PickthallBy the emissary winds, (sent) one after another
Yusuf AliBy the (Winds) sent forth one after another (to man's profit);
The agreed readingBy those sent forth in succession — the commentaries take the oaths of these opening verses on the winds and on the angels, following one another as they are sent.
Urduپے در پے بھیجی جانے والیوں کی قسم - مفسرین ان ابتدائی آیات کی قسموں کو ہواؤں اور فرشتوں پر لیتے ہیں، جو ایک دوسرے کے پیچھے بھیجی جاتی ہیں جیسے جیسے وہ بھیجی جاتی ہیں۔
Arabicوالمرسلات عرفًا، أي المتتابعات بعضها إثر بعض - يأخذ المفسرون أقسام هذه الآيات الافتتاحية على الرياح وعلى الملائكة معًا، تتبع الواحدة الأخرى كما تُرسل تباعًا بلا انقطاع.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
Yusuf AliWhich then blow violently in tempestuous Gusts,
The agreed readingand those that blow a tempest — driving hard, the commentaries gloss, as a storm wind drives.
Urduاور طوفانی جھونکے مارنے والیوں کی قسم - مفسرین اس کی تشریح شدت سے چلانے والی ہوا سے کرتے ہیں، جیسے آندھی زور سے چلاتی ہے۔
Arabicفالعاصفات عصفًا شديدًا قويًا - يفسّر المفسرون هذا بطوائف من الملائكة في مضيهن، كما تعصف الرياح دفعًا شديدًا عنيفًا، تخفيفًا في امتثال أمره، تدفع كل ما تصادفه في طريقها.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
PickthallBy those which cause earth's vegetation to revive;
Yusuf AliAnd scatter (things) far and wide;
The agreed readingand those that scatter far and wide — spreading the rain out over the land, the commentaries agree.
Urduاور دور دور تک وسیع پیمانے پر پھیلانے والیوں کی قسم - مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ زمین کی ہر سمت پر بادل اور بارش کو پھیلانے سے متعلق ہے۔
Arabicوالناشرات نشرًا واسعًا بعيدًا ممتدًا - يتفق المفسرون على أن المقصود هو نشر السحاب والمطر فوق الأرض في كل جهاتها وأرجائها المختلفة، تغطية شاملة لا يُستثنى منها مكان.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
The agreed readingand those that separate decisively — separating, the commentaries agree, the true from the false and the permitted from the forbidden.
Urduاور فیصلہ کن طور پر جدا کرنے والیوں کی قسم - مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حق کو باطل سے اور حلال کو حرام سے جدا کرنے سے متعلق ہے۔
Arabicفالفارقات فرقًا حاسمًا واضحًا لا لبس فيه - يتفق المفسرون على أن المقصود هو الفصل الحاسم بين الحق والباطل، وبين الحلال والحرام في كل الأمور والأحكام.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
The agreed readingand those that deliver a reminder — the angels, the commentaries agree, bringing revelation down to the prophets.
Urduاور دلوں تک نصیحت پہنچانے والیوں کی قسم - مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ وہ فرشتے ہیں جو انبیاء تک وحی مسلسل پہنچا کر لاتے ہیں۔
Arabicفالملقيات ذكرًا وتذكيرًا متتاليًا - يتفق المفسرون على أن المقصود هم الملائكة الذين ينزلون بالوحي إلى الأنبياء واحدًا بعد آخر بلا انقطاع ولا توقف عن أداء هذه المهمة.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
The agreed readingas a clearing of excuse or as a warning. The commentaries agree the delivering is of revelation brought down to the messengers, and that it leaves no excuse and gives fair warning.
Urduعذر ختم کرنے کے لیے یا تنبیہ کے طور پر۔ مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ پہنچانا اس وحی کا ہے جو رسولوں پر اتاری جاتی ہے، اور یہ نہ کسی کے لیے عذر باقی چھوڑتی ہے اور نہ ہی مناسب تنبیہ سے قاصر رہتی ہے۔
Arabicعذرًا يقطع كل حجة، أو نذرًا ينذر به الخلق. يتفق المفسرون على أن هذا التبليغ هو تبليغ الوحي الذي يُنزَّل على الرسل، وأنه لا يترك عذرًا لأحد ولا يقصّر في الإنذار الواضح.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
PickthallSurely that which ye are promised will befall.
Yusuf AliAssuredly, what ye are promised must come to pass.
The agreed readingWhat you are promised is going to happen. The commentaries mark this as the thing all the oaths were sworn to.
Urduجس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔ مفسرین اسے وہ چیز سمجھتے ہیں جس پر یہ تمام قسمیں کھائی گئی تھیں۔
Arabicإنما توعدون به من العذاب والبعث لواقع لا محالة سيحدث فعلًا لا شك فيه. يجعل المفسرون هذا هو الأمر الذي أُقسمت من أجله كل هذه الأقسام السابقة مجتمعة.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
The agreed readingSo when the stars are blotted out — their light gone out of them, the commentaries gloss.
Urduپھر جب ستارے یکسر مٹا کر بجھا دیے جائیں گے - مفسرین اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ ان کی روشنی مکمل طور پر ان سے نکل کر ختم ہو جائے گی۔
Arabicفإذا النجوم طُمست وأُزيل نورها بالكلية دفعة واحدة - يفسّر المفسرون هذا بأن ضوءها ينطفئ ويخرج منها تمامًا فلا يبقى لها بريق ولا ضياء يُرى بتاتًا بعد ذلك.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
The agreed readingand when the sky is split open — parted and torn, the commentaries gloss, its firmness gone.
Urduاور جب آسمان چاک کر دیا جائے گا - مفسرین اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ وہ پھاڑا اور چیرا جائے گا، اس کی مضبوطی جاتی رہے گی۔
Arabicوإذا السماء فُرجت وشُقّت من كل جانب فجأة - يفسّر المفسرون هذا بأنها تُفتح وتُمزَّق تمزيقًا كاملًا، وتذهب متانتها التي كانت عليها من قبل ذلك اليوم.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
Yusuf AliWhen the mountains are scattered (to the winds) as dust;
The agreed readingand when the mountains are blown to dust — broken up and carried off, the commentaries agree, so that no place stays where it was.
Urduاور جب پہاڑ اڑا کر بکھیر دیے جائیں گے - مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ ٹوٹ کر اڑا دیے جائیں گے، یہاں تک کہ کوئی جگہ اپنی اصل حالت میں نہیں رہے گی۔
Arabicوإذا الجبال نُسفت وذُروت تذرية كاملة كأنها لم تكن - يتفق المفسرون على أنها تتفتت وتُحمل بعيدًا عن مكانها الأصلي، حتى لا يبقى موضع منها على حاله الأول أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
Yusuf AliFor what Day are these (portents) deferred?
The agreed readingfor what day has it been set? The commentaries agree the appointment is for them to bear witness about the peoples they were sent to.
Urduکس دن کے لیے یہ وقت مقرر کیا گیا ہے؟ مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ مقررہ وقت اس لیے ہے تاکہ وہ ان قوموں کے بارے میں گواہی دیں جن کی طرف وہ بھیجے گئے تھے۔
Arabicلأي يوم عظيم هائل أُجّلت هذه المهمة الجليلة وأُخّرت إلى وقتها؟ يتفق المفسرون على أن هذا التأجيل هو ليشهدوا على الأمم التي أُرسلوا إليها في الدنيا شهادة كاملة صادقة.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
PickthallAnd what will convey unto thee what the Day of Decision is! -
Yusuf AliAnd what will explain to thee what is the Day of Sorting out?
The agreed readingAnd what will make you know what the Day of Decision is? The commentaries read the question as magnifying it rather than asking about it.
Urduاور تمہیں کس چیز نے بتایا کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟ مفسرین اس سوال کو استفسار کے بجائے اس کی عظمت بیان کرنے کے طور پر پڑھتے ہیں۔
Arabicوما أدراك أيها الإنسان بالضبط ما يوم الفصل على حقيقته الكاملة؟ يقرأ المفسرون هذا السؤال تعظيمًا وتفخيمًا للأمر، لا مجرد استفهام عادي يُطلب له جواب مباشر.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". قَالَ عُمَرُ حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
Narrated `Abdullah:While we were with the Prophet (ﷺ) in a cave, Surat wal-Mursalat was revealed to him and he recited it, and I heard it directly from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us, and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it!" We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said. "It has escaped your evil, and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کر لیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلاَتِ} وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ".
Narrated `Abdullah:While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a cave at Mina, when Surat-wal-Mursalat were revealed and he recited it and I heard it (directly) from his mouth as soon as he recited its revelation. Suddenly a snake sprang at us and the Prophet (ﷺ) said (ordered us): "Kill it." We ran to kill it but it escaped quickly. The Prophet (ﷺ) said, "It has escaped your evil and you too have escaped its evil
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ ( ابوعبداللہ امام …
درجته: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: - · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ .
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah (ﷺ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said:They are from them
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
Yusuf AliDid We not destroy the men of old (for their evil)?
The agreed readingDid We not destroy the earlier peoples — destroyed, the commentaries agree, for the denying they did and would not leave.
Urduکیا ہم نے پہلی قوموں کو ہلاک نہیں کیا - مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ انہیں اسی انکار کی وجہ سے ہلاک کیا گیا جس پر وہ ڈٹے رہے اور جسے چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے۔
Arabicألم نهلك الأولين من الأمم السابقة إهلاكًا تامًا كاملًا لا شك فيه؟ يتفق المفسرون على أنهم أُهلكوا بسبب التكذيب نفسه الذي أصروا عليه ولم يتركوه مهما أُنذروا وحُذّروا.
PickthallThen caused the latter folk to follow after?
Yusuf AliSo shall We make later (generations) follow them.
The agreed readingthen send the later ones after them? The commentaries agree the earlier are the nations destroyed for denying, and the later are those doing the same again.
Urduپھر کیا ہم بعد والوں کو ان کے پیچھے نہیں بھیجتے؟ مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ پہلوں سے مراد وہ امتیں ہیں جو انکار کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، اور بعد والوں سے مراد وہ جو دوبارہ وہی کام کرتے ہیں۔
Arabicثم نتبعهم الآخرين الذين يفعلون مثل فعلهم؟ يتفق المفسرون على أن الأولين هم الأمم التي أُهلكت بسبب التكذيب، والآخرين هم من يكررون الفعل نفسه من بعدهم.
The agreed readingThat is how We deal with the guilty — with any who do the same, the commentaries agree, and not only with those already gone.
Urduہم مجرموں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں - مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو یہی کام کرے، نہ کہ صرف ان کے لیے جو پہلے گزر چکے۔
Arabicكذلك بالضبط نفعل بالمجرمين على مر العصور والأزمان كلها - يتفق المفسرون على أن هذا يشمل كل من يفعل الفعل نفسه، لا الذين مضوا وحدهم دون غيرهم من الأجيال اللاحقة.
Yusuf AliAh woe, that Day, to the Rejecters of Truth!
The agreed readingWoe that Day to the deniers — falling here on the pattern just shown: it happened before, and it holds.
Urduاس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے - یہ یہاں اسی نمونے پر آتا ہے جو ابھی دکھایا گیا: یہ پہلے بھی ہو چکا ہے، اور یہ اصول قائم رہتا ہے۔
Arabicويل يومئذ للمكذبين مرة أخرى في هذا الموضع - يقع هذا هنا على النمط نفسه الذي عُرض للتو: أهلك الله الأولين وأتبعهم الآخرين إنذارا وتحذيرا، وهذا الأصل ثابت مستمر لا يتبدل أبدًا.
[A part of the same sermon (about man’s creation, and pointing towards the requirements of life) :] O creature who has been equitably created and who has been nurtured and looked after in the darkness of wombs with multiple curtains. You were originated from the essence of clay (Qur’ān, 23:12) and placed in a still place for a known length (Qur’ān, 77:21-22) and an ordained time. You used to move in the womb of your mother as an embryo, neither responding to a call nor hearing any voice.
اسی خطبے سے: اے سیدھی اور کامل ساخت والے مخلوق، اے رحموں کی تاریکیوں اور تہہ در تہہ پردوں میں پرورش پانے والے! تیری ابتدا گارے کے خلاصے سے کی گئی، اور تجھے ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا گیا، ایک معلوم اندازے اور ایک مقرر مدت تک۔ تو اپنی ماں کے پیٹ میں جنین کی صورت میں حرکت کرتا رہا، نہ کسی پکار کا جواب دے سکتا تھا اور نہ کوئی آواز سن سکتا تھا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThus We arranged. How excellent is Our arranging!
Yusuf AliFor We do determine (according to need); for We are the best to determine (things).
The agreed readingSo We determined — and how well We determine. The commentaries take the measuring as extending to every stage of it, none of it left to chance.
Urduسو ہم نے اندازہ مقرر کیا - اور ہم کیا خوب اندازہ مقرر کرنے والے ہیں۔ مفسرین اس اندازے کو اس کے ہر مرحلے تک پھیلا ہوا سمجھتے ہیں، اس میں سے کچھ بھی اتفاق پر نہیں چھوڑا گیا۔
Arabicفقدرنا تقديرًا دقيقًا محكمًا، فنعم القادرون العظماء نحن على ذلك. يأخذ المفسرون هذا التقدير ممتدًا إلى كل مرحلة من مراحله كافة، لا شيء منه متروك للمصادفة أبدًا مهما دقّ.
Yusuf AliHave We not made the earth (as a place) to draw together.
The agreed readingDid We not make the earth a gatherer — a thing that draws in and holds, the commentaries gloss, whatever is put on it or in it.
Urduکیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا - مفسرین اس کی تشریح ایسی چیز سے کرتے ہیں جو ہر اس چیز کو کھینچ کر تھام لیتی ہے جو اس پر یا اس میں رکھی جائے۔
Arabicألم نجعل الأرض كفاتًا تكفت وتجمع كل من عليها؟ يفسّر المفسرون هذا بأنها شيء يضم ويحفظ كل ما يُوضع عليها أو بداخلها من الخلق أحياءً كانوا أو أمواتًا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب الشيعة3 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام شیعہ کتب سے
و ما كان فيه عن الزّهريّ فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن القاسم بن محمّد الاصبهانيّ، عن سليمان بن داود المنقريّ، عن سفيان بن عيينة، عن الزّهريّ- و اسمه محمّد بن مسلم بن شهاب- عن عليّ بن الحسين عليهما السّلام.
Everything in this book that is narrated from Al-Zuhri has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sad ibn Abdullah, from Al-Qasim ibn Muhammad Al-Isfahani, from Sulayman ibn Dawud Al-Munqari, from Sufyan ibn Uyaynah, from Al-Zuhri - whose name is Muhammad ibn Muslim ibn Shihab - from Ali ibn Al-Husayn (peace be upon them both).
اور اس کتاب میں جو کچھ الزہری سے منقول ہے وہ میں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے، رضی اللہ عنہ، سعد بن عبداللہ سے، القاسم بن محمد الاصفہانی سے، سلیمان بن داود المنقری سے، سفیان بن عیینہ سے، الزہری سے، اور ان کا نام محمد بن مسلم بن شہاب ہے، علی بن الحسین علیہما السلام سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن حفص بن غياث فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن أبي عبد اللّه، عن أبيه، عن حفص بن غياث. و رويته عن عليّ بن أحمد بن موسى- رحمه اللّه- عن محمّد بن أبي عبد اللّه، عن محمّد بن أبي بشير قال: حدّثنا الحسين بن الهيثم قال: حدّثنا سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث. و رويته عن أبي- رحمه اللّه- عن سعد بن عبد اللّه، عن القاسم بن محمّد الاصبهانيّ، عن سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث النخعيّ القاضي.
Everything in this book that is narrated from Hafs ibn Ghayath has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ahmad ibn Abi Abdullah, from his father, from Hafs ibn Ghayath. I have also narrated it from Ali ibn Ahmad ibn Musa - may Allah (swt) have mercy on him - from Muhammad ibn Abi Abdullah, from Muhammad ibn Abi Bashir, who said: Al-Husayn ibn Al-Haytham narrated to us, saying: Sulayman ibn Dawud Al-Munqari narrated to us, from Hafs ibn Ghayath. Additionally, I have narrated it from my father - may Allah (swt) have mercy on him - from Sa'd ibn Abdullah, from Al-Qasim ibn Muhammad Al-Isfahani, from Sulayman ibn Dawud …
اور جو کچھ اس میں حفص بن غیاث کے ذریعے ہے، تو میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں خوش رکھے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، احمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، ان کے والد کے ذریعے، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے علی بن احمد بن موسیٰ سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - محمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، محمد بن ابی بشیر کے ذریعے۔ انہوں نے کہا: ہمیں الحسین بن الہیثم نے حدیث دی، کہا: ہمیں سليمان بن داود المنقری نے حدیث دی، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، القاسم بن محمد الاصبهاني کے ذریعے، سليمان بن داود المنقری کے ذریعے، حفص بن غیاث النخعي القاضي سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن سليمان بن داود المنقريّ فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن القاسم بن محمّد الأصبهانيّ، عن سليمان بن داود المنقريّ المعروف بابن الشّاذكونيّ.
Everything in this book that is narrated from Sulayman ibn Dawud Al-Munqari has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Al-Qasim ibn Muhammad Al-Isfahani, from Sulayman ibn Dawud Al-Munqari, who is known as Ibn Al-Shadhkuni.
اور جو اس میں سليمان بن داود المنقري سے ہے تو میں نے اسے ابي رضي الله عنه سے روایت کیا ہے سعد بن عبد الله سے القاسم بن محمد الأصبهاني سے سليمان بن داود المنقري المعروف بابن الشاذكوني سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
The agreed readingof the living and the dead? The commentaries agree it holds the living on its back and the dead in its body.
Urduزندوں کو بھی اور مردوں کو بھی ایک ساتھ؟ مفسرین اس بات پر پوری طرح متفق ہیں کہ یہ زندوں کو اپنی سطح پر رکھتی ہے اور مردوں کو اپنے اندر مضبوطی سے تھام لیتی ہے۔
Arabicأحياءً على ظهرها الواسع وأمواتًا في بطنها العميق؟ يتفق المفسرون تمامًا على أنها تضم الأحياء فوق سطحها وتحفظ الأموات في جوفها معًا دون تمييز بينهما في ذلك.
PickthallAnd placed therein high mountains and given you to drink sweet water therein?
Yusuf AliAnd made therein mountains standing firm, lofty (in stature); and provided for you water sweet (and wholesome)?
The agreed readingAnd set in it firm towering peaks, and given you sweet water to drink? Fresh water, the commentaries note, brought up through springs and rivers made in it.
Urduاور کیا ہم نے اس میں مضبوط اونچے پہاڑ نہیں رکھے، اور تمہیں میٹھا پانی پینے کو نہیں دیا؟ مفسرین نوٹ کرتے ہیں کہ یہ تازہ پانی چشموں اور دریاؤں کے ذریعے لایا گیا جو اسی میں بنائے گئے۔
Arabicوجعلنا فيها رواسي شامخات ثابتات عاليات راسخة، وأسقيناكم ماءً فراتًا عذبًا سائغًا هنيئًا؟ ويلاحظ المفسرون أن هذا الماء العذب أُخرج عبر عيون وأنهار جُعلت فيها خصيصًا لهذا الغرض.
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا بَنُونَ مِثْلُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( إذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ …
Ibn Abbas said:“Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Prophet. So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Messenger of Allah, informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا …
Another version of this tradition transmitted through a different chain of narrators by Ibn ‘Abbas says:“He took my head or the hair of my head and made me stand on his right side”
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا۔
Narrated Ibn `Abbas:(as regards the explanation of Hadith 454). 'Indeed, it (Hell) throws about sparks (huge) as Forts.' We used to collect wood in the form of logs, three cubits long or shorter. for heating purposes in winter., and we used to call such wood, the Qasr
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
Narrated Ibn 'Abbas: (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
PickthallDepart unto the shadow falling threefold,
Yusuf Ali"Depart ye to a Shadow (of smoke ascending) in three columns,
The agreed readingGo off to a shadow of three columns — the smoke of the Fire, the commentaries agree, which parts into three as it rises for its sheer size.
Urduچل پڑو تین شاخوں والے سائے کی طرف - مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ جہنم کا دھواں ہے، جو اپنے سراسر حجم کی وجہ سے اٹھتے ہوئے تین حصوں میں بٹ جاتا ہے۔
Arabicانطلقوا سائرين إلى ظل ذي ثلاث شعب متفرقة عظيمة - يتفق المفسرون على أنه دخان جهنم الكثيف، يتفرع إلى ثلاثة أقسام وهو يرتفع لعظم حجمه وضخامته الهائلة التي لا تُوصف.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا بَنُونَ مِثْلُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( إذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ …
Ibn Abbas said:“Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Prophet. So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Messenger of Allah, informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا …
Another version of this tradition transmitted through a different chain of narrators by Ibn ‘Abbas says:“He took my head or the hair of my head and made me stand on his right side”
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا۔
Narrated Ibn `Abbas:(as regards the explanation of Hadith 454). 'Indeed, it (Hell) throws about sparks (huge) as Forts.' We used to collect wood in the form of logs, three cubits long or shorter. for heating purposes in winter., and we used to call such wood, the Qasr
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
Narrated Ibn 'Abbas: (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
Pickthall(Which yet is) no relief nor shelter from the flame.
Yusuf Ali"(Which yields) no shade of coolness, and is of no use against the fierce Blaze.
The agreed readingno shade at all, and no use against the flame. The commentaries mark the irony: it is called a shadow and gives none of what a shadow gives.
Urduنہ کوئی سایہ ہے اور نہ ہی شعلے کے خلاف کوئی کام آتا ہے۔ مفسرین اس ستم ظریفی کو نشان زد کرتے ہیں: اسے سایہ کہا جاتا ہے مگر یہ سائے کی کوئی بھی خوبی نہیں رکھتا۔
Arabicلا ظليل يحمي من الحر، ولا يغني شيئًا من اللهب المتقد. ويشير المفسرون إلى المفارقة هنا: يُسمى ظلًا ومع ذلك لا يمنح شيئًا مما يمنحه الظل الحقيقي.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا بَنُونَ مِثْلُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( إذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ …
Ibn Abbas said:“Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Prophet. So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Messenger of Allah, informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا …
Another version of this tradition transmitted through a different chain of narrators by Ibn ‘Abbas says:“He took my head or the hair of my head and made me stand on his right side”
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا۔
Narrated Ibn `Abbas:(as regards the explanation of Hadith 454). 'Indeed, it (Hell) throws about sparks (huge) as Forts.' We used to collect wood in the form of logs, three cubits long or shorter. for heating purposes in winter., and we used to call such wood, the Qasr
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
Narrated Ibn 'Abbas: (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
PickthallLo! it throweth up sparks like the castles,
Yusuf Ali"Indeed it throws about sparks (huge) as Forts,
The agreed readingIt throws up sparks like a fortress — sparks that size, the commentaries gloss, in their bulk and in their height.
Urduوہ ایسے شرارے اڑاتی ہے جیسے قلعے - مفسرین اس کی تشریح ایسے شراروں سے کرتے ہیں جو اپنی جسامت اور بلندی میں اسی سائز کے ہوں۔
Arabicإنها ترمي بشرر عظيم مرعب كالقصر الضخم المرتفع - يفسّر المفسرون هذا بشرر ضخم بذلك الحجم بالضبط، في ضخامته وفي ارتفاعه معًا دون أي مبالغة في هذا الوصف.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا بَنُونَ مِثْلُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( إذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ …
Ibn Abbas said:“Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Prophet. So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Messenger of Allah, informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا …
Another version of this tradition transmitted through a different chain of narrators by Ibn ‘Abbas says:“He took my head or the hair of my head and made me stand on his right side”
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا۔
Narrated Ibn `Abbas:(as regards the explanation of Hadith 454). 'Indeed, it (Hell) throws about sparks (huge) as Forts.' We used to collect wood in the form of logs, three cubits long or shorter. for heating purposes in winter., and we used to call such wood, the Qasr
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
Narrated Ibn 'Abbas: (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا بَنُونَ مِثْلُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( إذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ …
Ibn Abbas said:“Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Prophet. So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Messenger of Allah, informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا …
Another version of this tradition transmitted through a different chain of narrators by Ibn ‘Abbas says:“He took my head or the hair of my head and made me stand on his right side”
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا۔
Narrated Ibn `Abbas:(as regards the explanation of Hadith 454). 'Indeed, it (Hell) throws about sparks (huge) as Forts.' We used to collect wood in the form of logs, three cubits long or shorter. for heating purposes in winter., and we used to call such wood, the Qasr
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
Narrated Ibn 'Abbas: (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا بَنُونَ مِثْلُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( إذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ …
Ibn Abbas said:“Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Prophet. So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Messenger of Allah, informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا …
Another version of this tradition transmitted through a different chain of narrators by Ibn ‘Abbas says:“He took my head or the hair of my head and made me stand on his right side”
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا۔
Narrated Ibn `Abbas:(as regards the explanation of Hadith 454). 'Indeed, it (Hell) throws about sparks (huge) as Forts.' We used to collect wood in the form of logs, three cubits long or shorter. for heating purposes in winter., and we used to call such wood, the Qasr
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
Narrated Ibn 'Abbas: (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
Yusuf AliThat will be a Day when they shall not be able to speak.
The agreed readingThis is a Day on which they do not speak — struck dumb, the commentaries gloss, by the sheer bewilderment of it.
Urduیہ وہ ہولناک دن ہے جس میں وہ کوئی بات بھی نہیں کر سکیں گے - مفسرین اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ وہ اسی حیرانی اور دہشت کی شدت سے بالکل گونگے ہو جائیں گے۔
Arabicهذا يوم عظيم هائل لا ينطقون فيه بشيء على الإطلاق - يفسّر المفسرون هذا بأنهم يُصابون بالخرس التام من شدة الحيرة والذهول العظيم الذي يعتريهم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Ibn `Abbas:(as regards the explanation of Hadith 454). 'Indeed, it (Hell) throws about sparks (huge) as Forts.' We used to collect wood in the form of logs, three cubits long or shorter. for heating purposes in winter., and we used to call such wood, the Qasr
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
Narrated Ibn 'Abbas: (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
PickthallNor are they suffered to put forth excuses.
Yusuf AliNor will it be open to them to put forth pleas.
The agreed readingand they are not permitted to, so as to make excuses. The commentaries agree the silence is of the mouth stopped by terror, and that no excuse is invited because none exists.
Urduاور نہ ہی انہیں اجازت دی جائے گی تاکہ وہ عذر پیش کریں۔ مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ خاموشی خوف سے بند ہو جانے والے منہ کی خاموشی ہے، اور عذر اس لیے نہیں مانگا جاتا کیونکہ کوئی عذر موجود ہی نہیں۔
Arabicولا يُؤذن لهم فيعتذروا عما فعلوا. يتفق المفسرون على أن هذا الصمت هو صمت الفم المغلق من شدة الرعب، وأن العذر لا يُطلب منهم لأنه غير موجود أصلًا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Ibn `Abbas:(as regards the explanation of Hadith 454). 'Indeed, it (Hell) throws about sparks (huge) as Forts.' We used to collect wood in the form of logs, three cubits long or shorter. for heating purposes in winter., and we used to call such wood, the Qasr
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
Narrated Ibn 'Abbas: (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
Narrated Ibn `Abbas:(as regards the explanation of Hadith 454). 'Indeed, it (Hell) throws about sparks (huge) as Forts.' We used to collect wood in the form of logs, three cubits long or shorter. for heating purposes in winter., and we used to call such wood, the Qasr
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
Narrated Ibn 'Abbas: (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
PickthallThis is the Day of Decision, We have brought you and the men of old together.
Yusuf AliThat will be a Day of Sorting out! We shall gather you together and those before (you)!
The agreed readingThis is the Day of Decision; We have gathered you and the earlier ones. The commentaries agree the gathering is of all the deniers together, this people with those before them.
Urduیہ فیصلے کا دن ہے؛ ہم نے تمہیں اور پہلوں کو جمع کر دیا ہے۔ مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ جمع کرنا تمام جھٹلانے والوں کا ہے، یہ لوگ ان سے پہلے والوں کے ساتھ۔
Arabicهذا يوم الفصل الذي تُفصل فيه الأمور؛ جمعناكم أنتم والأولين معًا في مكان واحد. يتفق المفسرون على أن هذا الجمع هو جمع المكذبين كلهم معًا، هؤلاء مع من سبقهم من قبل.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Ibn `Abbas:(as regards the explanation of Hadith 454). 'Indeed, it (Hell) throws about sparks (huge) as Forts.' We used to collect wood in the form of logs, three cubits long or shorter. for heating purposes in winter., and we used to call such wood, the Qasr
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
Narrated Ibn 'Abbas: (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
Yusuf AliNow, if ye have a trick (or plot), use it against Me!
The agreed readingSo if you have a scheme, then scheme against Me. The commentaries take it as showing them their helplessness, after all their scheming in the world.
Urduسو اگر تمہارے پاس کوئی چال ہے تو میرے خلاف چال چل کر دکھاؤ۔ مفسرین اسے ان کی بے بسی دکھانے کے طور پر سمجھتے ہیں، دنیا میں ان کی ساری چالبازی کے بعد۔
Arabicفإن كان لكم كيد قوي تكيدونه بي فكيدون إذن الآن. يأخذ المفسرون هذا إظهارًا لعجزهم التام الكامل، بعد كل ما دبروه من مكر وكيد في الحياة الدنيا السابقة.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Ibn `Abbas:(as regards the explanation of Hadith 454). 'Indeed, it (Hell) throws about sparks (huge) as Forts.' We used to collect wood in the form of logs, three cubits long or shorter. for heating purposes in winter., and we used to call such wood, the Qasr
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
Narrated Ibn 'Abbas: (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
Yusuf AliAh woe, that Day, to the Rejecters of Truth!
The agreed readingWoe that Day to the deniers — falling here on a challenge they cannot take up, having schemed freely in the life before it.
Urduاس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے - یہ یہاں ایک ایسے چیلنج پر آتا ہے جسے وہ قبول نہیں کر سکتے، جبکہ اس سے پہلے کی زندگی میں وہ آزادی سے چالیں چلتے رہے۔
Arabicويل يومئذ للمكذبين مرة أخرى هنا في هذا الموضع - يقع هذا على تحدٍ صريح لا يستطيعون مواجهته أبدًا، بعد أن مكروا بحرية تامة في الحياة السابقة قبله.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Ibn `Abbas:(as regards the explanation of Hadith 454). 'Indeed, it (Hell) throws about sparks (huge) as Forts.' We used to collect wood in the form of logs, three cubits long or shorter. for heating purposes in winter., and we used to call such wood, the Qasr
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
Narrated Ibn 'Abbas: (regarding) the explanation of "... It throws sparks as Al-Qasr ..." (V. 77:32): We used to collect logs of wood, three cubits long or longer, to store for heating purposes in winter, and we used to call it Al- Qasr, it also means a castle or a fort. "As if they were Jimalatun Sufr (yellow camels or bundles of ropes)" (V.77:33): means the ropes of a ship which are made in bundles till it become as wide as men's waists
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔
PickthallLo! those who kept their duty are amid shade and fountains,
Yusuf AliAs to the Righteous, they shall be amidst (cool) shades and springs (of water).
The agreed readingThose who guarded themselves are amid shade and springs — shade, the commentaries note, of thick trees, where there is no sun to need shade from.
Urduپرہیزگار سایوں اور چشموں کے درمیان ہوں گے - مفسرین نوٹ کرتے ہیں کہ یہ سایہ گھنے درختوں کا ہے، جہاں کوئی سورج ہی نہیں کہ اس سے سائے کی ضرورت ہو۔
Arabicإن المتقين الذين اتقوا الله في ظلال وارفة وعيون جارية - يلاحظ المفسرون أن هذا الظل ظل أشجار كثيفة، حيث لا شمس هناك أصلًا يُحتاج فيها إلى ظل يقي منها.
Yusuf AliAnd (they shall have) fruits,- all they desire.
The agreed readingand fruits of whatever they desire. The commentaries note the difference from this world: there, what a man finds; here, what he wants.
Urduاور ہر اس پھل کے درمیان جو وہ چاہیں۔ مفسرین اس دنیا سے فرق نوٹ کرتے ہیں: وہاں انسان کو وہی ملتا ہے جو مل جائے، یہاں اسے وہی ملتا ہے جو وہ چاہے۔
Arabicوفواكه متنوعة مما يشتهون ويرغبون فيه بلا حد. ويلاحظ المفسرون الفرق عن هذه الدنيا: هناك يجد المرء ما يجده فحسب، أما هنا فيحصل على ما يريده ويتمناه بالضبط.
Pickthall(Unto them it is said:) Eat, drink and welcome, O ye blessed, in return for what ye did.
Yusuf Ali"Eat ye and drink ye to your heart's content: for that ye worked (Righteousness).
The agreed readingEat and drink with relish, for what you used to do — for the obedience, the commentaries agree, and it is named as the reason.
Urduکھاؤ اور پیو خوش گواری کے ساتھ، اس چیز کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے - مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اطاعت کے بدلے میں ہے، اور اسے بطور وجہ نام لیا گیا ہے۔
Arabicكلوا واشربوا هنيئًا مريئًا سائغًا، بما كنتم تعملونه من الطاعات الصالحة - يتفق المفسرون على أن هذا مقابل الطاعة تحديدًا، وقد سُمّيت هذه الطاعة سببًا مباشرًا لهذا النعيم.
Yusuf AliThus do We certainly reward the Doers of Good.
The agreed readingThat is how We reward those who do well — the same wording as the warning that preceded it, turned the other way.
Urduہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں - وہی الفاظ جو اس سے پہلے آنے والی تنبیہ میں تھے، مگر دوسری طرف موڑ دیے گئے۔
Arabicإنا كذلك بالضبط نجزي المحسنين الذين أحسنوا في أعمالهم كلها - نفس الصياغة اللفظية التي وردت في الإنذار الذي سبقها، ولكنها هنا معكوسة إلى الجهة الأخرى تمامًا بلا تغيير.
PickthallEat and take your ease (on earth) a little. Lo! ye are guilty.
Yusuf Ali(O ye unjust!) Eat ye and enjoy yourselves (but) a little while, for that ye are Sinners.
The agreed readingEat and enjoy yourselves a little; you are guilty. The commentaries read the permission as a threat: a little means until death, and no further.
Urduکھاؤ اور تھوڑا سا لطف اٹھا لو؛ تم مجرم ہو۔ مفسرین اس اجازت کو ایک دھمکی کے طور پر پڑھتے ہیں: تھوڑے سے مراد موت تک ہے، اس سے آگے کچھ نہیں۔
Arabicكلوا وتمتعوا قليلًا في هذه الدنيا؛ إنكم مجرمون مذنبون. يقرأ المفسرون هذا الإذن تهديدًا لا عرضًا كريمًا: القليل هنا يعني إلى الموت فقط، ولا شيء بعده.
PickthallWhen it is said unto them: Bow down, they bow not down!
Yusuf AliAnd when it is said to them, "Prostrate yourselves!" they do not so.
The agreed readingAnd when it is said to them: bow — they do not bow. The commentaries agree the bowing meant is the prayer, refused when they were called to it.
Urduاور جب ان سے کہا جاتا ہے: جھکو - وہ نہیں جھکتے۔ مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہاں جھکنے سے مراد نماز ہے، جسے انہوں نے اس کی طرف بلائے جانے پر رد کر دیا۔
Arabicوإذا قيل لهم اركعوا لله للصلاة لا يركعون أبدًا ولا يستجيبون لهذا النداء. يتفق المفسرون على أن الركوع المقصود هنا هو الصلاة نفسها، رفضوها حين دُعوا إليها صراحة ووضوح.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب الشيعة3 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام شیعہ کتب سے
92. Ali Bin Ibrahim, from his father, from Al-Hassan Bin Mahboub, from Muhammad Bin Al-Fuzeyl, from Abu Hamza, who has said: Abu Ja’far (asws) having said that: ‘Allah (azwj) Blessed and High Covenanted to Adam (as) that he (as) would not go near the tree. When the time came which was in the Knowledge of Allah (azwj), he (as) ate from it. He (as) ate from it in forgetfulness and it is the Statement of Allah (azwj): “[20:115] And certainly We gave a commandment to Adam before, but he forgot; and We did not find in him any determination”. So when Adam (as) ate from the tree, he (as) came to the earth. There were born to him (as) Habeel (as) and his (as) sister as twins, and there were born to …
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی، وہ حسن بن محبوب سے، وہ محمد بن فضیل سے، وہ ابو حمزہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابو جعفر علیہ السلام نے کہا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے عہد لیا کہ اس درخت کے قریب نہ جائیں۔ پھر جب وہ وقت آیا جو اللہ کے علم میں تھا کہ آدم اس سے کھائیں تو آدم بھول گیا اور کھا لیا۔ اور یہ اللہ عز و جل کا قول ہے: اور بے شک ہم نے آدم سے پہلے عہد لیا تھا، پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا۔ پھر جب آدم علیہ السلام نے درخت سے کھایا تو وہ زمین پر اتار دیے گئے۔ اور اس کے لیے ہابیل اور اس کی بہن جڑواں پیدا ہوئے۔ اور قابیل اور اس کی بہن جڑواں پیدا ہوئے۔ پھر آدم علیہ السلام نے ہابیل اور قابیل کو حکم دیا کہ وہ قربانی پیش کریں۔ ہابیل بھیڑ بکری کا مالک تھا اور …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from al-Husayn ibn Sa‘id from certain persons of our people from Sama‘ah from abu Basir who has said the following: “Abu ’Abd Allah (a.s.), has said, ‘Qunut (supplication after recitation) on Friday is in the first Rak‘at after recitation in which you can read, “No one deserves to be worshipped besides Allah, the Forbearing, the Honorable. No one deserves to be worshipped besides Allah, most High, most Great. No one deserves to be worshipped besides Allah who is the Lord of seven heavens, the seven earths, all that is in them and between them and the Lord of the great throne. All praise belongs to Allah, Cherisher of the worlds. O …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، الحسین بن سعید سے، بعض اصحاب سے، سمئہ سے، ابو بصیر سے، ابو عبد الله علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: القنوت جمعہ کے دن کی قنوت ہے پہلی رکعت میں قرآن کے بعد۔ تم قنوت میں یہ کہو: لا الہ الا الله الحلیم الکریم۔ لا الہ الا الله العلی العظیم۔ لا الہ الا الله رب السموات السبع ورب الارضین السبع وما فیہن وما بینہن ورب العرش العظیم۔ والحمد لله رب العالمین۔ اے الله! محمد پر درود بھیج جیسے تو نے ہمیں ان کے ذریعے ہدایت دی۔ اے الله! محمد پر درود بھیج جیسے تو نے ہمیں ان کے ذریعے عزت دی۔ اے الله! ہمیں ان میں سے بنا جن کو تو نے اپنے دین کے لیے منتخب کیا ہے اور اپنی جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اے الله! ہماری دلوں کو اس کے بعد ٹیڑھا مت کر کہ تو نے ہمیں ہدایت دے دی ہے، اور …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
3. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from Ali ibn al-Hakam from Sayf ibn ‘Amirah from abu Bakr al- Hadramiy who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘I once went out (for al-Hajj) with my family walking and did not assume the state of Ihram until al-Juhfah. I had complaints (due to difficulties). People of al-Madinah kept questioning me saying, ‘We met him with his (regular) clothes on him.’ They know that the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, has given permission to those who suffer from an illness or are weak to assume the state of Ihram at al-Juhfah.’”
عدہ سے ہم نے احمد بن محمد سے، علی بن الحكم سے، سيف بن عميرہ سے، ابو بكر الحضرمی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ابو عبد الله علیہ السلام نے کہا: بیشک میں اپنے اہل کے ساتھ مشیا ہوا نکلا تو الجحفہ تک احرام نہ باندھا۔ اور میں شاکی تھا۔ تو مدینہ کے اہل مجھ سے سوال کرنے لگے، کہتے ہیں: ہم نے اسے ملا اور اس پر اس کے کپڑے تھے، اور وہ نہیں جانتے۔ اور رسول الله صلی الله علیہ وآلہ نے اس شخص کو رخصت دی جو بيمار ہو یا کمزور ہو کہ الجحفہ سے احرام باندھے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Yusuf AliAh woe, that Day, to the Rejecters of Truth!
The agreed readingWoe that Day to the deniers — the last fall of the refrain, and it lands on a refusal to worship at all.
Urduاس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے - یہ اس بار بار آنے والے جملے کا آخری موقع ہے، اور یہ عبادت کے مکمل انکار پر آتا ہے۔
Arabicويل يومئذ للمكذبين مرة أخرى، وهذه هي المرة الأخيرة التي يتكرر فيها هذا اللازم في السورة كلها - يقع هنا على رفضهم التام الكامل للعبادة من أساسها بلا استثناء.
PickthallIn what statement, after this, will they believe?
Yusuf AliThen what Message, after that, will they believe in?
The agreed readingSo in what discourse after this will they believe? The commentaries close the sūrah with the question: if this is refused, nothing else is left to be offered.
Urduتو اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے؟ مفسرین سورت کو اسی سوال پر ختم کرتے ہیں: اگر اسی کو رد کر دیا گیا تو پیش کرنے کے لیے کچھ اور باقی نہیں بچتا۔
Arabicفبأي حديث بعده وبعد هذا القرآن يؤمنون؟ يختم المفسرون السورة بهذا السؤال الأخير: إذا رُفض هذا الكلام نفسه فلم يبق شيء آخر يُعرض عليهم بعده.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الواحد الأحد الذي لا شريك له، الفرد الصمد الذي لا شبيه له، الأول القديم الذي لا غاية له، الآخر الباقي الذي لا نهاية له، الموجود الثابت الذي لا عدم له، الملك الدائم الذي لا زوال له، القادر الذي لا يعجزه شئ، العليم الذي لا يخفى عليه شئ، الحي لا بحياة، الكائن لا في مكان، السميع البصير الذي لا آلة له ولا أداة، الذي أمر بالعدل، وأخذ بالفضل، وحكم بالفصل، لا معقب لحكمه، ولا راد لقضائه، ولا غالب لإرادته، ولا قاهر لمشيته، وإنما أمره إذا أراد شيئا أن يقول له كن فيكون، فسبحان الذي بيده ملكوت كل شئ، وإليه المرجع والمصير. وأشهد أن لا إله إلا الله رب العالمين، وأشهد أن محمد عبده ورسوله سيد النبيين وخير خلقه أجمعين، وأشهد أن علي بن أبي طالب سيد الوصيين وإمام المتقين و قائد …
All praise be to Allah, the One and Only, who does not have a partner; the Peerless, the Needless, who has no like; the First, the Ever-Existent, who has no limit; the Last and the Everlasting who has no end; the Existing, the Constant, who has no non-existence; the Eternal King, who does not decline; the Power who is not weakened; the All-Knowing from who nothing can be hidden; the Alive but not with life; the One who Exists, but who is not confined to place; the All-Hearing and the All-Seeing, who has no ears and eyes; the One who ordered with justice, punished with favour, and commanded with bounty, but not to trap people under His Command. There is no rejecter to His Judgement, no …
بسم الله الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ کے لیے جو ایک و یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، یکتا و لاشریک جس کی کوئی ہمسری نہیں، سب سے پہلے اور قدیم جس کی کوئی انتہا نہیں، آخری اور ہمیشہ رہنے والا جس کا کوئی خاتمہ نہیں، موجود اور قائم جس کا کوئی عدم نہیں، ہمیشہ باقی بادشاہ جس کا کوئی زوال نہیں، قدرتوار جس سے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، علم والا جس سے کوئی چیز مخفی نہیں، زندہ بغیر جیون کے، موجود بغیر مکان کے، سننے والا دیکھنے والا جس کے پاس کوئی آلہ یا اوزار نہیں۔ جس نے عدل کا حکم دیا، فضل کے ساتھ سلوک کیا، حکمت سے فیصلہ کیا۔ اس کے فیصلے کو کوئی واپس نہیں کر سکتا، اس کے حکم کو کوئی بدل نہیں سکتا، اس کی مرضی کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، اس کے ارادے کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اور تو اس کا امر صرف یہ ہے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا