PickthallAlif. Lam. Ra. These are verses of the Scripture and a plain Reading.
Yusuf AliA. L. R. These are the Ayats of Revelation,- of a Qur'an that makes things clear.
The agreed readingAlif, Lām, Rā — letters whose meaning the commentaries leave with God. These are the signs of the Book, and of a Recitation that makes things plain. The sūrah names its subject in the first line: the Book itself, which is what the people it answers were mocking.
Urduالف، لام، را — یہ ایسے حروف ہیں جن کی حقیقی مراد مفسرین اللہ ہی کے سپرد کرتے ہیں۔ یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں اور ایسے قرآن کی جو بات کو صاف صاف کھول کر بیان کرتا ہے۔ یہ سورت اپنے موضوع کا نام پہلی ہی سطر میں لے لیتی ہے: خود یہی کتاب، جس کا وہی لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے جنہیں یہ جواب دے رہی ہے۔
Arabicالر حروف مقطعة تركها المفسرون لعلم الله وحده. هذه آيات الكتاب وقرآن مبين يوضح كل شيء ويكشفه. وهذه السورة تسمي موضوعها من أول سطر فيها: هذا الكتاب نفسه، وهو ما كان يستهزئ به أولئك القوم الذين تجيبهم السورة.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Samura b. Jundub reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would be among them those to whom the fire will reach up to their ankels and to some of them the fire would reach their knees and to some it would reach their waists and to some it would reach up to their collar-bones
عبدالوہاب بن عطاء نے ہمیں سعید سے خبر دی ، انھوں نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابو نضرہ کو سنا ، وہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کے دونوں ٹخنوں تک آگ لپٹی ہوگی ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جن کے دونوں گھٹنوں تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی کمر تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی ہنسلی کی ہڈی تک آگ پکڑے گی ۔
It was narrated that Abu Musa said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I have gained weight, so when I bow, then bow, and when I stand up, then stand up, and when I prostrate, then prostrate. I should never find anyone preceding me in bowing or prostration.’”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا بدن بھاری ہو گیا ہے، لہٰذا جب میں رکوع میں جاؤں تب تم رکوع میں جاؤ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھا لوں تو تم اپنا سر اٹھاؤ، اور جب سجدہ میں چلا جاؤں تو تم سجدہ میں جاؤ، میں کسی شخص کو نہ پاؤں کہ وہ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں چلا جائے ۔
PickthallIt may be that those who disbelieve wish ardently that they were Muslims.
Yusuf AliAgain and again will those who disbelieve, wish that they had bowed (to Allah's will) in Islam.
The agreed readingThere will come a time when those who refuse will wish they had submitted. The commentaries place the wishing on the Day of Resurrection, when they see their own state and the state of those who submitted set side by side; the wish arrives exactly when it can no longer be acted on.
Urduایک وقت ایسا آئے گا جب انکار کرنے والے یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی فرمانبردار مسلمان ہوتے۔ مفسرین اس آرزو کو قیامت کے دن سے جوڑتے ہیں، جب وہ اپنی حالت اور فرمانبرداروں کی حالت کو ساتھ ساتھ دیکھیں گے، اور یہ آرزو عین اس وقت پیدا ہوگی جب اس پر عمل کرنا ممکن ہی نہیں رہے گا۔
Arabicسيأتي وقت يتمنى فيه الذين كفروا لو كانوا مسلمين. ويرى المفسرون أن هذه الأمنية تكون يوم القيامة، حين يرون حالهم وحال المسلمين جنبًا إلى جنب، فتأتيهم الأمنية في اللحظة التي لا ينفعهم فيها العمل بها.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Samura b. Jundub reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would be among them those to whom the fire will reach up to their ankels and to some of them the fire would reach their knees and to some it would reach their waists and to some it would reach up to their collar-bones
عبدالوہاب بن عطاء نے ہمیں سعید سے خبر دی ، انھوں نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابو نضرہ کو سنا ، وہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کے دونوں ٹخنوں تک آگ لپٹی ہوگی ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جن کے دونوں گھٹنوں تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی کمر تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی ہنسلی کی ہڈی تک آگ پکڑے گی ۔
It was narrated that Abu Musa said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I have gained weight, so when I bow, then bow, and when I stand up, then stand up, and when I prostrate, then prostrate. I should never find anyone preceding me in bowing or prostration.’”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا بدن بھاری ہو گیا ہے، لہٰذا جب میں رکوع میں جاؤں تب تم رکوع میں جاؤ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھا لوں تو تم اپنا سر اٹھاؤ، اور جب سجدہ میں چلا جاؤں تو تم سجدہ میں جاؤ، میں کسی شخص کو نہ پاؤں کہ وہ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں چلا جائے ۔
PickthallLet them eat and enjoy life, and let (false) hope beguile them. They will come to know!
Yusuf AliLeave them alone, to enjoy (the good things of this life) and to please themselves: let (false) hope amuse them: soon will knowledge (undeceive them).
The agreed readingLeave them to eat and enjoy themselves, and let their hopes keep them busy — they will come to know. The commentaries read the hoping as the long expectation of more time, which is what occupies a person so completely that the question of the end never gets asked.
Urduانہیں چھوڑ دیں کہ کھائیں اور مزے اڑائیں، اور امیدیں انہیں مشغول رکھیں، عنقریب انہیں پتہ چل جائے گا۔ مفسرین اس امید سے مراد لمبی چوڑی توقعات لیتے ہیں جو انسان کو اس قدر مصروف کر دیتی ہیں کہ اس کے دل میں انجام کا سوال کبھی پیدا ہی نہیں ہوتا۔
Arabicدعهم يأكلون ويتمتعون ويشغلهم الأمل الطويل عن طاعة الله، فسوف يعلمون عاقبة أمرهم. ويفسر المفسرون هذا الأمل بطول الآمال في الحياة الذي يشغل الإنسان انشغالًا كاملًا حتى لا يخطر سؤال العاقبة على قلبه أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 1 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة3 reports cited here — 1 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Samura b. Jundub reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would be among them those to whom the fire will reach up to their ankels and to some of them the fire would reach their knees and to some it would reach their waists and to some it would reach up to their collar-bones
عبدالوہاب بن عطاء نے ہمیں سعید سے خبر دی ، انھوں نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابو نضرہ کو سنا ، وہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کے دونوں ٹخنوں تک آگ لپٹی ہوگی ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جن کے دونوں گھٹنوں تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی کمر تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی ہنسلی کی ہڈی تک آگ پکڑے گی ۔
3. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from Ali ibn al-Nu’man from Sa‘id ibn ‘Abd Allah al-’A‘raj who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that during the days of ignorance Quraysh had destroyed the House, but when they wanted to rebuild, something came between them and the House. They were frightened so much that someone among them said, ‘Everyone should bring the best and purest of his properties which he has earned free from involvement in misuse of good relations with relatives or unlawful matters. They did so and were allowed to build. They built up to the place for the Black Stone and they began to disagree about who should set it in place. The …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، علی بن النعمان سے، سعید بن عبداللہ الاعرج سے، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے روایت کی۔ ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے کہا: بے شک قریش نے جاہلیت میں بیت الحرام کو ڈھا دیا تھا۔ جب انہوں نے اسے دوبارہ بنانا چاہا تو ان کے اور اس کے درمیان روک لگائی گئی اور ان کے دلوں میں خوف ڈالا گیا۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: تم میں سے ہر شخص اپنے سب سے خوبصورت اور حلال مال لائے، اور اس مال سے بچو جو تم نے قطع رحمی یا حرام سے کمایا ہو۔ انہوں نے ایسا کیا اور انہیں تعمیر کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے اسے بنایا یہاں تک کہ سیاہ پتھر کی جگہ تک پہنچے۔ وہاں انہوں نے جھگڑنا شروع کیا - ہر ایک چاہتا تھا کہ سیاہ پتھر کو رکھے۔ جھگڑا بڑھنے لگا اور قریب تھا کہ شقّ و نزاع ہو۔ انہوں نے فیصلہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Hadith.1932 - Amru ibn Shimr narrated from Jabir, from Abu Ja'far (as), who said that the Messenger of Allah (swt) (peace be upon him and his family) said: "When the disk of the sun disappears, the fasting person may break their fast, and the time for prayer begins."
روایت کی عمرو بن شمر نے جابر سے، جابر نے ابی جعفر (علیہ السلام) سے، کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: جب سورج کا دائرہ غائب ہو جائے تو روزے دار اپنا روزہ افطار کر سکتا ہے اور نماز کا وقت داخل ہو جاتا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd We destroyed no township but there was a known decree for it.
Yusuf AliNever did We destroy a population that had not a term decreed and assigned beforehand.
The agreed readingAnd We destroyed no town without its having a decree already known. The commentaries gloss the decree as a term set and fixed for it, so that what looks like a sudden ruin was an appointment kept.
Urduاور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس کے لیے پہلے سے ایک معلوم مقررہ نوشتہ موجود تھا۔ مفسرین اس نوشتے کی وضاحت ایک مقرر اور طے شدہ مدت سے کرتے ہیں، یعنی جو ہلاکت اچانک نظر آتی ہے وہ دراصل ایک پہلے سے طے شدہ وقت کی تکمیل تھی۔
Arabicوما أهلكنا من قرية إلا ولها كتاب معلوم مكتوب من قبل. ويفسر المفسرون هذا الكتاب بأنه أجل مقدَّر ومحدد لها، فما يبدو هلاكًا مفاجئًا كان في الحقيقة وفاءً لموعد سابق مكتوب.
PickthallNo nation can outstrip its term nor can they lag behind.
Yusuf AliNeither can a people anticipate its term, nor delay it.
The agreed readingNo community outruns its term, nor do they fall behind it. Neither haste nor delay is available; the term is not a rough estimate that pressure could move.
Urduکوئی امت اپنی مقررہ مدت سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔ نہ جلدی ممکن ہے اور نہ تاخیر، یہ مدت کوئی موٹا موٹا اندازہ نہیں کہ دباؤ سے اسے ہٹایا جا سکے۔
Arabicما تسبق أمة أجلها المحدد لها فتتقدم عليه، وما يستأخرون عنه فيتأخرون. فلا تعجيل ولا تأجيل ممكن، إذ الأجل ليس تقديرًا تقريبيًّا يمكن للضغط أن يزحزحه أو يغيره.
PickthallAnd they say: O thou unto whom the Reminder is revealed, lo! thou art indeed a madman!
Yusuf AliThey say: "O thou to whom the Message is being revealed! truly thou art mad (or possessed)!
The agreed readingAnd they said: you, to whom the Reminder has been sent down — you are possessed. The commentaries note the shape of the taunt: they address him by the very claim they are denying, calling him the one it was revealed to in order to mock the idea that it was.
Urduاور انہوں نے کہا: اے وہ شخص جس پر ذکر نازل کیا گیا ہے، بے شک تو دیوانہ ہے۔ مفسرین اس طعنے کی نوعیت پر توجہ دلاتے ہیں: وہ اسی دعوے کے ذریعے اسے مخاطب کرتے ہیں جسے وہ جھٹلا رہے ہیں، اسے وہی کہہ کر پکارتے ہیں جس پر یہ نازل ہونے کا دعویٰ تھا، تاکہ اسی خیال کا مذاق اڑائیں۔
Arabicوقالوا مستهزئين: يا أيها الذي نُزِّل عليه الذكر، إنك لمجنون. ويلاحظ المفسرون شكل هذا الطعن: فهم يخاطبونه بنفس الدعوى التي يكذبونها، فيسمونه بمن نزل عليه الذكر ليسخروا من فكرة أنه نزل عليه أصلًا.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 3 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة6 reports cited here — 3 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُنْدَارَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَلَوِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عَلِيٍّ ( عليه السلام ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) اللَّحْمُ سَيِّدُ الطَّعَامِ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ .
2. Ali ibn Muhammad ibn Bandar has narrated from Ahmad ibn abu ‘Abd Allah from Muhammad ibn Ali from ‘Isa ibn ‘Abd Allah al-‘Alawiy from his father from his grandfather who has said the following: “Ali (a.s.), has said that the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, has said, ‘Meat is the master food in this world and in the next life. 5 ”
علی بن محمد بن بندار نے احمد بن ابی عبداللہ سے روایت کی، محمد بن علی سے، عیسیٰ بن عبداللہ العلوی سے، انہوں نے اپنے باپا سے، انہوں نے اپنے دادا سے، علی علیہ السلام سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گوشت کھانے والی چیزوں کا سردار ہے دنیا اور آخرت میں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated from Ibn 'Abbas with regard to Allah's saying:"Whatever a Verse (revelation) do We abrogate or cause to be forgotten, We bring a better one or similar to it." and He said: "And when We change a Verse in place of another --and Allah knows best what He sends down." and He said: "Allah blots out what He wills and confirms (what He wills). And with Him is the Mother of the Book." "The first thing that was abrogated in the Qur'an was the Qiblah." And He said: "And divorced women shall wait (as regards their marriage) for three menstrual periods." and He said: "And those of your women as have passed the age of monthly courses, for them the 'Iddah, if you have doubt (about their …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما ۔ ( سورۃ البقرہ کی ) آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» ”جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں“۔ ( البقرہ: ۱۰۶ ) ( اور سورۃ النمل کی ) آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» ”اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے“۔ ( النحل: ۱۰۱ ) ( اور سورۃ الرعد کی ) آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» ”اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے لوح محفوظ اسی کے پاس ہے“۔ ( الرعد: ۳۹ ) کے بارے میں فرماتے ہیں: ان آیات کی روشنی میں پہلی چیز جو منسوخ ہوئی وہ قبلہ کی تبدیلی ہے ۱؎، اور ( اس کے بعد ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ( اور یہ جو سورۃ البقرہ …
It was narrated from Ibn 'Abbas, regarding Allah's saying:"Whatever a Verse do We abrogate or cause to be forgotten, We bring a better one or similar to it." and "And when We change a Verse in place of another -and Allah knows best what He sends down" (Al-Nahl 16:101) and "Allah blots out what He wills and confirms (what He wills). And with Him is the Mother of the Book." The first thing that was abrogated in the Qur'an was the Qiblah. And He said: "And divorced women shall wait (as regards their marriage) for three menstrual periods, and it is not lawful for them to conceal what Allah has created in their wombs, if they believe in Allah and the Last Day." "And their husbands have better …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما قرآن پاک کی آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» یعنی ”ہم جو کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو ہم اس کی جگہ اس سے بہتر یا اسی جیسی کوئی اور آیت لے آتے ہیں“ ( البقرہ: ۱۰۶ ) اور دوسری آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» یعنی ”جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کیا چیز اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں تو تو گڑھ لاتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب سمجھتے ہی نہیں ہیں“ ( النحل: ۱۰۱ ) ، اور تیسری آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» ”اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی اور ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ( یعنی لوح محفوظ ) ہے“ ( الرعد: ۳۹ ) ۔ کی تفسیر میں فرماتے …
8. Al-Husayn from Muhammad has narrated from Mu’alla’ ibn Muhammad from al-Hassan ibn Ali ibn Faddal from ‘Abd Allah ibn Sinan from ‘Umar ibn Yazid who has said the following: “This is concerning my question before abu ‘Abd Allah (a.s.), about the case of a boy who is breastfed once and twice. He (the Imam) said, ‘It does not cause unlawfulness.’ I counted up to ten times breastfeeding. He (the Imam) said, ‘If they are on different times they do not cause unlawfulness.’”
۸۔ الحسين بن محمد نے معلى بن محمد سے، الحسن بن علي بن فضال سے، عبد الله بن سنان سے، عمر بن يزيد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابو عبد الله علیہ السلام سے لڑکے کے بارے میں پوچھا جو ایک یا دو بار دودھ پیے، تو فرمایا: حرام نہیں کرتا۔ تو میں نے دس بار تک گنے تو فرمایا: جب متفرق ہوں تو حرام نہیں کرتا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated `Asim:I asked Anas bin Malik: "Did you use to dislike to perform Tawaf between Safa and Marwa?" He said, "Yes, as it was of the ceremonies of the days of the Pre-Islamic period of ignorance, till Allah revealed: 'Verily! (The two mountains) As-Safa and Al-Marwa are among the symbols of Allah. It is therefore no sin for him who performs the pilgrimage to the Ka`ba, or performs `Umra, to perform Tawaf between them
ہم سے احمد بن محمد مروزی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں عاصم احول نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کو برا سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا، ہاں! کیونکہ یہ عہد جاہلیت کا شعار تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔“
Hadith.1932 - Amru ibn Shimr narrated from Jabir, from Abu Ja'far (as), who said that the Messenger of Allah (swt) (peace be upon him and his family) said: "When the disk of the sun disappears, the fasting person may break their fast, and the time for prayer begins."
روایت کی عمرو بن شمر نے جابر سے، جابر نے ابی جعفر (علیہ السلام) سے، کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: جب سورج کا دائرہ غائب ہو جائے تو روزے دار اپنا روزہ افطار کر سکتا ہے اور نماز کا وقت داخل ہو جاتا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWhy bringest thou not angels unto us, if thou art of the truthful?
Yusuf Ali"Why bringest thou not angels to us if it be that thou hast the Truth?"
The agreed readingWhy do you not bring us the angels, if you are telling the truth? The commentaries read it as a demand for a different kind of proof than the one already given — angels to stand beside him and confirm him — which is a demand to be convinced on their own terms.
Urduتو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتا اگر تو سچوں میں سے ہے؟ مفسرین اسے ایک مختلف قسم کے ثبوت کا مطالبہ سمجھتے ہیں، اس ثبوت سے الگ جو پہلے ہی دیا جا چکا تھا، یعنی فرشتے اس کے ساتھ کھڑے ہو کر اس کی تصدیق کریں، اور یہ درحقیقت اپنی ہی شرطوں پر قائل ہونے کا مطالبہ ہے۔
Arabicفلماذا لا تأتينا بالملائكة إن كنت من الصادقين؟ ويرى المفسرون أن هذا طلب لنوع مختلف من الدليل غير الذي أُعطي بالفعل، أي أن تقف الملائكة إلى جانبه فتشهد بصدقه، وهذا في حقيقته طلب أن يُقنَعوا بشروطهم هم أنفسهم.
PickthallWe send not down the angels save with the Fact, and in that case (the disbelievers) would not be tolerated.
Yusuf AliWe send not the angels down except for just cause: if they came (to the ungodly), behold! no respite would they have!
The agreed readingWe do not send the angels down except with the truth — and the commentaries gloss that as the punishment itself — and then they would be given no more time. The answer is that the sign they are asking for is the end of the delay they are living in.
Urduہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں، اور مفسرین اس حق سے مراد خود عذاب ہی لیتے ہیں، اور پھر انہیں کوئی مہلت نہیں دی جائے گی۔ جواب یہی ہے کہ جس نشانی کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں وہ دراصل اس مہلت کا خاتمہ ہے جس میں وہ ابھی جی رہے ہیں۔
Arabicما ننزل الملائكة إلا بالحق، ويفسر المفسرون هذا الحق بأنه العذاب نفسه، وما كانوا حينئذ ليُمهَلوا أو يُنظَروا. والجواب أن الآية التي يطلبونها هي بعينها نهاية هذه المهلة التي يعيشون فيها الآن.
PickthallLo! We, even We, reveal the Reminder, and lo! We verily are its Guardian.
Yusuf AliWe have, without doubt, sent down the Message; and We will assuredly guard it (from corruption).
The agreed readingIt is We who have sent down the Reminder, and it is We who guard it. Both traditions read the guarding as guarding the text — against substitution, against alteration, against anything added and anything lost. The sentence is built so that the same One does both: the sending down and the keeping.
Urduبے شک ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ دونوں روایات اس حفاظت کو خود متن کی حفاظت سمجھتی ہیں: تبدیلی سے، تحریف سے، کسی چیز کے شامل ہونے یا کسی چیز کے ضائع ہونے سے۔ یہ جملہ اس طرح بنا ہے کہ نازل کرنے والا اور محفوظ رکھنے والا ایک ہی ذات ہے۔
Arabicإنا نحن أنزلنا هذا الذكر، وإنا له لحافظون. ويرى كلا التفسيرين أن الحفظ هنا هو حفظ النص نفسه: من التبديل، ومن التحريف، ومن أي زيادة تُدخل عليه أو نقص يصيبه. والجملة مبنية بحيث يكون المنزِّل والحافظ ذاتًا واحدة.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 3 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة5 reports cited here — 3 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ، أَنَّ مَوْلًى، لاِبْنِ الأَسْقَعِ - رَجُلَ صِدْقٍ - أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ الأَسْقَعِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَاءَهُمْ فِي صُفَّةِ الْمُهَاجِرِينَ فَسَأَلَهُ إِنْسَانٌ أَىُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " { اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ } " .
Narrated Ibn al-Asqa':The Prophet (ﷺ) came to them in the swelling place of immigrants and a man asked him: Which is the greatest verse of the Qur'an ? The Prophet (ﷺ) replied: Allah, there is no god but He - the Living, the Self-Subsisting Eternal. No slumber can seize Him nor sleep
واثلہ بن الاسقع بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مہاجرین کے صفے میں آئے تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا: قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله لا إله إلا هو الحى القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم» اللہ ہی معبود برحق ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند ( سورۃ البقرہ: ۲۵۵ ) ہے۔
Abdul-Wahid bin Sulaim narrated:"I arrived in Makkah and met 'Ata bin Abi Rabah. I said to him: 'O Abu Muhammad! The people of Al-Basrah speak about Al-Qadar.' He said: 'O my son! Do you recite the Quran?' I said: 'Yes.' He said: 'Then recite Az-Zukhruf to me.'" He said: 'So I recited: Ha Mim. By the manifest Book. Verily, We have made it a Qur'an in Arabic that you may be able to understand. And verily, it is in the Mother of Book with Us, indeed exalted, full of wisdom. Then he said: 'Do you know what Mother of Books is?' I said: 'Allah and His Messenger know better.' He said:'It is a book that Allah wrote before He created the Heavens, and before He created the earth. In it, it is …
عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں کہ میں مکہ گیا تو عطاء بن ابی رباح سے ملاقات کی اور ان سے کہا: ابو محمد! بصرہ والے تقدیر کے سلسلے میں ( برسبیل انکار ) کچھ گفتگو کرتے ہیں، انہوں نے کہا: بیٹے! کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: سورۃ الزخرف پڑھو، میں نے پڑھا: «حم والكتاب المبين إنا جعلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون وإنه في أم الكتاب لدينا لعلي حكيم» ”حم، قسم ہے اس واضح کتاب کی، ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو، یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے، اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے“ ( الزخرف: ۱-۴ ) پڑھی، انہوں نے کہا: جانتے ہو ام الکتاب کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ ایک کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کے پیدا …
211. Ali Bin Ibrahim, from Ahmad Bin Muhammad Bin Khalid, from Abu Junada Al-Husayn Bin Al-Mukharaq Bin Abdul Rahmaan Bin Warqa Bin Habashy Bin Junada Al-Saluly, who has narrated the following: A companion of the Rasool Allah (azwj), from Abu Al-Hassan the First (asws) regarding the Statement of Allah Mighty and Majestic: “[4:63] These are they of whom Allah knows what is in their hearts; for the Word of misery has already been Ordained for them and so has the Punishment been Ordained for them therefore turn aside from them and admonish them, and speak to them effectual words concerning themselves”
علی بن ابراہيم نے احمد بن محمد بن خالد سے، ابو جنادہ الحسين بن المخارق سے روایت کی۔ وہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ کے صاحب تھے۔ ابو الحسن الأول علیہ السلام سے، الله عز و جل کے قول میں: "اولئك الذين يعلم الله ما في قلوبهم فأعرض عنهم فقد سبقت عليهم كلمة الشقاء وسبق لهم العذاب وقل لهم في أنفسهم قولا بليغا"۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
10-1 حدثنا أبوالحسين محمد بن علي بن الشاه قال: حدثنا أبوبكر محمد بن جعفر ابن أحمد البغدادي بآمد قال: حدثنا أبي قال: حدثنا أحمد بن السخت قال: أخبرنامحمد بن أسود الوراق، عن أيوب بن سليمان، عن أبي البختري، عن محمد بن حميد، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: أنا أشبه الناس بآدم، وإبراهيم أشبه الناس بي خلقة وخلقة، وسماني الله عز وجل من فوق عرشه عشرة أسماء، وبين الله وصفي وبشر بي على لسان كل رسول بعثه إلى قومه، وسماني ونشر في التوراة اسمي، وبث ذكري في أهل التوراة والانجيل، وعلمني كتابه ورفعني في سمائه، وشق لي إسما من أسمائه، فسماني محمدا وهو محمود، وأخرجني في خير قرن من امتي، وجعل اسمي في التوراة أحيد [وهو من التوحيد] فبالتوحيد حرم أجساد امتي على النار، …
10-1 Abul Hussein Muhammad ibn Ali ibn al-Shah narrated that in Ahmed Abu Bakr Muhammad ibn Ja’far ibn Ahmad al-Baghdady quoted his father, on the authority of Ahmad ibn al-Sakht, on the authority of Muhammad ibn Aswad al-Warraq on the authority of Ayoob ibn Suleiman on the authorityof Abil Bakhtari, on the authority of Muhammad ibn Hamid, on the authority of Muhammad ibn Munkadir, on the authority of Jabir ibn Abdullah that God’s Prophet (MGB) said, “I am the most similar person to Adam. Abraham is the most similar to me in face and character amongst all the people. The Honorable the Exalted God gave me ten names from above His Throne. God has described me and has given the glad tidings of …
ہمیں ابوالحسین محمد بن علی بن الشاہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوبکر محمد بن جعفر بن احمد بغدادی نے آمد میں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں میرے باپ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں احمد بن السخت نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن اسود الورّاق نے خبر دی ایوب بن سلیمان سے، وہ ابو البختری سے، وہ محمد بن حمید سے، وہ محمد بن منکدر سے، وہ جابر بن عبد اللہ سے روایت کرتے ہوئے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں لوگوں میں آدم علیہ السلام سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ اور ابراہیم میری طرح خلقت اور خلق میں سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ اور اللہ عز وجل نے مجھے اپنے عرش کے اوپر سے دس ناموں سے نام دیا۔ اور اللہ نے میری صفات بیان کی ہے اور ہر رسول کے ذریعے جسے اپنی قوم کے پاس بھیجا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Ali (bin Abi Talib) narrated that The Messenger of Allah said:“Indeed Allah has made unlawful through suckling whatever He made unlawful through lineage.”
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے بھی وہ سارے رشتے حرام کر دئیے ہیں جو نسب سے حرام ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابن عباس اور ام حبیبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ہم ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں جانتے۔
PickthallWe verily sent (messengers) before thee among the factions of the men of old.
Yusuf AliWe did send messengers before thee amongst the religious sects of old:
The agreed readingAnd We sent messengers before you among the parties of those who went before. The commentaries gloss the parties as the factions people had already divided into, each following its own way — so no messenger ever arrived to a people that was whole.
Urduاور یقیناً ہم نے آپ سے پہلے بھی پہلی قوموں کے مختلف گروہوں میں رسول بھیجے تھے۔ مفسرین ان گروہوں سے مراد وہی فرقے لیتے ہیں جن میں لوگ پہلے سے بٹے ہوئے تھے، ہر ایک اپنی ہی راہ پر چلتا تھا، پس کوئی رسول کبھی کسی ایسی قوم کے پاس نہیں آیا جو اکٹھی اور متحد ہو۔
Arabicولقد أرسلنا رسلًا من قبلك أيها الرسول في فِرَق الأمم الأولين وشيعهم. ويفسر المفسرون هذه الفرق بأنها الجماعات التي كان الناس قد انقسموا إليها من قبل، كل فرقة تسير على طريقتها الخاصة، فما جاء رسول قط إلى أمة موحدة سليمة من الانقسام.
PickthallAnd never came there unto them a messenger but they did mock him.
Yusuf AliBut never came a messenger to them but they mocked him.
The agreed readingAnd no messenger ever came to them without their mocking him. The commentaries read this as consolation: what is happening to Muhammad is not a new thing that has gone wrong, it is the pattern of every messenger before him.
Urduاور ان کے پاس کوئی رسول ایسا نہیں آیا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے ہوں۔ مفسرین اسے تسلی کے طور پر بیان کرتے ہیں: محمد کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ کوئی نئی یا غلط بات نہیں، بلکہ یہ ان سے پہلے آنے والے ہر رسول کا معمول رہا ہے۔
Arabicوما جاءهم من رسول قط إلا كانوا به يستهزئون ويسخرون منه. ويقرأ المفسرون هذا على أنه تسلية: فما يحدث لمحمد ليس أمرًا جديدًا طرأ عليه، بل هو سنة كل رسول جاء قبله.
PickthallThus do We make it traverse the hearts of the guilty:
Yusuf AliEven so do we let it creep into the hearts of the sinners -
The agreed readingIn this way We let it into the hearts of the guilty — the commentaries take what is let in to be the denial itself, entering the hearts of the ones now refusing exactly as it entered the hearts of those before.
Urduاسی طرح ہم اسے مجرموں کے دلوں میں داخل کرتے ہیں۔ مفسرین اس داخل ہونے والی چیز سے مراد خود انکار ہی لیتے ہیں، جو انہی لوگوں کے دلوں میں اسی طرح داخل ہوتا ہے جیسے پہلے لوگوں کے دلوں میں داخل ہوا تھا جو اب انکار کر رہے ہیں۔
Arabicكذلك نُدخله ونسلكه في قلوب المجرمين الذين أجرموا بالكفر. ويفسر المفسرون هذا الداخل بأنه التكذيب نفسه، يدخل قلوب هؤلاء المنكرين الآن كما دخل قلوب من كذَّب من قبلهم سواء بسواء.
PickthallThey believe not therein, though the example of the men of old hath gone before.
Yusuf AliThat they should not believe in the (Message); but the ways of the ancients have passed away.
The agreed readingThey do not believe in it, and the way of those before them has already gone by — a way the commentaries read as both their denial and what came of it, already on the record and available to be read.
Urduوہ اس پر ایمان نہیں لاتے، حالانکہ پہلے لوگوں کا طریقہ ان سے پہلے گزر چکا ہے۔ مفسرین اس طریقے کو ان کے انکار اور اس کے انجام دونوں پر محیط سمجھتے ہیں، جو پہلے ہی ریکارڈ پر موجود اور پڑھنے کے لیے دستیاب ہے۔
Arabicلا يؤمنون به ولا يصدقونه، وقد مضت سُنَّة الأولين من قبلهم. ويرى المفسرون أن هذه السُّنَّة تشمل تكذيبهم وما آل إليه أمرهم معًا، وهو أمر مسجَّل مدوَّن يمكن قراءته والاعتبار به.
PickthallAnd even if We opened unto them a gate of heaven and they kept mounting through it,
Yusuf AliEven if We opened out to them a gate from heaven, and they were to continue (all day) ascending therein,
The agreed readingAnd even if We opened a gate of heaven to them and they kept climbing up through it,
Urduاور اگر ہم ان کے لیے آسمان میں سے کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ اس میں سے مسلسل اوپر چڑھتے چلے جاتے اور آسمان کے عجائبات خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے،
Arabicولو فتحنا عليهم أيها الرسول بابًا حقيقيًّا واضحًا من أبواب السماء المرتفعة، فظلوا فيه صاعدين يعرجون طوال يومهم بأنفسهم حتى شاهدوا بأعينهم عجائب ذلك الملكوت الأعلى كله،
PickthallThey would say: Our sight is wrong - nay, but we are folk bewitched.
Yusuf AliThey would only say: "Our eyes have been intoxicated: Nay, we have been bewitched by sorcery."
The agreed readingthey would only say: our eyes have been blocked; rather, we are people under a spell. The commentaries fix on what this shows — a proof large enough to be undeniable would be explained away rather than accepted, so the fault was never in the size of the sign.
Urduتو وہ یہی کہتے کہ ہماری نگاہیں بند کر دی گئی ہیں، بلکہ ہم پر جادو کیا گیا ہے۔ مفسرین اسی بات پر توجہ دلاتے ہیں کہ اتنی بڑی اور ناقابل انکار نشانی کو بھی قبول کرنے کے بجائے اس کی توجیہ کر دی جاتی، پس نشانی کا قصور کبھی اس کے چھوٹے یا بڑے ہونے میں نہیں تھا۔
Arabicلقالوا: إنما سُكِّرت وحُبست أبصارنا، بل نحن قوم مسحورون. ويركز المفسرون على ما يكشفه هذا: أن الدليل مهما كبر وأصبح لا يُنكَر كان سيُؤوَّل ويُبرَّر بدلًا من أن يُقبَل ويُصدَّق، فلم يكن العيب قط في حجم الآية المطلوبة.
PickthallAnd verily in the heaven we have set mansions of the stars, and We have beautified it for beholders.
Yusuf AliIt is We Who have set out the zodiacal signs in the heavens, and made them fair-seeming to (all) beholders;
The agreed readingAnd We have set in the sky its great stations, and made it beautiful for those who look at it. What the commentaries hold together is the two things the āyah itself joins: that what is overhead is ordered and set in place, and that it is also made to be looked at.
Urduاور یقیناً ہم نے آسمان میں بڑے بڑے برج بنائے اور اسے دیکھنے والوں کے لیے مزین کر دیا۔ مفسرین جس بات پر متفق ہیں وہ وہی ہے جسے یہ آیت خود جوڑتی ہے: کہ اوپر جو کچھ ہے وہ ایک ترتیب اور نظم کے ساتھ رکھا گیا ہے، اور اسے دیکھنے کے لیے بھی خوبصورت بنایا گیا ہے۔
Arabicولقد جعلنا في السماء بروجًا ومنازل عظيمة، وزيَّنَّاها بالكواكب للناظرين إليها المتأملين فيها. وما يجمع عليه المفسرون هو ما تجمعه الآية نفسها: أن ما فوقنا مرتَّب منظَّم بدقة، وأنه في الوقت نفسه جُعل جميلًا يُنظر إليه.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:Allah's Prophet said, "When Allah decrees some order in the heaven, the angels flutter their wings indicating complete surrender to His saying which sounds like chains being dragged on rock. And when the state of fear disappears, they ask each other, "What has your Lord ordered? They say that He has said that which is true and just, and He is the Most High, the Most Great." (34.23). Then the stealthy listeners (devils) hear this order, and these stealthy listeners are like this, one over the other." (Sufyan, a sub-narrator demonstrated that by holding his hand upright and separating the fingers.) A stealthy listener hears a word which he will convey to that which is …
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، کہا کہ میں نے عکرمہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو سن کر جھکتے ہوئے عاجزی کرتے ہوئے اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں۔ اللہ کا فرمان انہیں اس طرح سنائی دیتا ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر چلانے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ آپس میں پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں کہ حق بات کا حکم فرمایا اور وہ بہت اونچا، سب سے بڑا ہے پھر ان کی یہی گفتگو چوری چھپے سننے والے شیطان سن …
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "When Allah ordains something on the Heaven the angels beat with their wings in obedience to His Statement which sounds like that of a chain dragged over a rock. His Statement: "Until when the fear is banished from their hearts, the Angels say, 'What was it that your Lord said?' 'They reply, '(He has said) the Truth. And He is the Most High, The Great
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کے آگے عاجزی کا اظہار کرنے کے لیے اپنے بازو مارتے ہیں ( اور ان سے ایسی آواز نکلتی ہے ) جیسے پتھر پر زنجیر ماری گئی ہو۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا سفیان کے سوا دوسرے راویوں نے اس حدیث میں بجائے «صفوان» کے بہ فتحہ «فاصفوان» روایت کیا ہے اور ابوسفیان نے «صفوان» پر سکون فاء روایت کیا ہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی چکنا صاف پتھر۔ اور ابن عامر نے «فزع» بہ صیغہ معروف پڑھا ہے۔ بعضوں نے «فزع» رائے مہملہ سے پڑھا ہے یعنی …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْكُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسُوا بِشَىْءٍ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّىْءِ يَكُونُ حَقًّا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ ".
Narrated `Aisha:Some people asked Allah's Messenger (ﷺ) about the fore-tellers. Allah's Messenger (ﷺ) said to them, "They are nothing (i.e., liars)." The people said, 'O Allah's Messenger (ﷺ) ! Sometimes they tell something which comes out to be true." Allah's Messenger (ﷺ) said, "That word which comes to be true is what a jinx snatches away by stealing and then pours it in the ear of his fore-teller with a sound similar to the cackle of a hen, and then they add to it one-hundred lies
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھ کو یحییٰ بن عروہ نے خبر دی، انہوں نے عروہ سے سنا، کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان کی ( پیشین گوئیوں کی ) کوئی حیثیت نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لیکن وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بات، سچی بات ہوتی ہے جسے جِن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے اور پھر اسے اپنے ولی ( کاہن ) کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح ڈالتا ہے۔ اس کے بعد کاہن اس ( ایک سچی بات میں ) سو سے زیادہ جھوٹ …
PickthallAnd We have guarded it from every outcast devil,
Yusuf AliAnd (moreover) We have guarded them from every cursed devil:
The agreed readingAnd We have guarded it from every outcast satan — guarded, as the commentaries gloss it, by the flames, and the word for outcast meaning one driven off and pelted away.
Urduاور ہم نے اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ کر رکھا ہے۔ مفسرین اس حفاظت کی وضاحت شعلوں کے ذریعے کرتے ہیں، اور مردود کا لفظ اس شیطان کے لیے ہے جسے دھتکارا اور سنگسار کیا گیا ہو۔
Arabicوحفظنا هذه السماء الدنيا كلها من كل شيطان رجيم مرجوم مطرود من رحمة الله تمامًا. ويفسر المفسرون هذا الحفظ بالشهب المحرقة النازلة، ولفظ الرجيم يعني المطرود المرمي بعيدًا أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by al-Baghawī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "When Allah has ordained some affair in the Heaven, the angels beat with their wings in obedience to His statement, which sounds like a chain dragged over a rock." (`Ali and other sub-narrators said, "The sound reaches them.") "Until when fear is banished from their (angels) hearts, they (angels) say, 'What was it that your Lord said? They say, 'The truth; And He is the Most High, the Most Great.' (34.23) Then those who gain a hearing by stealing (i.e. devils) will hear Allah's Statement:-- 'Those who gain a hearing by stealing, (stand one over the other like this). (Sufyan, to illustrate this, spread the fingers of his right hand and placed them …
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ فرماتا ہے تو ملائکہ عاجزی سے اپنے پر مارنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں ہے کہ جیسے کسی صاف چکنے پتھر پر زنجیر کے ( مارنے سے آواز پیدا ہوتی ہے ) اور علی بن عبداللہ المدینی نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ کے سوا اور راویوں نے «صفوان» کے بعد «ينفذهم ذلك» ( جس سے ان پر دہشت طاری ہوتی ہے ) کے الفاظ کہے ہیں۔ پھر اللہ پاک اپنا حکم فرشتوں تک پہنچا دیتا ہے، جب ان کے دلوں پر سے ڈر جاتا رہتا ہے تو دوسرے دور والے فرشتے نزدیک والے فرشتوں سے …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ ـ وَهْوَ السَّحَابُ ـ فَتَذْكُرُ الأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ، فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ، فَتَسْمَعُهُ فَتُوحِيهِ إِلَى الْكُهَّانِ، فَيَكْذِبُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ ".
Narrated `Aisha:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "The angels descend to the clouds and mention this or that matter decreed in the Heaven. The devils listen stealthily to such a matter, come down to inspire the soothsayers with it, and the latter would add to it one-hundred lies of their own
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں لیث نے خبر دی، ان سے ابن ابی جعفر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”فرشتے «عنان» میں اترتے ہیں۔ اور «عنان» سے مراد بادل ہیں۔ یہاں فرشتے ان کاموں کا ذکر کرتے ہیں جن کا فیصلہ آسمان میں ہو چکا ہوتا ہے۔ اور یہیں سے شیاطین کچھ چوری چھپے باتیں اڑا لیتے ہیں۔ پھر کاہنوں کو اس کی خبر کر دیتے ہیں اور یہ کاہن سو جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر اسے بیان کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْكُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسُوا بِشَىْءٍ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّىْءِ يَكُونُ حَقًّا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ ".
Narrated `Aisha:Some people asked Allah's Messenger (ﷺ) about the fore-tellers. Allah's Messenger (ﷺ) said to them, "They are nothing (i.e., liars)." The people said, 'O Allah's Messenger (ﷺ) ! Sometimes they tell something which comes out to be true." Allah's Messenger (ﷺ) said, "That word which comes to be true is what a jinx snatches away by stealing and then pours it in the ear of his fore-teller with a sound similar to the cackle of a hen, and then they add to it one-hundred lies
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھ کو یحییٰ بن عروہ نے خبر دی، انہوں نے عروہ سے سنا، کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان کی ( پیشین گوئیوں کی ) کوئی حیثیت نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لیکن وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بات، سچی بات ہوتی ہے جسے جِن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے اور پھر اسے اپنے ولی ( کاہن ) کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح ڈالتا ہے۔ اس کے بعد کاہن اس ( ایک سچی بات میں ) سو سے زیادہ جھوٹ …
Narrated Abu Huraira:Allah's Prophet said, "When Allah decrees some order in the heaven, the angels flutter their wings indicating complete surrender to His saying which sounds like chains being dragged on rock. And when the state of fear disappears, they ask each other, "What has your Lord ordered? They say that He has said that which is true and just, and He is the Most High, the Most Great." (34.23). Then the stealthy listeners (devils) hear this order, and these stealthy listeners are like this, one over the other." (Sufyan, a sub-narrator demonstrated that by holding his hand upright and separating the fingers.) A stealthy listener hears a word which he will convey to that which is …
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، کہا کہ میں نے عکرمہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو سن کر جھکتے ہوئے عاجزی کرتے ہوئے اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں۔ اللہ کا فرمان انہیں اس طرح سنائی دیتا ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر چلانے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ آپس میں پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں کہ حق بات کا حکم فرمایا اور وہ بہت اونچا، سب سے بڑا ہے پھر ان کی یہی گفتگو چوری چھپے سننے والے شیطان سن …
PickthallSave him who stealeth the hearing, and them doth a clear flame pursue.
Yusuf AliBut any that gains a hearing by stealth, is pursued by a flaming fire, bright (to see).
The agreed readingexcept one who steals a hearing, and then a clear flame pursues him. The commentaries gloss the flame as a burning star, and read the pair of āyāt together: what is above is not open to be entered and carried off.
Urduسوائے اس کے جو چوری چھپے کچھ سن لے، تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ مفسرین اس شعلے سے مراد ایک جلتا ہوا ستارہ لیتے ہیں، اور دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھتے ہیں: جو کچھ اوپر ہے وہ کسی کے لیے داخل ہو کر لے اڑنے کے لیے کھلا نہیں ہے۔
Arabicإلا من اختلس السمع من كلام الملأ الأعلى في لحظة غفلة، فتبعه وأدركه شهاب مضيء يحرقه. ويفسر المفسرون هذا الشهاب بأنه كوكب مضيء محترق، ويقرءون الآيتين معًا: أن ما فوقنا ليس مفتوحًا لمن يدخله ويسرق منه شيئًا.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Baghawī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "When Allah has ordained some affair in the Heaven, the angels beat with their wings in obedience to His statement, which sounds like a chain dragged over a rock." (`Ali and other sub-narrators said, "The sound reaches them.") "Until when fear is banished from their (angels) hearts, they (angels) say, 'What was it that your Lord said? They say, 'The truth; And He is the Most High, the Most Great.' (34.23) Then those who gain a hearing by stealing (i.e. devils) will hear Allah's Statement:-- 'Those who gain a hearing by stealing, (stand one over the other like this). (Sufyan, to illustrate this, spread the fingers of his right hand and placed them …
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ فرماتا ہے تو ملائکہ عاجزی سے اپنے پر مارنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں ہے کہ جیسے کسی صاف چکنے پتھر پر زنجیر کے ( مارنے سے آواز پیدا ہوتی ہے ) اور علی بن عبداللہ المدینی نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ کے سوا اور راویوں نے «صفوان» کے بعد «ينفذهم ذلك» ( جس سے ان پر دہشت طاری ہوتی ہے ) کے الفاظ کہے ہیں۔ پھر اللہ پاک اپنا حکم فرشتوں تک پہنچا دیتا ہے، جب ان کے دلوں پر سے ڈر جاتا رہتا ہے تو دوسرے دور والے فرشتے نزدیک والے فرشتوں سے …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ ـ وَهْوَ السَّحَابُ ـ فَتَذْكُرُ الأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ، فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ، فَتَسْمَعُهُ فَتُوحِيهِ إِلَى الْكُهَّانِ، فَيَكْذِبُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ ".
Narrated `Aisha:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "The angels descend to the clouds and mention this or that matter decreed in the Heaven. The devils listen stealthily to such a matter, come down to inspire the soothsayers with it, and the latter would add to it one-hundred lies of their own
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں لیث نے خبر دی، ان سے ابن ابی جعفر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”فرشتے «عنان» میں اترتے ہیں۔ اور «عنان» سے مراد بادل ہیں۔ یہاں فرشتے ان کاموں کا ذکر کرتے ہیں جن کا فیصلہ آسمان میں ہو چکا ہوتا ہے۔ اور یہیں سے شیاطین کچھ چوری چھپے باتیں اڑا لیتے ہیں۔ پھر کاہنوں کو اس کی خبر کر دیتے ہیں اور یہ کاہن سو جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر اسے بیان کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْكُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسُوا بِشَىْءٍ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّىْءِ يَكُونُ حَقًّا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ ".
Narrated `Aisha:Some people asked Allah's Messenger (ﷺ) about the fore-tellers. Allah's Messenger (ﷺ) said to them, "They are nothing (i.e., liars)." The people said, 'O Allah's Messenger (ﷺ) ! Sometimes they tell something which comes out to be true." Allah's Messenger (ﷺ) said, "That word which comes to be true is what a jinx snatches away by stealing and then pours it in the ear of his fore-teller with a sound similar to the cackle of a hen, and then they add to it one-hundred lies
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھ کو یحییٰ بن عروہ نے خبر دی، انہوں نے عروہ سے سنا، کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان کی ( پیشین گوئیوں کی ) کوئی حیثیت نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لیکن وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بات، سچی بات ہوتی ہے جسے جِن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے اور پھر اسے اپنے ولی ( کاہن ) کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح ڈالتا ہے۔ اس کے بعد کاہن اس ( ایک سچی بات میں ) سو سے زیادہ جھوٹ …
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسٌ عَنِ الْكُهَّانِ. فَقَالَ " لَيْسَ بِشَىْءٍ ". فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَا أَحْيَانًا بِشَىْءٍ فَيَكُونُ حَقًّا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ، يَخْطَفُهَا مِنَ الْجِنِّيِّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ، فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ ". قَالَ عَلِيٌّ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مُرْسَلٌ، الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ. ثُمَّ بَلَغَنِي …
Narrated `Aisha:Some people asked Allah's Messenger (ﷺ) about the fore-tellers He said. ' They are nothing" They said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Sometimes they tell us of a thing which turns out to be true." Allah's Messenger (ﷺ) said, "A Jinn snatches that true word and pours it Into the ear of his friend (the fore-teller) (as one puts something into a bottle) The foreteller then mixes with that word one hundred lies
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں یحییٰ بن عروہ بن زبیر نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! بعض اوقات وہ ہمیں ایسی چیزیں بھی بتاتے ہیں جو صحیح ہو جاتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کلمہ حق ہوتا ہے۔ اسے کاہن کسی جننی سے سن لیتا ہے وہ جننی اپنے دوست کاہن کے کان میں ڈال جاتا ہے اور پھر یہ کاہن اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر بیان کرتے ہیں۔ علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ عبدالرزاق اس کلمہ «تلك الكلمة من …
Narrated Abu Huraira:Allah's Prophet said, "When Allah decrees some order in the heaven, the angels flutter their wings indicating complete surrender to His saying which sounds like chains being dragged on rock. And when the state of fear disappears, they ask each other, "What has your Lord ordered? They say that He has said that which is true and just, and He is the Most High, the Most Great." (34.23). Then the stealthy listeners (devils) hear this order, and these stealthy listeners are like this, one over the other." (Sufyan, a sub-narrator demonstrated that by holding his hand upright and separating the fingers.) A stealthy listener hears a word which he will convey to that which is …
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، کہا کہ میں نے عکرمہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو سن کر جھکتے ہوئے عاجزی کرتے ہوئے اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں۔ اللہ کا فرمان انہیں اس طرح سنائی دیتا ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر چلانے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ آپس میں پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں کہ حق بات کا حکم فرمایا اور وہ بہت اونچا، سب سے بڑا ہے پھر ان کی یہی گفتگو چوری چھپے سننے والے شیطان سن …
PickthallAnd the earth have We spread out, and placed therein firm hills, and caused each seemly thing to grow therein.
Yusuf AliAnd the earth We have spread out (like a carpet); set thereon mountains firm and immovable; and produced therein all kinds of things in due balance.
The agreed readingAnd the earth We have spread out, and set firm mountains in it, and made every thing grow in it in due measure — the commentaries gloss the measure as a known and appointed proportion, so that nothing that grows is arbitrary in its amount.
Urduاور زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیے، اور اس میں ہر چیز کو ایک مقررہ اندازے کے ساتھ اگایا۔ مفسرین اس اندازے کی وضاحت ایک معلوم اور مقرر تناسب سے کرتے ہیں، تاکہ اگنے والی کوئی بھی چیز اپنی مقدار میں بے ضابطہ نہ ہو۔
Arabicوالأرض مددناها وبسطناها اتساعًا، وألقينا فيها جبالًا راسيات تثبتها، وأنبتنا فيها من كل شيء موزون مقدَّر. ويفسر المفسرون هذا الوزن بأنه نسبة معلومة محددة، فلا يخرج شيء ينبت عن مقداره المقرر له.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:Allah's Prophet said, "When Allah decrees some order in the heaven, the angels flutter their wings indicating complete surrender to His saying which sounds like chains being dragged on rock. And when the state of fear disappears, they ask each other, "What has your Lord ordered? They say that He has said that which is true and just, and He is the Most High, the Most Great." (34.23). Then the stealthy listeners (devils) hear this order, and these stealthy listeners are like this, one over the other." (Sufyan, a sub-narrator demonstrated that by holding his hand upright and separating the fingers.) A stealthy listener hears a word which he will convey to that which is …
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، کہا کہ میں نے عکرمہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو سن کر جھکتے ہوئے عاجزی کرتے ہوئے اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں۔ اللہ کا فرمان انہیں اس طرح سنائی دیتا ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر چلانے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ آپس میں پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں کہ حق بات کا حکم فرمایا اور وہ بہت اونچا، سب سے بڑا ہے پھر ان کی یہی گفتگو چوری چھپے سننے والے شیطان سن …
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "When Allah ordains something on the Heaven the angels beat with their wings in obedience to His Statement which sounds like that of a chain dragged over a rock. His Statement: "Until when the fear is banished from their hearts, the Angels say, 'What was it that your Lord said?' 'They reply, '(He has said) the Truth. And He is the Most High, The Great
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کے آگے عاجزی کا اظہار کرنے کے لیے اپنے بازو مارتے ہیں ( اور ان سے ایسی آواز نکلتی ہے ) جیسے پتھر پر زنجیر ماری گئی ہو۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا سفیان کے سوا دوسرے راویوں نے اس حدیث میں بجائے «صفوان» کے بہ فتحہ «فاصفوان» روایت کیا ہے اور ابوسفیان نے «صفوان» پر سکون فاء روایت کیا ہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی چکنا صاف پتھر۔ اور ابن عامر نے «فزع» بہ صیغہ معروف پڑھا ہے۔ بعضوں نے «فزع» رائے مہملہ سے پڑھا ہے یعنی …
PickthallAnd we have given unto you livelihoods therein, and unto those for whom ye provide not.
Yusuf AliAnd We have provided therein means of subsistence,- for you and for those for whose sustenance ye are not responsible.
The agreed readingAnd We have put livelihoods in it for you, and for those you do not provide for. The commentaries read the second half as covering everyone and everything in a person's care who is in fact fed by God and not by him — a correction of the account, made in passing.
Urduاور ہم نے اس میں تمہارے لیے روزگار کے ذرائع بنائے، اور ان کے لیے بھی جن کو تم رزق نہیں دیتے۔ مفسرین دوسرے حصے کو ہر اس چیز اور ہر اس شخص پر محیط سمجھتے ہیں جو تمہاری نگہداشت میں ہو مگر حقیقت میں اللہ ہی اسے کھلاتا ہے نہ کہ تم، یہ گویا راستے میں کیا گیا ایک اصلاحی تصحیح ہے۔
Arabicوجعلنا لكم فيها معايش من الحرث والماشية وسائر المكاسب، ولمن لستم له برازقين من الذرية والخدم والدواب. ويقرأ المفسرون النصف الثاني على أنه يشمل كل من في رعايتكم ممن يرزقه الله في الحقيقة لا أنتم، وهو تصحيح للحساب يُقال في عابر الكلام.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:Allah's Prophet said, "When Allah decrees some order in the heaven, the angels flutter their wings indicating complete surrender to His saying which sounds like chains being dragged on rock. And when the state of fear disappears, they ask each other, "What has your Lord ordered? They say that He has said that which is true and just, and He is the Most High, the Most Great." (34.23). Then the stealthy listeners (devils) hear this order, and these stealthy listeners are like this, one over the other." (Sufyan, a sub-narrator demonstrated that by holding his hand upright and separating the fingers.) A stealthy listener hears a word which he will convey to that which is …
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، کہا کہ میں نے عکرمہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو سن کر جھکتے ہوئے عاجزی کرتے ہوئے اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں۔ اللہ کا فرمان انہیں اس طرح سنائی دیتا ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر چلانے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ آپس میں پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں کہ حق بات کا حکم فرمایا اور وہ بہت اونچا، سب سے بڑا ہے پھر ان کی یہی گفتگو چوری چھپے سننے والے شیطان سن …
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "When Allah ordains something on the Heaven the angels beat with their wings in obedience to His Statement which sounds like that of a chain dragged over a rock. His Statement: "Until when the fear is banished from their hearts, the Angels say, 'What was it that your Lord said?' 'They reply, '(He has said) the Truth. And He is the Most High, The Great
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کے آگے عاجزی کا اظہار کرنے کے لیے اپنے بازو مارتے ہیں ( اور ان سے ایسی آواز نکلتی ہے ) جیسے پتھر پر زنجیر ماری گئی ہو۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا سفیان کے سوا دوسرے راویوں نے اس حدیث میں بجائے «صفوان» کے بہ فتحہ «فاصفوان» روایت کیا ہے اور ابوسفیان نے «صفوان» پر سکون فاء روایت کیا ہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی چکنا صاف پتھر۔ اور ابن عامر نے «فزع» بہ صیغہ معروف پڑھا ہے۔ بعضوں نے «فزع» رائے مہملہ سے پڑھا ہے یعنی …
PickthallAnd there is not a thing but with Us are the stores thereof. And we send it not down save in appointed measure.
Yusuf AliAnd there is not a thing but its (sources and) treasures (inexhaustible) are with Us; but We only send down thereof in due and ascertainable measures.
The agreed readingAnd there is nothing whose stores are not with Us, and We send it down only in a known measure. The commentaries take the two halves as one argument: the supply is not short, and the portion is not accidental.
Urduاور کوئی چیز ایسی نہیں مگر اس کے خزانے ہمارے ہی پاس ہیں، اور ہم اسے صرف ایک معلوم مقدار کے مطابق ہی نازل کرتے ہیں۔ مفسرین دونوں حصوں کو ایک ہی دلیل سمجھتے ہیں: نہ رسد کم ہے اور نہ حصہ اتفاقی ہے۔
Arabicوما من شيء من منافع العباد إلا وعندنا خزائنه الوافرة، وما ننزله إلا بمقدار محدد معلوم كما نشاء. ويأخذ المفسرون النصفين على أنهما حجة واحدة: أن المخزون ليس قليلًا، وأن النصيب ليس عشوائيًّا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“A woman used to perform prayer behind the Prophet (ﷺ), and she was one of the most beautiful of people. Some of the people used to go into the first row so that they would not see her, and some of them used to lag behind so that they would be in the last row, and when they bowed, they would do like this so that they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed: “And indeed, We know the first generations of you who had passed away, and indeed, We know the present generations of you (mankind), and also those who will some afterwards.” [15:24] concerning her matter
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو، اور پیچھے رہنے والوں کو ( سورۃ الحجر: ۲۴ ) نازل فرمائی۔
Narrated Ibn 'Abbas:"There was a woman who performed Salat behind the Messenger of Allah (ﷺ) who was the most beautiful among the people. Some of the people would go forward to the first line so as not to see her. Others would go back to the last line so when he would bow, he could look at her from under his armpit. So Allah revealed: Indeed We know those who try to come forward among you, and We know those who try to go back (15:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( عورتوں کی صفوں میں ) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہو جاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہو جاتے تھے ( عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں ) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں“ ( الحجر: ۲۴ ) ، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جعفر بن سلیمان نے یہ حدیث عمرو بن مالک سے اور عمروبن مالک نے ابوالجوزاء سے اسی طرح روایت کی ہے، اور اس …
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There was an Israeli man called Juraij, while he was praying, his mother came and called him, but he did not respond to her call. He said (to himself) whether he should continue the prayer or reply to his mother. She came to him the second time and called him and said, "O Allah! Do not let him die until he sees the faces of prostitutes." Juraij used to live in a hermitage. A woman said that she would entice Juraij, so she went to him and presented herself (for an evil act) but he refused. She then went to a shepherd and allowed him to commit an illegal sexual intercourse with her and later she gave birth to a boy. She alleged that the baby …
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بنی اسرائیل میں ایک صاحب تھے، جن کا نام جریج تھا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی والدہ آئیں اور انہیں پکارا۔ انہوں نے جواب نہیں دیا۔ سوچتے رہے کہ جواب دوں یا نماز پڑھوں۔ پھر وہ دوبارہ آئیں اور ( غصے میں ) بددعا کر گئیں، اے اللہ! اسے موت نہ آئے جب تک کسی بدکار عورت کا منہ نہ دیکھ لے۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہتے تھے۔ ایک عورت نے ( جو جریج کے عبادت خانے کے پاس اپنی مویشی چرایا کرتی تھی اور فاحشہ تھی ) کہا کہ جریج کو فتنہ میں ڈالے بغیر نہ رہوں گی۔ چنانچہ وہ ان کے سامنے آئی اور گفتگو کرنی چاہی، لیکن انہوں نے منہ پھیر لیا۔ پھر …
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone forgets that he is fasting and eats or drinks he should complete his fast, for it is only Allah Who has fed him and given him drink
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص روزے کی حالت میں بھول گیا اور کھا لیا یا پی لیا تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔
PickthallAnd We send the winds fertilising, and cause water to descend from the sky, and give it you to drink. It is not ye who are the holders of the store thereof.
Yusuf AliAnd We send the fecundating winds, then cause the rain to descend from the sky, therewith providing you with water (in abundance), though ye are not the guardians of its stores.
The agreed readingAnd We send the winds bearing fertility, and send down water from the sky and give it to you to drink — and you are not the ones who hold its stores. The commentaries note the winds are named as doing the work before the rain falls, so that what looks like the whole event is only its last step.
Urduاور ہم ہوائیں بھیجتے ہیں جو بارش کا سبب بنتی ہیں، پھر آسمان سے پانی اتار کر تمہیں پلاتے ہیں، اور تم اس کے ذخیرہ کرنے والے نہیں ہو۔ مفسرین اس بات پر توجہ دلاتے ہیں کہ ہوائیں بارش گرنے سے پہلے اپنا کام کر چکی ہوتی ہیں، تو جو مکمل واقعہ نظر آتا ہے وہ دراصل اس کا آخری قدم ہی ہے۔
Arabicوأرسلنا الرياح حاملة للتلقيح، فأنزلنا من السماء ماء فأسقيناكموه، وما أنتم له بخازنين ولا قادرين على ادخاره. ويلاحظ المفسرون أن الرياح تقوم بعملها قبل نزول المطر، فما يبدو حدثًا واحدًا كاملًا ما هو إلا خطوته الأخيرة.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Massenger (ﷺ) as saying:He who buys a tree after it has been fecundated, its fruit belongs to one who sells it except when the provision has been laid down by the buyer (that it will belong to him), and he who buys a slave, his property belongs to one who sells him except when a provision has been laid down by the buyer (that it will be transferred to him with the slave)
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے : " جس نے تابیر کیے جانے کے بعد کھجور کا درخت خریدا ، تو اس کا پھل اسی کا ہے جس نے اسے بیچا ، الا یہ کہ خریدار شرط طے کر لے اور جس نے غلام خریدا تو اسی کا مال اسی کا ہے جس نے اسے فروخت کیا ، الا یہ کہ خریدار شرط طے کر لے
Narrated Salim: From his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever purchases a date-palm after it has been pollinated then its fruits are for the one who sold it, unless the buyer made it a condition. And whoever purchases slave who has property, then his property is for the one who sold him, unless the buyer made it a condition." [He said:] There is something on this topic from Jabir. The Hadith of Ibn 'Umar is a Hasan Sahih Hadith. Similarly, it has been reported by more than one route from Az-Zuhri, from Salim, from Ibn 'Umar, that the Prophet (ﷺ) "Whoever purchases a date-palm after it has been pollinated, then its fruits are for seller, unless the buyer made it a condition. …
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے «تأبیر» ۱؎ ( پیوند کاری ) کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا ۲؎ الا یہ کہ خریدنے والا ( خریدتے وقت پھل کی ) شرط لگا لے۔ اور جس نے کوئی ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( خریدتے وقت مال کی ) شرط لگا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح اور بھی طرق سے بسند «عن الزهري عن سالم عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت ہے آپ نے فرمایا: ”جس نے پیوند کاری کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( درخت کے ساتھ پھل کی …
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone forgets that he is fasting and eats or drinks he should complete his fast, for it is only Allah Who has fed him and given him drink
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص روزے کی حالت میں بھول گیا اور کھا لیا یا پی لیا تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There was an Israeli man called Juraij, while he was praying, his mother came and called him, but he did not respond to her call. He said (to himself) whether he should continue the prayer or reply to his mother. She came to him the second time and called him and said, "O Allah! Do not let him die until he sees the faces of prostitutes." Juraij used to live in a hermitage. A woman said that she would entice Juraij, so she went to him and presented herself (for an evil act) but he refused. She then went to a shepherd and allowed him to commit an illegal sexual intercourse with her and later she gave birth to a boy. She alleged that the baby …
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بنی اسرائیل میں ایک صاحب تھے، جن کا نام جریج تھا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی والدہ آئیں اور انہیں پکارا۔ انہوں نے جواب نہیں دیا۔ سوچتے رہے کہ جواب دوں یا نماز پڑھوں۔ پھر وہ دوبارہ آئیں اور ( غصے میں ) بددعا کر گئیں، اے اللہ! اسے موت نہ آئے جب تک کسی بدکار عورت کا منہ نہ دیکھ لے۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہتے تھے۔ ایک عورت نے ( جو جریج کے عبادت خانے کے پاس اپنی مویشی چرایا کرتی تھی اور فاحشہ تھی ) کہا کہ جریج کو فتنہ میں ڈالے بغیر نہ رہوں گی۔ چنانچہ وہ ان کے سامنے آئی اور گفتگو کرنی چاہی، لیکن انہوں نے منہ پھیر لیا۔ پھر …
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“A woman used to perform prayer behind the Prophet (ﷺ), and she was one of the most beautiful of people. Some of the people used to go into the first row so that they would not see her, and some of them used to lag behind so that they would be in the last row, and when they bowed, they would do like this so that they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed: “And indeed, We know the first generations of you who had passed away, and indeed, We know the present generations of you (mankind), and also those who will some afterwards.” [15:24] concerning her matter
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو، اور پیچھے رہنے والوں کو ( سورۃ الحجر: ۲۴ ) نازل فرمائی۔
Narrated Ibn 'Abbas:"There was a woman who performed Salat behind the Messenger of Allah (ﷺ) who was the most beautiful among the people. Some of the people would go forward to the first line so as not to see her. Others would go back to the last line so when he would bow, he could look at her from under his armpit. So Allah revealed: Indeed We know those who try to come forward among you, and We know those who try to go back (15:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( عورتوں کی صفوں میں ) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہو جاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہو جاتے تھے ( عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں ) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں“ ( الحجر: ۲۴ ) ، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جعفر بن سلیمان نے یہ حدیث عمرو بن مالک سے اور عمروبن مالک نے ابوالجوزاء سے اسی طرح روایت کی ہے، اور اس …
PickthallLo! and it is We, even We, Who quicken and give death, and We are the Inheritor.
Yusuf AliAnd verily, it is We Who give life, and Who give death: it is We Who remain inheritors (after all else passes away).
The agreed readingAnd it is We who give life and give death, and We are the Inheritors — the commentaries gloss the last word as the ones who remain when everything else has gone.
Urduاور بے شک ہم ہی زندگی دیتے ہیں اور موت دیتے ہیں، اور ہم ہی وارث ہیں۔ مفسرین وارث سے مراد وہ ذات لیتے ہیں جو باقی رہتی ہے جب باقی سب کچھ ختم ہو چکا ہو۔
Arabicوإنا لنحن نحيي من كان ميتًا، ونميت من كان حيًّا بعد انقضاء أجله، ونحن الوارثون الباقون. ويفسر المفسرون هذه الكلمة الأخيرة بأنهم الباقون بعد أن يفنى كل شيء سواهم.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There was an Israeli man called Juraij, while he was praying, his mother came and called him, but he did not respond to her call. He said (to himself) whether he should continue the prayer or reply to his mother. She came to him the second time and called him and said, "O Allah! Do not let him die until he sees the faces of prostitutes." Juraij used to live in a hermitage. A woman said that she would entice Juraij, so she went to him and presented herself (for an evil act) but he refused. She then went to a shepherd and allowed him to commit an illegal sexual intercourse with her and later she gave birth to a boy. She alleged that the baby …
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بنی اسرائیل میں ایک صاحب تھے، جن کا نام جریج تھا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی والدہ آئیں اور انہیں پکارا۔ انہوں نے جواب نہیں دیا۔ سوچتے رہے کہ جواب دوں یا نماز پڑھوں۔ پھر وہ دوبارہ آئیں اور ( غصے میں ) بددعا کر گئیں، اے اللہ! اسے موت نہ آئے جب تک کسی بدکار عورت کا منہ نہ دیکھ لے۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہتے تھے۔ ایک عورت نے ( جو جریج کے عبادت خانے کے پاس اپنی مویشی چرایا کرتی تھی اور فاحشہ تھی ) کہا کہ جریج کو فتنہ میں ڈالے بغیر نہ رہوں گی۔ چنانچہ وہ ان کے سامنے آئی اور گفتگو کرنی چاہی، لیکن انہوں نے منہ پھیر لیا۔ پھر …
It was narrated that Ibn Abbas said:"There was a woman who used to pray behind the Messenger of Allah (ﷺ) who was beautiful, one of the most beautiful of people. Some of the people used to go to the front row to avoid seeing her, and some used to go to the back row so that when they bowed they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed the words: 'To Us are known those of you who hasten forward and those who lag behind
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ( الحجر: ۲۴ ) ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“A woman used to perform prayer behind the Prophet (ﷺ), and she was one of the most beautiful of people. Some of the people used to go into the first row so that they would not see her, and some of them used to lag behind so that they would be in the last row, and when they bowed, they would do like this so that they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed: “And indeed, We know the first generations of you who had passed away, and indeed, We know the present generations of you (mankind), and also those who will some afterwards.” [15:24] concerning her matter
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو، اور پیچھے رہنے والوں کو ( سورۃ الحجر: ۲۴ ) نازل فرمائی۔
Narrated Ibn 'Abbas:"There was a woman who performed Salat behind the Messenger of Allah (ﷺ) who was the most beautiful among the people. Some of the people would go forward to the first line so as not to see her. Others would go back to the last line so when he would bow, he could look at her from under his armpit. So Allah revealed: Indeed We know those who try to come forward among you, and We know those who try to go back (15:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( عورتوں کی صفوں میں ) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہو جاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہو جاتے تھے ( عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں ) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں“ ( الحجر: ۲۴ ) ، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جعفر بن سلیمان نے یہ حدیث عمرو بن مالک سے اور عمروبن مالک نے ابوالجوزاء سے اسی طرح روایت کی ہے، اور اس …
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone forgets that he is fasting and eats or drinks he should complete his fast, for it is only Allah Who has fed him and given him drink
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص روزے کی حالت میں بھول گیا اور کھا لیا یا پی لیا تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔
PickthallAnd verily We know the eager among you and verily We know the laggards.
Yusuf AliTo Us are known those of you who hasten forward, and those who lag behind.
The agreed readingAnd We know those of you who went ahead and We know those who came later. Nothing in the whole span, from the first of the line to the last, falls outside what is known.
Urduاور ہم نے تم میں سے آگے جانے والوں کو بھی جان لیا ہے اور پیچھے رہنے والوں کو بھی جان لیا ہے۔ سارے سلسلے میں، پہلے سے لے کر آخر تک، کوئی چیز ایسی نہیں جو اس علم سے باہر ہو۔
Arabicولقد علمنا المستقدمين منكم الذين مضوا وهلكوا، ولقد علمنا المستأخرين الذين لم يأتوا بعد. فما من شيء في هذا السلسلة كلها، من أولها إلى آخرها، يخرج عن هذا العلم المحيط.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī and al-Qurṭubī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا
It was narrated that Ibn Abbas said:"There was a woman who used to pray behind the Messenger of Allah (ﷺ) who was beautiful, one of the most beautiful of people. Some of the people used to go to the front row to avoid seeing her, and some used to go to the back row so that when they bowed they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed the words: 'To Us are known those of you who hasten forward and those who lag behind
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ( الحجر: ۲۴ ) ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں ۔
Narrated Ibn 'Abbas:"There was a woman who performed Salat behind the Messenger of Allah (ﷺ) who was the most beautiful among the people. Some of the people would go forward to the first line so as not to see her. Others would go back to the last line so when he would bow, he could look at her from under his armpit. So Allah revealed: Indeed We know those who try to come forward among you, and We know those who try to go back (15:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( عورتوں کی صفوں میں ) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہو جاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہو جاتے تھے ( عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں ) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں“ ( الحجر: ۲۴ ) ، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جعفر بن سلیمان نے یہ حدیث عمرو بن مالک سے اور عمروبن مالک نے ابوالجوزاء سے اسی طرح روایت کی ہے، اور اس …
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:the best of the men’s row is the first and the worst of them is the last, but the best of the women’s rows is the last and the worst of them is the first
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر پہلی صف، اور سب سے بری آخری صف ہے، اور عورتوں کی ۱؎ سب سے بہتر آخری صف، سب سے بری پہلی صف ہے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“A woman used to perform prayer behind the Prophet (ﷺ), and she was one of the most beautiful of people. Some of the people used to go into the first row so that they would not see her, and some of them used to lag behind so that they would be in the last row, and when they bowed, they would do like this so that they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed: “And indeed, We know the first generations of you who had passed away, and indeed, We know the present generations of you (mankind), and also those who will some afterwards.” [15:24] concerning her matter
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو، اور پیچھے رہنے والوں کو ( سورۃ الحجر: ۲۴ ) نازل فرمائی۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) by Abu Ishiq that a person said to Bara' (b. 'Azib):Abu Umara, did you flee on the Day of Hunain? He replied: The Messenger of Allah (ﷺ) did not retreat. (What actually happened was that some hasty young men who were either inadequately armed or were unarmed met a group of men from Banu Hawazin and Banu Nadir who happened to be (excellent) archers. The latter shot at them a volley of arrows that did not miss. The people turned to the Messenger of Allah (ﷺ). Abu Sufyan b. Harith was leading his mule. So he got down, prayed and invoked God's help. He said: I am the Prophet. This is no untruth. I am the son of Abd al-Muttalib. O …
زکریا نے ابواسحاق سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی حضرت براء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا : ابوعمارہ! کیا آپ لوگ حنین کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے؟ تو انہوں نے کہا : میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے رخ تک نہیں پھیرا ، کچھ جلد باز لوگ اور نہتے ہوازن کے اس قبیلے کی طرف بڑھے ، وہ تیر انداز لوگ تھے ، انہوں نے ان ( نوجوانوں ) پر اس طرح یکبارگی اکٹھے تیر پھینکے جیسے وہ تڈی دل ہوں ۔ اس پر وہ بکھر گئے ، اور وہ ( ہوازن کے ) لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے ، ابوسفیان ( بن حارث ) رضی اللہ عنہ آپ کے خچر کو پکڑ کر چلا رہے تھے ، تو آپ نیچے اترے ، دعا کی اور ( اللہ سے ) مدد مانگی ، آپ فرما رہے تھے : "" میں نبی ہوں ، یہ جھوٹ نہیں ، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں …
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There was an Israeli man called Juraij, while he was praying, his mother came and called him, but he did not respond to her call. He said (to himself) whether he should continue the prayer or reply to his mother. She came to him the second time and called him and said, "O Allah! Do not let him die until he sees the faces of prostitutes." Juraij used to live in a hermitage. A woman said that she would entice Juraij, so she went to him and presented herself (for an evil act) but he refused. She then went to a shepherd and allowed him to commit an illegal sexual intercourse with her and later she gave birth to a boy. She alleged that the baby …
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بنی اسرائیل میں ایک صاحب تھے، جن کا نام جریج تھا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی والدہ آئیں اور انہیں پکارا۔ انہوں نے جواب نہیں دیا۔ سوچتے رہے کہ جواب دوں یا نماز پڑھوں۔ پھر وہ دوبارہ آئیں اور ( غصے میں ) بددعا کر گئیں، اے اللہ! اسے موت نہ آئے جب تک کسی بدکار عورت کا منہ نہ دیکھ لے۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہتے تھے۔ ایک عورت نے ( جو جریج کے عبادت خانے کے پاس اپنی مویشی چرایا کرتی تھی اور فاحشہ تھی ) کہا کہ جریج کو فتنہ میں ڈالے بغیر نہ رہوں گی۔ چنانچہ وہ ان کے سامنے آئی اور گفتگو کرنی چاہی، لیکن انہوں نے منہ پھیر لیا۔ پھر …
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone forgets that he is fasting and eats or drinks he should complete his fast, for it is only Allah Who has fed him and given him drink
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص روزے کی حالت میں بھول گیا اور کھا لیا یا پی لیا تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔
PickthallLo! thy Lord will gather them together. Lo! He is Wise, Aware.
Yusuf AliAssuredly it is thy Lord Who will gather them together: for He is perfect in Wisdom and Knowledge.
The agreed readingAnd it is your Lord who will gather them. He is Wise, Knowing — the commentaries attach the first name to how He does it and the second to His knowing of every one He gathers.
Urduاور بے شک تیرا رب ہی انہیں اکٹھا کرے گا، وہ بڑی حکمت والا اور خوب جاننے والا ہے۔ مفسرین حکمت کی صفت کو اس کے اکٹھا کرنے کے طریقے سے جوڑتے ہیں، اور علم کی صفت کو ہر ایک شخص کے جاننے سے جسے وہ اکٹھا کرتا ہے۔
Arabicوإن ربك هو وحده يحشرهم للحساب والجزاء يوم القيامة، إنه حكيم في تدبيره، عليم لا يخفى عليه شيء منهم. ويربط المفسرون صفة الحكمة بطريقة الحشر، وصفة العلم بمعرفته كل فرد ممن يحشرهم.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، Ibn Kathīr، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, Ibn Kathīr and Ṭabāṭabāʾī on this āyah
al-Ṭabarī، Ibn Kathīr، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“A woman used to perform prayer behind the Prophet (ﷺ), and she was one of the most beautiful of people. Some of the people used to go into the first row so that they would not see her, and some of them used to lag behind so that they would be in the last row, and when they bowed, they would do like this so that they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed: “And indeed, We know the first generations of you who had passed away, and indeed, We know the present generations of you (mankind), and also those who will some afterwards.” [15:24] concerning her matter
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو، اور پیچھے رہنے والوں کو ( سورۃ الحجر: ۲۴ ) نازل فرمائی۔
Narrated Ibn 'Abbas:"There was a woman who performed Salat behind the Messenger of Allah (ﷺ) who was the most beautiful among the people. Some of the people would go forward to the first line so as not to see her. Others would go back to the last line so when he would bow, he could look at her from under his armpit. So Allah revealed: Indeed We know those who try to come forward among you, and We know those who try to go back (15:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( عورتوں کی صفوں میں ) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہو جاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہو جاتے تھے ( عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں ) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں“ ( الحجر: ۲۴ ) ، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جعفر بن سلیمان نے یہ حدیث عمرو بن مالک سے اور عمروبن مالک نے ابوالجوزاء سے اسی طرح روایت کی ہے، اور اس …
It was narrated that Ibn Abbas said:"There was a woman who used to pray behind the Messenger of Allah (ﷺ) who was beautiful, one of the most beautiful of people. Some of the people used to go to the front row to avoid seeing her, and some used to go to the back row so that when they bowed they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed the words: 'To Us are known those of you who hasten forward and those who lag behind
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ( الحجر: ۲۴ ) ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں ۔
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "There was an Israeli man called Juraij, while he was praying, his mother came and called him, but he did not respond to her call. He said (to himself) whether he should continue the prayer or reply to his mother. She came to him the second time and called him and said, "O Allah! Do not let him die until he sees the faces of prostitutes." Juraij used to live in a hermitage. A woman said that she would entice Juraij, so she went to him and presented herself (for an evil act) but he refused. She then went to a shepherd and allowed him to commit an illegal sexual intercourse with her and later she gave birth to a boy. She alleged that the baby …
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بنی اسرائیل میں ایک صاحب تھے، جن کا نام جریج تھا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی والدہ آئیں اور انہیں پکارا۔ انہوں نے جواب نہیں دیا۔ سوچتے رہے کہ جواب دوں یا نماز پڑھوں۔ پھر وہ دوبارہ آئیں اور ( غصے میں ) بددعا کر گئیں، اے اللہ! اسے موت نہ آئے جب تک کسی بدکار عورت کا منہ نہ دیکھ لے۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہتے تھے۔ ایک عورت نے ( جو جریج کے عبادت خانے کے پاس اپنی مویشی چرایا کرتی تھی اور فاحشہ تھی ) کہا کہ جریج کو فتنہ میں ڈالے بغیر نہ رہوں گی۔ چنانچہ وہ ان کے سامنے آئی اور گفتگو کرنی چاہی، لیکن انہوں نے منہ پھیر لیا۔ پھر …
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone forgets that he is fasting and eats or drinks he should complete his fast, for it is only Allah Who has fed him and given him drink
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص روزے کی حالت میں بھول گیا اور کھا لیا یا پی لیا تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔
PickthallVerily We created man of potter's clay of black mud altered,
Yusuf AliWe created man from sounding clay, from mud moulded into shape;
The agreed readingAnd We created man from dry clay that rings when struck, out of dark mud altered by time. The commentaries linger on the two words: the material is common, and it was worked.
Urduاور یقیناً ہم نے انسان کو ایسی خشک بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا جو سیاہ اور بدلے ہوئے گارے سے بنی تھی۔ مفسرین ان دونوں الفاظ پر رکتے ہیں: مادہ عام تھا، مگر اسے سنوارا اور تیار کیا گیا تھا۔
Arabicولقد خلقنا الإنسان آدم من طين يابس يُصوِّت إذا نُقر عليه، من طين أسود متغير اللون والرائحة بطول مكثه. ويتوقف المفسرون عند اللفظين: أن المادة كانت عادية معروفة، وأنها كانت مصنوعة مهيَّأة.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 2 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة4 reports cited here — 2 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Description of the Creation of Adam : Allāh collected from hard, soft, sweet and sour earth, clay which He dripped in water till it got pure, and kneaded it with moisture till it became gluey. From it He carved an image with curves, joints, limbs and segments. He solidified it till it dried up for a fixed time and a known duration. Then He blew into it out of His Spirit whereupon it took the pattern of a human being with mind that governs him, intelligence which he makes use of, limbs that serve him, organs that change his position, sagacity that differentiates between truth and untruth, tastes and smells, colours and species. He is a mixture of clays of different colours, cohesive …
صفتِ خلقِ آدم علیہ السلام: پھر اللہ سبحانہ نے زمین کی حزن و سہل، عذب و سبخ سے جمع کیا، تربہ اسے سنہ کیا پانی سے یہاں تک کہ خالص ہو گیا، اور اسے بلة سے ملایا یہاں تک کہ لازبت ہو گئی۔ تو اس سے ایک صورتِ أحناء و وصول، أعضاء و فصول بنایا: اسے أجمد کیا یہاں تک کہ استمسکت ہو گیا، اور أصلد کیا یہاں تک کہ صلصلت ہو گیا، معدودِ وقت اور معلومِ اجل کے لیے۔ پھر اس میں اپنی روح سے پھونکا تو یہ انسان بنا جو أذہان رکھتا ہے انہیں چلاتا ہے، اور فکر رکھتا ہے اسے حرکت دیتا ہے، اور جوارح رکھتا ہے انہیں خدمت لیتا ہے، اور أدوات رکھتا ہے انہیں تبدیل کرتا ہے، اور معرفت رکھتا ہے اس سے حق و باطل میں فرق کرتا ہے، أذواق و مشامّ میں، ألوان و أجناس میں۔ معجوں طینةِ ألوانِ مختلفہ، اور أشباہِ مؤتلفہ، اور أضدادِ متعادیہ، …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حدثنا أبي، ومحمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد - رضي الله عنهما - قالا: حدثنا عبد الله بن جعفر الحميري، عن محمد بن الحسين بن أبي الخطاب، قال: حدثنا النضر بن شعيب، عن عبد الغفار الجازي، عن أبي عبد الله عليه السلام في قول الله عز وجل: " إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا " قال: الرجس هو الشك.
1. We were told by my father, and Muhammed bin Hasan bin Ahmad bin Waleed, may Allah be pleased with them both, that they both said: We were told by Abdullah bin Ja’far al-Himyari, from Muhammed bin Hussain bin Abi’l-Khattab, that he said: We were told by Nadr bin Shu’aib, from Abdul-Ghaffar al-Jazi, from Abu Abdillah, peace be upon him, with regards to the saying of Allah, Exalted and Glorious is He: «Allah only wants, verily, to remove from you impurity, (O) Household, and to purify you a (complete) purification.» (33:33) He said: Impurity is doubt.
حدثنا ابی، محمد بن الحسن بن احمد بن الولید (رضی اللہ عنہما)، قالا: حدثنا عبد اللہ بن جعفر الحمیری، محمد بن الحسین بن ابی الخطاب سے، کہا: حدثنا النضر بن شعیب، عبد الغفار الجازی سے، ابو عبد اللہ (علیہ السلام) سے اللہ عز و جل کے قول میں: "إنما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہركم تطہيرا"، کہا: الرجس ہو الشک۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Ibn Abbas narrated:(A Hadith similar to no. 716 with a different chain)
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوخالد احمر نے اعمش سے یہ حدیث بہت عمدہ طریقے سے روایت کی ہے، ۳- ابوخالد الاحمر کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی اسے اعمش سے ابوخالد کی روایت کے مثل روایت کیا ہے، ابومعاویہ نے اور دوسرے کئی اور لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «الأعمش عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے سلمہ بن کہیل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی عطاء اور مجاہد کے واسطے کا، ابوخالد کا نام سلیمان بن حیان ہے۔
Narrated It was narrated that Ibn Abbas said:“When the Prophet was expelled from Makkah, Abu Bakr said to him: ‘They have driven out their Prophet, verily to Allah we belong and to Him we return. They are surely doomed.’ Then it was revealed: ‘Permission to fight (against disbelievers) is given to those (believers) who are fought against, because they have been wronged; and surely, Allah is able to give them (believers) victory.’ Then I knew that there would be fighting.” Ibn Abbas said: “This is the first Verse that was revealed concerning fighting.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا «إنا لله وإنا إليه راجعون» یہ لوگ ضرور ہلاک ہو جائیں گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ على نصرهم لقدير» ”جن ( مسلمانوں ) سے ( کافر ) جنگ کر رہے ہیں، انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ بھی مظلوم ہیں۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے“۔ ( الحج: ۳۹ ) تو میں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ ہو گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”یہ پہلی آیت ہے جو جنگ کے بارے میں اتری ہے“۔
PickthallAnd the jinn did We create aforetime of essential fire.
Yusuf AliAnd the Jinn race, We had created before, from the fire of a scorching wind.
The agreed readingAnd the jinn We created before that, from a fire of scorching heat — glossed in both traditions as a fire that passes through the pores, made before the making of man.
Urduاور جنوں کو ہم نے اس سے پہلے سخت تپتی ہوئی آگ سے پیدا کیا۔ دونوں روایات اس آگ کی وضاحت اس آگ سے کرتی ہیں جو مسامات میں سے گزر جاتی ہے، اور یہ آدمی کی تخلیق سے پہلے بنائی گئی تھی۔
Arabicوالجانَّ وهو أبو الجن خلقناه من قبل خلق آدم من نار شديدة الحرارة لا دخان لها. ويفسر كلا التفسيرين هذه النار بأنها نار تنفذ من المسام، وأنها خُلقت قبل خلق الإنسان.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:The Angels were born out of light and the Jinns were born out of the spark of fire and Adam was born as he has been defined (in the Qur'an) for you (i. e. he is fashioned out of clay)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنوں کو آگ کے شعلے سے اورآدم علیہ السلام کو اس ( مادے ) سے پیدا کیا گیا ہے جس کو تمہارے لئے جان کیا گیا ہے ۔
Anas reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When Allah fashioned Adam in Paradise, He left him as He liked him to leave. Then Iblis roamed round him to see what actually that was and when he found him hollow from within, he recognised that he had been created with a disposition that he would not have control over himself
یونس بن محمد نے حماد بن سلمہ سے ، انہوں نے ثابت سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی تو جب تک چاہا ان ( کے جسد ) کو وہاں رکھا ۔ ابلیس اس کے اردگرد گھوم کر دیکھنے لگا کہ وہ کیسا ہے ۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ ( جسم ) اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ اسے اس طرح پیدا کیا گیا کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتا ۔
PickthallAnd (remember) when thy Lord said unto the angels: Lo! I am creating a mortal out of potter's clay of black mud altered,
Yusuf AliBehold! thy Lord said to the angels: "I am about to create man, from sounding clay from mud moulded into shape;
The agreed readingAnd when your Lord said to the angels: I am going to create a mortal from dry clay, out of dark mud altered by time.
Urduاور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں ایک بشر کو خشک بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں، جو سیاہ اور بدلے ہوئے گارے سے بنی ہے۔
Arabicواذكر أيها الرسول حين قال ربك جل جلاله للملائكة الكرام أجمعين: إني خالق وجاعل بشرًا من طين يابس مصوِّت، من طين أسود متغير اللون والرائحة بطول مكثه.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None is wounded in Allah's cause - and Allah knows better about who has been injured in His cause - except that he will come on the Day of Resurrection with his wound the color of blood but its scent will be the scent of musk." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported through other routes from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جو بھی زخمی ہو گا – اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ۱؎ – قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ـ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is! Whoever is wounded in Allah's Cause....and Allah knows well who gets wounded in His Cause....will come on the Day of Resurrection with his wound having the color of blood but the scent of musk
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابوالزناد سے ‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ہے ‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا ‘ رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہو گی۔“
PickthallSo, when I have made him and have breathed into him of My Spirit, do ye fall down, prostrating yourselves unto him.
Yusuf Ali"When I have fashioned him (in due proportion) and breathed into him of My spirit, fall ye down in obeisance unto him."
The agreed readingSo when I have shaped him and breathed into him of My spirit, fall down before him in prostration. The commentaries read the attaching of the spirit to Himself as honour given to what was made of clay, and the prostration as ordered on that account.
Urduپس جب میں اسے مکمل کر لوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔ مفسرین روح کو اپنی طرف منسوب کرنے کو اس مٹی سے بنی چیز کو دی گئی عزت سمجھتے ہیں، اور سجدے کا حکم اسی وجہ سے دیا گیا۔
Arabicفإذا سوَّيته وأكملت خلقه ونفخت فيه من روحي، فخُرُّوا له ساجدين سجود تحية وتكريم. ويقرأ المفسرون إضافة الروح إلى الله على أنها تشريف لهذا المخلوق من طين، وأن السجود أُمر به لهذا السبب.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 2 من كتب أهل السنة، 4 من كتب الشيعة6 reports cited here — 2 Sunnī, 4 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 4 شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Then Allāh asked the angels to fulfil His promise with them and to accomplish the pledge of His injunction to them by acknowledging Him through prostration to Him and submission to His honoured position. So Allāh said: ‘Be prostrate towards Adam and they prostrated except Iblis (Satan).’ (Qur’ān, 2:34; 7:11; 17:61; 18:50; 20:116) Self-importance withheld him and vice overcame him. So that he took pride in his own creation with fire and treated contemptuously the creation of clay. So Allāh allowed him time in order to let him fully deserve His wrath, and to complete (man’s) test and to fulfil the promise (He had made to Satan). Thus, He said: ‘Verily you have been allowed time till the known …
اور اللہ سبحانہ نے فرشتوں سے اپنی امانت اور وصیت کی عہد کا استیفاء کیا - السجود میں اللہ کی اذعان کے اور اس کی تکریم میں خنوع کے لیے۔ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس۔ ابلیس کو حمیہ (غرور) نے پکڑا اور شقاوت غالب آ گئی۔ اس نے اپنی آگ کی خلقت پر بپھر کھڑا ہوا اور مٹی کی خلقت کو حقیر سمجھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے نظرت (مہلت) دی - سخط کی استحقاق کے لیے، اور بلیہ کی تکمیل کے لیے، اور عدہ کی انجام تک پہنچنے کے لیے۔ پھر اللہ نے کہا: انک من المنظرین الیٰ یوم الوقت المعلوم۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Description of the Creation of Adam : Allāh collected from hard, soft, sweet and sour earth, clay which He dripped in water till it got pure, and kneaded it with moisture till it became gluey. From it He carved an image with curves, joints, limbs and segments. He solidified it till it dried up for a fixed time and a known duration. Then He blew into it out of His Spirit whereupon it took the pattern of a human being with mind that governs him, intelligence which he makes use of, limbs that serve him, organs that change his position, sagacity that differentiates between truth and untruth, tastes and smells, colours and species. He is a mixture of clays of different colours, cohesive …
صفتِ خلقِ آدم علیہ السلام: پھر اللہ سبحانہ نے زمین کی حزن و سہل، عذب و سبخ سے جمع کیا، تربہ اسے سنہ کیا پانی سے یہاں تک کہ خالص ہو گیا، اور اسے بلة سے ملایا یہاں تک کہ لازبت ہو گئی۔ تو اس سے ایک صورتِ أحناء و وصول، أعضاء و فصول بنایا: اسے أجمد کیا یہاں تک کہ استمسکت ہو گیا، اور أصلد کیا یہاں تک کہ صلصلت ہو گیا، معدودِ وقت اور معلومِ اجل کے لیے۔ پھر اس میں اپنی روح سے پھونکا تو یہ انسان بنا جو أذہان رکھتا ہے انہیں چلاتا ہے، اور فکر رکھتا ہے اسے حرکت دیتا ہے، اور جوارح رکھتا ہے انہیں خدمت لیتا ہے، اور أدوات رکھتا ہے انہیں تبدیل کرتا ہے، اور معرفت رکھتا ہے اس سے حق و باطل میں فرق کرتا ہے، أذواق و مشامّ میں، ألوان و أجناس میں۔ معجوں طینةِ ألوانِ مختلفہ، اور أشباہِ مؤتلفہ، اور أضدادِ متعادیہ، …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None is wounded in Allah's cause - and Allah knows better about who has been injured in His cause - except that he will come on the Day of Resurrection with his wound the color of blood but its scent will be the scent of musk." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported through other routes from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جو بھی زخمی ہو گا – اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ۱؎ – قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ـ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is! Whoever is wounded in Allah's Cause....and Allah knows well who gets wounded in His Cause....will come on the Day of Resurrection with his wound having the color of blood but the scent of musk
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابوالزناد سے ‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ہے ‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا ‘ رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہو گی۔“
3. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from his father from fadalah from Rifa‘ah who has said the following: “I once heard abu ‘Abd Allah (a.s.), saying, ‘When Allah, most Blessed, most High, granted good health to Ayyub (a.s.), he looked to the Israelites who had their plantations. He raised his eyes to the sky and said, ‘O Lord, my Master, this is Your slave Ayyub who was in suffering and You granted him good health but he does not have any plantation. These are people of banu Israel who have their plantations.’ Allah, most Majestic, most Glorious, sent him revelation that said, ‘Take a handful from you rosary beads and use it as seed .’ His rosary …
عدة من اصحابنا نے احمد بن محمد بن خالد سے، ان کے باپا سے، فضالة سے، رفاعة سے روایت کی، کہا: میں نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) کو کہتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ جب ایوب (علیہ السلام) کو عافیت دے دی، تو اس نے بنی اسرائیل کو دیکھا کہ وہ بوئے بو رہے ہیں، تو اس نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا: اے میرے خدا اور میرے سیاہی! تمہارا بندہ ایوب جو مبتلا تھا، انہیں عافیت دے دی، اور انہوں نے کوئی بوا نہ بویا، اور یہ بنی اسرائیل ہیں جن کے پاس کھیت ہیں۔ تو اللہ عزّ وجلّ نے اس کی طرف وحی کی: اے ایوب، اپنے تسبیح سے ایک مٹھی لے اور اسے بو۔ اور اس کی تسبیح میں نمک تھی۔ تو ایوب (علیہ السلام) نے اس سے ایک مٹھی لی اور اسے بویا، تو عدس نکلی، اور تم اسے چنے کا نام دیتے ہو، اور ہم اسے عدس کہتے ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallSo the angels fell prostrate, all of them together
Yusuf AliSo the angels prostrated themselves, all of them together:
The agreed readingSo the angels prostrated, all of them together — the commentaries note the doubled emphasis in the wording, all of them and together, so that no exception is left open by the sentence itself.
Urduتو سب فرشتوں نے مل کر سجدہ کیا، سب کے سب۔ مفسرین اس بیان کی تاکید پر توجہ دلاتے ہیں: سب اور یکجا، تاکہ جملہ خود کسی استثنا کی گنجائش باقی نہ چھوڑے۔
Arabicفسجد الملائكة كلهم أجمعون، لم يمتنع منهم أحد استجابة لأمر ربهم. ويلاحظ المفسرون التوكيد المضاعف في اللفظ، كلهم وأجمعون معًا، بحيث لا تترك الجملة نفسها أي استثناء مفتوحًا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None is wounded in Allah's cause - and Allah knows better about who has been injured in His cause - except that he will come on the Day of Resurrection with his wound the color of blood but its scent will be the scent of musk." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported through other routes from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جو بھی زخمی ہو گا – اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ۱؎ – قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ـ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is! Whoever is wounded in Allah's Cause....and Allah knows well who gets wounded in His Cause....will come on the Day of Resurrection with his wound having the color of blood but the scent of musk
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابوالزناد سے ‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ہے ‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا ‘ رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہو گی۔“
PickthallSave Iblis. He refused to be among the prostrate.
Yusuf AliNot so Iblis: he refused to be among those who prostrated themselves.
The agreed readingExcept Iblis. He refused to be among those who prostrated — and the exception the previous āyah had closed off is made by an act, not by a gap in the command.
Urduسوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ جس استثنا کو پچھلی آیت نے بند کر دیا تھا وہ اب ایک عمل سے سامنے آیا، حکم میں کسی خلا سے نہیں۔
Arabicإلا إبليس، فقد أبى واستكبر أن يكون مع الساجدين الخاضعين. والاستثناء الذي أغلقته الآية السابقة إغلاقًا تامًّا ظهر الآن بفعل حقيقي وقع، لا بثغرة تركها الأمر نفسه.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None is wounded in Allah's cause - and Allah knows better about who has been injured in His cause - except that he will come on the Day of Resurrection with his wound the color of blood but its scent will be the scent of musk." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported through other routes from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جو بھی زخمی ہو گا – اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ۱؎ – قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ـ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is! Whoever is wounded in Allah's Cause....and Allah knows well who gets wounded in His Cause....will come on the Day of Resurrection with his wound having the color of blood but the scent of musk
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابوالزناد سے ‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ہے ‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا ‘ رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہو گی۔“
PickthallHe said: O Iblis! What aileth thee that thou art not among the prostrate?
Yusuf Ali(Allah) said: "O Iblis! what is your reason for not being among those who prostrated themselves?"
The agreed readingHe said: Iblis, what is the matter with you, that you are not among those who prostrated?
Urduاللہ تعالیٰ نے ابلیس سے استفسار کرتے ہوئے فرمایا: اے ابلیس، آخر تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو باقی سجدہ کرنے والوں کے ساتھ شامل نہیں ہوا؟
Arabicقال الله تعالى له مستفهمًا ومستنكرًا عليه فعله ذاك: يا إبليس، ما الذي أصابك حقًّا وما لك حتى لا تكون مع سائر الملائكة الساجدين الخاضعين لأمري كلهم أجمعين؟
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None is wounded in Allah's cause - and Allah knows better about who has been injured in His cause - except that he will come on the Day of Resurrection with his wound the color of blood but its scent will be the scent of musk." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported through other routes from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جو بھی زخمی ہو گا – اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ۱؎ – قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ـ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is! Whoever is wounded in Allah's Cause....and Allah knows well who gets wounded in His Cause....will come on the Day of Resurrection with his wound having the color of blood but the scent of musk
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابوالزناد سے ‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ہے ‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا ‘ رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہو گی۔“
PickthallHe said: I am not one to prostrate myself unto a mortal whom Thou hast created out of potter's clay of black mud altered!
Yusuf Ali(Iblis) said: "I am not one to prostrate myself to man, whom Thou didst create from sounding clay, from mud moulded into shape."
The agreed readingHe said: I am not one to prostrate to a mortal You created from dry clay, out of dark mud altered by time. The commentaries read the refusal as an argument from material — he weighed what each was made of and drew a conclusion about rank from it.
Urduاس نے کہا: میں کبھی اس بشر کو سجدہ کرنے والا نہیں جسے تو نے خشک بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے جو سیاہ اور بدلے ہوئے گارے سے بنی ہے۔ مفسرین اس انکار کو مادے کی بنیاد پر دی گئی دلیل سمجھتے ہیں: اس نے دونوں کے مادے کا وزن کر کے مرتبے کا فیصلہ کر لیا۔
Arabicقال إبليس مظهرًا كبره وحسده: لم أكن لأسجد لبشر خلقته من طين يابس، من طين أسود متغير اللون بطول مكثه. ويقرأ المفسرون هذا الرفض على أنه حجة قائمة على المادة: فقد وازن بين مادتيهما واستنتج من ذلك حكمًا في المرتبة.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None is wounded in Allah's cause - and Allah knows better about who has been injured in His cause - except that he will come on the Day of Resurrection with his wound the color of blood but its scent will be the scent of musk." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported through other routes from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جو بھی زخمی ہو گا – اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ۱؎ – قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ـ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is! Whoever is wounded in Allah's Cause....and Allah knows well who gets wounded in His Cause....will come on the Day of Resurrection with his wound having the color of blood but the scent of musk
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابوالزناد سے ‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ہے ‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا ‘ رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہو گی۔“
PickthallHe said: Then go thou forth from hence, for lo! thou art outcast.
Yusuf Ali(Allah) said: "Then get thee out from here; for thou art rejected, accursed.
The agreed readingHe said: then get out of it, for you are outcast — driven out, as the commentaries gloss it, from the place and the standing he had held.
Urduاللہ نے فرمایا: تو یہاں سے نکل جا، بے شک تو مردود ہے۔ مفسرین اس مردود ہونے کی وضاحت اسی جگہ اور اس مرتبے سے نکالے جانے سے کرتے ہیں جو اسے پہلے حاصل تھا۔
Arabicقال الله تعالى له: فاخرج من الجنة ومن بين الملائكة، فإنك رجيم مطرود. ويفسر المفسرون هذا الطرد بأنه إخراج من ذلك المكان ومن تلك المنزلة الرفيعة التي كان يتمتع بها من قبل.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None is wounded in Allah's cause - and Allah knows better about who has been injured in His cause - except that he will come on the Day of Resurrection with his wound the color of blood but its scent will be the scent of musk." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported through other routes from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جو بھی زخمی ہو گا – اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ۱؎ – قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ـ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is! Whoever is wounded in Allah's Cause....and Allah knows well who gets wounded in His Cause....will come on the Day of Resurrection with his wound having the color of blood but the scent of musk
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابوالزناد سے ‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ہے ‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا ‘ رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہو گی۔“
PickthallAnd lo! the curse shall be upon thee till the Day of Judgment.
Yusuf Ali"And the curse shall be on thee till the day of Judgment."
The agreed readingAnd the curse is on you until the Day of Judgement — the commentaries take the naming of a limit here as pointing forward to what comes after it rather than as an ending of it.
Urduاور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت ہے۔ مفسرین یہاں حد کے تعین کو اس کے بعد آنے والی چیز کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، نہ کہ اس لعنت کے ختم ہونے کی خبر۔
Arabicوإن عليك اللعنة والطرد من رحمتي إلى يوم الدين، يوم يُبعث الخلق للحساب. ويأخذ المفسرون تحديد هذا الحد على أنه إشارة إلى ما يأتي بعده، لا إعلانًا بانتهاء تلك اللعنة عنده.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
[Allāh’s trial and the vanity of Iblīs :] and He has hurled a curse on him who contests with Him concerning them. Then He put His angels on trial concerning these attributes in order to distinguish those who are modest from those who are vain. Therefore, Allāh, who is aware of whatever is hidden in the hearts and whatever lies behind the unseen said: “. . . ‘Verily I am about to create man from clay,’ And when I have completed and have breathed into him of My spirit, then fall ye prostrating in obeisance unto him. And did fall prostrating in obeisance the angels all together, Save lblis;...” (Qur’ān, 38:71-74)
رأس العصيان: اور اس نے لعنت کی ڈالی اس پر جو اس کے بندوں میں سے اس میں اختلاف کرتا۔ پھر اس نے اپنے قریب ملائکہ کو اس کے ذریعے آزمایا تاکہ ان میں سے متواضع کو متکبر سے الگ کرے۔ تو وہ سبحانہ جو دلوں کے راز اور غیب کے پوشیدہ کو جانتا ہے، کہا: اِنِّی خَالِقٌ بَشَراً مِّن طِینٍ۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَۃُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ۔ إِلَّا إِبْلِیسَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None is wounded in Allah's cause - and Allah knows better about who has been injured in His cause - except that he will come on the Day of Resurrection with his wound the color of blood but its scent will be the scent of musk." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported through other routes from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جو بھی زخمی ہو گا – اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ۱؎ – قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ـ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is! Whoever is wounded in Allah's Cause....and Allah knows well who gets wounded in His Cause....will come on the Day of Resurrection with his wound having the color of blood but the scent of musk
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابوالزناد سے ‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ہے ‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا ‘ رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہو گی۔“
PickthallHe said: Then lo! thou art of those reprieved
Yusuf Ali(Allah) said: "Respite is granted thee
The agreed readingHe said: then you are among those given time. The request is granted, and the commentaries note that it is granted in the same words it was asked in, but not to the term that was asked for.
Urduاللہ نے فرمایا: تو بے شک تجھے مہلت دی جانے والوں میں سے ہے۔ درخواست منظور کر لی گئی، اور مفسرین یہ نوٹ کرتے ہیں کہ یہ منظوری اسی الفاظ میں دی گئی جن میں مانگی گئی تھی، مگر اسی مدت تک نہیں جو مانگی گئی تھی۔
Arabicقال الله له: فإنك من المؤخَّرين الممهَلين. فقد أُجيب طلبه، ويلاحظ المفسرون أن الإجابة جاءت بنفس اللفظ الذي سأل به، ولكن لم تكن إلى الأجل الذي طلبه بعينه.
The agreed readingUntil the day of the appointed time — a term the commentaries identify as a fixed moment known to God, and not the raising of the dead that had been asked for.
Urduاس مقررہ اور معلوم وقت کے دن تک۔ مفسرین اس مدت کی وضاحت اللہ کے علم میں طے ایک خاص لمحے سے کرتے ہیں، نہ کہ اس مردوں کے اٹھائے جانے کے دن سے جسے وہ مانگ رہا تھا۔
Arabicإلى يوم الوقت المعلوم عند الله وحده. ويحدد المفسرون هذا الأجل بأنه لحظة معينة معلومة عند الله، وليس هو يوم بعث الأموات الذي كان إبليس قد طلبه.
PickthallHe said: My Lord! Because Thou hast sent me astray, I verily shall adorn the path of error for them in the earth, and shall mislead them every one,
Yusuf Ali(Iblis) said: "O my Lord! because Thou hast put me in the wrong, I will make (wrong) fair-seeming to them on the earth, and I will put them all in the wrong,-
The agreed readingHe said: my Lord, because You let me go astray, I will make what is in the earth seem fine to them, and I will lead them all astray. The commentaries read his method as named in his own words: not force, but making things look good.
Urduاس نے کہا: اے میرے رب، چونکہ تو نے مجھے گمراہ کر دیا، اب میں زمین میں ان کے لیے چیزوں کو خوشنما بنا دوں گا اور ان سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ مفسرین اس کے طریقہ کار کو اسی کے اپنے الفاظ میں پہچانتے ہیں: زور زبردستی سے نہیں بلکہ چیزوں کو خوبصورت دکھا کر۔
Arabicقال إبليس: رب بسبب ما أغويتني وأضللتني لأزيِّنَنَّ لهم في الأرض معاصيك، ولأغوينَّهم أجمعين عن طريق الهدى. ويقرأ المفسرون طريقته من كلماته نفسها: ليس بالإكراه والإجبار، وإنما بتزيين الأشياء وتحسينها في أعينهم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The least of the people of Paradise in position is the one with eighty thousand servants and seventy-two wives. He shall have a tent of pearl, peridot, and corundum set up for him,(the size of which is) like that which is between Al-Jabiyyah and Sana'a."And with this chain, it is narrated from the Prophet (s.a.w) that he said: "Whoever of the people of (destined to enter) Paradise dies, young or old, they shall be brought back in Paradise thirty years old, they will not increase in that ever, and likewise the people of the Fire." And with this chain, it is narrated from the Prophet (s.a.w) that he said: "There are upon …
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کم درجے کا جتنی وہ ہے جس کے لیے اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں ہوں گی۔ اس کے لیے موتی، زمرد اور یاقوت کا خیمہ نصب کیا جائے گا جو مقام جابیہ سے صنعاء ( یمن ) تک کے برابر ہو گا“۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ جُنَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم - " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ .
Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) said: "There are seven gates of Jahannam: Among them a gate for whoever carries a sword against my Ummah." Or he said: "Against the Ummah of Muhammad
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔
PickthallSave such of them as are Thy perfectly devoted slaves.
Yusuf Ali"Except Thy servants among them, sincere and purified (by Thy Grace)."
The agreed readingExcept Your servants among them who have been made sincere — the one exception he concedes himself, before anything is said to him about it.
Urduسوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں خالص اور چن لیا گیا ہو۔ یہی وہ ایک استثنا ہے جو اس نے خود اپنی طرف سے مان لیا، اس سے پہلے کہ اسے اس کے بارے میں کچھ کہا جاتا۔
Arabicإلا عبادك منهم المخلَصين الذين هديتهم وأخلصتهم لطاعتك وحدك. وهذا هو الاستثناء الوحيد الذي اعترف به إبليس نفسه من تلقاء ذاته، قبل أن يُقال له فيه شيء أصلًا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 1 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة4 reports cited here — 1 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
و ما كان فيه عن حفص بن غياث فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن أبي عبد اللّه، عن أبيه، عن حفص بن غياث. و رويته عن عليّ بن أحمد بن موسى- رحمه اللّه- عن محمّد بن أبي عبد اللّه، عن محمّد بن أبي بشير قال: حدّثنا الحسين بن الهيثم قال: حدّثنا سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث. و رويته عن أبي- رحمه اللّه- عن سعد بن عبد اللّه، عن القاسم بن محمّد الاصبهانيّ، عن سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث النخعيّ القاضي.
Everything in this book that is narrated from Hafs ibn Ghayath has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ahmad ibn Abi Abdullah, from his father, from Hafs ibn Ghayath. I have also narrated it from Ali ibn Ahmad ibn Musa - may Allah (swt) have mercy on him - from Muhammad ibn Abi Abdullah, from Muhammad ibn Abi Bashir, who said: Al-Husayn ibn Al-Haytham narrated to us, saying: Sulayman ibn Dawud Al-Munqari narrated to us, from Hafs ibn Ghayath. Additionally, I have narrated it from my father - may Allah (swt) have mercy on him - from Sa'd ibn Abdullah, from Al-Qasim ibn Muhammad Al-Isfahani, from Sulayman ibn Dawud …
اور جو کچھ اس میں حفص بن غیاث کے ذریعے ہے، تو میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں خوش رکھے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، احمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، ان کے والد کے ذریعے، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے علی بن احمد بن موسیٰ سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - محمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، محمد بن ابی بشیر کے ذریعے۔ انہوں نے کہا: ہمیں الحسین بن الہیثم نے حدیث دی، کہا: ہمیں سليمان بن داود المنقری نے حدیث دی، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، القاسم بن محمد الاصبهاني کے ذریعے، سليمان بن داود المنقری کے ذریعے، حفص بن غیاث النخعي القاضي سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
أبي - رحمه الله - قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن أحمد بن أبي عبد الله، عن أبيه، عن محمد بن أبي عمير، عن معاوية بن عمار، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قلت له: جعلت فداك، ما حد الجار؟ قال: أربعين دارا من كل جانب.
1. My father, may Allah grant him mercy, said: We were told by Sa’d bin Abdullah, from Ahmad bin Abi Abdillah, from his father, from Muhammed bin Abi ‘Umayr, from Mu’awiya bin Ammar, from Abu Abdillah, peace be upon him, that he said: I said to him: May I be sacrificed for you, what is the limit of a neighbor? He said: Forty houses from every side.
ابي رحمه الله کہا: سعد بن عبد الله نے احمد بن ابي عبد الله سے اس کے باپا سے محمد بن ابي عمير سے معاوية بن عمار سے ابو عبد الله عليه السلام سے روایت کی۔ کہا: میں نے اس سے کہا: تمہارے لیے فدا، پڑوسی کی حد کیا ہے؟ فرمایا: ہر طرف سے چالیس گھر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
أبي - رحمه الله - قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن أحمد بن أبي عبد الله، عن محمد ابن علي الكوفي، عن عبيد الله الدهقان، عن درست بن أبي منصور الواسطي، عن إبراهيم ابن عبد الحميد، عن أبي الحسن موسى عليه السلام قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله فقال: يا رسول الله قد علمت ابني هذا الكتاب، ففي أي شئ أسلمه؟ فقال: سلمه لله أبوك ولا تسلمه في خمس: لا تسلمه سياء ولا صائغا ولا قصابا ولا حناطا ولا نخاسا فقال: يا رسول الله وما السياء؟ قال: الذي يبيع الأكفان ويتمنى موت أمتي وللمولود عن أمتي أحب إلي مما طلعت عليه الشمس. وأما الصائغ فإنه يعالج غبن أمتي . وأما القصاب فإنه يذبح حتى تذهب الرحمة من قلبه. وأما الحناط فإنه يحتكر الطعام على أمتي ولئن يلقى الله العبد سارقا أحب إلي من أن يلقاه قد احتكر طعاما …
1. My father, may Allah grant him mercy, said: We were told by Sa’d bin Abdullah, from Ahmad bin Abi Abdillah, from Muhammed ibn Ali al-Kufi, from Ubaidullah al-Dahqan, from Darast bin Abi Mansur al-Wasiti, from Ibrahim ibn Abdil-Hamid, from Abu’l-Hasan, Musa, peace be upon him, that he said: A man came to the Prophet, Allah’s blessings be upon him and his Family, and said: O Messenger of Allah, I have taught my son this book, so for what thing shall I give it? He said: Give it, for the sake of Allah, to your father, and do not give it to five: do not give it to an evil-wisher, nor a goldsmith, nor a slaughterer, nor a wheat seller, nor a slave trader. Then he said: O Messenger of Allah, …
میرے والد - اللہ انہیں رحمت دے - نے کہا: ہمیں سعد بن عبداللہ نے خبر دی، احمد بن ابی عبداللہ سے، محمد بن علی الکوفی سے، عبیداللہ الدہقان سے، درست بن ابی منصور الواسطی سے، ابراہیم بن عبدالحمید سے، ابو الحسن موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے بیٹے کو یہ کتاب سکھایا ہے، تو اسے کس میں دے دوں؟ انہوں نے کہا: اسے اللہ کے لیے اپنے والد کو دے دو اور انہیں پانچوں میں مت دینا: ایک - ستھا بیچنے والے کو، دوسرا - سونار کو، تیسرا - قصائی کو، چوتھا - اناج کا تاجر کو، پانچواں - غلام خریدو فروخت کرنے والے کو۔ تو آدمی نے کہا: یا رسول اللہ، ستھا بیچنے والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ جو کفن بیچتا ہے اور میری امت کی موت کی خواہش رکھتا ہے۔ حالانکہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ جُنَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم - " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ .
Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) said: "There are seven gates of Jahannam: Among them a gate for whoever carries a sword against my Ummah." Or he said: "Against the Ummah of Muhammad
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔
PickthallHe said: This is a right course incumbent upon Me:
Yusuf Ali(Allah) said: "This (way of My sincere servants) is indeed a way that leads straight to Me.
The agreed readingHe said: this is a straight way, binding upon Me. The commentaries read the way as the rule stated in the next breath and held to by God Himself, with no deviation in it: that over His own servants there is no authority to be had.
Urduاللہ نے فرمایا: یہ راستہ مجھ پر لازم اور سیدھا ہے۔ مفسرین اس راستے کو اسی اصول سے جوڑتے ہیں جو اگلی ہی سانس میں بیان ہوا اور جسے اللہ خود پابند ہو کر نبھاتا ہے، اس میں کوئی انحراف نہیں: کہ اس کے اپنے بندوں پر کسی کا کوئی اختیار نہیں چل سکتا۔
Arabicقال الله تعالى: هذا طريق مستقيم معتدل واجب عليّ الوفاء به. ويقرأ المفسرون هذا الطريق بأنه القاعدة المذكورة في النَّفَس التالي مباشرة، والتي يلتزم بها الله نفسه بلا انحراف: أن ليس لأحد سلطان على عباده المخلَصين.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ جُنَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم - " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ .
Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) said: "There are seven gates of Jahannam: Among them a gate for whoever carries a sword against my Ummah." Or he said: "Against the Ummah of Muhammad
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔
PickthallLo! as for My slaves, thou hast no power over any of them save such of the froward as follow thee,
Yusuf Ali"For over My servants no authority shalt thou have, except such as put themselves in the wrong and follow thee."
The agreed readingover My servants you have no authority, except those who follow you of the ones who go astray. The commentaries read the two together as fixing the limit exactly: what he has is invitation, and the following is the follower's own act.
Urduبے شک میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں، سوائے ان گمراہوں کے جو تیری پیروی کریں۔ مفسرین دونوں باتوں کو ملا کر پڑھتے ہیں تاکہ حد بالکل واضح ہو جائے: جو کچھ اس کے پاس ہے وہ صرف بلانا ہے، اور پیروی کرنا خود پیروی کرنے والے کا اپنا عمل ہے۔
Arabicإن عبادي المخلَصين ليس لك عليهم سلطان تضلهم به، إلا من اتبعك من الغاوين الضالين. ويقرأ المفسرون الآيتين معًا ليضبطا الحد بدقة: ما لديه هو الدعوة فقط، والاتباع هو فعل التابع نفسه لا غير.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ جُنَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم - " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ .
Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) said: "There are seven gates of Jahannam: Among them a gate for whoever carries a sword against my Ummah." Or he said: "Against the Ummah of Muhammad
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔
PickthallAnd lo! for all such, hell will be the promised place.
Yusuf AliAnd verily, Hell is the promised abode for them all!
The agreed readingAnd Hell is the promised place for all of them together. The commentaries attach the last words to the followers named just before, so that the promise runs to the one who followed and not only to the one who called.
Urduاور جہنم ہی ان سب کا وعدہ کیا ہوا ٹھکانا ہے۔ مفسرین آخری الفاظ کو ابھی سے پہلے بیان ہونے والے پیروکاروں سے جوڑتے ہیں، تاکہ یہ وعدہ صرف بلانے والے تک نہیں بلکہ پیروی کرنے والے تک بھی پہنچے۔
Arabicوإن جهنم الشديدة لموعد إبليس وأتباعه أجمعين. ويربط المفسرون هذه الكلمات الأخيرة بأولئك الأتباع المذكورين قبلها مباشرة، فيمتد الوعد إلى من اتبع لا إلى من دعا وحده.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ جُنَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم - " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ .
Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) said: "There are seven gates of Jahannam: Among them a gate for whoever carries a sword against my Ummah." Or he said: "Against the Ummah of Muhammad
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔
PickthallIt hath seven gates, and each gate hath an appointed portion.
Yusuf AliTo it are seven gates: for each of those gates is a (special) class (of sinners) assigned.
The agreed readingIt has seven gates, and to each gate belongs an assigned portion of them. Both traditions carry the report of the seven gates, and read the assigning as meaning that entry is not undifferentiated: each gate takes its own.
Urduاس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک مقررہ حصہ ہے۔ دونوں روایات سات دروازوں کی خبر دیتی ہیں، اور اس تقسیم کو یوں پڑھتی ہیں کہ داخلہ یکساں نہیں ہوگا: ہر دروازہ اپنا حصہ لے گا۔
Arabicلها سبعة أبواب متفاوتة، لكل باب منها جزء مقسوم من أتباع إبليس حسب أعمالهم. ويحمل كلا التفسيرين خبر الأبواب السبعة، ويقرءان التقسيم على أنه دخول متفاوت غير موحد: كل باب يأخذ نصيبه المحدد له.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ جُنَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم - " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ .
Narrated Ibn 'Umar:that the Prophet (ﷺ) said: "There are seven gates of Jahannam: Among them a gate for whoever carries a sword against my Ummah." Or he said: "Against the Ummah of Muhammad
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔
PickthallLo! those who ward off (evil) are among gardens and watersprings.
Yusuf AliThe righteous (will be) amid gardens and fountains (of clear-flowing water).
The agreed readingThose who guard themselves are among gardens and springs. The commentaries note where the sentence is placed — directly after the gates of Hell and their assigned portions — so that the two endings are read against each other.
Urduبے شک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ مفسرین اس جملے کے مقام پر توجہ دلاتے ہیں، یعنی یہ جہنم کے دروازوں اور ان کے مقررہ حصوں کے فورا بعد آتا ہے، تاکہ دونوں انجام ایک دوسرے کے مقابل پڑھے جائیں۔
Arabicإن المتقين الذين اتقوا الله بامتثال أمره واجتناب نهيه في جنات وعيون جارية. ويلاحظ المفسرون موضع هذه الجملة، إذ تأتي مباشرة بعد أبواب جهنم وأنصبتها المقسومة، فتُقرأ النهايتان إحداهما مقابل الأخرى.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The believers, after being saved from the (Hell) Fire, will be stopped at a bridge between Paradise and Hell and mutual retaliation will be established among them regarding wrongs they have committed in the world against one another. After they are cleansed and purified (through the retaliation), they will be admitted into Paradise; and by Him in Whose Hand Muhammad's soul is, everyone of them will know his dwelling in Paradise better than he knew his dwelling in this world
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا اس آیت کے بارے میں «ونزعنا ما في صدورهم من غل» کہا کہ ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومنین جہنم سے چھٹکارا پا جائیں گے لیکن دوزخ و جنت کے درمیان ایک پل پر انہیں روک لیا جائے گا اور پھر ایک کے دوسرے پر ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو دنیا میں ان کے درمیان آپس میں ہوئے تھے اور جب کانٹ چھانٹ کر لی جائے گی اور صفائی ہو جائے گی تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! جنتیوں میں سے ہر کوئی جنت میں اپنے گھر کو دنیا …
Abu Sa'id al-Khudri and Abu Huraira both reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would be an announcer (in Paradise) who would make this announcement: Verily I there is in store for you (everlasting) health and that you should never fall ill and that you live (for ever) and do not die at all. And that you would remain young and never grow old. And that you would always live in affluent circumstances and never become destitute, as words of Allah, the Exalted and Glorious, are:" And it would be announced to them: This is the Paradise. You have been made to inherit it for what you used to do". (VII;)
ثوری نے کہا : مجھے ابو اسحٰق نے حدیث بیان کی ، ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ) اغر ( ابن عبد اللہ ) نے انھیں حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک اعلان کرنے والااعلان کرے گا ۔ یقیناًتمھارے لیے یہ ( انعام بھی ) ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے ۔ کبھی بیمار نہ پڑوگے ، اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ زندہ رہوگے ۔ کبھی موت کا شکار نہیں ہو گے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ جوان رہو گے ۔ کبھی بوڑھے نہ ہوگے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہوگے ۔ کبھی زحمت نہ دیکھو گے ۔ " یہی اللہ عزوجل کا فرمان ( واضح کرتا ) ہے : " اور انھیں ندادے کرکہاجائے گاکہ …
Pickthall(And it is said unto them): Enter them in peace, secure.
Yusuf Ali(Their greeting will be): "Enter ye here in peace and security."
The agreed readingEnter them in peace, secure — the commentaries gloss the two words as covering everything that could be lost and everything that could be feared, so that nothing is left to be anxious about.
Urduان میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ مفسرین ان دونوں لفظوں کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ وہ ہر اس چیز کا احاطہ کرتے ہیں جو کھو سکتی تھی اور ہر اس چیز کا جس کا خوف ہو سکتا تھا، تاکہ فکر کرنے کے لیے کچھ بھی باقی نہ رہے۔
Arabicادخلوها بسلام من كل سوء، آمنين من كل عذاب ومخافة. ويفسر المفسرون هاتين الكلمتين على أنهما تشملان كل ما كان يمكن أن يُفقد وكل ما كان يمكن أن يُخاف منه، فلا يبقى شيء يستدعي القلق أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 2 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة4 reports cited here — 2 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
7. A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad from Muhammad ibn al-Hassan ibn Shammun from ‘Abd Allah ibn ‘Abd al-Rahman from Misma’ ibn ‘Abd al-Malik who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that ’Amir al-Mu’minin has said, ‘One hired and a partner are liable unless it (the loss) is because of beasts, drowning, burning or a stubborn thief.’”
عدة من أصحابنا نے سہل بن زياد سے روایت کی، سہل نے محمد بن الحسن بن شمون سے، محمد نے عبد الله بن عبد الرحمن سے، عبد الله نے مسمع بن عبد الملك سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں: ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: امیر المؤمنین صلوات الله علیہ نے کہا: اجیر المشارک ضامن ہے إلا سبع یا غرق یا حرق یا لص مکابر کے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad from Muhammad ibn al-Hassan ibn Shammun from ‘Abd Allah ibn ‘Abd al-Rahman al-Asamm from Misma’ ibn ‘Abd al-Malik who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, sent through Ali (a.s.), the declaration of the abrogation of peace treaty to be announce in Makkah, he sent along with him a group of people. The Messenger of Allah then said (to them), ‘Those who turn themselves into captivity without having sustained a disabling wound are not of our people.’”
عدّة من أصحابنا نے سہل بن زیاد سے روایت کی، محمد بن الحسن بن شمّون سے، عبداللہ بن عبدالرحمن الاصمّ سے، مسمع بن عبدالملک سے، ابو عبد اللہ علیہ السلام سے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے سورۃ البراءة (یعنی براءة کی سورت) علی بن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ بھیجی تو ان کے ساتھ کچھ لوگوں کو بھی بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے انہیں فرمایا: جو شخص بغیر سخت و پریشان کن زخم کے خود کو اسیر (قیدی) بنا لے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The believers, after being saved from the (Hell) Fire, will be stopped at a bridge between Paradise and Hell and mutual retaliation will be established among them regarding wrongs they have committed in the world against one another. After they are cleansed and purified (through the retaliation), they will be admitted into Paradise; and by Him in Whose Hand Muhammad's soul is, everyone of them will know his dwelling in Paradise better than he knew his dwelling in this world
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا اس آیت کے بارے میں «ونزعنا ما في صدورهم من غل» کہا کہ ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومنین جہنم سے چھٹکارا پا جائیں گے لیکن دوزخ و جنت کے درمیان ایک پل پر انہیں روک لیا جائے گا اور پھر ایک کے دوسرے پر ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو دنیا میں ان کے درمیان آپس میں ہوئے تھے اور جب کانٹ چھانٹ کر لی جائے گی اور صفائی ہو جائے گی تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! جنتیوں میں سے ہر کوئی جنت میں اپنے گھر کو دنیا …
Abu Sa'id al-Khudri and Abu Huraira both reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would be an announcer (in Paradise) who would make this announcement: Verily I there is in store for you (everlasting) health and that you should never fall ill and that you live (for ever) and do not die at all. And that you would remain young and never grow old. And that you would always live in affluent circumstances and never become destitute, as words of Allah, the Exalted and Glorious, are:" And it would be announced to them: This is the Paradise. You have been made to inherit it for what you used to do". (VII;)
ثوری نے کہا : مجھے ابو اسحٰق نے حدیث بیان کی ، ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ) اغر ( ابن عبد اللہ ) نے انھیں حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک اعلان کرنے والااعلان کرے گا ۔ یقیناًتمھارے لیے یہ ( انعام بھی ) ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے ۔ کبھی بیمار نہ پڑوگے ، اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ زندہ رہوگے ۔ کبھی موت کا شکار نہیں ہو گے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ جوان رہو گے ۔ کبھی بوڑھے نہ ہوگے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہوگے ۔ کبھی زحمت نہ دیکھو گے ۔ " یہی اللہ عزوجل کا فرمان ( واضح کرتا ) ہے : " اور انھیں ندادے کرکہاجائے گاکہ …
PickthallAnd We remove whatever rancour may be in their breasts. As brethren, face to face, (they rest) on couches raised.
Yusuf AliAnd We shall remove from their hearts any lurking sense of injury: (they will be) brothers (joyfully) facing each other on thrones (of dignity).
The agreed readingAnd We take out whatever rancour was in their breasts; brothers, on couches, facing one another. The commentaries note that what is removed is removed rather than forgiven by them, and that facing one another means no one sits behind anyone's back.
Urduاور ہم ان کے سینوں میں جو کچھ بھی کینہ تھا اسے نکال دیں گے، وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ مفسرین نوٹ کرتے ہیں کہ یہ کینہ خود ان کی طرف سے معاف کیا ہوا نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے نکالا ہوا ہے، اور آمنے سامنے ہونے کا مطلب ہے کہ کوئی کسی کی پیٹھ پیچھے نہیں بیٹھے گا۔
Arabicونزعنا ما في صدورهم من غل وحقد وعداوة، إخوانًا متحابين على سرر متقابلين. ويلاحظ المفسرون أن هذا الغل مَنزوع لا مغفور من قِبَلهم هم أنفسهم، وأن التقابل يعني ألا يجلس أحد خلف ظهر أحد.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The believers, after being saved from the (Hell) Fire, will be stopped at a bridge between Paradise and Hell and mutual retaliation will be established among them regarding wrongs they have committed in the world against one another. After they are cleansed and purified (through the retaliation), they will be admitted into Paradise; and by Him in Whose Hand Muhammad's soul is, everyone of them will know his dwelling in Paradise better than he knew his dwelling in this world
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا اس آیت کے بارے میں «ونزعنا ما في صدورهم من غل» کہا کہ ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومنین جہنم سے چھٹکارا پا جائیں گے لیکن دوزخ و جنت کے درمیان ایک پل پر انہیں روک لیا جائے گا اور پھر ایک کے دوسرے پر ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو دنیا میں ان کے درمیان آپس میں ہوئے تھے اور جب کانٹ چھانٹ کر لی جائے گی اور صفائی ہو جائے گی تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! جنتیوں میں سے ہر کوئی جنت میں اپنے گھر کو دنیا …
Abu Sa'id al-Khudri and Abu Huraira both reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would be an announcer (in Paradise) who would make this announcement: Verily I there is in store for you (everlasting) health and that you should never fall ill and that you live (for ever) and do not die at all. And that you would remain young and never grow old. And that you would always live in affluent circumstances and never become destitute, as words of Allah, the Exalted and Glorious, are:" And it would be announced to them: This is the Paradise. You have been made to inherit it for what you used to do". (VII;)
ثوری نے کہا : مجھے ابو اسحٰق نے حدیث بیان کی ، ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ) اغر ( ابن عبد اللہ ) نے انھیں حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک اعلان کرنے والااعلان کرے گا ۔ یقیناًتمھارے لیے یہ ( انعام بھی ) ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے ۔ کبھی بیمار نہ پڑوگے ، اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ زندہ رہوگے ۔ کبھی موت کا شکار نہیں ہو گے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ جوان رہو گے ۔ کبھی بوڑھے نہ ہوگے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہوگے ۔ کبھی زحمت نہ دیکھو گے ۔ " یہی اللہ عزوجل کا فرمان ( واضح کرتا ) ہے : " اور انھیں ندادے کرکہاجائے گاکہ …
PickthallToil cometh not unto them there, nor will they be expelled from thence.
Yusuf AliThere no sense of fatigue shall touch them, nor shall they (ever) be asked to leave.
The agreed readingNo weariness will touch them in it, and they will never be put out of it. Two things are ruled out that would spoil anything else: it does not tire, and it does not end.
Urduوہاں انہیں کوئی تھکاوٹ نہیں چھوئے گی اور نہ ہی وہ کبھی وہاں سے نکالے جائیں گے۔ دو چیزیں یہاں رد کر دی گئی ہیں جو ہر اور نعمت کو بگاڑ دیتی ہیں: نہ تھکن اور نہ خاتمہ۔
Arabicلا يمسهم فيها تعب ولا نصب أبدًا، وما هم منها بمخرجين قط. وقد نُفي هنا أمران يفسدان أي نعمة أخرى: أنها لا تُتعب، وأنها لا تنتهي.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The believers, after being saved from the (Hell) Fire, will be stopped at a bridge between Paradise and Hell and mutual retaliation will be established among them regarding wrongs they have committed in the world against one another. After they are cleansed and purified (through the retaliation), they will be admitted into Paradise; and by Him in Whose Hand Muhammad's soul is, everyone of them will know his dwelling in Paradise better than he knew his dwelling in this world
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا اس آیت کے بارے میں «ونزعنا ما في صدورهم من غل» کہا کہ ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومنین جہنم سے چھٹکارا پا جائیں گے لیکن دوزخ و جنت کے درمیان ایک پل پر انہیں روک لیا جائے گا اور پھر ایک کے دوسرے پر ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو دنیا میں ان کے درمیان آپس میں ہوئے تھے اور جب کانٹ چھانٹ کر لی جائے گی اور صفائی ہو جائے گی تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! جنتیوں میں سے ہر کوئی جنت میں اپنے گھر کو دنیا …
Abu Sa'id al-Khudri and Abu Huraira both reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would be an announcer (in Paradise) who would make this announcement: Verily I there is in store for you (everlasting) health and that you should never fall ill and that you live (for ever) and do not die at all. And that you would remain young and never grow old. And that you would always live in affluent circumstances and never become destitute, as words of Allah, the Exalted and Glorious, are:" And it would be announced to them: This is the Paradise. You have been made to inherit it for what you used to do". (VII;)
ثوری نے کہا : مجھے ابو اسحٰق نے حدیث بیان کی ، ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ) اغر ( ابن عبد اللہ ) نے انھیں حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک اعلان کرنے والااعلان کرے گا ۔ یقیناًتمھارے لیے یہ ( انعام بھی ) ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے ۔ کبھی بیمار نہ پڑوگے ، اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ زندہ رہوگے ۔ کبھی موت کا شکار نہیں ہو گے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ جوان رہو گے ۔ کبھی بوڑھے نہ ہوگے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہوگے ۔ کبھی زحمت نہ دیکھو گے ۔ " یہی اللہ عزوجل کا فرمان ( واضح کرتا ) ہے : " اور انھیں ندادے کرکہاجائے گاکہ …
PickthallAnnounce, (O Muhammad) unto My slaves that verily I am the Forgiving, the Merciful,
Yusuf AliTell My servants that I am indeed the Oft-forgiving, Most Merciful;
The agreed readingTell My servants that I am the Forgiving, the Merciful. The commentaries note that the command is to announce it: the mercy is not left to be worked out or hoped for, it is to be carried and told.
Urduمیرے بندوں کو خبر دے دیں کہ میں ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ مفسرین نوٹ کرتے ہیں کہ حکم خبر دینے کا دیا گیا ہے: رحمت کو یونہی سمجھنے یا امید لگانے پر نہیں چھوڑا گیا، بلکہ اسے پہنچانا اور بتانا ضروری ہے۔
Arabicأخبِرْ أيها الرسول عبادي أني أنا الغفور لهم الرحيم بهم. ويلاحظ المفسرون أن الأمر جاء بالإخبار: فالرحمة لم تُترك ليُستنتج بها أو يُرجى بها فقط، بل أُمر بحملها وإبلاغها لهم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The believers, after being saved from the (Hell) Fire, will be stopped at a bridge between Paradise and Hell and mutual retaliation will be established among them regarding wrongs they have committed in the world against one another. After they are cleansed and purified (through the retaliation), they will be admitted into Paradise; and by Him in Whose Hand Muhammad's soul is, everyone of them will know his dwelling in Paradise better than he knew his dwelling in this world
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا اس آیت کے بارے میں «ونزعنا ما في صدورهم من غل» کہا کہ ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومنین جہنم سے چھٹکارا پا جائیں گے لیکن دوزخ و جنت کے درمیان ایک پل پر انہیں روک لیا جائے گا اور پھر ایک کے دوسرے پر ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو دنیا میں ان کے درمیان آپس میں ہوئے تھے اور جب کانٹ چھانٹ کر لی جائے گی اور صفائی ہو جائے گی تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! جنتیوں میں سے ہر کوئی جنت میں اپنے گھر کو دنیا …
Abu Sa'id al-Khudri and Abu Huraira both reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would be an announcer (in Paradise) who would make this announcement: Verily I there is in store for you (everlasting) health and that you should never fall ill and that you live (for ever) and do not die at all. And that you would remain young and never grow old. And that you would always live in affluent circumstances and never become destitute, as words of Allah, the Exalted and Glorious, are:" And it would be announced to them: This is the Paradise. You have been made to inherit it for what you used to do". (VII;)
ثوری نے کہا : مجھے ابو اسحٰق نے حدیث بیان کی ، ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ) اغر ( ابن عبد اللہ ) نے انھیں حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک اعلان کرنے والااعلان کرے گا ۔ یقیناًتمھارے لیے یہ ( انعام بھی ) ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے ۔ کبھی بیمار نہ پڑوگے ، اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ زندہ رہوگے ۔ کبھی موت کا شکار نہیں ہو گے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ جوان رہو گے ۔ کبھی بوڑھے نہ ہوگے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہوگے ۔ کبھی زحمت نہ دیکھو گے ۔ " یہی اللہ عزوجل کا فرمان ( واضح کرتا ) ہے : " اور انھیں ندادے کرکہاجائے گاکہ …
Ala' reported on the authority of his father who reported on the authority of Abu Huraira that Allah's Messenger (ﷺ) said:If a believer were to know the punishment (in Hell) none would have the audacity to aspire for Paradise (but he would earnestly desire to be rescued from Hell), and if a non-believer were to know what is there with Allah as a mercy. none would have been disappointed in regard to Paradise
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر مومن کو یہ علم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سزا کیا ہے تو کوئی شخص اس کی جنت کی امید ہی نہ رکھے ، اور اگر کافر کو یہ پتہ چل جائے کہ اللہ کے پاس رحمت کس قدر ہے تو کوئی ایک بھی اس کی جنت سے مایوس نہ ہو ۔
Yusuf AliAnd that My Penalty will be indeed the most grievous Penalty.
The agreed readingand that My punishment is the painful punishment. The commentaries read the pair as deliberately joined: the announcement of mercy is not made alone, and neither is the warning.
Urduاور یہ کہ میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔ مفسرین ان دونوں باتوں کو جان بوجھ کر جوڑی گئی سمجھتے ہیں: رحمت کا اعلان اکیلا نہیں کیا جاتا، اور نہ ہی تنبیہ اکیلی دی جاتی ہے۔
Arabicوأن عذابي هو العذاب المؤلم الموجع لمن لم يتب. ويقرأ المفسرون هذين الأمرين على أنهما وُصلا عمدًا: فإعلان الرحمة لا يُذكر وحده، والتحذير أيضًا لا يُذكر وحده.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The believers, after being saved from the (Hell) Fire, will be stopped at a bridge between Paradise and Hell and mutual retaliation will be established among them regarding wrongs they have committed in the world against one another. After they are cleansed and purified (through the retaliation), they will be admitted into Paradise; and by Him in Whose Hand Muhammad's soul is, everyone of them will know his dwelling in Paradise better than he knew his dwelling in this world
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا اس آیت کے بارے میں «ونزعنا ما في صدورهم من غل» کہا کہ ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومنین جہنم سے چھٹکارا پا جائیں گے لیکن دوزخ و جنت کے درمیان ایک پل پر انہیں روک لیا جائے گا اور پھر ایک کے دوسرے پر ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو دنیا میں ان کے درمیان آپس میں ہوئے تھے اور جب کانٹ چھانٹ کر لی جائے گی اور صفائی ہو جائے گی تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! جنتیوں میں سے ہر کوئی جنت میں اپنے گھر کو دنیا …
Abu Sa'id al-Khudri and Abu Huraira both reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There would be an announcer (in Paradise) who would make this announcement: Verily I there is in store for you (everlasting) health and that you should never fall ill and that you live (for ever) and do not die at all. And that you would remain young and never grow old. And that you would always live in affluent circumstances and never become destitute, as words of Allah, the Exalted and Glorious, are:" And it would be announced to them: This is the Paradise. You have been made to inherit it for what you used to do". (VII;)
ثوری نے کہا : مجھے ابو اسحٰق نے حدیث بیان کی ، ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ) اغر ( ابن عبد اللہ ) نے انھیں حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک اعلان کرنے والااعلان کرے گا ۔ یقیناًتمھارے لیے یہ ( انعام بھی ) ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے ۔ کبھی بیمار نہ پڑوگے ، اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ زندہ رہوگے ۔ کبھی موت کا شکار نہیں ہو گے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ جوان رہو گے ۔ کبھی بوڑھے نہ ہوگے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہوگے ۔ کبھی زحمت نہ دیکھو گے ۔ " یہی اللہ عزوجل کا فرمان ( واضح کرتا ) ہے : " اور انھیں ندادے کرکہاجائے گاکہ …
Malik related to me from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Allah is pleased with three things from you, and He is angry with three things from you. He is pleased that you worship Him and do not associate anything with Him, and that you take hold of the rope of Allah altogether, and that you give good counsel to the one to whom Allah gives command over you. He is angry with you for gossip, squandering property, and asking too many questions
ابو صالح سے روایت ہے ( انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سنا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوش ہوتا ہے تین باتوں پر اور ناراض ہوتا ہے تین باتوں پر، خوش ہوتا ہے اس سے جو تم شریک نہ کرو اس کے ساتھ کسی کو، پکڑے رہو اللہ کی رسی کو یعنی قرآن کو) اور نصیب کرو اپنے حکم کو یعنی نیک باتیں اسے بتلاؤ اور بری باتوں سے بچاؤ اور ناراض ہوتا ہے بہت باتیں کرنے سے اور مال تلف کرنے سے یعنی بے جا خرچ کرنے سے اور بہت سوال کرنے سے۔
Narrated Abu Hurairah:The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Allah forbade wine and the price paid for it, and forbade dead meat and the price paid for it, and forbade swine and the price paid for it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، مردار اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، سور اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے ۔
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, Verily Allah created Mercy. The day He created it, He made it into one hundred parts. He withheld with Him ninety-nine parts, and sent its one part to all His creatures. Had the non-believer known of all the Mercy which is in the Hands of Allah, he would not lose hope of entering Paradise, and had the believer known of all the punishment which is present with Allah, he would not consider himself safe from the Hell-Fire
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت کو جس دن بنایا تو اس کے سو حصے کئے اور اپنے پاس ان میں سے نناوے رکھے۔ اس کے بعد تمام مخلوق کے لیے صرف ایک حصہ رحمت کا بھیجا۔ پس اگر کافر کو وہ تمام رحم معلوم ہو جائے جو اللہ کے پاس ہے تو وہ جنت سے ناامید نہ ہو اور اگر مومن کو وہ تمام عذاب معلوم ہو جائیں جو اللہ کے پاس ہیں تو دوزخ سے کبھی بےخوف نہ ہو۔
Narrated Abu Huraira:I said: "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who will be the luckiest person, who will gain your intercession on the Day of Resurrection?" Allah's Messenger (ﷺ) said: "O Abu Huraira! I have thought that none will ask me about it before you as I know your longing for the (learning of) Hadiths. The luckiest person who will have my intercession on the Day of Resurrection will be the one who said sincerely from the bottom of his heart "None has the right to be worshipped but Allah
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان نے عمرو بن ابی عمرو کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ سعید بن ابی سعید المقبری کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت کسے ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے کوئی اس کے بارے میں مجھ سے دریافت نہیں کرے گا۔ کیونکہ میں نے حدیث کے متعلق تمہاری حرص دیکھ لی تھی۔ سنو! قیامت میں سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے وہ شخص ہو گا، جو سچے دل سے یا سچے جی سے «لا إله إلا الله» کہے گا۔
Narrated Abu Huraira:Some people asked the Prophet: "Who is the most honorable amongst the people?" He replied, "The most honorable among them is the one who is the most Allah-fearing." They said, "O Allah's Prophet! We do not ask about this." He said, "Then the most honorable person is Joseph, Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Khalil." They said, "We do not ask about this." He said, "Then you want to ask me about the Arabs' descent?" They said, "Yes." He said, "Those who were best in the pre-Islamic period, are the best in Islam, if they comprehend (the religious knowledge)
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم نے معتمر بن سلیمان سے سنا ‘ انہوں نے عبداللہ عمری سے ‘ انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو ‘ وہ سب سے زیادہ شریف ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر سب سے زیادہ شریف یوسف نبی اللہ بن نبی اللہ ( یعقوب ) بن نبی اللہ ( اسحاق ) بن خلیل اللہ ( ابراہیم علیہ السلام ) تھے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم لوگ عرب کے شرفاء کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ …
Ala' reported on the authority of his father who reported on the authority of Abu Huraira that Allah's Messenger (ﷺ) said:If a believer were to know the punishment (in Hell) none would have the audacity to aspire for Paradise (but he would earnestly desire to be rescued from Hell), and if a non-believer were to know what is there with Allah as a mercy. none would have been disappointed in regard to Paradise
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر مومن کو یہ علم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سزا کیا ہے تو کوئی شخص اس کی جنت کی امید ہی نہ رکھے ، اور اگر کافر کو یہ پتہ چل جائے کہ اللہ کے پاس رحمت کس قدر ہے تو کوئی ایک بھی اس کی جنت سے مایوس نہ ہو ۔
The agreed readingAnd tell them of Abraham's guests — identified in the commentaries as angels, and the telling is ordered for the same reason as the rest of the sūrah, which is to set out what happened to those who refused and those who did not.
Urduاور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کی خبر بھی سنا دیں۔ مفسرین انہیں فرشتے قرار دیتے ہیں، اور یہ خبر سنانے کا حکم اسی وجہ سے دیا گیا ہے جو پوری سورت کی وجہ ہے: یہ بتانا کہ انکار کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوا۔
Arabicوأخبرهم أيها الرسول عن ضيف إبراهيم. ويعرِّفهم المفسرون بأنهم ملائكة، وقد أُمر بهذا الخبر لنفس السبب الذي من أجله جاءت السورة كلها: بيان ما حدث لمن كذَّب ومن لم يكذِّب.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, Verily Allah created Mercy. The day He created it, He made it into one hundred parts. He withheld with Him ninety-nine parts, and sent its one part to all His creatures. Had the non-believer known of all the Mercy which is in the Hands of Allah, he would not lose hope of entering Paradise, and had the believer known of all the punishment which is present with Allah, he would not consider himself safe from the Hell-Fire
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت کو جس دن بنایا تو اس کے سو حصے کئے اور اپنے پاس ان میں سے نناوے رکھے۔ اس کے بعد تمام مخلوق کے لیے صرف ایک حصہ رحمت کا بھیجا۔ پس اگر کافر کو وہ تمام رحم معلوم ہو جائے جو اللہ کے پاس ہے تو وہ جنت سے ناامید نہ ہو اور اگر مومن کو وہ تمام عذاب معلوم ہو جائیں جو اللہ کے پاس ہیں تو دوزخ سے کبھی بےخوف نہ ہو۔
Narrated Abu Huraira:I said: "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who will be the luckiest person, who will gain your intercession on the Day of Resurrection?" Allah's Messenger (ﷺ) said: "O Abu Huraira! I have thought that none will ask me about it before you as I know your longing for the (learning of) Hadiths. The luckiest person who will have my intercession on the Day of Resurrection will be the one who said sincerely from the bottom of his heart "None has the right to be worshipped but Allah
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان نے عمرو بن ابی عمرو کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ سعید بن ابی سعید المقبری کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت کسے ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے کوئی اس کے بارے میں مجھ سے دریافت نہیں کرے گا۔ کیونکہ میں نے حدیث کے متعلق تمہاری حرص دیکھ لی تھی۔ سنو! قیامت میں سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے وہ شخص ہو گا، جو سچے دل سے یا سچے جی سے «لا إله إلا الله» کہے گا۔
Narrated Abu Huraira:Some people asked the Prophet: "Who is the most honorable amongst the people?" He replied, "The most honorable among them is the one who is the most Allah-fearing." They said, "O Allah's Prophet! We do not ask about this." He said, "Then the most honorable person is Joseph, Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Khalil." They said, "We do not ask about this." He said, "Then you want to ask me about the Arabs' descent?" They said, "Yes." He said, "Those who were best in the pre-Islamic period, are the best in Islam, if they comprehend (the religious knowledge)
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم نے معتمر بن سلیمان سے سنا ‘ انہوں نے عبداللہ عمری سے ‘ انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو ‘ وہ سب سے زیادہ شریف ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر سب سے زیادہ شریف یوسف نبی اللہ بن نبی اللہ ( یعقوب ) بن نبی اللہ ( اسحاق ) بن خلیل اللہ ( ابراہیم علیہ السلام ) تھے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم لوگ عرب کے شرفاء کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ …
Pickthall(How) when they came in unto him, and said: Peace. He said: Lo! we are afraid of you.
Yusuf AliWhen they entered his presence and said, "Peace!" He said, "We feel afraid of you!"
The agreed readingwhen they came in to him and said: peace. He said: we are afraid of you. The commentaries explain the fear by what happened between the two sentences: food was set before them and they did not eat it.
Urduجب وہ اس کے پاس داخل ہوئے اور کہا: سلام۔ اس نے کہا: ہم تو تم سے ڈر گئے ہیں۔ مفسرین اس خوف کی وضاحت اس بات سے کرتے ہیں جو دونوں جملوں کے درمیان ہوا: ان کے سامنے کھانا رکھا گیا اور انہوں نے اسے نہیں کھایا۔
Arabicإذ دخلوا عليه فقالوا: سلامًا، فرد عليهم السلام. قال: إنا منكم خائفون وجلون. ويفسر المفسرون هذا الخوف بما وقع بين الجملتين: قدَّم لهم إبراهيم الطعام فلم يأكلوا منه شيئًا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, Verily Allah created Mercy. The day He created it, He made it into one hundred parts. He withheld with Him ninety-nine parts, and sent its one part to all His creatures. Had the non-believer known of all the Mercy which is in the Hands of Allah, he would not lose hope of entering Paradise, and had the believer known of all the punishment which is present with Allah, he would not consider himself safe from the Hell-Fire
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت کو جس دن بنایا تو اس کے سو حصے کئے اور اپنے پاس ان میں سے نناوے رکھے۔ اس کے بعد تمام مخلوق کے لیے صرف ایک حصہ رحمت کا بھیجا۔ پس اگر کافر کو وہ تمام رحم معلوم ہو جائے جو اللہ کے پاس ہے تو وہ جنت سے ناامید نہ ہو اور اگر مومن کو وہ تمام عذاب معلوم ہو جائیں جو اللہ کے پاس ہیں تو دوزخ سے کبھی بےخوف نہ ہو۔
Narrated Abu Huraira:I said: "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who will be the luckiest person, who will gain your intercession on the Day of Resurrection?" Allah's Messenger (ﷺ) said: "O Abu Huraira! I have thought that none will ask me about it before you as I know your longing for the (learning of) Hadiths. The luckiest person who will have my intercession on the Day of Resurrection will be the one who said sincerely from the bottom of his heart "None has the right to be worshipped but Allah
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان نے عمرو بن ابی عمرو کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ سعید بن ابی سعید المقبری کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت کسے ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے کوئی اس کے بارے میں مجھ سے دریافت نہیں کرے گا۔ کیونکہ میں نے حدیث کے متعلق تمہاری حرص دیکھ لی تھی۔ سنو! قیامت میں سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے وہ شخص ہو گا، جو سچے دل سے یا سچے جی سے «لا إله إلا الله» کہے گا۔
Narrated Abu Huraira:Some people asked the Prophet: "Who is the most honorable amongst the people?" He replied, "The most honorable among them is the one who is the most Allah-fearing." They said, "O Allah's Prophet! We do not ask about this." He said, "Then the most honorable person is Joseph, Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Khalil." They said, "We do not ask about this." He said, "Then you want to ask me about the Arabs' descent?" They said, "Yes." He said, "Those who were best in the pre-Islamic period, are the best in Islam, if they comprehend (the religious knowledge)
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم نے معتمر بن سلیمان سے سنا ‘ انہوں نے عبداللہ عمری سے ‘ انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو ‘ وہ سب سے زیادہ شریف ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر سب سے زیادہ شریف یوسف نبی اللہ بن نبی اللہ ( یعقوب ) بن نبی اللہ ( اسحاق ) بن خلیل اللہ ( ابراہیم علیہ السلام ) تھے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم لوگ عرب کے شرفاء کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ …
PickthallThey said: Be not afraid! Lo! we bring thee good tidings of a boy possessing wisdom.
Yusuf AliThey said: "Fear not! We give thee glad tidings of a son endowed with wisdom."
The agreed readingThey said: do not be afraid; we bring you good news of a boy who will have knowledge. The good news is given here as the āyah gives it — a son, and knowledge named as the thing he will be given.
Urduانہوں نے کہا: مت ڈرو، ہم تمہیں ایک ایسے لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جسے علم دیا جائے گا۔ یہ خوشخبری بالکل اسی طرح دی گئی ہے جیسے آیت خود بیان کرتی ہے: ایک بیٹا، اور علم اس چیز کے طور پر بتایا گیا ہے جو اسے دی جائے گی۔
Arabicقالوا: لا تخف ولا تفزع، إنا نبشرك بغلام كثير العلم بالدين. وهذه البشارة تُعطى هنا كما تُعطيها الآية نفسها: ولد، والعلم مذكور بوصفه ما سيُعطاه هذا الولد.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, Verily Allah created Mercy. The day He created it, He made it into one hundred parts. He withheld with Him ninety-nine parts, and sent its one part to all His creatures. Had the non-believer known of all the Mercy which is in the Hands of Allah, he would not lose hope of entering Paradise, and had the believer known of all the punishment which is present with Allah, he would not consider himself safe from the Hell-Fire
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت کو جس دن بنایا تو اس کے سو حصے کئے اور اپنے پاس ان میں سے نناوے رکھے۔ اس کے بعد تمام مخلوق کے لیے صرف ایک حصہ رحمت کا بھیجا۔ پس اگر کافر کو وہ تمام رحم معلوم ہو جائے جو اللہ کے پاس ہے تو وہ جنت سے ناامید نہ ہو اور اگر مومن کو وہ تمام عذاب معلوم ہو جائیں جو اللہ کے پاس ہیں تو دوزخ سے کبھی بےخوف نہ ہو۔
Narrated Abu Huraira:I said: "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who will be the luckiest person, who will gain your intercession on the Day of Resurrection?" Allah's Messenger (ﷺ) said: "O Abu Huraira! I have thought that none will ask me about it before you as I know your longing for the (learning of) Hadiths. The luckiest person who will have my intercession on the Day of Resurrection will be the one who said sincerely from the bottom of his heart "None has the right to be worshipped but Allah
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان نے عمرو بن ابی عمرو کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ سعید بن ابی سعید المقبری کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت کسے ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے کوئی اس کے بارے میں مجھ سے دریافت نہیں کرے گا۔ کیونکہ میں نے حدیث کے متعلق تمہاری حرص دیکھ لی تھی۔ سنو! قیامت میں سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے وہ شخص ہو گا، جو سچے دل سے یا سچے جی سے «لا إله إلا الله» کہے گا۔
Narrated Abu Huraira:Some people asked the Prophet: "Who is the most honorable amongst the people?" He replied, "The most honorable among them is the one who is the most Allah-fearing." They said, "O Allah's Prophet! We do not ask about this." He said, "Then the most honorable person is Joseph, Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Khalil." They said, "We do not ask about this." He said, "Then you want to ask me about the Arabs' descent?" They said, "Yes." He said, "Those who were best in the pre-Islamic period, are the best in Islam, if they comprehend (the religious knowledge)
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم نے معتمر بن سلیمان سے سنا ‘ انہوں نے عبداللہ عمری سے ‘ انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو ‘ وہ سب سے زیادہ شریف ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر سب سے زیادہ شریف یوسف نبی اللہ بن نبی اللہ ( یعقوب ) بن نبی اللہ ( اسحاق ) بن خلیل اللہ ( ابراہیم علیہ السلام ) تھے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم لوگ عرب کے شرفاء کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ …
PickthallHe said: Bring ye me good tidings (of a son) when old age hath overtaken me? Of what then can ye bring good tidings?
Yusuf AliHe said: "Do ye give me glad tidings that old age has seized me? Of what, then, is your good news?"
The agreed readingHe said: do you bring me good news when old age has already reached me? Then what is this good news you bring? The question is read as wonder rather than doubt.
Urduاس نے کہا: کیا تم مجھے یہ خوشخبری دیتے ہو جبکہ مجھے بڑھاپا آ چکا ہے؟ تو یہ کس چیز کی خوشخبری ہے جو تم دے رہے ہو؟ اس سوال کو شک کے بجائے حیرت کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔
Arabicقال إبراهيم متعجبًا: أتبشرونني بالولد وقد مسَّني الكبر وبلغت من العمر عتيًّا؟ فبأي شيء تبشرونني إذن؟ ويُقرأ هذا السؤال على أنه تعجب لا شك ولا ارتياب.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, Verily Allah created Mercy. The day He created it, He made it into one hundred parts. He withheld with Him ninety-nine parts, and sent its one part to all His creatures. Had the non-believer known of all the Mercy which is in the Hands of Allah, he would not lose hope of entering Paradise, and had the believer known of all the punishment which is present with Allah, he would not consider himself safe from the Hell-Fire
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت کو جس دن بنایا تو اس کے سو حصے کئے اور اپنے پاس ان میں سے نناوے رکھے۔ اس کے بعد تمام مخلوق کے لیے صرف ایک حصہ رحمت کا بھیجا۔ پس اگر کافر کو وہ تمام رحم معلوم ہو جائے جو اللہ کے پاس ہے تو وہ جنت سے ناامید نہ ہو اور اگر مومن کو وہ تمام عذاب معلوم ہو جائیں جو اللہ کے پاس ہیں تو دوزخ سے کبھی بےخوف نہ ہو۔
Narrated Abu Huraira:I said: "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who will be the luckiest person, who will gain your intercession on the Day of Resurrection?" Allah's Messenger (ﷺ) said: "O Abu Huraira! I have thought that none will ask me about it before you as I know your longing for the (learning of) Hadiths. The luckiest person who will have my intercession on the Day of Resurrection will be the one who said sincerely from the bottom of his heart "None has the right to be worshipped but Allah
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان نے عمرو بن ابی عمرو کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ سعید بن ابی سعید المقبری کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت کسے ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے کوئی اس کے بارے میں مجھ سے دریافت نہیں کرے گا۔ کیونکہ میں نے حدیث کے متعلق تمہاری حرص دیکھ لی تھی۔ سنو! قیامت میں سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے وہ شخص ہو گا، جو سچے دل سے یا سچے جی سے «لا إله إلا الله» کہے گا۔
Narrated Abu Huraira:Some people asked the Prophet: "Who is the most honorable amongst the people?" He replied, "The most honorable among them is the one who is the most Allah-fearing." They said, "O Allah's Prophet! We do not ask about this." He said, "Then the most honorable person is Joseph, Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Khalil." They said, "We do not ask about this." He said, "Then you want to ask me about the Arabs' descent?" They said, "Yes." He said, "Those who were best in the pre-Islamic period, are the best in Islam, if they comprehend (the religious knowledge)
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم نے معتمر بن سلیمان سے سنا ‘ انہوں نے عبداللہ عمری سے ‘ انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو ‘ وہ سب سے زیادہ شریف ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر سب سے زیادہ شریف یوسف نبی اللہ بن نبی اللہ ( یعقوب ) بن نبی اللہ ( اسحاق ) بن خلیل اللہ ( ابراہیم علیہ السلام ) تھے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم لوگ عرب کے شرفاء کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ …
PickthallThey said: We bring thee good tidings in truth. So be not thou of the despairing.
Yusuf AliThey said: "We give thee glad tidings in truth: be not then in despair!"
The agreed readingThey said: we bring you good news in truth, so do not be one of those who despair.
Urduانہوں نے جواب دیا: ہم نے تمہیں سچائی اور یقین کے ساتھ یہ خوشخبری دی ہے، پس اس پر مایوس ہونے والوں میں سے ہرگز نہ ہو جاؤ۔
Arabicقالت له الملائكة مؤكدين له ذلك: بشرناك بالحق اليقين الذي أعلمنا الله تعالى به وأمرنا بتبليغه إليك، فلا تكن أنت من اليائسين القانطين من رحمة ربك أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“We are more likely to express doubt than Ibrahim when he said: “My Lord! Show me how You give life to the dead.’ He (Allah) said: ‘Do you not believe?’ He (Ibrahim) said: ‘Yes (I believe), but to be stronger in Faith.’[2:260] And may Allah have mercy on Lut. He wished to have a powerful support. And if i were to stay in prison as long as Yusuf stayed, I would have accepted the offer.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں ۱؎ جب انہوں نے کہا: اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ( لیکن یہ سوال اس لیے ہے ) کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے، اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ زور آور شخص کی پناہ ڈھونڈھتے تھے، اگر میں اتنے دنوں تک قید میں رہا ہوتا جتنے عرصہ یوسف علیہ السلام رہے، تو جس وقت بلانے والا آیا تھا میں اسی وقت اس کے ساتھ ہو لیتا ۲؎۔
PickthallHe said: And who despaireth of the mercy of his Lord save those who are astray?
Yusuf AliHe said: "And who despairs of the mercy of his Lord, but such as go astray?"
The agreed readingHe said: and who despairs of his Lord's mercy except those who have gone astray? The commentaries gloss the going astray as not knowing what God's mercy and power actually extend to — despair is treated as a mistake about God, not a mood.
Urduاس نے کہا: اپنے رب کی رحمت سے وہی مایوس ہوتا ہے جو گمراہ ہو۔ مفسرین گمراہی کی وضاحت اس بات سے کرتے ہیں کہ اسے یہ معلوم نہیں کہ اللہ کی رحمت اور قدرت حقیقت میں کہاں تک پھیلی ہوئی ہے، مایوسی کو یہاں مزاج کا نہیں بلکہ اللہ کے بارے میں ایک غلط فہمی کا معاملہ سمجھا گیا ہے۔
Arabicقال إبراهيم: ومن يقنط وييئس من رحمة ربه إلا الضالون المنحرفون عن الحق؟ ويفسر المفسرون هذا الضلال بأنه جهل بمدى ما تصل إليه رحمة الله وقدرته حقًّا، فيُعامَل اليأس هنا على أنه خطأ في معرفة الله لا مجرد حالة نفسية.
PickthallHe said: And afterward what is your business, O ye messengers (of Allah)?
Yusuf AliAbraham said: "What then is the business on which ye (have come), O ye messengers (of Allah)?"
The agreed readingHe said: then what is your errand, you who have been sent? The commentaries note that he asks only once the good news is settled, and that he now addresses them as messengers, having understood who they were.
Urduاس نے کہا: پھر اے بھیجے ہوئے فرشتو، تمہارا اصل کام کیا ہے؟ مفسرین نوٹ کرتے ہیں کہ اس نے یہ سوال خوشخبری کی بات ختم ہونے کے بعد ہی پوچھا، اور اب انہیں فرشتے سمجھ کر مخاطب کر رہا ہے، کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ کون ہیں۔
Arabicقال إبراهيم: فما شأنكم وأمركم الخطير أيها المرسلون؟ ويلاحظ المفسرون أنه لم يسأل هذا السؤال إلا بعد أن استقرت البشارة، وأنه يخاطبهم الآن بوصفهم رسلًا، بعد أن فهم من هم حقيقة.
PickthallThey said: We have been sent unto a guilty folk,
Yusuf AliThey said: "We have been sent to a people (deep) in sin,
The agreed readingThey said: we have been sent to a guilty people — named in the commentaries as the people of Lot. The wording puts the sending before the naming, so what they are is stated before who they are.
Urduانہوں نے کہا: ہمیں ایک مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے، جسے مفسرین قوم لوط قرار دیتے ہیں۔ الفاظ کی ترتیب میں بھیجنے کی بات پہلے آئی ہے اور نام بعد میں، یعنی پہلے یہ بیان ہوا کہ وہ کیا ہیں، پھر یہ کہ وہ کون ہیں۔
Arabicقالوا: إنا أُرسلنا إلى قوم مجرمين، ويسميهم المفسرون قوم لوط. وقد جاء الترتيب في اللفظ بالإرسال أولًا ثم التسمية بعده، فوُصفوا بحالهم قبل أن يُذكر اسمهم.
Pickthall(All) save the family of Lot. Them we shall deliver every one,
Yusuf Ali"Excepting the adherents of Lut: them we are certainly (charged) to save (from harm),- All -
The agreed readingExcept the family of Lot; we will deliver all of them. The commentaries gloss the deliverance as granted them for their belief, so the exception rests on a ground rather than on favour.
Urduسوائے لوط کے گھر والوں کے، ہم ان سب کو ضرور نجات دیں گے۔ مفسرین اس نجات کی وضاحت ان کے ایمان کی وجہ سے دی گئی سمجھتے ہیں، پس یہ استثنا کسی فضل و کرم پر نہیں بلکہ ایک سبب پر قائم ہے۔
Arabicإلا آل لوط المؤمنين، إنا لمنجوهم أجمعين من العذاب. ويفسر المفسرون هذه النجاة بأنها منحت لهم بسبب إيمانهم، فالاستثناء هنا قائم على سبب وليس على مجرد محاباة.
PickthallExcept his wife, of whom We had decreed that she should be of those who stay behind.
Yusuf Ali"Except his wife, who, We have ascertained, will be among those who will lag behind."
The agreed readingexcept his wife. We decreed that she would be among those who stay behind. The commentaries gloss staying behind as remaining with the people who were destroyed.
Urduسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے یہ طے کر دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ مفسرین پیچھے رہ جانے کی وضاحت اس بات سے کرتے ہیں کہ وہ اسی قوم کے ساتھ رہ جائے گی جسے ہلاک کیا جانا تھا۔
Arabicإلا امرأته الكافرة، قدَّرنا وقضينا بأمر الله إنها لمن الباقين الهالكين مع المهلَكين. ويفسر المفسرون البقاء هنا بأنه البقاء مع القوم الذين قُضي عليهم بالهلاك.
PickthallAnd when the messengers came unto the family of Lot,
Yusuf AliAt length when the messengers arrived among the adherents of Lut,
The agreed readingSo when the messengers came to the family of Lot — coming, as the commentaries note, in the form of young men, which is why what follows happens at all.
Urduپھر جب یہ بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے گھر والوں کے پاس پہنچے، اور مفسرین نوٹ کرتے ہیں کہ وہ خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے، اور اسی وجہ سے آگے جو کچھ ہوا وہ ہوا۔
Arabicفلما جاء آل لوط أولئك المرسلون، ويلاحظ المفسرون أنهم أتوه في صورة شبان حِسان الوجوه، ولهذا السبب بالذات وقع ما وقع بعد ذلك من أحداث.
PickthallHe said: Lo! ye are folk unknown (to me).
Yusuf AliHe said: "Ye appear to be uncommon folk."
The agreed readinghe said: you are people I do not know. The commentaries read the words as a man's guard going up at strangers arriving in a town like that one, before he knows who they are.
Urduاس نے کہا: تم تو ایسے لوگ ہو جنہیں میں پہچانتا نہیں۔ مفسرین ان الفاظ کو ایک ایسے آدمی کی چوکسی سمجھتے ہیں جو ایسے شہر میں اجنبیوں کے آنے پر بیدار ہو جاتی ہے، اس سے پہلے کہ اسے معلوم ہو کہ وہ کون ہیں۔
Arabicقال لوط للضيوف: إنكم قوم منكرون لا أعرفكم. ويقرأ المفسرون هذا الكلام بأنه احتراس رجل استيقظت حذره من غرباء وصلوا إلى مدينة كتلك، قبل أن يعرف من هم في الحقيقة.
PickthallThey said: Nay, but we bring thee that concerning which they keep disputing,
Yusuf AliThey said: "Yea, we have come to thee to accomplish that of which they doubt.
The agreed readingThey said: rather, we have come to you with the very thing they kept disputing about — the punishment they had been treating as a story.
Urduانہوں نے کہا: بلکہ ہم تو تیرے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کیا کرتے تھے، یعنی وہ عذاب جسے وہ محض کہانی سمجھتے تھے۔
Arabicقالوا: بل جئناك بذلك العذاب نفسه الذي كان قومك يمترون فيه ويشكون فيه طويلًا، ذلك العذاب الذي كانوا يعاملونه دائمًا على أنه مجرد قصة لا حقيقة لها ولا وجود.
PickthallAnd bring thee the Truth, and lo! we are truth-tellers.
Yusuf Ali"We have brought to thee that which is inevitably due, and assuredly we tell the truth.
The agreed readingAnd we have brought you the truth, and we are telling you the truth. The commentaries note the doubling: that what is brought is true, and that the ones bringing it are truthful, are two claims and not one.
Urduاور ہم تیرے پاس حق لے کر آئے ہیں اور ہم یقیناً سچے ہیں۔ مفسرین اس دُگنے پن پر توجہ دلاتے ہیں: کہ جو لایا گیا ہے وہ سچ ہے، اور جو لانے والے ہیں وہ سچے ہیں، یہ دو الگ دعوے ہیں، ایک نہیں۔
Arabicوأتيناك حقًّا بالحق اليقين، وإنا لصادقون فيما نقول ونخبرك به. ويلاحظ المفسرون هذا التكرار المزدوج: أن المُحضَر حق، وأن المُحضِرين صادقون، وهما دعويان اثنتان لا دعوى واحدة.
PickthallSo travel with thy household in a portion of the night, and follow thou their backs. Let none of you turn round, but go whither ye are commanded.
Yusuf Ali"Then travel by night with thy household, when a portion of the night (yet remains), and do thou bring up the rear: let no one amongst you look back, but pass on whither ye are ordered."
The agreed readingSo travel with your household in a part of the night, and follow behind them, and let none of you look back, and go on to where you are ordered. The commentaries read the order to walk last as making him the one who sees that nobody falls behind.
Urduپس رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جا اور ان کے پیچھے پیچھے چل، اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے، اور جہاں تمہیں حکم دیا جائے وہیں چلے جاؤ۔ مفسرین آخر میں چلنے کے حکم کو اس بات سے جوڑتے ہیں کہ وہ خود دیکھ سکے کہ کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔
Arabicفأسر بأهلك المؤمنين بقطع من الليل، واتبع أنت أدبارهم سائرًا خلفهم، ولا يلتفت منكم أحد إلى الوراء، وامضوا حيث تؤمرون. ويقرأ المفسرون أمره بالسير آخرًا على أنه يجعله المطمئن على ألا يتخلف منهم أحد.
PickthallAnd We made plain the case to him, that the root of them (who did wrong) was to be cut at early morn.
Yusuf AliAnd We made known this decree to him, that the last remnants of those (sinners) should be cut off by the morning.
The agreed readingAnd We made that decree clear to him: that the last of these people would be cut off by morning.
Urduاور ہم نے یہ فیصلہ اسے خود واضح طور پر پہنچا دیا: کہ صبح ہوتے ہی ان تمام لوگوں کی جڑ بالکل کاٹ دی جائے گی اور ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔
Arabicوقضينا وأوحينا إليه ذلك الأمر واضحًا جليًّا تمامًا: أن دابر هؤلاء القوم كلهم مقطوع بالكلية عند طلوع الصبح مباشرة، وأنهم مستأصلون عن آخرهم بلا استثناء.
PickthallAnd the people of the city came, rejoicing at the news (of new arrivals).
Yusuf AliThe inhabitants of the city came in (mad) joy (at news of the young men).
The agreed readingAnd the people of the city came, delighted — the city the commentaries of both traditions name as Sodom — and what they were delighted about was the guests.
Urduاور شہر کے لوگ خوش ہو کر آ گئے، وہی شہر جسے دونوں روایات سدوم کا نام دیتی ہیں، اور جس چیز پر وہ خوش ہوئے تھے وہ یہی مہمان تھے۔
Arabicوجاء أهل تلك المدينة الفاسدة يستبشرون فرحين مسرورين، وهي المدينة التي يسميها كلا التفسيرين سدوم، وما فرحوا به وابتهجوا له هو أولئك الضيوف الجُدد أنفسهم.
PickthallHe said: Lo! they are my guests. Affront me not!
Yusuf AliLut said: "These are my guests: disgrace me not:
The agreed readingHe said: these are my guests, so do not disgrace me. The commentaries gloss the disgrace as falling on the host himself through what is done to the guest under his roof.
Urduاس نے کہا: یہ لوگ میرے مہمان ہیں، پس مجھے رسوا مت کرو۔ مفسرین اس رسوائی کو خود میزبان پر پڑنے والی سمجھتے ہیں، جو اس کی چھت تلے مہمان کے ساتھ کیے گئے سلوک سے آتی ہے۔
Arabicقال لهم لوط: إن هؤلاء ضيفي في حمايتي وذمتي، فلا تفضحوني بأذاهم. ويفسر المفسرون هذه الفضيحة بأنها تقع على المضيف نفسه، من خلال ما يُفعل بالضيف تحت سقفه.
PickthallAnd keep your duty to Allah, and shame me not!
Yusuf Ali"But fear Allah, and shame me not."
The agreed readingand be mindful of God, and do not shame me. The commentaries note what he appeals to: the obligation of a host, which in that place he was the only one still holding.
Urduاور اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا مت کرو۔ مفسرین نوٹ کرتے ہیں کہ وہ کس بات کا واسطہ دے رہا ہے: میزبانی کا فرض، جسے اس جگہ نبھانے والا وہ اکیلا ہی باقی رہ گیا تھا۔
Arabicواتقوا الله في أمركم هذا ولا تُخزوني ولا تُذلوني أمام ضيفي. ويلاحظ المفسرون ما يستند إليه هنا: واجب الضيافة، الذي كان هو الوحيد المتمسك به في تلك المدينة كلها.
PickthallThey said; Have we not forbidden you from (entertaining) anyone?
Yusuf AliThey said: "Did we not forbid thee (to speak) for all and sundry?"
The agreed readingThey said: did we not forbid you from taking in anyone at all? The commentaries read this as showing the practice was already a rule of the town — hospitality itself had been made an offence.
Urduانہوں نے کہا: کیا ہم نے تجھے پوری دنیا والوں کو مہمان بنانے سے منع نہیں کیا تھا؟ مفسرین اسے اس بات کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ یہ رواج پہلے سے ہی شہر کا اصول بن چکا تھا، مہمان نوازی کو خود ایک جرم بنا دیا گیا تھا۔
Arabicقالوا: أولم ننهك عن أن تضيِّف أحدًا من الناس أجمعين؟ ويقرأ المفسرون هذا الكلام على أنه يكشف أن هذه العادة كانت قد صارت قانونًا للمدينة من قبل، وأن الضيافة نفسها قد جُعلت جريمة تُعاقَب عليها.
PickthallHe said: Here are my daughters, if ye must be doing (so).
Yusuf AliHe said: "There are my daughters (to marry), if ye must act (so)."
The agreed readingHe said: here are my daughters, if you must — offering them in marriage, as the commentaries read it, which is the lawful way he was putting in front of them.
Urduاس نے کہا: یہ میری بیٹیاں موجود ہیں اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے۔ مفسرین اس سے مراد نکاح میں دے دینا لیتے ہیں، یہی وہ جائز راستہ تھا جو وہ ان کے سامنے رکھ رہا تھا۔
Arabicقال لهم لوط: هؤلاء بناتي فتزوَّجوهن إن كنتم فاعلين ما تريدون. ويقرأ المفسرون هذا العرض بمعنى الزواج الحلال، وهو الطريق المشروع الذي كان يعرضه عليهم بدلًا مما يريدون.
PickthallBy thy life (O Muhammad) they moved blindly in the frenzy of approaching death.
Yusuf AliVerily, by thy life (O Prophet), in their wild intoxication, they wander in distraction, to and fro.
The agreed readingBy your life, they were wandering blindly in their intoxication. Both traditions read this as an oath sworn by the life of Muhammad, and note that it is sworn by the one being addressed.
Urduتیری جان کی قسم، وہ اپنے نشے میں اندھے ہو کر بھٹک رہے تھے۔ دونوں روایات اسے محمد کی زندگی کی قسم سمجھتی ہیں، اور نوٹ کرتی ہیں کہ یہ قسم اسی سے کھائی گئی جس سے خطاب کیا جا رہا ہے۔
Arabicلعمرك يا محمد إنهم لفي سكرتهم وغفلتهم يعمهون حائرين تائهين. ويقرأ كلا التفسيرين هذا قسمًا بحياة محمد، ويلاحظان أن هذا القسم أُقسم به لنفس من يُخاطَب هنا.
PickthallThen the (Awful) Cry overtook them at the sunrise.
Yusuf AliBut the (mighty) Blast overtook them before morning,
The agreed readingSo the Cry seized them at sunrise — a cry both traditions identify as Gabriel's.
Urduپھر انہیں سورج طلوع ہوتے وقت وہ زبردست اور ہولناک چیخ آ لے گئی، جسے دونوں روایات جبرائیل ہی کی چیخ قرار دیتی ہیں اور جس نے ان سب کو ہلاک کر دیا۔
Arabicفأخذتهم تلك الصيحة الشديدة المدمرة المهلكة عند شروق الشمس مباشرة تمامًا وهم غافلون، وهي الصيحة التي يعرِّفها كلا التفسيرين بأنها صيحة جبريل عليه السلام نفسه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated 'Atiyyah:from Abu Sa'eed, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Lord, Blessed and Most High is He, has said: 'Whoever is too busy with the Qur'an for remembering Me and asking Me, then I shall give him more than what I give to those who ask.' And the virtue of Allah's Speech over the speech of others is like the virtue of Allah over His creation
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: جس کو قرآن نے میری یاد نے مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا۔ میں اسے اس سے زیادہ دوں گا جتنا میں مانگنے والوں کو دیتا ہوں، اللہ کے کلام کی فضیلت دوسرے سارے کلام پر ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت اس کی اپنی ساری مخلوقات پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
PickthallAnd We utterly confounded them, and We rained upon them stones of heated clay.
