The agreed readingAlif Lam Mim. The letters are recited as letters, and their certain meaning is left with God.
Urduیہ حروفِ مقطعات میں سے ہیں جن سے قرآن کی بعض سورتوں کا آغاز ہوتا ہے، اور انہیں انہی کے ناموں کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ ان حروف کا یقینی مفہوم اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
Arabicهذه من الحروف المقطَّعة التي افتُتحت بها بعض سور القرآن، تُقرأ بأسمائها حروفًا حرفًا، ولا تُركَّب منها كلمة. وعِلمُ المراد بها اليقينيّ عند الله تعالى وحده، وقد أمسك أكثر المفسرين عن الجزم بمعناها.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Rāzī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
Narrated Sa'eed bin Jubair:from Ibn 'Abbas, regarding the saying of Allah, Most High: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land (30:1-3)" he said: "Ghulibat wa Ghalabat (defeated and then victorious)." He said: "The idolaters wanted the Persians to be victorious over the Romans because they too were people who worshiped idols, while the Muslims wanted the Romans to be victorious over the Persians because they were people of the Book. This was mentioned to Abu Bakr, so Abu Bakr mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'They will certainly prevail.' Abu Bakr mentioned that to them, and they said: 'Make a wager between us and you; if we win, we shall get …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر ابوبکر رضی الله عنہ سے کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: ”وہ ( رومی ) ( مغلوب ہو جانے کے بعد پھر ) غالب آ جائیں گے، ابوبکر رضی الله عنہ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: ( ایسی بات ہے تو ) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کر لو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے ( جیت گئے ) تو …
Narrated Abu Sa'eed:"On the Day of (the battle of) Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated..." up to His saying: '...the believers will rejoice. (30:1-4)" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی ( اہل کتاب نصاریٰ ) اہل فارس ( آتش پرست مجوسیوں ) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے۔
Narrated 'Atiyyah:Abu Sa'eed narrated: "On the Day of Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated, up to His saying: 'the believers will rejoice - with the help of Allah... (30:1-5)'" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی ۱؎ اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم» سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ ) پڑھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ .
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade, the preparation of Nabidh in gourd, in varnished jar, hollow stump and from mixing up ripe dates with nearly ripe dates
حبیب بن ابی عمرہ نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو ، سبز گھڑوں ، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں ( میں نبیذ بنانے ) سے اور کچی اور نیم پ پختہ کھجوروں کو ( مشروب بناتے ہوئے باہم ) ملانے سے منع فرمایا ۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
Narrated Ibn 'Abbas:that regarding "Alif Lam Mim. The Romans have been defeated" (In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious. Within Bid' years...) (30 1 & 2)" The Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr about the wager: "Why were you not more cautious Abu Bakr? For indeed Al-Bid' refers to what is from three to nine
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے ان کے ( قریش سے ) شرط لگانے پر کہا: ”اے ابوبکر تم نے شرط لگانے میں «الم غلبت الروم» کی احتیاط کیوں نہ برتی، کیونکہ لفظ ( «بضع» ) تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے زہری عبیداللہ کے واسطہ سے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas: Abu Sufyan bin Harb informed me that Heraclius had sent a messenger to him while he had been accompanying a caravan from Quraish. They were merchants doing business in Sham (Syria, Palestine, Lebanon and Jordan), at the time when Allah's Messenger (ﷺ) had truce with Abu Sufyan and Quraish infidels. So Abu Sufyan and his companions went to Heraclius at Ilya (Jerusalem). Heraclius called them in the court and he had all the senior Roman dignitaries around him. He called for his translator who, translating Heraclius's question said to them, "Who amongst you is closely related to that man who claims to be a Prophet?" Abu Sufyan replied, "I am the nearest relative …
ہم کو ابوالیمان حکم بن نافع نے حدیث بیان کی، انہیں اس حدیث کی شعیب نے خبر دی۔ انہوں نے زہری سے یہ حدیث سنی۔ انہیں عبیداللہ ابن عبداللہ ابن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس سے ابوسفیان بن حرب نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ہرقل ( شاہ روم ) نے ان کے پاس قریش کے قافلے میں ایک آدمی بلانے کو بھیجا اور اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور ابوسفیان سے ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا۔ جب ابوسفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیاء پہنچے جہاں ہرقل نے دربار طلب کیا تھا۔ اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ ( علماء وزراء امراء ) بیٹھے ہوئے تھے۔ ہرقل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا۔ پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ …
The agreed readingThe Romans have been defeated. They were People of the Book, and Persia, which was not, overcame them. At that the refusers of Mecca rejoiced.
Urduروم کے عیسائی، جو اہلِ کتاب تھے، ایک جنگ میں شکست کھا گئے، اور انہیں شکست دینے والے مجوسی فارس والے تھے جن کا کوئی آسمانی کتاب سے تعلق نہ تھا۔ مکہ کے مشرکین اس خبر پر بہت خوش ہوئے، کیونکہ وہ آتش پرست فارس سے قربت محسوس کرتے تھے اور مسلمانوں کو یہ کہہ کر چڑاتے تھے کہ جس طرح فارس نے روم کو شکست دی، اسی طرح ہم بھی تمہیں شکست دیں گے۔
Arabicانهزم الرومُ، وكانوا أهلَ كتابٍ يُنسبون إلى التوراة والإنجيل، وغلبتهم فارسُ وهم مجوسٌ عبدةُ نارٍ لا كتابَ لهم. ففرح مشركو مكة بهذا الخبر، لأنهم كانوا يودّون ظهورَ الفرس على الروم لاشتراكهم معهم في الشرك، وقالوا للمسلمين: نحن نغلبكم كما غلبت فارسُ الروم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Rāzī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
Narrated Sa'eed bin Jubair:from Ibn 'Abbas, regarding the saying of Allah, Most High: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land (30:1-3)" he said: "Ghulibat wa Ghalabat (defeated and then victorious)." He said: "The idolaters wanted the Persians to be victorious over the Romans because they too were people who worshiped idols, while the Muslims wanted the Romans to be victorious over the Persians because they were people of the Book. This was mentioned to Abu Bakr, so Abu Bakr mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'They will certainly prevail.' Abu Bakr mentioned that to them, and they said: 'Make a wager between us and you; if we win, we shall get …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر ابوبکر رضی الله عنہ سے کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: ”وہ ( رومی ) ( مغلوب ہو جانے کے بعد پھر ) غالب آ جائیں گے، ابوبکر رضی الله عنہ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: ( ایسی بات ہے تو ) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کر لو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے ( جیت گئے ) تو …
Narrated Abu Sa'eed:"On the Day of (the battle of) Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated..." up to His saying: '...the believers will rejoice. (30:1-4)" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی ( اہل کتاب نصاریٰ ) اہل فارس ( آتش پرست مجوسیوں ) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے۔
Narrated 'Atiyyah:Abu Sa'eed narrated: "On the Day of Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated, up to His saying: 'the believers will rejoice - with the help of Allah... (30:1-5)'" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی ۱؎ اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم» سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ ) پڑھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ .
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade, the preparation of Nabidh in gourd, in varnished jar, hollow stump and from mixing up ripe dates with nearly ripe dates
حبیب بن ابی عمرہ نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو ، سبز گھڑوں ، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں ( میں نبیذ بنانے ) سے اور کچی اور نیم پ پختہ کھجوروں کو ( مشروب بناتے ہوئے باہم ) ملانے سے منع فرمایا ۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
Narrated Ibn 'Abbas:that regarding "Alif Lam Mim. The Romans have been defeated" (In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious. Within Bid' years...) (30 1 & 2)" The Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr about the wager: "Why were you not more cautious Abu Bakr? For indeed Al-Bid' refers to what is from three to nine
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے ان کے ( قریش سے ) شرط لگانے پر کہا: ”اے ابوبکر تم نے شرط لگانے میں «الم غلبت الروم» کی احتیاط کیوں نہ برتی، کیونکہ لفظ ( «بضع» ) تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے زہری عبیداللہ کے واسطہ سے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas: Abu Sufyan bin Harb informed me that Heraclius had sent a messenger to him while he had been accompanying a caravan from Quraish. They were merchants doing business in Sham (Syria, Palestine, Lebanon and Jordan), at the time when Allah's Messenger (ﷺ) had truce with Abu Sufyan and Quraish infidels. So Abu Sufyan and his companions went to Heraclius at Ilya (Jerusalem). Heraclius called them in the court and he had all the senior Roman dignitaries around him. He called for his translator who, translating Heraclius's question said to them, "Who amongst you is closely related to that man who claims to be a Prophet?" Abu Sufyan replied, "I am the nearest relative …
ہم کو ابوالیمان حکم بن نافع نے حدیث بیان کی، انہیں اس حدیث کی شعیب نے خبر دی۔ انہوں نے زہری سے یہ حدیث سنی۔ انہیں عبیداللہ ابن عبداللہ ابن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس سے ابوسفیان بن حرب نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ہرقل ( شاہ روم ) نے ان کے پاس قریش کے قافلے میں ایک آدمی بلانے کو بھیجا اور اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور ابوسفیان سے ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا۔ جب ابوسفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیاء پہنچے جہاں ہرقل نے دربار طلب کیا تھا۔ اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ ( علماء وزراء امراء ) بیٹھے ہوئے تھے۔ ہرقل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا۔ پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ …
PickthallIn the nearer land, and they, after their defeat will be victorious
Yusuf AliIn a land close by; but they, (even) after (this) defeat of theirs, will soon be victorious-
The agreed readingIn the nearest land, where the two armies met, the Persians having begun the fighting. And they, after being defeated, will themselves overcome.
Urduیہ شکست عرب کے قریب ترین علاقے میں، شام کی سرحدوں کے آس پاس ہوئی، جہاں دونوں لشکر آپس میں ٹکرائے اور حملہ کرنے میں پہل فارس کی طرف سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ روم اپنی اس شکست کے بعد خود ہی دوبارہ فارس پر غالب آجائیں گے، اور یہ ایک صریح غیبی پیشین گوئی تھی جو بعد میں پوری ہوئی۔
Arabicكانت هذه الهزيمة في أقرب أرضٍ إلى جزيرة العرب، من ناحية الشام، حيث التقى الجيشان، وكانت فارسُ هي البادئةَ بالغزو. ويخبر الله أن الرومَ من بعد غلبتهم هذه سيغلبون فارسَ بأنفسهم، وهذا إخبارٌ بغيبٍ تحقَّق فيما بعد كما أُخبر به.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Rāzī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
Narrated Sa'eed bin Jubair:from Ibn 'Abbas, regarding the saying of Allah, Most High: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land (30:1-3)" he said: "Ghulibat wa Ghalabat (defeated and then victorious)." He said: "The idolaters wanted the Persians to be victorious over the Romans because they too were people who worshiped idols, while the Muslims wanted the Romans to be victorious over the Persians because they were people of the Book. This was mentioned to Abu Bakr, so Abu Bakr mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'They will certainly prevail.' Abu Bakr mentioned that to them, and they said: 'Make a wager between us and you; if we win, we shall get …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر ابوبکر رضی الله عنہ سے کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: ”وہ ( رومی ) ( مغلوب ہو جانے کے بعد پھر ) غالب آ جائیں گے، ابوبکر رضی الله عنہ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: ( ایسی بات ہے تو ) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کر لو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے ( جیت گئے ) تو …
Narrated Abu Sa'eed:"On the Day of (the battle of) Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated..." up to His saying: '...the believers will rejoice. (30:1-4)" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی ( اہل کتاب نصاریٰ ) اہل فارس ( آتش پرست مجوسیوں ) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے۔
Narrated 'Atiyyah:Abu Sa'eed narrated: "On the Day of Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated, up to His saying: 'the believers will rejoice - with the help of Allah... (30:1-5)'" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی ۱؎ اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم» سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ ) پڑھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ .
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade, the preparation of Nabidh in gourd, in varnished jar, hollow stump and from mixing up ripe dates with nearly ripe dates
حبیب بن ابی عمرہ نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو ، سبز گھڑوں ، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں ( میں نبیذ بنانے ) سے اور کچی اور نیم پ پختہ کھجوروں کو ( مشروب بناتے ہوئے باہم ) ملانے سے منع فرمایا ۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
Narrated Ibn 'Abbas:that regarding "Alif Lam Mim. The Romans have been defeated" (In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious. Within Bid' years...) (30 1 & 2)" The Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr about the wager: "Why were you not more cautious Abu Bakr? For indeed Al-Bid' refers to what is from three to nine
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے ان کے ( قریش سے ) شرط لگانے پر کہا: ”اے ابوبکر تم نے شرط لگانے میں «الم غلبت الروم» کی احتیاط کیوں نہ برتی، کیونکہ لفظ ( «بضع» ) تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے زہری عبیداللہ کے واسطہ سے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas: Abu Sufyan bin Harb informed me that Heraclius had sent a messenger to him while he had been accompanying a caravan from Quraish. They were merchants doing business in Sham (Syria, Palestine, Lebanon and Jordan), at the time when Allah's Messenger (ﷺ) had truce with Abu Sufyan and Quraish infidels. So Abu Sufyan and his companions went to Heraclius at Ilya (Jerusalem). Heraclius called them in the court and he had all the senior Roman dignitaries around him. He called for his translator who, translating Heraclius's question said to them, "Who amongst you is closely related to that man who claims to be a Prophet?" Abu Sufyan replied, "I am the nearest relative …
ہم کو ابوالیمان حکم بن نافع نے حدیث بیان کی، انہیں اس حدیث کی شعیب نے خبر دی۔ انہوں نے زہری سے یہ حدیث سنی۔ انہیں عبیداللہ ابن عبداللہ ابن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس سے ابوسفیان بن حرب نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ہرقل ( شاہ روم ) نے ان کے پاس قریش کے قافلے میں ایک آدمی بلانے کو بھیجا اور اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور ابوسفیان سے ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا۔ جب ابوسفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیاء پہنچے جہاں ہرقل نے دربار طلب کیا تھا۔ اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ ( علماء وزراء امراء ) بیٹھے ہوئے تھے۔ ہرقل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا۔ پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ …
PickthallWithin ten years - Allah's is the command in the former case and in the latter - and in that day believers will rejoice
Yusuf AliWithin a few years. With Allah is the Decision, in the past and in the Future: on that Day shall the Believers rejoice-
The agreed readingWithin a few years, which is a span of between three and nine. The command belongs to God before and after: neither their defeat nor their victory fell outside His decree. And on that day the believers will rejoice.
Urduیہ فتح چند ہی برسوں کے اندر ہوگی، اور بضع سنین سے مراد تین سے نو برس کے درمیان کا عرصہ ہے۔ اللہ ہی کا حکم اس فتح اور شکست دونوں سے پہلے بھی نافذ تھا اور بعد میں بھی، یعنی نہ فارس کی پہلی فتح اس کے حکم سے باہر تھی اور نہ روم کی بعد کی فتح۔ اور جس دن روم غالب آئے گا اس دن اہلِ ایمان خوش ہوں گے۔
Arabicستكون هذه الغلبة في غضون سنين قليلة، والمراد بـ«بضع سنين» ما بين الثلاث والتسع. ولله وحده الأمر من قبلُ ومن بعدُ، فلا هزيمةُ الروم الأولى ولا غلبتُهم اللاحقة خارجةٌ عن قضائه وقدره. ويوم تقع تلك الغلبة يفرح المؤمنون بها فرحًا شديدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Rāzī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
Narrated Sa'eed bin Jubair:from Ibn 'Abbas, regarding the saying of Allah, Most High: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land (30:1-3)" he said: "Ghulibat wa Ghalabat (defeated and then victorious)." He said: "The idolaters wanted the Persians to be victorious over the Romans because they too were people who worshiped idols, while the Muslims wanted the Romans to be victorious over the Persians because they were people of the Book. This was mentioned to Abu Bakr, so Abu Bakr mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'They will certainly prevail.' Abu Bakr mentioned that to them, and they said: 'Make a wager between us and you; if we win, we shall get …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر ابوبکر رضی الله عنہ سے کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: ”وہ ( رومی ) ( مغلوب ہو جانے کے بعد پھر ) غالب آ جائیں گے، ابوبکر رضی الله عنہ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: ( ایسی بات ہے تو ) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کر لو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے ( جیت گئے ) تو …
Narrated Abu Sa'eed:"On the Day of (the battle of) Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated..." up to His saying: '...the believers will rejoice. (30:1-4)" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی ( اہل کتاب نصاریٰ ) اہل فارس ( آتش پرست مجوسیوں ) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے۔
Narrated 'Atiyyah:Abu Sa'eed narrated: "On the Day of Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated, up to His saying: 'the believers will rejoice - with the help of Allah... (30:1-5)'" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی ۱؎ اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم» سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ ) پڑھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ .
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade, the preparation of Nabidh in gourd, in varnished jar, hollow stump and from mixing up ripe dates with nearly ripe dates
حبیب بن ابی عمرہ نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو ، سبز گھڑوں ، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں ( میں نبیذ بنانے ) سے اور کچی اور نیم پ پختہ کھجوروں کو ( مشروب بناتے ہوئے باہم ) ملانے سے منع فرمایا ۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
Narrated Ibn 'Abbas:that regarding "Alif Lam Mim. The Romans have been defeated" (In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious. Within Bid' years...) (30 1 & 2)" The Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr about the wager: "Why were you not more cautious Abu Bakr? For indeed Al-Bid' refers to what is from three to nine
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے ان کے ( قریش سے ) شرط لگانے پر کہا: ”اے ابوبکر تم نے شرط لگانے میں «الم غلبت الروم» کی احتیاط کیوں نہ برتی، کیونکہ لفظ ( «بضع» ) تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے زہری عبیداللہ کے واسطہ سے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas: Abu Sufyan bin Harb informed me that Heraclius had sent a messenger to him while he had been accompanying a caravan from Quraish. They were merchants doing business in Sham (Syria, Palestine, Lebanon and Jordan), at the time when Allah's Messenger (ﷺ) had truce with Abu Sufyan and Quraish infidels. So Abu Sufyan and his companions went to Heraclius at Ilya (Jerusalem). Heraclius called them in the court and he had all the senior Roman dignitaries around him. He called for his translator who, translating Heraclius's question said to them, "Who amongst you is closely related to that man who claims to be a Prophet?" Abu Sufyan replied, "I am the nearest relative …
ہم کو ابوالیمان حکم بن نافع نے حدیث بیان کی، انہیں اس حدیث کی شعیب نے خبر دی۔ انہوں نے زہری سے یہ حدیث سنی۔ انہیں عبیداللہ ابن عبداللہ ابن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس سے ابوسفیان بن حرب نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ہرقل ( شاہ روم ) نے ان کے پاس قریش کے قافلے میں ایک آدمی بلانے کو بھیجا اور اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور ابوسفیان سے ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا۔ جب ابوسفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیاء پہنچے جہاں ہرقل نے دربار طلب کیا تھا۔ اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ ( علماء وزراء امراء ) بیٹھے ہوئے تھے۔ ہرقل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا۔ پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ …
PickthallIn Allah's help to victory. He helpeth to victory whom He will. He is the Mighty, the Merciful.
Yusuf AliWith the help of Allah. He helps whom He will, and He is exalted in might, most merciful.
The agreed readingIn God's help. He gives help to whom He wills, helping one side at one time and another at another, and He is the Mighty and the Merciful. The commentaries place the believers' joy at it on the day of Badr.
Urduیہ خوشی خاص طور پر اللہ کی مدد کی وجہ سے ہوگی، کیونکہ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے، کبھی ایک فریق کو غالب کرتا ہے تو کبھی دوسرے کو، اور وہ زبردست غالب اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کو روم کی اس فتح کی خبر عین اسی دن ملی جس دن انہیں بدر کی فتح نصیب ہوئی، تو یہ خوشی دوہری ہوگئی۔
Arabicيفرح المؤمنون خاصةً بنصر الله، فهو ينصر من يشاء تارةً هذا الفريق وتارةً ذاك، وهو العزيز الغالب الذي لا يُقهر، الرحيم بأوليائه. وذكر المفسرون أن خبر انتصار الروم بلغ المسلمين يوم بدر نفسه بنزول جبريل به، ففرحوا بالنصرين معًا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
Narrated Sa'eed bin Jubair:from Ibn 'Abbas, regarding the saying of Allah, Most High: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land (30:1-3)" he said: "Ghulibat wa Ghalabat (defeated and then victorious)." He said: "The idolaters wanted the Persians to be victorious over the Romans because they too were people who worshiped idols, while the Muslims wanted the Romans to be victorious over the Persians because they were people of the Book. This was mentioned to Abu Bakr, so Abu Bakr mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'They will certainly prevail.' Abu Bakr mentioned that to them, and they said: 'Make a wager between us and you; if we win, we shall get …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر ابوبکر رضی الله عنہ سے کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: ”وہ ( رومی ) ( مغلوب ہو جانے کے بعد پھر ) غالب آ جائیں گے، ابوبکر رضی الله عنہ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: ( ایسی بات ہے تو ) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کر لو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے ( جیت گئے ) تو …
Narrated Abu Sa'eed:"On the Day of (the battle of) Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated..." up to His saying: '...the believers will rejoice. (30:1-4)" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی ( اہل کتاب نصاریٰ ) اہل فارس ( آتش پرست مجوسیوں ) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے۔
Narrated 'Atiyyah:Abu Sa'eed narrated: "On the Day of Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated, up to His saying: 'the believers will rejoice - with the help of Allah... (30:1-5)'" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی ۱؎ اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم» سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ ) پڑھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ .
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade, the preparation of Nabidh in gourd, in varnished jar, hollow stump and from mixing up ripe dates with nearly ripe dates
حبیب بن ابی عمرہ نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو ، سبز گھڑوں ، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں ( میں نبیذ بنانے ) سے اور کچی اور نیم پ پختہ کھجوروں کو ( مشروب بناتے ہوئے باہم ) ملانے سے منع فرمایا ۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
Narrated Ibn 'Abbas:that regarding "Alif Lam Mim. The Romans have been defeated" (In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious. Within Bid' years...) (30 1 & 2)" The Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr about the wager: "Why were you not more cautious Abu Bakr? For indeed Al-Bid' refers to what is from three to nine
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے ان کے ( قریش سے ) شرط لگانے پر کہا: ”اے ابوبکر تم نے شرط لگانے میں «الم غلبت الروم» کی احتیاط کیوں نہ برتی، کیونکہ لفظ ( «بضع» ) تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے زہری عبیداللہ کے واسطہ سے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas: Abu Sufyan bin Harb informed me that Heraclius had sent a messenger to him while he had been accompanying a caravan from Quraish. They were merchants doing business in Sham (Syria, Palestine, Lebanon and Jordan), at the time when Allah's Messenger (ﷺ) had truce with Abu Sufyan and Quraish infidels. So Abu Sufyan and his companions went to Heraclius at Ilya (Jerusalem). Heraclius called them in the court and he had all the senior Roman dignitaries around him. He called for his translator who, translating Heraclius's question said to them, "Who amongst you is closely related to that man who claims to be a Prophet?" Abu Sufyan replied, "I am the nearest relative …
ہم کو ابوالیمان حکم بن نافع نے حدیث بیان کی، انہیں اس حدیث کی شعیب نے خبر دی۔ انہوں نے زہری سے یہ حدیث سنی۔ انہیں عبیداللہ ابن عبداللہ ابن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس سے ابوسفیان بن حرب نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ہرقل ( شاہ روم ) نے ان کے پاس قریش کے قافلے میں ایک آدمی بلانے کو بھیجا اور اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور ابوسفیان سے ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا۔ جب ابوسفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیاء پہنچے جہاں ہرقل نے دربار طلب کیا تھا۔ اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ ( علماء وزراء امراء ) بیٹھے ہوئے تھے۔ ہرقل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا۔ پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ …
PickthallIt is a promise of Allah. Allah faileth not His promise, but most of mankind know not.
Yusuf Ali(It is) the promise of Allah. Never does Allah depart from His promise: but most men understand not.
The agreed readingIt is God's promise, and God does not break what He has promised. But most people do not know that this is how it stands.
Urduیہ اللہ کا پکا وعدہ تھا، اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا۔ لیکن اکثر لوگ، یعنی مکہ کے کافر، اس حقیقت سے بے خبر تھے اور انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ اللہ کا یہ وعدہ ضرور پورا ہو کر رہے گا، جیسا کہ آخرکار وہ پورا ہو کر ثابت ہوا۔
Arabicهذا وعدٌ من الله لا يتخلَّف، والله لا يُخلِف وعدَه أبدًا. ولكنَّ أكثر الناس، أي كفار مكة، لا يعلمون هذه الحقيقة ولا يُدركون أن وعد الله واقعٌ لا محالة، كما تحقَّق فيما بعد على أتمّ وجهٍ وأكمله.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
Narrated Sa'eed bin Jubair:from Ibn 'Abbas, regarding the saying of Allah, Most High: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land (30:1-3)" he said: "Ghulibat wa Ghalabat (defeated and then victorious)." He said: "The idolaters wanted the Persians to be victorious over the Romans because they too were people who worshiped idols, while the Muslims wanted the Romans to be victorious over the Persians because they were people of the Book. This was mentioned to Abu Bakr, so Abu Bakr mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'They will certainly prevail.' Abu Bakr mentioned that to them, and they said: 'Make a wager between us and you; if we win, we shall get …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر ابوبکر رضی الله عنہ سے کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: ”وہ ( رومی ) ( مغلوب ہو جانے کے بعد پھر ) غالب آ جائیں گے، ابوبکر رضی الله عنہ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: ( ایسی بات ہے تو ) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کر لو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے ( جیت گئے ) تو …
Narrated Abu Sa'eed:"On the Day of (the battle of) Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated..." up to His saying: '...the believers will rejoice. (30:1-4)" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی ( اہل کتاب نصاریٰ ) اہل فارس ( آتش پرست مجوسیوں ) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے۔
Narrated 'Atiyyah:Abu Sa'eed narrated: "On the Day of Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated, up to His saying: 'the believers will rejoice - with the help of Allah... (30:1-5)'" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی ۱؎ اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم» سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ ) پڑھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ .
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade, the preparation of Nabidh in gourd, in varnished jar, hollow stump and from mixing up ripe dates with nearly ripe dates
حبیب بن ابی عمرہ نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو ، سبز گھڑوں ، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں ( میں نبیذ بنانے ) سے اور کچی اور نیم پ پختہ کھجوروں کو ( مشروب بناتے ہوئے باہم ) ملانے سے منع فرمایا ۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
Narrated Ibn 'Abbas:that regarding "Alif Lam Mim. The Romans have been defeated" (In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious. Within Bid' years...) (30 1 & 2)" The Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr about the wager: "Why were you not more cautious Abu Bakr? For indeed Al-Bid' refers to what is from three to nine
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے ان کے ( قریش سے ) شرط لگانے پر کہا: ”اے ابوبکر تم نے شرط لگانے میں «الم غلبت الروم» کی احتیاط کیوں نہ برتی، کیونکہ لفظ ( «بضع» ) تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے زہری عبیداللہ کے واسطہ سے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas: Abu Sufyan bin Harb informed me that Heraclius had sent a messenger to him while he had been accompanying a caravan from Quraish. They were merchants doing business in Sham (Syria, Palestine, Lebanon and Jordan), at the time when Allah's Messenger (ﷺ) had truce with Abu Sufyan and Quraish infidels. So Abu Sufyan and his companions went to Heraclius at Ilya (Jerusalem). Heraclius called them in the court and he had all the senior Roman dignitaries around him. He called for his translator who, translating Heraclius's question said to them, "Who amongst you is closely related to that man who claims to be a Prophet?" Abu Sufyan replied, "I am the nearest relative …
ہم کو ابوالیمان حکم بن نافع نے حدیث بیان کی، انہیں اس حدیث کی شعیب نے خبر دی۔ انہوں نے زہری سے یہ حدیث سنی۔ انہیں عبیداللہ ابن عبداللہ ابن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس سے ابوسفیان بن حرب نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ہرقل ( شاہ روم ) نے ان کے پاس قریش کے قافلے میں ایک آدمی بلانے کو بھیجا اور اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور ابوسفیان سے ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا۔ جب ابوسفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیاء پہنچے جہاں ہرقل نے دربار طلب کیا تھا۔ اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ ( علماء وزراء امراء ) بیٹھے ہوئے تھے۔ ہرقل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا۔ پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ …
PickthallThey know only some appearance of the life of the world, and are heedless of the Hereafter.
Yusuf AliThey know but the outer (things) in the life of this world: but of the End of things they are heedless.
The agreed readingThey know an outward part of the life of this world: its trade and its farming, when to sow and when to reap, how to gather and how to build. And of the world to come they are heedless; it does not cross their minds.
Urduیہ لوگ دنیا کی زندگی کا صرف ظاہری پہلو جانتے ہیں، جیسے تجارت اور کھیتی باڑی، کب بونا ہے اور کب کاٹنا ہے، اور کس طرح جمع کرنا اور تعمیر کرنا ہے۔ لیکن آخرت کے بارے میں وہ بالکل غافل ہیں، اور یہ بات کبھی ان کے ذہن میں آتی ہی نہیں کہ ان سے اس کا حساب بھی لیا جائے گا۔
Arabicيعرف هؤلاء ظاهرًا من الحياة الدنيا فحسب، من تجارةٍ وزراعةٍ، ومتى يبذرون ومتى يحصدون، وكيف يجمعون أموالهم وكيف يعمرون بنيانهم. أما الآخرة فهم عنها غافلون كل الغفلة، لا يخطر أمرها ببالهم ولا يفكرون فيما بعد الموت.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami:"When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the …
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان …
Narrated Sa'eed bin Jubair:from Ibn 'Abbas, regarding the saying of Allah, Most High: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land (30:1-3)" he said: "Ghulibat wa Ghalabat (defeated and then victorious)." He said: "The idolaters wanted the Persians to be victorious over the Romans because they too were people who worshiped idols, while the Muslims wanted the Romans to be victorious over the Persians because they were people of the Book. This was mentioned to Abu Bakr, so Abu Bakr mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'They will certainly prevail.' Abu Bakr mentioned that to them, and they said: 'Make a wager between us and you; if we win, we shall get …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر ابوبکر رضی الله عنہ سے کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: ”وہ ( رومی ) ( مغلوب ہو جانے کے بعد پھر ) غالب آ جائیں گے، ابوبکر رضی الله عنہ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: ( ایسی بات ہے تو ) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کر لو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے ( جیت گئے ) تو …
Narrated Abu Sa'eed:"On the Day of (the battle of) Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated..." up to His saying: '...the believers will rejoice. (30:1-4)" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی ( اہل کتاب نصاریٰ ) اہل فارس ( آتش پرست مجوسیوں ) پر غالب آ گئے۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے۔
Narrated 'Atiyyah:Abu Sa'eed narrated: "On the Day of Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated, up to His saying: 'the believers will rejoice - with the help of Allah... (30:1-5)'" He said: "So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی ۱؎ اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم» سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ ) پڑھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ .
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade, the preparation of Nabidh in gourd, in varnished jar, hollow stump and from mixing up ripe dates with nearly ripe dates
حبیب بن ابی عمرہ نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو ، سبز گھڑوں ، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں ( میں نبیذ بنانے ) سے اور کچی اور نیم پ پختہ کھجوروں کو ( مشروب بناتے ہوئے باہم ) ملانے سے منع فرمایا ۔
Hafs bin Ghiyath narrated:“Habib bin Abi Amrah narrated to us, from Sa’eed bin Jubair, from Ibn Abbas, regarding the saying of Allah, the Mighty and Sublime: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks – he said: ‘The Linah is the date-palms.’ That He might disgrace the rebellious. He said: ‘They were forced from their forts.’ And they were ordered to cut down the date-pals, that caused some hesitation in their chests, so the Muslims said: “We cut some of them, and we left some of them, so let us ask the Messenger of Allah is we are to be rewarded for those that we cut down, and if we will be burdened for what we left?” So Allah [Most High] revealed the …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على …
Narrated Ibn 'Abbas:that regarding "Alif Lam Mim. The Romans have been defeated" (In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious. Within Bid' years...) (30 1 & 2)" The Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr about the wager: "Why were you not more cautious Abu Bakr? For indeed Al-Bid' refers to what is from three to nine
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے ان کے ( قریش سے ) شرط لگانے پر کہا: ”اے ابوبکر تم نے شرط لگانے میں «الم غلبت الروم» کی احتیاط کیوں نہ برتی، کیونکہ لفظ ( «بضع» ) تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے زہری عبیداللہ کے واسطہ سے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas: Abu Sufyan bin Harb informed me that Heraclius had sent a messenger to him while he had been accompanying a caravan from Quraish. They were merchants doing business in Sham (Syria, Palestine, Lebanon and Jordan), at the time when Allah's Messenger (ﷺ) had truce with Abu Sufyan and Quraish infidels. So Abu Sufyan and his companions went to Heraclius at Ilya (Jerusalem). Heraclius called them in the court and he had all the senior Roman dignitaries around him. He called for his translator who, translating Heraclius's question said to them, "Who amongst you is closely related to that man who claims to be a Prophet?" Abu Sufyan replied, "I am the nearest relative …
ہم کو ابوالیمان حکم بن نافع نے حدیث بیان کی، انہیں اس حدیث کی شعیب نے خبر دی۔ انہوں نے زہری سے یہ حدیث سنی۔ انہیں عبیداللہ ابن عبداللہ ابن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس سے ابوسفیان بن حرب نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ہرقل ( شاہ روم ) نے ان کے پاس قریش کے قافلے میں ایک آدمی بلانے کو بھیجا اور اس وقت یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ہوئے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور ابوسفیان سے ایک وقتی عہد کیا ہوا تھا۔ جب ابوسفیان اور دوسرے لوگ ہرقل کے پاس ایلیاء پہنچے جہاں ہرقل نے دربار طلب کیا تھا۔ اس کے گرد روم کے بڑے بڑے لوگ ( علماء وزراء امراء ) بیٹھے ہوئے تھے۔ ہرقل نے ان کو اور اپنے ترجمان کو بلوایا۔ پھر ان سے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص مدعی رسالت کا زیادہ …
PickthallHave they not pondered upon themselves? Allah created not the heavens and the earth, and that which is between them, save with truth and for a destined end. But truly many of mankind are disbelievers in the meeting with their Lord.
Yusuf AliDo they not reflect in their own minds? Not but for just ends and for a term appointed, did Allah create the heavens and the earth, and all between them: yet are there truly many among men who deny the meeting with their Lord (at the Resurrection)!
The agreed readingHave they not thought about their own selves, so as to come back from their heedlessness? Their own selves are nearer to them than anything else, and a mirror in which what is shown in everything else can be seen. God created the heavens and the earth and what lies between them only truly, and for a term He has named. And many people refuse that they will ever meet their Lord.
Urduکیا انہوں نے کبھی اپنی ہی ذات کے بارے میں غور نہیں کیا تاکہ اپنی اس غفلت سے باہر نکل سکیں؟ ان کا اپنا نفس ہر چیز سے زیادہ ان کے قریب ہے، گویا ایک آئینہ ہے جس میں ہر دوسری چیز کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، حق کے ساتھ اور ایک مقررہ مدت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ اپنے رب سے ملاقات کا سرے سے انکار کرتے ہیں۔
Arabicأفلم يتفكَّر هؤلاء في أنفسهم ليرجعوا عن غفلتهم؟ فأنفسُهم أقربُ إليهم من كل شيء، وهي كالمرآة التي ينعكس فيها ما في سواها. وما خلق الله السماواتِ والأرضَ وما بينهما إلا بالحقّ وإلى أجلٍ مسمًّى ينتهي عنده هذا الخلق. ومع ذلك فإنَّ كثيرًا من الناس بلقاء ربهم لَجاحدون منكرون.
PickthallHave they not travelled in the land and seen the nature of the consequence for those who were before them? They were stronger than these in power, and they dug the earth and built upon it more than these have built. Messengers of their own came unto them with clear proofs (of Allah's Sovereignty). Surely Allah wronged them not, but they did wrong themselves.
Yusuf AliDo they not travel through the earth, and see what was the end of those before them? They were superior to them in strength: they tilled the soil and populated it in greater numbers than these have done: there came to them their messengers with Clear (Signs). (Which they rejected, to their own destruction): It was not Allah Who wronged them, but they wronged their own souls.
The agreed readingHave they not travelled through the land and seen how those before them ended? They were stronger in power than these, and they turned the earth over and built on it more than these have built, and their own messengers came to them with plain proofs. God did not wrong them; it was they who wronged themselves.
Urduکیا انہوں نے زمین میں سفر کرکے یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیا ہوا؟ وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور تھے، انہوں نے زمین کو زیادہ جوتا اور اسے آباد کرکے ان سے بڑھ کر تعمیرات کیں، اور ان کے اپنے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔
Arabicأفلم يسيروا في الأرض فينظروا كيف كان عاقبة الذين من قبلهم؟ كانوا أشدَّ منهم قوةً، وحرثوا الأرض وأثاروها وعمروها أكثر مما عمرها هؤلاء، وجاءتهم رسلُهم بالبيّنات الواضحة. وما كان الله ليظلمهم، ولكن كانوا أنفسَهم يظلمون بتكذيبهم رسلَهم وكفرهم بربهم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 1 من كتب أهل السنة، 8 من كتب الشيعة9 reports cited here — 1 Sunnī, 8 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 8 شیعہ کتب سے
569. Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad, from Ali Bin Al-Hakam, from Ali Bin Abu Hamza, from Abu Baseer, who has said: Abu Ja’far (asws) said: ‘Are you (asws) reciting: “[9:112] They who repent (Al-Ta’iboun), who serve (Al-Abidoun)”?’ So he (asws) said: ‘No. Recite “Al-Ta’ibeen Al-Abideen” upto the end of it’. So I asked about the reason for that, he (asws) said: ‘He (azwj) Bought from the Believers (their own selves), the repentant (and) the worshippers’.
محمد بن یحیی، احمد بن محمد، علی بن الحکم، علی بن ابو حمزہ سے، اور ابو بصیر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابو جعفر (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم 'التائبون العابدون' پڑھ رہے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، 'التائبین العابدین' پڑھو، اس کے آخر تک۔ پھر ان سے اس کے علة کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وہ (اللہ تعالیٰ) نے مومنین سے تائبین اور عابدین کو خریدا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. A number of our people has narrated from Ahmad ibn Muhammad from al-Husayn ibn Sa‘id from al-Qasim ibn Muhammad from Ali ibn abu Hamzah from abu Basir from abu ‘Abdallah (a.s.) who has said the following. “Allah, the Most Holy, the Most High, has two kinds of knowledge. One kind is His only and no creature knows about it. The other kind is that which He has thrown unto His angels and His Messenger. Whatever is thrown to the angels and the Messengers have reached us.”
ہمارے کچھ اصحاب نے احمد بن محمد سے روایت کی، وہ حسین بن سعید سے، وہ قاسم بن محمد سے، وہ علی بن ابی حمزہ سے، وہ ابو بصیر سے، اور ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل کے دو علم ہیں۔ ایک علم تو وہ ہے جو اس کے پاس ہے اور اس نے اپنی کسی مخلوق کو اس کا علم نہیں دیا۔ اور ایک علم وہ ہے جسے اس نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے۔ سو جو علم اس نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے، وہ ہم تک پہنچ گیا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
4. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when the Messenger of Allah passed away they (people) heard a voice, but did not see anyone in person, saying, ‘Every soul is to experience the taste of death. You will certainly receive your reward on the Day of Judgment. Whoever is saved from the fire and is admitted in paradise, has become successful indeed.’ It also said, ‘In (the mercy of) Allah are good consequences for everyone who dies, solace for all forms of sorrow and compensation for every loss. In Allah, you must trust and in Him only place your hope. Deprived person, in …
علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے روایت کی، ان کے والد نے ابن ابی عمیر سے روایت کی، ابن ابی عمیر نے ہشام بن سالم سے روایت کی، ہشام نے کہا کہ ابو عبد الله (علیہ السلام) نے فرمایا: جب نبی (صلی الله علیہ وآلہ) کا انتقال ہوا تو لوگوں نے ایک آواز سنی مگر کوئی شخص نہ دیکھا۔ وہ کہہ رہی تھی: ہر نفس موت کا مزہ چکھے گا۔ اور تمہیں تمہارے اجر قیامت کے دن ہی دیے جائیں گے۔ تو جو شخص آگ سے بچایا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے وہ فوز پایا۔ اور کہا: الله میں ہر ہلاک ہونے والے کی جانشینی ہے، ہر مصیبت میں تسلی ہے، اور ہر ضائع چیز میں بدلہ ہے۔ پس الله پر اعتماد رکھو، اسی سے اپنی امید رکھو۔ اور یقیناً محروم وہ ہے جو ثواب سے محروم ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no one whom Allah will admit to Paradise but Allah will marry him to seventy-two wives, two from houris and seventy from his inheritance from the people of Hell, all of whom will have desirable front passages and he will have a male member that never becomes flaccid (i.e., soft and limp).’”
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی جنت میں جائے گا اللہ تعالیٰ بہتر ( ۷۲ ) بیویوں سے اس کی شادی کر دے گا، دو بڑی آنکھوں والی حوریں اور ستر ( ۷۰ ) اہل جہنم کی میراث میں سے ہوں گی، ان میں سے ہر ایک کی شرمگاہ خوب شہوت والی ہو گی، اور اس کا ذکر ایسا ہو گا جس میں کبھی کجی نہیں ہو گی ، ہشام بن خالد نے کہا: اہل جہنم کی میراث سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ جہنم میں جائیں گے اہل جنت ان کی بیویوں کے وارث ہو جائیں گے مثلا ً فرعون کی بیوی کے وارث جنتی ہوں گے۔
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, says, ‘One who is occupied in speaking of Me instead of asking Me for help, I will grant him better than what 1 am to grant to one who asks Me for help.’”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی، وہ ابن ابی عمیر سے، وہ ہشام بن سالم سے، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل فرماتے ہیں: جو شخص میری یاد میں مشغول ہو کر سوال کرنے سے غافل رہے تو میں اسے بہتر دوں گا اس سے جو میں سوال کرنے والوں کو دیتا ہوں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[380/2] التوحيد: ابن الوليد، عن الصفار، عن ابن هاشم، عن ابن أبي عمير، عن هشام بن سالم، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قلت: فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا قال: التوحيد
2. [2/380] al-Tawhid: Ibn al-Walid from al-Saffar from Ibn Hashim from Ibn Abi Umayr from Hisham b. Salim from Abi Abdillah عليه السلام. He (Hisham) said: I said: “The Fitra of Allah which He created the people upon” (30:30)? He (the Imam) said: (that is) Tawhid.
یہ حدیث التوحید کے باب میں ہے۔ ابن الوليد نے الصفار سے حدیث روایت کی، انہوں نے ابن ہاشم سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے ہشام بن سالم سے، انہوں نے ابواعبداللہ علیہ السلام سے۔ ہشام بن سالم بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام سے کہا: اللہ تعالیٰ کا فطرت جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے - امام علیہ السلام نے جواب دیا: وہ توحید ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
3. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from ibn ’Udhaynah from Zurarah, Bukayr, Fudayl, Burayd and Muhammad ibn Muslim from abu Ja‘far and abu ‘Abd Allah, ‘Alayhim al-Salam, and certain ones of them has narrated from abu ‘ Abd Allah, and others have narrated who has narrated the following: “One of the two Imam, (abu Ja‘far or abu ‘Abd Allah), ‘Alayhim al-Salam, has said, ‘A woman does not inherit from the legacy of her husband in the form of land of his house or land. However, she can inherit from bricks and wood which must be appraised from the value of which one-fourth must be given to her or one-eighth, if she has children, of the value of bricks, branches …
علی بن ابراہیم اپنے باپ سے، ابن ابی عمیر سے، ابن اذینہ سے، زرارہ، بکیر، فضیل، برید اور محمد بن مسلم سے روایت کرتے ہیں، ابو جعفر اور ابو عبداللہ (علیہما السلام) سے، ان میں سے بعض نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے اور بعض نے ان دونوں میں سے کسی سے روایت کی ہے کہ عورت اپنے شوہر کی میراث میں گھر کی زمین یا (خالی) زمین سے وارث نہیں ہو سکتی، سوائے اس کے کہ ایٹیں اور لکڑی کو قیمت میں تبدیل کیا جائے تو اسے اس کا ایک چوتھائی یا ایک آٹھواں حصہ دیا جائے اگر اس کے بچے ہوں، ایٹیوں اور درختوں کی شاخوں اور لکڑی کی قیمت میں سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
4. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from ibn ‘Udhaynah who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘One who assumes the state of Ihram for al-Hajj in the months that are not for al-Hajj; his Hajj is not valid, and one who assumes the state of Ihram from a non-Miqat (place for assuming the state of Ihram), his Ihram is not valid.’”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپا سے روایت کی، ابن ابی عمیر سے، ابن اذینہ سے کہا: ابو عبداللہ علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص حج کو حج کے مہینوں سے الگ مہینے میں احرام باندھے تو اس کا حج صحیح نہیں ہے۔ اور جو شخص میقات سے پہلے احرام باندھے تو اس کا احرام صحیح نہیں ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
5. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Faddal from abu Jamilah from Muhammad al-Halabi from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Blessed, the Most High, has said, ‘The most beloved matter to Me through which My servant seeks to be loved is to fulfill what 1 have made obligatory upon him.’”
ہمارے اصحاب میں سے جماعت نے احمد بن محمد سے، ابن فضال سے، ابو جميلة سے، محمد الحلبي سے روایت کی ہے کہ ابو عبد الله علیہ السلام نے کہا: الله تبارک و تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے مجھے کسی چیز سے اپنے کے قریب نہیں کیا ہے، اس سے زیادہ محبوب ہے جو میں نے اس پر فرض کیا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThen evil was the consequence to those who dealt in evil, because they denied the revelations of Allah and made a mock of them.
Yusuf AliIn the long run evil in the extreme will be the End of those who do evil; for that they rejected the Signs of Allah, and held them up to ridicule.
The agreed readingThen the end of those who did evil was the worst end there is, because they called God's signs lies and made a mockery of them.
Urduپھر ان بدکاروں کا انجام سب سے برا انجام ثابت ہوا، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اللہ کی نشانیوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑاتے رہے، حالانکہ وہ نشانیاں نہایت واضح تھیں اور ان کے سامنے ثبوت کے طور پر پیش کی گئی تھیں۔
Arabicثم كانت عاقبةُ الذين أساؤوا أسوأَ العواقب وأقبَحَها، وذلك بسبب أنهم كذَّبوا بآيات الله واستهزؤوا بها، مع أنها كانت بيّناتٍ واضحةً أقيمت عليهم بها الحجة فلم يعتبروا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 1 من كتب أهل السنة، 8 من كتب الشيعة9 reports cited here — 1 Sunnī, 8 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 8 شیعہ کتب سے
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from al-Husayn ibn Sa‘id from certain persons of our people from Sama‘ah from abu Basir who has said the following: “Abu ’Abd Allah (a.s.), has said, ‘Qunut (supplication after recitation) on Friday is in the first Rak‘at after recitation in which you can read, “No one deserves to be worshipped besides Allah, the Forbearing, the Honorable. No one deserves to be worshipped besides Allah, most High, most Great. No one deserves to be worshipped besides Allah who is the Lord of seven heavens, the seven earths, all that is in them and between them and the Lord of the great throne. All praise belongs to Allah, Cherisher of the worlds. O …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، الحسین بن سعید سے، بعض اصحاب سے، سمئہ سے، ابو بصیر سے، ابو عبد الله علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: القنوت جمعہ کے دن کی قنوت ہے پہلی رکعت میں قرآن کے بعد۔ تم قنوت میں یہ کہو: لا الہ الا الله الحلیم الکریم۔ لا الہ الا الله العلی العظیم۔ لا الہ الا الله رب السموات السبع ورب الارضین السبع وما فیہن وما بینہن ورب العرش العظیم۔ والحمد لله رب العالمین۔ اے الله! محمد پر درود بھیج جیسے تو نے ہمیں ان کے ذریعے ہدایت دی۔ اے الله! محمد پر درود بھیج جیسے تو نے ہمیں ان کے ذریعے عزت دی۔ اے الله! ہمیں ان میں سے بنا جن کو تو نے اپنے دین کے لیے منتخب کیا ہے اور اپنی جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اے الله! ہماری دلوں کو اس کے بعد ٹیڑھا مت کر کہ تو نے ہمیں ہدایت دے دی ہے، اور …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
3. It is narrated from him (narrator of the Hadith above) from ‘Uthman ibn ‘Isa from ibn Muskan from Muhammad ibn Muslim from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, has created certain locks for evil. He has made wine the key to those locks. Lying is more evil than wine.”
عنہ عن عثمان بن عيسیٰ ابن مسکان سے محمد بن مسلم سے ابو جعفر علیہ السلام سے روایت ہے۔ کہا: إن الله عز وجل نے شر کے لیے تالے بنائے اور ان تالوں کی کلیدیں الشراب کو بنایا۔ لیکن الکذب الشراب سے زیادہ برا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
11. Al-Husayn ibn Muhammad has narrated from Mu‘alla’ ibn Muhammad from al-Washsha’ from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “I once heard abu ‘Abd Allah (a.s.), saying, ‘Allah, most Majestic, most Glorious, has chosen something from everything and from camels, He has chosen she-camels and from sheep He has chosen ewes.’”
۱۱۔ الحسين بن محمد نے معلى بن محمد سے، الوشاء سے، عبد الله بن سنان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابو عبد الله علیہ السلام کو سنا، وہ کہتے تھے: اللہ عزّ وجل نے ہر چیز سے ایک چیز منتخب کی ہے، اونٹوں سے اونٹنی کو منتخب کیا اور بھیڑوں سے مادہ بھیڑ کو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah, may Allah be pleased with them, said that:Allah's Messenger said: "They said: 'O Messenger of Allah, whom should I treat kindly?' He said: 'Your mother.' He said: 'Then who?' He said :'Your mother." He said: 'Then who?' He said: 'Your father'. He said : 'Then who?' He said: 'The next closest and the next closest
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں ۔
3. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from his father from fadalah from Rifa‘ah who has said the following: “I once heard abu ‘Abd Allah (a.s.), saying, ‘When Allah, most Blessed, most High, granted good health to Ayyub (a.s.), he looked to the Israelites who had their plantations. He raised his eyes to the sky and said, ‘O Lord, my Master, this is Your slave Ayyub who was in suffering and You granted him good health but he does not have any plantation. These are people of banu Israel who have their plantations.’ Allah, most Majestic, most Glorious, sent him revelation that said, ‘Take a handful from you rosary beads and use it as seed .’ His rosary …
عدة من اصحابنا نے احمد بن محمد بن خالد سے، ان کے باپا سے، فضالة سے، رفاعة سے روایت کی، کہا: میں نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) کو کہتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ جب ایوب (علیہ السلام) کو عافیت دے دی، تو اس نے بنی اسرائیل کو دیکھا کہ وہ بوئے بو رہے ہیں، تو اس نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا: اے میرے خدا اور میرے سیاہی! تمہارا بندہ ایوب جو مبتلا تھا، انہیں عافیت دے دی، اور انہوں نے کوئی بوا نہ بویا، اور یہ بنی اسرائیل ہیں جن کے پاس کھیت ہیں۔ تو اللہ عزّ وجلّ نے اس کی طرف وحی کی: اے ایوب، اپنے تسبیح سے ایک مٹھی لے اور اسے بو۔ اور اس کی تسبیح میں نمک تھی۔ تو ایوب (علیہ السلام) نے اس سے ایک مٹھی لی اور اسے بویا، تو عدس نکلی، اور تم اسے چنے کا نام دیتے ہو، اور ہم اسے عدس کہتے ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn ‘Isa from Mu’ammar ibn Khallad who has said the following: “Abu al-Hassan (a.s.), purchased a house and instructed one of his Mawla’ to move in saying, ‘Your house is congested.’ He said, ‘My father has established this house.’ He (the Imam) said, ‘If your father was dimwitted, is it proper that you also be like him?”’
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے روایت کی، معمر بن خلاد سے، انہوں نے کہا: ابو الحسن (علیہ السلام) نے ایک گھر خریدا اور اپنے ایک غلام کو حکم دیا کہ اس میں منتقل ہو اور کہا: تمہارا گھر تنگ ہے۔ وہ بولا: میرے والد نے یہ گھر بنایا ہے۔ تو ابو الحسن (علیہ السلام) نے کہا: اگر تمہارے والد احمق تھے تو کیا تمہیں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے؟
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
4. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when the Messenger of Allah passed away they (people) heard a voice, but did not see anyone in person, saying, ‘Every soul is to experience the taste of death. You will certainly receive your reward on the Day of Judgment. Whoever is saved from the fire and is admitted in paradise, has become successful indeed.’ It also said, ‘In (the mercy of) Allah are good consequences for everyone who dies, solace for all forms of sorrow and compensation for every loss. In Allah, you must trust and in Him only place your hope. Deprived person, in …
علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے روایت کی، ان کے والد نے ابن ابی عمیر سے روایت کی، ابن ابی عمیر نے ہشام بن سالم سے روایت کی، ہشام نے کہا کہ ابو عبد الله (علیہ السلام) نے فرمایا: جب نبی (صلی الله علیہ وآلہ) کا انتقال ہوا تو لوگوں نے ایک آواز سنی مگر کوئی شخص نہ دیکھا۔ وہ کہہ رہی تھی: ہر نفس موت کا مزہ چکھے گا۔ اور تمہیں تمہارے اجر قیامت کے دن ہی دیے جائیں گے۔ تو جو شخص آگ سے بچایا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے وہ فوز پایا۔ اور کہا: الله میں ہر ہلاک ہونے والے کی جانشینی ہے، ہر مصیبت میں تسلی ہے، اور ہر ضائع چیز میں بدلہ ہے۔ پس الله پر اعتماد رکھو، اسی سے اپنی امید رکھو۔ اور یقیناً محروم وہ ہے جو ثواب سے محروم ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, says, ‘One who is occupied in speaking of Me instead of asking Me for help, I will grant him better than what 1 am to grant to one who asks Me for help.’”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی، وہ ابن ابی عمیر سے، وہ ہشام بن سالم سے، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل فرماتے ہیں: جو شخص میری یاد میں مشغول ہو کر سوال کرنے سے غافل رہے تو میں اسے بہتر دوں گا اس سے جو میں سوال کرنے والوں کو دیتا ہوں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[380/2] التوحيد: ابن الوليد، عن الصفار، عن ابن هاشم، عن ابن أبي عمير، عن هشام بن سالم، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قلت: فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا قال: التوحيد
2. [2/380] al-Tawhid: Ibn al-Walid from al-Saffar from Ibn Hashim from Ibn Abi Umayr from Hisham b. Salim from Abi Abdillah عليه السلام. He (Hisham) said: I said: “The Fitra of Allah which He created the people upon” (30:30)? He (the Imam) said: (that is) Tawhid.
یہ حدیث التوحید کے باب میں ہے۔ ابن الوليد نے الصفار سے حدیث روایت کی، انہوں نے ابن ہاشم سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے ہشام بن سالم سے، انہوں نے ابواعبداللہ علیہ السلام سے۔ ہشام بن سالم بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام سے کہا: اللہ تعالیٰ کا فطرت جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے - امام علیہ السلام نے جواب دیا: وہ توحید ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAllah produceth creation, then He reproduceth it, then unto Him ye will be returned.
Yusuf AliIt is Allah Who begins (the process of) creation; then repeats it; then shall ye be brought back to Him.
The agreed readingGod begins the creation of people, then makes it again after their death, and then to Him you will be returned.
Urduاللہ تعالیٰ ہی پہلی بار مخلوق کو وجود میں لاتا ہے، پھر ان کی موت کے بعد وہی دوبارہ انہیں پیدا کرے گا، اور آخرکار سب کو اسی کی طرف لوٹایا جائے گا تاکہ وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے، خواہ وہ نیک ہو یا بد۔
Arabicاللهُ وحدَه يبدأ خلقَ الناس إنشاءً من العدم، ثم يعيدُهم من بعد موتهم كما بدأهم أول مرة، ثم إليه وحدَه يُرجَعون جميعًا في الآخرة ليجازيَهم بما قدَّموا من أعمالٍ، خيرًا كان أو شرًّا.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 5 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة8 reports cited here — 5 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
5. Abu Ali al-Ash‘ari has narrated from Muhammad ibn ‘Abd al-Jabbar from ibn Faddal from Tha‘laba ibn Maymun from Zurarah who has said that he heard abu Ja‘far (a.s.) and abu ‘Abdallah (a.s.) say the following. “Allah, the Most Holy, the Most High, made His Prophet the in charge of His creatures to se how their obedience is. They then recited the following verse of the Holy Quran. “. .what the Messenger (of Allah) you, you must take (obey) and what he prohibits you, you must desist from. .” (59:7)” Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from al-Hajjal from Tha‘laba ibn Maymun from Zurara a similar hadit.
ابو علی الاشعری نے محمد بن عبدالجبار سے، انہوں نے ابن فضال سے، انہوں نے ثعلبہ بن میمون سے، انہوں نے زرارہ سے روایت کی کہ انہوں نے ابو جعفر اور ابو عبدالله علیہ السلام کو یہ کہتے سنا: بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی کو اپنی مخلوق کے معاملات میں وکالت دی تاکہ دیکھے کہ ان کی اطاعت کیسی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: جو کچھ رسول تمہیں دے تو اسے لے لو، اور جس سے تمہیں منع کرے تو اس سے رک جاؤ۔ محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، انہوں نے الحجال سے، انہوں نے ثعلبہ بن میمون سے، انہوں نے زرارہ سے اسی طرح روایت کی۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
5. It is narrated from him (narrator of the Hadith above) from ibn Mahbub from ‘Amr ibn Shamir from Jabir from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, is compassionate. He loves kindheartedness and awards for it with such things that He does not give due to rudeness.”
عنہ عن ابن محبوب عن عمرو بن شمر عن جابر عن ابی جعفر (علیہ السلام) نے کہا: الله تعالیٰ رفیق ہے۔ وہ رفق اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور رفق پر ایسا عطا کرتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
3. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from Ali ibn al-Nu’man from Sa‘id ibn ‘Abd Allah al-’A‘raj who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that during the days of ignorance Quraysh had destroyed the House, but when they wanted to rebuild, something came between them and the House. They were frightened so much that someone among them said, ‘Everyone should bring the best and purest of his properties which he has earned free from involvement in misuse of good relations with relatives or unlawful matters. They did so and were allowed to build. They built up to the place for the Black Stone and they began to disagree about who should set it in place. The …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، علی بن النعمان سے، سعید بن عبداللہ الاعرج سے، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے روایت کی۔ ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے کہا: بے شک قریش نے جاہلیت میں بیت الحرام کو ڈھا دیا تھا۔ جب انہوں نے اسے دوبارہ بنانا چاہا تو ان کے اور اس کے درمیان روک لگائی گئی اور ان کے دلوں میں خوف ڈالا گیا۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: تم میں سے ہر شخص اپنے سب سے خوبصورت اور حلال مال لائے، اور اس مال سے بچو جو تم نے قطع رحمی یا حرام سے کمایا ہو۔ انہوں نے ایسا کیا اور انہیں تعمیر کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے اسے بنایا یہاں تک کہ سیاہ پتھر کی جگہ تک پہنچے۔ وہاں انہوں نے جھگڑنا شروع کیا - ہر ایک چاہتا تھا کہ سیاہ پتھر کو رکھے۔ جھگڑا بڑھنے لگا اور قریب تھا کہ شقّ و نزاع ہو۔ انہوں نے فیصلہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Mu'adh bin Jabal:"I accompanied the Prophet (ﷺ) on a journey. One day I was near him while we were moving so I said: 'O Messenger of Allah! Inform me about an action by which I will be admitted into Paradise, and which will keep me far from the Fire.' He said: 'You have asked me about something great, but it is easy for whomever Allah makes it easy: Worship Allah and do not associate any partners with Him, establish the Salat, give the Zakat, fast Ramadan and perform Hajj to the HOuse.' Then he said: 'Shall I not guide you to the doors of good? Fasting is a shield, and charity extinguishes sins like water extinguishes fire - and a man's praying in depths of the night.'" He said: …
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک دن صبح کے وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوا، ہم سب چل رہے تھے، میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے، اور جہنم سے دور رکھے؟ آپ نے فرمایا: ”تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے۔ اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ آسان کر دے۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو، اور بیت اللہ کا حج کرو“۔ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے ( راستے ) نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز …
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "Allah Most High said: 'I have prepared for My righteous worshipers what no eye has seen, no ear has heard, and no human heart has conceived.'" And that is testified to in Allah's [the Mighty and Sublime] Book: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes (32:)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں نے اپنے نیک صالح بندوں کے لیے ایسی چیز تیار کی ہے جسے کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے، اس کی تصدیق کتاب اللہ ( قرآن ) کی اس آیت «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”کوئی شخص نہیں جانتا جو ہم نے ان کے ( صالح ) اعمال کے بدلے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ( کے لیے ) پوشیدہ رکھ رکھی ہے“ ( السجدۃ: ۱۶ ) ، سے ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے ۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
Abu Huraira reported:One day the Messenger of Allah (ﷺ) appeared before the public so a man came to him and then said: Prophet of Allah, what is Iman? Upon this he (the Holy Prophet) replied: That you affirm your faith in Allah, His angels, His Books, His meeting, His Messengers and that you affirm your faith in the Resurrection hereafter. He said: Messenger of Allah, what is al-Islam? He replied: Al-Islam is that you worship Allah and do not associate anything with Him and you establish obligatory prayer and you pay the obligatory alms (Zakat) and you observe the fast of Ramadan. He said: Messenger of Allah, what is al-Ihsan? He replied: That you worship Allah as if you are seeing Him, and …
اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) نے ابو حیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کے سامنے ( تشریف فرما ) تھے ، ایک آدمی آپﷺ کے پاس آیا اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، ( قیامت کے روز ) اس سے ملاقات ( اس کے سامنے حاضری ) اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور آخری ( بار زندہ ہو کر ) اٹھنے پر ( بھی ) ایمان لے آؤ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’اسلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ، لکھی ( فرض کی ) گئی نمازوں کی پابندی کرو ، فرض کی گئی زکاۃ ادا کرو …
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ، وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ذُخْرًا، بَلْهَ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْهِ ". ثُمَّ قَرَأَ {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ}
Narrated Abu Huraira:The Prophet, said, "Allah said, 'I have prepared for My pious worshipers such things as no eye has ever seen, no ear has ever heard of, and nobody has ever thought of. All that is reserved, besides which, all that you have seen, is nothing." Then he recited:-- 'No soul knows what is kept hidden (in reserve) for them of joy as a reward for what they used to do
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، کہا ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیکوکار بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہ دیکھا اور کسی کان نے نہ سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی گمان و خیال پیدا ہوا۔ اللہ کی ان نعمتوں سے واقفیت اور آگاہی تو الگ رہی ( ان کا کسی کو گمان و خیال بھی پیدا نہیں ہوا ) ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» کہ ”سو کسی نفس مومن کو معلوم نہیں جو جو سامان آنکھوں کی ٹھنڈک کا ( جنت میں ) ان کے لیے چھپا کر رکھا …
PickthallAnd in the day when the Hour riseth the unrighteous will despair.
Yusuf AliOn the Day that the Hour will be established, the guilty will be struck dumb with despair.
The agreed readingAnd on the Day when the Hour rises the guilty will be struck dumb with despair, their argument cut off and nothing left for them to say.
Urduجس دن قیامت قائم ہوگی، اس دن مجرم لوگ مایوسی سے خاموش اور ساکت ہو جائیں گے، ان کی کوئی دلیل باقی نہیں رہے گی اور وہ اپنے دفاع میں کچھ کہنے کے قابل نہیں ہوں گے، کیونکہ ان کے پاس اپنے شرک کا کوئی جواز پیش کرنے کو کچھ نہیں بچے گا۔
Arabicويوم تقوم الساعةُ ييأس المجرمون يأسًا شديدًا فيسكتون، وتنقطع حجتُهم فلا يبقى لهم ما يقولونه دفاعًا عن أنفسهم، إذ لا عذرَ عندهم يسوّغون به ما كانوا عليه من الشرك والتكذيب.
PickthallThere will be none to intercede for them of those whom they made equal with Allah. And they will reject their partners (whom they ascribed unto Him).
Yusuf AliNo intercessor will they have among their "Partners" and they will (themselves) reject their "Partners".
The agreed readingAnd none of those they set up as partners with God, the idols, will intercede for them. Having already despaired of mercy on account of their own deeds, they despair of their gods too, and they will refuse the partners they made.
Urduاس دن ان کے بنائے ہوئے شریکوں، یعنی بتوں میں سے کوئی بھی ان کی سفارش نہیں کرے گا۔ وہ لوگ اپنے اعمال کی وجہ سے پہلے ہی اللہ کی رحمت سے مایوس ہو چکے ہوں گے، اور اسی طرح اپنے معبودوں سے بھی مایوس ہو جائیں گے، اور وہ خود اپنے بنائے ہوئے شریکوں کا صاف انکار کر دیں گے۔
Arabicولن يكون لهم من شركائهم الذين اتخذوهم أصنامًا شفعاءُ في ذلك اليوم. وقد يئسوا من رحمة الله بسبب أعمالهم، ثم يَيأسون من آلهتهم أيضًا، وسيتبرَّؤون من الشركاء الذين كانوا يعبدونهم ويجحدونهم جحودًا تامًّا.
PickthallIn the day when the Hour cometh, in that day they will be sundered.
Yusuf AliOn the Day that the Hour will be established,- that Day shall (all men) be sorted out.
The agreed readingAnd on the Day the Hour rises, on that Day they will be parted from one another, those who believed and those who refused.
Urduجس دن قیامت قائم ہوگی، اسی دن ایمان لانے والے اور انکار کرنے والے ایک دوسرے سے الگ الگ ہو جائیں گے، اور ہر گروہ کو اس کے حال کے مطابق جدا کر دیا جائے گا، مومن ایک طرف اور کافر دوسری طرف رکھے جائیں گے۔
Arabicويوم تقوم الساعةُ، في ذلك اليوم يتفرَّق الناسُ فرقتين، فأما الذين آمنوا فيميَّزون عن الذين كفروا، ويُساق كلُّ فريقٍ إلى ما يستحقُّه بحسب عمله في الدنيا.
PickthallAs for those who believed and did good works, they will be made happy in a Garden.
Yusuf AliThen those who have believed and worked righteous deeds, shall be made happy in a Mead of Delight.
The agreed readingAs for those who believed and did what is right, they will be in a garden, and in it they will be made glad.
Urduجو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، وہ جنت کے ایک باغ میں ہوں گے، اور وہاں انہیں ہر طرح کی خوشی اور راحت عطا کی جائے گی، اور ان کی عزت افزائی کی جائے گی جس کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
Arabicأما الذين آمنوا وعملوا الصالحاتِ فسيكونون في روضةٍ من رياض الجنة، وهناك يُسَرُّون ويُكرَمون ويُنَعَّمون بما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خطر على قلب بشرٍ قط.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 7 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة9 reports cited here — 7 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنِ ابْنِ الْقَدَّاحِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ( صلى الله عليه وآله ) فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَمَاذَا أُسَمِّيهِ قَالَ سَمِّهِ بِأَحَبِّ الْأَسْمَاءِ إِلَيَّ حَمْزَةَ .
9. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ja‘far ibn Muhammad al-Ash‘ariy from ibn al-Qaddah who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that once a man came to the Holy Prophet (saww) and said, ‘O Messenger of Allah, a son is born to me, what should I name him?’ The Messenger of Allah replied, ‘Name him with the most beloved of names to me; Hamza.’”
علي بن إبراهيم اپنے باپ سے، جعفر بن محمد الأشعري سے، ابن القداح سے، ابی عبد الله (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ کہا: ایک آدمی نبي (صلى الله عليه وآله) کے پاس آیا اور کہا: اے الله کے رسول! مجھے ایک بیٹا پیدا ہوا ہے، تو میں اسے کیا نام دوں؟ انہوں نے کہا: اسے میرے نزدیک سب سے محبوب نام سے نام دو؛ حمزہ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
أبي - رحمه الله - قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن أحمد بن أبي عبد الله، عن محمد ابن علي الكوفي، عن عبيد الله الدهقان، عن درست بن أبي منصور الواسطي، عن إبراهيم ابن عبد الحميد، عن أبي الحسن موسى عليه السلام قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله فقال: يا رسول الله قد علمت ابني هذا الكتاب، ففي أي شئ أسلمه؟ فقال: سلمه لله أبوك ولا تسلمه في خمس: لا تسلمه سياء ولا صائغا ولا قصابا ولا حناطا ولا نخاسا فقال: يا رسول الله وما السياء؟ قال: الذي يبيع الأكفان ويتمنى موت أمتي وللمولود عن أمتي أحب إلي مما طلعت عليه الشمس. وأما الصائغ فإنه يعالج غبن أمتي . وأما القصاب فإنه يذبح حتى تذهب الرحمة من قلبه. وأما الحناط فإنه يحتكر الطعام على أمتي ولئن يلقى الله العبد سارقا أحب إلي من أن يلقاه قد احتكر طعاما …
1. My father, may Allah grant him mercy, said: We were told by Sa’d bin Abdullah, from Ahmad bin Abi Abdillah, from Muhammed ibn Ali al-Kufi, from Ubaidullah al-Dahqan, from Darast bin Abi Mansur al-Wasiti, from Ibrahim ibn Abdil-Hamid, from Abu’l-Hasan, Musa, peace be upon him, that he said: A man came to the Prophet, Allah’s blessings be upon him and his Family, and said: O Messenger of Allah, I have taught my son this book, so for what thing shall I give it? He said: Give it, for the sake of Allah, to your father, and do not give it to five: do not give it to an evil-wisher, nor a goldsmith, nor a slaughterer, nor a wheat seller, nor a slave trader. Then he said: O Messenger of Allah, …
میرے والد - اللہ انہیں رحمت دے - نے کہا: ہمیں سعد بن عبداللہ نے خبر دی، احمد بن ابی عبداللہ سے، محمد بن علی الکوفی سے، عبیداللہ الدہقان سے، درست بن ابی منصور الواسطی سے، ابراہیم بن عبدالحمید سے، ابو الحسن موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے بیٹے کو یہ کتاب سکھایا ہے، تو اسے کس میں دے دوں؟ انہوں نے کہا: اسے اللہ کے لیے اپنے والد کو دے دو اور انہیں پانچوں میں مت دینا: ایک - ستھا بیچنے والے کو، دوسرا - سونار کو، تیسرا - قصائی کو، چوتھا - اناج کا تاجر کو، پانچواں - غلام خریدو فروخت کرنے والے کو۔ تو آدمی نے کہا: یا رسول اللہ، ستھا بیچنے والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ جو کفن بیچتا ہے اور میری امت کی موت کی خواہش رکھتا ہے۔ حالانکہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Yahya related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Abu Bakr ibn Abd ar-Rahman, from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If people knew what was in the adhan and the first row of the prayer and could only draw lots for it, they would draw lots. And if they knew what was in doing dhuhr early, they would race each other to it. And if they knew what was in isha and subh, they would go to them even if they had to crawl
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر معلوم ہوتا لوگوں کو جو کچھ اذان دینے میں اور صف اول میں ثواب میں پھر نہ پا سکتے ان کو بغیر قرعہ کے البتہ قرعہ ڈالتے اور اگر معلوم ہوتا لوگوں کو جو کچھ نماز کے اول وقت پڑھنے میں ثواب ہے البتہ جلدی کرتے اس کی طرف اور اگر معلوم ہوتا جو کچھ ثواب ہے عشاء اور صبح کی نماز باجماعت پڑھنے کا البتہ آتے جماعت میں گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Traveling is a kind of torment, it keeps anyone of you from his sleep, food and drink. When anyone of you has fulfilled the purpose for which he travled, let him hasten to return to his family.” Another chain reports a similar hadith
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے ( کی سہولتوں ) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کر لے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے ۔
Abu Hurairah narrated that:The Prophet (ﷺ) said: “Whoever says in the morning and in the evening ‘Glory is to Allah and with His Praise (Subḥān Allāh, wa biḥamdih)’ a hundred times, none shall bring better than him on the Day of Judgment except one who did the same as him, or increased upon it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح و شام میں سو ( سو ) مرتبہ: «سبحان الله وبحمده» کہے، قیامت کے دن کوئی شخص اس سے اچھا عمل لے کر نہیں آئے گا، سوائے اس شخص کے جس نے وہی کہا ہو جو اس نے کہا ہے یا اس سے بھی زیادہ اس نے یہ دعا پڑھی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There are two statements that are light on the tongue, heavy on the Scale, and beloved to Ar-Raḥmān: “Glory is to Allah and the praise; Glory is to Allah, the Magnificent. (Subḥān Allāhi wa biḥamdih, Subḥān Allāhil-Aẓīm)”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں ( آسانی سے ادا ہو جاتے ہیں ) مگر میزان میں بھاری ہیں ( تول میں وزنی ہیں ) رحمن کو پیارے ہیں ( وہ یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Two words which are light on the tongue and heavy in the Balance, and beloved to the Most Merciful: Subhan-Allah wa bi hamdihi, Subhan-Allahil-'Azim (Glory and praise is to Allah, glory is to Allah the Almighty)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو کلمے زبان پر بہت ہلکے ہیں ۱؎، اور میزان میں بہت بھاری ہیں، اور رحمن کو بہت پسند ہیں ( وہ دو کلمے یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» اللہ ( ہر عیب و نقص سے ) پاک ہے اور ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، عظیم ( عظمت والا ) اللہ ( ہر عیب و نقص ) سے پاک ہے ) ۱؎۔
Abu Hurairah, may Allah be pleased with them, said that:Allah's Messenger said: "They said: 'O Messenger of Allah, whom should I treat kindly?' He said: 'Your mother.' He said: 'Then who?' He said :'Your mother." He said: 'Then who?' He said: 'Your father'. He said : 'Then who?' He said: 'The next closest and the next closest
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں ۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who recites in the morning and in the evening (these words):" Hallowed be Allah and all praise is due to Him" one hundred times, he would not bring on the Day of Resurrection anything excellent than this except one who utters these words or utters more than these words
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص جب صبح کرے اور جب شام کرے تو سو بار " سبحان الله وبحمده " کہے تو قیامت کے روز کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا ، سوائے اس کے جو اتنی بار ( یہ کلمات ) کہے یا اس سے زیادہ بار کہے ۔
PickthallBut as for those who disbelieved and denied Our revelations, and denied the meeting of the Hereafter, such will be brought to doom.
Yusuf AliAnd those who have rejected Faith and falsely denied our Signs and the meeting of the Hereafter,- such shall be brought forth to Punishment.
The agreed readingBut as for those who refused, and called God's signs lies, and called the meeting of the world to come a lie, those will be brought into the punishment and held there.
Urduلیکن جن لوگوں نے انکار کیا اور اللہ کی نشانیوں کو جھٹلایا اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹ قرار دیا، وہ لوگ عذاب میں ڈال دیے جائیں گے اور وہیں ہمیشہ کے لیے حاضر رکھے جائیں گے، اور ان سے کبھی رہائی نہیں ہوگی۔
Arabicوأما الذين كفروا وكذَّبوا بآيات الله وبلقاء الآخرة، فأولئك يُساقون إلى العذاب ويُبقَون فيه محضَرين، لا يُرفَع عنهم ولا يُخفَّف، جزاءً بما كذَّبوا به في الدنيا.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Abu Bakr ibn Abd ar-Rahman, from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If people knew what was in the adhan and the first row of the prayer and could only draw lots for it, they would draw lots. And if they knew what was in doing dhuhr early, they would race each other to it. And if they knew what was in isha and subh, they would go to them even if they had to crawl
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر معلوم ہوتا لوگوں کو جو کچھ اذان دینے میں اور صف اول میں ثواب میں پھر نہ پا سکتے ان کو بغیر قرعہ کے البتہ قرعہ ڈالتے اور اگر معلوم ہوتا لوگوں کو جو کچھ نماز کے اول وقت پڑھنے میں ثواب ہے البتہ جلدی کرتے اس کی طرف اور اگر معلوم ہوتا جو کچھ ثواب ہے عشاء اور صبح کی نماز باجماعت پڑھنے کا البتہ آتے جماعت میں گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Traveling is a kind of torment, it keeps anyone of you from his sleep, food and drink. When anyone of you has fulfilled the purpose for which he travled, let him hasten to return to his family.” Another chain reports a similar hadith
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے ( کی سہولتوں ) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کر لے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے ۔
Abu Hurairah narrated that:The Prophet (ﷺ) said: “Whoever says in the morning and in the evening ‘Glory is to Allah and with His Praise (Subḥān Allāh, wa biḥamdih)’ a hundred times, none shall bring better than him on the Day of Judgment except one who did the same as him, or increased upon it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح و شام میں سو ( سو ) مرتبہ: «سبحان الله وبحمده» کہے، قیامت کے دن کوئی شخص اس سے اچھا عمل لے کر نہیں آئے گا، سوائے اس شخص کے جس نے وہی کہا ہو جو اس نے کہا ہے یا اس سے بھی زیادہ اس نے یہ دعا پڑھی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There are two statements that are light on the tongue, heavy on the Scale, and beloved to Ar-Raḥmān: “Glory is to Allah and the praise; Glory is to Allah, the Magnificent. (Subḥān Allāhi wa biḥamdih, Subḥān Allāhil-Aẓīm)”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں ( آسانی سے ادا ہو جاتے ہیں ) مگر میزان میں بھاری ہیں ( تول میں وزنی ہیں ) رحمن کو پیارے ہیں ( وہ یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Two words which are light on the tongue and heavy in the Balance, and beloved to the Most Merciful: Subhan-Allah wa bi hamdihi, Subhan-Allahil-'Azim (Glory and praise is to Allah, glory is to Allah the Almighty)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو کلمے زبان پر بہت ہلکے ہیں ۱؎، اور میزان میں بہت بھاری ہیں، اور رحمن کو بہت پسند ہیں ( وہ دو کلمے یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» اللہ ( ہر عیب و نقص سے ) پاک ہے اور ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، عظیم ( عظمت والا ) اللہ ( ہر عیب و نقص ) سے پاک ہے ) ۱؎۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who recites in the morning and in the evening (these words):" Hallowed be Allah and all praise is due to Him" one hundred times, he would not bring on the Day of Resurrection anything excellent than this except one who utters these words or utters more than these words
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص جب صبح کرے اور جب شام کرے تو سو بار " سبحان الله وبحمده " کہے تو قیامت کے روز کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا ، سوائے اس کے جو اتنی بار ( یہ کلمات ) کہے یا اس سے زیادہ بار کہے ۔
PickthallSo glory be to Allah when ye enter the night and when ye enter the morning -
Yusuf AliSo (give) glory to Allah, when ye reach eventide and when ye rise in the morning;
The agreed readingSo glory be to God when you come to the evening and when you come to the morning. The commentaries read the glorifying as the prayer itself, and place the sunset and the night prayers in the evening, and the dawn prayer in the morning.
Urduپس اللہ کی تسبیح کرو جب تم شام میں داخل ہو اور جب تم صبح میں داخل ہو۔ مفسرین نے اس تسبیح سے مراد نماز ہی لی ہے، اور شام کے وقت میں مغرب اور عشاء کی نمازیں شامل کی ہیں، جبکہ صبح کے وقت سے فجر کی نماز مراد لی ہے۔
Arabicفسبِّحوا اللهَ حين تمسون وحين تصبحون. وقد فسَّر المفسرون هذا التسبيح بالصلاة نفسها، فجعلوا وقتَ المساء شاملًا لصلاتَي المغرب والعشاء، وجعلوا وقتَ الصباح صلاةَ الفجر.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Abu Bakr ibn Abd ar-Rahman, from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If people knew what was in the adhan and the first row of the prayer and could only draw lots for it, they would draw lots. And if they knew what was in doing dhuhr early, they would race each other to it. And if they knew what was in isha and subh, they would go to them even if they had to crawl
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر معلوم ہوتا لوگوں کو جو کچھ اذان دینے میں اور صف اول میں ثواب میں پھر نہ پا سکتے ان کو بغیر قرعہ کے البتہ قرعہ ڈالتے اور اگر معلوم ہوتا لوگوں کو جو کچھ نماز کے اول وقت پڑھنے میں ثواب ہے البتہ جلدی کرتے اس کی طرف اور اگر معلوم ہوتا جو کچھ ثواب ہے عشاء اور صبح کی نماز باجماعت پڑھنے کا البتہ آتے جماعت میں گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Traveling is a kind of torment, it keeps anyone of you from his sleep, food and drink. When anyone of you has fulfilled the purpose for which he travled, let him hasten to return to his family.” Another chain reports a similar hadith
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے ( کی سہولتوں ) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کر لے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے ۔
Abu Hurairah narrated that:The Prophet (ﷺ) said: “Whoever says in the morning and in the evening ‘Glory is to Allah and with His Praise (Subḥān Allāh, wa biḥamdih)’ a hundred times, none shall bring better than him on the Day of Judgment except one who did the same as him, or increased upon it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح و شام میں سو ( سو ) مرتبہ: «سبحان الله وبحمده» کہے، قیامت کے دن کوئی شخص اس سے اچھا عمل لے کر نہیں آئے گا، سوائے اس شخص کے جس نے وہی کہا ہو جو اس نے کہا ہے یا اس سے بھی زیادہ اس نے یہ دعا پڑھی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There are two statements that are light on the tongue, heavy on the Scale, and beloved to Ar-Raḥmān: “Glory is to Allah and the praise; Glory is to Allah, the Magnificent. (Subḥān Allāhi wa biḥamdih, Subḥān Allāhil-Aẓīm)”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں ( آسانی سے ادا ہو جاتے ہیں ) مگر میزان میں بھاری ہیں ( تول میں وزنی ہیں ) رحمن کو پیارے ہیں ( وہ یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Two words which are light on the tongue and heavy in the Balance, and beloved to the Most Merciful: Subhan-Allah wa bi hamdihi, Subhan-Allahil-'Azim (Glory and praise is to Allah, glory is to Allah the Almighty)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو کلمے زبان پر بہت ہلکے ہیں ۱؎، اور میزان میں بہت بھاری ہیں، اور رحمن کو بہت پسند ہیں ( وہ دو کلمے یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» اللہ ( ہر عیب و نقص سے ) پاک ہے اور ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، عظیم ( عظمت والا ) اللہ ( ہر عیب و نقص ) سے پاک ہے ) ۱؎۔
Sahl bin Ma'adh bin Anas al Jahni narrated from his father that :Allah's Messenger said: "Whoever steps over the necks of the people on Friday, he has taken a bridge to Hell
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن جس نے لوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم کی طرف لے جانے والا پل بنا لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔ سہل بن معاذ بن انس جہنی کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف رشد بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- البتہ اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ انہوں نے اس بات کو مکروہ سمجھا ہے، کہ آدمی جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے اور انہوں نے اس میں سختی سے کام لیا ہے۔ اور ان کے حفظ کے تعلق سے انہیں ضعیف گردانا ہے۔ بعض اہل علم نے رشدین بن سعد پر کلام کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: If anyone repeats in the morning: "So glory be to Allah in the evening and in the morning; to Him is the praise in the heavens and the earth, and in the late evening and at noon....thus shall you be brought forth, " he will get that day what he has missed; and if anyone repeats these words in the evening he will get that night what he has missed. Ar-Rabi' transmitted it from al-Layth
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون، وله الحمد في السموات والأرض وعشيا وحين تظهرون» سے لے کر «وكذلك تخرجون» تک کہے تو اس دن کے ثواب میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی، اور جو شخص شام کو ان کلمات کو کہے تو اس رات میں اس کی نیکیوں و بھلائیوں میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who recites in the morning and in the evening (these words):" Hallowed be Allah and all praise is due to Him" one hundred times, he would not bring on the Day of Resurrection anything excellent than this except one who utters these words or utters more than these words
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص جب صبح کرے اور جب شام کرے تو سو بار " سبحان الله وبحمده " کہے تو قیامت کے روز کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا ، سوائے اس کے جو اتنی بار ( یہ کلمات ) کہے یا اس سے زیادہ بار کہے ۔
PickthallUnto Him be praise in the heavens and the earth! - and at the sun's decline and in the noonday.
Yusuf AliYea, to Him be praise, in the heavens and on earth; and in the late afternoon and when the day begins to decline.
The agreed readingAnd praise belongs to Him in the heavens and the earth, where all who are in them praise Him, and in the late afternoon and at noon. The afternoon and the noon prayers fall in those two.
Urduاور آسمانوں اور زمین میں ساری تعریف اسی کے لیے ہے، وہاں کی ہر مخلوق اس کی تسبیح بیان کرتی ہے، اور یہ حکم دوپہر کے وقت اور سہ پہر کے وقت میں بھی ہے۔ مفسرین کے نزدیک ان دونوں اوقات میں ظہر اور عصر کی نمازیں شامل ہیں۔
Arabicوله الحمدُ في السماوات والأرض، يحمدُه كلُّ من فيهما، وكذلك في العشيّ وحين الظهيرة. وقد أدخل المفسرون في هذين الوقتين صلاةَ العصر وصلاةَ الظهر، فتكتمل بذلك الصلواتُ الخمس في هذه الآيات.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Abu Bakr ibn Abd ar-Rahman, from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If people knew what was in the adhan and the first row of the prayer and could only draw lots for it, they would draw lots. And if they knew what was in doing dhuhr early, they would race each other to it. And if they knew what was in isha and subh, they would go to them even if they had to crawl
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر معلوم ہوتا لوگوں کو جو کچھ اذان دینے میں اور صف اول میں ثواب میں پھر نہ پا سکتے ان کو بغیر قرعہ کے البتہ قرعہ ڈالتے اور اگر معلوم ہوتا لوگوں کو جو کچھ نماز کے اول وقت پڑھنے میں ثواب ہے البتہ جلدی کرتے اس کی طرف اور اگر معلوم ہوتا جو کچھ ثواب ہے عشاء اور صبح کی نماز باجماعت پڑھنے کا البتہ آتے جماعت میں گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Traveling is a kind of torment, it keeps anyone of you from his sleep, food and drink. When anyone of you has fulfilled the purpose for which he travled, let him hasten to return to his family.” Another chain reports a similar hadith
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے ( کی سہولتوں ) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کر لے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے ۔
Abu Hurairah narrated that:The Prophet (ﷺ) said: “Whoever says in the morning and in the evening ‘Glory is to Allah and with His Praise (Subḥān Allāh, wa biḥamdih)’ a hundred times, none shall bring better than him on the Day of Judgment except one who did the same as him, or increased upon it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح و شام میں سو ( سو ) مرتبہ: «سبحان الله وبحمده» کہے، قیامت کے دن کوئی شخص اس سے اچھا عمل لے کر نہیں آئے گا، سوائے اس شخص کے جس نے وہی کہا ہو جو اس نے کہا ہے یا اس سے بھی زیادہ اس نے یہ دعا پڑھی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There are two statements that are light on the tongue, heavy on the Scale, and beloved to Ar-Raḥmān: “Glory is to Allah and the praise; Glory is to Allah, the Magnificent. (Subḥān Allāhi wa biḥamdih, Subḥān Allāhil-Aẓīm)”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں ( آسانی سے ادا ہو جاتے ہیں ) مگر میزان میں بھاری ہیں ( تول میں وزنی ہیں ) رحمن کو پیارے ہیں ( وہ یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Two words which are light on the tongue and heavy in the Balance, and beloved to the Most Merciful: Subhan-Allah wa bi hamdihi, Subhan-Allahil-'Azim (Glory and praise is to Allah, glory is to Allah the Almighty)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو کلمے زبان پر بہت ہلکے ہیں ۱؎، اور میزان میں بہت بھاری ہیں، اور رحمن کو بہت پسند ہیں ( وہ دو کلمے یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» اللہ ( ہر عیب و نقص سے ) پاک ہے اور ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، عظیم ( عظمت والا ) اللہ ( ہر عیب و نقص ) سے پاک ہے ) ۱؎۔
Sahl bin Ma'adh bin Anas al Jahni narrated from his father that :Allah's Messenger said: "Whoever steps over the necks of the people on Friday, he has taken a bridge to Hell
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن جس نے لوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم کی طرف لے جانے والا پل بنا لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔ سہل بن معاذ بن انس جہنی کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف رشد بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- البتہ اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ انہوں نے اس بات کو مکروہ سمجھا ہے، کہ آدمی جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے اور انہوں نے اس میں سختی سے کام لیا ہے۔ اور ان کے حفظ کے تعلق سے انہیں ضعیف گردانا ہے۔ بعض اہل علم نے رشدین بن سعد پر کلام کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: If anyone repeats in the morning: "So glory be to Allah in the evening and in the morning; to Him is the praise in the heavens and the earth, and in the late evening and at noon....thus shall you be brought forth, " he will get that day what he has missed; and if anyone repeats these words in the evening he will get that night what he has missed. Ar-Rabi' transmitted it from al-Layth
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون، وله الحمد في السموات والأرض وعشيا وحين تظهرون» سے لے کر «وكذلك تخرجون» تک کہے تو اس دن کے ثواب میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی، اور جو شخص شام کو ان کلمات کو کہے تو اس رات میں اس کی نیکیوں و بھلائیوں میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who recites in the morning and in the evening (these words):" Hallowed be Allah and all praise is due to Him" one hundred times, he would not bring on the Day of Resurrection anything excellent than this except one who utters these words or utters more than these words
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص جب صبح کرے اور جب شام کرے تو سو بار " سبحان الله وبحمده " کہے تو قیامت کے روز کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا ، سوائے اس کے جو اتنی بار ( یہ کلمات ) کہے یا اس سے زیادہ بار کہے ۔
PickthallHe bringeth forth the living from the dead, and He bringeth forth the dead from the living, and He reviveth the earth after her death. And even so will ye be brought forth.
Yusuf AliIt is He Who brings out the living from the dead, and brings out the dead from the living, and Who gives life to the earth after it is dead: and thus shall ye be brought out (from the dead).
The agreed readingHe brings the living out of the dead, the human being out of the drop and the bird out of the egg, and brings the dead out of the living, the drop and the egg out of what lives. And He gives the earth life after its death. In that same way you will be brought out.
Urduوہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے، جیسے انسان کو نطفے سے اور پرندے کو انڈے سے، اور وہی مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے، جیسے نطفہ زندہ انسان سے اور انڈا زندہ پرندے سے۔ اور وہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے۔ اسی طرح تم بھی قبروں سے دوبارہ زندہ کرکے نکالے جاؤ گے۔
Arabicيُخرج اللهُ الحيَّ من الميت، كالإنسان من النطفة والطير من البيضة، ويُخرج الميتَ من الحيّ، كالنطفة من الحيّ والبيضة من الطير. ويُحيي الأرضَ بالنبات بعد يُبسها وجفافها. وكما يُحيي الأرضَ كذلك تُخرَجون أحياءً من قبوركم يوم القيامة.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 3 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة5 reports cited here — 3 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
بعض أصحابنا مرسلا قال: إن أول ما نزل في تحريم الخمر قول الله عز وجل " يسئلونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس وإثمهما أكبر من نفعهما " فلما نزلت هذه الآية أحس القوم بتحريمها وتحريم الميسر وعلموا أن الاثم مما ينبغي اجتنابه ولا يحمل الله عز وجل عليهم من كل طريق لأنه قال: ومنافع للناس ثم أنزل الله عز وجل آية أخرى " إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون (1) " فكانت هذه الآية أشد من الأولى وأغلظ في التحريم ثم ثلث بآية أخرى فكانت أغلظ من الآية الأولى والثانية وأشد فقال عز وجل: " إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العدواة والبغضاء في الخمر والميسر ويصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة فهل أنتم منتهون (2) " فأمر عز وجل باجتنابها وفسر عللها التي لها ومن …
2. Certain persons of our people have, in mursal manner, narrated the following: “He (the Imam) (a.s.), has said, ‘The first thing about the unlawfulness of wine is in the words of Allah, most Majestic, most Glorious, “They ask you about wine and gambling. Say, ‘There is great sin in them and benefits for people but the sin in them is greater than their benefits.’” (2:219) When this verse was revealed people sensed the prohibition on it and prohibition on gambling. They learned that one must stay away from sins and that Allah, most Majestic, most Glorious, does not impose on them both ways because of His saying, “and benefits for people”. Thereafter Allah, most Majestic, most Glorious, sent …
ہماری بعض اصحاب نے مرسل انداز میں روایت کی ہے کہ: خمر کی تحریم میں سب سے پہلے جو نازل ہوا وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: 'وہ تم سے خمر اور میسر کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، کہو ان میں بڑی خرابی ہے اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں، مگر ان کی خرابی ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔' جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں کو خمر اور میسر کی تحریم کا احساس ہوا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ گناہ سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طریقے سے دبایا نہیں کیونکہ اس نے فرمایا: 'اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں۔' اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت نازل کی: 'خمر اور میسر اور بت اور فال کے تیر یہ سب شیطان کے گندے کام ہیں، پس ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔' یہ آیت پہلی سے سخت تر ہے اور تحریم میں زیادہ مضبوط ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
11 - حدثنا محمد بن يعقوب قال: حدثنا عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن الحسين بن سعيد، عن أبي وهب، عن محمد بن منصور قال: سألت عبداً صالحاً سلام الله عليه عن قول الله: قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (قال) فقال: إنّ القرآن له ظاهرٌ وباطن، فجميعُ ما حرّم الله في القرآن فهو حرام على ظاهره كما هو في الظاهر، والباطن من ذلك أئمّة الجور. وجميع ما أحل الله تعالى في الكتاب فهو حلال وهو الظاهر، والباطن من ذلك أئمة الحق.
(11) Muhammad bin Ya’qoob narrated from some of his companions from Ahmad bin Muhammad from al-Husayn bin Sa’eed from Abu Wahab that Muhammad bin Mansoor had said: “I have asked a virtuous slave (of Allah), peace be upon him, about the saying of Allah, “My Lord has only prohibited indecencies, those of them that are apparent as well as those that are concealed,” and he said: “The Qur’an has apparent meanings and hidden meanings. All of those that Allah has prohibited in the Qur’an are impermissible as they have been mentioned apparently whereas the hidden thing in that is the imams of injustice and all of those that Allah has permitted are permissible as they are apparent whereas the hidden …
محمد بن یعقوب نے ہمیں حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: ہمیں ہماری جماعت کے لوگوں نے خبر دی احمد بن محمد سے، الحسین بن سعید سے، ابو وہب سے، محمد بن منصور سے جو کہتے ہیں: میں نے ایک برکت والے شخص سے سوال کیا - اللہ کی رحمت ان پر - اللہ کے اس قول کے متعلق: "کہہ میرے پروردگار نے تو صرف بے حیائی کے کام حرام کیے ہیں، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں، اور گناہ اور حق کے خلاف سرکشی، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ شریک کیا جائے وہ چیزیں جن کے لیے اس نے کوئی سلطان نہیں نازل کیا، اور یہ کہ اللہ کے بارے میں وہ باتیں کی جائیں جو تم نہیں جانتے" - کہا - تو انہوں نے کہا: بیشک قرآن کا ظاہری معنی ہے اور بھی ایک معنی ہے جو پوشیدہ ہے۔ جتنا کچھ اللہ نے قرآن میں حرام کیا ہے وہ سب اپنے ظاہری معنی میں حرام ہے جیسا کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Sa'eed bin Jubair:from Ibn 'Abbas, regarding the saying of Allah, Most High: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land (30:1-3)" he said: "Ghulibat wa Ghalabat (defeated and then victorious)." He said: "The idolaters wanted the Persians to be victorious over the Romans because they too were people who worshiped idols, while the Muslims wanted the Romans to be victorious over the Persians because they were people of the Book. This was mentioned to Abu Bakr, so Abu Bakr mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'They will certainly prevail.' Abu Bakr mentioned that to them, and they said: 'Make a wager between us and you; if we win, we shall get …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر ابوبکر رضی الله عنہ سے کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: ”وہ ( رومی ) ( مغلوب ہو جانے کے بعد پھر ) غالب آ جائیں گے، ابوبکر رضی الله عنہ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: ( ایسی بات ہے تو ) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کر لو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے ( جیت گئے ) تو …
Sahl bin Ma'adh bin Anas al Jahni narrated from his father that :Allah's Messenger said: "Whoever steps over the necks of the people on Friday, he has taken a bridge to Hell
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن جس نے لوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم کی طرف لے جانے والا پل بنا لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔ سہل بن معاذ بن انس جہنی کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف رشد بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- البتہ اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ انہوں نے اس بات کو مکروہ سمجھا ہے، کہ آدمی جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے اور انہوں نے اس میں سختی سے کام لیا ہے۔ اور ان کے حفظ کے تعلق سے انہیں ضعیف گردانا ہے۔ بعض اہل علم نے رشدین بن سعد پر کلام کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: If anyone repeats in the morning: "So glory be to Allah in the evening and in the morning; to Him is the praise in the heavens and the earth, and in the late evening and at noon....thus shall you be brought forth, " he will get that day what he has missed; and if anyone repeats these words in the evening he will get that night what he has missed. Ar-Rabi' transmitted it from al-Layth
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون، وله الحمد في السموات والأرض وعشيا وحين تظهرون» سے لے کر «وكذلك تخرجون» تک کہے تو اس دن کے ثواب میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی، اور جو شخص شام کو ان کلمات کو کہے تو اس رات میں اس کی نیکیوں و بھلائیوں میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی۔
PickthallAnd of His signs is this: He created you of dust, and behold you human beings, ranging widely!
Yusuf AliAmong His Signs in this, that He created you from dust; and then,- behold, ye are men scattered (far and wide)!
The agreed readingAnd of His signs, which point to His power, is that He created you from dust, your origin being Adam, and then you became human beings spreading out over the earth.
Urduاور اس کی قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، یعنی تمہارا اصل باپ آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے، پھر تم انسان بن کر زمین میں پھیل گئے اور نسل در نسل بڑھتے چلے گئے۔
Arabicومن آياته الدالة على كمال قدرته أنه خلقكم من ترابٍ، أي خلق أباكم آدمَ منه، ثم صرتم بشرًا تنتشرون في الأرض شرقًا وغربًا، تتناسلون وتتكاثرون جيلًا بعد جيل.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Musa al-Ash’ari reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :Allah created Adam from a handful which he took from the whole of the earth ; so the children of Adam are in accordance with the earth : some red, some white, some black, some a mixture, also smooth and rough, bad and good
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا جس کو اس نے ساری زمین سے لیا تھا، چنانچہ آدم کی اولاد اپنی مٹی کی مناسبت سے مختلف رنگ کی ہے، کوئی سفید، کوئی سرخ، کوئی کالا اور کوئی ان کے درمیان، کوئی نرم خو، تو کوئی درشت خو، سخت گیر، کوئی خبیث تو کوئی پاک باز ۔
Narrated Abu Musa Al-Ash'ari:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Allah Most High created Adam from a handful that He took from all of the earth. So the children of Adam come in according with the earth, some of them come red, and white and black, and between that, and the thin, the thick, the filthy, and the clean
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ساری زمین کے ہر حصے سے ایک مٹھی مٹی لے کر اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، چنانچہ ان کی اولاد میں مٹی کی مناسبت سے کوئی لال، کوئی سفید، کالا اور ان کے درمیان مختلف رنگوں کے اور نرم مزاج و گرم مزاج، بد باطن و پاک طینت لوگ پیدا ہوئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ " الْقَتْلُ " .
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“After you days will come when ignorance will become widespread, knowledge will disappear and there will be much Harj.” They said: “O Messenger of Allah, what is Harj?” He said: “Killing.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بعد ایسے دن آئیں گے جن میں جہالت چھا جائے گی، علم اٹھ جائے گا، اور«هرج» زیادہ ہو گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «هرج» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل
It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no one whom Allah will admit to Paradise but Allah will marry him to seventy-two wives, two from houris and seventy from his inheritance from the people of Hell, all of whom will have desirable front passages and he will have a male member that never becomes flaccid (i.e., soft and limp).’”
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی جنت میں جائے گا اللہ تعالیٰ بہتر ( ۷۲ ) بیویوں سے اس کی شادی کر دے گا، دو بڑی آنکھوں والی حوریں اور ستر ( ۷۰ ) اہل جہنم کی میراث میں سے ہوں گی، ان میں سے ہر ایک کی شرمگاہ خوب شہوت والی ہو گی، اور اس کا ذکر ایسا ہو گا جس میں کبھی کجی نہیں ہو گی ، ہشام بن خالد نے کہا: اہل جہنم کی میراث سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ جہنم میں جائیں گے اہل جنت ان کی بیویوں کے وارث ہو جائیں گے مثلا ً فرعون کی بیوی کے وارث جنتی ہوں گے۔
Abu Musa reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:When the Ash'arites run short of provisions in the campaigns or run short of food for their children in Medina they collect whatever is with them in the cloth and then partake equally from one vessel. They are from me and I am from them
ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : اشعر ی لوگ جب جہاد میں رسد کی کمی کا شکار ہو جا ئیں یا مدینہ میں ان کے اہل وعیال کا کھا نا کم پڑ جائے تو ان کے پاس جو کچھ بچا ہو اسے ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں ، پھر ایک ہی برتن سے اس کو آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں ۔ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔ ( وہ میرے قریب ہیں اور میں ان سے قربت رکھتا ہوں ۔)
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:By Him in Whose Hand is my life, when a man calls his wife to his bed, and she does not respond, the One Who is in the heaven is displeased with her until he (her husband) is pleased with her
یزید بن کیسان نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی مرد نہیں جو اپنی بیوی کو اس کے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر وہ جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( شوہر ) اس سے راضی ہو جائے
PickthallAnd of His signs is this: He created for you helpmeets from yourselves that ye might find rest in them, and He ordained between you love and mercy. Lo! herein indeed are portents for folk who reflect.
Yusuf AliAnd among His Signs is this, that He created for you mates from among yourselves, that ye may dwell in tranquillity with them, and He has put love and mercy between your (hearts): verily in that are Signs for those who reflect.
The agreed readingAnd of His signs is that He created mates for you from among yourselves, so that you may find rest in them, and He set between you love and mercy. In that there are signs for a people who reflect.
Urduاور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری اپنی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بےشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔
Arabicومن آياته أن خلق لكم من أنفسكم أزواجًا لتسكنوا إليها وتألَفوها، وجعل بينكم مودةً ورحمةً، فلا تقوم الحياة الزوجية إلا على هذين الأساسين. إن في ذلك لآياتٍ لقومٍ يتفكَّرون في صنع الله وحكمته.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Musa al-Ash’ari reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :Allah created Adam from a handful which he took from the whole of the earth ; so the children of Adam are in accordance with the earth : some red, some white, some black, some a mixture, also smooth and rough, bad and good
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا جس کو اس نے ساری زمین سے لیا تھا، چنانچہ آدم کی اولاد اپنی مٹی کی مناسبت سے مختلف رنگ کی ہے، کوئی سفید، کوئی سرخ، کوئی کالا اور کوئی ان کے درمیان، کوئی نرم خو، تو کوئی درشت خو، سخت گیر، کوئی خبیث تو کوئی پاک باز ۔
Narrated Abu Musa Al-Ash'ari:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed Allah Most High created Adam from a handful that He took from all of the earth. So the children of Adam come in according with the earth, some of them come red, and white and black, and between that, and the thin, the thick, the filthy, and the clean
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ساری زمین کے ہر حصے سے ایک مٹھی مٹی لے کر اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، چنانچہ ان کی اولاد میں مٹی کی مناسبت سے کوئی لال، کوئی سفید، کالا اور ان کے درمیان مختلف رنگوں کے اور نرم مزاج و گرم مزاج، بد باطن و پاک طینت لوگ پیدا ہوئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ " الْقَتْلُ " .
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“After you days will come when ignorance will become widespread, knowledge will disappear and there will be much Harj.” They said: “O Messenger of Allah, what is Harj?” He said: “Killing.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بعد ایسے دن آئیں گے جن میں جہالت چھا جائے گی، علم اٹھ جائے گا، اور«هرج» زیادہ ہو گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «هرج» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل
Abu Musa reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:When the Ash'arites run short of provisions in the campaigns or run short of food for their children in Medina they collect whatever is with them in the cloth and then partake equally from one vessel. They are from me and I am from them
ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : اشعر ی لوگ جب جہاد میں رسد کی کمی کا شکار ہو جا ئیں یا مدینہ میں ان کے اہل وعیال کا کھا نا کم پڑ جائے تو ان کے پاس جو کچھ بچا ہو اسے ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں ، پھر ایک ہی برتن سے اس کو آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں ۔ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔ ( وہ میرے قریب ہیں اور میں ان سے قربت رکھتا ہوں ۔)
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:By Him in Whose Hand is my life, when a man calls his wife to his bed, and she does not respond, the One Who is in the heaven is displeased with her until he (her husband) is pleased with her
یزید بن کیسان نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی مرد نہیں جو اپنی بیوی کو اس کے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر وہ جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( شوہر ) اس سے راضی ہو جائے
PickthallAnd of His signs is the creation of the heavens and the earth, and the difference of your languages and colours. Lo! herein indeed are portents for men of knowledge.
Yusuf AliAnd among His Signs is the creation of the heavens and the earth, and the variations in your languages and your colours: verily in that are Signs for those who know.
The agreed readingAnd of His signs is the creation of the heavens and the earth, and the difference of your tongues, Arabic and every other language, and of your colours. In that there are signs for those who know.
Urduاور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق بھی ہے، اور تمہاری زبانوں کا اختلاف، عربی ہو یا کوئی اور زبان، اور تمہارے رنگوں کا اختلاف بھی۔ بےشک اس میں علم رکھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ان اختلافات کے پیچھے حکمت کو سمجھتے ہیں۔
Arabicومن آياته خلقُ السماوات والأرض، واختلافُ ألسنتكم، عربيةً كانت أو غيرَها، واختلافُ ألوانكم، مع أنكم جميعًا من أصلٍ واحد. إن في ذلك لآياتٍ للعالِمين الذين يفهمون دلالة هذا التنوّع على عظيم قدرة الله.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "Allah Most High said: 'I have prepared for My righteous worshipers what no eye has seen, no ear has heard, and no human heart has conceived.'" And that is testified to in Allah's [the Mighty and Sublime] Book: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes (32:)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں نے اپنے نیک صالح بندوں کے لیے ایسی چیز تیار کی ہے جسے کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے، اس کی تصدیق کتاب اللہ ( قرآن ) کی اس آیت «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”کوئی شخص نہیں جانتا جو ہم نے ان کے ( صالح ) اعمال کے بدلے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ( کے لیے ) پوشیدہ رکھ رکھی ہے“ ( السجدۃ: ۱۶ ) ، سے ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
That was narrated to us by Al-Qasim bin Dinar Al-Kufi (who said):“Ishaq bin Mansur narrated to us, from Isra’il” with this (Another chain) Bilal narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Hold fast to Qiyam al-Lail, for it is the practice of the righteous before you, and indeed Qiyam al-Lail is a means of nearness to Allah, a means of prevention from sin, an expiation for bad deeds, and a barrier for the body against disease.”
یہ حدیث اسرائیل نے بھی عبدالرحمٰن بن ابوبکر سے روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ نے فرمایا: ”اللہ سے جو چیزیں بھی مانگی جاتی ہیں ان میں اللہ کو عافیت سے زیادہ محبوب کوئی چیز بھی نہیں ہے“۔
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:By Him in Whose Hand is my life, when a man calls his wife to his bed, and she does not respond, the One Who is in the heaven is displeased with her until he (her husband) is pleased with her
یزید بن کیسان نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی مرد نہیں جو اپنی بیوی کو اس کے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر وہ جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( شوہر ) اس سے راضی ہو جائے
Sahl b. Sa'd as-Sa'idi reported:I was in the company of Allah's Messenger (ﷺ) that he gave a description of Paradise and then Allah's Apostle (ﷺ) concluded with these words: There would be bounties which the eye has not seen and the ear has not heard and no human heart has ever perceived them. He then recited this verse:" They forsake (their) beds, calling upon their Lord in fear and in hope, and spend out of what We have given them. So no soul knows what refreshment of the eyes is hidden for them: a reward for what they did" (xxxii)
ابوحازم نے کہا : میں نے حضر ت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں حاضر ہوا جس میں آپ نے جنت کی صفت بیان کی حتیٰ کہ آ پ نے بات ختم کی ۔ پھر اپنی بات کے آخر میں فرمایا : " اس ( جنت ) میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ۔ " پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : " ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں وہ خوف کے عالم میں اور پوری امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے اس میں سے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کر تے ہیں ۔ پس کوئی ذی حیات ( انسان ) نہیں جانتا کہ جو وہ کرتے ہیں اس کے صلے میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کےلیے کیا ( کچھ ) چھپا کررکھا گیاہے ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ، وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ذُخْرًا، بَلْهَ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْهِ ". ثُمَّ قَرَأَ {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ}
Narrated Abu Huraira:The Prophet, said, "Allah said, 'I have prepared for My pious worshipers such things as no eye has ever seen, no ear has ever heard of, and nobody has ever thought of. All that is reserved, besides which, all that you have seen, is nothing." Then he recited:-- 'No soul knows what is kept hidden (in reserve) for them of joy as a reward for what they used to do
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، کہا ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیکوکار بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہ دیکھا اور کسی کان نے نہ سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی گمان و خیال پیدا ہوا۔ اللہ کی ان نعمتوں سے واقفیت اور آگاہی تو الگ رہی ( ان کا کسی کو گمان و خیال بھی پیدا نہیں ہوا ) ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» کہ ”سو کسی نفس مومن کو معلوم نہیں جو جو سامان آنکھوں کی ٹھنڈک کا ( جنت میں ) ان کے لیے چھپا کر رکھا …
PickthallAnd of His signs is your slumber by night and by day, and your seeking of His bounty. Lo! herein indeed are portents for folk who heed.
Yusuf AliAnd among His Signs is the sleep that ye take by night and by day, and the quest that ye (make for livelihood) out of His Bounty: verily in that are signs for those who hearken.
The agreed readingAnd of His signs is your sleep by night and by day, made a rest for you by His will, and your going about by day in search of His bounty. In that there are signs for a people who listen.
Urduاور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن میں سونا بھی ہے، جسے اس نے اپنی مشیت سے تمہارے لیے آرام کا ذریعہ بنایا، اور دن کے وقت تمہارا اپنے رب کا فضل تلاش کرنے کے لیے نکلنا بھی ایک نشانی ہے۔ بےشک اس میں غور سے سننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
Arabicومن آياته منامُكم بالليل والنهار، جعله اللهُ راحةً لكم بإرادته، وابتغاؤكم من فضله بالسعي في طلب الرزق نهارًا. إن في ذلك لآياتٍ لقومٍ يسمعون سماعَ تدبُّرٍ واعتبارٍ، لا سماعَ غفلةٍ.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:By Him in Whose Hand is my life, when a man calls his wife to his bed, and she does not respond, the One Who is in the heaven is displeased with her until he (her husband) is pleased with her
یزید بن کیسان نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی مرد نہیں جو اپنی بیوی کو اس کے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر وہ جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( شوہر ) اس سے راضی ہو جائے
PickthallAnd of His signs is this: He showeth you the lightning for a fear and for a hope, and sendeth down water from the sky, and thereby quickeneth the earth after her death. Lo! herein indeed are portents for folk who understand.
Yusuf AliAnd among His Signs, He shows you the lightning, by way both of fear and of hope, and He sends down rain from the sky and with it gives life to the earth after it is dead: verily in that are Signs for those who are wise.
The agreed readingAnd of His signs is that He shows you the lightning, bringing fear to the traveller who dreads the bolt and hope to the settled man who wants the rain, and that He sends water down from the sky and gives the earth life with it after its death. In that there are signs for a people who use their reason.
Urduاور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے، جو مسافر کے لیے کڑک سے خوف کا باعث بنتی ہے اور مقیم شخص کے لیے بارش کی امید دلاتی ہے، اور وہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ بےشک اس میں عقل رکھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔
Arabicومن آياته أن يُريَكم البرقَ، فيكون خوفًا للمسافر من الصواعق، وطمعًا للمقيم في نزول المطر، وأنه يُنزِّل من السماء ماءً فيُحيي به الأرضَ بعد موتها وجَفافها. إن في ذلك لآياتٍ لقومٍ يعقِلون ما وراء هذه المشاهد من دلائل القدرة.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:By Him in Whose Hand is my life, when a man calls his wife to his bed, and she does not respond, the One Who is in the heaven is displeased with her until he (her husband) is pleased with her
یزید بن کیسان نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی مرد نہیں جو اپنی بیوی کو اس کے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر وہ جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( شوہر ) اس سے راضی ہو جائے
PickthallAnd of His signs is this: The heavens and the earth stand fast by His command, and afterward, when He calleth you, lo! from the earth ye will emerge.
Yusuf AliAnd among His Signs is this, that heaven and earth stand by His Command: then when He calls you, by a single call, from the earth, behold, ye (straightway) come forth.
The agreed readingAnd of His signs is that the heaven and the earth stand fast by His command, held up without pillars. Then, when He calls you with a single call out of the earth, at the blowing of the horn, you will come out.
Urduاور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں، بغیر کسی ستون کے سہارے کے۔ پھر جب وہ تمہیں زمین سے صرف ایک ہی پکار سے بلائے گا، یعنی صور پھونکے جانے پر، تو تم فوراً اسی وقت باہر نکل آؤ گے۔
Arabicومن آياته أن تقوم السماءُ والأرضُ بأمره، ثابتتين مستقرتين من غير عمدٍ تُمسكهما. ثم إذا دعاكم دعوةً واحدةً من الأرض، وذلك بالنفخ في الصور، إذا أنتم تخرجون من قبوركم أحياءً مسرعين مستجيبين.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:By Him in Whose Hand is my life, when a man calls his wife to his bed, and she does not respond, the One Who is in the heaven is displeased with her until he (her husband) is pleased with her
یزید بن کیسان نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی مرد نہیں جو اپنی بیوی کو اس کے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر وہ جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( شوہر ) اس سے راضی ہو جائے
PickthallUnto Him belongeth whosoever is in the heavens and the earth. All are obedient unto Him.
Yusuf AliTo Him belongs every being that is in the heavens and on earth: all are devoutly obedient to Him.
The agreed readingAnd to Him belongs everyone in the heavens and the earth, His by creation and by ownership. All of them stand obedient to Him.
Urduاور آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ سب اسی کے ہیں، اس کی مخلوق بھی اور اس کی ملکیت بھی، اور یہ سب کے سب اس کے حضور فرمانبردار اور تابع ہیں، کوئی بھی اس کے حکم سے سرتابی نہیں کر سکتا۔
Arabicوله وحدَه كلُّ من في السماوات والأرض، خلقًا وملكًا، فهو خالقُهم ومالكُهم جميعًا. وكلُّهم له خاضعون منقادون طائعون، لا يخرج أحدٌ منهم عن قدرته وسلطانه.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Therefore, Allāh alone knows what is there in the wombs, whether male or female, ugly or handsome, generous or miserly, mischievous or pious, and who will be the fuel for Hell and who will be in the company of the Prophets in Paradise. This is the knowledge of the hidden things which is not known to anyone save Allāh. All else is that whose knowledge Allāh passed on to His Prophet and he passed it on to me, and prayed for me that my bosom may retain it and my ribs may hold it.
پس اللہ سبحانہ جانتے ہیں وہ جو الارحام میں ہے، نر ہو یا مادہ، قبیح ہو یا جمیل، سخی ہو یا بخیل، شقی ہو یا سعید، اور کون النار میں حطب ہوگا یا الجنان میں النبيين کا مرافق۔ تو یہ علم الغيب ہے جسے کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔ اور جو علم اس کے علاوہ ہے تو وہ علم ہے جو اللہ نے اپنے نبی کو سکھایا تو انہوں نے مجھے سکھایا اور دعا کی کہ میری صدر اسے عا کرے اور میری جوانح اس پر اضطمام کریں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلاً يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:"The Prophet (saas) heard a man say: 'Allahumma! Inni as'aluka bi-annaka Antallahul-Ahadus-Samad, alladhi lam yalid wa lam yuwlud, wa lam yakun lahu kufuwan ahad (O Allah! I ask You by virtue of Your being Allah, the One, the Self-Sufficient Master, Who begets not nor was begotten, and there is none co-equal or comparable to Him).' The Messenger of Allah (saas) said: 'He has asked Allah by His Greatest Name, which if He is asked thereby He gives, and if He is called upon thereby He answers
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا: «اللهم إني أسألك بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine names, one hundred less one, for He is One and loves the odd (numbered). Whoever learns them will enter Paradise. They are: Allah, Al-Wahid (the One), As-Samad (the Self-Sufficient Master who all creatures need, He neither eats nor drinks), Al-Awwal (the First), Al-Akhir (the Last), Az-Zahir (the Most High), Al-Batin (the Most Near), Al-Khaliq (the Creator), Al-Bari (the Inventor of all things), Al-Musawwir (the Bestower of forms), Al-Malik (the King), Al-Haqq (the Truth), As-Salam (the One free from all defects), Al-Mu'min (the Giver of security), Al-Muhaymin (the Watcher over His creatures), …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ ، «الواحد» اکیلا، ایکتا ، «الصمد» بے نیاز ، «الأول» پہلا ، «الآخر» پچھلا ، «الظاهر» ظاہر ، «الباطن» باطن ، «الخالق» پیدا کرنے والا ، «البارئ» بنانے والا ، «المصور» صورت بنانے والا ، «الملك» بادشاہ ، «الحق» سچا ، «السلام» سلامتی دینے والا ، «المؤمن» یقین والا ، «المهيمن» نگہبان ، «العزيز» غالب ، «الجبار» تسلط والا ، «المتكبر» بڑائی والا ، «الرحمن» بہت رحم کرنے والا ،«الرحيم» مہربان ، «اللطيف» بندوں پر شفقت کرنے …
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ اللَّهُ كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّاىَ فَقَوْلُهُ لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي، وَلَيْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَىَّ مِنْ إِعَادَتِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّاىَ فَقَوْلُهُ اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الأَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفْأً أَحَدٌ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah said: 'The son of Adam tells a lie against Me,, though he hasn't the right to do so. He abuses me though he hasn't the right to do so. As for his telling a lie against Me, it is his saying that I will not recreate him as I created him for the first time. In fact, the first creation was not easier for Me than new creation. As for his abusing Me, it is his saying that Allah has begotten children, while I am the One, the Self-Sufficient Master Whom all creatures need, I beget not, nor was I begotten, and there is none like unto Me
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے ابن آدم نے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ بھی مناسب نہیں تھا۔ مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ ( ابن آدم ) کہتا ہے کہ میں اس کو دوبارہ نہیں پیدا کروں گا حالانکہ میرے لیے دوبارہ پیدا کرنا اس کے پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں۔ اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنایا ہے حالانکہ میں ایک ہوں۔ بےنیاز ہوں نہ میرے لیے کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور نہ کوئی میرے برابر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ اللَّهُ كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّاىَ فَزَعَمَ أَنِّي لاَ أَقْدِرُ أَنْ أُعِيدَهُ كَمَا كَانَ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّاىَ فَقَوْلُهُ لِي وَلَدٌ، فَسُبْحَانِي أَنْ أَتَّخِذَ صَاحِبَةً أَوْ وَلَدًا ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "Allah said, 'The son of Adam tells a lie against Me though he has no right to do so, and he abuses Me though he has no right to do so. As for his telling a lie against Me, it is that he claims that I cannot recreate him as I created him before; and as for his abusing Me, it is his statement that I have offspring. No! Glorified be Me! I am far from taking a wife or offspring
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، ان سے ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔ اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوں اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ میرے لیے اولاد بتاتا ہے، میری ذات اس سے پاک ہے کہ میں اپنے لیے بیوی یا اولاد بناؤں۔“
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah said:-- 'The son of Adam tells a lie against Me and he hasn't the right to do so; and he abuses me and he hasn't the right to do so. His telling a lie against Me is his saying that I will not recreate him as I created him for the first time; and his abusing Me is his saying that Allah has begotten children, while I am the self-sufficient Master, Whom all creatures need, Who begets not nor was He begotten, and there is none like unto Me
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ ) ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔ اس نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا۔ مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ ( ابن آدم ) کہتا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا جیسا کہ میں نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا۔ اس کا گالی دینا یہ ہے کہ کہتا ہے اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے حالانکہ میں بےپرواہ ہوں، میرے ہاں نہ کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد اور نہ کوئی میرے برابر کا ہے۔ «كفؤا» اور «كفيئا» اور «كفاء» ہم معنی ہیں۔
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "Allah Most High said: 'I have prepared for My righteous worshipers what no eye has seen, no ear has heard, and no human heart has conceived.'" And that is testified to in Allah's [the Mighty and Sublime] Book: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes (32:)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں نے اپنے نیک صالح بندوں کے لیے ایسی چیز تیار کی ہے جسے کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے، اس کی تصدیق کتاب اللہ ( قرآن ) کی اس آیت «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”کوئی شخص نہیں جانتا جو ہم نے ان کے ( صالح ) اعمال کے بدلے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ( کے لیے ) پوشیدہ رکھ رکھی ہے“ ( السجدۃ: ۱۶ ) ، سے ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:By Him in Whose Hand is my life, when a man calls his wife to his bed, and she does not respond, the One Who is in the heaven is displeased with her until he (her husband) is pleased with her
یزید بن کیسان نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی مرد نہیں جو اپنی بیوی کو اس کے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر وہ جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( شوہر ) اس سے راضی ہو جائے
PickthallHe it is Who produceth creation, then reproduceth it, and it is easier for Him. His is the Sublime Similitude in the heavens and the earth. He is the Mighty, the Wise.
Yusuf AliIt is He Who begins (the process of) creation; then repeats it; and for Him it is most easy. To Him belongs the loftiest similitude (we can think of) in the heavens and the earth: for He is Exalted in Might, full of wisdom.
The agreed readingAnd He is the One who begins the creation and then makes it again, and the making again is the easier of the two by the measure of how things look to you. His is the highest likeness in the heavens and the earth, and He is the Mighty, the Wise.
Urduاور وہی ہے جو پہلی بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، اور دوبارہ پیدا کرنا تمہارے حساب کے مطابق پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے، حالانکہ اللہ کے نزدیک دونوں یکساں آسان ہیں۔ آسمانوں اور زمین میں سب سے اعلیٰ صفت اسی کی ہے، اور وہ زبردست غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔
Arabicوهو الذي يبدأ الخلقَ إنشاءً من العدم ثم يعيدُه بعد الموت، وإعادتُه أهونُ عليه بحسب ما يبدو لكم، وإلا فهما عند الله سواءٌ في السهولة. وله المثلُ الأعلى في السماوات والأرض، وهو العزيز الغالب، الحكيم في خلقه وتدبيره.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلاً يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:"The Prophet (saas) heard a man say: 'Allahumma! Inni as'aluka bi-annaka Antallahul-Ahadus-Samad, alladhi lam yalid wa lam yuwlud, wa lam yakun lahu kufuwan ahad (O Allah! I ask You by virtue of Your being Allah, the One, the Self-Sufficient Master, Who begets not nor was begotten, and there is none co-equal or comparable to Him).' The Messenger of Allah (saas) said: 'He has asked Allah by His Greatest Name, which if He is asked thereby He gives, and if He is called upon thereby He answers
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا: «اللهم إني أسألك بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine names, one hundred less one, for He is One and loves the odd (numbered). Whoever learns them will enter Paradise. They are: Allah, Al-Wahid (the One), As-Samad (the Self-Sufficient Master who all creatures need, He neither eats nor drinks), Al-Awwal (the First), Al-Akhir (the Last), Az-Zahir (the Most High), Al-Batin (the Most Near), Al-Khaliq (the Creator), Al-Bari (the Inventor of all things), Al-Musawwir (the Bestower of forms), Al-Malik (the King), Al-Haqq (the Truth), As-Salam (the One free from all defects), Al-Mu'min (the Giver of security), Al-Muhaymin (the Watcher over His creatures), …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ ، «الواحد» اکیلا، ایکتا ، «الصمد» بے نیاز ، «الأول» پہلا ، «الآخر» پچھلا ، «الظاهر» ظاہر ، «الباطن» باطن ، «الخالق» پیدا کرنے والا ، «البارئ» بنانے والا ، «المصور» صورت بنانے والا ، «الملك» بادشاہ ، «الحق» سچا ، «السلام» سلامتی دینے والا ، «المؤمن» یقین والا ، «المهيمن» نگہبان ، «العزيز» غالب ، «الجبار» تسلط والا ، «المتكبر» بڑائی والا ، «الرحمن» بہت رحم کرنے والا ،«الرحيم» مہربان ، «اللطيف» بندوں پر شفقت کرنے …
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ اللَّهُ كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّاىَ فَقَوْلُهُ لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي، وَلَيْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَىَّ مِنْ إِعَادَتِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّاىَ فَقَوْلُهُ اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الأَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفْأً أَحَدٌ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah said: 'The son of Adam tells a lie against Me,, though he hasn't the right to do so. He abuses me though he hasn't the right to do so. As for his telling a lie against Me, it is his saying that I will not recreate him as I created him for the first time. In fact, the first creation was not easier for Me than new creation. As for his abusing Me, it is his saying that Allah has begotten children, while I am the One, the Self-Sufficient Master Whom all creatures need, I beget not, nor was I begotten, and there is none like unto Me
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے ابن آدم نے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ بھی مناسب نہیں تھا۔ مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ ( ابن آدم ) کہتا ہے کہ میں اس کو دوبارہ نہیں پیدا کروں گا حالانکہ میرے لیے دوبارہ پیدا کرنا اس کے پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں۔ اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنایا ہے حالانکہ میں ایک ہوں۔ بےنیاز ہوں نہ میرے لیے کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور نہ کوئی میرے برابر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ اللَّهُ كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّاىَ فَزَعَمَ أَنِّي لاَ أَقْدِرُ أَنْ أُعِيدَهُ كَمَا كَانَ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّاىَ فَقَوْلُهُ لِي وَلَدٌ، فَسُبْحَانِي أَنْ أَتَّخِذَ صَاحِبَةً أَوْ وَلَدًا ".
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "Allah said, 'The son of Adam tells a lie against Me though he has no right to do so, and he abuses Me though he has no right to do so. As for his telling a lie against Me, it is that he claims that I cannot recreate him as I created him before; and as for his abusing Me, it is his statement that I have offspring. No! Glorified be Me! I am far from taking a wife or offspring
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، ان سے ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔ اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوں اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ میرے لیے اولاد بتاتا ہے، میری ذات اس سے پاک ہے کہ میں اپنے لیے بیوی یا اولاد بناؤں۔“
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah said:-- 'The son of Adam tells a lie against Me and he hasn't the right to do so; and he abuses me and he hasn't the right to do so. His telling a lie against Me is his saying that I will not recreate him as I created him for the first time; and his abusing Me is his saying that Allah has begotten children, while I am the self-sufficient Master, Whom all creatures need, Who begets not nor was He begotten, and there is none like unto Me
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ ) ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔ اس نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا۔ مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ ( ابن آدم ) کہتا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا جیسا کہ میں نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا۔ اس کا گالی دینا یہ ہے کہ کہتا ہے اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے حالانکہ میں بےپرواہ ہوں، میرے ہاں نہ کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد اور نہ کوئی میرے برابر کا ہے۔ «كفؤا» اور «كفيئا» اور «كفاء» ہم معنی ہیں۔
PickthallHe coineth for you a similitude of yourselves. Have ye, from among those whom your right hands possess, partners in the wealth We have bestowed upon you, equal with you in respect thereof, so that ye fear them as ye fear each other (that ye ascribe unto Us partners out of that which We created)? Thus We display the revelations for people who have sense.
Yusuf AliHe does propound to you a similitude from your own (experience): do ye have partners among those whom your right hands possess, to share as equals in the wealth We have bestowed on you? Do ye fear them as ye fear each other? Thus do we explain the Signs in detail to a people that understand.
The agreed readingHe sets out for you a likeness drawn from yourselves: do you take those your right hands own as partners in what God has provided you, so that you and they are equal in it, and you fear them as you fear one another? You would not. So God sets out the signs for a people who use their reason.
Urduاللہ تمہارے لیے تمہاری اپنی زندگی سے ایک مثال بیان کرتا ہے: کیا تمہارے غلاموں میں سے، جن کے تم مالک ہو، کوئی ایسا ہے جو اس رزق میں تمہارا شریک ہو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے، یہاں تک کہ تم اور وہ اس میں برابر ہو جاؤ اور تم اس سے ایسا ڈرو جیسے تم اپنے آزاد شریکوں سے ڈرتے ہو؟ ہرگز نہیں۔ اسی طرح اللہ عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں کھول کر بیان کرتا ہے۔
Arabicيضرب اللهُ لكم مثلًا من أنفسكم: هل لكم مما ملكت أيمانُكم من عبيدكم شركاءُ فيما رزقناكم، فتكونون وهم فيه سواءً، وتخافونهم كخيفتكم من أحراركم؟ لا يرضى أحدٌكم بذلك لنفسه، فكيف يرضى أن يجعل لله شركاءَ من خلقه؟ كذلك يُفصِّل اللهُ الآياتِ لقومٍ يعقلون هذا المثل.
PickthallNay, but those who do wrong follow their own lusts without knowledge. Who is able to guide him whom Allah hath sent astray? For such there are no helpers.
Yusuf AliNay, the wrong-doers (merely) follow their own lusts, being devoid of knowledge. But who will guide those whom Allah leaves astray? To them there will be no helpers.
The agreed readingRather, those who do wrong follow their own desires with no knowledge behind them. Who then can guide the one God has let go astray? There is no guide for him, and there is no one who can hold God's punishment off them.
Urduبلکہ جو لوگ ظلم کرتے ہیں وہ بغیر کسی علم کے محض اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ پھر اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اللہ نے گمراہ کر دیا ہو؟ اس کے لیے کوئی ہادی نہیں ہوتا، اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جو اللہ کے عذاب کو ان سے روک سکے۔
Arabicبل اتَّبع الذين ظلموا أهواءَهم بغير علمٍ، فعبدوا الأصنامَ تقليدًا لآبائهم لا عن دليل. فمن يهدي مَن أضلَّه اللهُ؟ لا هاديَ له، وما لهم من ناصرين يمنعون عنهم عذابَ الله إذا نزل بهم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No child is born but has the Islamic Faith, but its parents turn it into a Jew or a Christian. It is as you help the animals give birth. Do you find among their offspring a mutilated one before you mutilate them yourself?" The people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you think about those (of them) who die young?" The Prophet (ﷺ) said, "Allah knows what they would have done (were they to live)
اسحاق نے مجھے حدیث دی، عبد الرزاق نے بتایا، معمر نے سنایا ہمام سے، وہ ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مولود نہیں پیدا ہوتا مگر الفطرة پر، پھر اس کے والدین اسے يُهَوِّدَانِهِ اور يُنَصِّرَانِهِ کرتے ہیں، جیسے تم جانوروں کو پیدا کرتے ہو۔ کیا تم ان میں سے کوئی کٹا ہوا پاتے ہو حتیٰ کہ تم خود اسے کاٹو؟ لوگوں نے کہا: اے رسول اللہ، پھر آپ کے نزدیک کیا خیال ہے اس کے بارے میں جو چھوٹا ہی مر جائے؟ آپ نے فرمایا: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallSo set thy purpose (O Muhammad) for religion as a man by nature upright - the nature (framed) of Allah, in which He hath created man. There is no altering (the laws of) Allah's creation. That is the right religion, but most men know not -
Yusuf AliSo set thou thy face steadily and truly to the Faith: (establish) Allah's handiwork according to the pattern on which He has made mankind: no change (let there be) in the work (wrought) by Allah: that is the standard Religion: but most among mankind understand not.
The agreed readingSo set your face to the religion, turning away from everything else towards the one God. That is the nature God made, the nature on which He made people. There is no changing what God created. That is the upright religion, but most people do not know.
Urduپس اپنا رخ اس دین کی طرف سیدھا رکھو، ہر چیز سے منہ موڑ کر صرف ایک اللہ کی طرف متوجہ ہو کر۔ یہی وہ فطرت ہے جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اور اللہ کی اس تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ یہی سیدھا اور درست دین ہے، لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔
Arabicفأقِمْ وجهَك للدين حنيفًا، معرضًا عمَّا سواه، متوجهًا إلى الله وحده. تلك فطرةُ الله التي فطر الناسَ عليها، ولا تبديل لخلق الله. ذلك هو الدينُ القيّمُ المستقيم، ولكنَّ أكثر الناس لا يعلمون هذه الحقيقة الفطرية.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
569. Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad, from Ali Bin Al-Hakam, from Ali Bin Abu Hamza, from Abu Baseer, who has said: Abu Ja’far (asws) said: ‘Are you (asws) reciting: “[9:112] They who repent (Al-Ta’iboun), who serve (Al-Abidoun)”?’ So he (asws) said: ‘No. Recite “Al-Ta’ibeen Al-Abideen” upto the end of it’. So I asked about the reason for that, he (asws) said: ‘He (azwj) Bought from the Believers (their own selves), the repentant (and) the worshippers’.
محمد بن یحیی، احمد بن محمد، علی بن الحکم، علی بن ابو حمزہ سے، اور ابو بصیر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابو جعفر (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم 'التائبون العابدون' پڑھ رہے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، 'التائبین العابدین' پڑھو، اس کے آخر تک۔ پھر ان سے اس کے علة کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وہ (اللہ تعالیٰ) نے مومنین سے تائبین اور عابدین کو خریدا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ". ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ}
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Every child is born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone) but his parents convert him to Judaism, Christianity or Magianism, as an animal delivers a perfect baby animal. Do you find it mutilated?" Then Abu Huraira recited the holy verses: "The pure Allah's Islamic nature (true faith of Islam) (i.e. worshipping none but Allah) with which He has created human beings. No change let there be in the religion of Allah (i.e. joining none in worship with Allah). That is the straight religion (Islam) but most of men know, not
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک جانور ایک صحیح سالم جانور جنتا ہے۔ کیا تم اس کا کوئی عضو ( پیدائشی طور پر ) کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ‘ یہی «دين القيم» ہے۔
Narrated Ibn Shihab:The funeral prayer should be offered for every child even if he were the son of a prostitute as he was born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone). If his parents are Muslims, particularly the father, even if his mother were a non-Muslim, and if he after the delivery cries (even once) before his death (i.e. born alive) then the funeral prayer must be offered. And if the child does not cry after his delivery (i.e. born dead) then his funeral prayer should not be offered, and he will be considered as a miscarriage. Abu Huraira, narrated that the Prophet (ﷺ) said, "Every child is born with a true faith (i.e. to worship none but Allah Alone) but …
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ابن شہاب ہر اس بچے کی جو وفات پا گیا ہو نماز جنازہ پڑھتے تھے۔ اگرچہ وہ حرام ہی کا بچہ کیوں نہ ہو کیونکہ اس کی پیدائش اسلام کی فطرت پر ہوئی۔ یعنی اس صورت میں جب کہ اس کے والدین مسلمان ہونے کے دعویدار ہوں۔ اگر صرف باپ مسلمان ہو اور ماں کا مذہب اسلام کے سوا کوئی اور ہو جب بھی بچہ کے رونے کی پیدائش کے وقت اگر آواز سنائی دیتی تو اس پر نماز پڑھی جاتی۔ لیکن اگر پیدائش کے وقت کوئی آواز نہ آتی تو اس کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ بلکہ ایسے بچے کو کچا حمل گر جانے کے درجہ میں سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس …
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ " ثُمَّ يَقُولُ {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ}
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No child is born except on Al-Fitra (Islam) and then his parents make him Jewish, Christian or Magian, as an animal produces a perfect young animal: do you see any part of its body amputated?" Then he recited, 'The religion of pure Islamic Faith (Hanifa),(i.e. to worship none but Allah), The pure Allah's Islamic nature with which He (Allah) has created mankind. Let There be no change in Allah's religion (i.e. to join none in Allah's worship). That is the straight religion; but most of men know not
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسی جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم نے انہیں ناک کان کٹا ہوا کوئی بچہ دیکھا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم» ”اللہ کی اس فطرت کی اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، …
Iyad b. Him-ar reported that Allah's Messenger (ﷺ), while delivering a sermon one day, said:Behold, my Lord commanded me that I should teach you which you do not know and which He has taught me today. (He has instructed thus): The property which I have conferred upon them is lawful for them. I have created My servants as one having a natural inclination to the worship of Allah but it is Satan who turns them away from the right religion and he makes unlawful what has been declared lawful for them and he commands them to ascribe partnership with Me, although he has no justification for that. And verily, Allah looked towards the people of the world and He showed hatred for the Arabs and the …
ابو غسان مسمعی محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار بن عثمان نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ ابو غسان اور ابن مثنیٰ کے ہیں دونوں نے کہا : معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی انھوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیرسے اور انھوں نے حضرت عیاض بن حمادمجاشعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا : " سنو!میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمھیں ان باتوں کی تعلیم دوں جو تمھیں معلوم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ان کا علم عطا کیا ہے ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ) ہر مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ( اس کی قسمت میں لکھا ) حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ( حق کے لیے ) یکسو پیدا کیا پھر شیاطین ان کے …
There is none born but is created to his true nature (Islam). It is his parents who make him a Jew or a Christian or a Magian quite as beasts produce their young with their limbs perfect. Do you see anything deficient in them? Then he quoted the Qur'an., The nature made by Allah in which He has created men there is no altering of Allah's creation; that is the right religion" (ar-Rum:)
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : " جس طرح ایک ( مادہ ) جانور بچے کو جنم دیتی ہے ۔ " انہوں نے " کامل الاعضاء " ذکر نہیں کیا ۔
Narrated `Aisha:Eleven women sat (at a place) and promised and contracted that they would not conceal anything of the news of their husbands. The first one said, "My husband is like the meat of a slim weak camel which is kept on the top of a mountain which is neither easy to climb, nor is the meat fat, so that one might put up with the trouble of fetching it." The second one said, "I shall not relate my husband's news, for I fear that I may not be able to finish his story, for if I describe him, I will mention all his defects and bad traits." The third one said, "My husband, the "too-tall"! if I describe him (and he hears of that) he will divorce me, and if I keep quiet, he will keep me …
ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن اور علی بن حجر نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، اس نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے بھائی عبداللہ بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے کہا کہ گیارہ عورتوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ مجلس میں وہ اپنے اپنے خاوند کا صحیح صحیح حال بیان کریں کوئی بات نہ چھپاویں۔ چنانچہ پہلی عورت ( نام نامعلوم ) بولی میرے خاوند کی مثال ایسی ہے جیسے دبلے اونٹ کا گوشت جو پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو نہ تو وہاں تک جانے کا راستہ صاف ہے کہ آسانی سے چڑھ کر اس کو کوئی لے آوے اور نہ وہ گوشت ہی ایسا موٹا تازہ ہے جسے لانے کے لیے اس پہاڑ پر چڑھنے کی تکلیف گوارا کرے۔ …
A'isha reported that (one day) there sat together eleven women making an explicit promise amongst themselves that they would conceal nothing about their spouses. The first one said:My husband is a sort of the meat of a lean camel placed at the top of a hill, which it is difficult to climb up, nor (the meat) is good enough that one finds in oneself the urge to take it away (from the top of that mountain). The second one said: My husband (is so bad) that I am afraid I would not be able to describe his faults-both visible and invisible completely. The third one said: My husband is a long-statured fellow (i. e. he lacks intelligence). If I give vent to my feelings about him, he would divorce …
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے بھائی عبداللہ بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہیں کہ گیارہ عورتیں بیٹھیں اور ان سب نے یہ اقرار اور عہد کیا کہ اپنے اپنے خاوندوں کی کوئی بات نہ چھپائیں گی ۔ پہلی عورت نے کہا کہ میرا خاوند گویا دبلے اونٹ کا گوشت ہے ، جو ایک دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہو ۔ نہ تو وہاں تک صاف راستہ ہے کہ کوئی چڑھ جائے اور نہ وہ گوشت موٹا ہے کہ لایا جائے ۔ دوسری عورت نے کہا کہ میں اپنے خاوند کی خبر نہیں پھیلا سکتی میں ڈرتی ہوں کہ اگر بیان کروں تو پورا بیان نہ کر سکوں گی کیونکہ اس میں ظاہری و باطنی عیوب بہت زیادہ ہیں ۔ ( اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ میں ڈرتی ہوں کہ اگر بیان کروں …
It was narrated that 'Aishah the Mother of the Believers said:"The Messenger of Allah (ﷺ) was called to the funeral of a child from among the Ansar. I said: 'O Messenger of Allah, glad tidings for him! He is one of the little birds of Paradise, who never did evil or reached the age of doing evil (i.e, the age of accountability).' He said: 'It may not be so, O 'Aishah! For Allah created people for Paradise, He created them for it when they were still in their father's loins, And He has created people for Hell, He created them for it when they were still in their fathers' loins
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک بچے کے جنازے میں بلائے گئے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بچہ کے لیے مبارک باد ہو، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نہ تو اس نے کوئی برائی کی اور نہ ہی برائی کرنے کا وقت پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ بات یوں نہیں ہے، بلکہ اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے، اور جہنم کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے ۱؎۔
PickthallTurning unto Him (only); and be careful of your duty unto Him and establish worship, and be not of those who ascribe partners (unto Him);
Yusuf AliTurn ye back in repentance to Him, and fear Him: establish regular prayers, and be not ye among those who join gods with Allah,-
The agreed readingTurning back to Him in what He has commanded and what He has forbidden, and be mindful of God, and establish the prayer, and do not be of those who set up partners with Him.
Urduاسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے، اس کے احکام اور اس کی ممانعتوں کی پیروی میں، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور نماز قائم کرو، اور ان لوگوں میں سے نہ بنو جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔
Arabicراجعين إليه فيما أمر به ونهى عنه، واتقوا اللهَ في جميع أموركم، وأقيموا الصلاةَ بحدودها وشروطها، ولا تكونوا من المشركين الذين يجعلون مع الله شريكًا في العبادة.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ". ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ}
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Every child is born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone) but his parents convert him to Judaism, Christianity or Magianism, as an animal delivers a perfect baby animal. Do you find it mutilated?" Then Abu Huraira recited the holy verses: "The pure Allah's Islamic nature (true faith of Islam) (i.e. worshipping none but Allah) with which He has created human beings. No change let there be in the religion of Allah (i.e. joining none in worship with Allah). That is the straight religion (Islam) but most of men know, not
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک جانور ایک صحیح سالم جانور جنتا ہے۔ کیا تم اس کا کوئی عضو ( پیدائشی طور پر ) کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ‘ یہی «دين القيم» ہے۔
Narrated Ibn Shihab:The funeral prayer should be offered for every child even if he were the son of a prostitute as he was born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone). If his parents are Muslims, particularly the father, even if his mother were a non-Muslim, and if he after the delivery cries (even once) before his death (i.e. born alive) then the funeral prayer must be offered. And if the child does not cry after his delivery (i.e. born dead) then his funeral prayer should not be offered, and he will be considered as a miscarriage. Abu Huraira, narrated that the Prophet (ﷺ) said, "Every child is born with a true faith (i.e. to worship none but Allah Alone) but …
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ابن شہاب ہر اس بچے کی جو وفات پا گیا ہو نماز جنازہ پڑھتے تھے۔ اگرچہ وہ حرام ہی کا بچہ کیوں نہ ہو کیونکہ اس کی پیدائش اسلام کی فطرت پر ہوئی۔ یعنی اس صورت میں جب کہ اس کے والدین مسلمان ہونے کے دعویدار ہوں۔ اگر صرف باپ مسلمان ہو اور ماں کا مذہب اسلام کے سوا کوئی اور ہو جب بھی بچہ کے رونے کی پیدائش کے وقت اگر آواز سنائی دیتی تو اس پر نماز پڑھی جاتی۔ لیکن اگر پیدائش کے وقت کوئی آواز نہ آتی تو اس کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ بلکہ ایسے بچے کو کچا حمل گر جانے کے درجہ میں سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس …
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ " ثُمَّ يَقُولُ {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ}
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No child is born except on Al-Fitra (Islam) and then his parents make him Jewish, Christian or Magian, as an animal produces a perfect young animal: do you see any part of its body amputated?" Then he recited, 'The religion of pure Islamic Faith (Hanifa),(i.e. to worship none but Allah), The pure Allah's Islamic nature with which He (Allah) has created mankind. Let There be no change in Allah's religion (i.e. to join none in Allah's worship). That is the straight religion; but most of men know not
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسی جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم نے انہیں ناک کان کٹا ہوا کوئی بچہ دیکھا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم» ”اللہ کی اس فطرت کی اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، …
There is none born but is created to his true nature (Islam). It is his parents who make him a Jew or a Christian or a Magian quite as beasts produce their young with their limbs perfect. Do you see anything deficient in them? Then he quoted the Qur'an., The nature made by Allah in which He has created men there is no altering of Allah's creation; that is the right religion" (ar-Rum:)
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : " جس طرح ایک ( مادہ ) جانور بچے کو جنم دیتی ہے ۔ " انہوں نے " کامل الاعضاء " ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. فَقَالُوا السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الآنَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah created Adam, making him 60 cubits tall. When He created him, He said to him, "Go and greet that group of angels, and listen to their reply, for it will be your greeting (salutation) and the greeting (salutations of your offspring." So, Adam said (to the angels), As-Salamu Alaikum (i.e. Peace be upon you). The angels said, "As-salamu Alaika wa Rahmatu-l-lahi" (i.e. Peace and Allah's Mercy be upon you). Thus the angels added to Adam's salutation the expression, 'Wa Rahmatu-l-lahi,' Any person who will enter Paradise will resemble Adam (in appearance and figure). People have been decreasing in stature since Adam's creation
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کو ساٹھ ہاتھ لمبا بنایا پھر فرمایا کہ جا اور ان ملائکہ کو سلام کر، دیکھنا کن لفظوں میں وہ تمہارے سلام کا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا طریقہ سلام ہو گا۔ آدم علیہ السلام ( گئے اور ) کہا، السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ انہوں نے ورحمۃ اللہ کا جملہ بڑھا دیا، پس جو کوئی بھی جنت میں داخل ہو گا وہ آدم علیہ السلام کی شکل اور قامت پر داخل ہو گا، آدم علیہ السلام کے بعد انسانوں میں اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے۔“
Iyad b. Him-ar reported that Allah's Messenger (ﷺ), while delivering a sermon one day, said:Behold, my Lord commanded me that I should teach you which you do not know and which He has taught me today. (He has instructed thus): The property which I have conferred upon them is lawful for them. I have created My servants as one having a natural inclination to the worship of Allah but it is Satan who turns them away from the right religion and he makes unlawful what has been declared lawful for them and he commands them to ascribe partnership with Me, although he has no justification for that. And verily, Allah looked towards the people of the world and He showed hatred for the Arabs and the …
ابو غسان مسمعی محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار بن عثمان نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ ابو غسان اور ابن مثنیٰ کے ہیں دونوں نے کہا : معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی انھوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیرسے اور انھوں نے حضرت عیاض بن حمادمجاشعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا : " سنو!میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمھیں ان باتوں کی تعلیم دوں جو تمھیں معلوم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ان کا علم عطا کیا ہے ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ) ہر مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ( اس کی قسمت میں لکھا ) حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ( حق کے لیے ) یکسو پیدا کیا پھر شیاطین ان کے …
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَثَلِ الْبَهِيمَةِ تُنْتَجُ الْبَهِيمَةَ، هَلْ تَرَى فِيهَا جَدْعَاءَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Every child is born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone) and his parents convert him to Judaism or Christianity or Magianism, as an animal delivers a perfect baby animal. Do you find it mutilated?
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ذئب نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں بالکل اس طرح جیسے جانور کے بچے صحیح سالم ہوتے ہیں۔ کیا تم نے ( پیدائشی طور پر ) کوئی ان کے جسم کا حصہ کٹا ہوا دیکھا ہے۔
PickthallOf those who split up their religion and became schismatics, each sect exulting in its tenets.
Yusuf AliThose who split up their Religion, and become (mere) Sects,- each party rejoicing in that which is with itself!
The agreed readingOf those who split their religion apart, differing over what they worship, and became factions, each faction pleased with what it holds.
Urduیعنی ان لوگوں میں سے نہ بنو جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اس بارے میں اختلاف کیا کہ کس کی عبادت کی جائے، اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے، جبکہ ہر فرقہ اپنے ہی عقیدے پر خوش اور مطمئن ہے۔
Arabicأي من الذين فرَّقوا دينَهم، فاختلفوا فيما يعبدون، وصاروا فِرَقًا وأحزابًا متعددة، كلُّ حزبٍ منهم فرحٌ راضٍ بما عنده، يظن أنه وحده على الحق وغيره على الباطل.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ". ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ}
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Every child is born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone) but his parents convert him to Judaism, Christianity or Magianism, as an animal delivers a perfect baby animal. Do you find it mutilated?" Then Abu Huraira recited the holy verses: "The pure Allah's Islamic nature (true faith of Islam) (i.e. worshipping none but Allah) with which He has created human beings. No change let there be in the religion of Allah (i.e. joining none in worship with Allah). That is the straight religion (Islam) but most of men know, not
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک جانور ایک صحیح سالم جانور جنتا ہے۔ کیا تم اس کا کوئی عضو ( پیدائشی طور پر ) کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ‘ یہی «دين القيم» ہے۔
Narrated Ibn Shihab:The funeral prayer should be offered for every child even if he were the son of a prostitute as he was born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone). If his parents are Muslims, particularly the father, even if his mother were a non-Muslim, and if he after the delivery cries (even once) before his death (i.e. born alive) then the funeral prayer must be offered. And if the child does not cry after his delivery (i.e. born dead) then his funeral prayer should not be offered, and he will be considered as a miscarriage. Abu Huraira, narrated that the Prophet (ﷺ) said, "Every child is born with a true faith (i.e. to worship none but Allah Alone) but …
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ابن شہاب ہر اس بچے کی جو وفات پا گیا ہو نماز جنازہ پڑھتے تھے۔ اگرچہ وہ حرام ہی کا بچہ کیوں نہ ہو کیونکہ اس کی پیدائش اسلام کی فطرت پر ہوئی۔ یعنی اس صورت میں جب کہ اس کے والدین مسلمان ہونے کے دعویدار ہوں۔ اگر صرف باپ مسلمان ہو اور ماں کا مذہب اسلام کے سوا کوئی اور ہو جب بھی بچہ کے رونے کی پیدائش کے وقت اگر آواز سنائی دیتی تو اس پر نماز پڑھی جاتی۔ لیکن اگر پیدائش کے وقت کوئی آواز نہ آتی تو اس کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ بلکہ ایسے بچے کو کچا حمل گر جانے کے درجہ میں سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس …
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ " ثُمَّ يَقُولُ {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ}
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No child is born except on Al-Fitra (Islam) and then his parents make him Jewish, Christian or Magian, as an animal produces a perfect young animal: do you see any part of its body amputated?" Then he recited, 'The religion of pure Islamic Faith (Hanifa),(i.e. to worship none but Allah), The pure Allah's Islamic nature with which He (Allah) has created mankind. Let There be no change in Allah's religion (i.e. to join none in Allah's worship). That is the straight religion; but most of men know not
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسی جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم نے انہیں ناک کان کٹا ہوا کوئی بچہ دیکھا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم» ”اللہ کی اس فطرت کی اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، …
There is none born but is created to his true nature (Islam). It is his parents who make him a Jew or a Christian or a Magian quite as beasts produce their young with their limbs perfect. Do you see anything deficient in them? Then he quoted the Qur'an., The nature made by Allah in which He has created men there is no altering of Allah's creation; that is the right religion" (ar-Rum:)
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : " جس طرح ایک ( مادہ ) جانور بچے کو جنم دیتی ہے ۔ " انہوں نے " کامل الاعضاء " ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. فَقَالُوا السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الآنَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah created Adam, making him 60 cubits tall. When He created him, He said to him, "Go and greet that group of angels, and listen to their reply, for it will be your greeting (salutation) and the greeting (salutations of your offspring." So, Adam said (to the angels), As-Salamu Alaikum (i.e. Peace be upon you). The angels said, "As-salamu Alaika wa Rahmatu-l-lahi" (i.e. Peace and Allah's Mercy be upon you). Thus the angels added to Adam's salutation the expression, 'Wa Rahmatu-l-lahi,' Any person who will enter Paradise will resemble Adam (in appearance and figure). People have been decreasing in stature since Adam's creation
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کو ساٹھ ہاتھ لمبا بنایا پھر فرمایا کہ جا اور ان ملائکہ کو سلام کر، دیکھنا کن لفظوں میں وہ تمہارے سلام کا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا طریقہ سلام ہو گا۔ آدم علیہ السلام ( گئے اور ) کہا، السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ انہوں نے ورحمۃ اللہ کا جملہ بڑھا دیا، پس جو کوئی بھی جنت میں داخل ہو گا وہ آدم علیہ السلام کی شکل اور قامت پر داخل ہو گا، آدم علیہ السلام کے بعد انسانوں میں اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے۔“
Iyad b. Him-ar reported that Allah's Messenger (ﷺ), while delivering a sermon one day, said:Behold, my Lord commanded me that I should teach you which you do not know and which He has taught me today. (He has instructed thus): The property which I have conferred upon them is lawful for them. I have created My servants as one having a natural inclination to the worship of Allah but it is Satan who turns them away from the right religion and he makes unlawful what has been declared lawful for them and he commands them to ascribe partnership with Me, although he has no justification for that. And verily, Allah looked towards the people of the world and He showed hatred for the Arabs and the …
ابو غسان مسمعی محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار بن عثمان نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ ابو غسان اور ابن مثنیٰ کے ہیں دونوں نے کہا : معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی انھوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیرسے اور انھوں نے حضرت عیاض بن حمادمجاشعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا : " سنو!میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمھیں ان باتوں کی تعلیم دوں جو تمھیں معلوم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ان کا علم عطا کیا ہے ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ) ہر مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ( اس کی قسمت میں لکھا ) حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ( حق کے لیے ) یکسو پیدا کیا پھر شیاطین ان کے …
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَثَلِ الْبَهِيمَةِ تُنْتَجُ الْبَهِيمَةَ، هَلْ تَرَى فِيهَا جَدْعَاءَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Every child is born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone) and his parents convert him to Judaism or Christianity or Magianism, as an animal delivers a perfect baby animal. Do you find it mutilated?
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ذئب نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں بالکل اس طرح جیسے جانور کے بچے صحیح سالم ہوتے ہیں۔ کیا تم نے ( پیدائشی طور پر ) کوئی ان کے جسم کا حصہ کٹا ہوا دیکھا ہے۔
PickthallAnd when harm toucheth men they cry unto their Lord, turning to Him in repentance; then, when they have tasted of His mercy, behold! some of them attribute partners to their Lord
Yusuf AliWhen trouble touches men, they cry to their Lord, turning back to Him in repentance: but when He gives them a taste of Mercy as from Himself, behold, some of them pay part-worship to other god's besides their Lord,-
The agreed readingAnd when hardship touches people they call on their Lord, turning back to Him and to no one else. Then when He gives them a taste of mercy from Him, a group of them go straight back to setting up partners with their Lord.
Urduاور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں، صرف اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور کسی اور کی طرف نہیں۔ پھر جب وہ انہیں اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ فوراً دوبارہ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔
Arabicوإذا مسَّ الناسَ ضرٌّ دعوا ربَّهم راجعين إليه وحده لا إلى غيره. فإذا أذاقهم منه رحمةً، إذا فريقٌ منهم يعودون فورًا إلى الشرك بربهم، ناسين ما كانوا عليه من الإخلاص عند الشدة.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Suhaib reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Strange are the ways of a believer for there is good in every affair of his and this is not the case with anyone else except in the case of a believer for if he has an occasion to feel delight, he thanks (God), thus there is a good for him in it, and if he gets into trouble and shows resignation (and endures it patiently), there is a good for him in it
حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کا معاملہ عجیب ہے ۔ اس کا ہرمعاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے ۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں ۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے توشکر کرتا ہے ۔ اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو ( اللہ کی رضا کے لیے ) صبر کر تا ہے ، یہ ( ابھی ) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔
PickthallSo as to disbelieve in that which We have given them. (Unto such it is said): Enjoy yourselves awhile, but ye will come to know.
Yusuf Ali(As if) to show their ingratitude for the (favours) We have bestowed on them! Then enjoy (your brief day); but soon will ye know (your folly).
The agreed readingSo they end up ungrateful for what God has given them. Take your enjoyment, then, for the words are a warning and not a permission, and you will come to know what it comes to.
Urduنتیجتاً وہ اس نعمت کی ناشکری کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں عطا کی تھی۔ پس کچھ وقت کے لیے دنیا سے فائدہ اٹھا لو، یہ الفاظ دراصل ایک تنبیہ ہیں نہ کہ اجازت، اور عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Arabicفيكفرون بذلك بما آتاهم اللهُ من نعمة الكشف عن ضرهم. فتمتَّعوا إذن بدنياكم، وهذا القول تهديدٌ ووعيدٌ لا إذنٌ ولا إباحةٌ، وسوف تعلمون عاقبةَ ما كنتم عليه من الكفر والشرك.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Suhaib reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Strange are the ways of a believer for there is good in every affair of his and this is not the case with anyone else except in the case of a believer for if he has an occasion to feel delight, he thanks (God), thus there is a good for him in it, and if he gets into trouble and shows resignation (and endures it patiently), there is a good for him in it
حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کا معاملہ عجیب ہے ۔ اس کا ہرمعاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے ۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں ۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے توشکر کرتا ہے ۔ اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو ( اللہ کی رضا کے لیے ) صبر کر تا ہے ، یہ ( ابھی ) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔
PickthallOr have We revealed unto them any warrant which speaketh of that which they associate with Him?
Yusuf AliOr have We sent down authority to them, which points out to them the things to which they pay part-worship?
The agreed readingOr has God sent down to them any warrant that speaks for what they set up as partners with Him? The question is a denial: no such warrant exists.
Urduکیا اللہ نے ان پر کوئی ایسی سند یا دلیل اتاری ہے جو ان کے شرک کی تائید کرتی ہو؟ یہ سوال دراصل ایک انکار ہے، یعنی ایسی کوئی دلیل کبھی نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے شرک کا کوئی جواز موجود ہے۔
Arabicأم أنزل اللهُ عليهم سلطانًا وحجةً تنطق بصحة ما يشركون به مع الله؟ والاستفهام هنا للإنكار، أي لم ينزل عليهم شيءٌ من ذلك، فلا حجةَ لهم فيما ذهبوا إليه من الشرك.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Suhaib reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Strange are the ways of a believer for there is good in every affair of his and this is not the case with anyone else except in the case of a believer for if he has an occasion to feel delight, he thanks (God), thus there is a good for him in it, and if he gets into trouble and shows resignation (and endures it patiently), there is a good for him in it
حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کا معاملہ عجیب ہے ۔ اس کا ہرمعاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے ۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں ۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے توشکر کرتا ہے ۔ اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو ( اللہ کی رضا کے لیے ) صبر کر تا ہے ، یہ ( ابھی ) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔
PickthallAnd when We cause mankind to taste of mercy they rejoice therein; but if an evil thing befall them as the consequence of their own deeds, lo! they are in despair!
Yusuf AliWhen We give men a taste of Mercy, they exult thereat: and when some evil afflicts them because of what their (own) hands have sent forth, behold, they are in despair!
The agreed readingAnd when God gives people a taste of mercy they rejoice in it, and the rejoicing is an insolent one. And if hardship reaches them for what their own hands sent ahead, they fall straight into despair.
Urduاور جب اللہ لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو وہ اس پر خوش ہوتے ہیں، لیکن یہ خوشی تکبر اور غفلت کی خوشی ہوتی ہے، شکر کی نہیں۔ اور اگر انہیں ان کے اپنے ہاتھوں کے کیے کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ فوراً مایوس ہو جاتے ہیں۔
Arabicوإذا أذقنا الناسَ رحمةً منا فرحوا بها فرحَ بطرٍ وأشرٍ لا فرحَ شكرٍ. وإن تصبهم سيئةٌ بسبب ما قدَّمت أيديهم من الذنوب، إذا هم يقنطون من رحمة الله يأسًا شديدًا لا يليق بالمؤمن.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Suhaib reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Strange are the ways of a believer for there is good in every affair of his and this is not the case with anyone else except in the case of a believer for if he has an occasion to feel delight, he thanks (God), thus there is a good for him in it, and if he gets into trouble and shows resignation (and endures it patiently), there is a good for him in it
حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کا معاملہ عجیب ہے ۔ اس کا ہرمعاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے ۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں ۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے توشکر کرتا ہے ۔ اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو ( اللہ کی رضا کے لیے ) صبر کر تا ہے ، یہ ( ابھی ) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔
PickthallSee they not that Allah enlargeth the provision for whom He will, and straiteneth (it for whom He will). Lo! herein indeed are portents for folk who believe.
Yusuf AliSee they not that Allah enlarges the provision and restricts it, to whomsoever He pleases? Verily in that are Signs for those who believe.
The agreed readingHave they not seen that God spreads out provision for whom He wills and narrows it for whom He wills, and that both of these are a test? In that there are signs for a people who believe.
Urduکیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ جسے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے، اور یہ دونوں حالتیں دراصل ایک آزمائش ہیں؟ بےشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو اس حکمت کو سمجھتے ہیں۔
Arabicأولم يروا أن اللهَ يبسط الرزقَ لمن يشاء امتحانًا، ويضيّقه على من يشاء ابتلاءً، وكلاهما اختبارٌ من الله لعباده؟ إن في ذلك لآياتٍ لقومٍ يؤمنون ويدركون حكمةَ التوسيع والتضييق.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Then you have recalled my position vis-à-vis ‘Uthmān, and in this matter an answer is due to you because of your kinship with him. So (now tell me), which of us was more inimical towards ‘Uthmān and who did more to bring about his killing; or who offered him his support but he made him sit down and stopped him; or who was he whom he called for help but who turned his face from him and drew his death near him till his fate overtook him? No, no; by Allāh: “Indeed knoweth Allāh those who hinder others among you and those who say unto their brethren ‘Come hither unto us’, and they come not to fight but a little.” (Qur’ān, 33:18)
ثم يادگار ہوا میرے اور عثمان کی بابت۔ تمہیں جواب دینا ہے اس لیے کہ تمہارا رحم ہے اس سے۔ کون زیادہ دشمن عثمان کا؟ کون مقاتل تک پہنچانے والا؟ جو نصرت بھیجی پھر بیٹھا دیا؟ یا جو مانگا پھر منہ موڑ لیا اور منون بھیجے تک قدر آئی؟ کلا و اللہ قد يعلم الله المعوّقين منكم والقائلين لإخوانهم هلم إلينا و لا يأتون البأس إلا قليلا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ عَمِّي أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبُرَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غِبْتُ عَنْهُ أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ . قَالَ فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ فَاسْتَقْبَلَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ قَالَ …
Narrated Anas:"My paternal uncle Anas bin An-Nadr - after whom I was named - did not participate in the battle of Badr with the Messenger of Allah (ﷺ). This distressed him and he said: 'I was absent from the first battle which the Messenger of Allah (ﷺ) attended. By Allah! If Allah gives me the opportunity to participate in another battle along with the Messenger of Allah (ﷺ), then Allah will see what I will do!'" He said: "He did not want to say more than that. A year later, he attended the battle of Uhud, where he saw Sa'd bin Mu'adh and said: 'O Abu 'Amr where are you going?' He said: 'I long for the fragrance of Paradise and I have found it near the mountains of Uhud.' He fought them …
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضر رضی الله عنہ جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا تھا جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے، یہ بات انہیں بڑی شاق اور گراں گزر رہی تھی، کہتے تھے: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس حاضر و موجود تھے میں اس سے غیر حاضر رہا، ( اس کا مجھے بےحد افسوس ہے ) مگر سنو! قسم اللہ کی! اب اگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک ہونے کا موقع ملا تو یقیناً اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں، راوی کہتے ہیں: وہ اس کے سوا اور کچھ کہنے سے ڈرتے ( اور بچتے ) رہے، پھر اگلے سال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک ہوئے، سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا ان سے سامنا ہوا تو انہوں نے کہا: …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif Isnaad · Al-Albani: Very Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَاتِمًا شَيْئًا مِنَ الْوَحْىِ لَكَتَمَ هَذِهِ الآيَةَ : ( إِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ) يَعْنِي بِالإِسْلاَمِ : ( وأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ ) بِالْعِتْقِ فَأَعْتَقْتَهُ : ( أمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ ) إِلَى قَوْلِهِ : (وكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولاً ) وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا تَزَوَّجَهَا قَالُوا تَزَوَّجَ …
Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]:"If the Messenger of Allah (ﷺ) was to have concealed anything that was revealed to him, then he would have concealed these Ayat: 'When you said to him on whom Allah has bestowed grace (meaning by Islam); and you have done a favor (meaning that he was a slave and you freed him) "Keep your wife to yourself, and have Taqwa of Allah." But you did hide in yourself that which Allah will make manifest, you did fear the people whereas Allah had better right that you should fear Him' up to His saying: 'And Allah's command must be fulfilled (33:37).' They said: 'He married his wife's son, so Allah revealed: 'Muhammad is not the father of any of your …
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کی کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه» ”جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے اسلام کے ذریعہ انعام کیے تھے اور آپ نے بھی ( اسے آزاد کر کے ) اس پر انعام و احسان کیے تھے کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو ( طلاق نہ دو ) اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا تم لوگوں کے ( لعن طعن ) سے ڈرتے تھے اور اللہ اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ تم اس سے ڈرو“، سے لے کر «وكان أمر الله مفعولا» تک چھپا لیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے ( زینب سے ) شادی کر لی تو لوگوں نے کہا: آپ نے اپنے ( لے پالک ) بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی، اس پر اللہ …
Suhaib reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Strange are the ways of a believer for there is good in every affair of his and this is not the case with anyone else except in the case of a believer for if he has an occasion to feel delight, he thanks (God), thus there is a good for him in it, and if he gets into trouble and shows resignation (and endures it patiently), there is a good for him in it
حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کا معاملہ عجیب ہے ۔ اس کا ہرمعاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے ۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں ۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے توشکر کرتا ہے ۔ اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو ( اللہ کی رضا کے لیے ) صبر کر تا ہے ، یہ ( ابھی ) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔
A'isha reported that these words of Allah:" When they came upon you from above you and from below you and when the eyes turned dull and the hearts rose up to the throats" (xxxiii. 10) pertain to the day of Ditch
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ( اللہ ) عزوجل کے فرمان : " جب کافرتم پر چڑھ آئے تمھارے اوپر کی جانب سے اور تمھارے نیچے کی طرف سے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل منہ کو آنے لگے " کے متعلق روایت کی ، ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : " یہ خندق کے روزہوا تھا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَدْرًا - قَالَ - فَشَقَّ عَلَيْهِ قَالَ أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُيِّبْتُ عَنْهُ وَإِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَرَانِيَ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ - قَالَ - فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا - قَالَ - فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ - قَالَ - فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ فَقَالَ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ …
It has been Deported on the authority of Anas who said:My uncle and I have been named after him was not present with the Messenger of Allah (mav peace be upon him) on the Day of Badr. He felt distressed about it. He would say: I have missed the first battle fought by the Messenger of Allah (ﷺ), and if God now gives me an opportunity to see a battlefield with the Messenger of Allah (ﷺ), God will see what I do therein. He was afraid to say more than this (lest he be unable to keep his word with God). He was present with the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Uhud. He met Sa'd b. Mu'adh (who was retreating). Anas said to him: O Abu 'Amr, where (are you going)? Woe (to thee)! I find the smell …
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے چچا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا ہے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہو سکے تھے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزری تھی ۔ انہوں نے کہا : یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے اور میں اس سے غیر حاضر رہا ، اس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کوئی معرکہ مجھے دکھایا تو اللہ مجھے بھی دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ وہ ان کلمات کے علاوہ کوئی اور بات کہنے سے ڈرے ( دل میں بہت کچھ کر گزرنے کا عزم تھا لیکن اس فقرے سے زیادہ کچھ نہیں کہا ۔ ) ، پھر وہ غزوہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے ، کہا : پھر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آئے تو ( میرے چچا ) …
A'isha (Allah be pleased with her) reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) was commanded to give option to his wives, he started it from me saying: I am going to mention to you a matter which you should not (decide) in haste until you have consulted your parents. She said that he already knew that my parents would never allow me to seek separation from him She said: Then he said: Allah, the Exalted and Glorious, said: Prophet, say to thy wives: If you desire this world's life and its adornment, then come, I will give you a provision and allow you to depart a goodly departing; and if you desire Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter, then Allah has prepared for the doers of …
ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں تو آپ نے ( اس کی ) ابتدا مجھ سے کی ، اور فرمایا : " میں تم سے ایک بات کرنے لگا ہوں ۔ تمہارے لیے اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے والدین سے مشورہ کرنے تک ( جواب دینے میں ) عجلت سے کام نہ لو ۔ " انہوں نے کہا : آپ کو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی آپ سے جدا ہونے کا مشورہ نہیں دیں گے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : " اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں ( دنیا کا ) ساز و سامان دوں اور تمہیں اچھائی کے …
Dawud reported on the same authorities the hadith as narrated above by Ibn 'Uliyya and added:She ('A'isha) said: If Muhammad were to conceal anything which was sent to him, he would have certainly concealed this verse:" And when thou saidst to him on whom Allah had conferred favour and thou too had conferred favour: Keep thy wife to thyself and fear Allah, and thou wast concealing in thy heart that which Allah was going to disclose, and thou wast fearing men while Allah has a better right that thou shouldst fear Him
(اسماعیل کے بجائے ) عبدالوہاب نے کہا : ہمیں داود نے اسی طرح حدیث سنائی ( اسماعیل بن ابراہیم ) ابن علیہ سے بیان کی اور اس میں اضافہ کیا کہ ( حضرت عائشہؓ نے ) فرمایا : اگر محمدﷺ کسی ایک چیز کو جو آپ پر نازل کی گئی ، چھپانے والے ہوتے ، تو آپ یہ آیت چھپا لیتے : ’’ اور جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے ( بھی ) انعام فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے جی میں وہ ہر چیز چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا ، آپ لوگوں ( کےطعن و تشنیع ) سے ڈر رہے تھے ، حالانکہ اللہ ہی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں ۔ ‘ ‘
PickthallSo give to the kinsman his due, and to the needy, and to the wayfarer. That is best for those who seek Allah's Countenance. And such are they who are successful.
Yusuf AliSo give what is due to kindred, the needy, and the wayfarer. That is best for those who seek the Countenance, of Allah, and it is they who will prosper.
The agreed readingSo give the kinsman his due, of kindness and of keeping the tie unbroken, and give the needy and the traveller theirs. That is better for those who seek God's face, and those are the ones who succeed.
Urduپس رشتہ داروں کو ان کا حق دو، صلہ رحمی اور نیک سلوک کے طور پر، اور مسکین اور مسافر کو بھی ان کا حصہ دو۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں، اور یہی لوگ حقیقی کامیاب ہیں۔
Arabicفآتِ ذا القربى حقَّه من البرِّ وصلة الرحم، وآتِ المسكينَ وابنَ السبيل حقَّهما من الصدقة والإحسان. ذلك خيرٌ للذين يريدون بذلك وجهَ الله، وأولئك هم المفلحون الفائزون برضاه.
PickthallThat which ye give in usury in order that it may increase on (other) people's property hath no increase with Allah; but that which ye give in charity, seeking Allah's Countenance, hath increase manifold.
Yusuf AliThat which ye lay out for increase through the property of (other) people, will have no increase with Allah: but that which ye lay out for charity, seeking the Countenance of Allah, (will increase): it is these who will get a recompense multiplied.
The agreed readingAnd what you give in usury, so that it may grow at the expense of other people's wealth, does not grow with God. And what you give as the zakat, seeking God's face, is what is multiplied back to you. The commentaries read the first as giving a gift in order to get back more than was given.
Urduاور جو کچھ تم سود کے طور پر دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں سے بڑھ کر واپس آئے، وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ اور جو کچھ تم زکوٰۃ کے طور پر اللہ کی رضا چاہتے ہوئے دیتے ہو، وہی ہے جو تمہیں کئی گنا بڑھا کر واپس ملتا ہے۔ مفسرین نے پہلی بات کی تشریح یہ کی ہے کہ کوئی شخص محض زیادہ واپس لینے کی نیت سے کسی کو تحفہ دے۔
Arabicوما تعطونه من ربًا لتزداد به أموالكم على حساب أموال الناس، فلا يزيد ذلك عند الله ولا يُبارَك فيه. وما تعطونه من زكاةٍ تريدون به وجهَ الله، فذلك هو الذي يُضاعَف لكم أضعافًا. وقد فسَّر المفسرون الربا هنا بالهدية التي تُعطى طمعًا في أن يُرَدَّ أكثرُ منها.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin 'Alqamah Ath-Thaqafi said:"The delegation of Thaqif came to the Messenger of Allah, bringing a gift with them. He said: 'Is it a gift or charity?' If it was a gift it would be for the sake of the Messenger of Allah and to have their needs met, and if it was charity then it would be in the cause of Allah. They said: 'It is a gift.' So he accepted it from them, and sat with them, and they asked questions, until he prayed Zuhr with 'Asr
عبدالرحمٰن بن علقمہ ثقفی کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ان کے ساتھ کچھ ہدیہ بھی تھا۔ آپ نے ان سے پوچھا: یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر یہ ہدیہ ہے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور ضروریات کی تکمیل مطلوب اور پیش نظر ہے، اور اگر صدقہ ہے تو اس سے اللہ عزوجل کی خوشنودی مطلوب و مقصود ہے۔ ان لوگوں نے کہا: یہ ہدیہ ہے، تو آپ نے اسے ان سے قبول فرما لیا اور ان کے ساتھ بیٹھے باتیں کرتے رہے اور وہ لوگ آپ سے مسئلہ مسائل پوچھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے ظہر عصر کے ساتھ ملا کر پڑھی ۱؎۔
PickthallAllah is He Who created you and then sustained you, then causeth you to die, then giveth life to you again. Is there any of your (so-called) partners (of Allah) that doeth aught of that? Praised and Exalted be He above what they associate (with Him)!
Yusuf AliIt is Allah Who has created you: further, He has provided for your sustenance; then He will cause you to die; and again He will give you life. Are there any of your (false) "Partners" who can do any single one of these things? Glory to Him! and high is He above the partners they attribute (to him)!
The agreed readingGod is the One who created you, then provided for you, then makes you die, then gives you life again. Is there one among the partners you set up who does any part of that? There is not. Glory be to Him, and He is far above what they set up with Him.
Urduاللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا، پھر وہی تمہیں موت دے گا اور پھر دوبارہ زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے بنائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کر سکے؟ ہرگز نہیں۔ وہ پاک اور بلند ہے اس شرک سے جو یہ لوگ اس کے ساتھ کرتے ہیں۔
Arabicاللهُ الذي خلقكم ثم رزقكم ثم يميتُكم ثم يُحييكم. فهل من شركائكم الذين تعبدونهم من دون الله من يفعل شيئًا من ذلك؟ لا أحدَ منهم يقدر على ذلك. سبحانَه وتعالى علوًّا كبيرًا عمَّا يشركون به من الأصنام والأنداد.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
[380/2] التوحيد: ابن الوليد، عن الصفار، عن ابن هاشم، عن ابن أبي عمير، عن هشام بن سالم، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قلت: فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا قال: التوحيد
2. [2/380] al-Tawhid: Ibn al-Walid from al-Saffar from Ibn Hashim from Ibn Abi Umayr from Hisham b. Salim from Abi Abdillah عليه السلام. He (Hisham) said: I said: “The Fitra of Allah which He created the people upon” (30:30)? He (the Imam) said: (that is) Tawhid.
یہ حدیث التوحید کے باب میں ہے۔ ابن الوليد نے الصفار سے حدیث روایت کی، انہوں نے ابن ہاشم سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے ہشام بن سالم سے، انہوں نے ابواعبداللہ علیہ السلام سے۔ ہشام بن سالم بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام سے کہا: اللہ تعالیٰ کا فطرت جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے - امام علیہ السلام نے جواب دیا: وہ توحید ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated `Abdullah:When the Verse:-- 'Those who believe and mix not their belief with wrong.' was revealed, the Muslims felt it very hard on them and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who amongst us does not do wrong to himself?" He replied, "The Verse does not mean this. But that (wrong) means to associate others in worship to Allah: Don't you listen to what Luqman said to his son when he was advising him," O my son! Join not others in worship with Allah. Verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اور انہوں نے عرض کیا ہم میں کون ایسا ہو سکتا ہے جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اسے نصیحت کرتے ہوئے کہ اے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک بڑا ہی ظلم ہے۔
There is none born but is created to his true nature (Islam). It is his parents who make him a Jew or a Christian or a Magian quite as beasts produce their young with their limbs perfect. Do you see anything deficient in them? Then he quoted the Qur'an., The nature made by Allah in which He has created men there is no altering of Allah's creation; that is the right religion" (ar-Rum:)
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : " جس طرح ایک ( مادہ ) جانور بچے کو جنم دیتی ہے ۔ " انہوں نے " کامل الاعضاء " ذکر نہیں کیا ۔
PickthallCorruption doth appear on land and sea because of (the evil) which men's hands have done, that He may make them taste a part of that which they have done, in order that they may return.
Yusuf AliMischief has appeared on land and sea because of (the meed) that the hands of men have earned, that (Allah) may give them a taste of some of their deeds: in order that they may turn back (from Evil).
The agreed readingRuin has appeared on the land and on the sea for what people's own hands have earned: the rain held back, the crops failing, the towns along the water going short. God lets it come so that He may make them taste part of what they did, and so that they may turn back.
Urduخشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، یعنی بارش رک گئی، فصلیں ناکام ہو گئیں اور پانی کے کنارے آباد بستیوں میں کمی واقع ہوئی، اور یہ سب کچھ لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہے۔ اللہ ایسا اس لیے ہونے دیتا ہے تاکہ انہیں ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ توبہ کرکے واپس لوٹ آئیں۔
Arabicظهر الفسادُ في البرِّ والبحر، من قحطٍ وقلّة مطرٍ وفساد المعايش، بسبب ما كسبت أيدي الناس من الذنوب والمعاصي، ليُذيقهم اللهُ بعضَ الذي عملوا، لعلَّهم يرجعون إلى ربهم تائبين مقلعين عمَّا هم عليه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Narrated Al-Harith bin Suwaid:`Abdullah bin Mas`ud related to us two narrations: One from the Prophet (ﷺ) and the other from himself, saying: A believer sees his sins as if he were sitting under a mountain which, he is afraid, may fall on him; whereas the wicked person considers his sins as flies passing over his nose and he just drives them away like this." Abu Shihab (the sub-narrator) moved his hand over his nose in illustration. (Ibn Mas`ud added): Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah is more pleased with the repentance of His slave than a man who encamps at a place where his life is jeopardized, but he has his riding beast carrying his food and water. He then rests his head and sleeps …
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوشہاب نے، ان سے اعمش نے، ان سے عمارہ بن عمیر نے، ان سے حارث بن سوید اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دو احادیث ( بیان کیں ) ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دوسری خود اپنی طرف سے کہا کہ مومن اپنے گناہوں کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس کے اوپر نہ گر جائے اور بدکار اپنے گناہوں کو مکھی کی طرح ہلکا سمجھتا ہے کہ وہ اس کے ناک کے پاس سے گزری اور اس نے اپنے ہاتھ سے یوں اس طرف اشارہ کیا۔ ابوشہاب نے ناک پر اپنے ہاتھ کے اشارہ سے اس کی کیفیت بتائی پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس نے کسی پرخطر جگہ …
PickthallSay (O Muhammad, to the disbelievers): Travel in the land, and see the nature of the consequence for those who were before you! Most of them were idolaters.
Yusuf AliSay: "Travel through the earth and see what was the end of those before (you): Most of them worshipped others besides Allah."
The agreed readingSay: travel through the land and see how those before them ended. Most of them were people who set up partners with God.
Urduکہہ دیجیے: زمین میں سفر کرو اور دیکھو کہ تم سے پہلے لوگوں کا انجام کیا ہوا۔ ان میں سے اکثر لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے تھے، اور اسی شرک کی وجہ سے وہ ہلاکت سے دوچار ہوئے اور ان کے گھر ویران ہو گئے۔
Arabicقل لهم: سيروا في الأرض فانظروا بعيون معتبرة كيف كان عاقبةُ الذين من قبلهم، فقد كان أكثرُهم مشركين بالله، فأهلكهم اللهُ بسبب شركهم وتكذيبهم رسلَه الذين أُرسلوا إليهم.
PickthallSo set thy purpose resolutely for the right religion, before the inevitable day cometh from Allah. On that day mankind will be sundered-
Yusuf AliBut set thou thy face to the right Religion before there come from Allah the Day which there is no chance of averting: on that Day shall men be divided (in two).
The agreed readingSo set your face to the upright religion before a Day comes from God that nothing can turn back. On that Day they will be parted from one another, once the reckoning is done.
Urduپس اپنا رخ سیدھے دین کی طرف رکھو، اس سے پہلے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن حساب کے بعد لوگ ایک دوسرے سے الگ الگ کر دیے جائیں گے، مومن جنت کی طرف اور کافر جہنم کی طرف۔
Arabicفأقِمْ وجهَك للدين القيّم من قبل أن يأتي يومٌ لا مردَّ له من الله، وهو يوم القيامة. يومئذ يتفرَّق الناسُ بعد الحساب، فريقٌ إلى الجنة وفريقٌ إلى النار، كلٌّ بحسب عمله.
PickthallWhoso disbelieveth must (then) bear the consequences of his disbelief, while those who do right make provision for themselves -
Yusuf AliThose who reject Faith will suffer from that rejection: and those who work righteousness will spread their couch (of repose) for themselves (in heaven):
The agreed readingWhoever refuses, his refusal falls back on himself, and what it comes to is the Fire. And whoever does what is right is smoothing out a place for himself in the Garden.
Urduجو شخص انکار کرے، اس کے انکار کا وبال اسی پر پڑے گا اور اس کا انجام آگ ہوگا۔ اور جو شخص نیک عمل کرے، وہ دراصل اپنے ہی لیے جنت میں ایک آرام دہ ٹھکانا تیار کر رہا ہے، جیسے کوئی اپنے بستر کو خود بچھاتا ہے۔
Arabicمن كفر فعليه وبال كفره وعاقبتُه النار. ومن عمل صالحًا فإنما يُمهِّد لنفسه في الجنة، أي يُهيّئ لنفسه مكانًا وطيئًا فيها، كما يُمهِّد المرءُ فراشَه لنفسه.
PickthallThat He may reward out of His bounty those who believe and do good works. Lo! He loveth not the disbelievers (in His guidance).
Yusuf AliThat He may reward those who believe and work righteous deeds, out of his Bounty. For He loves not those who reject Faith.
The agreed readingThat God may reward out of His bounty those who believed and did what is right. He does not love those who refuse.
Urduیہ اس لیے ہے تاکہ اللہ اپنے فضل سے ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، اور وہ ان لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جنہوں نے انکار کیا اور اس کی نافرمانی کرتے رہے۔
Arabicوذلك ليجزيَ اللهُ من فضله وإحسانه الذين آمنوا وعملوا الصالحاتِ جزاءً حسنًا وافرًا. وإنه سبحانه لا يحبُّ الكافرين الجاحدين، بل يُبغضهم ويُعاقبهم على كفرهم وعنادهم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
و ما كان فيه عن حفص بن غياث فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن أبي عبد اللّه، عن أبيه، عن حفص بن غياث. و رويته عن عليّ بن أحمد بن موسى- رحمه اللّه- عن محمّد بن أبي عبد اللّه، عن محمّد بن أبي بشير قال: حدّثنا الحسين بن الهيثم قال: حدّثنا سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث. و رويته عن أبي- رحمه اللّه- عن سعد بن عبد اللّه، عن القاسم بن محمّد الاصبهانيّ، عن سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث النخعيّ القاضي.
Everything in this book that is narrated from Hafs ibn Ghayath has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ahmad ibn Abi Abdullah, from his father, from Hafs ibn Ghayath. I have also narrated it from Ali ibn Ahmad ibn Musa - may Allah (swt) have mercy on him - from Muhammad ibn Abi Abdullah, from Muhammad ibn Abi Bashir, who said: Al-Husayn ibn Al-Haytham narrated to us, saying: Sulayman ibn Dawud Al-Munqari narrated to us, from Hafs ibn Ghayath. Additionally, I have narrated it from my father - may Allah (swt) have mercy on him - from Sa'd ibn Abdullah, from Al-Qasim ibn Muhammad Al-Isfahani, from Sulayman ibn Dawud …
اور جو کچھ اس میں حفص بن غیاث کے ذریعے ہے، تو میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں خوش رکھے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، احمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، ان کے والد کے ذریعے، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے علی بن احمد بن موسیٰ سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - محمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، محمد بن ابی بشیر کے ذریعے۔ انہوں نے کہا: ہمیں الحسین بن الہیثم نے حدیث دی، کہا: ہمیں سليمان بن داود المنقری نے حدیث دی، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، القاسم بن محمد الاصبهاني کے ذریعے، سليمان بن داود المنقری کے ذریعے، حفص بن غیاث النخعي القاضي سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd of His signs is this: He sendeth herald winds to make you taste His mercy, and that the ships may sail at His command, and that ye may seek his favour, and that haply ye may be thankful.
Yusuf AliAmong His Signs is this, that He sends the Winds, as heralds of Glad Tidings, giving you a taste of His (Grace and) Mercy,- that the ships may sail (majestically) by His Command and that ye may seek of His Bounty: in order that ye may be grateful.
The agreed readingAnd of His signs is that He sends the winds carrying good news of rain, so that He may give you a taste of His mercy, the rain and the plenty that comes with it, and so that the ships may run by His command, and that you may seek His bounty and give thanks.
Urduاور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بارش کی خوشخبری لاتی ہیں، تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت، یعنی بارش اور اس سے حاصل ہونے والی خوشحالی کا مزہ چکھائے، اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں، اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر ادا کرو۔
Arabicومن آياته أن يرسل الرياحَ مبشراتٍ بالمطر، ليُذيقكم من رحمته، وهي المطر وما يجلبه من خصبٍ ورخاء، ولتجريَ الفلكُ بأمره في البحر، ولتبتغوا من فضله بالتجارة، ولعلَّكم تشكرون هذه النعمة العظيمة.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated AbudDarda': I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If there are three men in a village or in the desert among whom prayer is not offered (in congregation), the devil has got the mastery over them. So observe (prayer) in congregation), for the wolf eats only the straggling animal. Sa'ib said: By the word Jama'ah he meant saying prayer in company or in congregation
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے ۔ زائدہ کا بیان ہے: سائب نے کہا: جماعت سے مراد نماز باجماعت ہے۔
PickthallVerily We sent before thee (Muhammad) messengers to their own folk. Then we took vengeance upon those who were guilty (in regard to them). To help believers is ever incumbent upon Us.
Yusuf AliWe did indeed send, before thee, messengers to their (respective) peoples, and they came to them with Clear Signs: then, to those who transgressed, We meted out Retribution: and it was due from Us to aid those who believed.
The agreed readingAnd God sent messengers before you to their own peoples, and they came to them with plain proofs of the truth of what they brought, and were called liars. So God took retribution from the guilty. And helping the believers was a duty God took upon Himself.
Urduاور اللہ نے تم سے پہلے بھی رسول ان کی اپنی قوموں کی طرف بھیجے، اور وہ ان کے پاس اپنی سچائی کے واضح دلائل لے کر آئے، لیکن انہیں جھٹلا دیا گیا۔ تو اللہ نے مجرموں سے انتقام لیا۔ اور مومنوں کی مدد کرنا اللہ نے اپنے اوپر لازم کر رکھا تھا۔
Arabicولقد أرسلنا من قبلك رسلًا إلى أقوامهم، فجاؤوهم بالبيّنات الواضحة على صدق ما جاؤوا به، فكذَّبهم قومُهم. فانتقمنا من الذين أجرموا وكذَّبوا رسلَنا، وكان حقًّا علينا نصرُ المؤمنين، لا نُخلِف ذلك أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated AbudDarda': I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If there are three men in a village or in the desert among whom prayer is not offered (in congregation), the devil has got the mastery over them. So observe (prayer) in congregation), for the wolf eats only the straggling animal. Sa'ib said: By the word Jama'ah he meant saying prayer in company or in congregation
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے ۔ زائدہ کا بیان ہے: سائب نے کہا: جماعت سے مراد نماز باجماعت ہے۔
PickthallAllah is He Who sendeth the winds so that they raise clouds, and spreadeth them along the sky as pleaseth Him, and causeth them to break and thou seest the rain downpouring from within them. And when He maketh it to fall on whom He will of His bondmen, lo! they rejoice;
Yusuf AliIt is Allah Who sends the Winds, and they raise the Clouds: then does He spread them in the sky as He wills, and break them into fragments, until thou seest rain-drops issue from the midst thereof: then when He has made them reach such of his servants as He wills behold, they do rejoice!-
The agreed readingGod is the One who sends the winds, and they stir up cloud, and He spreads it across the sky as He wills, little or much, a day's journey or two, driving it to whatever land He wills. Then He breaks it into pieces, and you see the rain come out of its middle. And when He makes it fall on whom He wills of His servants, at once they are rejoicing.
Urduاللہ ہی وہ ذات ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے جو بادل اٹھاتی ہیں، پھر وہ اسے آسمان میں جیسے چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے، کبھی تھوڑا کبھی زیادہ، اور اسے جس زمین کی طرف چاہتا ہے لے جاتا ہے۔ پھر وہ اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرتا ہے، اور تم بارش کو اس کے بیچ سے نکلتے ہوئے دیکھتے ہو۔ اور جب وہ اسے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے برسا دیتا ہے تو وہ فوراً خوش ہو جاتے ہیں۔
Arabicاللهُ الذي يرسل الرياحَ فتُثير سحابًا، فيبسُطه في السماء كيف يشاء، قليلًا أو كثيرًا، ويسوقُه إلى أيّ أرضٍ يشاء. ثم يجعلُه قطعًا متفرقةً، فترى المطرَ يخرج من خلاله. فإذا أصاب به من يشاء من عباده، إذا هم يفرحون ويستبشرون بنزول الغيث.
PickthallThough before that, even before it was sent down upon them, they were in despair.
Yusuf AliEven though, before they received (the rain) - just before this - they were dumb with despair!
The agreed readingThough before it came down on them they had been cut off and despairing that it would come at all.
Urduحالانکہ اس بارش کے نازل ہونے سے پہلے وہ لوگ اس کے آنے سے بالکل مایوس ہو چکے تھے، اور انہیں یہ امید نہیں رہی تھی کہ اب کبھی بارش برسے گی، اور وہ سخت پریشانی اور غم میں مبتلا تھے۔
Arabicوقد كانوا جميعًا من قبل أن يُنزَّل عليهم هذا الغيث، من قبله، آيسين قانطين محزونين حزنًا شديدًا، لا يرجون نزوله بعد طول احتباسه عنهم وتأخره.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 4 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة7 reports cited here — 4 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
4. He has narrated from Hisham ibn Salim from Habib al-Sajistani from abu Ja‘far (a.s.) who has said the following. “Allah, the Most Holy, the Most High, has said, ’I will cause to suffer punishment all those who live a religious life in Islam under the guardianship of unjust Imams who possesses no authority from Allah even though such followers would be virtuous and pious in their deeds. I will forgive all those who live a religious life in Islamunder the guardianship of an Imam who is just in his dealings and possess authority from Allah even though such followers in their dealings would be unjust sinners.”
وہ ہشام بن سالم سے روایت کی، وہ حبیب سجستانی سے، وہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے کہا: میں ضرور اسلام میں ہر ایسے رعایا کو عذاب دوں گا جو کسی ظالم امام کی ولایت میں داخل ہو گیا جو اللہ کی طرف سے نہیں، اگرچہ وہ رعایا اپنے اعمال میں نیک اور پرہیزگار ہوں، اور میں ضرور ہر ایسے رعایا کو معاف کروں گا جو اسلام میں اللہ کی طرف سے کسی عادل امام کی ولایت میں داخل ہو گیا، اگرچہ وہ رعایا اپنے نفس میں ظالم اور مسیء ہوں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that the ayat "You who believe! When you rise for prayer wash your faces, and your arms to the elbows, and wipe over your heads and your feet up to the ankles," refers to rising from bed, meaning sleep. Yahya said that Malik said, "The situation with us is that one does not have to do wudu for a nose-bleed, or for blood, or for pus issuing from the body. One only has to do wudu for impurities which issue from the genitals or the anus, or for sleep
زید بن اسلم نے کہا یہ جو فرمایا اللہ جل جلالہ نے جب اٹھو تم نماز کے لئے تو دھؤو منہ اپنا اور ہاتھ اپنے کہنیوں تک اور مسح کرو سروں پر اور دھؤو پاؤں اپنے ٹخنوں تک اس سے یہ غرض ہے کہ جب اٹھو نماز کے لئے سو کر ۔
Narrated Ibn 'Abbas:"All types of women were prohibited for the Messenger of ALlah (ﷺ) except for the believing women among those who emigrated. (Allah) said: 'It is not lawful for you (to marry other) women after this, nor to change them for other wives even though their beauty attracts you, except those whom your right hand possesses (33:52). - And Allah made your believing girls lawful 'And a believing woman if she offers herself to the Prophet (33:50)' and He made every woman of a religion other than Islam unlawful." Then He said: "And whoever disbelieves in faith then fruitless is his work; and in the Hereafter he will be among the losers (5:5)." And he said: "Verily We have made …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مومن اور مہاجر عورتوں کے سوا دوسری عورتوں سے شادی کرنے سے روک دیا گیا، ( جیسا کہ ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” «لا يحل لك النساء من بعد ولا أن تبدل بهن من أزواج ولو أعجبك حسنهن إلا ما ملكت يمينك» ”آپ کے لیے آج کے بعد کوئی عورت حلال نہیں، اور آپ کے لیے یہ بھی حلال نہیں کہ موجودہ بیویوں میں سے کسی بیوی کو ہٹا کر من بھائی عورت سے شادی کر لیں، سوائے ان لونڈیوں کے جن کے آپ مالک بن جائیں“ ( الاحزاب: ۵۲ ) ، اللہ نے ( نبی کے لیے ) تمہاری جوان مومن مسلمان عورتیں حلال کر دی ہیں۔ «وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اور وہ ایمان والی عورت بھی اللہ نے حلال کر دی ہیں جو اپنے آپ کو نبی کو پیش کر دے“، اور اسلام کے سوا ہر دین والی عورت …
It was narrated that Tariq bin Shihab said:"A Jewish man came to 'Umar bin Al-Khattab and said: 'O Commander of the Believers! There is a Verse in your Book which you recite; if it had been revealed to us Jews we would have taken that day as a festival.' He said: 'Which Verse is that?' He said: 'This day, I have perfected your religion for you, completed My favor upon you, and have chosen for you Islam as your religion.' 'Umar said: 'I know the place where it was revealed and the day on which it was revealed. It was revealed to the Messenger of Allah [SAW] at 'Arafat, on a Friday
ابو داود نے ہمیں خبر دی، جعفر بن عون سے کہا: ابو عمیس نے ہمیں بتایا، قیس بن مسلم سے، طارق بن شہاب سے کہا: ایک یہودی عمر بن خطاب کے پاس آیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! تمہاری کتاب میں ایک آیت ہے جو تم پڑھتے ہو، اگر ہم یہود پر یہ نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بناتے۔ عمر نے کہا: وہ کون سی آیت ہے؟ انہوں نے کہا: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین بنایا۔ تو عمر نے کہا: میں بخوبی جانتا ہوں وہ جگہ جہاں یہ آیت نازل ہوئی تھی، اور وہ دن جس میں نازل ہوئی۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عرفات میں جمعہ کے دن نازل ہوئی۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ـ وَاسْمُهُ الْجَعْدُ ـ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَّ بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا مَرَّ بِجَنَبَاتِ أُمِّ سُلَيْمٍ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا بِزَيْنَبَ فَقَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ لَوْ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدِيَّةً فَقُلْتُ لَهَا افْعَلِي. فَعَمَدَتْ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَاتَّخَذَتْ حَيْسَةً فِي بُرْمَةٍ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا مَعِي إِلَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لِي " ضَعْهَا ". ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَالَ " ادْعُ لِي رِجَالاً ـ سَمَّاهُمْ ـ …
Narrated Anas bin Malik: "Whenever the Prophet (ﷺ) passed by (my mother Um-Sulaim) he used to enter her and greet her. Anas further said: Once the Prophet (ﷺ) way a bridegroom during his marriage with Zainab, Um Sulaim said to me, "Let us give a gift to Allah's Messenger (ﷺ) ." I said to her, "Do it." So she prepared Haisa (a sweet dish) made from dates, butter and dried yoghurt and she sent it with me to him. I took it to him and he said, "Put it down," and ordered me to call some men whom he named, and to invite whomever I would meet. I did what he ordered me to do, and when I returned, I found the house crowded with people and saw the Prophet (ﷺ) keeping his hand over the Haisa and …
اور ابراہیم بن طہمان نے ابوعثمان جعد بن دینار سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک سے، ابوعثمان کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے سے بنی رفاعہ کی مسجد میں ( جو بصرہ میں ہے ) گزرے۔ میں نے ان سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا آپ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے، ان کو سلام کرتے ( وہ آپ کی رضاعی خالہ ہوتی تھیں ) ۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے۔ آپ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا تو ام سلیم ( میری ماں ) مجھ سے کہنے لگیں اس وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ تحفہ بھیجیں تو اچھا ہے۔ میں نے کہا مناسب ہے۔ انہوں نے کھجور اور گھی اور پنیر ملا کر ایک …
Hadith.5469 - And a confirmation of this is what was narrated by Ismaʿil ibn Abi Ziyad Al-Sakuni from Imam Jafar ibn Muhammad Al-Sadiq (as) from his father, Abu Abdullah Imam Muhammad ibn Ali Al-Baqir (as), that he was asked about a man who dies without leaving behind an heir or any male relative (Aṣabah). Imam (as) said: "He may bequeath his wealth as he wishes among the Muslims, the poor, and the wayfarer."
۵۴۶۹ - اور اس کی تصدیق یہ ہے کہ اسماعیل بن ابی زیاد السکونی نے جعفر بن محمد سے، ان کے باپ علیہ السلام سے نقل کیا ہے: کہ انہ سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جو بغیر وارث اور بغیر عصبے کے مر جائے، انہوں نے فرمایا: "وہ اپنے مال کا وصیت کرے جہاں چاہے مسلمین میں اور مسکینوں میں اور مسافروں میں"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Allah (swt), the Blessed and Exalted, said: "They ask you what has been made lawful for them. Say: Lawful to you are all good things, and what you have taught of hunting animals, trained as hounds, teaching them of what Allah (swt) has taught you. So eat of what they catch for you, and mention the name of Allah (swt) upon it." (Surah Al-Ma'idah 5:4).
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے۔ کہو: تمہارے لیے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو شکاری جانور تم نے سکھائے ہیں - کتوں کی طرح - انہیں سکھاتے ہوئے جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے، تو جو یہ تمہارے لیے پکڑیں اسے کھاؤ اور اس پر اللہ کا نام یاد کرو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallLook, therefore, at the prints of Allah's mercy (in creation): how He quickeneth the earth after her death. Lo! He verily is the Quickener of the Dead, and He is Able to do all things.
Yusuf AliThen contemplate (O man!) the memorials of Allah's Mercy!- how He gives life to the earth after its death: verily the same will give life to the men who are dead: for He has power over all things.
The agreed readingSo look at the traces of God's mercy, at how He gives the earth life after its death, until trees and pasture come up out of what had been dry and barren. He is the One who gives the dead life, and He is able to do everything.
Urduپس اللہ کی رحمت کے آثار پر غور کرو، کہ وہ کیسے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے، یہاں تک کہ خشک اور بنجر زمین سے درخت اور چراگاہیں اگ آتی ہیں۔ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
Arabicفانظر إلى آثار رحمة الله، كيف يُحيي الأرضَ بعد موتها، حتى يخرج منها الشجرُ والكلأ بعد أن كانت جدباء يابسة. إنه لَمُحيي الموتى بهذه القدرة نفسها، وهو على كل شيء قدير.
PickthallAnd if We sent a wind and they beheld it yellow, they verily would still continue in their disbelief.
Yusuf AliAnd if We (but) send a Wind from which they see (their tilth) turn yellow,- behold, they become, thereafter, Ungrateful (Unbelievers)!
The agreed readingAnd if God sent a wind that harmed the crop and they saw it turn yellow, they would carry on after that in their refusing.
Urduاور اگر اللہ ایسی ہوا بھیج دے جو فصل کو نقصان پہنچائے اور وہ اسے زرد پڑتا دیکھ لیں، تو اس کے بعد بھی وہ اپنی ناشکری اور انکار پر ہی قائم رہیں گے، حالانکہ ابھی وہی اسی بارش کی نعمت پر خوش ہو رہے تھے۔
Arabicولئن أرسلنا ريحًا مضرَّة على زرعهم فرأوه قد اصفرَّ بعد اخضراره، لظلُّوا من بعد ذلك يكفرون بنعمة الله، وينسون ما كانوا عليه من الفرح بالغيث قبل قليل.
PickthallFor verily thou (Muhammad) canst not make the dead to hear, nor canst thou make the deaf to hear the call when they have turned to flee.
Yusuf AliSo verily thou canst not make the dead to hear, nor canst thou make the deaf to hear the call, when they show their backs and turn away.
The agreed readingYou cannot make the dead hear, nor make the deaf hear the call once they have turned their backs and gone.
Urduبےشک تم مردوں کو نہیں سنا سکتے، اور نہ ہی بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جبکہ وہ منہ موڑ کر پیٹھ پھیر چکے ہوں، کیونکہ ان کے دل حق کو قبول کرنے کے لیے بند ہو چکے ہیں۔
Arabicفإنك لا تُسمِع الموتى سماعَ إفهامٍ، ولا تُسمِع الصمَّ دعاءك إذا هم ولَّوا مدبرين معرضين، فقلوبهم قد أُغلقت عن قبول الحق كما تُغلَق آذانُ الأصمّ عن سماع النداء.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الآنَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ حَقٌّ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى}"
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "They now realize that what I used to tell them was the truth. "And Allah said, 'Verily! You cannot make the dead to hear (i.e. benefit them, and similarly the disbelievers) nor can you make the deaf hear
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کافروں کو یہ فرمایا تھا کہ میں جو ان سے کہا کرتا تھا اب ان کو معلوم ہوا ہو گا کہ وہ سچ ہے۔ اور اللہ نے سورۃ الروم میں فرمایا «إنك لا تسمع الموتى» اے پیغمبر! تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ فَقَالَ {هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُمُ الآنَ يَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ} فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُمُ الآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ ". ثُمَّ قَرَأَتْ {إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى} حَتَّى قَرَأَتِ الآيَةَ.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) stood at the well of Badr (which contained the corpses of the pagans) and said, "Have you found true what your lord promised you?" Then he further said, "They now hear what I say." This was mentioned before `Aisha and she said, "But the Prophet (ﷺ) said, 'Now they know very well that what I used to tell them was the truth.' Then she recited (the Holy Verse):-- "You cannot make the dead hear... ...till the end of Verse
عثمان نے مجھے بتایا، عبدہ نے ہمیں خبر دی ہشام سے، انہوں نے اپنے باپا سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم قلیب بدر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تم نے پایا جو تمہارے ربّ نے وعدہ دیا تھا صحیح؟ پھر انہوں نے کہا: وہ اب سن رہے ہیں جو میں کہہ رہا ہوں۔ یہ بات عائشہ کو بتائی گئی تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: وہ اب جان گئے کہ جو میں ان سے کہہ رہا تھا وہ حق تھا۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: بے شک تم مردوں کو نہیں سنا سکتے، یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallNor canst thou guide the blind out of their error. Thou canst make none to hear save those who believe in Our revelations so that they surrender (unto Him).
Yusuf AliNor canst thou lead back the blind from their straying: only those wilt thou make to hear, who believe in Our signs and submit (their wills in Islam).
The agreed readingNor can you lead the blind out of the straying they are in. The only ones you make hear, with the hearing that understands and accepts, are those who believe in God's signs, and they are the ones submitting.
Urduاور نہ ہی تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر ہدایت دے سکتے ہو۔ تم صرف انہی لوگوں کو حقیقی معنوں میں سنا سکتے ہو، یعنی سمجھنے اور قبول کرنے والا سننا، جو اللہ کی نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جو مکمل طور پر فرمانبردار ہیں۔
Arabicوما أنت بهادي العُمي عن ضلالتهم لتخرجهم منها إلى طريق الحق. إنما تُسمِع سماعَ فهمٍ وقبولٍ من يؤمن بآياتنا، فهؤلاء هم المسلمون المنقادون لأمر الله حقًّا وصدقًا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الآنَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ حَقٌّ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى}"
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) said, "They now realize that what I used to tell them was the truth. "And Allah said, 'Verily! You cannot make the dead to hear (i.e. benefit them, and similarly the disbelievers) nor can you make the deaf hear
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کافروں کو یہ فرمایا تھا کہ میں جو ان سے کہا کرتا تھا اب ان کو معلوم ہوا ہو گا کہ وہ سچ ہے۔ اور اللہ نے سورۃ الروم میں فرمایا «إنك لا تسمع الموتى» اے پیغمبر! تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ فَقَالَ {هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُمُ الآنَ يَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ} فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُمُ الآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ ". ثُمَّ قَرَأَتْ {إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى} حَتَّى قَرَأَتِ الآيَةَ.
Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) stood at the well of Badr (which contained the corpses of the pagans) and said, "Have you found true what your lord promised you?" Then he further said, "They now hear what I say." This was mentioned before `Aisha and she said, "But the Prophet (ﷺ) said, 'Now they know very well that what I used to tell them was the truth.' Then she recited (the Holy Verse):-- "You cannot make the dead hear... ...till the end of Verse
عثمان نے مجھے بتایا، عبدہ نے ہمیں خبر دی ہشام سے، انہوں نے اپنے باپا سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم قلیب بدر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تم نے پایا جو تمہارے ربّ نے وعدہ دیا تھا صحیح؟ پھر انہوں نے کہا: وہ اب سن رہے ہیں جو میں کہہ رہا ہوں۔ یہ بات عائشہ کو بتائی گئی تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: وہ اب جان گئے کہ جو میں ان سے کہہ رہا تھا وہ حق تھا۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: بے شک تم مردوں کو نہیں سنا سکتے، یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAllah is He Who shaped you out of weakness, then appointed after weakness strength, then, after strength, appointed weakness and grey hair. He createth what He will. He is the Knower, the Mighty.
Yusuf AliIt is Allah Who created you in a state of (helpless) weakness, then gave (you) strength after weakness, then, after strength, gave (you weakness and a hoary head: He creates as He wills, and it is He Who has all knowledge and power.
The agreed readingGod is the One who created you out of weakness: from a poor fluid, and then the weakness of a child who cannot grasp or walk. Then after that weakness He made strength, the strength of youth. Then after strength He made weakness again, and grey hair. He creates what He wills, and He is the Knowing, the Able.
Urduاللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں کمزوری سے پیدا کیا، یعنی ایک حقیر پانی کی بوند سے، پھر بچپن کی کمزوری سے جس میں بچہ کچھ پکڑنے اور چلنے کے قابل نہیں ہوتا۔ پھر اس کمزوری کے بعد اس نے طاقت عطا کی، یعنی جوانی کی طاقت۔ پھر طاقت کے بعد دوبارہ کمزوری اور بڑھاپا لے آیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور وہ سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔
Arabicاللهُ الذي خلقكم من ضَعفٍ، أي من ماءٍ مهينٍ، ثم جعل من بعد ضعف الطفولة قوةَ الشباب. ثم جعل من بعد تلك القوة ضعفًا وشيبةً في الكبر. يخلق اللهُ ما يشاء من هذه الأطوار، وهو العليمُ بخلقه، القديرُ على تصريفهم فيها.
PickthallAnd on the day when the Hour riseth the guilty will vow that they did tarry but an hour - thus were they ever deceived.
Yusuf AliOn the Day that the Hour (of Reckoning) will be established, the transgressors will swear that they tarried not but an hour: thus were they used to being deluded!
The agreed readingAnd on the Day the Hour rises the guilty will swear they stayed no more than an hour. They were turned away from the truth in life, and they are turned from it still.
Urduاور جس دن قیامت قائم ہوگی، مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ جس طرح وہ دنیا میں حق سے پھیرے جاتے تھے، اسی طرح آج بھی وہ حق سے پھیر دیے گئے ہیں اور غلط اندازہ لگا رہے ہیں۔
Arabicويوم تقوم الساعةُ يُقسِم المجرمون أنهم ما لبثوا في الدنيا إلا ساعةً من نهار. وكما كانوا يُصرَفون عن الحقّ في حياتهم الدنيا، كذلك يُصرَفون عنه اليوم فيكذبون في تقديرهم لمدة لبثهم.
PickthallBut those to whom knowledge and faith are given will say: The truth is, ye have tarried, by Allah's decree, until the Day of Resurrection. This is the Day of Resurrection, but ye used not to know.
Yusuf AliBut those endued with knowledge and faith will say: "Indeed ye did tarry, within Allah's Decree, to the Day of Resurrection, and this is the Day of Resurrection: but ye - ye were not aware!"
The agreed readingAnd those who were given knowledge and faith, the angels and others, will say: you stayed, by what God had written in His knowledge, until the Day of Raising. And this is the Day of Raising, but you would not know it.
Urduاور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا، یعنی فرشتے اور دوسرے اہلِ علم، وہ کہیں گے کہ اللہ کے علم کے مطابق تم اس دن تک ٹھہرے رہے ہو جسے قیامت کا دن کہا جاتا ہے، اور یہی وہ قیامت کا دن ہے، لیکن تمہیں اس کا علم ہی نہیں تھا۔
Arabicوقال الذين أوتوا العلمَ والإيمانَ، من الملائكة وغيرهم: لقد لبثتم بحسب ما كتبه اللهُ في علمه إلى يوم البعث، فهذا هو يوم البعث الذي كنتم تُنكرونه، ولكنكم كنتم لا تعلمون أنه واقعٌ لا محالة.
PickthallIn that day their excuses will not profit those who did injustice, nor will they be allowed to make amends.
Yusuf AliSo on that Day no excuse of theirs will avail the transgressors, nor will they be invited (then) to seek grace (by repentance).
The agreed readingSo on that Day no excuse offered by those who did wrong will do them any good, and they will not be asked to put things right, for the time of putting right is over.
Urduپس اس دن ظلم کرنے والوں کا کوئی عذر انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا، اور نہ ہی ان سے یہ کہا جائے گا کہ اپنی حالت درست کر لو، کیونکہ اصلاح اور توبہ کا وقت اب گزر چکا ہوگا۔
Arabicفيومئذٍ لا ينفع الذين ظلموا معذرتُهم مهما اعتذروا، ولا يُطلَب منهم أن يُرضوا ربَّهم بالتوبة، إذ قد انقضى وقتُ العمل والإصلاح ولم يبقَ إلا الجزاء.
PickthallVerily We have coined for mankind in this Qur'an all kinds of similitudes; and indeed if thou camest unto them with a miracle, those who disbelieve would verily exclaim: Ye are but tricksters!
Yusuf Aliverily We have propounded for men, in this Qur'an every kind of Parable: But if thou bring to them any Sign, the Unbelievers are sure to say, "Ye do nothing but talk vanities."
The agreed readingAnd God has set out for people in this Qur'an every kind of likeness, to rouse them. And if you brought them a sign, of the kind given to those before you, those who refuse would say: you are nothing but people making things up.
Urduاور اللہ نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے تاکہ وہ چوکنا ہو جائیں۔ اور اگر تم ان کے پاس کوئی ایسی نشانی لے آؤ جیسی پہلے لوگوں کو دی گئی تھیں، تب بھی انکار کرنے والے یہی کہیں گے کہ تم لوگ محض جھوٹی باتیں گھڑنے والے ہو۔
Arabicولقد ضربنا للناس في هذا القرآن من كلِّ مثلٍ لينتبهوا ويعتبروا. ولئن جئتَهم بآيةٍ من نوع ما أُوتي مَن قبلَك، ليقولنَّ الذين كفروا: ما أنتم إلا مبطلون تختلقون هذا الكلام من عند أنفسكم.
PickthallThus doth Allah seal the hearts of those who know not.
Yusuf AliThus does Allah seal up the hearts of those who understand not.
The agreed readingSo God seals the hearts of those who do not know His oneness, as He has sealed the hearts of these.
Urduاسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو اس کی توحید کو نہیں جانتے، جیسا کہ اس نے ان لوگوں کے دلوں پر بھی مہر لگا دی ہے جو ابھی اسی انکار پر قائم رہے ہیں۔
Arabicكذلك يطبع اللهُ على قلوب الذين لا يعلمون توحيدَه ولا يُدركون حقيقته حقَّ الإدراك، تمامًا كما طبع من قبلُ على قلوب هؤلاء المعرضين المكذبين بآياته.
PickthallSo have patience (O Muhammad)! Allah's promise is the very truth, and let not those who have no certainty make thee impatient.
Yusuf AliSo patiently persevere: for verily the promise of Allah is true: nor let those shake thy firmness, who have (themselves) no certainty of faith.
The agreed readingSo be patient. God's promise is true. And do not let those who have no certainty about the raising unsettle you into lightness or haste, and do not give up your patience.
Urduپس صبر کرو، بےشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور جو لوگ قیامت کے بارے میں یقین نہیں رکھتے، وہ تمہیں بےصبری یا جلد بازی کی طرف نہ لے جائیں، اور اپنے صبر کو کبھی ترک نہ کرو۔
Arabicفاصبر يا محمد، إن وعد الله بنصرك حقٌّ لا ريب فيه. ولا يستخفَّنَّك الذين لا يوقنون بالبعث فيحملوك على الطيش أو التسرُّع، ولا تدَعْ صبرَك مهما طال بك الأذى.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 5 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة7 reports cited here — 5 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
The greatest right of God against you is that you worship Him without associating anything with Him. When you do that with sincerity (ikhlas), He has made it binding upon Himself to give you sufficiency in the affair of this world and the next.
تو أَمَّا حَقُّ اللهِ الأَكْبَرُ فَإنَّكَ تَعْبُدُهُ - اللہ کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ تو جب تم اس کو بإخلاص کے ساتھ کرو تو اللہ نے اپنے اوپر لازم کیا ہے کہ وہ تمہیں دنیا اور آخرت کے امور میں کفایت دے اور تمہارے لیے محفوظ رکھے جو تم دونوں سے پسند کرتے ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated `Abdullah:When the Verse:-- 'Those who believe and mix not their belief with wrong.' was revealed, the Muslims felt it very hard on them and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who amongst us does not do wrong to himself?" He replied, "The Verse does not mean this. But that (wrong) means to associate others in worship to Allah: Don't you listen to what Luqman said to his son when he was advising him," O my son! Join not others in worship with Allah. Verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اور انہوں نے عرض کیا ہم میں کون ایسا ہو سکتا ہے جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اسے نصیحت کرتے ہوئے کہ اے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک بڑا ہی ظلم ہے۔
Narrated Abu Umamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the (slave) female singers, not purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trading in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah." [He said:] There is narration about this from 'Umar bin Al-Khattab. [Abu 'Eisa said:] We only know of the Hadith of Abu Umamah, like this, from this route. Some of the people of knowledge have criticized 'Ali bin Yazid (one of the narrators) and graded him weak, and he is from Ash-Sham
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“ ( لقمان: ۶ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Umamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the female singers, nor purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trade in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: 'And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah (31:)
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے“، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں“ ( لقمان: ۶ ) ، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔
Abu Hurairah, may Allah be pleased with them, said that:Allah's Messenger said: "They said: 'O Messenger of Allah, whom should I treat kindly?' He said: 'Your mother.' He said: 'Then who?' He said :'Your mother." He said: 'Then who?' He said: 'Your father'. He said : 'Then who?' He said: 'The next closest and the next closest
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ أَبُوكَ ". وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ مِثْلَهُ.
Narrated Abu Huraira:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is more entitled to be treated with the best companionship by me?" The Prophet (ﷺ) said, "Your mother." The man said. "Who is next?" The Prophet said, "Your mother." The man further said, "Who is next?" The Prophet (ﷺ) said, "Your mother." The man asked for the fourth time, "Who is next?" The Prophet (ﷺ) said, "Your father
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ ہے۔ ابن شبرمہ اور یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوزرعہ نے اسی کے مطابق بیان کیا۔
أما حَقُّ أُمِّكَ، فَأَنْ تَعْلَمَ أَنَّهَا حَمَلَتكَ حَيْثُ لا يحتمل أحدٌ أحداَ، وأعْطَتْكَ مِن ثَمْرَةِ قَلبِها ما لا يُعطي أحدٌ أحداَ، ووَقَتْكَ بِجَمِيعِ جَوارحِها، ولَمْ تبال أن تجوع وتطعمك، وتعطش وتسقيك، وتعرى وتكسوك، وتضحى وتظلك، وتهجر النوم لأجلك، ووَقَتْكَ الحَرَّ والبَردَ، لتكون لها، فانك لا تُطيق شُكرها إلّا بِعَونِ اللهِ وتَوفيقه.
The right of your mother is that you know that she carried you where no one carries anyone, she gave to you of the fruit of her heart that which no one gives to anyone, and she protected you with all her organs. She did not care if she went hungry as long as you ate, if she was thirsty as long as you drank, if she was naked as long as you were clothed, if she was in the sun as long as you were in the shade. She gave up sleep for your sake, she protected you from heat and cold, all in order that you might belong to her. You will not be able to show her gratitude, unless through God's help and giving success. [1]
أما حق أمك فأن تعلم کہ اس نے تمہیں وہاں حمل کیا جہاں کوئی کسی کو حمل نہیں سکتا، اور اس نے تمہیں اپنے دل کے ثمرة سے دیا جو کوئی دوسرے کو نہیں دے سکتا، اور اپنے تمام جوارح سے تمہاری وقاية کی۔ اسے پروا نہیں تھی کہ وہ جوع میں ہو جب تم کھاتے ہو، عطش میں رہے جب تم پیتے ہو، عری میں رہے جب تم کپڑے پہنتے ہو، ضحی میں رہے جب تم سائے میں ہو، نیند قربان کی تمہارے لیے، حر اور برد سے تمہاری حفاظت کی۔ تمہیں اللہ کی مدد اور توفيق کے بغیر اس کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا