PickthallO Prophet! Why bannest thou that which Allah hath made lawful for thee, seeking to please thy wives? And Allah is Forgiving, Merciful.
Yusuf AliO Prophet! Why holdest thou to be forbidden that which Allah has made lawful to thee? Thou seekest to please thy consorts. But Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.
The agreed readingThe Prophet had made unlawful for himself something God had made lawful for him, seeking to please his wives, and he is asked why. What he had bound was himself; nothing was made forbidden to anyone else, and the binding is undone in the āyah that follows. And God is Forgiving, Merciful.
Urduنبی ﷺ نے اپنے اوپر وہ چیز حرام کر لی تھی جو اللہ نے ان کے لیے حلال کی تھی، اپنی بیویوں کی رضا مندی چاہتے ہوئے، اور ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیوں۔ انہوں نے صرف اپنے آپ کو پابند کیا تھا، کسی اور کے لیے کچھ حرام نہیں کیا گیا، اور یہ پابندی اگلی آیت میں ختم کر دی گئی۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ قرطبی لکھتے ہیں کہ سورۃ التحریم سب کے نزدیک مدنی ہے، اس کی بارہ آیات ہیں، اور اسے سورۃ النبی بھی کہا جاتا ہے۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے اپنے نبی محمد ﷺ پر ایک عتاب ہے، جب انہوں نے اپنی لونڈی حضرت ماریہ یا شہد پینا اپنی بعض بیویوں کے خیال کی رعایت میں اپنے اوپر حرام کر لیا تھا، تو اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
Arabicيا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي مرضاة أزواجك والله غفور رحيم. ذكر القرطبي أن سورة التحريم مدنية في قول الجميع، وهي اثنتا عشرة آية، وتسمى سورة النبي. وذكر السعدي أن هذا عتاب من الله لنبيه محمد صلى الله عليه وسلم حين حرم على نفسه سريته مارية أو شرب العسل مراعاة لخاطر بعض زوجاته في قصة معروفة، فأنزل الله تعالى هذه الآيات. وفي تفسير مقباس أن افتتاح السورة بخطاب النبي صلى الله عليه وسلم بالنداء تنبيه على أن ما سيذكر بعده مما يهتم به النبي صلى الله عليه وسلم.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 6 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة8 reports cited here — 6 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
1. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Mahbub from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that once the Messenger of Allah raised his head to the heaven and smiled. He was asked, ‘O Messenger of Allah, we saw you. Why did you raise your head to the heaven and smile?’ He then replied, ‘I was amazed when I saw two angels come down from the heaven looking for a believing, virtuous servant (of Allah) in the place he performs his prayers, so they can record his deeds of that day and night but they could not find him there. They then ascended to the heaven saying, “Lord, we looked for Your so and so believing servant in …
عدہ سے ہم نے احمد بن محمد سے، ابن محبوب سے، عبد الله بن سنان سے، ابی عبد الله علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو ہنستے ہوئے۔ ان سے کہا گیا: یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور ہنستے ہوئے۔ آپ نے کہا: ہاں، مجھے حیرت ہوئی دو فرشتوں کے لیے جو آسمان سے زمین پر اترے، ایک ایمان والے اور صالح بندے کو تلاش کر رہے تھے اس نماز کی جگہ میں جہاں وہ نماز پڑھتے تھے تاکہ اس کے دن اور رات کا عمل لکھیں۔ لیکن وہ اسے اس نماز کی جگہ میں نہ پایا۔ تو وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے اور کہا: ہمارے رب! تمہارے بندے ایمان والے فلاں کو ہم نے اس کی نماز کی جگہ تلاش کیا تاکہ اس کے دن رات کا عمل لکھیں لیکن ہم نہ پائے۔ لیکن ہم نے اسے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Certain persons of our people have narrated from Ali ibn al-Husayn ibn Salih al-Taymuliy from Ayyub ibn Nuh from Muhammad ibn Sinan from a man who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that once a man came to the Holy Prophet, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, and said, ‘O Messenger of Allah, I have Mahirah al-‘Arab (the girl with highest amount of dower among Arabs); will you accept her and she is my daughter?’ He (the Messenger of Allah) replied, ‘I accept her.’ The man said, ‘Another (characteristic) O Messenger of Allah.’ He (the Messenger of Allah) asked, ‘What is that?’ He said, ‘She has never suffered …
کچھ ہمارے اصحاب نے علی بن حسین بن صالح التیملی سے، انہوں نے ایوب بن نوح سے، انہوں نے محمد بن سنان سے، انہوں نے ایک شخص سے روایت کی، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے کہا: ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے پاس آیا اور کہا: اے رسول اللہ! میرے پاس عرب کی بہترین دولہن ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اسے قبول کریں، وہ میری بیٹی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے اسے قبول کر لیا۔ اس نے کہا: ایک اور بات اے رسول اللہ! انہوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اس پر کبھی کوئی سختی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں، لیکن اسے جلبیب کو شادی کر دو۔ یہ سنتے ہی اس شخص کے دونوں پاؤں لڑھک گئے۔ پھر وہ اس کی والدہ کے پاس گیا اور اسے خبر دی، تو اسے بھی وہی حالت ہوا۔ جب لڑکی نے ان کی بات سنی اور اپنے والد کی حالت دیکھی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Aishah said that the Messenger of Allah used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet entered upon either of us, she would say:"I perceive the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?" He came in to one of them, and she said that to him. He said: "No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again." Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you)' about 'Aishah and Hafsah, 'And (remember) when the Prophet disclosed a matter in …
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے، میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو آ رہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا، آپ نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیوں گا“۔ تو عائشہ اور حفصہ ( رضی اللہ عنہما ) کی وجہ سے یہ آیت «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“۔ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةَ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ - وَقَالَ - لَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ { وَإِذْ …
Ubaid bin 'Umair narrated from 'Aishah, the wife of the Prophet:"The Prophet used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet came to either of us, she would say: 'I detect the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?' He came to one of them and she said that to him. He said: 'No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again.' Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you).' addressing 'Aishah and Hafsah; 'And (remember) when …
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ ( کیا بات ہے ) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: ”میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے ( اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے ) تو آئندہ نہ پیوں گا“۔ چنانچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ ( …
It was narrated from Anas, that the Messenger of Allah had a female slave with whom he had intercourse, but 'Aishah and Hafsah would not leave him alone until he said that she was forbidden for him. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed:"O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' until the end of the Verse
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی تھی، آپ اس سے مجامعت فرماتے تھے۔ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا ایک دن آپ کے پاس بیٹھی رہیں یہاں تک کہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کر لی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» إِلَى آخِرِ الآيَةِ ”اے نبی! آپ اس چیز کو اپنے لیے کیوں حرام قرار دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال رکھا ہے“۔ ( التحریم: ۱ ) مکمل آیت نازل فرمائی ۱؎۔
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) used to like sweets and also used to like honey, and whenever he finished the `Asr prayer, he used to visit his wives and stay with them. Once he visited Hafsa and remained with her longer than the period he used to stay, so I enquired about it. It was said to me, "A woman from her tribe gave her a leather skin containing honey as a present, and she gave some of it to Allah's Messenger (ﷺ) to drink." I said, "By Allah, we will play a trick on him." So I mentioned the story to Sauda (the wife of the Prophet) and said to her, "When he enters upon you, he will come near to you whereupon you should say to him, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Have you eaten …
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلوہ ( یعنی میٹھی چیز ) اور شہد پسند کرتے تھے اور عصر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنی ازواج سے ( ان میں سے کسی کے حجرہ میں جانے کے لیے ) اجازت لیتے تھے اور ان کے پاس جاتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے اور ان کے یہاں اس سے زیادہ دیر تک ٹھہرے رہے جتنی دیر تک ٹھہرنے کا آپ کا معمول تھا۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی قوم کی ایک خاتون نے شہد کی ایک کپی انہیں ہدیہ کی تھی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا شربت پلایا تھا۔ میں نے اس …
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to stay (for a period) in the house of Zainab bint Jahsh (one of the wives of the Prophet ) and he used to drink honey in her house. Hafsa and I decided that when the Prophet (ﷺ) entered upon either of us, she would say, "I smell in you the bad smell of Maghafir (a bad smelling raisin). Have you eaten Maghafir?" When he entered upon one of us, she said that to him. He replied (to her), "No, but I have drunk honey in the house of Zainab bint Jahsh, and I will never drink it again." Then the following verse was revealed: 'O Prophet ! Why do you ban (for you) that which Allah has made lawful for you?. ..(up to) If you two (wives of the Prophet (ﷺ) turn in …
ہم سے حسن بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا کہ عطاء کہتے تھے کہ انہوں نے عبید بن عمیر سے سنا، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ام المؤمنین ) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں رکتے تھے اور شہد پیتے تھے۔ پھر میں نے اور ( ام المؤمنین ) حفصہ ( رضی اللہ عنہا ) نے عہد کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے، آپ نے مغافیر تو نہیں کھائی ہے؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے یہی بات آپ سے پوچھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے زینب بنت جحش کے یہاں اور اب کبھی نہیں …
Ubaid bin 'Umair said:I heard 'Aishah say: "The Prophet used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet came to either of us, she would say: 'I detect the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you. Have you eaten Maghafir?' He went to one of them and she said that to him. He said: 'No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again.' Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you' up to: 'If you two turn in repentance to Allah' -'Aishah and Hafsah- 'And (remember) when the Prophet disclosed a matter in confidence to one of …
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ ( کے منہ ) سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ اسے نہیں پیوں گا ۔ تو آیت کریمہ «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» سے ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں ( التحریم: ۱ ) «إن تتوبا إلى اللہ» ( …
PickthallAllah hath made lawful for you (Muslims) absolution from your oaths (of such a kind), and Allah is your Protector. He is the Knower, the Wise.
Yusuf AliAllah has already ordained for you, (O men), the dissolution of your oaths (in some cases): and Allah is your Protector, and He is Full of Knowledge and Wisdom.
The agreed readingGod has appointed for you the release of your oaths — the expiation set out elsewhere in the Book. What the commentaries take from it is that an oath which ought not to stand can be lawfully undone, at a price, rather than kept to the harm of the man who swore it. God is your Protector, and He is the Knowing, the Wise.
Urduاللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کے کھولنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے، اور اللہ تمہارا مولا ہے، اور وہی خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ تحلۃ الیمین اس کا کفارہ ہے، یعنی اگر تم اس چیز کو حلال کرنا چاہو جس پر قسم کھائی گئی تھی۔ بغوی بتاتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے اللہ نے واضح اور واجب کیا کہ اگر تم قسم توڑو تو اس کا کفارہ دو، جیسا کہ سورۃ المائدہ میں مذکور ہے، اور موالکم کا مطلب ہے تمہارا ولی اور مددگار۔ تفسیر مقباس کے مطابق یہ ایک وضاحتی جملہ ہے جس میں اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو بتایا کہ انہیں اس چیز سے نکلنے میں گنجائش حاصل ہے جسے انہوں نے اپنے اوپر حرام کرنے کا التزام کیا تھا، جو کفارے کی صورت میں اللہ نے مقرر کیا۔
Arabicقد فرض الله لكم تحلة أيمانكم والله مولاكم وهو العليم الحكيم. ذكر القرطبي أن تحلة اليمين كفارتها، أي إذا أحببتم استباحة المحلوف عليه. وذكر البغوي أن معناه بين وأوجب أن تكفروها إذا حنثتم وهي ما ذكر في سورة المائدة، ومولاكم أي وليكم وناصركم. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية استئناف بياني بين الله به لنبيئه صلى الله عليه وسلم أن له سعة في التحلل مما التزم تحريمه على نفسه، وذلك فيما شرع الله من كفارة.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Hadith.5205 - Ibn Mahbub narrated from Ali ibn Ri'ab from Abdullah ibn Sinan from Abu Abdullah (as) regarding a man who pushed another man onto someone else, causing that person's death. Imam (as) said: "The blood money (diyyah) is upon the one who fell onto the man and killed him, and it must be paid to the heirs of the murdered person." Imam (as) further said: "Then the one who was pushed may seek the diyyah from the one who pushed him." Imam (as) also said: "And if the one who was pushed suffers any harm, the responsibility falls upon the one who pushed him as well."
ابن محبوب سے علي بن رئاب سے عبد اللہ بن سنان سے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے: رجل جو رجل کو رجل کے اوپر دھکا دیتا ہے تو وہ مار دیتا ہے۔ فرمایا: دیہ اس پر ہے جو رجل کے اوپر گرا اور وہ قتل ہوا، مقتول کے ولیوں کے لیے۔ اور جو دھکا دیا گیا وہ دیہ کے ساتھ واپس لوٹائے گا جس نے اسے دھکیا۔ اور اگر مدفوع کو کچھ نقصان ہو تو وہ بھی دافع پر ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated from Anas, that the Messenger of Allah had a female slave with whom he had intercourse, but 'Aishah and Hafsah would not leave him alone until he said that she was forbidden for him. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed:"O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' until the end of the Verse
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی تھی، آپ اس سے مجامعت فرماتے تھے۔ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا ایک دن آپ کے پاس بیٹھی رہیں یہاں تک کہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کر لی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» إِلَى آخِرِ الآيَةِ ”اے نبی! آپ اس چیز کو اپنے لیے کیوں حرام قرار دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال رکھا ہے“۔ ( التحریم: ۱ ) مکمل آیت نازل فرمائی ۱؎۔
Aishah said that the Messenger of Allah used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet entered upon either of us, she would say:"I perceive the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?" He came in to one of them, and she said that to him. He said: "No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again." Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you)' about 'Aishah and Hafsah, 'And (remember) when the Prophet disclosed a matter in …
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے، میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو آ رہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا، آپ نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیوں گا“۔ تو عائشہ اور حفصہ ( رضی اللہ عنہما ) کی وجہ سے یہ آیت «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“۔ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةَ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ - وَقَالَ - لَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ { وَإِذْ …
Ubaid bin 'Umair narrated from 'Aishah, the wife of the Prophet:"The Prophet used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet came to either of us, she would say: 'I detect the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?' He came to one of them and she said that to him. He said: 'No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again.' Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you).' addressing 'Aishah and Hafsah; 'And (remember) when …
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ ( کیا بات ہے ) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: ”میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے ( اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے ) تو آئندہ نہ پیوں گا“۔ چنانچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ ( …
درجته: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما يَقُولُ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّْ : (إن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ) حَتَّى حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُْ : ( إن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا …
Ibn Abbas said:“I was ever determined to ask Umar about the two women, among the wives of the Prophet, about whom Allah [the Mighty and Sublime] said: If you two turn in repentance, your hearts are indeed so inclined… until once when Umar performed Hajj, and I performed Hajj along with him. I poured water for his Wudu from a water holder, and I said: ‘O Commander of the Believers! Who are the two women among the wives of the Prophet, about whom Allah said: If your two turn in repentance, you hearts are indeed so inclined?’ He said to me: ‘I am astonished at you O Ibn Abbas!’” – Az-Zubair (one of the narrators) said: “By Allah! He disliked what he asked him, but he did not withhold it from …
عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میری برابر یہ خواہش رہی کہ میں عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ”اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ( یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) ، ( مگر مجھے موقع اس وقت ملا ) جب عمر رضی الله عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، میں نے ڈول سے پانی ڈال کر انہیں وضو کرایا، ( اسی دوران ) میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا …
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to stay (for a period) in the house of Zainab bint Jahsh (one of the wives of the Prophet ) and he used to drink honey in her house. Hafsa and I decided that when the Prophet (ﷺ) entered upon either of us, she would say, "I smell in you the bad smell of Maghafir (a bad smelling raisin). Have you eaten Maghafir?" When he entered upon one of us, she said that to him. He replied (to her), "No, but I have drunk honey in the house of Zainab bint Jahsh, and I will never drink it again." Then the following verse was revealed: 'O Prophet ! Why do you ban (for you) that which Allah has made lawful for you?. ..(up to) If you two (wives of the Prophet (ﷺ) turn in …
ہم سے حسن بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا کہ عطاء کہتے تھے کہ انہوں نے عبید بن عمیر سے سنا، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ام المؤمنین ) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں رکتے تھے اور شہد پیتے تھے۔ پھر میں نے اور ( ام المؤمنین ) حفصہ ( رضی اللہ عنہا ) نے عہد کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے، آپ نے مغافیر تو نہیں کھائی ہے؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے یہی بات آپ سے پوچھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے زینب بنت جحش کے یہاں اور اب کبھی نہیں …
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ - قَالَ - دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا النَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى وَيَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ لأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا لِي وَمَا لَكَ يَا …
Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with him) reported:When Allah's Apostle (ﷺ) kept himself away from his wives, I entered the mosque, and found people striking the ground with pebblesand saying: Allah's Messenger (ﷺ) has divorced his wives, and that was before they were commanded to observe seclusion 'Umar said to himself: I must find this (actual position) today. So I went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and said (to her): Daughter of Abu Bakr, have you gone to the extent of giving trouble to Allah's Messenger (ﷺ)? Thereupon she said: Son of Khattab, you have nothing to do with me, and I have nothing to do with you. You should look to your own receptacle. He ('Umar) said: I …
سماک ابوزمیل سے روایت ہے ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار فرمائی ، کہا : میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو دیکھا وہ ( پریشانی اور تفکر میں ) کنکریاں زمین پر مار رہے ہیں ، اور کہہ رہے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ، یہ واقعہ انہیں پردے کا حکم دیے جانے سے پہلے کا ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : آج میں اس معاملے کو جان کر رہوں گا ۔ انہوں نے کہا : میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اور کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی! تم اس حد تک پہنچ چکی ہو کہ اللہ کے رسول صلی …
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) stayed fifteen days in Mecca in the year of Conquest. Shortening the prayer. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by 'Abdah b. Sulaiman, Ahmad b. Khalid al-Wahbi, and Salamah b. Fadli on the authority of Ibn Ishaq ; but they did not mention the name of Ibn 'Abbas
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے سال مکہ میں پندرہ روز قیام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز قصر کرتے رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث عبدہ بن سلیمان، احمد بن خالد وہبی اور سلمہ بن فضل نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔
PickthallWhen the Prophet confided a fact unto one of his wives and when she afterward divulged it and Allah apprised him thereof, he made known (to her) part thereof and passed over part. And when he told it her she said: Who hath told thee? He said: The Knower, the Aware hath told me.
Yusuf AliWhen the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his consorts, and she then divulged it (to another), and Allah made it known to him, he confirmed part thereof and repudiated a part. Then when he told her thereof, she said, "Who told thee this? "He said, "He told me Who knows and is well-acquainted (with all things)."
The agreed readingThe Prophet confided something to one of his wives, and she passed it on. God let him know of it, and he told her part of what she had done and passed over part. The commentaries stop on the part he passed over and read it as forbearance: he did not press the whole of it on her. When he told her, she asked who had told him, and he said: the Knowing, the Aware told me.
Urduاور جب نبی ﷺ نے اپنی ایک بیوی سے ایک بات راز میں کہی، پھر جب اس نے یہ بات پھیلا دی اور اللہ نے نبی ﷺ کو اس پر مطلع کر دیا، تو نبی ﷺ نے اس میں سے کچھ اسے بتایا اور کچھ سے چشم پوشی کی، تو جب انہوں نے اسے یہ بات بتائی تو اس نے کہا: تمہیں کس نے بتایا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: مجھے اس نے بتایا جو خوب جاننے والا، خوب باخبر ہے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے یاد کرو جب نبی ﷺ نے حضرت حفصہ سے ایک بات راز میں کہی، یعنی ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرنے کی بات اور اس سے اسے چھپانے کو کہا۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ بعض ازواج سے مراد حفصہ ہیں، اور جو بات راز میں کہی وہ ماریہ کا واقعہ اور شیخین کی امامت کا معاملہ تھا، اور نبات بہ کا مطلب ہے وہ بات حضرت عائشہ کو بتا دی۔
Arabicوإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا فلما نبأت به وأظهره الله عليه عرف بعضه وأعرض عن بعض فلما نبأها به قالت من أنبأك هذا قال نبأني العليم الخبير. ذكر القرطبي أن معناه اذكر إذ أسر النبي إلى حفصة حديثا يعني تحريم مارية على نفسه واستكتامه إياها ذلك. وفسر الزمخشري بعض أزواجه بأنها حفصة، والحديث الذي أسر إليها حديث مارية وإمامة الشيخين، ونبأت به أي أفشته إلى عائشة.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Ibn `Abbas:For the whole year I had the desire to ask `Umar bin Al-Khattab regarding the explanation of a Verse (in Surat Al-Tahrim) but I could not ask him because I respected him very much. When he went to perform the Hajj, I too went along with him. On our return, while we were still on the way home. `Umar went aside to answer the call of nature by the Arak trees. I waited till he finished and then I proceeded with him and asked him. "O chief of the Believers! Who were the two wives of the Prophet (ﷺ) who aided one another against him?" He said, "They were Hafsa and `Aisha." Then I said to him, "By Allah, I wanted to ask you about this a year ago, but I could not do so owing to …
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبید بن حنین نے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا ایک آیت کے متعلق عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کے لیے ایک سال تک میں تردد میں رہا، ان کا اتنا ڈر غالب تھا کہ میں ان سے نہ پوچھ سکا۔ آخر وہ حج کے لیے گئے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا، واپسی میں جب ہم راستہ میں تھے تو رفع حاجت کے لیے وہ پیلو کے درخت میں گئے۔ بیان کیا کہ میں ان کے انتظار میں کھڑا رہا جب وہ فارغ ہو کر آئے تو پھر میں ان کے ساتھ چلا اس وقت میں نے عرض کیا۔ امیرالمؤمنین! امہات المؤمنین میں وہ کون دو عورتیں تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے متفقہ منصوبہ بنایا تھا؟ انہوں نے …
Aishah said that the Messenger of Allah used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet entered upon either of us, she would say:"I perceive the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?" He came in to one of them, and she said that to him. He said: "No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again." Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you)' about 'Aishah and Hafsah, 'And (remember) when the Prophet disclosed a matter in …
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے، میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو آ رہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا، آپ نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیوں گا“۔ تو عائشہ اور حفصہ ( رضی اللہ عنہما ) کی وجہ سے یہ آیت «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“۔ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةَ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ - وَقَالَ - لَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ { وَإِذْ …
Ubaid bin 'Umair narrated from 'Aishah, the wife of the Prophet:"The Prophet used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet came to either of us, she would say: 'I detect the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?' He came to one of them and she said that to him. He said: 'No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again.' Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you).' addressing 'Aishah and Hafsah; 'And (remember) when …
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ ( کیا بات ہے ) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: ”میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے ( اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے ) تو آئندہ نہ پیوں گا“۔ چنانچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ ( …
درجته: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما يَقُولُ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّْ : (إن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ) حَتَّى حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُْ : ( إن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا …
Ibn Abbas said:“I was ever determined to ask Umar about the two women, among the wives of the Prophet, about whom Allah [the Mighty and Sublime] said: If you two turn in repentance, your hearts are indeed so inclined… until once when Umar performed Hajj, and I performed Hajj along with him. I poured water for his Wudu from a water holder, and I said: ‘O Commander of the Believers! Who are the two women among the wives of the Prophet, about whom Allah said: If your two turn in repentance, you hearts are indeed so inclined?’ He said to me: ‘I am astonished at you O Ibn Abbas!’” – Az-Zubair (one of the narrators) said: “By Allah! He disliked what he asked him, but he did not withhold it from …
عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میری برابر یہ خواہش رہی کہ میں عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ”اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ( یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) ، ( مگر مجھے موقع اس وقت ملا ) جب عمر رضی الله عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، میں نے ڈول سے پانی ڈال کر انہیں وضو کرایا، ( اسی دوران ) میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا …
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to stay (for a period) in the house of Zainab bint Jahsh (one of the wives of the Prophet ) and he used to drink honey in her house. Hafsa and I decided that when the Prophet (ﷺ) entered upon either of us, she would say, "I smell in you the bad smell of Maghafir (a bad smelling raisin). Have you eaten Maghafir?" When he entered upon one of us, she said that to him. He replied (to her), "No, but I have drunk honey in the house of Zainab bint Jahsh, and I will never drink it again." Then the following verse was revealed: 'O Prophet ! Why do you ban (for you) that which Allah has made lawful for you?. ..(up to) If you two (wives of the Prophet (ﷺ) turn in …
ہم سے حسن بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا کہ عطاء کہتے تھے کہ انہوں نے عبید بن عمیر سے سنا، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ام المؤمنین ) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں رکتے تھے اور شہد پیتے تھے۔ پھر میں نے اور ( ام المؤمنین ) حفصہ ( رضی اللہ عنہا ) نے عہد کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے، آپ نے مغافیر تو نہیں کھائی ہے؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے یہی بات آپ سے پوچھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے زینب بنت جحش کے یہاں اور اب کبھی نہیں …
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ - قَالَ - دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا النَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى وَيَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ لأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا لِي وَمَا لَكَ يَا …
Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with him) reported:When Allah's Apostle (ﷺ) kept himself away from his wives, I entered the mosque, and found people striking the ground with pebblesand saying: Allah's Messenger (ﷺ) has divorced his wives, and that was before they were commanded to observe seclusion 'Umar said to himself: I must find this (actual position) today. So I went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and said (to her): Daughter of Abu Bakr, have you gone to the extent of giving trouble to Allah's Messenger (ﷺ)? Thereupon she said: Son of Khattab, you have nothing to do with me, and I have nothing to do with you. You should look to your own receptacle. He ('Umar) said: I …
سماک ابوزمیل سے روایت ہے ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار فرمائی ، کہا : میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو دیکھا وہ ( پریشانی اور تفکر میں ) کنکریاں زمین پر مار رہے ہیں ، اور کہہ رہے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ، یہ واقعہ انہیں پردے کا حکم دیے جانے سے پہلے کا ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : آج میں اس معاملے کو جان کر رہوں گا ۔ انہوں نے کہا : میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اور کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی! تم اس حد تک پہنچ چکی ہو کہ اللہ کے رسول صلی …
Abdullah b. Abbas (Allah be pleased with tlicm) reported:I intended to ask 'Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with him) about a verse, but I waited for one year to ask him out of his fear, until he went out for Pilgrimage and I also accompanied him. As he came back and we were on the way he stepped aside towards an Arak tree to ease himself. I waited for him until he was free. I then walked along with him and said: Commander of the Faithful, who are the two among the wives of Allah's Messenger (ﷺ) who backed up one another (in their demand for extra money)? He said: They were Hafsa and 'A'isha (Allah be pleased with them). I said to him: It is for one year that I intended to ask you …
سلیمان بن بلال نے کہا : مجھے یحییٰ نے عبید بن حنین سے خبر دی کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے کہا : میں نے سال بھر کے انتظار کیا ، میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک آیت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا تھا مگر ان کی ہیبت کی وجہ سے ان سے سوال کرنے کی ہمت نہ پاتا تھا ، حتی کہ وہ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے ، میں بھی ان کے ساتھ نکلا ، جب لوٹے تو ہم راستے میں کسی جگہ تھے کہ وہ قضائے حاجت کے لیے پیلو کے درخت کی طرف چلے گئے ، میں ان کے انتظار میں ٹھہر گیا ، حتی کہ وہ فارغ ہو گئے ، پھر میں ان کے ساتھ چل پڑا ، میں نے عرض کی : امیر المومنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے وہ کون سی دو خواتین تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم …
It was narrated from Anas, that the Messenger of Allah had a female slave with whom he had intercourse, but 'Aishah and Hafsah would not leave him alone until he said that she was forbidden for him. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed:"O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' until the end of the Verse
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی تھی، آپ اس سے مجامعت فرماتے تھے۔ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا ایک دن آپ کے پاس بیٹھی رہیں یہاں تک کہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کر لی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» إِلَى آخِرِ الآيَةِ ”اے نبی! آپ اس چیز کو اپنے لیے کیوں حرام قرار دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال رکھا ہے“۔ ( التحریم: ۱ ) مکمل آیت نازل فرمائی ۱؎۔
PickthallIf ye twain turn unto Allah repentant, (ye have cause to do so) for your hearts desired (the ban); and if ye aid one another against him (Muhammad) then lo! Allah, even He, is his Protecting Friend, and Gabriel and the righteous among the believers; and furthermore the angels are his helpers.
Yusuf AliIf ye two turn in repentance to Him, your hearts are indeed so inclined; But if ye back up each other against him, truly Allah is his Protector, and Gabriel, and (every) righteous one among those who believe,- and furthermore, the angels - will back (him) up.
The agreed readingIf the two of them turn to God, there is cause for it, for their hearts had swerved — swerved, as the commentaries put it, from what was owed to him, which was to want what he wanted and dislike what he disliked. And if they support one another against him, then God is his Protector, and Gabriel, and the righteous among the believers, and the angels after that are his support.
Urduاگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو تو یہ اس لیے ہے کہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو چکے تھے، اور اگر تم دونوں نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو اللہ ہی اس کا مولا ہے اور جبریل اور نیک مومن اور اس کے بعد فرشتے بھی اس کے مددگار ہیں۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ اس سے مراد حفصہ اور عائشہ ہیں، انہیں توبہ پر ابھارا گیا اس چیز پر جو ان سے رسول اللہ ﷺ کی محبت کے خلاف میلان کی صورت میں ہوئی، اور فقد صغت قلوبکما کا مطلب ہے تمہارے دل ٹیڑھے ہو گئے۔ زمخشری بتاتے ہیں کہ ان تتوبا حفصہ اور عائشہ سے خطاب ہے، التفات کے انداز میں، تاکہ ان دونوں کی ملامت میں زیادہ بلیغ ہو۔
Arabicإن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما وإن تظاهرا عليه فإن الله هو مولاه وجبريل وصالح المؤمنين والملائكة بعد ذلك ظهير. ذكر القرطبي أن إن تتوبا إلى الله يعني حفصة وعائشة، حثهما على التوبة على ما كان منهما من الميل إلى خلاف محبة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وفقد صغت قلوبكما أي زاغت. وذكر الزمخشري أن إن تتوبا خطاب لحفصة وعائشة على طريقة الالتفات، ليكون أبلغ في معاتبتهما.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr, Ibn ʿĀshūr, Ṭabāṭabāʾī and Ṭanṭāwī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ - قَالَ - دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا النَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى وَيَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ لأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا لِي وَمَا لَكَ يَا …
Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with him) reported:When Allah's Apostle (ﷺ) kept himself away from his wives, I entered the mosque, and found people striking the ground with pebblesand saying: Allah's Messenger (ﷺ) has divorced his wives, and that was before they were commanded to observe seclusion 'Umar said to himself: I must find this (actual position) today. So I went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and said (to her): Daughter of Abu Bakr, have you gone to the extent of giving trouble to Allah's Messenger (ﷺ)? Thereupon she said: Son of Khattab, you have nothing to do with me, and I have nothing to do with you. You should look to your own receptacle. He ('Umar) said: I …
سماک ابوزمیل سے روایت ہے ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار فرمائی ، کہا : میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو دیکھا وہ ( پریشانی اور تفکر میں ) کنکریاں زمین پر مار رہے ہیں ، اور کہہ رہے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ، یہ واقعہ انہیں پردے کا حکم دیے جانے سے پہلے کا ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : آج میں اس معاملے کو جان کر رہوں گا ۔ انہوں نے کہا : میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اور کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی! تم اس حد تک پہنچ چکی ہو کہ اللہ کے رسول صلی …
درجته: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما يَقُولُ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّْ : (إن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ) حَتَّى حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُْ : ( إن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا …
Ibn Abbas said:“I was ever determined to ask Umar about the two women, among the wives of the Prophet, about whom Allah [the Mighty and Sublime] said: If you two turn in repentance, your hearts are indeed so inclined… until once when Umar performed Hajj, and I performed Hajj along with him. I poured water for his Wudu from a water holder, and I said: ‘O Commander of the Believers! Who are the two women among the wives of the Prophet, about whom Allah said: If your two turn in repentance, you hearts are indeed so inclined?’ He said to me: ‘I am astonished at you O Ibn Abbas!’” – Az-Zubair (one of the narrators) said: “By Allah! He disliked what he asked him, but he did not withhold it from …
عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میری برابر یہ خواہش رہی کہ میں عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ”اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ( یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) ، ( مگر مجھے موقع اس وقت ملا ) جب عمر رضی الله عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، میں نے ڈول سے پانی ڈال کر انہیں وضو کرایا، ( اسی دوران ) میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا …
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"I was very keen to ask 'Umar bin Al-Khattab about the two wives of the Messenger of Allah to whom Allah said: If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you), your hearts are indeed so inclined." And he quoted the Hadith. He said concerning it:' "The from his wives for twenty-nine days because of that, when Hafsah had made her disclosure to Aishah. He had said: 'I will not enter upon them for a month,' because he was so upset with them when Allah, the Mighty and Sublime, informed him of what they had said. When twenty-nine days had passed, he entered upon 'Aishah, so he started with her. Aishah, said to him: 'O Messenger of Allah, …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبكما» ”اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) میں کیا ہے، پھر پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے انتیس راتوں تک اس بات کی وجہ سے جو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ظاہر کر دی تھی کنارہ کشی اختیار کر لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ نے اپنی اس ناراضگی کی وجہ سے جو آپ کو اپنی عورتوں سے اس وقت ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بات آپ کو بتلائی …
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} حَتَّى حَجَّ وَحَجَجْتُ مَعَهُ، وَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ، فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ …
Narrated Ibn `Abbas:I had been eager to ask `Umar bin Al-Khattab about the two ladies from among the wives of the Prophet regarding whom Allah said 'If you two (wives of the Prophet (ﷺ) namely Aisha and Hafsa) turn in repentance to Allah, your hearts are indeed so inclined (to oppose what the Prophet (ﷺ) likes). (66.4) till `Umar performed the Hajj and I too, performed the Hajj along with him. (On the way) `Umar went aside to answer the call of nature, and I also went aside along with him carrying a tumbler full of water, and when `Umar had finished answering the call of nature, I poured water over his hands and he performed the ablution. Then I said to him, "O chief of the Believers! Who …
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بہت دنوں تک میرے دل میں خواہش رہی کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے متعلق پوچھوں جن کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل کی تھی۔ «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» الخ۔ ایک مرتبہ انہوں نے حج کیا اور ان کے ساتھ میں نے بھی حج کیا۔ ایک جگہ جب وہ راستہ سے ہٹ کر ( قضائے حاجت کے لیے ) گئے تو میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر ان کے ساتھ راستہ سے ہٹ گیا۔ پھر انہوں نے قضائے حاجت کی اور واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ پھر انہوں نے وضو کیا تو میں نے اس وقت ان سے پوچھا …
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported. I had always been anxious to ask 'Umar (Allah be pleased with him) about the two ladies amongst the wives of Allah's Prophet (may peace be upon Lim) about whom Allah, the Exalted, said:" If you both turn in repentance to Allah, then indeed your hearts are inclined (to this)" (Ixvi. 4), until 'Umar (Allah be pleased with him) set out for Hajj and I also went along with him. And as we were going along a path, 'Umar (Allah be pleased with hiyn) went aside and I also went aside with him with a jug (of water). He answered the call of nature, and then came to me and I poured water over his hands and he performed ablution I said: Commander of the …
معمر نے زہری سے ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں شدت سے خواہش مند رہا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ان دو کے بارے میں سوال کروں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : "" اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو تو یقینا تمہارے دل آگے جھک گئے ہیں "" حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج ( کا سفر ) کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا ، ( واپسی پر ) ہم راستے کے ایک حصے میں تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ ( اپنی ضرورت کے لیے راستے سے ) ایک طرف ہٹ گئے اور میں بھی پانی کا برتن لیے ان کے ساتھ ہٹ گیا ، وہ صحرا میں چلے گئے ، پھر میرے پاس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی انڈیلا ، انہوں نے وضو کیا …
Aishah said that the Messenger of Allah used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet entered upon either of us, she would say:"I perceive the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?" He came in to one of them, and she said that to him. He said: "No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again." Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you)' about 'Aishah and Hafsah, 'And (remember) when the Prophet disclosed a matter in …
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے، میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو آ رہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا، آپ نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیوں گا“۔ تو عائشہ اور حفصہ ( رضی اللہ عنہما ) کی وجہ سے یہ آیت «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“۔ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةَ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ - وَقَالَ - لَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ { وَإِذْ …
Ubaid bin 'Umair narrated from 'Aishah, the wife of the Prophet:"The Prophet used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet came to either of us, she would say: 'I detect the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?' He came to one of them and she said that to him. He said: 'No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again.' Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you).' addressing 'Aishah and Hafsah; 'And (remember) when …
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ ( کیا بات ہے ) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: ”میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے ( اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے ) تو آئندہ نہ پیوں گا“۔ چنانچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ ( …
Yahya related to me from Malik from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If Allah loves a slave, he says to Jibril, 'I love so-and-so, so love him,' so Jibril loves him and then calls out to the people of heaven, 'Allah loves so-and-so, so love him,' and the people of heaven love him, and then acceptance is placed in the Earth for him." When Allah is angry with a slave, Malik said, "I consider that he says the like of that about His anger
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو پکارتا ہے جبرائیل کو اور یہ فرماتا ہے کہ بے شک اللہ نے فلانے کو دوست رکھا ہے سو تو بھی اس کو دوست رکھ تو جبرائیل اس سے محبت رکھتا ہے پھر پکار دیتا ہے جبرائیل آسمان والوں میں یعنی فرشتوں میں کہ بے شک اللہ نے فلانے کو دوست رکھا ہے سو تم بھی اس کو دوست رکھو تو آسمان والے اس سے محبت رکھتے ہیں پھر اس محبوب بندے کی زمین میں قبولیت اتاری جاتی ہے یعنی زمین کے نیک لوگ اس کو مقبول جانتے ہیں اور اس سے محبت رکھتے ہیں اور جب اللہ کسی بندہ سے ناراض وغصہ ہوتا ہے ۔ (تو بھی اسی طرح کرتا ہے یعنی اس کا الٹ)
PickthallIt may happen that his Lord, if he divorce you, will give him in your stead wives better than you, submissive (to Allah), believing, pious, penitent, devout, inclined to fasting, widows and maids.
Yusuf AliIt may be, if he divorced you (all), that Allah will give him in exchange consorts better than you,- who submit (their wills), who believe, who are devout, who turn to Allah in repentance, who worship (in humility), who travel (for Faith) and fast,- previously married or virgins.
The agreed readingIt may be that, if he divorced you, his Lord would give him in your place wives better than you — women submitting, believing, obedient, turning in repentance, worshipping, given to fasting, some married before and some not. The commentaries note that no such exchange ever took place, because the condition never came about: what the āyah does is remove any thought that the place they held was owed to them.
Urduاگر وہ تمہیں طلاق دے دیں تو ممکن ہے کہ ان کا رب انہیں تمہاری جگہ تم سے بہتر بیویاں دے دے، فرمانبردار، مومن، اطاعت گزار، توبہ کرنے والی، عبادت گزار، روزہ دار، بیوہ اور کنواری۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ صحیح میں پہلے گزر چکا ہے کہ یہ آیت حضرت عمر کی زبان پر نازل ہوئی، پھر کہا گیا ہے کہ قرآن میں ہر عسیٰ واجب ہے۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ مسلمات مومنات کا مطلب ہے مصدق اور مخلص، اور سائحات کا مطلب روزہ دار ہے، اور روزہ دار کو سائح اس لیے کہا جاتا ہے کہ مسافر کے پاس زاد راہ نہیں ہوتا، تو وہ رکا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے کچھ کھانے کو ملے، تو روزہ دار کو اس سے تشبیہ دی گئی۔ تفسیر مقباس کے مطابق یہ آیت اس شرط سے متعلق نہیں جو ان تظاھرا علیہ میں ہے۔
Arabicعسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن مسلمات مؤمنات قانتات تائبات عابدات سائحات ثيبات وأبكارا. ذكر القرطبي أنه قد تقدم في الصحيح أن هذه الآية نزلت على لسان عمر رضي الله عنه، ثم قيل كل عسى في القرآن واجب. وفسر الزمخشري مسلمات مؤمنات بأنه مقرات مخلصات، وسائحات بأنه صائمات، وقيل للصائم سائح، لأن السائح لا زاد معه، فلا يزال ممسكا إلى أن يجد ما يطعمه، فشبه به الصائم في إمساكه إلى أن يجيء. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية ليس هذا مما يتعلق بالشرط في قوله وإن تظاهرا عليه.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Rāzī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Rāzī, Ibn Kathīr and Ṭanṭāwī on this āyah
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ - قَالَ - دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا النَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى وَيَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ لأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا لِي وَمَا لَكَ يَا …
Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with him) reported:When Allah's Apostle (ﷺ) kept himself away from his wives, I entered the mosque, and found people striking the ground with pebblesand saying: Allah's Messenger (ﷺ) has divorced his wives, and that was before they were commanded to observe seclusion 'Umar said to himself: I must find this (actual position) today. So I went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and said (to her): Daughter of Abu Bakr, have you gone to the extent of giving trouble to Allah's Messenger (ﷺ)? Thereupon she said: Son of Khattab, you have nothing to do with me, and I have nothing to do with you. You should look to your own receptacle. He ('Umar) said: I …
سماک ابوزمیل سے روایت ہے ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار فرمائی ، کہا : میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو دیکھا وہ ( پریشانی اور تفکر میں ) کنکریاں زمین پر مار رہے ہیں ، اور کہہ رہے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ، یہ واقعہ انہیں پردے کا حکم دیے جانے سے پہلے کا ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : آج میں اس معاملے کو جان کر رہوں گا ۔ انہوں نے کہا : میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اور کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی! تم اس حد تک پہنچ چکی ہو کہ اللہ کے رسول صلی …
درجته: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما يَقُولُ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّْ : (إن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ) حَتَّى حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُْ : ( إن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا …
Ibn Abbas said:“I was ever determined to ask Umar about the two women, among the wives of the Prophet, about whom Allah [the Mighty and Sublime] said: If you two turn in repentance, your hearts are indeed so inclined… until once when Umar performed Hajj, and I performed Hajj along with him. I poured water for his Wudu from a water holder, and I said: ‘O Commander of the Believers! Who are the two women among the wives of the Prophet, about whom Allah said: If your two turn in repentance, you hearts are indeed so inclined?’ He said to me: ‘I am astonished at you O Ibn Abbas!’” – Az-Zubair (one of the narrators) said: “By Allah! He disliked what he asked him, but he did not withhold it from …
عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میری برابر یہ خواہش رہی کہ میں عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ”اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ( یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) ، ( مگر مجھے موقع اس وقت ملا ) جب عمر رضی الله عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، میں نے ڈول سے پانی ڈال کر انہیں وضو کرایا، ( اسی دوران ) میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا …
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ عُمَرُ وَافَقْتُ اللَّهَ فِي ثَلاَثٍ ـ أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلاَثٍ ـ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْتَ مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَلَوْ أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحِجَابِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ قَالَ وَبَلَغَنِي مُعَاتَبَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْضَ نِسَائِهِ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِنَّ قُلْتُ إِنِ انْتَهَيْتُنَّ أَوْ لَيُبَدِّلَنَّ اللَّهُ رَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم خَيْرًا مِنْكُنَّ. حَتَّى أَتَيْتُ إِحْدَى نِسَائِهِ، قَالَتْ يَا عُمَرُ، أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله …
Narrated Anas:`Umar said, "I agreed with Allah in three things," or said, "My Lord agreed with me in three things. I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Would that you took the station of Abraham as a place of prayer.' I also said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Good and bad persons visit you! Would that you ordered the Mothers of the believers to cover themselves with veils.' So the Divine Verses of Al-Hijab (i.e. veiling of the women) were revealed. I came to know that the Prophet (ﷺ) had blamed some of his wives so I entered upon them and said, 'You should either stop (troubling the Prophet (ﷺ) ) or else Allah will give His Apostle better wives than you.' When I came to one of his wives, she said …
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ فرمایا، تین مواقع پر اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے حکم سے میری رائے نے پہلے ہی موافقت کی یا میرے رب نے تین مواقع پر میری رائے کے موافق حکم نازل فرمایا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! کیا اچھا ہوتا کہ آپ مقام ابراہیم کو طواف کے بعد نماز پڑھنے کی جگہ بناتے تو بعد میں یہی آیت نازل ہوئی۔ اور میں نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! آپ کے گھر میں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔ کیا اچھا ہوتا کہ آپ امہات المؤمنین کو پردہ کا حکم دے دیتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب ( پردہ کی آیت ) نازل فرمائی اور انہوں نے بیان کیا اور مجھے بعض ازواج مطہرات سے نبی …
Aishah said that the Messenger of Allah used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet entered upon either of us, she would say:"I perceive the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?" He came in to one of them, and she said that to him. He said: "No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again." Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you)' about 'Aishah and Hafsah, 'And (remember) when the Prophet disclosed a matter in …
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے ہاں شہد پی رہے تھے، میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر ۱؎ کی بو آ رہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی کہا، آپ نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب آئندہ نہیں پیوں گا“۔ تو عائشہ اور حفصہ ( رضی اللہ عنہما ) کی وجہ سے یہ آیت «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“۔ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةَ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ - وَقَالَ - لَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ { وَإِذْ …
Ubaid bin 'Umair narrated from 'Aishah, the wife of the Prophet:"The Prophet used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet came to either of us, she would say: 'I detect the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you; have you eaten Maghafir?' He came to one of them and she said that to him. He said: 'No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again.' Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' 'If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you).' addressing 'Aishah and Hafsah; 'And (remember) when …
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ ( کیا بات ہے ) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: ”میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے ( اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے ) تو آئندہ نہ پیوں گا“۔ چنانچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ ( …
It was narrated that Anas bin Malik told that ‘Umar said:“I said: ‘O Messenger of Allah (ﷺ), why do you not take the Maqam of Ibrahim as a place of prayer?’ Then the following was revealed: ‘And take you (people) the Maqam of Ibrahim as a place of prayer.’” [2:]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیں ( تو بہتر ہو ) ؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» اور تم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ( سورة البقرة: 125 ) ۔
Narrated Anas:that 'Umar bin Al-Khattab [may Allah be pleased with him] said: "I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! I wish that you could perform Salat behind the Maqam of Ibrahim.' So the following was revealed: And take you the Maqam of Ibrahim as a place of Salat
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اگر آپ مقام ابراہیم کو مصلی ( نماز پڑھنے کی جگہ ) بنا لیتے ( تو کیا ہی اچھی بات ہوتی ) تو آیت «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to stay (for a period) in the house of Zainab bint Jahsh (one of the wives of the Prophet ) and he used to drink honey in her house. Hafsa and I decided that when the Prophet (ﷺ) entered upon either of us, she would say, "I smell in you the bad smell of Maghafir (a bad smelling raisin). Have you eaten Maghafir?" When he entered upon one of us, she said that to him. He replied (to her), "No, but I have drunk honey in the house of Zainab bint Jahsh, and I will never drink it again." Then the following verse was revealed: 'O Prophet ! Why do you ban (for you) that which Allah has made lawful for you?. ..(up to) If you two (wives of the Prophet (ﷺ) turn in …
ہم سے حسن بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا کہ عطاء کہتے تھے کہ انہوں نے عبید بن عمیر سے سنا، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ام المؤمنین ) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں رکتے تھے اور شہد پیتے تھے۔ پھر میں نے اور ( ام المؤمنین ) حفصہ ( رضی اللہ عنہا ) نے عہد کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے، آپ نے مغافیر تو نہیں کھائی ہے؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے یہی بات آپ سے پوچھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے زینب بنت جحش کے یہاں اور اب کبھی نہیں …
PickthallO ye who believe! Ward off from yourselves and your families a Fire whereof the fuel is men and stones, over which are set angels strong, severe, who resist not Allah in that which He commandeth them, but do that which they are commanded.
Yusuf AliO ye who believe! save yourselves and your families from a Fire whose fuel is Men and Stones, over which are (appointed) angels stern (and) severe, who flinch not (from executing) the Commands they receive from Allah, but do (precisely) what they are commanded.
The agreed readingGuard yourselves and your families against a Fire whose fuel is people and stones — a fire fed by what no fire of this world is fed by. Over it are angels, harsh and severe, who do not disobey God in what He commands them and who do what they are commanded. Both traditions read the guarding as instruction rather than power: a man commands his household what he commands himself, and that is what is asked of him.
Urduاے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، اس پر سخت اور طاقتور فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جس کا وہ انہیں حکم دے، اور جو حکم دیا جائے وہی کرتے ہیں۔ قرطبی ضحاک کا قول نقل کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے اپنے آپ کو بچاؤ، اور تمہارے گھر والے اپنے آپ کو آگ سے بچائیں۔ ابن کثیر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے انہیں ادب سکھاؤ اور تعلیم دو۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ قوا انفسکم کا مطلب ہے گناہوں کو چھوڑ کر اور اطاعتیں کر کے، اور واھلیکم کا مطلب ہے انہیں بھی وہی سکھاؤ جو تم خود کرتے ہو۔ علامہ سعدی لکھتے ہیں کہ یہ ان لوگوں سے خطاب ہے جن پر اللہ نے ایمان کا احسان کیا، کہ وہ اس کے تقاضے اور شرطیں پوری کریں۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا قوا أنفسكم وأهليكم نارا وقودها الناس والحجارة عليها ملائكة غلاظ شداد لا يعصون الله ما أمرهم ويفعلون ما يؤمرون. ذكر القرطبي عن الضحاك أن معناه قوا أنفسكم، وأهلوكم فليقوا أنفسهم نارا. وذكر ابن كثير عن علي رضي الله عنه أن معناه أدبوهم علموهم. وفسر الزمخشري قوا أنفسكم بأنه بترك المعاصي وفعل الطاعات، وأهليكم بأن تأخذوهم بما تأخذون به أنفسكم. وذكر السعدي أن هذا خطاب لمن من الله عليهم بالإيمان أن يقوموا بلوازمه وشروطه.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Surely! Everyone of you is a guardian and is responsible for his charges: The Imam (ruler) of the people is a guardian and is responsible for his subjects; a man is the guardian of his family (household) and is responsible for his subjects; a woman is the guardian of her husband's home and of his children and is responsible for them; and the slave of a man is a guardian of his master's property and is responsible for it. Surely, everyone of you is a guardian and responsible for his charges
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آگاہ ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس امام ( امیرالمؤمنین ) لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہو گا اور کسی شخص کا غلام اپنے سردار کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے …
(Sabrah bin Ma'bad al-Juhni) narrated that:Allah's Messenger (S) said: "Teach the boy Salat when he is seven years old, and beat him (if he does not pray) when he is ten
سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات برس کے بچے کو نماز سکھاؤ، اور دس برس کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مارو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ”جو لڑکا دس برس کے ہو جانے کے بعد نماز چھوڑے وہ اس کی قضاء کرے
Narrated As-Saburah: The Prophet (ﷺ) said: Command a boy to pray when he reaches the age of seven years. When he becomes ten years old, then beat him for prayer
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب دس سال کے ہو جائیں تو اس ( کے ترک ) پر انہیں مارو ۔
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Islam began as something strange and it will return to being strange as it began. So Tuba is for the strangers
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، ابن عمر، جابر، اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے، ۳- میں اس حدیث کو صرف حفص بن غیاث کی روایت سے جسے وہ اعمش کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، جانتا ہوں، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے، ۵- ابوحفص اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
It is narrated on the authority of Abdullah b. Mas'ud:We once said: Messenger of Allah, would we be held responsible for our deeds committed in the state of ignorance? He (the Holy Prophet) observed: He who did good deeds in Islam would not be held responsible for what he did in the state of ignorance, but he who committed evil (after having come within the fold of Islam) would be held responsible for his previous and later deeds
وکیع نے اعمش کے واسطے سے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے جاہلیت میں جو عمل کیے ، کیا ان کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا : ’’جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے ، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے ، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالأَمِيرُ رَاعٍ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "All of you are guardians and are responsible for your wards. The ruler is a guardian and the man is a guardian of his family; the lady is a guardian and is responsible for her husband's house and his offspring; and so all of you are guardians and are responsible for your wards
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ امیر ( حاکم ) ہے، مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے۔ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے۔ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔
Pickthall(Then it will be said): O ye who disbelieve! Make no excuses for yourselves this day. Ye are only being paid for what ye used to do.
Yusuf Ali(They will say), "O ye Unbelievers! Make no excuses this Day! Ye are being but requited for all that ye did!"
The agreed readingYou who refused, make no excuses today. The commentaries place these words at the moment of entering the Fire, and read the prohibition as a statement of the case rather than a refusal to listen: there is nothing an excuse could do there. You are only being repaid for what you were doing.
Urduاے کافرو! آج عذر پیش نہ کرو، تمہیں صرف اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے تمہارا عذر فائدہ نہیں دے گا، اور یہ ممانعت مایوسی کو یقینی بنانے کے لیے ہے، اور انما تجزون ما کنتم تعملون سے مراد دنیا میں کیے گئے اعمال ہیں۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جہنمیوں کو اس زجر و توبیخ کے ساتھ کہا جائے گا: اے کافرو! آج عذر پیش نہ کرو، یعنی عذر کا وقت جا چکا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا، اب صرف اعمال کا بدلہ باقی ہے، اور تم نے کفر اور جھٹلانے کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے جو آگ پر مقرر ہیں، اور یہاں اس کا ذکر جہنم سے نفرت دلانے کے لیے ایک اضافی بیان ہے۔
Arabicيا أيها الذين كفروا لا تعتذروا اليوم إنما تجزون ما كنتم تعملون. ذكر القرطبي أن معناه أن عذركم لا ينفع، وهذا النهي لتحقيق اليأس، وإنما تجزون ما كنتم تعملون في الدنيا. وذكر السعدي أن أهل النار يوبخون يوم القيامة بهذا التوبيخ، فيقال لهم يا أيها الذين كفروا لا تعتذروا اليوم، أي فإنه ذهب وقت الاعتذار وزال نفعه، فلم يبق الآن إلا الجزاء على الأعمال، وأنتم لم تقدموا إلا الكفر بالله والتكذيب. وفي تفسير مقباس أن هذا من قول الملائكة الذين على النار، وذكر هذه المقالة هنا استطراد يفيد التنفير من جهنم بأنها دار أهل الكفر.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 4 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة7 reports cited here — 4 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
4. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn ‘Isa from al-Hassan ibn Mahbub from certain individuals of his people from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, has chosen Islam to be your religion. Keep good company with your religion by means of exercising generosity and good moral behavior.”
محمد بن یحیی نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے روایت کی، وہ حسن بن محبوب سے، وہ اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل نے اسلام کو تمہارے لیے دین کے طور پر پسند کیا ہے۔ تو اس کے ساتھ سخاؤت اور حسن اخلاق سے بہترین رویہ رکھو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn ’Isa from al-Hasan ibn Mahbub from Ishaq ibn Ghalib from abu ’Abdallah (a.s.) who has described the condition of the Imams (a.s.) and their attributes in one of his sermons. “Allah, the Most Holy, the Most High, has explained His religion through the Imams of (true) guidance from the family of our Prophet (s.a.) the Ahlul Bayt (a.s.), and has clear through them the path of His system and plan. He has opened through them the inside of the springs of His knowledge. Whoever of the followers of Muhammad (s.a.) has recognized his obligation towards the rights of his Imam he has realized the taste of the sweetness of his faith and the …
محمد بن یحیٰ روایت کرتے ہیں احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، وہ حسن بن محبوب سے، وہ اسحاق بن غالب سے، وہ ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ایک خطبے میں جس میں ائمہ (علیہ السلام) کی حالت اور ان کی صفات کا ذکر تھا کہا: بے شک اللہ عزّ و جلّ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے اہل بیت سے ہدایت کے ائمہ کے ذریعے اپنے دین کو واضح کیا ہے، اور انہوں نے اپنی منہج و طریقے کی راہ کو روشن کیا ہے، اور انہوں نے اپنے علم کے پوشیدہ چشموں کو کھول دیا ہے۔ پس محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی امت میں سے جو شخص اپنے امام کے حق کو واجب سمجھتا ہے تو اسے اپنے ایمان کی حلاوت کا ذائقہ آجاتا ہے اور وہ اپنے اسلام کی بہتری و عمدگی کو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے امام کو اپنی مخلوق کے لیے نشان …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
3. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from Muhammad ibn Tsa from ‘Ubayd Allah al- Dihqan from Durust ibn abu Mansur from Ibrahim ibn ‘Abd al-Hamid who has said the following: “Abu al-Hassan, Musa (a.s.), has said, ‘On the Day of Judgment, Allah, most High, will not look to three kinds of people. Of such people one kind is a man who does not buy or sell anything without swearing.’”
ہمارے اصحاب میں سے جماعت نے احمد بن محمد بن خالد سے، محمد بن عیسی سے، عبیداللہ الدہقان سے، درست بن ابی منصور سے، ابراہیم بن عبدالحمید سے روایت کی ہے کہ ابو الحسن موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: تین آدمی ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر نہیں کریں گے۔ ان میں سے ایک آدمی وہ ہے جس نے اللہ کے ذریعہ سے تجارت اختیار کی ہے، وہ نہیں خریدتا مگر قسم کے ساتھ اور نہیں بیچتا مگر قسم کے ساتھ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
(Sabrah bin Ma'bad al-Juhni) narrated that:Allah's Messenger (S) said: "Teach the boy Salat when he is seven years old, and beat him (if he does not pray) when he is ten
سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات برس کے بچے کو نماز سکھاؤ، اور دس برس کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مارو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ”جو لڑکا دس برس کے ہو جانے کے بعد نماز چھوڑے وہ اس کی قضاء کرے
Narrated As-Saburah: The Prophet (ﷺ) said: Command a boy to pray when he reaches the age of seven years. When he becomes ten years old, then beat him for prayer
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب دس سال کے ہو جائیں تو اس ( کے ترک ) پر انہیں مارو ۔
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Islam began as something strange and it will return to being strange as it began. So Tuba is for the strangers
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، ابن عمر، جابر، اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے، ۳- میں اس حدیث کو صرف حفص بن غیاث کی روایت سے جسے وہ اعمش کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، جانتا ہوں، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے، ۵- ابوحفص اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
It is narrated on the authority of Abdullah b. Mas'ud:We once said: Messenger of Allah, would we be held responsible for our deeds committed in the state of ignorance? He (the Holy Prophet) observed: He who did good deeds in Islam would not be held responsible for what he did in the state of ignorance, but he who committed evil (after having come within the fold of Islam) would be held responsible for his previous and later deeds
وکیع نے اعمش کے واسطے سے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے جاہلیت میں جو عمل کیے ، کیا ان کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا : ’’جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے ، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے ، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا ۔ ‘ ‘
PickthallO ye who believe! Turn unto Allah in sincere repentance! It may be that your Lord will remit from you your evil deeds and bring you into Gardens underneath which rivers flow, on the day when Allah will not abase the Prophet and those who believe with him. Their light will run before them and on their right hands; they will say: Our Lord! Perfect our light for us, and forgive us! Lo! Thou art Able to do all things.
Yusuf AliO ye who believe! Turn to Allah with sincere repentance: In the hope that your Lord will remove from you your ills and admit you to Gardens beneath which Rivers flow,- the Day that Allah will not permit to be humiliated the Prophet and those who believe with him. Their Light will run forward before them and by their right hands, while they say, "Our Lord! Perfect our Light for us, and grant us Forgiveness: for Thou hast power over all things."
The agreed readingTurn to God in sincere repentance. The commentaries of both traditions define that sincerity in the same words: that a man repents of the sin and then does not go back to it, nor intend to. It may be that your Lord will strike your bad deeds off you and admit you into Gardens with rivers running beneath them, on a day when God will not disgrace the Prophet nor those who believed with him. Their light runs before them and on their right, and they say: our Lord, complete our light for us, and forgive us; You have power over everything.
Urduاللہ کی طرف خالص توبہ کرو، امید ہے تمہارا رب تمہاری برائیاں مٹا دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس دن جب اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور مکمل کر دے اور ہمیں بخش دے، بےشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ نے اس آیت میں خالص توبہ کا حکم دیا اور اس پر گناہوں کے کفارے اور جنتوں میں داخلے اور کامیابی کا وعدہ کیا، جب مومنین قیامت کے دن اپنے ایمان کے نور کے ساتھ دوڑیں گے، اس کی روشنی میں چلیں گے، اور اس کی راحت سے لطف اندوز ہوں گے۔ زمخشری بتاتے ہیں کہ توبۃ نصوحا کا مطلب یہ ہے کہ توبہ کرنے والے اپنے ساتھ خیرخواہی کریں، اسے صحیح طریقے سے لائیں، کوتاہیوں کی تلافی کریں اور گناہوں کو مٹا دیں، یعنی وہ برائیوں سے ان کی برائی کی وجہ سے توبہ کریں، ان پر نادم ہوں۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا توبوا إلى الله توبة نصوحا عسى ربكم أن يكفر عنكم سيئاتكم ويدخلكم جنات تجري من تحتها الأنهار يوم لا يخزي الله النبي والذين آمنوا معه نورهم يسعى بين أيديهم وبأيمانهم يقولون ربنا أتمم لنا نورنا واغفر لنا إنك على كل شيء قدير. ذكر السعدي أن الله أمر بالتوبة النصوح في هذه الآية، ووعد عليها بتكفير السيئات ودخول الجنات والفوز والفلاح، حين يسعى المؤمنون يوم القيامة بنور إيمانهم، ويمشون بضيائه، ويتمتعون بروحه وراحته. وفسر الزمخشري توبة نصوحا بأن النصح صفة التائبين، وهو أن ينصحوا بالتوبة أنفسهم، فيأتوا بها على طريقها متداركة للفرطات ماحية للسيئات، وذلك أن يتوبوا عن القبائح لقبحها، نادمين عليها.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from abu Ayyub from Muhammad ibn Muslim who has narrated the following: “Once, abu ‘ Abd Allah (a.s.), made a book available to the public. I found in it that the son of a brother and a grandfather share a legacy in equal shares. I said, ‘I pray to Allah to keep my soul in service for your cause, the judges do not judge for the son of brothers with a grandfather anything.’ He (the Imam) said, ‘This book is in handwriting of Ali (a.s.), as dictated to him by the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause.”’
علی بن ابراہیم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔ ابن ابی عمیر سے، ابو ایوب سے، محمد بن مسلم سے جو کہتے ہیں: ابو عبد اللہ (علیہ السلام) نے ایک صحیفہ پھیلایا۔ جو سب سے پہلے میں نے دیکھا - ابن اخ اور جد کا مال، نصف نصف۔ میں نے عرض کی: جفادکاک، قضاۃ عندنا لا یقضون - ہمارے قاضی اس کے لیے فیصلہ نہیں کرتے۔ فرمایا: یہ خط علی (علیہ السلام) اور املاء رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
5. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Faddal who has said the following: “Once, abu al-Hassan, al-Rida (a.s.), asked al-Hassan ibn al-Jahm, ‘What in your view is al-Sakinah?’ He replied, ‘I pray to Allah to keep my soul in service for your cause. I do not know. What is it?’ He (the Imam) said, ‘It is an air that comes from paradise. It is very fine and it has a face like the face of man. It existed with prophets. It descended to Ibrahim when he was building al- Ka‘bah. It began to take this and that and thus, the foundation was built on it.’”
محمد بن یحیی نے احمد بن محمد سے، ابن فضال سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا: ابوالحسن الرضا (علیہ السلام) نے الحسن بن الجہم سے کہا: تمہارے نزدیک السکینہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں آپ کے لیے قربان ہوں! میں نہیں جانتا۔ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ایک ہوا ہے جو جنت سے نکلتی ہے، خوشبودار، اس کا چہرہ انسان کے چہرے جیسا ہے۔ یہ انبیاء کے ساتھ تھی۔ یہ ابراہیم پر نازل ہوئی جب وہ کعبہ کو بناتے تھے، تو یہ اس طرف اور اس طرف لے کر جاتی تھی اور انہوں نے اس کی بنیاد پر بنایا۔ علی بن ابراہیم نے اپنے باپا سے، علی بن اسباط سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے ابوالحسن سے السکینہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اسی طرح کی بات کہی۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Hadith.1577 - Hariz narrated from Zurara and Muhammad ibn Muslim that they both said to Abu Abdullah (as): "What do you say about the verse of Allah (swt) Almighty: ‘Indeed, alms are only for the poor, the needy, those employed to collect them, those whose hearts are to be reconciled, for freeing captives, for those in debt, in the way of Allah (swt), and for the stranded traveller — an obligation imposed by Allah (swt)’ (Surah At-Tawbah 9:60)? Should all these categories be given, even if they do not recognize (the Imam)?" Imam (as) replied: "The Imam distributes to all of them because they acknowledge his authority." Zurara asked: "What if they do not recognize (the Imam)?" Imam (as) …
حریز نے زرارہ اور محمد بن مسلم سے روایت کی ہے۔ وہ دونوں ابو عبداللہ علیہ السلام سے کہتے ہیں: کیا آپ اللہ عز و جل کے اس قول پر غور کرتے ہیں: "إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله" کیا یہ تمام (اقسام کے) لوگوں کو دیا جائے گا اگرچہ وہ (امام کو) نہ پہچانتے ہوں؟ تو اس نے کہا: بے شک امام انہیں سب کو دیتا ہے کیونکہ وہ اس کے لیے اطاعت کو تسلیم کرتے ہیں۔ زرارہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اگر وہ نہ پہچانتے ہوں تو؟ تو اس نے فرمایا: اے زرارہ! اگر وہ ان کو دے جو پہچانتے ہوں اور ان سے روکے جو نہ پہچانتے ہوں تو اس کے لیے جگہ نہ ملے۔ اور بے شک وہ ان کو دیتا ہے جو نہ پہچانتے تاکہ وہ دین میں رغبت کریں اور اس پر ثابت رہیں۔ لیکن …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
(Sabrah bin Ma'bad al-Juhni) narrated that:Allah's Messenger (S) said: "Teach the boy Salat when he is seven years old, and beat him (if he does not pray) when he is ten
سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات برس کے بچے کو نماز سکھاؤ، اور دس برس کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مارو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ”جو لڑکا دس برس کے ہو جانے کے بعد نماز چھوڑے وہ اس کی قضاء کرے
Narrated As-Saburah: The Prophet (ﷺ) said: Command a boy to pray when he reaches the age of seven years. When he becomes ten years old, then beat him for prayer
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب دس سال کے ہو جائیں تو اس ( کے ترک ) پر انہیں مارو ۔
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Islam began as something strange and it will return to being strange as it began. So Tuba is for the strangers
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، ابن عمر، جابر، اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے، ۳- میں اس حدیث کو صرف حفص بن غیاث کی روایت سے جسے وہ اعمش کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، جانتا ہوں، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے، ۵- ابوحفص اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
Narrated Anas:It was narrated from Anas that there was a group of the Companions of the Prophet, one of whom said: "I will not marry women." Another said: "I will not eat meat." Another said: "I will not sleep on a bed." Another said: "I will fast and not break my fast." News of that reached the Messenger of Allah and he praised Allah then said: "What is the matter with people who say such and such? But I pray and I sleep, I fast and I break my fast, and I marry women. Whoever turns away from my Sunnah is not of me
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں سے بعض نے کہا: میں نکاح ( شادی بیاہ ) نہیں کروں گا، بعض نے کہا: میں گوشت نہ کھاؤں گا، بعض نے کہا: میں بستر پر نہ سوؤں گا، بعض نے کہا: میں مسلسل روزے رکھوں گا، کھاؤں پیوں گا نہیں، یہ خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ( لوگوں کے سامنے ) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ ( مجھے دیکھو ) میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، اور عورتوں سے شادیاں بھی کرتا ہوں۔ ( سن لو ) جو شخص میری سنت سے اعراض کرے ( میرے طریقے پر نہ چلے ) سمجھ لو وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
Narrated Irbad ibn Sariyah: AbdurRahman ibn Amr as-Sulami and Hujr ibn Hujr said: We came to Irbad ibn Sariyah who was among those about whom the following verse was revealed: "Nor (is there blame) on those who come to thee to be provided with mounts, and when thou saidst: "I can find no mounts for you." We greeted him and said: We have come to see you to give healing and obtain benefit from you. Al-Irbad said: One day the Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, then faced us and gave us a lengthy exhortation at which the eyes shed tears and the hearts were afraid. A man said: Messenger of Allah! It seems as if it were a farewell exhortation, so what injunction do you give us? He then …
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ «ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه» ۱؎ نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، …
It is narrated on the authority of Abdullah b. Mas'ud:We once said: Messenger of Allah, would we be held responsible for our deeds committed in the state of ignorance? He (the Holy Prophet) observed: He who did good deeds in Islam would not be held responsible for what he did in the state of ignorance, but he who committed evil (after having come within the fold of Islam) would be held responsible for his previous and later deeds
وکیع نے اعمش کے واسطے سے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے جاہلیت میں جو عمل کیے ، کیا ان کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا : ’’جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے ، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے ، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا ۔ ‘ ‘
PickthallO Prophet! Strive against the disbelievers and the hypocrites, and be stern with them. Hell will be their home, a hapless journey's end.
Yusuf AliO Prophet! Strive hard against the Unbelievers and the Hypocrites, and be firm against them. Their abode is Hell,- an evil refuge (indeed).
The agreed readingStrive against those who refuse and against the hypocrites, and be stern with them. The commentaries separate the two: against the first the striving is by arms, against the second by tongue and argument, since they stand inside the community and are not fought. The sternness belongs to this life; their lodging is Hell, and a wretched journey's end it is.
Urduاے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور یہ بہت برا انجام ہے۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ کافروں سے جہاد تلوار سے ہے اور منافقوں سے جہاد دلیل و حجت سے ہے، اور دونوں گروہوں پر سختی اور کھردرا پن استعمال کیا جائے، لڑائی اور مجادلے کے ذریعے۔ حضرت قتادہ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ منافقوں سے جہاد ان پر حدود قائم کرنے سے ہے، اور مجاہد کے حوالے سے دھمکی سے، اور بعض کہتے ہیں ان کے رازوں کو فاش کرنے سے۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ اللہ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ کافروں سے ہتھیار اور لڑائی سے جہاد کریں اور منافقوں سے ان پر حدود قائم کر کے، اور واغلظ علیھم کا مطلب ہے دنیا میں۔
Arabicيا أيها النبي جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم ومأواهم جهنم وبئس المصير. فسر الزمخشري جاهد الكفار بالسيف، والمنافقين بالاحتجاج، واستعمل الغلظة والخشونة على الفريقين فيما تجاهدهما به من القتال والمحاجة. وعن قتادة مجاهدة المنافقين لإقامة الحدود عليهم، وعن مجاهد بالوعيد، وقيل بإفشاء أسرارهم. وذكر ابن كثير أن الله يأمر رسوله صلى الله عليه وسلم بجهاد الكفار بالسلاح والقتال، والمنافقين بإقامة الحدود عليهم، وواغلظ عليهم أي في الدنيا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما يَقُولُ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّْ : (إن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ) حَتَّى حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُْ : ( إن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا …
Ibn Abbas said:“I was ever determined to ask Umar about the two women, among the wives of the Prophet, about whom Allah [the Mighty and Sublime] said: If you two turn in repentance, your hearts are indeed so inclined… until once when Umar performed Hajj, and I performed Hajj along with him. I poured water for his Wudu from a water holder, and I said: ‘O Commander of the Believers! Who are the two women among the wives of the Prophet, about whom Allah said: If your two turn in repentance, you hearts are indeed so inclined?’ He said to me: ‘I am astonished at you O Ibn Abbas!’” – Az-Zubair (one of the narrators) said: “By Allah! He disliked what he asked him, but he did not withhold it from …
عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میری برابر یہ خواہش رہی کہ میں عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ”اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ( یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) ، ( مگر مجھے موقع اس وقت ملا ) جب عمر رضی الله عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، میں نے ڈول سے پانی ڈال کر انہیں وضو کرایا، ( اسی دوران ) میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا …
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ - قَالَ - دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا النَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى وَيَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ لأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا لِي وَمَا لَكَ يَا …
Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with him) reported:When Allah's Apostle (ﷺ) kept himself away from his wives, I entered the mosque, and found people striking the ground with pebblesand saying: Allah's Messenger (ﷺ) has divorced his wives, and that was before they were commanded to observe seclusion 'Umar said to himself: I must find this (actual position) today. So I went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and said (to her): Daughter of Abu Bakr, have you gone to the extent of giving trouble to Allah's Messenger (ﷺ)? Thereupon she said: Son of Khattab, you have nothing to do with me, and I have nothing to do with you. You should look to your own receptacle. He ('Umar) said: I …
سماک ابوزمیل سے روایت ہے ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار فرمائی ، کہا : میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو دیکھا وہ ( پریشانی اور تفکر میں ) کنکریاں زمین پر مار رہے ہیں ، اور کہہ رہے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ، یہ واقعہ انہیں پردے کا حکم دیے جانے سے پہلے کا ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : آج میں اس معاملے کو جان کر رہوں گا ۔ انہوں نے کہا : میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اور کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی! تم اس حد تک پہنچ چکی ہو کہ اللہ کے رسول صلی …
PickthallAllah citeth an example for those who disbelieve: the wife of Noah and the wife of Lot, who were under two of Our righteous slaves yet betrayed them so that they (the husbands) availed them naught against Allah and it was said (unto them): Enter the Fire along with those who enter.
Yusuf AliAllah sets forth, for an example to the Unbelievers, the wife of Noah and the wife of Lut: they were (respectively) under two of our righteous servants, but they were false to their (husbands), and they profited nothing before Allah on their account, but were told: "Enter ye the Fire along with (others) that enter!"
The agreed readingGod sets as a likeness for those who refuse the wife of Noah and the wife of Lot. Both were married to two righteous servants of God, and both betrayed them — the betrayal being in religion, as the commentaries specify. Their husbands could avail them nothing against God, and it was said: enter the Fire with those who enter. Being close to a prophet saves nobody who has none of his faith.
Urduاللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال دی، وہ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں، تو انہوں نے ان دونوں سے خیانت کی، تو وہ دونوں اللہ کے سامنے ان کے کچھ کام نہ آ سکے، اور کہہ دیا گیا: تم دونوں داخل ہونے والوں کے ساتھ آگ میں داخل ہو جاؤ۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ نے یہ مثال اس لیے دی کہ آخرت میں کوئی قریبی یا رشتہ دار کام نہیں آتا اگر دین انہیں الگ کر دے، اور نوح کی بیوی کا نام والغہ اور لوط کی بیوی کا نام واہلہ بتایا جاتا ہے۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال دی، یعنی وہ دونوں عورتیں ہمارے دو نیک بندوں، یعنی نوح اور لوط علیہما السلام کے نکاح میں تھیں، تو انہوں نے دین میں خیانت کی، یعنی وہ اپنے شوہروں کے دین کے سوا کسی اور دین پر تھیں، اور خیانت سے یہی مراد ہے، کوئی اور خیانت مراد نہیں۔
Arabicضرب الله مثلا للذين كفروا امرأت نوح وامرأت لوط كانتا تحت عبدين من عبادنا صالحين فخانتاهما فلم يغنيا عنهما من الله شيئا وقيل ادخلا النار مع الداخلين. ذكر القرطبي أن الله ضرب هذا المثل تنبيها على أنه لا يغني أحد في الآخرة عن قريب ولا نسيب إذا فرق بينهما الدين، وكان اسم امرأة نوح والغة، واسم امرأة لوط واهلة. وفسر السعدي هذا بأن المرأتين كانتا تحت عبدين من عبادنا صالحين، وهما نوح ولوط عليهما السلام، فخانتاهما في الدين، بأن كانتا على غير دين زوجيهما، وهذا المراد بالخيانة، لا خيانة أخرى.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 5 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة6 reports cited here — 5 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Hadith.5469 - And a confirmation of this is what was narrated by Ismaʿil ibn Abi Ziyad Al-Sakuni from Imam Jafar ibn Muhammad Al-Sadiq (as) from his father, Abu Abdullah Imam Muhammad ibn Ali Al-Baqir (as), that he was asked about a man who dies without leaving behind an heir or any male relative (Aṣabah). Imam (as) said: "He may bequeath his wealth as he wishes among the Muslims, the poor, and the wayfarer."
۵۴۶۹ - اور اس کی تصدیق یہ ہے کہ اسماعیل بن ابی زیاد السکونی نے جعفر بن محمد سے، ان کے باپ علیہ السلام سے نقل کیا ہے: کہ انہ سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جو بغیر وارث اور بغیر عصبے کے مر جائے، انہوں نے فرمایا: "وہ اپنے مال کا وصیت کرے جہاں چاہے مسلمین میں اور مسکینوں میں اور مسافروں میں"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Anas bin Malik:"The Messenger of Allah (ﷺ) was brought a dish with unripe dates on it. He said: The parable of a goodly word is that of a goodly tree, whose root is firmly fixed, and its branches (reach) to the sky (14:24 & 25).' And he said: 'It is the date-palm.' And the parable of an evil tree uprooted from the surface of the earth, having no stability (14:26). He said: 'It is the colocynth tree
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹوکری لائی گئی جس میں تروتازہ پکی ہوئی کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: «كلمة طيبة كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين بإذن ربها» ۱؎ آپ نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے، اور آیت «ومثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة اجتثت من فوق الأرض ما لها من قرار» ۲؎ میں برے درخت سے مراد اندرائن ہے۔ شعیب بن حبحاب ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کا ذکر ابوالعالیہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ اور صحیح کہا۔
Narrated Al-Bara:that regarding Allah's saying: Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world and in the Hereafter (14:27). The Prophet (ﷺ) said: "In the grave, when it is said to him: 'Who is your Lord? What is your religion? And who is your Prophet?
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، قول ثابت ( محکم بات ) کے ذریعہ دنیا و آخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے“ ( ابراہیم: ۲۷ ) ، کی تفسیر میں فرمایا: ”ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا: «من ربك؟» تمہارا رب، معبود کون ہے؟ «وما دينك؟» تمہارا دین کیا ہے؟ «ومن نبيك؟» تمہارا نبی کون ہے؟“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ".
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Many amongst men attained perfection but amongst women none attained the perfection except Mary, the daughter of `Imran and Asiya, the wife of Pharaoh. And the superiority of `Aisha to other women is like the superiority of Tharid (i.e. an Arabic dish) to other meals
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا (امام بخاری رحمہ اللہ نے) اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں عمرو بن مرہ نے، انہیں مرہ نے اور انہیں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مردوں میں تو بہت سے کامل پیدا ہوئے لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران، فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی، اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت بقیہ تمام کھانوں پر ہے۔“
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There are many persons amongst men who are quite perfect but there are none perfect amongst women except Mary, daughter of 'Imran, Asiya wife of Pharaoh, and the excellence of 'A'isha as compared to women is that of Tharid over all other foods
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے ہیں اور ( لیکن ) عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت عورتوں پر اسی طرح ہے جس طرح ثرید کی باقی کھانوں پر ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ".
Narrated Abu Musa:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Many amongst men reached (the level of) perfection but none amongst the women reached this level except Asia, Pharaoh's wife, and Mary, the daughter of `Imran. And no doubt, the superiority of `Aisha to other women is like the superiority of Tharid (i.e. a meat and bread dish) to other meals
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ ان سے مرہ ہمدانی نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مردوں میں تو بہت سے کامل لوگ اٹھے لیکن عورتوں میں فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران علیہما السلام کے سوا اور کوئی کامل نہیں پیدا ہوئی ‘ ہاں عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔“
PickthallAnd Allah citeth an example for those who believe: the wife of Pharaoh when she said: My Lord! Build for me a home with thee in the Garden, and deliver me from Pharaoh and his work, and deliver me from evil-doing folk;
Yusuf AliAnd Allah sets forth, as an example to those who believe the wife of Pharaoh: Behold she said: "O my Lord! Build for me, in nearness to Thee, a mansion in the Garden, and save me from Pharaoh and his doings, and save me from those that do wrong";
The agreed readingAnd God sets as a likeness for those who believe the wife of Pharaoh, when she said: my Lord, build me a house with You in the Garden, and save me from Pharaoh and from what he does, and save me from the wrongdoing people. The commentaries name her and record what she bore for believing: she was under the worst of husbands, and it did not touch her standing with God.
Urduاور اللہ نے مومنوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال دی، جب اس نے کہا: اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے بچا لے، اور مجھے ظالم قوم سے بچا لے۔ قرطبی بتاتے ہیں کہ اس کا نام آسیہ بنت مزاحم تھا، اور یحییٰ بن سلام کا قول نقل کرتے ہیں کہ ضرب اللہ مثلا للذین کفروا کی مثال اللہ نے اس لیے دی کہ یہ بتائے۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ یہ ایک مثال ہے جو اللہ نے مومنوں کے لیے دی کہ کافروں سے میل جول انہیں نقصان نہیں دیتا اگر وہ ان کے محتاج ہوں، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ مومن کافروں کو دوست نہ بنائیں۔ زمخشری روایت نقل کرتے ہیں کہ ابوہریرہ سے مروی ہے کہ فرعون نے اپنی بیوی کو چار میخوں سے باندھا، اسے سورج کے سامنے کیا، اسے پیٹھ کے بل لٹایا، اور اس کے سینے پر ایک چکی رکھ دی۔
Arabicوضرب الله مثلا للذين آمنوا امرأت فرعون إذ قالت رب ابن لي عندك بيتا في الجنة ونجني من فرعون وعمله ونجني من القوم الظالمين. ذكر القرطبي أن اسمها آسية بنت مزاحم، ونقل عن يحيى بن سلام قوله في ضرب الله مثلا للذين كفروا. وذكر ابن كثير أن هذا مثل ضربه الله للمؤمنين أنهم لا تضرهم مخالطة الكافرين إذا كانوا محتاجين إليهم، كما قال تعالى لا يتخذ المؤمنون الكافرين أولياء من دون. وروى الزمخشري عن أبي هريرة أن فرعون وتد امرأته بأربعة أوتاد، واستقبل بها الشمس، وأضجعها على ظهرها، ووضع رحى على صدرها.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from Muhammad ibn ‘Isa from Yunus from a man from Zurara who has said the following: “Once I asked abu Ja’far (a.s.) ‘What do you say about marriage of the people. I have reached this age as you can see and I am not married yet.’ The Imam asked, ‘What prevents you from becoming married?’ I said, ‘What prevents me is fear that it may not be lawful to marry from them. What is your instruction?’ The Imam asked, ‘How can you live and you are young, can you exercise patience?’ I said, ‘I can buy slaves.’ The Imam asked, ‘Here you are, how, can slaves be lawful?’ I said, ‘A slave is not like a free person. If something may make me suspicious I can sell her and stay …
علی بن ابراہیم نے محمد بن عیسیٰ سے روایت کی اور محمد بن عیسیٰ نے یونس سے روایت کی اور یونس نے ایک شخص سے روایت کی اور اس نے زرارہ بن أعین سے روایت کی۔ زرارہ بن أعین کہتے ہیں: میں ابو جعفر محمد بن علی الباقر علیہ السلام کے سامنے حاضر تھا اور میں نے ان سے درخواست کی اور کہا: ابا جعفر! آپ کا نظریہ اور رائے کیا ہے لوگوں سے نکاح کے معاملے میں؟ کیونکہ میں تو اس عمر کو پہنچ گیا ہوں جیسا آپ دیکھ رہے ہیں اور میں نے ہنوز تک کسی عورت سے نکاح نہیں کیا۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں اس سے کیا روک رہا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ تم نکاح نہیں کر رہے؟ میں نے جواب دیا اور کہا: جو چیز مجھے روک رہی ہے وہ یہ ہے کہ میں خوف میں ہوں اور ڈرتا ہوں کہ ان لوگوں سے میرا نکاح ممکن ہے کہ مجھے حلال نہ ہو۔ تو براہ کرم آپ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Faddal from ibn Bukayr from Zurarah who has said the following: “I once heard abu Ja‘far (a.s.), saying, ‘Allah, most Majestic, most Glorious, disdained and rejected the words of certain ones of his wives against the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, and sent revelation about choice. The Messenger of Allah stayed away from his wives for twenty-nine days in the mashrabah (a place for water containers) of ‘Umm Ibrahim. He then called them and gave them the choice. They chose him (the Messenger of Allah) then nothing happened. Had they chosen …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے روایت کی، ابن فضال سے، ابن بکیر سے، زرارہ سے، کہا: میں نے ابو جعفر علیہ السلام کو کہتے ہوئے سنا: اللہ عزّ وجلّ کو ناپسند تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی کچھ ازواج نے جو کہا۔ تو اللہ نے آیہ التخيير (انتخاب کی آیت) نازل کیا۔ پس رسول اللہ نے اپنی ازواج سے انتشار کیا۔ انتیس راتیں ام ابراہیم کے کمرے میں رہے۔ پھر انہیں بلایا اور انہیں اختیار دیا۔ انہوں نے محمد کو منتخب کیا۔ تو کچھ نہ ہوا۔ اگر وہ اپنے آپ کو منتخب کرتیں تو ایک طلاق مسلّم ہوتی۔ میں نے پوچھا: اس عورت کا قول کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: وہ کہہ رہی تھی کہ محمد سمجھتے ہیں اگر وہ ہمیں طلاق دیں تو ہمارے قوم سے ہمارا ہمسر (ہمارے برابر) ہم سے شادی نہ کریں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
6. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Faddal from ibn Bukayr from Zurarah who has said the following: “Abu Ja’far (a.s.), has said that a man once visited Amir al-Mu’minin (a.s.), and found him sitting on a camel-load of date stones. He asked, ‘What is it on which you are sitting, O abu al-Hassan?’ He (the Imam) replied, ‘It is a hundred thousand palm trees, by the will of Allah.’ He planted them and not one date stone failed sprouting.’”
محمد بن یحیی نے احمد بن محمد سے، انہوں نے ابن فضال سے، انہوں نے ابن بکیر سے، انہوں نے زرارہ سے، ابو جعفر (علیہ السلام) سے، وہ فرماتے ہیں: ایک شخص امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے ملا اور ان کے نیچے کھجور کی گٹھلیوں کا بوجھ تھا۔ اس نے کہا: ابا الحسن! یہ تمہارے نیچے کیا ہے؟ فرمایا: ایک لاکھ کھجور کے درخت، اللہ کی مشیئت سے۔ تو انہوں نے انہیں لگایا اور ایک بھی گٹھلی باقی نہ رہی۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ".
Narrated Abu Musa:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Many amongst men reached (the level of) perfection but none amongst the women reached this level except Asia, Pharaoh's wife, and Mary, the daughter of `Imran. And no doubt, the superiority of `Aisha to other women is like the superiority of Tharid (i.e. a meat and bread dish) to other meals
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ ان سے مرہ ہمدانی نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مردوں میں تو بہت سے کامل لوگ اٹھے لیکن عورتوں میں فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران علیہما السلام کے سوا اور کوئی کامل نہیں پیدا ہوئی ‘ ہاں عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔“
Narrated Abu Musa: That the Prophet (ﷺ) said: "Many a man achieved perfection, but no woman achieved perfection except for Mariam the daughter of 'Imran, and Asiyah the wife of Fir'awn. And the superiority of 'Aishah over other women is like the superiority of Tharid over other foods." He said: There is something on this topic from 'Aishah and Anas. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں میں سے بہت سارے مرد درجہ کمال کو پہنچے ۱؎ اور عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ درجہ کمال کو پہنچیں اور تمام عورتوں پر عائشہ کو اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح تمام کھانوں پر ثرید کو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
It was narrated from Abu Musa Al-Ash’ari that the Prophet (ﷺ) said:“Many men have attained perfection but no women have attained perfection except Maryam bint ‘Imran (Mary) and Asiyah the wife of Fir’awn. And the superiority of ‘Aishah over other women is like the superiority of Tharid over all other foods.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سوائے مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے کوئی کامل نہیں ہوئی، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر ۱؎۔
It was narrated from Anas, that the Messenger of Allah had a female slave with whom he had intercourse, but 'Aishah and Hafsah would not leave him alone until he said that she was forbidden for him. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed:"O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you.' until the end of the Verse
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی تھی، آپ اس سے مجامعت فرماتے تھے۔ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا ایک دن آپ کے پاس بیٹھی رہیں یہاں تک کہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کر لی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» إِلَى آخِرِ الآيَةِ ”اے نبی! آپ اس چیز کو اپنے لیے کیوں حرام قرار دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال رکھا ہے“۔ ( التحریم: ۱ ) مکمل آیت نازل فرمائی ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما يَقُولُ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّْ : (إن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ) حَتَّى حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُْ : ( إن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا …
Ibn Abbas said:“I was ever determined to ask Umar about the two women, among the wives of the Prophet, about whom Allah [the Mighty and Sublime] said: If you two turn in repentance, your hearts are indeed so inclined… until once when Umar performed Hajj, and I performed Hajj along with him. I poured water for his Wudu from a water holder, and I said: ‘O Commander of the Believers! Who are the two women among the wives of the Prophet, about whom Allah said: If your two turn in repentance, you hearts are indeed so inclined?’ He said to me: ‘I am astonished at you O Ibn Abbas!’” – Az-Zubair (one of the narrators) said: “By Allah! He disliked what he asked him, but he did not withhold it from …
عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میری برابر یہ خواہش رہی کہ میں عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ”اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ( یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) ، ( مگر مجھے موقع اس وقت ملا ) جب عمر رضی الله عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، میں نے ڈول سے پانی ڈال کر انہیں وضو کرایا، ( اسی دوران ) میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ضَرَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خِبَاءَهُ عَلَى قَبْرٍ وَهُوَ لاَ يَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ضَرَبْتُ خِبَائِي عَلَى قَبْرٍ وَأَنَا لاَ أَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هِيَ الْمَانِعَةُ هِيَ …
Narrated Ibn 'Abbas:"One of the companions of the Prophet (ﷺ) pitched a tent on a grave without knowing that it was a grave. Suddenly he heard a person from the grave reciting Surah al-Mulk till he completed it. So he went to the Prophet (ﷺ) and said: 'Oh Messenger of Allah, I pitched my tent on a grave without realizing that is was a grave. Then suddenly I heard a person from the grave reciting Surah al-Mulk till he completed it.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is the defender, it is the deliverer - it delivers from the punishment of the grave
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے، ( انہوں نے آواز سنی ) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ «تبارك الملك» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ آپ نے فرمایا: «هي المانعة» ”یہ سورۃ مانعہ ہے، یہ نجات دینے والی ہے، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب …
PickthallAnd Mary, daughter of 'Imran, whose body was chaste, therefor We breathed therein something of Our Spirit. And she put faith in the words of her Lord and His scriptures, and was of the obedient.
Yusuf AliAnd Mary the daughter of 'Imran, who guarded her chastity; and We breathed into (her body) of Our spirit; and she testified to the truth of the words of her Lord and of His Revelations, and was one of the devout (servants).
The agreed readingAnd Mary daughter of ʿImrān, who guarded her chastity, so We breathed into it of Our Spirit; and she held true the words of her Lord and His books — the words being what He sent down to the prophets — and she was of the obedient. The commentaries read the four women of these āyāt together: ruin came to the first two by their own treachery and honour to the last two by their own faith, and in neither case did the marriage decide it.
Urduاور مریم بنت عمران، جس نے اپنی عصمت محفوظ رکھی، تو ہم نے اس میں اپنی روح میں سے پھونک دیا، اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی، اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے مریم کو یاد کرو، بعض کہتے ہیں یہ فرعون کی بیوی پر عطف ہے، یعنی اللہ نے مریم بنت عمران کی مثال ان کے یہود کی اذیت پر صبر کے حوالے سے دی۔ رازی بتاتے ہیں کہ احصنت کا مطلب بےحیائی سے بچنا ہے، کیونکہ ان پر زنا کی تہمت لگائی گئی تھی۔ تفسیر مقباس کہتی ہے کہ یہ آیت امرأت فرعون پر عطف ہے، یعنی اللہ نے مومنوں کے لیے مریم کی مثال بھی دی۔
Arabicومريم ابنة عمران التي أحصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا وصدقت بكلمات ربها وكتبه وكانت من القانتين. ذكر القرطبي أن معناه واذكر مريم، وقيل هو معطوف على امرأة فرعون، والمعنى ضرب الله مثلا لمريم بنة عمران وصبرها على أذى اليهود. وذكر الرازي أن أحصنت أي عن الفواحش، لأنها قذفت بالزنا. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية عطف على امرأت فرعون، أي وضرب الله مثلا للذين آمنوا مريم.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ".
Narrated Abu Musa:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Many amongst men reached (the level of) perfection but none amongst the women reached this level except Asia, Pharaoh's wife, and Mary, the daughter of `Imran. And no doubt, the superiority of `Aisha to other women is like the superiority of Tharid (i.e. a meat and bread dish) to other meals
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ ان سے مرہ ہمدانی نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مردوں میں تو بہت سے کامل لوگ اٹھے لیکن عورتوں میں فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران علیہما السلام کے سوا اور کوئی کامل نہیں پیدا ہوئی ‘ ہاں عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔“
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ضَرَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خِبَاءَهُ عَلَى قَبْرٍ وَهُوَ لاَ يَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ضَرَبْتُ خِبَائِي عَلَى قَبْرٍ وَأَنَا لاَ أَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هِيَ الْمَانِعَةُ هِيَ …
Narrated Ibn 'Abbas:"One of the companions of the Prophet (ﷺ) pitched a tent on a grave without knowing that it was a grave. Suddenly he heard a person from the grave reciting Surah al-Mulk till he completed it. So he went to the Prophet (ﷺ) and said: 'Oh Messenger of Allah, I pitched my tent on a grave without realizing that is was a grave. Then suddenly I heard a person from the grave reciting Surah al-Mulk till he completed it.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is the defender, it is the deliverer - it delivers from the punishment of the grave
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے، ( انہوں نے آواز سنی ) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ «تبارك الملك» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ آپ نے فرمایا: «هي المانعة» ”یہ سورۃ مانعہ ہے، یہ نجات دینے والی ہے، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
It was narrated from Abu Musa Al-Ash’ari that the Prophet (ﷺ) said:“Many men have attained perfection but no women have attained perfection except Maryam bint ‘Imran (Mary) and Asiyah the wife of Fir’awn. And the superiority of ‘Aishah over other women is like the superiority of Tharid over all other foods.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سوائے مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے کوئی کامل نہیں ہوئی، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر ۱؎۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ".
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Many amongst men attained perfection but amongst women none attained the perfection except Mary, the daughter of `Imran and Asiya, the wife of Pharaoh. And the superiority of `Aisha to other women is like the superiority of Tharid (i.e. an Arabic dish) to other meals
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا (امام بخاری رحمہ اللہ نے) اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں عمرو بن مرہ نے، انہیں مرہ نے اور انہیں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مردوں میں تو بہت سے کامل پیدا ہوئے لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران، فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی، اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت بقیہ تمام کھانوں پر ہے۔“