The agreed readingAlif Lam Mim. The letters are recited as letters, and their certain meaning is left with God.
Urduسورت کا آغاز حروفِ مقطعات الٓمٓ سے ہوتا ہے، جو اپنے ناموں کے ساتھ الگ الگ پڑھے جاتے ہیں۔ قرآن میں ایسے حروف اور مقامات پر بھی آئے ہیں، اور ان کا حقیقی و یقینی مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
Arabicالٓمٓ حروف مقطعة تتلى بأسمائها كما هي، وقد تقدم الكلام على نظائرها من الحروف المقطعة في غير هذا الموضع، ومراد الله منها أمر لا يُعرف على وجه اليقين، وإنما علمه عند الله وحده.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Umamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the (slave) female singers, not purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trading in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah." [He said:] There is narration about this from 'Umar bin Al-Khattab. [Abu 'Eisa said:] We only know of the Hadith of Abu Umamah, like this, from this route. Some of the people of knowledge have criticized 'Ali bin Yazid (one of the narrators) and graded him weak, and he is from Ash-Sham
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“ ( لقمان: ۶ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Umamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the female singers, nor purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trade in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: 'And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah (31:)
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے“، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں“ ( لقمان: ۶ ) ، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔
PickthallThese are revelations of the wise Scripture,
Yusuf AliThese are Verses of the Wise Book,-
The agreed readingThese are the signs of the Book: a Book that carries wisdom, and whose signs are set firm.
Urduیہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حکمت والی ہے، یعنی قرآنِ کریم، جس کی ہر آیت مضبوط اور محکم ہے، اس میں نہ کوئی خلل ہے نہ کجی، بلکہ حکمت اور ہدایت اسی سے پھوٹتی ہے۔
Arabicهذه آيات الكتاب الحكيم، أي القرآن ذي الحكمة البالغة، وسمي حكيما لإحكام آياته وحكمة ما فيه من الهدى والبيان، فآياته محكمة ثابتة لا يعتريها خلل ولا اضطراب.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 2 من كتب أهل السنة، 4 من كتب الشيعة6 reports cited here — 2 Sunnī, 4 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 4 شیعہ کتب سے
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from al-Husayn ibn Sa‘id from certain persons of our people from Sama‘ah from abu Basir who has said the following: “Abu ’Abd Allah (a.s.), has said, ‘Qunut (supplication after recitation) on Friday is in the first Rak‘at after recitation in which you can read, “No one deserves to be worshipped besides Allah, the Forbearing, the Honorable. No one deserves to be worshipped besides Allah, most High, most Great. No one deserves to be worshipped besides Allah who is the Lord of seven heavens, the seven earths, all that is in them and between them and the Lord of the great throne. All praise belongs to Allah, Cherisher of the worlds. O …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، الحسین بن سعید سے، بعض اصحاب سے، سمئہ سے، ابو بصیر سے، ابو عبد الله علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: القنوت جمعہ کے دن کی قنوت ہے پہلی رکعت میں قرآن کے بعد۔ تم قنوت میں یہ کہو: لا الہ الا الله الحلیم الکریم۔ لا الہ الا الله العلی العظیم۔ لا الہ الا الله رب السموات السبع ورب الارضین السبع وما فیہن وما بینہن ورب العرش العظیم۔ والحمد لله رب العالمین۔ اے الله! محمد پر درود بھیج جیسے تو نے ہمیں ان کے ذریعے ہدایت دی۔ اے الله! محمد پر درود بھیج جیسے تو نے ہمیں ان کے ذریعے عزت دی۔ اے الله! ہمیں ان میں سے بنا جن کو تو نے اپنے دین کے لیے منتخب کیا ہے اور اپنی جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اے الله! ہماری دلوں کو اس کے بعد ٹیڑھا مت کر کہ تو نے ہمیں ہدایت دے دی ہے، اور …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Umamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the (slave) female singers, not purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trading in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah." [He said:] There is narration about this from 'Umar bin Al-Khattab. [Abu 'Eisa said:] We only know of the Hadith of Abu Umamah, like this, from this route. Some of the people of knowledge have criticized 'Ali bin Yazid (one of the narrators) and graded him weak, and he is from Ash-Sham
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“ ( لقمان: ۶ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Umamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the female singers, nor purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trade in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: 'And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah (31:)
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے“، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں“ ( لقمان: ۶ ) ، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from certain persons of his people from abu Hamzah who has said the following: “Abu Ja’far (a.s.), has said, ‘Allah, Most Holy, Most blessed, says, “Any servant whom I test by an affliction and who does not complain about it before any of his visitors, I most certainly change his flesh into a better flesh and his blood into a better blood. If, however, I take him (away) from this life, I take him into My mercy but if he lives he lives free of sin.’””
۲۔ علي بن إبراهيم نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے بعض اصحاب سے، ابو حمزہ سے، ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کی، انہوں نے کہا: اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: جو بندہ میں اسے مصیبت سے آزمائوں اور وہ اپنے عیادت کرنے والوں سے شکایت نہ کرے تو میں اس کے گوشت کو بہتر گوشت سے بدل دوں اور اس کے خون کو بہتر خون سے بدل دوں۔ اگر میں اسے قبض کر لوں تو اسے اپنی رحمت میں قبض کروں، اور اگر وہ زندہ رہے تو زندہ رہے اور اس کے لیے کوئی گناہ نہیں ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
3. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Jamil ibn Salih who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ’Neglecting dinner is senility, thus it is necessary for an aged man to go to sleep when his stomach is full of food.’”
علي بن إبراهيم نے اپنے والد سے، ابن أبي عمير سے، جميل بن صالح سے، ابو عبد الله علیہ السلام سے روایت کی، انہوں نے کہا: رات کا کھانا ترک کرنا بزرگی کی علامت ہے، اور آدمی کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ بوڑھا ہو تو اپنے پیٹ کو کھانے سے بھرے ہوئے ہی سوئے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn ‘Isa from ‘Uthman ibn ‘Isa from Sama‘ah ibn Mehran who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘If one knows the kind of mistake he has made, he completes it, and Sajdah (prostration) for mistake is not necessary for him. The Messenger of Allah performed al-Dhuhr Salah (prayer) with people as two Rak‘at, then he mistakenly said Salam (the phrase of offering greeting of peace). Dhu al-Shamalayn asked him, “O Messenger of Allah, is anything revealed about Salah (prayer)?” The Messenger of Allah asked, “Why is that?” He said that it is because you performed two Rak‘at. The Messenger of Allah then asked others, “Do …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے عثمان بن عیسیٰ سے، انہوں نے سماعہ بن مہران سے روایت کی۔ سماعہ نے کہا: ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے فرمایا: جو اپنی سہو (بھولے ہونے) کو یاد رکھے اور اسے مکمل کرے تو اس پر سجدے سہو نہیں ہیں۔ بے شک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے لوگوں کے ساتھ ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر سہو کیے اور سلام دے دیے۔ ذو الشمالین نے آپ سے کہا: اے رسول اللہ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نئی وحی آگئی؟ آپ نے فرمایا: یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: بے شک آپ نے صرف دو رکعت پڑھے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ نماز مکمل کی اور ان کے ساتھ سجدے سہو کیے۔ راوی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Yusuf AliA Guide and a Mercy to the Doers of Good,-
The agreed readingA guidance and a mercy for those who do good: a showing of the way, and a favour to those who obey.
Urduیہ قرآن نیکی کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے، یعنی جو لوگ نیکی کے کام کرتے ہیں اور اللہ کے نازل کردہ احکام پر عمل کرتے ہیں، ان کے لیے راستہ دکھانے والا اور فضل و کرم کا ذریعہ ہے۔
Arabicهذا القرآن هدى يهدي إلى الحق، ورحمة من الله لمن أحسن العمل بما أنزل، والمحسنون هم الفاعلون للحسنات الذين أقاموا الصلاة وآتوا الزكاة واتبعوا رسول الله فيما أمر به.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Umamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the (slave) female singers, not purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trading in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah." [He said:] There is narration about this from 'Umar bin Al-Khattab. [Abu 'Eisa said:] We only know of the Hadith of Abu Umamah, like this, from this route. Some of the people of knowledge have criticized 'Ali bin Yazid (one of the narrators) and graded him weak, and he is from Ash-Sham
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“ ( لقمان: ۶ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Umamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the female singers, nor purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trade in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: 'And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah (31:)
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے“، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں“ ( لقمان: ۶ ) ، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔
PickthallThose who establish worship and pay the poor-due and have sure faith in the Hereafter.
Yusuf AliThose who establish regular Prayer, and give regular Charity, and have (in their hearts) the assurance of the Hereafter.
The agreed readingThose who establish the prayer, give the zakat, and are certain of the life to come. The three are named out of everything that doing good covers, for the weight that is put on them.
Urduیہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کے وقت پر پوری طرح قائم کرتے ہیں، فرض زکاۃ اس کے حق داروں کو ادا کرتے ہیں، اور آخرت کے دن اور اٹھائے جانے پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ ان تین باتوں کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ نیکی کے سارے کاموں میں سب سے زیادہ وزن رکھتی ہیں۔
Arabicهؤلاء المحسنون هم الذين يؤدون الصلاة كاملة في أوقاتها، ويؤتون الزكاة المفروضة لمستحقيها، وهم بالبعث والجزاء في الدار الآخرة يوقنون يقينا لا شك فيه، وإنما ذُكرت هذه الثلاث من بين كل ما يشمله الإحسان لعظيم وزنها وشأنها.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Umamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the (slave) female singers, not purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trading in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah." [He said:] There is narration about this from 'Umar bin Al-Khattab. [Abu 'Eisa said:] We only know of the Hadith of Abu Umamah, like this, from this route. Some of the people of knowledge have criticized 'Ali bin Yazid (one of the narrators) and graded him weak, and he is from Ash-Sham
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“ ( لقمان: ۶ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Umamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the female singers, nor purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trade in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: 'And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah (31:)
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے“، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں“ ( لقمان: ۶ ) ، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔
PickthallSuch have guidance from their Lord. Such are the successful.
Yusuf AliThese are on (true) guidance from their Lord: and these are the ones who will prosper.
The agreed readingThose are the ones on guidance from their Lord, and those are the ones who succeed, having gathered both the true belief and the deed that goes with it.
Urduیہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر قائم ہیں، اور یہی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونے والے ہیں، کیونکہ انہوں نے سچے ایمان کو اس کے مطابق عمل کے ساتھ جمع کر لیا، اور فلاح صرف انہی دونوں کے یکجا ہونے سے ملتی ہے۔
Arabicأولئك الموصوفون بهذه الصفات هم أهل الهدى من ربهم، وأولئك هم الفائزون حقا في الدنيا والآخرة، لأنهم جمعوا بين الإيمان الصادق والعمل الذي يصدقه، ولا فلاح إلا بجمع الاثنين معا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Umamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the (slave) female singers, not purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trading in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah." [He said:] There is narration about this from 'Umar bin Al-Khattab. [Abu 'Eisa said:] We only know of the Hadith of Abu Umamah, like this, from this route. Some of the people of knowledge have criticized 'Ali bin Yazid (one of the narrators) and graded him weak, and he is from Ash-Sham
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“ ( لقمان: ۶ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Umamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the female singers, nor purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trade in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: 'And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah (31:)
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے“، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں“ ( لقمان: ۶ ) ، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔
PickthallAnd of mankind is he who payeth for mere pastime of discourse, that he may mislead from Allah's way without knowledge, and maketh it the butt of mockery. For such there is a shameful doom.
Yusuf AliBut there are, among men, those who purchase idle tales, without knowledge (or meaning), to mislead (men) from the Path of Allah and throw ridicule (on the Path): for such there will be a Humiliating Penalty.
The agreed readingAnd among people is one who buys the diversion of talk: speech with no root to it, which turns a person from what matters. He does it to lead others off God's road without any knowledge, and to make a mockery of that road. For such there is a punishment that brings them low.
Urduلوگوں میں ایک وہ شخص بھی ہے جو بےہودہ اور لغو باتوں کو پسند کرتا اور اپناتا ہے، ایسی باتیں جن کی کوئی اصل و بنیاد نہیں اور جو دل کو اصل مقصد سے غافل کر دیتی ہیں۔ وہ ان کے ذریعے لوگوں کو بغیر علم کے اللہ کے راستے سے بھٹکا دیتا اور اس راستے کا مذاق اڑاتا ہے، تو ایسے شخص کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
Arabicومن الناس من يختار لهو الحديث ويرغب فيه، وهو كل كلام باطل لا أصل له يلهي القلب عما يعنيه، فيصرف به الناس عن طريق الهدى إلى طريق الهوى بغير علم، ويتخذ آيات الله هزوا وسخرية، فأولئك لهم عذاب يهينهم ويخزيهم.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 4 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة5 reports cited here — 4 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
3. It is narrated from him (narrator of the Hadith above) from ‘Uthman ibn ‘Isa from ibn Muskan from Muhammad ibn Muslim from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, has created certain locks for evil. He has made wine the key to those locks. Lying is more evil than wine.”
عنہ عن عثمان بن عيسیٰ ابن مسکان سے محمد بن مسلم سے ابو جعفر علیہ السلام سے روایت ہے۔ کہا: إن الله عز وجل نے شر کے لیے تالے بنائے اور ان تالوں کی کلیدیں الشراب کو بنایا۔ لیکن الکذب الشراب سے زیادہ برا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Umamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the (slave) female singers, not purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trading in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah." [He said:] There is narration about this from 'Umar bin Al-Khattab. [Abu 'Eisa said:] We only know of the Hadith of Abu Umamah, like this, from this route. Some of the people of knowledge have criticized 'Ali bin Yazid (one of the narrators) and graded him weak, and he is from Ash-Sham
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“ ( لقمان: ۶ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Umamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the female singers, nor purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trade in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: 'And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah (31:)
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے“، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں“ ( لقمان: ۶ ) ، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔
Abu Umamah narrated:That `Umar bin Al-Khattab [may Allah be pleased with him] wore a new garment and said: “All praise is due to Allah who clothed me with what I may cover my `Awrah, and what I may beautify myself with in my life (Al-ḥamdulillāh, alladhī kasānī mā uwārī bihī `awratī, wa atajammalu bihī fī ḥayātī).” Then he said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: ‘Whoever wears a new garment and then says: “Allah praise is due to Allah who clothed me with what I may cover my `Awrah and what I may beautify myself with in my life (Al-ḥamdulillāh, alladhī kasānī mā uwārī bihī `awratī, wa atajammalu bihī fī ḥayātī)” and then he takes the garment that has worn out and gives it in …
ابوامامہ الباہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں حسن و جمال پیدا کرتا ہوں“، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» پھر اس نے اپنا پرانا ( اتارا ہوا ) کپڑا لیا اور اسے صدقہ میں دے دیا، تو وہ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے گا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
It was narrated that Abu Umamah said:"The Messenger of Allah said: 'You must acquire this knowledge before it is taken away, and its taking away means that it will be lifted up.' He joined his middle finger and the one that next to the thumb like this, and said: 'The scholar and the seeker of knowledge will share the reward, and there is no good in the rest of the people
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس علم دین کو اس کے قبض کیے جانے سے پہلے حاصل کر لو، اور اس کا قبض کیا جانا یہ ہے کہ اسے اٹھا لیا جائے ، پھر آپ نے بیچ والی اور شہادت کی انگلی دونوں کو ملایا، اور فرمایا: عالم اور متعلم ( سیکھنے اور سکھانے والے ) دونوں ثواب میں شریک ہیں، اور باقی لوگوں میں کوئی خیر نہیں ہے ۔
PickthallAnd when Our revelations are recited unto him he turneth away in pride as if he heard them not, as if there were a deafness in his ears. So give him tidings of a painful doom.
Yusuf AliWhen Our Signs are rehearsed to such a one, he turns away in arrogance, as if he heard them not, as if there were deafness in both his ears: announce to him a grievous Penalty.
The agreed readingAnd when God's signs are recited to him he turns away in pride, as if he had not heard them, as if there were a weight in his ears keeping the sound out. So give him the news of a painful punishment, news given in mockery.
Urduاور جب اس کے سامنے اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ تکبر کے ساتھ منہ پھیر لیتا ہے، گویا اس نے سنی ہی نہیں، جیسے اس کے کانوں میں کوئی بوجھ ہو جو آواز کو اندر جانے ہی نہ دے۔ تو اسے دردناک عذاب کی خبر سنا دو، ایسی خبر جو مذاق کے انداز میں دی جائے۔
Arabicوإذا تليت عليه آيات الله أعرض متكبرا، وتكبر عن سماعها وكأنه لم يسمعها أصلا، وكأن في أذنيه ثقلا وصمما يمنعه من الانتفاع بها، فبشره بعذاب مؤلم موجع، وهي بشارة على سبيل السخرية والاستهزاء لا التكريم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 5 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة7 reports cited here — 5 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
11. Al-Husayn ibn Muhammad has narrated from Mu‘alla’ ibn Muhammad from al-Washsha’ from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “I once heard abu ‘Abd Allah (a.s.), saying, ‘Allah, most Majestic, most Glorious, has chosen something from everything and from camels, He has chosen she-camels and from sheep He has chosen ewes.’”
۱۱۔ الحسين بن محمد نے معلى بن محمد سے، الوشاء سے، عبد الله بن سنان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابو عبد الله علیہ السلام کو سنا، وہ کہتے تھے: اللہ عزّ وجل نے ہر چیز سے ایک چیز منتخب کی ہے، اونٹوں سے اونٹنی کو منتخب کیا اور بھیڑوں سے مادہ بھیڑ کو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Umamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the (slave) female singers, not purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trading in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah." [He said:] There is narration about this from 'Umar bin Al-Khattab. [Abu 'Eisa said:] We only know of the Hadith of Abu Umamah, like this, from this route. Some of the people of knowledge have criticized 'Ali bin Yazid (one of the narrators) and graded him weak, and he is from Ash-Sham
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“ ( لقمان: ۶ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Umamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the female singers, nor purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trade in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: 'And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah (31:)
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے“، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں“ ( لقمان: ۶ ) ، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔
Narrated `Abdullah:When the Verse:-- 'Those who believe and mix not their belief with wrong.' was revealed, the Muslims felt it very hard on them and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who amongst us does not do wrong to himself?" He replied, "The Verse does not mean this. But that (wrong) means to associate others in worship to Allah: Don't you listen to what Luqman said to his son when he was advising him," O my son! Join not others in worship with Allah. Verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اور انہوں نے عرض کیا ہم میں کون ایسا ہو سکتا ہے جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اسے نصیحت کرتے ہوئے کہ اے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک بڑا ہی ظلم ہے۔
Abu Hurairah, may Allah be pleased with them, said that:Allah's Messenger said: "They said: 'O Messenger of Allah, whom should I treat kindly?' He said: 'Your mother.' He said: 'Then who?' He said :'Your mother." He said: 'Then who?' He said: 'Your father'. He said : 'Then who?' He said: 'The next closest and the next closest
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں ۔
Abu Umamah narrated:That `Umar bin Al-Khattab [may Allah be pleased with him] wore a new garment and said: “All praise is due to Allah who clothed me with what I may cover my `Awrah, and what I may beautify myself with in my life (Al-ḥamdulillāh, alladhī kasānī mā uwārī bihī `awratī, wa atajammalu bihī fī ḥayātī).” Then he said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: ‘Whoever wears a new garment and then says: “Allah praise is due to Allah who clothed me with what I may cover my `Awrah and what I may beautify myself with in my life (Al-ḥamdulillāh, alladhī kasānī mā uwārī bihī `awratī, wa atajammalu bihī fī ḥayātī)” and then he takes the garment that has worn out and gives it in …
ابوامامہ الباہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں حسن و جمال پیدا کرتا ہوں“، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» پھر اس نے اپنا پرانا ( اتارا ہوا ) کپڑا لیا اور اسے صدقہ میں دے دیا، تو وہ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے گا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
3. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from his father from fadalah from Rifa‘ah who has said the following: “I once heard abu ‘Abd Allah (a.s.), saying, ‘When Allah, most Blessed, most High, granted good health to Ayyub (a.s.), he looked to the Israelites who had their plantations. He raised his eyes to the sky and said, ‘O Lord, my Master, this is Your slave Ayyub who was in suffering and You granted him good health but he does not have any plantation. These are people of banu Israel who have their plantations.’ Allah, most Majestic, most Glorious, sent him revelation that said, ‘Take a handful from you rosary beads and use it as seed .’ His rosary …
عدة من اصحابنا نے احمد بن محمد بن خالد سے، ان کے باپا سے، فضالة سے، رفاعة سے روایت کی، کہا: میں نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) کو کہتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ جب ایوب (علیہ السلام) کو عافیت دے دی، تو اس نے بنی اسرائیل کو دیکھا کہ وہ بوئے بو رہے ہیں، تو اس نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا: اے میرے خدا اور میرے سیاہی! تمہارا بندہ ایوب جو مبتلا تھا، انہیں عافیت دے دی، اور انہوں نے کوئی بوا نہ بویا، اور یہ بنی اسرائیل ہیں جن کے پاس کھیت ہیں۔ تو اللہ عزّ وجلّ نے اس کی طرف وحی کی: اے ایوب، اپنے تسبیح سے ایک مٹھی لے اور اسے بو۔ اور اس کی تسبیح میں نمک تھی۔ تو ایوب (علیہ السلام) نے اس سے ایک مٹھی لی اور اسے بویا، تو عدس نکلی، اور تم اسے چنے کا نام دیتے ہو، اور ہم اسے عدس کہتے ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallLo! those who believe and do good works, for them are the gardens of delight,
Yusuf AliFor those who believe and work righteous deeds, there will be Gardens of Bliss,-
The agreed readingThose who believe and do what is right will have gardens of delight, where every kind of enjoyment is theirs.
Urduجو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کے لیے نعمتوں سے بھرے باغات ہیں، جن میں ہر طرح کی راحت اور خوشی خاص طور پر انہی کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔
Arabicلما ذكر الله عذاب من أعرض عن آياته، ذكر بعده نعيم من آمن به وبرسوله وعمل الصالحات مما أُمر به، فأولئك لهم نعيم مقيم في الجنات فيها كل ما تشتهيه النفس من ألوان النعيم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
و ما كان فيه عن حفص بن غياث فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن أبي عبد اللّه، عن أبيه، عن حفص بن غياث. و رويته عن عليّ بن أحمد بن موسى- رحمه اللّه- عن محمّد بن أبي عبد اللّه، عن محمّد بن أبي بشير قال: حدّثنا الحسين بن الهيثم قال: حدّثنا سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث. و رويته عن أبي- رحمه اللّه- عن سعد بن عبد اللّه، عن القاسم بن محمّد الاصبهانيّ، عن سليمان بن داود المنقريّ، عن حفص بن غياث النخعيّ القاضي.
Everything in this book that is narrated from Hafs ibn Ghayath has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ahmad ibn Abi Abdullah, from his father, from Hafs ibn Ghayath. I have also narrated it from Ali ibn Ahmad ibn Musa - may Allah (swt) have mercy on him - from Muhammad ibn Abi Abdullah, from Muhammad ibn Abi Bashir, who said: Al-Husayn ibn Al-Haytham narrated to us, saying: Sulayman ibn Dawud Al-Munqari narrated to us, from Hafs ibn Ghayath. Additionally, I have narrated it from my father - may Allah (swt) have mercy on him - from Sa'd ibn Abdullah, from Al-Qasim ibn Muhammad Al-Isfahani, from Sulayman ibn Dawud …
اور جو کچھ اس میں حفص بن غیاث کے ذریعے ہے، تو میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں خوش رکھے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، احمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، ان کے والد کے ذریعے، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے علی بن احمد بن موسیٰ سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - محمد بن ابی عبد الله کے ذریعے، محمد بن ابی بشیر کے ذریعے۔ انہوں نے کہا: ہمیں الحسین بن الہیثم نے حدیث دی، کہا: ہمیں سليمان بن داود المنقری نے حدیث دی، حفص بن غیاث سے۔ اور میں نے اسے اپنے والد سے روایت کیا ہے - الله انہیں رحم کرے - سعد بن عبد الله کے ذریعے، القاسم بن محمد الاصبهاني کے ذریعے، سليمان بن داود المنقری کے ذریعے، حفص بن غیاث النخعي القاضي سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWherein they will abide. It is a promise of Allah in truth. He is the Mighty, the Wise.
Yusuf AliTo dwell therein. The promise of Allah is true: and He is Exalted in Power, Wise.
The agreed readingStaying in them, for their staying is settled from the moment they enter. It is God's promise, and truly given. He is the Mighty, whom nothing overcomes and nothing keeps from carrying out what He has said, and the Wise, who does only what wisdom calls for.
Urduوہ ہمیشہ ہمیشہ انہی باغوں میں رہیں گے، داخل ہوتے ہی ان کا ہمیشہ رہنا طے ہو جائے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور سچا وعدہ ہے، اللہ کے وعدے کبھی نہیں ٹلتے۔ وہ زبردست ہے جسے کوئی چیز اپنے کہے سے روک نہیں سکتی، اور حکمت والا ہے جو ہر کام حکمت ہی سے کرتا ہے۔
Arabicخالدين فيها، أي دائمين لا يخرجون منها أبدا، وذلك هو الوعد الذي وعدهم الله به وحقه حقا لا يتخلف، وهو العزيز الذي لا يغلبه شيء ولا يمنعه مانع من إنجاز وعده، والحكيم الذي لا يفعل شيئا إلا عن حكمة بالغة.
PickthallHe hath created the heavens without supports that ye can see, and hath cast into the earth firm hills, so that it quake not with you; and He hath dispersed therein all kinds of beasts. And We send down water from the sky and We cause (plants) of every goodly kind to grow therein.
Yusuf AliHe created the heavens without any pillars that ye can see; He set on the earth mountains standing firm, lest it should shake with you; and He scattered through it beasts of all kinds. We send down rain from the sky, and produce on the earth every kind of noble creature, in pairs.
The agreed readingHe created the heavens with no pillars that you can see, and set firm mountains into the earth so that it should not sway under you, and scattered every kind of creature over it. And God sent water down from the sky and made every generous kind grow in it.
Urduاللہ ہی نے آسمانوں کو ایسے پیدا کیا کہ تم انہیں سہارا دینے والے کوئی ستون دیکھتے نہیں، اور زمین میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر جھک نہ جائے یا ڈانواں ڈول نہ ہو، اور اس میں ہر قسم کے جاندار پھیلا دیے۔ اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے ہر عمدہ اور خوبصورت قسم کی چیزیں اگا دیں۔
Arabicخلق الله السموات بغير عمد ترونها، أي لا عمد لها تشاهدونها بأعينكم، وألقى في الأرض جبالا راسية ثابتة كي لا تضطرب بكم ولا تميل، وبث ونشر فيها من كل نوع من الدواب، وأنزل من السماء ماء فأنبت به من كل صنف كريم نافع حسن المنظر.
PickthallThis is the Creation of Allah. Now show me that which those (ye worship) beside Him have created. Nay, but the wrong-doers are in error manifest!
Yusuf AliSuch is the Creation of Allah: now show Me what is there that others besides Him have created: nay, but the Transgressors are in manifest error.
The agreed readingThis is what God created. Now show me what those you set up besides Him have created. They created nothing. Rather, the wrongdoers are in plain error.
Urduیہ سب کچھ جو تم دیکھتے ہو، یعنی آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کی یہ ساری تخلیق، اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اب مجھے دکھاؤ کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو انہوں نے کیا پیدا کیا ہے؟ انہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا، بلکہ شرک کرنے والے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
Arabicهذا الذي تشاهدونه من خلق السموات والأرض والجبال هو خلق الله وحده، فأروني ماذا خلق الذين تعبدون من دونه، إنهم لم يخلقوا من ذلك شيئا، بل الظالمون الذين أشركوا في ضلال بيّن ظاهر لا خفاء فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Umamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the (slave) female singers, not purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trading in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah." [He said:] There is narration about this from 'Umar bin Al-Khattab. [Abu 'Eisa said:] We only know of the Hadith of Abu Umamah, like this, from this route. Some of the people of knowledge have criticized 'Ali bin Yazid (one of the narrators) and graded him weak, and he is from Ash-Sham
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“ ( لقمان: ۶ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Umamah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not sell the female singers, nor purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trade in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: 'And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah (31:)
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے“، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں“ ( لقمان: ۶ ) ، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔
PickthallAnd verily We gave Luqman wisdom, saying: Give thanks unto Allah; and whosoever giveth thanks, he giveth thanks for (the good of) his soul. And whosoever refuseth - Lo! Allah is Absolute, Owner of Praise.
Yusuf Aliwe bestowed (in the past) Wisdom on Luqman: "Show (thy) gratitude to Allah." Any who is (so) grateful does so to the profit of his own soul: but if any is ungrateful, verily Allah is free of all wants, Worthy of all praise.
The agreed readingAnd God gave Luqman wisdom: understanding, knowledge, and rightness in what he said. Be thankful to God. Whoever gives thanks gives thanks for his own soul, and whoever is ungrateful takes nothing from God, who is Rich and Praiseworthy.
Urduاللہ تعالیٰ نے اپنے بندے لقمان کو حکمت عطا فرمائی، یعنی حق بات کی صحیح سمجھ، صحیح علم اور بات و عمل میں درستی۔ اور فرمایا: اللہ کا شکر ادا کرو۔ جو شکر کرتا ہے وہ دراصل اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرے تو اللہ کا کچھ نہیں بگڑتا، کیونکہ وہ بےنیاز اور خود ہی لائقِ تعریف ہے۔
Arabicأنعم الله على عبده لقمان بالحكمة، وهي العلم بالحق على وجهه، والفهم الصادق، والإصابة في القول والفعل، فقلنا له اشكر لله على ما أنعم به عليك، فمن يشكر فإنما ثمرة شكره تعود على نفسه، ومن كفر النعمة فلن يضر الله شيئا، فإن الله غني عن شكر الشاكرين، حميد يستحق الحمد سواء حمده الناس أم لم يحمدوه، ولقمان بذلك نال أعظم عطاء.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Nu'man b. Bashir (Allah be pleased with him) reported:I heard Allah's Messenger (may peace be upon himn) as having said this (and Nu'man) pointed towards his ears with his fingers): What is lawful is evident and what is unlawful is evident, and in between them are the things doubtful which many people do not know. So he who guards against doubtful things keeps his religion and honour blameless, and he who indulges in doubtful things indulges in fact in unlawful things, just as a shepherd who pastures his animals round a preserve will soon pasture them in it. Beware, every king has a preserve, and the things God his declaced unlawful are His preserves. Beware, in the body there is a piece of …
عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زکریا نے شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( شعبی نے ) کہا : میں نے ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، ۔ ۔ اور حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا ۔ ۔ آپ فرما رہے تھے : " بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات ہیں لوگوں کی بڑی تعداد ان کو نہیں جانتی ، جو شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا ، جیسے چرواہا ( جو ) چراگاہ کے اردگرد ( بکریاں ) چراتا ہے ، قریب ہے وہ اس ( چراگاہ ) میں چرنے لگیں ، دیکھو! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہے ۔ دھیان …
Narrated Abu Huraira:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying. "All the sins of my followers will be forgiven except those of the Mujahirin (those who commit a sin openly or disclose their sins to the people). An example of such disclosure is that a person commits a sin at night and though Allah screens it from the public, then he comes in the morning, and says, 'O so-and-so, I did such-and-such (evil) deed yesterday,' though he spent his night screened by his Lord (none knowing about his sin) and in the morning he removes Allah's screen from himself
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، ان سے ان کے بھتیجے ابن شہاب نے، ان سے ابن شہاب (محمد بن مسلم) نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوا گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کو کھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی ( گناہ کا ) کام کرے اور اس کے باوجود کہ اللہ نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود …
Narrated Ibn `Umar:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "While I was sleeping, I was given a bowl full of milk (in a dream), and I drank of it to my fill until I noticed its wetness coming out of my nails, and then I gave the rest of it to `Umar." They (the people) asked, "What have you interpreted (about the dream)? O Allah's Apostle?" He said, "(It is Religious) knowledge
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمزہ بن عبداللہ نے خبر دی، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اس کا دودھ پیا۔ یہاں تک کہ اس کی سیرابی کا اثر میں نے اپنے ناخنوں میں ظاہر ہوتا دیکھا، اس کے بعد میں نے اس کا بچا ہوا دے دیا۔ آپ کا اشارہ عمر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا صحابہ نے پوچھا: آپ نے اس کی تعبیر کیا کی یا رسول اللہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم۔
PickthallAnd (remember) when Luqman said unto his son, when he was exhorting him: O my dear son! Ascribe no partners unto Allah. Lo! to ascribe partners (unto Him) is a tremendous wrong -
Yusuf AliBehold, Luqman said to his son by way of instruction: "O my son! join not in worship (others) with Allah: for false worship is indeed the highest wrong-doing."
The agreed readingAnd when Luqman said to his son, counselling him, and the word he uses for son is a diminutive of tenderness: my son, do not set up partners with God. Setting up partners is a great wrong, for it levels the One from whom every favour comes with what gives no favour at all.
Urduاور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا، اور بیٹے کے لیے ایسا لفظ استعمال کیا جو پیار و شفقت ظاہر کرتا ہے: اے میرے پیارے بیٹے، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بےشک شرک بہت بڑا ظلم ہے، کیونکہ اس میں اس ذات کو، جس کی ہر نعمت ہے، اس چیز کے برابر ٹھہرا دیا جاتا ہے جس کی کوئی نعمت ہی نہیں۔
Arabicواذكر حين قال لقمان لابنه، وهو يعظه وينصحه، وقد خاطبه بلفظ التصغير إشعارا بالحنو والرأفة: يا بني، لا تشرك بالله شيئا، إن الشرك لظلم عظيم، ووجه عظمه أن فيه تسوية بين من منه كل نعمة، وبين من لا نعمة منه أصلا، وهذه التسوية أعظم الظلم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Ṭūsī, Ibn Kathīr, Ibn ʿĀshūr and Ṭabāṭabāʾī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated `Abdullah:When the Verse:-- 'Those who believe and mix not their belief with wrong.' was revealed, the Muslims felt it very hard on them and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who amongst us does not do wrong to himself?" He replied, "The Verse does not mean this. But that (wrong) means to associate others in worship to Allah: Don't you listen to what Luqman said to his son when he was advising him," O my son! Join not others in worship with Allah. Verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اور انہوں نے عرض کیا ہم میں کون ایسا ہو سکتا ہے جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اسے نصیحت کرتے ہوئے کہ اے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک بڑا ہی ظلم ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ { الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالُوا أَيُّنَا لاَ يَظْلِمُ نَفْسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَانُ لاِبْنِهِ { يَا بُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ{}
It is narrated on the authority of 'Abdullah (b. Mas'ud) that when this verse was revealed:" It is those who believe and confound not their belief with wrongdoing" (vi. 82), the Companions of the Messenger of Allah wore greatly perturbed. They said: Who amongst us (is so fortunate) that he does not wrong himself? Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) remarked: It does not mean that which you presume It implies that which Luqman said to his son: O my son, do not associate anything with Allah, for indeed it is the gravest wrongdoing (xxxi)
عبد اللہ بن ادریس ، ابو معاویہ اور وکیع اعمش نے حدیث سنائی ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ سے اورانہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ’’ جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی ۔ ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر یہ آیت گراں گزری اور انہوں نے گزارش کی : ہم میں سے کون ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہ کرتا ہو ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس آیت کا مطلب وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو ۔ ظلم وہ ہے جس طرح لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا : ’’ اے بیٹے! اللہ کےساتھ شرک نہ کرنا ، شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے ۔ ‘ ‘
Narrated Mus'ab bin Sa'd:that his father, Sa'd, said: "Four Ayat were revealed about me" and he mentioned the story. Umm Sa'd had said: "Did not Allah command you to honor (your parents). By Allah! I will not eat or drink anything until I die or you renounce (Islam)." He said: "So when they wanted to make her eat, they would force her mouth open. So this Ayah was revealed: And We have enjoined on man to be dutiful to his parents; but if they strive to make you associate (partners) with Me, of which you have no knowledge, then obey them not (29:)
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے تعلق سے چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، پھر انہوں نے ایک واقعہ وقصہ بیان کیا، ام سعد رضی الله عنہا نے کہا: کیا اللہ نے احسان کا حکم نہیں دیا ہے؟ ۱؎ قسم اللہ کی! نہ میں کھانا کھاؤں گی نہ کچھ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں یا پھر تم ( اپنے ایمان سے ) پھر جاؤ۔ ( سعد ) کہتے ہیں: جب لوگ اسے کھلانے کا ارادہ کرتے تو لکڑی ڈال کر اس کا منہ کھولتے، اسی موقع پر آیت «ووصينا الإنسان بوالديه حسنا وإن جاهداك لتشرك بي» ”ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان ( و حسن سلوک ) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو تم ان کا کہنا نہ مانو“ ( العنکبوت: ۸ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Abdullah:"When (the following) was revealed: It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong) (6:82) - That bothered some Muslims, so they said: 'O Messenger of Allah! Which of us has not wronged himself?' He said: 'It is not that, it is only Shirk, have you not heard what Luqman said to his son: O my son! Do not commit Shirk with Allah. Verily Shirk is a tremendous Zulm (wrong) (31:)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم ( شرک ) کی آمیزش نہ کی“ ( الأنعام ۸۲ ) ، نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بات گراں گزری، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کون ایسا ہے جس سے اپنی ذات کے حق میں ظلم و زیادتی نہ ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( تم غلط سمجھے ) ایسی بات نہیں ہے، اس ظلم سے مراد صرف شرک ہے، کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحت کی تھی؟ انہوں نے کہا تھا: «يا بني لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اے میرے بیٹے! شرک نہ کر، شرک بہت بڑا گناہ ہے“ ( لقمان: ۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated `Abdullah:When the Verse:--"It is those who believe and do not confuse their belief with wrong ( i.e. joining others in worship with Allah" (6.83) was revealed, we said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is there amongst us who has not done wrong to himself?" He replied, "It is not as you say, for 'wrong' in the Verse and 'do not confuse their belief, with wrong means 'SHIRK' (i.e. joining others in worship with Allah). Haven't you heard Luqman's saying to his son, 'O my son! Join not others in worship with Allah, verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت اتری «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی قسم کے ظلم کی ملاوٹ نہ کی۔“ تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں ایسا کون ہو گا جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واقعہ وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو۔ جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی۔ ( میں ظلم سے مراد ) شرک ہے کیا تم نے لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو یہ نصیحت نہیں سنی کہ ”اے بیٹے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا، بیشک شرک بہت ہی بڑا ظلم ہے۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالُوا أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلاَ تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لاِبْنِهِ {إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ}"
Narrated `Abdullah:When there was revealed: 'It is those who believe and confuse not their beliefs with wrong.' (6.82) It was very hard for the companions of Allah's Messenger (ﷺ), so they said, "Which of us has not confused his belief with wrong?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Verse does not mean this. Don't you hear Luqman's statement to his son: 'Verily! Joining others in worship, with Allah is a great wrong indeed
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» کہ ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اور کہنے لگے کہ ہم میں کون ایسا ہو گا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آیت میں ظلم سے یہ مراد نہیں ہے۔ تم نے لقمان علیہ السلام کی وہ نصیحت نہیں سنی جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی «إن الشرك لظلم عظيم» کہ ”بیشک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالُوا أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلاَ تَسْمَعُونَ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ {إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ}".
Narrated `Abdullah:When the Verse: 'It is those who believe and confuse not their belief with wrong (i.e., worshipping others besides Allah): (6.82) was revealed, it became very hard on the companions of the Prophet (ﷺ) and they said, "Who among us has not confused his belief with wrong (oppression)?" On that, Allah's Apostle said, "This is not meant (by the Verse). Don't you listen to Luqman's statement: 'Verily! Joining others in worship with Allah is a great wrong indeed
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ جب ( سورۃ الانعام کی ) یہ آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» اتری ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ایمان کو گناہ سے آلود نہیں کیا ( یعنی ظلم سے ) “ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بہت گراں گزری وہ کہنے لگے بھلا ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے ایمان کے ساتھ کوئی ظلم ( یعنی گناہ ) نہ کیا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس آیت میں ظلم سے گناہ مراد نہیں ہے ( بلکہ شرک مراد ہے ) کیا تم نے لقمان علیہ السلام کا قول نہیں سنا «إن الشرك لظلم عظيم» ”شرک بڑا ظلم ہے“۔
PickthallAnd We have enjoined upon man concerning his partners - His mother beareth him in weakness upon weakness, and his weaning is in two years - Give thanks unto Me and unto thy parents. Unto Me is the journeying.
Yusuf AliAnd We have enjoined on man (to be good) to his parents: in travail upon travail did his mother bear him, and in years twain was his weaning: (hear the command), "Show gratitude to Me and to thy parents: to Me is (thy final) Goal.
The agreed readingAnd God charged the human being concerning his parents. His mother carried him in weakness upon weakness, her weakness doubling as she went, and his weaning comes at the end of two years, through which she nursed him. Be thankful to Me and to your parents. To Me is the coming home.
Urduاور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے بارے میں تاکید کی، اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری اٹھاتے ہوئے پیٹ میں اٹھائے رکھا، ہر دن حمل بڑھنے کے ساتھ اس کی کمزوری بھی بڑھتی گئی، اور اس کا دودھ چھڑانا پورے دو سال میں مکمل ہوا۔ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو، آخر تمہیں میری ہی طرف لوٹنا ہے۔
Arabicوأمرنا الإنسان أن يحسن إلى والديه، فأمه حملته وهي تضعف ضعفا فوق ضعف، يتزايد ضعفها كلما ازداد الحمل وعظم، وفصاله عن الرضاعة يتم في عامين كاملين، وقلنا له اشكر لي ولوالديك، فإلي وحدي يكون المرجع والمصير.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Qurṭubī، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Qurṭubī and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Qurṭubī، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Abu Hurairah, may Allah be pleased with them, said that:Allah's Messenger said: "They said: 'O Messenger of Allah, whom should I treat kindly?' He said: 'Your mother.' He said: 'Then who?' He said :'Your mother." He said: 'Then who?' He said: 'Your father'. He said : 'Then who?' He said: 'The next closest and the next closest
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ أَبُوكَ ". وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ مِثْلَهُ.
Narrated Abu Huraira:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is more entitled to be treated with the best companionship by me?" The Prophet (ﷺ) said, "Your mother." The man said. "Who is next?" The Prophet said, "Your mother." The man further said, "Who is next?" The Prophet (ﷺ) said, "Your mother." The man asked for the fourth time, "Who is next?" The Prophet (ﷺ) said, "Your father
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ ہے۔ ابن شبرمہ اور یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوزرعہ نے اسی کے مطابق بیان کیا۔
Narrated `Abdullah:When the Verse:-- 'Those who believe and mix not their belief with wrong.' was revealed, the Muslims felt it very hard on them and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who amongst us does not do wrong to himself?" He replied, "The Verse does not mean this. But that (wrong) means to associate others in worship to Allah: Don't you listen to what Luqman said to his son when he was advising him," O my son! Join not others in worship with Allah. Verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اور انہوں نے عرض کیا ہم میں کون ایسا ہو سکتا ہے جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اسے نصیحت کرتے ہوئے کہ اے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک بڑا ہی ظلم ہے۔
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said:“I said: 'O Messenger of Allah, with regard to our 'Awrah, what may we uncover of it and what must we conceal?' He said: 'Cover your 'Awrah, except from your wife and those whom your right hand possesses.' I said: 'O Messenger of Allah, what if the people live close together?' He said: 'If you can make sure that no one sees it, then do not let anyone see it.' I said: 'O Messenger of Allah, what if one of us is alone?' He said: 'Allah is more deserving that you should feel shy before Him than People.' ”
معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۱؎۔
Mu'awiyah bin Qurrah narrated from his father that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"When the inhabitants of Ash-Sham become corrupt, then there is no good in it for you. There will never cease to be a group in my Ummah who will be helped(by Allah), they will not be harmed by those who forsake them until the Hour is established." Muhammad bin Isma'il said: "Ali bin Al-Madini said: 'They are the people of Hadith
قرہ بن ایاس المزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ملک شام والوں میں خرابی پیدا ہو جائے گی تو تم میں کوئی اچھائی باقی نہیں رہے گی، میری امت کے ایک گروہ کو ہمیشہ اللہ کی مدد سے حاصل رہے گی، اس کی مدد نہ کرنے والے قیامت تک اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن حوالہ، ابن عمر، زید بن ثابت اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا کہ علی بن مدینی نے کہا: ان سے مراد اہل حدیث ہیں۔
Bahz b. Hakim on his father's authority said that his grandfather said:I said: Messenger of Allah! to whom should I show kindness? He replied: Your mother, next your mother, next your mother, and then comes your father, and then your relatives in order of relationship. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If a man asks his slave whom he freed for giving him property which is surplus with him and he refuses to give it to him, the surplus property which he refused to give will be called on the Day of resurrection as a large bald snake. Abu Dawud said: Aqra' means a snake whose hair of the head were removed on account of poison
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہوں ان کے ساتھ، پھر جو اس کے بعد قریب ہوں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام سے وہ مال مانگے، جو اس کی حاجت سے زیادہ ہو اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس کا وہ فاضل مال جس کے دینے سے اس نے انکار کیا ایک گنجے سانپ کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أقرع» سے وہ سانپ مراد ہے جس کے سر کے بال زہر کی تیزی کے سبب جھڑ گئے ہوں۔
Narrated Mus'ab bin Sa'd:that his father, Sa'd, said: "Four Ayat were revealed about me" and he mentioned the story. Umm Sa'd had said: "Did not Allah command you to honor (your parents). By Allah! I will not eat or drink anything until I die or you renounce (Islam)." He said: "So when they wanted to make her eat, they would force her mouth open. So this Ayah was revealed: And We have enjoined on man to be dutiful to his parents; but if they strive to make you associate (partners) with Me, of which you have no knowledge, then obey them not (29:)
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے تعلق سے چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، پھر انہوں نے ایک واقعہ وقصہ بیان کیا، ام سعد رضی الله عنہا نے کہا: کیا اللہ نے احسان کا حکم نہیں دیا ہے؟ ۱؎ قسم اللہ کی! نہ میں کھانا کھاؤں گی نہ کچھ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں یا پھر تم ( اپنے ایمان سے ) پھر جاؤ۔ ( سعد ) کہتے ہیں: جب لوگ اسے کھلانے کا ارادہ کرتے تو لکڑی ڈال کر اس کا منہ کھولتے، اسی موقع پر آیت «ووصينا الإنسان بوالديه حسنا وإن جاهداك لتشرك بي» ”ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان ( و حسن سلوک ) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو تم ان کا کہنا نہ مانو“ ( العنکبوت: ۸ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated `Abdullah:When the Verse:--"It is those who believe and do not confuse their belief with wrong ( i.e. joining others in worship with Allah" (6.83) was revealed, we said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is there amongst us who has not done wrong to himself?" He replied, "It is not as you say, for 'wrong' in the Verse and 'do not confuse their belief, with wrong means 'SHIRK' (i.e. joining others in worship with Allah). Haven't you heard Luqman's saying to his son, 'O my son! Join not others in worship with Allah, verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت اتری «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی قسم کے ظلم کی ملاوٹ نہ کی۔“ تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں ایسا کون ہو گا جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واقعہ وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو۔ جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی۔ ( میں ظلم سے مراد ) شرک ہے کیا تم نے لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو یہ نصیحت نہیں سنی کہ ”اے بیٹے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا، بیشک شرک بہت ہی بڑا ظلم ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ { الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالُوا أَيُّنَا لاَ يَظْلِمُ نَفْسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَانُ لاِبْنِهِ { يَا بُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ{}
It is narrated on the authority of 'Abdullah (b. Mas'ud) that when this verse was revealed:" It is those who believe and confound not their belief with wrongdoing" (vi. 82), the Companions of the Messenger of Allah wore greatly perturbed. They said: Who amongst us (is so fortunate) that he does not wrong himself? Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) remarked: It does not mean that which you presume It implies that which Luqman said to his son: O my son, do not associate anything with Allah, for indeed it is the gravest wrongdoing (xxxi)
عبد اللہ بن ادریس ، ابو معاویہ اور وکیع اعمش نے حدیث سنائی ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ سے اورانہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ’’ جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی ۔ ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر یہ آیت گراں گزری اور انہوں نے گزارش کی : ہم میں سے کون ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہ کرتا ہو ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس آیت کا مطلب وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو ۔ ظلم وہ ہے جس طرح لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا : ’’ اے بیٹے! اللہ کےساتھ شرک نہ کرنا ، شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے ۔ ‘ ‘
PickthallBut if they strive with thee to make thee ascribe unto Me as partner that of which thou hast no knowledge, then obey them not. Consort with them in the world kindly, and follow the path of him who repenteth unto Me. Then unto Me will be your return, and I shall tell you what ye used to do -
Yusuf Ali"But if they strive to make thee join in worship with Me things of which thou hast no knowledge, obey them not; yet bear them company in this life with justice (and consideration), and follow the way of those who turn to me (in love): in the end the return of you all is to Me, and I will tell you the truth (and meaning) of all that ye did."
The agreed readingBut if they press you to set up with God what you have no knowledge of, do not obey them in that. And keep company with them in this world in the way that is right, with kindness and with the tie kept unbroken, and follow the way of one who turns back to God. Then to God is your return, and He will tell you what you were doing.
Urduاور اگر وہ تم پر زور دیں کہ میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کا تمہیں کوئی علم نہیں، تو اس بات میں ان کی بات نہ مانو، لیکن دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے، یعنی نیکی، صلہ رحمی اور اچھے برتاؤ کے ساتھ رہو، اور اس شخص کے راستے پر چلو جو میری طرف رجوع کرتا ہے۔ پھر تم سب کو میری ہی طرف لوٹنا ہے، تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے۔
Arabicوإن حاول والداك جهدهما أن تشرك بي ما لا علم لك بصحته، فلا تطعهما في هذا الأمر، لكن صاحبهما في هذه الدنيا بالمعروف، أي بالبر والصلة والعشرة الجميلة، واتبع سبيل من رجع وأناب إلي، ثم مرجعكم جميعا إلي، فأخبركم يومئذ بما كنتم تعملون في دنياكم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 7 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة9 reports cited here — 7 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنِ ابْنِ الْقَدَّاحِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ( صلى الله عليه وآله ) فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَمَاذَا أُسَمِّيهِ قَالَ سَمِّهِ بِأَحَبِّ الْأَسْمَاءِ إِلَيَّ حَمْزَةَ .
9. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ja‘far ibn Muhammad al-Ash‘ariy from ibn al-Qaddah who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that once a man came to the Holy Prophet (saww) and said, ‘O Messenger of Allah, a son is born to me, what should I name him?’ The Messenger of Allah replied, ‘Name him with the most beloved of names to me; Hamza.’”
علي بن إبراهيم اپنے باپ سے، جعفر بن محمد الأشعري سے، ابن القداح سے، ابی عبد الله (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ کہا: ایک آدمی نبي (صلى الله عليه وآله) کے پاس آیا اور کہا: اے الله کے رسول! مجھے ایک بیٹا پیدا ہوا ہے، تو میں اسے کیا نام دوں؟ انہوں نے کہا: اسے میرے نزدیک سب سے محبوب نام سے نام دو؛ حمزہ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
أبي - رحمه الله - قال: حدثنا سعد بن عبد الله، عن أحمد بن أبي عبد الله، عن محمد ابن علي الكوفي، عن عبيد الله الدهقان، عن درست بن أبي منصور الواسطي، عن إبراهيم ابن عبد الحميد، عن أبي الحسن موسى عليه السلام قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله فقال: يا رسول الله قد علمت ابني هذا الكتاب، ففي أي شئ أسلمه؟ فقال: سلمه لله أبوك ولا تسلمه في خمس: لا تسلمه سياء ولا صائغا ولا قصابا ولا حناطا ولا نخاسا فقال: يا رسول الله وما السياء؟ قال: الذي يبيع الأكفان ويتمنى موت أمتي وللمولود عن أمتي أحب إلي مما طلعت عليه الشمس. وأما الصائغ فإنه يعالج غبن أمتي . وأما القصاب فإنه يذبح حتى تذهب الرحمة من قلبه. وأما الحناط فإنه يحتكر الطعام على أمتي ولئن يلقى الله العبد سارقا أحب إلي من أن يلقاه قد احتكر طعاما …
1. My father, may Allah grant him mercy, said: We were told by Sa’d bin Abdullah, from Ahmad bin Abi Abdillah, from Muhammed ibn Ali al-Kufi, from Ubaidullah al-Dahqan, from Darast bin Abi Mansur al-Wasiti, from Ibrahim ibn Abdil-Hamid, from Abu’l-Hasan, Musa, peace be upon him, that he said: A man came to the Prophet, Allah’s blessings be upon him and his Family, and said: O Messenger of Allah, I have taught my son this book, so for what thing shall I give it? He said: Give it, for the sake of Allah, to your father, and do not give it to five: do not give it to an evil-wisher, nor a goldsmith, nor a slaughterer, nor a wheat seller, nor a slave trader. Then he said: O Messenger of Allah, …
میرے والد - اللہ انہیں رحمت دے - نے کہا: ہمیں سعد بن عبداللہ نے خبر دی، احمد بن ابی عبداللہ سے، محمد بن علی الکوفی سے، عبیداللہ الدہقان سے، درست بن ابی منصور الواسطی سے، ابراہیم بن عبدالحمید سے، ابو الحسن موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے بیٹے کو یہ کتاب سکھایا ہے، تو اسے کس میں دے دوں؟ انہوں نے کہا: اسے اللہ کے لیے اپنے والد کو دے دو اور انہیں پانچوں میں مت دینا: ایک - ستھا بیچنے والے کو، دوسرا - سونار کو، تیسرا - قصائی کو، چوتھا - اناج کا تاجر کو، پانچواں - غلام خریدو فروخت کرنے والے کو۔ تو آدمی نے کہا: یا رسول اللہ، ستھا بیچنے والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ جو کفن بیچتا ہے اور میری امت کی موت کی خواہش رکھتا ہے۔ حالانکہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah, may Allah be pleased with them, said that:Allah's Messenger said: "They said: 'O Messenger of Allah, whom should I treat kindly?' He said: 'Your mother.' He said: 'Then who?' He said :'Your mother." He said: 'Then who?' He said: 'Your father'. He said : 'Then who?' He said: 'The next closest and the next closest
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں ۔
Narrated `Abdullah:When the Verse:-- 'Those who believe and mix not their belief with wrong.' was revealed, the Muslims felt it very hard on them and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who amongst us does not do wrong to himself?" He replied, "The Verse does not mean this. But that (wrong) means to associate others in worship to Allah: Don't you listen to what Luqman said to his son when he was advising him," O my son! Join not others in worship with Allah. Verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اور انہوں نے عرض کیا ہم میں کون ایسا ہو سکتا ہے جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اسے نصیحت کرتے ہوئے کہ اے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک بڑا ہی ظلم ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " أُمُّكَ ". قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ أَبُوكَ ". وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ مِثْلَهُ.
Narrated Abu Huraira:A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is more entitled to be treated with the best companionship by me?" The Prophet (ﷺ) said, "Your mother." The man said. "Who is next?" The Prophet said, "Your mother." The man further said, "Who is next?" The Prophet (ﷺ) said, "Your mother." The man asked for the fourth time, "Who is next?" The Prophet (ﷺ) said, "Your father
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ ہے۔ ابن شبرمہ اور یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوزرعہ نے اسی کے مطابق بیان کیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَىَّ أُمِّي وَهْىَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ، إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمُدَّتِهِمْ، مَعَ أَبِيهَا، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَىَّ، وَهْىَ رَاغِبَةٌ، أَفَأَصِلُهَا قَالَ " نَعَمْ، صِلِيهَا ".
Narrated Asma 'bint Abi Bakr:During the period of the peace treaty of Quraish with Allah's Messenger (ﷺ), my mother, accompanied by her father, came to visit me, and she was a pagan. I consulted Allah's Messenger (ﷺ), "O Allah's Messenger (ﷺ)! My mother has come to me and she desires to receive a reward from me, shall I keep good relation with her?" He said, "Yes, keep good relation with her
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ قریش سے جس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حدیبیہ کی ) صلح کی تھی، اسی مدت میں میری والدہ ( قتیلہ ) اپنے باپ ( حارث بن مدرک ) کو ساتھ لے کر میرے پاس آئیں، وہ اسلام میں داخل نہیں ہوئی تھیں۔ ( عروہ نے بیان کیا کہ ) اسماء رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری والدہ آئی ہوئی ہیں اور مجھ سے رغبت کے ساتھ ملنا چاہتی ہیں، تو کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! ان کے ساتھ صلہ رحمی کر۔
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said:“I said: 'O Messenger of Allah, with regard to our 'Awrah, what may we uncover of it and what must we conceal?' He said: 'Cover your 'Awrah, except from your wife and those whom your right hand possesses.' I said: 'O Messenger of Allah, what if the people live close together?' He said: 'If you can make sure that no one sees it, then do not let anyone see it.' I said: 'O Messenger of Allah, what if one of us is alone?' He said: 'Allah is more deserving that you should feel shy before Him than People.' ”
معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۱؎۔
Mu'awiyah bin Qurrah narrated from his father that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"When the inhabitants of Ash-Sham become corrupt, then there is no good in it for you. There will never cease to be a group in my Ummah who will be helped(by Allah), they will not be harmed by those who forsake them until the Hour is established." Muhammad bin Isma'il said: "Ali bin Al-Madini said: 'They are the people of Hadith
قرہ بن ایاس المزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ملک شام والوں میں خرابی پیدا ہو جائے گی تو تم میں کوئی اچھائی باقی نہیں رہے گی، میری امت کے ایک گروہ کو ہمیشہ اللہ کی مدد سے حاصل رہے گی، اس کی مدد نہ کرنے والے قیامت تک اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن حوالہ، ابن عمر، زید بن ثابت اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا کہ علی بن مدینی نے کہا: ان سے مراد اہل حدیث ہیں۔
Bahz b. Hakim on his father's authority said that his grandfather said:I said: Messenger of Allah! to whom should I show kindness? He replied: Your mother, next your mother, next your mother, and then comes your father, and then your relatives in order of relationship. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If a man asks his slave whom he freed for giving him property which is surplus with him and he refuses to give it to him, the surplus property which he refused to give will be called on the Day of resurrection as a large bald snake. Abu Dawud said: Aqra' means a snake whose hair of the head were removed on account of poison
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہوں ان کے ساتھ، پھر جو اس کے بعد قریب ہوں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام سے وہ مال مانگے، جو اس کی حاجت سے زیادہ ہو اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس کا وہ فاضل مال جس کے دینے سے اس نے انکار کیا ایک گنجے سانپ کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أقرع» سے وہ سانپ مراد ہے جس کے سر کے بال زہر کی تیزی کے سبب جھڑ گئے ہوں۔
PickthallO my dear son! Lo! though it be but the weight of a grain of mustard-seed, and though it be in a rock, or in the heavens, or in the earth, Allah will bring it forth. Lo! Allah is Subtile, Aware.
Yusuf Ali"O my son!" (said Luqman), "If there be (but) the weight of a mustard-seed and it were (hidden) in a rock, or (anywhere) in the heavens or on earth, Allah will bring it forth: for Allah understands the finest mysteries, (and) is well-acquainted (with them).
The agreed readingMy son, if a deed be no more than the weight of a mustard seed, and it be hidden inside a rock, or in the heavens, or in the earth, God will bring it out. God is Subtle, reaching what is finest, and Aware.
Urduاے میرے بیٹے، اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، اور وہ کسی چٹان کے اندر چھپا ہو، یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو، تو اللہ اسے نکال لائے گا۔ بےشک اللہ باریک بین ہے، ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز تک اس کی رسائی ہے، اور وہ ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔
Arabicيا بني، إن العمل مهما كان يسيرا صغيرا، ولو كان بمقدار حبة خردل، وكانت مخبأة في صخرة صماء أو في أعماق السموات أو في باطن الأرض، فإن الله يأتي بها ويظهرها، إن الله لطيف يدرك أدق الأشياء وأخفاها، خبير بكل شيء لا يغيب عنه شيء.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Sa’eed Al-Khudri may Allah be pleased with him, narrated :from the Prophet – regarding Allah’s saying ‘And on couches raised high – he said: “Their height is as what is between the heavens and the earth, and the distance between the two of them is five hundred years.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «وفرش مرفوعة» ”جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے“ ( الواقعہ: ۳۴ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس حدیث میں «ارتفاعها كما بين السماء والأرض» کا مفہوم یہ ہے کہ بچھونوں کی اونچائی درجات کی بلندی کے مطابق ہو گی اور ہر دو درجے کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہو گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ . وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِ مَنْ حَوْلَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ . وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
It was narrated from Ali that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"If anyone of you sneezes, let him say: Alhamdulillah (praise be to Allah). Those around him should respond by saying: Yarhamkullah (may Allah have mercy on you). And he should respond by saying: "Yahdikum Allah wa yuslaha balakum (may Allah Guide you and set right your state)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله» کہے، اس کے پاس موجود لوگ«يرحمك الله» کہیں، پھر چھینکنے والا ان کو جواب دے «يهديكم الله ويصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے، اور تمہاری حالت درست کرے ۔
Abu Hurairah reported the Prophet (May peace be upon him) as saying:when you hear the cocks crowing, ask Allah for some of His grace, for they have seen as angel; but when you hear an ass braying, seek refuge in Allah from the devil, for it has seen the devil
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ فرشتہ دیکھ کر آواز لگاتا ہے اور جب تم گدھے کو ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر آواز نکالتا ہے ۔
Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] narrated that:The Prophet said: “when you hear the crowing of the roosters, then ask Allah of His bounty, for verily they have seen an angel. When you hear the braying of a donkey, then seek refuge in Allah from Shaitan, [the rejected] for, verily, it has seen a Shaitan.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب اسے کوئی فرشتہ نظر آتا ہے، اور جب گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ اس وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Anas bin Malik narrated that :the Messenger of Allah said: "The one who commits transgression with charity is like the one who does not pay it
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عمر، ام سلمہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- انس کی حدیث اس سند سے غریب ہے، ۳- احمد بن حنبل نے سعد بن سنان کے سلسلہ میں کلام کیا ہے۔ اسی طرح لیث بن سعد بھی کہتے ہیں۔ وہ بھی «عن يزيد بن حبيب، عن سعد بن سنان، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں، اور عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ «عن يزيد بن حبيب، عن سنان بن سعد، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں ۱؎، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ صحیح ”سنان بن سعد“ ہے، ۵- اور زکاۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے کا مطلب یہ ہے کہ …
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ، لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدُّخَانَ وَدَابَّةَ الأَرْضِ وَالدَّجَّالَ وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ وَأَمْرَ الْعَامَّةِ " .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Hasten to do good deeds (before) six things (happen): The rising of the sun from the west (place of its setting), the smoke, the beast of the earth, Dajjal (False Christ), that which will happen to each of you (death); and that which will happen to all people (the Day of Resurrection)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے تم نیک اعمال میں جلدی کرو: سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، دجال، ہر شخص کی خاص آفت ( یعنی موت ) ، عام آفت ( جیسے وبا وغیرہ ) ۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah was asked about that for which people are admitted into Paradise the most, so he said:"Taqwa of Allah, and good character." And he was asked about that for which people are admitted into the Fire the most, and he said: " The mouth and the private parts
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق پھر آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”منہ اور شرمگاہ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكَ قَالَ يُبْكِينِي شَىْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ وَإِنَّ مَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الأَبْرَارَ …
It was narrated from ‘Umar bin Khattab that he went out one day to the mosque of the Messenger of Allah (ﷺ), and he found Mu’adh bin Jabal sitting by the grave of the Prophet (ﷺ), weeping. He said:“Why are you weeping?” He said: “I am weeping because of something that I heard from the Messenger of Allah (ﷺ). I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘A little showing off is polytheism and whoever shows enmity towards a friend of Allah has declared war on Allah. Allah loves those who se righteousness and piety are hidden, those who, if they are absent, are not missed, and if they are present, they are not invited or acknowledged. Their hearts are lamps of guidance and they get out of every …
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن وہ مسجد نبوی کی جانب گئے، تو وہاں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں، انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ایک ایسی بات رلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: معمولی ریاکاری بھی شرک ہے، بیشک جس نے اللہ کے کسی دوست سے دشمنی کی، تو اس نے اللہ سے اعلان جنگ کیا، اللہ تعالیٰ ان نیک، گم نام متقی لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اگر غائب ہو جائیں تو کوئی انہیں تلاش نہیں کرتا، اور اگر وہ حاضر ہو جائیں تو لوگ انہیں کھانے کے لیے نہیں بلاتے، اور نہ انہیں پہچانتے ہیں، ان کے دل ہدایت کے چراغ …
PickthallO my dear son! Establish worship and enjoin kindness and forbid iniquity, and persevere whatever may befall thee. Lo! that is of the steadfast heart of things.
Yusuf Ali"O my son! establish regular prayer, enjoin what is just, and forbid what is wrong: and bear with patient constancy whatever betide thee; for this is firmness (of purpose) in (the conduct of) affairs.
The agreed readingMy son, establish the prayer, and command what is right and forbid what is wrong, and be patient under whatever comes to you for doing so, the hardship and the hurt that commanding and forbidding bring. That is among the things a person must hold firm to.
Urduاے میرے بیٹے، نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، اور اس راستے میں جو تکلیف اور اذیت پہنچے اس پر صبر کرو، کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وجہ سے تکلیف پہنچنا ممکن ہے۔ یہ صبر ان کاموں میں سے ہے جن پر دل کا مضبوطی سے قائم رہنا ضروری ہے۔
Arabicيا بني، أقم الصلاة، ومر بالمعروف، وانه عن المنكر، واصبر على ما يصيبك من أذى بسبب أمرك ونهيك، فإن هذا الصبر خاص بما يصيبك من المحن في هذا الطريق، وإن ذلك من عزائم الأمور التي يجب أن يعقد عليها القلب.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Sa’eed Al-Khudri may Allah be pleased with him, narrated :from the Prophet – regarding Allah’s saying ‘And on couches raised high – he said: “Their height is as what is between the heavens and the earth, and the distance between the two of them is five hundred years.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «وفرش مرفوعة» ”جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے“ ( الواقعہ: ۳۴ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس حدیث میں «ارتفاعها كما بين السماء والأرض» کا مفہوم یہ ہے کہ بچھونوں کی اونچائی درجات کی بلندی کے مطابق ہو گی اور ہر دو درجے کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہو گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ . وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِ مَنْ حَوْلَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ . وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
It was narrated from Ali that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"If anyone of you sneezes, let him say: Alhamdulillah (praise be to Allah). Those around him should respond by saying: Yarhamkullah (may Allah have mercy on you). And he should respond by saying: "Yahdikum Allah wa yuslaha balakum (may Allah Guide you and set right your state)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله» کہے، اس کے پاس موجود لوگ«يرحمك الله» کہیں، پھر چھینکنے والا ان کو جواب دے «يهديكم الله ويصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے، اور تمہاری حالت درست کرے ۔
Abu Hurairah reported the Prophet (May peace be upon him) as saying:when you hear the cocks crowing, ask Allah for some of His grace, for they have seen as angel; but when you hear an ass braying, seek refuge in Allah from the devil, for it has seen the devil
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ فرشتہ دیکھ کر آواز لگاتا ہے اور جب تم گدھے کو ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر آواز نکالتا ہے ۔
Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] narrated that:The Prophet said: “when you hear the crowing of the roosters, then ask Allah of His bounty, for verily they have seen an angel. When you hear the braying of a donkey, then seek refuge in Allah from Shaitan, [the rejected] for, verily, it has seen a Shaitan.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب اسے کوئی فرشتہ نظر آتا ہے، اور جب گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ اس وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Anas bin Malik narrated that :the Messenger of Allah said: "The one who commits transgression with charity is like the one who does not pay it
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عمر، ام سلمہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- انس کی حدیث اس سند سے غریب ہے، ۳- احمد بن حنبل نے سعد بن سنان کے سلسلہ میں کلام کیا ہے۔ اسی طرح لیث بن سعد بھی کہتے ہیں۔ وہ بھی «عن يزيد بن حبيب، عن سعد بن سنان، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں، اور عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ «عن يزيد بن حبيب، عن سنان بن سعد، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں ۱؎، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ صحیح ”سنان بن سعد“ ہے، ۵- اور زکاۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے کا مطلب یہ ہے کہ …
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ، لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدُّخَانَ وَدَابَّةَ الأَرْضِ وَالدَّجَّالَ وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ وَأَمْرَ الْعَامَّةِ " .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Hasten to do good deeds (before) six things (happen): The rising of the sun from the west (place of its setting), the smoke, the beast of the earth, Dajjal (False Christ), that which will happen to each of you (death); and that which will happen to all people (the Day of Resurrection)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے تم نیک اعمال میں جلدی کرو: سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، دجال، ہر شخص کی خاص آفت ( یعنی موت ) ، عام آفت ( جیسے وبا وغیرہ ) ۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah was asked about that for which people are admitted into Paradise the most, so he said:"Taqwa of Allah, and good character." And he was asked about that for which people are admitted into the Fire the most, and he said: " The mouth and the private parts
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق پھر آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”منہ اور شرمگاہ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكَ قَالَ يُبْكِينِي شَىْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ وَإِنَّ مَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الأَبْرَارَ …
It was narrated from ‘Umar bin Khattab that he went out one day to the mosque of the Messenger of Allah (ﷺ), and he found Mu’adh bin Jabal sitting by the grave of the Prophet (ﷺ), weeping. He said:“Why are you weeping?” He said: “I am weeping because of something that I heard from the Messenger of Allah (ﷺ). I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘A little showing off is polytheism and whoever shows enmity towards a friend of Allah has declared war on Allah. Allah loves those who se righteousness and piety are hidden, those who, if they are absent, are not missed, and if they are present, they are not invited or acknowledged. Their hearts are lamps of guidance and they get out of every …
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن وہ مسجد نبوی کی جانب گئے، تو وہاں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں، انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ایک ایسی بات رلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: معمولی ریاکاری بھی شرک ہے، بیشک جس نے اللہ کے کسی دوست سے دشمنی کی، تو اس نے اللہ سے اعلان جنگ کیا، اللہ تعالیٰ ان نیک، گم نام متقی لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اگر غائب ہو جائیں تو کوئی انہیں تلاش نہیں کرتا، اور اگر وہ حاضر ہو جائیں تو لوگ انہیں کھانے کے لیے نہیں بلاتے، اور نہ انہیں پہچانتے ہیں، ان کے دل ہدایت کے چراغ …
PickthallTurn not thy cheek in scorn toward folk, nor walk with pertness in the land. Lo! Allah loveth not each braggart boaster.
Yusuf Ali"And swell not thy cheek (for pride) at men, nor walk in insolence through the earth; for Allah loveth not any arrogant boaster.
The agreed readingAnd do not turn your face away from people out of pride, or turn from someone speaking to you as though he were of no account. And do not walk the earth full of yourself. God does not love anyone who struts and boasts.
Urduلوگوں سے تکبر کرتے ہوئے اپنا منہ نہ پھیرو اور نہ انہیں حقیر سمجھو، بلکہ ان سے عاجزی اور انکساری کے ساتھ پیش آؤ، اور زمین میں اکڑ کر اور غرور سے مت چلو، بےشک اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔
Arabicولا تُعرض بوجهك عن الناس، ففي ذلك احتقار لهم وتفخر عليهم، بل أقبل عليهم بوجهك تواضعا، ولا تمش في الأرض مرحا مختالا، فإن الله لا يحب كل متكبر معجب بنفسه يفتخر على غيره.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Sa’eed Al-Khudri may Allah be pleased with him, narrated :from the Prophet – regarding Allah’s saying ‘And on couches raised high – he said: “Their height is as what is between the heavens and the earth, and the distance between the two of them is five hundred years.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «وفرش مرفوعة» ”جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے“ ( الواقعہ: ۳۴ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس حدیث میں «ارتفاعها كما بين السماء والأرض» کا مفہوم یہ ہے کہ بچھونوں کی اونچائی درجات کی بلندی کے مطابق ہو گی اور ہر دو درجے کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہو گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ . وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِ مَنْ حَوْلَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ . وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
It was narrated from Ali that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"If anyone of you sneezes, let him say: Alhamdulillah (praise be to Allah). Those around him should respond by saying: Yarhamkullah (may Allah have mercy on you). And he should respond by saying: "Yahdikum Allah wa yuslaha balakum (may Allah Guide you and set right your state)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله» کہے، اس کے پاس موجود لوگ«يرحمك الله» کہیں، پھر چھینکنے والا ان کو جواب دے «يهديكم الله ويصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے، اور تمہاری حالت درست کرے ۔
Abu Hurairah reported the Prophet (May peace be upon him) as saying:when you hear the cocks crowing, ask Allah for some of His grace, for they have seen as angel; but when you hear an ass braying, seek refuge in Allah from the devil, for it has seen the devil
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ فرشتہ دیکھ کر آواز لگاتا ہے اور جب تم گدھے کو ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر آواز نکالتا ہے ۔
Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] narrated that:The Prophet said: “when you hear the crowing of the roosters, then ask Allah of His bounty, for verily they have seen an angel. When you hear the braying of a donkey, then seek refuge in Allah from Shaitan, [the rejected] for, verily, it has seen a Shaitan.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب اسے کوئی فرشتہ نظر آتا ہے، اور جب گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ اس وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Anas bin Malik narrated that :the Messenger of Allah said: "The one who commits transgression with charity is like the one who does not pay it
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عمر، ام سلمہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- انس کی حدیث اس سند سے غریب ہے، ۳- احمد بن حنبل نے سعد بن سنان کے سلسلہ میں کلام کیا ہے۔ اسی طرح لیث بن سعد بھی کہتے ہیں۔ وہ بھی «عن يزيد بن حبيب، عن سعد بن سنان، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں، اور عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ «عن يزيد بن حبيب، عن سنان بن سعد، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں ۱؎، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ صحیح ”سنان بن سعد“ ہے، ۵- اور زکاۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے کا مطلب یہ ہے کہ …
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ، لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدُّخَانَ وَدَابَّةَ الأَرْضِ وَالدَّجَّالَ وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ وَأَمْرَ الْعَامَّةِ " .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Hasten to do good deeds (before) six things (happen): The rising of the sun from the west (place of its setting), the smoke, the beast of the earth, Dajjal (False Christ), that which will happen to each of you (death); and that which will happen to all people (the Day of Resurrection)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے تم نیک اعمال میں جلدی کرو: سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، دجال، ہر شخص کی خاص آفت ( یعنی موت ) ، عام آفت ( جیسے وبا وغیرہ ) ۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah was asked about that for which people are admitted into Paradise the most, so he said:"Taqwa of Allah, and good character." And he was asked about that for which people are admitted into the Fire the most, and he said: " The mouth and the private parts
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق پھر آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”منہ اور شرمگاہ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
Anas narrated that the Messenger of Allah said:"Do not cut off one another, nor desert one another, nor hate one another, nor envy one another. Be you , O worshippers o Allah, brothers. It is not lawful for the Muslim to shun his brother for more than three(days)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس میں قطع تعلق نہ کرو، ایک دوسرے سے بےرخی نہ اختیار کرو، باہم دشمنی و بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے سلام کلام بند رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، زبیر بن عوام، ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
PickthallBe modest in thy bearing and subdue thy voice. Lo! the harshest of all voices is the voice of the ass.
Yusuf Ali"And be moderate in thy pace, and lower thy voice; for the harshest of sounds without doubt is the braying of the ass."
The agreed readingAnd keep to the middle in your walking, between crawling and hurrying, with tranquillity and dignity about you. And lower your voice. The harshest of all voices is the voice of the donkey.
Urduاپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کرو، نہ اتنی سستی کہ بیمار جیسی چال ہو اور نہ اتنی تیزی کہ وقار ختم ہو جائے، بلکہ سکون اور وقار سے چلو۔ اور اپنی آواز نیچی رکھو، بےشک سب آوازوں میں سب سے بری اور ناپسندیدہ گدھے کی آواز ہے۔
Arabicواقتصد في مشيك بين الإسراع والتباطؤ، فلا تستكبر فيه ولا تستعجل، ولكن اتئد وامش بهدوء ووقار وسكينة، واخفض من صوتك ولا ترفعه، فإن أنكر الأصوات جميعها وأقبحها هو صوت الحمير.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 7 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة9 reports cited here — 7 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
The greatest right of God against you is that you worship Him without associating anything with Him. When you do that with sincerity (ikhlas), He has made it binding upon Himself to give you sufficiency in the affair of this world and the next.
تو أَمَّا حَقُّ اللهِ الأَكْبَرُ فَإنَّكَ تَعْبُدُهُ - اللہ کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ تو جب تم اس کو بإخلاص کے ساتھ کرو تو اللہ نے اپنے اوپر لازم کیا ہے کہ وہ تمہیں دنیا اور آخرت کے امور میں کفایت دے اور تمہارے لیے محفوظ رکھے جو تم دونوں سے پسند کرتے ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
أما حَقُّ أُمِّكَ، فَأَنْ تَعْلَمَ أَنَّهَا حَمَلَتكَ حَيْثُ لا يحتمل أحدٌ أحداَ، وأعْطَتْكَ مِن ثَمْرَةِ قَلبِها ما لا يُعطي أحدٌ أحداَ، ووَقَتْكَ بِجَمِيعِ جَوارحِها، ولَمْ تبال أن تجوع وتطعمك، وتعطش وتسقيك، وتعرى وتكسوك، وتضحى وتظلك، وتهجر النوم لأجلك، ووَقَتْكَ الحَرَّ والبَردَ، لتكون لها، فانك لا تُطيق شُكرها إلّا بِعَونِ اللهِ وتَوفيقه.
The right of your mother is that you know that she carried you where no one carries anyone, she gave to you of the fruit of her heart that which no one gives to anyone, and she protected you with all her organs. She did not care if she went hungry as long as you ate, if she was thirsty as long as you drank, if she was naked as long as you were clothed, if she was in the sun as long as you were in the shade. She gave up sleep for your sake, she protected you from heat and cold, all in order that you might belong to her. You will not be able to show her gratitude, unless through God's help and giving success. [1]
أما حق أمك فأن تعلم کہ اس نے تمہیں وہاں حمل کیا جہاں کوئی کسی کو حمل نہیں سکتا، اور اس نے تمہیں اپنے دل کے ثمرة سے دیا جو کوئی دوسرے کو نہیں دے سکتا، اور اپنے تمام جوارح سے تمہاری وقاية کی۔ اسے پروا نہیں تھی کہ وہ جوع میں ہو جب تم کھاتے ہو، عطش میں رہے جب تم پیتے ہو، عری میں رہے جب تم کپڑے پہنتے ہو، ضحی میں رہے جب تم سائے میں ہو، نیند قربان کی تمہارے لیے، حر اور برد سے تمہاری حفاظت کی۔ تمہیں اللہ کی مدد اور توفيق کے بغیر اس کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Malik related to me that he heard that someone said to Luqman, "What has brought you to what we see?" meaning his high rank. Luqman said, "Truthful speech, fulfilling the trust, and leaving what does not concern me
اور مالک نے مجھے حديث بيان کی کہ اس تک پہنچا کہ لقمان سے کہا گیا: لقمان تمہیں اس (مقام) تک کس چیز نے پہنچایا جو ہم دیکھتے ہیں؟ لقمان نے کہا: صدق الحديث اور امانت کی ادائگی اور جو چیز مجھے سے تعلق نہیں رکھتی اس سے باز رہنا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Yahya related to me from Malik that he heard that Luqman al-Hakim made his will and counselled his son, saying, "My son! Sit with the learned men and keep close to them. Allah gives life to the hearts with the light of wisdom as Allah gives life to the dead earth with the abundant rain of the sky
حضرت لقمان فرماتے تھے اپنے بیٹے سے (مرتے وقت اس بیٹے کا نام شکو تھا یا اسم) کہ اے میرے بیٹے عالموں کے پاس بیٹھا کر اور اپنے گھٹنے ان سے ملادے کیونکہ اللہ جل جلالہ جلاتا (آباد کرتا) ہے دلوں کو حکمت کے نور سے جیسے جلاتا (آباد کرتا) ہے مری ہوئی زمین کو بارش سے۔
Abu Sa’eed Al-Khudri may Allah be pleased with him, narrated :from the Prophet – regarding Allah’s saying ‘And on couches raised high – he said: “Their height is as what is between the heavens and the earth, and the distance between the two of them is five hundred years.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «وفرش مرفوعة» ”جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے“ ( الواقعہ: ۳۴ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس حدیث میں «ارتفاعها كما بين السماء والأرض» کا مفہوم یہ ہے کہ بچھونوں کی اونچائی درجات کی بلندی کے مطابق ہو گی اور ہر دو درجے کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہو گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ . وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِ مَنْ حَوْلَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ . وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
It was narrated from Ali that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"If anyone of you sneezes, let him say: Alhamdulillah (praise be to Allah). Those around him should respond by saying: Yarhamkullah (may Allah have mercy on you). And he should respond by saying: "Yahdikum Allah wa yuslaha balakum (may Allah Guide you and set right your state)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله» کہے، اس کے پاس موجود لوگ«يرحمك الله» کہیں، پھر چھینکنے والا ان کو جواب دے «يهديكم الله ويصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے، اور تمہاری حالت درست کرے ۔
Abu Hurairah reported the Prophet (May peace be upon him) as saying:when you hear the cocks crowing, ask Allah for some of His grace, for they have seen as angel; but when you hear an ass braying, seek refuge in Allah from the devil, for it has seen the devil
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ فرشتہ دیکھ کر آواز لگاتا ہے اور جب تم گدھے کو ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر آواز نکالتا ہے ۔
Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] narrated that:The Prophet said: “when you hear the crowing of the roosters, then ask Allah of His bounty, for verily they have seen an angel. When you hear the braying of a donkey, then seek refuge in Allah from Shaitan, [the rejected] for, verily, it has seen a Shaitan.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب اسے کوئی فرشتہ نظر آتا ہے، اور جب گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ اس وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Anas bin Malik narrated that :the Messenger of Allah said: "The one who commits transgression with charity is like the one who does not pay it
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عمر، ام سلمہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- انس کی حدیث اس سند سے غریب ہے، ۳- احمد بن حنبل نے سعد بن سنان کے سلسلہ میں کلام کیا ہے۔ اسی طرح لیث بن سعد بھی کہتے ہیں۔ وہ بھی «عن يزيد بن حبيب، عن سعد بن سنان، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں، اور عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ «عن يزيد بن حبيب، عن سنان بن سعد، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں ۱؎، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ صحیح ”سنان بن سعد“ ہے، ۵- اور زکاۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے کا مطلب یہ ہے کہ …
PickthallSee ye not how Allah hath made serviceable unto you whatsoever is in the skies and whatsoever is in the earth and hath loaded you with His favours both without and within? Yet of mankind is he who disputeth concerning Allah, without knowledge or guidance or a scripture giving light.
Yusuf AliDo ye not see that Allah has subjected to your (use) all things in the heavens and on earth, and has made his bounties flow to you in exceeding measure, (both) seen and unseen? Yet there are among men those who dispute about Allah, without knowledge and without guidance, and without a Book to enlighten them!
The agreed readingHave you not seen that God made serviceable to you what is in the heavens, the sun and the moon and the stars, made causes of your benefit, and what is in the earth, giving you the power to use it? And He poured His favours on you, outward and inward, the ones you can feel and the ones you can only understand. And among people is one who argues about God with no knowledge, no guidance and no Book to light his way.
Urduکیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں کی ہر چیز، یعنی سورج، چاند اور ستارے، تمہارے کام میں لگا دیے، اور زمین کی ہر چیز بھی تمہارے فائدے کے لیے مسخر کر دی؟ اور اس نے اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں، کچھ ظاہری جو تمہیں نظر آتی ہیں اور کچھ باطنی جنہیں صرف دل ہی سمجھ سکتا ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بغیر علم، بغیر ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔
Arabicألم تروا وتنظروا بأعينكم وقلوبكم أن الله سخر لكم ما في السموات من شمس وقمر ونجوم، وما في الأرض من بحار وأنهار ومعادن ودواب لتنتفعوا بها، وأسبغ عليكم وأتم نعمه ظاهرة تشاهدونها بأعينكم وباطنة لا تدركونها إلا بقلوبكم؟ ومن الناس من يجادل ويخاصم في الله بغير علم صحيح ولا هدى واضح ولا كتاب منير يستضاء به.
PickthallAnd if it be said unto them: Follow that which Allah hath revealed, they say: Nay, but we follow that wherein we found our fathers. What! Even though the devil were inviting them unto the doom of flame?
Yusuf AliWhen they are told to follow the (Revelation) that Allah has sent down, they say: "Nay, we shall follow the ways that we found our fathers (following). "What! even if it is Satan beckoning them to the Penalty of the (Blazing) Fire?
The agreed readingAnd when they are told to follow what God has sent down, they say: no, we follow what we found our fathers on. Even if Satan was calling them to the punishment of the Blaze?
Urduاور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کی پیروی کرو تو کہتے ہیں: نہیں، ہم تو اسی راستے پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ بھلا اگرچہ شیطان انہیں بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو، تب بھی؟
Arabicوإذا قيل لهؤلاء المشركين اتبعوا ما أنزل الله من الوحي والهدى، قالوا بل نتبع ما وجدنا عليه آباءنا وأجدادنا من دين وعادة، أفيتبعونهم ولو كان الشيطان في تلك الحال هو الذي يدعوهم إلى عذاب النار المستعرة؟
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ قَالَ " وَمَا أَهْلَكَكَ " . قَالَ حَوَّلْتُ رَحْلِي اللَّيْلَةَ . قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ الآيَةَ : (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ) أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحِيضَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ …
Narrated Ibn 'Abbas:"'Umar came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah! I am ruined!' He said: 'Why are you ruined?' He said: 'I turned my mount during the night (meaning that he went into his wife from behind).'" He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) did not say anything in reply to him. Then Allah revealed this Ayah to the Messenger of Allah (ﷺ): 'Your wives are a tilth for you, so go to your tilth when or how you will (2:223).' From the front, the back, avoiding the anus, and menstruation
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ہلاک کر دیا؟“ کہا: رات میں نے سواری تبدیل کر دی ( یعنی میں نے بیوی سے آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے صحبت کر لی ) ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ سن کر ) انہیں کوئی جواب نہ دیا، تو آپ پر یہ آیت: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل ہوئی، بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرو، مگر دبر سے اور حیض سے بچو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
PickthallWhosoever surrendereth his purpose to Allah while doing good, he verily hath grasped the firm hand-hold. Unto Allah belongeth the sequel of all things.
Yusuf AliWhoever submits his whole self to Allah, and is a doer of good, has grasped indeed the most trustworthy hand-hold: and with Allah rests the End and Decision of (all) affairs.
The agreed readingAnd whoever surrenders his whole face to God, turning to His obedience, doing what his Lord commanded and keeping clear of what He forbade, has taken hold of the firmest handhold there is. And to God every matter comes home.
Urduاور جو شخص اپنا رخ مکمل طور پر اللہ کی طرف کر دے، اس کی اطاعت اختیار کرے، اس کے حکموں پر عمل کرے اور اس کی منع کردہ باتوں سے رک جائے، وہ نیکوکار ہے اور اس نے سب سے مضبوط سہارا تھام لیا ہے۔ اور تمام معاملات کا انجام اللہ ہی کی طرف لوٹتا ہے۔
Arabicومن يُسلم وجهه لله فقد أخلص له العمل وانقاد لأمره واتبع شرعه، وهو محسن في عمله، باتباع ما أُمر به وترك ما نُهي عنه، فقد استمسك بأوثق عروة يُعتصم بها، وإلى الله وحده ترجع عاقبة الأمور كلها.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ قَالَ " وَمَا أَهْلَكَكَ " . قَالَ حَوَّلْتُ رَحْلِي اللَّيْلَةَ . قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ الآيَةَ : (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ) أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحِيضَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ …
Narrated Ibn 'Abbas:"'Umar came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah! I am ruined!' He said: 'Why are you ruined?' He said: 'I turned my mount during the night (meaning that he went into his wife from behind).'" He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) did not say anything in reply to him. Then Allah revealed this Ayah to the Messenger of Allah (ﷺ): 'Your wives are a tilth for you, so go to your tilth when or how you will (2:223).' From the front, the back, avoiding the anus, and menstruation
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ہلاک کر دیا؟“ کہا: رات میں نے سواری تبدیل کر دی ( یعنی میں نے بیوی سے آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے صحبت کر لی ) ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ سن کر ) انہیں کوئی جواب نہ دیا، تو آپ پر یہ آیت: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل ہوئی، بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرو، مگر دبر سے اور حیض سے بچو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Yahya b. Ya`mur said :The first to speak on Divine decree in al-Basrah was Ma`bad al Juhani. I and Humaid b. `Abd al-Rahman al-Himyari proceeded to perform Hajj or `Umrah. We said : would that we meet any of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) so that we could ask him about what they say with regard to divine decree. So Allah helped us to meet `Abd Allah b. `Umar who was entering the mosque. So I and my companion surrounded him, and I thought that my companion would entrust me the task of speaking to him. Then I said : Abu ‘Abd al-Rahman, there appeared on our side some people who recite the Qur'an and are engaged in the hair-splitting of knowledge. They conceive that there is no …
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ بصرہ میں سب سے پہلے معبد جہنی نے تقدیر کا انکار کیا، ہم اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری حج یا عمرے کے لیے چلے، تو ہم نے دل میں کہا: اگر ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ہوئی تو ہم ان سے تقدیر کے متعلق لوگ جو باتیں کہتے ہیں اس کے بارے میں دریافت کریں گے، تو اللہ نے ہماری ملاقات عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کرا دی، وہ ہمیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں گھیر لیا، میرا خیال تھا کہ میرے ساتھی گفتگو کا موقع مجھے ہی دیں گے اس لیے میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے اور اس میں علمی باریکیاں نکالتے ہیں، کہتے ہیں: تقدیر کوئی چیز نہیں ۱؎، سارے کام یوں ہی ہوتے ہیں، تو آپ …
Abdullah bin 'Umar said:"Umar bin Al-Khattab told me: 'While we were with the Messenger of Allah [SAW] one day, a man appeared before us whose clothes were exceedingly white and whose hair was exceedingly black. We could see no signs of travel on him, but none of us knew him. He came and sat before the Messenger of Allah [SAW], putting his knees against his, and placing his hands on his thighs, then he said: "O Muhammad, tell me about Islam." He said: "It is to bear witness that there is none worthy of worship except Allah [SWT] and that Muhammad [SAW] is the Messenger of Allah, to establish the Salah, to give Zakah, to fast Ramadan, and to perform Hajj to the House if you are able to bear …
اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں خبر دی، النضر بن شمیل نے کہا، کہمس بن الحسن نے کہا، عبداللہ بن برید نے حدیث بیان کی یحیٰ بن یعمر سے، کہ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ عمر بن خطاب نے مجھے حدیث سنائی - وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس تھے کہ اتنے میں ایک آدمی ہمارے سامنے آیا جس کے کپڑے بہت سفید تھے اور بال بہت کالے تھے۔ اس پر سفر کے آثار نہ تھے اور ہم میں سے کوئی اسے نہ جانتا تھا۔ وہ رسول اللہ کے پاس بیٹھا اور اپنی دونوں رانوں کو رسول اللہ کی رانوں سے لگایا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنی رانوں پر رکھا۔ پھر کہا: اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں خبر دیں۔ رسول اللہ نے فرمایا: یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي، ذَرٍّ قَالاَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ أَصْحَابِهِ فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلاَ يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ كَانَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسِهِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهًا وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يَمَسَّهَا دَنَسٌ حَتَّى سَلَّمَ فِي طَرَفِ الْبِسَاطِ فَقَالَ …
It was narrated that Abu Hurairah and Abu Dharr said:"The Messenger of Allah [SAW] would sit among his Companions and if a stranger came, he would not know which of them was he (the Prophet [SAW]) until he asked. So we suggested to the Messenger of Allah [SAW] that we should make a dais for him so that any stranger would know him if he came to him. So we built for him a bench made of clay on which he used to sit. (One day) we were sitting and the Messenger of Allah [SAW] was sitting in his spot, when a man came along who was the most handsome and good-smelling of all people, and it was as if no dirt had ever touched his garments. He came near the edge of the rug and greeted him, saying: …
ہمیں محمد بن قدامہ نے خبر دی، جریر کے ذریعے، ابو فروہ کے ذریعے، ابو زرعہ کے ذریعے، ابو ہریرہ اور ابو ذر سے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھا کرتے تھے، اور جب کوئی اجڑا ہوا شخص آتا تھا تو وہ نہیں جان پاتا تھا کہ ان میں سے کون آپ ہیں، یہاں تک کہ وہ پوچھتا تھا۔ پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ کے لیے ایک مسند بنائیں تاکہ جب کوئی اجڑا ہوا شخص آئے تو وہ آپ کو پہچان لے۔ تو ہم نے آپ کے لیے مٹی کا ایک چبوترہ بنایا جس پر آپ بیٹھا کرتے تھے۔ اور ہم بیٹھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسند پر بیٹھے تھے، تو ایک شخص آیا جو تمام لوگوں سے خوبصورت تھا چہرے میں اور تمام لوگوں سے بہترین خوشبو والا تھا، گویا اس کے کپڑوں کو کوئی غلاظت ہی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It is narrated on the authority of Yahya b. Ya'mur that the first man who discussed qadr (Divine Decree) in Basra was Ma'bad al-Juhani. I along with Humaid b. 'Abdur-Rahman Himyari set out for pilgrimage or for 'Umrah and said:Should it so happen that we come into contact with one of the Companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) we shall ask him about what is talked about taqdir (Divine Decree). Accidentally we came across Abdullah ibn Umar ibn al-Khattab, while he was entering the mosque. My companion and I surrounded him. One of us (stood) on his right and the other stood on his left. I expected that my companion would authorize me to speak. I therefore said: Abu Abdur …
کہمس سے ا بن بریدہ سے ، انہوں نے یحیی بن یعمر سےروایت کی ، انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا شخص جس نے بصرہ میں تقدیر ( سے انکار ) کی بات کی ، معبد جہنی تھا میں ( یحیی ) اور حمید بن عبد الرحمن خمیری حج یا عمرے کے ارادے سے نکلے ، ہم نے ( آپس میں ) کہا : کاش! رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی کے ساتھ ہماری ملاقات ہو جائے تو ہم ان سے تقدیر کے بارے میں ان ( آج کل کے ) لوگوں کی کہی ہوئی باتوں کے متعلق دریافت کر لیں ۔ توفیق الہٰی سے ہمیں حضرت عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے ۔ میں اور میرے ساتھ نے ان کے درمیان میں لے لیا ، ایک ان کی دائیں طرف تھا اور دوسرا ان کی بائیں طرف ۔ مجھے اندازہ تھا کہ میرا ساتھی گفتگو ( کامعاملہ ) میرے سپرد کرے گا ، چنانچہ میں نے عرض کی : …
PickthallAnd whosoever disbelieveth, let not his disbelief afflict thee (O Muhammad). Unto Us is their return, and We shall tell them what they did. Lo! Allah is Aware of what is in the breasts (of men).
Yusuf AliBut if any reject Faith, let not his rejection grieve thee: to Us is their return, and We shall tell them the truth of their deeds: for Allah knows well all that is in (men's) hearts.
The agreed readingAnd whoever refuses, do not let his refusal grieve you or weigh on you. To God is their return, and He will tell them what they did. God knows what is inside the breasts.
Urduاور جو کفر اختیار کرے تو اس کا کفر تمہیں غمگین نہ کرے اور نہ تمہیں پریشان کرے، انہیں ہماری ہی طرف لوٹنا ہے، پھر ہم انہیں بتائیں گے کہ وہ کیا کرتے رہے، بےشک اللہ دلوں کے اندر کی باتوں کو بھی جانتا ہے۔
Arabicومن كفر بالله فلا يهمنك كفره ولا يهمنك أمره، فإلينا وحدنا مرجعهم، فنخبرهم بما عملوا من خير أو شر، إن الله يعلم ما في صدور عباده، لا يخفى عليه شيء من ذلك.
PickthallWe give them comfort for a little, and then We drive them to a heavy doom.
Yusuf AliWe grant them their pleasure for a little while: in the end shall We drive them to a chastisement unrelenting.
The agreed readingGod lets them enjoy themselves a little, for the days of their lives, and then drives them to a punishment that is heavy, the punishment of the Fire.
Urduاللہ انہیں دنیا کی چند روزہ زندگی میں تھوڑا سا فائدہ اٹھانے دیتا ہے، پھر انہیں سخت اور شدید عذاب کی طرف دھکیل دیتا ہے، یعنی آگ کے عذاب کی طرف۔
Arabicنُمتعهم بشيء يسير من متاع الدنيا الفانية أياما معدودة، ثم بعد ذلك نضطرهم ونسوقهم سوقا عنيفا إلى عذاب غليظ شديد، وهو عذاب النار التي لا تبقي ولا تذر.
PickthallIf thou shouldst ask them: Who created the heavens and the earth? they would answer: Allah. Say: Praise be to Allah! But most of them know not.
Yusuf AliIf thou ask them, who it is that created the heavens and the earth. They will certainly say, "Allah". Say: "Praise be to Allah!" But most of them understand not.
The agreed readingAnd if you asked them who created the heavens and the earth, they would say: God. The proof is plain enough that they cannot answer otherwise. Say: praise belongs to God. But most of them do not know.
Urduاور اگر تم ان مشرکوں سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا، تو وہ ضرور بلا جھجک کہیں گے: اللہ نے۔ گویا خود ان کے اپنے اعتراف سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے کہ پھر وہ اللہ کے سوا کیوں پکارتے ہیں۔ کہہ دو: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر یہ بات سمجھتے ہی نہیں۔
Arabicولئن سألت هؤلاء المشركين من خلق السموات والأرض، ليقولن بلا تردد الله، وفي هذا اعتراف منهم تقوم به عليهم الحجة، فقل لهم الحمد لله وحده على هذا الهدى، بل أكثر هؤلاء المشركين لا يعلمون ما يلزمهم اعترافهم من ترك عبادة غيره.
PickthallUnto Allah belongeth whatsoever is in the heavens and the earth. Lo! Allah, He is the Absolute, the Owner of Praise.
Yusuf AliTo Allah belong all things in heaven and earth: verily Allah is He (that is) free of all wants, worthy of all praise.
The agreed readingTo God belongs whatever is in the heavens and the earth, His by creation and by ownership, so that no one else in them deserves to be worshipped. God is the Rich, who has no need of anyone's praise, and the Praiseworthy, who deserves praise whether He is praised or not.
Urduآسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے، پیدا کرنے کے اعتبار سے بھی اور مالک ہونے کے اعتبار سے بھی، اس لیے ان میں کوئی اور عبادت کے لائق نہیں۔ اللہ بےنیاز ہے، اسے کسی کی تعریف کی حاجت نہیں، اور وہ لائقِ تعریف ہے، چاہے کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔
Arabicلله وحده ملك ما في السموات والأرض، خلقا وملكا، فلا يستحق العبادة فيهما أحد سواه، وهو الغني الذي لا يحتاج إلى شيء ولا إلى حمد أحد، والحميد المستحق للحمد سواء حمده الناس أم لم يحمدوه، فهو خالق كل شيء ومالكه ومدبره وحده لا شريك له.
PickthallAnd if all the trees in the earth were pens, and the sea, with seven more seas to help it, (were ink), the words of Allah could not be exhausted. Lo! Allah is Mighty, Wise.
Yusuf AliAnd if all the trees on earth were pens and the ocean (were ink), with seven oceans behind it to add to its (supply), yet would not the words of Allah be exhausted (in the writing): for Allah is Exalted in Power, full of Wisdom.
The agreed readingAnd if every tree in the earth were made into pens, and the sea were ink with seven more seas after it to keep it supplied, God's words would still not run out. God is Mighty, Wise.
Urduاور اگر زمین کے سارے درخت قلمیں بن جائیں، اور سمندر روشنائی بن جائے، اس کے بعد سات اور سمندر بھی اس کی مدد کو آئیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں، کیونکہ یہ اس کی عظمت، بڑائی، جلال، اس کے خوبصورت ناموں اور اعلیٰ صفتوں پر دلالت کرتی ہیں جن کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ بےشک اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔
Arabicولو أن كل شجرة في الأرض صارت أقلاما، وصار البحر مدادا يمده من بعده سبعة أبحر أخرى، ما نفدت كلمات الله ولا انتهت، لأنها تدل على عظمته وكبريائه وجلاله وأسمائه الحسنى وصفاته العلا التي لا يحيط بها أحد ولا يحصيها، إن الله عزيز غالب لا يغلب، حكيم في كل ما يقول ويفعل.
PickthallYour creation and your raising (from the dead) are only as (the creation and the raising of) a single soul. Lo! Allah is Hearer, Knower.
Yusuf AliAnd your creation or your resurrection is in no wise but as an individual soul: for Allah is He Who hears and sees (all things).
The agreed readingYour creation and your raising are, to God, only as the creation and the raising of a single soul, for it is by the word be, and it is. God is Hearing, who hears all there is to hear, and Seeing, who sees all there is to see.
Urduتم سب کا پیدا کرنا اور قیامت کے دن دوبارہ اٹھانا اللہ کے نزدیک ایسے ہی ہے جیسے ایک ہی جان کا پیدا کرنا اور اٹھانا، کیونکہ اس کی قدرت میں تھوڑا اور زیادہ، ایک اور بہت سارے، سب برابر ہیں، بس وہ کن کہتا ہے اور وہ ہو جاتا ہے۔ بےشک اللہ سننے والا ہے، سب کچھ سنتا ہے، اور دیکھنے والا ہے، سب کچھ دیکھتا ہے۔
Arabicما خلقكم جميعا ولا بعثكم يوم القيامة عند الله إلا كخلق نفس واحدة وبعثها، فالقليل والكثير، والواحد والجمع، سواء عنده لا يتفاوت، لأن الأمر كله بكلمة كن فيكون، إن الله سميع يسمع كل شيء، بصير يرى كل شيء لا يخفى عليه شيء منه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Mus'ab bin Sa'd that his father said:"On the day of the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah [SAW] granted amnesty to the people, except four men and two women. He said: 'Kill them, even if you find them clinging to the covers of Ka'bah.' (They were) 'Ikrimah bin Abi Jahl, 'Abdullah bin Khatal, Miqyas bin Subabah and 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh. 'Abdullah bin Khatl was caught while he was clinging to the covers of Ka'bah. Sa'eed bin Huraith and 'Ammar bin Yasir both rushed toward him, but Sa'eed, who was the younger of the two, got there before 'Ammar, and he killed him. Miqyas bin Subabah was caught by the people in the marketplace, and they killed him. …
القاسم بن زكریا بن دينار نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا کہ احمد بن مفضل نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ اسباط نے حدیث سنائی، اور اسباط نے کہا کہ السدي نے کہا مصعب بن سعد سے، اس کے والد سے، کہا: جب مکے کی فتح کا دن آیا تو رسول اللہ نے لوگوں کو امان دی صرف چار آدمیوں اور دو عورتوں کے سوا۔ اور آپ نے فرمایا: انہیں قتل کرو اگرچہ انہیں کعبے کے پردے کو پکڑے ہوئے پاؤ۔ وہ عکرمہ بن ابی جہل، عبد اللہ بن خطل، میقیس بن صبابہ، اور عبد اللہ بن سعد بن ابی السرح تھے۔ عبد اللہ بن خطل کو پایا گیا جو کعبے کے پردے کو پکڑے ہوئے تھا۔ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر دونوں اس کی طرف دوڑے، لیکن سعید جو دونوں میں سے نوجوان تھا، عمار سے پہلے پہنچا۔ اس نے اسے قتل کر دیا۔ میقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا اور …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallHast thou not seen how Allah causeth the night to pass into the day and causeth the day to pass into the night, and hath subdued the sun and the moon (to do their work), each running unto an appointed term; and that Allah is Informed of what ye do?
Yusuf AliSeest thou not that Allah merges Night into Day and he merges Day into Night; that He has subjected the sun, and the moon (to his Law), each running its course for a term appointed; and that Allah is well-acquainted with all that ye do?
The agreed readingHave you not seen that God makes the night pass into the day and the day into the night, what is taken from the one being added to the other, and that He set the sun and the moon to serve, each running to a term He has named? And God is aware of what you do.
Urduکیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، یعنی ایک سے کچھ لے کر دوسرے میں بڑھا دیتا ہے، اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہے، ہر ایک ایک مقررہ وقت تک اپنے راستے پر چل رہا ہے؟ اور اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔
Arabicألم تر وتعلم أن الله يدخل ويولج الليل في النهار فيأخذ منه ويزيد في هذا، ويولج النهار في الليل كذلك، وسخر الشمس والقمر، كل واحد منهما يجري في فلكه إلى وقت معلوم ينتهي عنده، وأن الله بما تعملون خبير عليم لا يخفى عليه شيء من أعمالكم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Mus'ab bin Sa'd that his father said:"On the day of the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah [SAW] granted amnesty to the people, except four men and two women. He said: 'Kill them, even if you find them clinging to the covers of Ka'bah.' (They were) 'Ikrimah bin Abi Jahl, 'Abdullah bin Khatal, Miqyas bin Subabah and 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh. 'Abdullah bin Khatl was caught while he was clinging to the covers of Ka'bah. Sa'eed bin Huraith and 'Ammar bin Yasir both rushed toward him, but Sa'eed, who was the younger of the two, got there before 'Ammar, and he killed him. Miqyas bin Subabah was caught by the people in the marketplace, and they killed him. …
القاسم بن زكریا بن دينار نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا کہ احمد بن مفضل نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ اسباط نے حدیث سنائی، اور اسباط نے کہا کہ السدي نے کہا مصعب بن سعد سے، اس کے والد سے، کہا: جب مکے کی فتح کا دن آیا تو رسول اللہ نے لوگوں کو امان دی صرف چار آدمیوں اور دو عورتوں کے سوا۔ اور آپ نے فرمایا: انہیں قتل کرو اگرچہ انہیں کعبے کے پردے کو پکڑے ہوئے پاؤ۔ وہ عکرمہ بن ابی جہل، عبد اللہ بن خطل، میقیس بن صبابہ، اور عبد اللہ بن سعد بن ابی السرح تھے۔ عبد اللہ بن خطل کو پایا گیا جو کعبے کے پردے کو پکڑے ہوئے تھا۔ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر دونوں اس کی طرف دوڑے، لیکن سعید جو دونوں میں سے نوجوان تھا، عمار سے پہلے پہنچا۔ اس نے اسے قتل کر دیا۔ میقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا اور …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَالِمًا الْفَرَّاءَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّهُ حَدَّثَتْهُ وَكَانَتْ، تَخْدِمُ بَعْضَ بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ بِنْتَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهَا فَيَقُولُ " قُولِي حِينَ تُصْبِحِينَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُصْبِحُ …
Narrated Daughter of the Prophet: AbdulHamid, a client of Banu Hashim, said that his mother who served some of the daughters of the Prophet (ﷺ) told him that one of the daughters of the Prophet (ﷺ) said that the Prophet (ﷺ) used to teach her saying: Say in the morning: Glory be to Allah, and I begin with praise of Him; there is no power but in Allah ; what Allah wills comes to pass and what He does not will does not come to pass; I know that Allah is Omnipotent and that Allah has comprehended everything in knowledge" ; for whoever says it in the morning will be guarded till the evening, and whoever says it in the evening will be guarded till the morning
بنی ہاشم کے غلام عبدالحمید بیان کرتے ہیں کہ ان کی ماں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کی خدمت میں رہا کرتی تھیں انہیں بتایا کہ ان کی صاحبزادی نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب تم صبح کرو تو کہو «سبحان الله وبحمده لا قوة إلا بالله ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن أعلم أن الله على كل شىء قدير وأن الله قد أحاط بكل شىء علما» میں اللہ کی پاکی بیان کرتا، اور اس کی تعریف کرتا ہوں، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، جو اللہ چاہے گا وہی ہو گا، اور جو وہ نہیں چاہے وہ نہیں ہو گا، میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ اپنے علم سے ہر چیز کو محیط ہے جو شخص ان کلمات کو صبح کے وقت کہے گا اس کی ( اللہ کی طرف سے ) شام تک حفاظت کی جائے گی، اور جو …
PickthallThat (is so) because Allah, He is the True, and that which they invoke beside Him is the False, and because Allah, He is the Sublime, the Great.
Yusuf AliThat is because Allah is the (only) Reality, and because whatever else they invoke besides Him is Falsehood; and because Allah,- He is the Most High, Most Great.
The agreed readingThat is because God is the Truth, the one that stands firm, and what they call on besides Him is the false, the thing that passes away. And because God is the High, the Great.
Urduیہ سب اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے، ثابت اور قائم رہنے والا، اور جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہیں، مٹ جانے والے، جن کی کوئی حقیقی ہستی نہیں، بالکل اس سراب کی طرح جو دور سے دیکھنے پر پانی معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا۔ اور اللہ ہی بلند و بالا اور سب سے بڑا ہے۔
Arabicذلك الذي ذكرناه من إيلاج الليل في النهار وتسخير الشمس والقمر إنما هو لأن الله وحده هو الحق الثابت الذي لا يزول، وأن ما يدعونه من دونه هو الباطل الزائل الذي لا حقيقة له، فمثله مثل سراب يُرى من بعيد ماء ولا حقيقة له، وأن الله هو العلي الكبير الذي لا أعلى منه ولا أكبر.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Mus'ab bin Sa'd that his father said:"On the day of the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah [SAW] granted amnesty to the people, except four men and two women. He said: 'Kill them, even if you find them clinging to the covers of Ka'bah.' (They were) 'Ikrimah bin Abi Jahl, 'Abdullah bin Khatal, Miqyas bin Subabah and 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh. 'Abdullah bin Khatl was caught while he was clinging to the covers of Ka'bah. Sa'eed bin Huraith and 'Ammar bin Yasir both rushed toward him, but Sa'eed, who was the younger of the two, got there before 'Ammar, and he killed him. Miqyas bin Subabah was caught by the people in the marketplace, and they killed him. …
القاسم بن زكریا بن دينار نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا کہ احمد بن مفضل نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ اسباط نے حدیث سنائی، اور اسباط نے کہا کہ السدي نے کہا مصعب بن سعد سے، اس کے والد سے، کہا: جب مکے کی فتح کا دن آیا تو رسول اللہ نے لوگوں کو امان دی صرف چار آدمیوں اور دو عورتوں کے سوا۔ اور آپ نے فرمایا: انہیں قتل کرو اگرچہ انہیں کعبے کے پردے کو پکڑے ہوئے پاؤ۔ وہ عکرمہ بن ابی جہل، عبد اللہ بن خطل، میقیس بن صبابہ، اور عبد اللہ بن سعد بن ابی السرح تھے۔ عبد اللہ بن خطل کو پایا گیا جو کعبے کے پردے کو پکڑے ہوئے تھا۔ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر دونوں اس کی طرف دوڑے، لیکن سعید جو دونوں میں سے نوجوان تھا، عمار سے پہلے پہنچا۔ اس نے اسے قتل کر دیا۔ میقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا اور …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَالِمًا الْفَرَّاءَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّهُ حَدَّثَتْهُ وَكَانَتْ، تَخْدِمُ بَعْضَ بَنَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ بِنْتَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهَا فَيَقُولُ " قُولِي حِينَ تُصْبِحِينَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُصْبِحُ …
Narrated Daughter of the Prophet: AbdulHamid, a client of Banu Hashim, said that his mother who served some of the daughters of the Prophet (ﷺ) told him that one of the daughters of the Prophet (ﷺ) said that the Prophet (ﷺ) used to teach her saying: Say in the morning: Glory be to Allah, and I begin with praise of Him; there is no power but in Allah ; what Allah wills comes to pass and what He does not will does not come to pass; I know that Allah is Omnipotent and that Allah has comprehended everything in knowledge" ; for whoever says it in the morning will be guarded till the evening, and whoever says it in the evening will be guarded till the morning
بنی ہاشم کے غلام عبدالحمید بیان کرتے ہیں کہ ان کی ماں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کی خدمت میں رہا کرتی تھیں انہیں بتایا کہ ان کی صاحبزادی نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب تم صبح کرو تو کہو «سبحان الله وبحمده لا قوة إلا بالله ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن أعلم أن الله على كل شىء قدير وأن الله قد أحاط بكل شىء علما» میں اللہ کی پاکی بیان کرتا، اور اس کی تعریف کرتا ہوں، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، جو اللہ چاہے گا وہی ہو گا، اور جو وہ نہیں چاہے وہ نہیں ہو گا، میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ اپنے علم سے ہر چیز کو محیط ہے جو شخص ان کلمات کو صبح کے وقت کہے گا اس کی ( اللہ کی طرف سے ) شام تک حفاظت کی جائے گی، اور جو …
PickthallHast thou not seen how the ships glide on the sea by Allah's grace, that He may show you of His wonders? Lo! therein indeed are portents for every steadfast, grateful (heart).
Yusuf AliSeest thou not that the ships sail through the ocean by the Grace of Allah?- that He may show you of His Signs? Verily in this are Signs for all who constantly persevere and give thanks.
The agreed readingHave you not seen that the ships run on the sea by God's favour, carried by the wind and the water He made for it, so that He may show you something of His signs? In that there are signs for everyone much given to patience and much given to thanks.
Urduکیا تم نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں اللہ کے فضل و احسان سے سمندر میں چلتی ہیں، اور اس نے پانی میں ایسی طاقت رکھی ہے کہ یہ کشتیاں اسی کے سہارے چلتی ہیں، تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بےشک اس میں ہر اس شخص کے لیے نشانیاں ہیں جو مصیبت پر بہت صبر کرنے والا اور نعمتوں پر بہت شکر کرنے والا ہو۔
Arabicألم تر أن السفن تجري في البحر بلطف الله وإحسانه ورحمته، وبما جعل في الماء من قوة تحمل بها هذه السفن، ليريكم بذلك بعض آياته وقدرته، ففيها الانتفاع والاعتبار لمن يعتبر، إن في ذلك لآيات لكل كثير الصبر على البلاء كثير الشكر لنعماء الله.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Mus'ab bin Sa'd that his father said:"On the day of the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah [SAW] granted amnesty to the people, except four men and two women. He said: 'Kill them, even if you find them clinging to the covers of Ka'bah.' (They were) 'Ikrimah bin Abi Jahl, 'Abdullah bin Khatal, Miqyas bin Subabah and 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh. 'Abdullah bin Khatl was caught while he was clinging to the covers of Ka'bah. Sa'eed bin Huraith and 'Ammar bin Yasir both rushed toward him, but Sa'eed, who was the younger of the two, got there before 'Ammar, and he killed him. Miqyas bin Subabah was caught by the people in the marketplace, and they killed him. …
القاسم بن زكریا بن دينار نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا کہ احمد بن مفضل نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ اسباط نے حدیث سنائی، اور اسباط نے کہا کہ السدي نے کہا مصعب بن سعد سے، اس کے والد سے، کہا: جب مکے کی فتح کا دن آیا تو رسول اللہ نے لوگوں کو امان دی صرف چار آدمیوں اور دو عورتوں کے سوا۔ اور آپ نے فرمایا: انہیں قتل کرو اگرچہ انہیں کعبے کے پردے کو پکڑے ہوئے پاؤ۔ وہ عکرمہ بن ابی جہل، عبد اللہ بن خطل، میقیس بن صبابہ، اور عبد اللہ بن سعد بن ابی السرح تھے۔ عبد اللہ بن خطل کو پایا گیا جو کعبے کے پردے کو پکڑے ہوئے تھا۔ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر دونوں اس کی طرف دوڑے، لیکن سعید جو دونوں میں سے نوجوان تھا، عمار سے پہلے پہنچا۔ اس نے اسے قتل کر دیا۔ میقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا اور …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd if a wave enshroudeth them like awnings, they cry unto Allah, making their faith pure for Him only. But when He bringeth them safe to land, some of them compromise. None denieth Our signs save every traitor ingrate.
Yusuf AliWhen a wave covers them like the canopy (of clouds), they call to Allah, offering Him sincere devotion. But when He has delivered them safely to land, there are among them those that halt between (right and wrong). But none reject Our Signs except only a perfidious ungrateful (wretch)!
The agreed readingAnd when a wave covers them over like great canopies of cloud, they call on God, making their calling on Him sincerely His alone. Then when He brings them safe to land, some of them go only halfway. And no one denies God's signs except one who breaks faith and is ungrateful.
Urduاور جب انہیں کوئی بڑی لہر ڈھانپ لیتی ہے جو بادلوں یا پہاڑوں کے سائبانوں جیسی ہوتی ہے، تو وہ خالص اللہ ہی کو پکارتے ہیں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی درمیانی راہ اختیار کر لیتا ہے، یعنی نہ پورا شکر گزار بنتا ہے نہ پورا کافر رہتا ہے۔ اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتا ہے جو بدعہد اور ناشکرا ہو۔
Arabicوإذا غطتهم موجة عظيمة كأنها ظلل من السحاب أو الجبال، دعوا الله وحده مخلصين له الدعاء والدين في تلك الحال، فلما نجاهم وأوصلهم إلى البر سالمين، عاد بعضهم إلى شيء من كفره وظلمه الأول، متوسطا فيه بعد أن انزجر بعض الانزجار، وما يجحد بآياتنا ويكفر بها إلا كل غدار كثير الكفر بالنعم.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Ibn Abi Awfa said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I cannot learn anything of the Quran; teach me something that I can say instead of reciting the Quran.' He said: 'Say: SubhanAllah, wal-hamdulilah, wa la illaha ill-Allah, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa Billahil-aliy al-azim (Glory be to Allah, praise be to Allah, there is none worthy of worship except Allah, Allah is Most Great, and there is no power and no strength except with Allah the Exalted and Magnificent)
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے پڑھ لیا کرو۔
It was narrated that ‘Ubadah bin As-Samit said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever wakes up in the morning and says upon waking: La ilaha illallah wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu, wa Huwa ‘ala kulli shay’in Qadir; Subhan-Allah walhamdu lillahi, wa la ilaha illallahu, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa billahil-‘Aliyil-‘Azim (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is to Him, and He is Able to do all things. Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah, Allah is the Most Great, and there is no power and no strength except with Allah, the …
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رات میں بیدار ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ ہی سب سے بڑا ہے، طاقت و قوت اللہ بلند و برتر کی توفیق ہی سے ہے پھر یہ دعا پڑھے: «رب اغفر لي» اے رب مجھ کو بخش دے ، تو وہ بخش دیا جائے گا، ولید کہتے ہیں: یا یوں …
It was narrated from Mus'ab bin Sa'd that his father said:"On the day of the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah [SAW] granted amnesty to the people, except four men and two women. He said: 'Kill them, even if you find them clinging to the covers of Ka'bah.' (They were) 'Ikrimah bin Abi Jahl, 'Abdullah bin Khatal, Miqyas bin Subabah and 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh. 'Abdullah bin Khatl was caught while he was clinging to the covers of Ka'bah. Sa'eed bin Huraith and 'Ammar bin Yasir both rushed toward him, but Sa'eed, who was the younger of the two, got there before 'Ammar, and he killed him. Miqyas bin Subabah was caught by the people in the marketplace, and they killed him. …
القاسم بن زكریا بن دينار نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا کہ احمد بن مفضل نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ اسباط نے حدیث سنائی، اور اسباط نے کہا کہ السدي نے کہا مصعب بن سعد سے، اس کے والد سے، کہا: جب مکے کی فتح کا دن آیا تو رسول اللہ نے لوگوں کو امان دی صرف چار آدمیوں اور دو عورتوں کے سوا۔ اور آپ نے فرمایا: انہیں قتل کرو اگرچہ انہیں کعبے کے پردے کو پکڑے ہوئے پاؤ۔ وہ عکرمہ بن ابی جہل، عبد اللہ بن خطل، میقیس بن صبابہ، اور عبد اللہ بن سعد بن ابی السرح تھے۔ عبد اللہ بن خطل کو پایا گیا جو کعبے کے پردے کو پکڑے ہوئے تھا۔ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر دونوں اس کی طرف دوڑے، لیکن سعید جو دونوں میں سے نوجوان تھا، عمار سے پہلے پہنچا۔ اس نے اسے قتل کر دیا۔ میقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا اور …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated 'Ubada bin As-Samit:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever gets up at night and says: -- 'La ilaha il-lallah Wahdahu la Sharika lahu Lahu-lmulk, waLahu-l-hamd wahuwa 'ala kullishai'in Qadir. Al hamdu lil-lahi wa subhanal-lahi wa la-ilaha il-lal-lah wa-l-lahu akbar wa la hawla Wala Quwata il-la-bil-lah.' (None has the right to be worshipped but Allah. He is the Only One and has no partners . For Him is the Kingdom and all the praises are due for Him. He is Omnipotent. All the praises are for Allah. All the glories are for Allah. And none has the right to be worshipped but Allah, And Allah is Great And there is neither Might nor Power Except with Allah). And then says: -- Allahumma, Ighfir …
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے امام اوزاعی سے خبر دی، کہا کہ مجھ کو عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله، وسبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله» ( ترجمہ ) ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا …
PickthallO mankind! Keep your duty to your Lord and fear a Day when the parent will not be able to avail the child in aught, nor the child to avail the parent. Lo! Allah's promise is the very truth. Let not the life of the world beguile you, nor let the deceiver beguile you, in regard to Allah.
Yusuf AliO mankind! do your duty to your Lord, and fear (the coming of) a Day when no father can avail aught for his son, nor a son avail aught for his father. Verily, the promise of Allah is true: let not then this present life deceive you, nor let the chief Deceiver deceive you about Allah.
The agreed readingPeople, be mindful of your Lord, and fear a Day on which no parent will be of any use to his child and no child of any use to his parent, not even were the parent to offer himself in his child's place. God's promise is true. So do not let the life of this world deceive you, and do not let the deceiver deceive you about God.
Urduاے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، اور اس دن سے ڈرو جس میں کوئی باپ اپنی اولاد کے کسی کام نہ آئے گا اور نہ کوئی اولاد اپنے باپ کے کسی کام آئے گی، یہاں تک کہ اگر باپ چاہے کہ اپنی جان بیٹے کے بدلے دے دے تو یہ بھی ممکن نہ ہوگا۔ بےشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، تو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے، اور نہ کوئی بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دے۔
Arabicيا أيها الناس اتقوا ربكم وخافوه، واخشوا يوما شديدا لا يغني فيه والد عن ولده شيئا، ولا مولود هو مغن عن والده شيئا، حتى لو أراد الوالد أن يفدي ولده بنفسه لم يقبل ذلك منه، إن وعد الله بهذا اليوم حق لا شك فيه، فلا تغرنكم الحياة الدنيا بزينتها، ولا يغرنكم بالله الشيطان الغرور المخادع.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The keys of the Unseen are five: Verily with Allah (Alone) is the knowledge of the Hour He sends down the rain and knows what is in the wombs. No soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in what land it will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کے خزانے پانچ ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے۔ بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی بھی نہیں جان سکتا کہ وہ کل کیا عمل کرے گا اور نہ کوئی یہ جان سکتا ہے کہ وہ کس زمین پر مرے گا، بیشک اللہ ہی علم والا ہے، خبر رکھنے والا ہے۔“
PickthallLo! Allah! With Him is knowledge of the Hour. He sendeth down the rain, and knoweth that which is in the wombs. No soul knoweth what it will earn to-morrow, and no soul knoweth in what land it will die. Lo! Allah is Knower, Aware.
Yusuf AliVerily the knowledge of the Hour is with Allah (alone). It is He Who sends down rain, and He Who knows what is in the wombs. Nor does any one know what it is that he will earn on the morrow: Nor does any one know in what land he is to die. Verily with Allah is full knowledge and He is acquainted (with all things).
The agreed readingWith God is the knowledge of the Hour, of when it will rise. He sends the rain down at a time He alone knows, and He knows what is in the wombs. No soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in what land it will die. God is Knowing, Aware.
Urduقیامت کا صحیح علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہی بارش اپنے مقررہ وقت پر اتارتا ہے جسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے۔ کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کس زمین میں مرے گی۔ بےشک اللہ سب کچھ جاننے والا اور ہر باریک بات سے باخبر ہے۔
Arabicإن علم وقت الساعة عند الله وحده، لا يعلمه أحد سواه، وهو الذي ينزل الغيث في وقته الذي لا يعلمه غيره، ويعلم ما تحمله الأرحام من ذكر أو أنثى وشقي أو سعيد، وما تدري نفس ماذا تكسب من خير أو شر غدا، وما تدري نفس في أي أرض تموت، إن الله عليم بكل شيء، خبير بدقائق الأمور.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 5 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة8 reports cited here — 5 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
2 - قال: أخبرني أبو بكر محمد بن عمر الجعابي قال: حدثنا عبد الكريم ابن محمد قال: حدثنا سهل بن زنجلة الرازي قال: حدثنا ابن أبي أويس قال: حدثني أبي، عن حميد بن قيس، عن عطاء ، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: يا بني عبد المطلب إني سألت الله لكم أن يعلم جاهلكم، وأن يثبت قائمكم، وأن يهدي ضالكم، وأن يجعلكم نجداء جوداء رحماء، أما والله لو أن رجلا صف قدميه بين الركين والمقام مصليا ولقي الله ببغضكم أهل البيت لدخل النار.
2. He said: Abu Bakr Muhammad ibn Umar al-Ji’abi reported to me from Abdul Karim ibn Muhammad, who reported from Sahl ibn Zanjalah al-Razi, who reported from ibn Abi Uways, who reported from his father, who reported from Hamid ibn Qais, from Ata from Ibn Abbas, who reported that: The Prophet, peace be upon him and his progeny, said: "O Children of Abdul Muttalib! I have beseeched Allah to convert the ignorant among you into learned men, and to make you steadfast in your stand, and to guide those of you who are gone astray; and to make you brave, generous and kind. By Allah, if a person were to offer prayers between al-Rukn and al-Maqam (around holy Ka’bah), but at the same time die with …
کہا: اخبار دیا ابو بکر محمد بن عمر الجعابی نے، کہا ہمیں حدیث سنائی عبدالکریم بن محمد نے، کہا ہمیں حدیث سنائی سہل بن زنجلہ الرازی نے، کہا ہمیں حدیث سنائی ابن ابی اویس نے، کہا ہمیں حدیث سنائی میرے باپا نے، حمید بن قیس سے، عطاء سے، ابن عباس سے، کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اے بنی عبدالمطلب! میں نے اللہ سے سوال کیا ہے کہ وہ تمہارے جاہلوں کو عالم بنائے، اور تمہارے قائموں کو ثابت رکھے، اور تمہارے ضالوں کو ہدایت دے، اور تمہیں شجاع، سخی اور شفیق بنائے۔ واللہ اگر ایک آدمی رکن اور مقام کے درمیان نماز پڑھے لیکن اہل بیت سے بغض رکھتے ہوئے اللہ سے ملے تو جہنم میں جائے گا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Then you have recalled my position vis-à-vis ‘Uthmān, and in this matter an answer is due to you because of your kinship with him. So (now tell me), which of us was more inimical towards ‘Uthmān and who did more to bring about his killing; or who offered him his support but he made him sit down and stopped him; or who was he whom he called for help but who turned his face from him and drew his death near him till his fate overtook him? No, no; by Allāh: “Indeed knoweth Allāh those who hinder others among you and those who say unto their brethren ‘Come hither unto us’, and they come not to fight but a little.” (Qur’ān, 33:18)
ثم يادگار ہوا میرے اور عثمان کی بابت۔ تمہیں جواب دینا ہے اس لیے کہ تمہارا رحم ہے اس سے۔ کون زیادہ دشمن عثمان کا؟ کون مقاتل تک پہنچانے والا؟ جو نصرت بھیجی پھر بیٹھا دیا؟ یا جو مانگا پھر منہ موڑ لیا اور منون بھیجے تک قدر آئی؟ کلا و اللہ قد يعلم الله المعوّقين منكم والقائلين لإخوانهم هلم إلينا و لا يأتون البأس إلا قليلا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Therefore, Allāh alone knows what is there in the wombs, whether male or female, ugly or handsome, generous or miserly, mischievous or pious, and who will be the fuel for Hell and who will be in the company of the Prophets in Paradise. This is the knowledge of the hidden things which is not known to anyone save Allāh. All else is that whose knowledge Allāh passed on to His Prophet and he passed it on to me, and prayed for me that my bosom may retain it and my ribs may hold it.
پس اللہ سبحانہ جانتے ہیں وہ جو الارحام میں ہے، نر ہو یا مادہ، قبیح ہو یا جمیل، سخی ہو یا بخیل، شقی ہو یا سعید، اور کون النار میں حطب ہوگا یا الجنان میں النبيين کا مرافق۔ تو یہ علم الغيب ہے جسے کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔ اور جو علم اس کے علاوہ ہے تو وہ علم ہے جو اللہ نے اپنے نبی کو سکھایا تو انہوں نے مجھے سکھایا اور دعا کی کہ میری صدر اسے عا کرے اور میری جوانح اس پر اضطمام کریں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The keys of the Unseen are five: Verily with Allah (Alone) is the knowledge of the Hour He sends down the rain and knows what is in the wombs. No soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in what land it will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کے خزانے پانچ ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے۔ بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی بھی نہیں جان سکتا کہ وہ کل کیا عمل کرے گا اور نہ کوئی یہ جان سکتا ہے کہ وہ کس زمین پر مرے گا، بیشک اللہ ہی علم والا ہے، خبر رکھنے والا ہے۔“
Narrated Abu Huraira:One day while Allah's Messenger (ﷺ) was sitting with the people, a man came to him walking and said, "O Allah's Messenger (ﷺ). What is Belief?" The Prophet (ﷺ) said, "Belief is to believe in Allah, His Angels, His Books, His Apostles, and the meeting with Him, and to believe in the Resurrection." The man asked, "O Allah's Messenger (ﷺ) What is Islam?" The Prophet (ﷺ) replied, "Islam is to worship Allah and not worship anything besides Him, to offer prayers perfectly, to pay the (compulsory) charity (i.e. Zakat) and to fast the month of Ramadan." The man again asked, "O Allah's Messenger (ﷺ) What is Ihsan (i.e. perfection or Benevolence)?" The Prophet (ﷺ) said, "Ihsan is …
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، ان سے جریر نے، ان سے ابوحیان نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں کے ساتھ تشریف رکھتے تھے کہ ایک نیا آدمی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں، رسولوں اور اس کی ملاقات پر ایمان لاؤ اور قیامت کے دن پر ایمان لاؤ۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تنہا اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو اور فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! احسان کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا …
Sahl b. Sa'd as-Sa'idi reported:I was in the company of Allah's Messenger (ﷺ) that he gave a description of Paradise and then Allah's Apostle (ﷺ) concluded with these words: There would be bounties which the eye has not seen and the ear has not heard and no human heart has ever perceived them. He then recited this verse:" They forsake (their) beds, calling upon their Lord in fear and in hope, and spend out of what We have given them. So no soul knows what refreshment of the eyes is hidden for them: a reward for what they did" (xxxii)
ابوحازم نے کہا : میں نے حضر ت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں حاضر ہوا جس میں آپ نے جنت کی صفت بیان کی حتیٰ کہ آ پ نے بات ختم کی ۔ پھر اپنی بات کے آخر میں فرمایا : " اس ( جنت ) میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ۔ " پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : " ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں وہ خوف کے عالم میں اور پوری امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے اس میں سے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کر تے ہیں ۔ پس کوئی ذی حیات ( انسان ) نہیں جانتا کہ جو وہ کرتے ہیں اس کے صلے میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کےلیے کیا ( کچھ ) چھپا کررکھا گیاہے ۔
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "Allah Most High said: 'I have prepared for My righteous worshipers what no eye has seen, no ear has heard, and no human heart has conceived.'" And that is testified to in Allah's [the Mighty and Sublime] Book: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes (32:)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں نے اپنے نیک صالح بندوں کے لیے ایسی چیز تیار کی ہے جسے کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے، اس کی تصدیق کتاب اللہ ( قرآن ) کی اس آیت «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”کوئی شخص نہیں جانتا جو ہم نے ان کے ( صالح ) اعمال کے بدلے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ( کے لیے ) پوشیدہ رکھ رکھی ہے“ ( السجدۃ: ۱۶ ) ، سے ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي، ذَرٍّ قَالاَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ أَصْحَابِهِ فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلاَ يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ كَانَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسِهِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهًا وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يَمَسَّهَا دَنَسٌ حَتَّى سَلَّمَ فِي طَرَفِ الْبِسَاطِ فَقَالَ …
It was narrated that Abu Hurairah and Abu Dharr said:"The Messenger of Allah [SAW] would sit among his Companions and if a stranger came, he would not know which of them was he (the Prophet [SAW]) until he asked. So we suggested to the Messenger of Allah [SAW] that we should make a dais for him so that any stranger would know him if he came to him. So we built for him a bench made of clay on which he used to sit. (One day) we were sitting and the Messenger of Allah [SAW] was sitting in his spot, when a man came along who was the most handsome and good-smelling of all people, and it was as if no dirt had ever touched his garments. He came near the edge of the rug and greeted him, saying: …
ہمیں محمد بن قدامہ نے خبر دی، جریر کے ذریعے، ابو فروہ کے ذریعے، ابو زرعہ کے ذریعے، ابو ہریرہ اور ابو ذر سے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھا کرتے تھے، اور جب کوئی اجڑا ہوا شخص آتا تھا تو وہ نہیں جان پاتا تھا کہ ان میں سے کون آپ ہیں، یہاں تک کہ وہ پوچھتا تھا۔ پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ کے لیے ایک مسند بنائیں تاکہ جب کوئی اجڑا ہوا شخص آئے تو وہ آپ کو پہچان لے۔ تو ہم نے آپ کے لیے مٹی کا ایک چبوترہ بنایا جس پر آپ بیٹھا کرتے تھے۔ اور ہم بیٹھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسند پر بیٹھے تھے، تو ایک شخص آیا جو تمام لوگوں سے خوبصورت تھا چہرے میں اور تمام لوگوں سے بہترین خوشبو والا تھا، گویا اس کے کپڑوں کو کوئی غلاظت ہی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا