Surah 64 of 114 · Madani · 18 ayat

At-Taghabun التغابن

The Mutual Disillusion

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
64:1#
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ لَهُ ٱلْمُلْكُ وَلَهُ ٱلْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

PickthallAll that is in the heavens and all that is in the earth glorifieth Allah; unto Him belongeth Sovereignty and unto Him belongeth praise, and He is Able to do all things.

Yusuf AliWhatever is in the heavens and on earth, doth declare the Praises and Glory of Allah: to Him belongs dominion, and to Him belongs praise: and He has power over all things.

The agreed readingEverything in the heavens and the earth declares God free of every imperfection, the word again taking in the whole of creation and not only those able to speak. To Him belongs the dominion and to Him belongs the praise, and He has power over everything.
Urduآسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے، بادشاہی اسی کی ہے اور تعریف اسی کے لیے ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ قرطبی لکھتے ہیں کہ سورۃ التغابن اکثر مفسرین کے نزدیک مدنی ہے، ضحاک کے نزدیک مکی، اور کلبی کے نزدیک کچھ مکی اور کچھ مدنی، اور اس کی اٹھارہ آیات ہیں۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ آیات اللہ کی عظیم اور وسیع صفات کے بیان پر مشتمل ہیں، جن میں اس کی الوہیت کا کمال، اس کی بےنیازی کی وسعت، تمام مخلوقات کا اس کا محتاج ہونا، اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اس کی تسبیح شامل ہے۔ تفسیر مقباس کے مطابق چونکہ اس سورت کا زیادہ تر حصہ مشرکین کے شرک کو باطل قرار دینے اور انہیں شرک کے دین اور اس کی شاخوں سے روکنے پر مشتمل ہے۔
Arabicيسبح لله ما في السماوات وما في الأرض له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير. ذكر القرطبي أن سورة التغابن مدنية في قول الأكثرين، وقال الضحاك مكية، وقال الكلبي هي مكية ومدنية، وهي ثماني عشرة آية. وذكر السعدي أن هذه الآيات الكريمات مشتملات على جملة كثيرة واسعة من أوصاف الباري العظيمة، فذكر كمال ألوهيته سبحانه، وسعة غناه، وافتقار جميع الخلائق إليه، وتسبيح من في السماوات والأرض. وفي تفسير مقباس أنه لما كان جل ما اشتملت عليه هذه السورة إبطال إشراك المشركين وزجرهم عن دين الإشراك بأسره وعن تفاريعه.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 2 من كتب أهل السنة، 5 من كتب الشيعة7 reports cited here — 2 Sunnī, 5 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 5 شیعہ کتب سے

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 6, no. 1709

درجته: al-Majlisi: مرسل

grading: al-Majlisi: مرسل

درجہ: al-Majlisi: مرسل

بعض أصحابنا مرسلا قال: إن أول ما نزل في تحريم الخمر قول الله عز وجل " يسئلونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس وإثمهما أكبر من نفعهما " فلما نزلت هذه الآية أحس القوم بتحريمها وتحريم الميسر وعلموا أن الاثم مما ينبغي اجتنابه ولا يحمل الله عز وجل عليهم من كل طريق لأنه قال: ومنافع للناس ثم أنزل الله عز وجل آية أخرى " إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون (1) " فكانت هذه الآية أشد من الأولى وأغلظ في التحريم ثم ثلث بآية أخرى فكانت أغلظ من الآية الأولى والثانية وأشد فقال عز وجل: " إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العدواة والبغضاء في الخمر والميسر ويصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة فهل أنتم منتهون (2) " فأمر عز وجل باجتنابها وفسر عللها التي لها ومن …
2. Certain persons of our people have, in mursal manner, narrated the following: “He (the Imam) (a.s.), has said, ‘The first thing about the unlawfulness of wine is in the words of Allah, most Majestic, most Glorious, “They ask you about wine and gambling. Say, ‘There is great sin in them and benefits for people but the sin in them is greater than their benefits.’” (2:219) When this verse was revealed people sensed the prohibition on it and prohibition on gambling. They learned that one must stay away from sins and that Allah, most Majestic, most Glorious, does not impose on them both ways because of His saying, “and benefits for people”. Thereafter Allah, most Majestic, most Glorious, sent …
ہماری بعض اصحاب نے مرسل انداز میں روایت کی ہے کہ: خمر کی تحریم میں سب سے پہلے جو نازل ہوا وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: 'وہ تم سے خمر اور میسر کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، کہو ان میں بڑی خرابی ہے اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں، مگر ان کی خرابی ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔' جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں کو خمر اور میسر کی تحریم کا احساس ہوا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ گناہ سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طریقے سے دبایا نہیں کیونکہ اس نے فرمایا: 'اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں۔' اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت نازل کی: 'خمر اور میسر اور بت اور فال کے تیر یہ سب شیطان کے گندے کام ہیں، پس ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔' یہ آیت پہلی سے سخت تر ہے اور تحریم میں زیادہ مضبوط ہے۔ …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يُسَبِّحُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Kitāb al-Ghayba (al-Nuʿmānī), no. 111

11 - حدثنا محمد بن يعقوب قال: حدثنا عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن الحسين بن سعيد، عن أبي وهب، عن محمد بن منصور قال: سألت عبداً صالحاً سلام الله عليه عن قول الله: قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (قال) فقال: إنّ القرآن له ظاهرٌ وباطن، فجميعُ ما حرّم الله في القرآن فهو حرام على ظاهره كما هو في الظاهر، والباطن من ذلك أئمّة الجور. وجميع ما أحل الله تعالى في الكتاب فهو حلال وهو الظاهر، والباطن من ذلك أئمة الحق.
(11) Muhammad bin Ya’qoob narrated from some of his companions from Ahmad bin Muhammad from al-Husayn bin Sa’eed from Abu Wahab that Muhammad bin Mansoor had said: “I have asked a virtuous slave (of Allah), peace be upon him, about the saying of Allah, “My Lord has only prohibited indecencies, those of them that are apparent as well as those that are concealed,” and he said: “The Qur’an has apparent meanings and hidden meanings. All of those that Allah has prohibited in the Qur’an are impermissible as they have been mentioned apparently whereas the hidden thing in that is the imams of injustice and all of those that Allah has permitted are permissible as they are apparent whereas the hidden …
محمد بن یعقوب نے ہمیں حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: ہمیں ہماری جماعت کے لوگوں نے خبر دی احمد بن محمد سے، الحسین بن سعید سے، ابو وہب سے، محمد بن منصور سے جو کہتے ہیں: میں نے ایک برکت والے شخص سے سوال کیا - اللہ کی رحمت ان پر - اللہ کے اس قول کے متعلق: "کہہ میرے پروردگار نے تو صرف بے حیائی کے کام حرام کیے ہیں، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں، اور گناہ اور حق کے خلاف سرکشی، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ شریک کیا جائے وہ چیزیں جن کے لیے اس نے کوئی سلطان نہیں نازل کیا، اور یہ کہ اللہ کے بارے میں وہ باتیں کی جائیں جو تم نہیں جانتے" - کہا - تو انہوں نے کہا: بیشک قرآن کا ظاہری معنی ہے اور بھی ایک معنی ہے جو پوشیدہ ہے۔ جتنا کچھ اللہ نے قرآن میں حرام کیا ہے وہ سب اپنے ظاہری معنی میں حرام ہے جیسا کہ …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يُسَبِّحُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 3, no. 1517

4732 - وَ فِي رِوَايَةِ اَلْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رِئَابٍ عَنِ اَلْحَلَبِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: "إِنَّ اَللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى كَفَّلَ إِبْرَاهِيمَ وَ سَارَةَ أَطْفَالَ اَلْمُؤْمِنِينَ يَغْذُوَانِهِمْ بِشَجَرَةٍ فِي اَلْجَنَّةِ لَهَا أَخْلاَفٌ كَأَخْلاَفِ اَلْبَقَرِ فِي قَصْرٍ مِنْ دُرَّةٍ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ اَلْقِيَامَةِ أُلْبِسُوا وَ طُيِّبُوا وَ أُهْدُوا إِلَى آبَائِهِمْ فَهُمْ مُلُوكٌ فِي اَلْجَنَّةِ مَعَ آبَائِهِمْ وَ هُوَ قَوْلُ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ: ۝ اَلَّذِينَ آمَنُوا وَ اِتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمٰانٍ أَلْحَقْنٰا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ ۝
Hadith.4732 - In the narration of Al-Hasan ibn Mahbub from Ali ibn Ri'ab from Al-Halabi, from Abu Abdullah (as), he said: "Indeed, Allah (swt), the Blessed and Exalted, has entrusted Ibrahim (as) and Sarah {s.a} with the care of the children of the believers. They nourish them from a tree in Paradise that has teats like those of cows, inside a palace made of pearl. On the Day of Judgment, these children will be dressed, perfumed, and presented to their parents. They will be kings in Paradise along with their parents. This is in accordance with the saying of Allah (swt), the Mighty and Majestic: 'And those who believe and whose descendants follow them in faith - We will join them with their …
الحسن بن محبوب کی روایت میں علی بن ریاب سے، الحلبی سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے کہا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابراہیم اور سارہ کو مؤمنین کے بچوں کی کفالت کا ذمہ دار بنایا۔ وہ انہیں جنت کے ایک درخت سے پالتے ہیں جس کی تہیں گائے کی تہوں جیسی ہیں، ایک موتی کے محل میں۔ جب قیامت کا دن ہو تو انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے، خوشبو لگائی جائے گی، اور انہیں اپنے باپ دادا کے پاس پیش کیا جائے گا۔ تو وہ جنت میں اپنے باپ دادا کے ساتھ بادشاہ ہوں گے۔ یہ اللہ عز و جل کے قول کے مطابق ہے: جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان پر چلی تو ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو ملا دیں گے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يُسَبِّحُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3317

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلاَدِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ‏)‏ قَالَ هَؤُلاَءِ رِجَالٌ أَسْلَمُوا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَرَادُوا أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَزْوَاجُهُمْ وَأَوْلاَدُهُمْ أَنْ يَدَعُوهُمْ أَنْ يَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَوُا النَّاسَ قَدْ فَقِهُوا فِي الدِّينِ هَمُّوا أَنْ يُعَاقِبُوهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَل َّ‏:‏ ‏(‏ يا …
Ikrimah narrated that :Ibn Abbas was asked by a man about this Ayah: O you who believe! Verity, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them! He said: “These are men who submitted (to Islam) in Makkah, and they wanted to come to the Prophet but their wives and children refused to allow them to come to the Messenger of Allah. So when they came to the Messenger of Allah, they saw that the people had gained such understanding in the religion that they wanted to punish them (their families). So Allah revealed the Ayah: O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them!”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يُسَبِّحُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2134

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ مُوسَى يَا آدَمُ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ آدَمُ وَأَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلاَمِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى عَمَلٍ عَمِلْتُهُ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ قَالَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَجُنْدَبٍ ‏.‏ وَهَذَا …
Abu Hurairah narrated that the Prophet(S.A.W) said:"Adam and Musa argued, Musa said: "O Adam! You are the one that Allah created with His Hand, and blew into you of His Spirit, and you misled the people and caused them to be expelled from Paradise.' So Adam said: 'You are Musa, the one Allah selected with His Speech! Are you blaming me for something I did which Allah had decreed for me, before creating the heavens and the earth?'" He said: " So Adam confuted Musa
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم اور موسیٰ نے باہم مناظرہ کیا، موسیٰ نے کہا: آدم! آپ وہی تو ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی ۱؎ پھر آپ نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے نکالا؟ آدم نے اس کے جواب میں کہا: آپ وہی موسیٰ ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے گفتگو کرنے کے لیے منتخب کیا، کیا آپ میرے ایسے کام پر مجھے ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پہلے میرے اوپر لازم کر دیا تھا؟، آدم موسیٰ سے دلیل میں جیت گئے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند سے یعنی سلیمان تیمی کی روایت سے جسے وہ اعمش سے روایت کرتے ہیں، ۳- اعمش کے بعض شاگردوں نے «عن الأعمش عن أبي …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يُسَبِّحُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 4, no. 236

5205 - وَ رَوَى اِبْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رِئَابٍ عَنْ عَبْدِ اَللَّهِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : فِي رَجُلٍ دَفَعَ رَجُلاً عَلَى رَجُلٍ فَقَتَلَهُ فَقَالَ "اَلدِّيَةُ عَلَى اَلَّذِي وَقَعَ عَلَى اَلرَّجُلِ فَقَتَلَهُ لِأَوْلِيَاءِ اَلْمَقْتُولِ" قَالَ "وَ يَرْجِعُ اَلْمَدْفُوعُ بِالدِّيَةِ عَلَى اَلَّذِي دَفَعَهُ" قَالَ "وَ إِنْ أَصَابَ اَلْمَدْفُوعَ شَيْءٌ فَهُوَ عَلَى اَلدَّافِعِ أَيْضاً".
Hadith.5205 - Ibn Mahbub narrated from Ali ibn Ri'ab from Abdullah ibn Sinan from Abu Abdullah (as) regarding a man who pushed another man onto someone else, causing that person's death. Imam (as) said: "The blood money (diyyah) is upon the one who fell onto the man and killed him, and it must be paid to the heirs of the murdered person." Imam (as) further said: "Then the one who was pushed may seek the diyyah from the one who pushed him." Imam (as) also said: "And if the one who was pushed suffers any harm, the responsibility falls upon the one who pushed him as well."
ابن محبوب سے علي بن رئاب سے عبد اللہ بن سنان سے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے: رجل جو رجل کو رجل کے اوپر دھکا دیتا ہے تو وہ مار دیتا ہے۔ فرمایا: دیہ اس پر ہے جو رجل کے اوپر گرا اور وہ قتل ہوا، مقتول کے ولیوں کے لیے۔ اور جو دھکا دیا گیا وہ دیہ کے ساتھ واپس لوٹائے گا جس نے اسے دھکیا۔ اور اگر مدفوع کو کچھ نقصان ہو تو وہ بھی دافع پر ہے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يُسَبِّحُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 3, no. 1096

4309 - وَ رَوَى طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : فِي اِمْرَأَةٍ حُبْلَى شَرِبَتْ دَوَاءً فَأَسْقَطَتْ قَالَ "تُكَفِّرُ عَنْهُ".
Hadith.4309 - Talhah ibn Zayd narrated from Imam Jafar ibn Muhammad Al-Sadiq (as) from his father, Imam Muhammad ibn Ali Al-Baqir (as), regarding a pregnant woman who drank medicine and caused a miscarriage. Imam (as) said: "She must offer expiation for it."
طلحة بن زيد نے جعفر بن محمد سے روایت کی، ان کے والد (علیہ السلام) سے: ایک حاملہ عورت کے بارے میں جس نے دوائی پی اور اپنا بچہ ضائع کر دیا۔ انہوں نے فرمایا: "وہ اس کا كفاره دے"۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يُسَبِّحُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:2#
هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

PickthallHe it is Who created you, but one of you is a disbeliever and one of you is a believer, and Allah is Seer of what ye do.

Yusuf AliIt is He Who has created you; and of you are some that are Unbelievers, and some that are Believers: and Allah sees well all that ye do.

The agreed readingHe is the One who created you, and then some of you refuse and some believe. The commentaries take note of the order in the wording: the creating comes first and the parting into two comes after it, so what divides people is not the way they were made. And God sees what you do.
Urduوہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔ قرطبی حضرت ابن عباس کا قول نقل کرتے ہیں کہ اللہ نے بنی آدم کو مومن اور کافر پیدا کیا، اور قیامت کے دن انہیں مومن اور کافر ہی لوٹائے گا۔ اور ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک شام ہمیں خطبہ دیا اور کچھ ایسی باتیں ذکر کیں۔ تفسیر مقباس اس آیت کو پچھلی آیت یسبح للہ ما فی السموات وما فی الارض کی تائید اور اس کے مقصد کی طرف انتقال قرار دیتی ہے، اس بات کی صراحت کے طور پر کہ جس نے پیدا کیا وہی ہے۔
Arabicهو الذي خلقكم فمنكم كافر ومنكم مؤمن والله بما تعملون بصير. ذكر القرطبي عن ابن عباس أن الله خلق بني آدم مؤمنا وكافرا، ويعيدهم في يوم القيامة مؤمنا وكافرا، وروى أبو سعيد الخدري قال خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم عشية فذكر شيئا. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية تقرير لما أفاده قوله يسبح لله ما في السماوات وما في الأرض، وتخلص للمقصود منه على وجه التصريح بأن الذي خلق.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 4 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة5 reports cited here — 4 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 2, no. 1436

درجته: al-Majlisi: مرسل

grading: al-Majlisi: مرسل

درجہ: al-Majlisi: مرسل

2ـ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ يُونُسَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (عَلَيهِ السَّلام) قَالَ قُلْتُ لَهُ فَمَا تَقُولُ فِي مُنَاكَحَةِ النَّاسِ فَإِنِّي قَدْ بَلَغْتُ مَا تَرَاهُ وَمَا تَزَوَّجْتُ قَطُّ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُكَ مِنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ مَا يَمْنَعُنِي إِلا أَنَّنِي أَخْشَى أَنْ لا تَحِلَّ لِي مُنَاكَحَتُهُمْ فَمَا تَأْمُرُنِي فَقَالَ فَكَيْفَ تَصْنَعُ وَأَنْتَ شَابٌّ أَ تَصْبِرُ قُلْتُ أَتَّخِذُ الْجَوَارِيَ قَالَ فَهَاتِ الآنَ فَبِمَا تَسْتَحِلُّ الْجَوَارِيَ قُلْتُ إِنَّ الأمَةَ لَيْسَتْ بِمَنْزِلَةِ الْحُرَّةِ إِنْ رَابَتْنِي بِشَيْ‏ءٍ بِعْتُهَا وَاعْتَزَلْتُهَا قَالَ فَحَدِّثْنِي بِمَا اسْتَحْلَلْتَهَا قَالَ فَلَمْ يَكُنْ …
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from Muhammad ibn ‘Isa from Yunus from a man from Zurara who has said the following: “Once I asked abu Ja’far (a.s.) ‘What do you say about marriage of the people. I have reached this age as you can see and I am not married yet.’ The Imam asked, ‘What prevents you from becoming married?’ I said, ‘What prevents me is fear that it may not be lawful to marry from them. What is your instruction?’ The Imam asked, ‘How can you live and you are young, can you exercise patience?’ I said, ‘I can buy slaves.’ The Imam asked, ‘Here you are, how, can slaves be lawful?’ I said, ‘A slave is not like a free person. If something may make me suspicious I can sell her and stay …
علی بن ابراہیم نے محمد بن عیسیٰ سے روایت کی اور محمد بن عیسیٰ نے یونس سے روایت کی اور یونس نے ایک شخص سے روایت کی اور اس نے زرارہ بن أعین سے روایت کی۔ زرارہ بن أعین کہتے ہیں: میں ابو جعفر محمد بن علی الباقر علیہ السلام کے سامنے حاضر تھا اور میں نے ان سے درخواست کی اور کہا: ابا جعفر! آپ کا نظریہ اور رائے کیا ہے لوگوں سے نکاح کے معاملے میں؟ کیونکہ میں تو اس عمر کو پہنچ گیا ہوں جیسا آپ دیکھ رہے ہیں اور میں نے ہنوز تک کسی عورت سے نکاح نہیں کیا۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں اس سے کیا روک رہا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ تم نکاح نہیں کر رہے؟ میں نے جواب دیا اور کہا: جو چیز مجھے روک رہی ہے وہ یہ ہے کہ میں خوف میں ہوں اور ڈرتا ہوں کہ ان لوگوں سے میرا نکاح ممکن ہے کہ مجھے حلال نہ ہو۔ تو براہ کرم آپ …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هُوَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 76

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ ‏ "‏ يُجْمَعُ خَلْقُ أَحَدِكُمْ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِ الْمَلَكَ فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَيَقُولُ اكْتُبْ عَمَلَهُ وَأَجَلَهُ وَرِزْقَهُ وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ‏.‏ فَوَالَّذِي نَفْسِي …
Abdullah bin Mas'ud said:"The Messenger of Allah (ﷺ), the true and truly inspired one, told us that: 'The creation of one of you is put together in his mother's womb for forty days, then it becomes a clot for a similar length of time, then it becomes a chewed lump of flesh for a similar length of time. Then Allah sends the angel to him and commands him to write down four things. He says: "Write down his deeds, his life span, his provision, and whether he is doomed (destined for Hell) or blessed (destined for Paradise)." By the One in Whose Hand is my soul! One of you may do the deeds of the people of Paradise until there is no more than a forearm's length between him and it, then the decree …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق و مصدوق ( یعنی جو خود سچے ہیں اور سچے مانے گئے ہیں ) نے بیان کیا کہ پیدائش اس طرح ہے کہ تم میں سے ہر ایک کا نطفہ خلقت ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے، پھر وہ چالیس دن تک جما ہوا خون رہتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار باتوں کا حکم دے کر ایک فرشتہ بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس فرشتہ سے کہتا ہے: اس کا عمل، اس کی مدت عمر، اس کا رزق، اور اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی جنت والوں کا عمل کر رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر اس کا مقدر غالب آ جاتا ہے ( …

وأخرجه أيضا: Ṣaḥīḥ Muslim 6723

also recorded in: Ṣaḥīḥ Muslim 6723

یہ روایت ان کتب میں بھی ہے: Ṣaḥīḥ Muslim 6723

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هُوَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 4708

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6594) Sahih Muslim (2643)

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6594) Sahih Muslim (2643)

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6594) Sahih Muslim (2643)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ - عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ‏ "‏ إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَيُكْتَبُ رِزْقُهُ وَأَجَلُهُ وَعَمَلُهُ ثُمَّ يُكْتَبُ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ فَإِنَّ …
‘Abd Allah b. Mas’ud said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) who spoke the truth and whose word was belief told us the following : The constituents of one of you are collected for forty days in his mother’s womb, then they become a piece of congealed blood for a similar period, then they become a lump of flesh for a similar period. Then Allah sends to him an angel with four words who records his provision the period of his life, his deeds, and whether he will be miserable or blessed ; thereafter he breathes the spirit into him. One of you will do the deeds of those who go to Paradise so that there will be only a cubit between him and it or will be within a cubit, then what is …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آپ صادق اور آپ کی صداقت مسلم ہے ) بیان فرمایا: تم میں سے ہر شخص کا تخلیقی نطفہ چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع رکھا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ خون کا جما ہوا ٹکڑا رہتا ہے، پھر وہ اتنے ہی دن گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے: تو وہ اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عمل لکھتا ہے، پھر لکھتا ہے: آیا وہ بدبخت ہے یا نیک بخت، پھر وہ اس میں روح پھونکتا ہے، اب اگر تم میں سے کوئی جنتیوں کے عمل کرتا ہے، یہاں تک کہ اس ( شخص ) کے اور اس ( جنت ) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب ( تقدیر ) اس پر سبقت کر جاتی ہے اور وہ جہنمیوں کے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هُوَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2137

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ‏ "‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ إِلَيْهِ الْمَلَكَ فَيَنْفُخُ فِيهِ وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعٍ يَكْتُبُ رِزْقَهُ وَأَجَلَهُ وَعَمَلَهُ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَوَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ ثُمَّ يَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ …
Abdullah bin Mas'ud said:The Messenger of Allah (s.a.w) narrated to us - and he is the truthful and entrusted one: 'Indeed the creation of one of you is gathered inside his mother in forty days. Then, for a similar period, he is a clot. Then, for a similar period, he is a piece of flesh. Then Allah sends the angel to him to blow the soul into him, and he is ordered to write four (things): To write his provision, his life-span, his works, and whether he will be wretched or happy. By the One besides Whom there is none other worthy of worship! One of you will do deeds of the people of Paradise, until there is between him and it but a forearm span, then he is overcome by what is written for …
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ۱؎، ”تم میں سے ہر آدمی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن تک «علقة» ( یعنی جمے ہوئے خون ) کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن تک «مضغة» ( یعنی گوشت کے لوتھڑے ) کی شکل میں رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے، پھر اسے چار چیزوں ( کے لکھنے ) کا حکم کیا جاتا ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے: اس کا رزق، اس کی موت، اس کا عمل اور یہ چیز کہ وہ «شقي» ( بدبخت ) ہے یا «سعيد» ( نیک بخت ) ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تم میں سے کوئی آدمی جنتیوں کا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک گز کا فاصلہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هُوَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 6741

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ‏.‏ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
Sahl b. Sa'd reported it from Allah's Messenger (ﷺ) that a person performs deeds like the deeds of the people of Paradise apparently before people and he would be amongst the dwellers of Hell and a person acts apparently like the people of Hell, but (in fact) he would be among the dwellers of Paradise
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک شخص ، جس طرح وہ لوگوں کو نظر آ رہا ہوتا ہے ، اہل جنت کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے ، لیکن ( آخر کار ) وہ اہل جہنم میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی ، جس طرح سے وہ لوگوں کو نظر آ رہا ہوتا ہے اہل جہنم کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے لیکن ( انجام کار ) وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هُوَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:3#
خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَإِلَيْهِ ٱلْمَصِيرُ

PickthallHe created the heavens and the earth with truth, and He shaped you and made good your shapes, and unto Him is the journeying.

Yusuf AliHe has created the heavens and the earth in just proportions, and has given you shape, and made your shapes beautiful: and to Him is the final Goal.

The agreed readingHe created the heavens and the earth in truth — which the commentaries read against its opposite, a creation made in play or with no settled purpose. He shaped you and made your shapes good, the human form being made the best of forms; the shaping belongs to Him alone, which is why the Shaper is one of His names. And to Him is the journey's end.
Urduاس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، اور تمہیں صورت دی اور تمہاری صورتیں اچھی بنائیں، اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ طبری کے مطابق خلق السموات والارض بالحق کا مطلب ہے کہ اللہ نے سات آسمان اور زمین کو عدل اور انصاف کے ساتھ پیدا کیا، اور صورکم کا مطلب ہے تمہیں شکل دی اور تمہاری شکل کو اچھا بنایا۔ قرطبی بتاتے ہیں کہ بالحق کا مطلب ہے یقین کے ساتھ، بغیر کسی شک کے، اور بعض کہتے ہیں کہ باء لام کے معنیٰ میں ہے، یعنی اسے حق کے لیے پیدا کیا۔ تفسیر مقباس اس آیت کو پچھلی آیت فمنکم کافر ومنکم مؤمن سے پیدا ہونے والا ایک وضاحتی جملہ قرار دیتی ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ ان کا دو گروہوں میں بٹنا کسی نقص کا نتیجہ نہیں۔
Arabicخلق السماوات والأرض بالحق وصوركم فأحسن صوركم وإليه المصير. فسر الطبري خلق السماوات والأرض بالحق بأنه خلق السموات السبع والأرض بالعدل والإنصاف، وصوركم يقول ومثلكم فأحسن مثلكم. وذكر القرطبي أن بالحق أي خلقها حقا يقينا لا ريب فيه، وقيل الباء بمعنى اللام أي خلقها للحق. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية استئناف بياني ناشئ عن قوله فمنكم كافر ومنكم مؤمن، يبين أن انقسامهم إلى فريقين.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 4 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة5 reports cited here — 4 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3082

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَىَّ أَمَانَيْنِ لأُمَّتِي ‏:‏ ‏(‏ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ ‏)‏ ‏(‏ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ‏)‏ إِذَا مَضَيْتُ تَرَكْتُ فِيهِمْ الاِسْتِغْفَارَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏
Narrated Abu Burdah bin Abi Musa:from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah sent down two guarantees of safety for the benefit of my Ummah: And Allah would not punish them while you are among them, nor will He punish them while they seek forgiveness (8:33). So when I pass, I leave seeking forgiveness among them until the Day of Resurrection
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لیے اللہ نے مجھ پر دو امان نازل فرمائے ہیں ( ایک ) «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم» ”تمہارے موجود رہتے ہوئے اللہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، ( دوسرا ) «وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون» ”دوسرے جب وہ توبہ و استغفار کرتے رہیں گے تو بھی ان پر اللہ عذاب نازل نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، اور جب میں ( اس دنیا سے ) چلا جاؤں گا تو ان کے لیے دوسرا امان استغفار قیامت تک چھوڑ جاؤں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے۔ ۲- اسماعیل بن مہاجر حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

خَلَقَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 2, no. 2281

درجته: al-Majlisi: ضعيف

grading: al-Majlisi: ضعيف

درجہ: al-Majlisi: ضعيف

4ـ صَالِحُ بْنُ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ الله بْنِ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ (عَلَيهِ السَّلام) يَقُولُ إِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْمُدَاعِبَ فِي الْجَمَاعَةِ بِلا رَفَثٍ.
4. Salih ibn ‘Aqabah has narrated from ‘Abd Allah ibn Muhammad al-Ju’fi who has said the following: “I heard abu Ja’far (a.s.) saying, ‘Allah, the Most Majestic, the Most Holy, loves a funny storyteller in a group free of abusive matters. ’”
صالح بن عقبة نے عبد الله بن محمد الجعفي سے روایت کی۔ عبد الله کہتے ہیں: میں نے ابو جعفر علیہ السلام کو کہتے ہوئے سنا: بیشک الله عز و جل المداعب في الجماعة بلا رفث کو محبوب رکھتا ہے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

خَلَقَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6595

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَكَّلَ اللَّهُ بِالرَّحِمِ مَلَكًا فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ نُطْفَةٌ، أَىْ رَبِّ عَلَقَةٌ، أَىْ رَبِّ مُضْغَةٌ‏.‏ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهَا قَالَ أَىْ رَبِّ ذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الأَجَلُ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ‏"‏‏.‏
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) said, "Allah puts an angel in charge of the uterus and the angel says, 'O Lord, (it is) semen! O Lord, (it is now ) a clot! O Lord, (it is now) a piece of flesh.' And then, if Allah wishes to complete its creation, the angel asks, 'O Lord, (will it be) a male or a female? A wretched (an evil doer) or a blessed (doer of good)? How much will his provisions be? What will his age be?' So all that is written while the creature is still in the mother's womb
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابوبکر بن انس نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر دیا ہے اور وہ کہتا رہتا ہے کہ اے رب! یہ «نطفة» قرار پایا ہے۔ اے رب! اب «علقة» یعنی جما ہوا خون بن گیا ہے۔ اے رب! اب «مضغة‏.‏» ( گوشت کا لوتھڑا ) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری کرے تو وہ پوچھتا ہے اے رب لڑکا ہے یا لڑکی؟ نیک ہے یا برا؟ اس کی روزی کیا ہو گی؟ اس کی موت کب ہو گی؟ اسی طرح یہ سب باتیں ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں، دنیا میں اسی کے مطابق ظاہر ہوتا ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

خَلَقَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 6730

حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَرَفَعَ الْحَدِيثَ، أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ نُطْفَةٌ أَىْ رَبِّ عَلَقَةٌ أَىْ رَبِّ مُضْغَةٌ ‏.‏ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقًا - قَالَ - قَالَ الْمَلَكُ أَىْ رَبِّ ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الأَجَلُ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported directly from Allah's Messenger (ﷺ) that he said:Allah, the Exlated and Glorious, has appointed an angel as the caretaker of the womb, and he would say: My Lord, it is now a drop of semen; my Lord, It is now a clot of blood; my Lord, it has now become a lump of flesh, and when Allah decides to give it a final shape, the angel says: My Lord, would it be male or female or would he be an evil or a good person? What about his livelihood and his age? And it is all written as he is in the womb of his mother
عبیداللہ بن ابی بکر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے یہ حدیث مرفوعا بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر دیتا ہے ، وہ کہتا ہے : اے میرے رب! ( اب ) یہ نطفہ ہے ، اے میرے رب! ( اب ) یہ عقلہ ہے ، اے میرے رب! ( اب یہ مضغہ ہے ، پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی ( انسان کی صورت میں ) تخلیق کا فیصلہ کرتا ہے تو انہوں نے کہا : فرشتہ کہتا ہے : اے میرے رب! مرد ہو یا عورت؟ بدبخت ہو یا خوش نصیب؟ رزق کتنا ہو گا؟ مدت عمر کتنی ہو گی؟ وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور اسی طرح ( سب کچھ ) لکھ لیا جاتا ہے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

خَلَقَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-ʿAyyāshī في هذه الآية

Cited by al-ʿAyyāshī on this āyah

al-ʿAyyāshī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 7266

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ،‏.‏ وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنِ الْوَفْدُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا رَبِيعَةُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ وَالْقَوْمِ، غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ نَدَامَى ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارَ مُضَرَ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَنُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا فَسَأَلُوا عَنِ الأَشْرِبَةِ، فَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ وَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ قَالَ …
Narrated Ibn `Abbas:When the delegate of `Abd Al-Qais came to Allah's Messenger (ﷺ), he said, "Who are the delegate?" They said, "The delegate are from the tribe of Rabi`a." The Prophet (ﷺ) said, "Welcome, O the delegate, and welcome! O people! Neither you will have any disgrace nor will you regret." They said, "O Allah's Apostle! Between you and us there are the infidels of the tribe of Mudar, so please order us to do something good (religious deeds) that by acting on them we may enter Paradise, and that we may inform (our people) whom we have left behind, about it." They also asked (the Prophet) about drinks. He forbade them from four things and ordered them to do four things. He ordered …
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو نضر بن شمیل نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھے خاص اپنے تخت پر بٹھا لیتے تھے۔ انہوں نے ایک بار بیان کیا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد آیا جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کس قوم کا وفد ہے؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ قبیلہ کا ( عبدالقیس اسی قبیلے کا ایک شاخ ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مبارک ہو اس وفد کو یا یوں فرمایا کہ مبارک ہو بلا رسوائی اور شرمندگی اٹھائے آئے ہو۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے بیچ میں …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

خَلَقَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:4#
يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

PickthallHe knoweth all that is in the heavens and the earth, and He knoweth what ye conceal and what ye publish. And Allah is Aware of what is in the breasts (of men).

Yusuf AliHe knows what is in the heavens and on earth; and He knows what ye conceal and what ye reveal: yea, Allah knows well the (secrets) of (all) hearts.

The agreed readingHe knows what is in the heavens and the earth, and He knows what you keep secret and what you make open. And He knows what is in the breast — the things held there and the beliefs. Nothing you conceal can be hidden from the One who already knows what never leaves the heart.
Urduوہ جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو، اور اللہ سینوں کے بھیدوں کو خوب جاننے والا ہے۔ قرطبی مختصراً بتاتے ہیں کہ وہ غیب اور حاضر دونوں کا جاننے والا ہے، اس سے کچھ بھی چھپا نہیں۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ یہ لوگ قیامت کا انکار اس عذر سے کرتے تھے کہ جب جسم کے اجزاء بکھر جائیں تو انہیں دوبارہ جمع کرنا ممکن نہیں اور نہ ان کا احاطہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ کہتے تھے: کیا جب ہم زمین میں گم ہو جائیں گے۔
Arabicيعلم ما في السماوات والأرض ويعلم ما تسرون وما تعلنون والله عليم بذات الصدور. ذكر القرطبي أنه عالم الغيب والشهادة، لا يخفى عليه شيء. وفي تفسير مقباس أنهم كانوا ينفون الحشر بعلة أنه إذا تفرقت أجزاء الجسد لا يمكن جمعها ولا يحاط بها، وقالوا أإذا ضللنا في الأرض.
64:5#
أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَبْلُ فَذَاقُوا۟ وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

PickthallHath not the story reached you of those who disbelieved of old and so did taste the ill-effects of their conduct, and theirs will be a painful doom.

Yusuf AliHas not the story reached you, of those who rejected Faith aforetime? So they tasted the evil result of their conduct; and they had a grievous Penalty.

The agreed readingHas the account not reached you of those who refused before you, and tasted the heaviness of their own conduct? The commentaries take that tasting to be the punishment that fell on them in this world, and the painful punishment named after it to be the one still to come.
Urduکیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جنہوں نے پہلے کفر کیا، پھر اپنے کام کا وبال چکھا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے؟ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ خطاب قریش سے ہے، یعنی کیا تمہیں پہلی کافر قوموں کی خبر نہیں پہنچی، اور فذاقوا وبال امرھم کا مطلب ہے انہیں سزا دی گئی، اور ولھم عذاب الیم کا مطلب ہے آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ زمخشری بتاتے ہیں کہ یہ خطاب مکہ کے کافروں سے ہے، اور یہ اس وبال کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے دنیا میں چکھا اور جو عذاب آخرت میں ان کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ تفسیر مقباس اسے پچھلی آیت واللہ بما تعملون بصیر میں موجود آخرت کے دھمکی آمیز اشارے سے صریح بیان کی طرف انتقال قرار دیتی ہے۔
Arabicألم يأتكم نبأ الذين كفروا من قبل فذاقوا وبال أمرهم ولهم عذاب أليم. ذكر القرطبي أن الخطاب لقريش، أي ألم يأتكم خبر كفار الأمم الماضية، وفذاقوا وبال أمرهم أي عوقبوا، ولهم في الآخرة عذاب أليم أي موجع. وذكر الزمخشري أن الخطاب لكفار مكة، وذلك إشارة إلى ما ذكر من الوبال الذي ذاقوه في الدنيا وما أعد لهم من العذاب في الآخرة. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية انتقال من التعريض الرمزي بالوعيد الأخروي في قوله والله بما تعملون بصير، إلى التصريح.
64:6#
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُۥ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَقَالُوٓا۟ أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا۟ وَتَوَلَّوا۟ وَّٱسْتَغْنَى ٱللَّهُ وَٱللَّهُ غَنِىٌّ حَمِيدٌ

PickthallThat was because their messengers (from Allah) kept coming unto them with clear proofs (of Allah's Sovereignty), but they said: Shall mere mortals guide us? So they disbelieved and turned away, and Allah was independent (of them). Allah is Absolute, Owner of Praise.

Yusuf AliThat was because there came to them messengers with Clear Signs, but they said: "Shall (mere) human beings direct us?" So they rejected (the Message) and turned away. But Allah can do without (them): and Allah is free of all needs, worthy of all praise.

The agreed readingThat happened because their messengers kept coming to them with clear proofs, and they said: are mere men to guide us? So they refused and turned away, and God had no need of them. The objection was never to the proofs but to the messenger being a human being like themselves. God is the Self-sufficient, the Praiseworthy.
Urduیہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آتے رہے، تو انہوں نے کہا: کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے؟ تو انہوں نے کفر کیا اور منہ موڑ لیا، اور اللہ نے ان سے بےنیازی ظاہر کی، اور اللہ بےنیاز اور تعریف کے لائق ہے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے یہ عذاب انہیں ان کے رسولوں کے کفر کی وجہ سے ملا جو ان کے پاس آتے رہے۔ تفسیر مقباس اسے علامتی اشارے سے کچھ زیادہ صریح بیان کی طرف ایک اور قدم قرار دیتی ہے۔
Arabicذلك بأنه كانت تأتيهم رسلهم بالبينات فقالوا أبشر يهدوننا فكفروا وتولوا واستغنى الله والله غني حميد. ذكر القرطبي أن هذا العذاب لهم بكفرهم بالرسل تأتيهم. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية ارتقاء في التعريض إلى ضرب منه قريب من الصريح.
64:7#
زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَن لَّن يُبْعَثُوا۟ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّى لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌ

PickthallThose who disbelieve assert that they will not be raised again. Say (unto them, O Muhammad): Yea, verily, by my Lord! ye will be raised again and then ye will be informed of what ye did; and that is easy for Allah.

Yusuf AliThe Unbelievers think that they will not be raised up (for Judgment). Say: "Yea, By my Lord, Ye shall surely be raised up: then shall ye be told (the truth) of all that ye did. And that is easy for Allah."

The agreed readingThose who refuse claim they will never be raised. Say: yes, by my Lord, you will be raised, and then you will be told what you did. The commentaries note what the denial is aimed at: with no raising there is nothing left standing of a religion built on command, prohibition and reckoning. And that is easy for God.
Urduکافروں کا دعویٰ ہے کہ انہیں ہرگز نہیں اٹھایا جائے گا، کہہ دیجیے: کیوں نہیں، میرے رب کی قسم، تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا، پھر تمہیں ضرور بتایا جائے گا جو تم نے کیا، اور یہ اللہ پر آسان ہے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ زعم کا مطلب گمان اور ظن پر مبنی بات ہے، اور شریح کا قول نقل کرتے ہیں کہ ہر چیز کی ایک کنیت ہوتی ہے اور جھوٹ کی کنیت زعموا ہے۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ اللہ مشرکین، کافروں اور ملحدین کی خبر دیتا ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں اٹھایا نہیں جائے گا، تو انہیں کہو: کیوں نہیں، میرے رب کی قسم، تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا، پھر تمہیں تمہارے سب اعمال کی خبر دی جائے گی۔ علامہ سعدی لکھتے ہیں کہ اللہ اپنے سب سے معزز مخلوق کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر ان کے اٹھائے جانے اور ان کے برے اعمال کی جزا اور حق کو جھٹلانے پر ان کا محاسبہ ہونے کی بات کرے۔
Arabicزعم الذين كفروا أن لن يبعثوا قل بلى وربي لتبعثن ثم لتنبؤن بما عملتم وذلك على الله يسير. ذكر القرطبي أن الزعم هو القول بالظن، وقال شريح: لكل شيء كنية وكنية الكذب زعموا. وذكر ابن كثير أن الله يخبر عن المشركين والكفار والملحدين أنهم يزعمون أنهم لا يبعثون، قل بلى وربي لتبعثن ثم لتنبؤن بما عملتم، أي لتخبرن بجميع أعمالكم. وذكر السعدي أن الله أمر أشرف خلقه أن يقسم بربه على بعثهم وجزائهم بأعمالهم الخبيثة وتكذيبهم بالحق.
64:8#
فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلنُّورِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلْنَا وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

PickthallSo believe in Allah and His messenger and the light which We have revealed. And Allah is Informed of what ye do.

Yusuf AliBelieve, therefore, in Allah and His Messenger, and in the Light which we have sent down. And Allah is well acquainted with all that ye do.

The agreed readingSo believe in God and His messenger, and in the light We have sent down. The commentaries of both traditions are together on what the light is: the Qur'an. It is called light because it shines of itself and shows the road by that shining. And God is aware of what you do.
Urduپس اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس نور پر جو ہم نے اتارا ہے، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے خوب باخبر ہے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ انہیں قیامت کے قائم ہونے کی خبر دینے کے بعد ایمان کا حکم دیا گیا، اور النور الذی انزلنا سے مراد قرآن ہے، جو گمراہی کے اندھیرے سے ہدایت دینے والا نور ہے۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ قیامت کے منکرین کا انکار بیان کرنے کے بعد، اللہ نے وہ چیز حکم دی جو ہلاکت اور بدبختی سے بچاتی ہے، یعنی اس پر اور اس کے رسول اور اس کی کتاب پر ایمان، اور اللہ نے اسے نور کہا کیونکہ نور اندھیرے کا مخالف ہے۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ فاء یہاں فصیحہ ہے، جو ایک مقدر شرط کی طرف اشارہ کرتی ہے، یعنی جب تمہیں یہ دلائل معلوم ہو جائیں تو ایمان لاؤ۔
Arabicفآمنوا بالله ورسوله والنور الذي أنزلنا والله بما تعملون خبير. ذكر القرطبي أنه أمرهم بالإيمان بعد أن عرفهم قيام الساعة، والنور الذي أنزلنا هو القرآن، وهو نور يهتدى به من ظلمة الضلال. وذكر السعدي أنه لما ذكر إنكار من أنكر البعث، وأن ذلك منهم موجب كفرهم بالله وآياته، أمر بما يعصم من الهلكة والشقاء، وهو الإيمان به وبرسوله وبكتابه، وسماه الله نورا لأن النور ضد الظلمة. وفي تفسير مقباس أن الفاء هنا فصيحة تفصح عن شرط مقدر، والتقدير فإذا علمتم هذه الحجج.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Nahj al-Balāgha, no. 1708

٩٣. وَقَالَ (عليه ‏السلام): لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتْنَةِ لِأَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى فِتْنَةٍ وَلَكِنْ مَنِ اسْتَعَاذَ فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ يَقُولُ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَمَعْنَى ذَلِكَ أَنَّهُ يَخْتَبِرُهُمْ بِالْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ لِيَتَبَيَّنَ السَّاخِطَ لِرِزْقِهِ وَالرَّاضِيَ بِقِسْمِهِ وَإِنْ كَانَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ بِهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَلَكِنْ لِتَظْهَرَ الْأَفْعَالُ الَّتِى بِهَا يُسْتَحَقُّ الثَّوَابُ وَالْعِقَابُ لِأَنَّ بَعْضَهُمْ يُحِبُّ الذُّكُورَ وَيَكْرَهُ الْإِنَاثَ وَبَعْضَهُمْ يُحِبُّ تَثْمِيرَ الْمَالِ …
93. Amīr al-mu’minīn, peace be upon him, said: None of you should say, “O Allāh, I seek Your protection from trouble” because there is no one who is not involved in trouble, but whoever seeks Allāh’s protection he should seek it from misguiding troubles, because Allāh, the Glorified, says: And know you that your wealth and your children are a temptation!. (Qur’ān, 8:28) and its meaning is that He tries people with wealth and progeny in order to distinguish one who is displeased with his livelihood from the one who is happy with what he has been given. Even though Allāh, the Glorified, knows them more than they know themselves yet He does so to let them perform actions with which they earn …
اور انہوں نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: اے اللہ! میں تم سے الفتنہ سے پناہ چاہتا ہوں۔ کیونکہ کوئی بھی شخص نہیں جو الفتنہ میں نہ ہو۔ لیکن جو پناہ چاہے تو مضلات الفتن سے پناہ چاہے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ فرماتے ہیں: اور جان لو کہ تمہارے اموال اور اولاد الفتنہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اموال اور اولاد سے آزماتے ہیں تاکہ ظاہر ہو جائے کہ کون اپنے رزق سے ناخوش ہے اور کون اپنے حصے سے خوش ہے۔ اگرچہ اللہ سبحانہ انہیں خود ان سے زیادہ جانتے ہیں، لیکن تاکہ وہ اعمال ظاہر ہوں جن سے ثواب اور عذاب لائق ہوں۔ کیونکہ کچھ لوگ ذکور کو پسند کرتے ہیں اور اناث کو برا جانتے ہیں۔ اور کچھ لوگ مال کی تثمیر کو پسند کرتے ہیں اور حالات کے انثلام کو برا جانتے ہیں۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَـَٔامِنُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:9#
يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ ٱلْجَمْعِ ذَٰلِكَ يَوْمُ ٱلتَّغَابُنِ وَمَن يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ وَيَعْمَلْ صَٰلِحًا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّـَٔاتِهِۦ وَيُدْخِلْهُ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

PickthallThe day when He shall gather you unto the Day of Assembling, that will be a day of mutual disillusion. And whoso believeth in Allah and doeth right, He will remit from him his evil deeds and will bring him unto Gardens underneath which rivers flow, therein to abide for ever. That is the supreme triumph.

Yusuf AliThe Day that He assembles you (all) for a Day of Assembly,- that will be a Day of mutual loss and gain (among you), and those who believe in Allah and work righteousness,- He will remove from them their ills, and He will admit them to Gardens beneath which Rivers flow, to dwell therein for ever: that will be the Supreme Achievement.

The agreed readingThe day He gathers you for the Day of Gathering is the day of mutual loss and gain, and the sūrah takes its name from it. The commentaries explain the name as a reckoning settled at last, in which those who believed take what those who refused would have had. Whoever believes in God and does right has his bad deeds struck off him and is admitted to Gardens with rivers running beneath them, to stay there for ever. That is the supreme triumph.
Urduجس دن وہ تمہیں جمع ہونے کے دن کے لیے اکٹھا کرے گا، وہی دن ہار جیت کا دن ہے، اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اللہ اس کی برائیاں مٹا دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ دن یاد کرنا ہے جس دن اللہ پہلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، انہیں ایک ہیبت ناک اور عظیم مقام پر کھڑا کرے گا، اور انہیں ان کے اعمال کی خبر دے گا، اسی وقت مخلوقات کے درمیان فرق اور ہار جیت ظاہر ہو گی۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ اس آیت میں ظرف یوم کا عامل یا تو لتنبؤن ہے یا خبیر، کیونکہ اس میں وعید کا معنیٰ ہے، گویا کہا گیا کہ اللہ تمہیں اس دن سزا دے گا جب وہ تمہیں جمع کرے گا۔
Arabicيوم يجمعكم ليوم الجمع ذلك يوم التغابن ومن يؤمن بالله ويعمل صالحا يكفر عنه سيئاته ويدخله جنات تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها أبدا ذلك الفوز العظيم. فسر السعدي هذا بأنه أمر بذكر يوم الجمع الذي يجمع الله به الأولين والآخرين، ويقفهم موقفا هائلا عظيما، وينبئهم بما عملوا، فحينئذ يظهر الفرق والتغابن بين الخلائق، ويرفع أقوام إلى عليين في الغرف العاليات والمنازل المرتفعات. وذكر الزمخشري أن العامل في الظرف يوم بقوله لتنبؤن، أو بخبير، لما فيه من معنى الوعيد، كأنه قيل: والله معاقبكم يوم يجمعكم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Zamakhsharī في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī on this āyah

al-Zamakhsharī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 1338

حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتُوُلِّيَ وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولاَنِ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ‏.‏ فَيُقَالُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا ـ وَأَمَّا …
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "When a human being is laid in his grave and his companions return and he even hears their foot steps, two angels come to him and make him sit and ask him: What did you use to say about this man, Muhammad ? He will say: I testify that he is Allah's slave and His Apostle. Then it will be said to him, 'Look at your place in the Hell-Fire. Allah has given you a place in Paradise instead of it.' " The Prophet (ﷺ) added, "The dead person will see both his places. But a non-believer or a hypocrite will say to the angels, 'I do not know, but I used to say what the people used to say! It will be said to him, 'Neither did you know nor did you take the guidance (by …
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن زریع نے ‘ ان سے سعید بن ابی عروبہ نے ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور دفن کر کے اس کے لوگ پیٹھ موڑ کر رخصت ہوتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ پھر دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے متعلق تمہارا کیا اعتقاد ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ دیکھ جہنم کا اپنا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَوْمَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:10#
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

PickthallBut those who disbelieve and deny Our revelations, such are owners of the Fire; they will abide therein - a hapless journey's end!

Yusuf AliBut those who reject Faith and treat Our Signs as falsehoods, they will be Companions of the Fire, to dwell therein for aye: and evil is that Goal.

The agreed readingAnd those who refused and called Our signs a lie — the signs here being the Qur'an — are the companions of the Fire, to stay in it. A wretched journey's end it is.
Urduاور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہی جہنمی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ آیاتنا سے مراد قرآن ہے، اور مومنوں کا انجام بیان کرنے کے بعد، جیسا کہ اور جگہوں پر بھی ہوا ہے، اب کافروں کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ جلالین بھی آیاتنا کو قرآن ہی قرار دیتے ہیں۔
Arabicوالذين كفروا وكذبوا بآياتنا أولئك أصحاب النار خالدين فيها وبئس المصير. فسر القرطبي آياتنا بأنه القرآن، ولما ذكر ما للمؤمنين ذكر ما للكافرين كما تقدم في غير موضع. وفسر الجلالين آياتنا بأنها القرآن.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3317

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلاَدِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ‏)‏ قَالَ هَؤُلاَءِ رِجَالٌ أَسْلَمُوا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَرَادُوا أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَزْوَاجُهُمْ وَأَوْلاَدُهُمْ أَنْ يَدَعُوهُمْ أَنْ يَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَوُا النَّاسَ قَدْ فَقِهُوا فِي الدِّينِ هَمُّوا أَنْ يُعَاقِبُوهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَل َّ‏:‏ ‏(‏ يا …
Ikrimah narrated that :Ibn Abbas was asked by a man about this Ayah: O you who believe! Verity, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them! He said: “These are men who submitted (to Islam) in Makkah, and they wanted to come to the Prophet but their wives and children refused to allow them to come to the Messenger of Allah. So when they came to the Messenger of Allah, they saw that the people had gained such understanding in the religion that they wanted to punish them (their families). So Allah revealed the Ayah: O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them!”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلَّذِينَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Zamakhsharī في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī on this āyah

al-Zamakhsharī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 1338

حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتُوُلِّيَ وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولاَنِ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ‏.‏ فَيُقَالُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا ـ وَأَمَّا …
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "When a human being is laid in his grave and his companions return and he even hears their foot steps, two angels come to him and make him sit and ask him: What did you use to say about this man, Muhammad ? He will say: I testify that he is Allah's slave and His Apostle. Then it will be said to him, 'Look at your place in the Hell-Fire. Allah has given you a place in Paradise instead of it.' " The Prophet (ﷺ) added, "The dead person will see both his places. But a non-believer or a hypocrite will say to the angels, 'I do not know, but I used to say what the people used to say! It will be said to him, 'Neither did you know nor did you take the guidance (by …
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن زریع نے ‘ ان سے سعید بن ابی عروبہ نے ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور دفن کر کے اس کے لوگ پیٹھ موڑ کر رخصت ہوتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ پھر دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے متعلق تمہارا کیا اعتقاد ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ دیکھ جہنم کا اپنا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلَّذِينَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:11#
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَمَن يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُۥ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

PickthallNo calamity befalleth save by Allah's leave. And whosoever believeth in Allah, He guideth his heart. And Allah is Knower of all things.

Yusuf AliNo kind of calamity can occur, except by the leave of Allah: and if any one believes in Allah, (Allah) guides his heart (aright): for Allah knows all things.

The agreed readingNo affliction falls except by God's leave. And whoever believes in God — believes, that is, that what struck him came by God's decree — has his heart guided: guided to patience under it, and settled, so that a heart which had been wavering holds still once it is fixed on faith. God knows everything.
Urduکوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ کے حکم سے، اور جو اللہ پر ایمان لائے تو اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ باذن اللہ کا مطلب ہے اس کی مرضی اور فیصلے سے، اور فراء کہتے ہیں کہ اس سے مراد اللہ کا حکم ہے، بعض کہتے ہیں اللہ کا علم۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ اللہ وہی بات دہراتا ہے جو سورۃ الحدید میں پہلے بیان کر چکا ہے، کہ کوئی مصیبت زمین میں یا تمہاری جانوں میں نہیں آتی مگر ایک کتاب میں لکھی جا چکی ہے۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ یہدی قلبہ کا مطلب ہے اللہ اس کے ساتھ نرمی کرتا ہے اور اطاعت اور بھلائی میں اضافے کے لیے اس کا سینہ کھول دیتا ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مصیبت کے وقت اِنّا للہ وانّا الیہ راجعون کہنا ہے۔
Arabicما أصاب من مصيبة إلا بإذن الله ومن يؤمن بالله يهد قلبه والله بكل شيء عليم. ذكر القرطبي أن بإذن الله أي بإرادته وقضائه، وقال الفراء يريد إلا بأمر الله، وقيل إلا بعلم الله. وذكر ابن كثير أن الله يخبر بما أخبر به في سورة الحديد ما أصاب من مصيبة في الأرض ولا في أنفسكم إلا في كتاب من قبل أن نبرأها. وفسر الزمخشري يهد قلبه بأنه يلطف به ويشرحه للازدياد من الطاعة والخير، وقيل هو الاسترجاع عند المصيبة، وعن الضحاك يهد قلبه حتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطئه وما أخطأه لم يكن ليصيبه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3317

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلاَدِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ‏)‏ قَالَ هَؤُلاَءِ رِجَالٌ أَسْلَمُوا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَرَادُوا أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَزْوَاجُهُمْ وَأَوْلاَدُهُمْ أَنْ يَدَعُوهُمْ أَنْ يَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَوُا النَّاسَ قَدْ فَقِهُوا فِي الدِّينِ هَمُّوا أَنْ يُعَاقِبُوهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَل َّ‏:‏ ‏(‏ يا …
Ikrimah narrated that :Ibn Abbas was asked by a man about this Ayah: O you who believe! Verity, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them! He said: “These are men who submitted (to Islam) in Makkah, and they wanted to come to the Prophet but their wives and children refused to allow them to come to the Messenger of Allah. So when they came to the Messenger of Allah, they saw that the people had gained such understanding in the religion that they wanted to punish them (their families). So Allah revealed the Ayah: O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them!”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

مَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:12#
وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

PickthallObey Allah and obey His messenger; but if ye turn away, then the duty of Our messenger is only to convey (the message) plainly.

Yusuf AliSo obey Allah, and obey His Messenger: but if ye turn back, the duty of Our Messenger is but to proclaim (the Message) clearly and openly.

The agreed readingObey God and obey the messenger. If you turn away, none of that falls on him: what is laid on the messenger is only to convey the message plainly, and the commentaries add that he has conveyed it.
Urduاور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، پھر اگر تم منہ موڑو تو ہمارے رسول پر صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ فان تولیتم کا مطلب ہے اگر تم منہ موڑو تو رسول پر کوئی ملامت نہیں، کیونکہ تمہاری اطاعت اس پر فرض نہیں کی گئی، اسے صرف پہنچانے اور واضح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تفسیر مقباس اس آیت کو پچھلی آیت ومن یؤمن باللہ یہد قلبہ پر عطف قرار دیتی ہے، کیونکہ اس میں یہ بات شامل تھی کہ مومن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے لیے تیار ہیں۔
Arabicوأطيعوا الله وأطيعوا الرسول فإن توليتم فإنما على رسولنا البلاغ المبين. فسر الزمخشري فإن توليتم بأنه لا عليه إذا توليتم، لأنه لم يكتب عليه طاعتكم، إنما كتب عليه أن يبلغ ويبين فحسب. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية عطف على جملة ومن يؤمن بالله يهد قلبه، لأنها تضمنت أن المؤمنين متهيئون لطاعة الله ورسوله.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī and al-Baghawī on this āyah

al-Ṭabarī، al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3317

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلاَدِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ‏)‏ قَالَ هَؤُلاَءِ رِجَالٌ أَسْلَمُوا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَرَادُوا أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَزْوَاجُهُمْ وَأَوْلاَدُهُمْ أَنْ يَدَعُوهُمْ أَنْ يَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَوُا النَّاسَ قَدْ فَقِهُوا فِي الدِّينِ هَمُّوا أَنْ يُعَاقِبُوهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَل َّ‏:‏ ‏(‏ يا …
Ikrimah narrated that :Ibn Abbas was asked by a man about this Ayah: O you who believe! Verity, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them! He said: “These are men who submitted (to Islam) in Makkah, and they wanted to come to the Prophet but their wives and children refused to allow them to come to the Messenger of Allah. So when they came to the Messenger of Allah, they saw that the people had gained such understanding in the religion that they wanted to punish them (their families). So Allah revealed the Ayah: O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them!”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَأَطِيعُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 2435

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، عَنِ الْمُعَافَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمُعَاذٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ ‏ "‏ إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ - يَعْنِي أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ - فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ …
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said to Mu'adh when he sent him to Yemen: 'You are going to some of the People of the book. When you come to them, call them to testify that there is none worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. If they obey you in that, then tell them that Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined on them a charity (Zakah) to be taken from their rich and given to their poor. If they obey you in that, then beware of the supplication of the oppressed person
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا: ”تم اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) کے پاس جا رہے ہو، تو جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن و رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان پر ( زکاۃ ) فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں میں بانٹ دیا جائے گا، اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو پھر مظلوم کی بد دعا سے بچو“ ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَأَطِيعُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 1496

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ ‏ "‏ إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ …
Narrated Abu Ma`bad:(the slave of Ibn `Abbas) Allah's Messenger (ﷺ) said to Mu`adh when he sent him to Yemen, "You will go to the people of the Scripture. So, when you reach there, invite them to testify that none has the right to be worshipped but Allah, and that Muhammad is His Apostle. And if they obey you in that, tell them that Allah has enjoined on them five prayers in each day and night. And if they obey you in that tell them that Allah has made it obligatory on them to pay the Zakat which will be taken from the rich among them and given to the poor among them. If they obey you in that, then avoid taking the best of their possessions, and be afraid of the curse of an oppressed person …
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں زکریا ابن اسحاق نے خبر دی ‘ انہیں یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ‘ انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن بھیجا ‘ تو ان سے فرمایا کہ تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں۔ اس لیے جب تم وہاں پہنچو تو پہلے انہیں دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ وہ اس بات میں جب تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ تمہاری یہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَأَطِيعُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4347

حَدَّثَنِي حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ ‏ "‏ إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ طَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ …
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) said to Mu`adh bin Jabal when he sent him to Yemen, "You will come to the people of Scripture, and when you reach them, invite them to testify that none has the right to be worshipped except Allah and that Muhammad is His Apostle. And if they obey you in that, then tell them that Allah has enjoined on them five prayers to be performed every day and night. And if they obey you in that, then tell them that Allah has enjoined on them Sadaqa (i.e. Zakat) to be taken from the rich amongst them and given to the poor amongst them. And if they obey you in that, then be cautious! Don't take their best properties (as Zakat) and be afraid of the curse of an …
مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں زکریا بن اسحاق نے، انہیں یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نافذ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا ( حاکم بنا کر بھیجتے وقت انہیں ) ہدایت فرمائی تھی کہ تم ایک ایسی قوم کی طرف جا رہے ہو جو اہل کتاب یہودی اور نصرانی وغیرہ میں سے ہیں۔ اس لیے جب تم وہاں پہنچو تو پہلے انہیں اس کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر اس میں وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے روزانہ ان پر پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، جب یہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَأَطِيعُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī on this āyah

al-Ṭabarī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 3600

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ بَرَّادِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَاضِي مَرْوَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَخْطُبُ فَأَقْبَلَ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخَذَهُمَا فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏{إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ}‏ رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ ‏.‏
‘Abdullah bin Buraidah narrated that his father told him:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) delivering a sermon, and Hasan and Husain came forward, wearing red shirts, stumbling and getting up again. The Prophet (ﷺ) stepped down, picked them up and put them in his lap. Then he said: “Allah and His Messenger have spoken the truth. ‘Your wealth and your children are only a trial.’ [64:15] I saw these two and I could not be patient. Then he resumed his sermon.”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے دیکھا، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے آ گئے کبھی گرتے تھے کبھی اٹھتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر سے ) اترے، دونوں کو اپنی گود میں اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا قول سچ ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں ، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ شروع کر دیا ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَأَطِيعُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:13#
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

PickthallAllah! There is no Allah save Him. In Allah, therefore, let believers put their trust.

Yusuf AliAllah! There is no god but He: and on Allah, therefore, let the Believers put their trust.

The agreed readingGod — there is no god but He. And on God let the believers rely. The statement and the command stand side by side, so that the reliance just asked for is pointed at the only one there is to rely on.
Urduاللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ تفسیر مقباس کے مطابق یہ ایک اعتراضی جملہ ہے جو واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول اور وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون کے درمیان آیا ہے۔ اس طرح یہ بیان اور حکم ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، تاکہ جس بھروسے کا حکم دیا گیا وہ اسی ایک ذات کی طرف متوجہ ہو جس کے سوا بھروسے کے لائق کوئی نہیں۔
Arabicالله لا إله إلا هو وعلى الله فليتوكل المؤمنون. جاء في تفسير مقباس أن هذه الآية جملة معترضة بين جملة وأطيعوا الله وأطيعوا الرسول وجملة وعلى الله فليتوكل المؤمنون.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī and al-Baghawī on this āyah

al-Ṭabarī، al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3317

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلاَدِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ‏)‏ قَالَ هَؤُلاَءِ رِجَالٌ أَسْلَمُوا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَرَادُوا أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَزْوَاجُهُمْ وَأَوْلاَدُهُمْ أَنْ يَدَعُوهُمْ أَنْ يَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَوُا النَّاسَ قَدْ فَقِهُوا فِي الدِّينِ هَمُّوا أَنْ يُعَاقِبُوهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَل َّ‏:‏ ‏(‏ يا …
Ikrimah narrated that :Ibn Abbas was asked by a man about this Ayah: O you who believe! Verity, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them! He said: “These are men who submitted (to Islam) in Makkah, and they wanted to come to the Prophet but their wives and children refused to allow them to come to the Messenger of Allah. So when they came to the Messenger of Allah, they saw that the people had gained such understanding in the religion that they wanted to punish them (their families). So Allah revealed the Ayah: O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them!”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱللَّهُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī on this āyah

al-Ṭabarī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 3600

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ بَرَّادِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَاضِي مَرْوَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَخْطُبُ فَأَقْبَلَ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخَذَهُمَا فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏{إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ}‏ رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ ‏.‏
‘Abdullah bin Buraidah narrated that his father told him:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) delivering a sermon, and Hasan and Husain came forward, wearing red shirts, stumbling and getting up again. The Prophet (ﷺ) stepped down, picked them up and put them in his lap. Then he said: “Allah and His Messenger have spoken the truth. ‘Your wealth and your children are only a trial.’ [64:15] I saw these two and I could not be patient. Then he resumed his sermon.”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے دیکھا، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے آ گئے کبھی گرتے تھے کبھی اٹھتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر سے ) اترے، دونوں کو اپنی گود میں اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا قول سچ ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں ، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ شروع کر دیا ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱللَّهُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:14#
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّ مِنْ أَزْوَٰجِكُمْ وَأَوْلَٰدِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَٱحْذَرُوهُمْ وَإِن تَعْفُوا۟ وَتَصْفَحُوا۟ وَتَغْفِرُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

PickthallO ye who believe! Lo! among your wives and your children there are enemies for you, therefor beware of them. And if ye efface and overlook and forgive, then lo! Allah is Forgiving, Merciful.

Yusuf AliO ye who believe! Truly, among your wives and your children are (some that are) enemies to yourselves: so beware of them! But if ye forgive and overlook, and cover up (their faults), verily Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

The agreed readingAmong your wives and your children there are enemies to you — the enmity meant being that they hold a man back from obeying God, which the commentaries connect to men kept from leaving by their own families. So beware of them, in the sense of not obeying them in it. And if you pardon, and overlook, and cover it over, God is Forgiving and Merciful.
Urduاے ایمان والو! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، تو ان سے بچو، اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ قرطبی حضرت ابن عباس کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ بیویوں اور اولاد میں سے کوئی شوہر اور والد کا دشمن ہو سکتا ہے، یعنی وہ اسے نیک عمل سے مشغول کر دیتی ہے، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں غافل نہ کریں۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ کچھ بیویاں اپنے شوہروں سے دشمنی کرتی اور ان سے جھگڑتی اور انہیں مشکل میں ڈالتی ہیں، اور کچھ اولاد اپنے والدین سے دشمنی کرتی اور نافرمانی کرتی اور انہیں تکلیف پہنچاتی ہیں۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم وإن تعفوا وتصفحوا وتغفروا فإن الله غفور رحيم. ذكر القرطبي عن ابن عباس أن هذه الآية نزلت بالمدينة. وذكر ابن كثير أن من الأزواج والأولاد من هو عدو الزوج والوالد، بمعنى أنه يلتهى به عن العمل الصالح، كقوله يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم. وفسر الزمخشري أن من الأزواج أزواجا يعادين بعولتهن ويخاصمنهن ويجلبن عليهن، ومن الأولاد أولادا يعادون آباءهم ويعقونهم ويجرعونهم الغصص والأذى.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3317

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلاَدِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ‏)‏ قَالَ هَؤُلاَءِ رِجَالٌ أَسْلَمُوا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَرَادُوا أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَزْوَاجُهُمْ وَأَوْلاَدُهُمْ أَنْ يَدَعُوهُمْ أَنْ يَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَوُا النَّاسَ قَدْ فَقِهُوا فِي الدِّينِ هَمُّوا أَنْ يُعَاقِبُوهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَل َّ‏:‏ ‏(‏ يا …
Ikrimah narrated that :Ibn Abbas was asked by a man about this Ayah: O you who believe! Verity, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them! He said: “These are men who submitted (to Islam) in Makkah, and they wanted to come to the Prophet but their wives and children refused to allow them to come to the Messenger of Allah. So when they came to the Messenger of Allah, they saw that the people had gained such understanding in the religion that they wanted to punish them (their families). So Allah revealed the Ayah: O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them!”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَٰٓأَيُّهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3774

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، ‏:‏ بُرَيْدَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ إنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ ‏)‏ نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا …
Narrated Buraidah:"The Messenger of Allah (ﷺ) was delivering a Khutbah to us when Al-Hasan and Al-Husain [peace be upon them] came, wearing red shirts, walking and falling down. So the Messenger of Allah (ﷺ) descended from the Minbar and carried them, and placed them in front of him. Then he said: 'Allah spoke the Truth: Indeed, your wealth and your children are a trial (64:15). I looked at these two children walking and falling down, and I could not bear patiently anymore until I interrupted my talk and picked them up
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَٰٓأَيُّهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3316

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يُبَلِّغُهُ حَجَّ بَيْتِ رَبِّهِ أَوْ تَجِبُ عَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةُ فَلَمْ يَفْعَلْ سَأَلَ الرَّجْعَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ اتَّقِ اللَّهَ إِنَّمَا سَأَلَ الرَّجْعَةَ الْكُفَّارُ قَالَ سَأَتْلُو عَلَيْكَ بِذَلِكَ قُرْآنًا ‏:‏ ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلاَ أَوْلاَدُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ‏)‏ ‏:‏ ‏(‏وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏ واللَّهُ …
Ad-Dahhak bin Muzahim narrated:From Ibn Abbas [may Allah be pleased with him] who said: “Whoever has wealth, required him to perform Hajj to the House of his Lord, or upon which Zakat is obligatory, but he does not do it, then he shall ask to return (the world) upon his death.” A man said: “Oh Ibn Abbas! Have Taqwa of Allah! It is only the disbelievers who will be asked to return.” He said: “For that, I shall recite to you from the Qur’an: You who believe! Let not your properties or your children divert you from the remembrance of Allah. And whosever does that, then they are with the losers. And spend of that which We have provided you before death comes to one of you, and says: “My Lord! …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حج بیت اللہ کو جا سکے یا اس پر اس میں زکاۃ واجب ہوتی ہو اور وہ حج کو نہ جائے، زکاۃ ادا نہ کرے تو وہ مرتے وقت اللہ سے درخواست کرے گا کہ اسے وہ دنیا میں دوبارہ لوٹا دے، ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اللہ سے ڈرو، دوبارہ لوٹا دیئے جانے کی آرزو تو کفار کریں گے ( نہ کہ مسلمین ) ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے متعلق قرآن پڑھ کر سناتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فأولئك هم الخاسرون وأنفقوا من ما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت» سے «والله خبير بما تعملون» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَٰٓأَيُّهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī on this āyah

al-Ṭabarī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 3600

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ بَرَّادِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَاضِي مَرْوَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَخْطُبُ فَأَقْبَلَ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخَذَهُمَا فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏{إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ}‏ رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ ‏.‏
‘Abdullah bin Buraidah narrated that his father told him:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) delivering a sermon, and Hasan and Husain came forward, wearing red shirts, stumbling and getting up again. The Prophet (ﷺ) stepped down, picked them up and put them in his lap. Then he said: “Allah and His Messenger have spoken the truth. ‘Your wealth and your children are only a trial.’ [64:15] I saw these two and I could not be patient. Then he resumed his sermon.”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے دیکھا، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے آ گئے کبھی گرتے تھے کبھی اٹھتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر سے ) اترے، دونوں کو اپنی گود میں اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا قول سچ ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں ، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ شروع کر دیا ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَٰٓأَيُّهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 1955

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، ح وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Sa'eed narrated that the Messenger of Allah said :"Whoever is not grateful to the people, he is not grateful to Allah
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کا شکر یہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، اشعث بن قیس اور نعمان بن بشیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَٰٓأَيُّهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 2118

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ فِي النِّكَاحِ وَغَيْرِهِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ - الْمَعْنَى - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ وَأَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُطْبَةَ الْحَاجَةِ ‏"‏ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا …
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) taught us the address in case of some need: Praise be to Allah from Whom we ask help and pardon, and in Whom we take refuge from the evils within ourselves. He whom Allah guides has no one who can lead him astray, and he whom He leads astray has no one to guide him. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Apostle. "You who believe,...fear Allah by Whom you ask your mutual rights, and reverence the wombs. Allah has been watching you." ..."you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as Muslims" ...."you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سکھایا: «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ به من شرور أنفسنا من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» اے ایمان والو! اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے ( سورۃ النساء: ۱ ) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مسلمان ہی رہ کر مرو ( سورۃ آل عمران: ۱۰۲ ) ۔ «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَٰٓأَيُّهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 1404

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلاَثَ آيَاتٍ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ …
It was narrated from 'Abdullah:"The Prophet (ﷺ) taught us Khutbat Al-Hajah: Alhamduu lillahi nasta'inuhu wa nastagfiruhu, wa na'udhu billahi min shururi anfusina wa sayi'ati a'malina. Man yahdihillahu fala mudilla lahu wa man yudlil fala hadiya lahu. Wa ashhadu an la ilaha illallahu wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu. (Praise be to Allah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge in Allah from the evil of our own souls and from our bad deeds. Whomsoever Allah guides will never be led astray,and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجة ۱؎ سکھایا، اور وہ یہ ہے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، پھر آپ یہ تین آیتیں …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَٰٓأَيُّهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 4325

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ }‏ ‏"‏ وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي الأَرْضِ لأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعِيشَتَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) recited:“O you who believe! Have fear of Allah as is His due, and die not except as Muslims. [3:102] (Then he said): ‘If a drop of Zaqqum were to be dropped on the earth, it would ruin the livelihood of the people of this world, so how about those who have no food other than it (i.e. Zaqqum)?’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ( آل عمران: ۱۰۲ ) تلاوت کی اور فرمایا: زقوم ( تھوہڑ ) کا ایک قطرہ ( جہنمیوں کی خوراک ) زمین پر ٹپک جائے، تو ساری دنیا والوں کی زندگی تباہ کر دے، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جن کے پاس اس کے سوا کوئی کھانا نہ ہو گا ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يَٰٓأَيُّهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:15#
إِنَّمَآ أَمْوَٰلُكُمْ وَأَوْلَٰدُكُمْ فِتْنَةٌ وَٱللَّهُ عِندَهُۥٓ أَجْرٌ عَظِيمٌ

PickthallYour wealth and your children are only a temptation, whereas Allah! with Him is an immense reward.

Yusuf AliYour riches and your children may be but a trial: but in the Presence of Allah, is the highest, Reward.

The agreed readingYour wealth and your children are a trial — the word carrying here its sense of a test, and what is tested is whether they will take a man away from what comes after. They are not called an evil; they are called a test. And with God is a great reward, which is the thing lost by being taken up with them.
Urduتمہارے مال اور تمہاری اولاد محض ایک آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ فتنۃ کا مطلب ہے آزمائش جو تمہیں حرام کمانے اور اللہ کا حق روکنے پر ابھارتی ہے، تو ان کی نافرمانی میں اطاعت نہ کرو، اور حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا۔ تفسیر مقباس اس آیت کو ایک تتمہ قرار دیتی ہے، کیونکہ اس میں اولاد کی حالتوں کو عام کیا گیا ہے، اس کے بعد کہ ان میں سے بعض کی خاص حالت ذکر ہو چکی تھی، اور اس میں مال کو بھی شامل کیا گیا کیونکہ اسے پہلے بچنے کی طلب یا دشمنی کی صفت میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
Arabicإنما أموالكم وأولادكم فتنة والله عنده أجر عظيم. ذكر القرطبي أن فتنة أي بلاء واختبار يحملكم على كسب المحرم ومنع حق الله تعالى، فلا تطيعوهم في معصية الله، وفي الحديث يؤتى برجل يوم القيامة. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية تذييل لأن فيه تعميم أحوال الأولاد بعد أن ذكر حال خاص ببعضهم، وأدمج فيه الأموال لأنها لم يشملها طلب الحذر ولا وصف العداوة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Fayḍ al-Kāshānī في هذه الآية

Cited by al-Fayḍ al-Kāshānī on this āyah

al-Fayḍ al-Kāshānī نے اس آیت پر نقل کیا

Nahj al-Balāgha, no. 1708

٩٣. وَقَالَ (عليه ‏السلام): لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتْنَةِ لِأَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى فِتْنَةٍ وَلَكِنْ مَنِ اسْتَعَاذَ فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ يَقُولُ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَمَعْنَى ذَلِكَ أَنَّهُ يَخْتَبِرُهُمْ بِالْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ لِيَتَبَيَّنَ السَّاخِطَ لِرِزْقِهِ وَالرَّاضِيَ بِقِسْمِهِ وَإِنْ كَانَ سُبْحَانَهُ أَعْلَمَ بِهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَلَكِنْ لِتَظْهَرَ الْأَفْعَالُ الَّتِى بِهَا يُسْتَحَقُّ الثَّوَابُ وَالْعِقَابُ لِأَنَّ بَعْضَهُمْ يُحِبُّ الذُّكُورَ وَيَكْرَهُ الْإِنَاثَ وَبَعْضَهُمْ يُحِبُّ تَثْمِيرَ الْمَالِ …
93. Amīr al-mu’minīn, peace be upon him, said: None of you should say, “O Allāh, I seek Your protection from trouble” because there is no one who is not involved in trouble, but whoever seeks Allāh’s protection he should seek it from misguiding troubles, because Allāh, the Glorified, says: And know you that your wealth and your children are a temptation!. (Qur’ān, 8:28) and its meaning is that He tries people with wealth and progeny in order to distinguish one who is displeased with his livelihood from the one who is happy with what he has been given. Even though Allāh, the Glorified, knows them more than they know themselves yet He does so to let them perform actions with which they earn …
اور انہوں نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: اے اللہ! میں تم سے الفتنہ سے پناہ چاہتا ہوں۔ کیونکہ کوئی بھی شخص نہیں جو الفتنہ میں نہ ہو۔ لیکن جو پناہ چاہے تو مضلات الفتن سے پناہ چاہے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ فرماتے ہیں: اور جان لو کہ تمہارے اموال اور اولاد الفتنہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اموال اور اولاد سے آزماتے ہیں تاکہ ظاہر ہو جائے کہ کون اپنے رزق سے ناخوش ہے اور کون اپنے حصے سے خوش ہے۔ اگرچہ اللہ سبحانہ انہیں خود ان سے زیادہ جانتے ہیں، لیکن تاکہ وہ اعمال ظاہر ہوں جن سے ثواب اور عذاب لائق ہوں۔ کیونکہ کچھ لوگ ذکور کو پسند کرتے ہیں اور اناث کو برا جانتے ہیں۔ اور کچھ لوگ مال کی تثمیر کو پسند کرتے ہیں اور حالات کے انثلام کو برا جانتے ہیں۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr, al-Fayḍ al-Kāshānī and al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3774

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، ‏:‏ بُرَيْدَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ إنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ ‏)‏ نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا …
Narrated Buraidah:"The Messenger of Allah (ﷺ) was delivering a Khutbah to us when Al-Hasan and Al-Husain [peace be upon them] came, wearing red shirts, walking and falling down. So the Messenger of Allah (ﷺ) descended from the Minbar and carried them, and placed them in front of him. Then he said: 'Allah spoke the Truth: Indeed, your wealth and your children are a trial (64:15). I looked at these two children walking and falling down, and I could not bear patiently anymore until I interrupted my talk and picked them up
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭūsī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Ṭūsī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Ṭūsī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3317

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلاَدِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ‏)‏ قَالَ هَؤُلاَءِ رِجَالٌ أَسْلَمُوا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَرَادُوا أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَزْوَاجُهُمْ وَأَوْلاَدُهُمْ أَنْ يَدَعُوهُمْ أَنْ يَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَوُا النَّاسَ قَدْ فَقِهُوا فِي الدِّينِ هَمُّوا أَنْ يُعَاقِبُوهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَل َّ‏:‏ ‏(‏ يا …
Ikrimah narrated that :Ibn Abbas was asked by a man about this Ayah: O you who believe! Verity, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them! He said: “These are men who submitted (to Islam) in Makkah, and they wanted to come to the Prophet but their wives and children refused to allow them to come to the Messenger of Allah. So when they came to the Messenger of Allah, they saw that the people had gained such understanding in the religion that they wanted to punish them (their families). So Allah revealed the Ayah: O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them!”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3316

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يُبَلِّغُهُ حَجَّ بَيْتِ رَبِّهِ أَوْ تَجِبُ عَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةُ فَلَمْ يَفْعَلْ سَأَلَ الرَّجْعَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ اتَّقِ اللَّهَ إِنَّمَا سَأَلَ الرَّجْعَةَ الْكُفَّارُ قَالَ سَأَتْلُو عَلَيْكَ بِذَلِكَ قُرْآنًا ‏:‏ ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلاَ أَوْلاَدُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ‏)‏ ‏:‏ ‏(‏وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏ واللَّهُ …
Ad-Dahhak bin Muzahim narrated:From Ibn Abbas [may Allah be pleased with him] who said: “Whoever has wealth, required him to perform Hajj to the House of his Lord, or upon which Zakat is obligatory, but he does not do it, then he shall ask to return (the world) upon his death.” A man said: “Oh Ibn Abbas! Have Taqwa of Allah! It is only the disbelievers who will be asked to return.” He said: “For that, I shall recite to you from the Qur’an: You who believe! Let not your properties or your children divert you from the remembrance of Allah. And whosever does that, then they are with the losers. And spend of that which We have provided you before death comes to one of you, and says: “My Lord! …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حج بیت اللہ کو جا سکے یا اس پر اس میں زکاۃ واجب ہوتی ہو اور وہ حج کو نہ جائے، زکاۃ ادا نہ کرے تو وہ مرتے وقت اللہ سے درخواست کرے گا کہ اسے وہ دنیا میں دوبارہ لوٹا دے، ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اللہ سے ڈرو، دوبارہ لوٹا دیئے جانے کی آرزو تو کفار کریں گے ( نہ کہ مسلمین ) ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے متعلق قرآن پڑھ کر سناتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فأولئك هم الخاسرون وأنفقوا من ما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت» سے «والله خبير بما تعملون» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 1955

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، ح وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Sa'eed narrated that the Messenger of Allah said :"Whoever is not grateful to the people, he is not grateful to Allah
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کا شکر یہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، اشعث بن قیس اور نعمان بن بشیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 2118

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ فِي النِّكَاحِ وَغَيْرِهِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ - الْمَعْنَى - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ وَأَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُطْبَةَ الْحَاجَةِ ‏"‏ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا …
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) taught us the address in case of some need: Praise be to Allah from Whom we ask help and pardon, and in Whom we take refuge from the evils within ourselves. He whom Allah guides has no one who can lead him astray, and he whom He leads astray has no one to guide him. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Apostle. "You who believe,...fear Allah by Whom you ask your mutual rights, and reverence the wombs. Allah has been watching you." ..."you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as Muslims" ...."you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سکھایا: «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ به من شرور أنفسنا من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» اے ایمان والو! اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے ( سورۃ النساء: ۱ ) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مسلمان ہی رہ کر مرو ( سورۃ آل عمران: ۱۰۲ ) ۔ «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 1404

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلاَثَ آيَاتٍ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ …
It was narrated from 'Abdullah:"The Prophet (ﷺ) taught us Khutbat Al-Hajah: Alhamduu lillahi nasta'inuhu wa nastagfiruhu, wa na'udhu billahi min shururi anfusina wa sayi'ati a'malina. Man yahdihillahu fala mudilla lahu wa man yudlil fala hadiya lahu. Wa ashhadu an la ilaha illallahu wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu. (Praise be to Allah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge in Allah from the evil of our own souls and from our bad deeds. Whomsoever Allah guides will never be led astray,and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجة ۱؎ سکھایا، اور وہ یہ ہے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، پھر آپ یہ تین آیتیں …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 4325

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ }‏ ‏"‏ وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي الأَرْضِ لأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعِيشَتَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) recited:“O you who believe! Have fear of Allah as is His due, and die not except as Muslims. [3:102] (Then he said): ‘If a drop of Zaqqum were to be dropped on the earth, it would ruin the livelihood of the people of this world, so how about those who have no food other than it (i.e. Zaqqum)?’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ( آل عمران: ۱۰۲ ) تلاوت کی اور فرمایا: زقوم ( تھوہڑ ) کا ایک قطرہ ( جہنمیوں کی خوراک ) زمین پر ٹپک جائے، تو ساری دنیا والوں کی زندگی تباہ کر دے، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جن کے پاس اس کے سوا کوئی کھانا نہ ہو گا ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2555

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ‏.‏ فَيَقُولُونَ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ ‏.‏ فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ مَا لَنَا لاَ نَرْضَى وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ‏.‏ فَيَقُولُ أَنَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالُوا وَأَىُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلاَ أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ …
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Indeed, Allah will say to the people of Paradise: 'O people of Paradise!' They will say: 'We respond to You, O our Lord,and we are at Your service.' Then He will say: 'Are you pleased?' They will say: 'Why should we not be pleased when You have given us what you have not given anyone from Your creation.' So He will say: 'I shall give you what is greater than that.' They will say: 'And what is greater than that?' He will say: 'I shall cover you in My Pleasure and I shall not become angry with you ever
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جنت والوں سے کہے گا: اے جنت والو! وہ کہیں گے: لبیک اور سعدیک اے ہمارے رب! اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا تم راضی ہو گئے؟ وہ کہیں گے: ہم کیوں نہیں راضی ہوں گے جب کہ تو نے ہمیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو تو نے اپنی کسی مخلوق کو نہیں دی ہیں، اللہ تعالیٰ کہے گا: میں تمہیں اس سے بھی زیادہ بہتر چیز دوں گا۔ وہ پوچھیں گے: اس سے بہتر کون سی چیز ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے اوپر اپنی رضا مندی نازل کروں گا اور تم سے کبھی نہیں ناراض ہوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:16#
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ مَا ٱسْتَطَعْتُمْ وَٱسْمَعُوا۟ وَأَطِيعُوا۟ وَأَنفِقُوا۟ خَيْرًا لِّأَنفُسِكُمْ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِۦ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

PickthallSo keep your duty to Allah as best ye can, and listen, and obey, and spend; that is better for your souls. And whoso is saved from his own greed, such are the successful.

Yusuf AliSo fear Allah as much as ye can; listen and obey and spend in charity for the benefit of your own soul and those saved from the covetousness of their own souls,- they are the ones that achieve prosperity.

The agreed readingSo be mindful of God as much as you can. The commentaries set this beside the earlier command to be mindful of Him as He should be, which the Companions had found beyond their strength: this āyah measures the duty by what a man is able for. And listen — a listening that accepts — and obey, and spend; that is better for yourselves. Whoever is guarded from his own grasping nature, those are the ones who succeed.
Urduپس اللہ سے ڈرو جتنی تمہاری استطاعت ہو، اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور جو اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا جائے تو وہی کامیاب ہیں۔ قرطبی بتاتے ہیں کہ اہلِ تاویل کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ یہ آیت پہلے حکم کو منسوخ کرتی ہے۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ اپنے تقویٰ کا حکم دیتا ہے، جو اس کے احکام کی تعمیل اور اس کی ممانعتوں سے بچنا ہے، اور اسے استطاعت اور قدرت کے ساتھ مقید کیا، تو یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ فرض جس سے بندہ عاجز ہو وہ اس سے ساقط ہو جاتا ہے، اور اگر وہ حکم کیے گئے کچھ حصے پر قادر ہو اور کچھ پر عاجز ہو تو جتنا قادر ہو اتنا کرے۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ ما استطعتم کا مطلب ہے اپنی کوشش اور طاقت، یعنی اس میں اپنی استطاعت خرچ کرو، واسمعوا کا مطلب ہے جس چیز کی نصیحت کی جائے، وأطیعوا کا مطلب ہے جس چیز کا حکم دیا جائے اور جس سے روکا جائے۔
Arabicفاتقوا الله ما استطعتم واسمعوا وأطيعوا وأنفقوا خيرا لأنفسكم ومن يوق شح نفسه فأولئك هم المفلحون. ذكر القرطبي أن جماعة من أهل التأويل ذهبوا إلى أن هذه الآية ناسخة. وذكر السعدي أن الله يأمر بتقواه التي هي امتثال أوامره واجتناب نواهيه، وقيد ذلك بالاستطاعة والقدرة، فهذه الآية تدل على أن كل واجب عجز عنه العبد يسقط عنه، وأنه إذا قدر على بعض المأمور وعجز عن بعضه فإنه يأتي بما يقدر عليه. وفسر الزمخشري ما استطعتم بأنه جهدكم ووسعكم، أي ابذلوا فيها استطاعتكم، واسمعوا ما توعظون به، وأطيعوا فيما تأمرون به وتنهون عنه.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 5, no. 33

درجته: Mohseni: صحيح

grading: Mohseni: صحيح

درجہ: Mohseni: صحيح

و ما كان فيه عن محمّد بن حمران؛ و جميل بن درّاج فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن يعقوب بن يزيد، عن محمّد بن أبي عمير، عن محمّد بن حمران؛ و جميل بن درّاج‌.
Everything in this book that is narrated from Muhammad ibn Hurman and Jamil ibn Darraj has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ya'qub ibn Yazid, from Muhammad ibn Abi 'Umayr, from Muhammad ibn Hurman and Jamil ibn Darraj.
اور جو اس میں محمد بن حمران اور جميل بن دراج سے ہے تو میں نے اسے اپنے والد رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے، والد نے سعد بن عبد الله سے، سعد نے يعقوب بن يزيد سے، يعقوب نے محمد بن أبي عمير سے، محمد نے محمد بن حمران اور جميل بن دراج سے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَٱتَّقُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 5, no. 5

درجته: Mohseni: احد الطرق معتبر

grading: Mohseni: احد الطرق معتبر

درجہ: Mohseni: احد الطرق معتبر

و ما كان فيه عن يعقوب بن عثيم‌ فقد رويته عن محمّد بن موسى بن المتوكّل- رضي اللّه عنه- عن عليّ بن إبراهيم بن هاشم، عن محمّد بن أبي عمير، عن يعقوب بن عثيم. و رويته عن أبي- رحمه اللّه- عن سعد بن عبد اللّه، عن يعقوب بن يزيد، عن محمّد بن أبي عمير، عن يعقوب بن عثيم‌.
Everything in this book that is narrated from Ya'qub ibn 'Athim has been transmitted by me from Muhammad ibn Musa ibn Al-Mutawakkil - may Allah (swt) be pleased with him - from Ali ibn Ibrahim ibn Hashim, from Muhammad ibn Abi Umayr, from Ya'qub ibn 'Athim. I have also narrated it from my father - may Allah (swt) have mercy on him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ya'qub ibn Yazid, from Muhammad ibn Abi Umayr, from Ya'qub ibn 'Athim.
اور جو کچھ اس کتاب میں یعقوب بن عثیم سے روایت کی گئی ہے تو میں نے اسے محمد بن موسیٰ بن المتوکل - رضی اللہ عنہ - سے روایت کیا، وہ علی بن ابراہیم بن ہاشم سے، وہ محمد بن ابی عمیر سے، وہ یعقوب بن عثیم سے۔ اور میں نے اسے اپنے باپ - رحمہ اللہ - سے روایت کیا، وہ سعد بن عبد اللہ سے، وہ یعقوب بن یزید سے، وہ محمد بن ابی عمیر سے، وہ یعقوب بن عثیم سے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَٱتَّقُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 5, no. 108

درجته: Mohseni: معتبر

grading: Mohseni: معتبر

درجہ: Mohseni: معتبر

و ما كان فيه عن رفاعة بن موسى النخّاس فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن يعقوب بن يزيد، عن محمّد بن أبي عمير، عن رفاعة بن موسى النخّاس‌.
Everything in this book that is narrated from Rifa'ah ibn Musa Al-Nakhkhas has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ya'qub ibn Yazid, from Muhammad ibn Abi 'Umayr, from Rifa'ah ibn Musa Al-Nakhkhas.
اور جو کچھ اس میں رفاعہ بن موسیٰ النخاس سے ہے تو میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا - اللہ ان سے راضی ہو - سعد بن عبد اللہ سے، یعقوب بن یزید سے، محمد بن ابی عمیر سے، رفاعہ بن موسیٰ النخاس سے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَٱتَّقُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3774

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، ‏:‏ بُرَيْدَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ إنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ ‏)‏ نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا …
Narrated Buraidah:"The Messenger of Allah (ﷺ) was delivering a Khutbah to us when Al-Hasan and Al-Husain [peace be upon them] came, wearing red shirts, walking and falling down. So the Messenger of Allah (ﷺ) descended from the Minbar and carried them, and placed them in front of him. Then he said: 'Allah spoke the Truth: Indeed, your wealth and your children are a trial (64:15). I looked at these two children walking and falling down, and I could not bear patiently anymore until I interrupted my talk and picked them up
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَٱتَّقُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ṭanṭāwī في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ṭanṭāwī on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 1925

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Jarir bin 'Abdullah narrated :" I pledged to the Prophet to establish the Salat, give the Zakat, and to give sincere advice to every Muslim
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَٱتَّقُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3316

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يُبَلِّغُهُ حَجَّ بَيْتِ رَبِّهِ أَوْ تَجِبُ عَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةُ فَلَمْ يَفْعَلْ سَأَلَ الرَّجْعَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ اتَّقِ اللَّهَ إِنَّمَا سَأَلَ الرَّجْعَةَ الْكُفَّارُ قَالَ سَأَتْلُو عَلَيْكَ بِذَلِكَ قُرْآنًا ‏:‏ ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلاَ أَوْلاَدُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ‏)‏ ‏:‏ ‏(‏وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏ واللَّهُ …
Ad-Dahhak bin Muzahim narrated:From Ibn Abbas [may Allah be pleased with him] who said: “Whoever has wealth, required him to perform Hajj to the House of his Lord, or upon which Zakat is obligatory, but he does not do it, then he shall ask to return (the world) upon his death.” A man said: “Oh Ibn Abbas! Have Taqwa of Allah! It is only the disbelievers who will be asked to return.” He said: “For that, I shall recite to you from the Qur’an: You who believe! Let not your properties or your children divert you from the remembrance of Allah. And whosever does that, then they are with the losers. And spend of that which We have provided you before death comes to one of you, and says: “My Lord! …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حج بیت اللہ کو جا سکے یا اس پر اس میں زکاۃ واجب ہوتی ہو اور وہ حج کو نہ جائے، زکاۃ ادا نہ کرے تو وہ مرتے وقت اللہ سے درخواست کرے گا کہ اسے وہ دنیا میں دوبارہ لوٹا دے، ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اللہ سے ڈرو، دوبارہ لوٹا دیئے جانے کی آرزو تو کفار کریں گے ( نہ کہ مسلمین ) ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے متعلق قرآن پڑھ کر سناتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فأولئك هم الخاسرون وأنفقوا من ما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت» سے «والله خبير بما تعملون» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَٱتَّقُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 2748

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ ‏ "‏ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ حَرِيصٌ‏.‏ تَأْمُلُ الْغِنَى، وَتَخْشَى الْفَقْرَ، وَلاَ تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلاَنٍ كَذَا وَلِفُلاَنٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلاَنٍ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:A man asked the Prophet, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What kind of charity is the best?" He replied. "To give in charity when you are healthy and greedy hoping to be wealthy and afraid of becoming poor. Don't delay giving in charity till the time when you are on the death bed when you say, 'Give so much to so-and-so and so much to so-and-so,' and at that time the property is not yours but it belongs to so-and-so (i.e. your inheritors)
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا سفیان ثوری سے ‘ وہ عمارہ سے ‘ ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا یہ کہ صدقہ تندرستی کی حالت میں کر کہ ( تجھ کو اس مال کو باقی رکھنے کی ) خواہش بھی ہو جس سے کچھ سرمایہ جمع ہو جانے کی تمہیں امید ہو اور ( اسے خرچ کرنے کی صورت میں ) محتاجی کا ڈر ہو اور اس میں تاخیر نہ کر کہ جب روح حلق تک پہنچ جائے تو کہنے بیٹھ جائے کہ اتنا مال فلاں کے لیے ‘ فلانے کو اتنا دینا ‘ اب تو فلانے کا ہو ہی گیا ( تو تو دنیا سے چلا ) ۔

وأخرجه أيضا: Ṣaḥīḥ Muslim 2383

also recorded in: Ṣaḥīḥ Muslim 2383

یہ روایت ان کتب میں بھی ہے: Ṣaḥīḥ Muslim 2383

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَٱتَّقُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3317

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلاَدِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ‏)‏ قَالَ هَؤُلاَءِ رِجَالٌ أَسْلَمُوا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَرَادُوا أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَزْوَاجُهُمْ وَأَوْلاَدُهُمْ أَنْ يَدَعُوهُمْ أَنْ يَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَوُا النَّاسَ قَدْ فَقِهُوا فِي الدِّينِ هَمُّوا أَنْ يُعَاقِبُوهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَل َّ‏:‏ ‏(‏ يا …
Ikrimah narrated that :Ibn Abbas was asked by a man about this Ayah: O you who believe! Verity, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them! He said: “These are men who submitted (to Islam) in Makkah, and they wanted to come to the Prophet but their wives and children refused to allow them to come to the Messenger of Allah. So when they came to the Messenger of Allah, they saw that the people had gained such understanding in the religion that they wanted to punish them (their families). So Allah revealed the Ayah: O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them!”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَٱتَّقُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 1955

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، ح وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Sa'eed narrated that the Messenger of Allah said :"Whoever is not grateful to the people, he is not grateful to Allah
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کا شکر یہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، اشعث بن قیس اور نعمان بن بشیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَٱتَّقُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:17#
إِن تُقْرِضُوا۟ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَٰعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَٱللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ

PickthallIf ye lend unto Allah a goodly loan, He will double it for you and will forgive you, for Allah is Responsive, Clement,

Yusuf AliIf ye loan to Allah, a beautiful loan, He will double it to your (credit), and He will grant you Forgiveness: for Allah is most Ready to appreciate (service), Most Forbearing,-

The agreed readingIf you lend God a goodly loan He will multiply it for you and forgive you. The commentaries of both traditions agree on what makes the loan goodly — that it is given from a willing heart — and on the multiplying: ten for one, and up to seven hundred and beyond. God is Appreciative and Forbearing.
Urduاگر تم اللہ کو اچھا قرض دو تو وہ تمہارے لیے اسے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ قدردان اور بردبار ہے۔ زمخشری وضاحت کرتے ہیں کہ یہاں قرض کا لفظ استعمال کرنا دعوت میں نرمی کے لیے ہے، اور یضاعفہ لکم کا مطلب ہے کہ اللہ ایک کے بدلے دس یا سات سو تک، بلکہ جتنا چاہے اس سے بھی زیادہ لکھ دیتا ہے۔ شکور کے بارے میں بتاتے ہیں کہ یہ ایک مجازی معنیٰ ہے، یعنی اللہ تمہارے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے جیسے شکر میں مبالغہ کرنے والا کرتا ہے، بہت بڑے اجر کے ساتھ، اسی طرح حلیم بھی مجازی معنیٰ میں ہے۔ تفسیر مقباس اس آیت کو پچھلی آیت وانفقوا خیرا لانفسکم سے پیدا ہونے والا ایک وضاحتی جملہ قرار دیتی ہے، کیونکہ خرچ کرنے پر بخشش کے ساتھ اجر کا دوگنا ہونا بہتر ہے۔
Arabicإن تقرضوا الله قرضا حسنا يضاعفه لكم ويغفر لكم والله شكور حليم. فسر الزمخشري ذكر القرض بأنه تلطف في الاستدعاء، ويضاعفه لكم يعني يكتب لكم بالواحدة عشرا أو سبعمائة إلى ما شاء من الزيادة. وذكر أن شكور مجاز، أي يفعل بكم ما يفعل المبالغ في الشكر من عظيم الثواب، وكذلك حليم يفعل بكم ما يفعل من يحلم عن التقصير. وفي تفسير مقباس أن هذه الآية استئناف بياني ناشئ عن قوله وأنفقوا خيرا لأنفسكم، فإن مضاعفة الجزاء على الإنفاق مع المغفرة خير.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3774

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، ‏:‏ بُرَيْدَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ إنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ ‏)‏ نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا …
Narrated Buraidah:"The Messenger of Allah (ﷺ) was delivering a Khutbah to us when Al-Hasan and Al-Husain [peace be upon them] came, wearing red shirts, walking and falling down. So the Messenger of Allah (ﷺ) descended from the Minbar and carried them, and placed them in front of him. Then he said: 'Allah spoke the Truth: Indeed, your wealth and your children are a trial (64:15). I looked at these two children walking and falling down, and I could not bear patiently anymore until I interrupted my talk and picked them up
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3316

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يُبَلِّغُهُ حَجَّ بَيْتِ رَبِّهِ أَوْ تَجِبُ عَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةُ فَلَمْ يَفْعَلْ سَأَلَ الرَّجْعَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ اتَّقِ اللَّهَ إِنَّمَا سَأَلَ الرَّجْعَةَ الْكُفَّارُ قَالَ سَأَتْلُو عَلَيْكَ بِذَلِكَ قُرْآنًا ‏:‏ ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلاَ أَوْلاَدُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ‏)‏ ‏:‏ ‏(‏وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏ واللَّهُ …
Ad-Dahhak bin Muzahim narrated:From Ibn Abbas [may Allah be pleased with him] who said: “Whoever has wealth, required him to perform Hajj to the House of his Lord, or upon which Zakat is obligatory, but he does not do it, then he shall ask to return (the world) upon his death.” A man said: “Oh Ibn Abbas! Have Taqwa of Allah! It is only the disbelievers who will be asked to return.” He said: “For that, I shall recite to you from the Qur’an: You who believe! Let not your properties or your children divert you from the remembrance of Allah. And whosever does that, then they are with the losers. And spend of that which We have provided you before death comes to one of you, and says: “My Lord! …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حج بیت اللہ کو جا سکے یا اس پر اس میں زکاۃ واجب ہوتی ہو اور وہ حج کو نہ جائے، زکاۃ ادا نہ کرے تو وہ مرتے وقت اللہ سے درخواست کرے گا کہ اسے وہ دنیا میں دوبارہ لوٹا دے، ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اللہ سے ڈرو، دوبارہ لوٹا دیئے جانے کی آرزو تو کفار کریں گے ( نہ کہ مسلمین ) ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے متعلق قرآن پڑھ کر سناتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فأولئك هم الخاسرون وأنفقوا من ما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت» سے «والله خبير بما تعملون» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3317

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلاَدِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ‏)‏ قَالَ هَؤُلاَءِ رِجَالٌ أَسْلَمُوا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَرَادُوا أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَزْوَاجُهُمْ وَأَوْلاَدُهُمْ أَنْ يَدَعُوهُمْ أَنْ يَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَوُا النَّاسَ قَدْ فَقِهُوا فِي الدِّينِ هَمُّوا أَنْ يُعَاقِبُوهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَل َّ‏:‏ ‏(‏ يا …
Ikrimah narrated that :Ibn Abbas was asked by a man about this Ayah: O you who believe! Verity, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them! He said: “These are men who submitted (to Islam) in Makkah, and they wanted to come to the Prophet but their wives and children refused to allow them to come to the Messenger of Allah. So when they came to the Messenger of Allah, they saw that the people had gained such understanding in the religion that they wanted to punish them (their families). So Allah revealed the Ayah: O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them!”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 1955

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، ح وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Sa'eed narrated that the Messenger of Allah said :"Whoever is not grateful to the people, he is not grateful to Allah
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کا شکر یہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، اشعث بن قیس اور نعمان بن بشیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 2118

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ فِي النِّكَاحِ وَغَيْرِهِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ - الْمَعْنَى - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ وَأَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُطْبَةَ الْحَاجَةِ ‏"‏ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا …
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) taught us the address in case of some need: Praise be to Allah from Whom we ask help and pardon, and in Whom we take refuge from the evils within ourselves. He whom Allah guides has no one who can lead him astray, and he whom He leads astray has no one to guide him. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Apostle. "You who believe,...fear Allah by Whom you ask your mutual rights, and reverence the wombs. Allah has been watching you." ..."you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as Muslims" ...."you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سکھایا: «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ به من شرور أنفسنا من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» اے ایمان والو! اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے ( سورۃ النساء: ۱ ) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مسلمان ہی رہ کر مرو ( سورۃ آل عمران: ۱۰۲ ) ۔ «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 1404

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلاَثَ آيَاتٍ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ …
It was narrated from 'Abdullah:"The Prophet (ﷺ) taught us Khutbat Al-Hajah: Alhamduu lillahi nasta'inuhu wa nastagfiruhu, wa na'udhu billahi min shururi anfusina wa sayi'ati a'malina. Man yahdihillahu fala mudilla lahu wa man yudlil fala hadiya lahu. Wa ashhadu an la ilaha illallahu wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu. (Praise be to Allah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge in Allah from the evil of our own souls and from our bad deeds. Whomsoever Allah guides will never be led astray,and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجة ۱؎ سکھایا، اور وہ یہ ہے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، پھر آپ یہ تین آیتیں …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 4325

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ }‏ ‏"‏ وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي الأَرْضِ لأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعِيشَتَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) recited:“O you who believe! Have fear of Allah as is His due, and die not except as Muslims. [3:102] (Then he said): ‘If a drop of Zaqqum were to be dropped on the earth, it would ruin the livelihood of the people of this world, so how about those who have no food other than it (i.e. Zaqqum)?’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ( آل عمران: ۱۰۲ ) تلاوت کی اور فرمایا: زقوم ( تھوہڑ ) کا ایک قطرہ ( جہنمیوں کی خوراک ) زمین پر ٹپک جائے، تو ساری دنیا والوں کی زندگی تباہ کر دے، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جن کے پاس اس کے سوا کوئی کھانا نہ ہو گا ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabrisī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabrisī on this āyah

al-Ṭabrisī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2144

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُبَادَةَ وَجَابِرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ‏.‏
Jabir bin 'Abdullah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:'A slave (of Allah) shall not believe until he believes in Al-Qadar, its good and its bad, such that he knows that what struck him would not have missed him, and that what missed him would not have struck him
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لے آئے، اور یہ یقین کر لے کہ جو کچھ اسے لاحق ہوا ہے چوکنے والا نہ تھا اور جو کچھ چوک گیا ہے اسے لاحق ہونے والا نہ تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن میمون کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- عبداللہ بن میمون منکر حدیث ہیں، ۳- اس باب میں عبادہ، جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabrisī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabrisī on this āyah

al-Ṭabrisī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 5075

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَالِمًا الْفَرَّاءَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّهُ حَدَّثَتْهُ وَكَانَتْ، تَخْدِمُ بَعْضَ بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ بِنْتَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهَا فَيَقُولُ ‏ "‏ قُولِي حِينَ تُصْبِحِينَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُصْبِحُ …
Narrated Daughter of the Prophet: AbdulHamid, a client of Banu Hashim, said that his mother who served some of the daughters of the Prophet (ﷺ) told him that one of the daughters of the Prophet (ﷺ) said that the Prophet (ﷺ) used to teach her saying: Say in the morning: Glory be to Allah, and I begin with praise of Him; there is no power but in Allah ; what Allah wills comes to pass and what He does not will does not come to pass; I know that Allah is Omnipotent and that Allah has comprehended everything in knowledge" ; for whoever says it in the morning will be guarded till the evening, and whoever says it in the evening will be guarded till the morning
بنی ہاشم کے غلام عبدالحمید بیان کرتے ہیں کہ ان کی ماں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کی خدمت میں رہا کرتی تھیں انہیں بتایا کہ ان کی صاحبزادی نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب تم صبح کرو تو کہو «سبحان الله وبحمده لا قوة إلا بالله ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن أعلم أن الله على كل شىء قدير وأن الله قد أحاط بكل شىء علما» میں اللہ کی پاکی بیان کرتا، اور اس کی تعریف کرتا ہوں، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، جو اللہ چاہے گا وہی ہو گا، اور جو وہ نہیں چاہے وہ نہیں ہو گا، میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ اپنے علم سے ہر چیز کو محیط ہے جو شخص ان کلمات کو صبح کے وقت کہے گا اس کی ( اللہ کی طرف سے ) شام تک حفاظت کی جائے گی، اور جو …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

64:18#
عَٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

PickthallKnower of the Invisible and the Visible, the Mighty, the Wise.

Yusuf AliKnower of what is open, Exalted in Might, Full of Wisdom.

The agreed readingKnower of the unseen and the seen — of what is kept secret and of what is open — the Mighty in His dominion, the Wise in His making. After everything the sūrah has asked of the reader, it closes on the one who is asking.
Urduغیب اور حاضر کا جاننے والا، زبردست، حکمت والا۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ الغیب والشہادۃ سے مراد جو کچھ غائب ہے اور جو حاضر ہے، اور العزیز کا مطلب ہے غالب اور قاہر، جو افعال کی صفتوں میں سے ہے، اور اسی سے اللہ کا وہ فرمان بھی ہے کہ کتاب کا اتارنا اللہ زبردست کی طرف سے ہے۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ عالم الغیب والشہادۃ العزیز الحکیم کی صفت اللہ کی عظمت کی یاد دہانی کی تکمیل ہے، اور اس کی مناسبت پچھلی سب آیات میں موجود ترغیب اور ترہیب سے ہے، کیونکہ افعال کا جاننے والا ہی حقیقی معنیٰ میں غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے۔
Arabicعالم الغيب والشهادة العزيز الحكيم. فسر القرطبي الغيب والشهادة بأنه ما غاب وحضر، والعزيز أي الغالب القاهر، وهو من صفات الأفعال، ومنه قوله عز وجل تنزيل الكتاب من الله العزيز. وفي تفسير مقباس أن وصف عالم الغيب والشهادة العزيز الحكيم تتميم للتذكير بعظمة الله تعالى مع مناسبتها للترغيب والترهيب اللذين اشتملت عليهما الآيات السابقة كلها لأن العالم بالأفعال.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Ṭabrisī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Ṭabrisī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Ṭabrisī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3774

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، ‏:‏ بُرَيْدَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ إنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ ‏)‏ نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا …
Narrated Buraidah:"The Messenger of Allah (ﷺ) was delivering a Khutbah to us when Al-Hasan and Al-Husain [peace be upon them] came, wearing red shirts, walking and falling down. So the Messenger of Allah (ﷺ) descended from the Minbar and carried them, and placed them in front of him. Then he said: 'Allah spoke the Truth: Indeed, your wealth and your children are a trial (64:15). I looked at these two children walking and falling down, and I could not bear patiently anymore until I interrupted my talk and picked them up
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَٰلِمُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3316

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يُبَلِّغُهُ حَجَّ بَيْتِ رَبِّهِ أَوْ تَجِبُ عَلَيْهِ فِيهِ الزَّكَاةُ فَلَمْ يَفْعَلْ سَأَلَ الرَّجْعَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ اتَّقِ اللَّهَ إِنَّمَا سَأَلَ الرَّجْعَةَ الْكُفَّارُ قَالَ سَأَتْلُو عَلَيْكَ بِذَلِكَ قُرْآنًا ‏:‏ ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلاَ أَوْلاَدُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ‏)‏ ‏:‏ ‏(‏وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏ واللَّهُ …
Ad-Dahhak bin Muzahim narrated:From Ibn Abbas [may Allah be pleased with him] who said: “Whoever has wealth, required him to perform Hajj to the House of his Lord, or upon which Zakat is obligatory, but he does not do it, then he shall ask to return (the world) upon his death.” A man said: “Oh Ibn Abbas! Have Taqwa of Allah! It is only the disbelievers who will be asked to return.” He said: “For that, I shall recite to you from the Qur’an: You who believe! Let not your properties or your children divert you from the remembrance of Allah. And whosever does that, then they are with the losers. And spend of that which We have provided you before death comes to one of you, and says: “My Lord! …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حج بیت اللہ کو جا سکے یا اس پر اس میں زکاۃ واجب ہوتی ہو اور وہ حج کو نہ جائے، زکاۃ ادا نہ کرے تو وہ مرتے وقت اللہ سے درخواست کرے گا کہ اسے وہ دنیا میں دوبارہ لوٹا دے، ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اللہ سے ڈرو، دوبارہ لوٹا دیئے جانے کی آرزو تو کفار کریں گے ( نہ کہ مسلمین ) ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے متعلق قرآن پڑھ کر سناتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فأولئك هم الخاسرون وأنفقوا من ما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت» سے «والله خبير بما تعملون» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَٰلِمُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3317

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏(‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلاَدِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ‏)‏ قَالَ هَؤُلاَءِ رِجَالٌ أَسْلَمُوا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَرَادُوا أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَزْوَاجُهُمْ وَأَوْلاَدُهُمْ أَنْ يَدَعُوهُمْ أَنْ يَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَوُا النَّاسَ قَدْ فَقِهُوا فِي الدِّينِ هَمُّوا أَنْ يُعَاقِبُوهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَل َّ‏:‏ ‏(‏ يا …
Ikrimah narrated that :Ibn Abbas was asked by a man about this Ayah: O you who believe! Verity, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them! He said: “These are men who submitted (to Islam) in Makkah, and they wanted to come to the Prophet but their wives and children refused to allow them to come to the Messenger of Allah. So when they came to the Messenger of Allah, they saw that the people had gained such understanding in the religion that they wanted to punish them (their families). So Allah revealed the Ayah: O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them!”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَٰلِمُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 1955

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Lighairihi · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، ح وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Sa'eed narrated that the Messenger of Allah said :"Whoever is not grateful to the people, he is not grateful to Allah
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کا شکر یہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، اشعث بن قیس اور نعمان بن بشیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَٰلِمُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 2118

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ فِي النِّكَاحِ وَغَيْرِهِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ - الْمَعْنَى - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ وَأَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُطْبَةَ الْحَاجَةِ ‏"‏ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا …
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) taught us the address in case of some need: Praise be to Allah from Whom we ask help and pardon, and in Whom we take refuge from the evils within ourselves. He whom Allah guides has no one who can lead him astray, and he whom He leads astray has no one to guide him. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Apostle. "You who believe,...fear Allah by Whom you ask your mutual rights, and reverence the wombs. Allah has been watching you." ..."you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as Muslims" ...."you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سکھایا: «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ به من شرور أنفسنا من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» اے ایمان والو! اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے ( سورۃ النساء: ۱ ) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مسلمان ہی رہ کر مرو ( سورۃ آل عمران: ۱۰۲ ) ۔ «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَٰلِمُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 1404

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلاَثَ آيَاتٍ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ …
It was narrated from 'Abdullah:"The Prophet (ﷺ) taught us Khutbat Al-Hajah: Alhamduu lillahi nasta'inuhu wa nastagfiruhu, wa na'udhu billahi min shururi anfusina wa sayi'ati a'malina. Man yahdihillahu fala mudilla lahu wa man yudlil fala hadiya lahu. Wa ashhadu an la ilaha illallahu wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu. (Praise be to Allah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge in Allah from the evil of our own souls and from our bad deeds. Whomsoever Allah guides will never be led astray,and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجة ۱؎ سکھایا، اور وہ یہ ہے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، پھر آپ یہ تین آیتیں …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَٰلِمُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 4325

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ }‏ ‏"‏ وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي الأَرْضِ لأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعِيشَتَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) recited:“O you who believe! Have fear of Allah as is His due, and die not except as Muslims. [3:102] (Then he said): ‘If a drop of Zaqqum were to be dropped on the earth, it would ruin the livelihood of the people of this world, so how about those who have no food other than it (i.e. Zaqqum)?’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ( آل عمران: ۱۰۲ ) تلاوت کی اور فرمایا: زقوم ( تھوہڑ ) کا ایک قطرہ ( جہنمیوں کی خوراک ) زمین پر ٹپک جائے، تو ساری دنیا والوں کی زندگی تباہ کر دے، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جن کے پاس اس کے سوا کوئی کھانا نہ ہو گا ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَٰلِمُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.