The agreed readingAlif Lam Mim. The letters are recited as letters, and their certain meaning is left with God.
Urduالم، یہ وہ مقطع حروف ہیں جن سے قرآن کی بعض سورتوں کا آغاز ہوتا ہے، اور اکثر مفسرین کا اتفاق ہے کہ ان حروف کو انہی کے ناموں سے پڑھا جاتا ہے یعنی الف، لام، میم، اور ان کا حقیقی اور یقینی مطلب اللہ ہی کے علم میں چھوڑا جاتا ہے۔
Arabicالم، هذه حروف مقطعة تفتتح بها بعض سور القرآن، وقد اتفق جمهور المفسرين على أن هذه الحروف تقرأ بأسمائها كما هي، ألف لام ميم، ويرد علم المراد الحقيقي منها إلى الله وحده دون قطع برأي معين فيها.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 6 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة7 reports cited here — 6 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Narrated Khabbab bin Al-Art:We complained to Allah's Messenger (ﷺ) (about our state) while he was leaning against his sheet cloak in the shade of the Ka`ba. We said, "Will you ask Allah to help us? Will you invoke Allah for us?" He said, "Among those who were before you a (believer) used to be seized and, a pit used to be dug for him and then he used to be placed in it. Then a saw used to be brought and put on his head which would be split into two halves. His flesh might be combed with iron combs and removed from his bones, yet, all that did not cause him to revert from his religion. By Allah! This religion (Islam) will be completed (and triumph) till a rider (traveler) goes from San`a' …
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن الارت رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال زار بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا اور گڑھا کھود کر اس میں انہیں ڈال دیا جاتا پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے ان کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دئیے جاتے لیکن یہ آزمائشیں بھی …
Khabbab said “We came to the Apostle of Allaah(ﷺ) while he was reclining on an outer garment in the shade of the Ka’bah. Complaining to him we said “Do you not ask Allaah for help for us? And do you not pray to Allaah for us? He sat aright turning red in his face and said “A man before you (i.e., in ancient times) was caught and a pit was dug for him in the earth and then a saw was brought placed on his head and it was broken into two pieces but that did not turn him away from his religion. They were combed in iron combs in flesh and sinews above the bones. Even that did not turn them away from their religion. I swear by Allaah, Allaah will accomplish this affair until a rider will travel …
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے ( کافروں کے غلبہ کی ) شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور فرمایا: تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے ہڈی کے گوشت اور پٹھوں کو نوچا جاتا تھا لیکن یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، اللہ کی قسم! اللہ اس دین کو پورا کر …
Mus'ab bin Sa'd narrated from his father that a man said:"O Messenger of Allah(s.a.w)! Which of the people is tried most severely?" He said: "The Prophets, then those nearest to them, then those nearest to them. A man is tried according to his religion; if he is firm in his religion, then his trials are more severe, and if he is frail in his religion, then he is tried according to the strength of his religion. The servant shall continue to be tried until he is left walking upon the earth without any sins
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے زیادہ مصیبت کس پر آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”انبیاء و رسل پر، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر بندہ اپنے دین میں سخت ہے تو اس کی مصیبت بھی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں نرم ہوتا ہے تو اس کے دین کے مطابق مصیبت بھی ہوتی ہے، پھر مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں ابوہریرہ اور حذیفہ بن یمان کی بہن فاطمہ رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مصیبتیں کس پر زیادہ آتی ہیں؟ تو آپ …
It was narrated from Mus’ab bin Sa’d that his father, Sa’d bin Abu Waqqas, said:“I said: ‘O Messenger of Allah, which people are most severely tested?’ He said: ‘The Prophets, then the next best and the next best. A person is tested according to his religious commitment. If he is steadfast in his religious commitment, he will be tested more severely, and if he is frail in his religious commitment, his test will be according to his commitment. Trials will continue to afflict a person until they leave him walking on the earth with no sin on him.’”
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ مصیبت اور آزمائش کا شکار کون ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت اور پختہ ہے تو آزمائش بھی سخت ہو گی، اور اگر دین میں نرم اور ڈھیلا ہے تو مصیبت بھی اسی انداز سے نرم ہو گی، مصیبتوں سے بندے کے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ روے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔
Abu Sa’eed Al-Khudri said:“I entered upon the Prophet (ﷺ) when he was suffering from a fever, I placed my hand on him and felt heat with my hand from above the blanket. I said: ‘O Messenger of Allah, how hard it is for you!’ He said: ‘We (Prophets) are like that. The trial is multiplied for us and so is the reward.’ I said: ‘O Messenger of Allah, which people are most severely tested?’ He said: ‘The Prophets.’ I said: ‘O Messenger of Allah, then who?’ He said: ‘Then the righteous, some of whom were tested with poverty until they could not find anything except a cloak to put around themselves. One of them will rejoice at calamity as one of you would rejoice at ease.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو بخار آ رہا تھا، میں نے اپنا ہاتھ آپ پر رکھا تو آپ کے بخار کی گرمی مجھے اپنے ہاتھوں میں لحاف کے اوپر سے محسوس ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بہت ہی سخت بخار ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا یہی حال ہے ہم لوگوں پر مصیبت بھی دگنی ( سخت ) آتی ہے، اور ثواب بھی دگنا ملتا ہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن لوگوں پر زیادہ سخت مصیبت آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء پر ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کن پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر نیک لوگوں پر، بعض نیک لوگ ایسی تنگ دستی میں مبتلا کر دئیے جاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک چوغہ کے سوا جسے وہ اپنے اوپر …
Narrated Ibn Abu Mulaika:Ibn `Abbas recited: "(Respite will be granted) until when the Apostles gave up hope (of their people) and thought that they were denied (by their people). There came to them Our Help ...." (12.110) reading Kudhibu without doubling the sound 'dh', and that was what he understood of the Verse. Then he went on reciting: "..even the Apostle and those who believed along with him said: When (will come) Allah's Help? Yes, verily, Allah's Help is near." (2.214) Then I met `Urwa bin Az-Zubair and I mentioned that to him. He said, "Aisha said, 'Allah forbid! By Allah, Allah never promised His Apostle anything but he knew that it would certainly happen before he died. But …
ہمیں ابراہیم بن موسیٰ نے حدیث سنائی، ہمیں ہشام نے خبر دی، ابن جریج سے، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حتیٰ جب رسول ناامید ہو گئے اور انہوں نے گمان کیا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے (ہلکے انداز میں) - اسے یہاں رکتے تھے، اور انہوں نے تلاوت کی: حتیٰ جب رسول اور جو ایمان والے اس کے ساتھ ہیں، وہ کہیں: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سنو! بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔ پھر میں عروہ بن زبیر سے ملا اور میں نے انہیں یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا: عائشہ نے کہا: اللہ کی پناہ! اللہ کی قسم، اللہ نے اپنے رسول سے جو کوئی بھی وعدہ دیا، رسول اسے جانتے تھے کہ وہ ان کی موت سے پہلے پورا ہوگا۔ لیکن رسولوں کو بلا میں ڈالا جاتا رہا یہاں تک کہ وہ ڈر گئے کہ جو لوگ ان کے ساتھ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
11 - وحدثنا أحمد بن محمد بن سعيد بن عقدة قال: حدثنا أحمد بن يوسف بن يعقوب الجعفي قال: حدثنا إسماعيل بن مهران، قال: حدثنا الحسن بن علي بن أبي حمزة، عن الحكم بن أيمن، عن ضريس الكناسي، عن أبي خالد الكابلي، قال: قال علي بن الحسين: لَوَددتُ إني تركت فكلّمت الناس ثلاثاً، ثم قضى الله فيَّ ما أحبّ، ولكن عزمةً من الله أن نصبر. ثم تلا هذه الآية وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ ثم تلا أيضا قولَه تعالى لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
(11) Ahmad bin Muhammad bin Sa’eed bin Oqda narrated from Ahmad bin Yousuf bin Ya’qoob al-Ju’fi from Issma’eel bin Mihran from al-Hasan bin Ali bin Abu Hamza from al-Hakam bin Ayman from Dhurays al-Kinasi from Abu Khalid al-Kabuli that Ali bin al-Husayn as-Sajjad (as) had said: “I wish I was permitted to talk to people three times (about three things) and then Allah might do to me whatever He liked. But it is the will of Allah that we are to be patient and to wait.” Then he recited this Qur’anic verse: “And most certainly you will come to know about it after a time” and then he recited, “And you shall certainly hear from those who have been given the Book before you and from those who are …
11 - احمد بن محمد بن سعید بن عقدہ نے حدثنا کے ساتھ بیان کیا۔ انہوں نے کہا: احمد بن یوسف بن یعقوب الجعفی نے ہمیں حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: اسماعیل بن مہران نے ہمیں حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: حسن بن علی بن ابی حمزہ نے حدیث بیان کی۔ انہوں نے حکم بن ایمن سے روایت کی۔ انہوں نے ضریس الکنانی سے روایت کی۔ انہوں نے ابوخالد الکابلی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: علی بن الحسین نے فرمایا: میں نے چاہا کہ میں رہ سکتا اور لوگوں سے تین بار بات کر سکتا، پھر بعد میں اللہ تعالیٰ مجھ سے جو کچھ چاہتے وہ کرتے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا عزم ہے کہ ہم صبر کریں۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: اور
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallDo men imagine that they will be left (at ease) because they say, We believe, and will not be tested with affliction?
Yusuf AliDo men think that they will be left alone on saying, "We believe", and that they will not be tested?
The agreed readingDo people think they will be left alone because they say we believe, without being put to trial? The trial is what brings out whether the word was true, and the commentaries take it as a testing in a person's own self and in their wealth.
Urduکیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ صرف ہم ایمان لائے کہنے سے بغیر کسی آزمائش کے چھوڑ دیے جائیں گے؟ حالانکہ آزمائش ہی وہ چیز ہے جو اس دعوے کے سچ یا جھوٹ ہونے کو ظاہر کرتی ہے، اور مفسرین نے اس آزمائش کی تفسیر انسان کی اپنی جان و بدن اور اس کے مال و اہل میں آزمائش سے کی ہے۔
Arabicأيظن الناس أنهم يتركون بلا اختبار لمجرد قولهم آمنا، وهم لا يمتحنون بأي ابتلاء؟ والابتلاء هو الذي يظهر صدق هذه الكلمة من كذبها، وقد فسر المفسرون هذا الابتلاء بأنه يكون في نفس الإنسان وبدنه وفي ماله وأهله.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 6 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة7 reports cited here — 6 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Narrated Khabbab bin Al-Art:We complained to Allah's Messenger (ﷺ) (about our state) while he was leaning against his sheet cloak in the shade of the Ka`ba. We said, "Will you ask Allah to help us? Will you invoke Allah for us?" He said, "Among those who were before you a (believer) used to be seized and, a pit used to be dug for him and then he used to be placed in it. Then a saw used to be brought and put on his head which would be split into two halves. His flesh might be combed with iron combs and removed from his bones, yet, all that did not cause him to revert from his religion. By Allah! This religion (Islam) will be completed (and triumph) till a rider (traveler) goes from San`a' …
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن الارت رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال زار بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا اور گڑھا کھود کر اس میں انہیں ڈال دیا جاتا پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے ان کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دئیے جاتے لیکن یہ آزمائشیں بھی …
Khabbab said “We came to the Apostle of Allaah(ﷺ) while he was reclining on an outer garment in the shade of the Ka’bah. Complaining to him we said “Do you not ask Allaah for help for us? And do you not pray to Allaah for us? He sat aright turning red in his face and said “A man before you (i.e., in ancient times) was caught and a pit was dug for him in the earth and then a saw was brought placed on his head and it was broken into two pieces but that did not turn him away from his religion. They were combed in iron combs in flesh and sinews above the bones. Even that did not turn them away from their religion. I swear by Allaah, Allaah will accomplish this affair until a rider will travel …
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے ( کافروں کے غلبہ کی ) شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور فرمایا: تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے ہڈی کے گوشت اور پٹھوں کو نوچا جاتا تھا لیکن یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، اللہ کی قسم! اللہ اس دین کو پورا کر …
Mus'ab bin Sa'd narrated from his father that a man said:"O Messenger of Allah(s.a.w)! Which of the people is tried most severely?" He said: "The Prophets, then those nearest to them, then those nearest to them. A man is tried according to his religion; if he is firm in his religion, then his trials are more severe, and if he is frail in his religion, then he is tried according to the strength of his religion. The servant shall continue to be tried until he is left walking upon the earth without any sins
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے زیادہ مصیبت کس پر آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”انبیاء و رسل پر، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر بندہ اپنے دین میں سخت ہے تو اس کی مصیبت بھی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں نرم ہوتا ہے تو اس کے دین کے مطابق مصیبت بھی ہوتی ہے، پھر مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں ابوہریرہ اور حذیفہ بن یمان کی بہن فاطمہ رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مصیبتیں کس پر زیادہ آتی ہیں؟ تو آپ …
It was narrated from Mus’ab bin Sa’d that his father, Sa’d bin Abu Waqqas, said:“I said: ‘O Messenger of Allah, which people are most severely tested?’ He said: ‘The Prophets, then the next best and the next best. A person is tested according to his religious commitment. If he is steadfast in his religious commitment, he will be tested more severely, and if he is frail in his religious commitment, his test will be according to his commitment. Trials will continue to afflict a person until they leave him walking on the earth with no sin on him.’”
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ مصیبت اور آزمائش کا شکار کون ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت اور پختہ ہے تو آزمائش بھی سخت ہو گی، اور اگر دین میں نرم اور ڈھیلا ہے تو مصیبت بھی اسی انداز سے نرم ہو گی، مصیبتوں سے بندے کے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ روے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔
Abu Sa’eed Al-Khudri said:“I entered upon the Prophet (ﷺ) when he was suffering from a fever, I placed my hand on him and felt heat with my hand from above the blanket. I said: ‘O Messenger of Allah, how hard it is for you!’ He said: ‘We (Prophets) are like that. The trial is multiplied for us and so is the reward.’ I said: ‘O Messenger of Allah, which people are most severely tested?’ He said: ‘The Prophets.’ I said: ‘O Messenger of Allah, then who?’ He said: ‘Then the righteous, some of whom were tested with poverty until they could not find anything except a cloak to put around themselves. One of them will rejoice at calamity as one of you would rejoice at ease.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو بخار آ رہا تھا، میں نے اپنا ہاتھ آپ پر رکھا تو آپ کے بخار کی گرمی مجھے اپنے ہاتھوں میں لحاف کے اوپر سے محسوس ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بہت ہی سخت بخار ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا یہی حال ہے ہم لوگوں پر مصیبت بھی دگنی ( سخت ) آتی ہے، اور ثواب بھی دگنا ملتا ہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن لوگوں پر زیادہ سخت مصیبت آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء پر ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کن پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر نیک لوگوں پر، بعض نیک لوگ ایسی تنگ دستی میں مبتلا کر دئیے جاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک چوغہ کے سوا جسے وہ اپنے اوپر …
Narrated Ibn Abu Mulaika:Ibn `Abbas recited: "(Respite will be granted) until when the Apostles gave up hope (of their people) and thought that they were denied (by their people). There came to them Our Help ...." (12.110) reading Kudhibu without doubling the sound 'dh', and that was what he understood of the Verse. Then he went on reciting: "..even the Apostle and those who believed along with him said: When (will come) Allah's Help? Yes, verily, Allah's Help is near." (2.214) Then I met `Urwa bin Az-Zubair and I mentioned that to him. He said, "Aisha said, 'Allah forbid! By Allah, Allah never promised His Apostle anything but he knew that it would certainly happen before he died. But …
ہمیں ابراہیم بن موسیٰ نے حدیث سنائی، ہمیں ہشام نے خبر دی، ابن جریج سے، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حتیٰ جب رسول ناامید ہو گئے اور انہوں نے گمان کیا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے (ہلکے انداز میں) - اسے یہاں رکتے تھے، اور انہوں نے تلاوت کی: حتیٰ جب رسول اور جو ایمان والے اس کے ساتھ ہیں، وہ کہیں: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سنو! بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔ پھر میں عروہ بن زبیر سے ملا اور میں نے انہیں یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا: عائشہ نے کہا: اللہ کی پناہ! اللہ کی قسم، اللہ نے اپنے رسول سے جو کوئی بھی وعدہ دیا، رسول اسے جانتے تھے کہ وہ ان کی موت سے پہلے پورا ہوگا۔ لیکن رسولوں کو بلا میں ڈالا جاتا رہا یہاں تک کہ وہ ڈر گئے کہ جو لوگ ان کے ساتھ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
11 - وحدثنا أحمد بن محمد بن سعيد بن عقدة قال: حدثنا أحمد بن يوسف بن يعقوب الجعفي قال: حدثنا إسماعيل بن مهران، قال: حدثنا الحسن بن علي بن أبي حمزة، عن الحكم بن أيمن، عن ضريس الكناسي، عن أبي خالد الكابلي، قال: قال علي بن الحسين: لَوَددتُ إني تركت فكلّمت الناس ثلاثاً، ثم قضى الله فيَّ ما أحبّ، ولكن عزمةً من الله أن نصبر. ثم تلا هذه الآية وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ ثم تلا أيضا قولَه تعالى لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
(11) Ahmad bin Muhammad bin Sa’eed bin Oqda narrated from Ahmad bin Yousuf bin Ya’qoob al-Ju’fi from Issma’eel bin Mihran from al-Hasan bin Ali bin Abu Hamza from al-Hakam bin Ayman from Dhurays al-Kinasi from Abu Khalid al-Kabuli that Ali bin al-Husayn as-Sajjad (as) had said: “I wish I was permitted to talk to people three times (about three things) and then Allah might do to me whatever He liked. But it is the will of Allah that we are to be patient and to wait.” Then he recited this Qur’anic verse: “And most certainly you will come to know about it after a time” and then he recited, “And you shall certainly hear from those who have been given the Book before you and from those who are …
11 - احمد بن محمد بن سعید بن عقدہ نے حدثنا کے ساتھ بیان کیا۔ انہوں نے کہا: احمد بن یوسف بن یعقوب الجعفی نے ہمیں حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: اسماعیل بن مہران نے ہمیں حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: حسن بن علی بن ابی حمزہ نے حدیث بیان کی۔ انہوں نے حکم بن ایمن سے روایت کی۔ انہوں نے ضریس الکنانی سے روایت کی۔ انہوں نے ابوخالد الکابلی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: علی بن الحسین نے فرمایا: میں نے چاہا کہ میں رہ سکتا اور لوگوں سے تین بار بات کر سکتا، پھر بعد میں اللہ تعالیٰ مجھ سے جو کچھ چاہتے وہ کرتے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا عزم ہے کہ ہم صبر کریں۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: اور
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallLo! We tested those who were before you. Thus Allah knoweth those who are sincere, and knoweth those who feign.
Yusuf AliWe did test those before them, and Allah will certainly know those who are true from those who are false.
The agreed readingAnd God tested those who came before them. This is an old way, running through every community, and no one should look to be spared it. God will surely know those who spoke the truth in their belief, knowing it as a thing seen, and will surely know the liars.
Urduاور ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا جو ان مومنوں سے پہلے تھے، اور یہ ایک پرانی سنت ہے جو ہر امت میں چلتی ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ اس سے مستثنی ہے۔ اور اللہ ضرور مشاہدے کے علم سے جان لے گا کہ کون اپنے ایمان میں سچا ہے، اور وہ جھوٹوں کو بھی جان لے گا جنہوں نے زبان سے ایمان کا دعوی کیا مگر دل سے نہیں لائے۔
Arabicولقد ابتلينا الأمم الذين كانوا من قبل هؤلاء المؤمنين بأنواع الابتلاءات، وهذه سنة قديمة تجري في كل أمة، فلا يظن أحد أنه مستثنى منها. وسيعلم الله علم مشاهدة الذين صدقوا في إيمانهم حقا، وسيعلم أيضا الكاذبين الذين ادعوا الإيمان بألسنتهم دون قلوبهم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 6 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة7 reports cited here — 6 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Narrated Khabbab bin Al-Art:We complained to Allah's Messenger (ﷺ) (about our state) while he was leaning against his sheet cloak in the shade of the Ka`ba. We said, "Will you ask Allah to help us? Will you invoke Allah for us?" He said, "Among those who were before you a (believer) used to be seized and, a pit used to be dug for him and then he used to be placed in it. Then a saw used to be brought and put on his head which would be split into two halves. His flesh might be combed with iron combs and removed from his bones, yet, all that did not cause him to revert from his religion. By Allah! This religion (Islam) will be completed (and triumph) till a rider (traveler) goes from San`a' …
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن الارت رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال زار بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا اور گڑھا کھود کر اس میں انہیں ڈال دیا جاتا پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے ان کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دئیے جاتے لیکن یہ آزمائشیں بھی …
Narrated Khabbab bin Al-Arat:We complained to Allah's Messenger (ﷺ) (of the persecution inflicted on us by the infidels) while he was sitting in the shade of the Ka`ba, leaning over his Burd (i.e. covering sheet). We said to him, "Would you seek help for us? Would you pray to Allah for us?" He said, "Among the nations before you a (believing) man would be put in a ditch that was dug for him, and a saw would be put over his head and he would be cut into two pieces; yet that (torture) would not make him give up his religion. His body would be combed with iron combs that would remove his flesh from the bones and nerves, yet that would not make him abandon his religion. By Allah, this religion …
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ اس وقت اپنی ایک چادر پر ٹیک دیئے کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے مدد کیوں نہیں طلب فرماتے۔ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیوں نہیں مانگتے ( ہم کافروں کی ایذا دہی سے تنگ آ چکے ہیں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( ایمان لانے کی سزا میں ) تم سے پہلی امتوں کے لوگوں کے لیے گڑھا کھودا جاتا اور انہیں اس میں ڈال دیا جاتا۔ پھر ان کے سر پر آرا رکھ کر ان کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتے۔ لوہے کے کنگھے ان کے …
Khabbab said “We came to the Apostle of Allaah(ﷺ) while he was reclining on an outer garment in the shade of the Ka’bah. Complaining to him we said “Do you not ask Allaah for help for us? And do you not pray to Allaah for us? He sat aright turning red in his face and said “A man before you (i.e., in ancient times) was caught and a pit was dug for him in the earth and then a saw was brought placed on his head and it was broken into two pieces but that did not turn him away from his religion. They were combed in iron combs in flesh and sinews above the bones. Even that did not turn them away from their religion. I swear by Allaah, Allaah will accomplish this affair until a rider will travel …
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے ( کافروں کے غلبہ کی ) شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور فرمایا: تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے ہڈی کے گوشت اور پٹھوں کو نوچا جاتا تھا لیکن یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، اللہ کی قسم! اللہ اس دین کو پورا کر …
It was narrated from Mus’ab bin Sa’d that his father, Sa’d bin Abu Waqqas, said:“I said: ‘O Messenger of Allah, which people are most severely tested?’ He said: ‘The Prophets, then the next best and the next best. A person is tested according to his religious commitment. If he is steadfast in his religious commitment, he will be tested more severely, and if he is frail in his religious commitment, his test will be according to his commitment. Trials will continue to afflict a person until they leave him walking on the earth with no sin on him.’”
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ مصیبت اور آزمائش کا شکار کون ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت اور پختہ ہے تو آزمائش بھی سخت ہو گی، اور اگر دین میں نرم اور ڈھیلا ہے تو مصیبت بھی اسی انداز سے نرم ہو گی، مصیبتوں سے بندے کے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ روے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔
Abu Sa’eed Al-Khudri said:“I entered upon the Prophet (ﷺ) when he was suffering from a fever, I placed my hand on him and felt heat with my hand from above the blanket. I said: ‘O Messenger of Allah, how hard it is for you!’ He said: ‘We (Prophets) are like that. The trial is multiplied for us and so is the reward.’ I said: ‘O Messenger of Allah, which people are most severely tested?’ He said: ‘The Prophets.’ I said: ‘O Messenger of Allah, then who?’ He said: ‘Then the righteous, some of whom were tested with poverty until they could not find anything except a cloak to put around themselves. One of them will rejoice at calamity as one of you would rejoice at ease.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو بخار آ رہا تھا، میں نے اپنا ہاتھ آپ پر رکھا تو آپ کے بخار کی گرمی مجھے اپنے ہاتھوں میں لحاف کے اوپر سے محسوس ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بہت ہی سخت بخار ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا یہی حال ہے ہم لوگوں پر مصیبت بھی دگنی ( سخت ) آتی ہے، اور ثواب بھی دگنا ملتا ہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن لوگوں پر زیادہ سخت مصیبت آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء پر ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کن پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر نیک لوگوں پر، بعض نیک لوگ ایسی تنگ دستی میں مبتلا کر دئیے جاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک چوغہ کے سوا جسے وہ اپنے اوپر …
Narrated Ibn Abu Mulaika:Ibn `Abbas recited: "(Respite will be granted) until when the Apostles gave up hope (of their people) and thought that they were denied (by their people). There came to them Our Help ...." (12.110) reading Kudhibu without doubling the sound 'dh', and that was what he understood of the Verse. Then he went on reciting: "..even the Apostle and those who believed along with him said: When (will come) Allah's Help? Yes, verily, Allah's Help is near." (2.214) Then I met `Urwa bin Az-Zubair and I mentioned that to him. He said, "Aisha said, 'Allah forbid! By Allah, Allah never promised His Apostle anything but he knew that it would certainly happen before he died. But …
ہمیں ابراہیم بن موسیٰ نے حدیث سنائی، ہمیں ہشام نے خبر دی، ابن جریج سے، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حتیٰ جب رسول ناامید ہو گئے اور انہوں نے گمان کیا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے (ہلکے انداز میں) - اسے یہاں رکتے تھے، اور انہوں نے تلاوت کی: حتیٰ جب رسول اور جو ایمان والے اس کے ساتھ ہیں، وہ کہیں: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سنو! بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔ پھر میں عروہ بن زبیر سے ملا اور میں نے انہیں یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا: عائشہ نے کہا: اللہ کی پناہ! اللہ کی قسم، اللہ نے اپنے رسول سے جو کوئی بھی وعدہ دیا، رسول اسے جانتے تھے کہ وہ ان کی موت سے پہلے پورا ہوگا۔ لیکن رسولوں کو بلا میں ڈالا جاتا رہا یہاں تک کہ وہ ڈر گئے کہ جو لوگ ان کے ساتھ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
11 - وحدثنا أحمد بن محمد بن سعيد بن عقدة قال: حدثنا أحمد بن يوسف بن يعقوب الجعفي قال: حدثنا إسماعيل بن مهران، قال: حدثنا الحسن بن علي بن أبي حمزة، عن الحكم بن أيمن، عن ضريس الكناسي، عن أبي خالد الكابلي، قال: قال علي بن الحسين: لَوَددتُ إني تركت فكلّمت الناس ثلاثاً، ثم قضى الله فيَّ ما أحبّ، ولكن عزمةً من الله أن نصبر. ثم تلا هذه الآية وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ ثم تلا أيضا قولَه تعالى لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
(11) Ahmad bin Muhammad bin Sa’eed bin Oqda narrated from Ahmad bin Yousuf bin Ya’qoob al-Ju’fi from Issma’eel bin Mihran from al-Hasan bin Ali bin Abu Hamza from al-Hakam bin Ayman from Dhurays al-Kinasi from Abu Khalid al-Kabuli that Ali bin al-Husayn as-Sajjad (as) had said: “I wish I was permitted to talk to people three times (about three things) and then Allah might do to me whatever He liked. But it is the will of Allah that we are to be patient and to wait.” Then he recited this Qur’anic verse: “And most certainly you will come to know about it after a time” and then he recited, “And you shall certainly hear from those who have been given the Book before you and from those who are …
11 - احمد بن محمد بن سعید بن عقدہ نے حدثنا کے ساتھ بیان کیا۔ انہوں نے کہا: احمد بن یوسف بن یعقوب الجعفی نے ہمیں حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: اسماعیل بن مہران نے ہمیں حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: حسن بن علی بن ابی حمزہ نے حدیث بیان کی۔ انہوں نے حکم بن ایمن سے روایت کی۔ انہوں نے ضریس الکنانی سے روایت کی۔ انہوں نے ابوخالد الکابلی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: علی بن الحسین نے فرمایا: میں نے چاہا کہ میں رہ سکتا اور لوگوں سے تین بار بات کر سکتا، پھر بعد میں اللہ تعالیٰ مجھ سے جو کچھ چاہتے وہ کرتے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا عزم ہے کہ ہم صبر کریں۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: اور
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallOr do those who do ill-deeds imagine that they can outstrip Us? Evil (for them) is that which they decide.
Yusuf AliDo those who practise evil think that they will get the better of Us? Evil is their judgment!
The agreed readingOr do those who do evil deeds think they will get past God, escaping so that nothing comes back on them? What they have judged is a bad judgement.
Urduیا کیا یہ لوگ جو برے کام اور گناہ کرتے ہیں یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہم سے آگے نکل جائیں گے اور ہماری قدرت اور حساب سے بچ نکلیں گے، اور ان کے اعمال کی سزا انہیں نہیں پہنچے گی؟ کتنا برا فیصلہ ہے جو انہوں نے اپنے لیے بغیر سوچے سمجھے کر لیا ہے۔
Arabicأم يظن هؤلاء الذين يعملون السيئات والمعاصي أنهم سيسبقوننا ويفلتون من قدرتنا وحسابنا، فلا يلحقهم جزاء أعمالهم؟ ساء هذا الحكم الذي حكموا به لأنفسهم من غير علم ولا تفكر.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 2 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة4 reports cited here — 2 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Narrated Ibn Abu Mulaika:Ibn `Abbas recited: "(Respite will be granted) until when the Apostles gave up hope (of their people) and thought that they were denied (by their people). There came to them Our Help ...." (12.110) reading Kudhibu without doubling the sound 'dh', and that was what he understood of the Verse. Then he went on reciting: "..even the Apostle and those who believed along with him said: When (will come) Allah's Help? Yes, verily, Allah's Help is near." (2.214) Then I met `Urwa bin Az-Zubair and I mentioned that to him. He said, "Aisha said, 'Allah forbid! By Allah, Allah never promised His Apostle anything but he knew that it would certainly happen before he died. But …
ہمیں ابراہیم بن موسیٰ نے حدیث سنائی، ہمیں ہشام نے خبر دی، ابن جریج سے، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حتیٰ جب رسول ناامید ہو گئے اور انہوں نے گمان کیا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے (ہلکے انداز میں) - اسے یہاں رکتے تھے، اور انہوں نے تلاوت کی: حتیٰ جب رسول اور جو ایمان والے اس کے ساتھ ہیں، وہ کہیں: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سنو! بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔ پھر میں عروہ بن زبیر سے ملا اور میں نے انہیں یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا: عائشہ نے کہا: اللہ کی پناہ! اللہ کی قسم، اللہ نے اپنے رسول سے جو کوئی بھی وعدہ دیا، رسول اسے جانتے تھے کہ وہ ان کی موت سے پہلے پورا ہوگا۔ لیکن رسولوں کو بلا میں ڈالا جاتا رہا یہاں تک کہ وہ ڈر گئے کہ جو لوگ ان کے ساتھ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
If the foundation on which the House is borne and the stones with which it has been raised had been of green emerald and red rubies, and there had been brightness and effulgence, then this would have lessened the action of doubts in the breasts, would have dismissed the effect of Satan’s activity from the hearts, and would have stopped the surging of misgivings in people. But Allāh tries His creatures by means of different troubles, wants them to render worship through hardships and involves them in distresses, all in order to extract out vanity from their hearts, to settle down humbleness in their spirits and to make all this an open door for His favours and an easy means for His …
اور اگر الأساس جو اس پر محمول ہے، اور الأحجار جو اس سے مرفوع ہیں، زمردہ خضراء اور ياقوتہ حمراء اور نور و وضياء کے درمیان ہوں، تو یہ مضارعہ الشك الصدور کو خفف کر دیتا، اور مجاهدہ إبليس کو القلوب سے واضع کر دیتا، اور معتلج الريب کو الناس سے نفی کر دیتا۔ لیکن اللہ سبحانہ عباده کو أنواع الشدائد سے ابتلا کرتا ہے، اور انہیں ألوان المجاهد سے تعبد کرتا ہے، اور انہیں ضروب المكاره سے ابتلا کرتا ہے، إخراج التكبر کو ان کے قلوب سے، اور إسكان التذلل کو ان کے نفوس میں، اور لِيجعل یہ أبواب فتح الفضل کو اور أسباب ذلل العفو کو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Khabbab said “We came to the Apostle of Allaah(ﷺ) while he was reclining on an outer garment in the shade of the Ka’bah. Complaining to him we said “Do you not ask Allaah for help for us? And do you not pray to Allaah for us? He sat aright turning red in his face and said “A man before you (i.e., in ancient times) was caught and a pit was dug for him in the earth and then a saw was brought placed on his head and it was broken into two pieces but that did not turn him away from his religion. They were combed in iron combs in flesh and sinews above the bones. Even that did not turn them away from their religion. I swear by Allaah, Allaah will accomplish this affair until a rider will travel …
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے ( کافروں کے غلبہ کی ) شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور فرمایا: تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے ہڈی کے گوشت اور پٹھوں کو نوچا جاتا تھا لیکن یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، اللہ کی قسم! اللہ اس دین کو پورا کر …
Then He commanded Adam and his sons to turn their attention towards it. In this way it became the centre of their journey in seeking pastures and the rendezvous for meeting of their carrier-beasts, so that human spirits hasten towards it from distant waterless deserts, deep and low lying valleys and scattered islands in the seas. They shake their shoulders in humbleness, recite the slogan of having reached His audience, march with swift feet, and have dishevelled hair and dusted faces. They throw their pieces of cloth on their backs, they have marred the beauty of their faces by leaving the hair uncut as a matter of great test, severe tribulation, open trial, and extreme refining. Allāh has …
پھر الله نے آدم اور اس کی اولاد کو حکم دیا کہ وہ اعطافہم کو اس کی طرف تھنیں۔ تو یہ مثابہ بن گیا منتجع اسفارہم کے لیے، اور غایہ ملقی رحالہم کے لیے۔ تھمار الافئدہ اس کی طرف ہوتے ہیں مفاوز قفار سحيقہ سے، ومهاوی فجاج عميقہ سے، اور جزائر بحار منقطعہ سے۔ یہاں تک کہ وہ مناكبہم کو ہلاتے ہیں ذل کے ساتھ الله کے لیے تهليل کرتے ہوئے اس کے گرد، اور رملون اقدامہم شعثا غبرا اس کے لیے۔ نبذوا السرابيل وراء ظہورہم، اور شوہوا بإعفاء الشعور محاسن خلقہم۔ ابتلاء عظيم، امتحان شديد، اختبار مبين، تمحيص بليغ۔ الله تعالیٰ نے اسے سبب بنایا رحمتہ کے لیے، اور وصلہ جنتہ کی طرف۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWhoso looketh forward to the meeting with Allah (let him know that) Allah's reckoning is surely nigh, and He is the Hearer, the Knower.
Yusuf AliFor those whose hopes are in the meeting with Allah (in the Hereafter, let them strive); for the term (appointed) by Allah is surely coming and He hears and knows (all things).
The agreed readingWhoever hopes for the meeting with God: the term God has set is coming, so let him make ready for it. He is the Hearing, who hears what His servants say, and the Knowing, who knows what they do.
Urduجو شخص اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہو تو اسے جان لینا چاہیے کہ اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے، پس اسے چاہیے کہ ایمان اور نیک عمل سے اس کی تیاری کرے۔ اور وہ ہر بات سننے والا ہے جو اس کے بندے کہتے ہیں، اور ہر عمل کو جاننے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
Arabicمن كان يرجو ويأمل لقاء الله يوم القيامة فليعلم أن الوقت الذي حدده الله لهذا اللقاء آت لا محالة، فليستعد له بالإيمان والعمل الصالح. وهو سبحانه السميع الذي يسمع أقوال عباده، العليم الذي يعلم أفعالهم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Abu Hurairah said:The Messenger of Allah (ﷺ) recited the supplication in the night prayer for a month. He said (in his supplication): O Allah, rescue al-Walid b. al-Walid, rescue Salamah b. Hisham, rescue the weak believers; O Allah, trample severely on Mudar; O Allah, cause them a famine like that of Joseph. Abu Hurairah said: One morning the Messenger of Allah (ﷺ) id not make supplication for them. So I told him about it. He said: You dod not see that they have come (back)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں دعا فرماتے:«اللهم نج الوليد بن الوليد اللهم نج سلمة بن هشام اللهم نج المستضعفين من المؤمنين اللهم اشدد وطأتك على مضر اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور مومنوں کو نجات دے، اے اللہ! مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف ( علیہ السلام ) کے زمانے میں پڑا تھا ) ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی، تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ ( اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ …
Abu Salama reported it on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) recited Qunut after ruku' in prayer for one mouth at the time of reciting (these words):" Allah listened to him who praised Him," and he said in Qunut:" 0 Allah! rescue al-Walid b. al-Walid; O Allah! rescue Salama b. Hisham; O Allah! rescue 'Ayyash b. Abu Rabi'a; O Allah! rescue the helpless amongst the Muslims; O Allah! trample Mudar severely; O Allah! cause them a famine like that (which was caused at the time) of Joseph." Abu Huraira (further) said: I saw that the Messenger of Allah (ﷺ) afterwards abandoned this supplication. I, therefore said: I see the Messenger of Allah (ﷺ) abandoning this blessing …
ہمیں اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوت ( عاجزی سے دعا ) کی ، جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہہ لیتے ( تو ) اپنی قنوت میں یہ ( الفاظ ) کہتے : اے اللہ! ولید بن ولیدکو نجات دے ، اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ، اے اللہ کمزور سمجھے جانے والے ( دوسرے ) مومنوں کو نجات عطا کر ، اے اللہ ! ان پر اپنے روندنے کو سخت تر کر اور اسے ان پر ، یوسف علیہ السلام کے ( زمانے کے ) قحط کے مانند کر دے ۔ ’’ مسجدوں اور نماز کی جگہوں کے احکام ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے یہ دعا چھوڑ دی ، میں نے ( ساتھیوں سے ) کہا : میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ …
Narrated Abu Huraira:When the Prophet (ﷺ) said, "Sami' al-lahu liman hamidah (Allah heard him who sent his praises to Him)" in the last rak`a of the `Isha' prayer, he used to invoke Allah, saying, "O Allah! Save `Aiyash bin Abi Rabi`a; O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid; O Allah! Save the weak people among the believers; O Allah! Be hard on the Tribe of Mudar; O Allah! Inflict years of drought upon them like the years (of drought) of the Prophet (ﷺ) Joseph
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی آخر رکعت میں ( رکوع سے اٹھتے ہوئے ) «سمع الله لمن حمده» کہتے تھے تو دعائے قنوت پڑھتے تھے «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور ناتواں مومنوں کو نجات دے، اے اللہ! اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ کو سخت کر دے، اے اللہ! وہاں ایسا قحط پیدا کر …
PickthallAnd whosoever striveth, striveth only for himself, for lo! Allah is altogether Independent of (His) creatures.
Yusuf AliAnd if any strive (with might and main), they do so for their own souls: for Allah is free of all needs from all creation.
The agreed readingAnd whoever strives, whether against an enemy or against himself, strives for his own sake: the good of that striving comes back to him and not to God. God has no need of the worlds, and no need of their obedience.
Urduاور جو کوئی اپنے نفس یا اپنے دشمنوں کے خلاف اللہ کی راہ میں جہاد کرے تو اس جہاد کا ثمرہ اور فائدہ اسی کو پہنچتا ہے نہ کہ اللہ کو۔ بیشک اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے، اسے ان کی اطاعت یا جہاد کی کوئی حاجت نہیں۔
Arabicومن جاهد نفسه أو جاهد أعداءه في سبيل الله، فإنما ثمرة هذا الجهاد وفائدته تعود على نفسه هو، لا تصل إلى الله شيئا. إن الله لغني عن جميع خلقه ولا يحتاج إلى طاعتهم أو جهادهم.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب الشيعة5 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام شیعہ کتب سے
3. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father and A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad all from Ja’far ibn Muhammad from ibn al-Qaddah from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, is very protective of certain people in His creatures. He feeds them in bounties, grants them life in peace and security, will admit them in paradise with favor and mercy and He causes the misfortunes and afflictions to pass them by without harming them at all.”
روایت میں ہے کہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو احکام دیے ہیں ان پر عمل کریں اور جو منع کیا ہے اس سے بچیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
11. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father and a number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad all from ibn Mahbub from abu Hamza from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, sent revelation to David, ‘Meet My servant Daniel and say to him, ‘You have disobeyed Me and I forgave you, you disobeyed Me, I forgave you, you disobeyed Me and I forgave you. If you will disobey Me the forth time I will not forgive you.’ David went to meet Daniel and said, ‘O Daniel, I am the Messenger of Allah and He says to you, “You disobeyed Me and I forgave you, you disobeyed Me and I forgave you, you disobeyed Me and I forgave you. If you will …
علی بن ابراہیم اپنے باپ سے اور ہمارے بعض ساتھی سہل بن زیاد سے روایت کرتے ہیں، دونوں ابن محبوب سے، انہوں نے ابو حمزہ سے، انہوں نے ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کی۔ فرمایا: بیشک اللہ عزوجل نے حضرت داؤد علیہ السلام کو وحی کی کہ میرے بندے دانیال کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ تو نے مجھ سے نافرمانی کی تو میں نے تمہیں معاف کر دیا۔ تو نے دوبارہ نافرمانی کی تو میں نے معاف کر دیا۔ تو نے تیسری بار نافرمانی کی تو میں نے معاف کر دیا۔ لیکن اگر تو چوتھی بار نافرمانی کرے تو میں معاف نہیں کروں گا۔ تو حضرت داؤد علیہ السلام دانیال کے پاس گئے اور کہا: اے دانیال! میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ تم نے مجھ سے نافرمانی کی تو میں نے معاف کیا۔ دوبارہ نافرمانی کی تو معاف کیا۔ تیسری …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
56 - محمد بن همام قال: حدثنا جعفر بن محمد بن مالك الفزاري الكوفي، قال: حدثني محمد بن أحمد، عن محمد بن سنان، عن يونس بن ظبيان، عن أبي عبد الله قال: إذا كان ليلة الجمعة أهبط الرب تعالى ملكاً إلى السماء الدنيا، فإذا طلع الفجر جلس ذلك الملك على العرش فوق البيت المعمور، ونصب لمحمد وعلي والحسن والحسين منابر من نور، فيصعدون عليها وتجمع لهم الملائكة والنبيون والمؤمنون، وتفتح أبواب السماء، فإذا زالت الشمس قال رسول الله: يا رب ميعادك الذي وعدت به في كتابك. هو هذه الآية وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ …
(56) Muhammad bin Hammam narrated from Ja’far bin Muhammad bin Malik from Muhammad bin Ahmad from Muhammad bin Sinan from Younus bin Dhabyan that Abu Abdullah as-Sadiq (as) had said: “When the night of Friday comes, Allah sends down an angel to the lower heaven. When dawn comes, the angel sits on a throne on the House (the Kaaba) and sets minbars of light for Muhammad, Ali, al-Hasan and al-Husayn (peace be upon them). They ascend the minbars. The angels, the prophets and the believers are invited to gather before them. The gates of the heavens are opened. When the sun declines, the Prophet (S) says: “O my Lord, carry out Your promise that You have promised of in Your Book by this verse, …
محمد بن ہمام کہتے ہیں: جعفر بن محمد بن مالک الفزاری الکوفی نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: محمد بن احمد نے مجھے حدیث سنائی، محمد بن سنان سے، وہ یونس بن ظبیان سے روایت کرتے ہیں، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے، انہوں نے فرمایا: جب جمعہ کی رات ہوتی ہے تو رب تعالیٰ ایک فرشتہ آسمان دنیا میں نازل فرماتا ہے، پھر جب فجر طلوع ہوتی ہے تو وہ فرشتہ بیت المعمور کے اوپر عرش پر بیٹھ جاتا ہے، اور محمد و علی اور حسن و حسین کے لیے نور کے منبر نصب کرتا ہے، پھر وہ ان منبروں پر چڑھتے ہیں، اور ملائکہ اور انبیاء اور مومنین ان کے پاس جمع کر دیے جاتے ہیں، اور آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھلتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں: یا رب! یہ تمہارا وہ وعدہ ہے جو تم نے اپنی کتاب میں دیا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ahmad ibn Muhammad ibn abu Nasr. And a number of our people from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from Ibrahim ibn Muhammad al-Thaqafi from Muhammad ibn Marwan all of them have narrated from Aban ibn ‘Uthman from those whom he has mentioned from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Blessed, the Most High, granted to Muhammad (a.s.) the system of laws of Noah, Abraham, Moses and Jesus, peace be upon them. The laws consisted of belief in monotheism, purity of such belief, the negation of all associates of Allah and the culture, that it is free and clean of idolatry, that it is easy to follow and that it does not …
1۔ علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے احمد بن محمد بن ابونصر سے۔ اور ہمارے اصحاب میں سے ایک جماعت نے احمد بن محمد بن خالد سے روایت کی، انہوں نے ابراہیم بن محمد الثقفی سے، انہوں نے محمد بن مروان سے - یہ تمام لوگ - ابان بن عثمان سے، انہوں نے اس سے جس کا انہوں نے ذکر کیا، وہ ابواعبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کے شریعتیں دیں۔ یعنی توحید، اخلاص، تمام شریکوں کو نفی کرنا اور صاف ستھرا اور آسان دین ہنیفی۔ اس میں نہ تو بھیک مانگنا ہے اور نہ ہی دنیا سے بھاگنا۔ اس میں اللہ نے پاک چیزیں حلال کیں اور نجس چیزیں حرام کیں۔ اور انہ سے ان کے بوجھ اور زنجیریں ہٹا دیں جو ان پر …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن أحمد بن محمّد بن أبي نصر البزنطيّ فقد رويته عن أبي؛ و محمّد بن الحسن- رضي اللّه عنهما- عن سعد بن عبد اللّه؛ و الحميريّ جميعا عن أحمد بن محمّد ابن عيسى، عن أحمد بن محمّد بن أبي نصر البزنطيّ. و رويته عن أبي؛ و محمّد بن عليّ ماجيلويه- رضي اللّه عنهما- عن عليّ بن إبراهيم، عن أبيه، عن أحمد بن محمّد بن أبي نصر البزنطيّ.
Everything in this book that is narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Abi Nasr Al-Bazanti has been transmitted by me from my father and from Muhammad ibn Al-Hasan - may Allah (swt) be pleased with them both - from Sa'd ibn Abdullah and Al-Himyari together, from Ahmad ibn Muhammad ibn 'Isa, from Ahmad ibn Muhammad ibn Abi Nasr Al-Bazanti. I have also narrated it from my father and from Muhammad ibn Ali Majilawayh - may Allah (swt) be pleased with them both - from Ali ibn Ibrahim, from his father, from Ahmad ibn Muhammad ibn Abi Nasr Al-Bazanti.
جو کچھ اس کتاب میں احمد بن محمد بن ابی نصر البزنطی سے روایت ہے، تو میں نے اسے اپنے والد سے اور محمد بن الحسن - اللہ ان سے راضی ہو - سعد بن عبداللہ سے اور الحمیری سے - یہ دونوں - احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، احمد بن محمد بن ابی نصر البزنطی سے روایت کیا ہے۔ اور میں نے اسے اپنے والد سے اور محمد بن علی ماجیلویہ - اللہ ان سے راضی ہو - علی بن ابراہیم سے، ان کے والد سے، احمد بن محمد بن ابی نصر البزنطی سے روایت کیا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd as for those who believe and do good works, We shall remit from them their evil deeds and shall repay them the best that they did.
Yusuf AliThose who believe and work righteous deeds,- from them shall We blot out all evil (that may be) in them, and We shall reward them according to the best of their deeds.
The agreed readingAnd those who believe and do what is right: God will wipe their evil deeds away from them, wiped out by the good they do, and will reward them according to the best of what they did.
Urduاور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، ہم ان کی برائیوں کو ان کی نیکیوں کے سبب مٹا دیں گے، اور انہیں ان کے بہترین اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے۔
Arabicوالذين آمنوا بالله إيمانا حقا وعملوا الأعمال الصالحة الخالصة، سنمحو عنهم حتما سيئاتهم بسبب حسناتهم التي تكفرها وتغطيها، ولنجزينهم حتما أفضل وأحسن الجزاء على أحسن ما كانوا يعملونه من الأعمال الصالحة.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 3 من كتب أهل السنة، 4 من كتب الشيعة7 reports cited here — 3 Sunnī, 4 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 4 شیعہ کتب سے
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, says, ‘One who is occupied in speaking of Me instead of asking Me for help, I will grant him better than what 1 am to grant to one who asks Me for help.’”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی، وہ ابن ابی عمیر سے، وہ ہشام بن سالم سے، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل فرماتے ہیں: جو شخص میری یاد میں مشغول ہو کر سوال کرنے سے غافل رہے تو میں اسے بہتر دوں گا اس سے جو میں سوال کرنے والوں کو دیتا ہوں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
4. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when the Messenger of Allah passed away they (people) heard a voice, but did not see anyone in person, saying, ‘Every soul is to experience the taste of death. You will certainly receive your reward on the Day of Judgment. Whoever is saved from the fire and is admitted in paradise, has become successful indeed.’ It also said, ‘In (the mercy of) Allah are good consequences for everyone who dies, solace for all forms of sorrow and compensation for every loss. In Allah, you must trust and in Him only place your hope. Deprived person, in …
علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے روایت کی، ان کے والد نے ابن ابی عمیر سے روایت کی، ابن ابی عمیر نے ہشام بن سالم سے روایت کی، ہشام نے کہا کہ ابو عبد الله (علیہ السلام) نے فرمایا: جب نبی (صلی الله علیہ وآلہ) کا انتقال ہوا تو لوگوں نے ایک آواز سنی مگر کوئی شخص نہ دیکھا۔ وہ کہہ رہی تھی: ہر نفس موت کا مزہ چکھے گا۔ اور تمہیں تمہارے اجر قیامت کے دن ہی دیے جائیں گے۔ تو جو شخص آگ سے بچایا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے وہ فوز پایا۔ اور کہا: الله میں ہر ہلاک ہونے والے کی جانشینی ہے، ہر مصیبت میں تسلی ہے، اور ہر ضائع چیز میں بدلہ ہے۔ پس الله پر اعتماد رکھو، اسی سے اپنی امید رکھو۔ اور یقیناً محروم وہ ہے جو ثواب سے محروم ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no one whom Allah will admit to Paradise but Allah will marry him to seventy-two wives, two from houris and seventy from his inheritance from the people of Hell, all of whom will have desirable front passages and he will have a male member that never becomes flaccid (i.e., soft and limp).’”
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی جنت میں جائے گا اللہ تعالیٰ بہتر ( ۷۲ ) بیویوں سے اس کی شادی کر دے گا، دو بڑی آنکھوں والی حوریں اور ستر ( ۷۰ ) اہل جہنم کی میراث میں سے ہوں گی، ان میں سے ہر ایک کی شرمگاہ خوب شہوت والی ہو گی، اور اس کا ذکر ایسا ہو گا جس میں کبھی کجی نہیں ہو گی ، ہشام بن خالد نے کہا: اہل جہنم کی میراث سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ جہنم میں جائیں گے اہل جنت ان کی بیویوں کے وارث ہو جائیں گے مثلا ً فرعون کی بیوی کے وارث جنتی ہوں گے۔
Khabbab said “We came to the Apostle of Allaah(ﷺ) while he was reclining on an outer garment in the shade of the Ka’bah. Complaining to him we said “Do you not ask Allaah for help for us? And do you not pray to Allaah for us? He sat aright turning red in his face and said “A man before you (i.e., in ancient times) was caught and a pit was dug for him in the earth and then a saw was brought placed on his head and it was broken into two pieces but that did not turn him away from his religion. They were combed in iron combs in flesh and sinews above the bones. Even that did not turn them away from their religion. I swear by Allaah, Allaah will accomplish this affair until a rider will travel …
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے ( کافروں کے غلبہ کی ) شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور فرمایا: تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے ہڈی کے گوشت اور پٹھوں کو نوچا جاتا تھا لیکن یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، اللہ کی قسم! اللہ اس دین کو پورا کر …
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
569. Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad, from Ali Bin Al-Hakam, from Ali Bin Abu Hamza, from Abu Baseer, who has said: Abu Ja’far (asws) said: ‘Are you (asws) reciting: “[9:112] They who repent (Al-Ta’iboun), who serve (Al-Abidoun)”?’ So he (asws) said: ‘No. Recite “Al-Ta’ibeen Al-Abideen” upto the end of it’. So I asked about the reason for that, he (asws) said: ‘He (azwj) Bought from the Believers (their own selves), the repentant (and) the worshippers’.
محمد بن یحیی، احمد بن محمد، علی بن الحکم، علی بن ابو حمزہ سے، اور ابو بصیر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابو جعفر (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم 'التائبون العابدون' پڑھ رہے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، 'التائبین العابدین' پڑھو، اس کے آخر تک۔ پھر ان سے اس کے علة کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وہ (اللہ تعالیٰ) نے مومنین سے تائبین اور عابدین کو خریدا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. A number of our people has narrated from Ahmad ibn Muhammad from al-Husayn ibn Sa‘id from al-Qasim ibn Muhammad from Ali ibn abu Hamzah from abu Basir from abu ‘Abdallah (a.s.) who has said the following. “Allah, the Most Holy, the Most High, has two kinds of knowledge. One kind is His only and no creature knows about it. The other kind is that which He has thrown unto His angels and His Messenger. Whatever is thrown to the angels and the Messengers have reached us.”
ہمارے کچھ اصحاب نے احمد بن محمد سے روایت کی، وہ حسین بن سعید سے، وہ قاسم بن محمد سے، وہ علی بن ابی حمزہ سے، وہ ابو بصیر سے، اور ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل کے دو علم ہیں۔ ایک علم تو وہ ہے جو اس کے پاس ہے اور اس نے اپنی کسی مخلوق کو اس کا علم نہیں دیا۔ اور ایک علم وہ ہے جسے اس نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے۔ سو جو علم اس نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے، وہ ہم تک پہنچ گیا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWe have enjoined on man kindness to parents; but if they strive to make thee join with Me that of which thou hast no knowledge, then obey them not. Unto Me is your return and I shall tell you what ye used to do.
Yusuf AliWe have enjoined on man kindness to parents: but if they (either of them) strive (to force) thee to join with Me (in worship) anything of which thou hast no knowledge, obey them not. Ye have (all) to return to me, and I will tell you (the truth) of all that ye did.
The agreed readingAnd God charged the human being to treat his parents well. But if they press you to set up with God something you have no knowledge of, do not obey them in that. The denial is put as a denial of knowledge, because what cannot be known to be true is not to be followed. To God is your return, and He will tell you what you were doing.
Urduاور ہم نے انسان کو حکم دیا کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے، لیکن اگر وہ دونوں پوری کوشش اور اصرار کے ساتھ تجھ پر یہ زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کوئی علم نہیں، تو اس معاملے میں ان کی بات نہ مان۔ شرک کو یہاں لاعلمی سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ جس چیز کے صحیح ہونے کا علم نہ ہو اس کی پیروی جائز نہیں۔ تم سب کو آخرکار میری ہی طرف لوٹنا ہے، پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم دنیا میں کیا کرتے رہے۔
Arabicوأمرنا الإنسان أن يحسن إلى والديه إحسانا كاملا، ولكن إن حاول والداه بجد وإصرار أن يحملاك على أن تشرك بي ما لا علم لك بصحته أو بألوهيته، فلا تطعهما في هذا الأمر خاصة. وقد عبر عن الشرك بعدم العلم لأن ما لا يعلم صحته لا يجوز اتباعه. إلي وحدي مرجعكم جميعا يوم القيامة فأخبركم بحقيقة ما كنتم تعملونه في الدنيا.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 2 من كتب أهل السنة، 4 من كتب الشيعة6 reports cited here — 2 Sunnī, 4 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 4 شیعہ کتب سے
Narrated Mus'ab bin Sa'd:that his father, Sa'd, said: "Four Ayat were revealed about me" and he mentioned the story. Umm Sa'd had said: "Did not Allah command you to honor (your parents). By Allah! I will not eat or drink anything until I die or you renounce (Islam)." He said: "So when they wanted to make her eat, they would force her mouth open. So this Ayah was revealed: And We have enjoined on man to be dutiful to his parents; but if they strive to make you associate (partners) with Me, of which you have no knowledge, then obey them not (29:)
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے تعلق سے چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، پھر انہوں نے ایک واقعہ وقصہ بیان کیا، ام سعد رضی الله عنہا نے کہا: کیا اللہ نے احسان کا حکم نہیں دیا ہے؟ ۱؎ قسم اللہ کی! نہ میں کھانا کھاؤں گی نہ کچھ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں یا پھر تم ( اپنے ایمان سے ) پھر جاؤ۔ ( سعد ) کہتے ہیں: جب لوگ اسے کھلانے کا ارادہ کرتے تو لکڑی ڈال کر اس کا منہ کھولتے، اسی موقع پر آیت «ووصينا الإنسان بوالديه حسنا وإن جاهداك لتشرك بي» ”ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان ( و حسن سلوک ) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو تم ان کا کہنا نہ مانو“ ( العنکبوت: ۸ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Ali bin Husain:from his father, from his grandfather, 'Ali bin Abi Talib: "The Prophet (ﷺ) took Hasan and Husain by the hand and said: 'Whoever loves me and loves these two, and their father and mother, he shall be with me in my level on the Day of Judgement
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”جو مجھ سے محبت کرے، اور ان دونوں سے، اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت کرے، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے جعفر بن محمد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
569. Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad, from Ali Bin Al-Hakam, from Ali Bin Abu Hamza, from Abu Baseer, who has said: Abu Ja’far (asws) said: ‘Are you (asws) reciting: “[9:112] They who repent (Al-Ta’iboun), who serve (Al-Abidoun)”?’ So he (asws) said: ‘No. Recite “Al-Ta’ibeen Al-Abideen” upto the end of it’. So I asked about the reason for that, he (asws) said: ‘He (azwj) Bought from the Believers (their own selves), the repentant (and) the worshippers’.
محمد بن یحیی، احمد بن محمد، علی بن الحکم، علی بن ابو حمزہ سے، اور ابو بصیر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابو جعفر (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم 'التائبون العابدون' پڑھ رہے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، 'التائبین العابدین' پڑھو، اس کے آخر تک۔ پھر ان سے اس کے علة کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وہ (اللہ تعالیٰ) نے مومنین سے تائبین اور عابدین کو خریدا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
3. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from Muhammad ibn Tsa from ‘Ubayd Allah al- Dihqan from Durust ibn abu Mansur from Ibrahim ibn ‘Abd al-Hamid who has said the following: “Abu al-Hassan, Musa (a.s.), has said, ‘On the Day of Judgment, Allah, most High, will not look to three kinds of people. Of such people one kind is a man who does not buy or sell anything without swearing.’”
ہمارے اصحاب میں سے جماعت نے احمد بن محمد بن خالد سے، محمد بن عیسی سے، عبیداللہ الدہقان سے، درست بن ابی منصور سے، ابراہیم بن عبدالحمید سے روایت کی ہے کہ ابو الحسن موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: تین آدمی ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر نہیں کریں گے۔ ان میں سے ایک آدمی وہ ہے جس نے اللہ کے ذریعہ سے تجارت اختیار کی ہے، وہ نہیں خریدتا مگر قسم کے ساتھ اور نہیں بیچتا مگر قسم کے ساتھ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
6. Abu Dawud has narrated from al-Husayn ibn Sa’id from Muhammad ibn al-Fudayl who has said the following: “Abu al-Hassan al-Rida (a.s.), has said, ‘Salah (prayer) is a means for every pious person to getting nearer to Allah.’”
6- ابو داود نے، حسین بن سعید سے، محمد بن الفضیل سے روایت کی ہے، ابی الحسن الرضا علیہ السلام سے، کہا: نماز ہر متقی کی قربان ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
3. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from Ali ibn al-Nu’man from Sa‘id ibn ‘Abd Allah al-’A‘raj who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that during the days of ignorance Quraysh had destroyed the House, but when they wanted to rebuild, something came between them and the House. They were frightened so much that someone among them said, ‘Everyone should bring the best and purest of his properties which he has earned free from involvement in misuse of good relations with relatives or unlawful matters. They did so and were allowed to build. They built up to the place for the Black Stone and they began to disagree about who should set it in place. The …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، علی بن النعمان سے، سعید بن عبداللہ الاعرج سے، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے روایت کی۔ ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے کہا: بے شک قریش نے جاہلیت میں بیت الحرام کو ڈھا دیا تھا۔ جب انہوں نے اسے دوبارہ بنانا چاہا تو ان کے اور اس کے درمیان روک لگائی گئی اور ان کے دلوں میں خوف ڈالا گیا۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: تم میں سے ہر شخص اپنے سب سے خوبصورت اور حلال مال لائے، اور اس مال سے بچو جو تم نے قطع رحمی یا حرام سے کمایا ہو۔ انہوں نے ایسا کیا اور انہیں تعمیر کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے اسے بنایا یہاں تک کہ سیاہ پتھر کی جگہ تک پہنچے۔ وہاں انہوں نے جھگڑنا شروع کیا - ہر ایک چاہتا تھا کہ سیاہ پتھر کو رکھے۔ جھگڑا بڑھنے لگا اور قریب تھا کہ شقّ و نزاع ہو۔ انہوں نے فیصلہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd as for those who believe and do good works, We verily shall make them enter in among the righteous.
Yusuf AliAnd those who believe and work righteous deeds,- them shall We admit to the company of the Righteous.
The agreed readingAnd those who believe and do what is right, God will bring in among the righteous, gathering them with the prophets and with those close to Him.
Urduاور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، اللہ انہیں یقینا نیک لوگوں کی جماعت میں داخل کرے گا، اور انہیں انبیاء اور اپنے مقرب بندوں کے ساتھ جنت میں جمع کرے گا۔
Arabicوالذين آمنوا بالله إيمانا صادقا وعملوا الصالحات من الأعمال الخالصة، سيدخلهم الله لا محالة في زمرة عباده الصالحين المقربين، ويجمعهم مع الأنبياء والصديقين في جنات النعيم.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 4 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة5 reports cited here — 4 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
It was narrated that Ibn 'Abbas said concerning Surat An-Nahl - :"Whoever disbelieved in Allah after his belief, except him who is forced thereto and whose heart is at rest with Faith; but such as open their breasts to disbelief, on them is wrath from Allah, and theirs will be a great torment." "This was abrogated, and an exception was made, as Allah said: "Then, verily, your Lord for those who emigrated after they had been put to trials and thereafter strove hard and fought (for the Cause of Allah) and were patient, verily, your Lord afterward is, Oft-Forgiving, Most Merciful." This was 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh who was the governor of Egypt and used to write to the Messenger of …
ہمیں زکریا بن یحییٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث کی، انہوں نے کہا: علی بن الحسین بن واقد نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھ کو یزید النحوی سے خبر دی، عکرمہ سے، ابن عباس سے کہا: سورہ النحل میں لیہ کہ 'من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکره' سے لیہ کہ 'لہم عذاب عظیم' تک یہ منسوخ ہوا اور اس میں سے استثناء کی گئی اور فرمایا گیا 'ثم ان ربك للذین ہاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاہدوا و صبروا ان ربك من بعدہا لغفور رحیم۔' اور یہ عبداللہ بن سعد بن ابی السرح کے بارے میں ہے جو مصر کا والی تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے لکھتے تھے۔ شیطان نے انہیں گمراہ کیا اور وہ کافروں کی طرف چلے گئے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن انہیں قتل کرنے کا حکم …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no one whom Allah will admit to Paradise but Allah will marry him to seventy-two wives, two from houris and seventy from his inheritance from the people of Hell, all of whom will have desirable front passages and he will have a male member that never becomes flaccid (i.e., soft and limp).’”
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی جنت میں جائے گا اللہ تعالیٰ بہتر ( ۷۲ ) بیویوں سے اس کی شادی کر دے گا، دو بڑی آنکھوں والی حوریں اور ستر ( ۷۰ ) اہل جہنم کی میراث میں سے ہوں گی، ان میں سے ہر ایک کی شرمگاہ خوب شہوت والی ہو گی، اور اس کا ذکر ایسا ہو گا جس میں کبھی کجی نہیں ہو گی ، ہشام بن خالد نے کہا: اہل جہنم کی میراث سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ جہنم میں جائیں گے اہل جنت ان کی بیویوں کے وارث ہو جائیں گے مثلا ً فرعون کی بیوی کے وارث جنتی ہوں گے۔
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
Narrated Mus'ab bin Sa'd:that his father, Sa'd, said: "Four Ayat were revealed about me" and he mentioned the story. Umm Sa'd had said: "Did not Allah command you to honor (your parents). By Allah! I will not eat or drink anything until I die or you renounce (Islam)." He said: "So when they wanted to make her eat, they would force her mouth open. So this Ayah was revealed: And We have enjoined on man to be dutiful to his parents; but if they strive to make you associate (partners) with Me, of which you have no knowledge, then obey them not (29:)
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے تعلق سے چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، پھر انہوں نے ایک واقعہ وقصہ بیان کیا، ام سعد رضی الله عنہا نے کہا: کیا اللہ نے احسان کا حکم نہیں دیا ہے؟ ۱؎ قسم اللہ کی! نہ میں کھانا کھاؤں گی نہ کچھ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں یا پھر تم ( اپنے ایمان سے ) پھر جاؤ۔ ( سعد ) کہتے ہیں: جب لوگ اسے کھلانے کا ارادہ کرتے تو لکڑی ڈال کر اس کا منہ کھولتے، اسی موقع پر آیت «ووصينا الإنسان بوالديه حسنا وإن جاهداك لتشرك بي» ”ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان ( و حسن سلوک ) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو تم ان کا کہنا نہ مانو“ ( العنکبوت: ۸ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
و ما كان فيه عن حفص بن غياث فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن أبي عبد اللّه، عن أبيه، عن حفص بن غياث. و رويته عن عليّ بن أحمد بن موسى- رحمه اللّه- عن محمّد بن أبي عبد اللّه، عن محمّد بن أبي بشير قال: حدّثنا الحسين بن الهيثم قال: حدّثنا سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث. و رويته عن أبي- رحمه اللّه- عن سعد بن عبد اللّه، عن القاسم بن محمّد الاصبهانيّ، عن سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث النخعيّ القاضي.
Everything in this book that is narrated from Hafs ibn Ghayath has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ahmad ibn Abi Abdullah, from his father, from Hafs ibn Ghayath. I have also narrated it from Ali ibn Ahmad ibn Musa - may Allah (swt) have mercy on him - from Muhammad ibn Abi Abdullah, from Muhammad ibn Abi Bashir, who said: Al-Husayn ibn Al-Haytham narrated to us, saying: Sulayman ibn Dawud Al-Munqari narrated to us, from Hafs ibn Ghayath. Additionally, I have narrated it from my father - may Allah (swt) have mercy on him - from Sa'd ibn Abdullah, from Al-Qasim ibn Muhammad Al-Isfahani, from Sulayman ibn Dawud …
اور جو کچھ اس میں حفص بن غیاث کے ذریعے ہے، تو میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں خوش رکھے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، احمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، ان کے والد کے ذریعے، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے علی بن احمد بن موسیٰ سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - محمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، محمد بن ابی بشیر کے ذریعے۔ انہوں نے کہا: ہمیں الحسین بن الہیثم نے حدیث دی، کہا: ہمیں سليمان بن داود المنقری نے حدیث دی، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، القاسم بن محمد الاصبهاني کے ذریعے، سليمان بن داود المنقری کے ذریعے، حفص بن غیاث النخعي القاضي سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallOf mankind is he who saith: We believe in Allah, but, if he be made to suffer for the sake of Allah, he mistaketh the persecution of mankind for Allah's punishment; and then, if victory cometh from thy Lord, will say: Lo! we were with you (all the while). Is not Allah Best Aware of what is in the bosoms of (His) creatures?
Yusuf AliThen there are among men such as say, "We believe in Allah"; but when they suffer affliction in (the cause of) Allah, they treat men's oppression as if it were the Wrath of Allah! And if help comes (to thee) from thy Lord, they are sure to say, "We have (always) been with you!" Does not Allah know best all that is in the hearts of all creation?
The agreed readingAnd among people is one who says: we believe in God. But when he is made to suffer for God's sake he treats the persecution people deal out as though it were God's own punishment, fearing it in the same way and giving in to them, which is to be a hypocrite. Then if help comes from your Lord they say: we were with you all along. Does God not know best what is in the breasts of all His creatures?
Urduاور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے، لیکن جب اللہ کی راہ میں اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ لوگوں کی اس اذیت کو اللہ کے عذاب جیسا سمجھنے لگتا ہے اور اسی طرح ڈر کر ان کی بات مان لیتا ہے، اور یہی منافق کا حال ہے۔ اور اگر آپ کے رب کی طرف سے مومنوں کو مدد آ جائے تو یہ منافق کہنے لگتے ہیں کہ ہم بھی تمہارے ساتھ تھے۔ کیا اللہ تمام مخلوقات کے دلوں میں چھپی باتوں کو خوب نہیں جانتا؟
Arabicومن الناس من يقول بلسانه: آمنا بالله، فإذا أوذي وناله أذى في سبيل الله جعل أذى الناس له بمنزلة عذاب الله فخافه كذلك وأطاعهم فرارا منه، وهذا هو حال المنافق. ولئن جاء نصر من ربك للمؤمنين ليقولن هؤلاء المنافقون: إنا كنا معكم مؤمنين مثلكم. أوليس الله أعلم بما تخفيه صدور جميع الخلائق؟
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
It was narrated that Ibn 'Abbas said concerning Surat An-Nahl - :"Whoever disbelieved in Allah after his belief, except him who is forced thereto and whose heart is at rest with Faith; but such as open their breasts to disbelief, on them is wrath from Allah, and theirs will be a great torment." "This was abrogated, and an exception was made, as Allah said: "Then, verily, your Lord for those who emigrated after they had been put to trials and thereafter strove hard and fought (for the Cause of Allah) and were patient, verily, your Lord afterward is, Oft-Forgiving, Most Merciful." This was 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh who was the governor of Egypt and used to write to the Messenger of …
ہمیں زکریا بن یحییٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث کی، انہوں نے کہا: علی بن الحسین بن واقد نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھ کو یزید النحوی سے خبر دی، عکرمہ سے، ابن عباس سے کہا: سورہ النحل میں لیہ کہ 'من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکره' سے لیہ کہ 'لہم عذاب عظیم' تک یہ منسوخ ہوا اور اس میں سے استثناء کی گئی اور فرمایا گیا 'ثم ان ربك للذین ہاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاہدوا و صبروا ان ربك من بعدہا لغفور رحیم۔' اور یہ عبداللہ بن سعد بن ابی السرح کے بارے میں ہے جو مصر کا والی تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے لکھتے تھے۔ شیطان نے انہیں گمراہ کیا اور وہ کافروں کی طرف چلے گئے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن انہیں قتل کرنے کا حکم …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله المحمود لنعمته المعبود لقدرته ، المطاع في سلطانه المرهوب لجلاله ، المرغوب إليه فيما عنده ، النافذ أمره في جميع خلقه ، علا فاستعلى ودنا فتعالى ، وارتفع فوق كل منظر ، الذي لا بدء لأوليته ، ولا غاية لأزليته ، القائم قبل الأشياء ، والدائم الذي به قوامها ، والقاهر الذي لا يؤوده حفظها والقادر الذي بعظمته تفرد بالملكوت وبقدرته توحد بالجبروت ، وبحكمته أظهر حججه على خلقه . اخترع الأشياء إنشاء ، وابتدعها ابتداء ، بقدرته وحكمته ، لا من شئ فيبطل الاختراع ولا لعلة فلا يصح الابتداع ، خلق ما شاء كيف شاء ، متوحدا ” بذلك لإظهار حكمته ، وحقيقة ربوبيته ، لا تضبطه العقول ، ولا تبلغه الأوهام ، ولا تدركه الأبصار ، ولا يحيط به مقدار ، عجزت دونه العبارة ، وكلت دونه الأبصار ، وضل …
In the Praise of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah Who is praised for His bounties, worshipped for His Might, obeyed in His rule and feared for His Majesty. He possesses all that is attractive; His commands pervade in all of His creation. He is High, the Most High. He is near in His Highness and the Most High above being seen. His being the first has had no beginning and He is eternal. He existed before the existence of all things and He is the eternal Who guards all things. He is the overwhelming power and the preservation of the things does not burden Him. He is the only Almighty in His kingdom and only power to compel what is to compel. Through wisdom He has …
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے جو اپنی نعمتوں پر تعریف شائستہ ہے، اپنی قدرت پر معبود ہے، اپنی سلطان میں مطاع ہے، اپنی عظمت پر مخوف ہے۔ جس کے پاس ہر دل پسند چیز ہے، جس کا حکم تمام خلق میں جاری ہے۔ وہ بلند ہے پھر مزید بلند ہوا، نزدیک ہے پھر عالیٰ ہوا، ہر نظر سے بلند ہے۔ جس کی ابتدا کا کوئی آغاز نہیں، جس کی ازل کا کوئی انجام نہیں۔ وہ تمام چیزوں سے پہلے قائم تھا، وہ ابدی ہے جو سب کو قائم رکھتا ہے۔ وہ غالب قاہر ہے جس کو نگرانی میں تکلیف نہیں، وہ قدیر ہے جس کی عظمت سے ملکوت میں منفرد ہے اور جس کی قدرت سے جبروت میں تنہا ہے، اور اپنی حکمت سے اپنی حجتوں کو خلق پر ظاہر کیا۔ اس نے اشیاء کو ایجاد سے خلق کیا، اور انہیں ابتدائے سے بنایا، اپنی قدرت اور حکمت سے، کسی چیز سے نہیں کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallVerily Allah knoweth those who believe, and verily He knoweth the hypocrites.
Yusuf AliAnd Allah most certainly knows those who believe, and as certainly those who are Hypocrites.
The agreed readingAnd God will surely know those who believe with their hearts, and will surely know the hypocrites, and will repay each of the two.
Urduاور اللہ ضرور ان لوگوں کو ظاہر کر کے جان لے گا جو دل سے سچا ایمان لائے، اور منافقوں کو بھی جان لے گا جنہوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر چھپایا، پھر ہر فریق کو اس کے مناسب بدلہ دے گا۔
Arabicوليعلمن الله علم ظهور الذين آمنوا بقلوبهم إيمانا صادقا، وليعلمن أيضا المنافقين الذين أظهروا الإيمان وأخفوا الكفر، ثم يجازي كل فريق منهما بما يستحقه من الجزاء.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله المحمود لنعمته المعبود لقدرته ، المطاع في سلطانه المرهوب لجلاله ، المرغوب إليه فيما عنده ، النافذ أمره في جميع خلقه ، علا فاستعلى ودنا فتعالى ، وارتفع فوق كل منظر ، الذي لا بدء لأوليته ، ولا غاية لأزليته ، القائم قبل الأشياء ، والدائم الذي به قوامها ، والقاهر الذي لا يؤوده حفظها والقادر الذي بعظمته تفرد بالملكوت وبقدرته توحد بالجبروت ، وبحكمته أظهر حججه على خلقه . اخترع الأشياء إنشاء ، وابتدعها ابتداء ، بقدرته وحكمته ، لا من شئ فيبطل الاختراع ولا لعلة فلا يصح الابتداع ، خلق ما شاء كيف شاء ، متوحدا ” بذلك لإظهار حكمته ، وحقيقة ربوبيته ، لا تضبطه العقول ، ولا تبلغه الأوهام ، ولا تدركه الأبصار ، ولا يحيط به مقدار ، عجزت دونه العبارة ، وكلت دونه الأبصار ، وضل …
In the Praise of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah Who is praised for His bounties, worshipped for His Might, obeyed in His rule and feared for His Majesty. He possesses all that is attractive; His commands pervade in all of His creation. He is High, the Most High. He is near in His Highness and the Most High above being seen. His being the first has had no beginning and He is eternal. He existed before the existence of all things and He is the eternal Who guards all things. He is the overwhelming power and the preservation of the things does not burden Him. He is the only Almighty in His kingdom and only power to compel what is to compel. Through wisdom He has …
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے جو اپنی نعمتوں پر تعریف شائستہ ہے، اپنی قدرت پر معبود ہے، اپنی سلطان میں مطاع ہے، اپنی عظمت پر مخوف ہے۔ جس کے پاس ہر دل پسند چیز ہے، جس کا حکم تمام خلق میں جاری ہے۔ وہ بلند ہے پھر مزید بلند ہوا، نزدیک ہے پھر عالیٰ ہوا، ہر نظر سے بلند ہے۔ جس کی ابتدا کا کوئی آغاز نہیں، جس کی ازل کا کوئی انجام نہیں۔ وہ تمام چیزوں سے پہلے قائم تھا، وہ ابدی ہے جو سب کو قائم رکھتا ہے۔ وہ غالب قاہر ہے جس کو نگرانی میں تکلیف نہیں، وہ قدیر ہے جس کی عظمت سے ملکوت میں منفرد ہے اور جس کی قدرت سے جبروت میں تنہا ہے، اور اپنی حکمت سے اپنی حجتوں کو خلق پر ظاہر کیا۔ اس نے اشیاء کو ایجاد سے خلق کیا، اور انہیں ابتدائے سے بنایا، اپنی قدرت اور حکمت سے، کسی چیز سے نہیں کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThose who disbelieve say unto those who believe: Follow our way (of religion) and we verily will bear your sins (for you). They cannot bear aught of their sins. Lo! they verily are liars.
Yusuf AliAnd the Unbelievers say to those who believe: "Follow our path, and we will bear (the consequences) of your faults." Never in the least will they bear their faults: in fact they are liars!
The agreed readingAnd those who refuse say to those who believe: follow our way, and we will carry your sins for you. Their argument was that what the believers feared was nothing, and that if it turned out to be real they would carry it themselves. They will carry nothing of those sins. They are liars.
Urduاور جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے مومنوں سے کہا کہ ہمارے راستے یعنی کفر کی پیروی کرو اور محمد کا دین چھوڑ دو، اور ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ مومن جس چیز سے ڈرتے ہیں وہ کچھ نہیں، اور اگر سچ ہوئی تو وہ خود اسے اٹھا لیں گے۔ حالانکہ وہ مومنوں کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہیں اٹھائیں گے چاہے وہ کچھ بھی دعوی کریں، بیشک وہ اس وعدے میں جھوٹے ہیں۔
Arabicوقال هؤلاء الذين كفروا لهؤلاء الذين آمنوا: اتبعوا طريقنا في الكفر وترك دين محمد، ونحن سنحمل عنكم أوزاركم وخطاياكم إن كان هناك حساب. وكانت حجتهم أن ما يخافه المؤمنون ليس بشيء، وإن صح فسيتحملونه هم عنهم. وما هم في الحقيقة بحاملين من خطايا المؤمنين شيئا مهما ادعوا، إنهم لكاذبون في هذا الوعد.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever calls to guidance, then he receives the reward similar to the reward of whoever follows him, without that diminishing anything from their rewards. And whoever calls to misguidance, then he receives of sin similar to the sins of those who followed him, without that diminishing anything from their sins
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کو ہدایت کی طرف بلایا تو جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے اجر کے برابر ہدایت کی طرف بلانے والے کو بھی ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ اس کی اتباع کرنے والوں کے اجر و ثواب میں کچھ بھی کمی ہو، اور جس نے ضلالت ( و گمراہی ) کی طرف بلایا تو جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے گناہوں کے برابر گمراہی کی طرف بلانے والے کو بھی گناہ ملے گا بغیر اس کے کہ اس کی وجہ سے ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated from Anas bin Malik that:The Messenger of Allah said: "Every caller who invites people to misguidance and is followed, will have a burden of sin equal to that of those who follow him, without that detracting from their burden in the slightest. And every caller who invites people to true guidance and is followed, will have a reward equal to that of those who follow him, without that detracting from their reward in the slightest
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوگوں کو کسی گمراہی کی طرف بلایا، اور لوگ اس کے پیچھے ہو لیے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ہو گا، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی، اور جس نے ہدایت کی طرف بلایا اور لوگ اس کے ساتھ ہو گئے، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والے کو اور اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی ۱؎۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:If anyone summons other to follow right guidance, his reward will be equivalent to that of the people who follow him, without their rewards being diminished in any respect on that account; and if anyone summons others to follow error the sin of which sins being diminished in any respect on that account
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دوسروں کو نیک عمل کی دعوت دیتا ہے تو اس کی دعوت سے جتنے لوگ ان نیک باتوں پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس دعوت دینے والے کو بھی ثواب ملتا ہے، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جاتی، اور جو کسی گمراہی و ضلالت کی طرف بلاتا ہے تو جتنے لوگ اس کے بلانے سے اس پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس کو گناہ ہوتا ہے اور ان کے گناہوں میں ( بھی ) کوئی کمی نہیں ہوتی ۔
It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“No person is killed wrongfully, but a share of responsibility for his blood will be upon, the first son of Adam, because he was the first one to kill.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی کوئی شخص ناحق قتل کیا جاتا ہے، تو آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل ) پر بھی اس کے گناہ کا ایک حصہ ہوتا ہے، اس لیے کہ اس نے سب سے پہلے قتل کی رسم نکالی ۔
Al-Mundhir bin Jarir narrated that his father said:"While we were with the Messenger of Allah in the early hours of the morning, some people came who were naked and barefoot, with their swords hung (around their necks). Most of them, may all of them, belonged to the tribe of Mudar. The face of the Messenger of Allah changed when he saw them in poverty. He went in (to his house) then he came out and ordered Bilah to call the Adhan and then the Iqamah. He (the Prophet) prayed, tjem je addressed te,, (reciting the Verses): 'O mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person (Adam), and from him(Adam) He created his wife [Hawwa (Eve)], and from them both He created many …
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ ننگے بدن، ننگے پیر، تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، زیادہ تر لوگ قبیلہ مضر کے تھے، بلکہ سبھی مضر ہی کے تھے۔ ان کی فاقہ مستی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ اندر گئے، پھر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی، آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ نے خطبہ دیا، تو فرمایا: ”لوگو! ڈرو، تم اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور انہیں دونوں ( میاں بیوی ) سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیئے۔ اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سب ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ قرابت داریوں کا خیال رکھو کہ وہ …
PickthallBut they verily will bear their own loads and other loads beside their own, and they verily will be questioned on the Day of Resurrection concerning that which they invented.
Yusuf AliThey will bear their own burdens, and (other) burdens along with their own, and on the Day of Judgments they will be called to account for their falsehoods.
The agreed readingAnd they will carry their own loads, and other loads on top of their own: the weight of having said follow our way, and the weight of those they led astray by saying it. On the Day of Rising they will be questioned about everything they invented.
Urduاور وہ قیامت کے دن اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے، یعنی لوگوں کو اپنی پیروی کی دعوت دینے اور گمراہ کرنے کا بوجھ، اور قیامت کے دن ان سے ان جھوٹی باتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا جو وہ اللہ پر گھڑتے تھے۔
Arabicوسيحملون يوم القيامة أوزارهم الخاصة بهم، وأوزارا أخرى مع أوزارهم وهي وزر دعوتهم الناس إلى اتباعهم ووزر إضلال من أضلوه بهذه الدعوة، وسيسألون يوم القيامة عما كانوا يختلقونه من الأكاذيب على الله.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 5 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة8 reports cited here — 5 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever calls to guidance, then he receives the reward similar to the reward of whoever follows him, without that diminishing anything from their rewards. And whoever calls to misguidance, then he receives of sin similar to the sins of those who followed him, without that diminishing anything from their sins
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کو ہدایت کی طرف بلایا تو جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے اجر کے برابر ہدایت کی طرف بلانے والے کو بھی ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ اس کی اتباع کرنے والوں کے اجر و ثواب میں کچھ بھی کمی ہو، اور جس نے ضلالت ( و گمراہی ) کی طرف بلایا تو جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے گناہوں کے برابر گمراہی کی طرف بلانے والے کو بھی گناہ ملے گا بغیر اس کے کہ اس کی وجہ سے ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:If anyone summons other to follow right guidance, his reward will be equivalent to that of the people who follow him, without their rewards being diminished in any respect on that account; and if anyone summons others to follow error the sin of which sins being diminished in any respect on that account
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دوسروں کو نیک عمل کی دعوت دیتا ہے تو اس کی دعوت سے جتنے لوگ ان نیک باتوں پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس دعوت دینے والے کو بھی ثواب ملتا ہے، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جاتی، اور جو کسی گمراہی و ضلالت کی طرف بلاتا ہے تو جتنے لوگ اس کے بلانے سے اس پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس کو گناہ ہوتا ہے اور ان کے گناہوں میں ( بھی ) کوئی کمی نہیں ہوتی ۔
It was narrated from Anas bin Malik that:The Messenger of Allah said: "Every caller who invites people to misguidance and is followed, will have a burden of sin equal to that of those who follow him, without that detracting from their burden in the slightest. And every caller who invites people to true guidance and is followed, will have a reward equal to that of those who follow him, without that detracting from their reward in the slightest
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوگوں کو کسی گمراہی کی طرف بلایا، اور لوگ اس کے پیچھے ہو لیے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ہو گا، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی، اور جس نے ہدایت کی طرف بلایا اور لوگ اس کے ساتھ ہو گئے، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والے کو اور اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی ۱؎۔
It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“No person is killed wrongfully, but a share of responsibility for his blood will be upon, the first son of Adam, because he was the first one to kill.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی کوئی شخص ناحق قتل کیا جاتا ہے، تو آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل ) پر بھی اس کے گناہ کا ایک حصہ ہوتا ہے، اس لیے کہ اس نے سب سے پہلے قتل کی رسم نکالی ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said concerning Surat An-Nahl - :"Whoever disbelieved in Allah after his belief, except him who is forced thereto and whose heart is at rest with Faith; but such as open their breasts to disbelief, on them is wrath from Allah, and theirs will be a great torment." "This was abrogated, and an exception was made, as Allah said: "Then, verily, your Lord for those who emigrated after they had been put to trials and thereafter strove hard and fought (for the Cause of Allah) and were patient, verily, your Lord afterward is, Oft-Forgiving, Most Merciful." This was 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh who was the governor of Egypt and used to write to the Messenger of …
ہمیں زکریا بن یحییٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث کی، انہوں نے کہا: علی بن الحسین بن واقد نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھ کو یزید النحوی سے خبر دی، عکرمہ سے، ابن عباس سے کہا: سورہ النحل میں لیہ کہ 'من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکره' سے لیہ کہ 'لہم عذاب عظیم' تک یہ منسوخ ہوا اور اس میں سے استثناء کی گئی اور فرمایا گیا 'ثم ان ربك للذین ہاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاہدوا و صبروا ان ربك من بعدہا لغفور رحیم۔' اور یہ عبداللہ بن سعد بن ابی السرح کے بارے میں ہے جو مصر کا والی تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے لکھتے تھے۔ شیطان نے انہیں گمراہ کیا اور وہ کافروں کی طرف چلے گئے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن انہیں قتل کرنے کا حکم …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Thereupon Amīr al-mu’minīn said : When Allāh, the Glorified sent down the verse : “Alif lām mīm (A.L.M.) What! Do people imagine that they will be let off on (their) saying: ‘We believe!’ and they will not be tried?” (Qur’ān, 29:1—2) I came to know that the disturbance would not befall us so long as the Prophet — peace and blessing of Allāh be upon him and his progeny — is among us.
فقال (عليه السلام): جب اللہ سبحانہ نے یہ قول نازل کیا: الم۔ کیا لوگوں کو یہ خیال ہے کہ وہ اس پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ صرف یہ کہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اور وہ آزمائے نہ جائیں گے؟ تو میں نے سمجھ گیا کہ الْفِتْنَة ہمارے اوپر نہیں آئے گا جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہمارے درمیان موجود ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
So I said, “O Prophet of Allāh, what is this disturbance of which Allāh, the Sublime, has informed you?” and he replied, “O ‘Alī, my people will create trouble after me.” I said, “O Prophet of Allāh on the day of Uḥud, when people had fallen martyrs and I was not among them, and this had been very annoying to me, did you not say to me, ‘cheer up, as martyrdom is for you hereafter?’” The Prophet replied, “Yes it is so, but what about your enduring at present?” I said, “O Prophet of Allāh, this is not an occasion for endurance, but rather an occasion for cheering up and gratefulness.”
پس میں نے کہا: یا رسول اللہ، یہ فتنہ کیا ہے جس کی خبر اللہ نے آپ کو دی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: یا علی، میری امت میرے بعد فتنوں میں مبتلا ہوگی۔ پس میں نے عرض کی: یا رسول اللہ، کیا آپ نے مجھ سے احد کے دن یہ نہ فرمایا تھا جب اہل اسلام میں سے بعض شہید ہوگئے اور مجھ سے شہادت سلب ہو گئی، اور یہ بات مجھے بہت ناگوار لگی، تو آپ نے فرمایا: ''خوش خبری ہو، کیونکہ شہادت تمہارے لیے آگے ہے۔'' تو آپ نے فرمایا: ''اے علی، یہ بات بالکل ویسی ہے، تو پھر تمہاری صبر کیسی ہے؟'' میں نے عرض کی: یا رسول اللہ، یہ صبر کی جگہیں نہیں، بلکہ خوشخبری اور شکر کی جگہیں ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله المحمود لنعمته المعبود لقدرته ، المطاع في سلطانه المرهوب لجلاله ، المرغوب إليه فيما عنده ، النافذ أمره في جميع خلقه ، علا فاستعلى ودنا فتعالى ، وارتفع فوق كل منظر ، الذي لا بدء لأوليته ، ولا غاية لأزليته ، القائم قبل الأشياء ، والدائم الذي به قوامها ، والقاهر الذي لا يؤوده حفظها والقادر الذي بعظمته تفرد بالملكوت وبقدرته توحد بالجبروت ، وبحكمته أظهر حججه على خلقه . اخترع الأشياء إنشاء ، وابتدعها ابتداء ، بقدرته وحكمته ، لا من شئ فيبطل الاختراع ولا لعلة فلا يصح الابتداع ، خلق ما شاء كيف شاء ، متوحدا ” بذلك لإظهار حكمته ، وحقيقة ربوبيته ، لا تضبطه العقول ، ولا تبلغه الأوهام ، ولا تدركه الأبصار ، ولا يحيط به مقدار ، عجزت دونه العبارة ، وكلت دونه الأبصار ، وضل …
In the Praise of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah Who is praised for His bounties, worshipped for His Might, obeyed in His rule and feared for His Majesty. He possesses all that is attractive; His commands pervade in all of His creation. He is High, the Most High. He is near in His Highness and the Most High above being seen. His being the first has had no beginning and He is eternal. He existed before the existence of all things and He is the eternal Who guards all things. He is the overwhelming power and the preservation of the things does not burden Him. He is the only Almighty in His kingdom and only power to compel what is to compel. Through wisdom He has …
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے جو اپنی نعمتوں پر تعریف شائستہ ہے، اپنی قدرت پر معبود ہے، اپنی سلطان میں مطاع ہے، اپنی عظمت پر مخوف ہے۔ جس کے پاس ہر دل پسند چیز ہے، جس کا حکم تمام خلق میں جاری ہے۔ وہ بلند ہے پھر مزید بلند ہوا، نزدیک ہے پھر عالیٰ ہوا، ہر نظر سے بلند ہے۔ جس کی ابتدا کا کوئی آغاز نہیں، جس کی ازل کا کوئی انجام نہیں۔ وہ تمام چیزوں سے پہلے قائم تھا، وہ ابدی ہے جو سب کو قائم رکھتا ہے۔ وہ غالب قاہر ہے جس کو نگرانی میں تکلیف نہیں، وہ قدیر ہے جس کی عظمت سے ملکوت میں منفرد ہے اور جس کی قدرت سے جبروت میں تنہا ہے، اور اپنی حکمت سے اپنی حجتوں کو خلق پر ظاہر کیا۔ اس نے اشیاء کو ایجاد سے خلق کیا، اور انہیں ابتدائے سے بنایا، اپنی قدرت اور حکمت سے، کسی چیز سے نہیں کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd verily we sent Noah (as Our messenger) unto his folk, and he continued with them for a thousand years save fifty years; and the flood engulfed them, for they were wrong-doers.
Yusuf AliWe (once) sent Noah to his people, and he tarried among them a thousand years less fifty: but the Deluge overwhelmed them while they (persisted in) sin.
The agreed readingAnd God sent Noah to his people, calling them to God's oneness, and they called him a liar. He stayed among them a thousand years less fifty. Then the flood took them, the great water that went round them and rose over them until they drowned, and they were wrongdoers.
Urduاور ہم نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں اللہ کی توحید کی طرف بلائیں، تو انہوں نے جھٹلایا، پس وہ ہزار سال میں سے پچاس سال کم عرصہ ان میں صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ رہے، پھر انہیں طوفان نے آ پکڑا، یعنی وہ عظیم پانی جس نے انہیں گھیر لیا اور ان پر چڑھ گیا یہاں تک کہ وہ غرق ہو گئے، اور وہ اپنے نبی کو جھٹلا کر اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔
Arabicولقد أرسلنا نوحا عليه السلام إلى قومه يدعوهم إلى توحيد الله، فكذبوه، فلبث فيهم يدعوهم ألف سنة إلا خمسين عاما بصبر وثبات، ثم أخذهم الطوفان، وهو الماء العظيم الذي أحاط بهم وعلا عليهم حتى أغرقهم، وكانوا في ذلك ظالمين لأنفسهم بتكذيبهم نبيهم.
PickthallAnd We rescued him and those with him in the ship, and made of it a portent for the peoples.
Yusuf AliBut We saved him and the companions of the Ark, and We made the (Ark) a Sign for all peoples!
The agreed readingAnd God saved Noah and those who were with him in the ship, and made it a sign for all the worlds, a thing to take warning from and to reason by.
Urduپھر ہم نے نوح علیہ السلام کو اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار مومنوں کو بچا لیا، اور اس کشتی کو تمام جہان والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا جس سے وہ عبرت اور دلیل حاصل کرتے ہیں۔
Arabicفأنجينا نوحا عليه السلام والذين كانوا معه في السفينة من المؤمنين، وجعلنا هذه السفينة الناجية آية وعبرة لجميع أهل العالمين يعتبرون بها ويستدلون بها على قدرة الله.
PickthallAnd Abraham! (Remember) when he said unto his folk: Serve Allah, and keep your duty unto Him; that is better for you if ye did but know.
Yusuf AliAnd (We also saved) Abraham: behold, he said to his people, "Serve Allah and fear Him: that will be best for you- If ye understand!
The agreed readingAnd Abraham, when he said to his people: worship God and be mindful of God. That is better for you than what you are on, the worship of idols, if you knew good from anything else.
Urduاور ابراہیم علیہ السلام کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور بتوں کی عبادت چھوڑ کر اس سے ڈرو، یہ توحید اور تقوی تمہارے لیے اس بت پرستی سے بہتر ہے جس پر تم ہو، اگر تم حق اور باطل کو جانتے ہو۔
Arabicواذكر إبراهيم عليه السلام حين قال لقومه: اعبدوا الله وحده واتقوه بترك عبادة الأصنام، ذلك التوحيد والتقوى خير لكم من عبادة هذه الأوثان التي تعبدونها، إن كنتم تعلمون الحق من الباطل.
PickthallYe serve instead of Allah only idols, and ye only invent a lie. Lo! those whom ye serve instead of Allah own no provision for you. So seek your provision from Allah, and serve Him, and give thanks unto Him, (for) unto Him ye will be brought back.
Yusuf Ali"For ye do worship idols besides Allah, and ye invent falsehood. The things that ye worship besides Allah have no power to give you sustenance: then seek ye sustenance from Allah, serve Him, and be grateful to Him: to Him will be your return.
The agreed readingYou worship only idols besides God, and you make up a lie in calling them gods and claiming they will intercede for you with God. Those you worship besides God own no provision to give you. So seek provision from God, and worship Him, and give Him thanks. To Him you will be returned.
Urduتم اللہ کے سوا صرف ایسے بتوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ کچھ فائدہ دیتے ہیں، اور تم جھوٹ گھڑتے ہو جب انہیں معبود کہتے ہو اور دعوی کرتے ہو کہ وہ اللہ کے پاس تمہاری سفارش کریں گے۔ یہ بت جن کی تم عبادت کرتے ہو تمہیں رزق دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، پس رزق صرف اللہ سے مانگو، اور اسی کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو، آخرکار اسی کی طرف تمہیں لوٹنا ہے۔
Arabicإنما تعبدون من دون الله أصناما لا تسمع ولا تبصر ولا تنفع، وتختلقون كذبا حين تسمونها آلهة وتزعمون أنها تشفع لكم عند الله. إن هذه الأصنام التي تعبدونها من دون الله لا تملك لكم رزقا تعطيكموه، فاطلبوا الرزق من عند الله وحده، واعبدوه واشكروا له نعمه، فإليه وحده مصيركم ورجوعكم يوم القيامة.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Sahl b. Sa'd as-Sa'idi reported:I was in the company of Allah's Messenger (ﷺ) that he gave a description of Paradise and then Allah's Apostle (ﷺ) concluded with these words: There would be bounties which the eye has not seen and the ear has not heard and no human heart has ever perceived them. He then recited this verse:" They forsake (their) beds, calling upon their Lord in fear and in hope, and spend out of what We have given them. So no soul knows what refreshment of the eyes is hidden for them: a reward for what they did" (xxxii)
ابوحازم نے کہا : میں نے حضر ت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں حاضر ہوا جس میں آپ نے جنت کی صفت بیان کی حتیٰ کہ آ پ نے بات ختم کی ۔ پھر اپنی بات کے آخر میں فرمایا : " اس ( جنت ) میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ۔ " پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : " ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں وہ خوف کے عالم میں اور پوری امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے اس میں سے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کر تے ہیں ۔ پس کوئی ذی حیات ( انسان ) نہیں جانتا کہ جو وہ کرتے ہیں اس کے صلے میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کےلیے کیا ( کچھ ) چھپا کررکھا گیاہے ۔
2 - قال: أخبرني أبو بكر محمد بن عمر الجعابي قال: حدثنا عبد الكريم ابن محمد قال: حدثنا سهل بن زنجلة الرازي قال: حدثنا ابن أبي أويس قال: حدثني أبي، عن حميد بن قيس، عن عطاء ، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: يا بني عبد المطلب إني سألت الله لكم أن يعلم جاهلكم، وأن يثبت قائمكم، وأن يهدي ضالكم، وأن يجعلكم نجداء جوداء رحماء، أما والله لو أن رجلا صف قدميه بين الركين والمقام مصليا ولقي الله ببغضكم أهل البيت لدخل النار.
2. He said: Abu Bakr Muhammad ibn Umar al-Ji’abi reported to me from Abdul Karim ibn Muhammad, who reported from Sahl ibn Zanjalah al-Razi, who reported from ibn Abi Uways, who reported from his father, who reported from Hamid ibn Qais, from Ata from Ibn Abbas, who reported that: The Prophet, peace be upon him and his progeny, said: "O Children of Abdul Muttalib! I have beseeched Allah to convert the ignorant among you into learned men, and to make you steadfast in your stand, and to guide those of you who are gone astray; and to make you brave, generous and kind. By Allah, if a person were to offer prayers between al-Rukn and al-Maqam (around holy Ka’bah), but at the same time die with …
کہا: اخبار دیا ابو بکر محمد بن عمر الجعابی نے، کہا ہمیں حدیث سنائی عبدالکریم بن محمد نے، کہا ہمیں حدیث سنائی سہل بن زنجلہ الرازی نے، کہا ہمیں حدیث سنائی ابن ابی اویس نے، کہا ہمیں حدیث سنائی میرے باپا نے، حمید بن قیس سے، عطاء سے، ابن عباس سے، کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اے بنی عبدالمطلب! میں نے اللہ سے سوال کیا ہے کہ وہ تمہارے جاہلوں کو عالم بنائے، اور تمہارے قائموں کو ثابت رکھے، اور تمہارے ضالوں کو ہدایت دے، اور تمہیں شجاع، سخی اور شفیق بنائے۔ واللہ اگر ایک آدمی رکن اور مقام کے درمیان نماز پڑھے لیکن اہل بیت سے بغض رکھتے ہوئے اللہ سے ملے تو جہنم میں جائے گا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallBut if ye deny, then nations have denied before you. The messenger is only to convey (the message) plainly.
Yusuf Ali"And if ye reject (the Message), so did generations before you: and the duty of the messenger is only to preach publicly (and clearly)."
The agreed readingAnd if you call it a lie, communities before you called it a lie, and their doing so harmed no one but themselves. The messenger has nothing laid on him but to deliver the message plainly.
Urduاور اگر تم مشرک لوگ اس پیغام کو جھٹلاؤ تو تم سے پہلے بھی بہت سی امتوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا، اور اس سے انہوں نے صرف اپنا ہی نقصان کیا۔ اور رسول پر پیغام کو صاف صاف پہنچانے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں، اسے تمہیں ایمان پر مجبور کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔
Arabicوإن تكذبوا أيها المشركون بهذه الرسالة، فقد كذبت أمم كثيرة من قبلكم رسلها، ولم يضروا بذلك إلا أنفسهم. وما على الرسول من واجب سوى تبليغ الرسالة تبليغا واضحا لا لبس فيه، وليس عليه أن يجبركم على الإيمان.
PickthallSee they not how Allah produceth creation, then reproduceth it? Lo! for Allah that is easy.
Yusuf AliSee they not how Allah originates creation, then repeats it: truly that is easy for Allah.
The agreed readingHave they not looked at how God begins the creation and then repeats it? That is an easy thing for God.
Urduکیا ان مشرکوں نے عبرت کی نظر سے نہیں دیکھا کہ اللہ کیسے مخلوق کو پہلی بار عدم سے پیدا کرتا ہے پھر ان کے فنا ہونے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ پیدا کر دیتا ہے؟ بیشک یہ دوبارہ پیدا کرنا اللہ کی قدرت پر بہت آسان ہے۔
Arabicأولم ينظر هؤلاء المشركون بعين الاعتبار كيف يبدأ الله خلق المخلوقات من العدم ثم يعيدها بعد فنائها يوم القيامة؟ إن هذا الإعادة بعد الإبداء أمر يسير هين على قدرة الله.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallSay (O Muhammad): Travel in the land and see how He originated creation, then Allah bringeth forth the later growth. Lo! Allah is Able to do all things.
Yusuf AliSay: "Travel through the earth and see how Allah did originate creation; so will Allah produce a later creation: for Allah has power over all things.
The agreed readingSay: travel through the land and see how God began the creation of those who came before you, and how He brought them to their end. Then God raises up the later growth. God is able to do everything.
Urduاے نبی! ان سے کہہ دیں کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے پہلی امتوں کی تخلیق کیسے شروع کی اور ان کا انجام کیا ہوا، پھر اللہ اس کے بعد آخری بار دوبارہ پیدا کرے گا، بیشک اللہ زندہ اور مردہ کرنے پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
Arabicقل لهم أيها النبي: سيروا في الأرض بأبدانكم وتفكروا بعقولكم فانظروا كيف بدأ الله خلق الأمم السابقة وكيف كان مآلها وهلاكها، ثم إن الله بعد ذلك ينشئ النشأة الآخرة يوم القيامة، إن الله على كل شيء من الإحياء والإماتة قدير لا يعجزه شيء.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallHe punisheth whom He will and showeth mercy unto whom He will, and unto Him ye will be turned.
Yusuf Ali"He punishes whom He pleases, and He grants Mercy to whom He pleases, and towards Him are ye turned.
The agreed readingHe punishes whom He wills and shows mercy to whom He wills, and it is to Him that you will be turned back.
Urduاللہ اپنے نافرمان بندوں میں سے جسے چاہے اپنے عدل سے سزا دیتا ہے، اور جسے چاہے اپنے فضل سے رحم کرتا ہے، اور تم سب کو آخرکار اسی کی طرف پلٹنا ہے نہ کہ کسی اور کی طرف۔
Arabicيعذب الله سبحانه من يشاء من عباده العصاة المذنبين بعدله وحكمته، ويرحم من يشاء منهم بفضله وكرمه الواسع، وإليه وحده ترجعون وتقلبون جميعا يوم القيامة لا إلى أحد غيره.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallYe cannot escape (from Him) in the earth or in the sky, and beside Allah there is for you no friend or helper.
Yusuf Ali"Not on earth nor in heaven will ye be able (fleeing) to frustrate (his Plan), nor have ye, besides Allah, any protector or helper."
The agreed readingAnd you cannot get beyond God's reach, not in the earth and not in the sky, were you to be there. And you have no protector and no helper besides God.
Urduاور تم نہ زمین میں اللہ کو عاجز کر سکتے ہو اگرچہ تم اس میں بھاگنے کی کوشش کرو، اور نہ آسمان میں اگر تم وہاں چڑھ سکتے، اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز اور نہ کوئی مددگار ہے جو تمہیں اس کے عذاب سے بچا سکے۔
Arabicوما أنتم بمعجزين لله ولا فائتين حكمه لا في الأرض ولو حاولتم الفرار فيها، ولا في السماء لو استطعتم الصعود إليها، وما لكم من دون الله من ولي يتولى أمركم ولا نصير ينصركم من عذابه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallThose who disbelieve in the revelations of Allah and in (their) Meeting with Him, such have no hope of My mercy. For such there is a painful doom.
Yusuf AliThose who reject the Signs of Allah and the Meeting with Him (in the Hereafter),- it is they who shall despair of My Mercy: it is they who will (suffer) a most grievous Penalty.
The agreed readingAnd those who refuse God's signs and refuse that they will meet Him have given up all hope of His mercy and of the Garden, and there is a painful punishment waiting for them.
Urduاور جن لوگوں نے اللہ کی واضح آیات کا انکار کیا اور اس سے ملاقات یعنی قیامت کو جھٹلایا، وہی لوگ اللہ کی رحمت اور جنت میں داخلے سے مایوس ہیں، اور انہی کے لیے آخرت میں دردناک عذاب تیار ہے۔
Arabicوالذين كفروا بآيات الله الواضحة وكذبوا بلقائه يوم القيامة، أولئك قنطوا وأيسوا من رحمة الله ودخول جنته، وأولئك لهم عذاب مؤلم شديد ينتظرهم في الآخرة.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ هَذِهِ الآيَةَ {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُسَيْطِرُونَ} كَادَ قَلْبِي أَنْ يَطِيرَ. قَالَ سُفْيَانُ فَأَمَّا أَنَا فَإِنَّمَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. …
Narrated Jubair bin Mut`im:I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat at-Tur in the Maghrib prayer, and when he reached the Verse: 'Were they created by nothing, Or were they themselves the creators, Or did they create the Heavens and the Earth? Nay, but they have no firm belief Or do they own the treasures of Your Lord? Or have they been given the authority to do as they like...' (52.35-37) my heart was about to fly (when I realized this firm argument)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ …
PickthallBut the answer of his folk was only that they said: "Kill him" or "Burn him." Then Allah saved him from the Fire. Lo! herein verily are portents for folk who believe.
Yusuf AliSo naught was the answer of (Abraham's) people except that they said: "Slay him or burn him." But Allah did save him from the Fire. Verily in this are Signs for people who believe.
The agreed readingHis people had no answer but to say: kill him, or burn him. The proof had been made plain against them and they had nothing left but force. Then God saved him from the fire, making it cool and safe for him. In that there are signs for a people who believe.
Urduتو ابراہیم علیہ السلام کی واضح دلیل کے سامنے ان کی قوم کا جواب صرف یہ تھا کہ کہا کہ اسے قتل کر دو یا جلا دو، کیونکہ وہ دلیل کا جواب دینے سے عاجز آ گئے تو طاقت کا سہارا لیا۔ تو اللہ نے انہیں اس آگ سے بچا لیا اور اسے ان پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا۔ بیشک اس واقعے میں ایمان لانے والی قوم کے لیے بڑی نشانیاں اور عبرتیں ہیں۔
Arabicفما كان جواب قوم إبراهيم عليه السلام على حجته الواضحة إلا أن قالوا: اقتلوه أو أحرقوه بالنار، لأنهم عجزوا عن الرد بالحجة فلجأوا إلى القوة. فأنجاه الله من تلك النار بأن جعلها بردا وسلاما عليه. إن في هذه القصة لآيات وعبرا واضحة لقوم يصدقون بالله ويؤمنون به.
PickthallHe said: Ye have chosen only idols instead of Allah. The love between you is only in the life of the world. Then on the Day of Resurrection ye will deny each other and curse each other, and your abode will be the Fire, and ye will have no helpers.
Yusuf AliAnd he said: "For you, ye have taken (for worship) idols besides Allah, out of mutual love and regard between yourselves in this life; but on the Day of Judgment ye shall disown each other and curse each other: and your abode will be the Fire, and ye shall have none to help."
The agreed readingHe said: you have taken up idols instead of God only for the affection that holds you together in this life, loving one another over the worship of them. Then on the Day of Rising you will deny one another and curse one another, your refuge will be the Fire, and you will have no helpers.
Urduاور ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ تم نے اللہ کے سوا صرف اس محبت اور الفت کی وجہ سے بت بنا لیے ہیں جو تمہیں دنیا کی زندگی میں ان کی مشترکہ عبادت سے آپس میں جوڑتی ہے، پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے، اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہوگی اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
Arabicوقال إبراهيم عليه السلام لقومه: إنما اتخذتم من دون الله أصناما تعبدونها لمجرد المودة والألفة التي تجمعكم عليها في الحياة الدنيا، فتحبون بعضكم بعضا بسبب عبادتها معا، ثم يوم القيامة يتبرأ بعضكم من بعض ويلعن بعضكم بعضا، وتصيرون إلى النار مأوى لكم، وما لكم من أحد ينصركم من عذابها.
PickthallAnd Lot believed him, and said: Lo! I am a fugitive unto my Lord. Lo! He, only He, is the Mighty, the Wise.
Yusuf AliBut Lut had faith in Him: He said: "I will leave home for the sake of my Lord: for He is Exalted in Might, and Wise."
The agreed readingAnd Lot believed him. And Abraham said: I am leaving my people and emigrating to my Lord. He is the Mighty, the Wise.
Urduتو لوط علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے اور انہیں سچا مانا، اور ابراہیم نے کہا کہ میں اپنی قوم کو چھوڑ کر اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں جہاں اس نے مجھے حکم دیا، بیشک وہ اپنے ملک میں زبردست غالب اور اپنی تدبیر و شریعت میں حکمت والا ہے۔
Arabicفآمن بإبراهيم عليه السلام وصدقه لوط عليه السلام، وقال إبراهيم: إني تارك قومي مهاجر إلى ربي حيث أمرني بالخروج من أرضهم، إنه هو العزيز الغالب في ملكه، الحكيم في تدبيره وشرعه.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
‘Abd Allaah bin ‘Amr said “ I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say “There will be emigration after emigration and the people who are best will be those who cleave most closely to places which Abraham migrated. The worst of its people will remain in the earth cast out by their lands, abhorred by Allaah, collected along with apes and swine by fire.””
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی تو زمین والوں میں بہتر وہ لوگ ہوں گے جو ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ ( شام ) کو لازم پکڑیں گے، اور زمین میں ان کے بدترین لوگ رہ جائیں گے، ان کی سر زمین انہیں باہر پھینک دے گی ۱؎ اور اللہ کی ذات ان سے گھن کرے گی اور آگ انہیں بندروں اور سوروں کے ساتھ اکٹھا کرے گی ۲؎ ۔
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمِ السَّلاَمُ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "The honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, (was) Joseph, the son of Jacob, the son of Isaac, the son of Abraham
مجھے عبدہ بن عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شریف بن شریف بن شریف بن شریف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔“
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no one more truthful, that the sky has shaded and the earth has carried, than Abu Dharr
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے اپنے اوپر کسی کو پناہ دی جو ابوذر رضی الله عنہ سے زیادہ سچا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء اور ابوذر سے حدیثیں آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ وَلاَ أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ لَهْجَةً مِنْ أَبِي ذَرٍّ " .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"I heard the Messenger of Allah say: 'There is no one on earth, or under the sky, who speaks more truthfully than Abu Dharr
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: زمین نے کسی ایسے شخص کو نہ اٹھایا، اور نہ آسمان اس پر سایہ فگن ہوا جو ابوذر سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا ہو ۔
PickthallAnd We bestowed on him Isaac and Jacob, and We established the prophethood and the Scripture among his seed, and We gave him his reward in the world, and lo! in the Hereafter he verily is among the righteous.
Yusuf AliAnd We gave (Abraham) Isaac and Jacob, and ordained among his progeny Prophethood and Revelation, and We granted him his reward in this life; and he was in the Hereafter (of the company) of the Righteous.
The agreed readingAnd God gave him Isaac, and Jacob after him, and placed prophethood and the Book in his offspring, so that every prophet after Abraham came from his line. God gave him his reward in this world, and in the world to come he is among the righteous.
Urduاور ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق اور پھر ان کے بعد یعقوب عطا کیے، اور ان کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی یہاں تک کہ ابراہیم کے بعد آنے والا ہر نبی انہی کی نسل سے تھا، اور ہم نے انہیں دنیا میں ان کا اجر اور اچھی تعریف عطا کی، اور بیشک وہ آخرت میں نیک اور مقرب لوگوں میں سے ہیں۔
Arabicووهبنا لإبراهيم عليه السلام إسحاق ثم من بعده يعقوب، وجعلنا في نسله وذريته النبوة والكتاب، حتى إن كل نبي جاء بعد إبراهيم كان من صلبه، وأعطيناه أجره وثناءه الحسن في الدنيا، وإنه في الآخرة لمن الصالحين المقربين عند الله.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
‘Abd Allaah bin ‘Amr said “ I heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say “There will be emigration after emigration and the people who are best will be those who cleave most closely to places which Abraham migrated. The worst of its people will remain in the earth cast out by their lands, abhorred by Allaah, collected along with apes and swine by fire.””
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی تو زمین والوں میں بہتر وہ لوگ ہوں گے جو ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ ( شام ) کو لازم پکڑیں گے، اور زمین میں ان کے بدترین لوگ رہ جائیں گے، ان کی سر زمین انہیں باہر پھینک دے گی ۱؎ اور اللہ کی ذات ان سے گھن کرے گی اور آگ انہیں بندروں اور سوروں کے ساتھ اکٹھا کرے گی ۲؎ ۔
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمِ السَّلاَمُ ".
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "The honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, (was) Joseph, the son of Jacob, the son of Isaac, the son of Abraham
مجھے عبدہ بن عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شریف بن شریف بن شریف بن شریف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔“
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no one more truthful, that the sky has shaded and the earth has carried, than Abu Dharr
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے اپنے اوپر کسی کو پناہ دی جو ابوذر رضی الله عنہ سے زیادہ سچا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء اور ابوذر سے حدیثیں آئی ہیں۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ وَلاَ أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ لَهْجَةً مِنْ أَبِي ذَرٍّ " .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"I heard the Messenger of Allah say: 'There is no one on earth, or under the sky, who speaks more truthfully than Abu Dharr
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: زمین نے کسی ایسے شخص کو نہ اٹھایا، اور نہ آسمان اس پر سایہ فگن ہوا جو ابوذر سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا ہو ۔
Narrated Umm Hani:that regarding Allah's saying: '...And you practice evil in your meetings... (29:29) that the Prophet (ﷺ) said: "They would throw pebbles at people of the land and make a mockery of them
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اور ہم اسے صرف حاتم بن ابی صغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سماک سے روایت کرتے ہیں۔ اس سند سے سلیم بن اخضر نے حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
PickthallAnd Lot! (Remember) when he said unto his folk: Lo! ye commit lewdness such as no creature did before you.
Yusuf AliAnd (remember) Lut: behold, he said to his people: "Ye do commit lewdness, such as no people in Creation (ever) committed before you.
The agreed readingAnd Lot, when he said to his people: you commit an indecency that no one in all the worlds committed before you. The words carry astonishment and rejection together.
Urduاور لوط علیہ السلام کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بڑی بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے بھی نہیں کی، اور اس بات میں تعجب اور سخت انکار دونوں شامل ہیں۔
Arabicواذكر لوطا عليه السلام حين قال لقومه: إنكم لتفعلون الفاحشة العظيمة التي لم يسبقكم إليها أحد من أهل العالمين قبلكم، وهذا القول يحمل معنى التعجب من فعلهم والإنكار الشديد عليهم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Umm Hani:that regarding Allah's saying: '...And you practice evil in your meetings... (29:29) that the Prophet (ﷺ) said: "They would throw pebbles at people of the land and make a mockery of them
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اور ہم اسے صرف حاتم بن ابی صغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سماک سے روایت کرتے ہیں۔ اس سند سے سلیم بن اخضر نے حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
PickthallFor come ye not in unto males, and cut ye not the road (for travellers), and commit ye not abomination in your meetings? But the answer of his folk was only that they said: Bring Allah's doom upon us if thou art a truthteller!
Yusuf Ali"Do ye indeed approach men, and cut off the highway?- and practise wickedness (even) in your councils?" But his people gave no answer but this: they said: "Bring us the Wrath of Allah if thou tellest the truth."
The agreed readingDo you go to men, and cut the road, doing this to travellers who passed by until people stopped passing that way at all, and commit what is wrong openly in your gatherings? His people had no answer but to say: bring us God's punishment, if you are telling the truth.
Urduکیا تم مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو، اور مسافروں کا راستہ کاٹتے ہو یہاں تک کہ لوگوں نے تمہارے راستے سے گزرنا چھوڑ دیا، اور اپنی مجلسوں میں کھلے عام برا کام کرتے ہو؟ تو ان کی قوم کا جواب اس انکار پر صرف یہ تھا کہ کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ۔
Arabicأتفعلون هذه الفاحشة أن تأتوا الرجال شهوة من دون النساء، وتقطعون طريق المسافرين بهذا الفعل حتى امتنع الناس عن المرور من طريقكم، وتفعلون في مجالسكم المنكر جهارا أمام أعين الناس؟ فما كان جواب قومه على هذا الإنكار إلا أن قالوا: ائتنا بعذاب الله إن كنت من الصادقين في تهديدك.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Umm Hani:that regarding Allah's saying: '...And you practice evil in your meetings... (29:29) that the Prophet (ﷺ) said: "They would throw pebbles at people of the land and make a mockery of them
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اور ہم اسے صرف حاتم بن ابی صغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سماک سے روایت کرتے ہیں۔ اس سند سے سلیم بن اخضر نے حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
PickthallHe said: My Lord! Give me victory over folk who work corruption.
Yusuf AliHe said: "O my Lord! help Thou me against people who do mischief!"
The agreed readingHe said: my Lord, help me against the people who spread ruin. He asked that his word be made true and the punishment sent down. They are called those who spread ruin because what they did ruins the earth and cuts off any offspring from it.
Urduلوط علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے رب! ان فساد پھیلانے والے لوگوں کے خلاف میری مدد فرما، اور اس دعا سے انہوں نے یہ چاہا کہ اللہ اپنا وعدہ سچا کرے اور ان پر عذاب نازل فرمائے، اور انہیں مفسد اس لیے کہا گیا کہ ان کا یہ فعل زمین کو بگاڑتا اور اس سے نسل کو کاٹ دیتا ہے۔
Arabicقال لوط عليه السلام داعيا ربه: يا رب انصرني على هؤلاء القوم المفسدين، وقد طلب بهذه الدعوة أن يصدق الله وعده وينزل عليهم العذاب. وسموا مفسدين لأن فعلهم يفسد الأرض ويقطع النسل الذي كان يمكن أن يخرج منها.
PickthallAnd when Our messengers brought Abraham the good news, they said: Lo! we are about to destroy the people of that township, for its people are wrong-doers.
Yusuf AliWhen Our Messengers came to Abraham with the good news, they said: "We are indeed going to destroy the people of this township: for truly they are (addicted to) crime."
The agreed readingAnd when God's messengers came to Abraham with the good news of Isaac, and of Jacob after him, they said: we are going to destroy the people of this town, the town of Lot, for its people are wrongdoers.
Urduاور جب ہمارے فرشتے ابراہیم علیہ السلام کے پاس اسحاق کی پیدائش اور پھر ان کے بعد یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے، تو انہوں نے کہا کہ ہم لوط کی بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں، بیشک اس کے رہنے والے اپنی بے حیائی کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔
Arabicولما جاءت رسلنا من الملائكة إبراهيم عليه السلام بالبشرى بولادة إسحاق ثم يعقوب من بعده، قالوا له: إنا مهلكون أهل قرية لوط، إن أهلها كانوا ظالمين لأنفسهم بارتكابهم الفاحشة.
PickthallHe said: Lo! Lot is there. They said: We are best aware of who is there. We are to deliver him and his household, all save his wife, who is of those who stay behind.
Yusuf AliHe said: "But there is Lut there." They said: "Well do we know who is there: we will certainly save him and his following,- except his wife: she is of those who lag behind!"
The agreed readingHe said: but Lot is in it. He said it to turn the punishment away, since destroying the town's people would take him with them. They said: we know better than you who is in it. We will save him and his household, except his wife, who is of those who stay behind.
Urduابراہیم علیہ السلام نے لوط کو عذاب سے بچانے کے لیے کہا کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہیں، فرشتوں نے کہا کہ ہم آپ سے زیادہ جانتے ہیں کہ اس میں کون ہے، ہم انہیں اور ان کے گھر والوں کو ضرور بچا لیں گے سوائے ان کی بیوی کے، کیونکہ وہ اپنے کفر کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے ساتھ پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔
Arabicقال إبراهيم عليه السلام دفعا للعذاب عن لوط: إن فيها لوطا نبيا صالحا، قالت الملائكة: نحن أعلم منك بمن فيها من الناس، سننجيه هو وأهله من العذاب إلا امرأته، فإنها كانت من الباقين مع الهالكين لكفرها وموافقتها لقومها.
PickthallAnd when Our messengers came unto Lot, he was troubled upon their account, for he could not protect them; but they said: Fear not, nor grieve! Lo! we are to deliver thee and thy household, (all) save thy wife, who is of those who stay behind.
Yusuf AliAnd when Our Messengers came to Lut, he was grieved on their account, and felt himself powerless (to protect) them: but they said: "Fear thou not, nor grieve: we are (here) to save thee and thy following, except thy wife: she is of those who lag behind.
The agreed readingAnd when God's messengers came to Lot he was troubled on their account and felt himself powerless to protect them, for they had come in the form of guests and he feared what his people would do. They said: do not fear and do not grieve. We are going to save you and your household, except your wife, who is of those who stay behind.
Urduاور جب فرشتے مہمانوں کی خوبصورت صورت میں لوط علیہ السلام کے پاس آئے، تو ان کے آنے سے وہ پریشان ہوئے اور ان کے بارے میں تنگ دل ہوئے کیونکہ انہیں اپنی قوم سے ڈر تھا جو مہمان مردوں کے ساتھ بدفعلی کا ارادہ رکھتے تھے۔ تو فرشتوں نے کہا کہ ہم پر خوف اور غم نہ کرو، ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے سوائے تمہاری بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ رہ جائے گی۔
Arabicولما جاءت الملائكة رسلا إلى لوط عليه السلام في صورة ضيوف حسان الوجوه، ساءه مجيئهم وضاق صدره بهم لأنه خاف عليهم من قومه الذين كانوا يقصدون أضياف الرجال بالفاحشة. فقالت له الملائكة: لا تخف علينا ولا تحزن، إنا سننجيك أنت وأهلك من العذاب إلا امرأتك، فإنها ستبقى مع الهالكين.
PickthallLo! We are about to bring down upon the folk of this township a fury from the sky because they are evil-livers.
Yusuf Ali"For we are going to bring down on the people of this township a Punishment from heaven, because they have been wickedly rebellious."
The agreed readingWe are bringing down on the people of this town a punishment out of the sky, for the way they had left obedience.
Urduبیشک ہم اس بستی کے رہنے والوں پر آسمان سے ایک سخت عذاب اتارنے والے ہیں، اس نافرمانی اور بے حیائی کی وجہ سے جس پر وہ قائم تھے۔
Arabicإنا نازلون ومنزلون على أهل هذه القرية عذابا شديدا أليما نازلا من السماء، بسبب ما كانوا مستمرين عليه من خروج عن طاعة الله وارتكاب الفاحشة الشنيعة.
PickthallAnd verily of that We have left a clear sign for people who have sense.
Yusuf AliAnd We have left thereof an evident Sign, for any people who (care to) understand.
The agreed readingAnd God has left of that town a clear sign, the traces of its ruin, for a people who use their reason and take the warning from it.
Urduاور ہم نے اس تباہ شدہ بستی سے ایک واضح نشانی اور علامت باقی رکھی جو اس کے رہنے والوں پر آنے والے عذاب کی گواہی دیتی ہے، ان لوگوں کے لیے جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔
Arabicولقد أبقينا وتركنا من تلك القرية المدمرة الخربة أثرا واضحا بينا وعلامة ظاهرة تدل على ما حل بأهلها من عقاب، وذلك لقوم يستعملون عقولهم في التفكر ويعتبرون بها اعتبارا صادقا.
PickthallAnd unto Midian We sent Shu'eyb, their brother. He said: O my people! Serve Allah, and look forward to the Last Day, and do not evil, making mischief, in the earth.
Yusuf AliTo the Madyan (people) (We sent) their brother Shu'aib. Then he said: "O my people! serve Allah, and fear the Last Day: nor commit evil on the earth, with intent to do mischief."
The agreed readingAnd to Midian God sent their brother Shuayb. He said: my people, worship God and look for the Last Day, believing that you will be returned to Him. And do not go about the earth spreading ruin.
Urduاور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب علیہ السلام کو بھیجا، تو انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو، اور آخرت کے دن کی امید رکھو اور اس کے لیے ایمان کے ساتھ تیاری کرو کہ تمہیں اسی کی طرف لوٹنا ہے، اور زمین میں گناہوں، ظلم اور راستے کاٹنے اور ناپ تول میں کمی کر کے فساد نہ پھیلاؤ۔
Arabicوأرسلنا إلى أهل مدين أخاهم شعيبا عليه السلام، فقال: يا قوم اعبدوا الله وحده، وارجوا ثواب اليوم الآخر واستعدوا له بالإيمان بأنكم إليه راجعون، ولا تفسدوا في الأرض بالمعاصي والظلم وقطع الطريق ونقص الميزان.
PickthallBut they denied him, and the dreadful earthquake took them, and morning found them prostrate in their dwelling place.
Yusuf AliBut they rejected him: Then the mighty Blast seized them, and they lay prostrate in their homes by the morning.
The agreed readingBut they called him a liar, and the great shaking took them, and morning found them in their homes brought down on their knees, dead and unmoving.
Urduتو مدین والوں نے شعیب علیہ السلام کو جھٹلایا اور ان کی بات نہ مانی، تو انہیں شدید زلزلے نے آ پکڑا، اور صبح ہوئی تو وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل مردہ اور بے حس و حرکت پڑے تھے۔
Arabicفكذب أهل مدين شعيبا عليه السلام ولم يصدقوه فيما دعاهم إليه، فأخذتهم الرجفة الشديدة، وهي زلزلة عظيمة هزت الأرض من تحتهم، فأصبحوا صرعى ميتين ساقطين على ركبهم في ديارهم لا حراك بهم.
PickthallAnd (the tribes of) A'ad and Thamud! (Their fate) is manifest unto you from their (ruined and deserted) dwellings. Satan made their deeds seem fair unto them and so debarred them from the Way, though they were keen observers.
Yusuf Ali(Remember also) the 'Ad and the Thamud (people): clearly will appear to you from (the traces) of their buildings (their fate): the Evil One made their deeds alluring to them, and kept them back from the Path, though they were gifted with intelligence and skill.
The agreed readingAnd ʿAd and Thamud, and what became of them is plain to you from the dwellings they left behind. Satan made their deeds look beautiful to them and turned them off the road, and this although they were people with sight and understanding.
Urduاور ہم نے قوم عاد اور ثمود کو بھی ہلاک کیا، اور تمہارے سامنے ان کے انجام کی حقیقت ان کے ویران گھروں کے آثار سے واضح ہو چکی ہے، اور شیطان نے ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں خوبصورت بنا کر انہیں سیدھے راستے سے روک دیا، حالانکہ وہ عقل و بصیرت رکھنے والے لوگ تھے اگر وہ چاہتے۔
Arabicوأهلكنا أيضا قوم عاد وثمود، وقد ظهر لكم عاقبة أمرهم من آثار مساكنهم الخربة الباقية إلى اليوم، وزين لهم الشيطان أعمالهم القبيحة فحسنها في أعينهم، فصدهم بذلك عن طريق الحق، وكانوا مع ذلك أهل بصيرة وعقل يستطيعون التمييز بين الحق والباطل لو أرادوا.
PickthallAnd Korah, Pharaoh and Haman! Moses came unto them with clear proofs (of Allah's Sovereignty), but they were boastful in the land. And they were not winners (in the race).
Yusuf Ali(Remember also) Qarun, Pharaoh, and Haman: there came to them Moses with Clear Signs, but they behaved with insolence on the earth; yet they could not overreach (Us).
The agreed readingAnd Korah and Pharaoh and Haman. Moses came to them with plain proofs, and they made themselves great in the land. But they never got ahead of God, and nothing they did put them beyond His punishment.
Urduاور ہم نے قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی ہلاک کیا، اور موسی علیہ السلام ان کے پاس ان کی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے، تو انہوں نے زمین میں تکبر اور ضد کی، اور وہ اللہ سے آگے نکل کر اس کے عذاب سے بچنے والے نہ تھے۔
Arabicوأهلكنا قارون وفرعون وهامان، ولقد جاءهم موسى عليه السلام بالمعجزات الواضحات الدالة على صدقه، فتكبروا وتجبروا في الأرض عنادا وعتوا، وما كانوا سابقين لله ولا فائتين عذابه بأي وسيلة.
PickthallSo We took each one in his sin; of them was he on whom We sent a hurricane, and of them was he who was overtaken by the (Awful) Cry, and of them was he whom We caused the earth to swallow, and of them was he whom We drowned. It was not for Allah to wrong them, but they wronged themselves.
Yusuf AliEach one of them We seized for his crime: of them, against some We sent a violent tornado (with showers of stones); some were caught by a (mighty) Blast; some We caused the earth to swallow up; and some We drowned (in the waters): It was not Allah Who injured (or oppressed) them:" They injured (and oppressed) their own souls.
The agreed readingSo God seized each of them for his own sin. Against some He sent a storm wind carrying stones; some were taken by the Cry; some the earth swallowed; and some were drowned. Each punishment answered the crime. God did not wrong them; it was they who wronged themselves.
Urduتو ہم نے ان میں سے ہر ایک کو اس کے اپنے گناہ کی وجہ سے پکڑا، ان میں سے کسی پر ہم نے پتھر برسانے والی آندھی بھیجی جیسے قوم لوط، اور کسی کو زوردار چیخ نے پکڑا جیسے ثمود، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا جیسے قارون، اور کسی کو غرق کر دیا جیسے فرعون۔ اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔
Arabicفكل واحد من هؤلاء المذكورين أخذناه بذنبه الخاص به، فمنهم من أرسلنا عليه ريحا شديدة تحمل الحجارة كقوم لوط، ومنهم من أخذته الصيحة العظيمة كثمود، ومنهم من خسفنا به الأرض كقارون، ومنهم من أغرقناه كفرعون. وما كان الله ليظلمهم بهذا العذاب، ولكنهم كانوا يظلمون أنفسهم بمعاصيهم.
PickthallThe likeness of those who choose other patrons than Allah is as the likeness of the spider when she taketh unto herself a house, and lo! the frailest of all houses is the spider's house, if they but knew.
Yusuf AliThe parable of those who take protectors other than Allah is that of the spider, who builds (to itself) a house; but truly the flimsiest of houses is the spider's house;- if they but knew.
The agreed readingThe likeness of those who take protectors besides God, hoping for benefit from idols, is the likeness of the spider that made itself a house to shelter in. And the frailest of all houses is the spider's house, if only they knew it.
Urduان لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا ایسے معبود بنا لیے جن سے فائدے کی امید رکھی، مکڑی جیسی ہے جس نے اپنے لیے ایک گھر بنایا جس میں وہ پناہ لیتی ہے، اور بیشک سب گھروں میں سب سے کمزور اور ناتواں مکڑی کا گھر ہی ہے، کاش وہ اس چیز کی کمزوری کو جان لیتے جس سے انہوں نے تعلق جوڑا۔
Arabicمثل هؤلاء الذين اتخذوا من دون الله معبودات يتولونها رجاء نفعها، كمثل العنكبوت التي اتخذت لنفسها بيتا تحتمي فيه، وإن أضعف البيوت وأوهنها لا يقي من حر ولا برد هو بيت العنكبوت، فلو كانوا يعلمون ضعف ما تعلقوا به لما اتخذوه.
PickthallLo! Allah knoweth what thing they invoke instead of Him. He is the Mighty, the Wise.
Yusuf AliVerily Allah doth know of (every thing) whatever that they call upon besides Him: and He is Exalted (in power), Wise.
The agreed readingGod knows whatever it is they call on besides Him. He is the Mighty in His kingdom, and the Wise.
Urduبیشک اللہ جانتا ہے کہ یہ مشرک اس کے سوا کس چیز کو پکارتے ہیں، خواہ وہ بت ہو یا کچھ اور، اس سے کچھ پوشیدہ نہیں، اور وہ اپنے ملک میں زبردست غالب اور اپنی تدبیر و شریعت میں حکمت والا ہے۔
Arabicإن الله يعلم أي شيء يدعوه هؤلاء المشركون من دونه، صنما كان أو غيره، لا يخفى عليه شيء من ذلك، وهو العزيز الغالب في ملكه، الحكيم في تدبيره وشرعه.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Mu'adh bin Jabal:"I accompanied the Prophet (ﷺ) on a journey. One day I was near him while we were moving so I said: 'O Messenger of Allah! Inform me about an action by which I will be admitted into Paradise, and which will keep me far from the Fire.' He said: 'You have asked me about something great, but it is easy for whomever Allah makes it easy: Worship Allah and do not associate any partners with Him, establish the Salat, give the Zakat, fast Ramadan and perform Hajj to the HOuse.' Then he said: 'Shall I not guide you to the doors of good? Fasting is a shield, and charity extinguishes sins like water extinguishes fire - and a man's praying in depths of the night.'" He said: …
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک دن صبح کے وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوا، ہم سب چل رہے تھے، میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے، اور جہنم سے دور رکھے؟ آپ نے فرمایا: ”تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے۔ اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ آسان کر دے۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو، اور بیت اللہ کا حج کرو“۔ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے ( راستے ) نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز …
That was narrated to us by Al-Qasim bin Dinar Al-Kufi (who said):“Ishaq bin Mansur narrated to us, from Isra’il” with this (Another chain) Bilal narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Hold fast to Qiyam al-Lail, for it is the practice of the righteous before you, and indeed Qiyam al-Lail is a means of nearness to Allah, a means of prevention from sin, an expiation for bad deeds, and a barrier for the body against disease.”
یہ حدیث اسرائیل نے بھی عبدالرحمٰن بن ابوبکر سے روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ نے فرمایا: ”اللہ سے جو چیزیں بھی مانگی جاتی ہیں ان میں اللہ کو عافیت سے زیادہ محبوب کوئی چیز بھی نہیں ہے“۔
Abu Huraira reported:One day the Messenger of Allah (ﷺ) appeared before the public so a man came to him and then said: Prophet of Allah, what is Iman? Upon this he (the Holy Prophet) replied: That you affirm your faith in Allah, His angels, His Books, His meeting, His Messengers and that you affirm your faith in the Resurrection hereafter. He said: Messenger of Allah, what is al-Islam? He replied: Al-Islam is that you worship Allah and do not associate anything with Him and you establish obligatory prayer and you pay the obligatory alms (Zakat) and you observe the fast of Ramadan. He said: Messenger of Allah, what is al-Ihsan? He replied: That you worship Allah as if you are seeing Him, and …
اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) نے ابو حیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کے سامنے ( تشریف فرما ) تھے ، ایک آدمی آپﷺ کے پاس آیا اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، ( قیامت کے روز ) اس سے ملاقات ( اس کے سامنے حاضری ) اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور آخری ( بار زندہ ہو کر ) اٹھنے پر ( بھی ) ایمان لے آؤ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’اسلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ، لکھی ( فرض کی ) گئی نمازوں کی پابندی کرو ، فرض کی گئی زکاۃ ادا کرو …
PickthallAs for these similitudes, We coin them for mankind, but none will grasp their meaning save the wise.
Yusuf AliAnd such are the Parables We set forth for mankind, but only those understand them who have knowledge.
The agreed readingAnd these likenesses God sets out for people, and no one understands them except those who know, who turn them over and reflect on them.
Urduاور یہ مثالیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے معانی ان کے ذہنوں کے قریب ہو جائیں، انہیں صرف وہی علم والے لوگ سمجھتے ہیں جو ان پر غور و فکر کرتے ہیں۔
Arabicوهذه الأمثال المضروبة التي نضربها للناس جميعا ليقربوا بها المعاني الدقيقة إلى أذهانهم، وما يفهمها حق الفهم ويدرك مغزاها الحقيقي إلا أهل العلم الراسخين الذين يتدبرونها طويلا ويتفكرون في معانيها العميقة.
PickthallAllah created the heavens and the earth with truth. Lo! therein is indeed a portent for believers.
Yusuf AliAllah created the heavens and the earth in true (proportions): verily in that is a Sign for those who believe.
The agreed readingGod created the heavens and the earth truly, and not for nothing. In that there is a sign pointing to His power, and the believers are named here because they are the ones who take it as one.
Urduاللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق اور حکمت کے ساتھ پیدا کیا، نہ کہ عبث اور کھیل کے طور پر، بیشک اس تخلیق میں اللہ کی عظیم قدرت کی واضح نشانی ہے، اور مومنوں کا خاص ذکر اس لیے کیا گیا کہ وہی اس نشانی پر غور کرتے اور اس سے عبرت پکڑتے ہیں۔
Arabicخلق الله السماوات والأرض خلقا مقترنا بالحق والحكمة، لا عبثا ولا لهوا، إن في خلقهما لعلامة واضحة تدل على قدرة الله العظيمة، وخص المؤمنين بالذكر لأنهم هم الذين يتدبرون هذه العلامة ويعتبرون بها.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Abu Darda that the Prophet(ﷺ) said:"Shall I not tell you of the best of your deeds, the most pleasing to your Sovereign, those that raise you most in status, that are better than your gold and silver, or meeting you enemy (in battle) and you strike their necks and they strike your necks?" They said: " WHat is that, O Messenger of Allah?" He said: "Remembering Allah(Dhikr)
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل ہو، اور تمہارے مالک کو سب سے زیادہ محبوب ہو، اور تمہارے درجات کو بلند کرتا ہو، اور تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے اور دشمن سے ایسی جنگ کرنے سے کہ تم ان کی گردنیں مارو، اور وہ تمہاری گردنیں ماریں بہتر ہو؟ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سا عمل ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ اللہ کا ذکر ہے ۔ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے والا انسان کا کوئی عمل ذکر الٰہی سے بڑھ کر نہیں ہے۔
Abu Ad-Darda [may Allah be pleased with him] narrated that :the Prophet said: “Should I not inform you of the best of your deed, and the purest of them with your Master, and the highest of them in your ranks, and what is better for you than spending gold and silver, and better for you than meeting your enemy and striking their necks, and they strike your necks?” They said: “Of course.” He said, “The remembrance of Allah [Most High].” [Then] Mu’adh bin Jabal [may Allah be pleased with him] said: “There is nothing that brings more salvation from the punishment of Allah than the remembrance of Allah.”
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی تمہیں خبر نہ دوں؟ وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم ( میدان جنگ میں ) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی ( یعنی تمہارے جہاد کرنے سے بھی افضل ) “ لوگوں نے کہا: جی ہاں، ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے“، معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی اور چیز نہیں ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بعض نے یہ حدیث عبداللہ بن سعید اسی طرح اسی سند سے روایت کی ہے، اور بعضوں نے اسے ان سے مرسلاً …
Abu Sa’eed Al-Khudri narrated that:The Messenger of Allah was asked: “Which of the worshippers is superior in rank with Allah on the Day of Judgment?” He said: “Those men who remember Allah much [and women].” He said: “I said: ‘O Messenger of Allah! What about the fighter in the cause of Allah?’ He said: ‘If he were to strike with his sword among the disbelievers and the idolater, until it breaks, and he (or it) is dyed with blood, those who remember Allah much would still be superior in rank.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک درجہ کے لحاظ سے کون سے بندے سب سے افضل اور سب سے اونچے مرتبہ والے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں لڑائی لڑنے والے ( غازی ) سے بھی بڑھ کر؟ آپ نے فرمایا: ” ( ہاں ) اگرچہ اس نے اپنی تلوار سے کفار و مشرکین کو مارا ہو، اور اتنی شدید جنگ لڑی ہو کہ اس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو، اور وہ خود خون سے رنگ گیا ہو، تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والے اس سے درجے میں بڑھے ہوئے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف دراج کی روایت سے جانتے ہیں۔
Ibn Abbas narrated:“The Prophet was performing Salat when Abu Jahl came to him and said: ‘Have I not forbidden you from this? Have I not forbidden you from this? Have I not forbidden you from this?’ The Prophet turned and scolded him. So Abu Jahl said: ‘You know that no one has more to call for assistance than me.’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Then let him call upon his council. We will call out the guards of Hell.” So Ibn Abbas said: “By Allah, if he had called his council, then the guards of Hell would have seized him.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آ گیا، اس نے کہا: میں نے تمہیں اس ( نماز ) سے منع نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تجھے اس ( نماز ) سے منع نہیں کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا اور اسے ڈانٹا، ابوجہل نے کہا: تجھے خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ کسی کے ہم نشیں نہیں ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «فليدع ناديه سندع الزبانية» ”اپنے ہم نشینوں کو بلا کر دیکھ لے، ہم جہنم کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں“ ( العلق: ۱۷-۱۸ ) ، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو عذاب پر متعین اللہ کے فرشتے اسے دھر دبوچتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- …
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) was travelling along the path leading to Mecca that he happened to pass by a mountain called Jumdan. He said:Proceed on, it is Jumdan, Mufarradun have gone ahead. They (the Companions of the Holy Prophet) said: Allah's Messenger, who are Mufarradun? He said: They are those males and females who remember Allah much
(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک راستے پر چلے جا رہے تھے کہ آپ کا ایک پہاڑ کے قریب سے گزر ہوا جس کو جمدان کہا جاتا ہے ، آپ نے فرمایا : " چلتے رہو ، یہ جُمدان ہے ۔ مفردون 0لوگوں سے الگ ہو کر تنہا ہو جانے والے ) بازی لے گئے ۔ " لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول! مفردون سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : " کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والے ( مرد ) اور اللہ کو یاد کرنے والی ( عورتیں ۔)
Abdullah b. Mas'ud reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:None loves one's own praise more than Allah, the Exalted and Glurious, does. It is because of this that He has praised Himself, and none is more self-respecting than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts and there is none who is more anxious to accept the apologies of the people than Allah Himself and it is because of this that He has revealed the Book and sent the Messengers
عبدالرحمٰن بن یزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر مدح پسند ہو ، اسی بنا پر اس نے اپنی مدح فرمائی اور کوئی نہیں جو اللہ سے بڑھ کر غیرت مند ہو ، اسی بنا پر اس نے تمام فواحش حرام کر دیں اور کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر ( بندوں کا اس سے ) معذرت کرنا پسند ہو ، اسی بنا پر اس نے کتاب نازل فرمائی اور پیغمبروں کو بھیجا ۔
PickthallRecite that which hath been inspired in thee of the Scripture, and establish worship. Lo! worship preserveth from lewdness and iniquity, but verily remembrance of Allah is more important. And Allah knoweth what ye do.
Yusuf AliRecite what is sent of the Book by inspiration to thee, and establish regular Prayer: for Prayer restrains from shameful and unjust deeds; and remembrance of Allah is the greatest (thing in life) without doubt. And Allah knows the (deeds) that ye do.
The agreed readingRecite what has been revealed to you of the Book, and establish the prayer. The prayer, by its own nature, keeps a person from indecency and from what is wrong, for as long as he holds to it. And the remembrance of God is greater still. God knows what you do.
Urduاے نبی! جو کچھ اللہ نے آپ کی طرف قرآن کی صورت میں وحی کی ہے اسے پڑھیں، اور نماز کو اس کے ارکان اور شرطوں کے ساتھ قائم کریں۔ نماز اپنی فطرت میں اسے بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے جو اسے صحیح طرح ادا کرے اور اس پر قائم رہے۔ اور اللہ کا ذکر ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ اور اللہ تمہارے سب اعمال کو جانتا ہے۔
Arabicاتل أيها النبي ما أوحاه الله إليك من القرآن، وأقم الصلاة بأركانها وشروطها. إن الصلاة بطبيعتها إذا أداها المصلي بحقها تمنعه عن الفحشاء والمنكر ما دام متمسكا بها. وذكر الله بالقلب واللسان أعظم وأكبر من كل شيء آخر. والله يعلم كل ما تصنعونه من أعمال.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Abu Darda that the Prophet(ﷺ) said:"Shall I not tell you of the best of your deeds, the most pleasing to your Sovereign, those that raise you most in status, that are better than your gold and silver, or meeting you enemy (in battle) and you strike their necks and they strike your necks?" They said: " WHat is that, O Messenger of Allah?" He said: "Remembering Allah(Dhikr)
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل ہو، اور تمہارے مالک کو سب سے زیادہ محبوب ہو، اور تمہارے درجات کو بلند کرتا ہو، اور تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے اور دشمن سے ایسی جنگ کرنے سے کہ تم ان کی گردنیں مارو، اور وہ تمہاری گردنیں ماریں بہتر ہو؟ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سا عمل ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ اللہ کا ذکر ہے ۔ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے والا انسان کا کوئی عمل ذکر الٰہی سے بڑھ کر نہیں ہے۔
Abu Ad-Darda [may Allah be pleased with him] narrated that :the Prophet said: “Should I not inform you of the best of your deed, and the purest of them with your Master, and the highest of them in your ranks, and what is better for you than spending gold and silver, and better for you than meeting your enemy and striking their necks, and they strike your necks?” They said: “Of course.” He said, “The remembrance of Allah [Most High].” [Then] Mu’adh bin Jabal [may Allah be pleased with him] said: “There is nothing that brings more salvation from the punishment of Allah than the remembrance of Allah.”
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی تمہیں خبر نہ دوں؟ وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم ( میدان جنگ میں ) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی ( یعنی تمہارے جہاد کرنے سے بھی افضل ) “ لوگوں نے کہا: جی ہاں، ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے“، معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی اور چیز نہیں ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بعض نے یہ حدیث عبداللہ بن سعید اسی طرح اسی سند سے روایت کی ہے، اور بعضوں نے اسے ان سے مرسلاً …
Abu Sa’eed Al-Khudri narrated that:The Messenger of Allah was asked: “Which of the worshippers is superior in rank with Allah on the Day of Judgment?” He said: “Those men who remember Allah much [and women].” He said: “I said: ‘O Messenger of Allah! What about the fighter in the cause of Allah?’ He said: ‘If he were to strike with his sword among the disbelievers and the idolater, until it breaks, and he (or it) is dyed with blood, those who remember Allah much would still be superior in rank.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک درجہ کے لحاظ سے کون سے بندے سب سے افضل اور سب سے اونچے مرتبہ والے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں لڑائی لڑنے والے ( غازی ) سے بھی بڑھ کر؟ آپ نے فرمایا: ” ( ہاں ) اگرچہ اس نے اپنی تلوار سے کفار و مشرکین کو مارا ہو، اور اتنی شدید جنگ لڑی ہو کہ اس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو، اور وہ خود خون سے رنگ گیا ہو، تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والے اس سے درجے میں بڑھے ہوئے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف دراج کی روایت سے جانتے ہیں۔
Ibn Abbas narrated:“The Prophet was performing Salat when Abu Jahl came to him and said: ‘Have I not forbidden you from this? Have I not forbidden you from this? Have I not forbidden you from this?’ The Prophet turned and scolded him. So Abu Jahl said: ‘You know that no one has more to call for assistance than me.’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Then let him call upon his council. We will call out the guards of Hell.” So Ibn Abbas said: “By Allah, if he had called his council, then the guards of Hell would have seized him.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آ گیا، اس نے کہا: میں نے تمہیں اس ( نماز ) سے منع نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تجھے اس ( نماز ) سے منع نہیں کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا اور اسے ڈانٹا، ابوجہل نے کہا: تجھے خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ کسی کے ہم نشیں نہیں ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «فليدع ناديه سندع الزبانية» ”اپنے ہم نشینوں کو بلا کر دیکھ لے، ہم جہنم کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں“ ( العلق: ۱۷-۱۸ ) ، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو عذاب پر متعین اللہ کے فرشتے اسے دھر دبوچتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- …
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) was travelling along the path leading to Mecca that he happened to pass by a mountain called Jumdan. He said:Proceed on, it is Jumdan, Mufarradun have gone ahead. They (the Companions of the Holy Prophet) said: Allah's Messenger, who are Mufarradun? He said: They are those males and females who remember Allah much
(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک راستے پر چلے جا رہے تھے کہ آپ کا ایک پہاڑ کے قریب سے گزر ہوا جس کو جمدان کہا جاتا ہے ، آپ نے فرمایا : " چلتے رہو ، یہ جُمدان ہے ۔ مفردون 0لوگوں سے الگ ہو کر تنہا ہو جانے والے ) بازی لے گئے ۔ " لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول! مفردون سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : " کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والے ( مرد ) اور اللہ کو یاد کرنے والی ( عورتیں ۔)
Abdullah b. Mas'ud reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:None loves one's own praise more than Allah, the Exalted and Glurious, does. It is because of this that He has praised Himself, and none is more self-respecting than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts and there is none who is more anxious to accept the apologies of the people than Allah Himself and it is because of this that He has revealed the Book and sent the Messengers
عبدالرحمٰن بن یزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر مدح پسند ہو ، اسی بنا پر اس نے اپنی مدح فرمائی اور کوئی نہیں جو اللہ سے بڑھ کر غیرت مند ہو ، اسی بنا پر اس نے تمام فواحش حرام کر دیں اور کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر ( بندوں کا اس سے ) معذرت کرنا پسند ہو ، اسی بنا پر اس نے کتاب نازل فرمائی اور پیغمبروں کو بھیجا ۔
PickthallAnd argue not with the People of the Scripture unless it be in (a way) that is better, save with such of them as do wrong; and say: We believe in that which hath been revealed unto us and revealed unto you; our Allah and your Allah is One, and unto Him we surrender.
Yusuf AliAnd dispute ye not with the People of the Book, except with means better (than mere disputation), unless it be with those of them who inflict wrong (and injury): but say, "We believe in the revelation which has come down to us and in that which came down to you; Our Allah and your Allah is one; and it is to Him we bow (in Islam)."
The agreed readingAnd do not argue with the People of the Book except in the best way, calling to God by His signs and pointing to His proofs, save with those of them who do wrong. And say: we believe in what was sent down to us and in what was sent down to you; our God and your God is one; and to Him we submit.
Urduاور اہل کتاب یعنی یہود و نصاری سے صرف اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو، یعنی نرمی اور لطف کے ساتھ اللہ کی آیات اور دلائل کی طرف بلاتے ہوئے، سوائے ان میں سے ظالموں کے جو ضد پر اڑے رہیں اور جنگ کریں۔ اور کہو کہ ہم اس پر ایمان لائے جو ہم پر یعنی قرآن نازل ہوا اور اس پر بھی جو تم پر یعنی تورات اور انجیل نازل ہوئی، اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔
Arabicولا تجادلوا أهل الكتاب من اليهود والنصارى إلا بالطريقة التي هي أحسن، بالدعوة إلى الله بآياته والإشارة إلى حججه بلطف ورفق، إلا الذين ظلموا منهم وأصروا على عنادهم وحاربوكم فجادلوهم بما يليق بحالهم. وقولوا لهم: آمنا بما أنزل إلينا من القرآن وبما أنزل إليكم من التوراة والإنجيل، وإلهنا وإلهكم واحد لا شريك له، ونحن له وحده منقادون مسلمون.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Abu Huraira:The people of the Book used to read the Torah in Hebrew and then explain it in Arabic to the Muslims. Allah's Messenger (ﷺ) said (to the Muslims). "Do not believe the people of the Book, nor disbelieve them, but say, 'We believe in Allah and whatever is revealed to us, and whatever is revealed to you
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو علی بن المبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب توریت عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور اس کی تفسیر مسلمانوں کے لیے عربی میں کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو کیونکہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل ہوا اور جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوا آخر آیت تک جو سورۃ البقرہ میں ہے۔
Narrated Abu Huraira:The people of the Scripture used to read the Torah in Hebrew and explain it to the Muslims in Arabic. Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not believe the people of the Scripture, and do not disbelieve them, but say, 'We believe in Allah and whatever has been revealed
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب توریت کو عبرانی میں پڑھتے اور مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نہ اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ اس کی تکذیب، بلکہ کہو کہ ہم اللہ اور اس کی تمام نازل کی ہوئی کتابوں پر ایمان لائے۔ الآیہ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ، وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لأَهْلِ الإِسْلاَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلاَ تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا {آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ} الآيَةَ".
Narrated Abu Huraira:The people of the Scripture (Jews) used to recite the Torah in Hebrew and they used to explain it in Arabic to the Muslims. On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not believe the people of the Scripture or disbelieve them, but say:-- "We believe in Allah and what is revealed to us
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے کہ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب ( یہودی ) توراۃ کو خود عبرانی زبان میں پڑھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تم تکذیب کرو بلکہ یہ کہا کرو «آمنا بالله وما أنزل إلينا» یعنی ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے۔“
Narrated Humaid bin 'Abdur-Rahman that he heard Mu'awiya talking to a group of people from Quraish at Al-Madina, and on mentioning Ka'b Al-Ashbar, he said, "He was one of the most truthful of those who used to talk about the people of the Scripture, yet we used to detect certain faults in his information
ابوالیمان امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ نے بیان کیا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مدینے میں قریش کی ایک جماعت سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کا ذکر کیا اور فرمایا جتنے لوگ اہل کتاب سے احادیث نقل کرتے ہیں ان سب میں کعب احبار بہت سچے تھے اور باوجود اس کے کبھی کبھی ان کی بات جھوٹ نکلتی تھی، یہ مطلب نہیں ہے کہ کعب احبار جھوٹ بولتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ، يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ.
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) was the most generous amongst the people, and he used to be more so in the month of Ramadan when Gabriel visited him, and Gabriel used to meet him on every night of Ramadan till the end of the month. The Prophet (ﷺ) used to recite the Holy Qur'an to Gabriel, and when Gabriel met him, he used to be more generous than a fast wind (which causes rain and welfare)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخاوت اور خیر کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان میں ملتے، جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان شریف کی ہر رات میں ملتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام سے قرآن کا دور کرتے تھے، جب جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے لگتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں …
Narrated Ubaidullah:Ibn `Abbas said, "Why do you ask the people of the scripture about anything while your Book (Qur'an) which has been revealed to Allah's Messenger (ﷺ) is newer and the latest? You read it pure, undistorted and unchanged, and Allah has told you that the people of the scripture (Jews and Christians) changed their scripture and distorted it, and wrote the scripture with their own hands and said, 'It is from Allah,' to sell it for a little gain. Does not the knowledge which has come to you prevent you from asking them about anything? No, by Allah, we have never seen any man from them asking you regarding what has been revealed to you
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو جب کہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ تازہ بھی ہے اور محفوظ بھی اور تمہیں اس نے بتا بھی دیا کہ اہل کتاب نے اپنا دین بدل ڈالا اور اللہ کی کتاب میں تبدیلی کر دی اور اسے اپنے ہاتھ سے از خود بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں۔ تمہارے پاس ( قرآن و حدیث کا ) جو علم ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع کرتا ہے۔ واللہ! میں تو نہیں دیکھتا کہ اہل کتاب میں سے کوئی …
PickthallIn like manner We have revealed unto thee the Scripture, and those unto whom We gave the Scripture aforetime will believe therein; and of these (also) there are some who believe therein. And none deny Our revelations save the disbelievers.
Yusuf AliAnd thus (it is) that We have sent down the Book to thee. So the People of the Book believe therein, as also do some of these (pagan Arabs): and none but Unbelievers reject our signs.
The agreed readingAnd so God sent the Book down to you, as He sent down the Books before it. Those to whom He gave the earlier Book believe in it, the learned among them, and of the people here there are some who believe in it too. No one denies God's signs except those who refuse.
Urduاور جس طرح ہم نے پہلی کتابیں انبیاء پر نازل کیں، اسی طرح اے نبی! ہم نے یہ کتاب آپ پر نازل کی، پس جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی یعنی اہل کتاب کے علماء ان میں سے کچھ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور یہاں کے لوگوں میں سے بھی کچھ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ہماری آیات کا انکار صرف وہی کافر کرتے ہیں جو کفر پر اڑے ہوئے ہیں۔
Arabicوكما أنزلنا الكتب على الأنبياء السابقين، كذلك أنزلنا إليك أيها النبي هذا الكتاب، فالذين آتيناهم الكتاب من قبل من علماء أهل الكتاب يؤمنون بهذا القرآن، وأيضا من هؤلاء المشركين والعرب من يؤمن به، وما يجحد بآياتنا الواضحة إلا الكافرون المصرون على كفرهم.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:The people of the Scripture used to read the Torah in Hebrew and explain it to the Muslims in Arabic. Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not believe the people of the Scripture, and do not disbelieve them, but say, 'We believe in Allah and whatever has been revealed
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب توریت کو عبرانی میں پڑھتے اور مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نہ اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ اس کی تکذیب، بلکہ کہو کہ ہم اللہ اور اس کی تمام نازل کی ہوئی کتابوں پر ایمان لائے۔ الآیہ۔
Narrated Abu Huraira:The people of the Book used to read the Torah in Hebrew and then explain it in Arabic to the Muslims. Allah's Messenger (ﷺ) said (to the Muslims). "Do not believe the people of the Book, nor disbelieve them, but say, 'We believe in Allah and whatever is revealed to us, and whatever is revealed to you
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو علی بن المبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب توریت عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور اس کی تفسیر مسلمانوں کے لیے عربی میں کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو کیونکہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل ہوا اور جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوا آخر آیت تک جو سورۃ البقرہ میں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ، وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لأَهْلِ الإِسْلاَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلاَ تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا {آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ} الآيَةَ".
Narrated Abu Huraira:The people of the Scripture (Jews) used to recite the Torah in Hebrew and they used to explain it in Arabic to the Muslims. On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not believe the people of the Scripture or disbelieve them, but say:-- "We believe in Allah and what is revealed to us
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے کہ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب ( یہودی ) توراۃ کو خود عبرانی زبان میں پڑھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تم تکذیب کرو بلکہ یہ کہا کرو «آمنا بالله وما أنزل إلينا» یعنی ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے۔“
Narrated Humaid bin 'Abdur-Rahman that he heard Mu'awiya talking to a group of people from Quraish at Al-Madina, and on mentioning Ka'b Al-Ashbar, he said, "He was one of the most truthful of those who used to talk about the people of the Scripture, yet we used to detect certain faults in his information
ابوالیمان امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ نے بیان کیا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مدینے میں قریش کی ایک جماعت سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کا ذکر کیا اور فرمایا جتنے لوگ اہل کتاب سے احادیث نقل کرتے ہیں ان سب میں کعب احبار بہت سچے تھے اور باوجود اس کے کبھی کبھی ان کی بات جھوٹ نکلتی تھی، یہ مطلب نہیں ہے کہ کعب احبار جھوٹ بولتے تھے۔
PickthallAnd thou (O Muhammad) wast not a reader of any scripture before it, nor didst thou write it with thy right hand, for then might those have doubted, who follow falsehood.
Yusuf AliAnd thou wast not (able) to recite a Book before this (Book came), nor art thou (able) to transcribe it with thy right hand: In that case, indeed, would the talkers of vanities have doubted.
The agreed readingAnd you were not reciting any Book before this one, nor writing one out with your own hand. Had you been a reader and a writer, those who follow what is false would have had a doubt to raise.
Urduاور اے نبی! آپ اس قرآن سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے، اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے، اگر آپ پڑھنے لکھنے والے ہوتے تو باطل پرست جھوٹ کی پیروی کرنے والے شک کا کوئی راستہ نکال لیتے۔
Arabicوما كنت أيها النبي تقرأ من قبل هذا القرآن أي كتاب، ولا كنت تكتب بيمينك حرفا واحدا، فلو كنت قارئا كاتبا لوجد أهل الباطل الذين يتبعون الكذب سببا للشك في أن هذا القرآن من تأليفك.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It has been narrated on the authority of Bara' who said:When the Prophet (ﷺ) was checked from going to the Ka'ba, the people of Mecca made peace with him'on the condition that he would (be allowed to) enter Mecca (next year) and stay there for three days, that he would not enter (the city) except with swords in their sheaths and arms encased in their covers, that he would not take eway with him anyone from its dwellers, nor would he prevent anyone from those with him to stay on in Mecca (if he so desired). He said to 'Ali: Write down the terms settled between us. (So 'Ali wrote): In the name of Allah, most Gracious and most Merciful. This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has …
اسحاق بن ابراہیم حنظلی اور احمد بن جناب مصیصی دونوں نے عیسیٰ بن یونس سے ۔ ۔ لفظ اسحاق کے ہیں ۔ ۔ روایت کی ، کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، ہمیں زکریا نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کے پاس روک لیا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ والوں نے اس بات پر صلح کی کہ ( آئندہ سال ) مکہ میں داخل ہوں اور تین دن تک اس میں رہیں اور ہتھیار رکھنے کے تھیلوں : تلوار اور اس کے نیام کے علاوہ ( کوئی ہتھیار لے کر ) اس شہر میں داخل نہ ہوں اور کسی مکہ والے کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں اور ان کے ساتھ آنے والوں میں سے جو وہاں رہ جائے ( مشرکوں کا ساتھ قبول کر لے ) تو اس کو منع نہ کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت …
PickthallBut it is clear revelations in the hearts of those who have been given knowledge, and none deny Our revelations save wrong-doers.
Yusuf AliNay, here are Signs self-evident in the hearts of those endowed with knowledge: and none but the unjust reject Our Signs.
The agreed readingRather, this Qur'an is clear signs held in the breasts of those who have been given knowledge, who keep it by heart. And no one denies God's signs except wrongdoers.
Urduبلکہ یہ قرآن ایسی واضح آیات ہیں جو ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں جنہیں صحیح علم دیا گیا، وہ انہیں زبانی یاد رکھتے ہیں اور ان کے معانی سمجھتے ہیں، اور ہماری واضح نشانیوں کا انکار صرف وہی ظالم اور ضدی لوگ کرتے ہیں۔
Arabicبل هذا القرآن آيات واضحات محفوظة في صدور الذين أوتوا العلم الصحيح، يحفظونها عن ظهر قلب ويفهمون معانيها، وما يجحد بآياتنا البينة الواضحة إلا الظالمون المعاندون.
PickthallAnd they say: Why are not portents sent down upon him from his Lord? Say: Portents are with Allah only, and I am but a plain warner.
Yusuf AliYe they say: "Why are not Signs sent down to him from his Lord?" Say: "The signs are indeed with Allah: and I am indeed a clear Warner."
The agreed readingAnd they said: why has no sign been sent down on him from his Lord, of the kind given to those before him, the she-camel or the staff? Say: the signs are with God, and the matter rests with Him. I am only a plain warner.
Urduاور ان مشرکوں نے کہا کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے وہی حسی معجزات کیوں نازل نہ ہوئے جیسے پہلے انبیاء کو دیے گئے، جیسے صالح کو اونٹنی اور موسی کو لاٹھی؟ ان سے کہہ دیں کہ معجزات نازل کرنا صرف اللہ کے اختیار میں ہے وہ جیسے چاہے کرے، اور میں تو صرف ایک واضح ڈرانے والا ہوں۔
Arabicوقال هؤلاء المشركون: هلا نزلت عليه معجزات حسية من ربه كالتي أعطيت للأنبياء السابقين، كالناقة لصالح والعصا لموسى؟ قل لهم: إن أمر إنزال المعجزات موكول إلى الله وحده يفعله كيف يشاء، وما أنا إلا نذير أبين لكم الحق بيانا واضحا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:There has never been a Prophet amongst the prophets who was not bestowed with a sign amongst the signs which were bestowed (on the earlier prophets). Human beings believed in it and verily I have been conferred upon revelation (the Holy Qur'an) which Allah revealed to me. I hope that I will have the greatest following on the Day of Resurrection
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ انبیاء میں سے ہر ایک نبی کوایسی نشانیاں ( معجزے ) دی گئیں جن ( کو دیکھ کر ) لوگ ایمان لائے ، اور وحی مجھی کو دی گئی ، جو اللہ نے مجھ پر نازل فرمائی ، ( وہ معجزہ بھی ہے ، اور نور بھی ’’ولكن جعلنه نورا ‘ ‘ ) اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ان سب سے زیادہ پیروکار میرے ہو ں گے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ " ثُمَّ يَقُولُ {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ}
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No child is born except on Al-Fitra (Islam) and then his parents make him Jewish, Christian or Magian, as an animal produces a perfect young animal: do you see any part of its body amputated?" Then he recited, 'The religion of pure Islamic Faith (Hanifa),(i.e. to worship none but Allah), The pure Allah's Islamic nature with which He (Allah) has created mankind. Let There be no change in Allah's religion (i.e. to join none in Allah's worship). That is the straight religion; but most of men know not
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسی جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم نے انہیں ناک کان کٹا ہوا کوئی بچہ دیکھا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم» ”اللہ کی اس فطرت کی اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، …
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ، أَبِي صَالِحٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
Abu Sa'id al Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Every servant of Allah who observes fast for a day in the way of Allah, Allah would remove, because of this day, his face farther from the Fire (of Hell) to the extent of seventy years' distance
ابن ہاد نے سہیل بن ابی صالح سے ، انھوں نے نعمان بن ابی عیاش سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کوئی شخص نہیں جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے مگر اللہ تعا لیٰ اس دن ( کے روزے ) بدلے اس کے چہرے کو ( جہنم کی ) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دورکردے گا ۔
PickthallIs it not enough for them that We have sent down unto thee the Scripture which is read unto them? Lo! herein verily is mercy, and a reminder for folk who believe.
Yusuf AliAnd is it not enough for them that we have sent down to thee the Book which is rehearsed to them? Verily, in it is Mercy and a Reminder to those who believe.
The agreed readingIs it not enough for them that God sent down to you the Book that is recited to them? Unlike the signs they asked for, this one does not pass away: it goes on being recited. In it there is mercy and a reminder for a people who believe.
Urduکیا انہیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ قرآن نازل کیا جو ہمیشہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے اور کبھی ختم نہیں ہوتا، بخلاف ان حسی معجزات کے جو ختم ہو سکتی ہیں؟ بیشک اس قرآن میں بڑی رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان لاتے ہیں۔
Arabicأولم يكفهم دليلا وآية أننا أنزلنا عليك أيها النبي هذا القرآن الذي يقرأ عليهم دائما ولا ينقطع بخلاف المعجزات الحسية التي قد تزول؟ إن في هذا القرآن رحمة عظيمة وتذكيرا نافعا لقوم يصدقون ويؤمنون به.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:There has never been a Prophet amongst the prophets who was not bestowed with a sign amongst the signs which were bestowed (on the earlier prophets). Human beings believed in it and verily I have been conferred upon revelation (the Holy Qur'an) which Allah revealed to me. I hope that I will have the greatest following on the Day of Resurrection
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ انبیاء میں سے ہر ایک نبی کوایسی نشانیاں ( معجزے ) دی گئیں جن ( کو دیکھ کر ) لوگ ایمان لائے ، اور وحی مجھی کو دی گئی ، جو اللہ نے مجھ پر نازل فرمائی ، ( وہ معجزہ بھی ہے ، اور نور بھی ’’ولكن جعلنه نورا ‘ ‘ ) اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ان سب سے زیادہ پیروکار میرے ہو ں گے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ " ثُمَّ يَقُولُ {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ}
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No child is born except on Al-Fitra (Islam) and then his parents make him Jewish, Christian or Magian, as an animal produces a perfect young animal: do you see any part of its body amputated?" Then he recited, 'The religion of pure Islamic Faith (Hanifa),(i.e. to worship none but Allah), The pure Allah's Islamic nature with which He (Allah) has created mankind. Let There be no change in Allah's religion (i.e. to join none in Allah's worship). That is the straight religion; but most of men know not
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسی جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم نے انہیں ناک کان کٹا ہوا کوئی بچہ دیکھا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم» ”اللہ کی اس فطرت کی اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، …
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ، أَبِي صَالِحٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
Abu Sa'id al Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Every servant of Allah who observes fast for a day in the way of Allah, Allah would remove, because of this day, his face farther from the Fire (of Hell) to the extent of seventy years' distance
ابن ہاد نے سہیل بن ابی صالح سے ، انھوں نے نعمان بن ابی عیاش سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کوئی شخص نہیں جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے مگر اللہ تعا لیٰ اس دن ( کے روزے ) بدلے اس کے چہرے کو ( جہنم کی ) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دورکردے گا ۔
PickthallSay (unto them, O Muhammad): Allah sufficeth for witness between me and you. He knoweth whatsoever is in the heavens and the earth. And those who believe in vanity and disbelieve in Allah, they it is who are the losers.
Yusuf AliSay: "Enough is Allah for a witness between me and you: He knows what is in the heavens and on earth. And it is those who believe in vanities and reject Allah, that will perish (in the end).
The agreed readingSay: God is enough as a witness between me and you, a witness to the truth of what I say. He knows what is in the heavens and the earth, and my state and yours are part of what He knows. Those who believe in what is false and refuse God are the ones who lose.
Urduاے نبی! ان سے کہہ دیں کہ اللہ ہی میرے اور تمہارے درمیان اس بات پر گواہ کافی ہے جو میں تم سے کہتا ہوں، وہ آسمانوں اور زمین کی ہر بات جانتا ہے اور اسے میرا اور تمہارا کوئی حال پوشیدہ نہیں۔ اور جو لوگ باطل یعنی بتوں پر ایمان لائے اور اللہ حق کا انکار کیا، وہی حقیقت میں دنیا اور آخرت میں گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔
Arabicقل لهم أيها النبي: كفى بالله شاهدا بيني وبينكم على صدق ما أقوله لكم، وهو يعلم ما في السماوات والأرض ولا يخفى عليه شيء من حالي وحالكم. والذين آمنوا بالباطل من الأصنام وكفروا بالله الحق، أولئك هم الخاسرون حقا في الدنيا والآخرة.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:There has never been a Prophet amongst the prophets who was not bestowed with a sign amongst the signs which were bestowed (on the earlier prophets). Human beings believed in it and verily I have been conferred upon revelation (the Holy Qur'an) which Allah revealed to me. I hope that I will have the greatest following on the Day of Resurrection
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ انبیاء میں سے ہر ایک نبی کوایسی نشانیاں ( معجزے ) دی گئیں جن ( کو دیکھ کر ) لوگ ایمان لائے ، اور وحی مجھی کو دی گئی ، جو اللہ نے مجھ پر نازل فرمائی ، ( وہ معجزہ بھی ہے ، اور نور بھی ’’ولكن جعلنه نورا ‘ ‘ ) اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ان سب سے زیادہ پیروکار میرے ہو ں گے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ " ثُمَّ يَقُولُ {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ}
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No child is born except on Al-Fitra (Islam) and then his parents make him Jewish, Christian or Magian, as an animal produces a perfect young animal: do you see any part of its body amputated?" Then he recited, 'The religion of pure Islamic Faith (Hanifa),(i.e. to worship none but Allah), The pure Allah's Islamic nature with which He (Allah) has created mankind. Let There be no change in Allah's religion (i.e. to join none in Allah's worship). That is the straight religion; but most of men know not
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسی جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم نے انہیں ناک کان کٹا ہوا کوئی بچہ دیکھا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم» ”اللہ کی اس فطرت کی اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، …
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ، أَبِي صَالِحٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
Abu Sa'id al Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Every servant of Allah who observes fast for a day in the way of Allah, Allah would remove, because of this day, his face farther from the Fire (of Hell) to the extent of seventy years' distance
ابن ہاد نے سہیل بن ابی صالح سے ، انھوں نے نعمان بن ابی عیاش سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کوئی شخص نہیں جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے مگر اللہ تعا لیٰ اس دن ( کے روزے ) بدلے اس کے چہرے کو ( جہنم کی ) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دورکردے گا ۔
PickthallThey bid thee hasten on the doom (of Allah). And if a term had not been appointed, the doom would assuredly have come unto them (ere now). And verily it will come upon them suddenly when they perceive not.
Yusuf AliThey ask thee to hasten on the Punishment (for them): had it not been for a term (of respite) appointed, the Punishment would certainly have come to them: and it will certainly reach them,- of a sudden, while they perceive not!
The agreed readingAnd they press you to hurry the punishment on. Had a term not been set for it, it would have come to them at once. And it will come upon them suddenly, at an hour they do not see coming.
Urduاور یہ مشرک آپ سے استہزا اور جھٹلانے کے طور پر عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ کرتے ہیں، اور اگر اللہ نے اس عذاب کے لیے ایک مقررہ وقت نہ رکھا ہوتا تو وہ فورا ان پر آ جاتا، اور یہ ضرور اچانک ان پر آئے گا جبکہ انہیں اس کا کوئی احساس نہ ہوگا۔
Arabicويستعجلك هؤلاء المشركون بنزول العذاب استهزاء وتكذيبا، ولولا أن الله ضرب لهذا العذاب أجلا معينا محددا لجاءهم فورا، وسيأتيهم لا محالة بغتة فجأة وهم غافلون لا يشعرون بمجيئه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira reported that the polytheists of the Quraish came to have an argument with Allah's Messenger (ﷺ) in regard to Destiny and then this verse was revealed:" On the day when they are dragged into the Fire upon their faces, taste the touch of Fire. Surely, We have created everything according to a measure" (liv)
اسحٰق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ اسحٰق کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی ، انہوں نے کہا؛ ہمیں معمر نے ابن طاوس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ، میں نے اس سے بڑھ کر ( قرآن کے لفظ ) "" اللمم "" سے مشابہ کوئی اور چیز نہیں دیکھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کے حصے کا زنا لکھ دیا ہے ، وہ لامحالہ اپنا حصہ لے گا ۔ آنکھ کا زنا ( جس کا دیکھنا حرام ہے اس کو ) دیکھنا ہے ۔ زبان کا زنا ( حرام بات ) کہنا ہے ، دل تمنا رکھتا ہے ، خواہش کرتا ہے ، پھر شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے ( اور وہ زنا کا ارتکاب کر لیتاہے ) یا تکذیب …
PickthallThey bid thee hasten on the doom, when lo! hell verily will encompass the disbelievers
Yusuf AliThey ask thee to hasten on the Punishment: but, of a surety, Hell will encompass the Rejecters of Faith!-
The agreed readingThey press you to hurry on the punishment of this world, while Hell is already closing round those who refuse.
Urduیہ آپ سے دنیا کے عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ جہنم پہلے ہی کافروں کو مکمل طور پر گھیرے ہوئے ہے، اگرچہ انہیں ابھی اس کا احساس نہیں۔
Arabicيستعجلونك أيها النبي بعذاب الدنيا استهزاء، وهم في نفس الوقت غافلون تماما عن حقيقة أن جهنم قد أحاطت بهؤلاء الكافرين إحاطة تامة شاملة لا يفلتون منها أبدا، وإن كانوا لا يشعرون بهذا الحصار الآن.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira reported that the polytheists of the Quraish came to have an argument with Allah's Messenger (ﷺ) in regard to Destiny and then this verse was revealed:" On the day when they are dragged into the Fire upon their faces, taste the touch of Fire. Surely, We have created everything according to a measure" (liv)
اسحٰق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ اسحٰق کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی ، انہوں نے کہا؛ ہمیں معمر نے ابن طاوس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ، میں نے اس سے بڑھ کر ( قرآن کے لفظ ) "" اللمم "" سے مشابہ کوئی اور چیز نہیں دیکھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کے حصے کا زنا لکھ دیا ہے ، وہ لامحالہ اپنا حصہ لے گا ۔ آنکھ کا زنا ( جس کا دیکھنا حرام ہے اس کو ) دیکھنا ہے ۔ زبان کا زنا ( حرام بات ) کہنا ہے ، دل تمنا رکھتا ہے ، خواہش کرتا ہے ، پھر شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے ( اور وہ زنا کا ارتکاب کر لیتاہے ) یا تکذیب …
PickthallOn the day when the doom will overwhelm them from above them and from underneath their feet, and He will say: Taste what ye used to do!
Yusuf AliOn the Day that the Punishment shall cover them from above them and from below them, and (a Voice) shall say: "Taste ye (the fruits) of your deeds!"
The agreed readingOn the Day when the punishment covers them from above them and from beneath their feet, and it is said: taste what you were doing. What they taste is what their own deeds came to.
Urduقیامت کے دن کو یاد کرو جب ان کافروں کو عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ہر طرف سے ڈھانپ لے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ اپنے کفر اور نافرمانی کا بدلہ چکھو، تو وہ جو کچھ چکھیں گے وہ صرف ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوگا۔
Arabicاذكر يوم القيامة حين يغشى هؤلاء الكافرين العذاب من فوقهم ومن تحت أرجلهم من كل جانب، ويقال لهم: ذوقوا جزاء ما كنتم تعملونه من الكفر والمعاصي، فما يذوقونه ليس إلا نتيجة أعمالهم هم أنفسهم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira reported that the polytheists of the Quraish came to have an argument with Allah's Messenger (ﷺ) in regard to Destiny and then this verse was revealed:" On the day when they are dragged into the Fire upon their faces, taste the touch of Fire. Surely, We have created everything according to a measure" (liv)
اسحٰق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ اسحٰق کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی ، انہوں نے کہا؛ ہمیں معمر نے ابن طاوس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ، میں نے اس سے بڑھ کر ( قرآن کے لفظ ) "" اللمم "" سے مشابہ کوئی اور چیز نہیں دیکھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کے حصے کا زنا لکھ دیا ہے ، وہ لامحالہ اپنا حصہ لے گا ۔ آنکھ کا زنا ( جس کا دیکھنا حرام ہے اس کو ) دیکھنا ہے ۔ زبان کا زنا ( حرام بات ) کہنا ہے ، دل تمنا رکھتا ہے ، خواہش کرتا ہے ، پھر شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے ( اور وہ زنا کا ارتکاب کر لیتاہے ) یا تکذیب …
PickthallO my bondmen who believe! Lo! My earth is spacious. Therefor serve Me only.
Yusuf AliO My servants who believe! truly, spacious is My Earth: therefore serve ye Me - (and Me alone)!
The agreed readingMy servants who believe: My earth is wide. So worship Me, and where worship is made hard for you in one land, go to another where it is not. It was said when things had become too hard for the believers where they were.
Urduاے میرے وہ بندو جو مجھ پر ایمان لائے! بیشک میری زمین کشادہ ہے، پس جہاں تمہارے دین کی وجہ سے تم پر کوئی جگہ تنگ ہو جائے وہاں سے کسی اور جگہ ہجرت کر جاؤ جہاں تم آزادی سے میری عبادت کر سکو۔ اور یہ اس وقت کہا گیا جب مومنوں پر ان کی جگہ تنگ ہو گئی تھی۔
Arabicيا عبادي الذين آمنوا بي، إن أرضي واسعة رحبة، فحيثما ضاقت عليكم أرض بسبب الفتنة عن دينكم فهاجروا إلى أرض أخرى تستطيعون فيها عبادتي وحدي دون خوف. وقد قيل هذا حين اشتد الضيق على المؤمنين في مكانهم.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا " .
‘Umar said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘If you were to rely upon Allah with the reliance He is due, you would be given provision like the birds: They go out hungry in the morning and come back with full bellies in the evening.”
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل ( بھروسہ ) کرو جیسا کہ اس پر توکل ( بھروسہ ) کرنے کا حق ہے، تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں ۔
Ali narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Indeed in Paradise there are chambers whose outside can be seen from their inside, and their inside can be seen fom their outside." A Bedouin stood and said: "Who are they for O Prophet of Allah?" he said: "For those who speak well, feed others, fast regularly, and perform Salat for Allah during the night while the people sleep
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
Ali narrated that the Messenger of Allah said:"Indeed in Paradise there are chambers, whose outside can be seen from their inside, and their inside can be seen from their outside." A Bedouin stood and said : 'Who are they for, O Messenger of Allah?" He said: "For those who speak well, feed others, fast regularly, and perform salat [for Allah] during the night while the people sleep
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا“، ( یہ سن کر ) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جو اچھی طرح بات کرے، کھانا کھلائے، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اسحاق بن عبدالرحمٰن کے حافظے کے تعلق سے بعض محدثین نے کلام کیا ہے، یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں، ۳- عبدالرحمٰن بن اسحاق نام کے ایک دوسرے راوی ہیں، وہ قرشی اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ ان سے اثبت ہیں، اور دونوں کے دونوں ہم عصر ہیں۔
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The inmates of Paradise would see the inmates of the apartment over them just as you see the shining planets which remain in the eastern and the western horizon because of the superiority some have over others. They said: Allah's Messenger, would in these abodes of Apostles others besides them not be able to reach? He said: Yes, they will, by Him, in Whose hand is my life, those who believe in God and acknowledge the Truth, will reach them
وہیب نے ابو حازم سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ یعقوب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
PickthallEvery soul will taste of death. Then unto Us ye will be returned.
Yusuf AliEvery soul shall have a taste of death in the end to Us shall ye be brought back.
The agreed readingEvery soul will taste death, and there is no escaping it in any place or any state. Then to God you will be returned, after you are raised.
Urduہر جاندار کو موت کا مزہ ضرور چکھنا ہے اور کسی بھی جگہ یا کسی بھی حال میں اس سے بچنا ممکن نہیں، پھر دوبارہ زندہ ہونے کے بعد تم سب کو ہماری ہی طرف حساب اور جزا کے لیے لوٹنا ہے۔
Arabicكل نفس حية لا بد أن تذوق الموت ولا مفر لها منه في أي مكان تكون فيه أو أي حال تعيشها، ثم بعد أن تبعثوا من قبوركم إلينا وحدنا ترجعون للحساب والجزاء.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا " .
‘Umar said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘If you were to rely upon Allah with the reliance He is due, you would be given provision like the birds: They go out hungry in the morning and come back with full bellies in the evening.”
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل ( بھروسہ ) کرو جیسا کہ اس پر توکل ( بھروسہ ) کرنے کا حق ہے، تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں ۔
Ali narrated that the Messenger of Allah said:"Indeed in Paradise there are chambers, whose outside can be seen from their inside, and their inside can be seen from their outside." A Bedouin stood and said : 'Who are they for, O Messenger of Allah?" He said: "For those who speak well, feed others, fast regularly, and perform salat [for Allah] during the night while the people sleep
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا“، ( یہ سن کر ) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جو اچھی طرح بات کرے، کھانا کھلائے، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اسحاق بن عبدالرحمٰن کے حافظے کے تعلق سے بعض محدثین نے کلام کیا ہے، یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں، ۳- عبدالرحمٰن بن اسحاق نام کے ایک دوسرے راوی ہیں، وہ قرشی اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ ان سے اثبت ہیں، اور دونوں کے دونوں ہم عصر ہیں۔
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The inmates of Paradise would see the inmates of the apartment over them just as you see the shining planets which remain in the eastern and the western horizon because of the superiority some have over others. They said: Allah's Messenger, would in these abodes of Apostles others besides them not be able to reach? He said: Yes, they will, by Him, in Whose hand is my life, those who believe in God and acknowledge the Truth, will reach them
وہیب نے ابو حازم سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ یعقوب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
Ali narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Indeed in Paradise there are chambers whose outside can be seen from their inside, and their inside can be seen fom their outside." A Bedouin stood and said: "Who are they for O Prophet of Allah?" he said: "For those who speak well, feed others, fast regularly, and perform Salat for Allah during the night while the people sleep
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
PickthallThose who believe and do good works, them verily We shall house in lofty dwellings of the Garden underneath which rivers flow. There they will dwell secure. How sweet the guerdon of the toilers,
Yusuf AliBut those who believe and work deeds of righteousness - to them shall We give a Home in Heaven,- lofty mansions beneath which flow rivers,- to dwell therein for aye;- an excellent reward for those who do (good)!-
The agreed readingAnd those who believe and do what is right, God will settle in lofty chambers of the Garden with rivers running beneath them, and there they will stay. Excellent is the wage of those who work for it.
Urduاور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، ہم انہیں ضرور جنت کے بلند بالاخانوں میں بسائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ تو کیا ہی اچھا اجر ہے ان کے لیے جنہوں نے اپنے رب کی اطاعت میں کوشش کی۔
Arabicوالذين آمنوا بالله وعملوا الأعمال الصالحة، سنسكنهم لا محالة في غرف عالية من الجنة تجري الأنهار من تحتها، خالدين فيها أبدا لا يخرجون منها. فنعم ذلك الأجر لمن عمل وسعى في طاعة ربه.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 6 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة8 reports cited here — 6 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Ali narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Indeed in Paradise there are chambers whose outside can be seen from their inside, and their inside can be seen fom their outside." A Bedouin stood and said: "Who are they for O Prophet of Allah?" he said: "For those who speak well, feed others, fast regularly, and perform Salat for Allah during the night while the people sleep
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
Ali narrated that the Messenger of Allah said:"Indeed in Paradise there are chambers, whose outside can be seen from their inside, and their inside can be seen from their outside." A Bedouin stood and said : 'Who are they for, O Messenger of Allah?" He said: "For those who speak well, feed others, fast regularly, and perform salat [for Allah] during the night while the people sleep
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا“، ( یہ سن کر ) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جو اچھی طرح بات کرے، کھانا کھلائے، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اسحاق بن عبدالرحمٰن کے حافظے کے تعلق سے بعض محدثین نے کلام کیا ہے، یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں، ۳- عبدالرحمٰن بن اسحاق نام کے ایک دوسرے راوی ہیں، وہ قرشی اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ ان سے اثبت ہیں، اور دونوں کے دونوں ہم عصر ہیں۔
Abu Hurairah, may Allah be pleased with them, said that:Allah's Messenger said: "They said: 'O Messenger of Allah, whom should I treat kindly?' He said: 'Your mother.' He said: 'Then who?' He said :'Your mother." He said: 'Then who?' He said: 'Your father'. He said : 'Then who?' He said: 'The next closest and the next closest
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں ۔
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The inmates of Paradise would see the inmates of the apartment over them just as you see the shining planets which remain in the eastern and the western horizon because of the superiority some have over others. They said: Allah's Messenger, would in these abodes of Apostles others besides them not be able to reach? He said: Yes, they will, by Him, in Whose hand is my life, those who believe in God and acknowledge the Truth, will reach them
وہیب نے ابو حازم سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ یعقوب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ أَبُوكَ ". وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ مِثْلَهُ.
Narrated Abu Huraira:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is more entitled to be treated with the best companionship by me?" The Prophet (ﷺ) said, "Your mother." The man said. "Who is next?" The Prophet said, "Your mother." The man further said, "Who is next?" The Prophet (ﷺ) said, "Your mother." The man asked for the fourth time, "Who is next?" The Prophet (ﷺ) said, "Your father
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ ہے۔ ابن شبرمہ اور یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوزرعہ نے اسی کے مطابق بیان کیا۔
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنِ ابْنِ الْقَدَّاحِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ( صلى الله عليه وآله ) فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَمَاذَا أُسَمِّيهِ قَالَ سَمِّهِ بِأَحَبِّ الْأَسْمَاءِ إِلَيَّ حَمْزَةَ .
9. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ja‘far ibn Muhammad al-Ash‘ariy from ibn al-Qaddah who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that once a man came to the Holy Prophet (saww) and said, ‘O Messenger of Allah, a son is born to me, what should I name him?’ The Messenger of Allah replied, ‘Name him with the most beloved of names to me; Hamza.’”
علي بن إبراهيم اپنے باپ سے، جعفر بن محمد الأشعري سے، ابن القداح سے، ابی عبد الله (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ کہا: ایک آدمی نبي (صلى الله عليه وآله) کے پاس آیا اور کہا: اے الله کے رسول! مجھے ایک بیٹا پیدا ہوا ہے، تو میں اسے کیا نام دوں؟ انہوں نے کہا: اسے میرے نزدیک سب سے محبوب نام سے نام دو؛ حمزہ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا " .
‘Umar said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘If you were to rely upon Allah with the reliance He is due, you would be given provision like the birds: They go out hungry in the morning and come back with full bellies in the evening.”
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل ( بھروسہ ) کرو جیسا کہ اس پر توکل ( بھروسہ ) کرنے کا حق ہے، تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں ۔
أبي - رحمه الله - قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن أحمد بن أبي عبد الله، عن محمد ابن علي الكوفي، عن عبيد الله الدهقان، عن درست بن أبي منصور الواسطي، عن إبراهيم ابن عبد الحميد، عن أبي الحسن موسى عليه السلام قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله فقال: يا رسول الله قد علمت ابني هذا الكتاب، ففي أي شئ أسلمه؟ فقال: سلمه لله أبوك ولا تسلمه في خمس: لا تسلمه سياء ولا صائغا ولا قصابا ولا حناطا ولا نخاسا فقال: يا رسول الله وما السياء؟ قال: الذي يبيع الأكفان ويتمنى موت أمتي وللمولود عن أمتي أحب إلي مما طلعت عليه الشمس. وأما الصائغ فإنه يعالج غبن أمتي . وأما القصاب فإنه يذبح حتى تذهب الرحمة من قلبه. وأما الحناط فإنه يحتكر الطعام على أمتي ولئن يلقى الله العبد سارقا أحب إلي من أن يلقاه قد احتكر طعاما …
1. My father, may Allah grant him mercy, said: We were told by Sa’d bin Abdullah, from Ahmad bin Abi Abdillah, from Muhammed ibn Ali al-Kufi, from Ubaidullah al-Dahqan, from Darast bin Abi Mansur al-Wasiti, from Ibrahim ibn Abdil-Hamid, from Abu’l-Hasan, Musa, peace be upon him, that he said: A man came to the Prophet, Allah’s blessings be upon him and his Family, and said: O Messenger of Allah, I have taught my son this book, so for what thing shall I give it? He said: Give it, for the sake of Allah, to your father, and do not give it to five: do not give it to an evil-wisher, nor a goldsmith, nor a slaughterer, nor a wheat seller, nor a slave trader. Then he said: O Messenger of Allah, …
میرے والد - اللہ انہیں رحمت دے - نے کہا: ہمیں سعد بن عبداللہ نے خبر دی، احمد بن ابی عبداللہ سے، محمد بن علی الکوفی سے، عبیداللہ الدہقان سے، درست بن ابی منصور الواسطی سے، ابراہیم بن عبدالحمید سے، ابو الحسن موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے بیٹے کو یہ کتاب سکھایا ہے، تو اسے کس میں دے دوں؟ انہوں نے کہا: اسے اللہ کے لیے اپنے والد کو دے دو اور انہیں پانچوں میں مت دینا: ایک - ستھا بیچنے والے کو، دوسرا - سونار کو، تیسرا - قصائی کو، چوتھا - اناج کا تاجر کو، پانچواں - غلام خریدو فروخت کرنے والے کو۔ تو آدمی نے کہا: یا رسول اللہ، ستھا بیچنے والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ جو کفن بیچتا ہے اور میری امت کی موت کی خواہش رکھتا ہے۔ حالانکہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWho persevere, and put their trust in their Lord!
Yusuf AliThose who persevere in patience, and put their trust, in their Lord and Cherisher.
The agreed readingThose who kept patience under the harm done to them, and under the leaving of their homes so that the religion could stand plain, and who put their trust in their Lord, so that He provides for them from where they never counted on.
Urduیہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی تکلیف پر صبر کیا، اور اپنے گھر چھوڑنے اور ہجرت کرنے پر بھی صبر کیا تاکہ دین کھل کر ظاہر ہو، اور وہ اپنے تمام معاملات میں صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں، تو وہ انہیں ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرتے۔
Arabicأولئك هم الذين صبروا على الأذى الذي لحقهم في سبيل الله، وصبروا على ترك ديارهم وهجرتهم حتى يظهر الدين وتقوم شعائره، وعلى ربهم وحده يتوكلون في كل أمورهم، فيرزقهم من حيث لا يحتسبون.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا " .
‘Umar said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘If you were to rely upon Allah with the reliance He is due, you would be given provision like the birds: They go out hungry in the morning and come back with full bellies in the evening.”
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل ( بھروسہ ) کرو جیسا کہ اس پر توکل ( بھروسہ ) کرنے کا حق ہے، تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں ۔
Ali narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Indeed in Paradise there are chambers whose outside can be seen from their inside, and their inside can be seen fom their outside." A Bedouin stood and said: "Who are they for O Prophet of Allah?" he said: "For those who speak well, feed others, fast regularly, and perform Salat for Allah during the night while the people sleep
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
Ali narrated that the Messenger of Allah said:"Indeed in Paradise there are chambers, whose outside can be seen from their inside, and their inside can be seen from their outside." A Bedouin stood and said : 'Who are they for, O Messenger of Allah?" He said: "For those who speak well, feed others, fast regularly, and perform salat [for Allah] during the night while the people sleep
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا“، ( یہ سن کر ) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جو اچھی طرح بات کرے، کھانا کھلائے، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اسحاق بن عبدالرحمٰن کے حافظے کے تعلق سے بعض محدثین نے کلام کیا ہے، یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں، ۳- عبدالرحمٰن بن اسحاق نام کے ایک دوسرے راوی ہیں، وہ قرشی اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ ان سے اثبت ہیں، اور دونوں کے دونوں ہم عصر ہیں۔
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The inmates of Paradise would see the inmates of the apartment over them just as you see the shining planets which remain in the eastern and the western horizon because of the superiority some have over others. They said: Allah's Messenger, would in these abodes of Apostles others besides them not be able to reach? He said: Yes, they will, by Him, in Whose hand is my life, those who believe in God and acknowledge the Truth, will reach them
وہیب نے ابو حازم سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ یعقوب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
PickthallAnd how many an animal there is that beareth not its own provision! Allah provideth for it and for you. He is the Hearer, the Knower.
Yusuf AliHow many are the creatures that carry not their own sustenance? It is Allah who feeds (both) them and you: for He hears and knows (all things).
The agreed readingAnd how many a creature there is that cannot carry its own provision, being too weak for it. God provides for it and provides for you, even when you set out with nothing in your hands. He is the Hearing, the Knowing.
Urduاور کتنے ہی ایسے جانور ہیں جو کمزور ہیں اور اپنا رزق اٹھا کر جمع نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ ہی انہیں رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی رزق دیتا ہے چاہے تم بغیر کسی توشے کے نکلو۔ اور وہ اپنے بندوں کی دعا سننے والا اور ان کی ضرورتوں کو جاننے والا ہے۔
Arabicوكثير من الدواب ضعيفة لا تقدر أن تحمل رزقها وتدخره لنفسها، بل الله وحده هو الذي يرزقها ويرزقكم أنتم أيضا حتى لو خرجتم بلا زاد. وهو السميع الذي يسمع دعاء عباده، العليم بحاجاتهم.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا " .
‘Umar said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘If you were to rely upon Allah with the reliance He is due, you would be given provision like the birds: They go out hungry in the morning and come back with full bellies in the evening.”
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل ( بھروسہ ) کرو جیسا کہ اس پر توکل ( بھروسہ ) کرنے کا حق ہے، تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں ۔
Ali narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Indeed in Paradise there are chambers whose outside can be seen from their inside, and their inside can be seen fom their outside." A Bedouin stood and said: "Who are they for O Prophet of Allah?" he said: "For those who speak well, feed others, fast regularly, and perform Salat for Allah during the night while the people sleep
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
Ali narrated that the Messenger of Allah said:"Indeed in Paradise there are chambers, whose outside can be seen from their inside, and their inside can be seen from their outside." A Bedouin stood and said : 'Who are they for, O Messenger of Allah?" He said: "For those who speak well, feed others, fast regularly, and perform salat [for Allah] during the night while the people sleep
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا“، ( یہ سن کر ) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جو اچھی طرح بات کرے، کھانا کھلائے، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اسحاق بن عبدالرحمٰن کے حافظے کے تعلق سے بعض محدثین نے کلام کیا ہے، یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں، ۳- عبدالرحمٰن بن اسحاق نام کے ایک دوسرے راوی ہیں، وہ قرشی اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ ان سے اثبت ہیں، اور دونوں کے دونوں ہم عصر ہیں۔
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The inmates of Paradise would see the inmates of the apartment over them just as you see the shining planets which remain in the eastern and the western horizon because of the superiority some have over others. They said: Allah's Messenger, would in these abodes of Apostles others besides them not be able to reach? He said: Yes, they will, by Him, in Whose hand is my life, those who believe in God and acknowledge the Truth, will reach them
وہیب نے ابو حازم سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ یعقوب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
PickthallAnd if thou wert to ask them: Who created the heavens and the earth, and constrained the sun and the moon (to their appointed work)? they would say: Allah. How then are they turned away?
Yusuf AliIf indeed thou ask them who has created the heavens and the earth and subjected the sun and the moon (to his Law), they will certainly reply, "Allah". How are they then deluded away (from the truth)?
The agreed readingAnd if you asked them who created the heavens and the earth and set the sun and the moon to their work, they would say: God. How then are they turned away from Him?
Urduاور اگر آپ ان مشرکوں سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو مخلوق کے فائدے کے لیے کس نے مسخر کیا؟ تو وہ بلا تردد کہیں گے کہ اللہ نے، تو پھر اس اقرار کے بعد وہ کیوں اس کی عبادت سے پھر کر کسی اور کی عبادت کی طرف پھیرے جاتے ہیں؟
Arabicولئن سألت أيها النبي هؤلاء المشركين: من خلق السماوات والأرض وسخر الشمس والقمر لمنفعة الخلق؟ ليقولن بلا تردد: الله وحده خلق ذلك. فكيف يصرفون بعد هذا الإقرار عن عبادته وحده إلى عبادة غيره؟
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Therefore, Allāh alone knows what is there in the wombs, whether male or female, ugly or handsome, generous or miserly, mischievous or pious, and who will be the fuel for Hell and who will be in the company of the Prophets in Paradise. This is the knowledge of the hidden things which is not known to anyone save Allāh. All else is that whose knowledge Allāh passed on to His Prophet and he passed it on to me, and prayed for me that my bosom may retain it and my ribs may hold it.
پس اللہ سبحانہ جانتے ہیں وہ جو الارحام میں ہے، نر ہو یا مادہ، قبیح ہو یا جمیل، سخی ہو یا بخیل، شقی ہو یا سعید، اور کون النار میں حطب ہوگا یا الجنان میں النبيين کا مرافق۔ تو یہ علم الغيب ہے جسے کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔ اور جو علم اس کے علاوہ ہے تو وہ علم ہے جو اللہ نے اپنے نبی کو سکھایا تو انہوں نے مجھے سکھایا اور دعا کی کہ میری صدر اسے عا کرے اور میری جوانح اس پر اضطمام کریں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "Allah Most High said: 'I have prepared for My righteous worshipers what no eye has seen, no ear has heard, and no human heart has conceived.'" And that is testified to in Allah's [the Mighty and Sublime] Book: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes (32:)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں نے اپنے نیک صالح بندوں کے لیے ایسی چیز تیار کی ہے جسے کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے، اس کی تصدیق کتاب اللہ ( قرآن ) کی اس آیت «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”کوئی شخص نہیں جانتا جو ہم نے ان کے ( صالح ) اعمال کے بدلے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ( کے لیے ) پوشیدہ رکھ رکھی ہے“ ( السجدۃ: ۱۶ ) ، سے ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ، وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ذُخْرًا، بَلْهَ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْهِ ". ثُمَّ قَرَأَ {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ}
Narrated Abu Huraira:The Prophet, said, "Allah said, 'I have prepared for My pious worshipers such things as no eye has ever seen, no ear has ever heard of, and nobody has ever thought of. All that is reserved, besides which, all that you have seen, is nothing." Then he recited:-- 'No soul knows what is kept hidden (in reserve) for them of joy as a reward for what they used to do
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، کہا ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیکوکار بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہ دیکھا اور کسی کان نے نہ سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی گمان و خیال پیدا ہوا۔ اللہ کی ان نعمتوں سے واقفیت اور آگاہی تو الگ رہی ( ان کا کسی کو گمان و خیال بھی پیدا نہیں ہوا ) ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» کہ ”سو کسی نفس مومن کو معلوم نہیں جو جو سامان آنکھوں کی ٹھنڈک کا ( جنت میں ) ان کے لیے چھپا کر رکھا …
PickthallAllah maketh the provision wide for whom He will of His bondmen, and straiteneth it for whom (He will). Lo! Allah is Aware of all things.
Yusuf AliAllah enlarges the sustenance (which He gives) to whichever of His servants He pleases; and He (similarly) grants by (strict) measure, (as He pleases): for Allah has full knowledge of all things.
The agreed readingGod spreads out provision for whom He wills of His servants and narrows it for whom He wills, and both are a test. He wills it only as what is right requires. God knows everything.
Urduاللہ اپنے جس بندے کو چاہے رزق میں کشادگی دیتا ہے تاکہ اس کے شکر کی آزمائش ہو، اور جسے چاہے تنگی دیتا ہے تاکہ اس کے صبر کی آزمائش ہو، اور یہ کسی محبت یا ناراضگی کی دلیل نہیں، بیشک اللہ اپنے بندوں کے تمام حالات کو خوب جاننے والا ہے۔
Arabicالله يوسع الرزق ويكثره لمن يشاء من عباده اختبارا لشكره، ويضيقه ويقلله لمن يشاء منهم اختبارا لصبره، وليس ذلك دليلا على محبة أو بغض، إن الله بكل شيء من أحوال عباده عليم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
11 - وحدثنا أحمد بن محمد بن سعيد بن عقدة قال: حدثنا أحمد بن يوسف بن يعقوب الجعفي قال: حدثنا إسماعيل بن مهران، قال: حدثنا الحسن بن علي بن أبي حمزة، عن الحكم بن أيمن، عن ضريس الكناسي، عن أبي خالد الكابلي، قال: قال علي بن الحسين: لَوَددتُ إني تركت فكلّمت الناس ثلاثاً، ثم قضى الله فيَّ ما أحبّ، ولكن عزمةً من الله أن نصبر. ثم تلا هذه الآية وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ ثم تلا أيضا قولَه تعالى لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
(11) Ahmad bin Muhammad bin Sa’eed bin Oqda narrated from Ahmad bin Yousuf bin Ya’qoob al-Ju’fi from Issma’eel bin Mihran from al-Hasan bin Ali bin Abu Hamza from al-Hakam bin Ayman from Dhurays al-Kinasi from Abu Khalid al-Kabuli that Ali bin al-Husayn as-Sajjad (as) had said: “I wish I was permitted to talk to people three times (about three things) and then Allah might do to me whatever He liked. But it is the will of Allah that we are to be patient and to wait.” Then he recited this Qur’anic verse: “And most certainly you will come to know about it after a time” and then he recited, “And you shall certainly hear from those who have been given the Book before you and from those who are …
11 - احمد بن محمد بن سعید بن عقدہ نے حدثنا کے ساتھ بیان کیا۔ انہوں نے کہا: احمد بن یوسف بن یعقوب الجعفی نے ہمیں حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: اسماعیل بن مہران نے ہمیں حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: حسن بن علی بن ابی حمزہ نے حدیث بیان کی۔ انہوں نے حکم بن ایمن سے روایت کی۔ انہوں نے ضریس الکنانی سے روایت کی۔ انہوں نے ابوخالد الکابلی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: علی بن الحسین نے فرمایا: میں نے چاہا کہ میں رہ سکتا اور لوگوں سے تین بار بات کر سکتا، پھر بعد میں اللہ تعالیٰ مجھ سے جو کچھ چاہتے وہ کرتے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا عزم ہے کہ ہم صبر کریں۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: اور
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd if thou wert to ask them: Who causeth water to come down from the sky, and therewith reviveth the earth after its death? they verily would say: Allah. Say: Praise be to Allah! But most of them have no sense.
Yusuf AliAnd if indeed thou ask them who it is that sends down rain from the sky, and gives life therewith to the earth after its death, they will certainly reply, "Allah!" Say, "Praise be to Allah!" But most of them understand not.
The agreed readingAnd if you asked them who sent water down from the sky and brought the earth back to life with it after it was dead, the plants coming up in the spring, they would say: God. Say: praise belongs to God, for by their own answer the argument is complete against them. But most of them do not use their reason.
Urduاور اگر آپ ان مشرکوں سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے اتارا پھر اس سے زمین کو اس کی خشکی کے بعد زندہ کیا اور بہار کے موسم میں اس میں نباتات اگائیں؟ تو وہ بلا شک کہیں گے کہ اللہ نے، ان سے کہہ دیں کہ اسی اقرار پر تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے انہیں اپنی ہی دلیل سے لاجواب کر دیا۔ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ اس تضاد کو سمجھنے کے لیے عقل استعمال نہیں کرتے۔
Arabicولئن سألت هؤلاء المشركين: من أنزل من السماء ماء فأحيا به الأرض بعد يبسها فأنبت فيها النبات في فصل الربيع؟ ليقولن بلا شك: الله وحده فعل ذلك. قل لهم: الحمد لله على هذا الإقرار الذي تم به إلزامهم بحجتهم نفسها. بل أكثرهم لا يستعملون عقولهم في فهم هذا التناقض.
PickthallThis life of the world is but a pastime and a game. Lo! the home of the Hereafter - that is Life, if they but knew.
Yusuf AliWhat is the life of this world but amusement and play? but verily the Home in the Hereafter,- that is life indeed, if they but knew.
The agreed readingAnd this life of the world is nothing but diversion and play, passing and quick to come to nothing, like children who gather over a game, are taken with it for an hour, and then scatter. The home of the world to come is the life indeed, the one that never ends, if only they knew.
Urduاور یہ دنیا کی زندگی حقیقت میں صرف کھیل اور تماشا ہے جو جلد ختم ہو جانے والا ہے، جیسے بچے کسی کھیل پر جمع ہوتے ہیں اور تھوڑی دیر خوش ہو کر پھر بکھر جاتے ہیں، اور بیشک آخرت کا گھر ہی اصل اور ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے، کاش وہ یہ حقیقت جانتے۔
Arabicوما هذه الحياة الدنيا في حقيقتها إلا لهو وغفلة ولعب سريع الزوال، كأطفال يجتمعون على لعبة يفرحون بها ساعة ثم يتفرقون عنها، وإن الدار الآخرة لهي دار الحياة الحقيقية الباقية التي لا فناء لها، لو كانوا يعلمون هذه الحقيقة.
PickthallAnd when they mount upon the ships they pray to Allah, making their faith pure for Him only, but when He bringeth them safe to land, behold! they ascribe partners (unto Him),
Yusuf AliNow, if they embark on a boat, they call on Allah, making their devotion sincerely (and exclusively) to Him; but when He has delivered them safely to (dry) land, behold, they give a share (of their worship to others)!-
The agreed readingAnd when they board the ships they call on God, making the call sincerely His alone, for they are in a hardship that no one but He can lift. Then when He brings them safe to land they go straight back to setting up partners with Him.
Urduپھر جب یہ مشرک کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں اور ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے تو اپنے بتوں کو چھوڑ کر خالص اللہ ہی کو پکارتے ہیں، کیونکہ وہ ایسی مشکل میں ہوتے ہیں جسے اللہ کے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا، پھر جب اللہ انہیں بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو فورا دوبارہ شرک کرنے لگتے ہیں۔
Arabicفإذا ركب هؤلاء المشركون في السفن وخافوا الغرق، دعوا الله وحده مخلصين له الدعاء تاركين أصنامهم، لأنهم في شدة لا يقدر على كشفها إلا الله، فلما نجاهم الله وأوصلهم إلى البر سالمين، إذا بهم يرجعون فورا إلى الشرك بعبادة الأصنام.
PickthallThat they may disbelieve in that which We have given them, and that they may take their ease. But they will come to know.
Yusuf AliDisdaining ungratefully Our gifts, and giving themselves up to (worldly) enjoyment! But soon will they know.
The agreed readingSo they end up ungrateful for what God has given them, and take their enjoyment. But they will come to know what it comes to.
Urduاور اس نجات کے بعد شرک کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کی ناشکری کرتے ہیں جس سے اس نے انہیں ڈوبنے سے بچایا، اور دنیا کی فانی لذتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، تو عنقریب وہ اس کفر اور ناشکری کا انجام جان لیں گے۔
Arabicوكان مآل هذا الشرك بعد النجاة أن يكفروا بنعمة الله التي أنجاهم بها من الغرق، وأن يتمتعوا بلذات الدنيا الزائلة، فسوف يعلمون عاقبة هذا الكفر والنكران حين يرون العذاب.
PickthallHave they not seen that We have appointed a sanctuary immune (from violence), while mankind are ravaged all around them? Do they then believe in falsehood and disbelieve in the bounty of Allah?
Yusuf AliDo they not then see that We have made a sanctuary secure, and that men are being snatched away from all around them? Then, do they believe in that which is vain, and reject the Grace of Allah?
The agreed readingHave they not seen that God made their town a sanctuary that is secure, where no one is set upon with killing or captivity or plunder, while people are snatched away all around them outside it? Do they then believe in what is false and refuse God's favour?
Urduکیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لیے ایک محفوظ حرم بنایا جس میں اس کے رہنے والے قتل، قید اور لوٹ مار سے محفوظ ہیں، جبکہ ان کے ارد گرد لوگ ہر طرف اچکے جاتے ہیں؟ کیا وہ باطل یعنی بتوں پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی اس نعمت امن کی ناشکری کرتے ہیں؟
Arabicأولم يعتبر هؤلاء المشركون بأننا جعلنا لهم حرما آمنا يأمن فيه أهله من القتل والسبي والنهب، بينما الناس من حولهم يختطفون ويغار عليهم في كل مكان؟ أفبالباطل من عبادة الأصنام يؤمنون ويصدقون، وبنعمة الله عليهم في هذا الأمن يكفرون؟
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Hadith.1251 - Abdullah ibn Sinan narrated from Imam Jafar ibn Muhammad Al-Sadiq (as) who said: "Whoever, in the last prostration of a recommended prayer (nafilah) after Maghrib on the night of Jumu’ah—and even better if said every night—recites, 'O’ Allah (swt), I ask You by Your Noble Face and Your Great Name to bless Muhammad and the family of Muhammad and to forgive me my great sin,' seven times, will rise having been forgiven." He also said (as): "When Thursday evening and the night of Jumu’ah arrive, angels descend from the heavens carrying golden pens and silver tablets. They write down nothing from Thursday evening, the night of Jumu’ah, and the day of Jumu’ah until sunset except …
عبداللہ بن سنان نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی۔ ابو عبداللہ نے فرمایا: جو شخص جمعہ کی رات کو مغرب کے بعد نفل نماز کے آخری سجدہ میں کہے - اور اگر ہر رات کہے تو بہتر ہے - اے اللہ! میں تم سے تمہارے کریم چہرے اور تمہارے عظیم نام کے ذریعے مانگتا ہوں کہ محمد اور محمد کی آل پر درود بھیج اور میری بڑی خطا کو سات مرتبہ معاف کر، تو وہ واپس آتا ہے اور اسے معافی مل جاتی ہے۔ ابو عبداللہ نے فرمایا: جب جمعہ کی شام اور جمعہ کی رات ہو تو آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں ان کے ہاتھ میں سونے کی قلمیں اور چاندی کی سفحیں ہوتی ہیں۔ وہ جمعہ کی شام، جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن لکھتے ہیں - یہاں تک کہ سورج غروب ہو - سوائے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ پر درود بھیجنے کے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Yahya b. Ya`mur said :The first to speak on Divine decree in al-Basrah was Ma`bad al Juhani. I and Humaid b. `Abd al-Rahman al-Himyari proceeded to perform Hajj or `Umrah. We said : would that we meet any of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) so that we could ask him about what they say with regard to divine decree. So Allah helped us to meet `Abd Allah b. `Umar who was entering the mosque. So I and my companion surrounded him, and I thought that my companion would entrust me the task of speaking to him. Then I said : Abu ‘Abd al-Rahman, there appeared on our side some people who recite the Qur'an and are engaged in the hair-splitting of knowledge. They conceive that there is no …
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ بصرہ میں سب سے پہلے معبد جہنی نے تقدیر کا انکار کیا، ہم اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری حج یا عمرے کے لیے چلے، تو ہم نے دل میں کہا: اگر ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ہوئی تو ہم ان سے تقدیر کے متعلق لوگ جو باتیں کہتے ہیں اس کے بارے میں دریافت کریں گے، تو اللہ نے ہماری ملاقات عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کرا دی، وہ ہمیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں گھیر لیا، میرا خیال تھا کہ میرے ساتھی گفتگو کا موقع مجھے ہی دیں گے اس لیے میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے اور اس میں علمی باریکیاں نکالتے ہیں، کہتے ہیں: تقدیر کوئی چیز نہیں ۱؎، سارے کام یوں ہی ہوتے ہیں، تو آپ …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي، ذَرٍّ قَالاَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ أَصْحَابِهِ فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلاَ يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ كَانَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسِهِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهًا وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يَمَسَّهَا دَنَسٌ حَتَّى سَلَّمَ فِي طَرَفِ الْبِسَاطِ فَقَالَ …
It was narrated that Abu Hurairah and Abu Dharr said:"The Messenger of Allah [SAW] would sit among his Companions and if a stranger came, he would not know which of them was he (the Prophet [SAW]) until he asked. So we suggested to the Messenger of Allah [SAW] that we should make a dais for him so that any stranger would know him if he came to him. So we built for him a bench made of clay on which he used to sit. (One day) we were sitting and the Messenger of Allah [SAW] was sitting in his spot, when a man came along who was the most handsome and good-smelling of all people, and it was as if no dirt had ever touched his garments. He came near the edge of the rug and greeted him, saying: …
ہمیں محمد بن قدامہ نے خبر دی، جریر کے ذریعے، ابو فروہ کے ذریعے، ابو زرعہ کے ذریعے، ابو ہریرہ اور ابو ذر سے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھا کرتے تھے، اور جب کوئی اجڑا ہوا شخص آتا تھا تو وہ نہیں جان پاتا تھا کہ ان میں سے کون آپ ہیں، یہاں تک کہ وہ پوچھتا تھا۔ پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ کے لیے ایک مسند بنائیں تاکہ جب کوئی اجڑا ہوا شخص آئے تو وہ آپ کو پہچان لے۔ تو ہم نے آپ کے لیے مٹی کا ایک چبوترہ بنایا جس پر آپ بیٹھا کرتے تھے۔ اور ہم بیٹھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسند پر بیٹھے تھے، تو ایک شخص آیا جو تمام لوگوں سے خوبصورت تھا چہرے میں اور تمام لوگوں سے بہترین خوشبو والا تھا، گویا اس کے کپڑوں کو کوئی غلاظت ہی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWho doeth greater wrong than he who inventeth a lie concerning Allah, or denieth the truth when it cometh unto him? Is not there a home in hell for disbelievers?
Yusuf AliAnd who does more wrong than he who invents a lie against Allah or rejects the Truth when it reaches him? Is there not a home in Hell for those who reject Faith?
The agreed readingAnd who does a greater wrong than one who invents a lie against God, by setting up partners with Him, or who calls the truth a lie when it has come to him? Is there not a lodging in Hell for those who refuse?
Urduاور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ گھڑ کر اس کے لیے شریک یا اولاد بتائے، یا حق کو جھٹلائے جب وہ اس کے پاس آئے اور اسے قبول نہ کرے؟ کیا جہنم میں ایسے کافروں اور جھٹلانے والوں کے لیے ٹھکانہ اور مستقل رہائش نہیں؟
Arabicومن أشد ظلما ممن يختلق كذبا على الله بأن ينسب له شريكا أو ولدا، أو يكذب بالحق حين يأتيه ولا يقبله؟ أليس في جهنم مكان إقامة ومسكن دائم لهؤلاء الكافرين المكذبين؟
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya b. Ya`mur said :The first to speak on Divine decree in al-Basrah was Ma`bad al Juhani. I and Humaid b. `Abd al-Rahman al-Himyari proceeded to perform Hajj or `Umrah. We said : would that we meet any of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) so that we could ask him about what they say with regard to divine decree. So Allah helped us to meet `Abd Allah b. `Umar who was entering the mosque. So I and my companion surrounded him, and I thought that my companion would entrust me the task of speaking to him. Then I said : Abu ‘Abd al-Rahman, there appeared on our side some people who recite the Qur'an and are engaged in the hair-splitting of knowledge. They conceive that there is no …
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ بصرہ میں سب سے پہلے معبد جہنی نے تقدیر کا انکار کیا، ہم اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری حج یا عمرے کے لیے چلے، تو ہم نے دل میں کہا: اگر ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ہوئی تو ہم ان سے تقدیر کے متعلق لوگ جو باتیں کہتے ہیں اس کے بارے میں دریافت کریں گے، تو اللہ نے ہماری ملاقات عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کرا دی، وہ ہمیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں گھیر لیا، میرا خیال تھا کہ میرے ساتھی گفتگو کا موقع مجھے ہی دیں گے اس لیے میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے اور اس میں علمی باریکیاں نکالتے ہیں، کہتے ہیں: تقدیر کوئی چیز نہیں ۱؎، سارے کام یوں ہی ہوتے ہیں، تو آپ …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي، ذَرٍّ قَالاَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ أَصْحَابِهِ فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلاَ يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ كَانَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسِهِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهًا وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يَمَسَّهَا دَنَسٌ حَتَّى سَلَّمَ فِي طَرَفِ الْبِسَاطِ فَقَالَ …
It was narrated that Abu Hurairah and Abu Dharr said:"The Messenger of Allah [SAW] would sit among his Companions and if a stranger came, he would not know which of them was he (the Prophet [SAW]) until he asked. So we suggested to the Messenger of Allah [SAW] that we should make a dais for him so that any stranger would know him if he came to him. So we built for him a bench made of clay on which he used to sit. (One day) we were sitting and the Messenger of Allah [SAW] was sitting in his spot, when a man came along who was the most handsome and good-smelling of all people, and it was as if no dirt had ever touched his garments. He came near the edge of the rug and greeted him, saying: …
ہمیں محمد بن قدامہ نے خبر دی، جریر کے ذریعے، ابو فروہ کے ذریعے، ابو زرعہ کے ذریعے، ابو ہریرہ اور ابو ذر سے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھا کرتے تھے، اور جب کوئی اجڑا ہوا شخص آتا تھا تو وہ نہیں جان پاتا تھا کہ ان میں سے کون آپ ہیں، یہاں تک کہ وہ پوچھتا تھا۔ پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ کے لیے ایک مسند بنائیں تاکہ جب کوئی اجڑا ہوا شخص آئے تو وہ آپ کو پہچان لے۔ تو ہم نے آپ کے لیے مٹی کا ایک چبوترہ بنایا جس پر آپ بیٹھا کرتے تھے۔ اور ہم بیٹھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسند پر بیٹھے تھے، تو ایک شخص آیا جو تمام لوگوں سے خوبصورت تھا چہرے میں اور تمام لوگوں سے بہترین خوشبو والا تھا، گویا اس کے کپڑوں کو کوئی غلاظت ہی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAs for those who strive in Us, We surely guide them to Our paths, and lo! Allah is with the good.
Yusuf AliAnd those who strive in Our (cause),- We will certainly guide them to our Paths: For verily Allah is with those who do right.
The agreed readingAnd those who strive for God's sake, He will guide to His paths, the roads that lead to Him. And God is with those who do good. The commentaries take the striving to cover more than one field: against an outward enemy, against Satan, and against the self.
Urduاور جن لوگوں نے ہماری رضا کے لیے پوری کوشش اور محنت کی، چاہے یہ کوشش کسی ظاہری دشمن کے خلاف ہو یا شیطان کے خلاف ہو یا اپنے نفس اور خواہشات کے خلاف ہو، ہم انہیں ضرور اپنی طرف پہنچانے والے راستوں کی ہدایت دیں گے، اور بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ اپنی مدد اور توفیق کے ساتھ ہے۔
Arabicوالذين بذلوا الجهد والمشقة ابتغاء مرضاتنا، سواء كان جهادهم ضد عدو ظاهر أو ضد الشيطان أو ضد أنفسهم وهواها، سنهديهم لا محالة طرقنا الموصلة إلينا، وإن الله لمع المحسنين بنصره وتوفيقه وحفظه.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 5 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة7 reports cited here — 5 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: If anyone repeats in the morning: "So glory be to Allah in the evening and in the morning; to Him is the praise in the heavens and the earth, and in the late evening and at noon....thus shall you be brought forth, " he will get that day what he has missed; and if anyone repeats these words in the evening he will get that night what he has missed. Ar-Rabi' transmitted it from al-Layth
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون، وله الحمد في السموات والأرض وعشيا وحين تظهرون» سے لے کر «وكذلك تخرجون» تک کہے تو اس دن کے ثواب میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی، اور جو شخص شام کو ان کلمات کو کہے تو اس رات میں اس کی نیکیوں و بھلائیوں میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی۔
Yahya b. Ya`mur said :The first to speak on Divine decree in al-Basrah was Ma`bad al Juhani. I and Humaid b. `Abd al-Rahman al-Himyari proceeded to perform Hajj or `Umrah. We said : would that we meet any of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) so that we could ask him about what they say with regard to divine decree. So Allah helped us to meet `Abd Allah b. `Umar who was entering the mosque. So I and my companion surrounded him, and I thought that my companion would entrust me the task of speaking to him. Then I said : Abu ‘Abd al-Rahman, there appeared on our side some people who recite the Qur'an and are engaged in the hair-splitting of knowledge. They conceive that there is no …
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ بصرہ میں سب سے پہلے معبد جہنی نے تقدیر کا انکار کیا، ہم اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری حج یا عمرے کے لیے چلے، تو ہم نے دل میں کہا: اگر ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ہوئی تو ہم ان سے تقدیر کے متعلق لوگ جو باتیں کہتے ہیں اس کے بارے میں دریافت کریں گے، تو اللہ نے ہماری ملاقات عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کرا دی، وہ ہمیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں گھیر لیا، میرا خیال تھا کہ میرے ساتھی گفتگو کا موقع مجھے ہی دیں گے اس لیے میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے اور اس میں علمی باریکیاں نکالتے ہیں، کہتے ہیں: تقدیر کوئی چیز نہیں ۱؎، سارے کام یوں ہی ہوتے ہیں، تو آپ …
Narrated Sa'eed bin Jubair:from Ibn 'Abbas, regarding the saying of Allah, Most High: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land (30:1-3)" he said: "Ghulibat wa Ghalabat (defeated and then victorious)." He said: "The idolaters wanted the Persians to be victorious over the Romans because they too were people who worshiped idols, while the Muslims wanted the Romans to be victorious over the Persians because they were people of the Book. This was mentioned to Abu Bakr, so Abu Bakr mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'They will certainly prevail.' Abu Bakr mentioned that to them, and they said: 'Make a wager between us and you; if we win, we shall get …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر ابوبکر رضی الله عنہ سے کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: ”وہ ( رومی ) ( مغلوب ہو جانے کے بعد پھر ) غالب آ جائیں گے، ابوبکر رضی الله عنہ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: ( ایسی بات ہے تو ) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کر لو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے ( جیت گئے ) تو …
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
بعض أصحابنا مرسلا قال: إن أول ما نزل في تحريم الخمر قول الله عز وجل " يسئلونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس وإثمهما أكبر من نفعهما " فلما نزلت هذه الآية أحس القوم بتحريمها وتحريم الميسر وعلموا أن الاثم مما ينبغي اجتنابه ولا يحمل الله عز وجل عليهم من كل طريق لأنه قال: ومنافع للناس ثم أنزل الله عز وجل آية أخرى " إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون (1) " فكانت هذه الآية أشد من الأولى وأغلظ في التحريم ثم ثلث بآية أخرى فكانت أغلظ من الآية الأولى والثانية وأشد فقال عز وجل: " إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العدواة والبغضاء في الخمر والميسر ويصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة فهل أنتم منتهون (2) " فأمر عز وجل باجتنابها وفسر عللها التي لها ومن …
2. Certain persons of our people have, in mursal manner, narrated the following: “He (the Imam) (a.s.), has said, ‘The first thing about the unlawfulness of wine is in the words of Allah, most Majestic, most Glorious, “They ask you about wine and gambling. Say, ‘There is great sin in them and benefits for people but the sin in them is greater than their benefits.’” (2:219) When this verse was revealed people sensed the prohibition on it and prohibition on gambling. They learned that one must stay away from sins and that Allah, most Majestic, most Glorious, does not impose on them both ways because of His saying, “and benefits for people”. Thereafter Allah, most Majestic, most Glorious, sent …
ہماری بعض اصحاب نے مرسل انداز میں روایت کی ہے کہ: خمر کی تحریم میں سب سے پہلے جو نازل ہوا وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: 'وہ تم سے خمر اور میسر کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، کہو ان میں بڑی خرابی ہے اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں، مگر ان کی خرابی ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔' جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں کو خمر اور میسر کی تحریم کا احساس ہوا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ گناہ سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طریقے سے دبایا نہیں کیونکہ اس نے فرمایا: 'اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں۔' اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت نازل کی: 'خمر اور میسر اور بت اور فال کے تیر یہ سب شیطان کے گندے کام ہیں، پس ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔' یہ آیت پہلی سے سخت تر ہے اور تحریم میں زیادہ مضبوط ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
11 - حدثنا محمد بن يعقوب قال: حدثنا عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن الحسين بن سعيد، عن أبي وهب، عن محمد بن منصور قال: سألت عبداً صالحاً سلام الله عليه عن قول الله: قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (قال) فقال: إنّ القرآن له ظاهرٌ وباطن، فجميعُ ما حرّم الله في القرآن فهو حرام على ظاهره كما هو في الظاهر، والباطن من ذلك أئمّة الجور. وجميع ما أحل الله تعالى في الكتاب فهو حلال وهو الظاهر، والباطن من ذلك أئمة الحق.
(11) Muhammad bin Ya’qoob narrated from some of his companions from Ahmad bin Muhammad from al-Husayn bin Sa’eed from Abu Wahab that Muhammad bin Mansoor had said: “I have asked a virtuous slave (of Allah), peace be upon him, about the saying of Allah, “My Lord has only prohibited indecencies, those of them that are apparent as well as those that are concealed,” and he said: “The Qur’an has apparent meanings and hidden meanings. All of those that Allah has prohibited in the Qur’an are impermissible as they have been mentioned apparently whereas the hidden thing in that is the imams of injustice and all of those that Allah has permitted are permissible as they are apparent whereas the hidden …
محمد بن یعقوب نے ہمیں حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: ہمیں ہماری جماعت کے لوگوں نے خبر دی احمد بن محمد سے، الحسین بن سعید سے، ابو وہب سے، محمد بن منصور سے جو کہتے ہیں: میں نے ایک برکت والے شخص سے سوال کیا - اللہ کی رحمت ان پر - اللہ کے اس قول کے متعلق: "کہہ میرے پروردگار نے تو صرف بے حیائی کے کام حرام کیے ہیں، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں، اور گناہ اور حق کے خلاف سرکشی، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ شریک کیا جائے وہ چیزیں جن کے لیے اس نے کوئی سلطان نہیں نازل کیا، اور یہ کہ اللہ کے بارے میں وہ باتیں کی جائیں جو تم نہیں جانتے" - کہا - تو انہوں نے کہا: بیشک قرآن کا ظاہری معنی ہے اور بھی ایک معنی ہے جو پوشیدہ ہے۔ جتنا کچھ اللہ نے قرآن میں حرام کیا ہے وہ سب اپنے ظاہری معنی میں حرام ہے جیسا کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي، ذَرٍّ قَالاَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ أَصْحَابِهِ فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلاَ يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ كَانَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسِهِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهًا وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يَمَسَّهَا دَنَسٌ حَتَّى سَلَّمَ فِي طَرَفِ الْبِسَاطِ فَقَالَ …
It was narrated that Abu Hurairah and Abu Dharr said:"The Messenger of Allah [SAW] would sit among his Companions and if a stranger came, he would not know which of them was he (the Prophet [SAW]) until he asked. So we suggested to the Messenger of Allah [SAW] that we should make a dais for him so that any stranger would know him if he came to him. So we built for him a bench made of clay on which he used to sit. (One day) we were sitting and the Messenger of Allah [SAW] was sitting in his spot, when a man came along who was the most handsome and good-smelling of all people, and it was as if no dirt had ever touched his garments. He came near the edge of the rug and greeted him, saying: …
ہمیں محمد بن قدامہ نے خبر دی، جریر کے ذریعے، ابو فروہ کے ذریعے، ابو زرعہ کے ذریعے، ابو ہریرہ اور ابو ذر سے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھا کرتے تھے، اور جب کوئی اجڑا ہوا شخص آتا تھا تو وہ نہیں جان پاتا تھا کہ ان میں سے کون آپ ہیں، یہاں تک کہ وہ پوچھتا تھا۔ پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ کے لیے ایک مسند بنائیں تاکہ جب کوئی اجڑا ہوا شخص آئے تو وہ آپ کو پہچان لے۔ تو ہم نے آپ کے لیے مٹی کا ایک چبوترہ بنایا جس پر آپ بیٹھا کرتے تھے۔ اور ہم بیٹھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسند پر بیٹھے تھے، تو ایک شخص آیا جو تمام لوگوں سے خوبصورت تھا چہرے میں اور تمام لوگوں سے بہترین خوشبو والا تھا، گویا اس کے کپڑوں کو کوئی غلاظت ہی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا