Yusuf AliSad: By the Qur'an, Full of Admonition: (This is the Truth).
The agreed readingSad. A single Arabic letter of the kind that opens certain surahs, recited as a letter; its certain meaning is left with God. And an oath by the Qur'an, which carries the Reminder.
Urduصٓ ایک حرف مقطعہ ہے، جسے حرف کی طرح پڑھا جاتا ہے، اور اس کا اصل مطلب اللہ ہی جانتا ہے۔ اور یہ اس قرآن کی قسم ہے جو نصیحت والا ہے، جو لوگوں کو ان کے دین اور دنیا کے فائدے کی یاد دہانی کراتا ہے۔
Arabicصٓ حرف من الحروف المقطّعة، يُتلى كما هو، وعلمه الحقيقي عند اللَّهِ وحده. وأقسم اللَّهُ بِالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ، الذي يحمل تذكير الناس بما ينفعهم في دينهم ودنياهم.
PickthallNay, but those who disbelieve are in false pride and schism.
Yusuf AliBut the Unbelievers (are steeped) in self-glory and Separatism.
The agreed readingRather, those who refuse are wrapped in self-importance and set against the Prophet in open opposition.
Urduبلکہ جن لوگوں نے انکار کیا وہ سراسر تکبر اور خودپسندی میں لپٹے ہوئے ہیں اور نبی کے مقابلے میں کھلی مخالفت اور ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔
Arabicبَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا هم في الحقيقة فِي عِزَّةٍ شديدة وتكبر عظيم يتعالون بهما عن قبول الحق الواضح، وَفِي شِقَاقٍ ومخالفة عظيمة شديدة يخالفون بها النبي محمداً مخالفة ظاهرة معلنة لا يخفونها عن أحد أبداً.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:"Sulaiman bin Dawud said: 'Tonight I will go around ninety women, each of whom will bear a horseman who will perform Jihad in the cause of Allah.' His companion said to him: 'If Allah wills.' But he did not say: 'If Allah wills.' Then he went around to them all, but none of them got pregnant except a woman who bore half a man. By the One in Whose Hand is my soul! If he had said, 'If Allah wills,' they would all have performed Jihad in the cause of Allah as horsemen
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے ( قسم کھا کر ) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ۱؎۔
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ ـ أَوْ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ ـ كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَلَمْ يَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ ".
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (ﷺ) said, "Once Solomon, son of David said, '(By Allah) Tonight I will have sexual intercourse with one hundred (or ninety-nine) women each of whom will give birth to a knight who will fight in Allah's Cause.' On that, a companion (angel) said to him, "(Say) Allah willing", but he did not say, "Allah willing." Therefore only one of those women conceived and gave birth to a half-man. By Him in Whose Hands Muhammad's life is, if he had said, "Allah willing', (he would have begotten sons) all of whom would have been knights striving in Allah's Cause
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن ہرمز نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے فرمایا آج رات اپنی سو یا ( راوی کو شک تھا ) ننانوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک ایک شہسوار جنے گی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ بھی کہہ لیجئے لیکن انہوں نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئیں اور ان کے بھی آدھا بچہ پیدا ہوا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر سلیمان علیہ السلام اس وقت ان شاءاللہ کہہ لیتے تو ( تمام بیویاں حاملہ ہوتیں اور ) سب کے یہاں ایسے شہسوار بچے پیدا …
PickthallHow many a generation We destroyed before them, and they cried out when it was no longer the time for escape!
Yusuf AliHow many generations before them did We destroy? In the end they cried (for mercy)- when there was no longer time for being saved!
The agreed readingHow many a generation God destroyed before them - and they cried out when the punishment fell, but it was no longer a time of escape.
Urduاللہ نے ان سے پہلے کتنی ہی نسلیں ہلاک کیں، اور وہ چیخ اٹھے جب عذاب آیا، مگر اس وقت بچ نکلنے کا کوئی موقع باقی نہیں رہا تھا۔
Arabicكَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ من القرون المكذبة، فَنَادَوا مستغيثين حِينَ نزل عليهم العذاب، وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ، فلم يكن ذلك وقتاً للخلاص من العذاب أبداً.
PickthallAnd they marvel that a warner from among themselves hath come unto them, and the disbelievers say: This is a wizard, a charlatan.
Yusuf AliSo they wonder that a Warner has come to them from among themselves! and the Unbelievers say, "This is a sorcerer telling lies!
The agreed readingThey found it strange that a warner should come to them from among themselves, and those who refuse said: this is a sorcerer, a liar.
Urduانہیں یہ عجیب لگا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آیا ہے، اور انکار کرنے والوں نے کہا: یہ جادوگر ہے، جھوٹا ہے۔
Arabicوَعَجِبُوا تعجباً شديداً كبيراً أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ يخوفهم مِنْهُمْ من جنسهم وقومهم الذين يعرفونه، لا من غيرهم من الأمم الأخرى، وَقَالَ الكافرون منهم مستنكرين ذلك: هَذَا سَاحِرٌ كذابٌ فيما يدعيه من الرسالة والنبوة.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Baghawī، al-Zamakhsharī، al-Qurṭubī في هذه الآية
Cited by al-Baghawī, al-Zamakhsharī and al-Qurṭubī on this āyah
al-Baghawī، al-Zamakhsharī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Ibn 'Abbas:"Abu Talib fell ill, so the Quraish went to see him, and the Prophet (ﷺ) went to see him. There was a gathering there with Abu Talib, so Abu Jahl stood up enraged, to prevent him (the Prophet (ﷺ) from entering)." He said: "He complained to Abu Talib. So he (Abu Talib) said: 'O my nephew! What is it that you want from your people?' He said: 'I only want one word from them, for which, if they were to say it, then the Arabs will become their followers, and the non-Arabs will pay Jizyah to them.' He said: 'One word?' He replied: 'One word.' So he said: 'O uncle! Let them say La Ilaha Illallah' so they replied: 'One God? We have not heard (the like) of this in the religion of …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ابوطالب بیمار پڑے، تو قریش ان کے پاس آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آئے، ابوطالب کے پاس صرف ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل اٹھا کہ وہ آپ کو وہاں بیٹھنے سے روک دے، اور ان سب نے ابوطالب سے آپ کی شکایت کی، ابوطالب نے آپ سے کہا: بھتیجے! تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ نے فرمایا: ”میں ان سے صرف ایک ایسا کلمہ تسلیم کرانا چاہتا ہوں جسے یہ قبول کر لیں تو اس کلمہ کے ذریعہ پورا عرب مطیع و فرماں بردار ہو جائے گا اور عجم کے لوگ انہیں جزیہ ادا کریں گے، انہوں نے کہا: ایک ہی کلمہ؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک ہی کلمہ“، آپ نے فرمایا: ”چچا جان! آپ لوگ «لا إلہ الا اللہ» کہہ دیجئیے، انہوں نے کہا: ایک معبود کو تسلیم کر لیں؟ یہ بات تو ہم نے اگلے لوگوں …
PickthallMaketh he the gods One Allah? Lo! that is an astounding thing.
Yusuf Ali"Has he made the gods (all) into one Allah? Truly this is a wonderful thing!"
The agreed readingHas he made the gods one God? That, they said, is an astonishing thing - as though one God could not hold all creation.
Urduکیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا دیا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے، انہوں نے یہ اس طرح کہا گویا ایک معبود پوری مخلوق کو سنبھال ہی نہیں سکتا۔
Arabicأَجَعَلَ محمد صلى الله عليه وسلم الآلهة المتعددة الكثيرة التي نعبدها إِلَهًا وَاحِدًا فقط لا شريك له؟ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ عجيب حقاً لا يُصدَّق، قالوا ذلك كأن إلهاً واحداً عندهم لا يسع الخلق كله ولا يقدر عليه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Baghawī، al-Zamakhsharī، al-Qurṭubī في هذه الآية
Cited by al-Baghawī, al-Zamakhsharī and al-Qurṭubī on this āyah
al-Baghawī، al-Zamakhsharī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Ibn 'Abbas:"Abu Talib fell ill, so the Quraish went to see him, and the Prophet (ﷺ) went to see him. There was a gathering there with Abu Talib, so Abu Jahl stood up enraged, to prevent him (the Prophet (ﷺ) from entering)." He said: "He complained to Abu Talib. So he (Abu Talib) said: 'O my nephew! What is it that you want from your people?' He said: 'I only want one word from them, for which, if they were to say it, then the Arabs will become their followers, and the non-Arabs will pay Jizyah to them.' He said: 'One word?' He replied: 'One word.' So he said: 'O uncle! Let them say La Ilaha Illallah' so they replied: 'One God? We have not heard (the like) of this in the religion of …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ابوطالب بیمار پڑے، تو قریش ان کے پاس آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آئے، ابوطالب کے پاس صرف ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل اٹھا کہ وہ آپ کو وہاں بیٹھنے سے روک دے، اور ان سب نے ابوطالب سے آپ کی شکایت کی، ابوطالب نے آپ سے کہا: بھتیجے! تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ نے فرمایا: ”میں ان سے صرف ایک ایسا کلمہ تسلیم کرانا چاہتا ہوں جسے یہ قبول کر لیں تو اس کلمہ کے ذریعہ پورا عرب مطیع و فرماں بردار ہو جائے گا اور عجم کے لوگ انہیں جزیہ ادا کریں گے، انہوں نے کہا: ایک ہی کلمہ؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک ہی کلمہ“، آپ نے فرمایا: ”چچا جان! آپ لوگ «لا إلہ الا اللہ» کہہ دیجئیے، انہوں نے کہا: ایک معبود کو تسلیم کر لیں؟ یہ بات تو ہم نے اگلے لوگوں …
PickthallThe chiefs among them go about, exhorting: Go and be staunch to your gods! Lo! this is a thing designed.
Yusuf AliAnd the leader among them go away (impatiently), (saying), "Walk ye away, and remain constant to your gods! For this is truly a thing designed (against you)!
The agreed readingAnd the chiefs among them went off saying: walk away, and hold fast to your gods; this is something aimed at us.
Urduاور ان کے سردار یہ کہتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے: چلتے رہو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو، اس میں تو کوئی سازش ہے جو ہمارے خلاف چلی جا رہی ہے۔
Arabicوَانْطَلَقَ الملأ مِنْهُمْ وأشرافهم وسادتهم يقولون بصوت واحد لأتباعهم: امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ القديمة ولا تتركوها أبداً مهما حدث، إِنَّ هَذَا الدين الجديد لَشَيْءٌ يُرَادُ بنا، مؤامرة خفية تُحاك ضدنا وضد ديننا الموروث.
PickthallWe have not heard of this in later religion. This is naught but an invention.
Yusuf Ali"We never heard (the like) of this among the people of these latter days: this is nothing but a made-up tale!"
The agreed readingWe never heard of this in the later religion; this is nothing but something he has made up.
Urduہم نے یہ بات پہلے کبھی اپنے آباؤ اجداد کے پچھلے دین میں نہیں سنی۔ یہ تو بس اس شخص کی اپنی گھڑی ہوئی بات ہے، اور کچھ نہیں۔
Arabicمَا سَمِعْنَا بِهَذَا القول فِي الملة الآخرة، ملة آبائنا التي ورثناها عنهم جيلاً بعد جيل، إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ اختلقه هذا الرجل من عند نفسه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَمِّ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ " . فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم …
It is reported by Sa'id b. Musayyib who narrated it on the authority of his father (Musayyib b. Hazm) that when Abu Talib was about to die, the Messenger of Allah (ﷺ) came to him and found with him Abu Jahl ('Amr b. Hisham) and 'Abdullah b. Abi Umayya ibn al-Mughirah. The Messenger of Allah (ﷺ) said:My uncle, you just make a profession that there is no god but Allah, and I will bear testimony before Allah (of your being a believer), Abu Jahl and 'Abdullah b. Abi Umayya addressing him said: Abu Talib, would you abandon the religion of 'Abdul-Muttalib? The Messenger of Allah (ﷺ) constantly requested him (to accept his offer), and (on the other hand) was repeated the same statement (of Abu …
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے اپنے والد سے ورایت کی کہ جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لا ئے ۔ آپ نے ان کے پاس ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو موجود پایا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ چچا ! ایک کلمہ لا اله ا لله الله کہہ دیں ، میں اللہ کے ہاں آب کے حق میں اس کا گواہ بن جاؤں گا ۔ ‘ ‘ ابو جہل اور عبد اللہ بن امیہ نے کہا : ابو طالب! آپ عبدالمطلب کے دین کو چھوڑ دیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ مسلسل ان کویہی پیش کش کرتے رہے اور یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ابو طالب نے ان لوگوں سے آخری بات کرتے ہوئے کہا : ’’وہ عبدالمطلب کی ملت پر ( قائم ) ہیں ‘ ‘ اور لا ا له الا الله کہنے سے انکار کر دیا ۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! میں …
PickthallHath the reminder been unto him (alone) among us? Nay, but they are in doubt concerning My reminder; nay but they have not yet tasted My doom.
Yusuf Ali"What! has the Message been sent to him - (Of all persons) among us?"... but they are in doubt concerning My (Own) Message! Nay, they have not yet tasted My Punishment!
The agreed readingHas the Reminder been sent down on him out of all of us? No - they are in doubt about the Reminder; no - they have not yet tasted God's punishment.
Urduکیا ہم سب میں سے صرف اسی پر یہ ذکر نازل ہوا ہے؟ بلکہ وہ میرے ذکر کے بارے میں شک میں پڑے ہیں، بلکہ انہوں نے ابھی تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں۔
PickthallOr are theirs the treasures of the mercy of thy Lord, the Mighty, the Bestower?
Yusuf AliOr have they the treasures of the mercy of thy Lord,- the Exalted in Power, the Grantor of Bounties without measure?
The agreed readingOr do they hold the storehouses of your Lord's mercy - the Mighty, the Bestower - to hand out prophethood to whom they please?
Urduکیا ان کے پاس تمہارے رب کی رحمت کے وہ خزانے موجود ہیں، جو زبردست اور بہت عطا کرنے والا ہے، کہ وہ اپنی مرضی سے جسے چاہیں نبوت عطا کر دیں اور جسے چاہیں اس سے روک دیں؟
Arabicأَمْ عِنْدَهُمْ هم أنفسهم بذواتهم خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الغالب الوهاب الكريم الجواد، حتى يستطيعوا أن يمنحوا النبوة من شاؤوا من عباد الله، ويمنعوها عمن أرادوا منعه منها بمحض إرادتهم؟
PickthallOr is the kingdom of the heavens and the earth and all that is between them theirs? Then let them ascend by ropes!
Yusuf AliOr have they the dominion of the heavens and the earth and all between? If so, let them mount up with the ropes and means (to reach that end)!
The agreed readingOr is the dominion of the heavens and the earth and all between them theirs? Then let them climb up by every means and reach it.
Urduکیا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کی بادشاہی ان کی ہے؟ تو انہیں چاہیے کہ وہ ہر ذریعے سے چڑھ کر وہاں پہنچ جائیں۔
Arabicأَمْ لَهُمْ هم وحدهم دون غيرهم مُلْكُ السماوات العلى وَالْأَرْضِ الواسعة وَمَا بَيْنَهُمَا من مخلوقات؟ فَلْيَرْتَقُوا فِي الأسباب والطرق الموصلة إليها إن كانوا صادقين قادرين، وليصلوا إليها بأي وسيلة يملكونها ويقدرون عليها فعلاً.
PickthallA defeated host are (all) the factions that are there.
Yusuf AliBut there - will be put to flight even a host of confederates.
The agreed readingThere, in their denial of you, they are a paltry host, one more of the routed factions.
Urduیہ لوگ تو وہاں پر ایک بالکل بے حقیقت اور کمزور لشکر ہیں، تمہارے انکار کرنے میں شریک، اور پہلے سے شکست کھا چکے گروہوں میں سے بس ایک اور گروہ ہیں، جو عنقریب شکست کھائے گا۔
Arabicجُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الأحزاب، هؤلاء الذين كذبوك في تكذيبهم لك، جند ضعيف حقير سيُهزم لا محالة كما هُزم من كان قبله من أشباهه الغابرين.
PickthallThe folk of Noah before them denied (their messenger) and (so did the tribe of) A'ad, and Pharaoh firmly planted,
Yusuf AliBefore them (were many who) rejected messengers,- the people of Noah, and 'Ad, and Pharaoh, the Lord of Stakes,
The agreed readingBefore them the people of Noah denied their messenger, and Ad did, and Pharaoh of the stakes, whose cruelty the commentaries describe.
Urduان سے پہلے نوح علیہ السلام کی قوم نے اپنے رسول کو جھٹلایا، اور عاد نے، اور میخوں والے فرعون نے، جس کی سنگدلی کو تفسیریں بیان کرتی ہیں۔
Arabicكَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ رسلها من قبل هؤلاء المشركين قَوْمُ نُوحٍ عليه السلام أولاً، وَعَادٌ من بعدهم كذلك، وَفِرْعَوْنُ صاحب الأوتاد وَذُو القوة والسلطان، وقد وصفت التفاسير قسوته الشديدة بأنه كان يعذب الناس بتلك الأوتاد ويقتلهم بها.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
حدثنا مشايخنا - رضي الله عنهم - بأسانيد مرفوعة متصلة قد ذكرتها في كتاب علل الشرائع والاحكام والأسباب في أبواب متفرقة [و] رتبتها فيه: أن معنى آدم: أنه خلق من أديم الأرض - والأديم الأرض الرابعة - ومعنى حواء. أنها خلقت من حي وهو من آدم، ومعنى الانسان: أنه ينسى، ومعنى النساء إنهن أنس للرجال، ومعنى المرأة: أنها خلقت من المرء، ومعنى إدريس: أنه كان يكثر الدرس بحكم الله عز وجل وسنن الاسلام، ومعنى نوح: أنه كان ينوح على نفسه، وبكى خمس مائه عام، ونحى نفسه عما كان فيه قومه من الضلالة، ومعنى الطوفان في أيامه: أنه طفا الماء فوق كل شئ، ومعنى هود: أنه هدي إلى ما ضل عنه قومه، وبعث ليهديهم من ضلالتهم، ومعنى الريح العقيم التي أهلك الله عز وجل بها عادا: أنها تلقحت بالعذاب، وتعقمت عن الريح كتعقم الرجل إذا كان …
1. We were told by our teachers, may Allah be pleased with them, with attributed, connected, chains which I have mentioned in the book ‘Ilal-ush-Shara’I’ wal-Ahkam wal-Asbab in diffused chapters and which I have put in order, and it includes that the meaning of Adam is that he was created from the tanned soil, and the tanned is the Fourth Earth. The meaning of Hawwa’ is that she was created from a living, that is Adam. The meaning of a human being is that he forgets , and the meaning of women is that they are a company to men, and the meaning of a woman is that she was created from an individual . The meaning of Idrees is that he engaged in much teaching of the Law of Allah, Exalted and …
ہمیں ہمارے اساتذہ نے - اللہ ان سے راضی ہو - مسندوں کے ساتھ جو متصل اور منسوب ہیں، ہمیں بتایا۔ میں نے ان کو علل الشرائع والاحکام والأسباب کی کتاب میں مختلف ابواب میں ذکر کیا ہے اور انہیں ترتیب دی ہے: آدم کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ زمین کی چمڑی سے پیدا کیے گئے تھے - اور چمڑی چوتھی زمین ہے۔ حوّاء کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ جیتے سے پیدا کی گئیں اور وہ جیتا آدم سے ہے۔ انسان کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ بھول جاتے ہیں۔ نساء کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ مردوں کے لیے ساتھ ہیں۔ عورت کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ مرد سے پیدا کی گئی ہے۔ ادریس کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اللہ عزوجل کے حکم کے ساتھ بہت زیادہ درس اور تعلیم دیا کرتے تھے، اسلام کی سنتوں کے مطابق۔ نوح کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اپنے نفس پر نوحہ کیا کرتے تھے، اور پانچ سو سال رویا کرتے تھے، …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd (the tribe of) Thamud, and the folk of Lot, and the dwellers in the wood: these were the factions.
Yusuf AliAnd Thamud, and the people of Lut, and the Companions of the Wood; - such were the Confederates.
The agreed readingand Thamud, and the people of Lot, and the people of the thicket - the commentaries name them the people of Shuayb. Those were the factions.
Urduاور ثمود نے، اور لوط علیہ السلام کی قوم نے، اور اَیکہ والوں نے، جنہیں تفسیروں میں شعیب علیہ السلام کی قوم بتایا گیا ہے۔ یہ سب وہی گروہ تھے۔
Arabicوَثَمُودُ أيضاً كذّبت رسولها من بعد هؤلاء، وَقَوْمُ لُوطٍ عليه السلام كذلك كذبوا، وَأَصْحَابُ الأيكة وهي الغيضة الملتفة الأشجار، وقد سمّتهم التفاسير المفسرة قوم شعيب عليه السلام، أُولَئِكَ جميعاً هم الأحزاب الكافرة المكذبة لرسلها.
PickthallNot one of them but did deny the messengers, therefor My doom was justified,
Yusuf AliNot one (of them) but rejected the messengers, but My punishment came justly and inevitably (on them).
The agreed readingNot one of them but denied the messengers, since to deny one messenger is to deny them all - so God's punishment fell due.
Urduان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس نے رسولوں کو نہ جھٹلایا ہو، کیونکہ ایک رسول کا انکار سب کا انکار سمجھا جاتا ہے، سو اللہ کا عذاب ان پر ثابت ہو گیا۔
Arabicإِنْ كُلٌّ من تلك الأمم إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ جميعهم، فتكذيب رسول واحد يعد تكذيباً لهم كلهم أجمعين، فَحَقَّ عِقَابِ الشديد عليهم لا محالة ولا مفر منه.
PickthallThese wait for but one Shout, there will be no second thereto.
Yusuf AliThese (today) only wait for a single mighty Blast, which (when it comes) will brook no delay.
The agreed readingAnd these are waiting for nothing but a single cry, which will allow them no pause and no return.
Urduاور یہ لوگ صرف ایک ہی زوردار چنگھاڑ کا انتظار کر رہے ہیں، جس کے آنے کے بعد نہ کوئی مہلت ملے گی اور نہ کوئی واپسی کا موقع۔
Arabicوَمَا يَنْظُرُ هَؤُلَاءِ المكذبون المستهزئون إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً قوية شديدة مَا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ ولا انتظار، لا مهلة فيها للندم أو التوبة ولا رجعة أو استراحة تُتاح لهم بعدها أبداً مطلقاً على الإطلاق.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:Abu Jahl said, "O Allah! If this (Qur'an) is indeed the Truth from You, then rain down on us a shower of stones from the sky or bring on us a painful torment." So Allah revealed:-- "But Allah would not punish them while you were amongst them, nor He will punish them while they seek (Allah's) forgiveness..." (8.33) And why Allah should not punish them while they turn away (men) from Al- Masjid-al-Haram (the Sacred Mosque of Mecca)
مجھ سے احمد بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے صاحب الزیادی عبدالحمید نے جو کردید کے صاحبزادے تھے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ کلام تیری طرف سے واقعی حق ہے تو ہم پر آسمانوں سے پتھر برسا دے یا پھر کوئی اور ہی عذاب درد ناک لے آ!“ تو اس پر آیت «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون * وما لهم أن لا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام» ”حالانکہ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب دے، اس حال میں کہ آپ ان میں موجود ہوں اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ ان لوگوں کے لیے کیا وجہ کہ اللہ ان پر عذاب …
PickthallThey say: Our Lord! Hasten on for us our fate before the Day of Reckoning.
Yusuf AliThey say: "Our Lord! hasten to us our sentence (even) before the Day of Account!"
The agreed readingAnd they say, mocking: our Lord, hurry our share to us before the Day of Reckoning.
Urduاور وہ طنزاً اور تمسخر سے یہ بات کہتے ہیں: اے ہمارے رب، جو کچھ بھی ہمارے مقدر اور نصیب میں لکھا ہے وہ سب ہمیں حساب کے دن سے پہلے ہی جلدی سے دے دے۔
Arabicوَقَالُوا مستهزئين ساخرين متعجلين طالبين: رَبَّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطَّنَا ونصيبنا، أي نصيبنا الكامل من العذاب في هذه الدنيا العاجلة قبل الآخرة، قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ الآجل الموعود لنا ولغيرنا.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 4 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة6 reports cited here — 4 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
6. Ahmad ibn Muhammad al-Kufiy has narrated from ibn Jumhur from his father from Muhammad ibn Sinan from al-Mufaddal ibn ‘Umar who has said the following: “He has also said that al-Asamm has narrated to us from Hariz from Muhammad ibn Muslim from abu ‘Abd Allah (a.s.), who has said the following: ‘’Amir al-Mu’minin (a.s.), has said, “Instruct your families to speak good words when someone among you dies. When father of Fatimah, ‘Alayha al-Salam, died, daughters of children of Hashim supported her and she said to them, ‘Ignore eulogies but you must pray (to Allah).”””
احمد بن محمد الکوفی نے ابن جمہور سے، انہوں نے اپنے باپا سے روایت کی، انہوں نے محمد بن سنان سے، المفضل بن عمر سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے۔ اور الاصم نے حریز سے ہمیں خبر دی، انہوں نے محمد بن مسلم سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: اپنے اہل خانہ کو حکم دو کہ جب تمہارے میں سے کوئی فوت ہو تو اچھی بات کہیں، کیونکہ جب فاطمہ علیہا السلام کے باپا فوت ہوئے، تو بنو ہاشم کی بیٹیوں نے اسے تسلی دی تو انہوں نے کہا: ان عددوں اور گنتیوں کو چھوڑ دو، اور بجائے اس کے دعا پر عمل کرو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
88. (Imām) Abū Ja‘far Muḥammad ibn ‘Alī al-Bāqir, peace be upon him, has related from Amīr al-mu’minīn, peace be upon him, that he said: There are two sources of deliverance from the Allāh’s punishment, one of which has been raised up, while the other is before you. You should therefore adhere to it. The source of deliverance which has been raised up is the Messenger of Allāh (may He bless him and his descendants), while the source of deliverance that remains is the seeking of forgiveness. Allāh, the Glorified, has said: And Allāh is not to chastise them while you are among them, nor is Allāh to chastise them while yet they seek forgiveness. (Qur’ān, 8:33)
ابو جعفر محمد بن علی الباقر علیہ السلام نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا: زمین پر الله کے عذاب سے دو حفاظتیں تھیں، ان میں سے ایک تو اٹھا لی جا چکی ہے اور دوسری تمہارے سامنے ہے تو اسے مضبوطی سے پکڑے رہو۔ جو حفاظت اٹھا لی گئی ہے وہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ ہیں، اور جو حفاظت باقی رہی ہے وہ استغفار (مغفرت چاہنا) ہے۔ الله تعالیٰ نے فرمایا: اور
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Amr bin Aws narrated from Abdur-Rahman bin Abi Bakr:"The Prophet ordered Abdur-RAhman bin Abi Bakr to (accompany) Aishah to perform Umrah from At-Tan'im
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی الله عنہا کو تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As that:The Prophet [SAW] said: "Those who are just and fair will be with Allah, Most High, on thrones of light, at the right hand of the Most Merciful, those who are just in their rulings and in their dealings with their families and those of whom they are in charge." Muhammad (one of the narrators) said in his Hadith: "And both of His hands are right hands
ہمیں قتیبہ بن سعید نے خبر دی، کہا: سفیان نے ہمیں عمرو سے حدیث کی، اور ہمیں محمد بن آدم بن سلیمان نے خبر دی، ابن مبارک سے، سفیان بن عیینہ سے، عمرو بن دینار سے، عمرو بن اوس سے، عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: بیشک منصفانہ فیصلے کرنے والے اللہ تعالی کے ہاں نور کے منبروں پر رحمان کے داہنے جانب، جو اپنے فیصلوں اور اپنے اہل و عیال اور جو کوئی ان کے تحت ہو ان میں عدل کرتے ہوں۔ محمد نے اپنی حدیث میں کہا: اور اس کے دونوں ہاتھ داہنے ہاتھ ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Burdah bin Abi Musa:from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah sent down two guarantees of safety for the benefit of my Ummah: And Allah would not punish them while you are among them, nor will He punish them while they seek forgiveness (8:33). So when I pass, I leave seeking forgiveness among them until the Day of Resurrection
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لیے اللہ نے مجھ پر دو امان نازل فرمائے ہیں ( ایک ) «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم» ”تمہارے موجود رہتے ہوئے اللہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، ( دوسرا ) «وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون» ”دوسرے جب وہ توبہ و استغفار کرتے رہیں گے تو بھی ان پر اللہ عذاب نازل نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، اور جب میں ( اس دنیا سے ) چلا جاؤں گا تو ان کے لیے دوسرا امان استغفار قیامت تک چھوڑ جاؤں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے۔ ۲- اسماعیل بن مہاجر حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:With Allah the best fasting is that of David and the best prayer is that of David (peace be upon him) for he slept half of the night and stood for prayer for the third of it and (then) slept the sixth part of it and he observed fast one day and broke on the other
ہمیں سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن اوس سے اور انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے تھے اور اس کے ( آخری ) چھٹےحصے میں سوجاتے تھے ۔ اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اورایک دن افطارکرتے ( روزہ نہ رکھتے ) تھے ۔
PickthallBear with what they say, and remember Our bondman David, lord of might, Lo! he was ever turning in repentance (toward Allah).
Yusuf AliHave patience at what they say, and remember our servant David, the man of strength: for he ever turned (to Allah).
The agreed readingBear patiently what they say, and remember God's servant David, the man of strength - strength in worship, the commentaries say, for he was ever turning back to God.
Urduجو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر صبر کرو، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو، جو طاقت والے تھے، تفسیروں کے مطابق عبادت کی طاقت، کیونکہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔
Arabicاصْبِرْ يا محمد عَلَى مَا يَقُولُونَ من أذى، وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُدَ ذَا الأيد، صاحب القوة في العبادة كما فسّرت التفاسير، إِنَّهُ أَوَّابٌ كثير الرجوع إلى ربه بالتوبة.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:With Allah the best fasting is that of David and the best prayer is that of David (peace be upon him) for he slept half of the night and stood for prayer for the third of it and (then) slept the sixth part of it and he observed fast one day and broke on the other
ہمیں سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن اوس سے اور انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے تھے اور اس کے ( آخری ) چھٹےحصے میں سوجاتے تھے ۔ اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اورایک دن افطارکرتے ( روزہ نہ رکھتے ) تھے ۔
Amr bin Aws narrated from Abdur-Rahman bin Abi Bakr:"The Prophet ordered Abdur-RAhman bin Abi Bakr to (accompany) Aishah to perform Umrah from At-Tan'im
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی الله عنہا کو تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As that:The Prophet [SAW] said: "Those who are just and fair will be with Allah, Most High, on thrones of light, at the right hand of the Most Merciful, those who are just in their rulings and in their dealings with their families and those of whom they are in charge." Muhammad (one of the narrators) said in his Hadith: "And both of His hands are right hands
ہمیں قتیبہ بن سعید نے خبر دی، کہا: سفیان نے ہمیں عمرو سے حدیث کی، اور ہمیں محمد بن آدم بن سلیمان نے خبر دی، ابن مبارک سے، سفیان بن عیینہ سے، عمرو بن دینار سے، عمرو بن اوس سے، عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: بیشک منصفانہ فیصلے کرنے والے اللہ تعالی کے ہاں نور کے منبروں پر رحمان کے داہنے جانب، جو اپنے فیصلوں اور اپنے اہل و عیال اور جو کوئی ان کے تحت ہو ان میں عدل کرتے ہوں۔ محمد نے اپنی حدیث میں کہا: اور اس کے دونوں ہاتھ داہنے ہاتھ ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallLo! We subdued the hills to hymn the praises (of their Lord) with him at nightfall and sunrise,
Yusuf AliIt was We that made the hills declare, in unison with him, Our Praises, at eventide and at break of day,
The agreed readingGod made the mountains join him in glorifying God, at evening and at the rising of the sun.
Urduاللہ نے پہاڑوں کو داؤد علیہ السلام کے ساتھ خاص طور پر مسخر کر دیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ مل کر اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے، شام کے وقت بھی اور سورج نکلنے کے وقت بھی۔
Arabicإِنَّا سَخَّرْنَا لَهُ خصيصاً الْجِبَالَ الشامخة العظيمة الراسخة لتكون مَعَهُ يُسَبِّحْنَ رَبَّهُمَا وربه سبحانه بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ، عند غروب الشمس مساءً وعند شروقها صباحاً في كل يوم من أيامه.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:With Allah the best fasting is that of David and the best prayer is that of David (peace be upon him) for he slept half of the night and stood for prayer for the third of it and (then) slept the sixth part of it and he observed fast one day and broke on the other
ہمیں سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن اوس سے اور انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے تھے اور اس کے ( آخری ) چھٹےحصے میں سوجاتے تھے ۔ اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اورایک دن افطارکرتے ( روزہ نہ رکھتے ) تھے ۔
Anas bin Malik narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever prays twelve Rak'ah of Ad-Duha, Allah will build a castle made of gold for him in Paradise
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تعمیر فرمائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ام ہانی، ابوہریرہ، نعیم بن ہمار، ابوذر، عائشہ، ابوامامہ، عتبہ بن عبد سلمی، ابن ابی اوفی، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ صَلَّى الضُّحَى ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ فِي الْجَنَّةِ " .
It was narrated that Anas bin Malik said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Whoever prays Duha with twelve Rak’ah, Allah will build for him a palace of gold in Paradise.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے نماز الضحی ( چاشت کی نماز ) بارہ رکعت پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں سونے کا محل بنائے گا ۔
Abu Dharr reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:In the morning charity is due from every bone in the body of every one of you. Every utterance of Allah's glorification is an act of charity. Every utterance of praise of Him is an act of charity, every utterance of profession of His Oneness is an act of charity, every utterance of profession of His Greatness is an act of charity, enjoining good is an act of charity, forbidding what is distreputable is an act of charity, and two rak'ahs which one prays in the forenoon will suffice
حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " صبح کو تم میں سے ہر ایک شخص کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ ہوتا ہے ۔ پس ہر ایک تسبیح ( ایک دفعہ " سبحا ن الله " کہنا ) صدقہ ہے ۔ ہر ایک تمحید ( الحمد لله کہنا ) ) صدقہ ہے ، ہر ایک تہلیل ( لااله الا الله کہنا ) صدقہ ہے ہرہر ایک تکبیر ( الله اكبرکہنا ) بھی صدقہ ہے ۔ ( کسی کو ) نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور ( کسی کو ) برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے ۔ اور ان تمام امور کی جگہ دو رکعتیں جو انسان چاشت کے وقت پڑھتا ہے کفایت کرتی ہیں ۔
Narrated Abu Huraira:My friend (the Prophet) advised me to do three things and I shall not leave them till I die, these are: To fast three days every month, to offer the Duha prayer, and to offer witr before sleeping
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے عباس جریری نے جو فروخ کے بیٹے تھے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے میرے جانی دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ موت سے پہلے ان کو نہ چھوڑوں۔ ہر مہینہ میں تین دن روزے۔ چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا۔
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Every one of the children of Adam has been created with three hundred and sixty joints; so he who declares the Glory of Allah, praises Allah, declares Allah to be One, Glorifies Allah, and seeks forgiveness from Allah, and removes stone, or thorn, or bone from people's path, and enjoins what is good and forbids from evil, to the number of those three hundred and sixty joints, will walk that day having saved himself from the Fire. Abu Taubah said: "Perhaps he said: 'Will reach the evening
ابوتوبہ ر بیع بن نافع نے بیان کیا ، کہا : ہمیں معاویہ بن سلام نے زید سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے ابو سلام کو بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے مجھے عبداللہ بن فروخ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ مفاصل ( جوڑوں ) پر پیدا کیاگیا ہے تو جس نے تکبیر کہی ، اللہ کی حمد کہی ، اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا ، اللہ کی تسبیح کہی ، اللہ سے مغفرت مانگی ، لوگوں کے راستے سے کوئی پتھر ہٹایا لوگوں کے راستے سے کانٹا یا ہڈی ( ہٹائی ) ، نیکی کا حکم دیا یا برائی سے روکا ، ان تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد ے برابر تو وہ اس دن اس طرح چلے گا کہ وہ اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے دور کرچکا ہوگا …
PickthallAnd the birds assembled; all were turning unto Him.
Yusuf AliAnd the birds gathered (in assemblies): all with him did turn (to Allah).
The agreed readingAnd the birds too, gathered in to him and glorifying with him - every one of them ever turning back to God.
Urduاور اسی طرح پرندے بھی، وہ سب اس کے پاس اکٹھے ہو کر اس کے ساتھ مل کر تسبیح بیان کرتے تھے، اور ان میں سے ہر ایک ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔
Arabicوَالطَّيْرَ أيضاً مَحْشُورَةً مجموعة إليه من كل جانب وناحية، تجتمع عنده وتسبح مَعَهُ في وقت واحد متزامن، كُلٌّ منها لَهُ أَوَّابٌ كثير الرجوع إلى اللَّهِ معه دائماً بلا انقطاع.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:With Allah the best fasting is that of David and the best prayer is that of David (peace be upon him) for he slept half of the night and stood for prayer for the third of it and (then) slept the sixth part of it and he observed fast one day and broke on the other
ہمیں سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن اوس سے اور انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے تھے اور اس کے ( آخری ) چھٹےحصے میں سوجاتے تھے ۔ اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اورایک دن افطارکرتے ( روزہ نہ رکھتے ) تھے ۔
PickthallWe made his kingdom strong and gave him wisdom and decisive speech.
Yusuf AliWe strengthened his kingdom, and gave him wisdom and sound judgment in speech and decision.
The agreed readingAnd God made his kingdom strong, and gave him wisdom and the deciding word that settles a matter.
Urduاور اللہ نے ان کی بادشاہت کو ہر لحاظ سے خوب مضبوط اور مستحکم کیا، اور انہیں حکمت اور ایسی فیصلہ کن اور واضح بات عطا کی جو ہر معاملے کو حتمی طور پر طے کر دیتی ہے۔
Arabicوَشَدَدْنَا مُلْكَهُ تقوية عظيمة شديدة بما وهبناه له من الهيبة والقوة الكبيرة والنصر الدائم على أعدائه المتربصين، وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ العميقة وَفَصْلَ الْخِطَابِ الواضح، البيان الفاصل الذي يحسم به الأمور المختلفة بين الناس أجمعين.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:With Allah the best fasting is that of David and the best prayer is that of David (peace be upon him) for he slept half of the night and stood for prayer for the third of it and (then) slept the sixth part of it and he observed fast one day and broke on the other
ہمیں سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن اوس سے اور انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے تھے اور اس کے ( آخری ) چھٹےحصے میں سوجاتے تھے ۔ اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اورایک دن افطارکرتے ( روزہ نہ رکھتے ) تھے ۔
PickthallAnd hath the story of the litigants come unto thee? How they climbed the wall into the royal chamber;
Yusuf AliHas the Story of the Disputants reached thee? Behold, they climbed over the wall of the private chamber;
The agreed readingHas the story of the litigants reached you - when they climbed the wall into the private chamber?
Urduکیا آپ کے پاس ان دو جھگڑنے والوں کی خبر پہنچی ہے، جب وہ اچانک دیوار پھاند کر داؤد علیہ السلام کی خاص عبادت گاہ کے اندر داخل ہو گئے تھے؟
Arabicوَهَلْ أَتَاكَ يا محمد نَبَأُ الْخَصْمِ المتخاصمَيْن إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ، أي تسلقا جدار مكان عبادة داود عليه السلام ودخلا عليه بغتة من غير بابه المعتاد.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“I was with the Prophet (ﷺ), and a man came to him and said: ‘Last night while I was sleeping, I saw that I was praying towards the base of a tree. I recited (an Ayah of) prostration and prostrated, and the tree prostrated when I did, and I heard it saying: Allahummah-tut anni biha wizran, waktub li biha ajran, waj’al-ha li ‘indaka dhukhran (O Allah, reduce my burden of sin thereby, reward me for it and store it for me with You).’ Ibn ‘Abbas said: “I saw the Prophet (ﷺ) recite (an Ayah of) prostration and then prostrate, and I heard him saying in his prostration something like that which the man had told him the tree said.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اس دوران ایک شخص آیا ۱؎ اور اس نے عرض کیا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے جیسے سونے والا دیکھتا ہے، گویا میں ایک درخت کی جڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا «اللهم احطط عني بها وزرا واكتب لي بها أجرا واجعلها لي عندك ذخرا» اے اللہ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے گناہ ختم کر دے، اور میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس اجر کو میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے ۲؎۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو میں نے سنا آپ …
Al-Hasan bin Muhammad bin Ubaidullah bin Abi Yazid said:Ibn Juraij said to me: O Hasan! Ubaidullah bin Abi Yazid informed me that Ibn Abbas said: "A man came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah! I had a dream at night while I was sleeping in which I was praying behind a tree, when I prostrated the tree prostrated along with me. Then I heard it saying: (Allahummaktuh li biha indaka ajran, wad a anni biha wizran, waj'alha li biha indaka dhukhran, wa taqabbalha minni kama taqabbaltaha min abdiki Dawud.)" (O Allah! Record for me, a reward with You for it, remove a sin for me by it, and store it away for me with You, and accept it from me as You accepted it from Your worshipper …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات اپنے کو دیکھا اور میں سو رہا تھا ( یعنی خواب میں دیکھا ) کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو میرے سجدے کے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا، پھر میں نے اسے سنا، وہ کہہ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ”اے اللہ! اس کے بدلے تو میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس کے بدلے میرا بوجھ مجھ سے ہٹا دے، اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے، اور اسے مجھ سے تو اسی طرح قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داود سے قبول کیا تھا“۔ حسن بن محمد بن عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں: مجھ سے ابن …
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone dies when some fast due from him has been unfulfilled, his heir must fast on his behalf
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
Narrated 'Aishah: The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone dies when some fast is due from him (i.e. which he could not keep) his heir must fast on his behalf. Abu Dawud said: This applies to the fast which a man vows ; and this is the opinion of Ahmad b. Hanbal
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔
Narrated Sa'id al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) recited surah Sad on the pulpit. When he reached the place of prostration (in the surah), he descended and prostrated himself and the people prostrated with him. When the next day came, he recited it. When he reached the place of prostration (in the surah), the people became ready for prostration. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: This is the repentance of a Prophet ; but I saw you being ready for prostration. So he descended and prostrated himself and the people prostrated along with him
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو ، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔
Anas said:“A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: ‘I intend to undertake a journey, so give me provision. He said: ‘May Allah grant you Taqwa as your provision (Zawwadak Allāhut-taqwā).’ He said: ‘Give me more.’ He said: ‘And may He forgive your sin (Wa ghafara dhanbak).’ He said: ‘Give me more, may my father be ransomed for you, and my mother.’ He said: ‘And may He make goodness easy for you wherever you are (Wa yassara lakal-khaira ḥaithu mā kunt).’”
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں، تو آپ مجھے کوئی توشہ دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھے تقویٰ کا زاد سفر دے“، اس نے کہا: مزید اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے“، اس نے کہا: مزید کچھ اضافہ فرما دیجئیے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی تم رہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیر ( بھلائی کے کام ) آسان کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Yahya related to me from Malik that he had read what Umar ibn al- Khattab had written about zakat, and in it he found: "In the name of Allah, the Merciful, the ompassionate." The Book of Zakat. On twenty-four camels or less zakat is paid with sheep, one ewe for every five camels. On anything above that, up to thirty-five camels, a she-camel in its second year, and, if there is no she camel in its second year, a male camel in its third year. On anything above that, up to forty-five camels, a she- camel in its third year. On anything above that, up to sixty camels, a she camel in its fourth year that is ready to be sired. On anything above that, up to seventy-five camels, a she-camel in its …
امام مالک نے پڑھا حضرت عمر بن خطاب کی کتاب صدقہ اور زکوة کے باب میں اس میں لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ کتاب ہے صدقہ کی چوبیس اونٹنیوں تک ہر پانچ میں ایک بکری لازم ہے جب چوبیس سے زیادہ ہوں پینتیس تک ایک برس کی اونٹنی ہے اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ہے اس سے زیادہ میں پنتالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں ساٹھ اونٹ تک تین برس کی اونٹنی ہے جو قابل ہو جفتی کے اس سے زیادہ میں پچھتر اونٹ تک چار برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں نوے اونٹ تک دو اونٹنیاں ہیں دو دو برس کی اس سے زیادہ میں ایک سو بیس اونٹ تک تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو قابل ہوں جفتی کے اس سے زیادہ میں ہر چالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی اونٹنی ہے بکریاں جو جنگل …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1448)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1448)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1448)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخَذْتُ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ كِتَابًا زَعَمَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، كَتَبَهُ لأَنَسٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا وَكَتَبَهُ لَهُ فَإِذَا فِيهِ " هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلاَ يُعْطِهِ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ . فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ …
Narrated Hammad : I took a letter from Thumamah bin ‘Abd Allah bin Anas. He presumed that Abu Bakr had written it for Anas when he sent him (to Al Bahrain) as a collector of zakat. This (letter) was stamped with the stamp of the Messenger of Allah(ﷺ) and was written by Abu Bakr for him(Anas). This letter goes “This is the obligatory sadaqah(zakat) which the Messenger of Allah(ﷺ) imposed on Muslims which Allah commanded his Prophet(ﷺ) to impose. Those Muslims who are asked for the proper amount must give it, but those who are asked for more than that must not give it. For less than twenty five Camels a goat is to be given for every five Camels. When they reach twenty five to thirty five, a …
حماد کہتے ہیں میں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے ایک کتاب لی، وہ کہتے تھے: یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی تھی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگی ہوئی تھی، جب آپ نے انہیں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا تو یہ کتاب انہیں لکھ کر دی تھی، اس میں یہ عبارت لکھی تھی: یہ فرض زکاۃ کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمائی ہے اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے، لہٰذا جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے، وہ اسے ادا کرے اور جس سے اس سے زائد طلب کی جائے، وہ نہ دے: پچیس ( ۲۵ ) سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے، جب پچیس اونٹ پورے ہو جائیں تو پینتیس ( ۳۵ ) تک میں ایک بنت مخاض ۱؎ ہے، اگر بنت …
درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا أَتَاهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ أَوْ يُسَرُّ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شُكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى .
It was narrated from Abu Bakrah that when the Prophet (ﷺ) heard news that made him happy, or for which one should be happy, he would fall down prostrate in gratitude to Allah, the Blessed and Exalted
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسا معاملہ آتا جس سے آپ خوش ہوتے، یا وہ خوش کن معاملہ ہوتا، تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑتے۔
PickthallHow they burst in upon David, and he was afraid of them. They said: Be not afraid! (We are) two litigants, one of whom hath wronged the other, therefor judge aright between us; be not unjust; and show us the fair way.
Yusuf AliWhen they entered the presence of David, and he was terrified of them, they said: "Fear not: we are two disputants, one of whom has wronged the other: Decide now between us with truth, and treat us not with injustice, but guide us to the even Path..
The agreed readingWhen they came in upon David and he took fright at them, they said: do not be afraid. We are two litigants, one of whom has wronged the other; so judge between us with the truth, do not go beyond what is right, and guide us to the level road.
Urduجب وہ داؤد کے پاس اچانک آ گئے تو وہ ان سے گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا: ڈرو مت، ہم دو فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، تو ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور زیادتی نہ کرو، اور ہمیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دو۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“I was with the Prophet (ﷺ), and a man came to him and said: ‘Last night while I was sleeping, I saw that I was praying towards the base of a tree. I recited (an Ayah of) prostration and prostrated, and the tree prostrated when I did, and I heard it saying: Allahummah-tut anni biha wizran, waktub li biha ajran, waj’al-ha li ‘indaka dhukhran (O Allah, reduce my burden of sin thereby, reward me for it and store it for me with You).’ Ibn ‘Abbas said: “I saw the Prophet (ﷺ) recite (an Ayah of) prostration and then prostrate, and I heard him saying in his prostration something like that which the man had told him the tree said.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اس دوران ایک شخص آیا ۱؎ اور اس نے عرض کیا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے جیسے سونے والا دیکھتا ہے، گویا میں ایک درخت کی جڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا «اللهم احطط عني بها وزرا واكتب لي بها أجرا واجعلها لي عندك ذخرا» اے اللہ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے گناہ ختم کر دے، اور میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس اجر کو میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے ۲؎۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو میں نے سنا آپ …
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَرِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ " لَيْتَ رَجُلاً صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ ". إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ السِّلاَحِ قَالَ " مَنْ هَذَا ". قِيلَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَحْرُسُكَ. فَنَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى سَمِعْنَا غَطِيطَهُ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ بِلاَلٌ أَلاَ لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Aisha:One night the Prophet (ﷺ) was unable to sleep and said, "Would that a righteous man from my companions guarded me tonight." Suddenly we heard the clatter of arms, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Who is it?" It was said, "I am Sa`d, O Allah's Messenger (ﷺ)! I have come to guard you." The Prophet (ﷺ) then slept so soundly that we heard him snoring. Abu `Abdullah said: `Aisha said: Bilal said, "Would that I but stayed overnight in a valley with Idhkhir and Jalil (two kinds of grass) around me (i.e., in Mecca)." Then I told that to the Prophet (ﷺ)
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہ آئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کاش میرے صحابہ میں سے کوئی نیک مرد میرے لیے آج رات پہرہ دیتا۔“ اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ بتایا گیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہیں یا رسول اللہ! ( انہوں نے کہا ) میں آپ کے لیے پہرہ دینے آیا ہوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے یہاں تک کہ ہم نے آپ کے خراٹے کی آواز سنے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ …
Al-Hasan bin Muhammad bin Ubaidullah bin Abi Yazid said:Ibn Juraij said to me: O Hasan! Ubaidullah bin Abi Yazid informed me that Ibn Abbas said: "A man came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah! I had a dream at night while I was sleeping in which I was praying behind a tree, when I prostrated the tree prostrated along with me. Then I heard it saying: (Allahummaktuh li biha indaka ajran, wad a anni biha wizran, waj'alha li biha indaka dhukhran, wa taqabbalha minni kama taqabbaltaha min abdiki Dawud.)" (O Allah! Record for me, a reward with You for it, remove a sin for me by it, and store it away for me with You, and accept it from me as You accepted it from Your worshipper …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات اپنے کو دیکھا اور میں سو رہا تھا ( یعنی خواب میں دیکھا ) کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو میرے سجدے کے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا، پھر میں نے اسے سنا، وہ کہہ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ”اے اللہ! اس کے بدلے تو میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس کے بدلے میرا بوجھ مجھ سے ہٹا دے، اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے، اور اسے مجھ سے تو اسی طرح قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داود سے قبول کیا تھا“۔ حسن بن محمد بن عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں: مجھ سے ابن …
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone dies when some fast due from him has been unfulfilled, his heir must fast on his behalf
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
Narrated 'Aishah: The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone dies when some fast is due from him (i.e. which he could not keep) his heir must fast on his behalf. Abu Dawud said: This applies to the fast which a man vows ; and this is the opinion of Ahmad b. Hanbal
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔
Narrated Sa'id al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) recited surah Sad on the pulpit. When he reached the place of prostration (in the surah), he descended and prostrated himself and the people prostrated with him. When the next day came, he recited it. When he reached the place of prostration (in the surah), the people became ready for prostration. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: This is the repentance of a Prophet ; but I saw you being ready for prostration. So he descended and prostrated himself and the people prostrated along with him
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو ، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔
Anas said:“A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: ‘I intend to undertake a journey, so give me provision. He said: ‘May Allah grant you Taqwa as your provision (Zawwadak Allāhut-taqwā).’ He said: ‘Give me more.’ He said: ‘And may He forgive your sin (Wa ghafara dhanbak).’ He said: ‘Give me more, may my father be ransomed for you, and my mother.’ He said: ‘And may He make goodness easy for you wherever you are (Wa yassara lakal-khaira ḥaithu mā kunt).’”
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں، تو آپ مجھے کوئی توشہ دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھے تقویٰ کا زاد سفر دے“، اس نے کہا: مزید اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے“، اس نے کہا: مزید کچھ اضافہ فرما دیجئیے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی تم رہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیر ( بھلائی کے کام ) آسان کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Yahya related to me from Malik that he had read what Umar ibn al- Khattab had written about zakat, and in it he found: "In the name of Allah, the Merciful, the ompassionate." The Book of Zakat. On twenty-four camels or less zakat is paid with sheep, one ewe for every five camels. On anything above that, up to thirty-five camels, a she-camel in its second year, and, if there is no she camel in its second year, a male camel in its third year. On anything above that, up to forty-five camels, a she- camel in its third year. On anything above that, up to sixty camels, a she camel in its fourth year that is ready to be sired. On anything above that, up to seventy-five camels, a she-camel in its …
امام مالک نے پڑھا حضرت عمر بن خطاب کی کتاب صدقہ اور زکوة کے باب میں اس میں لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ کتاب ہے صدقہ کی چوبیس اونٹنیوں تک ہر پانچ میں ایک بکری لازم ہے جب چوبیس سے زیادہ ہوں پینتیس تک ایک برس کی اونٹنی ہے اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ہے اس سے زیادہ میں پنتالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں ساٹھ اونٹ تک تین برس کی اونٹنی ہے جو قابل ہو جفتی کے اس سے زیادہ میں پچھتر اونٹ تک چار برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں نوے اونٹ تک دو اونٹنیاں ہیں دو دو برس کی اس سے زیادہ میں ایک سو بیس اونٹ تک تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو قابل ہوں جفتی کے اس سے زیادہ میں ہر چالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی اونٹنی ہے بکریاں جو جنگل …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1448)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1448)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1448)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخَذْتُ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ كِتَابًا زَعَمَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، كَتَبَهُ لأَنَسٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا وَكَتَبَهُ لَهُ فَإِذَا فِيهِ " هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلاَ يُعْطِهِ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ . فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ …
Narrated Hammad : I took a letter from Thumamah bin ‘Abd Allah bin Anas. He presumed that Abu Bakr had written it for Anas when he sent him (to Al Bahrain) as a collector of zakat. This (letter) was stamped with the stamp of the Messenger of Allah(ﷺ) and was written by Abu Bakr for him(Anas). This letter goes “This is the obligatory sadaqah(zakat) which the Messenger of Allah(ﷺ) imposed on Muslims which Allah commanded his Prophet(ﷺ) to impose. Those Muslims who are asked for the proper amount must give it, but those who are asked for more than that must not give it. For less than twenty five Camels a goat is to be given for every five Camels. When they reach twenty five to thirty five, a …
حماد کہتے ہیں میں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے ایک کتاب لی، وہ کہتے تھے: یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی تھی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگی ہوئی تھی، جب آپ نے انہیں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا تو یہ کتاب انہیں لکھ کر دی تھی، اس میں یہ عبارت لکھی تھی: یہ فرض زکاۃ کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمائی ہے اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے، لہٰذا جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے، وہ اسے ادا کرے اور جس سے اس سے زائد طلب کی جائے، وہ نہ دے: پچیس ( ۲۵ ) سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے، جب پچیس اونٹ پورے ہو جائیں تو پینتیس ( ۳۵ ) تک میں ایک بنت مخاض ۱؎ ہے، اگر بنت …
PickthallLo! this my brother hath ninety and nine ewes while I had one ewe; and he said: Entrust it to me, and he conquered me in speech.
Yusuf Ali"This man is my brother: He has nine and ninety ewes, and I have (but) one: Yet he says, 'commit her to my care,' and is (moreover) harsh to me in speech."
The agreed readingThis is my brother; he has ninety-nine ewes and I have one, and he said: put it in my charge - and he overbore me in the argument.
Urduیہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے، اس نے کہا: یہ بھی مجھے دے دو، اور بحث میں وہ مجھ پر غالب آ گیا۔
Arabicإِنَّ هَذَا أَخِي، لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً كثيرة، وَلِيَ أنا نَعْجَةٌ وَاحِدَةٌ فقط لا غير، فَقَالَ لي: أَكْفِلْنِيهَا وضمها إلى غنمي، وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ، غلبني بحجته وقوة كلامه في هذا النزاع بيننا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“I was with the Prophet (ﷺ), and a man came to him and said: ‘Last night while I was sleeping, I saw that I was praying towards the base of a tree. I recited (an Ayah of) prostration and prostrated, and the tree prostrated when I did, and I heard it saying: Allahummah-tut anni biha wizran, waktub li biha ajran, waj’al-ha li ‘indaka dhukhran (O Allah, reduce my burden of sin thereby, reward me for it and store it for me with You).’ Ibn ‘Abbas said: “I saw the Prophet (ﷺ) recite (an Ayah of) prostration and then prostrate, and I heard him saying in his prostration something like that which the man had told him the tree said.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اس دوران ایک شخص آیا ۱؎ اور اس نے عرض کیا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے جیسے سونے والا دیکھتا ہے، گویا میں ایک درخت کی جڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا «اللهم احطط عني بها وزرا واكتب لي بها أجرا واجعلها لي عندك ذخرا» اے اللہ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے گناہ ختم کر دے، اور میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس اجر کو میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے ۲؎۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو میں نے سنا آپ …
Al-Hasan bin Muhammad bin Ubaidullah bin Abi Yazid said:Ibn Juraij said to me: O Hasan! Ubaidullah bin Abi Yazid informed me that Ibn Abbas said: "A man came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah! I had a dream at night while I was sleeping in which I was praying behind a tree, when I prostrated the tree prostrated along with me. Then I heard it saying: (Allahummaktuh li biha indaka ajran, wad a anni biha wizran, waj'alha li biha indaka dhukhran, wa taqabbalha minni kama taqabbaltaha min abdiki Dawud.)" (O Allah! Record for me, a reward with You for it, remove a sin for me by it, and store it away for me with You, and accept it from me as You accepted it from Your worshipper …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات اپنے کو دیکھا اور میں سو رہا تھا ( یعنی خواب میں دیکھا ) کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو میرے سجدے کے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا، پھر میں نے اسے سنا، وہ کہہ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ”اے اللہ! اس کے بدلے تو میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس کے بدلے میرا بوجھ مجھ سے ہٹا دے، اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے، اور اسے مجھ سے تو اسی طرح قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داود سے قبول کیا تھا“۔ حسن بن محمد بن عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں: مجھ سے ابن …
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone dies when some fast due from him has been unfulfilled, his heir must fast on his behalf
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
Narrated 'Aishah: The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone dies when some fast is due from him (i.e. which he could not keep) his heir must fast on his behalf. Abu Dawud said: This applies to the fast which a man vows ; and this is the opinion of Ahmad b. Hanbal
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔
Narrated Sa'id al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) recited surah Sad on the pulpit. When he reached the place of prostration (in the surah), he descended and prostrated himself and the people prostrated with him. When the next day came, he recited it. When he reached the place of prostration (in the surah), the people became ready for prostration. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: This is the repentance of a Prophet ; but I saw you being ready for prostration. So he descended and prostrated himself and the people prostrated along with him
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو ، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔
Anas said:“A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: ‘I intend to undertake a journey, so give me provision. He said: ‘May Allah grant you Taqwa as your provision (Zawwadak Allāhut-taqwā).’ He said: ‘Give me more.’ He said: ‘And may He forgive your sin (Wa ghafara dhanbak).’ He said: ‘Give me more, may my father be ransomed for you, and my mother.’ He said: ‘And may He make goodness easy for you wherever you are (Wa yassara lakal-khaira ḥaithu mā kunt).’”
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں، تو آپ مجھے کوئی توشہ دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھے تقویٰ کا زاد سفر دے“، اس نے کہا: مزید اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے“، اس نے کہا: مزید کچھ اضافہ فرما دیجئیے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی تم رہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیر ( بھلائی کے کام ) آسان کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Yahya related to me from Malik that he had read what Umar ibn al- Khattab had written about zakat, and in it he found: "In the name of Allah, the Merciful, the ompassionate." The Book of Zakat. On twenty-four camels or less zakat is paid with sheep, one ewe for every five camels. On anything above that, up to thirty-five camels, a she-camel in its second year, and, if there is no she camel in its second year, a male camel in its third year. On anything above that, up to forty-five camels, a she- camel in its third year. On anything above that, up to sixty camels, a she camel in its fourth year that is ready to be sired. On anything above that, up to seventy-five camels, a she-camel in its …
امام مالک نے پڑھا حضرت عمر بن خطاب کی کتاب صدقہ اور زکوة کے باب میں اس میں لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ کتاب ہے صدقہ کی چوبیس اونٹنیوں تک ہر پانچ میں ایک بکری لازم ہے جب چوبیس سے زیادہ ہوں پینتیس تک ایک برس کی اونٹنی ہے اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ہے اس سے زیادہ میں پنتالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں ساٹھ اونٹ تک تین برس کی اونٹنی ہے جو قابل ہو جفتی کے اس سے زیادہ میں پچھتر اونٹ تک چار برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں نوے اونٹ تک دو اونٹنیاں ہیں دو دو برس کی اس سے زیادہ میں ایک سو بیس اونٹ تک تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو قابل ہوں جفتی کے اس سے زیادہ میں ہر چالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی اونٹنی ہے بکریاں جو جنگل …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1448)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1448)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1448)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخَذْتُ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ كِتَابًا زَعَمَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، كَتَبَهُ لأَنَسٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا وَكَتَبَهُ لَهُ فَإِذَا فِيهِ " هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلاَ يُعْطِهِ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ . فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ …
Narrated Hammad : I took a letter from Thumamah bin ‘Abd Allah bin Anas. He presumed that Abu Bakr had written it for Anas when he sent him (to Al Bahrain) as a collector of zakat. This (letter) was stamped with the stamp of the Messenger of Allah(ﷺ) and was written by Abu Bakr for him(Anas). This letter goes “This is the obligatory sadaqah(zakat) which the Messenger of Allah(ﷺ) imposed on Muslims which Allah commanded his Prophet(ﷺ) to impose. Those Muslims who are asked for the proper amount must give it, but those who are asked for more than that must not give it. For less than twenty five Camels a goat is to be given for every five Camels. When they reach twenty five to thirty five, a …
حماد کہتے ہیں میں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے ایک کتاب لی، وہ کہتے تھے: یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی تھی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگی ہوئی تھی، جب آپ نے انہیں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا تو یہ کتاب انہیں لکھ کر دی تھی، اس میں یہ عبارت لکھی تھی: یہ فرض زکاۃ کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمائی ہے اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے، لہٰذا جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے، وہ اسے ادا کرے اور جس سے اس سے زائد طلب کی جائے، وہ نہ دے: پچیس ( ۲۵ ) سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے، جب پچیس اونٹ پورے ہو جائیں تو پینتیس ( ۳۵ ) تک میں ایک بنت مخاض ۱؎ ہے، اگر بنت …
درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا أَتَاهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ أَوْ يُسَرُّ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شُكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى .
It was narrated from Abu Bakrah that when the Prophet (ﷺ) heard news that made him happy, or for which one should be happy, he would fall down prostrate in gratitude to Allah, the Blessed and Exalted
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسا معاملہ آتا جس سے آپ خوش ہوتے، یا وہ خوش کن معاملہ ہوتا، تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑتے۔
Pickthall(David) said: He hath wronged thee in demanding thine ewe in addition to his ewes, and lo! many partners oppress one another, save such as believe and do good works, and they are few. And David guessed that We had tried him, and he sought forgiveness of his Lord, and he bowed himself and fell down prostrate and repented.
Yusuf Ali(David) said: "He has undoubtedly wronged thee in demanding thy (single) ewe to be added to his (flock of) ewes: truly many are the partners (in business) who wrong each other: Not so do those who believe and work deeds of righteousness, and how few are they?"... and David gathered that We had tried him: he asked forgiveness of his Lord, fell down, bowing (in prostration), and turned (to Allah in repentance).
The agreed readingDavid said: he has wronged you in asking for your ewe to add to his own. Many partners do wrong one another, except those who believe and do good, and they are few. And David realised that God had tested him, so he asked his Lord's forgiveness, and bowed low and turned to Him.
Urduداؤد نے کہا: اس نے تمہاری دنبی مانگ کر تم پر زیادتی کی ہے تاکہ اسے اپنی دنبیوں میں ملا لے۔ بہت سے ساجھی ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اور وہ بہت کم ہیں۔ اور داؤد کو یقین ہو گیا کہ ہم نے انہیں آزمایا تھا، تو انہوں نے اپنے رب سے بخشش مانگی اور جھک کر رجوع کیا۔
Narrated Sa'id al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) recited surah Sad on the pulpit. When he reached the place of prostration (in the surah), he descended and prostrated himself and the people prostrated with him. When the next day came, he recited it. When he reached the place of prostration (in the surah), the people became ready for prostration. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: This is the repentance of a Prophet ; but I saw you being ready for prostration. So he descended and prostrated himself and the people prostrated along with him
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو ، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“I was with the Prophet (ﷺ), and a man came to him and said: ‘Last night while I was sleeping, I saw that I was praying towards the base of a tree. I recited (an Ayah of) prostration and prostrated, and the tree prostrated when I did, and I heard it saying: Allahummah-tut anni biha wizran, waktub li biha ajran, waj’al-ha li ‘indaka dhukhran (O Allah, reduce my burden of sin thereby, reward me for it and store it for me with You).’ Ibn ‘Abbas said: “I saw the Prophet (ﷺ) recite (an Ayah of) prostration and then prostrate, and I heard him saying in his prostration something like that which the man had told him the tree said.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اس دوران ایک شخص آیا ۱؎ اور اس نے عرض کیا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے جیسے سونے والا دیکھتا ہے، گویا میں ایک درخت کی جڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا «اللهم احطط عني بها وزرا واكتب لي بها أجرا واجعلها لي عندك ذخرا» اے اللہ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے گناہ ختم کر دے، اور میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس اجر کو میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے ۲؎۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو میں نے سنا آپ …
Al-Hasan bin Muhammad bin Ubaidullah bin Abi Yazid said:Ibn Juraij said to me: O Hasan! Ubaidullah bin Abi Yazid informed me that Ibn Abbas said: "A man came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah! I had a dream at night while I was sleeping in which I was praying behind a tree, when I prostrated the tree prostrated along with me. Then I heard it saying: (Allahummaktuh li biha indaka ajran, wad a anni biha wizran, waj'alha li biha indaka dhukhran, wa taqabbalha minni kama taqabbaltaha min abdiki Dawud.)" (O Allah! Record for me, a reward with You for it, remove a sin for me by it, and store it away for me with You, and accept it from me as You accepted it from Your worshipper …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات اپنے کو دیکھا اور میں سو رہا تھا ( یعنی خواب میں دیکھا ) کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو میرے سجدے کے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا، پھر میں نے اسے سنا، وہ کہہ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ”اے اللہ! اس کے بدلے تو میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس کے بدلے میرا بوجھ مجھ سے ہٹا دے، اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے، اور اسے مجھ سے تو اسی طرح قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داود سے قبول کیا تھا“۔ حسن بن محمد بن عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں: مجھ سے ابن …
Narrated 'Aishah:The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone dies when some fast due from him has been unfulfilled, his heir must fast on his behalf
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
Narrated 'Aishah: The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone dies when some fast is due from him (i.e. which he could not keep) his heir must fast on his behalf. Abu Dawud said: This applies to the fast which a man vows ; and this is the opinion of Ahmad b. Hanbal
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔
Anas said:“A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: ‘I intend to undertake a journey, so give me provision. He said: ‘May Allah grant you Taqwa as your provision (Zawwadak Allāhut-taqwā).’ He said: ‘Give me more.’ He said: ‘And may He forgive your sin (Wa ghafara dhanbak).’ He said: ‘Give me more, may my father be ransomed for you, and my mother.’ He said: ‘And may He make goodness easy for you wherever you are (Wa yassara lakal-khaira ḥaithu mā kunt).’”
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں، تو آپ مجھے کوئی توشہ دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھے تقویٰ کا زاد سفر دے“، اس نے کہا: مزید اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے“، اس نے کہا: مزید کچھ اضافہ فرما دیجئیے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی تم رہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیر ( بھلائی کے کام ) آسان کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Yahya related to me from Malik that he had read what Umar ibn al- Khattab had written about zakat, and in it he found: "In the name of Allah, the Merciful, the ompassionate." The Book of Zakat. On twenty-four camels or less zakat is paid with sheep, one ewe for every five camels. On anything above that, up to thirty-five camels, a she-camel in its second year, and, if there is no she camel in its second year, a male camel in its third year. On anything above that, up to forty-five camels, a she- camel in its third year. On anything above that, up to sixty camels, a she camel in its fourth year that is ready to be sired. On anything above that, up to seventy-five camels, a she-camel in its …
امام مالک نے پڑھا حضرت عمر بن خطاب کی کتاب صدقہ اور زکوة کے باب میں اس میں لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ کتاب ہے صدقہ کی چوبیس اونٹنیوں تک ہر پانچ میں ایک بکری لازم ہے جب چوبیس سے زیادہ ہوں پینتیس تک ایک برس کی اونٹنی ہے اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ہے اس سے زیادہ میں پنتالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں ساٹھ اونٹ تک تین برس کی اونٹنی ہے جو قابل ہو جفتی کے اس سے زیادہ میں پچھتر اونٹ تک چار برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں نوے اونٹ تک دو اونٹنیاں ہیں دو دو برس کی اس سے زیادہ میں ایک سو بیس اونٹ تک تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو قابل ہوں جفتی کے اس سے زیادہ میں ہر چالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی اونٹنی ہے بکریاں جو جنگل …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1448)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1448)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (1448)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخَذْتُ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ كِتَابًا زَعَمَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، كَتَبَهُ لأَنَسٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا وَكَتَبَهُ لَهُ فَإِذَا فِيهِ " هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلاَ يُعْطِهِ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ . فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ …
Narrated Hammad : I took a letter from Thumamah bin ‘Abd Allah bin Anas. He presumed that Abu Bakr had written it for Anas when he sent him (to Al Bahrain) as a collector of zakat. This (letter) was stamped with the stamp of the Messenger of Allah(ﷺ) and was written by Abu Bakr for him(Anas). This letter goes “This is the obligatory sadaqah(zakat) which the Messenger of Allah(ﷺ) imposed on Muslims which Allah commanded his Prophet(ﷺ) to impose. Those Muslims who are asked for the proper amount must give it, but those who are asked for more than that must not give it. For less than twenty five Camels a goat is to be given for every five Camels. When they reach twenty five to thirty five, a …
حماد کہتے ہیں میں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے ایک کتاب لی، وہ کہتے تھے: یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی تھی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگی ہوئی تھی، جب آپ نے انہیں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا تو یہ کتاب انہیں لکھ کر دی تھی، اس میں یہ عبارت لکھی تھی: یہ فرض زکاۃ کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمائی ہے اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے، لہٰذا جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے، وہ اسے ادا کرے اور جس سے اس سے زائد طلب کی جائے، وہ نہ دے: پچیس ( ۲۵ ) سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے، جب پچیس اونٹ پورے ہو جائیں تو پینتیس ( ۳۵ ) تک میں ایک بنت مخاض ۱؎ ہے، اگر بنت …
درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا أَتَاهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ أَوْ يُسَرُّ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شُكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى .
It was narrated from Abu Bakrah that when the Prophet (ﷺ) heard news that made him happy, or for which one should be happy, he would fall down prostrate in gratitude to Allah, the Blessed and Exalted
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسا معاملہ آتا جس سے آپ خوش ہوتے، یا وہ خوش کن معاملہ ہوتا، تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑتے۔
PickthallSo We forgave him that; and lo! he had access to Our presence and a happy journey's end.
Yusuf AliSo We forgave him this (lapse): he enjoyed, indeed, a Near Approach to Us, and a beautiful place of (Final) Return.
The agreed readingSo God forgave him that; and he has nearness with God and a good place to return to.
Urduچنانچہ اللہ نے اسے وہ گناہ معاف کر دیا، اور اس کے لیے ہمارے پاس قربت کا بلند مقام اور ایک اچھا ٹھکانہ ہے جس کی طرف وہ لوٹے گا۔
Arabicفَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ الذنب كاملاً واستجبنا دعاءه بالمغفرة، وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى قربى ومنزلة رفيعة عالية، وَحُسْنَ مَآبٍ في الآخرة، مصير طيب حسن ينتظره هناك دائماً.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 6 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة8 reports cited here — 6 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from al-Husayn ibn Sa‘id from certain persons of our people from Sama‘ah from abu Basir who has said the following: “Abu ’Abd Allah (a.s.), has said, ‘Qunut (supplication after recitation) on Friday is in the first Rak‘at after recitation in which you can read, “No one deserves to be worshipped besides Allah, the Forbearing, the Honorable. No one deserves to be worshipped besides Allah, most High, most Great. No one deserves to be worshipped besides Allah who is the Lord of seven heavens, the seven earths, all that is in them and between them and the Lord of the great throne. All praise belongs to Allah, Cherisher of the worlds. O …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، الحسین بن سعید سے، بعض اصحاب سے، سمئہ سے، ابو بصیر سے، ابو عبد الله علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: القنوت جمعہ کے دن کی قنوت ہے پہلی رکعت میں قرآن کے بعد۔ تم قنوت میں یہ کہو: لا الہ الا الله الحلیم الکریم۔ لا الہ الا الله العلی العظیم۔ لا الہ الا الله رب السموات السبع ورب الارضین السبع وما فیہن وما بینہن ورب العرش العظیم۔ والحمد لله رب العالمین۔ اے الله! محمد پر درود بھیج جیسے تو نے ہمیں ان کے ذریعے ہدایت دی۔ اے الله! محمد پر درود بھیج جیسے تو نے ہمیں ان کے ذریعے عزت دی۔ اے الله! ہمیں ان میں سے بنا جن کو تو نے اپنے دین کے لیے منتخب کیا ہے اور اپنی جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اے الله! ہماری دلوں کو اس کے بعد ٹیڑھا مت کر کہ تو نے ہمیں ہدایت دے دی ہے، اور …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن أبي مريم الأنصاريّ فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسين بن سعيد، عن فضالة بن أيّوب، عن أبان بن عثمان، عن أبي مريم.
Everything in this book that is narrated from Abu Maryam Al-Ansari has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ahmad ibn Muhammad ibn 'Isa, from Al-Husayn ibn Sa'id, from Fudalah ibn Ayyub, from Aban ibn 'Uthman, from Abu Maryam.
اور جو کچھ اس میں ابو مریم الانصاری سے ہے تو میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا - اللہ ان سے راضی ہو - سعد بن عبد اللہ سے، احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، الحسین بن سعید سے، فضالہ بن ایوب سے، ابان بن عثمان سے، ابو مریم سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Al-Hasan bin Muhammad bin Ubaidullah bin Abi Yazid said:Ibn Juraij said to me: O Hasan! Ubaidullah bin Abi Yazid informed me that Ibn Abbas said: "A man came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah! I had a dream at night while I was sleeping in which I was praying behind a tree, when I prostrated the tree prostrated along with me. Then I heard it saying: (Allahummaktuh li biha indaka ajran, wad a anni biha wizran, waj'alha li biha indaka dhukhran, wa taqabbalha minni kama taqabbaltaha min abdiki Dawud.)" (O Allah! Record for me, a reward with You for it, remove a sin for me by it, and store it away for me with You, and accept it from me as You accepted it from Your worshipper …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات اپنے کو دیکھا اور میں سو رہا تھا ( یعنی خواب میں دیکھا ) کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو میرے سجدے کے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا، پھر میں نے اسے سنا، وہ کہہ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ”اے اللہ! اس کے بدلے تو میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس کے بدلے میرا بوجھ مجھ سے ہٹا دے، اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے، اور اسے مجھ سے تو اسی طرح قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داود سے قبول کیا تھا“۔ حسن بن محمد بن عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں: مجھ سے ابن …
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“I was with the Prophet (ﷺ), and a man came to him and said: ‘Last night while I was sleeping, I saw that I was praying towards the base of a tree. I recited (an Ayah of) prostration and prostrated, and the tree prostrated when I did, and I heard it saying: Allahummah-tut anni biha wizran, waktub li biha ajran, waj’al-ha li ‘indaka dhukhran (O Allah, reduce my burden of sin thereby, reward me for it and store it for me with You).’ Ibn ‘Abbas said: “I saw the Prophet (ﷺ) recite (an Ayah of) prostration and then prostrate, and I heard him saying in his prostration something like that which the man had told him the tree said.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اس دوران ایک شخص آیا ۱؎ اور اس نے عرض کیا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے جیسے سونے والا دیکھتا ہے، گویا میں ایک درخت کی جڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا «اللهم احطط عني بها وزرا واكتب لي بها أجرا واجعلها لي عندك ذخرا» اے اللہ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے گناہ ختم کر دے، اور میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس اجر کو میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے ۲؎۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو میں نے سنا آپ …
Narrated Sa'id al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) recited surah Sad on the pulpit. When he reached the place of prostration (in the surah), he descended and prostrated himself and the people prostrated with him. When the next day came, he recited it. When he reached the place of prostration (in the surah), the people became ready for prostration. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: This is the repentance of a Prophet ; but I saw you being ready for prostration. So he descended and prostrated himself and the people prostrated along with him
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو ، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔
Narrated Al-Awwam:I asked Mujahid regarding the prostration in Surat Sa`d. He said, "I asked Ibn `Abbas, 'What evidence makes you prostrate?' He said, "Don't you recite:--'And among his progeny, David and Solomon..(6.84). Those are they whom Allah had guided. So follow their guidance.' (6.90) So David was the one of those prophets whom Prophet (Muhammad) was ordered to follow. David prostrated, so Allah's Messenger (ﷺ) (Muhammad) performed this prostration too
مجھ سے محمد بن عبداللہ ذہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبید طنافسی نے، ان سے عوام بن حوشب نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سورۃ ص میں سجدہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا کہ اس سورت میں آیت سجدہ کے لیے دلیل کیا ہے؟ انہوں نے کہا کیا تم ( سورت انعام ) میں یہ نہیں پڑھتے «ومن ذريته داود وسليمان» کہ ”اور ان کی نسل سے داؤد اور سلیمان ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے یہ ہدایت دی تھی، سو آپ بھی ان کی ہدایت کی اتباع کریں۔“ داؤد علیہ السلام بھی ان میں سے تھے جن کی اتباع کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا ( چونکہ داؤد علیہ السلام کے سجدہ کا اس میں ذکر ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس موقع پر سجدہ کیا ) ۔ «عجاب» کا معنی عجیب۔ …
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، ح قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِجِبْرِيلَ " أَلاَ تَزُورُنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا " قَالَ فَنَزَلَتْ {وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلاَّ بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا} الآيَةَ.
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) asked Gabriel, "Why don't you visit us more often than you do?" Then the following Holy Verse was revealed (in this respect):-- "And we (angels) descend not but by the order of your Lord. To Him belongs what is before us and what is behind us, and what is between those two and your Lord was never forgetful
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن ذر نے بیان کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے عمر بن ذر نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے ایک مرتبہ فرمایا ”ہم سے ملاقات کے لیے جتنی مرتبہ آپ آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے؟“ بیان کیا کہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وما نتنزل إلا بأمر ربك له ما بين أيدينا وما خلفنا» ”اور ہم نہیں اترتے لیکن تیرے رب کے حکم سے، اسی کا ہے جو کچھ کہ ہمارے سامنے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے۔“ آخر آیت تک۔
Al-Hasan bin Muhammad bin Ubaidullah bin Abi Yazid said:“Ibn Juraij said to me: “Ubaidullah bin Abi Yazid informed me that Ibn Abbas said: “A man came to the Prophet and said: ‘O Messenger of Allah! I had a dream at night while I was sleeping, in which I was praying behind a tree, when I prostrated, the tree prostrated along with me. Then I heard it saying: “O Allah! Record for me a reward with You for it, remove a sin from me by it, and store it away for me with You for it, and accept it from me as You accepted it from Your worshipper Dawud (Allāhumma uktub lī bihā `indaka ajran, waḍa` `annī bihā wizran, waj`alhā lī `indaka dhukhran, wa taqabbalhā minnī kamā taqabbalta min `abdika Dāwūd).” …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سویا ہوا تھا، رات میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا تو ان میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو درخت نے بھی میرے سجدے کی متابعت کرتے ہوئے سجدہ کیا، میں نے سنا وہ پڑھ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ”اے اللہ! تو اس کے بدلے میرے لیے اپنے پاس اجر و ثواب لکھ لے، اور اس کے عوض مجھ پر سے ( گناہوں کا ) بوجھ اتار دے اور اسے اپنے پاس ( میرے لیے آخرت کا ) ذخیرہ بنا دے، اور اسے میرے لیے ایسے ہی قبول کر لے جس طرح تو نے اپنے بندے داود علیہ السلام کے لیے قبول کیا تھا“۔ ابن جریج کہتے …
Pickthall(And it was said unto him): O David! Lo! We have set thee as a viceroy in the earth; therefor judge aright between mankind, and follow not desire that it beguile thee from the way of Allah. Lo! those who wander from the way of Allah have an awful doom, forasmuch as they forgot the Day of Reckoning.
Yusuf AliO David! We did indeed make thee a vicegerent on earth: so judge thou between men in truth (and justice): Nor follow thou the lusts (of thy heart), for they will mislead thee from the Path of Allah: for those who wander astray from the Path of Allah, is a Penalty Grievous, for that they forget the Day of Account.
The agreed readingDavid, God has set you as a successor in the land, so judge between people with the truth and do not follow desire, or it will lead you astray from God's way. Those who stray from God's way have a severe punishment, because they forgot the Day of Reckoning.
Urduاے داؤد، ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے، تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرو کیونکہ یہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے کیونکہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا۔
PickthallAnd We created not the heaven and the earth and all that is between them in vain. That is the opinion of those who disbelieve. And woe unto those who disbelieve, from the Fire!
Yusuf AliNot without purpose did We create heaven and earth and all between! that were the thought of Unbelievers! but woe to the Unbelievers because of the Fire (of Hell)!
The agreed readingGod did not create the heaven and the earth and what is between them for nothing. That is the guess of those who refuse - and woe to those who refuse, from the Fire.
Urduاللہ نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے انکار کیا، اور انکار کرنے والوں کے لیے آگ کی وجہ سے تباہی ہے۔
Arabicوَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا عبثاً بلا غاية ولا حكمة، ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا بربهم، فَوَيْلٌ عظيم لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ الشديدة التي أعدت لهم يوم القيامة.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 1 من كتب أهل السنة، 7 من كتب الشيعة8 reports cited here — 1 Sunnī, 7 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 7 شیعہ کتب سے
4. A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad from Ahmad ibn Muhammad from ibn abu Nasr from ‘Abd Allah ibn Muhammad al-Shamiy from al-Husayn ibn Hanzalah who has said the following: “One of the two Imam, (abu Ja‘far or abu ‘Abd Allah), ‘Alayhim al-Salam, has said, ‘Gourd, squash increases al-Damagh (abilities of the brain).”’
ہمارے اصحاب کے ایک گروپ نے، سہل بن زیاد سے، احمد بن محمد بن ابی نصر سے، عبداللہ بن محمد الشامی سے، حسین بن حنظلہ سے روایت کی ہے، ان میں سے کسی ایک (دونوں اماموں میں سے) علیہما السلام سے، کہا: الدباء دماغ میں اضافہ کرتا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Mahbub from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ’Abd Allah (a.s.), has said that women were mentioned before the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, and he (the Messenger of Allah) said, ’Disobey women in lawful matters before they command you to do unlawful acts and you must seek refuge with Allah against the wicked women and remain on your guard with the good ones of them.’”
ہمارے اصحاب میں سے جماعت نے احمد بن محمد سے، ابن محبوب سے، عبد الله بن سنان سے روایت کی ہے کہ أبو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: رسول الله صلی الله علیہ وآلہ نے عورتوں کا ذکر کیا تو فرمایا: ان کی نافرمانی کرو معروف میں پہلے کہ وہ تمہیں منکر کا حکم دیں، اور الله سے پناہ مانگو عورتوں کے شر سے، اور ان کے اچھے لوگوں سے بھی ڈر کے ساتھ رہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
1. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Mahbub from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that once the Messenger of Allah raised his head to the heaven and smiled. He was asked, ‘O Messenger of Allah, we saw you. Why did you raise your head to the heaven and smile?’ He then replied, ‘I was amazed when I saw two angels come down from the heaven looking for a believing, virtuous servant (of Allah) in the place he performs his prayers, so they can record his deeds of that day and night but they could not find him there. They then ascended to the heaven saying, “Lord, we looked for Your so and so believing servant in …
عدہ سے ہم نے احمد بن محمد سے، ابن محبوب سے، عبد الله بن سنان سے، ابی عبد الله علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو ہنستے ہوئے۔ ان سے کہا گیا: یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور ہنستے ہوئے۔ آپ نے کہا: ہاں، مجھے حیرت ہوئی دو فرشتوں کے لیے جو آسمان سے زمین پر اترے، ایک ایمان والے اور صالح بندے کو تلاش کر رہے تھے اس نماز کی جگہ میں جہاں وہ نماز پڑھتے تھے تاکہ اس کے دن اور رات کا عمل لکھیں۔ لیکن وہ اسے اس نماز کی جگہ میں نہ پایا۔ تو وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے اور کہا: ہمارے رب! تمہارے بندے ایمان والے فلاں کو ہم نے اس کی نماز کی جگہ تلاش کیا تاکہ اس کے دن رات کا عمل لکھیں لیکن ہم نہ پائے۔ لیکن ہم نے اسے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
5. It is narrated from him (narrator of the Hadith above) from ibn Mahbub from ‘Amr ibn Shamir from Jabir from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, is compassionate. He loves kindheartedness and awards for it with such things that He does not give due to rudeness.”
عنہ عن ابن محبوب عن عمرو بن شمر عن جابر عن ابی جعفر (علیہ السلام) نے کہا: الله تعالیٰ رفیق ہے۔ وہ رفق اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور رفق پر ایسا عطا کرتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
5. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Faddal from abu Jamilah from Muhammad al-Halabi from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Blessed, the Most High, has said, ‘The most beloved matter to Me through which My servant seeks to be loved is to fulfill what 1 have made obligatory upon him.’”
ہمارے اصحاب میں سے جماعت نے احمد بن محمد سے، ابن فضال سے، ابو جميلة سے، محمد الحلبي سے روایت کی ہے کہ ابو عبد الله علیہ السلام نے کہا: الله تبارک و تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے مجھے کسی چیز سے اپنے کے قریب نہیں کیا ہے، اس سے زیادہ محبوب ہے جو میں نے اس پر فرض کیا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
4-106 حدثنا علي بن أحمد بن موسى رضي الله عنه قال: حدثنا محمد بن أبي عبد الله الكوفي، عن صالح بن أبي حماد قال: حدثنا إسماعيل بن مهران، عن أبيه، عن عمرو بن أبي المقدام، عن أبي عبد الله، عن أبيه، عن آبائه، عن علي عليهم السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: الغنم إذا أقبلت أقبلت وإذا أدبرت أقبلت، والبقر إذا أقبلت أقبلت وإذا أدبرت أدبرت، والابل أعنان الشياطين إذا أقبلت أدبرت وإذا أدبرت أدبرت، ولا يجئ خيرها إلا من الجانب الاشأم، قيل: يا رسول الله فمن يتخذها بعد ذا؟ قال: فأين الاشقياء الفجرةقال صالح: وأنشد إسماعيل بن مهران :هي المال لولا قلة الخفض حولهافمن شاء داراها ومن شاء باعها
4-106 Ali ibn Ahmad ibn Musa - may God be pleased with him - narrated that Muhammad ibn Aba Abdullah al-Kufy quoted Salih ibn Abi Himad, on the authority of Isma’il ibn Mihran, on the authority of his father, on the authority of Amr ibn Abil Miqdam, on the authority of Aba Abdullah as-Sadiq (MGB), on the authority of his father (MGB), on the authority of his forefathers (MGB), on the authority of Ali (MGB) that God’s Prophet (MGB) said, “Sheep are profitable whether they face you or turn around . Cows are also profitable whether they face you or turn around. However, camels are from the regions of the satans. They cause a loss whether they face you or turn around. They have no use except …
علی بن احمد بن موسی نے ہمیں خبر دی، محمد بن ابی عبداللہ الکوفی سے، صالح بن ابی حماد نے کہا، اسماعیل بن مہران نے اپنے باپا سے، عمرو بن ابی المقدام سے، ابوعبداللہ سے، ان کے باپا سے، ان کے اجداد سے، علی (علیہ السلام) سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: بھیڑ جب آئے تو آئے اور جب جائیں تو آئے، گائے جب آئے تو آئے اور جب جائیں تو جائیں، اونٹ شیطان کی لگام ہیں، جب آئیں تو پیچھے ہٹیں، جب جائیں تو جائیں، ان کی خیری کوئی نہیں سوائے بائیں طرف سے۔ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو ان کو کون لے؟ فرمایا: بدقسمت فاجروں کو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[The Creation of the Universe :] So is the sky, the air, the winds and the water. Therefore, you look at the sun, moon, vegetation, plants, water, stone, the difference of this night and day, the springing of the streams, the large number of the mountains, the height of their peaks, the diversity of languages and the variety of tongues. Then woe be to him who disbelieves in the Ordainer and denies the Ruler. They believe that they are like grass for which there is no cultivator nor any maker for their diverse shapes. They have not relied on any argument for what they assert, nor on any research for what they have heard. Can there be any construction without a constructor, or any offense …
اور آسمان اور ہوا، ہوائیں اور پانی بھی اسی طرح ہیں۔ تو سورج اور القمر کو دیکھ، اور النبات اور درختوں کو، اور الماء اور پتھر کو، اور اختلاف اس اللیل اور النہار کو، اور تفجّر ان البحار کو، اور کثرت ان الجبال کو، اور طول ان القلال کو، اور تفرّق ان اللغات اور الالسن المختلفات۔ تو الویل لمن جحد المقدّر، اور انکر المدبّر! زعموا کہ وہ کالنبات ہیں جن کا نہ زارع ہے، اور نہ اختلاف صورہم میں صانع ہے، اور نہ لجأوا الی حجۃ فیما ادّعوا، اور نہ تحقیق لما أوعوا، اور ہل یکون بنا بغیر بان، یا جنایۃ بغیر جان؟
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallShall We treat those who believe and do good works as those who spread corruption in the earth; or shall We treat the pious as the wicked?
Yusuf AliShall We treat those who believe and work deeds of righteousness, the same as those who do mischief on earth? Shall We treat those who guard against evil, the same as those who turn aside from the right?
The agreed readingShall God treat those who believe and do good like those who spread ruin in the land, or treat those who guard themselves like the corrupt?
Urduکیا اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، زمین میں فساد پھیلانے والوں کی طرح کر دے گا، یا تقویٰ اختیار کرنے والوں کو نافرمانوں کی طرح کر دے گا؟
Arabicأَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا بربهم وَعَمِلُوا الصالحات النافعة كَالْمُفْسِدِينَ فِي الأرض بالكفر والمعاصي؟ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ لربهم كَالْفُجَّارِ الفاسقين المنغمسين في الذنوب؟ حاشا لله أن يسوي بينهما أبداً.
Pickthall(This is) a Scripture that We have revealed unto thee, full of blessing, that they may ponder its revelations, and that men of understanding may reflect.
Yusuf Ali(Here is) a Book which We have sent down unto thee, full of blessings, that they may mediate on its Signs, and that men of understanding may receive admonition.
The agreed readingA Book God has sent down to you, full of blessing, so that they may ponder its signs and those with understanding may take heed.
Urduیہ ایک کتاب ہے جو اللہ نے تمہاری طرف نازل کی ہے، بہت بابرکت، تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
Arabicكِتَابٌ عظيم أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ يا محمد مُبَارَكٌ كثير الخير والنفع لمن قرأه، لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ ويتفكروا في معانيها العميقة، وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الألباب أصحاب العقول الراجحة النيرة الصافية.
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived after the expedition to Tabuk or Khaybar (the narrator is doubtful), the draught raised an end of a curtain which was hung in front of her store-room, revealing some dolls which belonged to her. He asked: What is this? She replied: My dolls. Among them he saw a horse with wings made of rags, and asked: What is this I see among them? She replied: A horse. He asked: What is this that it has on it? She replied: Two wings. He asked: A horse with two wings? She replied: Have you not heard that Solomon had horses with wings? She said: Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) laughed so heartily that I could see his molar teeth
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے آئے، اور ان کے گھر کے طاق پر پردہ پڑا تھا، اچانک ہوا چلی، تو پردے کا ایک کونا ہٹ گیا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیاں نظر آنے لگیں، آپ نے فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میری گڑیاں ہیں، آپ نے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا دیکھا جس میں کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے، پوچھا: یہ کیا ہے جسے میں ان کے بیچ میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولیں: گھوڑا، آپ نے فرمایا: اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے؟ وہ بولیں: دو بازو، آپ نے فرمایا: گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں؟ وہ بولیں: کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کا ایک گھوڑا تھا جس کے بازو تھے، یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ کی داڑھیں دیکھ لیں۔
PickthallWhen there were shown to him at eventide lightfooted coursers
Yusuf AliBehold, there were brought before him, at eventide coursers of the highest breeding, and swift of foot;
The agreed readingWhen the finely bred horses, standing still and swift, were shown to him in the late afternoon,
Urduجب اس کے سامنے دن کے آخری پہر انتہائی عمدہ نسل کے تیز رفتار خوبصورت گھوڑے پیش کیے گئے، جو تین پاؤں پر مضبوطی سے کھڑے ہو کر چوتھا پاؤں اٹھا لیتے تھے،
Arabicإِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ في آخر النهار وأول العصر الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ الكثيرة، الخيل الأصيلة الكريمة الواقفة على ثلاث قوائم مع رفع الرابعة، السريعة الجري القوية الأصيلة الأنساب.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived after the expedition to Tabuk or Khaybar (the narrator is doubtful), the draught raised an end of a curtain which was hung in front of her store-room, revealing some dolls which belonged to her. He asked: What is this? She replied: My dolls. Among them he saw a horse with wings made of rags, and asked: What is this I see among them? She replied: A horse. He asked: What is this that it has on it? She replied: Two wings. He asked: A horse with two wings? She replied: Have you not heard that Solomon had horses with wings? She said: Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) laughed so heartily that I could see his molar teeth
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے آئے، اور ان کے گھر کے طاق پر پردہ پڑا تھا، اچانک ہوا چلی، تو پردے کا ایک کونا ہٹ گیا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیاں نظر آنے لگیں، آپ نے فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میری گڑیاں ہیں، آپ نے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا دیکھا جس میں کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے، پوچھا: یہ کیا ہے جسے میں ان کے بیچ میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولیں: گھوڑا، آپ نے فرمایا: اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے؟ وہ بولیں: دو بازو، آپ نے فرمایا: گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں؟ وہ بولیں: کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کا ایک گھوڑا تھا جس کے بازو تھے، یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ کی داڑھیں دیکھ لیں۔
PickthallAnd he said: Lo! I have preferred the good things (of the world) to the remembrance of my Lord; till they were taken out of sight behind the curtain.
Yusuf AliAnd he said, "Truly do I love the love of good, with a view to the glory of my Lord,"- until (the sun) was hidden in the veil (of night):
The agreed readingand he said: I have loved the love of good things over the remembrance of my Lord - until the sun was hidden behind the veil.
Urduاور انہوں نے کہا: میں نے اپنے رب کے ذکر پر ان خوبصورت گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دے دی، یہاں تک کہ سورج پوری طرح غروب ہو کر پردے میں چھپ گیا۔
Arabicفَقَالَ سليمان: إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ، هذه الخيل الأصيلة، عَنْ ذِكْرِ رَبِّي وعبادته فانشغلت بها كثيراً، حَتَّى تَوَارَتْ الشمس بِالْحِجَابِ فغربت تماماً وفاتته صلاة العصر.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived after the expedition to Tabuk or Khaybar (the narrator is doubtful), the draught raised an end of a curtain which was hung in front of her store-room, revealing some dolls which belonged to her. He asked: What is this? She replied: My dolls. Among them he saw a horse with wings made of rags, and asked: What is this I see among them? She replied: A horse. He asked: What is this that it has on it? She replied: Two wings. He asked: A horse with two wings? She replied: Have you not heard that Solomon had horses with wings? She said: Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) laughed so heartily that I could see his molar teeth
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے آئے، اور ان کے گھر کے طاق پر پردہ پڑا تھا، اچانک ہوا چلی، تو پردے کا ایک کونا ہٹ گیا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیاں نظر آنے لگیں، آپ نے فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میری گڑیاں ہیں، آپ نے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا دیکھا جس میں کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے، پوچھا: یہ کیا ہے جسے میں ان کے بیچ میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولیں: گھوڑا، آپ نے فرمایا: اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے؟ وہ بولیں: دو بازو، آپ نے فرمایا: گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں؟ وہ بولیں: کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کا ایک گھوڑا تھا جس کے بازو تھے، یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ کی داڑھیں دیکھ لیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى خَيْبَرَ لَيْلاً، وَكَانَ إِذَا أَتَى قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ بِهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتِ الْيَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ".
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) reached Khaibar at night and it was his habit that, whenever he reached the enemy at night, he will not attack them till it was morning. When it was morning, the Jews came out with their spades and baskets, and when they saw him(i.e. the Prophet (ﷺ) ), they said, "Muhammad! By Allah! Muhammad and his army!" The Prophet (ﷺ) said, "Khaibar is destroyed, for whenever we approach a (hostile) nation (to fight), then evil will be the morning for those who have been warned
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر رات کے وقت پہنچے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ جب کسی قوم پر حملہ کرنے کے لیے رات کے وقت موقع پر پہنچتے تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے بلکہ صبح ہو جاتی جب کرتے۔ چنانچہ صبح کے وقت یہودی اپنے کلہاڑے اور ٹوکرے لے کر باہر نکلے لیکن جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو شور کرنے لگے کہ محمد ‘ اللہ کی قسم! محمد لشکر لے کر آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیبر برباد ہوا ‘ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر جاتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔
Pickthall(Then he said): Bring them back to me, and fell to slashing (with his sword their) legs and necks.
Yusuf Ali"Bring them back to me." then began he to pass his hand over (their) legs and their necks.
The agreed readingBring them back to me, he said; and he set about passing his hand over their legs and necks.
Urduانہیں دوبارہ میرے پاس واپس لاؤ، انہوں نے یہ حکم دیا، اور پھر خود ان تمام گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر پیار سے اپنا ہاتھ پھیرنے لگے۔
Arabicرُدُّوهَا عَلَيَّ الآن، قال ذلك عن تلك الخيل الأصيلة بعدما غربت الشمس تماماً، فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ، يمسح على سوقها وأعناقها تقرباً وقرباناً لله سبحانه وتعالى.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived after the expedition to Tabuk or Khaybar (the narrator is doubtful), the draught raised an end of a curtain which was hung in front of her store-room, revealing some dolls which belonged to her. He asked: What is this? She replied: My dolls. Among them he saw a horse with wings made of rags, and asked: What is this I see among them? She replied: A horse. He asked: What is this that it has on it? She replied: Two wings. He asked: A horse with two wings? She replied: Have you not heard that Solomon had horses with wings? She said: Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) laughed so heartily that I could see his molar teeth
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے آئے، اور ان کے گھر کے طاق پر پردہ پڑا تھا، اچانک ہوا چلی، تو پردے کا ایک کونا ہٹ گیا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیاں نظر آنے لگیں، آپ نے فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میری گڑیاں ہیں، آپ نے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا دیکھا جس میں کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے، پوچھا: یہ کیا ہے جسے میں ان کے بیچ میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولیں: گھوڑا، آپ نے فرمایا: اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے؟ وہ بولیں: دو بازو، آپ نے فرمایا: گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں؟ وہ بولیں: کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کا ایک گھوڑا تھا جس کے بازو تھے، یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ کی داڑھیں دیکھ لیں۔
PickthallAnd verily We tried Solomon, and set upon his throne a (mere) body. Then did he repent.
Yusuf AliAnd We did try Solomon: We placed on his throne a body (without life); but he did turn (to Us in true devotion):
The agreed readingAnd God tested Solomon, and cast upon his throne a mere body; then he turned back to God.
Urduاور اللہ نے سلیمان علیہ السلام کو آزمایا، اور ان کے تخت پر ایک محض جسم ڈال دیا تھا، پھر انہوں نے سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع کیا۔
Arabicوَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ اختباراً وامتحاناً شديداً، وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا شيطاناً تمثل بجسد إنسان تصرف في ملكه أياماً معدودة، ثُمَّ أَنَابَ سليمان إلى ربه بالتوبة الصادقة بعد ذلك.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn ʿĀshūr، the King Fahd Complex في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Baghawī, al-Qurṭubī, Ibn ʿĀshūr and the King Fahd Complex on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn ʿĀshūr، the King Fahd Complex نے اس آیت پر نقل کیا
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:"Sulaiman bin Dawud said: 'Tonight I will go around ninety women, each of whom will bear a horseman who will perform Jihad in the cause of Allah.' His companion said to him: 'If Allah wills.' But he did not say: 'If Allah wills.' Then he went around to them all, but none of them got pregnant except a woman who bore half a man. By the One in Whose Hand is my soul! If he had said, 'If Allah wills,' they would all have performed Jihad in the cause of Allah as horsemen
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے ( قسم کھا کر ) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ۱؎۔
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ ـ أَوْ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ ـ كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَلَمْ يَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ ".
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger (ﷺ) said, "Once Solomon, son of David said, '(By Allah) Tonight I will have sexual intercourse with one hundred (or ninety-nine) women each of whom will give birth to a knight who will fight in Allah's Cause.' On that, a companion (angel) said to him, "(Say) Allah willing", but he did not say, "Allah willing." Therefore only one of those women conceived and gave birth to a half-man. By Him in Whose Hands Muhammad's life is, if he had said, "Allah willing', (he would have begotten sons) all of whom would have been knights striving in Allah's Cause
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن ہرمز نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے فرمایا آج رات اپنی سو یا ( راوی کو شک تھا ) ننانوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک ایک شہسوار جنے گی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ بھی کہہ لیجئے لیکن انہوں نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئیں اور ان کے بھی آدھا بچہ پیدا ہوا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر سلیمان علیہ السلام اس وقت ان شاءاللہ کہہ لیتے تو ( تمام بیویاں حاملہ ہوتیں اور ) سب کے یہاں ایسے شہسوار بچے پیدا …
It was narrated that Abu Ad-Darda' said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stood praying, and we heard him say: 'I seek refuge with Allah from you.' Then he said: 'I curse you with the curse of Allah (SWT),' three times and stretched out his hand as if to take something. When he finished praying we said: 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer that we have never heard you say before, and we saw you stretch out your hand.' He said: 'The enemy of Allah (SWT), Iblis, came with a brand of fire to throw it in my face, so I said: I seek refuge with Allah from you three times, then I wanted to take hold of him. By Allah (SWT), were it not for the prayer of our brother Sulaiman, …
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: «ألعنك بلعنة اللہ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار …
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Last night a demon from the Jinns came to me (or the Prophet (ﷺ) said, a similar sentence) to disturb my prayer, but Allah gave me the power to overcome him. I intended to tie him to one of the pillars of the mosque till the morning so that all of you could see him, but then I remembered the Statement of my brother Solomon:--'My Lord! Forgive me and bestow on me a kingdom such as shall not belong to any other after me.' (38.35) The narrator added: Then he (the Prophet) dismissed him, rejected
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ اور محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ رات ایک سرکش جِن اچانک میرے پاس آیا، یا اسی طرح کا کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاکہ میری نماز خراب کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کے وقت تم سب لوگ بھی اسے دیکھ سکو۔ پھر مجھ کو اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی «رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي» کہ ”اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو۔“ روح نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جِن کو ذلت کے …
Abu Huraira reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:A highly wicked one amongst the Jinn escaped yesternight to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you, all together or all, might look at him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman:" My Lord, forgive me, give me such a kingdom as will not be possible for anyone after me" (Qur'an, xxxvii)
اسحاق بن ابراہیم اور اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں محمد نے ، جو ابن زیاد ہے ، حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملے کرنے لگا تا کہ میری نماز توڑ دے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں کر دیا تو میں نے زور سے اس کا گلا گھونٹا اور یہ ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب دیکھ سکو ، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا : ‘ ‘ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کے لائق …
Abu Darda' reported:Allah's Messenger (ﷺ) stood up (to pray) and we heard him say:" I seek refuge in Allah from thee." Then said:" curse thee with Allah's curse" three times, then he stretched out his hand as though he was taking hold of something. When he finished the prayer, we said: Messenger of Allah, we heard you say something during the prayer which we have not heard you say before, and we saw you stretch out your hand. He replied: Allah's enemy Iblis came with a flame of fire to put it in my face, so I said three times:" I Seek refuge in Allah from thee." Then I said three times:" I curse thee with Allah's full curse." But he did not retreat (on any one of these) three occasions. …
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قیام ( کی حالت ) میں تھے کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا میں آتا ہوں ۔ ’’ پھر آپ نے فرمایا : ‘ ‘ میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں ۔ ’’ آپ نے یہ تین بار کہا اور آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، گویا کہ آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آب کو نماز میں کچھ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے آب کو کبھی کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ ( آگے ) بڑھایا ۔ آب نے فرمایا ‘ ‘ اللہ دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تا کہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے ، میں نے تین دفعہ اعوذ باللہ منک ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا ہ مانگتا ہوں’’ کہا ، پھر …
Abu 'Ubaid said:I saw 'Ata b. Yazid al-Laithi praying in a standing posture. So I went to him passing in front of him; he, therefore, turned me away. He then said to me: Abu Sa'id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone of you can do that he should not let anyone pass between him and the qiblah, he should do it
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا، پھر ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے ( یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے ) ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever drinks wine and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents Allah will accept his repentance. But if he does it again, then Allah will most certainly make him drink of the mire of the puss or …
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پی کر مست ہو جائے ( نشہ ہو جائے ) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، …
It was narrated that 'Abdullah bin Ad-Dailami said:"I entered upon 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As when he was in a garden of his in At-Ta'if called Al-Waht. He was walking and holding hands with a young man of Quraish who was suspected of drinking Khamr. He said: 'I heard the Messenger of Allah [SAW] say: Whoever drinks Khamr once, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it …
قاسم بن زکریا بن دینار نے ہمیں خبر دی، کہا: معاویہ بن عمرو نے ہمیں حدیث بیان کی، ابو اسحاق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ربیعہ بن یزید نے ہمیں حدیث بیان کی۔ اور عمرو بن عثمان بن سعید نے ہمیں خبر دی، بقیہ سے، ابی عمرو سے - اور وہ اوزاعی ہے - ربیعہ بن یزید سے، عبد اللہ بن دیلمی سے، انہوں نے کہا: میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے پاس گیا جب وہ طائف میں اپنے ایک باغ میں تھے جسے الوہط کہا جاتا ہے اور وہ قریش کے ایک نوجوان کو ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اور اس نوجوان کو شراب پینے کا مشکوک ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا کہتے ہوئے: جو شخص ایک بار شراب پیے تو اس کی توبہ چالیس دن قبول نہیں ہوگی۔ پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallHe said: My Lord! Forgive me and bestow on me sovereignty such as shall not belong to any after me. Lo! Thou art the Bestower.
Yusuf AliHe said, "O my Lord! Forgive me, and grant me a kingdom which, (it may be), suits not another after me: for Thou art the Grantor of Bounties (without measure).
The agreed readingHe said: my Lord, forgive me, and give me a kingdom that will not be fitting for anyone after me. You are the Bestower.
Urduانہوں نے کہا: اے میرے رب، مجھے بخش دے، اور مجھے ایسی بادشاہت عطا کر جو میرے بعد کسی اور کے لیے مناسب نہ ہو۔ تو ہی سب سے زیادہ عطا کرنے والا ہے۔
Arabicقَالَ سليمان داعياً ربه: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذنوبي كلها، وَهَبْ لِي مُلْكًا عظيماً لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي أن يناله مثله أبداً، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ الكريم الجواد.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Qurṭubī، Ibn ʿĀshūr، the King Fahd Complex في هذه الآية
Cited by al-Qurṭubī, Ibn ʿĀshūr and the King Fahd Complex on this āyah
al-Qurṭubī، Ibn ʿĀshūr، the King Fahd Complex نے اس آیت پر نقل کیا
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:"Sulaiman bin Dawud said: 'Tonight I will go around ninety women, each of whom will bear a horseman who will perform Jihad in the cause of Allah.' His companion said to him: 'If Allah wills.' But he did not say: 'If Allah wills.' Then he went around to them all, but none of them got pregnant except a woman who bore half a man. By the One in Whose Hand is my soul! If he had said, 'If Allah wills,' they would all have performed Jihad in the cause of Allah as horsemen
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے ( قسم کھا کر ) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ۱؎۔
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "A strong demon from the Jinns came to me yesterday suddenly, so as to spoil my prayer, but Allah enabled me to overpower him, and so I caught him and intended to tie him to one of the pillars of the Mosque so that all of you might see him, but I remembered the invocation of my brother Solomon: 'And grant me a kingdom such as shall not belong to any other after me.' (38.35) so I let him go cursed
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک سرکش جن کل رات میرے سامنے آ گیا تاکہ میری نماز خراب کر دے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے اسے پکڑ لیا۔ پھر میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں کہ تم سب لوگ بھی دیکھ سکو۔ لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی کہ یا اللہ! مجھے ایسی سلطنت دے جو میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو۔ اس لیے میں نے اسے نامراد واپس کر دیا۔ «عفريت» سرکش کے معنی میں ہے، خواہ انسانوں میں سے ہو یا جنوں میں سے۔“
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "(The Prophet) Solomon once said, 'Tonight I will sleep with ninety women, each of whom will bring forth a (would-be) cavalier who will fight in Allah's Cause." On this, his companion said to him, "Say: Allah willing!" But he did not say Allah willing. Solomon then slept with all the women, but none of them became pregnant but one woman who later delivered a halfman. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if he (Solomon) had said, 'Allah willing' (all his wives would have brought forth boys) and they would have fought in Allah's Cause as cavaliers
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سلیمان علیہ السلام نے ایک دن کہا کہ آج میں رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک کے یہاں ایک گھوڑ سوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ۔ لیکن سلیمان علیہ السلام نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کو حمل نہیں ہوا اور اس سے بھی ناقص بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ( تمام بیویوں کے یہاں بچے پیدا ہوتے ) اور سب گھوڑوں پر …
It was narrated that Abu Ad-Darda' said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stood praying, and we heard him say: 'I seek refuge with Allah from you.' Then he said: 'I curse you with the curse of Allah (SWT),' three times and stretched out his hand as if to take something. When he finished praying we said: 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer that we have never heard you say before, and we saw you stretch out your hand.' He said: 'The enemy of Allah (SWT), Iblis, came with a brand of fire to throw it in my face, so I said: I seek refuge with Allah from you three times, then I wanted to take hold of him. By Allah (SWT), were it not for the prayer of our brother Sulaiman, …
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: «ألعنك بلعنة اللہ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار …
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Last night a demon from the Jinns came to me (or the Prophet (ﷺ) said, a similar sentence) to disturb my prayer, but Allah gave me the power to overcome him. I intended to tie him to one of the pillars of the mosque till the morning so that all of you could see him, but then I remembered the Statement of my brother Solomon:--'My Lord! Forgive me and bestow on me a kingdom such as shall not belong to any other after me.' (38.35) The narrator added: Then he (the Prophet) dismissed him, rejected
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ اور محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ رات ایک سرکش جِن اچانک میرے پاس آیا، یا اسی طرح کا کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاکہ میری نماز خراب کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کے وقت تم سب لوگ بھی اسے دیکھ سکو۔ پھر مجھ کو اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی «رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي» کہ ”اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو۔“ روح نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جِن کو ذلت کے …
Abu Huraira reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:A highly wicked one amongst the Jinn escaped yesternight to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you, all together or all, might look at him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman:" My Lord, forgive me, give me such a kingdom as will not be possible for anyone after me" (Qur'an, xxxvii)
اسحاق بن ابراہیم اور اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں محمد نے ، جو ابن زیاد ہے ، حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملے کرنے لگا تا کہ میری نماز توڑ دے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں کر دیا تو میں نے زور سے اس کا گلا گھونٹا اور یہ ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب دیکھ سکو ، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا : ‘ ‘ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کے لائق …
Abu Darda' reported:Allah's Messenger (ﷺ) stood up (to pray) and we heard him say:" I seek refuge in Allah from thee." Then said:" curse thee with Allah's curse" three times, then he stretched out his hand as though he was taking hold of something. When he finished the prayer, we said: Messenger of Allah, we heard you say something during the prayer which we have not heard you say before, and we saw you stretch out your hand. He replied: Allah's enemy Iblis came with a flame of fire to put it in my face, so I said three times:" I Seek refuge in Allah from thee." Then I said three times:" I curse thee with Allah's full curse." But he did not retreat (on any one of these) three occasions. …
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قیام ( کی حالت ) میں تھے کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا میں آتا ہوں ۔ ’’ پھر آپ نے فرمایا : ‘ ‘ میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں ۔ ’’ آپ نے یہ تین بار کہا اور آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، گویا کہ آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آب کو نماز میں کچھ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے آب کو کبھی کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ ( آگے ) بڑھایا ۔ آب نے فرمایا ‘ ‘ اللہ دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تا کہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے ، میں نے تین دفعہ اعوذ باللہ منک ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا ہ مانگتا ہوں’’ کہا ، پھر …
Abu 'Ubaid said:I saw 'Ata b. Yazid al-Laithi praying in a standing posture. So I went to him passing in front of him; he, therefore, turned me away. He then said to me: Abu Sa'id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone of you can do that he should not let anyone pass between him and the qiblah, he should do it
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا، پھر ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے ( یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے ) ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever drinks wine and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents Allah will accept his repentance. But if he does it again, then Allah will most certainly make him drink of the mire of the puss or …
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پی کر مست ہو جائے ( نشہ ہو جائے ) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، …
PickthallSo We made the wind subservient unto him, setting fair by his command whithersoever he intended.
Yusuf AliThen We subjected the wind to his power, to flow gently to his order, Whithersoever he willed,-
The agreed readingSo God made the wind subject to him, running gently at his command wherever he directed it,
Urduاللہ نے ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے پوری طرح تابع کر دیا تھا، وہ ان کے حکم سے بڑی نرمی سے چلتی تھی جہاں کہیں بھی وہ چاہتے تھے وہاں،
Arabicفَسَخَّرْنَا لِسليمان لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً لينة طيعة هادئة لا عاصفة قوية، حَيْثُ أَصَابَ أراد، تحمله إلى أي مكان يقصده بسرعة كبيرة فائقة العجب.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Abu Ad-Darda' said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stood praying, and we heard him say: 'I seek refuge with Allah from you.' Then he said: 'I curse you with the curse of Allah (SWT),' three times and stretched out his hand as if to take something. When he finished praying we said: 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer that we have never heard you say before, and we saw you stretch out your hand.' He said: 'The enemy of Allah (SWT), Iblis, came with a brand of fire to throw it in my face, so I said: I seek refuge with Allah from you three times, then I wanted to take hold of him. By Allah (SWT), were it not for the prayer of our brother Sulaiman, …
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: «ألعنك بلعنة اللہ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار …
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:"Sulaiman bin Dawud said: 'Tonight I will go around ninety women, each of whom will bear a horseman who will perform Jihad in the cause of Allah.' His companion said to him: 'If Allah wills.' But he did not say: 'If Allah wills.' Then he went around to them all, but none of them got pregnant except a woman who bore half a man. By the One in Whose Hand is my soul! If he had said, 'If Allah wills,' they would all have performed Jihad in the cause of Allah as horsemen
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے ( قسم کھا کر ) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ۱؎۔
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Last night a demon from the Jinns came to me (or the Prophet (ﷺ) said, a similar sentence) to disturb my prayer, but Allah gave me the power to overcome him. I intended to tie him to one of the pillars of the mosque till the morning so that all of you could see him, but then I remembered the Statement of my brother Solomon:--'My Lord! Forgive me and bestow on me a kingdom such as shall not belong to any other after me.' (38.35) The narrator added: Then he (the Prophet) dismissed him, rejected
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ اور محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ رات ایک سرکش جِن اچانک میرے پاس آیا، یا اسی طرح کا کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاکہ میری نماز خراب کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کے وقت تم سب لوگ بھی اسے دیکھ سکو۔ پھر مجھ کو اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی «رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي» کہ ”اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو۔“ روح نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جِن کو ذلت کے …
Abu Huraira reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:A highly wicked one amongst the Jinn escaped yesternight to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you, all together or all, might look at him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman:" My Lord, forgive me, give me such a kingdom as will not be possible for anyone after me" (Qur'an, xxxvii)
اسحاق بن ابراہیم اور اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں محمد نے ، جو ابن زیاد ہے ، حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملے کرنے لگا تا کہ میری نماز توڑ دے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں کر دیا تو میں نے زور سے اس کا گلا گھونٹا اور یہ ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب دیکھ سکو ، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا : ‘ ‘ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کے لائق …
Abu Darda' reported:Allah's Messenger (ﷺ) stood up (to pray) and we heard him say:" I seek refuge in Allah from thee." Then said:" curse thee with Allah's curse" three times, then he stretched out his hand as though he was taking hold of something. When he finished the prayer, we said: Messenger of Allah, we heard you say something during the prayer which we have not heard you say before, and we saw you stretch out your hand. He replied: Allah's enemy Iblis came with a flame of fire to put it in my face, so I said three times:" I Seek refuge in Allah from thee." Then I said three times:" I curse thee with Allah's full curse." But he did not retreat (on any one of these) three occasions. …
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قیام ( کی حالت ) میں تھے کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا میں آتا ہوں ۔ ’’ پھر آپ نے فرمایا : ‘ ‘ میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں ۔ ’’ آپ نے یہ تین بار کہا اور آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، گویا کہ آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آب کو نماز میں کچھ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے آب کو کبھی کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ ( آگے ) بڑھایا ۔ آب نے فرمایا ‘ ‘ اللہ دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تا کہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے ، میں نے تین دفعہ اعوذ باللہ منک ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا ہ مانگتا ہوں’’ کہا ، پھر …
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "(The Prophet) Solomon once said, 'Tonight I will sleep with ninety women, each of whom will bring forth a (would-be) cavalier who will fight in Allah's Cause." On this, his companion said to him, "Say: Allah willing!" But he did not say Allah willing. Solomon then slept with all the women, but none of them became pregnant but one woman who later delivered a halfman. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if he (Solomon) had said, 'Allah willing' (all his wives would have brought forth boys) and they would have fought in Allah's Cause as cavaliers
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سلیمان علیہ السلام نے ایک دن کہا کہ آج میں رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک کے یہاں ایک گھوڑ سوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ۔ لیکن سلیمان علیہ السلام نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کو حمل نہیں ہوا اور اس سے بھی ناقص بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ( تمام بیویوں کے یہاں بچے پیدا ہوتے ) اور سب گھوڑوں پر …
Abu 'Ubaid said:I saw 'Ata b. Yazid al-Laithi praying in a standing posture. So I went to him passing in front of him; he, therefore, turned me away. He then said to me: Abu Sa'id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone of you can do that he should not let anyone pass between him and the qiblah, he should do it
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا، پھر ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے ( یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے ) ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever drinks wine and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents Allah will accept his repentance. But if he does it again, then Allah will most certainly make him drink of the mire of the puss or …
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پی کر مست ہو جائے ( نشہ ہو جائے ) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، …
It was narrated that 'Abdullah bin Ad-Dailami said:"I entered upon 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As when he was in a garden of his in At-Ta'if called Al-Waht. He was walking and holding hands with a young man of Quraish who was suspected of drinking Khamr. He said: 'I heard the Messenger of Allah [SAW] say: Whoever drinks Khamr once, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it …
قاسم بن زکریا بن دینار نے ہمیں خبر دی، کہا: معاویہ بن عمرو نے ہمیں حدیث بیان کی، ابو اسحاق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ربیعہ بن یزید نے ہمیں حدیث بیان کی۔ اور عمرو بن عثمان بن سعید نے ہمیں خبر دی، بقیہ سے، ابی عمرو سے - اور وہ اوزاعی ہے - ربیعہ بن یزید سے، عبد اللہ بن دیلمی سے، انہوں نے کہا: میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے پاس گیا جب وہ طائف میں اپنے ایک باغ میں تھے جسے الوہط کہا جاتا ہے اور وہ قریش کے ایک نوجوان کو ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اور اس نوجوان کو شراب پینے کا مشکوک ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا کہتے ہوئے: جو شخص ایک بار شراب پیے تو اس کی توبہ چالیس دن قبول نہیں ہوگی۔ پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd the unruly, every builder and diver (made We subservient),
Yusuf AliAs also the evil ones, (including) every kind of builder and diver,-
The agreed readingand the satans too - every builder of wonders and every diver who brought up pearls,
Urduاور شیطانوں کو بھی ان کے تابع کر دیا گیا تھا، ہر ماہر عمارت بنانے والا اور ہر ماہر غوطہ خور جو سمندر کی تہہ سے قیمتی موتی نکال لاتا تھا،
Arabicوَالشَّيَاطِينَ أيضاً سخرنا له، كُلَّ بَنَّاءٍ ماهر منهم يبني له الأبنية والقصور العظيمة الشاهقة، وَغَوَّاصٍ ماهر يغوص في أعماق البحار فيستخرج له الدُّر واللآلئ الثمينة النفيسة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Abu Ad-Darda' said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stood praying, and we heard him say: 'I seek refuge with Allah from you.' Then he said: 'I curse you with the curse of Allah (SWT),' three times and stretched out his hand as if to take something. When he finished praying we said: 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer that we have never heard you say before, and we saw you stretch out your hand.' He said: 'The enemy of Allah (SWT), Iblis, came with a brand of fire to throw it in my face, so I said: I seek refuge with Allah from you three times, then I wanted to take hold of him. By Allah (SWT), were it not for the prayer of our brother Sulaiman, …
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: «ألعنك بلعنة اللہ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار …
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Last night a demon from the Jinns came to me (or the Prophet (ﷺ) said, a similar sentence) to disturb my prayer, but Allah gave me the power to overcome him. I intended to tie him to one of the pillars of the mosque till the morning so that all of you could see him, but then I remembered the Statement of my brother Solomon:--'My Lord! Forgive me and bestow on me a kingdom such as shall not belong to any other after me.' (38.35) The narrator added: Then he (the Prophet) dismissed him, rejected
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ اور محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ رات ایک سرکش جِن اچانک میرے پاس آیا، یا اسی طرح کا کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاکہ میری نماز خراب کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کے وقت تم سب لوگ بھی اسے دیکھ سکو۔ پھر مجھ کو اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی «رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي» کہ ”اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو۔“ روح نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جِن کو ذلت کے …
Abu Huraira reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:A highly wicked one amongst the Jinn escaped yesternight to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you, all together or all, might look at him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman:" My Lord, forgive me, give me such a kingdom as will not be possible for anyone after me" (Qur'an, xxxvii)
اسحاق بن ابراہیم اور اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں محمد نے ، جو ابن زیاد ہے ، حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملے کرنے لگا تا کہ میری نماز توڑ دے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں کر دیا تو میں نے زور سے اس کا گلا گھونٹا اور یہ ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب دیکھ سکو ، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا : ‘ ‘ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کے لائق …
Abu Darda' reported:Allah's Messenger (ﷺ) stood up (to pray) and we heard him say:" I seek refuge in Allah from thee." Then said:" curse thee with Allah's curse" three times, then he stretched out his hand as though he was taking hold of something. When he finished the prayer, we said: Messenger of Allah, we heard you say something during the prayer which we have not heard you say before, and we saw you stretch out your hand. He replied: Allah's enemy Iblis came with a flame of fire to put it in my face, so I said three times:" I Seek refuge in Allah from thee." Then I said three times:" I curse thee with Allah's full curse." But he did not retreat (on any one of these) three occasions. …
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قیام ( کی حالت ) میں تھے کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا میں آتا ہوں ۔ ’’ پھر آپ نے فرمایا : ‘ ‘ میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں ۔ ’’ آپ نے یہ تین بار کہا اور آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، گویا کہ آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آب کو نماز میں کچھ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے آب کو کبھی کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ ( آگے ) بڑھایا ۔ آب نے فرمایا ‘ ‘ اللہ دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تا کہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے ، میں نے تین دفعہ اعوذ باللہ منک ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا ہ مانگتا ہوں’’ کہا ، پھر …
Abu 'Ubaid said:I saw 'Ata b. Yazid al-Laithi praying in a standing posture. So I went to him passing in front of him; he, therefore, turned me away. He then said to me: Abu Sa'id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone of you can do that he should not let anyone pass between him and the qiblah, he should do it
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا، پھر ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے ( یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے ) ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever drinks wine and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents Allah will accept his repentance. But if he does it again, then Allah will most certainly make him drink of the mire of the puss or …
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پی کر مست ہو جائے ( نشہ ہو جائے ) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، …
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:"Sulaiman bin Dawud said: 'Tonight I will go around ninety women, each of whom will bear a horseman who will perform Jihad in the cause of Allah.' His companion said to him: 'If Allah wills.' But he did not say: 'If Allah wills.' Then he went around to them all, but none of them got pregnant except a woman who bore half a man. By the One in Whose Hand is my soul! If he had said, 'If Allah wills,' they would all have performed Jihad in the cause of Allah as horsemen
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے ( قسم کھا کر ) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ۱؎۔
It was narrated that 'Abdullah bin Ad-Dailami said:"I entered upon 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As when he was in a garden of his in At-Ta'if called Al-Waht. He was walking and holding hands with a young man of Quraish who was suspected of drinking Khamr. He said: 'I heard the Messenger of Allah [SAW] say: Whoever drinks Khamr once, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it …
قاسم بن زکریا بن دینار نے ہمیں خبر دی، کہا: معاویہ بن عمرو نے ہمیں حدیث بیان کی، ابو اسحاق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ربیعہ بن یزید نے ہمیں حدیث بیان کی۔ اور عمرو بن عثمان بن سعید نے ہمیں خبر دی، بقیہ سے، ابی عمرو سے - اور وہ اوزاعی ہے - ربیعہ بن یزید سے، عبد اللہ بن دیلمی سے، انہوں نے کہا: میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے پاس گیا جب وہ طائف میں اپنے ایک باغ میں تھے جسے الوہط کہا جاتا ہے اور وہ قریش کے ایک نوجوان کو ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اور اس نوجوان کو شراب پینے کا مشکوک ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا کہتے ہوئے: جو شخص ایک بار شراب پیے تو اس کی توبہ چالیس دن قبول نہیں ہوگی۔ پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "(The Prophet) Solomon once said, 'Tonight I will sleep with ninety women, each of whom will bring forth a (would-be) cavalier who will fight in Allah's Cause." On this, his companion said to him, "Say: Allah willing!" But he did not say Allah willing. Solomon then slept with all the women, but none of them became pregnant but one woman who later delivered a halfman. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if he (Solomon) had said, 'Allah willing' (all his wives would have brought forth boys) and they would have fought in Allah's Cause as cavaliers
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سلیمان علیہ السلام نے ایک دن کہا کہ آج میں رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک کے یہاں ایک گھوڑ سوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ۔ لیکن سلیمان علیہ السلام نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کو حمل نہیں ہوا اور اس سے بھی ناقص بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ( تمام بیویوں کے یہاں بچے پیدا ہوتے ) اور سب گھوڑوں پر …
Yusuf AliAs also others bound together in fetters.
The agreed readingand others among them bound together in fetters, their hands gathered to their necks.
Urduاور کچھ اور سرکش شیطانوں کو بھی بھاری بھاری زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، ان کے ہاتھ ان کی گردنوں کے ساتھ مضبوطی سے باندھے ہوئے تھے۔
Arabicوَآخَرِينَ من مردة الشياطين العصاة مُقَرَّنِينَ مربوطين فِي الأصفاد والأغلال الثقيلة، موثقين مربوطين بعضهم مع بعض بقوة شديدة، لا يستطيعون حراكاً ولا فراراً منها أبداً مطلقاً.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
حدثنا أحمد بن يحيى المكتب، قال: حدثنا أبو الطيب أحمد بن محمد الوراق، قال: حدثنا علي بن هارون الحميري، قال: حدثنا علي بن محمد بن سليمان النوفلي، قال: حدثني أبي، عن علي بن يقطين: قال: قلت لأبي الحسن موسى بن جعفر عليهما السلام: أيجوز أن يكون نبي الله عز وجل بخيلا؟ فقال: لا فقلت له: فقول سليمان عليه السلام " رب اغفر لي وهب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي " ما وجهه؟ ومعناه؟ فقال: الملك ملكان مأخوذ بالغلبة والجور واختيار الناس، وملك مأخوذ من قبل الله تبارك وتعالى كملك آل إبراهيم وملك طالوت وذي القرنين، فقال سليمان عليه السلام هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي أن يقول إنه مأخوذ بالغلبة والجور واختيار الناس، فسخر الله تبارك وتعالى له الريح تجري بأمره رخاء حيث أصاب وجعل غدوها شهرا ورواحها شهرا، وسخر …
1. We were told by Ahmad bin Ahmad bin Yahya al-Mukattab, that he said: We were told by Abu’l-Teeb, Ahmad bin Muhammed al-Warraq, that he said: We were told by Ali bin Harun al-Himyari, that he said: We were told by Ali bin Muhammed bin Sulayman al-Nawfali, that he said: I was told by my father, from Ali bin Yaqteen, that he said: I said to Abu’l-Hasan, Musa bin Ja’far, peace be upon them both: Is it permissible for a Prophet of Allah, Exalted and Glorious is He, to be stingy? He said: No. Then I said: Then what is the indication of the saying of Sulayman, peace be upon him: «My Lord, forgive me and grant me a kingdom that shall not be for anyone after me» (38:35)? And what is its meaning? …
احمد بن يحيى المكتب نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا ابو الطيب احمد بن محمد الورّاق نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا علي بن ہارون الحميري نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا علي بن محمد بن سليمان النوفلي نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، علي بن يقطين سے کہا: میں نے ابو الحسن موسیٰ بن جعفر (عليہما السلام) سے کہا: کیا اللہ کا نبی بخیل ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو میں نے کہا: پھر سليمان (عليہ السلام) کے فرمان کا کیا مطلب ہے: 'اے رب، مجھے بخش اور مجھے ایسی بادشاہی عطا کر جو میرے بعد کسی کے لیے نہ ہو'؟ امام نے کہا: بادشاہی دو قسم کی ہے: ایک بادشاہی جو غلبہ، ظلم اور لوگوں کے انتخاب سے لی جائے، اور ایک بادشاہی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو - جیسے ابراہيم کی آل کی بادشاہی، …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that Abu Ad-Darda' said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stood praying, and we heard him say: 'I seek refuge with Allah from you.' Then he said: 'I curse you with the curse of Allah (SWT),' three times and stretched out his hand as if to take something. When he finished praying we said: 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer that we have never heard you say before, and we saw you stretch out your hand.' He said: 'The enemy of Allah (SWT), Iblis, came with a brand of fire to throw it in my face, so I said: I seek refuge with Allah from you three times, then I wanted to take hold of him. By Allah (SWT), were it not for the prayer of our brother Sulaiman, …
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: «ألعنك بلعنة اللہ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار …
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Last night a demon from the Jinns came to me (or the Prophet (ﷺ) said, a similar sentence) to disturb my prayer, but Allah gave me the power to overcome him. I intended to tie him to one of the pillars of the mosque till the morning so that all of you could see him, but then I remembered the Statement of my brother Solomon:--'My Lord! Forgive me and bestow on me a kingdom such as shall not belong to any other after me.' (38.35) The narrator added: Then he (the Prophet) dismissed him, rejected
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ اور محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ رات ایک سرکش جِن اچانک میرے پاس آیا، یا اسی طرح کا کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاکہ میری نماز خراب کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کے وقت تم سب لوگ بھی اسے دیکھ سکو۔ پھر مجھ کو اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی «رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي» کہ ”اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو۔“ روح نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جِن کو ذلت کے …
Abu Huraira reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:A highly wicked one amongst the Jinn escaped yesternight to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you, all together or all, might look at him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman:" My Lord, forgive me, give me such a kingdom as will not be possible for anyone after me" (Qur'an, xxxvii)
اسحاق بن ابراہیم اور اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں محمد نے ، جو ابن زیاد ہے ، حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملے کرنے لگا تا کہ میری نماز توڑ دے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں کر دیا تو میں نے زور سے اس کا گلا گھونٹا اور یہ ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب دیکھ سکو ، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا : ‘ ‘ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کے لائق …
Abu Darda' reported:Allah's Messenger (ﷺ) stood up (to pray) and we heard him say:" I seek refuge in Allah from thee." Then said:" curse thee with Allah's curse" three times, then he stretched out his hand as though he was taking hold of something. When he finished the prayer, we said: Messenger of Allah, we heard you say something during the prayer which we have not heard you say before, and we saw you stretch out your hand. He replied: Allah's enemy Iblis came with a flame of fire to put it in my face, so I said three times:" I Seek refuge in Allah from thee." Then I said three times:" I curse thee with Allah's full curse." But he did not retreat (on any one of these) three occasions. …
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قیام ( کی حالت ) میں تھے کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا میں آتا ہوں ۔ ’’ پھر آپ نے فرمایا : ‘ ‘ میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں ۔ ’’ آپ نے یہ تین بار کہا اور آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، گویا کہ آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آب کو نماز میں کچھ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے آب کو کبھی کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ ( آگے ) بڑھایا ۔ آب نے فرمایا ‘ ‘ اللہ دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تا کہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے ، میں نے تین دفعہ اعوذ باللہ منک ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا ہ مانگتا ہوں’’ کہا ، پھر …
Abu 'Ubaid said:I saw 'Ata b. Yazid al-Laithi praying in a standing posture. So I went to him passing in front of him; he, therefore, turned me away. He then said to me: Abu Sa'id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone of you can do that he should not let anyone pass between him and the qiblah, he should do it
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا، پھر ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے ( یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے ) ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever drinks wine and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents Allah will accept his repentance. But if he does it again, then Allah will most certainly make him drink of the mire of the puss or …
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پی کر مست ہو جائے ( نشہ ہو جائے ) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، …
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:"Sulaiman bin Dawud said: 'Tonight I will go around ninety women, each of whom will bear a horseman who will perform Jihad in the cause of Allah.' His companion said to him: 'If Allah wills.' But he did not say: 'If Allah wills.' Then he went around to them all, but none of them got pregnant except a woman who bore half a man. By the One in Whose Hand is my soul! If he had said, 'If Allah wills,' they would all have performed Jihad in the cause of Allah as horsemen
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے ( قسم کھا کر ) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ۱؎۔
It was narrated that 'Abdullah bin Ad-Dailami said:"I entered upon 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As when he was in a garden of his in At-Ta'if called Al-Waht. He was walking and holding hands with a young man of Quraish who was suspected of drinking Khamr. He said: 'I heard the Messenger of Allah [SAW] say: Whoever drinks Khamr once, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it …
قاسم بن زکریا بن دینار نے ہمیں خبر دی، کہا: معاویہ بن عمرو نے ہمیں حدیث بیان کی، ابو اسحاق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ربیعہ بن یزید نے ہمیں حدیث بیان کی۔ اور عمرو بن عثمان بن سعید نے ہمیں خبر دی، بقیہ سے، ابی عمرو سے - اور وہ اوزاعی ہے - ربیعہ بن یزید سے، عبد اللہ بن دیلمی سے، انہوں نے کہا: میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے پاس گیا جب وہ طائف میں اپنے ایک باغ میں تھے جسے الوہط کہا جاتا ہے اور وہ قریش کے ایک نوجوان کو ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اور اس نوجوان کو شراب پینے کا مشکوک ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا کہتے ہوئے: جو شخص ایک بار شراب پیے تو اس کی توبہ چالیس دن قبول نہیں ہوگی۔ پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Pickthall(Saying): This is Our gift, so bestow thou, or withhold, without reckoning.
Yusuf Ali"Such are Our Bounties: whether thou bestow them (on others) or withhold them, no account will be asked."
The agreed readingThis is Our gift to you, so give of it or hold it back, with no reckoning against you for either.
Urduیہ ہماری طرف سے تمہیں عطا کیا گیا انعام ہے، سو تم چاہو تو اس میں سے لوگوں کو دو یا اپنے پاس روک لو، اس پر تم سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔
Arabicهَذَا عَطَاؤُنَا الجزيل الواسع لك يا سليمان، فَامْنُنْ به على من شئت من الناس أَوْ أَمْسِكْهُ عمن شئت منعه، بِغَيْرِ حِسَابٍ عليك في العطاء ولا في المنع أبداً.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Abu Ad-Darda' said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stood praying, and we heard him say: 'I seek refuge with Allah from you.' Then he said: 'I curse you with the curse of Allah (SWT),' three times and stretched out his hand as if to take something. When he finished praying we said: 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer that we have never heard you say before, and we saw you stretch out your hand.' He said: 'The enemy of Allah (SWT), Iblis, came with a brand of fire to throw it in my face, so I said: I seek refuge with Allah from you three times, then I wanted to take hold of him. By Allah (SWT), were it not for the prayer of our brother Sulaiman, …
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: «ألعنك بلعنة اللہ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار …
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Last night a demon from the Jinns came to me (or the Prophet (ﷺ) said, a similar sentence) to disturb my prayer, but Allah gave me the power to overcome him. I intended to tie him to one of the pillars of the mosque till the morning so that all of you could see him, but then I remembered the Statement of my brother Solomon:--'My Lord! Forgive me and bestow on me a kingdom such as shall not belong to any other after me.' (38.35) The narrator added: Then he (the Prophet) dismissed him, rejected
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ اور محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ رات ایک سرکش جِن اچانک میرے پاس آیا، یا اسی طرح کا کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاکہ میری نماز خراب کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کے وقت تم سب لوگ بھی اسے دیکھ سکو۔ پھر مجھ کو اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی «رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي» کہ ”اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو۔“ روح نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جِن کو ذلت کے …
Abu Huraira reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:A highly wicked one amongst the Jinn escaped yesternight to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you, all together or all, might look at him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman:" My Lord, forgive me, give me such a kingdom as will not be possible for anyone after me" (Qur'an, xxxvii)
اسحاق بن ابراہیم اور اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں محمد نے ، جو ابن زیاد ہے ، حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملے کرنے لگا تا کہ میری نماز توڑ دے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں کر دیا تو میں نے زور سے اس کا گلا گھونٹا اور یہ ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب دیکھ سکو ، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا : ‘ ‘ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کے لائق …
Abu Darda' reported:Allah's Messenger (ﷺ) stood up (to pray) and we heard him say:" I seek refuge in Allah from thee." Then said:" curse thee with Allah's curse" three times, then he stretched out his hand as though he was taking hold of something. When he finished the prayer, we said: Messenger of Allah, we heard you say something during the prayer which we have not heard you say before, and we saw you stretch out your hand. He replied: Allah's enemy Iblis came with a flame of fire to put it in my face, so I said three times:" I Seek refuge in Allah from thee." Then I said three times:" I curse thee with Allah's full curse." But he did not retreat (on any one of these) three occasions. …
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قیام ( کی حالت ) میں تھے کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا میں آتا ہوں ۔ ’’ پھر آپ نے فرمایا : ‘ ‘ میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں ۔ ’’ آپ نے یہ تین بار کہا اور آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، گویا کہ آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آب کو نماز میں کچھ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے آب کو کبھی کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ ( آگے ) بڑھایا ۔ آب نے فرمایا ‘ ‘ اللہ دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تا کہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے ، میں نے تین دفعہ اعوذ باللہ منک ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا ہ مانگتا ہوں’’ کہا ، پھر …
Abu 'Ubaid said:I saw 'Ata b. Yazid al-Laithi praying in a standing posture. So I went to him passing in front of him; he, therefore, turned me away. He then said to me: Abu Sa'id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone of you can do that he should not let anyone pass between him and the qiblah, he should do it
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا، پھر ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے ( یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے ) ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever drinks wine and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents Allah will accept his repentance. But if he does it again, then Allah will most certainly make him drink of the mire of the puss or …
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پی کر مست ہو جائے ( نشہ ہو جائے ) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، …
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:"Sulaiman bin Dawud said: 'Tonight I will go around ninety women, each of whom will bear a horseman who will perform Jihad in the cause of Allah.' His companion said to him: 'If Allah wills.' But he did not say: 'If Allah wills.' Then he went around to them all, but none of them got pregnant except a woman who bore half a man. By the One in Whose Hand is my soul! If he had said, 'If Allah wills,' they would all have performed Jihad in the cause of Allah as horsemen
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے ( قسم کھا کر ) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ۱؎۔
It was narrated that 'Abdullah bin Ad-Dailami said:"I entered upon 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As when he was in a garden of his in At-Ta'if called Al-Waht. He was walking and holding hands with a young man of Quraish who was suspected of drinking Khamr. He said: 'I heard the Messenger of Allah [SAW] say: Whoever drinks Khamr once, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it …
قاسم بن زکریا بن دینار نے ہمیں خبر دی، کہا: معاویہ بن عمرو نے ہمیں حدیث بیان کی، ابو اسحاق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ربیعہ بن یزید نے ہمیں حدیث بیان کی۔ اور عمرو بن عثمان بن سعید نے ہمیں خبر دی، بقیہ سے، ابی عمرو سے - اور وہ اوزاعی ہے - ربیعہ بن یزید سے، عبد اللہ بن دیلمی سے، انہوں نے کہا: میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے پاس گیا جب وہ طائف میں اپنے ایک باغ میں تھے جسے الوہط کہا جاتا ہے اور وہ قریش کے ایک نوجوان کو ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اور اس نوجوان کو شراب پینے کا مشکوک ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا کہتے ہوئے: جو شخص ایک بار شراب پیے تو اس کی توبہ چالیس دن قبول نہیں ہوگی۔ پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "(The Prophet) Solomon once said, 'Tonight I will sleep with ninety women, each of whom will bring forth a (would-be) cavalier who will fight in Allah's Cause." On this, his companion said to him, "Say: Allah willing!" But he did not say Allah willing. Solomon then slept with all the women, but none of them became pregnant but one woman who later delivered a halfman. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if he (Solomon) had said, 'Allah willing' (all his wives would have brought forth boys) and they would have fought in Allah's Cause as cavaliers
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سلیمان علیہ السلام نے ایک دن کہا کہ آج میں رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک کے یہاں ایک گھوڑ سوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ۔ لیکن سلیمان علیہ السلام نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کو حمل نہیں ہوا اور اس سے بھی ناقص بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ( تمام بیویوں کے یہاں بچے پیدا ہوتے ) اور سب گھوڑوں پر …
PickthallAnd lo! he hath favour with Us, and a happy journey's end.
Yusuf AliAnd he enjoyed, indeed, a Near Approach to Us, and a beautiful Place of (Final) Return.
The agreed readingAnd he has nearness with God and a good place to return to - the same seal as was set on David.
Urduاور اسی طرح سلیمان علیہ السلام کے لیے بھی ہمارے پاس قربت کا بلند مقام اور ایک عمدہ ٹھکانہ ہے، بالکل وہی مہر جو ان کے والد داؤد پر لگائی گئی تھی۔
Arabicوَإِنَّ لَهُ سليمان عِنْدَنَا لَزُلْفَى قربى ومنزلة رفيعة عالية جداً، وَحُسْنَ مَآبٍ في الآخرة، وهو نفس الختم الذي خُتم به على أبيه داود من قبله.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Abu Ad-Darda' said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stood praying, and we heard him say: 'I seek refuge with Allah from you.' Then he said: 'I curse you with the curse of Allah (SWT),' three times and stretched out his hand as if to take something. When he finished praying we said: 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer that we have never heard you say before, and we saw you stretch out your hand.' He said: 'The enemy of Allah (SWT), Iblis, came with a brand of fire to throw it in my face, so I said: I seek refuge with Allah from you three times, then I wanted to take hold of him. By Allah (SWT), were it not for the prayer of our brother Sulaiman, …
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: «ألعنك بلعنة اللہ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار …
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:"Sulaiman bin Dawud said: 'Tonight I will go around ninety women, each of whom will bear a horseman who will perform Jihad in the cause of Allah.' His companion said to him: 'If Allah wills.' But he did not say: 'If Allah wills.' Then he went around to them all, but none of them got pregnant except a woman who bore half a man. By the One in Whose Hand is my soul! If he had said, 'If Allah wills,' they would all have performed Jihad in the cause of Allah as horsemen
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے ( قسم کھا کر ) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ۱؎۔
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Last night a demon from the Jinns came to me (or the Prophet (ﷺ) said, a similar sentence) to disturb my prayer, but Allah gave me the power to overcome him. I intended to tie him to one of the pillars of the mosque till the morning so that all of you could see him, but then I remembered the Statement of my brother Solomon:--'My Lord! Forgive me and bestow on me a kingdom such as shall not belong to any other after me.' (38.35) The narrator added: Then he (the Prophet) dismissed him, rejected
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ اور محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ رات ایک سرکش جِن اچانک میرے پاس آیا، یا اسی طرح کا کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاکہ میری نماز خراب کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کے وقت تم سب لوگ بھی اسے دیکھ سکو۔ پھر مجھ کو اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی «رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي» کہ ”اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو۔“ روح نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جِن کو ذلت کے …
Abu Huraira reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:A highly wicked one amongst the Jinn escaped yesternight to interrupt my prayer, but Allah gave me power over him, so I seized him and intended to tie him to one of the pillars of the mosque in order that you, all together or all, might look at him, but I remembered the supplication of my brother Sulaiman:" My Lord, forgive me, give me such a kingdom as will not be possible for anyone after me" (Qur'an, xxxvii)
اسحاق بن ابراہیم اور اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں محمد نے ، جو ابن زیاد ہے ، حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ گزشتہ رات ایک سرکش جن مجھ پر حملے کرنے لگا تا کہ میری نماز توڑ دے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں کر دیا تو میں نے زور سے اس کا گلا گھونٹا اور یہ ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب دیکھ سکو ، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا : ‘ ‘ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کے لائق …
Abu Darda' reported:Allah's Messenger (ﷺ) stood up (to pray) and we heard him say:" I seek refuge in Allah from thee." Then said:" curse thee with Allah's curse" three times, then he stretched out his hand as though he was taking hold of something. When he finished the prayer, we said: Messenger of Allah, we heard you say something during the prayer which we have not heard you say before, and we saw you stretch out your hand. He replied: Allah's enemy Iblis came with a flame of fire to put it in my face, so I said three times:" I Seek refuge in Allah from thee." Then I said three times:" I curse thee with Allah's full curse." But he did not retreat (on any one of these) three occasions. …
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قیام ( کی حالت ) میں تھے کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا میں آتا ہوں ۔ ’’ پھر آپ نے فرمایا : ‘ ‘ میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں ۔ ’’ آپ نے یہ تین بار کہا اور آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، گویا کہ آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آب کو نماز میں کچھ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے آب کو کبھی کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ ( آگے ) بڑھایا ۔ آب نے فرمایا ‘ ‘ اللہ دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تا کہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے ، میں نے تین دفعہ اعوذ باللہ منک ‘ ‘ میں تجھ سے اللہ کی پنا ہ مانگتا ہوں’’ کہا ، پھر …
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "(The Prophet) Solomon once said, 'Tonight I will sleep with ninety women, each of whom will bring forth a (would-be) cavalier who will fight in Allah's Cause." On this, his companion said to him, "Say: Allah willing!" But he did not say Allah willing. Solomon then slept with all the women, but none of them became pregnant but one woman who later delivered a halfman. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if he (Solomon) had said, 'Allah willing' (all his wives would have brought forth boys) and they would have fought in Allah's Cause as cavaliers
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سلیمان علیہ السلام نے ایک دن کہا کہ آج میں رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک کے یہاں ایک گھوڑ سوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ۔ لیکن سلیمان علیہ السلام نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کو حمل نہیں ہوا اور اس سے بھی ناقص بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ( تمام بیویوں کے یہاں بچے پیدا ہوتے ) اور سب گھوڑوں پر …
Abu 'Ubaid said:I saw 'Ata b. Yazid al-Laithi praying in a standing posture. So I went to him passing in front of him; he, therefore, turned me away. He then said to me: Abu Sa'id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone of you can do that he should not let anyone pass between him and the qiblah, he should do it
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا، پھر ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے ( یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے ) ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever drinks wine and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents Allah will accept his repentance. But if he does it again, then Allah will most certainly make him drink of the mire of the puss or …
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پی کر مست ہو جائے ( نشہ ہو جائے ) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، …
It was narrated that 'Abdullah bin Ad-Dailami said:"I entered upon 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As when he was in a garden of his in At-Ta'if called Al-Waht. He was walking and holding hands with a young man of Quraish who was suspected of drinking Khamr. He said: 'I heard the Messenger of Allah [SAW] say: Whoever drinks Khamr once, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it …
قاسم بن زکریا بن دینار نے ہمیں خبر دی، کہا: معاویہ بن عمرو نے ہمیں حدیث بیان کی، ابو اسحاق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ربیعہ بن یزید نے ہمیں حدیث بیان کی۔ اور عمرو بن عثمان بن سعید نے ہمیں خبر دی، بقیہ سے، ابی عمرو سے - اور وہ اوزاعی ہے - ربیعہ بن یزید سے، عبد اللہ بن دیلمی سے، انہوں نے کہا: میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے پاس گیا جب وہ طائف میں اپنے ایک باغ میں تھے جسے الوہط کہا جاتا ہے اور وہ قریش کے ایک نوجوان کو ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اور اس نوجوان کو شراب پینے کا مشکوک ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا کہتے ہوئے: جو شخص ایک بار شراب پیے تو اس کی توبہ چالیس دن قبول نہیں ہوگی۔ پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd make mention (O Muhammad) of Our bondman Job, when he cried unto his Lord (saying): Lo! the devil doth afflict me with distress and torment.
Yusuf AliCommemorate Our Servant Job. Behold he cried to his Lord: "The Evil One has afflicted me with distress and suffering!"
The agreed readingAnd remember God's servant Job, when he called to his Lord: Satan has touched me with hardship and pain.
Urduاور اللہ کے نیک بندے ایوب علیہ السلام کو یاد کرو، جب انہوں نے اپنے رب کو پکارتے ہوئے کہا: مجھے شیطان نے سخت تکلیف اور دردناک عذاب سے چھو لیا ہے۔
Arabicوَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ في شدة بلائه ومرضه قائلاً: أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ شديدين متتاليين، تعباً في بدني وألماً في نفسي ووسوسة في قلبي.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 5 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة6 reports cited here — 5 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
اضطجع بين ركعتي الفجر وركعتي الغداة على يمينك مستقبل القبلة وقل في ضجعتك استمسكت بعروة الله الوثقى التي لا انفصام لها، واعتصمت بحبل الله المتين، وأعوذ بالله من شر فسقة العرب والعجم، وأعوذ بالله من شر فسقه الجن والإنس ، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح فالق الاصباح " ثم تقول: " بسم الله وضعت جنبي لله، فوضت أمري إلى الله أطلب حاجتي من الله توكلت على الله حسبي الله ونعم الوكيل ومن يتوكل على الله فهو حسبه إن الله بالغ أمره قد جعل الله لكل شئ قدرا اللهم ومن أصبح وحاجته إلى مخلوق فإن حاجتي ورغبتي إليك " وتقرأ خمس آيات من آخر آل عمران " إن في خلق السماوات والأرض - إلى قوله: - إنك لا تخلف الميعاد. وصل على محمد وآله مائة مرة فإنه
Between the two Rak'ahs of Fajr and the two Rak'ahs of Ghadah (morning prayer), lie down on your right side facing the Qibla and say: "I have held firmly to the strong rope of Allah (swt) which cannot be broken, and I have sought refuge in the strong handhold of Allah (swt). I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the Arabs and non-Arabs, and I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the jinn and humans. Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning." Then say: "In the …
فجر کی دونوں رکعات اور صبح کی نماز کی دونوں رکعات کے درمیان اپنے دائیں جانب لیٹو اور قبلہ کی طرف رخ کیے ہوئے کہو: میں نے اللہ کی مضبوط رسی کو مضبوطی سے تھاما ہے جس میں کوئی شگاف نہیں، اور میں نے اللہ کی متین رسی سے اعتصام کیا، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں عرب اور عجم کے فاسقوں کی شرائی سے، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں جن اور انسان کے فاسقوں کی شرائی سے۔ صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا۔ پھر کہو: اللہ کے نام سے میں نے اپنا جسم اللہ کے لیے رکھا، میں نے اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کیا، میں اللہ سے اپنی حاجت مانگتا ہوں، میں اللہ پر توکل کرتا ہوں، اللہ مجھ کے لیے کافی ہے اور بہترین محافظ ہے، اور جو …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفِ الصَّلاَةَ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَفِيهِمُ الضَّعِيفَ وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ فَلْيُطِلْ صَلاَتَهُ مَا شَاءَ " .
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira transmitted to us from Muhammad the Messenger of Allah (ﷺ), and he narrated (some) ahadith out of (these narrations and one of them is this): The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you stands to lead people In prayer, he should shorten it, for amongst them are the aged, and amongst them are the weak, but when he prays by himself, he may prolong his prayer as he likes
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں یہ احادیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمد رسو اللہﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں کا امام بنے تو وہ نماز میں تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو اپنی نماز جتنی چاہے طویل کر لے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 1> </ہیڈنگ 1>
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْرِدُوا عَنِ الْحَرِّ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira narrated to us from the Prophet and he transmitted some ahadith-one of them was that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Let the heat become less severe before prayer, for the intensity of heat is from the exhalation of Hell
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے بیان کیں ، پھر انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ : اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’نمازوں میں گرمی سے بچنے کے لیے ( وقت ) ٹھنڈا ہونے دو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Once while Job (Aiyub) was taking a bath in a naked state. Suddenly a great number of gold locusts started falling upon him and he started collecting them in his clothes. His Lord called him, 'O Job! Didn't I make you rich enough to dispense with what you see now?' Job said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with Your Blessings
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام کپڑے اتار کر نہا رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیوں کا ایک دل ان پر آ کر گرا اور آپ انہیں کپڑے میں سمیٹنے لگے۔ ان کے رب نے انہیں پکارا کہ اے ایوب! کیا میں نے تجھے مالدار بنا کر ان ٹڈیوں سے بےپروا نہیں کر دیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں بیشک تو نے مجھ کو بےپروا مالدار کیا ہے مگر تیرے فضل و کرم اور رحمت سے بھی میں کہیں بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَى رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لاَ غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "While Job was naked, taking a bath, a swarm of gold locusts fell on him and he started collecting them in his garment. His Lord called him, 'O Job! Have I not made you rich enough to need what you see? He said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with your Blessing
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں۔ وہ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ اے ایوب! جو کچھ تم دیکھ رہے ہو ( سونے کی ٹڈیاں ) کیا میں نے تمہیں اس سے بےپروا نہیں کر دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ صحیح ہے ‘ اے رب العزت! لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
Narrated 'Ubaidullah bin `Abdullah:`Abdullah bin `Abbas said, "O the group of Muslims! How can you ask the people of the Scriptures about anything while your Book which Allah has revealed to your Prophet contains the most recent news from Allah and is pure and not distorted? Allah has told you that the people of the Scriptures have changed some of Allah's Books and distorted it and wrote something with their own hands and said, 'This is from Allah, so as to have a minor gain for it. Won't the knowledge that has come to you stop you from asking them? No, by Allah, we have never seen a man from them asking you about that (the Book Al-Qur'an ) which has been revealed to you
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اے مسلمانو! تم اہل کتاب سے کسی مسئلہ میں کیوں پوچھتے ہو۔ تمہاری کتاب جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے وہ اللہ کے یہاں سے بالکل تازہ آئی ہے، خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خود تمہیں بتا دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتابوں کو بدل ڈالا۔ وہ ہاتھ سے ایک کتاب لکھتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی پونچی حاصل کریں، تم کو جو اللہ نے قرآن و حدیث کا علم دیا ہے کیا وہ تم کو اس سے منع نہیں کرتا کہ تم دین کی باتیں اہل کتاب سے پوچھو۔ اللہ کی قسم! ہم تو ان کے …
Pickthall(And it was said unto him): Strike the ground with thy foot. This (spring) is a cool bath and a refreshing drink.
Yusuf Ali(The command was given:) "Strike with thy foot: here is (water) wherein to wash, cool and refreshing, and (water) to drink."
The agreed readingStrike with your foot - and a spring broke open. This is a cool washing-place and a drink.
Urduاپنے پاؤں سے زمین پر زور سے ضرب لگاؤ، اور فوراً ایک تازہ چشمہ ابل پڑا۔ یہ ٹھنڈے پانی کا نہانے کی جگہ اور پینے کے لیے بھی ہے۔
Arabicقيل له: ارْكُضْ بِرِجْلِكَ الأرض ضربة قوية، فضرب فَنَبَعَ لَهُ مِنها ماء غزير، هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ يغتسل بِهِ فيذهب عنه الضر كله، وَشَرَابٌ عذب يشربه فيروى به.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 5 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة6 reports cited here — 5 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
اضطجع بين ركعتي الفجر وركعتي الغداة على يمينك مستقبل القبلة وقل في ضجعتك استمسكت بعروة الله الوثقى التي لا انفصام لها، واعتصمت بحبل الله المتين، وأعوذ بالله من شر فسقة العرب والعجم، وأعوذ بالله من شر فسقه الجن والإنس ، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح فالق الاصباح " ثم تقول: " بسم الله وضعت جنبي لله، فوضت أمري إلى الله أطلب حاجتي من الله توكلت على الله حسبي الله ونعم الوكيل ومن يتوكل على الله فهو حسبه إن الله بالغ أمره قد جعل الله لكل شئ قدرا اللهم ومن أصبح وحاجته إلى مخلوق فإن حاجتي ورغبتي إليك " وتقرأ خمس آيات من آخر آل عمران " إن في خلق السماوات والأرض - إلى قوله: - إنك لا تخلف الميعاد. وصل على محمد وآله مائة مرة فإنه
Between the two Rak'ahs of Fajr and the two Rak'ahs of Ghadah (morning prayer), lie down on your right side facing the Qibla and say: "I have held firmly to the strong rope of Allah (swt) which cannot be broken, and I have sought refuge in the strong handhold of Allah (swt). I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the Arabs and non-Arabs, and I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the jinn and humans. Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning." Then say: "In the …
فجر کی دونوں رکعات اور صبح کی نماز کی دونوں رکعات کے درمیان اپنے دائیں جانب لیٹو اور قبلہ کی طرف رخ کیے ہوئے کہو: میں نے اللہ کی مضبوط رسی کو مضبوطی سے تھاما ہے جس میں کوئی شگاف نہیں، اور میں نے اللہ کی متین رسی سے اعتصام کیا، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں عرب اور عجم کے فاسقوں کی شرائی سے، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں جن اور انسان کے فاسقوں کی شرائی سے۔ صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا۔ پھر کہو: اللہ کے نام سے میں نے اپنا جسم اللہ کے لیے رکھا، میں نے اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کیا، میں اللہ سے اپنی حاجت مانگتا ہوں، میں اللہ پر توکل کرتا ہوں، اللہ مجھ کے لیے کافی ہے اور بہترین محافظ ہے، اور جو …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفِ الصَّلاَةَ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَفِيهِمُ الضَّعِيفَ وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ فَلْيُطِلْ صَلاَتَهُ مَا شَاءَ " .
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira transmitted to us from Muhammad the Messenger of Allah (ﷺ), and he narrated (some) ahadith out of (these narrations and one of them is this): The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you stands to lead people In prayer, he should shorten it, for amongst them are the aged, and amongst them are the weak, but when he prays by himself, he may prolong his prayer as he likes
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں یہ احادیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمد رسو اللہﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں کا امام بنے تو وہ نماز میں تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو اپنی نماز جتنی چاہے طویل کر لے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 1> </ہیڈنگ 1>
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْرِدُوا عَنِ الْحَرِّ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira narrated to us from the Prophet and he transmitted some ahadith-one of them was that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Let the heat become less severe before prayer, for the intensity of heat is from the exhalation of Hell
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے بیان کیں ، پھر انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ : اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’نمازوں میں گرمی سے بچنے کے لیے ( وقت ) ٹھنڈا ہونے دو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Once while Job (Aiyub) was taking a bath in a naked state. Suddenly a great number of gold locusts started falling upon him and he started collecting them in his clothes. His Lord called him, 'O Job! Didn't I make you rich enough to dispense with what you see now?' Job said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with Your Blessings
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام کپڑے اتار کر نہا رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیوں کا ایک دل ان پر آ کر گرا اور آپ انہیں کپڑے میں سمیٹنے لگے۔ ان کے رب نے انہیں پکارا کہ اے ایوب! کیا میں نے تجھے مالدار بنا کر ان ٹڈیوں سے بےپروا نہیں کر دیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں بیشک تو نے مجھ کو بےپروا مالدار کیا ہے مگر تیرے فضل و کرم اور رحمت سے بھی میں کہیں بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَى رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لاَ غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "While Job was naked, taking a bath, a swarm of gold locusts fell on him and he started collecting them in his garment. His Lord called him, 'O Job! Have I not made you rich enough to need what you see? He said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with your Blessing
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں۔ وہ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ اے ایوب! جو کچھ تم دیکھ رہے ہو ( سونے کی ٹڈیاں ) کیا میں نے تمہیں اس سے بےپروا نہیں کر دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ صحیح ہے ‘ اے رب العزت! لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
Narrated 'Ubaidullah bin `Abdullah:`Abdullah bin `Abbas said, "O the group of Muslims! How can you ask the people of the Scriptures about anything while your Book which Allah has revealed to your Prophet contains the most recent news from Allah and is pure and not distorted? Allah has told you that the people of the Scriptures have changed some of Allah's Books and distorted it and wrote something with their own hands and said, 'This is from Allah, so as to have a minor gain for it. Won't the knowledge that has come to you stop you from asking them? No, by Allah, we have never seen a man from them asking you about that (the Book Al-Qur'an ) which has been revealed to you
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اے مسلمانو! تم اہل کتاب سے کسی مسئلہ میں کیوں پوچھتے ہو۔ تمہاری کتاب جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے وہ اللہ کے یہاں سے بالکل تازہ آئی ہے، خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خود تمہیں بتا دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتابوں کو بدل ڈالا۔ وہ ہاتھ سے ایک کتاب لکھتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی پونچی حاصل کریں، تم کو جو اللہ نے قرآن و حدیث کا علم دیا ہے کیا وہ تم کو اس سے منع نہیں کرتا کہ تم دین کی باتیں اہل کتاب سے پوچھو۔ اللہ کی قسم! ہم تو ان کے …
PickthallAnd We bestowed on him (again) his household and therewith the like thereof, a mercy from Us, and a memorial for men of understanding.
Yusuf AliAnd We gave him (back) his people, and doubled their number,- as a Grace from Ourselves, and a thing for commemoration, for all who have Understanding.
The agreed readingAnd God gave him back his household and the like of them with them, as a mercy from Him and a reminder for those with understanding.
Urduاور اللہ نے اسے اس کے گھر والے واپس دے دیے اور ان کے ساتھ ویسے ہی مزید بھی، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر اور عقل والوں کے لیے ایک نصیحت کے طور پر۔
Arabicوَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ الذين فقدهم، وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ زيادة كريمة عليهم، رَحْمَةً مِنَّا به وتكريماً له على صبره الطويل، وَذِكْرَى لِأُولِي الألباب أصحاب العقول ليتذكروا عاقبة الصبر.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 5 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة6 reports cited here — 5 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
اضطجع بين ركعتي الفجر وركعتي الغداة على يمينك مستقبل القبلة وقل في ضجعتك استمسكت بعروة الله الوثقى التي لا انفصام لها، واعتصمت بحبل الله المتين، وأعوذ بالله من شر فسقة العرب والعجم، وأعوذ بالله من شر فسقه الجن والإنس ، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح فالق الاصباح " ثم تقول: " بسم الله وضعت جنبي لله، فوضت أمري إلى الله أطلب حاجتي من الله توكلت على الله حسبي الله ونعم الوكيل ومن يتوكل على الله فهو حسبه إن الله بالغ أمره قد جعل الله لكل شئ قدرا اللهم ومن أصبح وحاجته إلى مخلوق فإن حاجتي ورغبتي إليك " وتقرأ خمس آيات من آخر آل عمران " إن في خلق السماوات والأرض - إلى قوله: - إنك لا تخلف الميعاد. وصل على محمد وآله مائة مرة فإنه
Between the two Rak'ahs of Fajr and the two Rak'ahs of Ghadah (morning prayer), lie down on your right side facing the Qibla and say: "I have held firmly to the strong rope of Allah (swt) which cannot be broken, and I have sought refuge in the strong handhold of Allah (swt). I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the Arabs and non-Arabs, and I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the jinn and humans. Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning." Then say: "In the …
فجر کی دونوں رکعات اور صبح کی نماز کی دونوں رکعات کے درمیان اپنے دائیں جانب لیٹو اور قبلہ کی طرف رخ کیے ہوئے کہو: میں نے اللہ کی مضبوط رسی کو مضبوطی سے تھاما ہے جس میں کوئی شگاف نہیں، اور میں نے اللہ کی متین رسی سے اعتصام کیا، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں عرب اور عجم کے فاسقوں کی شرائی سے، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں جن اور انسان کے فاسقوں کی شرائی سے۔ صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا۔ پھر کہو: اللہ کے نام سے میں نے اپنا جسم اللہ کے لیے رکھا، میں نے اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کیا، میں اللہ سے اپنی حاجت مانگتا ہوں، میں اللہ پر توکل کرتا ہوں، اللہ مجھ کے لیے کافی ہے اور بہترین محافظ ہے، اور جو …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفِ الصَّلاَةَ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَفِيهِمُ الضَّعِيفَ وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ فَلْيُطِلْ صَلاَتَهُ مَا شَاءَ " .
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira transmitted to us from Muhammad the Messenger of Allah (ﷺ), and he narrated (some) ahadith out of (these narrations and one of them is this): The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you stands to lead people In prayer, he should shorten it, for amongst them are the aged, and amongst them are the weak, but when he prays by himself, he may prolong his prayer as he likes
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں یہ احادیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمد رسو اللہﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں کا امام بنے تو وہ نماز میں تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو اپنی نماز جتنی چاہے طویل کر لے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 1> </ہیڈنگ 1>
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْرِدُوا عَنِ الْحَرِّ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira narrated to us from the Prophet and he transmitted some ahadith-one of them was that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Let the heat become less severe before prayer, for the intensity of heat is from the exhalation of Hell
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے بیان کیں ، پھر انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ : اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’نمازوں میں گرمی سے بچنے کے لیے ( وقت ) ٹھنڈا ہونے دو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Once while Job (Aiyub) was taking a bath in a naked state. Suddenly a great number of gold locusts started falling upon him and he started collecting them in his clothes. His Lord called him, 'O Job! Didn't I make you rich enough to dispense with what you see now?' Job said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with Your Blessings
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام کپڑے اتار کر نہا رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیوں کا ایک دل ان پر آ کر گرا اور آپ انہیں کپڑے میں سمیٹنے لگے۔ ان کے رب نے انہیں پکارا کہ اے ایوب! کیا میں نے تجھے مالدار بنا کر ان ٹڈیوں سے بےپروا نہیں کر دیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں بیشک تو نے مجھ کو بےپروا مالدار کیا ہے مگر تیرے فضل و کرم اور رحمت سے بھی میں کہیں بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَى رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لاَ غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "While Job was naked, taking a bath, a swarm of gold locusts fell on him and he started collecting them in his garment. His Lord called him, 'O Job! Have I not made you rich enough to need what you see? He said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with your Blessing
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں۔ وہ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ اے ایوب! جو کچھ تم دیکھ رہے ہو ( سونے کی ٹڈیاں ) کیا میں نے تمہیں اس سے بےپروا نہیں کر دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ صحیح ہے ‘ اے رب العزت! لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
Narrated 'Ubaidullah bin `Abdullah:`Abdullah bin `Abbas said, "O the group of Muslims! How can you ask the people of the Scriptures about anything while your Book which Allah has revealed to your Prophet contains the most recent news from Allah and is pure and not distorted? Allah has told you that the people of the Scriptures have changed some of Allah's Books and distorted it and wrote something with their own hands and said, 'This is from Allah, so as to have a minor gain for it. Won't the knowledge that has come to you stop you from asking them? No, by Allah, we have never seen a man from them asking you about that (the Book Al-Qur'an ) which has been revealed to you
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اے مسلمانو! تم اہل کتاب سے کسی مسئلہ میں کیوں پوچھتے ہو۔ تمہاری کتاب جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے وہ اللہ کے یہاں سے بالکل تازہ آئی ہے، خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خود تمہیں بتا دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتابوں کو بدل ڈالا۔ وہ ہاتھ سے ایک کتاب لکھتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی پونچی حاصل کریں، تم کو جو اللہ نے قرآن و حدیث کا علم دیا ہے کیا وہ تم کو اس سے منع نہیں کرتا کہ تم دین کی باتیں اہل کتاب سے پوچھو۔ اللہ کی قسم! ہم تو ان کے …
PickthallAnd (it was said unto him): Take in thine hand a branch and smite therewith, and break not thine oath. Lo! We found him steadfast, how excellent a slave! Lo! he was ever turning in repentance (to his Lord).
Yusuf Ali"And take in thy hand a little grass, and strike therewith: and break not (thy oath)." Truly We found him full of patience and constancy. How excellent in Our service! ever did he turn (to Us)!
The agreed readingAnd take in your hand a bundle of twigs and strike with it, and do not break your oath. God found him steadfast. What an excellent servant - he was ever turning back to God.
Urduاور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لے کر اس سے ضرب لگاؤ، اور اپنی قسم مت توڑو۔ ہم نے اسے صابر پایا۔ کتنا اچھا بندہ تھا، وہ ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔
Arabicوَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا حزمة من الشماريخ فَاضْرِبْ بِهِ زوجتك ضربة واحدة إبراراً لقسمك، وَلَا تَحْنَثْ في يمينك، إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا على بلائه، نِعْمَ الْعَبْدُ هو، إِنَّهُ أَوَّابٌ كثير الرجوع إلى ربه.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
اضطجع بين ركعتي الفجر وركعتي الغداة على يمينك مستقبل القبلة وقل في ضجعتك استمسكت بعروة الله الوثقى التي لا انفصام لها، واعتصمت بحبل الله المتين، وأعوذ بالله من شر فسقة العرب والعجم، وأعوذ بالله من شر فسقه الجن والإنس ، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح فالق الاصباح " ثم تقول: " بسم الله وضعت جنبي لله، فوضت أمري إلى الله أطلب حاجتي من الله توكلت على الله حسبي الله ونعم الوكيل ومن يتوكل على الله فهو حسبه إن الله بالغ أمره قد جعل الله لكل شئ قدرا اللهم ومن أصبح وحاجته إلى مخلوق فإن حاجتي ورغبتي إليك " وتقرأ خمس آيات من آخر آل عمران " إن في خلق السماوات والأرض - إلى قوله: - إنك لا تخلف الميعاد. وصل على محمد وآله مائة مرة فإنه
Between the two Rak'ahs of Fajr and the two Rak'ahs of Ghadah (morning prayer), lie down on your right side facing the Qibla and say: "I have held firmly to the strong rope of Allah (swt) which cannot be broken, and I have sought refuge in the strong handhold of Allah (swt). I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the Arabs and non-Arabs, and I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the jinn and humans. Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning." Then say: "In the …
فجر کی دونوں رکعات اور صبح کی نماز کی دونوں رکعات کے درمیان اپنے دائیں جانب لیٹو اور قبلہ کی طرف رخ کیے ہوئے کہو: میں نے اللہ کی مضبوط رسی کو مضبوطی سے تھاما ہے جس میں کوئی شگاف نہیں، اور میں نے اللہ کی متین رسی سے اعتصام کیا، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں عرب اور عجم کے فاسقوں کی شرائی سے، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں جن اور انسان کے فاسقوں کی شرائی سے۔ صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا۔ پھر کہو: اللہ کے نام سے میں نے اپنا جسم اللہ کے لیے رکھا، میں نے اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کیا، میں اللہ سے اپنی حاجت مانگتا ہوں، میں اللہ پر توکل کرتا ہوں، اللہ مجھ کے لیے کافی ہے اور بہترین محافظ ہے، اور جو …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أُضْنِيَ فَعَادَ جِلْدَةً عَلَى عَظْمٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ لَهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالُ قَوْمِهِ يَعُودُونَهُ أَخْبَرَهُمْ بِذَلِكَ وَقَالَ اسْتَفْتُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي قَدْ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةٍ دَخَلَتْ عَلَىَّ . فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالُوا مَا رَأَيْنَا …
Narrated Abu Umamah b. Sahl Hunaif: AbuUmamah ibn Sahl ibn Hunayf said that some companions of the Messenger of Allah (ﷺ) told that one of their men suffered so much from some illness that he pined away until he was skin and bone (i.e. only a skeleton). A slave-girl of someone visited him, and he was cheered by her and had unlawful intercourse with her. When his people came to visit the patient, he told them about it. He said: Ask the Messenger of Allah (ﷺ) about the legal verdict for me, for I have had unlawful intercourse with a slave-girl who visited me. So they mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ) saying: We have never seen anyone (so weak) from illness as he is. If we bring him …
ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری صحابہ نے انہیں بتایا کہ انصاریوں میں کا ایک آدمی بیمار ہوا وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ صرف ہڈی اور چمڑا باقی رہ گیا، اس کے پاس انہیں میں سے کسی کی ایک لونڈی آئی تو وہ اسے پسند آ گئی اور وہ اس سے جماع کر بیٹھا، پھر جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کرنے آئے تو انہیں اس کی خبر دی، اور کہا میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، کیونکہ میں نے ایک لونڈی سے صحبت کر لی ہے، جو میرے پاس آئی تھی، چنانچہ انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اور کہا: ہم نے تو اتنا بیمار اور ناتواں کسی کو نہیں دیکھا جتنا وہ ہے، اگر ہم اسے لے کر آپ کے پاس آئیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ " وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ " . ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ فَأُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثِ ذَوْدٍ فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لاَ يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا . قَالَ أَبُو مُوسَى فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ …
It was narrated that Abu Musa Al-Ash'ari said:"I came to the Messenger of Allah with a group of the Ash'ari people and asked him to give us animals to ride. He said: 'By Allah, I cannot give you anything to ride and I have nothing to give you to ride.' We stayed as long as Allah willed, then some camels were brought to him. He ordered that we be given three fine-looking camels. When we left, we said to one another: 'We came to the Messenger of Allah to ask him for animals to ride, and he swore by Allah that he would not give us anything to ride, then he gave us something.'" Abu Musa said: "We came to the Prophet and told him about that. He said: 'I did not give you animals to ride, rather …
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم آپ سے سواریاں مانگ رہے تھے۱؎، آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں تمہیں سواریاں نہیں دے سکتا، میرے پاس کوئی سواری ہے بھی نہیں جو میں تمہیں دوں ، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، اتنے میں کچھ اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے تین اونٹوں کا حکم دیا، تو جب ہم چلنے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ تعالیٰ ہمیں برکت نہیں دے گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں طلب کرنے آئے تو آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے۔ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں: تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ اشْتَكَتِ امْرَأَةٌ بِالْعَوَالِي مِسْكِينَةٌ فَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُمْ عَنْهَا وَقَالَ " إِنْ مَاتَتْ فَلاَ تَدْفِنُوهَا حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهَا " . فَتُوُفِّيَتْ فَجَاءُوا بِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَوَجَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ نَامَ فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ فَصَلُّوا عَلَيْهَا وَدَفَنُوهَا بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءُوا فَسَأَلَهُمْ عَنْهَا فَقَالُوا قَدْ دُفِنَتْ يَا …
Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said:"A poor woman in Al-Awali fell sick and the Prophet used to ask them about her. He said: 'If she dies, do not bury her until I have offered the funeral prayer for her. She died and they brought her to Al-Madinah after dark, and they found that the Messenger of Allah had gone to sleep. They did not like to wake him up, so they offered the funeral prayer for her and buried her in Baqi' Al-Gharqab. The next morning they came and the Messenger of Allah asked them about her. They said: 'She has been buried, O Messenger of Allah. We came to you and found you sleeping, and we did not like to wake you up.' He said: 'let's go.' He set out walking and they went …
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عوالی مدینہ کی ایک غریب عورت ۱؎ بیمار پڑ گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے رہتے تھے، اور کہہ رکھا تھا کہ ”اگر یہ مر جائے تو اسے دفن مت کرنا جب تک کہ میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں“، چنانچہ وہ مر گئی، تو لوگ اسے عشاء کے بعد مدینہ لے کر آئے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، چنانچہ ان لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی، اور اسے لے جا کر مقبرہ بقیع میں دفن کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو لوگ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! وہ تو دفنائی جا چکی، ( رات ) ہم آپ کے پاس آئے ( بھی ) تھے، ( لیکن ) …
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفِ الصَّلاَةَ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَفِيهِمُ الضَّعِيفَ وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ فَلْيُطِلْ صَلاَتَهُ مَا شَاءَ " .
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira transmitted to us from Muhammad the Messenger of Allah (ﷺ), and he narrated (some) ahadith out of (these narrations and one of them is this): The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you stands to lead people In prayer, he should shorten it, for amongst them are the aged, and amongst them are the weak, but when he prays by himself, he may prolong his prayer as he likes
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں یہ احادیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمد رسو اللہﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں کا امام بنے تو وہ نماز میں تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو اپنی نماز جتنی چاہے طویل کر لے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 1> </ہیڈنگ 1>
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْرِدُوا عَنِ الْحَرِّ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira narrated to us from the Prophet and he transmitted some ahadith-one of them was that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Let the heat become less severe before prayer, for the intensity of heat is from the exhalation of Hell
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے بیان کیں ، پھر انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ : اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’نمازوں میں گرمی سے بچنے کے لیے ( وقت ) ٹھنڈا ہونے دو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Once while Job (Aiyub) was taking a bath in a naked state. Suddenly a great number of gold locusts started falling upon him and he started collecting them in his clothes. His Lord called him, 'O Job! Didn't I make you rich enough to dispense with what you see now?' Job said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with Your Blessings
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام کپڑے اتار کر نہا رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیوں کا ایک دل ان پر آ کر گرا اور آپ انہیں کپڑے میں سمیٹنے لگے۔ ان کے رب نے انہیں پکارا کہ اے ایوب! کیا میں نے تجھے مالدار بنا کر ان ٹڈیوں سے بےپروا نہیں کر دیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں بیشک تو نے مجھ کو بےپروا مالدار کیا ہے مگر تیرے فضل و کرم اور رحمت سے بھی میں کہیں بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَى رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لاَ غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "While Job was naked, taking a bath, a swarm of gold locusts fell on him and he started collecting them in his garment. His Lord called him, 'O Job! Have I not made you rich enough to need what you see? He said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with your Blessing
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں۔ وہ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ اے ایوب! جو کچھ تم دیکھ رہے ہو ( سونے کی ٹڈیاں ) کیا میں نے تمہیں اس سے بےپروا نہیں کر دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ صحیح ہے ‘ اے رب العزت! لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
PickthallAnd make mention of Our bondmen, Abraham, Isaac and Jacob, men of parts and vision.
Yusuf AliAnd commemorate Our Servants Abraham, Isaac, and Jacob, possessors of Power and Vision.
The agreed readingAnd remember God's servants Abraham, Isaac and Jacob, men of strength in worship and of clear sight in religion.
Urduاور اللہ کے تینوں بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو، جو عبادت میں بڑی طاقت والے اور دین کی سمجھ میں گہری بصیرت والے تھے۔
Arabicوَاذْكُرْ عِبَادَنَا المكرمين إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ، أُولِي الأيدي وَالْأَبْصَارِ، أصحاب القوة الشديدة في طاعة اللَّهِ وعبادته الدائمة، وأصحاب البصيرة الصادقة النافذة في الحق ودينه القويم.
PickthallLo! We purified them with a pure thought, remembrance of the Home (of the Hereafter).
Yusuf AliVerily We did choose them for a special (purpose)- proclaiming the Message of the Hereafter.
The agreed readingGod set them apart with a quality all their own: the remembrance of the Home to come.
Urduاللہ نے انہیں ایک بالکل خاص وصف سے ممتاز اور نمایاں کیا، اور وہ آخرت کے گھر کی یاد تھی، جو ان کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی تھی۔
Arabicإِنَّا أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ خاصة بهم عظيمة الشأن دون غيرهم من الناس أجمعين، وهي ذِكْرَى الدَّارِ الآخرة، فقد كانوا دائمي التذكر لها والاستعداد لها بالعمل الصالح دوماً.
PickthallAnd make mention of Ishmael and Elisha and Dhu'l-Kifl. All are of the chosen.
Yusuf AliAnd commemorate Isma'il, Elisha, and Zul-Kifl: Each of them was of the Company of the Good.
The agreed readingAnd remember Ishmael and Elisha and Dhu al-Kifl - every one of them among the best.
Urduاور اسماعیل علیہ السلام، الیسع علیہ السلام اور ذوالکفل علیہ السلام کو بھی یاد کرو، ان سب میں سے ہر ایک ہمیشہ بہترین اور نیک لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔
Arabicوَاذْكُرْ أيضاً يا محمد إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ، أنبياء كرام صالحون مرضيون عند ربهم، وَكُلٌّ مِنَ الأخيار المصطفين المختارين عند اللَّهِ سبحانه وتعالى دون استثناء.
PickthallThis is a reminder. And lo! for those who ward off (evil) is a happy journey's end,
Yusuf AliThis is a Message (of admonition): and verily, for the righteous, is a beautiful Place of (Final) Return,-
The agreed readingThis is a reminder. And for those who guard themselves there is a good place to return to:
Urduیہ ایک بہترین اور بابرکت نصیحت ہے جس میں ان انبیاء کا ذکر ہے۔ اور تقویٰ اختیار کرنے والے پرہیزگاروں کے لیے آخرت میں واپس جانے کا ایک بہت اچھا اور عمدہ ٹھکانہ ہے:
Arabicهَذَا ذِكْرٌ حسن جميل لهؤلاء الأنبياء الكرام المذكورين آنفاً، وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ الذين اتقوا ربهم حق تقواه لَحُسْنَ مَآبٍ في الآخرة، مرجعاً طيباً ينتظرهم هناك بلا شك.
PickthallGardens of Eden, whereof the gates are opened for them,
Yusuf AliGardens of Eternity, whose doors will (ever) be open to them;
The agreed readingGardens of lasting residence, whose gates stand open for them - they find them open, the commentaries note, and need not wait.
Urduہمیشہ رہنے کے باغات، جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوتے ہیں - تفسیریں بتاتی ہیں کہ وہ انہیں پہلے سے کھلا ہوا پاتے ہیں اور انتظار نہیں کرنا پڑتا۔
Arabicجَنَّاتِ عَدْنٍ إقامة دائمة أبدية لا تنقطع، مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ من قبل وصولهم إليها، فيجدونها كذلك مفتوحة أمامهم دون انتظار طويل، كما ذكرت التفاسير ذلك تكريماً عظيماً لهم.
PickthallWherein, reclining, they call for plenteous fruit and cool drink (that is) therein.
Yusuf AliTherein will they recline (at ease): Therein can they call (at pleasure) for fruit in abundance, and (delicious) drink;
The agreed readingIn them they recline, calling for abundant fruit and drink - the commentaries note that fruit alone is named, since eating there is for delight and not for need.
Urduوہ اس میں تکیے لگا کر بیٹھیں گے، اس میں بہت سے پھلوں اور مشروبات کی طلب کریں گے - تفسیروں میں بتایا گیا ہے کہ صرف پھل کا ذکر اس لیے ہوا کیونکہ وہاں کھانا حاجت کے لیے نہیں بلکہ لذت کے لیے ہوگا۔
Arabicمُتَّكِئِينَ فِيهَا على الأرائك المزينة، يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ متنوعة وَشَرَابٍ لذيذ، وقد ذكرت التفاسير أن الفاكهة وحدها ذُكرت لأن الأكل هناك للذة لا للحاجة.
PickthallAnd with them are those of modest gaze, companions.
Yusuf AliAnd beside them will be chaste women restraining their glances, (companions) of equal age.
The agreed readingAnd with them are those of restrained glance, all of the same age as one another.
Urduاور ان کے پاس ایسی بیویاں ہوں گی جن کی نگاہیں نیچی اور صرف اپنے شوہروں کی طرف ہوں گی، اور وہ سب آپس میں ایک دوسرے کی ہم عمر ہوں گی۔
Arabicوَعِنْدَهُمْ في تلك الجنات النعيمة أزواج قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ، نساء لا ينظرن إلا إلى أزواجهن خاصة، أَتْرَابٌ متساويات متقاربات في السن، لا فرق بينهن في العمر أبداً.
PickthallThis it is that ye are promised for the Day of Reckoning.
Yusuf AliSuch is the Promise made, to you for the Day of Account!
The agreed readingThis is what you are promised for the Day of Reckoning - promised against that day and kept for it.
Urduیہ ہے وہ عمدہ چیز جس کا تم سے خاص طور پر حساب کے دن کے لیے وعدہ کیا گیا ہے - یہ اسی دن کے لیے وعدہ اور اسی کے لیے ہمیشہ محفوظ رکھا گیا ہے۔
Arabicهَذَا مَا تُوعَدُونَ به وتُبَشَّرون به بشارة عظيمة من هذا النعيم العظيم الخالد لِيَوْمِ الْحِسَابِ الآجل، وُعِد لكم من أجل ذلك اليوم تحديداً وادُّخر لكم فيه بلا نقصان أبداً مطلقاً.
PickthallThis (is for the righteous). And lo! for the transgressors there with be an evil journey's end,
Yusuf AliYea, such! but - for the wrong-doers will be an evil place of (Final) Return!-
The agreed readingSo it is. And for those who overstep all bounds there is an evil place to return to:
Urduیہ سب کچھ تو صرف متقین کے لیے ہے۔ اور حد سے تجاوز کرنے والے سرکشوں کے لیے اس کے بالکل مقابلے میں ایک بہت ہی برا اور ذلیل ٹھکانہ ہے:
Arabicهَذَا الجزاء الطيب المذكور للمتقين خاصة دون سواهم، وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ الذين تجاوزوا حدود اللَّهِ وطغوا لَشَرَّ مَآبٍ في المقابل، مرجعاً سيئاً بئيساً ينتظرهم هناك بلا شك.
PickthallHell, where they will burn, an evil resting-place.
Yusuf AliHell!- they will burn therein, - an evil bed (indeed, to lie on)!-
The agreed readingHell, which they enter and burn in - and an evil bed it is that is spread for them.
Urduجہنم، وہ ایسی جگہ ہے جس میں وہ داخل ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جلتے رہیں گے - اور کتنا ہی برا بچھونا ہے جو خاص طور پر ان کے لیے بچھایا گیا ہے۔
Arabicجَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا يدخلونها ويعانون حرها الشديد ولهيبها المستعر إلى الأبد بلا انقطاع، فَبِئْسَ الْمِهَادُ الفراش الذي مُهِّد لهم فيها، ذلك المهاد السيئ البئيس المهين الذليل.
PickthallHere is a boiling and an ice-cold draught, so let them taste it,
Yusuf AliYea, such! - then shall they taste it,- a boiling fluid, and a fluid dark, murky, intensely cold!-
The agreed readingSo it is - and let them taste it: scalding water, and a freezing foul discharge with it,
Urduیہ عذاب اسی طرح ہے - اور وہ اسے مجبوراً چکھیں: سخت کھولتا ہوا پانی، اور اس کے ساتھ ایک نہایت ٹھنڈا اور بدبودار پیپ جیسا مواد،
Arabicهَذَا الجزاء المهين لهم، فَلْيَذُوقُوهُ كرهاً ولا مفر لهم منه أبداً، حَمِيمٌ ماء شديد الحرارة يشوي الوجوه والأجساد، وَغَسَّاقٌ صديد يسيل من أجساد أهل النار المعذبين فيها.
PickthallAnd other (torment) of the kind in pairs (the two extremes)!
Yusuf AliAnd other Penalties of a similar kind, to match them!
The agreed readingand other punishments of the very same kind again, coming upon them in sorts and in pairs.
Urduاور اسی ایک طرح کے کچھ اور بھی مزید کئی عذاب ہوں گے، جو مختلف مختلف اقسام اور جوڑوں کی صورت میں بار بار ان پر مسلسل آتے رہیں گے۔
Arabicوَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ نفس شكل هذا الْعَذَابِ الأول وجنسه المشابه، أَزْوَاجٌ متنوعة متعددة كثيرة، يعذبون بأصناف كثيرة من العذاب في الآخرة، أَزْوَاجًا زوجين زوجين متتابعة.
PickthallHere is an army rushing blindly with you. (Those who are already in the Fire say): No word of welcome for them. Lo! they will roast at the Fire.
Yusuf AliHere is a troop rushing headlong with you! No welcome for them! truly, they shall burn in the Fire!
The agreed readingThis is a crowd pushing in with you - no welcome for them; they will burn in the Fire just as you do.
Urduیہ بھی ایک بہت بڑا ٹولہ ہے جو تمہارے ساتھ ہی زبردستی اندر گھس رہا ہے - انہیں کوئی خوش آمدید نہیں کہا جائے گا؛ وہ بھی تمہاری ہی طرح آگ میں جلیں گے۔
Arabicهَذَا فَوْجٌ مُقْتَحِمٌ مَعَكُمْ داخل معكم النار دفعة واحدة، لَا مَرْحَبًا بِهِمْ يقول ذلك أهل النار لبعضهم بعضاً، إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ يعانون حرها مثلكم تماماً بلا فرق.
PickthallThey say: Nay, but you (misleaders), for you there is no word of welcome. Ye prepared this for us (by your misleading). Now hapless is the plight.
Yusuf Ali(The followers shall cry to the misleaders:) "Nay, ye (too)! No welcome for you! It is ye who have brought this upon us! Now evil is (this) place to stay in!"
The agreed readingThey answer: no, it is you who get no welcome - you set this before us; and an evil place it is to settle.
Urduوہ جواب دیں گے: نہیں بلکہ تمہیں ہی کوئی خوش آمدید نہیں - تم نے ہی یہ ہمارے آگے پیش کیا؛ اور یہ ٹھہرنے کی بہت بری جگہ ہے۔
Arabicقَالُوا مجيبين: بَلْ أَنْتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ أيضاً، أَنْتُمْ الذين قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا وتسببتم فيه بإضلالكم إيانا من قبل، فَبِئْسَ الْقَرَارُ هذا القرار السيئ الذي صرنا إليه جميعاً.
PickthallAnd they say: What aileth us that we behold not men whom we were wont to count among the wicked?
Yusuf AliAnd they will say: "What has happened to us that we see not men whom we used to number among the bad ones?
The agreed readingAnd they say: what is wrong with us, that we do not see men we used to count among the worst?
Urduاور وہ حیرانی سے کہیں گے: آخر ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم اپنے آس پاس ان مردوں کو کہیں بھی نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم دنیا میں بہت برے لوگوں میں شمار کیا کرتے تھے؟
Arabicوَقَالُوا مستغربين متعجبين كثيراً: مَا لَنَا لَا نَرَى الآن رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ فِي الدنيا مِنَ الأشرار الأشقياء، لا نراهم معنا هنا في النار كما توقعنا.
PickthallDid we take them (wrongly) for a laughing-stock, or have our eyes missed them?
Yusuf Ali"Did we treat them (as such) in ridicule, or have (our) eyes failed to perceive them?"
The agreed readingDid we take them for a joke and get it wrong, or have our eyes simply missed them here?
Urduکیا ہم نے دنیا میں انہیں غلطی سے یونہی ہنسی مذاق بنا لیا تھا، یا پھر ہماری نگاہیں یہاں اس وقت واقعی ان سے چوک گئی ہیں حالانکہ وہ یہاں موجود ہیں؟
Arabicأَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا في تلك الدنيا خطأً منا فلم يكونوا يستحقون سخريتنا هذه أصلاً، أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ هنا فلم نرهم رغم وجودهم معنا فعلاً حقيقة.
PickthallLo! that is very truth: the wrangling of the dwellers in the Fire.
Yusuf AliTruly that is just and fitting,- the mutual recriminations of the People of the Fire!
The agreed readingThat is the truth of it, and no doubt about it: the people of the Fire falling out with one another.
Urduبیشک یہ ہے اس پوری بات کی اصل حقیقت، اور اس میں ذرا بھی شک باقی نہیں ہے: یہ آگ میں پڑنے والے تمام لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے سے شدید جھگڑنا اور بحث کرنا ہے۔
Arabicإِنَّ ذَلِكَ الذي ذكرناه لَحَقٌّ ثابت لا شك فيه ولا ريب أبداً على الإطلاق، وهو تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ فيما بينهم، يتنازعون هناك يوم القيامة بلا انقطاع.
PickthallSay (unto them, O Muhammad): I am only a warner, and there is no Allah save Allah, the One, the Absolute,
Yusuf AliSay: "Truly am I a Warner: no god is there but the one Allah, Supreme and Irresistible,-
The agreed readingSay: I am only a warner, and there is no god but God, the One, the Overpowering,
Urduانہیں صاف کہہ دو: میں تو بس صرف ایک خبردار کرنے والا ہوں، اور اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں ہے، وہ بالکل اکیلا اور ہر چیز پر مکمل طور پر غالب ہے،
Arabicقُلْ لهم يا محمد: إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرٌ لكم من عذاب اللَّهِ، وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ الذي قهر كل شيء وخضع له كل مخلوق.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِطُولِهِ وَقَالَ " إِنِّي نَعَسْتُ فَاسْتَثْقَلْتُ نَوْمًا فَرَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَى " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ أَبُو هَانِئٍ الْيَشْكُرِيُّ حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلاَّمِ عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضى الله عنه قَالَ احْتُبِسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلاَةِ …
Narrated Mu'adh bin Jabal [may Allah be pleased with him]:"One morning, the Messenger of Allah (ﷺ) was prevented from coming to us for Salat As-Subh, until we were just about to look for the eye of the sun (meaning sunrise). Then he came out quickly, had the Salat prepared for. The Messenger of Allah (ﷺ) performed the Salat, and he performed his Salat in a relatively quick manner. When he said the Salam, he called aloud with his voice saying to us: 'Stay in your rows as you are.' Then he turned coming near to us, then he said: 'I am going to narrate to you what kept me from you this morning: I got up during the night, I performed Wudu and prayed as much as I was able to, and I dozed off …
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے ( حجرہ سے ) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو ( اپنے قریب ) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، ( تہجد کی ) نماز پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں نماز میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ …
PickthallLord of the heavens and the earth and all that is between them, the Mighty, the Pardoning.
Yusuf Ali"The Lord of the heavens and the earth, and all between,- Exalted in Might, able to enforce His Will, forgiving again and again."
The agreed readingLord of the heavens and the earth and all that is between them, the Mighty, the Much-Forgiving.
Urduوہ اکیلا ہی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس سب کا رب ہے، جو نہایت زبردست ہے اور بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔
Arabicهو سبحانه رَبُّ السماوات وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا من مخلوقات لا تحصى، الْعَزِيزُ الغالب الذي لا يُقهر أبداً، الْغَفَّارُ لذنوب من يتوب إليه من عباده الصادقين المخلصين.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 5 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة6 reports cited here — 5 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِطُولِهِ وَقَالَ " إِنِّي نَعَسْتُ فَاسْتَثْقَلْتُ نَوْمًا فَرَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَى " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ أَبُو هَانِئٍ الْيَشْكُرِيُّ حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلاَّمِ عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضى الله عنه قَالَ احْتُبِسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلاَةِ …
Narrated Mu'adh bin Jabal [may Allah be pleased with him]:"One morning, the Messenger of Allah (ﷺ) was prevented from coming to us for Salat As-Subh, until we were just about to look for the eye of the sun (meaning sunrise). Then he came out quickly, had the Salat prepared for. The Messenger of Allah (ﷺ) performed the Salat, and he performed his Salat in a relatively quick manner. When he said the Salam, he called aloud with his voice saying to us: 'Stay in your rows as you are.' Then he turned coming near to us, then he said: 'I am going to narrate to you what kept me from you this morning: I got up during the night, I performed Wudu and prayed as much as I was able to, and I dozed off …
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے ( حجرہ سے ) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو ( اپنے قریب ) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، ( تہجد کی ) نماز پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں نماز میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ …
It was narrated that ‘Aishah said:“If the Messenger of Allah (ﷺ) saw a cloud that looked as if it was bringing rain, the color of his face would change, and he would go in and out and walk to and fro. Then, if it rained, he would feel relieved.” ‘Aishah mentioned to him what she had seen him do, and he said: “How do you know? Perhaps it would be as the people of Hud said: ‘Then, when they saw it as a dense cloud coming towards their valleys, they said: “This is a cloud bringing us rain!” Nay, but it is that (torment) which you were asking to be hastened.” [46:]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل کو دیکھتے تو ( تردد و پریشانی کی وجہ سے ) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہہوں نے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ تجھے کیا معلوم؟ ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا: «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به» تو جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسائے گا، ( نہیں اس میں پانی نہیں تھا ) بلکہ وہ …
Narrated Abu 'Amir or Abu Malik Al-Ash'ari: that he heard the Prophet (ﷺ) saying, "From among my followers there will be some people who will consider illegal sexual intercourse, the wearing of silk, the drinking of alcoholic drinks and the use of musical instruments, as lawful. And there will be some people who will stay near the side of a mountain and in the evening their shepherd will come to them with their sheep and ask them for something, but they will say to him, 'Return to us tomorrow.' Allah will destroy them during the night and will let the mountain fall on them, and He will transform the rest of them into monkeys and pigs and they will remain so till the Day of Resurrection
اور ہشام بن عمار نے بیان کیا کہ ان سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے، ان سے عطیہ بن قیس کلابی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن غنم اشعری نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوعامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے …
Narrated Anas:When the news of the arrival of the Prophet (ﷺ) at Medina reached `Abdullah bin Salam, he went to him to ask him about certain things, He said, "I am going to ask you about three things which only a Prophet can answer: What is the first sign of The Hour? What is the first food which the people of Paradise will eat? Why does a child attract the similarity to his father or to his mother?" The Prophet (ﷺ) replied, "Gabriel has just now informed me of that." Ibn Salam said, "He (i.e. Gabriel) is the enemy of the Jews amongst the angels. The Prophet (ﷺ) said, "As for the first sign of The Hour, it will be a fire that will collect the people from the East to the West. As for the …
مجھ سے حامد بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے، ان سے حمید طویل نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ جب عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے کی خبر ہوئی تو وہ آپ سے چند سوال کرنے کے لیے آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے متعلق پوچھوں گا جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کی سب سے پہلی نشانی کیا ہو گی؟ اہل جنت کی ضیافت سب سے پہلے کس کھانے سے کی جائے گی؟ اور کیا بات ہے کہ بچہ کبھی باپ پر جاتا ہے اور کبھی ماں پر؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جواب ابھی مجھے جبرائیل نے آ کر بتایا ہے۔ عبداللہ بن سلام نے کہا کہ یہ ملائکہ میں یہودیوں کے دشمن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جو …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ مَقْدَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلاَثٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ نَبِيٌّ، {قَالَ مَا} أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمِنْ أَىِّ شَىْءٍ يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَمِنْ أَىِّ شَىْءٍ يَنْزِعُ إِلَى أَخْوَالِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَبَّرَنِي بِهِنَّ آنِفًا جِبْرِيلُ ". قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " …
Narrated Anas:When `Abdullah bin Salam heard the arrival of the Prophet (ﷺ) at Medina, he came to him and said, "I am going to ask you about three things which nobody knows except a prophet: What is the first portent of the Hour? What will be the first meal taken by the people of Paradise? Why does a child resemble its father, and why does it resemble its maternal uncle" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Gabriel has just now told me of their answers." `Abdullah said, "He (i.e. Gabriel), from amongst all the angels, is the enemy of the Jews." Allah's Messenger (ﷺ) said, "The first portent of the Hour will be a fire that will bring together the people from the east to the west; the first meal of …
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مروان فزاری نے خبر دی۔ انہیں حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کی خبر ملی تو وہ آپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھوں گا۔ جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ وہ کون سا کھانا ہے جو سب سے پہلے جنتیوں کو کھانے کے لیے دیا جائے گا؟ اور کس چیز کی وجہ سے بچہ اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی مجھے آ کر اس کی خبر دی ہے۔ اس پر عبداللہ نے کہا کہ ملائکہ میں تو یہی تو یہودیوں کے دشمن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کی سب سے …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِطُولِهِ وَقَالَ " إِنِّي نَعَسْتُ فَاسْتَثْقَلْتُ نَوْمًا فَرَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَى " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ أَبُو هَانِئٍ الْيَشْكُرِيُّ حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلاَّمِ عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضى الله عنه قَالَ احْتُبِسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلاَةِ …
Narrated Mu'adh bin Jabal [may Allah be pleased with him]:"One morning, the Messenger of Allah (ﷺ) was prevented from coming to us for Salat As-Subh, until we were just about to look for the eye of the sun (meaning sunrise). Then he came out quickly, had the Salat prepared for. The Messenger of Allah (ﷺ) performed the Salat, and he performed his Salat in a relatively quick manner. When he said the Salam, he called aloud with his voice saying to us: 'Stay in your rows as you are.' Then he turned coming near to us, then he said: 'I am going to narrate to you what kept me from you this morning: I got up during the night, I performed Wudu and prayed as much as I was able to, and I dozed off …
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے ( حجرہ سے ) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو ( اپنے قریب ) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، ( تہجد کی ) نماز پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں نماز میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ …
Narrated Abu 'Amir or Abu Malik Al-Ash'ari: that he heard the Prophet (ﷺ) saying, "From among my followers there will be some people who will consider illegal sexual intercourse, the wearing of silk, the drinking of alcoholic drinks and the use of musical instruments, as lawful. And there will be some people who will stay near the side of a mountain and in the evening their shepherd will come to them with their sheep and ask them for something, but they will say to him, 'Return to us tomorrow.' Allah will destroy them during the night and will let the mountain fall on them, and He will transform the rest of them into monkeys and pigs and they will remain so till the Day of Resurrection
اور ہشام بن عمار نے بیان کیا کہ ان سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے، ان سے عطیہ بن قیس کلابی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن غنم اشعری نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوعامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے …
The agreed readingand it is from this announcement, of all things, that you are the ones turning away.
Urduاور یہی وہ خبر ہے، تمام باتوں سے بڑھ کر، جس سے تم لوگ اب بھی ہمیشہ بار بار منہ موڑنے والے اور مکمل بےاعتنائی برتنے والے ہو۔
Arabicوَأَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ تماماً بلا اهتمام، تعرضون عن هذا النبأ العظيم بالذات دون غيره، لا تلتفتون إليه ولا تصغون له مع عظمته وخطورته الشديدة عليكم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِطُولِهِ وَقَالَ " إِنِّي نَعَسْتُ فَاسْتَثْقَلْتُ نَوْمًا فَرَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَى " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ أَبُو هَانِئٍ الْيَشْكُرِيُّ حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلاَّمِ عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضى الله عنه قَالَ احْتُبِسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلاَةِ …
Narrated Mu'adh bin Jabal [may Allah be pleased with him]:"One morning, the Messenger of Allah (ﷺ) was prevented from coming to us for Salat As-Subh, until we were just about to look for the eye of the sun (meaning sunrise). Then he came out quickly, had the Salat prepared for. The Messenger of Allah (ﷺ) performed the Salat, and he performed his Salat in a relatively quick manner. When he said the Salam, he called aloud with his voice saying to us: 'Stay in your rows as you are.' Then he turned coming near to us, then he said: 'I am going to narrate to you what kept me from you this morning: I got up during the night, I performed Wudu and prayed as much as I was able to, and I dozed off …
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے ( حجرہ سے ) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو ( اپنے قریب ) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، ( تہجد کی ) نماز پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں نماز میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ …
Narrated Abu 'Amir or Abu Malik Al-Ash'ari: that he heard the Prophet (ﷺ) saying, "From among my followers there will be some people who will consider illegal sexual intercourse, the wearing of silk, the drinking of alcoholic drinks and the use of musical instruments, as lawful. And there will be some people who will stay near the side of a mountain and in the evening their shepherd will come to them with their sheep and ask them for something, but they will say to him, 'Return to us tomorrow.' Allah will destroy them during the night and will let the mountain fall on them, and He will transform the rest of them into monkeys and pigs and they will remain so till the Day of Resurrection
اور ہشام بن عمار نے بیان کیا کہ ان سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے، ان سے عطیہ بن قیس کلابی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن غنم اشعری نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوعامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے …
PickthallI had no knowledge of the Highest Chiefs when they disputed;
Yusuf Ali"No knowledge have I of the Chiefs on high, when they discuss (matters) among themselves.
The agreed readingI had no knowledge of the highest assembly and their dispute - the commentaries place it at the creation of Adam.
Urduمجھے اس بلند ترین اور اعلیٰ ملائکہ کی مجلس اور ان کے آپس کے جھگڑے کا کوئی بھی علم نہیں تھا - تفسیریں اسے خاص طور پر آدم علیہ السلام کی تخلیق کے وقت کا واقعہ بتاتی ہیں۔
Arabicمَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَى، الملائكة الكرام، إِذْ يَخْتَصِمُونَ فيما بينهم، وقد ذكرت التفاسير المفسرة أن ذلك كان عند خلق آدم عليه السلام تحديداً.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِطُولِهِ وَقَالَ " إِنِّي نَعَسْتُ فَاسْتَثْقَلْتُ نَوْمًا فَرَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَى " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ أَبُو هَانِئٍ الْيَشْكُرِيُّ حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلاَّمِ عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضى الله عنه قَالَ احْتُبِسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلاَةِ …
Narrated Mu'adh bin Jabal [may Allah be pleased with him]:"One morning, the Messenger of Allah (ﷺ) was prevented from coming to us for Salat As-Subh, until we were just about to look for the eye of the sun (meaning sunrise). Then he came out quickly, had the Salat prepared for. The Messenger of Allah (ﷺ) performed the Salat, and he performed his Salat in a relatively quick manner. When he said the Salam, he called aloud with his voice saying to us: 'Stay in your rows as you are.' Then he turned coming near to us, then he said: 'I am going to narrate to you what kept me from you this morning: I got up during the night, I performed Wudu and prayed as much as I was able to, and I dozed off …
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے ( حجرہ سے ) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو ( اپنے قریب ) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، ( تہجد کی ) نماز پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں نماز میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ …
Narrated Abu 'Amir or Abu Malik Al-Ash'ari: that he heard the Prophet (ﷺ) saying, "From among my followers there will be some people who will consider illegal sexual intercourse, the wearing of silk, the drinking of alcoholic drinks and the use of musical instruments, as lawful. And there will be some people who will stay near the side of a mountain and in the evening their shepherd will come to them with their sheep and ask them for something, but they will say to him, 'Return to us tomorrow.' Allah will destroy them during the night and will let the mountain fall on them, and He will transform the rest of them into monkeys and pigs and they will remain so till the Day of Resurrection
اور ہشام بن عمار نے بیان کیا کہ ان سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے، ان سے عطیہ بن قیس کلابی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن غنم اشعری نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوعامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے …
PickthallIt is revealed unto me only that I may be a plain warner.
Yusuf Ali'Only this has been revealed to me: that I am to give warning plainly and publicly."
The agreed readingIt is revealed to me only that I am a clear warner - my knowledge comes by revelation and no other way.
Urduمیری طرف تو صرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں - میرا علم صرف وحی سے آتا ہے، کسی اور طریقے سے نہیں۔
Arabicإِنْ يُوحَى إِلَيَّ من ربي إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ لكم من عذاب اللَّهِ، وعلمي بهذا كله يأتيني عن طريق الوحي وحده لا عن طريق آخر أبداً.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِطُولِهِ وَقَالَ " إِنِّي نَعَسْتُ فَاسْتَثْقَلْتُ نَوْمًا فَرَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَى " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ أَبُو هَانِئٍ الْيَشْكُرِيُّ حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلاَّمِ عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضى الله عنه قَالَ احْتُبِسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلاَةِ …
Narrated Mu'adh bin Jabal [may Allah be pleased with him]:"One morning, the Messenger of Allah (ﷺ) was prevented from coming to us for Salat As-Subh, until we were just about to look for the eye of the sun (meaning sunrise). Then he came out quickly, had the Salat prepared for. The Messenger of Allah (ﷺ) performed the Salat, and he performed his Salat in a relatively quick manner. When he said the Salam, he called aloud with his voice saying to us: 'Stay in your rows as you are.' Then he turned coming near to us, then he said: 'I am going to narrate to you what kept me from you this morning: I got up during the night, I performed Wudu and prayed as much as I was able to, and I dozed off …
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے ( حجرہ سے ) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو ( اپنے قریب ) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، ( تہجد کی ) نماز پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں نماز میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ …
Narrated Abu 'Amir or Abu Malik Al-Ash'ari: that he heard the Prophet (ﷺ) saying, "From among my followers there will be some people who will consider illegal sexual intercourse, the wearing of silk, the drinking of alcoholic drinks and the use of musical instruments, as lawful. And there will be some people who will stay near the side of a mountain and in the evening their shepherd will come to them with their sheep and ask them for something, but they will say to him, 'Return to us tomorrow.' Allah will destroy them during the night and will let the mountain fall on them, and He will transform the rest of them into monkeys and pigs and they will remain so till the Day of Resurrection
اور ہشام بن عمار نے بیان کیا کہ ان سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے، ان سے عطیہ بن قیس کلابی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن غنم اشعری نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوعامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے …
PickthallWhen thy Lord said unto the angels: Lo! I am about to create a mortal out of mire,
Yusuf AliBehold, thy Lord said to the angels: "I am about to create man from clay:
The agreed readingWhen your Lord said to the angels: I am about to create a man out of clay - and that man was Adam.
Urduجب تمہارے رب نے فرشتوں سے یہ بات فرمائی: میں مٹی سے ایک نیا انسان پیدا کرنے والا ہوں - اور یہ جو انسان تھا وہ آدم علیہ السلام تھے۔
Arabicإِذْ قَالَ رَبُّكَ سبحانه وتعالى لِلْمَلَائِكَةِ الكرام المقربين: إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ لازب لاصق، وذلك البشر المخلوق هو آدم عليه السلام أبو البشرية جميعاً بلا استثناء.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Rāzī, Ibn ʿĀshūr and Ṭanṭāwī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd when I have fashioned him and breathed into him of My Spirit, then fall down before him prostrate,
Yusuf Ali"When I have fashioned him (in due proportion) and breathed into him of My spirit, fall ye down in obeisance unto him."
The agreed readingSo when I have shaped him and breathed into him of My spirit, fall down before him in prostration.
Urduپس جب میں اسے پوری طرح مکمل اور درست بنا دوں اور اس کے اندر اپنی خاص طرف سے روح پھونک دوں، تو تم سب فرشتے اس کے سامنے فوراً سجدے میں گر جانا۔
Arabicفَإِذَا سَوَّيْتُهُ فعدلت خلقه وأتممته تماماً بلا نقص، وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي التي خلقتها له خصيصاً، فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ سجود تكريم واحترام لا عبادة له.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Rāzī, Ibn ʿĀshūr and Ṭanṭāwī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThe angels fell down prostrate, every one,
Yusuf AliSo the angels prostrated themselves, all of them together:
The agreed readingAnd the angels prostrated themselves, all of them together, with not one held back.
Urduاور تمام فرشتوں نے فوری طور پر مکمل اطاعت سے سجدہ کیا، وہ سب کے سب مل کر اکٹھے جھک گئے، ان میں سے کوئی ایک بھی پیچھے نہیں رہا۔
Arabicفَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ امتثالاً فورياً وطاعة كاملة لأمر ربهم، لم يتخلف منهم واحد واحد عن السجود، سجدوا جميعاً سجود تكريم واحترام لآدم عليه السلام.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Rāzī and Ibn ʿĀshūr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallSaving Iblis; he was scornful and became one of the disbelievers.
Yusuf AliNot so Iblis: he was haughty, and became one of those who reject Faith.
The agreed readingexcept Iblis; he was too proud to do it, and he was already one of those who refuse.
Urduسوائے ابلیس کے؛ اس نے سجدہ کرنے سے صاف انکار اور سخت تکبر کیا اور وہ اس سے بھی پہلے سے ہی انکار کرنے والے کافروں میں شامل تھا۔
Arabicإِلَّا إِبْلِيسَ وحده دون سواه استكبر عن السجود لآدم وأبى ذلك بشدة وعناد، وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ الجاحدين من قبل ذلك في علم اللَّهِ، فظهر كفره الخفي حينئذ للجميع.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Rāzī and Ibn ʿĀshūr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallHe said: O Iblis! What hindereth thee from falling prostrate before that which I have created with both My hands? Art thou too proud or art thou of the high exalted?
Yusuf Ali(Allah) said: "O Iblis! What prevents thee from prostrating thyself to one whom I have created with my hands? Art thou haughty? Or art thou one of the high (and mighty) ones?"
The agreed readingGod said: Iblis, what kept you from prostrating to what I created with My own hands? Were you too proud, or were you of the exalted?
Urduاللہ نے فرمایا: اے ابلیس، تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس چیز کو سجدہ کرے جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا؟ کیا تو نے تکبر کیا یا تو بلند مرتبہ والوں میں سے تھا؟
Arabicقَالَ: يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ خصيصاً وتكريماً، أَسْتَكْبَرْتَ عن السجود لآدم أَمْ كُنْتَ مِنَ العالين المتعالين على أمري من الأصل.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ يَا أُمَّتَاهْ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم رَبَّهُ فَقَالَتْ لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي مِمَّا قُلْتَ، أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلاَثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ فَقَدْ كَذَبَ، مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ. ثُمَّ قَرَأَتْ {لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ} {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {وَمَا تَدْرِي …
Narrated Masruq:I said to `Aisha, "O Mother! Did Prophet Muhammad see his Lord?" Aisha said, "What you have said makes my hair stand on end ! Know that if somebody tells you one of the following three things, he is a liar: Whoever tells you that Muhammad saw his Lord, is a liar." Then Aisha recited the Verse: 'No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision. He is the Most Courteous Well-Acquainted with all things.' (6.103) 'It is not fitting for a human being that Allah should speak to him except by inspiration or from behind a veil.' (42.51) `Aisha further said, "And whoever tells you that the Prophet knows what is going to happen tomorrow, is a liar." She then recited: 'No soul …
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے وکیع نے، ان سے اسمٰعیل بن ابی خالد نے، ان سے عامر نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے ایمان والوں کی ماں! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں اپنے رب کو دیکھا تھا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تم نے ایسی بات کہی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو؟ جو شخص بھی تم میں سے یہ تین باتیں بیان کرے وہ جھوٹا ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے آیت «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير» سے لے کر «من وراء حجاب» تک کی تلاوت کی اور کہا کہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ سے بات کرے سوا اس کے کہ …
PickthallHe said: I am better than him. Thou createdst me of fire, whilst him Thou didst create of clay.
Yusuf Ali(Iblis) said: "I am better than he: thou createdst me from fire, and him thou createdst from clay."
The agreed readingHe said: I am better than him; You created me from fire, and You created him from clay.
Urduاس نے سخت تکبر سے یہ کہا: میں اس سے کہیں زیادہ بہتر ہوں؛ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے صرف عام مٹی سے پیدا کیا ہے۔
Arabicقَالَ إبليس متكبراً معانداً بلا وجه حق: أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ من آدم بلا أدنى شك، خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ، والنار في زعمه الفاسد أشرف من الطِينِ.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ يَا أُمَّتَاهْ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم رَبَّهُ فَقَالَتْ لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي مِمَّا قُلْتَ، أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلاَثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ فَقَدْ كَذَبَ، مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ. ثُمَّ قَرَأَتْ {لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ} {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {وَمَا تَدْرِي …
Narrated Masruq:I said to `Aisha, "O Mother! Did Prophet Muhammad see his Lord?" Aisha said, "What you have said makes my hair stand on end ! Know that if somebody tells you one of the following three things, he is a liar: Whoever tells you that Muhammad saw his Lord, is a liar." Then Aisha recited the Verse: 'No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision. He is the Most Courteous Well-Acquainted with all things.' (6.103) 'It is not fitting for a human being that Allah should speak to him except by inspiration or from behind a veil.' (42.51) `Aisha further said, "And whoever tells you that the Prophet knows what is going to happen tomorrow, is a liar." She then recited: 'No soul …
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے وکیع نے، ان سے اسمٰعیل بن ابی خالد نے، ان سے عامر نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے ایمان والوں کی ماں! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں اپنے رب کو دیکھا تھا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تم نے ایسی بات کہی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو؟ جو شخص بھی تم میں سے یہ تین باتیں بیان کرے وہ جھوٹا ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے آیت «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير» سے لے کر «من وراء حجاب» تک کی تلاوت کی اور کہا کہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ سے بات کرے سوا اس کے کہ …
PickthallHe said: Go forth from hence, for lo! thou art outcast,
Yusuf Ali(Allah) said: "Then get thee out from here: for thou art rejected, accursed.
The agreed readingGod said: then get out of it - you are driven away and cast off from where you were.
Urduاللہ نے یہ سخت فرمایا: تو پھر ابھی اسی وقت فوراً اس جنت سے نکل جا - تجھے دھتکارا اور مردود کر کے نکالا جا رہا ہے اسی جگہ سے جہاں تو پہلے تھا۔
Arabicقَالَ اللَّهُ لإبليس مباشرة بلا تأخير: فَاخْرُجْ مِنْهَا من الجنة أو من صفوف الملائكة فوراً، فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ملعون مطرود مبعد عن رحمتي بسبب استكبارك الشديد.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallHe said: My Lord! Reprieve me till the day when they are raised.
Yusuf Ali(Iblis) said: "O my Lord! Give me then respite till the Day the (dead) are raised."
The agreed readingHe said: my Lord, then give me respite until the day when the people are raised up.
Urduاس نے فوراً کہا: اے میرے پروردگار، پھر تو مجھے اس دن تک زندگی کی مکمل مہلت عطا فرما دے جب سارے تمام لوگ دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔
Arabicقَالَ إبليس مستدركاً محتالاً بمكره: رَبِّ فَأَنْظِرْنِي أمهلني ولا تُمِتني بعد اليوم أبداً إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ فيه، أي يوم يُبعث فيه جميع الناس من قبورهم للحساب النهائي.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Yusuf Ali(Allah) said: "Respite then is granted thee-
The agreed readingGod said: then you are among those given respite, and the respite is granted you,
Urduاللہ نے فرمایا: اچھا تو پھر تجھے مہلت دی جاتی ہے، اور یہ مہلت تجھے ابھی اسی وقت فوری طور پر دے دی گئی ہے، مگر ایک خاص مقررہ وقت تک،
Arabicقَالَ اللَّهُ سبحانه مجيباً طلبه بمشيئته الكاملة: فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ الممهلين المؤجلين حتماً، أعطيناك ما طلبت من إمهال طويل إلى وقت معلوم عندنا وحدنا لا تعلمه أنت أبداً.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
The agreed readinguntil the day of the appointed time - which the commentaries name as the first blast of the Trumpet.
Urduاس بالکل مقررہ اور پہلے سے طے شدہ وقت کے دن تک - جسے تفسیریں صور کی سب سے پہلی پھونک کے طور پر خاص طور پر بیان کرتی ہیں۔
Arabicإِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ المحدد المعروف عند اللَّهِ وحده لا يعلمه أحد سواه، وقد سمّته التفاسير المفسرة بأنه أول نفخة في الصور تكون قبل النفخة الثانية للبعث.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Masruq:While a man was delivering a speech in the tribe of Kinda, he said, "Smoke will prevail on the Day of Resurrection and will deprive the hypocrites their faculties of hearing and seeing. The believers will be afflicted with something like cold only thereof." That news scared us, so I went to (Abdullah) Ibn Mas`ud while he was reclining (and told him the story) whereupon he became angry, sat up and said, "He who knows a thing can say, it, but if he does not know, he should say, 'Allah knows best,' for it is an aspect of knowledge to say, 'I do not know,' if you do not know a certain thing. Allah said to His prophet. 'Say (O Muhammad): No wage do I ask of you for this (Qur'an), …
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ایک شخص نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے آنکھ کان بالکل بیکار ہو جائیں گے لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہو گا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے۔ پھر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ( اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی ) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اسے سن کر بہت غصہ ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو کسی بات کا واقعی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہئے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہئے کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی …
PickthallSave Thy single-minded slaves among them.
Yusuf Ali"Except Thy Servants amongst them, sincere and purified (by Thy Grace)."
The agreed readingexcept those of Your servants among them whom You Yourself have made sincere in faith.
Urduسوائے تیرے ان نیک اور برگزیدہ بندوں کے جنہیں تو نے خود اپنے لیے خالص کر لیا اور اپنے سچے ایمان میں ہمیشہ کے لیے مکمل مخلص بنا دیا۔
Arabicإِلَّا عِبَادَكَ الصالحين المؤمنين حقاً وصدقاً مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ الذين أخلصتهم أنت وحدك لنفسك الكريمة وعصمتهم من كيدي وإغوائي، فلن يكون لي عليهم أي سلطان أبداً مطلقاً على الإطلاق.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Masruq:While a man was delivering a speech in the tribe of Kinda, he said, "Smoke will prevail on the Day of Resurrection and will deprive the hypocrites their faculties of hearing and seeing. The believers will be afflicted with something like cold only thereof." That news scared us, so I went to (Abdullah) Ibn Mas`ud while he was reclining (and told him the story) whereupon he became angry, sat up and said, "He who knows a thing can say, it, but if he does not know, he should say, 'Allah knows best,' for it is an aspect of knowledge to say, 'I do not know,' if you do not know a certain thing. Allah said to His prophet. 'Say (O Muhammad): No wage do I ask of you for this (Qur'an), …
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ایک شخص نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے آنکھ کان بالکل بیکار ہو جائیں گے لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہو گا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے۔ پھر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ( اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی ) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اسے سن کر بہت غصہ ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو کسی بات کا واقعی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہئے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہئے کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی …
PickthallHe said: The Truth is, and the Truth I speak,
Yusuf Ali(Allah) said: "Then it is just and fitting- and I say what is just and fitting-
The agreed readingGod said: the truth is this, and it is the truth alone that I am speaking here -
Urduاللہ نے یہ بات نہایت قطعی طور پر فرمائی: حق تو بس یہی ایک بات ہے، اور میں یہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صرف اور صرف پکا حق ہی بولتا رہوں گا -
Arabicقَالَ اللَّهُ سبحانه رداً حاسماً على إبليس: فَالْحَقُّ مني وحدي وَالْحَقَّ أَقُولُ دائماً أبداً، لا أقول إلا الحق أبداً في كل ما أقضي به وأحكم عليه.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Ibrahim ibn alHarith at-Taymi from Yahya ibn Abd ar-Rahman ibn Hatib that Umar ibn al-Khattab set out on one occasion with a party of riders, one of whom was Amr ibn al-As. They came to a watering place and Amr ibn al-As asked the man who owned it whether wild beasts drank from it. Umar ibn al-Khattab told the owner of the watering place not to answer, since the people drank after the wild beasts and the wild beasts drank after them
یحیی بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عمر بن خطاب نکلے چند سواروں میں ان میں عمر وبن عاص بھی تھے راہ میں ایک حوض ملا تو عمرو بن عاص نے حوض والے سے پوچھا کہ تیرے حوض پر درندے جانور پانی پینے کو آتے ہیں تو کہا عمر بن خطاب نے اے حوض والے مت بتا ہم کو کس لئے کہ درندے کبھی ہم سے آگے آتے ہیں اور کبھی ہم درندوں سے آگے آتے ہیں ۔
Narrated Masruq:While a man was delivering a speech in the tribe of Kinda, he said, "Smoke will prevail on the Day of Resurrection and will deprive the hypocrites their faculties of hearing and seeing. The believers will be afflicted with something like cold only thereof." That news scared us, so I went to (Abdullah) Ibn Mas`ud while he was reclining (and told him the story) whereupon he became angry, sat up and said, "He who knows a thing can say, it, but if he does not know, he should say, 'Allah knows best,' for it is an aspect of knowledge to say, 'I do not know,' if you do not know a certain thing. Allah said to His prophet. 'Say (O Muhammad): No wage do I ask of you for this (Qur'an), …
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ایک شخص نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے آنکھ کان بالکل بیکار ہو جائیں گے لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہو گا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے۔ پھر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ( اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی ) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اسے سن کر بہت غصہ ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو کسی بات کا واقعی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہئے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہئے کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی …
PickthallThat I shall fill hell with thee and with such of them as follow thee, together.
Yusuf Ali"That I will certainly fill Hell with thee and those that follow thee,- every one."
The agreed readingthat I shall fill Hell with you and with all those of them who follow you, together.
Urduکہ میں ضرور بالضرور جہنم کو تجھ سے اور ان سب انسانوں میں سے ہر اس شخص سے بھر کر ہی رہوں گا جو تیری پیروی کرے گا، سب کو ایک ساتھ اکٹھا کر کے۔
Arabicلَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ حتماً ولا محالة مِنْكَ يا إبليس وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ من ذرية آدم كلهم، لن يُستثنى منهم أحد اتبعك وأطاعك في غوايتك أبداً.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Masruq:While a man was delivering a speech in the tribe of Kinda, he said, "Smoke will prevail on the Day of Resurrection and will deprive the hypocrites their faculties of hearing and seeing. The believers will be afflicted with something like cold only thereof." That news scared us, so I went to (Abdullah) Ibn Mas`ud while he was reclining (and told him the story) whereupon he became angry, sat up and said, "He who knows a thing can say, it, but if he does not know, he should say, 'Allah knows best,' for it is an aspect of knowledge to say, 'I do not know,' if you do not know a certain thing. Allah said to His prophet. 'Say (O Muhammad): No wage do I ask of you for this (Qur'an), …
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ایک شخص نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے آنکھ کان بالکل بیکار ہو جائیں گے لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہو گا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے۔ پھر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ( اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی ) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اسے سن کر بہت غصہ ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو کسی بات کا واقعی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہئے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہئے کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی …
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Ibrahim ibn alHarith at-Taymi from Yahya ibn Abd ar-Rahman ibn Hatib that Umar ibn al-Khattab set out on one occasion with a party of riders, one of whom was Amr ibn al-As. They came to a watering place and Amr ibn al-As asked the man who owned it whether wild beasts drank from it. Umar ibn al-Khattab told the owner of the watering place not to answer, since the people drank after the wild beasts and the wild beasts drank after them
یحیی بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عمر بن خطاب نکلے چند سواروں میں ان میں عمر وبن عاص بھی تھے راہ میں ایک حوض ملا تو عمرو بن عاص نے حوض والے سے پوچھا کہ تیرے حوض پر درندے جانور پانی پینے کو آتے ہیں تو کہا عمر بن خطاب نے اے حوض والے مت بتا ہم کو کس لئے کہ درندے کبھی ہم سے آگے آتے ہیں اور کبھی ہم درندوں سے آگے آتے ہیں ۔
PickthallSay (O Muhammad, unto mankind): I ask of you no fee for this, and I am no simulating.
Yusuf AliSay: "No reward do I ask of you for this (Qur'an), nor am I a pretender.
The agreed readingSay: I ask you no wage at all for this, and I am not one to put on what is not mine.
Urduکہو: میں اس پیغام کو پہنچانے پر تم سے کوئی بھی اجرت نہیں مانگتا، اور میں ہرگز ان لوگوں میں سے نہیں جو بناوٹ اور تکلف کرتے ہیں۔
Arabicقُلْ لهم يا محمد بوضوح: مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ قط، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ الذين يتصنعون ما ليس لهم أو يدعون علماً لا يملكونه أصلاً.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Ibrahim ibn alHarith at-Taymi from Yahya ibn Abd ar-Rahman ibn Hatib that Umar ibn al-Khattab set out on one occasion with a party of riders, one of whom was Amr ibn al-As. They came to a watering place and Amr ibn al-As asked the man who owned it whether wild beasts drank from it. Umar ibn al-Khattab told the owner of the watering place not to answer, since the people drank after the wild beasts and the wild beasts drank after them
یحیی بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عمر بن خطاب نکلے چند سواروں میں ان میں عمر وبن عاص بھی تھے راہ میں ایک حوض ملا تو عمرو بن عاص نے حوض والے سے پوچھا کہ تیرے حوض پر درندے جانور پانی پینے کو آتے ہیں تو کہا عمر بن خطاب نے اے حوض والے مت بتا ہم کو کس لئے کہ درندے کبھی ہم سے آگے آتے ہیں اور کبھی ہم درندوں سے آگے آتے ہیں ۔
Narrated Masruq:While a man was delivering a speech in the tribe of Kinda, he said, "Smoke will prevail on the Day of Resurrection and will deprive the hypocrites their faculties of hearing and seeing. The believers will be afflicted with something like cold only thereof." That news scared us, so I went to (Abdullah) Ibn Mas`ud while he was reclining (and told him the story) whereupon he became angry, sat up and said, "He who knows a thing can say, it, but if he does not know, he should say, 'Allah knows best,' for it is an aspect of knowledge to say, 'I do not know,' if you do not know a certain thing. Allah said to His prophet. 'Say (O Muhammad): No wage do I ask of you for this (Qur'an), …
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ایک شخص نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے آنکھ کان بالکل بیکار ہو جائیں گے لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہو گا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے۔ پھر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ( اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی ) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اسے سن کر بہت غصہ ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو کسی بات کا واقعی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہئے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہئے کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی …
PickthallLo! it is naught else than a reminder for all peoples
Yusuf Ali"This is no less than a Message to (all) the Worlds.
The agreed readingIt is nothing but a reminder for all the worlds - for people and for jinn alike.
Urduیہ قرآن کچھ اور نہیں مگر تمام جہانوں کے لیے ایک بھرپور اور مکمل نصیحت ہے - یہ خاص طور پر انسانوں اور جنوں دونوں کے لیے یکساں اور برابر ہے۔
Arabicإِنْ هُوَ هذا القرآن العظيم الكريم إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ جميعاً بلا استثناء، تذكرة عظيمة للإنس والجن على حد سواء، لا يستثنى منها أحد من المكلفين البتة أبداً مطلقاً.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Ibrahim ibn alHarith at-Taymi from Yahya ibn Abd ar-Rahman ibn Hatib that Umar ibn al-Khattab set out on one occasion with a party of riders, one of whom was Amr ibn al-As. They came to a watering place and Amr ibn al-As asked the man who owned it whether wild beasts drank from it. Umar ibn al-Khattab told the owner of the watering place not to answer, since the people drank after the wild beasts and the wild beasts drank after them
یحیی بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عمر بن خطاب نکلے چند سواروں میں ان میں عمر وبن عاص بھی تھے راہ میں ایک حوض ملا تو عمرو بن عاص نے حوض والے سے پوچھا کہ تیرے حوض پر درندے جانور پانی پینے کو آتے ہیں تو کہا عمر بن خطاب نے اے حوض والے مت بتا ہم کو کس لئے کہ درندے کبھی ہم سے آگے آتے ہیں اور کبھی ہم درندوں سے آگے آتے ہیں ۔
Narrated Masruq:While a man was delivering a speech in the tribe of Kinda, he said, "Smoke will prevail on the Day of Resurrection and will deprive the hypocrites their faculties of hearing and seeing. The believers will be afflicted with something like cold only thereof." That news scared us, so I went to (Abdullah) Ibn Mas`ud while he was reclining (and told him the story) whereupon he became angry, sat up and said, "He who knows a thing can say, it, but if he does not know, he should say, 'Allah knows best,' for it is an aspect of knowledge to say, 'I do not know,' if you do not know a certain thing. Allah said to His prophet. 'Say (O Muhammad): No wage do I ask of you for this (Qur'an), …
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ایک شخص نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے آنکھ کان بالکل بیکار ہو جائیں گے لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہو گا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے۔ پھر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ( اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی ) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اسے سن کر بہت غصہ ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو کسی بات کا واقعی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہئے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہئے کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی …
PickthallAnd ye will come in time to know the truth thereof.
Yusuf Ali"And ye shall certainly know the truth of it (all) after a while."
The agreed readingAnd you will come to know the truth of its news for certain after a time has gone by.
Urduاور تمہیں یقیناً اور بالکل ضرور اس قرآن کی خبر کی مکمل اور پوری سچائی خود معلوم ہو کر ہی رہے گی، بس تھوڑا سا مزید وقت گزرنے کے بعد۔
Arabicوَلَتَعْلَمُنَّ حتماً ولا محالة نَبَأَهُ خبر هذا القرآن العظيم وصدقه المؤكد اليقيني، بَعْدَ حِينٍ قصير من الزمان لا محالة أبداً مطلقاً، سواء عند موتكم أو يوم القيامة الموعود.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 2 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة5 reports cited here — 2 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
Praise be to Allāh who wears the apparel of Honour and Dignity and has chosen them for Himself instead of for His creation. He has made them inaccessible and unlawful for others. He has selected them for His own great self.
الحمد لله جس نے عزت اور بزرگی کو اپنے لیے اختیار کیا، انہیں اپنے لیے منتخب کیا اپنی مخلوق سے الگ، انہیں حرام اور محفوظ بنایا دوسروں کے لیے، انہیں اپنی شان کے لیے منتخب کیا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
His vanity stood in his way. Consequently, he felt proud over Adam by virtue of his creation and boasted over him on account of his origin. Thus, this enemy of Allāh is the leader of those who boast, and the fore-runner of the vain. It is he who laid the foundation of factionalism, quarreled with Allāh about the robe of greatness, put on the dress of haughtiness and took off the covering of humility. Do you not see how Allāh made him low on account of his vanity and humiliated him for his feigning to be high? He discarded him in this world and provided for him burning fire in the next world.
اسے الحمیہ نے روک دیا، پھر وہ آدم پر اپنی خلقت سے فخر کریں اور اپنی اصل کے لیے اس پر متعصب ہوں۔ تو عدو اللہ امام المتعصبین ہے اور سلف المستکبرین ہے جس نے اساس العصبیہ ڈالی اور نازع اللہ رداء الجبریہ سے اور ادرع لباس التعزز کی اور خلع قناع التذلل۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے اسے اس کے تکبر سے صغر کیا اور اس کے ترفع سے وضع کی اور اسے دنیا میں مدحورا بنایا اور آخرت میں سعیرا تیار کیا؟
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Ibrahim ibn alHarith at-Taymi from Yahya ibn Abd ar-Rahman ibn Hatib that Umar ibn al-Khattab set out on one occasion with a party of riders, one of whom was Amr ibn al-As. They came to a watering place and Amr ibn al-As asked the man who owned it whether wild beasts drank from it. Umar ibn al-Khattab told the owner of the watering place not to answer, since the people drank after the wild beasts and the wild beasts drank after them
یحیی بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عمر بن خطاب نکلے چند سواروں میں ان میں عمر وبن عاص بھی تھے راہ میں ایک حوض ملا تو عمرو بن عاص نے حوض والے سے پوچھا کہ تیرے حوض پر درندے جانور پانی پینے کو آتے ہیں تو کہا عمر بن خطاب نے اے حوض والے مت بتا ہم کو کس لئے کہ درندے کبھی ہم سے آگے آتے ہیں اور کبھی ہم درندوں سے آگے آتے ہیں ۔
Narrated Masruq:While a man was delivering a speech in the tribe of Kinda, he said, "Smoke will prevail on the Day of Resurrection and will deprive the hypocrites their faculties of hearing and seeing. The believers will be afflicted with something like cold only thereof." That news scared us, so I went to (Abdullah) Ibn Mas`ud while he was reclining (and told him the story) whereupon he became angry, sat up and said, "He who knows a thing can say, it, but if he does not know, he should say, 'Allah knows best,' for it is an aspect of knowledge to say, 'I do not know,' if you do not know a certain thing. Allah said to His prophet. 'Say (O Muhammad): No wage do I ask of you for this (Qur'an), …
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ایک شخص نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے آنکھ کان بالکل بیکار ہو جائیں گے لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہو گا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے۔ پھر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ( اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی ) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اسے سن کر بہت غصہ ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو کسی بات کا واقعی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہئے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہئے کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی …