The agreed readingHa Mim. Two single Arabic letters of the kind that open certain surahs, recited as letters; their certain meaning is left with God.
Urduحٰمٓ۔ یہ دو الگ الگ عربی حروف ہیں جن سے قرآن کی بعض سورتیں شروع ہوتی ہیں، انہیں انہی حروف کے ناموں کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، اور ان کا حتمی اور یقینی مفہوم اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
Arabicحم، حرفان مفردان من الحروف العربية التي تُفتَتح بها بعض سور القرآن الكريم، يُقرآن بأسمائهما حرفًا حرفًا لا كلمة مركبة، وعلمُ المراد بهما اليقينيّ الجازم عند الله تعالى وحده لا شريك له.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
The agreed readingAn oath by the Book that makes things clear - clear in showing what is permitted and what is not.
Urduیہ اس کتاب کی قسم ہے جو ہر بات کو واضح کر دینے والی ہے، جو حلال اور حرام دونوں کو کھول کھول کر بیان کر دیتی ہے، اور کسی بھی حکم کو مبہم نہیں چھوڑتی۔
Arabicقَسَمٌ عظيمٌ من الله تعالى بالكتاب المبين الواضح الجليّ، الذي يُظهر الحلالَ من الحرام إظهارًا بيّنًا واضحًا، ولا يترك حكمًا من أحكام الدين مبهمًا غامضًا أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
PickthallLo! We revealed it on a blessed night - Lo! We are ever warning -
Yusuf AliWe sent it down during a Blessed Night: for We (ever) wish to warn (against Evil).
The agreed readingGod sent it down on a blessed night. He has always been warning His creation through His messengers.
Urduاللہ نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا۔ وہ ہمیشہ سے اپنے رسولوں کے ذریعے اپنی مخلوق کو خبردار کرتا رہا ہے، اور یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
Arabicأنزل اللهُ سبحانه هذا القرآنَ العظيمَ في ليلةٍ مباركةٍ كثيرة الخير والبركات، وقد كان سبحانه دائمًا يُنذر خلقَه ويُحذِّرهم عن طريق رسله المتتابعين قبل هذا الرسول الكريم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
Yusuf AliIn the (Night) is made distinct every affair of wisdom,
The agreed readingOn that night every wise command is made distinct and set out in its place, each matter separated from the rest.
Urduاس رات میں ہر حکمت والا معاملہ الگ الگ کر کے اس کے مقام پر مقرر کر دیا جاتا ہے، ہر بات کو دوسری باتوں سے جدا کرکے واضح طور پر طے کر دیا جاتا ہے۔
Arabicفي تلك الليلة المباركة العظيمة يُفصَّل كلُّ أمرٍ حكيمٍ ويُقدَّر في موضعه المحكم بدقةٍ، فيُميَّز كلُّ شأنٍ عن غيره من الشؤون تمييزًا واضحًا لا لبس فيه ولا اختلاط.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 2 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة4 reports cited here — 2 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Aishah narrated:"I could not find the Messenger of Allah one night. So I left and found him at Al-Baqi. He said: 'Did you fear that you had been wronged by Allah and His Messenger?' I said: 'O Messenger of Allah! I thought that you had gone to one of your wives.' So he said: 'Indeed Allah, Mighty and Sublime is He, descends to the lowest Heavens during the night of the middle of Sha'ban, to grant forgiveness to more than the number of hairs on the sheep of (Banu) Kalb
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا۔ تو میں ( آپ کی تلاش میں ) باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ بقیع قبرستان میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ڈر رہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا گمان تھا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے ہاں گئے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پندرھویں شعبان ۲؎ کی رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم اس سند سے صرف حجاج کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا ہے، نیز فرمایا: یحییٰ بن ابی …
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
It is related that a companion of Amīr al-Mu’minīn (as) called Hammām [1] who was a man devoted to worship said to him, “O Amīr al-Mu’minīn, describe to me the pious man in such a way as though I see them.” Amīr al-mu’minīn avoided the reply and said, “O Hammām, fear Allāh and perform good acts because ‘Verily, Allāh is with those who guard (themselves against evil), and those who do good (to others)’” (Qur'an, 16:128). Hammām was not satisfied with this and pushed him to speak. Thereupon, Amīr al-Mu’minīn praised Allāh and extolled Him and sought His blessings on the Prophet (sw) and then spoke:
اور اس کے خطبہ میں سے - اس میں وہ متقین کی تفصیل کرتے ہیں - روایت ہے کہ امیر المؤمنین علیہ السلام کے ایک صاحب تھے جس کا نام ہمام تھا۔ وہ عابد تھے۔ انہوں نے امیر المؤمنین سے کہا: یا امیر المؤمنین! متقین کی مجھے تفصیل دیں تاکہ گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں۔ تو امیر المؤمنین علیہ السلام جواب سے پسو گئے۔ پھر کہا: یا ہمام! الله سے ڈرو اور احسان کرو۔ کیونکہ "بیشک الله ان کے ساتھ ہے جو الله سے ڈرتے ہیں اور جو احسان کرتے ہیں۔" لیکن ہمام نے اس بات پر اکتفا نہ کیا یہاں تک کہ انہوں نے اصرار کیا۔ تو امیر المؤمنین نے الله کی حمد کی اور اس کی تعریف کی اور نبی صلی الله علیہ وآلہ پر درود بھیجی۔ پھر کہا:
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حدثنا أبو العباس محمد بن إبراهيم بن إسحاق الطالقاني - رضي الله عنه - قال: حدثنا عبد العزيز بن يحيى الجلودي، قال: حدثنا هشام بن علي، ومحمد بن زكريا الجوهري، قالا: حدثنا ابن عائشة بإسناد ذكره أن عليا عليه السلام انتهى إليه أن خيلا لمعاوية وردت الأنبار فقتلوا عاملا له يقال له: " حسان بن حسان " فخرج مغضبا يجر ثوبه حتى أتى النخيلة وأتبعه الناس فرقى رباوة من الأرض فحمد الله وأثنى عليه وصلى على النبي صلى الله عليه وآله ثم قال: أما بعد فإن الجهاد باب من أبواب الجنة [فتحه الله لخاصة أوليائه وهو لباس التقوى ودرع الله الحصينة وجنته الوثيقة] فمن تركه رغبة عنه ألبسه الله ثوب الذل وسيما الخسف وديث الصغار وقد دعوتكم إلى حرب هؤلاء القوم ليلا ونهار وسرا وإعلانا وقلت لكم: اغزوهم من قبل أن يغزوكم فوالذي نفسي …
1. We were told by Abu’l-Abbas, Muhammed bin Ibrahim bin Ishaq al-Talaqani, may Allah be pleased with him, that he said: We were told by Abdul-Aziz bin Yahya al-Jaloudi, that he said: We were told by Hisham bin Ali, and Muhammed bin Zakariya al-Jawhari, that they both said: We were told by Ibn Aisha, with a chain of narrators that he mentioned, that Ali, peace be upon him, was informed that groups of horses (carrying mercenaries belonging) to Mu’awiya reached Anbar and killed a governor in it named Hassaan bin Hassaan. Then he went out, angrily, pulling his robe, until he reached Nakhila, and he was followed by the people. He then went up lofty ground, praised Allah, commended Him and sent …
ہمیں خبر دی ابو العباس محمد بن ابراہیم بن اسحاق الطالقانی رضی اللہ عنہ نے، کہا: ہمیں خبر دی عبدالعزیز بن یحیٰ الجلودی نے، کہا: ہمیں خبر دی ہشام بن علی اور محمد بن زکریا الجوہری نے، کہا: ہمیں خبر دی ابن عائشہ نے اپنی سند کے ساتھ جو انہوں نے ذکر کی، کہ امیر المؤمنین علی (علیہ السلام) کو خبر دی گئی کہ معاویہ کے لشکر انبار میں آگئے اور ان کے ایک گورنر کو جو حسان بن حسان کہلاتے تھے قتل کیا۔ تو وہ غضبناک ہوکر نکلے، اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے جب تک نخیلہ تک نہ پہنچے۔ اور لوگ ان کے پیچھے ہو لیے۔ انہوں نے ایک اونچی جگہ پر چڑھ کر خدا کی تعریف کی، اس کی حمد بیان کی، اور نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر درود بھیجا، پھر کہا: اما بعد، جہاد تو جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جو اللہ نے اپنے خاص دوستوں کے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAs a command from Our presence - Lo! We are ever sending -
Yusuf AliBy command, from Our Presence. For We (ever) send (revelations),
The agreed readingA command from Us. God has always been the One who sends - sending Muhammad and those before him.
Urduیہ ہماری طرف سے ایک حکم ہے۔ اللہ ہمیشہ سے بھیجنے والا رہا ہے، اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بھیجا اور ان سے پہلے کے رسولوں کو بھی بھیجا تھا۔
Arabicهذا أمرٌ صادرٌ من عندنا. وقد كان اللهُ سبحانه دائمًا مُرسِلًا للرسل، فأرسل محمدًا صلى الله عليه وسلم كما أرسل من قبله من الأنبياء والمرسلين.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
PickthallA mercy from thy Lord. Lo! He, even He is the Hearer, the Knower,
Yusuf AliAs Mercy from thy Lord: for He hears and knows (all things);
The agreed readingAs a mercy from your Lord to those He sends it to. He is the Hearing, the Knowing.
Urduیہ تمہارے رب کی طرف سے ایک رحمت ہے، ان لوگوں کے لیے جن کی طرف یہ بھیجا گیا ہے۔ بےشک وہ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
Arabicهذا الإرسالُ الكريمُ رحمةٌ عظيمةٌ من ربك الرحيم للذين أُرسل إليهم هذا القرآن الحكيم العظيم، إنه هو السميعُ لأقوال عباده جميعًا، العليمُ بأحوالهم وأفعالهم كلِّها.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
PickthallLord of the heavens and the earth and all that is between them, if ye would be sure.
Yusuf AliThe Lord of the heavens and the earth and all between them, if ye (but) have an assured faith.
The agreed readingLord of the heavens and the earth and all that is between them - if only you would be certain of it.
Urduوہ آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا رب ہے، کاش کہ تم اس بات پر یقین رکھتے اور اس حقیقت کو دل سے تسلیم کر لیتے۔
Arabicهو سبحانه ربُّ السماوات والأرض وما بينهما جميعًا من مخلوقاتٍ لا تُحصى، ولو أنكم كنتم موقنين بذلك يقينًا راسخًا لآمنتم برسوله وصدَّقتموه فيما جاء به إليكم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
PickthallThere is no Allah save Him. He quickeneth and giveth death; your Lord and Lord of your forefathers.
Yusuf AliThere is no god but He: It is He Who gives life and gives death,- The Lord and Cherisher to you and your earliest ancestors.
The agreed readingThere is no god but Him. He gives life and death; your Lord and the Lord of your forefathers.
Urduاس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، وہ تمہارا رب بھی ہے اور تمہارے پہلے باپ دادا کا رب بھی ہے۔
Arabicلا إله إلا هو وحده لا شريك له في ملكه ولا في عبادته، يُحيي مَن يشاء ويُميت مَن يشاء بقدرته، وهو ربُّكم أنتم وربُّ آبائكم الأولين من قبلكم أجمعين.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Abdul-Wahid bin Sulaim narrated:"I arrived in Makkah and met 'Ata bin Abi Rabah. I said to him: 'O Abu Muhammad! The people of Al-Basrah speak about Al-Qadar.' He said: 'O my son! Do you recite the Quran?' I said: 'Yes.' He said: 'Then recite Az-Zukhruf to me.'" He said: 'So I recited: Ha Mim. By the manifest Book. Verily, We have made it a Qur'an in Arabic that you may be able to understand. And verily, it is in the Mother of Book with Us, indeed exalted, full of wisdom. Then he said: 'Do you know what Mother of Books is?' I said: 'Allah and His Messenger know better.' He said:'It is a book that Allah wrote before He created the Heavens, and before He created the earth. In it, it is …
عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں کہ میں مکہ گیا تو عطاء بن ابی رباح سے ملاقات کی اور ان سے کہا: ابو محمد! بصرہ والے تقدیر کے سلسلے میں ( برسبیل انکار ) کچھ گفتگو کرتے ہیں، انہوں نے کہا: بیٹے! کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: سورۃ الزخرف پڑھو، میں نے پڑھا: «حم والكتاب المبين إنا جعلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون وإنه في أم الكتاب لدينا لعلي حكيم» ”حم، قسم ہے اس واضح کتاب کی، ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو، یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے، اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے“ ( الزخرف: ۱-۴ ) پڑھی، انہوں نے کہا: جانتے ہو ام الکتاب کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ ایک کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کے پیدا …
3. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from ‘Abd Allah ibn al-Mughirah from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “This is a narration of abu ‘Abd Allah (a.s.), from the Messenger of Allah. He (the Messenger of Allah) has said, ‘Allah, the Majestic, the Glorious, says to the angel guarding a believing person in his illness, “Write down for him (of good deeds) what you would write down for him of good deeds in his good health; it is I who have tied him down with My rope.’””
علي بن ابراہيم نے اپنے باپا سے، عبد الله بن المغيرة سے، عبد الله بن سنان سے روایت کی۔ کہا: رسول الله صلی الله علیہ وآلہ نے کہا: الله عز وجل الملک الموکل بالمؤمن کو کہتے ہیں: جب وہ مریض ہو تو اس کے لیے وہی لکھو جو تم صحت میں لکھتے تھے کیونکہ میں ہوں جس نے اسے اپنے حبال میں ڈالا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
The agreed readingRather, they are in doubt about being raised at all, and they are playing with the matter.
Urduبلکہ یہ لوگ دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اور اس اہم معاملے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اس کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔
Arabicبل هم في شكٍّ عظيمٍ من البعث بعد الموت ولا يُصدِّقون به تصديقًا حقيقيًّا، وهم يلعبون بهذا الأمر الخطير العظيم استهزاءً وسخريةً بدل أن يتدبَّروه بجدٍّ.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Masruq reported that there came to Abdullah a person and said:I have left behind in the mosque a man who explains the Qur'an according to his personal discretion and he explained this verse:" So wait for the day when the Heaven brings a clear smoke." He says that a smoke would come to the people on the Day of Resurrection anl it will withhold breath and they would be inflicted with cold. 'Abdullah said: He who has knowledge should say something and he who has no knowledge should simply say: Allah is best aware. This reflects the understanding of a person that he should say about that which he does not know that it is Allah who knows best. The fact is that when the Quraish disobeyed Allah's …
ابو معاویہ ، وکیع ، اور جریر نے اعمش سے ، انھوں نے مسلم بن صحیح سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میں مسجد میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آرہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کرتا ہے وہ ( قرآن کی ) آیت : " جب آسمان سے واضح دھواں اٹھے گا " کی تفسیر کرتا ہے ، کہتا ہے : " قیامت کےدن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گا جو لوگوں کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا ، یہاں تک کہ لوگوں کو زکام جیسی کیفیت ( جس میں سانس لینی مشکل ہوجاتی ہے ) درپیش ہوگی ، توحضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : جس کے پاس علم ہو وہ اس کے مطابق بات کہے اور جو نہ جانتا ہو ، وہ کہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ یہ بات انسان کے فہم …
Hudhaifah bin Asid said:"The Messenger of Allah (s.a.w) stood over us on a balcony, and we were discussing the Hour. So the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'The Hour shall not be established until you see ten signs. The sun rising from its setting place, Ya'juj and Ma'juj, the beast of the earth, and three collapses of the earth: A collapse in the east, a collapse in the west and a collapse in the 'Arabian peninsula. And a fire that comes out of a place within 'Adan, driving the people, or gathering the people, camping where they camp, and resting where they rest
حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو! مغرب ( پچھم ) سے سورج کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دابہ ( جانور ) کا نکلنا، تین بار زمین کا دھنسنا: ایک پورب میں، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی۔
It was narrated that Hudhaifah bin Asid, Abu Sarihah, said:"The Messenger of Allah (ﷺ) looked out from a room, when we were talking about the Hour. He said: 'The Hour will not begin until ten signs appear: The rising of the sun from the west (place of its setting); Dajjal; the smoke; the beast; Gog and Magog people; the appearance of 'Eisa bin Maryam(as), the earth collapsing three times - once in the east, one in the west and one in the Arabian Peninsula; and fire that will emerge from the plain of Aden Abyan and will drive the people to the place of Gathering, stopping with them when they stop at night and when they stop to rest at midday
حذیفہ بن اسید ابو سریحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، تین بار زمین کا «خسف» ( دھنسنا ) : ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گاؤں «أبین» کے کنویں سے ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کر لے جائے گی، جہاں یہ لوگ رات گزاریں گے تو وہیں وہ آگ ان کے ساتھ رات گزارے گی، اور جب یہ قیلولہ کریں گے تو وہ آگ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ۱؎۔
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلاَ تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ "
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell gold for gold unless equivalent in weight, and do not sell less amount for greater amount or vice versa; and do not sell silver for silver unless equivalent in weight, and do not sell less amount for greater amount or vice versa and do not sell gold or silver that is not present at the moment of exchange for gold or silver that is present
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو، اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو۔ دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The taking of a bath on Friday is compulsory for every Muslim who has attained the age of puberty
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے، ان سے عطاء بن یسار نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بالغ کے اوپر جمعہ کے دن غسل واجب ہے۔
PickthallBut watch thou (O Muhammad) for the day when the sky will produce visible smoke
Yusuf AliThen watch thou for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke (or mist) plainly visible,
The agreed readingSo watch, and wait for the Day when the sky brings a smoke plain for all to see,
Urduپس انتظار کرو اس دن کا جب آسمان ایک ایسا دھواں لے کر آئے گا جو سب کے لیے واضح اور صاف نظر آئے گا، جسے کوئی بھی چھپا نہیں سکے گا۔
Arabicفانتظر يا محمد بهؤلاء المشركين المكذبين ذلك اليوم العظيم الذي تأتي فيه السماءُ بدخانٍ واضحٍ جليٍّ يراه كلُّ أحدٍ، لا يخفى على أحدٍ من الناس أجمعين.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Rāzī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
Narrated Masruq:"A man came to 'Abdullah and said: 'A story teller has said that a smoke will appear from the earth, taking the hearing of disbelievers and manifesting as a cold for the believers.'" He became angry, and since he was reclining, he sat up then said: 'When one of you is asked about something he knows, then let him speak accordingly' - Mansur (one of the narrators) narrated it as: "Then let him inform of it" - "And when asked about what he does not know, then let him say: "Allah knows best." For indeed, it is part of a man's knowledge, that when he is asked about something he does not know, he says: "Allah knows best." For verily Allah, Most High said to His Prophet: Say: "No …
مسروق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس آ کر کہا: ایک قصہ گو ( واعظ ) قصہ بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ( قیامت کے قریب ) زمین سے دھواں نکلے گا، جس سے کافروں کے کان بند ہو جائیں گے، اور مسلمانوں کو زکام ہو جائے گا۔ مسروق کہتے ہیں: یہ سن کر عبداللہ غصہ ہو گئے ( پہلے ) ٹیک لگائے ہوئے تھے، ( سنبھل کر ) بیٹھ گئے۔ پھر کہا: تم میں سے جب کسی سے کوئی چیز پوچھی جائے اور وہ اس کے بارے میں جانتا ہو تو اسے بتانی چاہیئے اور جب کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو اسے «اللہ اعلم» ”اللہ بہتر جانتا ہے“ کہنا چاہیئے، کیونکہ یہ آدمی کے علم و جانکاری ہی کی بات ہے کہ جب اس سے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو وہ کہہ دے «اللہ اعلم» ”اللہ بہتر …
Narrated `Abdullah:It is a sign of having knowledge that, when you do not know something, you say: 'Allah knows better.' Allah said to his Prophet: 'Say: No wage do I ask of you for this (Qur'an), nor am I one of the pretenders (a person who pretends things which do not exist)' (38.86) When the Quraish troubled and stood against the Prophet (ﷺ) he said, "O Allah! Help me against them by afflicting them with seven years of famine like the seven years of Joseph." So they were stricken with a year of famine during which they ate bones and dead animals because of too much suffering, and one of them would see something like smoke between him and the sky because of hunger. Then they said: Our …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی علم ہی ہے کہ تمہیں اگر کوئی بات معلوم نہیں ہے تو اس کے متعلق یوں کہہ دو کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ اپنی قوم سے کہہ دیں کہ میں تم سے کسی اجرت کا طالب نہیں ہوں اور نہ میں بناوٹی باتیں کرتا ہوں جب قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے اور آپ کے ساتھ معاندانہ روش میں برابر بڑھتے ہی رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بددعا کی کہ اے اللہ! ان کے خلاف میری مدد ایسے قحط کے ذریعہ کر جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ …
Hudhaifah bin Asid said:"The Messenger of Allah (s.a.w) stood over us on a balcony, and we were discussing the Hour. So the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'The Hour shall not be established until you see ten signs. The sun rising from its setting place, Ya'juj and Ma'juj, the beast of the earth, and three collapses of the earth: A collapse in the east, a collapse in the west and a collapse in the 'Arabian peninsula. And a fire that comes out of a place within 'Adan, driving the people, or gathering the people, camping where they camp, and resting where they rest
حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو! مغرب ( پچھم ) سے سورج کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دابہ ( جانور ) کا نکلنا، تین بار زمین کا دھنسنا: ایک پورب میں، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی۔
It was narrated that Hudhaifah bin Asid, Abu Sarihah, said:"The Messenger of Allah (ﷺ) looked out from a room, when we were talking about the Hour. He said: 'The Hour will not begin until ten signs appear: The rising of the sun from the west (place of its setting); Dajjal; the smoke; the beast; Gog and Magog people; the appearance of 'Eisa bin Maryam(as), the earth collapsing three times - once in the east, one in the west and one in the Arabian Peninsula; and fire that will emerge from the plain of Aden Abyan and will drive the people to the place of Gathering, stopping with them when they stop at night and when they stop to rest at midday
حذیفہ بن اسید ابو سریحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، تین بار زمین کا «خسف» ( دھنسنا ) : ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گاؤں «أبین» کے کنویں سے ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کر لے جائے گی، جہاں یہ لوگ رات گزاریں گے تو وہیں وہ آگ ان کے ساتھ رات گزارے گی، اور جب یہ قیلولہ کریں گے تو وہ آگ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ۱؎۔
88. (Imām) Abū Ja‘far Muḥammad ibn ‘Alī al-Bāqir, peace be upon him, has related from Amīr al-mu’minīn, peace be upon him, that he said: There are two sources of deliverance from the Allāh’s punishment, one of which has been raised up, while the other is before you. You should therefore adhere to it. The source of deliverance which has been raised up is the Messenger of Allāh (may He bless him and his descendants), while the source of deliverance that remains is the seeking of forgiveness. Allāh, the Glorified, has said: And Allāh is not to chastise them while you are among them, nor is Allāh to chastise them while yet they seek forgiveness. (Qur’ān, 8:33)
ابو جعفر محمد بن علی الباقر علیہ السلام نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا: زمین پر الله کے عذاب سے دو حفاظتیں تھیں، ان میں سے ایک تو اٹھا لی جا چکی ہے اور دوسری تمہارے سامنے ہے تو اسے مضبوطی سے پکڑے رہو۔ جو حفاظت اٹھا لی گئی ہے وہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ ہیں، اور جو حفاظت باقی رہی ہے وہ استغفار (مغفرت چاہنا) ہے۔ الله تعالیٰ نے فرمایا: اور
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah said:The Messenger of Allah (ﷺ) recited the supplication in the night prayer for a month. He said (in his supplication): O Allah, rescue al-Walid b. al-Walid, rescue Salamah b. Hisham, rescue the weak believers; O Allah, trample severely on Mudar; O Allah, cause them a famine like that of Joseph. Abu Hurairah said: One morning the Messenger of Allah (ﷺ) id not make supplication for them. So I told him about it. He said: You dod not see that they have come (back)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں دعا فرماتے:«اللهم نج الوليد بن الوليد اللهم نج سلمة بن هشام اللهم نج المستضعفين من المؤمنين اللهم اشدد وطأتك على مضر اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور مومنوں کو نجات دے، اے اللہ! مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف ( علیہ السلام ) کے زمانے میں پڑا تھا ) ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی، تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ ( اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ …
It was narrated that Masruq said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'I do not want to see you after I am gone reverting to disbelievers, striking the necks of one another (killing one another). No man is punished for the crime of his father, or the crime of his brother.'" This is correct
ہمیں خبر دی محمد بن العلاء نے، انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابومعاویہ نے، اعمش سے، مسلم سے، مسروق سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں تم کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ میرے بعد تم کافر ہو کر واپس آ جاؤ، ایک دوسرے کی گردنوں پر ضربیں لگاتے ہو۔ کوئی آدمی اپنے باپ کے جرم کے سبب سزا نہیں پائے گا اور نہ اپنے بھائی کے جرم کے سبب۔" یہ صحیح ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThat will envelop the people. This will be a painful torment.
Yusuf AliEnveloping the people: this will be a Penalty Grievous.
The agreed readinga smoke that covers the people over entirely. This, they are told, is a painful punishment.
Urduایک ایسا دھواں جو لوگوں کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا۔ اس وقت انہیں کہا جائے گا کہ یہ ایک دردناک عذاب ہے جو تمہیں گھیرے ہوئے ہے۔
Arabicدخانٌ عظيمٌ يغشى الناسَ جميعًا ويحيط بهم إحاطةً تامةً من كل جانبٍ، فيُقال لهم عند نزوله: هذا عذابٌ أليمٌ مؤلمٌ موجعٌ قد نزل بكم اليوم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 6 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة7 reports cited here — 6 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Allah! Save `Aiyyash bin Abi Rabi`a (from the unjust treatment of the infidels). O Allah! Save Salama bin Hisham. O Allah! Send your Punishment on (the tribe of) Mudar. O Allah! Let them suffer from years (of drought) similar to that inflicted during the life-time of Joseph
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج الوليد بن الوليد اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ‘ اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے ‘ اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے ‘ اے اللہ تمام ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کو سخت گرفت میں پکڑ لے۔ اے اللہ! یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی ان ( ظالموں ) پر …
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
Narrated `Abdullah:It is a sign of having knowledge that, when you do not know something, you say: 'Allah knows better.' Allah said to his Prophet: 'Say: No wage do I ask of you for this (Qur'an), nor am I one of the pretenders (a person who pretends things which do not exist)' (38.86) When the Quraish troubled and stood against the Prophet (ﷺ) he said, "O Allah! Help me against them by afflicting them with seven years of famine like the seven years of Joseph." So they were stricken with a year of famine during which they ate bones and dead animals because of too much suffering, and one of them would see something like smoke between him and the sky because of hunger. Then they said: Our …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی علم ہی ہے کہ تمہیں اگر کوئی بات معلوم نہیں ہے تو اس کے متعلق یوں کہہ دو کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ اپنی قوم سے کہہ دیں کہ میں تم سے کسی اجرت کا طالب نہیں ہوں اور نہ میں بناوٹی باتیں کرتا ہوں جب قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے اور آپ کے ساتھ معاندانہ روش میں برابر بڑھتے ہی رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بددعا کی کہ اے اللہ! ان کے خلاف میری مدد ایسے قحط کے ذریعہ کر جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ …
88. (Imām) Abū Ja‘far Muḥammad ibn ‘Alī al-Bāqir, peace be upon him, has related from Amīr al-mu’minīn, peace be upon him, that he said: There are two sources of deliverance from the Allāh’s punishment, one of which has been raised up, while the other is before you. You should therefore adhere to it. The source of deliverance which has been raised up is the Messenger of Allāh (may He bless him and his descendants), while the source of deliverance that remains is the seeking of forgiveness. Allāh, the Glorified, has said: And Allāh is not to chastise them while you are among them, nor is Allāh to chastise them while yet they seek forgiveness. (Qur’ān, 8:33)
ابو جعفر محمد بن علی الباقر علیہ السلام نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا: زمین پر الله کے عذاب سے دو حفاظتیں تھیں، ان میں سے ایک تو اٹھا لی جا چکی ہے اور دوسری تمہارے سامنے ہے تو اسے مضبوطی سے پکڑے رہو۔ جو حفاظت اٹھا لی گئی ہے وہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ ہیں، اور جو حفاظت باقی رہی ہے وہ استغفار (مغفرت چاہنا) ہے۔ الله تعالیٰ نے فرمایا: اور
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Burdah bin Abi Musa:from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah sent down two guarantees of safety for the benefit of my Ummah: And Allah would not punish them while you are among them, nor will He punish them while they seek forgiveness (8:33). So when I pass, I leave seeking forgiveness among them until the Day of Resurrection
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لیے اللہ نے مجھ پر دو امان نازل فرمائے ہیں ( ایک ) «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم» ”تمہارے موجود رہتے ہوئے اللہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، ( دوسرا ) «وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون» ”دوسرے جب وہ توبہ و استغفار کرتے رہیں گے تو بھی ان پر اللہ عذاب نازل نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، اور جب میں ( اس دنیا سے ) چلا جاؤں گا تو ان کے لیے دوسرا امان استغفار قیامت تک چھوڑ جاؤں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے۔ ۲- اسماعیل بن مہاجر حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔
Narrated Abu Huraira;:Whenever the Prophet (ﷺ) lifted his head from the bowing in the last rak`a he used to say: "O Allah! Save `Aiyash bin Abi Rabi`a. O Allah! Save Salama bin Hisham. O Allah! Save Walid bin Walid. O Allah! Save the weak faithful believers. O Allah! Be hard on the tribes of Mudar and send (famine) years on them like the famine years of (Prophet) Joseph ." The Prophet (ﷺ) further said, "Allah forgive the tribes of Ghifar and save the tribes of Aslam." Abu Az-Zinad (a sub-narrator) said, "The Qunut used to be recited by the Prophet (ﷺ) in the Fajr prayer
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سر مبارک آخری رکعت ( کے رکوع ) سے اٹھاتے تو یوں فرماتے «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» کہ یا اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ یا اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ یا اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ یا اللہ! بےبس ناتواں مسلمانوں کو نجات دے۔ یا اللہ! مضر کے کافروں کو سخت پکڑ۔ یا اللہ! ان کے سال یوسف علیہ السلام …
Abu Hurairah said:The Messenger of Allah (ﷺ) recited the supplication in the night prayer for a month. He said (in his supplication): O Allah, rescue al-Walid b. al-Walid, rescue Salamah b. Hisham, rescue the weak believers; O Allah, trample severely on Mudar; O Allah, cause them a famine like that of Joseph. Abu Hurairah said: One morning the Messenger of Allah (ﷺ) id not make supplication for them. So I told him about it. He said: You dod not see that they have come (back)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں دعا فرماتے:«اللهم نج الوليد بن الوليد اللهم نج سلمة بن هشام اللهم نج المستضعفين من المؤمنين اللهم اشدد وطأتك على مضر اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور مومنوں کو نجات دے، اے اللہ! مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف ( علیہ السلام ) کے زمانے میں پڑا تھا ) ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی، تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ ( اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ …
Pickthall(Then they will say): Our Lord relieve us of the torment. Lo! we are believers.
Yusuf Ali(They will say:) "Our Lord! remove the Penalty from us, for we do really believe!"
The agreed readingOur Lord, lift the punishment from us - we are believers now, believing your Prophet.
Urduوہ کہیں گے: اے ہمارے رب، یہ عذاب ہم سے دور کر دے، اب ہم ایمان لانے والے ہیں، اور ہم تیرے نبی پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی تصدیق کرتے ہیں۔
Arabicيقولون متضرِّعين خاضعين متذلِّلين لربهم: ربَّنا اكشف عنا هذا العذابَ الشديد الأليم الموجع، إنا مؤمنون بك الآن مصدِّقون بنبيك بعد أن كنا من المكذِّبين له.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Masruq:One day I went to Ibn Mas`ud who said, "When Quraish delayed in embracing Islam, the Prophet (ﷺ) invoked Allah to curse them, so they were afflicted with a (famine) year because of which many of them died and they ate the carcasses and Abu Sufyan came to the Prophet (ﷺ) and said, 'O Muhammad! You came to order people to keep good relation with kith and kin and your nation is being destroyed, so invoke Allah.' So the Prophet (ﷺ) recited the Holy verses of Surat-Ad-Dukhan: 'Then watch you For the day that The sky will Bring forth a kind Of smoke Plainly visible.' (44.10) When the famine was taken off, the people renegade once again as nonbelievers. The statement of Allah, (in …
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحی نے، ان سے مسروق نے، آپ نے کہا کہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ نے فرمایا کہ قریش کا اسلام سے اعراض بڑھتا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں بددعا کی۔ اس بددعا کے نتیجے میں ایسا قحط پڑا کہ کفار مرنے لگے اور مردار اور ہڈیاں کھانے لگے۔ آخر ابوسفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں لیکن آپ کی قوم مر رہی ہے۔ اللہ عزوجل سے دعا کیجئے۔ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی ( ترجمہ ) اس دن کا انتظار کر جب آسمان پر صاف کھلا ہوا دھواں نمودار ہو گا الآیہ ( خیر آپ نے دعا کی بارش ہوئی قحط جاتا رہا …
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
Narrated Masruq:"A man came to 'Abdullah and said: 'A story teller has said that a smoke will appear from the earth, taking the hearing of disbelievers and manifesting as a cold for the believers.'" He became angry, and since he was reclining, he sat up then said: 'When one of you is asked about something he knows, then let him speak accordingly' - Mansur (one of the narrators) narrated it as: "Then let him inform of it" - "And when asked about what he does not know, then let him say: "Allah knows best." For indeed, it is part of a man's knowledge, that when he is asked about something he does not know, he says: "Allah knows best." For verily Allah, Most High said to His Prophet: Say: "No …
مسروق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس آ کر کہا: ایک قصہ گو ( واعظ ) قصہ بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ( قیامت کے قریب ) زمین سے دھواں نکلے گا، جس سے کافروں کے کان بند ہو جائیں گے، اور مسلمانوں کو زکام ہو جائے گا۔ مسروق کہتے ہیں: یہ سن کر عبداللہ غصہ ہو گئے ( پہلے ) ٹیک لگائے ہوئے تھے، ( سنبھل کر ) بیٹھ گئے۔ پھر کہا: تم میں سے جب کسی سے کوئی چیز پوچھی جائے اور وہ اس کے بارے میں جانتا ہو تو اسے بتانی چاہیئے اور جب کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو اسے «اللہ اعلم» ”اللہ بہتر جانتا ہے“ کہنا چاہیئے، کیونکہ یہ آدمی کے علم و جانکاری ہی کی بات ہے کہ جب اس سے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو وہ کہہ دے «اللہ اعلم» ”اللہ بہتر …
Masruq reported that there came to Abdullah a person and said:I have left behind in the mosque a man who explains the Qur'an according to his personal discretion and he explained this verse:" So wait for the day when the Heaven brings a clear smoke." He says that a smoke would come to the people on the Day of Resurrection anl it will withhold breath and they would be inflicted with cold. 'Abdullah said: He who has knowledge should say something and he who has no knowledge should simply say: Allah is best aware. This reflects the understanding of a person that he should say about that which he does not know that it is Allah who knows best. The fact is that when the Quraish disobeyed Allah's …
ابو معاویہ ، وکیع ، اور جریر نے اعمش سے ، انھوں نے مسلم بن صحیح سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میں مسجد میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آرہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کرتا ہے وہ ( قرآن کی ) آیت : " جب آسمان سے واضح دھواں اٹھے گا " کی تفسیر کرتا ہے ، کہتا ہے : " قیامت کےدن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گا جو لوگوں کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا ، یہاں تک کہ لوگوں کو زکام جیسی کیفیت ( جس میں سانس لینی مشکل ہوجاتی ہے ) درپیش ہوگی ، توحضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : جس کے پاس علم ہو وہ اس کے مطابق بات کہے اور جو نہ جانتا ہو ، وہ کہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ یہ بات انسان کے فہم …
Narrated `Abdullah:It is a sign of having knowledge that, when you do not know something, you say: 'Allah knows better.' Allah said to his Prophet: 'Say: No wage do I ask of you for this (Qur'an), nor am I one of the pretenders (a person who pretends things which do not exist)' (38.86) When the Quraish troubled and stood against the Prophet (ﷺ) he said, "O Allah! Help me against them by afflicting them with seven years of famine like the seven years of Joseph." So they were stricken with a year of famine during which they ate bones and dead animals because of too much suffering, and one of them would see something like smoke between him and the sky because of hunger. Then they said: Our …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی علم ہی ہے کہ تمہیں اگر کوئی بات معلوم نہیں ہے تو اس کے متعلق یوں کہہ دو کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ اپنی قوم سے کہہ دیں کہ میں تم سے کسی اجرت کا طالب نہیں ہوں اور نہ میں بناوٹی باتیں کرتا ہوں جب قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے اور آپ کے ساتھ معاندانہ روش میں برابر بڑھتے ہی رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بددعا کی کہ اے اللہ! ان کے خلاف میری مدد ایسے قحط کے ذریعہ کر جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ …
Narrated Masruq:While a man was delivering a speech in the tribe of Kinda, he said, "Smoke will prevail on the Day of Resurrection and will deprive the hypocrites their faculties of hearing and seeing. The believers will be afflicted with something like cold only thereof." That news scared us, so I went to (Abdullah) Ibn Mas`ud while he was reclining (and told him the story) whereupon he became angry, sat up and said, "He who knows a thing can say, it, but if he does not know, he should say, 'Allah knows best,' for it is an aspect of knowledge to say, 'I do not know,' if you do not know a certain thing. Allah said to His prophet. 'Say (O Muhammad): No wage do I ask of you for this (Qur'an), …
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ایک شخص نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے آنکھ کان بالکل بیکار ہو جائیں گے لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہو گا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے۔ پھر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ( اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی ) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اسے سن کر بہت غصہ ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو کسی بات کا واقعی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہئے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہئے کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی …
Hudhaifah bin Asid said:"The Messenger of Allah (s.a.w) stood over us on a balcony, and we were discussing the Hour. So the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'The Hour shall not be established until you see ten signs. The sun rising from its setting place, Ya'juj and Ma'juj, the beast of the earth, and three collapses of the earth: A collapse in the east, a collapse in the west and a collapse in the 'Arabian peninsula. And a fire that comes out of a place within 'Adan, driving the people, or gathering the people, camping where they camp, and resting where they rest
حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو! مغرب ( پچھم ) سے سورج کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دابہ ( جانور ) کا نکلنا، تین بار زمین کا دھنسنا: ایک پورب میں، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی۔
It was narrated that Hudhaifah bin Asid, Abu Sarihah, said:"The Messenger of Allah (ﷺ) looked out from a room, when we were talking about the Hour. He said: 'The Hour will not begin until ten signs appear: The rising of the sun from the west (place of its setting); Dajjal; the smoke; the beast; Gog and Magog people; the appearance of 'Eisa bin Maryam(as), the earth collapsing three times - once in the east, one in the west and one in the Arabian Peninsula; and fire that will emerge from the plain of Aden Abyan and will drive the people to the place of Gathering, stopping with them when they stop at night and when they stop to rest at midday
حذیفہ بن اسید ابو سریحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، تین بار زمین کا «خسف» ( دھنسنا ) : ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گاؤں «أبین» کے کنویں سے ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کر لے جائے گی، جہاں یہ لوگ رات گزاریں گے تو وہیں وہ آگ ان کے ساتھ رات گزارے گی، اور جب یہ قیلولہ کریں گے تو وہ آگ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ۱؎۔
PickthallHow can there be remembrance for them, when a messenger making plain (the Truth) had already come unto them,
Yusuf AliHow shall the message be (effectual) for them, seeing that an Messenger explaining things clearly has (already) come to them,-
The agreed readingHow can the reminder serve them now, when a messenger making things clear had already come to them
Urduانہیں اب نصیحت کیسے فائدہ دے سکتی ہے، جبکہ ان کے پاس پہلے ہی ایک ایسا رسول آ چکا تھا جو ہر بات کو واضح طور پر کھول کر بیان کرنے والا تھا اور حق کو بالکل صاف طریقے سے پہنچاتا تھا؟
Arabicكيف تنفعهم الذكرى والاتِّعاظُ الآن بعد نزول العذاب، وقد جاءهم من قبلُ رسولٌ مبينٌ يُبيِّن لهم الحقَّ بيانًا واضحًا جليًّا لا لبس فيه ولا غموض؟
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
Hudhaifah bin Asid said:"The Messenger of Allah (s.a.w) stood over us on a balcony, and we were discussing the Hour. So the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'The Hour shall not be established until you see ten signs. The sun rising from its setting place, Ya'juj and Ma'juj, the beast of the earth, and three collapses of the earth: A collapse in the east, a collapse in the west and a collapse in the 'Arabian peninsula. And a fire that comes out of a place within 'Adan, driving the people, or gathering the people, camping where they camp, and resting where they rest
حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو! مغرب ( پچھم ) سے سورج کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دابہ ( جانور ) کا نکلنا، تین بار زمین کا دھنسنا: ایک پورب میں، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی۔
It was narrated that Hudhaifah bin Asid, Abu Sarihah, said:"The Messenger of Allah (ﷺ) looked out from a room, when we were talking about the Hour. He said: 'The Hour will not begin until ten signs appear: The rising of the sun from the west (place of its setting); Dajjal; the smoke; the beast; Gog and Magog people; the appearance of 'Eisa bin Maryam(as), the earth collapsing three times - once in the east, one in the west and one in the Arabian Peninsula; and fire that will emerge from the plain of Aden Abyan and will drive the people to the place of Gathering, stopping with them when they stop at night and when they stop to rest at midday
حذیفہ بن اسید ابو سریحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، تین بار زمین کا «خسف» ( دھنسنا ) : ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گاؤں «أبین» کے کنویں سے ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کر لے جائے گی، جہاں یہ لوگ رات گزاریں گے تو وہیں وہ آگ ان کے ساتھ رات گزارے گی، اور جب یہ قیلولہ کریں گے تو وہ آگ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلاَ تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ "
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell gold for gold unless equivalent in weight, and do not sell less amount for greater amount or vice versa; and do not sell silver for silver unless equivalent in weight, and do not sell less amount for greater amount or vice versa and do not sell gold or silver that is not present at the moment of exchange for gold or silver that is present
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو، اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو۔ دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The taking of a bath on Friday is compulsory for every Muslim who has attained the age of puberty
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے، ان سے عطاء بن یسار نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بالغ کے اوپر جمعہ کے دن غسل واجب ہے۔
PickthallAnd they had turned away from him and said: One taught (by others), a madman?
Yusuf AliYet they turn away from him and say: "Tutored (by others), a man possessed!"
The agreed readingand they turned away from him and said: he is taught by someone, he is possessed?
Urduپھر بھی انہوں نے اس سے منہ موڑ لیا اور کہا: اسے کوئی اور شخص سکھاتا ہے، یا وہ دیوانہ اور مجنون ہے، حالانکہ وہ ایک سچا رسول تھا جو انہیں حق کی طرف بلا رہا تھا۔
Arabicثم أعرضوا عن هذا الرسول الكريم وتولَّوا عنه، وقالوا في تكذيبهم: هذا رجلٌ يُعلِّمه بشرٌ ما يقوله، أو هو مجنونٌ به جِنَّةٌ تُلقي على لسانه هذا الكلام.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
Hudhaifah bin Asid said:"The Messenger of Allah (s.a.w) stood over us on a balcony, and we were discussing the Hour. So the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'The Hour shall not be established until you see ten signs. The sun rising from its setting place, Ya'juj and Ma'juj, the beast of the earth, and three collapses of the earth: A collapse in the east, a collapse in the west and a collapse in the 'Arabian peninsula. And a fire that comes out of a place within 'Adan, driving the people, or gathering the people, camping where they camp, and resting where they rest
حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو! مغرب ( پچھم ) سے سورج کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دابہ ( جانور ) کا نکلنا، تین بار زمین کا دھنسنا: ایک پورب میں، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی۔
It was narrated that Hudhaifah bin Asid, Abu Sarihah, said:"The Messenger of Allah (ﷺ) looked out from a room, when we were talking about the Hour. He said: 'The Hour will not begin until ten signs appear: The rising of the sun from the west (place of its setting); Dajjal; the smoke; the beast; Gog and Magog people; the appearance of 'Eisa bin Maryam(as), the earth collapsing three times - once in the east, one in the west and one in the Arabian Peninsula; and fire that will emerge from the plain of Aden Abyan and will drive the people to the place of Gathering, stopping with them when they stop at night and when they stop to rest at midday
حذیفہ بن اسید ابو سریحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، تین بار زمین کا «خسف» ( دھنسنا ) : ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گاؤں «أبین» کے کنویں سے ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کر لے جائے گی، جہاں یہ لوگ رات گزاریں گے تو وہیں وہ آگ ان کے ساتھ رات گزارے گی، اور جب یہ قیلولہ کریں گے تو وہ آگ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلاَ تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ "
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell gold for gold unless equivalent in weight, and do not sell less amount for greater amount or vice versa; and do not sell silver for silver unless equivalent in weight, and do not sell less amount for greater amount or vice versa and do not sell gold or silver that is not present at the moment of exchange for gold or silver that is present
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو، اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو۔ دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The taking of a bath on Friday is compulsory for every Muslim who has attained the age of puberty
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے، ان سے عطاء بن یسار نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بالغ کے اوپر جمعہ کے دن غسل واجب ہے۔
PickthallLo! We withdraw the torment a little. Lo! ye return (to disbelief).
Yusuf AliWe shall indeed remove the Penalty for a while, (but) truly ye will revert (to your ways).
The agreed readingGod lifts the punishment a little from them - and they go straight back to what they were.
Urduاللہ ان سے تھوڑی دیر کے لیے عذاب اٹھا لیتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ فوراً اپنی اسی حالت کی طرف واپس لوٹ جاتے ہیں جس میں وہ پہلے تھے، یعنی کفر اور انکار کی طرف۔
Arabicإنا كاشفون عنهم العذابَ الشديد زمنًا قليلًا امتحانًا وابتلاءً لهم، وسترون أنهم بعد كشفه عنهم يعودون فورًا إلى ما كانوا عليه من الكفر والتكذيب دون أي وفاءٍ بوعدهم السابق.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
Hudhaifah bin Asid said:"The Messenger of Allah (s.a.w) stood over us on a balcony, and we were discussing the Hour. So the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'The Hour shall not be established until you see ten signs. The sun rising from its setting place, Ya'juj and Ma'juj, the beast of the earth, and three collapses of the earth: A collapse in the east, a collapse in the west and a collapse in the 'Arabian peninsula. And a fire that comes out of a place within 'Adan, driving the people, or gathering the people, camping where they camp, and resting where they rest
حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو! مغرب ( پچھم ) سے سورج کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دابہ ( جانور ) کا نکلنا، تین بار زمین کا دھنسنا: ایک پورب میں، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی۔
It was narrated that Hudhaifah bin Asid, Abu Sarihah, said:"The Messenger of Allah (ﷺ) looked out from a room, when we were talking about the Hour. He said: 'The Hour will not begin until ten signs appear: The rising of the sun from the west (place of its setting); Dajjal; the smoke; the beast; Gog and Magog people; the appearance of 'Eisa bin Maryam(as), the earth collapsing three times - once in the east, one in the west and one in the Arabian Peninsula; and fire that will emerge from the plain of Aden Abyan and will drive the people to the place of Gathering, stopping with them when they stop at night and when they stop to rest at midday
حذیفہ بن اسید ابو سریحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، تین بار زمین کا «خسف» ( دھنسنا ) : ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گاؤں «أبین» کے کنویں سے ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کر لے جائے گی، جہاں یہ لوگ رات گزاریں گے تو وہیں وہ آگ ان کے ساتھ رات گزارے گی، اور جب یہ قیلولہ کریں گے تو وہ آگ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلاَ تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ "
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell gold for gold unless equivalent in weight, and do not sell less amount for greater amount or vice versa; and do not sell silver for silver unless equivalent in weight, and do not sell less amount for greater amount or vice versa and do not sell gold or silver that is not present at the moment of exchange for gold or silver that is present
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو، اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو۔ دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The taking of a bath on Friday is compulsory for every Muslim who has attained the age of puberty
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے، ان سے عطاء بن یسار نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بالغ کے اوپر جمعہ کے دن غسل واجب ہے۔
PickthallOn the day when We shall seize them with the greater seizure, (then) in truth We shall punish.
Yusuf AliOne day We shall seize you with a mighty onslaught: We will indeed (then) exact Retribution!
The agreed readingOn the Day God seizes with the greatest seizing of all, God will take His retribution.
Urduجس دن اللہ سب سے بڑی گرفت کے ساتھ پکڑے گا، اس دن اللہ ان سے اپنا انتقام ضرور لے گا، اور یہ گرفت دنیا کی معمولی سزاؤں سے کہیں زیادہ سخت ہوگی۔
Arabicواذكر يوم نبطش بهم البطشةَ الكبرى العظيمة، وهي أعظمُ أخذٍ وأشدُّه على الإطلاق، إنا منتقمون منهم انتقامًا شديدًا حاسمًا لا مفرَّ لهم منه ولا مهرب أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdullah:It (i.e., the imagined smoke) was because, when the Quraish refused to obey the Prophet, he asked Allah to afflict them with years of famine similar to those of (Prophet) Joseph. So they were stricken with famine and fatigue, so much so that they ate even bones. A man would look towards the sky and imagine seeing something like smoke between him and the sky because of extreme fatigue. So Allah revealed:-- 'Then watch you for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible, covering the people; this is a painful torment.' (44.10-11) Then someone (Abu Sufyan) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to send rain …
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ( قحط ) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھویں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا …
Hudhaifah bin Asid said:"The Messenger of Allah (s.a.w) stood over us on a balcony, and we were discussing the Hour. So the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'The Hour shall not be established until you see ten signs. The sun rising from its setting place, Ya'juj and Ma'juj, the beast of the earth, and three collapses of the earth: A collapse in the east, a collapse in the west and a collapse in the 'Arabian peninsula. And a fire that comes out of a place within 'Adan, driving the people, or gathering the people, camping where they camp, and resting where they rest
حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو! مغرب ( پچھم ) سے سورج کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دابہ ( جانور ) کا نکلنا، تین بار زمین کا دھنسنا: ایک پورب میں، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی۔
It was narrated that Hudhaifah bin Asid, Abu Sarihah, said:"The Messenger of Allah (ﷺ) looked out from a room, when we were talking about the Hour. He said: 'The Hour will not begin until ten signs appear: The rising of the sun from the west (place of its setting); Dajjal; the smoke; the beast; Gog and Magog people; the appearance of 'Eisa bin Maryam(as), the earth collapsing three times - once in the east, one in the west and one in the Arabian Peninsula; and fire that will emerge from the plain of Aden Abyan and will drive the people to the place of Gathering, stopping with them when they stop at night and when they stop to rest at midday
حذیفہ بن اسید ابو سریحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، تین بار زمین کا «خسف» ( دھنسنا ) : ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گاؤں «أبین» کے کنویں سے ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کر لے جائے گی، جہاں یہ لوگ رات گزاریں گے تو وہیں وہ آگ ان کے ساتھ رات گزارے گی، اور جب یہ قیلولہ کریں گے تو وہ آگ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ، وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلاَ تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ "
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell gold for gold unless equivalent in weight, and do not sell less amount for greater amount or vice versa; and do not sell silver for silver unless equivalent in weight, and do not sell less amount for greater amount or vice versa and do not sell gold or silver that is not present at the moment of exchange for gold or silver that is present
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو، اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو۔ دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The taking of a bath on Friday is compulsory for every Muslim who has attained the age of puberty
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے، ان سے عطاء بن یسار نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بالغ کے اوپر جمعہ کے دن غسل واجب ہے۔
PickthallAnd verily We tried before them Pharaoh's folk, when there came unto them a noble messenger,
Yusuf AliWe did, before them, try the people of Pharaoh: there came to them a messenger most honourable,
The agreed readingAnd before them God tested the people of Pharaoh, when a noble messenger came to them,
Urduاور ان سے پہلے اللہ نے فرعون کی قوم کو آزمایا تھا، جب ان کے پاس ایک معزز رسول آیا، یعنی موسیٰ علیہ السلام، جنہیں اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے بھیجا تھا۔
Arabicولقد اختبرنا وابتلينا من قبل هؤلاء المشركين المكذبين قومَ فرعونَ الطاغية، إذ جاءهم رسولٌ كريمٌ عظيمُ القدر عند الله، وهو موسى عليه السلام، ليدعوهم إلى توحيده وطاعته.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
PickthallSaying: Give up to me the slaves of Allah. Lo! I am a faithful messenger unto you.
Yusuf AliSaying: "Restore to me the Servants of Allah: I am to you an messenger worthy of all trust;
The agreed readingsaying: hand over to me the servants of God. I am a trustworthy messenger to you.
Urduاس نے کہا: اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دو۔ بےشک میں تمہارے پاس ایک امانت دار رسول بن کر آیا ہوں، میں جھوٹ نہیں بولتا۔
Arabicقال لهم: أدُّوا إليّ عبادَ الله من بني إسرائيل وأطلقوهم من عذابكم واستعبادكم، إني لكم رسولٌ أمينٌ على ما أُرسلت به من عند ربي، لا أزيد فيه ولا أنقص.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
PickthallAnd lo! I have sought refuge in my Lord and your Lord lest ye stone me to death.
Yusuf Ali"For me, I have sought safety with my Lord and your Lord, against your injuring me.
The agreed readingAnd I have taken refuge in my Lord and your Lord, lest you stone me or do me harm.
Urduاور میں نے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے، تاکہ تم مجھے سنگسار نہ کرو اور نہ ہی مجھے کوئی نقصان پہنچاؤ، کیونکہ وہی مجھے تمہارے شر سے بچانے والا ہے۔
Arabicوإني عُذت والتجأتُ حقًّا إلى ربي وربكم جميعًا، حتى لا ترجموني بالحجارة أو تؤذوني بأي أذًى، فهو وحده الحافظ لي منكم ومن كل مكروهٍ قد يصيبني منكم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
PickthallAnd if ye put no faith in me, then let me go.
Yusuf Ali"If ye believe me not, at least keep yourselves away from me."
The agreed readingAnd if you do not believe me and will not trust me, then keep well away from me.
Urduاور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے اور مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے، تو کم از کم مجھ سے دور ہو جاؤ، مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور مجھے کوئی اذیت نہ پہنچاؤ۔
Arabicوإن لم تصدِّقوني ولم تؤمنوا بما جئتُكم به من الحق الواضح، فاعتزلوني على الأقل ولا تؤذوني بشيءٍ، دعوني وشأني حتى يحكم الله بيني وبينكم بالعدل.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
PickthallAnd he cried unto his Lord, (saying): These are guilty folk.
Yusuf Ali(But they were aggressive:) then he cried to his Lord: "These are indeed a people given to sin."
The agreed readingSo he called out to his Lord about them, saying: these are a guilty people who will not turn.
Urduتو انہوں نے اپنے رب کو پکارا اور کہا: یہ لوگ مجرم ہیں اور یہ ہرگز اپنے کفر سے باز نہیں آئیں گے، یعنی انہیں ایمان کی طرف لانے کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔
Arabicفدعا موسى ربَّه بعد أن كذَّبه فرعونُ وقومُه وأصرُّوا على عنادهم، قائلًا: إن هؤلاء قومٌ مجرمون مشركون، لن يؤمنوا ولن يرجعوا عن كفرهم أبدًا مهما دُعوا إلى الحق.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
PickthallThen (his Lord commanded): Take away My slaves by night. Lo! ye will be followed,
Yusuf Ali(The reply came:) "March forth with My Servants by night: for ye are sure to be pursued.
The agreed readingThen the answer came: set out with My servants by night; you will be followed after.
Urduتو جواب آیا: میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل جاؤ، بےشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا، یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارے پیچھے آئے گا۔
Arabicفجاءه الجواب من ربه سبحانه سريعًا: اخرج بعبادي بني إسرائيل ليلًا قبل طلوع الفجر، إنكم متبعون سيتبعكم فرعونُ وجنودُه ليدركوكم، فلا تخافوا شيئًا ولا تحزنوا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It has been narrated (through another chain of transmitters) on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When you travel (through a land) where there is plenty of vegetation, you should (go slow and) give the camels a chance to enjoy the benefit of the earth. When you travel (through a land) where there is scarcity of vegetation, you should hasten with them (so that you may be able to cross that land while your animals ore still in a good condition of health). When you make a halt for the night, avoid (doing so on) the road, for the tracks are the pathways of wild beasts or the abode of noxious little animals
عبدالعزیز بن محمد نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم شادابی ( کے زمانے ) میں سفر کرو تو زمین سے اونٹوں کو ان کا حصہ دو اور جب تم خشک سالی میں سفر کرو تو اس ( سے متاثرہ علاقے میں ) سے ان ( اونٹوں کی ٹانگوں ) کا گودا بچا کر لے جاؤ ( تیز رفتاری سے نکل جاؤ تاکہ زیادہ عرصہ بھوکے رہ کر وہ کمزور نہ ہو جائیں ) اور جب تم رات کے آخری حصے میں قیام کرو تو گزرگاہ میں ٹھہرنے سے اجتناب کرو کیونکہ رات کے وقت وہ جگہ جانوروں کی گزر گاہ اور حشرات الارض کی آماجگاہ ہوتی ہے ۔
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
PickthallAnd leave the sea behind at rest, for lo! they are a drowned host.
Yusuf Ali"And leave the sea as a furrow (divided): for they are a host (destined) to be drowned."
The agreed readingAnd leave the sea as it is, parted and still behind you - they are a host to be drowned in it.
Urduاور سمندر کو اسی حالت میں چھوڑ دو جیسا وہ تمہارے پیچھے کھلا اور ساکن رہا، بےشک وہ ایک ایسا لشکر ہے جسے اس میں ڈبو دیا جائے گا۔
Arabicواترك البحرَ كما هو تمامًا بعد عبورك إياه، ساكنًا منفرجًا هادئًا لا تُغلِقه ولا تضربه بعصاك ثانيةً، إنهم جندٌ من فرعونَ وقومه سيدخلونه فيُغرَقون فيه جميعًا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
PickthallHow many were the gardens and the watersprings that they left behind,
Yusuf AliHow many were the gardens and springs they left behind,
The agreed readingHow many gardens and flowing springs they left behind them when they were taken away,
Urduکتنے ہی باغات اور بہتے ہوئے چشمے تھے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے جب انہیں ہلاک کر کے لے جایا گیا، حالانکہ وہ ان چیزوں پر بڑا فخر کیا کرتے تھے اور انہیں اپنی شان سمجھتے تھے۔
Arabicكم تركوا خلفهم من جناتٍ كثيرةٍ وبساتينَ نضرةٍ يانعةٍ، وعيونٍ من الماء جاريةٍ لا تنقطع، عندما أُخِذوا وأُهلِكوا بغتةً، بعد أن كانوا يتمتَّعون بها ويفتخرون بها أشدَّ الفخر.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
The agreed readingand cornfields, and fine places to sit in, which the commentaries picture as their halls,
Urduاور کھیتیاں بھی، اور بیٹھنے کی خوبصورت جگہیں بھی، جنہیں مفسرین نے ان کے شاندار دربار اور مجلسیں قرار دیا ہے جہاں وہ عزت و شان کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔
Arabicوزروع خضراء وارفة، وبساتين مثمرة كثيرة، ومقام كريم جميل رفيع، صوَّره المفسرون بأنه كان من المجالس الفخمة التي كانوا يجلسون فيها بعزٍّ وكرامة عظيمة قبل هلاكهم المفاجئ.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
PickthallAnd pleasant things wherein they took delight!
Yusuf AliAnd wealth (and conveniences of life), wherein they had taken such delight!
The agreed readingand comforts of every kind in which they had taken their ease and their pleasure.
Urduاور ہر طرح کی آسائشیں بھی، جن میں وہ آرام اور لطف اٹھایا کرتے تھے، اور ان نعمتوں سے پوری طرح لطف اندوز ہو کر خوش و خرم زندگی گزارتے تھے۔
Arabicونعمةً واسعةً عظيمةً وافرةً من كل نوعٍ، كانوا فيها متنعِّمين فرحين مستمتعين بها استمتاعًا كاملًا تامًّا، لا يخطر ببالهم أن هذا كله سيزول عنهم فجأةً.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
PickthallEven so (it was), and We made it an inheritance for other folk;
Yusuf AliThus (was their end)! And We made other people inherit (those things)!
The agreed readingSo it was; and God gave the whole of it to another people to inherit after them.
Urduایسا ہی ہوا، اور اللہ نے یہ سب کچھ ان کے بعد ایک دوسری قوم کو وارث بنا کر دے دیا، یعنی بنی اسرائیل کو، جو اس سے پہلے مصیبت اور غلامی میں تھے۔
Arabicكذلك كان الأمرُ الذي حدث لهم بالتفصيل، وأورثنا تلك النِّعمَ كلَّها قومًا آخرين من بعدهم، وهم بنو إسرائيل الذين كانوا قبلُ تحت استعباد فرعون وقومه الظالمين.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
PickthallAnd the heaven and the earth wept not for them, nor were they reprieved.
Yusuf AliAnd neither heaven nor earth shed a tear over them: nor were they given a respite (again).
The agreed readingAnd neither the sky nor the earth wept for them, and they were given no respite.
Urduاور نہ ہی آسمان نے ان پر آنسو بہائے اور نہ زمین نے، اور انہیں کوئی مہلت بھی نہیں دی گئی، بلکہ عذاب انہیں اچانک آ گھیرا اور وہ فوراً ہلاک کر دیے گئے۔
Arabicفما بكت عليهم السماءُ ولا الأرضُ حزنًا على هلاكهم وموتهم الذليل، فلم يكونوا يستحقون بكاءً ولا رثاءً من أحدٍ، وما كانوا مُنظَرين ولا مُؤخَّرين عن العذاب لحظةً واحدةً أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Islam began as something strange and it will return to being strange as it began. So Tuba is for the strangers
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، ابن عمر، جابر، اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے، ۳- میں اس حدیث کو صرف حفص بن غیاث کی روایت سے جسے وہ اعمش کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، جانتا ہوں، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے، ۵- ابوحفص اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ الإِسْلاَمَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " . قَالَ قِيلَ وَمَنِ الْغُرَبَاءُ قَالَ النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ .
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Islam began as something strange and will go back to being strange, so glad tidings to the strangers.” It was said: “Who are the strangers?’ He said: “Strangers who have left their families and tribes.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے، آپ سے سوال کیا گیا: غرباء کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہیں جو اپنے قبیلے سے نکال دئیے گئے ہوں ۱؎۔
PickthallAnd We delivered the Children of Israel from the shameful doom;
Yusuf AliWe did deliver aforetime the Children of Israel from humiliating Punishment,
The agreed readingAnd God delivered the Children of Israel from the punishment that disgraced them -
Urduاور اللہ نے بنی اسرائیل کو اس ذلت والے عذاب سے نجات دی جو انہیں پہنچایا جا رہا تھا، یعنی ان کے بیٹوں کو قتل کرنا اور ان کی عورتوں کو غلام بنا کر رکھنا۔
Arabicولقد نجَّى اللهُ سبحانه بني إسرائيلَ من العذاب المُذِلِّ المُهين الشديد الذي كان يُصيبهم على الدوام، من قتل أبنائهم واستعباد نسائهم، وذلك على يد فرعونَ وقومه الظالمين المتجبرين.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
Pickthall(We delivered them) from Pharaoh. Lo! he was a tyrant of the wanton ones.
Yusuf AliInflicted by Pharaoh, for he was arrogant (even) among inordinate transgressors.
The agreed readingfrom Pharaoh himself. He was high-handed, one of those who go beyond all bounds.
Urduیعنی خود فرعون کے ہاتھوں سے۔ وہ ایک متکبر اور سرکش شخص تھا، اور ان لوگوں میں سے تھا جو ہر حد سے تجاوز کر جاتے ہیں اور اللہ کی نافرمانی میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔
Arabicمن فرعونَ نفسه الطاغية الظالم، الذي كان جبارًا متكبرًا عاليًا في الأرض بغير حقٍّ، ومن المسرفين الذين تجاوزوا كلَّ حدٍّ في الظلم والطغيان والاستهانة بحقوق الله وعباده أجمعين.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
PickthallAnd We chose them, purposely, above (all) creatures.
Yusuf AliAnd We chose them aforetime above the nations, knowingly,
The agreed readingAnd God chose them, knowingly and not by chance, above the people of their own time.
Urduاور اللہ نے انہیں پورے علم کے ساتھ، محض اتفاق سے نہیں، اپنے زمانے کے دوسرے لوگوں پر فضیلت دی اور چن لیا، کیونکہ ان میں بہت سے انبیاء موجود تھے۔
Arabicولقد اخترنا بني إسرائيلَ اختيارًا واعيًا حكيمًا مبنيًّا على علمنا التام بهم، لا عن مصادفةٍ أو عبثٍ، وفضَّلناهم على أهل زمانهم وعالَمي عصرهم لكثرة الأنبياء فيهم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
PickthallAnd We gave them portents wherein was a clear trial.
Yusuf AliAnd granted them Signs in which there was a manifest trial
The agreed readingAnd gave them signs in which there was a clear test of what they would do with them.
Urduاور انہیں ایسی نشانیاں عطا کیں جن میں یہ واضح آزمائش تھی کہ وہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں، یعنی سمندر کا پھٹنا، بادل کا سایہ اور آسمانی رزق جیسی نعمتیں۔
Arabicوآتيناهم من المعجزات الباهرات، كفَلْق البحر وتظليل الغمام ونزول المنِّ والسَّلوى عليهم، ما فيه ابتلاءٌ واضحٌ بيِّنٌ، ليُظهر كيف يستقبلون هذه النِّعم شكرًا أو كفرانًا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no believer except that he has two doors: A door through which his deeds ascend, and a door through which his sustenance descends. So when he dies they weep for him. That is the meaning of the saying of Allah, the Mighty and Sublime: And the heavens and the earth wept not for them, nor were they given respite (44:)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّيْطَانَ حَسَّاسٌ لَحَّاسٌ فَاحْذَرُوهُ عَلَى أَنْفُسِكُمْ مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلاَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Ash-Shaitan has a sense of taste, for which he licks, so beware of him. So whoever spends the night with [a smell] on his hand and something happens to him, then let him not blame anyone but himself." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib from this route. It has also been reported in a narration of Suhail bin Abi Salih, from his father, from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے، اس سے خود کو بچاؤ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث «سهيل ابن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے۔
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Al-Hamdulillah is Umm Al-Qur'an and Umm Al-Kitab and the seven oft-repeated
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ الحمدللہ ( فاتحہ ) ، ام القرآن ہے، ام الکتاب ( قرآن کی اصل اساس ہے ) اور «السبع المثانی» ہے ( باربار دہرائی جانے والی آیتیں ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Yusuf AliAs to these (Quraish), they say forsooth:
The agreed readingAnd these people here before you now are the very ones who are saying the following:
Urduاور یہی وہ لوگ ہیں جو تمہارے سامنے موجود ہیں، یعنی مکہ کے مشرکین، جو یہ باتیں کہتے ہیں اور آخرت کے بارے میں ویسا ہی انکار کرتے ہیں جیسا پہلی قوموں نے کیا تھا۔
Arabicوإن هؤلاء المشركين من قومك يا محمد الحاضرين أمامك الآن جميعًا ليقولون هذه الأقوال الباطلة في إنكار البعث، وهي نفس الحجج التي قالها المكذِّبون من قبلهم بلا فرق.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I hear many narrations from you but I forget them." He said, "Spread your covering sheet." I spread my sheet and he moved both his hands as if scooping something and emptied them in the sheet and said, "Wrap it." I wrapped it round my body, and since then I have never forgotten
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا مجھ سے محمد بن اسماعیل ابن ابی الفدیک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن ابن ابی ذئب نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ سے بہت سی احادیث اب تک سنی ہیں لیکن میں انہیں بھول جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے چادر پھیلا دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لپ بھر کر ڈال دی اور فرمایا کہ اسے اپنے بدن سے لگا لو۔ چنانچہ میں نے لگا لیا اور اس کے بعد کبھی کوئی حدیث نہیں بھولا۔
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Al-Hamdulillah is Umm Al-Qur'an and Umm Al-Kitab and the seven oft-repeated
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ الحمدللہ ( فاتحہ ) ، ام القرآن ہے، ام الکتاب ( قرآن کی اصل اساس ہے ) اور «السبع المثانی» ہے ( باربار دہرائی جانے والی آیتیں ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّيْطَانَ حَسَّاسٌ لَحَّاسٌ فَاحْذَرُوهُ عَلَى أَنْفُسِكُمْ مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلاَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Ash-Shaitan has a sense of taste, for which he licks, so beware of him. So whoever spends the night with [a smell] on his hand and something happens to him, then let him not blame anyone but himself." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib from this route. It has also been reported in a narration of Suhail bin Abi Salih, from his father, from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے، اس سے خود کو بچاؤ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث «سهيل ابن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے۔
PickthallThere is naught but our first death, and we shall not be raised again.
Yusuf Ali"There is nothing beyond our first death, and we shall not be raised again.
The agreed readingthere is nothing at all but our first death, and we are not going to be raised again;
Urduکہ کچھ نہیں ہے سوائے ہماری اس پہلی موت کے، اور ہمیں دوبارہ کبھی زندہ کرکے نہیں اٹھایا جائے گا، یعنی موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے اور یہی سب کچھ ہے۔
Arabicيقولون منكرين للبعث: ما هي إلا موتتُنا الأولى التي نموتها مرةً واحدةً فحسب، وما نحن بمبعوثين ولا محيَيْن بعد ذلك أبدًا، فلا حسابَ ولا جزاءَ عندهم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I hear many narrations from you but I forget them." He said, "Spread your covering sheet." I spread my sheet and he moved both his hands as if scooping something and emptied them in the sheet and said, "Wrap it." I wrapped it round my body, and since then I have never forgotten
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا مجھ سے محمد بن اسماعیل ابن ابی الفدیک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن ابن ابی ذئب نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ سے بہت سی احادیث اب تک سنی ہیں لیکن میں انہیں بھول جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے چادر پھیلا دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لپ بھر کر ڈال دی اور فرمایا کہ اسے اپنے بدن سے لگا لو۔ چنانچہ میں نے لگا لیا اور اس کے بعد کبھی کوئی حدیث نہیں بھولا۔
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Al-Hamdulillah is Umm Al-Qur'an and Umm Al-Kitab and the seven oft-repeated
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ الحمدللہ ( فاتحہ ) ، ام القرآن ہے، ام الکتاب ( قرآن کی اصل اساس ہے ) اور «السبع المثانی» ہے ( باربار دہرائی جانے والی آیتیں ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّيْطَانَ حَسَّاسٌ لَحَّاسٌ فَاحْذَرُوهُ عَلَى أَنْفُسِكُمْ مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلاَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Ash-Shaitan has a sense of taste, for which he licks, so beware of him. So whoever spends the night with [a smell] on his hand and something happens to him, then let him not blame anyone but himself." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib from this route. It has also been reported in a narration of Suhail bin Abi Salih, from his father, from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے، اس سے خود کو بچاؤ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث «سهيل ابن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے۔
PickthallBring back our fathers, if ye speak the truth!
Yusuf Ali"Then bring (back) our forefathers, if what ye say is true!"
The agreed readingso bring our fathers back to us now, if you are truthful in what you say to us here.
Urduپس ہمارے باپ دادا کو ہمارے پاس زندہ کر کے لے آؤ اگر تم اس بات میں سچے ہو جو تم ہم سے کہہ رہے ہو، یعنی یہ کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا برحق ہے۔
Arabicفأتوا بآبائنا الذين ماتوا أحياءً كما كانوا من قبلُ في الدنيا، إن كنتم صادقين فيما تدَّعونه من أن الله يبعث الموتى من قبورهم بعد موتهم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 2 من كتب أهل السنة، 5 من كتب الشيعة7 reports cited here — 2 Sunnī, 5 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 5 شیعہ کتب سے
2. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad and Ali ibn Ibrahim has narrated from his father all from ibn Mahbub from abu Ja‘far al-Ahwal from Salam ibn al-Mustanir who has narrated the following: “This is about the meaning of the words of Allah, most Majestic, most Glorious. ‘. . . We made a covenant with Adam (a.s.), before but he forgot and We did not find in him firm determination.’ (20:115) Abu Ja‘far (a.s.), has said, ‘When Allah, most Majestic, most Glorious, said to Adam (a.s.), to enter in the garden (paradises) He said, “O Adam, you must not go near this tree.’” He (the Imam) said that He showed it to him and Adam said to his Lord, “How will I go near the tree when …
محمد بن یحییٰ نے احمد بن محمد سے روایت کی اور علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی، سب ابن محبوب سے، وہ ابو جعفر الاحول سے، وہ سلام بن المستنیر سے، وہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، اللہ عز و جل کے اس قول کے بارے میں: اور بے شک ہم نے آدم سے پہلے سے عہد لیا تھا، پھر وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں عزم نہ پایا۔ انہوں نے کہا: جب اللہ عز و جل نے آدم سے کہا جنت میں داخل ہو، تو اس نے کہا: اے آدم! اس درخت کے قریب نہ جاؤ۔ انہوں نے کہا: اور اس نے اسے وہ درخت دکھایا۔ تو آدم نے اپنے رب سے کہا: میں اس درخت کے قریب کیسے جاؤں جب تم نے مجھے اور میری بیوی کو اس سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: تو اللہ نے ان دونوں سے کہا اس درخت کے قریب نہ جاؤ، یعنی اس سے نہ کھاؤ۔ تو آدم اور اس کی بیوی نے کہا: ہاں، اے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from ‘Uthman ibn ‘Isa from ‘Abd Allah ibn Muskan from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, chose His messengers for noble moral (human) qualities. You must test yourselves. If you find the noble qualities in you then be thankful to Allah and understand that it is of goodness. If you do not find them in you, then pray to Allah to grant them to you and show Him that you are interested in having them. The narrator has said that the Imam counted the noble qualities up to ten: They consist of Certainty, Contentment, Patience, Thankfulness, Forbearance, Good Moral …
ہمارے اصحاب کے ایک گروپ نے احمد بن محمد بن خالد سے روایت کی، عثمان بن عیسیٰ سے، عبداللہ بن مسکان سے، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے، انہوں نے فرمایا: اللہ عزّ وجلّ نے اپنے رسولوں کو مکارم الاخلاق (بہترین اخلاق) سے خصوصی کیا ہے، تو اپنے نفس کو آزمائو، اگر یہ تمہارے اندر ہیں تو اللہ کا شکر کرو اور جان لو کہ یہ خیر سے ہے، اور اگر تمہارے اندر نہیں ہیں تو اللہ سے مانگو اور اس سے رغبت کرو۔ انہوں نے ان کو دس بیان کیے: یقین، قناعت، صبر، شکر، حلم، حسن الخلق، سخاوت، غیرت، شجاعت، اور مروت۔ اور بعض نے ان دس خصلتوں کے بعد صدق (سچائی) اور امانت کی ادائی کو شامل کیا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Al-Hamdulillah is Umm Al-Qur'an and Umm Al-Kitab and the seven oft-repeated
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ الحمدللہ ( فاتحہ ) ، ام القرآن ہے، ام الکتاب ( قرآن کی اصل اساس ہے ) اور «السبع المثانی» ہے ( باربار دہرائی جانے والی آیتیں ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّيْطَانَ حَسَّاسٌ لَحَّاسٌ فَاحْذَرُوهُ عَلَى أَنْفُسِكُمْ مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلاَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Ash-Shaitan has a sense of taste, for which he licks, so beware of him. So whoever spends the night with [a smell] on his hand and something happens to him, then let him not blame anyone but himself." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib from this route. It has also been reported in a narration of Suhail bin Abi Salih, from his father, from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے، اس سے خود کو بچاؤ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث «سهيل ابن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے۔
3. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father and A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad all from Ja’far ibn Muhammad from ibn al-Qaddah from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, is very protective of certain people in His creatures. He feeds them in bounties, grants them life in peace and security, will admit them in paradise with favor and mercy and He causes the misfortunes and afflictions to pass them by without harming them at all.”
روایت میں ہے کہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو احکام دیے ہیں ان پر عمل کریں اور جو منع کیا ہے اس سے بچیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ahmad ibn Muhammad ibn abu Nasr. And a number of our people from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from Ibrahim ibn Muhammad al-Thaqafi from Muhammad ibn Marwan all of them have narrated from Aban ibn ‘Uthman from those whom he has mentioned from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Blessed, the Most High, granted to Muhammad (a.s.) the system of laws of Noah, Abraham, Moses and Jesus, peace be upon them. The laws consisted of belief in monotheism, purity of such belief, the negation of all associates of Allah and the culture, that it is free and clean of idolatry, that it is easy to follow and that it does not …
1۔ علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے احمد بن محمد بن ابونصر سے۔ اور ہمارے اصحاب میں سے ایک جماعت نے احمد بن محمد بن خالد سے روایت کی، انہوں نے ابراہیم بن محمد الثقفی سے، انہوں نے محمد بن مروان سے - یہ تمام لوگ - ابان بن عثمان سے، انہوں نے اس سے جس کا انہوں نے ذکر کیا، وہ ابواعبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کے شریعتیں دیں۔ یعنی توحید، اخلاص، تمام شریکوں کو نفی کرنا اور صاف ستھرا اور آسان دین ہنیفی۔ اس میں نہ تو بھیک مانگنا ہے اور نہ ہی دنیا سے بھاگنا۔ اس میں اللہ نے پاک چیزیں حلال کیں اور نجس چیزیں حرام کیں۔ اور انہ سے ان کے بوجھ اور زنجیریں ہٹا دیں جو ان پر …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن أحمد بن محمّد بن أبي نصر البزنطيّ فقد رويته عن أبي؛ و محمّد بن الحسن- رضي اللّه عنهما- عن سعد بن عبد اللّه؛ و الحميريّ جميعا عن أحمد بن محمّد ابن عيسى، عن أحمد بن محمّد بن أبي نصر البزنطيّ. و رويته عن أبي؛ و محمّد بن عليّ ماجيلويه- رضي اللّه عنهما- عن عليّ بن إبراهيم، عن أبيه، عن أحمد بن محمّد بن أبي نصر البزنطيّ.
Everything in this book that is narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Abi Nasr Al-Bazanti has been transmitted by me from my father and from Muhammad ibn Al-Hasan - may Allah (swt) be pleased with them both - from Sa'd ibn Abdullah and Al-Himyari together, from Ahmad ibn Muhammad ibn 'Isa, from Ahmad ibn Muhammad ibn Abi Nasr Al-Bazanti. I have also narrated it from my father and from Muhammad ibn Ali Majilawayh - may Allah (swt) be pleased with them both - from Ali ibn Ibrahim, from his father, from Ahmad ibn Muhammad ibn Abi Nasr Al-Bazanti.
جو کچھ اس کتاب میں احمد بن محمد بن ابی نصر البزنطی سے روایت ہے، تو میں نے اسے اپنے والد سے اور محمد بن الحسن - اللہ ان سے راضی ہو - سعد بن عبداللہ سے اور الحمیری سے - یہ دونوں - احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، احمد بن محمد بن ابی نصر البزنطی سے روایت کیا ہے۔ اور میں نے اسے اپنے والد سے اور محمد بن علی ماجیلویہ - اللہ ان سے راضی ہو - علی بن ابراہیم سے، ان کے والد سے، احمد بن محمد بن ابی نصر البزنطی سے روایت کیا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAre they better, or the folk of Tubb'a and those before them? We destroyed them, for surely they were guilty.
Yusuf AliWhat! Are they better than the people of Tubba and those who were before them? We destroyed them because they were guilty of sin.
The agreed readingAre they better, or the people of Tubba and those before them? God destroyed them - they were guilty.
Urduکیا یہ لوگ بہتر ہیں یا قومِ تبع اور ان سے پہلے کے لوگ؟ اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا تھا، بےشک وہ سب مجرم اور گناہ گار لوگ تھے جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔
Arabicأهؤلاء المشركون من قومك خيرٌ وأقوى أم قومُ تُبَّعٍ العظيم والذين من قبلهم من الأمم المكذِّبة الكافرة؟ أهلكناهم جميعًا بسبب كفرهم وطغيانهم، إنهم كانوا قومًا مجرمين مستحقين للعذاب الأليم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I hear many narrations from you but I forget them." He said, "Spread your covering sheet." I spread my sheet and he moved both his hands as if scooping something and emptied them in the sheet and said, "Wrap it." I wrapped it round my body, and since then I have never forgotten
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا مجھ سے محمد بن اسماعیل ابن ابی الفدیک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن ابن ابی ذئب نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ سے بہت سی احادیث اب تک سنی ہیں لیکن میں انہیں بھول جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے چادر پھیلا دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لپ بھر کر ڈال دی اور فرمایا کہ اسے اپنے بدن سے لگا لو۔ چنانچہ میں نے لگا لیا اور اس کے بعد کبھی کوئی حدیث نہیں بھولا۔
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Al-Hamdulillah is Umm Al-Qur'an and Umm Al-Kitab and the seven oft-repeated
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ الحمدللہ ( فاتحہ ) ، ام القرآن ہے، ام الکتاب ( قرآن کی اصل اساس ہے ) اور «السبع المثانی» ہے ( باربار دہرائی جانے والی آیتیں ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Mawdu · Al-Albani: Mawdu · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّيْطَانَ حَسَّاسٌ لَحَّاسٌ فَاحْذَرُوهُ عَلَى أَنْفُسِكُمْ مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلاَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Ash-Shaitan has a sense of taste, for which he licks, so beware of him. So whoever spends the night with [a smell] on his hand and something happens to him, then let him not blame anyone but himself." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib from this route. It has also been reported in a narration of Suhail bin Abi Salih, from his father, from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے، اس سے خود کو بچاؤ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث «سهيل ابن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے۔
PickthallAnd We created not the heavens and the earth, and all that is between them, in play.
Yusuf AliWe created not the heavens, the earth, and all between them, merely in (idle) sport:
The agreed readingAnd God did not create the heavens and the earth and all that is between them in play.
Urduاور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، محض کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا، بلکہ اس کی تخلیق میں بڑی حکمت اور مقصد پوشیدہ ہے۔
Arabicوما خلقنا السماواتِ العلى والأرضَ الواسعة وما بينهما من مخلوقاتٍ لاعبين عابثين كما يظن الجاهلون، بل خلقناهما بحكمةٍ بالغةٍ ولحكمةٍ عظيمة تليق بجلال الخالق سبحانه وتعالى.
PickthallWe created them not save with truth; but most of them know not.
Yusuf AliWe created them not except for just ends: but most of them do not understand.
The agreed readingGod created them only with the truth and for a purpose - but most of them do not know it.
Urduاللہ نے انہیں صرف حق کے ساتھ اور ایک مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ یہ حقیقت نہیں جانتے اور اسے محض اتفاق سمجھ بیٹھتے ہیں۔
Arabicما خلقنا السماواتِ والأرضَ وما بينهما إلا بالحقِّ الثابت ولحكمةٍ بالغةٍ يُستدَلُّ بها على قدرتنا ووحدانيتنا، ولكنَّ أكثرَهم من المشركين لا يعلمون هذه الحقيقة العظيمة.
PickthallAssuredly the Day of Decision is the term for all of them,
Yusuf AliVerily the Day of sorting out is the time appointed for all of them,-
The agreed readingThe Day of Decision is the appointed time that is set for the whole of them together,
Urduبےشک فیصلے کا دن ان سب کے لیے مقرر کیا گیا وقت ہے، جس میں اللہ اپنے بندوں کے درمیان ان کے اعمال کے مطابق فیصلہ کرے گا اور کوئی بھی اس سے باہر نہیں رہے گا۔
Arabicإن يومَ الفصل العظيم، وهو يوم القيامة الذي يفصل الله فيه بين جميع خلقه بالحق، هو الميقاتُ المحدَّدُ لهم أجمعين دون استثناء، لا يتخلَّف عنه أحدٌ منهم أبدًا.
PickthallA day when friend can in naught avail friend, nor can they be helped,
Yusuf AliThe Day when no protector can avail his client in aught, and no help can they receive,
The agreed readinga Day when no friend can help a friend in anything, and they will not be helped -
Urduایک ایسا دن جس میں کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہیں آئے گا، اور نہ ہی انہیں کہیں سے کوئی مدد ملے گی، ہر رشتہ اور دوستی اس دن بےاثر ہو جائے گی۔
Arabicيومٌ عظيمٌ رهيبٌ لا يُغني فيه وليٌّ عن وليِّه شيئًا من العذاب الشديد، ولا قريبٌ عن قريبه مهما كانت قرابتُه، ولا هم يُنصَرون من أحدٍ في ذلك اليوم العصيب.
PickthallSave him on whom Allah hath mercy. Lo! He is the Mighty, the Merciful.
Yusuf AliExcept such as receive Allah's Mercy: for He is Exalted in Might, Most Merciful.
The agreed readingexcept those on whom God has mercy - and He is the Mighty, the Merciful to them.
Urduسوائے ان لوگوں کے جن پر اللہ رحم کرے، اور وہی زبردست غالب ہے اور اپنے ان بندوں پر بہت رحم کرنے والا ہے جن پر وہ اپنی رحمت نازل کرتا ہے۔
Arabicإلا من رحمه اللهُ سبحانه من عباده المؤمنين الصادقين، فيشفع بعضُهم لبعضٍ بإذنه تعالى، إنه هو العزيزُ الغالبُ في انتقامه من الكافرين، الرحيمُ الرءوفُ بأوليائه المؤمنين.
The agreed readingThe tree of Zaqqum - the commentaries call it the foulest and bitterest of trees -
Urduتھوہر کا درخت، مفسرین نے اسے سب سے گندا اور سب سے کڑوا درخت قرار دیا ہے، جو جہنم کی جڑ سے اگتا ہے اور اس کا مزہ نہایت تلخ ہے۔
Arabicإن شجرة الزَّقُّوم الملعونة المخيفة، وقد وصفها المفسرون قاطبةً بأنها أخبثُ الأشجار وأمرُّها طعمًا على الإطلاق دون منازعٍ لها، تنبت في أصل الجحيم عذابًا شديدًا لأهله.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Sa’eed narrated :from the Prophet regarding Allah’s saying: Like Al-Muhl – he said: “Like boiling oil, such that when it is brought close to one’s face the skin of his face will fall off into it.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يوم تكون السماء كالمهل» ”جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا“ ( المعارج: ۸ ) ، میں مہل کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے، جب کافر اسے اپنے منہ کے قریب لائے گا تو سر کی کھال مع بالوں کے اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں۔
It was narrated from Abu Sa'eed that:The Prophet [SAW] said: "A'udhu billahi minal-kufri wad-dain. (I seek refuge with Allah from Kufr and debt.)" A man said: "Are you equating debt with Kufr?" He said: "Yes
محمد بن بشار نے أخبرنا کہا، عبد الله بن يزيد المقری نے حدثني کہا، حيوة نے دراج أبو السمح سے، دراج نے أبو الهيثم سے، أبو الهيثم نے ابو سعيد سے روایت کی۔ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: "أعوذ بالله من الكفر والدين"۔ ایک آدمی نے کہا: "کیا آپ الدين کو الكفر کے برابر سمجھتے ہیں؟" آپ نے فرمایا: "جی ہاں"۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Sa'eed narrated concerning His (Allah's) statement "And couches, elevated ..." (Al Wa'qiah 56:34) that the Prophet (s.a.w) said:"Their elevation is indeed like what is between the heavens and the earth, a distance of five-hundred years
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» ( الواقعۃ: ۳۴ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے: اس کا مفہوم یہ ہے کہ فرش جنت کے درجات میں ہوں گے، اور ان درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔
Abu Sa’eed narrated :from the Prophet regarding Allah’s saying: Like Al-Muhl – he said: “Like boiling oil, such that when it is brought close to one’s face the skin of his face will fall off into it.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يوم تكون السماء كالمهل» ”جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا“ ( المعارج: ۸ ) ، میں مہل کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے، جب کافر اسے اپنے منہ کے قریب لائے گا تو سر کی کھال مع بالوں کے اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں۔
It was narrated from Abu Sa'eed that:The Prophet [SAW] said: "A'udhu billahi minal-kufri wad-dain. (I seek refuge with Allah from Kufr and debt.)" A man said: "Are you equating debt with Kufr?" He said: "Yes
محمد بن بشار نے أخبرنا کہا، عبد الله بن يزيد المقری نے حدثني کہا، حيوة نے دراج أبو السمح سے، دراج نے أبو الهيثم سے، أبو الهيثم نے ابو سعيد سے روایت کی۔ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: "أعوذ بالله من الكفر والدين"۔ ایک آدمی نے کہا: "کیا آپ الدين کو الكفر کے برابر سمجھتے ہیں؟" آپ نے فرمایا: "جی ہاں"۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Sa'eed narrated concerning His (Allah's) statement "And couches, elevated ..." (Al Wa'qiah 56:34) that the Prophet (s.a.w) said:"Their elevation is indeed like what is between the heavens and the earth, a distance of five-hundred years
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» ( الواقعۃ: ۳۴ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے: اس کا مفہوم یہ ہے کہ فرش جنت کے درجات میں ہوں گے، اور ان درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔
Abu Sa’eed narrated :from the Prophet regarding Allah’s saying: Like Al-Muhl – he said: “Like boiling oil, such that when it is brought close to one’s face the skin of his face will fall off into it.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يوم تكون السماء كالمهل» ”جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا“ ( المعارج: ۸ ) ، میں مہل کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے، جب کافر اسے اپنے منہ کے قریب لائے گا تو سر کی کھال مع بالوں کے اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں۔
It was narrated from Abu Sa'eed that:The Prophet [SAW] said: "A'udhu billahi minal-kufri wad-dain. (I seek refuge with Allah from Kufr and debt.)" A man said: "Are you equating debt with Kufr?" He said: "Yes
محمد بن بشار نے أخبرنا کہا، عبد الله بن يزيد المقری نے حدثني کہا، حيوة نے دراج أبو السمح سے، دراج نے أبو الهيثم سے، أبو الهيثم نے ابو سعيد سے روایت کی۔ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: "أعوذ بالله من الكفر والدين"۔ ایک آدمی نے کہا: "کیا آپ الدين کو الكفر کے برابر سمجھتے ہیں؟" آپ نے فرمایا: "جی ہاں"۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Sa'eed narrated concerning His (Allah's) statement "And couches, elevated ..." (Al Wa'qiah 56:34) that the Prophet (s.a.w) said:"Their elevation is indeed like what is between the heavens and the earth, a distance of five-hundred years
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» ( الواقعۃ: ۳۴ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے: اس کا مفہوم یہ ہے کہ فرش جنت کے درجات میں ہوں گے، اور ان درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔
The agreed readingboiling in the very way that scalding water boils and seethes upon a hot fire below.
Urduیہ بالکل اسی طرح کھولے گا جیسے شدید گرم پانی آگ پر ابلتا اور جوش کھاتا ہے، اور یہ منظر جہنمیوں کے لیے ایک اور اذیت ہوگی۔
Arabicيغلي غليانَ الحميم الشديد الحرارة، وهو الماءُ الذي بلغ نهايةَ الحرارة والغليان الشديد على النار الملتهبة المستعرة، فلا يُطاق شربُه ولا حتى الاقتراب منه أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Sa’eed narrated :from the Prophet regarding Allah’s saying: Like Al-Muhl – he said: “Like boiling oil, such that when it is brought close to one’s face the skin of his face will fall off into it.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يوم تكون السماء كالمهل» ”جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا“ ( المعارج: ۸ ) ، میں مہل کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے، جب کافر اسے اپنے منہ کے قریب لائے گا تو سر کی کھال مع بالوں کے اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں۔
It was narrated from Abu Sa'eed that:The Prophet [SAW] said: "A'udhu billahi minal-kufri wad-dain. (I seek refuge with Allah from Kufr and debt.)" A man said: "Are you equating debt with Kufr?" He said: "Yes
محمد بن بشار نے أخبرنا کہا، عبد الله بن يزيد المقری نے حدثني کہا، حيوة نے دراج أبو السمح سے، دراج نے أبو الهيثم سے، أبو الهيثم نے ابو سعيد سے روایت کی۔ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: "أعوذ بالله من الكفر والدين"۔ ایک آدمی نے کہا: "کیا آپ الدين کو الكفر کے برابر سمجھتے ہیں؟" آپ نے فرمایا: "جی ہاں"۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Sa'eed narrated concerning His (Allah's) statement "And couches, elevated ..." (Al Wa'qiah 56:34) that the Prophet (s.a.w) said:"Their elevation is indeed like what is between the heavens and the earth, a distance of five-hundred years
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» ( الواقعۃ: ۳۴ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے: اس کا مفہوم یہ ہے کہ فرش جنت کے درجات میں ہوں گے، اور ان درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔
Pickthall(And it will be said): Take him and drag him to the midst of hell,
Yusuf Ali(A voice will cry: "Seize ye him and drag him into the midst of the Blazing Fire!
The agreed readingTake him and drag him roughly along into the very middle of the Blaze itself now,
Urduاسے پکڑ لو اور سختی کے ساتھ گھسیٹتے ہوئے جہنم کے بالکل درمیان میں لے جاؤ، یہ حکم زبانیہ فرشتوں کو دیا جائے گا تاکہ وہ اس مجرم کو نہ چھوڑیں۔
Arabicيُقال لملائكة العذاب الزبانية الغلاظ: خذوا هذا الأثيم الفاجر واجروه بعنفٍ وشدةٍ وقسوةٍ بالغةٍ إلى وسط الجحيم المحرق، لا رحمة له عندهم ولا تخفيف عنه أبدًا.
PickthallThen pour upon his head the torment of boiling water.
Yusuf Ali"Then pour over his head the Penalty of Boiling Water,
The agreed readingthen pour down over his head the punishment of the scalding water upon him there.
Urduپھر اس مجرم کے سر کے بالکل اوپر شدید گرم پانی کا سخت عذاب انڈیل دو، جو کبھی بھی اس سے جدا نہیں ہوگا اور اسے ہمیشہ مسلسل عذاب میں مبتلا رکھے گا۔
Arabicثم صبُّوا فوق رأس هذا الأثيم المجرم من عذاب الحميم الشديد الحرارة المؤلم، فلا يفارقه ذلك العذابُ الأليم لحظةً واحدةً، ويظلُّ يعاني منه أشدَّ المعاناة والألم.
Pickthall(Saying): Taste! Lo! thou wast forsooth the mighty, the noble!
Yusuf Ali"Taste thou (this)! Truly wast thou mighty, full of honour!
The agreed readingTaste it now - for you were the mighty one, the noble one, or so you used to claim.
Urduچکھ لے اس عذاب کو، بےشک تو تو بڑا زبردست اور بڑا معزز و بارعب تھا، یا کم از کم تو اپنے لوگوں کے سامنے یہی دعویٰ کیا کرتا تھا، اب اپنے اسی جھوٹے زعم کا نتیجہ چکھ لے۔
Arabicويُقال له تهكُّمًا وتوبيخًا: ذُق هذا العذاب الشديد الآن، إنك كنت تزعم أنك أنت العزيزُ في قومك، الكريمُ الجليلُ عليهم، فاليوم لا عزةَ ولا كرامةَ لك.
PickthallLo! this is that whereof ye used to doubt.
Yusuf Ali"Truly this is what ye used to doubt!"
The agreed readingThis is the very thing that you used to be in doubt about and to dispute over before.
Urduیہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تم پہلے شک میں پڑے رہتے تھے اور جس پر تم جھگڑتے اور بحث کرتے تھے، اب وہ خود تمہاری آنکھوں کے سامنے حقیقت بن کر آ چکی ہے۔
Arabicإن هذا العذاب الشديد الذي تذوقونه اليوم هو نفسُه الذي كنتم به تشكُّون وتمترون وتتجادلون فيه في دنياكم، ولا تصدِّقون بوقوعه أبدًا مهما قيل لكم.
PickthallLo! those who kept their duty will be in a place secured.
Yusuf AliAs to the Righteous (they will be) in a position of Security,
The agreed readingThose who guarded themselves are in a place of safety, secure there from all fear,
Urduبےشک جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا وہ ایک ایسے مقام پر ہوں گے جو نہایت پرامن ہوگا، وہاں انہیں ہر قسم کے خوف اور فکر سے مکمل امان حاصل ہوگی۔
Arabicإن المتقين الذين اجتنبوا معاصي الله وأدَّوا طاعاته في الدنيا سيكونون في مقامٍ آمنٍ مطمئنٍّ في الآخرة، لا يخافون فيه من عذابٍ ولا من زوال نعيمهم أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None amongst you can get. into Paradise by virtue of his deeds alone. They said: Allah's Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that Allah should wrap me in His Grace and Mercy
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے ۔)
Abu Sa'id reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Death would be brought on the Day of Resurrection. in the form of a white-coloured ram. Abu Kuraib made this addition: Then it would be made to stand between the Paradise and the Hell. So far as the rest of the hadith is concerned there is perfect agreement (between the two narrators) and it would be said to the inmates of Paradise: Do you recognise this? They would raise up their necks and look towards it and say: Yes, ' it is death. Then it would be said to the inmates of Hell-Fire.. Do you recognise this? And they would raise up their necks and look and say: Yes, it is death. Then command would be given for slaughtering that and then it …
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن موت کو اس طرح لایاجائے گا جیسے وہ سیاہ وسفید مینڈھا ہو ۔ ابو کریب نے مزید یہ کہا ۔ چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا ۔ باقی ماندہ حدیث ( کے الفاظ ) میں دونوں متفق ہیں ۔ تو ( اعلان کرنے والا پکار کر ) کہے گا : اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے : ہاں ۔ یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر کہا جائے گا : اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection Death will be brought forward in the shape of a black and white ram. Then a call maker will call, 'O people of Paradise!' Thereupon they will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' By then all of them will have seen it. Then it will be announced again, 'O people of Hell !' They will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' And by then all of them will have seen it. Then it (that ram) will be slaughtered and the caller will say, 'O people of Paradise! …
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، ہم سے اعمش نے، ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمام جنتی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے، آواز دینے والا فرشتہ پوچھے گا۔ تم اس مینڈھے کو بھی پہچانتے ہو؟ وہ بولیں گے کہ ہاں، یہ موت ہے اور ان سے ہر شخص اس کا ذائقہ چکھ چکا ہو گا۔ پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا اور آواز دینے والا جنتیوں سے کہے گا کہ اب تمہارے لیے ہمیشگی ہے، موت تم پر کبھی نہ آئے گی اور اے جہنم والو! تمہیں بھی ہمیشہ اسی طرح رہنا ہے، تم پر بھی موت کبھی نہیں آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ …
The agreed readingamong gardens, and among springs of flowing water that run along beside them there.
Urduباغات کے درمیان اور بہتے ہوئے پانی کے چشموں کے درمیان، جو ان کے پاس ہی بہتے رہیں گے، اور یہ سب کچھ ان کی راحت اور خوشی کے لیے مہیا کیا گیا ہوگا۔
Arabicفي جناتٍ خضراء وارفة الظلال كثيرة الأشجار والثمار، وعيونٍ من الماء جاريةٍ تجري بجانبهم في كل مكانٍ يشاءون، ينعمون بها راحةً واستمتاعًا دائمين لا ينقطع أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None amongst you can get. into Paradise by virtue of his deeds alone. They said: Allah's Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that Allah should wrap me in His Grace and Mercy
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے ۔)
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
Abu Sa'id reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Death would be brought on the Day of Resurrection. in the form of a white-coloured ram. Abu Kuraib made this addition: Then it would be made to stand between the Paradise and the Hell. So far as the rest of the hadith is concerned there is perfect agreement (between the two narrators) and it would be said to the inmates of Paradise: Do you recognise this? They would raise up their necks and look towards it and say: Yes, ' it is death. Then it would be said to the inmates of Hell-Fire.. Do you recognise this? And they would raise up their necks and look and say: Yes, it is death. Then command would be given for slaughtering that and then it …
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن موت کو اس طرح لایاجائے گا جیسے وہ سیاہ وسفید مینڈھا ہو ۔ ابو کریب نے مزید یہ کہا ۔ چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا ۔ باقی ماندہ حدیث ( کے الفاظ ) میں دونوں متفق ہیں ۔ تو ( اعلان کرنے والا پکار کر ) کہے گا : اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے : ہاں ۔ یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر کہا جائے گا : اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection Death will be brought forward in the shape of a black and white ram. Then a call maker will call, 'O people of Paradise!' Thereupon they will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' By then all of them will have seen it. Then it will be announced again, 'O people of Hell !' They will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' And by then all of them will have seen it. Then it (that ram) will be slaughtered and the caller will say, 'O people of Paradise! …
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، ہم سے اعمش نے، ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمام جنتی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے، آواز دینے والا فرشتہ پوچھے گا۔ تم اس مینڈھے کو بھی پہچانتے ہو؟ وہ بولیں گے کہ ہاں، یہ موت ہے اور ان سے ہر شخص اس کا ذائقہ چکھ چکا ہو گا۔ پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا اور آواز دینے والا جنتیوں سے کہے گا کہ اب تمہارے لیے ہمیشگی ہے، موت تم پر کبھی نہ آئے گی اور اے جہنم والو! تمہیں بھی ہمیشہ اسی طرح رہنا ہے، تم پر بھی موت کبھی نہیں آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ …
PickthallAttired in silk and silk embroidery, facing one another.
Yusuf AliDressed in fine silk and in rich brocade, they will face each other;
The agreed readingdressed in fine silk and in heavy silk, and seated there facing one another in it.
Urduوہ باریک اور موٹے دونوں طرح کے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے، اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے، کوئی کسی کی پیٹھ کی طرف نہیں دیکھے گا۔
Arabicيلبسون في تلك الجنة من السُّندس الرقيق والإستبرق الغليظ من الحرير الفاخر الثمين، جالسين متقابلين بعضهم إلى بعضٍ بمحبةٍ وودٍّ، لا ينظر أحدُهم إلى قفا صاحبه أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None amongst you can get. into Paradise by virtue of his deeds alone. They said: Allah's Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that Allah should wrap me in His Grace and Mercy
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے ۔)
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
Abu Sa'id reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Death would be brought on the Day of Resurrection. in the form of a white-coloured ram. Abu Kuraib made this addition: Then it would be made to stand between the Paradise and the Hell. So far as the rest of the hadith is concerned there is perfect agreement (between the two narrators) and it would be said to the inmates of Paradise: Do you recognise this? They would raise up their necks and look towards it and say: Yes, ' it is death. Then it would be said to the inmates of Hell-Fire.. Do you recognise this? And they would raise up their necks and look and say: Yes, it is death. Then command would be given for slaughtering that and then it …
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن موت کو اس طرح لایاجائے گا جیسے وہ سیاہ وسفید مینڈھا ہو ۔ ابو کریب نے مزید یہ کہا ۔ چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا ۔ باقی ماندہ حدیث ( کے الفاظ ) میں دونوں متفق ہیں ۔ تو ( اعلان کرنے والا پکار کر ) کہے گا : اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے : ہاں ۔ یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر کہا جائے گا : اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection Death will be brought forward in the shape of a black and white ram. Then a call maker will call, 'O people of Paradise!' Thereupon they will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' By then all of them will have seen it. Then it will be announced again, 'O people of Hell !' They will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' And by then all of them will have seen it. Then it (that ram) will be slaughtered and the caller will say, 'O people of Paradise! …
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، ہم سے اعمش نے، ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمام جنتی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے، آواز دینے والا فرشتہ پوچھے گا۔ تم اس مینڈھے کو بھی پہچانتے ہو؟ وہ بولیں گے کہ ہاں، یہ موت ہے اور ان سے ہر شخص اس کا ذائقہ چکھ چکا ہو گا۔ پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا اور آواز دینے والا جنتیوں سے کہے گا کہ اب تمہارے لیے ہمیشگی ہے، موت تم پر کبھی نہ آئے گی اور اے جہنم والو! تمہیں بھی ہمیشہ اسی طرح رہنا ہے، تم پر بھی موت کبھی نہیں آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ …
PickthallEven so (it will be). And We shall wed them unto fair ones with wide, lovely eyes.
Yusuf AliSo; and We shall join them to fair women with beautiful, big, and lustrous eyes.
The agreed readingSo it is; and God will pair them with companions of wide and lovely eyes in the Garden.
Urduایسا ہی ہوگا، اور اللہ انہیں جنت میں بڑی خوبصورت اور کشادہ آنکھوں والی حوروں کا جوڑا بنا کر دے گا، تاکہ ان کی خوشی اور نعمت مکمل ہو جائے۔
Arabicكذلك يكون الأمرُ كله لهم من الكرامة العظيمة الوافرة عند ربهم، وزوَّجناهم بحورٍ عينٍ، وهُنَّ نساءٌ حسانٌ واسعاتُ الأعين جميلاتُهن، إتمامًا لنعيمهم الكامل في الجنة.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None amongst you can get. into Paradise by virtue of his deeds alone. They said: Allah's Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that Allah should wrap me in His Grace and Mercy
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے ۔)
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
It has been narrated on the authority of Ibn Mas'ud who said:While the Messenger of Allah (ﷺ) was saying his prayer near the Ka'ba and Abu Jahl with his companions was sitting (near by), Abu Jahl said, referring to the she-camel that had been slaughtered the previous day: Who will rise to fetch the foetus of the she-camel of so and so, and place it between the shoulders of Muhammad when he goes down in prostration (a posture in prayer). The one most accursed among the people got up, brought the foetus and, when the Prophet (ﷺ) went down in prostration, placed it between his shoulders. Then they laughed at him and some of them leaned upon the others with laughter. And I stood looking. If I …
زکریا ( بن ابی زائدہ ) نے ابواسحاق سے ، انہوں نے عمرو بن میمون اودی سے ، انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے ، ابوجہل اور اس کے ساتھی بھی بیٹھے ہوئے تھے ، اور ایک دن پہلے ایک اونٹنی ذبح ہوئی تھی ۔ ابوجہل نے کہا : تم میں سے کون اٹھ کر بنی فلاں کے محلے سے اونٹنی کی بچے والی جھلی ( بچہ دانی ) لائے گا اور محمد سجدے میں جائیں تو اس کو ان کے کندھوں کے درمیان رکھ دے گا؟ قوم کا سب سے بدبخت شخص ( عقبہ بن ابی معیط ) اٹھا اور اس کو لے آیا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس نے وہ جھلی آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا ، پھر وہ آپس میں خوب ہنسے اور ایک دورے پر گرنے لگے ۔ میں کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا ، …
Abu Sa'id reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Death would be brought on the Day of Resurrection. in the form of a white-coloured ram. Abu Kuraib made this addition: Then it would be made to stand between the Paradise and the Hell. So far as the rest of the hadith is concerned there is perfect agreement (between the two narrators) and it would be said to the inmates of Paradise: Do you recognise this? They would raise up their necks and look towards it and say: Yes, ' it is death. Then it would be said to the inmates of Hell-Fire.. Do you recognise this? And they would raise up their necks and look and say: Yes, it is death. Then command would be given for slaughtering that and then it …
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن موت کو اس طرح لایاجائے گا جیسے وہ سیاہ وسفید مینڈھا ہو ۔ ابو کریب نے مزید یہ کہا ۔ چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا ۔ باقی ماندہ حدیث ( کے الفاظ ) میں دونوں متفق ہیں ۔ تو ( اعلان کرنے والا پکار کر ) کہے گا : اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے : ہاں ۔ یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر کہا جائے گا : اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection Death will be brought forward in the shape of a black and white ram. Then a call maker will call, 'O people of Paradise!' Thereupon they will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' By then all of them will have seen it. Then it will be announced again, 'O people of Hell !' They will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' And by then all of them will have seen it. Then it (that ram) will be slaughtered and the caller will say, 'O people of Paradise! …
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، ہم سے اعمش نے، ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمام جنتی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے، آواز دینے والا فرشتہ پوچھے گا۔ تم اس مینڈھے کو بھی پہچانتے ہو؟ وہ بولیں گے کہ ہاں، یہ موت ہے اور ان سے ہر شخص اس کا ذائقہ چکھ چکا ہو گا۔ پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا اور آواز دینے والا جنتیوں سے کہے گا کہ اب تمہارے لیے ہمیشگی ہے، موت تم پر کبھی نہ آئے گی اور اے جہنم والو! تمہیں بھی ہمیشہ اسی طرح رہنا ہے، تم پر بھی موت کبھی نہیں آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ …
PickthallThey call therein for every fruit in safety.
Yusuf AliThere can they call for every kind of fruit in peace and security;
The agreed readingThere they call for every kind of fruit that they wish for, and they are in safety.
Urduوہ وہاں ہر قسم کے پھل کی خواہش کریں گے اور طلب کریں گے، اور وہ ہر خوف سے مکمل امان میں ہوں گے، نہ کوئی نعمت ختم ہونے کا ڈر اور نہ کوئی نقصان کا اندیشہ۔
Arabicيدعون في الجنة بكل نوعٍ من أنواع الفاكهة اللذيذة يشتهونه، آمنين من انقطاعها أو نفادها، وآمنين من أي أذًى أو مكروهٍ قد يصيبهم منها أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None amongst you can get. into Paradise by virtue of his deeds alone. They said: Allah's Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that Allah should wrap me in His Grace and Mercy
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے ۔)
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
Abu Sa'id reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Death would be brought on the Day of Resurrection. in the form of a white-coloured ram. Abu Kuraib made this addition: Then it would be made to stand between the Paradise and the Hell. So far as the rest of the hadith is concerned there is perfect agreement (between the two narrators) and it would be said to the inmates of Paradise: Do you recognise this? They would raise up their necks and look towards it and say: Yes, ' it is death. Then it would be said to the inmates of Hell-Fire.. Do you recognise this? And they would raise up their necks and look and say: Yes, it is death. Then command would be given for slaughtering that and then it …
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن موت کو اس طرح لایاجائے گا جیسے وہ سیاہ وسفید مینڈھا ہو ۔ ابو کریب نے مزید یہ کہا ۔ چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا ۔ باقی ماندہ حدیث ( کے الفاظ ) میں دونوں متفق ہیں ۔ تو ( اعلان کرنے والا پکار کر ) کہے گا : اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے : ہاں ۔ یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر کہا جائے گا : اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection Death will be brought forward in the shape of a black and white ram. Then a call maker will call, 'O people of Paradise!' Thereupon they will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' By then all of them will have seen it. Then it will be announced again, 'O people of Hell !' They will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' And by then all of them will have seen it. Then it (that ram) will be slaughtered and the caller will say, 'O people of Paradise! …
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، ہم سے اعمش نے، ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمام جنتی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے، آواز دینے والا فرشتہ پوچھے گا۔ تم اس مینڈھے کو بھی پہچانتے ہو؟ وہ بولیں گے کہ ہاں، یہ موت ہے اور ان سے ہر شخص اس کا ذائقہ چکھ چکا ہو گا۔ پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا اور آواز دینے والا جنتیوں سے کہے گا کہ اب تمہارے لیے ہمیشگی ہے، موت تم پر کبھی نہ آئے گی اور اے جہنم والو! تمہیں بھی ہمیشہ اسی طرح رہنا ہے، تم پر بھی موت کبھی نہیں آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ …
PickthallThey taste not death therein, save the first death. And He hath saved them from the doom of hell,
Yusuf AliNor will they there taste Death, except the first death; and He will preserve them from the Penalty of the Blazing Fire,-
The agreed readingThey do not taste death there beyond the first death; and God has guarded them from the punishment of the Blaze -
Urduوہ وہاں پہلی موت کے سوا دوبارہ کبھی موت کا مزہ نہیں چکھیں گے، یعنی دنیا کی موت کے بعد وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے، اور اللہ نے انہیں بھڑکتی آگ کے عذاب سے بچا لیا ہوگا۔
Arabicلا يذوقون في الجنة الموتَ أبدًا إلا الموتةَ الأولى التي ذاقوها من قبلُ في الدنيا، فهم بعدها خالدون لا يموتون أبدًا، ووقاهم اللهُ سبحانه عذابَ الجحيم برحمته الواسعة.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Sa'id reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Death would be brought on the Day of Resurrection. in the form of a white-coloured ram. Abu Kuraib made this addition: Then it would be made to stand between the Paradise and the Hell. So far as the rest of the hadith is concerned there is perfect agreement (between the two narrators) and it would be said to the inmates of Paradise: Do you recognise this? They would raise up their necks and look towards it and say: Yes, ' it is death. Then it would be said to the inmates of Hell-Fire.. Do you recognise this? And they would raise up their necks and look and say: Yes, it is death. Then command would be given for slaughtering that and then it …
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن موت کو اس طرح لایاجائے گا جیسے وہ سیاہ وسفید مینڈھا ہو ۔ ابو کریب نے مزید یہ کہا ۔ چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا ۔ باقی ماندہ حدیث ( کے الفاظ ) میں دونوں متفق ہیں ۔ تو ( اعلان کرنے والا پکار کر ) کہے گا : اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے : ہاں ۔ یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر کہا جائے گا : اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection Death will be brought forward in the shape of a black and white ram. Then a call maker will call, 'O people of Paradise!' Thereupon they will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' By then all of them will have seen it. Then it will be announced again, 'O people of Hell !' They will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' And by then all of them will have seen it. Then it (that ram) will be slaughtered and the caller will say, 'O people of Paradise! …
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، ہم سے اعمش نے، ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمام جنتی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے، آواز دینے والا فرشتہ پوچھے گا۔ تم اس مینڈھے کو بھی پہچانتے ہو؟ وہ بولیں گے کہ ہاں، یہ موت ہے اور ان سے ہر شخص اس کا ذائقہ چکھ چکا ہو گا۔ پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا اور آواز دینے والا جنتیوں سے کہے گا کہ اب تمہارے لیے ہمیشگی ہے، موت تم پر کبھی نہ آئے گی اور اے جہنم والو! تمہیں بھی ہمیشہ اسی طرح رہنا ہے، تم پر بھی موت کبھی نہیں آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ …
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None amongst you can get. into Paradise by virtue of his deeds alone. They said: Allah's Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that Allah should wrap me in His Grace and Mercy
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے ۔)
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
PickthallA bounty from thy Lord. That is the supreme triumph.
Yusuf AliAs a Bounty from thy Lord! that will be the supreme achievement!
The agreed readinga bounty from your Lord to them. That, and nothing less, is the supreme triumph.
Urduیہ سب کچھ تمہارے رب کی طرف سے ان پر ایک فضل اور احسان ہوگا، اور یہی، اس سے کم کچھ نہیں، وہ سب سے بڑی اور حقیقی کامیابی ہے جو کوئی حاصل کر سکتا ہے۔
Arabicهذا كله فضلٌ عظيمٌ وإحسانٌ من ربك الكريم عليهم، لم يستحقوه بأعمالهم وحدها بل برحمته وتفضُّله الواسع، وذلك هو الفوزُ العظيمُ الذي لا فوزَ أعظمُ منه.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None amongst you can get. into Paradise by virtue of his deeds alone. They said: Allah's Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that Allah should wrap me in His Grace and Mercy
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے ۔)
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
Abu Sa'id reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Death would be brought on the Day of Resurrection. in the form of a white-coloured ram. Abu Kuraib made this addition: Then it would be made to stand between the Paradise and the Hell. So far as the rest of the hadith is concerned there is perfect agreement (between the two narrators) and it would be said to the inmates of Paradise: Do you recognise this? They would raise up their necks and look towards it and say: Yes, ' it is death. Then it would be said to the inmates of Hell-Fire.. Do you recognise this? And they would raise up their necks and look and say: Yes, it is death. Then command would be given for slaughtering that and then it …
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن موت کو اس طرح لایاجائے گا جیسے وہ سیاہ وسفید مینڈھا ہو ۔ ابو کریب نے مزید یہ کہا ۔ چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا ۔ باقی ماندہ حدیث ( کے الفاظ ) میں دونوں متفق ہیں ۔ تو ( اعلان کرنے والا پکار کر ) کہے گا : اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے : ہاں ۔ یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر کہا جائے گا : اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection Death will be brought forward in the shape of a black and white ram. Then a call maker will call, 'O people of Paradise!' Thereupon they will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' By then all of them will have seen it. Then it will be announced again, 'O people of Hell !' They will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' And by then all of them will have seen it. Then it (that ram) will be slaughtered and the caller will say, 'O people of Paradise! …
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، ہم سے اعمش نے، ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمام جنتی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے، آواز دینے والا فرشتہ پوچھے گا۔ تم اس مینڈھے کو بھی پہچانتے ہو؟ وہ بولیں گے کہ ہاں، یہ موت ہے اور ان سے ہر شخص اس کا ذائقہ چکھ چکا ہو گا۔ پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا اور آواز دینے والا جنتیوں سے کہے گا کہ اب تمہارے لیے ہمیشگی ہے، موت تم پر کبھی نہ آئے گی اور اے جہنم والو! تمہیں بھی ہمیشہ اسی طرح رہنا ہے، تم پر بھی موت کبھی نہیں آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ …
PickthallAnd We have made (this Scripture) easy in thy language only that they may heed.
Yusuf AliVerily, We have made this (Qur'an) easy, in thy tongue, in order that they may give heed.
The agreed readingGod has made this Qur'an easy upon your tongue, so that they may take heed of it.
Urduاللہ نے اس قرآن کو تمہاری اپنی زبان پر بہت آسان اور سہل بنا دیا ہے، تاکہ لوگ اس سے بآسانی نصیحت حاصل کریں اور اسے سمجھ کر اس پر پوری طرح عمل کر سکیں۔
Arabicفإنما يسَّرنا لك هذا القرآنَ العظيمَ الكريمَ وسهَّلناه غايةَ التسهيل واليُسر بلسانك العربيّ الفصيح المبين يا محمد، لتفهمه أنت وقومُك بسهولةٍ ويُسرٍ، لعلَّهم يتذكَّرون فيؤمنون.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 4 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة5 reports cited here — 4 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
8. The narrator has said that a man said to abu Ja‘far (a.s.), “O child of the Messenger of Allah, “Please do not be angry with m.” The Imam (a.s.) said, “Why should I be angry?” The man said, “It is because of the question that like to ask you.” The Imam (a.s.) said, “Ask your question.” He said, “Please do not be angry.” The Imam (a.s.) said, “I will not be angry.” The man said, “Consider your words about the ‘Night of Determination’ in which the Spirit and the angels descent to the executors of the will (of Prophet). Do they bring them the command of which the Messenger of Allah had no knowledge or bring them the commands that the Messenger of Allah knew? As you know that the Messenger …
ایک شخص نے ابو جعفر علیہ السلام سے کہا: اے رسول اللہ کے بیٹے، مجھ سے ناراض نہ ہوں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: میں کیوں ناراض ہوں؟ اس نے کہا: اس لیے کہ میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: پوچھو۔ اس نے کہا: لیکن آپ ناراض نہ ہوں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: میں ناراض نہیں ہوں۔ اس نے پوچھا: آپ کو لیلۃ القدر کے بارے میں جو کہا ہے اور فرشتوں اور روح کے اترنے کے بارے میں، جو اوصیاء کے پاس آتے ہیں، کہہ سکتے ہیں: کیا وہ انہیں کوئی ایسا حکم لاتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نہیں جانتے تھے؟ یا وہ کوئی ایسا حکم لاتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ جانتے تھے؟ اور میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا انتقال ہو گیا تھا اور ان کے علم کی کوئی چیز ایسی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated that:Allah's Messenger (S) said: "Whoever prays six Rak'ah after Al-Maghrib, and he does not speak about anything between them, then they will be counted for him as twelve years of worship
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم» کی سند سے جانتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None amongst you can get. into Paradise by virtue of his deeds alone. They said: Allah's Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that Allah should wrap me in His Grace and Mercy
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے ۔)
Abu Sa'id reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Death would be brought on the Day of Resurrection. in the form of a white-coloured ram. Abu Kuraib made this addition: Then it would be made to stand between the Paradise and the Hell. So far as the rest of the hadith is concerned there is perfect agreement (between the two narrators) and it would be said to the inmates of Paradise: Do you recognise this? They would raise up their necks and look towards it and say: Yes, ' it is death. Then it would be said to the inmates of Hell-Fire.. Do you recognise this? And they would raise up their necks and look and say: Yes, it is death. Then command would be given for slaughtering that and then it …
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن موت کو اس طرح لایاجائے گا جیسے وہ سیاہ وسفید مینڈھا ہو ۔ ابو کریب نے مزید یہ کہا ۔ چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا ۔ باقی ماندہ حدیث ( کے الفاظ ) میں دونوں متفق ہیں ۔ تو ( اعلان کرنے والا پکار کر ) کہے گا : اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے : ہاں ۔ یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر کہا جائے گا : اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، …
PickthallWait then (O Muhammad). Lo! they (too) are waiting.
Yusuf AliSo wait thou and watch; for they (too) are waiting.
The agreed readingSo watch and wait for it; and they too are watching and waiting for their own end.
Urduپس تم انتظار کرو اور دیکھتے رہو، اور یقیناً وہ بھی اپنے انجام کا انتظار کر رہے ہیں، تو دیکھو کہ آخرکار کس کی جیت اور کس کی ہار ہوتی ہے۔
Arabicفانتظر يا محمد صابرًا ما وعدك اللهُ به من النصر عليهم في الدنيا والآخرة، إنهم أيضًا منتظرون هلاكك أو زوال دعوتك، وسيعلمون قريبًا لمن تكون العاقبةُ والغلبةُ النهائية.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites Ha Mim Ad-Dukhan during the night, in the morning seventy thousand angels seek forgiveness for him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"There were kings after 'Isa bin Mariam who altered the Tawrah and the Injil, but there were among them believers who read the Tawrah. It was said to their kings: 'We have never heard of any slander worse than that of those (believers) who slander us and recite: "And whosoever does not judge by what Allah has revealed, such are the disbelievers." In these Verses, they are criticizing us for our deeds when they recite them.' So he called them together and gave them the choice between being put to death, or giving up reading the Tawrah and Injil, except for what had been altered. They said: 'Why do you want us to change? Leave us alone.' Some of them said: …
الحسين بن حریث نے ہمیں خبر دی، انہوں نے الفضل بن موسیٰ سے کہا، انہوں نے سفیان بن سعید سے، انہوں نے عطاء بن السائب سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، ابن عباس سے کہا: عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے بعد بادشاہ تھے جنہوں نے تورات اور انجیل میں تبدیلیاں کیں۔ لیکن ان میں سے کچھ مومن تھے جو تورات پڑھتے تھے۔ ان کے بادشاہوں سے کہا گیا: ہم نے ان سے بدتر کوئی گالی نہیں سنی جو ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور یہ آیت پڑھتے ہیں: اور جو اللہ کے نازل کردہ سے حکم نہ دے تو وہ کافروں میں سے ہیں۔ یہ آیات ہیں اور ہمارے اعمال پر نکیر ہے۔ تو انہوں نے انہیں جمع کیا اور انہیں موت یا تورات اور انجیل پڑھنا چھوڑ دینے کے علاوہ جو انہوں نے تبدیل کیا ہے اس کا انتخاب دیا۔ انہوں نے کہا: تم ہمسے کیا چاہتے ہو؟ ہمیں تنہا چھوڑ دو۔ ان میں …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that ‘Aishah said:“If the Messenger of Allah (ﷺ) saw a cloud that looked as if it was bringing rain, the color of his face would change, and he would go in and out and walk to and fro. Then, if it rained, he would feel relieved.” ‘Aishah mentioned to him what she had seen him do, and he said: “How do you know? Perhaps it would be as the people of Hud said: ‘Then, when they saw it as a dense cloud coming towards their valleys, they said: “This is a cloud bringing us rain!” Nay, but it is that (torment) which you were asking to be hastened.” [46:]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل کو دیکھتے تو ( تردد و پریشانی کی وجہ سے ) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہہوں نے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ تجھے کیا معلوم؟ ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا: «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به» تو جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسائے گا، ( نہیں اس میں پانی نہیں تھا ) بلکہ وہ …
Abu Hurairah narrated that:Allah's Messenger (S) said: "Whoever prays six Rak'ah after Al-Maghrib, and he does not speak about anything between them, then they will be counted for him as twelve years of worship
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم» کی سند سے جانتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None amongst you can get. into Paradise by virtue of his deeds alone. They said: Allah's Messenger, not even you? Thereupon he said: Not even I, but that Allah should wrap me in His Grace and Mercy
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے ۔)