام جب اپنی نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتی: «اللہم أصلح لي ديني الذي جعلته لي عصمة وأصلح لي دنياى التي جعلت فيها معاشي اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بعفوك من نقمتك وأعوذ بك منك لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست فرما دے جسے تو نے میرے لیے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے، اور میرے لیے میری دنیا درست فرما دے جس میں میری روزی ہے، اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں، اور تیرے عذاب سے تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری پناہ …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، الأَشْعَرِيُّ أَنَّ رَجُلاً، أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
It has been narrated on the authority of Abu Musa Ash'ari that a desert Arab came to the Prophet (ﷺ) and said:Messenger of Allah, one man fights fgr the spoils of war; another fights that he may be remembered, and another fights that he may see his (high) position (achieved as a result of his valour in fighting). Which of these is fighting in the cause of God? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Who fights so that the word of Allah is exalted is fighting in the way of Allah
عمرو بن مرہ نے کہا : میں نے ابووائل ( شقیق ) سے سنا ، انہوں نے کہا : ہمیں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : اللہ کے رسول! کوئی شخص مال غنیمت کی خاطر لڑتا ہے ، کوئی شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اس ( کے کارناموں ) کا ذکر ہو اور کوئی اس لیے لڑتا ہے کہ ( لڑائی اور شجاعت ) میں اس کے مقام کو دیکھا جائے ، ان میں سے اللہ کے راستے میں ( لڑنے والا ) کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ شخص جو اس لیے لڑے کہ اللہ کا کلمہ اونچا ہو ، وہی اللہ کے راستے میں ( لڑنے والا ) ہے ۔
Sa'id b. Zaid reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) say: He who took a span of earth wrongly would be made to wear around his neck seven earths on the Day of Resurrection
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جس نے زمین میں سے ایک بالشت بھی ظلم کرتے ہوئے حاصل کی قیامت کے دن اسے سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا ۔
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (may peace he upon him) as saying:One should not take a span of land without having legitimate right to it, otherwise Allah would make him wear (around his neck) seven earths on the Day of Resurrection
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شخص حق کے بغیر زمین کی ایک بالشت ( بھی ) حاصل نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنائے گا ۔