Yusuf AliAnd We turned (the cities) upside down, and rained down on them brimstones hard as baked clay.
The agreed readingAnd We turned it upside down and rained on them stones of baked clay. The commentaries take what was overturned to be their towns, lifted and brought down inverted.
Urduاور ہم نے اس بستی کو الٹ کر اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کر دیا، اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے۔ مفسرین جو الٹا گیا اسے خود ان کی بستیوں سے مراد لیتے ہیں، جنہیں اٹھا کر الٹا کر کے واپس گرا دیا گیا۔
Arabicفجعلنا عالي تلك القرية سافلها وقلبناها رأسًا على عقب، وأمطرنا عليهم حجارة من طين متصلب مطبوخ بالنار. ويأخذ المفسرون المقلوب هنا على أنه قراهم نفسها، رُفعت ثم قُلبت وأُعيدت إلى الأرض منكوسة.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated 'Atiyyah:from Abu Sa'eed, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Lord, Blessed and Most High is He, has said: 'Whoever is too busy with the Qur'an for remembering Me and asking Me, then I shall give him more than what I give to those who ask.' And the virtue of Allah's Speech over the speech of others is like the virtue of Allah over His creation
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: جس کو قرآن نے میری یاد نے مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا۔ میں اسے اس سے زیادہ دوں گا جتنا میں مانگنے والوں کو دیتا ہوں، اللہ کے کلام کی فضیلت دوسرے سارے کلام پر ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت اس کی اپنی ساری مخلوقات پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
PickthallLo! therein verily are portents for those who read the signs.
Yusuf AliBehold! in this are Signs for those who by tokens do understand.
The agreed readingIn that there are signs for those who read signs — the commentaries gloss them as people who look closely enough to take the lesson, rather than people who merely see.
Urduبے شک اس میں غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ مفسرین ان سے مراد وہ لوگ لیتے ہیں جو گہری نظر سے دیکھ کر سبق حاصل کرتے ہیں، نہ کہ وہ جو محض دیکھ لیتے ہیں۔
Arabicإن في ذلك المصير المهلك لآيات وعبرًا واضحة للمتوسمين المتفرسين أصحاب البصائر. ويفسر المفسرون هؤلاء بأنهم من ينظرون نظرًا عميقًا فيعتبرون، لا مجرد من يرون بأعينهم فحسب دون تدبر.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated 'Atiyyah:from Abu Sa'eed, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Lord, Blessed and Most High is He, has said: 'Whoever is too busy with the Qur'an for remembering Me and asking Me, then I shall give him more than what I give to those who ask.' And the virtue of Allah's Speech over the speech of others is like the virtue of Allah over His creation
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: جس کو قرآن نے میری یاد نے مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا۔ میں اسے اس سے زیادہ دوں گا جتنا میں مانگنے والوں کو دیتا ہوں، اللہ کے کلام کی فضیلت دوسرے سارے کلام پر ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت اس کی اپنی ساری مخلوقات پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Beware of the believer's intuition, for indeed he sees with Allah's Light." Then he recited: Surely in this are signs for those who see (15:)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے“، پھر آپ نے آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» ”بیشک اس میں نشانیاں ہیں سمجھ داروں کے لیے ہے“ ( الحجر: ۷۵ ) ، تلاوت فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، بعض اہل علم نے اس آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں اصحاب فراست کے لیے۔
PickthallAnd lo! it is upon a road still uneffaced.
Yusuf AliAnd the (cities were) right on the high-road.
The agreed readingAnd it lies on a road still in use. The commentaries note that the ruins sat on the route the people of Mecca themselves travelled, so the evidence was not remote from the ones being addressed.
Urduاور بے شک وہ ایک ایسے راستے پر واقع ہے جو اب بھی چلنے میں ہے۔ مفسرین نوٹ کرتے ہیں کہ یہ کھنڈرات اسی راستے پر تھے جس پر مکہ کے لوگ خود سفر کیا کرتے تھے، تو یہ نشانی خطاب کیے جانے والوں سے دور نہیں تھی۔
Arabicوإنها لعلى طريق واضح ثابت لا يزال مسلوكًا. ويلاحظ المفسرون أن هذه الآثار كانت على نفس الطريق الذي كان أهل مكة أنفسهم يسافرون عليه، فلم يكن الدليل بعيدًا عمن يُخاطَبون به.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated 'Atiyyah:from Abu Sa'eed, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Lord, Blessed and Most High is He, has said: 'Whoever is too busy with the Qur'an for remembering Me and asking Me, then I shall give him more than what I give to those who ask.' And the virtue of Allah's Speech over the speech of others is like the virtue of Allah over His creation
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: جس کو قرآن نے میری یاد نے مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا۔ میں اسے اس سے زیادہ دوں گا جتنا میں مانگنے والوں کو دیتا ہوں، اللہ کے کلام کی فضیلت دوسرے سارے کلام پر ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت اس کی اپنی ساری مخلوقات پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
PickthallLo! therein is indeed a portent for believers.
Yusuf AliBehold! in this is a sign for those who believed.
The agreed readingIn that there is a sign for those who believe. The commentaries note the narrowing between the two āyāt: signs for those who read signs, then a sign for those who believe.
Urduبے شک اس میں ایمان والوں کے لیے ایک نشانی ہے۔ مفسرین دونوں آیتوں کے درمیان دائرے کو تنگ ہوتا دیکھتے ہیں: پہلے غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں، پھر ایمان والوں کے لیے ایک نشانی۔
Arabicإن في ذلك المصير لآية بينة واضحة للمؤمنين الصادقين وحدهم. ويلاحظ المفسرون تضييق الدائرة بين الآيتين المتتاليتين: فأولًا آيات كثيرة للمتوسمين، ثم آية واحدة فقط للمؤمنين خاصة.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
5. It is narrated from him (narrator of the Hadith above) from ibn Mahbub from ‘Amr ibn Shamir from Jabir from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, is compassionate. He loves kindheartedness and awards for it with such things that He does not give due to rudeness.”
عنہ عن ابن محبوب عن عمرو بن شمر عن جابر عن ابی جعفر (علیہ السلام) نے کہا: الله تعالیٰ رفیق ہے۔ وہ رفق اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور رفق پر ایسا عطا کرتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated 'Atiyyah:from Abu Sa'eed, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Lord, Blessed and Most High is He, has said: 'Whoever is too busy with the Qur'an for remembering Me and asking Me, then I shall give him more than what I give to those who ask.' And the virtue of Allah's Speech over the speech of others is like the virtue of Allah over His creation
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: جس کو قرآن نے میری یاد نے مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا۔ میں اسے اس سے زیادہ دوں گا جتنا میں مانگنے والوں کو دیتا ہوں، اللہ کے کلام کی فضیلت دوسرے سارے کلام پر ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت اس کی اپنی ساری مخلوقات پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
PickthallAnd the dwellers in the wood indeed were evil-doers.
Yusuf AliAnd the Companions of the Wood were also wrong-doers;
The agreed readingAnd the people of the Thicket were wrongdoers — a wooded place near Midian, and its people the people to whom Shuayb was sent.
Urduاور ایکہ والے بھی یقیناً ظالم تھے، یہ مدین کے قریب ایک جنگل والا مقام تھا اور اس کے باشندے وہی لوگ تھے جن کی طرف شعیب کو بھیجا گیا تھا۔
Arabicوإن كان أصحاب الأيكة، وهي الشجر الملتف الكثيف الواقع قرب مدين، لظالمين كافرين حقًّا، وهم القوم أنفسهم الذين أُرسل إليهم شعيب عليه السلام نبيًّا لهم.
PickthallSo we took vengeance on them; and lo! they both are on a high-road plain to see.
Yusuf AliSo We exacted retribution from them. They were both on an open highway, plain to see.
The agreed readingSo We took retribution from them, and both of them lie on a road plain to see. The commentaries take both to be the towns of Lot's people and the Thicket, and the road to be the one still travelled.
Urduتو ہم نے ان سے بدلہ لیا، اور یہ دونوں بستیاں ایک کھلے راستے پر واقع ہیں۔ مفسرین دونوں سے مراد قوم لوط اور ایکہ والوں کی بستیاں لیتے ہیں، اور راستے سے مراد وہی راستہ جو ابھی تک استعمال ہوتا ہے۔
Arabicفانتقمنا منهم بالرجفة وعذاب يوم الظلة، وإنهما لعلى طريق واضح ظاهر يراه المسافرون. ويقصد المفسرون بكلمة كلتيهما قرى قوم لوط وأصحاب الأيكة معًا، وبالطريق ذلك الطريق الذي ما زال يُسلك.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not enter the ruined dwellings of those who were unjust to themselves unless (you enter) weeping, lest you should suffer the same punishment as was inflicted upon them
مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے یونس سے سنا ‘ انہوں نے زہری سے ‘ انہوں نے سالم سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں ان لوگوں کی بستی سے گزرنا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو روتے ہوئے گزرو۔ کہیں تمہیں بھی وہ عذاب آ نہ پکڑے جس میں یہ ظالم لوگ گرفتار کئے گئے تھے۔“
PickthallAnd the dwellers in Al-Hijr denied (Our) messengers.
Yusuf AliThe Companions of the Rocky Tract also rejected the messengers:
The agreed readingAnd the people of al-Hijr denied the messengers — a valley on the way from Medina towards Syria, and its people Thamud, who are named as denying all the messengers because they denied the one sent to them.
Urduاور یقیناً حجر والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا، یہ مدینہ سے شام جانے والے راستے پر ایک وادی تھی اور اس کے باشندے قوم ثمود تھے، جنہیں تمام رسولوں کے جھٹلانے والا کہا گیا کیونکہ انہوں نے اپنی طرف بھیجے گئے ایک ہی رسول کو جھٹلایا تھا۔
Arabicولقد كذَّب أصحاب الحِجر، وهو وادٍ في طريق المدينة إلى الشام، صالحًا نبيهم، وهم قوم ثمود، ووُصفوا بتكذيب جميع المرسلين لأنهم كذَّبوا الرسول الواحد الذي أُرسل إليهم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Zamakhsharī، al-Qurṭubī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Zamakhsharī and al-Qurṭubī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Zamakhsharī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، - وَهُوَ يَذْكُرُ الْحِجْرَ مَسَاكِنَ ثَمُودَ - قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحِجْرِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " . ثُمَّ زَجَرَ فَأَسْرَعَ حَتَّى خَلَّفَهَا .
Ibn Shihab reported, and he had been talking about the stony abodes of Thamud, and he said:Salim b. 'Abdullah reported that 'Abdullah b. Umar said: We were passing along with Allah's Messenger (ﷺ) through the habitations of Hijr, and Allah's Messenger (ﷺ) said: Do not enter but weepingly the habitations of these persons who committed tyranny among themselves, lest the same calamity should fall upon you as it fell upon them. He then urged his mount to proceed quickly and pass through that valley hurriedly
سالم بن عبد اللہ نے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجر ( قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستی ) کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " جن لوگوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ان کی رہائش گا ہوں میں داخل نہ ہونا مگر اس طرح کہ تم رورہے ہو ۔ ڈرہے کہ تمھیں بھی وہی عذاب نہ آئےجس نے انھیں آلیا تھا " پھر آپ نے زور سے سواری کو ہانکا رفتار تیز کی یہاں تک کہ اس جگہ کو پیچھے چھوڑ دیا ۔
Ibn Umar narrated:"The Prophet prohibited Salat from being performed in seven places: the dung heap, the slaughtering area, the graveyard, the commonly used road, the wash area, in the area that camels rest at, and above the House of Allah (the Ka'bah)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ میں، مذبح میں، قبرستان میں، عام راستوں پر، حمام ( غسل خانہ ) میں اونٹ باندھنے کی جگہ میں اور بیت اللہ کی چھت پر۔
Ibn Umar narrated:(Another chain with a similar narration)
اس سند سے بھی اس مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی سند کوئی زیادہ قوی نہیں ہے، زید بن جبیرۃ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ۲- زید بن جبیر کوفی ان سے زیادہ قوی اور ان سے پہلے کے ہیں انہوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے سنا ہے، ۳- اس باب میں ابو مرثد کناز بن حصین، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- لیث بن سعد نے یہ حدیث بطریق: «عبد الله بن عمر العمري عن نافع عن ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔ داود کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے۔ لیث بن سعد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہے، عبداللہ بن عمر عمری کو بعض اہل …
Narrated Ali ibn AbuTalib: AbuSalih al-Ghifari reported: Ali (once) passed by Babylon during his travels. The mu'adhdhin (the person who calls for prayer) came to him to call for the afternoon prayer. When he passed by that place, he commanded to announce for the prayer. After finishing the prayer he said: My affectionate friend (i.e. the Prophet) prohibited me to say prayer in the graveyard. He also forbade me to offer prayer in Babylon because it is accursed
ابوصالح غفاری کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ بابل سے گزر رہے تھے کہ ان کے پاس مؤذن انہیں نماز عصر کی خبر دینے آیا، تو جب آپ بابل کی سر زمین پار کر گئے تو مؤذن کو حکم دیا اس نے عصر کے لیے تکبیر کہی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبرستان میں اور سر زمین بابل میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not enter the ruined dwellings of those who were unjust to themselves unless (you enter) weeping, lest you should suffer the same punishment as was inflicted upon them
مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے یونس سے سنا ‘ انہوں نے زہری سے ‘ انہوں نے سالم سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں ان لوگوں کی بستی سے گزرنا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو روتے ہوئے گزرو۔ کہیں تمہیں بھی وہ عذاب آ نہ پکڑے جس میں یہ ظالم لوگ گرفتار کئے گئے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَصْحَابِ الْحِجْرِ " لاَ تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاَءِ الْقَوْمِ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلاَ تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:(While we were going for the Battle of Tabuk and when we reached the places of the dwellers of Al- Hijr), Allah's Messenger (ﷺ) said about the dwellers of Al-Hijr (to us). "Do not enter (the dwelling places) of these people unless you enter weeping, but if you weep not, then do not enter upon them, lest you be afflicted with what they were afflicted with
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا تھا کہ اس قوم کی بستی سے جب گزرنا ہی پڑ گیا ہے تو روتے ہوئے گزرو اور اگر روتے ہوئے نہیں گزر سکتے تو پھر اس میں نہ جاؤ۔ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نہ آئے جو ان پر آیا تھا۔
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحِجْرِ أَرْضِ ثَمُودَ فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِينَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا وَيَعْلِفُوا الإِبِلَ الْعَجِينَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ .
Abdullah b. 'Umar reported that the people encamped along with Allah's Messenger (ﷺ) in the valley of Hijr, the habitations of Thamud, and they quenched their thirst from the wells thereof and kneaded the flour with it. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) commanded that the water collected for drinking should be spilt and the flour should be given to the camels and commanded them that the water for drinking should be taken from that well where the she-camel (of Hadrat Salih) used to come
شعیب بن اسحٰق نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے نافع سے خبر دی انھیں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ( سفر کرنے والے لوگ سرزمین ثمود حجر میں اتر گئے اور وہاں کے کنوؤں سے پانی حاصل کیا اور اس کے ساتھ آٹا ( بھی ) گوندھ لیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیاکہ انھوں نے جو پانی بھراہے وہ بہادیں اورگندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دیں اور ان سے کہا : کہ وہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جہاں ( حضرت صالح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ) اونٹنی پانی پینے کے لیے آیا کرتی تھی ۔
PickthallAnd we gave them Our revelations, but they were averse to them.
Yusuf AliWe sent them Our Signs, but they persisted in turning away from them.
The agreed readingAnd We gave them Our signs, and they turned away from them — the commentaries name the she-camel among them, given and then not thought about.
Urduاور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں دیں مگر وہ ان سے منہ موڑ گئے۔ مفسرین ان نشانیوں میں اونٹنی کو بھی شمار کرتے ہیں، جو انہیں دی گئی مگر پھر اس پر کبھی غور نہیں کیا گیا۔
Arabicوآتينا قوم صالح آياتنا البينات الواضحة الدالة دلالة قاطعة على صدق ما جاءهم به، ومن جملتها الناقة المعروفة العجيبة، فلم يعتبروا بها وكانوا عنها معرضين مبتعدين تمامًا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Zamakhsharī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī and al-Zamakhsharī on this āyah
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، - وَهُوَ يَذْكُرُ الْحِجْرَ مَسَاكِنَ ثَمُودَ - قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحِجْرِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " . ثُمَّ زَجَرَ فَأَسْرَعَ حَتَّى خَلَّفَهَا .
Ibn Shihab reported, and he had been talking about the stony abodes of Thamud, and he said:Salim b. 'Abdullah reported that 'Abdullah b. Umar said: We were passing along with Allah's Messenger (ﷺ) through the habitations of Hijr, and Allah's Messenger (ﷺ) said: Do not enter but weepingly the habitations of these persons who committed tyranny among themselves, lest the same calamity should fall upon you as it fell upon them. He then urged his mount to proceed quickly and pass through that valley hurriedly
سالم بن عبد اللہ نے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجر ( قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستی ) کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " جن لوگوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ان کی رہائش گا ہوں میں داخل نہ ہونا مگر اس طرح کہ تم رورہے ہو ۔ ڈرہے کہ تمھیں بھی وہی عذاب نہ آئےجس نے انھیں آلیا تھا " پھر آپ نے زور سے سواری کو ہانکا رفتار تیز کی یہاں تک کہ اس جگہ کو پیچھے چھوڑ دیا ۔
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not enter the ruined dwellings of those who were unjust to themselves unless (you enter) weeping, lest you should suffer the same punishment as was inflicted upon them
مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے یونس سے سنا ‘ انہوں نے زہری سے ‘ انہوں نے سالم سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں ان لوگوں کی بستی سے گزرنا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو روتے ہوئے گزرو۔ کہیں تمہیں بھی وہ عذاب آ نہ پکڑے جس میں یہ ظالم لوگ گرفتار کئے گئے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَصْحَابِ الْحِجْرِ " لاَ تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاَءِ الْقَوْمِ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلاَ تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:(While we were going for the Battle of Tabuk and when we reached the places of the dwellers of Al- Hijr), Allah's Messenger (ﷺ) said about the dwellers of Al-Hijr (to us). "Do not enter (the dwelling places) of these people unless you enter weeping, but if you weep not, then do not enter upon them, lest you be afflicted with what they were afflicted with
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا تھا کہ اس قوم کی بستی سے جب گزرنا ہی پڑ گیا ہے تو روتے ہوئے گزرو اور اگر روتے ہوئے نہیں گزر سکتے تو پھر اس میں نہ جاؤ۔ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نہ آئے جو ان پر آیا تھا۔
PickthallAnd they used to hew out dwellings from the hills, (wherein they dwelt) secure.
Yusuf AliOut of the mountains did they hew (their) edifices, (feeling themselves) secure.
The agreed readingAnd they used to carve out houses from the mountains, feeling secure — secure, as the commentaries read it, in the very solidity of what they had cut.
Urduاور وہ پہاڑوں کو تراش کر ان میں گھر بنایا کرتے تھے اور اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے۔ مفسرین اس تحفظ کی وضاحت اسی مضبوطی سے کرتے ہیں جو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے تراش کر بنائی تھی۔
Arabicوكانوا ينحتون البيوت من تلك الجبال الصلبة وهم آمنون مطمئنون تمامًا على أنفسهم. ويقرأ المفسرون هذا الأمان بأنه نابع من نفس الصلابة والمتانة التي نحتوها بأيديهم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Zamakhsharī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī and al-Zamakhsharī on this āyah
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، - وَهُوَ يَذْكُرُ الْحِجْرَ مَسَاكِنَ ثَمُودَ - قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحِجْرِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " . ثُمَّ زَجَرَ فَأَسْرَعَ حَتَّى خَلَّفَهَا .
Ibn Shihab reported, and he had been talking about the stony abodes of Thamud, and he said:Salim b. 'Abdullah reported that 'Abdullah b. Umar said: We were passing along with Allah's Messenger (ﷺ) through the habitations of Hijr, and Allah's Messenger (ﷺ) said: Do not enter but weepingly the habitations of these persons who committed tyranny among themselves, lest the same calamity should fall upon you as it fell upon them. He then urged his mount to proceed quickly and pass through that valley hurriedly
سالم بن عبد اللہ نے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجر ( قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستی ) کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " جن لوگوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ان کی رہائش گا ہوں میں داخل نہ ہونا مگر اس طرح کہ تم رورہے ہو ۔ ڈرہے کہ تمھیں بھی وہی عذاب نہ آئےجس نے انھیں آلیا تھا " پھر آپ نے زور سے سواری کو ہانکا رفتار تیز کی یہاں تک کہ اس جگہ کو پیچھے چھوڑ دیا ۔
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not enter the ruined dwellings of those who were unjust to themselves unless (you enter) weeping, lest you should suffer the same punishment as was inflicted upon them
مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے یونس سے سنا ‘ انہوں نے زہری سے ‘ انہوں نے سالم سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں ان لوگوں کی بستی سے گزرنا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو روتے ہوئے گزرو۔ کہیں تمہیں بھی وہ عذاب آ نہ پکڑے جس میں یہ ظالم لوگ گرفتار کئے گئے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَصْحَابِ الْحِجْرِ " لاَ تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاَءِ الْقَوْمِ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلاَ تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:(While we were going for the Battle of Tabuk and when we reached the places of the dwellers of Al- Hijr), Allah's Messenger (ﷺ) said about the dwellers of Al-Hijr (to us). "Do not enter (the dwelling places) of these people unless you enter weeping, but if you weep not, then do not enter upon them, lest you be afflicted with what they were afflicted with
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا تھا کہ اس قوم کی بستی سے جب گزرنا ہی پڑ گیا ہے تو روتے ہوئے گزرو اور اگر روتے ہوئے نہیں گزر سکتے تو پھر اس میں نہ جاؤ۔ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نہ آئے جو ان پر آیا تھا۔
PickthallBut the (Awful) Cry overtook them at the morning hour,
Yusuf AliBut the (mighty) Blast seized them of a morning,
The agreed readingSo the Cry seized them in the morning — the same word used of Lot's people a few āyāt earlier, and the commentaries note the repetition: two peoples, two mornings, one end.
Urduپھر انہیں صبح کے وقت وہ زبردست چیخ آ لے گئی، وہی لفظ جو تھوڑی ہی آیتوں پہلے قوم لوط کے لیے استعمال ہوا تھا، اور مفسرین اس تکرار پر توجہ دلاتے ہیں: دو قومیں، دو صبحیں، مگر انجام ایک ہی۔
Arabicفأخذتهم تلك الصيحة المهلكة الشديدة في وقت الصباح الباكر. وهي نفس الكلمة التي استُعملت لقوم لوط قبل آيات قليلة، ويلاحظ المفسرون هذا التكرار: قومان، وصباحان، ونهاية واحدة لكليهما.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، - وَهُوَ يَذْكُرُ الْحِجْرَ مَسَاكِنَ ثَمُودَ - قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحِجْرِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " . ثُمَّ زَجَرَ فَأَسْرَعَ حَتَّى خَلَّفَهَا .
Ibn Shihab reported, and he had been talking about the stony abodes of Thamud, and he said:Salim b. 'Abdullah reported that 'Abdullah b. Umar said: We were passing along with Allah's Messenger (ﷺ) through the habitations of Hijr, and Allah's Messenger (ﷺ) said: Do not enter but weepingly the habitations of these persons who committed tyranny among themselves, lest the same calamity should fall upon you as it fell upon them. He then urged his mount to proceed quickly and pass through that valley hurriedly
سالم بن عبد اللہ نے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجر ( قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستی ) کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " جن لوگوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ان کی رہائش گا ہوں میں داخل نہ ہونا مگر اس طرح کہ تم رورہے ہو ۔ ڈرہے کہ تمھیں بھی وہی عذاب نہ آئےجس نے انھیں آلیا تھا " پھر آپ نے زور سے سواری کو ہانکا رفتار تیز کی یہاں تک کہ اس جگہ کو پیچھے چھوڑ دیا ۔
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not enter the ruined dwellings of those who were unjust to themselves unless (you enter) weeping, lest you should suffer the same punishment as was inflicted upon them
مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے یونس سے سنا ‘ انہوں نے زہری سے ‘ انہوں نے سالم سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں ان لوگوں کی بستی سے گزرنا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو روتے ہوئے گزرو۔ کہیں تمہیں بھی وہ عذاب آ نہ پکڑے جس میں یہ ظالم لوگ گرفتار کئے گئے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَصْحَابِ الْحِجْرِ " لاَ تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاَءِ الْقَوْمِ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلاَ تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:(While we were going for the Battle of Tabuk and when we reached the places of the dwellers of Al- Hijr), Allah's Messenger (ﷺ) said about the dwellers of Al-Hijr (to us). "Do not enter (the dwelling places) of these people unless you enter weeping, but if you weep not, then do not enter upon them, lest you be afflicted with what they were afflicted with
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا تھا کہ اس قوم کی بستی سے جب گزرنا ہی پڑ گیا ہے تو روتے ہوئے گزرو اور اگر روتے ہوئے نہیں گزر سکتے تو پھر اس میں نہ جاؤ۔ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نہ آئے جو ان پر آیا تھا۔
PickthallAnd that which they were wont to count as gain availed them not.
Yusuf AliAnd of no avail to them was all that they did (with such art and care)!
The agreed readingand what they had been earning was of no use to them at all — the commentaries name the fortresses they had cut and the wealth they had gathered, so that what failed them was exactly what they had trusted.
Urduتو ان کی کمائی ہوئی کوئی چیز بھی ان کے کچھ کام نہ آ سکی۔ مفسرین یہاں انہی قلعوں اور جمع کیے ہوئے مال و دولت کا نام لیتے ہیں، تاکہ یہ واضح ہو کہ جو چیز ناکام ہوئی وہی تھی جس پر انہیں پورا بھروسہ تھا۔
Arabicفما دفع عنهم ولا أغنى شيئًا ما كانوا يكسبونه من مال وحصون منحوتة. ويذكر المفسرون هنا نفس تلك الحصون والأموال المجموعة، حتى يتضح أن الذي خذلهم هو بعينه ما وثقوا به تمام الثقة.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Beware of the believer's intuition, for indeed he sees with Allah's Light." Then he recited: Surely in this are signs for those who see (15:)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے“، پھر آپ نے آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» ”بیشک اس میں نشانیاں ہیں سمجھ داروں کے لیے ہے“ ( الحجر: ۷۵ ) ، تلاوت فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، بعض اہل علم نے اس آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں اصحاب فراست کے لیے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، - وَهُوَ يَذْكُرُ الْحِجْرَ مَسَاكِنَ ثَمُودَ - قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْحِجْرِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " . ثُمَّ زَجَرَ فَأَسْرَعَ حَتَّى خَلَّفَهَا .
Ibn Shihab reported, and he had been talking about the stony abodes of Thamud, and he said:Salim b. 'Abdullah reported that 'Abdullah b. Umar said: We were passing along with Allah's Messenger (ﷺ) through the habitations of Hijr, and Allah's Messenger (ﷺ) said: Do not enter but weepingly the habitations of these persons who committed tyranny among themselves, lest the same calamity should fall upon you as it fell upon them. He then urged his mount to proceed quickly and pass through that valley hurriedly
سالم بن عبد اللہ نے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجر ( قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستی ) کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " جن لوگوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ان کی رہائش گا ہوں میں داخل نہ ہونا مگر اس طرح کہ تم رورہے ہو ۔ ڈرہے کہ تمھیں بھی وہی عذاب نہ آئےجس نے انھیں آلیا تھا " پھر آپ نے زور سے سواری کو ہانکا رفتار تیز کی یہاں تک کہ اس جگہ کو پیچھے چھوڑ دیا ۔
Narrated Ibn `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not enter the ruined dwellings of those who were unjust to themselves unless (you enter) weeping, lest you should suffer the same punishment as was inflicted upon them
مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے یونس سے سنا ‘ انہوں نے زہری سے ‘ انہوں نے سالم سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں ان لوگوں کی بستی سے گزرنا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو روتے ہوئے گزرو۔ کہیں تمہیں بھی وہ عذاب آ نہ پکڑے جس میں یہ ظالم لوگ گرفتار کئے گئے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَصْحَابِ الْحِجْرِ " لاَ تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاَءِ الْقَوْمِ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلاَ تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:(While we were going for the Battle of Tabuk and when we reached the places of the dwellers of Al- Hijr), Allah's Messenger (ﷺ) said about the dwellers of Al-Hijr (to us). "Do not enter (the dwelling places) of these people unless you enter weeping, but if you weep not, then do not enter upon them, lest you be afflicted with what they were afflicted with
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا تھا کہ اس قوم کی بستی سے جب گزرنا ہی پڑ گیا ہے تو روتے ہوئے گزرو اور اگر روتے ہوئے نہیں گزر سکتے تو پھر اس میں نہ جاؤ۔ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نہ آئے جو ان پر آیا تھا۔
PickthallWe created not the heavens and the earth and all that is between them save with truth, and lo! the Hour is surely coming. So forgive, (O Muhammad), with a gracious forgiveness.
Yusuf AliWe created not the heavens, the earth, and all between them, but for just ends. And the Hour is surely coming (when this will be manifest). So overlook (any human faults) with gracious forgiveness.
The agreed readingAnd We did not create the heavens and the earth and what is between them except in truth. And the Hour is certainly coming, so overlook with a gracious overlooking — glossed as turning away without complaint and without rebuke.
Urduاور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حق کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے۔ اور قیامت ضرور آنے والی ہے، پس آپ خوبصورت انداز میں درگزر کیجیے۔ اس درگزر کی وضاحت اس طرح کی جاتی ہے کہ بغیر کسی شکایت اور بغیر کسی ملامت کے منہ موڑ لینا۔
Arabicوما خلقنا السموات والأرض وما بينهما إلا بالحق، لا عبثًا ولا لهوًا. وإن الساعة لآتية لا ريب فيها، فاصفح عنهم الصفح الجميل. ويفسر هذا الصفح بأنه الإعراض عنهم من غير شكوى ولا لوم ولا عتاب.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 3 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة4 reports cited here — 3 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الواحد الأحد الذي لا شريك له، الفرد الصمد الذي لا شبيه له، الأول القديم الذي لا غاية له، الآخر الباقي الذي لا نهاية له، الموجود الثابت الذي لا عدم له، الملك الدائم الذي لا زوال له، القادر الذي لا يعجزه شئ، العليم الذي لا يخفى عليه شئ، الحي لا بحياة، الكائن لا في مكان، السميع البصير الذي لا آلة له ولا أداة، الذي أمر بالعدل، وأخذ بالفضل، وحكم بالفصل، لا معقب لحكمه، ولا راد لقضائه، ولا غالب لإرادته، ولا قاهر لمشيته، وإنما أمره إذا أراد شيئا أن يقول له كن فيكون، فسبحان الذي بيده ملكوت كل شئ، وإليه المرجع والمصير. وأشهد أن لا إله إلا الله رب العالمين، وأشهد أن محمد عبده ورسوله سيد النبيين وخير خلقه أجمعين، وأشهد أن علي بن أبي طالب سيد الوصيين وإمام المتقين و قائد …
All praise be to Allah, the One and Only, who does not have a partner; the Peerless, the Needless, who has no like; the First, the Ever-Existent, who has no limit; the Last and the Everlasting who has no end; the Existing, the Constant, who has no non-existence; the Eternal King, who does not decline; the Power who is not weakened; the All-Knowing from who nothing can be hidden; the Alive but not with life; the One who Exists, but who is not confined to place; the All-Hearing and the All-Seeing, who has no ears and eyes; the One who ordered with justice, punished with favour, and commanded with bounty, but not to trap people under His Command. There is no rejecter to His Judgement, no …
بسم الله الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ کے لیے جو ایک و یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، یکتا و لاشریک جس کی کوئی ہمسری نہیں، سب سے پہلے اور قدیم جس کی کوئی انتہا نہیں، آخری اور ہمیشہ رہنے والا جس کا کوئی خاتمہ نہیں، موجود اور قائم جس کا کوئی عدم نہیں، ہمیشہ باقی بادشاہ جس کا کوئی زوال نہیں، قدرتوار جس سے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، علم والا جس سے کوئی چیز مخفی نہیں، زندہ بغیر جیون کے، موجود بغیر مکان کے، سننے والا دیکھنے والا جس کے پاس کوئی آلہ یا اوزار نہیں۔ جس نے عدل کا حکم دیا، فضل کے ساتھ سلوک کیا، حکمت سے فیصلہ کیا۔ اس کے فیصلے کو کوئی واپس نہیں کر سکتا، اس کے حکم کو کوئی بدل نہیں سکتا، اس کی مرضی کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، اس کے ارادے کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اور تو اس کا امر صرف یہ ہے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي شَطْرَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اقْرَءُوا يَقُولُ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَمِدَنِي عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ . فَيَقُولُ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} فَيَقُولُ أَثْنَى عَلَىَّ عَبْدِي …
It was narrated that Abu Hurairah said, 'I heard the Messenger of Allah(ﷺ) say':"Allah said: 'I have divided the prayer between Myself and My slave into two halves, and My slave shall have what he has asked for.'When the slave says: 'Al-hamdulillah i rabbil Alameen (All the praise is to Allah, the Lord of all that exists),' Allah says:'My slave has praised Me, and My slave shall have what he has asked for.' And when he says: 'Ar-Rahmanir-Rahim (The Mos Gracious, the Most Merciful),' Allah says: 'My slave has extolled Me, and My slave shall have what he has asked for.' And when he says: 'Maliki yawmiddin [The Only Owner (and he Ruling Judge] if the Day of Recompense],' Allahs says: 'My slave …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، آدھا میرے لیے ہے، اور آدھا میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پڑھو!، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «حمدني عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری حمد ثنا بیان کی، اور بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، اور جب بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أثنى علي عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری تعریف کی، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ …
Narrated Al-'Ala bin 'Abdur-Rahman:from his father, from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever performs a Salat in which he does not recite Umm Al-Qur'an in it, then it is aborted, it is aborted, not complete." He Said: "I said: 'O Abu Hurairah! Sometimes I am behind an Imam.' He said: 'O Ibn Al-Farisi! Then recite it to yourself. For indeed I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: Allah, the Most High said: "I have divided the Salat between Myself and My slaves into two halves. Half of it is for Me, and half of it for My slave, and My slave shall have what he asks for. My slave stands and says: All praise is due to Allah, the Lord of All that exists." So Allah, …
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، وہ نماز ناقص ہے، نامکمل ہے ۱؎ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے کہا: ابوہریرہ! میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں؟ انہوں نے کہا: فارسی لڑکے! اسے اپنے جی میں ( دل ہی دل میں ) پڑھ لیا کرو ۲؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ۳؎ اپنے اور بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دی ہے۔ آدھی نماز میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو مانگے۔ میرا بندہ پڑھتا ہے: «الحمد لله رب العالمين» تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری حمد یعنی تعریف کی۔ بندہ کہتا ہے: «الرحمن الرحيم» تو …
Abu Huraira reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said: If anyone observes prayer in which he does not recite Umm al-Qur'an, It is deficient [he said this three times] and not complete. It was said to Abu Huraira: At times we are behind the Imam. He said: Recite it inwardly, for he had heard the Messenger of Allah (ﷺ) declare that Allah the Exalted had said: I have divided the prayer into two halves between Me and My servant, and My servant will receive what he asks. When the servant says: Praise be to Allah, the Lord of the universe, Allah the Most High says: My servant has praised Me. And when he (the servant) says: The Most Compassionate, the Merciful, Allah the Most High says: My servant …
سفیان بن عیینہ نے علاء بن عبد الرحمن سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القریٰ کی قراءت نہ کی تو ناقص ہے ۔ ‘ ‘ تین مرتبہ فرمایا ، یعنی پوری ہی نہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : اس کو اپنے دل میں پڑھ لو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے جب بندہ ﴿الحمد لله رب العالمين﴾ ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے جو جہانوں کا رب ہے ۔ ‘ ‘ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے …
PickthallLo! Thy Lord! He is the All-Wise Creator.
Yusuf AliFor verily it is thy Lord who is the Master-Creator, knowing all things.
The agreed readingYour Lord is the Creator of all, the Knowing — the commentaries attach the first to everything He made and the second to everything He made it out of and for.
Urduبے شک تیرا رب ہی سب کچھ پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے۔ مفسرین پہلی صفت کو ہر اس چیز سے جوڑتے ہیں جو اس نے بنائی، اور دوسری کو ہر اس چیز سے جس سے اور جس کے لیے اس نے بنائی۔
Arabicإن ربك هو الخلاق لكل شيء، العليم بكل ما خلقه علمًا تامًّا. ويربط المفسرون الصفة الأولى بكل ما خلقه الله، والصفة الثانية بكل ما خلقه منه ولأجله.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 3 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة4 reports cited here — 3 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الواحد الأحد الذي لا شريك له، الفرد الصمد الذي لا شبيه له، الأول القديم الذي لا غاية له، الآخر الباقي الذي لا نهاية له، الموجود الثابت الذي لا عدم له، الملك الدائم الذي لا زوال له، القادر الذي لا يعجزه شئ، العليم الذي لا يخفى عليه شئ، الحي لا بحياة، الكائن لا في مكان، السميع البصير الذي لا آلة له ولا أداة، الذي أمر بالعدل، وأخذ بالفضل، وحكم بالفصل، لا معقب لحكمه، ولا راد لقضائه، ولا غالب لإرادته، ولا قاهر لمشيته، وإنما أمره إذا أراد شيئا أن يقول له كن فيكون، فسبحان الذي بيده ملكوت كل شئ، وإليه المرجع والمصير. وأشهد أن لا إله إلا الله رب العالمين، وأشهد أن محمد عبده ورسوله سيد النبيين وخير خلقه أجمعين، وأشهد أن علي بن أبي طالب سيد الوصيين وإمام المتقين و قائد …
All praise be to Allah, the One and Only, who does not have a partner; the Peerless, the Needless, who has no like; the First, the Ever-Existent, who has no limit; the Last and the Everlasting who has no end; the Existing, the Constant, who has no non-existence; the Eternal King, who does not decline; the Power who is not weakened; the All-Knowing from who nothing can be hidden; the Alive but not with life; the One who Exists, but who is not confined to place; the All-Hearing and the All-Seeing, who has no ears and eyes; the One who ordered with justice, punished with favour, and commanded with bounty, but not to trap people under His Command. There is no rejecter to His Judgement, no …
بسم الله الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ کے لیے جو ایک و یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، یکتا و لاشریک جس کی کوئی ہمسری نہیں، سب سے پہلے اور قدیم جس کی کوئی انتہا نہیں، آخری اور ہمیشہ رہنے والا جس کا کوئی خاتمہ نہیں، موجود اور قائم جس کا کوئی عدم نہیں، ہمیشہ باقی بادشاہ جس کا کوئی زوال نہیں، قدرتوار جس سے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، علم والا جس سے کوئی چیز مخفی نہیں، زندہ بغیر جیون کے، موجود بغیر مکان کے، سننے والا دیکھنے والا جس کے پاس کوئی آلہ یا اوزار نہیں۔ جس نے عدل کا حکم دیا، فضل کے ساتھ سلوک کیا، حکمت سے فیصلہ کیا۔ اس کے فیصلے کو کوئی واپس نہیں کر سکتا، اس کے حکم کو کوئی بدل نہیں سکتا، اس کی مرضی کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، اس کے ارادے کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اور تو اس کا امر صرف یہ ہے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي شَطْرَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اقْرَءُوا يَقُولُ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَمِدَنِي عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ . فَيَقُولُ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} فَيَقُولُ أَثْنَى عَلَىَّ عَبْدِي …
It was narrated that Abu Hurairah said, 'I heard the Messenger of Allah(ﷺ) say':"Allah said: 'I have divided the prayer between Myself and My slave into two halves, and My slave shall have what he has asked for.'When the slave says: 'Al-hamdulillah i rabbil Alameen (All the praise is to Allah, the Lord of all that exists),' Allah says:'My slave has praised Me, and My slave shall have what he has asked for.' And when he says: 'Ar-Rahmanir-Rahim (The Mos Gracious, the Most Merciful),' Allah says: 'My slave has extolled Me, and My slave shall have what he has asked for.' And when he says: 'Maliki yawmiddin [The Only Owner (and he Ruling Judge] if the Day of Recompense],' Allahs says: 'My slave …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، آدھا میرے لیے ہے، اور آدھا میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پڑھو!، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «حمدني عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری حمد ثنا بیان کی، اور بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، اور جب بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أثنى علي عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری تعریف کی، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ …
Narrated Al-'Ala bin 'Abdur-Rahman:from his father, from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever performs a Salat in which he does not recite Umm Al-Qur'an in it, then it is aborted, it is aborted, not complete." He Said: "I said: 'O Abu Hurairah! Sometimes I am behind an Imam.' He said: 'O Ibn Al-Farisi! Then recite it to yourself. For indeed I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: Allah, the Most High said: "I have divided the Salat between Myself and My slaves into two halves. Half of it is for Me, and half of it for My slave, and My slave shall have what he asks for. My slave stands and says: All praise is due to Allah, the Lord of All that exists." So Allah, …
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، وہ نماز ناقص ہے، نامکمل ہے ۱؎ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے کہا: ابوہریرہ! میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں؟ انہوں نے کہا: فارسی لڑکے! اسے اپنے جی میں ( دل ہی دل میں ) پڑھ لیا کرو ۲؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ۳؎ اپنے اور بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دی ہے۔ آدھی نماز میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو مانگے۔ میرا بندہ پڑھتا ہے: «الحمد لله رب العالمين» تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری حمد یعنی تعریف کی۔ بندہ کہتا ہے: «الرحمن الرحيم» تو …
Abu Huraira reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said: If anyone observes prayer in which he does not recite Umm al-Qur'an, It is deficient [he said this three times] and not complete. It was said to Abu Huraira: At times we are behind the Imam. He said: Recite it inwardly, for he had heard the Messenger of Allah (ﷺ) declare that Allah the Exalted had said: I have divided the prayer into two halves between Me and My servant, and My servant will receive what he asks. When the servant says: Praise be to Allah, the Lord of the universe, Allah the Most High says: My servant has praised Me. And when he (the servant) says: The Most Compassionate, the Merciful, Allah the Most High says: My servant …
سفیان بن عیینہ نے علاء بن عبد الرحمن سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القریٰ کی قراءت نہ کی تو ناقص ہے ۔ ‘ ‘ تین مرتبہ فرمایا ، یعنی پوری ہی نہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : اس کو اپنے دل میں پڑھ لو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے جب بندہ ﴿الحمد لله رب العالمين﴾ ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے جو جہانوں کا رب ہے ۔ ‘ ‘ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے …
PickthallWe have given thee seven of the oft-repeated (verses) and the great Qur'an.
Yusuf AliAnd We have bestowed upon thee the Seven Oft-repeated (verses) and the Grand Qur'an.
The agreed readingAnd We have given you the seven oft-repeated and the great Qur'an. Both traditions identify the seven with al-Fātiḥa, repeated in every unit of the prayer, and the sūrah's answer to those mocking the revelation is to name what its hearer has already been given.
Urduاور ہم نے آپ کو بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں اور عظیم قرآن عطا کیا ہے۔ دونوں روایات ان سات سے مراد سورہ فاتحہ لیتی ہیں، جو نماز کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہے، اور اس سورت کا مذاق اڑانے والوں کو جواب یہی ہے کہ سننے والے کو پہلے ہی کیا دیا جا چکا ہے اس کا نام لے دیا جائے۔
Arabicولقد آتيناك سبع آيات تتكرر في كل صلاة، وآتيناك القرآن العظيم كله. ويحدد كلا التفسيرين هذه السبع بأنها سورة الفاتحة، تُكرَّر في كل ركعة، وجواب السورة لمن سخر بالوحي هو تسمية ما أُعطيه سامعه بالفعل.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Az-Zuhri:"From 'Ubaid bin As-Sabbaq, that Zaid bin Thabit narrated to him, he said: 'Abu Bakr As-Siddiq sent for me - (regarding) those killed at Al-Yamamah - and 'Umar bin Al-Khattab was with him. He (Abu Bakr) said: "'Umar came to me and said: The fighting inflicted many casualties among the reciters of the Qur'an on the Day of Al-Yamamah, and I fear that there will be more casualties among the reciters in other parts of the land, such that much of the Qur'an may be lost. In my view, you should order that the Qur'an be collected.'" Abu Bakr said to 'Umar: "How can I do something which was not done my the Messenger of Allah (ﷺ)?" 'Umar said: 'By Allah! It is something good.' 'Umar …
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے موقع پر ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے انہیں بلا بھیجا، اتفاق کی بات کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ بھی وہاں موجود تھے، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: عمر بن خطاب میرے پاس آئے ہیں کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے بہت سے قراء ( حافظوں ) کی ہلاکت ہوئی ہے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر ان تمام جگہوں میں جہاں جنگیں چل رہی ہیں قراء قرآن کا قتل بڑھتا رہا تو بہت سارا قرآن ضائع ہو سکتا ہے، اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ مکمل قرآن اکٹھا کرنے کا حکم فرمائیں۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ سے کہا: میں کوئی ایسی چیز کیسے کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔ عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر کام ہے۔ وہ مجھ سے یہ بات باربار …
Narrated Abu Sa`id bin Al-Mu'alla:While I was praying in the Mosque, Allah's Messenger (ﷺ) called me but I did not respond to him. Later I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I was praying." He said, "Didn't Allah say'--"Give your response to Allah (by obeying Him) and to His Apostle when he calls you." (8.24) He then said to me, "I will teach you a Sura which is the greatest Sura in the Qur'an, before you leave the Mosque." Then he got hold of my hand, and when he intended to leave (the Mosque), I said to him, "Didn't you say to me, 'I will teach you a Sura which is the greatest Sura in the Qur'an?' He said, "Al-Hamdu-Li l-lah Rabbi-l-`alamin (i.e. Praise be to Allah, the Lord of the worlds) …
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی حالت میں بلایا، میں نے کوئی جواب نہیں دیا ( پھر بعد میں، میں نے حاضر ہو کر ) عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے نہیں فرمایا ہے «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم» ”اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں بلائیں تو ہاں میں جواب دو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے ایک ایسی سورت کی تعلیم دوں گا جو …
Narrated Abu Sa`id Al-Mualla:While I was praying, the Prophet (ﷺ) passed by and called me, but I did not go to him till I had finished my prayer. When I went to him, he said, "What prevented you from coming?" I said, "I was praying." He said, "Didn't Allah say" "O you who believes Give your response to Allah (by obeying Him) and to His Apostle." (8.24) Then he added, "Shall I tell you the most superior Sura in the Qur'an before I go out of the mosque?" When the Prophet (ﷺ) intended to go out (of the Mosque), I reminded him and he said, "That is: "Al hamdu-li l-lahi Rabbil-`alamin (Surat-al-fatiha)' which is the seven oft repeated verses (Al-Mathani) and the Grand Qur'an which has been given …
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فوراً ہی کیوں نہ آئے؟ عرض کیا کہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم لوگوں کو حکم نہیں دیا ہے کہ اے ایمان والو! جب اللہ اور اس کے رسول تمہیں بلائیں تو لبیک کہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي شَطْرَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اقْرَءُوا يَقُولُ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَمِدَنِي عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ . فَيَقُولُ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} فَيَقُولُ أَثْنَى عَلَىَّ عَبْدِي …
It was narrated that Abu Hurairah said, 'I heard the Messenger of Allah(ﷺ) say':"Allah said: 'I have divided the prayer between Myself and My slave into two halves, and My slave shall have what he has asked for.'When the slave says: 'Al-hamdulillah i rabbil Alameen (All the praise is to Allah, the Lord of all that exists),' Allah says:'My slave has praised Me, and My slave shall have what he has asked for.' And when he says: 'Ar-Rahmanir-Rahim (The Mos Gracious, the Most Merciful),' Allah says: 'My slave has extolled Me, and My slave shall have what he has asked for.' And when he says: 'Maliki yawmiddin [The Only Owner (and he Ruling Judge] if the Day of Recompense],' Allahs says: 'My slave …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، آدھا میرے لیے ہے، اور آدھا میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پڑھو!، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «حمدني عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری حمد ثنا بیان کی، اور بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، اور جب بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أثنى علي عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری تعریف کی، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ …
Narrated Al-'Ala bin 'Abdur-Rahman:from his father, from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever performs a Salat in which he does not recite Umm Al-Qur'an in it, then it is aborted, it is aborted, not complete." He Said: "I said: 'O Abu Hurairah! Sometimes I am behind an Imam.' He said: 'O Ibn Al-Farisi! Then recite it to yourself. For indeed I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: Allah, the Most High said: "I have divided the Salat between Myself and My slaves into two halves. Half of it is for Me, and half of it for My slave, and My slave shall have what he asks for. My slave stands and says: All praise is due to Allah, the Lord of All that exists." So Allah, …
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، وہ نماز ناقص ہے، نامکمل ہے ۱؎ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے کہا: ابوہریرہ! میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں؟ انہوں نے کہا: فارسی لڑکے! اسے اپنے جی میں ( دل ہی دل میں ) پڑھ لیا کرو ۲؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ۳؎ اپنے اور بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دی ہے۔ آدھی نماز میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو مانگے۔ میرا بندہ پڑھتا ہے: «الحمد لله رب العالمين» تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری حمد یعنی تعریف کی۔ بندہ کہتا ہے: «الرحمن الرحيم» تو …
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) was given seven repeated long surahs, while Moses was given six, When he threw the tablets, two of them were withdrawn and four remained
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں ۱؎ اور موسیٰ ( علیہ السلام ) کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیاں ( جن پر تورات لکھی ہوئی تھی ) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔
Ibn Abbas narrated:(A Hadith similar to no. 716 with a different chain)
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوخالد احمر نے اعمش سے یہ حدیث بہت عمدہ طریقے سے روایت کی ہے، ۳- ابوخالد الاحمر کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی اسے اعمش سے ابوخالد کی روایت کے مثل روایت کیا ہے، ابومعاویہ نے اور دوسرے کئی اور لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «الأعمش عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے سلمہ بن کہیل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی عطاء اور مجاہد کے واسطے کا، ابوخالد کا نام سلیمان بن حیان ہے۔
Ibn ‘Abbas reported; when the prophet (ﷺ) recited:“Glorify the name of thy Lord, the Most High.” He would say:”Glory be to Allah, the most High”. Abu Dawud said; In this tradition the other narrators have differed from the narrator Wakl. This has been narrated by Wakl, and Shu’bah from Abu Ishaq, from Sa’ld b. Jubair, from Ibn ‘Abbas as his own statement (and not from the Prophet)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تو «سبحان ربي الأعلى»کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں وکیع کی مخالفت کی گئی اور اسے ابو وکیع اور شعبہ نے ابواسحاق سے ابوسحاق نے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
PickthallStrain not thine eyes toward that which We cause some wedded pairs among them to enjoin, and be not grieved on their account, and lower thy wing (in tenderness) for the believers.
Yusuf AliStrain not thine eyes. (Wistfully) at what We have bestowed on certain classes of them, nor grieve over them: but lower thy wing (in gentleness) to the believers.
The agreed readingDo not strain your eyes towards what We have let certain kinds of them enjoy, and do not grieve over them, and lower your wing to the believers. The commentaries gloss lowering the wing as gentleness — the same movement a bird makes to cover what is under it.
Urduاپنی آنکھیں اس چیز کی طرف مت پھیلائیں جو ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو فائدہ اٹھانے کے لیے دی ہے، اور ان پر غم نہ کریں، اور ایمان والوں کے لیے اپنا بازو جھکا دیں۔ مفسرین بازو جھکانے کو نرمی سے تعبیر کرتے ہیں، بالکل اسی حرکت کی طرح جو پرندہ اپنے نیچے کی چیز کو ڈھانپنے کے لیے کرتا ہے۔
Arabicلا تمدَّنَّ عينيك إلى ما متَّعنا به أصنافًا من الكفار من زينة الدنيا، ولا تحزن على كفرهم، واخفض جناحك وتواضع للمؤمنين. ويفسر المفسرون خفض الجناح باللين والرفق، وهي نفس الحركة التي يقوم بها الطائر ليغطي ما تحته.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
6. Ahmad ibn Muhammad al-Kufiy has narrated from ibn Jumhur from his father from Muhammad ibn Sinan from al-Mufaddal ibn ‘Umar who has said the following: “He has also said that al-Asamm has narrated to us from Hariz from Muhammad ibn Muslim from abu ‘Abd Allah (a.s.), who has said the following: ‘’Amir al-Mu’minin (a.s.), has said, “Instruct your families to speak good words when someone among you dies. When father of Fatimah, ‘Alayha al-Salam, died, daughters of children of Hashim supported her and she said to them, ‘Ignore eulogies but you must pray (to Allah).”””
احمد بن محمد الکوفی نے ابن جمہور سے، انہوں نے اپنے باپا سے روایت کی، انہوں نے محمد بن سنان سے، المفضل بن عمر سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے۔ اور الاصم نے حریز سے ہمیں خبر دی، انہوں نے محمد بن مسلم سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: اپنے اہل خانہ کو حکم دو کہ جب تمہارے میں سے کوئی فوت ہو تو اچھی بات کہیں، کیونکہ جب فاطمہ علیہا السلام کے باپا فوت ہوئے، تو بنو ہاشم کی بیٹیوں نے اسے تسلی دی تو انہوں نے کہا: ان عددوں اور گنتیوں کو چھوڑ دو، اور بجائے اس کے دعا پر عمل کرو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Az-Zuhri:"From 'Ubaid bin As-Sabbaq, that Zaid bin Thabit narrated to him, he said: 'Abu Bakr As-Siddiq sent for me - (regarding) those killed at Al-Yamamah - and 'Umar bin Al-Khattab was with him. He (Abu Bakr) said: "'Umar came to me and said: The fighting inflicted many casualties among the reciters of the Qur'an on the Day of Al-Yamamah, and I fear that there will be more casualties among the reciters in other parts of the land, such that much of the Qur'an may be lost. In my view, you should order that the Qur'an be collected.'" Abu Bakr said to 'Umar: "How can I do something which was not done my the Messenger of Allah (ﷺ)?" 'Umar said: 'By Allah! It is something good.' 'Umar …
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے موقع پر ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے انہیں بلا بھیجا، اتفاق کی بات کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ بھی وہاں موجود تھے، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: عمر بن خطاب میرے پاس آئے ہیں کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے بہت سے قراء ( حافظوں ) کی ہلاکت ہوئی ہے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر ان تمام جگہوں میں جہاں جنگیں چل رہی ہیں قراء قرآن کا قتل بڑھتا رہا تو بہت سارا قرآن ضائع ہو سکتا ہے، اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ مکمل قرآن اکٹھا کرنے کا حکم فرمائیں۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ سے کہا: میں کوئی ایسی چیز کیسے کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔ عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر کام ہے۔ وہ مجھ سے یہ بات باربار …
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلاَ تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لاَ تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ " عَلَيْكُمْ " .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Look at those who are beneath you and do not look at those who are above you, for it is more suitable that you should not consider as less the blessing of Allah.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح امید ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے ۔ ابومعاویہ نے «فوقكم» کی جگہ «عليكم» کا لفظ استعمال کیا ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Look to one who is lower than you, and do not look to one who is above you. For indeed that is more worthy(so that you will) not belittle Allah's favors upon you
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں کی طرف دیکھو جو دنیاوی اعتبار سے تم سے کم تر ہوں اور ان لوگوں کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہوں، اس طرح زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ کی ان نعمتوں کی ناقدری نہ کرو، جو اس کی طرف سے تم پر ہوئی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ " .
It was narrated that Abu Hurairah, may Allah be pleased with him, said:"The Messenger of Allah said; 'Allah curses the thief who steals an egg and had his hand cut off, and who steals a rope and has his hand cut off
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارک المخرمی، کہا: حدثنا ابو معاویہ، کہا: حدثنا الاعمش۔ اور احمد بن حرب نے ہمیں خبر دی، ابو معاویہ کے ذریعے، الاعمش کے ذریعے، ابو صالح کے ذریعے، ابو ہریرہ رضی الله عنہ کے ذریعے۔ کہا: رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: 'الله نے چور پر لعنت کی جو انڈا چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے، اور رسی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ ". قَالَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا قَالَ أَبَيْتُ. قَالَ أَرْبَعُونَ شَهْرًا قَالَ أَبَيْتُ. قَالَ أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ أَبَيْتُ. قَالَ " ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً. فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ لَيْسَ مِنَ الإِنْسَانِ شَىْءٌ إِلاَّ يَبْلَى إِلاَّ عَظْمًا وَاحِدًا وَهْوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
Narrated Al--A`mash:Abu Huraira said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Between the two sounds of the trumpet, there will be forty." Somebody asked Abu Huraira, "Forty days?" But he refused to reply. Then he asked, "Forty months?" He refused to reply. Then he asked, "Forty years?" Again, he refused to reply. Abu Huraira added. "Then (after this period) Allah will send water from the sky and then the dead bodies will grow like vegetation grows, There is nothing of the human body that does not decay except one bone; that is the little bone at the end of the coccyx of which the human body will be recreated on the Day of Resurrection." (See Hadith No)
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو صور پھونکے جانے کے درمیان چالیس فاصلہ ہو گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں نے پوچھا کیا چالیس دن مراد ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں پھر شاگردوں نے پوچھا کیا چالیس مہینے مراد ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ شاگردوں نے پوچھا کیا چالیس سال مراد ہیں؟ کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ کہا کہ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا۔ جس کی وجہ سے تمام مردے جی اٹھیں گے جیسے سبزیاں پانی سے اگ آتی ہیں۔ اس وقت انسان کا ہر حصہ گل چکا ہو گا۔ سوا ریڑھ کی ہڈی کے اور اس سے قیامت کے دن تمام مخلوق دوبارہ بنائی جائے گی۔
Narrated Abu Sa`id Al-Mualla:While I was praying, the Prophet (ﷺ) passed by and called me, but I did not go to him till I had finished my prayer. When I went to him, he said, "What prevented you from coming?" I said, "I was praying." He said, "Didn't Allah say" "O you who believes Give your response to Allah (by obeying Him) and to His Apostle." (8.24) Then he added, "Shall I tell you the most superior Sura in the Qur'an before I go out of the mosque?" When the Prophet (ﷺ) intended to go out (of the Mosque), I reminded him and he said, "That is: "Al hamdu-li l-lahi Rabbil-`alamin (Surat-al-fatiha)' which is the seven oft repeated verses (Al-Mathani) and the Grand Qur'an which has been given …
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فوراً ہی کیوں نہ آئے؟ عرض کیا کہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم لوگوں کو حکم نہیں دیا ہے کہ اے ایمان والو! جب اللہ اور اس کے رسول تمہیں بلائیں تو لبیک کہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی …
Narrated Abu Sa`id bin Al-Mu'alla:While I was praying in the Mosque, Allah's Messenger (ﷺ) called me but I did not respond to him. Later I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I was praying." He said, "Didn't Allah say'--"Give your response to Allah (by obeying Him) and to His Apostle when he calls you." (8.24) He then said to me, "I will teach you a Sura which is the greatest Sura in the Qur'an, before you leave the Mosque." Then he got hold of my hand, and when he intended to leave (the Mosque), I said to him, "Didn't you say to me, 'I will teach you a Sura which is the greatest Sura in the Qur'an?' He said, "Al-Hamdu-Li l-lah Rabbi-l-`alamin (i.e. Praise be to Allah, the Lord of the worlds) …
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی حالت میں بلایا، میں نے کوئی جواب نہیں دیا ( پھر بعد میں، میں نے حاضر ہو کر ) عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے نہیں فرمایا ہے «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم» ”اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں بلائیں تو ہاں میں جواب دو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے ایک ایسی سورت کی تعلیم دوں گا جو …
PickthallAnd say: Lo! I, even I, am a plain warner,
Yusuf AliAnd say: "I am indeed he that warneth openly and without ambiguity,"-
The agreed readingAnd say: I am the plain warner. The commentaries gloss the word as describing the warning rather than the warner — what is being said is made plain, whatever is made of the one saying it.
Urduاور کہہ دیں کہ میں ہی کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔ مفسرین اس لفظ کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ یہ خود انتباہ کو کھلا اور واضح بتاتا ہے، نہ کہ صرف انتباہ کرنے والے کو، خواہ کہنے والے کے بارے میں لوگ کچھ بھی سمجھیں۔
Arabicوقل لهم أيها الرسول: إني أنا النذير الموضِّح المبين. ويفسر المفسرون هذه الكلمة بأنها تصف الإنذار نفسه بالوضوح، لا المنذر وحده، مهما ظن الناس في شأن القائل.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The similitude of mine and of that with which Allah sent me is that of a person who came to us and said: O people, I have seen an army with my eyes and I am a plain warner (and issue you warning) that you should immediately manage to find an escape. A group of people from amongst them paying heed (to his warning) fled to a place of protection and a group amongst them belied him and the morning overtook them in their houses and the army attacked them and killed them and they were routed. And that is the similitude of the one who obeyed me, followed with which I had been sent and the similitude of the other is of one who disobeyed and belied …
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے ، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے ( یعنی دشمن کی فوج کو ) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں ، پس جلدی بھاگو ۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا ۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا …
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "My example and the example of what I have been sent with is that of a man who came to some people and said, 'O people! I have seen the enemy's army with my own eyes, and I am the naked warner; so protect yourselves!' Then a group of his people obeyed him and fled at night proceeding stealthily till they were safe, while another group of them disbelieved him and stayed at their places till morning when the army came upon them, and killed and ruined them completely So this is the example of that person who obeys me and follows what I have brought (the Qur'an and the Sunna), and the example of the one who disobeys me and disbelieves the truth I have …
ہم سے ابوکریب محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور جس دعوت کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کہے: اے قوم! میں نے ایک لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں ننگ دھڑنگ تم کو ڈرانے والا ہوں، پس بچاؤ کی صورت کرو تو اس قوم کے ایک گروہ نے بات مان لی اور رات کے شروع ہی میں نکل بھاگے اور حفاظت کی جگہ چلے گئے۔ اس لیے نجات پا گئے لیکن ان کی دوسری جماعت نے جھٹلایا اور اپنی جگہ ہی پر موجود رہے، پھر صبح سویرے ہی دشمن کے لشکر نے انہیں آ لیا اور انہیں مارا اور ان کو برباد کر دیا۔ تو یہ مثال ہے اس …
Narrated Anas bin Malik:that regarding Allah's saying: We shall certainly call all of them to account. For all that they used to do (15:92 & 93). The Prophet (ﷺ) said: "About saying La Ilaha Illallah
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما كانوا يعملون» ”ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے“ ( الحجر: ۹۲ ) ، کے متعلق فرمایا: ”یہ پوچھنا «لا إله إلا الله» کے متعلق ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے، اور لیث نے بشر کے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Ibn 'Abbas reported:The word of (Allah) Great and Glorious: 'And utter not thy prayer loudly, nor be low in it" (xvii. 110) was revealed as the Messenger of Allah (may peace beupon him) was hiding himself in Mecca. When he led his Companions in prayer he raised his voice (while reciting the) Qur'an. And when the polytheists heard that, they reviled the Qur'an and Him Who revealed it and him who brought it. Upon this Allah, the Exalted, said to His Apostle (ﷺ): Utter not thy prayer so loudly that the polytheists may hear thy recitation and (recite it) not so low that it may be inaudible to your Companions. Make them hear the Qur'an, but do not recite it loudly and seek a (middle) way between …
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها﴾ ’’ اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ اسے پست کریں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی ، انہوں نے کہا : یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہﷺ مکہ میں پوشیدہ ( عبادت کرتے ) تھے ۔ جب آپ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تو قراءت بلند آواز سے کرتے تھے ، مشرک جب یہ قراءت سنتے تو قرآن کو ، اس کے نازل کرنے والے کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو ہدایت کی : ’’ اپنی نماز میں ( آواز کو اس قدر ) بلند نہ کریں ‘ ‘ کہ آپ کی قراءت مشرکوں کو سنائی دے ’’ اور نہ اس ( کی آواز ) کو پست کریں ‘ ‘ اپنے ساتھیوں سے ، انہیں قرآن سنائیں اور آواز اتنی زیاد اونچی نہ کریں ’’اور ان ( دونوں ) …
Narrated Ibn `Abbas:Those who have made their Scripture into parts are the people of the Scripture who divided it into portions and believed in a part of it and disbelieved the other
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا آیت «الذين جعلوا القرآن عضين» ”جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے کر رکھے ہیں“ کے متعلق کہا کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ انہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔
PickthallSuch as We send down for those who make division,
Yusuf Ali(Of just such wrath) as We sent down on those who divided (Scripture into arbitrary parts),-
The agreed readingAs We sent down on those who divided it up — the commentaries read the āyah as promising the deniers of Mecca what already came to an earlier people who had done the same thing with what they were given.
Urduجیسا کہ ہم نے تقسیم کرنے والوں پر اتارا تھا۔ مفسرین اس آیت کو مکہ کے انکار کرنے والوں سے یہ وعدہ سمجھتے ہیں کہ وہی چیز ان پر بھی آئے گی جو پہلے ایک قوم پر آ چکی تھی جس نے اپنی دی گئی کتاب کے ساتھ بالکل یہی کیا تھا۔
Arabicكما أنزلنا العذاب على المقتسمين الذين قسَّموا الكتاب أجزاء بأهوائهم. ويقرأ المفسرون هذه الآية على أنها وعد لمنكري مكة بما حل بأمة سابقة فعلت بكتابها نفس هذا الفعل من قبلهم.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The similitude of mine and of that with which Allah sent me is that of a person who came to us and said: O people, I have seen an army with my eyes and I am a plain warner (and issue you warning) that you should immediately manage to find an escape. A group of people from amongst them paying heed (to his warning) fled to a place of protection and a group amongst them belied him and the morning overtook them in their houses and the army attacked them and killed them and they were routed. And that is the similitude of the one who obeyed me, followed with which I had been sent and the similitude of the other is of one who disobeyed and belied …
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے ، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے ( یعنی دشمن کی فوج کو ) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں ، پس جلدی بھاگو ۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا ۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا …
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "My example and the example of what I have been sent with is that of a man who came to some people and said, 'O people! I have seen the enemy's army with my own eyes, and I am the naked warner; so protect yourselves!' Then a group of his people obeyed him and fled at night proceeding stealthily till they were safe, while another group of them disbelieved him and stayed at their places till morning when the army came upon them, and killed and ruined them completely So this is the example of that person who obeys me and follows what I have brought (the Qur'an and the Sunna), and the example of the one who disobeys me and disbelieves the truth I have …
ہم سے ابوکریب محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور جس دعوت کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کہے: اے قوم! میں نے ایک لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں ننگ دھڑنگ تم کو ڈرانے والا ہوں، پس بچاؤ کی صورت کرو تو اس قوم کے ایک گروہ نے بات مان لی اور رات کے شروع ہی میں نکل بھاگے اور حفاظت کی جگہ چلے گئے۔ اس لیے نجات پا گئے لیکن ان کی دوسری جماعت نے جھٹلایا اور اپنی جگہ ہی پر موجود رہے، پھر صبح سویرے ہی دشمن کے لشکر نے انہیں آ لیا اور انہیں مارا اور ان کو برباد کر دیا۔ تو یہ مثال ہے اس …
Narrated Anas bin Malik:that regarding Allah's saying: We shall certainly call all of them to account. For all that they used to do (15:92 & 93). The Prophet (ﷺ) said: "About saying La Ilaha Illallah
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما كانوا يعملون» ”ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے“ ( الحجر: ۹۲ ) ، کے متعلق فرمایا: ”یہ پوچھنا «لا إله إلا الله» کے متعلق ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے، اور لیث نے بشر کے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Ibn 'Abbas reported:The word of (Allah) Great and Glorious: 'And utter not thy prayer loudly, nor be low in it" (xvii. 110) was revealed as the Messenger of Allah (may peace beupon him) was hiding himself in Mecca. When he led his Companions in prayer he raised his voice (while reciting the) Qur'an. And when the polytheists heard that, they reviled the Qur'an and Him Who revealed it and him who brought it. Upon this Allah, the Exalted, said to His Apostle (ﷺ): Utter not thy prayer so loudly that the polytheists may hear thy recitation and (recite it) not so low that it may be inaudible to your Companions. Make them hear the Qur'an, but do not recite it loudly and seek a (middle) way between …
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها﴾ ’’ اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ اسے پست کریں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی ، انہوں نے کہا : یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہﷺ مکہ میں پوشیدہ ( عبادت کرتے ) تھے ۔ جب آپ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تو قراءت بلند آواز سے کرتے تھے ، مشرک جب یہ قراءت سنتے تو قرآن کو ، اس کے نازل کرنے والے کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو ہدایت کی : ’’ اپنی نماز میں ( آواز کو اس قدر ) بلند نہ کریں ‘ ‘ کہ آپ کی قراءت مشرکوں کو سنائی دے ’’ اور نہ اس ( کی آواز ) کو پست کریں ‘ ‘ اپنے ساتھیوں سے ، انہیں قرآن سنائیں اور آواز اتنی زیاد اونچی نہ کریں ’’اور ان ( دونوں ) …
Narrated Ibn `Abbas:Those who have made their Scripture into parts are the people of the Scripture who divided it into portions and believed in a part of it and disbelieved the other
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا آیت «الذين جعلوا القرآن عضين» ”جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے کر رکھے ہیں“ کے متعلق کہا کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ انہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔
Yusuf Ali(So also on such) as have made Qur'an into shreds (as they please).
The agreed readingthose who made the Recitation into pieces. The commentaries read them as taking some of what was sent down and refusing the rest, which is why the naming is about dividing rather than about denying outright.
Urduوہ لوگ جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ مفسرین انہیں ایسے سمجھتے ہیں جنہوں نے جو نازل ہوا اس میں سے کچھ لے لیا اور باقی کو رد کر دیا، اسی وجہ سے یہاں تقسیم کرنے کا نام لیا گیا نہ کہ صاف انکار کرنے کا۔
Arabicوهم الذين جعلوا القرآن أقسامًا وأجزاء متفرقة، فمنهم من يقول سحر، ومنهم من يقول كهانة. ويقرأ المفسرون هذا على أنهم أخذوا بعض ما أُنزل ورفضوا باقيه، ولهذا سُمُّوا بالتقسيم لا بالتكذيب الصريح.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The similitude of mine and of that with which Allah sent me is that of a person who came to us and said: O people, I have seen an army with my eyes and I am a plain warner (and issue you warning) that you should immediately manage to find an escape. A group of people from amongst them paying heed (to his warning) fled to a place of protection and a group amongst them belied him and the morning overtook them in their houses and the army attacked them and killed them and they were routed. And that is the similitude of the one who obeyed me, followed with which I had been sent and the similitude of the other is of one who disobeyed and belied …
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے ، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے ( یعنی دشمن کی فوج کو ) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں ، پس جلدی بھاگو ۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا ۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا …
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "My example and the example of what I have been sent with is that of a man who came to some people and said, 'O people! I have seen the enemy's army with my own eyes, and I am the naked warner; so protect yourselves!' Then a group of his people obeyed him and fled at night proceeding stealthily till they were safe, while another group of them disbelieved him and stayed at their places till morning when the army came upon them, and killed and ruined them completely So this is the example of that person who obeys me and follows what I have brought (the Qur'an and the Sunna), and the example of the one who disobeys me and disbelieves the truth I have …
ہم سے ابوکریب محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور جس دعوت کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کہے: اے قوم! میں نے ایک لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں ننگ دھڑنگ تم کو ڈرانے والا ہوں، پس بچاؤ کی صورت کرو تو اس قوم کے ایک گروہ نے بات مان لی اور رات کے شروع ہی میں نکل بھاگے اور حفاظت کی جگہ چلے گئے۔ اس لیے نجات پا گئے لیکن ان کی دوسری جماعت نے جھٹلایا اور اپنی جگہ ہی پر موجود رہے، پھر صبح سویرے ہی دشمن کے لشکر نے انہیں آ لیا اور انہیں مارا اور ان کو برباد کر دیا۔ تو یہ مثال ہے اس …
Narrated Anas bin Malik:that regarding Allah's saying: We shall certainly call all of them to account. For all that they used to do (15:92 & 93). The Prophet (ﷺ) said: "About saying La Ilaha Illallah
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما كانوا يعملون» ”ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے“ ( الحجر: ۹۲ ) ، کے متعلق فرمایا: ”یہ پوچھنا «لا إله إلا الله» کے متعلق ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے، اور لیث نے بشر کے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Ibn 'Abbas reported:The word of (Allah) Great and Glorious: 'And utter not thy prayer loudly, nor be low in it" (xvii. 110) was revealed as the Messenger of Allah (may peace beupon him) was hiding himself in Mecca. When he led his Companions in prayer he raised his voice (while reciting the) Qur'an. And when the polytheists heard that, they reviled the Qur'an and Him Who revealed it and him who brought it. Upon this Allah, the Exalted, said to His Apostle (ﷺ): Utter not thy prayer so loudly that the polytheists may hear thy recitation and (recite it) not so low that it may be inaudible to your Companions. Make them hear the Qur'an, but do not recite it loudly and seek a (middle) way between …
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها﴾ ’’ اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ اسے پست کریں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی ، انہوں نے کہا : یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہﷺ مکہ میں پوشیدہ ( عبادت کرتے ) تھے ۔ جب آپ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تو قراءت بلند آواز سے کرتے تھے ، مشرک جب یہ قراءت سنتے تو قرآن کو ، اس کے نازل کرنے والے کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو ہدایت کی : ’’ اپنی نماز میں ( آواز کو اس قدر ) بلند نہ کریں ‘ ‘ کہ آپ کی قراءت مشرکوں کو سنائی دے ’’ اور نہ اس ( کی آواز ) کو پست کریں ‘ ‘ اپنے ساتھیوں سے ، انہیں قرآن سنائیں اور آواز اتنی زیاد اونچی نہ کریں ’’اور ان ( دونوں ) …
Narrated Ibn `Abbas:Those who have made their Scripture into parts are the people of the Scripture who divided it into portions and believed in a part of it and disbelieved the other
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا آیت «الذين جعلوا القرآن عضين» ”جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے کر رکھے ہیں“ کے متعلق کہا کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ انہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔
PickthallThem, by thy Lord, We shall question, every one,
Yusuf AliTherefore, by the Lord, We will, of a surety, call them to account,
The agreed readingSo by your Lord, We will question them all — an oath, and the commentaries note that the questioning is said to cover every one of them, with no one left outside it.
Urduپس تیرے رب کی قسم، ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے۔ یہاں قسم اٹھائی گئی ہے، اور مفسرین نوٹ کرتے ہیں کہ سوال ان سب کو شامل کرتا ہے، کوئی بھی اس سے باہر نہیں رہے گا۔
Arabicفوربك يا محمد لنسألنَّهم ولنحاسبنَّهم أجمعين يوم القيامة. وهذا قسم صريح، ويلاحظ المفسرون أن السؤال يشمل كل واحد منهم، فلا يبقى أحد خارج هذا الحساب.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that regarding Allah's saying: We shall certainly call all of them to account. For all that they used to do (15:92 & 93). The Prophet (ﷺ) said: "About saying La Ilaha Illallah
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما كانوا يعملون» ”ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے“ ( الحجر: ۹۲ ) ، کے متعلق فرمایا: ”یہ پوچھنا «لا إله إلا الله» کے متعلق ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے، اور لیث نے بشر کے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The similitude of mine and of that with which Allah sent me is that of a person who came to us and said: O people, I have seen an army with my eyes and I am a plain warner (and issue you warning) that you should immediately manage to find an escape. A group of people from amongst them paying heed (to his warning) fled to a place of protection and a group amongst them belied him and the morning overtook them in their houses and the army attacked them and killed them and they were routed. And that is the similitude of the one who obeyed me, followed with which I had been sent and the similitude of the other is of one who disobeyed and belied …
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے ، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے ( یعنی دشمن کی فوج کو ) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں ، پس جلدی بھاگو ۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا ۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا …
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "My example and the example of what I have been sent with is that of a man who came to some people and said, 'O people! I have seen the enemy's army with my own eyes, and I am the naked warner; so protect yourselves!' Then a group of his people obeyed him and fled at night proceeding stealthily till they were safe, while another group of them disbelieved him and stayed at their places till morning when the army came upon them, and killed and ruined them completely So this is the example of that person who obeys me and follows what I have brought (the Qur'an and the Sunna), and the example of the one who disobeys me and disbelieves the truth I have …
ہم سے ابوکریب محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور جس دعوت کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کہے: اے قوم! میں نے ایک لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں ننگ دھڑنگ تم کو ڈرانے والا ہوں، پس بچاؤ کی صورت کرو تو اس قوم کے ایک گروہ نے بات مان لی اور رات کے شروع ہی میں نکل بھاگے اور حفاظت کی جگہ چلے گئے۔ اس لیے نجات پا گئے لیکن ان کی دوسری جماعت نے جھٹلایا اور اپنی جگہ ہی پر موجود رہے، پھر صبح سویرے ہی دشمن کے لشکر نے انہیں آ لیا اور انہیں مارا اور ان کو برباد کر دیا۔ تو یہ مثال ہے اس …
Ibn ‘Abbas said “When the Apostle of Allaah(ﷺ) had victory over Quraish in the batte of Badr and came to Madeenah he gathered the Jews in the market of Banu Qainuqa and said “O community of Jews embrace Islam before you suffer an injury as the Quraish suffered.” They said “Muhammad, you should not deceive yourself (taking pride) that you had killed a few persons of the Quariash who were inexperienced and did not know how to fight. Had you fought with us, you would have known us. You have never met people like us.” Allah Most High revealed about this the following verse “Say to those who reject faith, soon will ye be vanished... one army was fighting in the cause of Allaah, the other …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں قریش پر فتح حاصل کی اور مدینہ لوٹ کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بنی قینقاع کے بازار میں اکٹھا کیا، اور ان سے کہا: اے یہود کی جماعت! تم مسلمان ہو جاؤ قبل اس کے کہ تمہارا حال بھی وہی ہو جو قریش کا ہوا ، انہوں نے کہا: محمد! تم اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تم نے قریش کے کچھ نا تجربہ کار لوگوں کو جو جنگ سے واقف نہیں تھے قتل کر دیا ہے، اگر تم ہم سے لڑتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ مرد میدان ہم ہیں ابھی تمہاری ہم جیسے جنگجو بہادر لوگوں سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «قل للذين كفروا ستغلبون» کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے ( سورۃ آل عمران: ۱۲ ) حدیث کے راوی مصرف نے …
Narrated Ibn `Abbas:Those who have made their Scripture into parts are the people of the Scripture who divided it into portions and believed in a part of it and disbelieved the other
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا آیت «الذين جعلوا القرآن عضين» ”جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے کر رکھے ہیں“ کے متعلق کہا کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ انہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔
The agreed readingabout what they used to do — a questioning the commentaries take as rebuke rather than enquiry, since the answer is already known.
Urduاس ہر اس بات کے بارے میں جو وہ اپنی زندگی بھر کرتے رہے۔ مفسرین اس سوال کو تحقیق کے بجائے ایک طرح کی سرزنش اور ملامت سمجھتے ہیں، کیونکہ اس کا جواب تو پہلے ہی سے معلوم اور طے شدہ ہے۔
Arabicعما كانوا يعملونه طوال حياتهم من الشرك والمعاصي والذنوب. ويقرأ المفسرون هذا السؤال على أنه توبيخ وتقريع لا استفهام حقيقي، لأن الجواب معلوم ومقرَّر سلفًا عند الله.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:that regarding Allah's saying: We shall certainly call all of them to account. For all that they used to do (15:92 & 93). The Prophet (ﷺ) said: "About saying La Ilaha Illallah
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما كانوا يعملون» ”ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے“ ( الحجر: ۹۲ ) ، کے متعلق فرمایا: ”یہ پوچھنا «لا إله إلا الله» کے متعلق ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے، اور لیث نے بشر کے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The similitude of mine and of that with which Allah sent me is that of a person who came to us and said: O people, I have seen an army with my eyes and I am a plain warner (and issue you warning) that you should immediately manage to find an escape. A group of people from amongst them paying heed (to his warning) fled to a place of protection and a group amongst them belied him and the morning overtook them in their houses and the army attacked them and killed them and they were routed. And that is the similitude of the one who obeyed me, followed with which I had been sent and the similitude of the other is of one who disobeyed and belied …
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے ، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے ( یعنی دشمن کی فوج کو ) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں ، پس جلدی بھاگو ۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا ۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا …
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "My example and the example of what I have been sent with is that of a man who came to some people and said, 'O people! I have seen the enemy's army with my own eyes, and I am the naked warner; so protect yourselves!' Then a group of his people obeyed him and fled at night proceeding stealthily till they were safe, while another group of them disbelieved him and stayed at their places till morning when the army came upon them, and killed and ruined them completely So this is the example of that person who obeys me and follows what I have brought (the Qur'an and the Sunna), and the example of the one who disobeys me and disbelieves the truth I have …
ہم سے ابوکریب محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور جس دعوت کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کہے: اے قوم! میں نے ایک لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں ننگ دھڑنگ تم کو ڈرانے والا ہوں، پس بچاؤ کی صورت کرو تو اس قوم کے ایک گروہ نے بات مان لی اور رات کے شروع ہی میں نکل بھاگے اور حفاظت کی جگہ چلے گئے۔ اس لیے نجات پا گئے لیکن ان کی دوسری جماعت نے جھٹلایا اور اپنی جگہ ہی پر موجود رہے، پھر صبح سویرے ہی دشمن کے لشکر نے انہیں آ لیا اور انہیں مارا اور ان کو برباد کر دیا۔ تو یہ مثال ہے اس …
Ibn ‘Abbas said “When the Apostle of Allaah(ﷺ) had victory over Quraish in the batte of Badr and came to Madeenah he gathered the Jews in the market of Banu Qainuqa and said “O community of Jews embrace Islam before you suffer an injury as the Quraish suffered.” They said “Muhammad, you should not deceive yourself (taking pride) that you had killed a few persons of the Quariash who were inexperienced and did not know how to fight. Had you fought with us, you would have known us. You have never met people like us.” Allah Most High revealed about this the following verse “Say to those who reject faith, soon will ye be vanished... one army was fighting in the cause of Allaah, the other …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں قریش پر فتح حاصل کی اور مدینہ لوٹ کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بنی قینقاع کے بازار میں اکٹھا کیا، اور ان سے کہا: اے یہود کی جماعت! تم مسلمان ہو جاؤ قبل اس کے کہ تمہارا حال بھی وہی ہو جو قریش کا ہوا ، انہوں نے کہا: محمد! تم اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تم نے قریش کے کچھ نا تجربہ کار لوگوں کو جو جنگ سے واقف نہیں تھے قتل کر دیا ہے، اگر تم ہم سے لڑتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ مرد میدان ہم ہیں ابھی تمہاری ہم جیسے جنگجو بہادر لوگوں سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «قل للذين كفروا ستغلبون» کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے ( سورۃ آل عمران: ۱۲ ) حدیث کے راوی مصرف نے …
Narrated Ibn `Abbas:Those who have made their Scripture into parts are the people of the Scripture who divided it into portions and believed in a part of it and disbelieved the other
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا آیت «الذين جعلوا القرآن عضين» ”جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے کر رکھے ہیں“ کے متعلق کہا کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ انہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔
PickthallSo proclaim that which thou art commanded, and withdraw from the idolaters.
Yusuf AliTherefore expound openly what thou art commanded, and turn away from those who join false gods with Allah.
The agreed readingSo proclaim openly what you are commanded, and turn away from those who set up partners with God. The commentaries read this as the end of a period of concealment: what had been said quietly was now to be said out loud.
Urduپس جس بات کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے کھول کر بیان کر دیں، اور مشرکین سے منہ موڑ لیں۔ مفسرین اسے پوشیدگی کے دور کا خاتمہ سمجھتے ہیں: جو کچھ چپکے سے کہا جاتا رہا اب اسے بلند آواز سے کہا جانا تھا۔
Arabicفاجهر واصدع بالحق الذي تُؤمَر به، وأعرض عن هؤلاء المشركين ولا تبال بهم. ويقرأ المفسرون هذا على أنه نهاية مرحلة الإخفاء: ما كان يُقال سرًّا صار الآن يُقال جهرًا وعلانية.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah, Blessed is He and Most High, said: ‘O son of Adam! Verily as long as you called upon Me and hoped in Me, I forgave you, despite whatever may have occurred from you, and I did not mind. O son of Adam! Were your sins to reach the clouds of the sky, then you sought forgiveness from Me, I would forgive you, and I would not mind. So son of Adam! If you came to me with sins nearly as great as the earth, and then you met Me not associating anything with Me, I would come to you with forgiveness nearly as great as it.’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے ( مغفرت طلب کرنے کے لیے ) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا ( اور تجھے بخش دوں گا ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: …
Ibn ‘Abbas said “When the Apostle of Allaah(ﷺ) had victory over Quraish in the batte of Badr and came to Madeenah he gathered the Jews in the market of Banu Qainuqa and said “O community of Jews embrace Islam before you suffer an injury as the Quraish suffered.” They said “Muhammad, you should not deceive yourself (taking pride) that you had killed a few persons of the Quariash who were inexperienced and did not know how to fight. Had you fought with us, you would have known us. You have never met people like us.” Allah Most High revealed about this the following verse “Say to those who reject faith, soon will ye be vanished... one army was fighting in the cause of Allaah, the other …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں قریش پر فتح حاصل کی اور مدینہ لوٹ کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بنی قینقاع کے بازار میں اکٹھا کیا، اور ان سے کہا: اے یہود کی جماعت! تم مسلمان ہو جاؤ قبل اس کے کہ تمہارا حال بھی وہی ہو جو قریش کا ہوا ، انہوں نے کہا: محمد! تم اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تم نے قریش کے کچھ نا تجربہ کار لوگوں کو جو جنگ سے واقف نہیں تھے قتل کر دیا ہے، اگر تم ہم سے لڑتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ مرد میدان ہم ہیں ابھی تمہاری ہم جیسے جنگجو بہادر لوگوں سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «قل للذين كفروا ستغلبون» کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے ( سورۃ آل عمران: ۱۲ ) حدیث کے راوی مصرف نے …
Yusuf AliFor sufficient are We unto thee against those who scoff,-
The agreed readingWe are enough for you against the mockers. The commentaries read the promise as taking the matter out of his hands entirely: he is told to proclaim, and the answering of the mockery is not his work.
Urduبے شک ہم مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں آپ کے لیے کافی ہیں۔ مفسرین اس وعدے کو یوں سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ آپ کے ہاتھ سے بالکل نکال لیا گیا: آپ کو کھلا اعلان کرنے کا حکم ہے، اور مذاق کا جواب دینا آپ کا کام نہیں۔
Arabicإنا كفيناك أمر المستهزئين الساخرين منك، فلا تشغل بهم بالك. ويقرأ المفسرون هذا الوعد على أنه إخراج للأمر من يديه تمامًا: أُمر بالجهر، وأما الرد على السخرية فليس من عمله.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah, Blessed is He and Most High, said: ‘O son of Adam! Verily as long as you called upon Me and hoped in Me, I forgave you, despite whatever may have occurred from you, and I did not mind. O son of Adam! Were your sins to reach the clouds of the sky, then you sought forgiveness from Me, I would forgive you, and I would not mind. So son of Adam! If you came to me with sins nearly as great as the earth, and then you met Me not associating anything with Me, I would come to you with forgiveness nearly as great as it.’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے ( مغفرت طلب کرنے کے لیے ) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا ( اور تجھے بخش دوں گا ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: …
PickthallWho set some other god along with Allah. But they will come to know.
Yusuf AliThose who adopt, with Allah, another god: but soon will they come to know.
The agreed readingthose who set up another god beside God. They will come to know. The commentaries name a specific group of ringleaders who were dealt with, and the promise is made in the plainest terms: this is Ours, not yours.
Urduوہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ٹھہراتے ہیں، عنقریب انہیں پتہ چل جائے گا۔ مفسرین ان لوگوں کے ایک خاص گروہ کا نام لیتے ہیں جن سے نمٹا گیا، اور یہ وعدہ صاف الفاظ میں کیا گیا ہے: یہ کام ہمارا ہے، تمہارا نہیں۔
Arabicالذين يجعلون مع الله إلهًا آخر ويشركون به، فسوف يعلمون عاقبة أمرهم في الدنيا والآخرة. ويسمي المفسرون جماعة معينة من رؤوس الكفر جرى التعامل معهم، والوعد هنا بأوضح الألفاظ: هذا الأمر لنا، وليس لكم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah, Blessed is He and Most High, said: ‘O son of Adam! Verily as long as you called upon Me and hoped in Me, I forgave you, despite whatever may have occurred from you, and I did not mind. O son of Adam! Were your sins to reach the clouds of the sky, then you sought forgiveness from Me, I would forgive you, and I would not mind. So son of Adam! If you came to me with sins nearly as great as the earth, and then you met Me not associating anything with Me, I would come to you with forgiveness nearly as great as it.’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے ( مغفرت طلب کرنے کے لیے ) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا ( اور تجھے بخش دوں گا ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: …
PickthallWell know We that thy bosom is oppressed by what they say,
Yusuf AliWe do indeed know how thy heart is distressed at what they say.
The agreed readingAnd We know that your breast is tightened by what they say. The commentaries gloss what they say as the mockery and the denial, and note that the āyah states the fact plainly before anything is offered for it.
Urduاور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان کی باتوں سے تنگ ہوتا ہے۔ مفسرین ان باتوں سے مراد مذاق اور جھٹلانا لیتے ہیں، اور نوٹ کرتے ہیں کہ یہ آیت پہلے اس حقیقت کو صاف بتا دیتی ہے، اس سے پہلے کہ اس کے لیے کوئی حل پیش کیا جائے۔
Arabicولقد نعلم أيها الرسول أن صدرك يضيق ويتضايق بما يقوله هؤلاء المشركون. ويفسر المفسرون هذا القول بأنه السخرية والتكذيب، ويلاحظون أن الآية تُثبت هذه الحقيقة صراحة قبل أن يُقدَّم لها أي حل.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
و ما كان فيه عن حفص بن غياث فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن أبي عبد اللّه، عن أبيه، عن حفص بن غياث. و رويته عن عليّ بن أحمد بن موسى- رحمه اللّه- عن محمّد بن أبي عبد اللّه، عن محمّد بن أبي بشير قال: حدّثنا الحسين بن الهيثم قال: حدّثنا سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث. و رويته عن أبي- رحمه اللّه- عن سعد بن عبد اللّه، عن القاسم بن محمّد الاصبهانيّ، عن سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث النخعيّ القاضي.
Everything in this book that is narrated from Hafs ibn Ghayath has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ahmad ibn Abi Abdullah, from his father, from Hafs ibn Ghayath. I have also narrated it from Ali ibn Ahmad ibn Musa - may Allah (swt) have mercy on him - from Muhammad ibn Abi Abdullah, from Muhammad ibn Abi Bashir, who said: Al-Husayn ibn Al-Haytham narrated to us, saying: Sulayman ibn Dawud Al-Munqari narrated to us, from Hafs ibn Ghayath. Additionally, I have narrated it from my father - may Allah (swt) have mercy on him - from Sa'd ibn Abdullah, from Al-Qasim ibn Muhammad Al-Isfahani, from Sulayman ibn Dawud …
اور جو کچھ اس میں حفص بن غیاث کے ذریعے ہے، تو میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں خوش رکھے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، احمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، ان کے والد کے ذریعے، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے علی بن احمد بن موسیٰ سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - محمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، محمد بن ابی بشیر کے ذریعے۔ انہوں نے کہا: ہمیں الحسین بن الہیثم نے حدیث دی، کہا: ہمیں سليمان بن داود المنقری نے حدیث دی، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، القاسم بن محمد الاصبهاني کے ذریعے، سليمان بن داود المنقری کے ذریعے، حفص بن غیاث النخعي القاضي سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah, Blessed is He and Most High, said: ‘O son of Adam! Verily as long as you called upon Me and hoped in Me, I forgave you, despite whatever may have occurred from you, and I did not mind. O son of Adam! Were your sins to reach the clouds of the sky, then you sought forgiveness from Me, I would forgive you, and I would not mind. So son of Adam! If you came to me with sins nearly as great as the earth, and then you met Me not associating anything with Me, I would come to you with forgiveness nearly as great as it.’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے ( مغفرت طلب کرنے کے لیے ) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا ( اور تجھے بخش دوں گا ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: …
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أُمَّ الْعَلاَءِ ـ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمُ اقْتَسَمُوا الْمُهَاجِرِينَ قُرْعَةً. قَالَتْ فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، وَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا، فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ غُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ …
Narrated Kharija bin Zaid bin Thabit:Um Al-`Ala an Ansari woman who had given a pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) told me:, "The Muhajirln (emigrants) were distributed amongst us by drawing lots, and we got `Uthman bin Maz'un in our share. We made him stay with us in our house. Then he suffered from a disease which proved fatal. When he died and was given a bath and was shrouded in his clothes. Allah's Messenger (ﷺ) came, I said, (addressing the dead body), 'O Aba As-Sa'ib! May Allah be Merciful to you! I testify that Allah has honored you.' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'How do you know that Allah has honored him?" I replied, 'Let my father be sacrificed for you, O Allah's …
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں خارجہ بن ثابت نے خبر دی ‘ انہیں ام علاء رضی اللہ عنہا نے جو ایک انصاری عورت تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی خبر دی کہ انہوں نے مہاجرین کے ساتھ سلسلہ اخوت قائم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی تو ہمارا قرعہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے نام نکلا۔ پھر ہم نے انہیں اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ اس کے بعد انہیں ایک بیماری ہو گئی جس میں ان کی وفات ہو گئی۔ جب ان کی وفات ہو گئی تو انہیں غسل دیا گیا اور ان کے کپڑوں کا کفن دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوالسائب ( عثمان رضی اللہ عنہ ) تم پر اللہ کی رحمت ہو، تمہارے متعلق میری گواہی ہے کہ …
PickthallBut hymn the praise of thy Lord, and be of those who make prostration (unto Him).
Yusuf AliBut celebrate the praises of thy Lord, and be of those who prostrate themselves in adoration.
The agreed readingSo glorify your Lord with praise, and be among those who prostrate. The commentaries read the answer given for a tightened chest as an instruction rather than a consolation: what to do, not what to feel.
Urduپس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور سجدہ کرنے والوں میں شامل ہو جائیں۔ مفسرین تنگ دلی کے جواب کو تسلی کے بجائے ایک ہدایت سمجھتے ہیں: کیا کرنا ہے، نہ کہ کیا محسوس کرنا ہے۔
Arabicفسبِّح بحمد ربك شاكرًا مثنيًا عليه، وكن من الساجدين المصلين له. ويقرأ المفسرون هذا الجواب على ضيق الصدر بأنه توجيه لا مواساة: ماذا يُفعل، لا ما يُشعَر به.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah, Blessed is He and Most High, said: ‘O son of Adam! Verily as long as you called upon Me and hoped in Me, I forgave you, despite whatever may have occurred from you, and I did not mind. O son of Adam! Were your sins to reach the clouds of the sky, then you sought forgiveness from Me, I would forgive you, and I would not mind. So son of Adam! If you came to me with sins nearly as great as the earth, and then you met Me not associating anything with Me, I would come to you with forgiveness nearly as great as it.’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے ( مغفرت طلب کرنے کے لیے ) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا ( اور تجھے بخش دوں گا ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There are two statements that are light on the tongue, heavy on the Scale, and beloved to Ar-Raḥmān: “Glory is to Allah and the praise; Glory is to Allah, the Magnificent. (Subḥān Allāhi wa biḥamdih, Subḥān Allāhil-Aẓīm)”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں ( آسانی سے ادا ہو جاتے ہیں ) مگر میزان میں بھاری ہیں ( تول میں وزنی ہیں ) رحمن کو پیارے ہیں ( وہ یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Two words which are light on the tongue and heavy in the Balance, and beloved to the Most Merciful: Subhan-Allah wa bi hamdihi, Subhan-Allahil-'Azim (Glory and praise is to Allah, glory is to Allah the Almighty)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو کلمے زبان پر بہت ہلکے ہیں ۱؎، اور میزان میں بہت بھاری ہیں، اور رحمن کو بہت پسند ہیں ( وہ دو کلمے یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» اللہ ( ہر عیب و نقص سے ) پاک ہے اور ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، عظیم ( عظمت والا ) اللہ ( ہر عیب و نقص ) سے پاک ہے ) ۱؎۔
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The closest that a person can be to his Lord, the Mighty and Sublime, is when he is prostrating, so increase in supplication then
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا ( سجدے میں ) تم لوگ بکثرت دعا کیا کرو ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:The nearest a servant come to his Lord is when he is prostrating himself, so make supplication often
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، تو ( سجدے میں ) تم بکثرت دعائیں کیا کرو ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أُمَّ الْعَلاَءِ ـ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمُ اقْتَسَمُوا الْمُهَاجِرِينَ قُرْعَةً. قَالَتْ فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، وَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا، فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ غُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ …
Narrated Kharija bin Zaid bin Thabit:Um Al-`Ala an Ansari woman who had given a pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) told me:, "The Muhajirln (emigrants) were distributed amongst us by drawing lots, and we got `Uthman bin Maz'un in our share. We made him stay with us in our house. Then he suffered from a disease which proved fatal. When he died and was given a bath and was shrouded in his clothes. Allah's Messenger (ﷺ) came, I said, (addressing the dead body), 'O Aba As-Sa'ib! May Allah be Merciful to you! I testify that Allah has honored you.' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'How do you know that Allah has honored him?" I replied, 'Let my father be sacrificed for you, O Allah's …
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں خارجہ بن ثابت نے خبر دی ‘ انہیں ام علاء رضی اللہ عنہا نے جو ایک انصاری عورت تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی خبر دی کہ انہوں نے مہاجرین کے ساتھ سلسلہ اخوت قائم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی تو ہمارا قرعہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے نام نکلا۔ پھر ہم نے انہیں اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ اس کے بعد انہیں ایک بیماری ہو گئی جس میں ان کی وفات ہو گئی۔ جب ان کی وفات ہو گئی تو انہیں غسل دیا گیا اور ان کے کپڑوں کا کفن دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوالسائب ( عثمان رضی اللہ عنہ ) تم پر اللہ کی رحمت ہو، تمہارے متعلق میری گواہی ہے کہ …
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ أُمَّ الْعَلاَءِ، امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ قَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ طَارَ لَهُ سَهْمُهُ فِي السُّكْنَى حِينَ أَقْرَعَتِ الأَنْصَارُ سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ. قَالَتْ أُمُّ الْعَلاَءِ فَسَكَنَ عِنْدَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، فَاشْتَكَى، فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي ثِيَابِهِ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ. فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه …
Narrated Um Al-Ala:That when the Ansar drew lots as to which of the emigrants should dwell with which of the Ansar, the name of `Uthman bin Mazun came out (to be in their lot). Um Al-Ala further said, "Uthman stayed with us, and we nursed him when he got sick, but he died. We shrouded him in his clothes, and Allah's Apostle came to our house and I said, (addressing the dead `Uthman), 'O Abu As-Sa'ib! May Allah be merciful to you. I testify that Allah has blessed you.' The Prophet (ﷺ) said to me, "How do you know that Allah has blessed him?" I replied, 'I do not know O Allah's Messenger (ﷺ)! May my parents be sacrificed for you.' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'As regards `Uthman, by Allah he …
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، ان سے خارجہ بن زید انصاری نے بیان کیا کہ ان کی رشتہ دار ایک عورت ام علاء نامی نے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی تھی، انہیں خبر دی کہ انصار نے مہاجرین کو اپنے یہاں ٹھہرانے کے لیے قرعے ڈالے تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا قیام ہمارے حصے میں آیا۔ ام علاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے گھر ٹھہرے اور کچھ مدت بعد وہ بیمار پڑ گئے۔ ہم نے ان کی تیمارداری کی مگر کچھ دن بعد ان کی وفات ہو گئی۔ جب ہم انہیں کفن دے چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا، ابوالسائب! ( عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ) تم پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، میری گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے یہاں …
PickthallAnd serve thy Lord till the Inevitable cometh unto thee.
Yusuf AliAnd serve thy Lord until there come unto thee the Hour that is Certain.
The agreed readingAnd serve your Lord until the certainty comes to you — which both traditions gloss as death. Service is not a stage that is passed through and left behind; the only term set for it is the end of the life itself.
Urduاور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کے پاس یقین آ جائے، جسے دونوں روایات موت قرار دیتی ہیں۔ عبادت کوئی ایسا مرحلہ نہیں جسے گزار کر پیچھے چھوڑ دیا جائے، اس کی واحد مقررہ حد خود زندگی کا خاتمہ ہی ہے۔
Arabicواعبد ربك واستمر في عبادته حتى يأتيك اليقين، وهو الموت كما يفسره كلا التفسيرين. فالعبادة ليست مرحلة تُقطع ثم تُترك خلف الظهر، وأجلها الوحيد المحدد هو نهاية الحياة نفسها.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, Ṭabāṭabāʾī and Ṭanṭāwī on this āyah
al-Ṭabarī، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أُمَّ الْعَلاَءِ ـ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمُ اقْتَسَمُوا الْمُهَاجِرِينَ قُرْعَةً. قَالَتْ فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، وَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا، فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ غُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ …
Narrated Kharija bin Zaid bin Thabit:Um Al-`Ala an Ansari woman who had given a pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) told me:, "The Muhajirln (emigrants) were distributed amongst us by drawing lots, and we got `Uthman bin Maz'un in our share. We made him stay with us in our house. Then he suffered from a disease which proved fatal. When he died and was given a bath and was shrouded in his clothes. Allah's Messenger (ﷺ) came, I said, (addressing the dead body), 'O Aba As-Sa'ib! May Allah be Merciful to you! I testify that Allah has honored you.' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'How do you know that Allah has honored him?" I replied, 'Let my father be sacrificed for you, O Allah's …
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں خارجہ بن ثابت نے خبر دی ‘ انہیں ام علاء رضی اللہ عنہا نے جو ایک انصاری عورت تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی خبر دی کہ انہوں نے مہاجرین کے ساتھ سلسلہ اخوت قائم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی تو ہمارا قرعہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے نام نکلا۔ پھر ہم نے انہیں اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ اس کے بعد انہیں ایک بیماری ہو گئی جس میں ان کی وفات ہو گئی۔ جب ان کی وفات ہو گئی تو انہیں غسل دیا گیا اور ان کے کپڑوں کا کفن دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوالسائب ( عثمان رضی اللہ عنہ ) تم پر اللہ کی رحمت ہو، تمہارے متعلق میری گواہی ہے کہ …
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah, Blessed is He and Most High, said: ‘O son of Adam! Verily as long as you called upon Me and hoped in Me, I forgave you, despite whatever may have occurred from you, and I did not mind. O son of Adam! Were your sins to reach the clouds of the sky, then you sought forgiveness from Me, I would forgive you, and I would not mind. So son of Adam! If you came to me with sins nearly as great as the earth, and then you met Me not associating anything with Me, I would come to you with forgiveness nearly as great as it.’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے ( مغفرت طلب کرنے کے لیے ) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا ( اور تجھے بخش دوں گا ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: …
It was narrated from 'Imran bin Husain that the Messenger of Allah said:"There is no 'bringing', no 'avoidance' and no Shighar in Islam, and whoever robs, he is not one of us
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اسلام میں نہ «جلب» ہے نہ «جنب» ہے اور نہ ہی «شغار» ہے، اور جس کسی نے کسی طرح کا لوٹ کھسوٹ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۱؎“۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ أُمَّ الْعَلاَءِ، امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ قَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ طَارَ لَهُ سَهْمُهُ فِي السُّكْنَى حِينَ أَقْرَعَتِ الأَنْصَارُ سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ. قَالَتْ أُمُّ الْعَلاَءِ فَسَكَنَ عِنْدَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، فَاشْتَكَى، فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي ثِيَابِهِ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ. فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه …
Narrated Um Al-Ala:That when the Ansar drew lots as to which of the emigrants should dwell with which of the Ansar, the name of `Uthman bin Mazun came out (to be in their lot). Um Al-Ala further said, "Uthman stayed with us, and we nursed him when he got sick, but he died. We shrouded him in his clothes, and Allah's Apostle came to our house and I said, (addressing the dead `Uthman), 'O Abu As-Sa'ib! May Allah be merciful to you. I testify that Allah has blessed you.' The Prophet (ﷺ) said to me, "How do you know that Allah has blessed him?" I replied, 'I do not know O Allah's Messenger (ﷺ)! May my parents be sacrificed for you.' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'As regards `Uthman, by Allah he …
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، ان سے خارجہ بن زید انصاری نے بیان کیا کہ ان کی رشتہ دار ایک عورت ام علاء نامی نے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی تھی، انہیں خبر دی کہ انصار نے مہاجرین کو اپنے یہاں ٹھہرانے کے لیے قرعے ڈالے تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا قیام ہمارے حصے میں آیا۔ ام علاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے گھر ٹھہرے اور کچھ مدت بعد وہ بیمار پڑ گئے۔ ہم نے ان کی تیمارداری کی مگر کچھ دن بعد ان کی وفات ہو گئی۔ جب ہم انہیں کفن دے چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا، ابوالسائب! ( عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ) تم پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، میری گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے یہاں …