Surah 36 of 114 · Makki · 83 ayat

Ya-Sin يس

Ya Sin

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
36:1#
يسٓ

PickthallYa Sin.

Yusuf AliYa Sin.

The agreed readingYa Sin. Two single Arabic letters of the kind that open certain surahs, recited as letters; their certain meaning is left with God. Many commentaries also record that the address falls on the Prophet Muhammad, whom the oath that follows confirms as sent.
Urduیٰسٓ۔ یہ حروفِ مقطعات میں سے ہے جن سے بعض سورتوں کا آغاز ہوتا ہے، اور ان کا اصل مفہوم اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اسی لفظ سے اس سورت کا آغاز ہوا اور اسی کی نسبت سے یہ سورت پہچانی جاتی ہے، اور اس کے بعد قرآن کی قسم آتی ہے۔
Arabicيس. حرفان من الحروف المقطَّعة التي افتُتحت بها بعض السور، تُقرأ حروفًا، وعِلْمُ المراد بها عند الله. وقد افتُتحت بها هذه السورة، ثم جاء بعدها القَسَم بالقرآن على إثبات رسالة محمد صلى الله عليه وسلم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2887

درجته: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَبِالْبَصْرَةِ لاَ يَعْرِفُونَ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَهَارُونُ أَبُو مُحَمَّدٍ شَيْخٌ مَجْهُولٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى …
Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed for everything there is a heart, and the Qur'an's heart is Ya Sin. Whoever recites Ya Sin, then for its recitation, Allah writes for him that he recited the Qur'an ten times
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یاسین ہے۔ اور جس نے سورۃ یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا“۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔ ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ ۴- اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

يس

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:2#
وَٱلْقُرْءَانِ ٱلْحَكِيمِ

PickthallBy the wise Qur'an,

Yusuf AliBy the Qur'an, full of Wisdom,-

The agreed readingAn oath by the Qur'an, called wise: a Book perfected in its order and its meanings, and the fitting witness for what is about to be affirmed.
Urduاللہ تعالیٰ قرآنِ حکیم کی قسم کھاتا ہے۔ حکیم کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اپنے نظم اور اپنے معانی اور اپنے احکام میں نہایت محکم اور حکمت سے بھری ہوئی ہے۔ اس قسم سے قرآن کی عظمت ظاہر ہوتی ہے اور آگے آنے والی بات کی تاکید بھی۔
Arabicقَسَمٌ من الله بالقرآن الحكيم، أي المُحكَم في نَظْمه ومعانيه وأحكامه، الذي وُضِع كل شيء فيه موضعه. وفي القَسَم به تعظيمٌ لقَدْره وتنويهٌ بشأنه، وتوكيدٌ للخبر الذي يأتي بعده.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2887

درجته: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَبِالْبَصْرَةِ لاَ يَعْرِفُونَ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَهَارُونُ أَبُو مُحَمَّدٍ شَيْخٌ مَجْهُولٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى …
Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed for everything there is a heart, and the Qur'an's heart is Ya Sin. Whoever recites Ya Sin, then for its recitation, Allah writes for him that he recited the Qur'an ten times
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یاسین ہے۔ اور جس نے سورۃ یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا“۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔ ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ ۴- اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلْقُرْءَانِ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:3#
إِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ

PickthallLo! thou art of those sent

Yusuf AliThou art indeed one of the messengers,

The agreed readingThe thing sworn: Muhammad is truly one of those sent. The commentaries read this as God's own answer to those who denied him that title.
Urduیہ قسم کا جواب ہے: اے نبی ﷺ! آپ یقیناً اللہ کے رسولوں میں سے ہیں۔ یہ بات ان مشرکین کے جواب میں تاکید کے ساتھ کہی گئی جو آپ ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے تھے، اور خود یہی قرآنِ حکیم آپ ﷺ کی رسالت کا سب سے بڑا گواہ اور ثبوت ہے۔
Arabicهذا جواب القَسَم: إنك -أيها الرسول- لواحدٌ من المرسلين الذين أرسلهم الله إلى عباده، فلستَ بِدْعًا من الرسل. وجاء الخبر مؤكَّدًا بالقَسَم وغيره ردًّا على المشركين الذين أنكروا رسالته وقالوا: لستَ مرسلًا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2887

درجته: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَبِالْبَصْرَةِ لاَ يَعْرِفُونَ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَهَارُونُ أَبُو مُحَمَّدٍ شَيْخٌ مَجْهُولٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى …
Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed for everything there is a heart, and the Qur'an's heart is Ya Sin. Whoever recites Ya Sin, then for its recitation, Allah writes for him that he recited the Qur'an ten times
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یاسین ہے۔ اور جس نے سورۃ یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا“۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔ ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ ۴- اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّكَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:4#
عَلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ

PickthallOn a straight path,

Yusuf AliOn a Straight Way.

The agreed readingHe stands on a straight path - the path of the oneness of God that the prophets before him walked.
Urduاور آپ ﷺ سیدھے راستے پر ہیں، ایسے راستے پر جس میں کوئی کجی نہیں اور جو اپنے چلنے والے کو منزل تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جس پر آپ ﷺ سے پہلے انبیاء چلتے رہے۔
Arabicوأنت على طريق مستقيم قويم لا اعوجاج فيه، وهو دين الله وشرعه الذي يبلغ بسالكه الحق. وهو الطريق نفسه الذي كان عليه الأنبياء من قبلك.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 1 من كتب أهل السنة، 8 من كتب الشيعة9 reports cited here — 1 Sunnī, 8 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 8 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 6, no. 2179

درجته: al-Majlisi: ضعيف على المشهور

grading: al-Majlisi: ضعيف على المشهور

درجہ: al-Majlisi: ضعيف على المشهور

عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنِ ابْنِ الْقَدَّاحِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) مَا زَالَ جَبْرَئِيلُ ( عليه السلام ) يُوصِينِي بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ أَدْرَدَ وَ أُحْفِيَ .
3. A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad from Ja‘far ibn Muhammad al-Ash‘ariy from ibn al-Qaddah who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, has said, ‘Jibril continued urging me to brush so much so that I feared of becoming toothless or wearing them thin.’”
عدة من أصحابنا نے سہل بن زياد سے، سہل نے جعفر بن محمد الأشعري سے، جعفر نے ابن القداح سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں: ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: رسول الله صلی الله علیہ وآله فرماتے ہیں: ما زال جبریل علیہ السلام مجھے السواك کے بارے میں نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے خوف ہوا کہ میرے دانت ادرد (گر جائیں) یا میری لثے أحفى ہو جائیں۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَلَىٰ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 4, no. 758

درجته: al-Majlisi: مرسل

grading: al-Majlisi: مرسل

درجہ: al-Majlisi: مرسل

11ـ أَبُو عَلِيٍّ الأَشْعَرِيُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْكُوفِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مَهْزِيَارَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَمَّنْ رَوَاهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلاَم) قَالَ إِنَّ دَاوُدَ لَمَّا وَقَفَ الْمَوْقِفَ بِعَرَفَةَ نَظَرَ إِلَى النَّاسِ وَكَثْرَتِهِمْ فَصَعِدَ الْجَبَلَ فَأَقْبَلَ يَدْعُو فَلَمَّا قَضَى نُسُكَهُ أَتَاهُ جَبْرَئِيلُ (عَلَيْهِ السَّلاَم) فَقَالَ لَهُ يَا دَاوُدُ يَقُولُ لَكَ رَبُّكَ لِمَ صَعِدْتَ الْجَبَلَ ظَنَنْتَ أَنَّهُ يَخْفَى عَلَيَّ صَوْتُ مَنْ صَوَّتَ ثُمَّ مَضَى بِهِ إِلَى الْبَحْرِ إِلَى جُدَّةَ فَرَسَبَ بِهِ فِي الْمَاءِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِينَ صَبَاحاً فِي الْبَرِّ فَإِذَا صَخْرَةٌ فَفَلَقَهَا فَإِذَا فِيهَا دُودَةٌ …
11. Abu Ali al-Ash’ariy has narrated from al-Hassan ibn Ali al-Kufiy from Ali ibn Mahziyar from ‘Uthman ibn ‘Isa from ibn Muskan from those whom he has mentioned who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that Dawud (David) stayed at the station in ‘Arafat and looked at the people who seemed of great number to him. He then climbed the hill and began to pray. When he completed that act of Hajj, Jibril came to him and said, ‘O Dawud, your Lord asks, “Why did you climb the hill? Did you think that the voice of one who calls Me (prays to Me) may remain hidden from Me?”’ He (Jibril) then took him to the sea near Jaddah. He (Jibril) made him swim underwater for a distance equal …
11ـ ابو علي الأشعري نے الحسن بن علي الكوفي سے روایت کی، علي بن مہزيار سے، عثمان بن عيسیٰ سے، ابن مسکان سے، ابو عبد اللہ (عليہ السلام) سے کہا: جب داود عرفہ میں کھڑے ہوئے اور لوگوں کو دیکھا کہ بہت ہیں، تو وہ پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور دعا کرنے لگے۔ جب اپنی حج مکمل کی تو جبرائیل ان کے پاس آئے۔ اور کہا: اے داود، تمہارے رب فرماتے ہیں: تم نے پہاڑ کیوں چڑھا؟ کیا تمہیں خیال ہے کہ جو بھی ہمیں پکارے اس کی آواز مجھ سے چھپی رہے؟ پھر وہ اسے سمندر کے پاس لے گئے، جدہ کی طرف۔ اور اسے پانی میں ڈبویا۔ چالیس صبح کے برابر سفر کے لیے - خشکی میں۔ تو اک پتھر تھا۔ وہ اسے توڑ گئے۔ تو اس میں ایک کیڑا تھا۔ اور کہا: اے داود، تمہارے رب فرماتے ہیں: میں اس کیڑے کی آواز سنتا ہوں - اس پتھر کے اندر - اس سمندر کی گہرائی میں۔ اور …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَلَىٰ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 2, no. 402

درجته: al-Majlisi: ضعيف

grading: al-Majlisi: ضعيف

درجہ: al-Majlisi: ضعيف

5ـ عَنْهُ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (عَلَيهِ السَّلام) قَالَ إِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ.
5. It is narrated from him (narrator of the Hadith above) from ibn Mahbub from ‘Amr ibn Shamir from Jabir from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, is compassionate. He loves kindheartedness and awards for it with such things that He does not give due to rudeness.”
عنہ عن ابن محبوب عن عمرو بن شمر عن جابر عن ابی جعفر (علیہ السلام) نے کہا: الله تعالیٰ رفیق ہے۔ وہ رفق اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور رفق پر ایسا عطا کرتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَلَىٰ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2887

درجته: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَبِالْبَصْرَةِ لاَ يَعْرِفُونَ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَهَارُونُ أَبُو مُحَمَّدٍ شَيْخٌ مَجْهُولٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى …
Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed for everything there is a heart, and the Qur'an's heart is Ya Sin. Whoever recites Ya Sin, then for its recitation, Allah writes for him that he recited the Qur'an ten times
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یاسین ہے۔ اور جس نے سورۃ یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا“۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔ ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ ۴- اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَلَىٰ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 6, no. 2449

درجته: al-Majlisi: ضعيف على المشهور

grading: al-Majlisi: ضعيف على المشهور

درجہ: al-Majlisi: ضعيف على المشهور

الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْوَشَّاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ اخْتَارَ مِنْ كُلِّ شَيْ‏ءٍ شَيْئاً اخْتَارَ مِنَ الْإِبِلِ النَّاقَةَ وَ مِنَ الْغَنَمِ الضَّائِنَةَ .
11. Al-Husayn ibn Muhammad has narrated from Mu‘alla’ ibn Muhammad from al-Washsha’ from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “I once heard abu ‘Abd Allah (a.s.), saying, ‘Allah, most Majestic, most Glorious, has chosen something from everything and from camels, He has chosen she-camels and from sheep He has chosen ewes.’”
۱۱۔ الحسين بن محمد نے معلى بن محمد سے، الوشاء سے، عبد الله بن سنان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابو عبد الله علیہ السلام کو سنا، وہ کہتے تھے: اللہ عزّ وجل نے ہر چیز سے ایک چیز منتخب کی ہے، اونٹوں سے اونٹنی کو منتخب کیا اور بھیڑوں سے مادہ بھیڑ کو۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَلَىٰ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 1, no. 657

درجته: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: ضعيف

grading: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: ضعيف

درجہ: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: ضعيف

2ـ عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلام) قَالَ إِنَّ لله عَزَّ وَجَلَّ عِلْمَيْنِ عِلْماً عِنْدَهُ لَمْ يُطْلِعْ عَلَيْهِ أَحَداً مِنْ خَلْقِهِ وَعِلْماً نَبَذَهُ إِلَى مَلائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ فَمَا نَبَذَهُ إِلَى مَلائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ فَقَدِ انْتَهَى إِلَيْنَا.
2. A number of our people has narrated from Ahmad ibn Muhammad from al-Husayn ibn Sa‘id from al-Qasim ibn Muhammad from Ali ibn abu Hamzah from abu Basir from abu ‘Abdallah (a.s.) who has said the following. “Allah, the Most Holy, the Most High, has two kinds of knowledge. One kind is His only and no creature knows about it. The other kind is that which He has thrown unto His angels and His Messenger. Whatever is thrown to the angels and the Messengers have reached us.”
ہمارے کچھ اصحاب نے احمد بن محمد سے روایت کی، وہ حسین بن سعید سے، وہ قاسم بن محمد سے، وہ علی بن ابی حمزہ سے، وہ ابو بصیر سے، اور ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل کے دو علم ہیں۔ ایک علم تو وہ ہے جو اس کے پاس ہے اور اس نے اپنی کسی مخلوق کو اس کا علم نہیں دیا۔ اور ایک علم وہ ہے جسے اس نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے۔ سو جو علم اس نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے، وہ ہم تک پہنچ گیا ہے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَلَىٰ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 5, no. 206

درجته: Mohseni: معتبر

grading: Mohseni: معتبر

درجہ: Mohseni: معتبر

و ما كان فيه عن مصادف فقد رويته عن محمّد بن موسى بن المتوكّل- رحمه اللّه- عن عبد اللّه بن جعفر الحميريّ، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسن بن محبوب، عن عليّ بن رئاب، عن مصادف‌.
Everything in this book that is narrated from Musadif has been transmitted by me from Muhammad ibn Musa ibn Al-Mutawakkil - may Allah (swt) have mercy on him - from Abdullah ibn Jafar Al-Himyari, from Ahmad ibn Muhammad ibn Isa, from Al-Hasan ibn Mahbub, from Ali ibn Ri'ab, from Musadif.
اور جو کچھ اس میں مصادف سے ہے تو میں نے اسے محمد بن موسیٰ بن المتوکل سے روایت کیا - اللہ انہیں رحمت دے - عبد اللہ بن جعفر الحمیری سے، احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، الحسن بن محبوب سے، علی بن ریاب سے، مصادف سے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَلَىٰ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 5, no. 22

درجته: Mohseni: موثق

grading: Mohseni: موثق

درجہ: Mohseni: موثق

و ما كان فيه عن عبد اللّه بن بكير فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن عبد اللّه ابن جعفر الحميريّ، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسن بن عليّ بن فضّال، عن عبد اللّه بن بكير.
Everything in this book that is narrated from Abdullah ibn Bukayr has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Abdullah ibn Ja'far Al-Himyari, from Ahmad ibn Muhammad ibn Isa, from Al-Hasan ibn Ali ibn Faddal, from Abdullah ibn Bukayr.
اور جو کچھ اس میں عبد اللّه بن بكير سے ہے، تو میں نے اسے اپنے أبي سے روایت کیا ہے - رضي اللّه عنه - عبد اللّه ابن جعفر الحميریّ سے، أحمد بن محمّد بن عيسى سے، الحسن بن عليّ بن فضّال سے، عبد اللّه بن بكير سے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَلَىٰ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 8, no. 74

درجته: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: مجهول

grading: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: مجهول

درجہ: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: مجهول

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ فَضَّالٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْوَابِشِيِّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (عليه السلام) قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ لَنَا جَاراً يَنْتَهِكُ الْمَحَارِمَ كُلَّهَا حَتَّى إِنَّهُ لَيَتْرُكُ الصَّلَاةَ فَضْلًا عَنْ غَيْرِهَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَ أَعْظَمَ ذَلِكَ أَ لَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ قُلْتُ بَلَى قَالَ النَّاصِبُ لَنَا شَرٌّ مِنْهُ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يُذْكَرُ عِنْدَهُ أَهْلُ الْبَيْتِ فَيَرِقُّ لِذِكْرِنَا إِلَّا مَسَحَتِ الْمَلَائِكَةُ ظَهْرَهُ وَ غُفِرَ لَهُ ذُنُوبُهُ كُلُّهَا إِلَّا أَنْ يَجِي‏ءَ بِذَنْبٍ …
72. Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad Bin Isa, from Al-Hassan Bin Ali Bin Fazzaal, from Ali Bin Uqba, form Umar Bin Abaan, from Abdul Hameed Al-Wabishy, who has narrated the following: Abu Ja’far (asws) said, when I said from him (asws), ‘We have a neighbour who violates all the Prohibitions to the extent that he leaves the Prayer as well among other matters’. He (asws) said: ‘Glory be to Allah (azwj)! And that is a great matter. However, shall I (asws) inform you of the one who is more evil than him?’ I said, ‘Yes’. He (asws) said: ‘The one who is hostile to us (asws) (Nasibi) is more evil than him. But rather, there is none from the servant in whose presence the People (asws) of …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، الحسن بن علی بن فضال سے، علی بن عقبہ سے، عمر بن ابان سے، عبدالحمید الواbishی سے، ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کی، کہا: میں نے کہا: ہمارے پاس ایک پڑوسی ہے جو تمام حرام کاموں میں ملوث ہے یہاں تک کہ نماز بھی نہیں پڑھتا۔ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ بہت بڑی بات ہے۔ کیا میں تمہیں ایسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس سے زیادہ برا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ہمارے دشمن (ناصبی) اس سے زیادہ برے ہیں۔ لیکن یقیناً ہر بندہ جس کے سامنے اہل بیت کا ذکر ہو اور وہ ہمارے یادگار سے رقیق ہو جائے، فرشتے اس کی پیٹھ کو مسح کریں اور اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں - سوائے اس کے کہ اگر وہ کوئی ایسا گناہ کرے جو ایمان سے نکال دے۔ شفاعت قبول ہے لیکن ناصبی کے لیے قبول …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

عَلَىٰ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:5#
تَنزِيلَ ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ

PickthallA revelation of the Mighty, the Merciful,

Yusuf AliIt is a Revelation sent down by (Him), the Exalted in Might, Most Merciful.

The agreed readingWhat he brings is a sending-down from God, the Mighty in His dominion, the Merciful toward His creation.
Urduیہ قرآن اُس اللہ کا نازل کردہ ہے جو زبردست ہے کہ اس کے فیصلے کو کوئی روک نہیں سکتا، اور رحم فرمانے والا ہے کہ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ اس کا رسول بھیجنا اور یہ کتاب اتارنا خود اسی رحمت کا اظہار ہے۔
Arabicهذا القرآن مُنَزَّلٌ من عند الله العزيز الذي لا يغلبه شيء ولا يُقهَر في مُلكه، الرحيم بعباده. ومن رحمته بهم أن أنزل إليهم هذا الكتاب وأرسل إليهم رسوله.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 1 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة3 reports cited here — 1 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 1, no. 657

درجته: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: ضعيف

grading: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: ضعيف

درجہ: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: ضعيف

2ـ عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلام) قَالَ إِنَّ لله عَزَّ وَجَلَّ عِلْمَيْنِ عِلْماً عِنْدَهُ لَمْ يُطْلِعْ عَلَيْهِ أَحَداً مِنْ خَلْقِهِ وَعِلْماً نَبَذَهُ إِلَى مَلائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ فَمَا نَبَذَهُ إِلَى مَلائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ فَقَدِ انْتَهَى إِلَيْنَا.
2. A number of our people has narrated from Ahmad ibn Muhammad from al-Husayn ibn Sa‘id from al-Qasim ibn Muhammad from Ali ibn abu Hamzah from abu Basir from abu ‘Abdallah (a.s.) who has said the following. “Allah, the Most Holy, the Most High, has two kinds of knowledge. One kind is His only and no creature knows about it. The other kind is that which He has thrown unto His angels and His Messenger. Whatever is thrown to the angels and the Messengers have reached us.”
ہمارے کچھ اصحاب نے احمد بن محمد سے روایت کی، وہ حسین بن سعید سے، وہ قاسم بن محمد سے، وہ علی بن ابی حمزہ سے، وہ ابو بصیر سے، اور ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل کے دو علم ہیں۔ ایک علم تو وہ ہے جو اس کے پاس ہے اور اس نے اپنی کسی مخلوق کو اس کا علم نہیں دیا۔ اور ایک علم وہ ہے جسے اس نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے۔ سو جو علم اس نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے، وہ ہم تک پہنچ گیا ہے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

تَنزِيلَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 2, no. 1222

2789 - وَ رَوَى اِبْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : فِي رَجُلٍ نَسِيَ طَوَافَ اَلنِّسَاءِ قَالَ «إِذَا زَادَ عَلَى اَلنِّصْفِ وَ خَرَجَ نَاسِياً أَمَرَ مَنْ يَطُوفُ عَنْهُ وَ لَهُ أَنْ يَقْرَبَ اَلنِّسَاءَ إِذَا زَادَ عَلَى اَلنِّصْفِ ». وَ رُوِيَ: «فِيمَنْ تَرَكَ طَوَافَ اَلنِّسَاءِ أَنَّهُ إِنْ كَانَ طَافَ طَوَافَ اَلْوَدَاعِ فَهُوَ طَوَافُ اَلنِّسَاءِ ».
Hadith.2789 - Ibn Mahbub narrated from Ali ibn Abi Hamzah, from Abu Basir, from Imam Abu Abdullah (as), regarding a man who forgot to perform Tawaf al-Nisa. Imam (as) said: "If he has completed more than half of the tawaf and then left forgetting to complete it, he may appoint someone to complete the tawaf on his behalf. In this case, he is permitted to approach women if he has completed more than half of the tawaf." It is also narrated: "For someone who has left out Tawaf al-Nisa, if they have performed Tawaf al-Wada‘ (the farewell tawaf), it is considered as fulfilling Tawaf al-Nisa."
ابن محبوب نے علی بن ابی حمزہ سے روایت کی، ابو بصیر سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے: ایک آدمی کے بارے میں جو طواف النساء بھول گیا۔ کہا: جب وہ نصف سے زیادہ کو پورا کر چکے اور بھولتے ہوئے باہر نکل گئے، تو اسے کسی کو اپنی طرف سے طواف کرنے کا حکم دو۔ اور اسے عورتوں کے قریب جانے کی اجازت ہے جب وہ نصف سے زیادہ کو پورا کر چکے۔ اور یہ بھی روایت ہے: جو طواف النساء کو ترک کرے، اگر وہ طواف الوداع کر چکے ہوں تو یہ طواف النساء کے لیے کافی ہے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

تَنزِيلَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2887

درجته: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Mawdu · Bashar Awad Maarouf: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَبِالْبَصْرَةِ لاَ يَعْرِفُونَ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَهَارُونُ أَبُو مُحَمَّدٍ شَيْخٌ مَجْهُولٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى …
Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed for everything there is a heart, and the Qur'an's heart is Ya Sin. Whoever recites Ya Sin, then for its recitation, Allah writes for him that he recited the Qur'an ten times
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یاسین ہے۔ اور جس نے سورۃ یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا“۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔ ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ ۴- اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

تَنزِيلَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:6#
لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمْ فَهُمْ غَٰفِلُونَ

PickthallThat thou mayst warn a folk whose fathers were not warned, so they are heedless.

Yusuf AliIn order that thou mayest admonish a people, whose fathers had received no admonition, and who therefore remain heedless (of the Signs of Allah).

The agreed readingIt is sent so that he may warn a people to whose fathers no warner had come in the long interval before him, and who are therefore heedless.
Urduیہ کتاب اس لیے اتاری گئی کہ آپ ﷺ اس قوم کو خبردار کریں جن کے باپ دادا کو خبردار نہیں کیا گیا تھا، اس لیے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ایک طویل مدت سے ان میں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا، اسی لیے وہ دینِ حق سے بےخبر ہو چکے تھے۔
Arabicأُنزل إليك لتحذِّر به قومًا لم يأتِهم نذيرٌ من قبلك زمنًا طويلًا، فهم غافلون عن الإيمان والهدى ساهون عنه. وكل أمة ينقطع عنها الإنذار تقع في مثل هذه الغفلة، فتحتاج إلى من يُذكِّرها.
36:7#
لَقَدْ حَقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَىٰٓ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

PickthallAlready hath the judgment, (for their infidelity) proved true of most of them, for they believe not.

Yusuf AliThe Word is proved true against the greater part of them: for they do not believe.

The agreed readingAgainst most of them the word has already proved true - the sentence of punishment has fallen due, the commentaries gloss, after the truth was set before them and refused. They do not believe.
Urduان میں سے اکثر لوگوں پر اللہ کا فیصلۂ عذاب ثابت ہو چکا ہے، اس لیے اب وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ ان کی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے کہ حق سامنے آنے کے بعد بھی انہوں نے انکار ہی کو اپنائے رکھا، اور اللہ ان کے دلوں کے حال سے واقف تھا۔
Arabicلقد ثبت ووجب قول الله بالعذاب على أكثر هؤلاء، بعد أن بلغهم الحق فردُّوه وأصرُّوا على تكذيبه. فهم لا يؤمنون بالله ولا برسوله ولا يعملون بما جاءهم من الحق.
36:8#
إِنَّا جَعَلْنَا فِىٓ أَعْنَٰقِهِمْ أَغْلَٰلًا فَهِىَ إِلَى ٱلْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ

PickthallLo! We have put on their necks carcans reaching unto the chins, so that they are made stiff-necked.

Yusuf AliWe have put yokes round their necks right up to their chins, so that their heads are forced up (and they cannot see).

The agreed readingAn image of their state: collars on their necks reaching to the chins, forcing their heads up. The commentaries explain that the collar binds the hands to the neck, so nothing can be reached for - least of all the guidance.
Urduان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کی گردن میں طوق ڈال دیا گیا ہو جس میں ہاتھ بھی گردن کے ساتھ ٹھوڑی تک جکڑ دیے گئے ہوں، اس لیے ان کے سر اوپر کو اٹھے رہ گئے ہیں اور وہ انہیں جھکا نہیں سکتے۔ یہ تکبر اور ہٹ دھرمی کی تصویر ہے کہ وہ حق کی طرف گردن نہیں موڑتے اور نہ اس کے آگے سر جھکاتے ہیں۔
Arabicمَثَلُهم في امتناعهم عن الحق مَثَلُ من جُعلت في أعناقهم أغلال، ضُمَّت بها أيديهم إلى أعناقهم تحت الأذقان، فارتفعت رؤوسهم لا يستطيعون خفضها. فهم لا يَلْوُون أعناقهم إلى الحق ولا يخفضون له رؤوسهم.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 2554

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ وَذَكَرَ عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ فَجَاءَ قَوْمٌ عُرَاةً حُفَاةً مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا …
Al-Mundhir bin Jarir narrated that his father said:"While we were with the Messenger of Allah in the early hours of the morning, some people came who were naked and barefoot, with their swords hung (around their necks). Most of them, may all of them, belonged to the tribe of Mudar. The face of the Messenger of Allah changed when he saw them in poverty. He went in (to his house) then he came out and ordered Bilah to call the Adhan and then the Iqamah. He (the Prophet) prayed, tjem je addressed te,, (reciting the Verses): 'O mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person (Adam), and from him(Adam) He created his wife [Hawwa (Eve)], and from them both He created many …
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ ننگے بدن، ننگے پیر، تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، زیادہ تر لوگ قبیلہ مضر کے تھے، بلکہ سبھی مضر ہی کے تھے۔ ان کی فاقہ مستی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ اندر گئے، پھر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی، آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ نے خطبہ دیا، تو فرمایا: ”لوگو! ڈرو، تم اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور انہیں دونوں ( میاں بیوی ) سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیئے۔ اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سب ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ قرابت داریوں کا خیال رکھو کہ وہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 1614

درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حُيَىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ: ‏"‏ يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:“A man died in Al- Madinah, and he was one of those who were born in Al-Madinah. The Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer for him and said: “Would that he had died somewhere other than his birthplace.” A man among the people said: “Why, O Messenger of Allah?” He said: “If a man dies somewhere other than his birthplace, a space will be measured for him in Paradise (as big as the distance) from the place where he was born to the place where he died.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے ۱؎ ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 2351

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ، بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ قَالَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ‏}‏ إِلَى …
Mundhir b. Jarir reported on the authority of his father:While we were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) in the early hours of the morning, some people came there (who) were barefooted, naked, wearing striped woollen clothes, or cloaks, with their swords hung (around their necks). Most of them, nay, all of them, belonged to the tribe of Mudar. The colour of the face of the Messenger of Allah (ﷺ) underwent a change when he saw them in poverty. He then entered (his house) and came out and commanded Bilal (to pronounce Adhan). He pronounced Adhan and Iqima, and he (the Holy Prophet) observed prayer (along with his Companion) and then addressed (them reciting verses of the Holy …
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے حدیث بیان کی ، ا نھوں نے منذر بن جریر سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا ؛ ہم دن کے ابتدا ئی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ظر تھے کہ آپ کے پا س کچھ لو گ ننگے پاؤں ننگے بدن سوراخ کر کے دن کی دھا ری دار چادریں یا غبائیں گلے میں ڈا لے اور تلواریں لٹکا ئے ہو ئے آئے ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے ان کی فاقہ زدگی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ نور غمزدہ ہو گیا آپ اندر تشریف لے گئے پھر با ہر نکلے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی آپ نے نماز ادا کی ، پھر خطبہ دیا اور فرما یا : " اے لو گو !اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جا ن سے پیدا کیا ۔ ۔ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3226

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَتْ بَنُو سَلِمَةَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَرَادُوا النُّقْلَةَ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏:‏ ‏(‏إنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ‏)‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ آثَارَكُمْ تُكْتَبُ ‏فَلا يَنْتَقِلُوا‏" .‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ وَأَبُو سُفْيَانَ هُوَ طَرِيفٌ السَّعْدِيُّ ‏.‏
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:"Banu Salamah's dwellings were on the outskirts of Al-Madinah, so they wanted to relocate closer to the Masjid. Then this Ayah was revealed: 'Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them), and their traces... (36:12)' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your steps are recorded, so do not relocate
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ ( قبیلہ کے لوگ ) مدینہ کے کسی نواحی علاقہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے منتقل ہو کر مسجد ( نبوی ) کے قریب آ کر آباد ہونے کا ارادہ کیا تو یہ آیت «إنا نحن نحي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم» ”ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور وہ جو آگے بھیجتے ہیں اسے ہم لکھ لیتے ہیں اور ( مسجد کی طرف آنے و جانے والے ) آثار قدم بھی ہم ( گن کر ) لکھ لیتے ہیں“ ( یس: ۱۲ ) نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، اس لیے تم اپنے گھر نہ بدلو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ثوری سے مروی یہ حدیث حسن غریب ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 785

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ الأَنْصَارُ بَعِيدَةً مَنَازِلُهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادُوا أَنْ يَقْتَرِبُوا فَنَزَلَتْ ‏{وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ}‏ قَالَ فَثَبَتُوا ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The houses of the Ansar were far from the mosque and they wanted to move closer. Then the following Verse was revealed: 'We record that which they send before (them), and their traces.'" [Ya-Sin: 12] He said: So they remained (where they were)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آ جائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ونكتب ما قدموا وآثارهم» ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے ( يسين: 12 ) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 1832

درجته: Abu Ghuddah: Hasan · Al-Albani: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Abu Ghuddah: Hasan · Al-Albani: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Abu Ghuddah: Hasan · Al-Albani: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُيَىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مَاتَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا لَيْتَهُ مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 2353

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ‏}‏ الآيَةَ ‏"‏ ‏.‏
Mundhir b. Jarir narrated on the authority of his father:When we were sitting in the company of the Messenger of Allah (ﷺ). There came people dressed in striped woollen clothes, and the rest of the hadith in the same, and there (it is also mentioned):" He observed the Zuhr prayer and then climbed up a small pulpit, praised Allah, lauded Him, and then said: Verily Allah in His Book has revealed: 'O people, fear your Lord, ' etc." (iv)
عبدالملک بن عمیر نے منذر بن جریر سے اور انھوں نےاپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم درمیا ن میں سوراخ کرکے اون کی دھاری دار چیتھڑے گلے میں ڈالے آئی ۔ ۔ ۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے : آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر ایک چھوٹے سے منبر پر تشریف لےگئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے : " اےلوگو!اپنے رب سے ڈرو ۔ " آیت کے آخر تک ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 6803

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالُوا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ، بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
Jarir transmitted this hadith from his father through several other chains of narrators
عبدالملک بن عمیر اور عون بن ابی الجحیفہ نے مُنذِر بن جریر سے ، انہوں نے اپنے والد ( جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:9#
وَجَعَلْنَا مِنۢ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَٰهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ

PickthallAnd We have set a bar before them and a bar behind them, and (thus) have covered them so that they see not.

Yusuf AliAnd We have put a bar in front of them and a bar behind them, and further, We have covered them up; so that they cannot see.

The agreed readingA barrier set before them and a barrier behind them, and their eyes covered over: the commentaries read it as a likeness for the ways of faith being blocked, so they do not see.
Urduاور ہم نے ان کے آگے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار کھڑی کر دی اور انہیں ڈھانپ دیا، اس لیے وہ کچھ نہیں دیکھتے۔ نہ وہ اپنے آگے کے انجام پر نظر کرتے ہیں اور نہ پیچھے گزری ہوئی قوموں سے عبرت لیتے ہیں، ان کے تعصب نے ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیے ہیں۔
Arabicوجعلنا أمامهم حاجزًا ومن خلفهم حاجزًا، وغطَّينا أبصارهم فهم لا يبصرون. فمثلهم مَثَلُ من سُدَّ عليه الطريق من بين يديه ومن ورائه: لا يتأمَّل ولا يستبصر، ولا يرى الحق الذي بين يديه.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 2554

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ وَذَكَرَ عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ فَجَاءَ قَوْمٌ عُرَاةً حُفَاةً مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا …
Al-Mundhir bin Jarir narrated that his father said:"While we were with the Messenger of Allah in the early hours of the morning, some people came who were naked and barefoot, with their swords hung (around their necks). Most of them, may all of them, belonged to the tribe of Mudar. The face of the Messenger of Allah changed when he saw them in poverty. He went in (to his house) then he came out and ordered Bilah to call the Adhan and then the Iqamah. He (the Prophet) prayed, tjem je addressed te,, (reciting the Verses): 'O mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person (Adam), and from him(Adam) He created his wife [Hawwa (Eve)], and from them both He created many …
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ ننگے بدن، ننگے پیر، تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، زیادہ تر لوگ قبیلہ مضر کے تھے، بلکہ سبھی مضر ہی کے تھے۔ ان کی فاقہ مستی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ اندر گئے، پھر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی، آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ نے خطبہ دیا، تو فرمایا: ”لوگو! ڈرو، تم اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور انہیں دونوں ( میاں بیوی ) سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیئے۔ اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سب ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ قرابت داریوں کا خیال رکھو کہ وہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَجَعَلْنَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 2351

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ، بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ قَالَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ‏}‏ إِلَى …
Mundhir b. Jarir reported on the authority of his father:While we were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) in the early hours of the morning, some people came there (who) were barefooted, naked, wearing striped woollen clothes, or cloaks, with their swords hung (around their necks). Most of them, nay, all of them, belonged to the tribe of Mudar. The colour of the face of the Messenger of Allah (ﷺ) underwent a change when he saw them in poverty. He then entered (his house) and came out and commanded Bilal (to pronounce Adhan). He pronounced Adhan and Iqima, and he (the Holy Prophet) observed prayer (along with his Companion) and then addressed (them reciting verses of the Holy …
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے حدیث بیان کی ، ا نھوں نے منذر بن جریر سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا ؛ ہم دن کے ابتدا ئی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ظر تھے کہ آپ کے پا س کچھ لو گ ننگے پاؤں ننگے بدن سوراخ کر کے دن کی دھا ری دار چادریں یا غبائیں گلے میں ڈا لے اور تلواریں لٹکا ئے ہو ئے آئے ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے ان کی فاقہ زدگی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ نور غمزدہ ہو گیا آپ اندر تشریف لے گئے پھر با ہر نکلے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی آپ نے نماز ادا کی ، پھر خطبہ دیا اور فرما یا : " اے لو گو !اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جا ن سے پیدا کیا ۔ ۔ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَجَعَلْنَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 1614

درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حُيَىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ: ‏"‏ يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:“A man died in Al- Madinah, and he was one of those who were born in Al-Madinah. The Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer for him and said: “Would that he had died somewhere other than his birthplace.” A man among the people said: “Why, O Messenger of Allah?” He said: “If a man dies somewhere other than his birthplace, a space will be measured for him in Paradise (as big as the distance) from the place where he was born to the place where he died.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے ۱؎ ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَجَعَلْنَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3226

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَتْ بَنُو سَلِمَةَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَرَادُوا النُّقْلَةَ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏:‏ ‏(‏إنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ‏)‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ آثَارَكُمْ تُكْتَبُ ‏فَلا يَنْتَقِلُوا‏" .‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ وَأَبُو سُفْيَانَ هُوَ طَرِيفٌ السَّعْدِيُّ ‏.‏
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:"Banu Salamah's dwellings were on the outskirts of Al-Madinah, so they wanted to relocate closer to the Masjid. Then this Ayah was revealed: 'Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them), and their traces... (36:12)' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your steps are recorded, so do not relocate
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ ( قبیلہ کے لوگ ) مدینہ کے کسی نواحی علاقہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے منتقل ہو کر مسجد ( نبوی ) کے قریب آ کر آباد ہونے کا ارادہ کیا تو یہ آیت «إنا نحن نحي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم» ”ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور وہ جو آگے بھیجتے ہیں اسے ہم لکھ لیتے ہیں اور ( مسجد کی طرف آنے و جانے والے ) آثار قدم بھی ہم ( گن کر ) لکھ لیتے ہیں“ ( یس: ۱۲ ) نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، اس لیے تم اپنے گھر نہ بدلو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ثوری سے مروی یہ حدیث حسن غریب ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَجَعَلْنَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 785

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ الأَنْصَارُ بَعِيدَةً مَنَازِلُهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادُوا أَنْ يَقْتَرِبُوا فَنَزَلَتْ ‏{وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ}‏ قَالَ فَثَبَتُوا ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The houses of the Ansar were far from the mosque and they wanted to move closer. Then the following Verse was revealed: 'We record that which they send before (them), and their traces.'" [Ya-Sin: 12] He said: So they remained (where they were)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آ جائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ونكتب ما قدموا وآثارهم» ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے ( يسين: 12 ) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَجَعَلْنَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 1832

درجته: Abu Ghuddah: Hasan · Al-Albani: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Abu Ghuddah: Hasan · Al-Albani: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Abu Ghuddah: Hasan · Al-Albani: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُيَىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مَاتَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا لَيْتَهُ مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَجَعَلْنَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:10#
وَسَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

PickthallWhether thou warn them or thou warn them not, it is alike for them, for they believe not.

Yusuf AliThe same is it to them whether thou admonish them or thou do not admonish them: they will not believe.

The agreed readingFor such people it is all one whether they are warned or not warned; they do not believe.
Urduان کے حق میں برابر ہے، خواہ آپ ﷺ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ جو دل حق قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہ ہوں ان پر انذار اثر نہیں کرتا۔
Arabicوسواءٌ عند هؤلاء المعاندين أحذَّرتهم -أيها الرسول- أم لم تحذِّرهم، فهم لا يؤمنون بما جئتَ به من عند الله. فقد بلغ بهم العناد أن استوى عندهم الإنذار وتركه.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 2554

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ وَذَكَرَ عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ فَجَاءَ قَوْمٌ عُرَاةً حُفَاةً مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا …
Al-Mundhir bin Jarir narrated that his father said:"While we were with the Messenger of Allah in the early hours of the morning, some people came who were naked and barefoot, with their swords hung (around their necks). Most of them, may all of them, belonged to the tribe of Mudar. The face of the Messenger of Allah changed when he saw them in poverty. He went in (to his house) then he came out and ordered Bilah to call the Adhan and then the Iqamah. He (the Prophet) prayed, tjem je addressed te,, (reciting the Verses): 'O mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person (Adam), and from him(Adam) He created his wife [Hawwa (Eve)], and from them both He created many …
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ ننگے بدن، ننگے پیر، تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، زیادہ تر لوگ قبیلہ مضر کے تھے، بلکہ سبھی مضر ہی کے تھے۔ ان کی فاقہ مستی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ اندر گئے، پھر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی، آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ نے خطبہ دیا، تو فرمایا: ”لوگو! ڈرو، تم اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور انہیں دونوں ( میاں بیوی ) سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیئے۔ اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سب ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ قرابت داریوں کا خیال رکھو کہ وہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَسَوَآءٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 2351

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ، بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ قَالَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ‏}‏ إِلَى …
Mundhir b. Jarir reported on the authority of his father:While we were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) in the early hours of the morning, some people came there (who) were barefooted, naked, wearing striped woollen clothes, or cloaks, with their swords hung (around their necks). Most of them, nay, all of them, belonged to the tribe of Mudar. The colour of the face of the Messenger of Allah (ﷺ) underwent a change when he saw them in poverty. He then entered (his house) and came out and commanded Bilal (to pronounce Adhan). He pronounced Adhan and Iqima, and he (the Holy Prophet) observed prayer (along with his Companion) and then addressed (them reciting verses of the Holy …
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے حدیث بیان کی ، ا نھوں نے منذر بن جریر سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا ؛ ہم دن کے ابتدا ئی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ظر تھے کہ آپ کے پا س کچھ لو گ ننگے پاؤں ننگے بدن سوراخ کر کے دن کی دھا ری دار چادریں یا غبائیں گلے میں ڈا لے اور تلواریں لٹکا ئے ہو ئے آئے ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے ان کی فاقہ زدگی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ نور غمزدہ ہو گیا آپ اندر تشریف لے گئے پھر با ہر نکلے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی آپ نے نماز ادا کی ، پھر خطبہ دیا اور فرما یا : " اے لو گو !اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جا ن سے پیدا کیا ۔ ۔ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَسَوَآءٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 1614

درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حُيَىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ: ‏"‏ يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:“A man died in Al- Madinah, and he was one of those who were born in Al-Madinah. The Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer for him and said: “Would that he had died somewhere other than his birthplace.” A man among the people said: “Why, O Messenger of Allah?” He said: “If a man dies somewhere other than his birthplace, a space will be measured for him in Paradise (as big as the distance) from the place where he was born to the place where he died.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے ۱؎ ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَسَوَآءٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3226

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَتْ بَنُو سَلِمَةَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَرَادُوا النُّقْلَةَ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏:‏ ‏(‏إنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ‏)‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ آثَارَكُمْ تُكْتَبُ ‏فَلا يَنْتَقِلُوا‏" .‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ وَأَبُو سُفْيَانَ هُوَ طَرِيفٌ السَّعْدِيُّ ‏.‏
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:"Banu Salamah's dwellings were on the outskirts of Al-Madinah, so they wanted to relocate closer to the Masjid. Then this Ayah was revealed: 'Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them), and their traces... (36:12)' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your steps are recorded, so do not relocate
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ ( قبیلہ کے لوگ ) مدینہ کے کسی نواحی علاقہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے منتقل ہو کر مسجد ( نبوی ) کے قریب آ کر آباد ہونے کا ارادہ کیا تو یہ آیت «إنا نحن نحي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم» ”ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور وہ جو آگے بھیجتے ہیں اسے ہم لکھ لیتے ہیں اور ( مسجد کی طرف آنے و جانے والے ) آثار قدم بھی ہم ( گن کر ) لکھ لیتے ہیں“ ( یس: ۱۲ ) نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، اس لیے تم اپنے گھر نہ بدلو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ثوری سے مروی یہ حدیث حسن غریب ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَسَوَآءٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 785

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ الأَنْصَارُ بَعِيدَةً مَنَازِلُهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادُوا أَنْ يَقْتَرِبُوا فَنَزَلَتْ ‏{وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ}‏ قَالَ فَثَبَتُوا ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The houses of the Ansar were far from the mosque and they wanted to move closer. Then the following Verse was revealed: 'We record that which they send before (them), and their traces.'" [Ya-Sin: 12] He said: So they remained (where they were)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آ جائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ونكتب ما قدموا وآثارهم» ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے ( يسين: 12 ) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَسَوَآءٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 1832

درجته: Abu Ghuddah: Hasan · Al-Albani: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Abu Ghuddah: Hasan · Al-Albani: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Abu Ghuddah: Hasan · Al-Albani: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُيَىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مَاتَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا لَيْتَهُ مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَسَوَآءٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 651

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلاَةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "The people who get tremendous reward for the prayer are those who are farthest away (from the mosque) and then those who are next farthest and so on. Similarly one who waits to pray with the Imam has greater reward than one who prays and goes to bed
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے برید بن عبداللہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر وہ شخص ہوتا ہے، جو ( مسجد میں نماز کے لیے ) زیادہ سے زیادہ دور سے آئے اور جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے اور پھر امام کے ساتھ پڑھتا ہے اس شخص سے اجر میں بڑھ کر ہے جو ( پہلے ہی ) پڑھ کر سو جائے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَسَوَآءٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 2353

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ‏}‏ الآيَةَ ‏"‏ ‏.‏
Mundhir b. Jarir narrated on the authority of his father:When we were sitting in the company of the Messenger of Allah (ﷺ). There came people dressed in striped woollen clothes, and the rest of the hadith in the same, and there (it is also mentioned):" He observed the Zuhr prayer and then climbed up a small pulpit, praised Allah, lauded Him, and then said: Verily Allah in His Book has revealed: 'O people, fear your Lord, ' etc." (iv)
عبدالملک بن عمیر نے منذر بن جریر سے اور انھوں نےاپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم درمیا ن میں سوراخ کرکے اون کی دھاری دار چیتھڑے گلے میں ڈالے آئی ۔ ۔ ۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے : آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر ایک چھوٹے سے منبر پر تشریف لےگئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے : " اےلوگو!اپنے رب سے ڈرو ۔ " آیت کے آخر تک ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَسَوَآءٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:11#
إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكْرَ وَخَشِىَ ٱلرَّحْمَٰنَ بِٱلْغَيْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ

PickthallThou warnest only him who followeth the Reminder and feareth the Beneficent in secret. To him bear tidings of forgiveness and a rich reward.

Yusuf AliThou canst but admonish such a one as follows the Message and fears the (Lord) Most Gracious, unseen: give such a one, therefore, good tidings, of Forgiveness and a Reward most generous.

The agreed readingThe warning profits only the one who follows the Reminder and fears the All-Merciful unseen. To him belongs the good news of forgiveness and a generous reward - the Garden.
Urduآپ ﷺ کا خبردار کرنا اسی شخص کو فائدہ دیتا ہے جو اس نصیحت یعنی قرآن کی پیروی کرے اور بن دیکھے رحمٰن سے ڈرے۔ ایسے شخص کو مغفرت اور باعزت اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔
Arabicإنما ينفع إنذارُك مَن اتَّبع القرآن وعمل بما فيه، وخاف الرحمن في الغيب حيث لا يراه أحد. فبشِّر مَن كان كذلك بمغفرة من الله لذنوبه وبأجرٍ كريم عنده في الآخرة.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 2554

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ وَذَكَرَ عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ فَجَاءَ قَوْمٌ عُرَاةً حُفَاةً مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا …
Al-Mundhir bin Jarir narrated that his father said:"While we were with the Messenger of Allah in the early hours of the morning, some people came who were naked and barefoot, with their swords hung (around their necks). Most of them, may all of them, belonged to the tribe of Mudar. The face of the Messenger of Allah changed when he saw them in poverty. He went in (to his house) then he came out and ordered Bilah to call the Adhan and then the Iqamah. He (the Prophet) prayed, tjem je addressed te,, (reciting the Verses): 'O mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person (Adam), and from him(Adam) He created his wife [Hawwa (Eve)], and from them both He created many …
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ ننگے بدن، ننگے پیر، تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، زیادہ تر لوگ قبیلہ مضر کے تھے، بلکہ سبھی مضر ہی کے تھے۔ ان کی فاقہ مستی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ اندر گئے، پھر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی، آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ نے خطبہ دیا، تو فرمایا: ”لوگو! ڈرو، تم اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور انہیں دونوں ( میاں بیوی ) سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیئے۔ اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سب ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ قرابت داریوں کا خیال رکھو کہ وہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 2351

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ، بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ قَالَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ‏}‏ إِلَى …
Mundhir b. Jarir reported on the authority of his father:While we were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) in the early hours of the morning, some people came there (who) were barefooted, naked, wearing striped woollen clothes, or cloaks, with their swords hung (around their necks). Most of them, nay, all of them, belonged to the tribe of Mudar. The colour of the face of the Messenger of Allah (ﷺ) underwent a change when he saw them in poverty. He then entered (his house) and came out and commanded Bilal (to pronounce Adhan). He pronounced Adhan and Iqima, and he (the Holy Prophet) observed prayer (along with his Companion) and then addressed (them reciting verses of the Holy …
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے حدیث بیان کی ، ا نھوں نے منذر بن جریر سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا ؛ ہم دن کے ابتدا ئی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ظر تھے کہ آپ کے پا س کچھ لو گ ننگے پاؤں ننگے بدن سوراخ کر کے دن کی دھا ری دار چادریں یا غبائیں گلے میں ڈا لے اور تلواریں لٹکا ئے ہو ئے آئے ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے ان کی فاقہ زدگی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ نور غمزدہ ہو گیا آپ اندر تشریف لے گئے پھر با ہر نکلے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی آپ نے نماز ادا کی ، پھر خطبہ دیا اور فرما یا : " اے لو گو !اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جا ن سے پیدا کیا ۔ ۔ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 1614

درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حُيَىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ: ‏"‏ يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:“A man died in Al- Madinah, and he was one of those who were born in Al-Madinah. The Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer for him and said: “Would that he had died somewhere other than his birthplace.” A man among the people said: “Why, O Messenger of Allah?” He said: “If a man dies somewhere other than his birthplace, a space will be measured for him in Paradise (as big as the distance) from the place where he was born to the place where he died.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے ۱؎ ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3226

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَتْ بَنُو سَلِمَةَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَرَادُوا النُّقْلَةَ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏:‏ ‏(‏إنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ‏)‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ آثَارَكُمْ تُكْتَبُ ‏فَلا يَنْتَقِلُوا‏" .‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ وَأَبُو سُفْيَانَ هُوَ طَرِيفٌ السَّعْدِيُّ ‏.‏
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:"Banu Salamah's dwellings were on the outskirts of Al-Madinah, so they wanted to relocate closer to the Masjid. Then this Ayah was revealed: 'Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them), and their traces... (36:12)' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your steps are recorded, so do not relocate
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ ( قبیلہ کے لوگ ) مدینہ کے کسی نواحی علاقہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے منتقل ہو کر مسجد ( نبوی ) کے قریب آ کر آباد ہونے کا ارادہ کیا تو یہ آیت «إنا نحن نحي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم» ”ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور وہ جو آگے بھیجتے ہیں اسے ہم لکھ لیتے ہیں اور ( مسجد کی طرف آنے و جانے والے ) آثار قدم بھی ہم ( گن کر ) لکھ لیتے ہیں“ ( یس: ۱۲ ) نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، اس لیے تم اپنے گھر نہ بدلو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ثوری سے مروی یہ حدیث حسن غریب ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 785

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ الأَنْصَارُ بَعِيدَةً مَنَازِلُهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادُوا أَنْ يَقْتَرِبُوا فَنَزَلَتْ ‏{وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ}‏ قَالَ فَثَبَتُوا ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The houses of the Ansar were far from the mosque and they wanted to move closer. Then the following Verse was revealed: 'We record that which they send before (them), and their traces.'" [Ya-Sin: 12] He said: So they remained (where they were)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آ جائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ونكتب ما قدموا وآثارهم» ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے ( يسين: 12 ) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 1832

درجته: Abu Ghuddah: Hasan · Al-Albani: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Abu Ghuddah: Hasan · Al-Albani: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Abu Ghuddah: Hasan · Al-Albani: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُيَىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مَاتَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا لَيْتَهُ مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 651

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلاَةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Musa:The Prophet (ﷺ) said, "The people who get tremendous reward for the prayer are those who are farthest away (from the mosque) and then those who are next farthest and so on. Similarly one who waits to pray with the Imam has greater reward than one who prays and goes to bed
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے برید بن عبداللہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر وہ شخص ہوتا ہے، جو ( مسجد میں نماز کے لیے ) زیادہ سے زیادہ دور سے آئے اور جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے اور پھر امام کے ساتھ پڑھتا ہے اس شخص سے اجر میں بڑھ کر ہے جو ( پہلے ہی ) پڑھ کر سو جائے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 2353

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ‏}‏ الآيَةَ ‏"‏ ‏.‏
Mundhir b. Jarir narrated on the authority of his father:When we were sitting in the company of the Messenger of Allah (ﷺ). There came people dressed in striped woollen clothes, and the rest of the hadith in the same, and there (it is also mentioned):" He observed the Zuhr prayer and then climbed up a small pulpit, praised Allah, lauded Him, and then said: Verily Allah in His Book has revealed: 'O people, fear your Lord, ' etc." (iv)
عبدالملک بن عمیر نے منذر بن جریر سے اور انھوں نےاپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم درمیا ن میں سوراخ کرکے اون کی دھاری دار چیتھڑے گلے میں ڈالے آئی ۔ ۔ ۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے : آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر ایک چھوٹے سے منبر پر تشریف لےگئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے : " اےلوگو!اپنے رب سے ڈرو ۔ " آیت کے آخر تک ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:12#
إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا۟ وَءَاثَٰرَهُمْ وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَٰهُ فِىٓ إِمَامٍ مُّبِينٍ

PickthallLo! We it is Who bring the dead to life. We record that which they send before (them, and their footprints. And all things We have kept in a clear Register.

Yusuf AliVerily We shall give life to the dead, and We record that which they send before and that which they leave behind, and of all things have We taken account in a clear Book (of evidence).

The agreed readingIt is God who brings the dead to life. He records what they sent ahead in deeds and the traces they leave behind, and everything is kept counted in a clear register.
Urduبے شک ہم ہی مُردوں کو زندہ کریں گے۔ اور ہم لکھ رہے ہیں وہ سب کچھ جو انہوں نے آگے بھیجا اور وہ آثار بھی جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، خواہ اچھے ہوں یا برے۔ اور ہر چیز ہم نے ایک واضح کتاب میں گن کر محفوظ کر رکھی ہے، اس میں سے کوئی بات چھوٹ نہیں سکتی۔
Arabicإنا نحن نحيي الموتى ببعثهم يوم القيامة للحساب. ونكتب ما قدَّموا في حياتهم من عمل، ونكتب آثارهم الباقية بعدهم من خير أو شر. وكل شيء أحصيناه وضبطناه في كتاب مبين لا يَفوته شيء.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 6 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة7 reports cited here — 6 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 8, no. 569

درجته: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: مجهول

grading: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: مجهول

درجہ: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: مجهول

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (عليه السلام) قَالَ تَلَوْتُ التَّائِبُونَ الْعابِدُونَ فَقَالَ لَا اقْرَأِ التَّائِبِينَ الْعَابِدِينَ إِلَى آخِرِهَا فَسُئِلَ عَنِ الْعِلَّةِ فِي ذَلِكَ فَقَالَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ التَّائِبِينَ الْعَابِدِينَ.
569. Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad, from Ali Bin Al-Hakam, from Ali Bin Abu Hamza, from Abu Baseer, who has said: Abu Ja’far (asws) said: ‘Are you (asws) reciting: “[9:112] They who repent (Al-Ta’iboun), who serve (Al-Abidoun)”?’ So he (asws) said: ‘No. Recite “Al-Ta’ibeen Al-Abideen” upto the end of it’. So I asked about the reason for that, he (asws) said: ‘He (azwj) Bought from the Believers (their own selves), the repentant (and) the worshippers’.
محمد بن یحیی، احمد بن محمد، علی بن الحکم، علی بن ابو حمزہ سے، اور ابو بصیر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابو جعفر (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم 'التائبون العابدون' پڑھ رہے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، 'التائبین العابدین' پڑھو، اس کے آخر تک۔ پھر ان سے اس کے علة کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وہ (اللہ تعالیٰ) نے مومنین سے تائبین اور عابدین کو خریدا۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī, al-Rāzī, Ibn Kathīr and Ṭanṭāwī on this āyah

al-Baghawī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 2554

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim

أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ وَذَكَرَ عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ فَجَاءَ قَوْمٌ عُرَاةً حُفَاةً مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا …
Al-Mundhir bin Jarir narrated that his father said:"While we were with the Messenger of Allah in the early hours of the morning, some people came who were naked and barefoot, with their swords hung (around their necks). Most of them, may all of them, belonged to the tribe of Mudar. The face of the Messenger of Allah changed when he saw them in poverty. He went in (to his house) then he came out and ordered Bilah to call the Adhan and then the Iqamah. He (the Prophet) prayed, tjem je addressed te,, (reciting the Verses): 'O mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person (Adam), and from him(Adam) He created his wife [Hawwa (Eve)], and from them both He created many …
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ ننگے بدن، ننگے پیر، تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، زیادہ تر لوگ قبیلہ مضر کے تھے، بلکہ سبھی مضر ہی کے تھے۔ ان کی فاقہ مستی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ اندر گئے، پھر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی، آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ نے خطبہ دیا، تو فرمایا: ”لوگو! ڈرو، تم اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور انہیں دونوں ( میاں بیوی ) سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیئے۔ اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سب ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ قرابت داریوں کا خیال رکھو کہ وہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī, Ibn Kathīr and Ṭanṭāwī on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 2351

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ، بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ قَالَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ ‏{‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ‏}‏ إِلَى …
Mundhir b. Jarir reported on the authority of his father:While we were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) in the early hours of the morning, some people came there (who) were barefooted, naked, wearing striped woollen clothes, or cloaks, with their swords hung (around their necks). Most of them, nay, all of them, belonged to the tribe of Mudar. The colour of the face of the Messenger of Allah (ﷺ) underwent a change when he saw them in poverty. He then entered (his house) and came out and commanded Bilal (to pronounce Adhan). He pronounced Adhan and Iqima, and he (the Holy Prophet) observed prayer (along with his Companion) and then addressed (them reciting verses of the Holy …
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے حدیث بیان کی ، ا نھوں نے منذر بن جریر سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا ؛ ہم دن کے ابتدا ئی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ظر تھے کہ آپ کے پا س کچھ لو گ ننگے پاؤں ننگے بدن سوراخ کر کے دن کی دھا ری دار چادریں یا غبائیں گلے میں ڈا لے اور تلواریں لٹکا ئے ہو ئے آئے ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے ان کی فاقہ زدگی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ نور غمزدہ ہو گیا آپ اندر تشریف لے گئے پھر با ہر نکلے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی آپ نے نماز ادا کی ، پھر خطبہ دیا اور فرما یا : " اے لو گو !اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جا ن سے پیدا کیا ۔ ۔ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Ṭabarī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 785

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ الأَنْصَارُ بَعِيدَةً مَنَازِلُهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادُوا أَنْ يَقْتَرِبُوا فَنَزَلَتْ ‏{وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ}‏ قَالَ فَثَبَتُوا ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The houses of the Ansar were far from the mosque and they wanted to move closer. Then the following Verse was revealed: 'We record that which they send before (them), and their traces.'" [Ya-Sin: 12] He said: So they remained (where they were)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آ جائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ونكتب ما قدموا وآثارهم» ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے ( يسين: 12 ) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3226

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَتْ بَنُو سَلِمَةَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَرَادُوا النُّقْلَةَ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏:‏ ‏(‏إنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ‏)‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ آثَارَكُمْ تُكْتَبُ ‏فَلا يَنْتَقِلُوا‏" .‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ وَأَبُو سُفْيَانَ هُوَ طَرِيفٌ السَّعْدِيُّ ‏.‏
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:"Banu Salamah's dwellings were on the outskirts of Al-Madinah, so they wanted to relocate closer to the Masjid. Then this Ayah was revealed: 'Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them), and their traces... (36:12)' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your steps are recorded, so do not relocate
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ ( قبیلہ کے لوگ ) مدینہ کے کسی نواحی علاقہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے منتقل ہو کر مسجد ( نبوی ) کے قریب آ کر آباد ہونے کا ارادہ کیا تو یہ آیت «إنا نحن نحي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم» ”ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور وہ جو آگے بھیجتے ہیں اسے ہم لکھ لیتے ہیں اور ( مسجد کی طرف آنے و جانے والے ) آثار قدم بھی ہم ( گن کر ) لکھ لیتے ہیں“ ( یس: ۱۲ ) نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، اس لیے تم اپنے گھر نہ بدلو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ثوری سے مروی یہ حدیث حسن غریب ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 1614

درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حُيَىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ: ‏"‏ يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:“A man died in Al- Madinah, and he was one of those who were born in Al-Madinah. The Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer for him and said: “Would that he had died somewhere other than his birthplace.” A man among the people said: “Why, O Messenger of Allah?” He said: “If a man dies somewhere other than his birthplace, a space will be measured for him in Paradise (as big as the distance) from the place where he was born to the place where he died.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے ۱؎ ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī، al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī and al-Qurṭubī on this āyah

al-Ṭabarī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 1520

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ كَهْمَسًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا، إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ ‏.‏ - قَالَ - وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا مَا كَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported that Banu Salama decided to shift near the mosque (as there were) some plots vacant. This (news) reached the Messenger of Allah (ﷺ), whereupon he said:O people of the Salama tribe, you better stay in your houses (where you are living), for your footsteps are recorded They said. We could not be more delighted even by shifting (near the mosque) as we were delighted (on hearing these words from the Messenger of Allah (ﷺ)
کہمس نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا ، کہا : اور ( مسجد کے قریب ) جگہیں ( بھی ) خالی تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا : ‘ ‘ اے بنو سلمہ!اپنے گھروں میں رہو ، تمھارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں ۔ ’’ تو انھوں نے کہا : ( اس کے بعد ) ہمیں یہ بات اچھی ( بھی ) نہ لگتی کہ ہم منتقل ہو چکے ہو تے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:13#
وَٱضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَٰبَ ٱلْقَرْيَةِ إِذْ جَآءَهَا ٱلْمُرْسَلُونَ

PickthallCoin for them a similitude: The people of the city when those sent (from Allah) came unto them;

Yusuf AliSet forth to them, by way of a parable, the (story of) the Companions of the City. Behold!, there came messengers to it.

The agreed readingSet before them the example of the people of a city - most commentaries name it Antioch - when the messengers came to it.
Urduاور اے نبی ﷺ! ان لوگوں کے سامنے اُس بستی والوں کا واقعہ بطورِ مثال بیان کیجیے، جب اُن کے پاس اللہ کے بھیجے ہوئے آئے۔ اس میں ان کے لیے عبرت ہے کہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔
Arabicواضرب لهؤلاء المكذِّبين -أيها الرسول- مثلًا يعتبرون به: خبر أصحاب القرية حين جاءهم المرسلون يدعونهم إلى الله.
36:14#
إِذْ أَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَيْكُم مُّرْسَلُونَ

PickthallWhen We sent unto them twain, and they denied them both, so We reinforced them with a third, and they said: Lo! we have been sent unto you.

Yusuf AliWhen We (first) sent to them two messengers, they rejected them: But We strengthened them with a third: they said, "Truly, we have been sent on a mission to you."

The agreed readingGod sent two to them and they denied both, so He strengthened them with a third, and together they declared: we have been sent to you.
Urduجب ہم نے ان کی طرف دو کو بھیجا تو انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے تیسرے کے ذریعے ان کو قوت پہنچائی۔ ان سب نے کہا: ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔
Arabicحين أرسلنا إليهم رسولين يدعوانهم إلى توحيد الله، فكذَّبوهما، فقوَّيناهما وشدَدْنا ظهورهما برسول ثالث. فقال الرسل لأهل القرية: إنا إليكم مرسلون من عند الله.
36:15#
قَالُوا۟ مَآ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَمَآ أَنزَلَ ٱلرَّحْمَٰنُ مِن شَىْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَكْذِبُونَ

PickthallThey said: Ye are but mortals like unto us. The Beneficent hath naught revealed. Ye do but lie!

Yusuf AliThe (people) said: "Ye are only men like ourselves; and (Allah) Most Gracious sends no sort of revelation: ye do nothing but lie."

The agreed readingThe townspeople answered as deniers always answer: you are only mortals like us, the All-Merciful has sent nothing down, you are lying.
Urduبستی والوں نے کہا: تم تو بس ہم جیسے انسان ہو، تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں۔ اور رحمٰن نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم محض جھوٹ بول رہے ہو۔
Arabicقال أهل القرية للمرسلين: ما أنتم إلا بشر مثلنا، لا فضل لكم علينا يوجب ما تدَّعون. وما أنزل الرحمن شيئًا مما تدعوننا إليه، وما أنتم إلا كاذبون فيما تزعمون.
36:16#
قَالُوا۟ رَبُّنَا يَعْلَمُ إِنَّآ إِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُونَ

PickthallThey answered: Our Lord knoweth that we are indeed sent unto you,

Yusuf AliThey said: "Our Lord doth know that we have been sent on a mission to you:

The agreed readingThe messengers replied with what amounts to an oath: our Lord knows that we are truly sent to you.
Urduرسولوں نے کہا: ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقیناً تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے اللہ کو گواہ بنا کر پورے اطمینان اور یقین کے ساتھ اپنی رسالت کا اعلان کیا۔
Arabicقال الرسل: ربنا يعلم إنا إليكم لمرسلون من عنده. وفي استشهادهم بعلم الله توكيدٌ لصدقهم يجري مجرى القَسَم، وكفى به شاهدًا.
36:17#
وَمَا عَلَيْنَآ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

PickthallAnd our duty is but plain conveyance (of the message).

Yusuf Ali"And our duty is only to proclaim the clear Message."

The agreed readingAnd nothing rests on us but the plain delivery of the message. The commentaries mark the limit of the office together: the messenger conveys, clearly and with proof; he does not compel belief, and guidance is not in his hands.
Urduاور ہم پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ اللہ کا پیغام صاف صاف تم تک پہنچا دیں۔ ماننا یا نہ ماننا تمہارا اپنا معاملہ ہے، اور ہم پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی گئی کہ تمہیں زبردستی منوا کر چھوڑیں۔
Arabicوما علينا إلا أن نُبلِّغكم ما أُرسلنا به تبليغًا واضحًا بيِّنًا. أما هدايتكم فليست إلينا ولا نملك أن نحملكم عليها.
36:18#
قَالُوٓا۟ إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ لَئِن لَّمْ تَنتَهُوا۟ لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ

Pickthall(The people of the city) said: We augur ill of you. If ye desist not, we shall surely stone you, and grievous torture will befall you at our hands.

Yusuf AliThe (people) said: "for us, we augur an evil omen from you: if ye desist not, we will certainly stone you. And a grievous punishment indeed will be inflicted on you by us."

The agreed readingThe people saw an evil omen in the messengers and threatened them: stop, or we will stone you, and a painful punishment from us will touch you.
Urduبستی والوں نے کہا: ہم تو تمہیں اپنے لیے منحوس سمجھتے ہیں۔ اگر تم اپنی اس دعوت سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں ضرور سنگسار کر دیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے دردناک سزا پہنچے گی۔
Arabicقال أهل القرية: إنا تشاءمنا بكم. لئن لم تكفُّوا عما تدعوننا إليه لنرمينَّكم بالحجارة، ولينالنَّكم منا عذاب موجع.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب الشيعة2 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 1, no. 42

درجته: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: مرسل

grading: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: مرسل

درجہ: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: مرسل

5ـ عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَرْقِيِّ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِنَا رَفَعَهُ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلام) قَالَ رَسُولُ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الله (عَلَيْهِ السَّلام) قَالَ رَسُولُ الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَلا وَإِنَّ الله يُحِبُّ بُغَاةَ الْعِلْمِ.
5. A number of our people has narrated has narrated from Ahmad ibn Muhammad al-Barqi from Ya’qub ibn Yazid from Abu ‘Abdillah, one of our people narrated in a marfu‘ manner from Abu ‘Abdillah (al-Sadiq) (as) that Rasulullah (sw) said: “Seeking knowledge is obligatory.” In another hadith, Abu 'Abdillah (as) narrated that Rasulullah (sw) said, “Seeking knowledge is obligatory for every Muslim. Let it be known that Allah loves those who seek knowledge.”
پنجاہ: ہمارے اصحاب کا ایک گروپ احمد بن محمد برقی سے روایت کرتا ہے، احمد یعقوب بن یزید سے روایت کرتے ہیں، یعقوب ہمارے اصحاب میں سے ایک شخص سے جو ابی عبداللہ کے لقب سے جانے جاتے ہیں، اور وہ اسے رسول اللہ تک بلند کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ابو عبداللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: علم کی تلاش ایک فریضہ ہے۔ اور ایک اور حدیث میں، ابو عبداللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: علم کی تلاش ہر مسلمان پر لازمی ہے۔ خیال رکھو، اللہ تعالیٰ علم کے طالبین سے محبت فرماتے ہیں۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

قَالُوٓا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Khiṣāl, no. 1231

27-8 مضغ اللبان يذيب البلغموابدؤوا بالملح في أول طعامكم، فلو يعلم الناس ما في الملح لاختاروه على الترياق المجرب. من ابتدأ طعامه بالملح ذهب عنه سبعون داء وما لا يعلمه إلا الله عز وجلصبوا على المحموم الماء البارد في الصيف فإنه يسكن حرهاصوموا ثلاثة أيام في كل شهر، فهي تعدل صوم الدهر، ونحن نصوم خميسين بينهما أربعاء، لان الله عز وجل خلق جهنم يوم الاربعاءإذا أراد أحدكم حاجة فليبكر في طلبها يوم الخميس، فإن رسول الله صلى الله عليه وآله قال: "اللهم بارك لامتي في بكورها يوم الخميس." وليقرأ إذا خرج من بيته الآيات من آخر آل عمران، وآية الكرسي، وإنا أنزلناه، وأم الكتاب، فإن فيها قضاء لحوائج الدنيا والآخرةعليكم بالصفيق من الثياب، فإنه من رق ثوبه رق دينهلا يقومن أحدكم بين يدي الرب جل جلاله وعليه ثوب …
27-8 Chewing frankincense (luban) dissolves phlegm. Begin your meals with salt, for if people knew what is in salt, they would choose it over proven antidotes. Whoever begins his food with salt, seventy ailments are removed from him, and more — known only to Allah, the Almighty. Pour cold water on a fevered person in the summer, for it calms the heat. Fast three days each month, for it equals fasting for a lifetime. We fast two Thursdays with a Wednesday between, because Allah, the Almighty, created Hell on a Wednesday. When one of you has a need, let him seek it early on Thursday, for the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O Allah, bless my nation in its early mornings on Thursday." When …
27-8 لبان کو چبانا بلغم کو کم کرتا ہے۔ اپنی کھانے کی شروعات نمک سے کریں، کیونکہ اگر لوگ نمک میں جو کچھ ہے اس کو جانیں تو آزمائے ہوئے تریاق پر نمک کو ترجیح دیں گے۔ جو شخص اپنی کھانے کی شروعات نمک سے کرے تو ستر بیماریاں اس سے دور ہو جاتی ہیں، اور اس سے زیادہ - جو صرف اللہ جانتے ہیں۔ بخار والے پر گرمی میں ٹھنڈا پانی ڈالو کیونکہ یہ اس کی حدت کو کم کرتا ہے۔ ہر ماہ تین دن روزہ رکھو، کیونکہ یہ پوری زندگی کے روزے کے برابر ہے۔ ہم دو جمعرات کو روزہ رکھتے ہیں ان کے درمیان بدھ رکھتے ہوئے، کیونکہ اللہ نے جہنم کو بدھ کے دن بنایا۔ جب تم میں سے کسی کو کوئی ضرورت ہو تو جمعرات کے دن اس کی تلاش میں جلدی کرو، کیونکہ رسول اللہ نے کہا ہے: 'اے اللہ، میری امت کو جمعرات کے دن اس کی صبح میں برکت دے۔' جب گھر سے نکلو …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

قَالُوٓا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:19#
قَالُوا۟ طَٰٓئِرُكُم مَّعَكُمْ أَئِن ذُكِّرْتُم بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ

PickthallThey said: Your evil augury be with you! Is it because ye are reminded (of the truth)? Nay, but ye are froward folk!

Yusuf AliThey said: "Your evil omens are with yourselves: (deem ye this an evil omen). If ye are admonished? Nay, but ye are a people transgressing all bounds!"

The agreed readingThe messengers returned it: your omen is with you - in yourselves and your own refusal. Is it because you are reminded? No - you are a people given to excess.
Urduرسولوں نے کہا: تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے، وہ تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ کیا اس بات پر یہ سب کہہ رہے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی؟ بلکہ تم تو حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔
Arabicقال الرسل: شؤمكم لازمٌ لكم ومن عند أنفسكم، وسببه كفركم وسوء أعمالكم لا دعوتُنا. أتتشاءمون وتهدِّدون لأن ذُكِّرتم ووُعظتم بما فيه خيركم؟ بل أنتم قوم مسرفون مجاوزون الحدَّ في التكذيب والمعصية.
36:20#
وَجَآءَ مِنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱتَّبِعُوا۟ ٱلْمُرْسَلِينَ

PickthallAnd there came from the uttermost part of the city a man running. He cried: O my people! Follow those who have been sent!

Yusuf AliThen there came running, from the farthest part of the City, a man, saying, "O my people! Obey the messengers:

The agreed readingFrom the farthest part of the city a man came running - many commentaries name him Habib the carpenter. He cried: my people, follow those who have been sent.
Urduاور شہر کے دور دراز کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، جب اسے قوم کے ارادے کی خبر ہوئی۔ اس نے کہا: اے میری قوم! ان رسولوں کی پیروی کرو۔
Arabicوجاء من أقصى المدينة رجل يسرع في مشيه لما بلغه ما عزم عليه قومه من أذى الرسل، فقال: يا قوم اتبعوا هؤلاء المرسلين الذين أرسلهم الله إليكم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Khiṣāl, no. 973

10-1 حدثنا أبوالحسين محمد بن علي بن الشاه قال: حدثنا أبوبكر محمد بن جعفر ابن أحمد البغدادي بآمد قال: حدثنا أبي قال: حدثنا أحمد بن السخت قال: أخبرنامحمد بن أسود الوراق، عن أيوب بن سليمان، عن أبي البختري، عن محمد بن حميد، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: أنا أشبه الناس بآدم، وإبراهيم أشبه الناس بي خلقة وخلقة، وسماني الله عز وجل من فوق عرشه عشرة أسماء، وبين الله وصفي وبشر بي على لسان كل رسول بعثه إلى قومه، وسماني ونشر في التوراة اسمي، وبث ذكري في أهل التوراة والانجيل، وعلمني كتابه ورفعني في سمائه، وشق لي إسما من أسمائه، فسماني محمدا وهو محمود، وأخرجني في خير قرن من امتي، وجعل اسمي في التوراة أحيد [وهو من التوحيد] فبالتوحيد حرم أجساد امتي على النار، …
10-1 Abul Hussein Muhammad ibn Ali ibn al-Shah narrated that in Ahmed Abu Bakr Muhammad ibn Ja’far ibn Ahmad al-Baghdady quoted his father, on the authority of Ahmad ibn al-Sakht, on the authority of Muhammad ibn Aswad al-Warraq on the authority of Ayoob ibn Suleiman on the authorityof Abil Bakhtari, on the authority of Muhammad ibn Hamid, on the authority of Muhammad ibn Munkadir, on the authority of Jabir ibn Abdullah that God’s Prophet (MGB) said, “I am the most similar person to Adam. Abraham is the most similar to me in face and character amongst all the people. The Honorable the Exalted God gave me ten names from above His Throne. God has described me and has given the glad tidings of …
ہمیں ابوالحسین محمد بن علی بن الشاہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوبکر محمد بن جعفر بن احمد بغدادی نے آمد میں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں میرے باپ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں احمد بن السخت نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن اسود الورّاق نے خبر دی ایوب بن سلیمان سے، وہ ابو البختری سے، وہ محمد بن حمید سے، وہ محمد بن منکدر سے، وہ جابر بن عبد اللہ سے روایت کرتے ہوئے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں لوگوں میں آدم علیہ السلام سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ اور ابراہیم میری طرح خلقت اور خلق میں سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ اور اللہ عز وجل نے مجھے اپنے عرش کے اوپر سے دس ناموں سے نام دیا۔ اور اللہ نے میری صفات بیان کی ہے اور ہر رسول کے ذریعے جسے اپنی قوم کے پاس بھیجا …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَجَآءَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 4885

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏}‏ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا …
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَجَآءَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:21#
ٱتَّبِعُوا۟ مَن لَّا يَسْـَٔلُكُمْ أَجْرًا وَهُم مُّهْتَدُونَ

PickthallFollow those who ask of you no fee, and who are rightly guided.

Yusuf Ali"Obey those who ask no reward of you (for themselves), and who have themselves received Guidance.

The agreed readingFollow those who ask you no wage and are themselves rightly guided - the two marks, the commentaries note, of an honest call.
Urduپیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے اپنی اس دعوت پر کوئی اجرت نہیں مانگتے، اور جو خود راہِ راست پر ہیں۔ یہ دونوں باتیں ہی ان کے سچے ہونے کی دلیل ہیں کہ نہ ان کی کوئی ذاتی غرض ہے اور نہ ان کی سیرت میں کوئی داغ ہے۔
Arabicاتبعوا مَن لا يطلب منكم أجرًا على تبليغ ما جاء به، وهم في أنفسهم على هدى. فمن اجتمع له هذان الوصفان فهو أحقُّ أن يُتَّبع.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 4885

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏}‏ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا …
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱتَّبِعُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:22#
وَمَا لِىَ لَآ أَعْبُدُ ٱلَّذِى فَطَرَنِى وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

PickthallFor what cause should I not serve Him Who hath created me, and unto Whom ye will be brought back?

Yusuf Ali"It would not be reasonable in me if I did not serve Him Who created me, and to Whom ye shall (all) be brought back.

The agreed readingHe argued from his own person: why should I not serve the One who created me, to whom you will all be returned?
Urduاور مجھے کیا ہوا کہ میں اُس ہستی کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا؟ اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے۔ خالق ہی کی بندگی کرنا عقل اور فطرت کا تقاضا ہے، اور اس نے پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ سب کو اسی کے پاس واپس جانا ہے۔
Arabicوأيُّ شيء يمنعني أن أعبد الذي خلقني وأنشأني؟ وإليه وحده تُرَدُّون جميعًا بعد الموت فيجازيكم. وفي هذا دعوةٌ لهم في صورة مناصحته لنفسه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 4885

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏}‏ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا …
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:23#
ءَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةً إِن يُرِدْنِ ٱلرَّحْمَٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّى شَفَٰعَتُهُمْ شَيْـًٔا وَلَا يُنقِذُونِ

PickthallShall I take (other) gods in place of Him when, if the Beneficent should wish me any harm, their intercession will avail me naught, nor can they save?

Yusuf Ali"Shall I take (other) gods besides Him? If (Allah) Most Gracious should intend some adversity for me, of no use whatever will be their intercession for me, nor can they deliver me.

The agreed readingShall I take gods besides Him? If the All-Merciful willed me harm, their intercession would avail me nothing and they could not rescue me.
Urduکیا میں اُس کے سوا دوسرے معبود بنا لوں؟ اگر رحمٰن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہ ان کی سفارش میرے کچھ کام آ سکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھڑا سکتے ہیں۔ ایسے بے بس معبودوں کو خالق کے مقابلے میں پکارنے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔
Arabicأأتخذ من دون الله آلهة أخرى، إن يُرِدْني الرحمن بضُرٍّ لم تدفع عني شفاعتُهم شيئًا ولم تنفعني، ولم يستطيعوا أن يُخلِّصوني مما نزل بي؟
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 4885

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏}‏ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا …
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ءَأَتَّخِذُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:24#
إِنِّىٓ إِذًا لَّفِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ

PickthallThen truly I should be in error manifest.

Yusuf Ali"I would indeed, if I were to do so, be in manifest Error.

The agreed readingIf I did that - if I set up others beside God in worship - I would be in plain error, error no reasonable person could miss.
Urduاگر میں یہ سب جانتے ہوئے بھی ایسا کروں تو یقیناً میں کھلی گمراہی میں جا پڑوں گا۔
Arabicإني إن فعلت ذلك وعبدتُ غير الله لفي ضلال واضح بيِّن لا يخفى على عاقل.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 4885

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏}‏ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا …
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنِّىٓ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:25#
إِنِّىٓ ءَامَنتُ بِرَبِّكُمْ فَٱسْمَعُونِ

PickthallLo! I have believed in your Lord, so hear me!

Yusuf Ali"For me, I have faith in the Lord of you (all): listen, then, to me!"

The agreed readingThen the declaration he meant them to hear: I believe in your Lord, so hear me. The commentaries read it both ways together - hear what I say and follow it, and bear witness for me before God that I said it.
Urduمیں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں، سو تم میری بات سن لو۔ اُس نے پوری قوت اور اطمینان کے ساتھ اپنے ایمان کا اعلان کر دیا اور اس پر انہیں گواہ بنا لیا، اور یہ بھی جتا دیا کہ جس رب پر وہ ایمان لایا ہے وہ ان ہی کا رب ہے۔
Arabicإني آمنت بربكم الذي خلقكم، فاسمعوا مني ما أقول واشهدوا عليه. أعلن الرجل إيمانه صريحًا غير مبالٍ بما هدَّدوه به.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 4885

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏}‏ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا …
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنِّىٓ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:26#
قِيلَ ٱدْخُلِ ٱلْجَنَّةَ قَالَ يَٰلَيْتَ قَوْمِى يَعْلَمُونَ

PickthallIt was said (unto him): Enter paradise. He said: Would that my people knew

Yusuf AliIt was said: "Enter thou the Garden." He said: "Ah me! Would that my People knew (what I know)!-

The agreed readingHis people killed him, the commentaries record, and he was told: enter the Garden. Even then his thought was for them - would that my people knew.
Urduکہہ دیا گیا: جنت میں داخل ہو جا۔ یہ اس کے ایمان اور ثابت قدمی کا اکرام تھا۔ جب اس نے وہاں کی نعمتیں دیکھیں تو کہا: کاش میری قوم کو معلوم ہو جاتا۔
Arabicقيل له: ادخل الجنة، إكرامًا له وجزاءً على إيمانه وثباته. فلما رأى ما فيها من النعيم قال: يا ليت قومي يعلمون.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 4885

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏}‏ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا …
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

قِيلَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:27#
بِمَا غَفَرَ لِى رَبِّى وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُكْرَمِينَ

PickthallWith what (munificence) my Lord hath pardoned me and made me of the honoured ones!

Yusuf Ali"For that my Lord has granted me Forgiveness and has enrolled me among those held in honour!"

The agreed readingKnew how my Lord has forgiven me and placed me among the honoured. The commentaries note what he did not say: not one word against the people who had just killed him - only a wish that they knew what he now knew.
Urduکاش وہ جان لیتے کہ میرے رب نے مجھے کس بنا پر بخش دیا اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل کر لیا۔ اس نے یہ تمنا اس لیے کی کہ وہ بھی ایمان لے آئیں اور یہی مقام پائیں، پس وہ زندگی میں بھی اپنی قوم کا خیر خواہ رہا اور مرنے کے بعد بھی۔
Arabicليتهم يعلمون بما غفر لي ربي من ذنبي وما جعلني فيه من الكرامة عنده. تمنَّى ذلك ليؤمنوا مثل إيمانه فينالوا مثل ما نال، فكان ناصحًا لقومه في حاليه.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 1 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة4 reports cited here — 1 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 2, no. 402

درجته: al-Majlisi: ضعيف

grading: al-Majlisi: ضعيف

درجہ: al-Majlisi: ضعيف

5ـ عَنْهُ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (عَلَيهِ السَّلام) قَالَ إِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ.
5. It is narrated from him (narrator of the Hadith above) from ibn Mahbub from ‘Amr ibn Shamir from Jabir from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, is compassionate. He loves kindheartedness and awards for it with such things that He does not give due to rudeness.”
عنہ عن ابن محبوب عن عمرو بن شمر عن جابر عن ابی جعفر (علیہ السلام) نے کہا: الله تعالیٰ رفیق ہے۔ وہ رفق اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور رفق پر ایسا عطا کرتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

بِمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 7, no. 815

درجته: al-Majlisi: مجهول

grading: al-Majlisi: مجهول

درجہ: al-Majlisi: مجهول

2- مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ جَمِيعاً عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الأحْوَلِ عَنْ سَلامِ بْنِ الْمُسْتَنِيرِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (عَلَيْهِ السَّلام) فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ عَهِدْنإ؛ششّّيغ إِلى‏ آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً قَالَ فَقَالَ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا قَالَ لآدَمَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ لَهُ يَا آدَمُ لا تَقْرَبْ هَذِهِ الشَّجَرَةَ قَالَ وَأَرَاهُ إِيَّاهَا فَقَالَ آدَمُ لِرَبِّهِ كَيْفَ أَقْرَبُهَا وَقَدْ نَهَيْتَنِي عَنْهَا أَنَا وَزَوْجَتِي قَالَ فَقَالَ لَهُمَا لا تَقْرَبَاهَا يَعْنِي لا تَأْكُلا مِنْهَا فَقَالَ آدَمُ وَزَوْجَتُهُ نَعَمْ يَا …
2. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad and Ali ibn Ibrahim has narrated from his father all from ibn Mahbub from abu Ja‘far al-Ahwal from Salam ibn al-Mustanir who has narrated the following: “This is about the meaning of the words of Allah, most Majestic, most Glorious. ‘. . . We made a covenant with Adam (a.s.), before but he forgot and We did not find in him firm determination.’ (20:115) Abu Ja‘far (a.s.), has said, ‘When Allah, most Majestic, most Glorious, said to Adam (a.s.), to enter in the garden (paradises) He said, “O Adam, you must not go near this tree.’” He (the Imam) said that He showed it to him and Adam said to his Lord, “How will I go near the tree when …
محمد بن یحییٰ نے احمد بن محمد سے روایت کی اور علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی، سب ابن محبوب سے، وہ ابو جعفر الاحول سے، وہ سلام بن المستنیر سے، وہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، اللہ عز و جل کے اس قول کے بارے میں: اور بے شک ہم نے آدم سے پہلے سے عہد لیا تھا، پھر وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں عزم نہ پایا۔ انہوں نے کہا: جب اللہ عز و جل نے آدم سے کہا جنت میں داخل ہو، تو اس نے کہا: اے آدم! اس درخت کے قریب نہ جاؤ۔ انہوں نے کہا: اور اس نے اسے وہ درخت دکھایا۔ تو آدم نے اپنے رب سے کہا: میں اس درخت کے قریب کیسے جاؤں جب تم نے مجھے اور میری بیوی کو اس سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: تو اللہ نے ان دونوں سے کہا اس درخت کے قریب نہ جاؤ، یعنی اس سے نہ کھاؤ۔ تو آدم اور اس کی بیوی نے کہا: ہاں، اے …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

بِمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Kāmil al-Ziyārāt, no. 163

2 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ عَنْ خَالِهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ نَصْرِ بْنِ مُزَاحِمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ [عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَمَّادٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (ع) قَالَ قَالَ عَلِيٌّ (ع) لِلْحُسَيْنِ (ع) يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أُسْوَةٌ أَنْتَ قُدُماً فَقَالَ جُعِلْتُ فِدَاكَ مَا حَالِي قَالَ عَلِمْتَ مَا جَهِلُوا وَ سَيَنْتَفِعُ عَالِمٌ بِمَا عَلِمَ يَا بُنَيَّ اسْمَعْ وَ أَبْصِرْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكَ فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَسْفِكَنَّ بَنُو أُمَيَّةَ دَمَكَ ثُمَّ لَا يُزِيلُونَكَ عَنْ دِينِكَ وَ لَا يُنْسُونَكَ ذِكْرَ رَبِّكَ فَقَالَ الْحُسَيْنُ وَ الَّذِي …
2. Muḥammad ibn Ja’far Al-Razzāz narrated to me from his uncle Muḥammad ibn Ḥusain ibn Abil Khaťťāb, from Nasr ibn Muzāḥim, from ‘Amr ibn Sa’īd, from ‘Ali ibn Ḥammād, from ‘Amr ibn Shimr, from Jābir (Al-Ju’fi), who said: Abū ‘Abdillāh (Imam Sādiq (a.s.)) said: ‘Ali, (the Commander of the Believers (a.s.)), said to Ḥusain (a.s.), “O Abā ‘Abdillāh! It has been previously established that you will be the (leading) example.” “May I sacrifice myself for you. What is my status?” Ḥusain (a.s.) asked. “You have the knowledge of that which others do not, and those who are knowledgeable shall benefit from their knowledge,” the Commander of the Believers (a.s.) replied. Then the Commander of the …
محمد بن جعفر الرزاز نے مجھے خبر دی اپنے چاچا محمد بن الحسين بن ابي الخطاب سے، وہ نصر بن مزاحم سے، وہ عمر بن سعد سے، وہ علي بن حماد سے، وہ عمرو بن شمر سے، وہ جابر سے، وہ ابي عبد اللہ سے کہا کہ علي نے حسين سے کہا: اے ابا عبد اللہ، تم اگلے لوگوں کے لیے نمونہ ہو۔ حسين نے کہا: میں آپ کے لیے فدا ہو جاؤں۔ میری حالت کیا ہے؟ علي نے کہا: تم نے وہ جانا جو دوسرے نہیں جانتے، اور کوئی عالم اس سے فائدہ اٹھائے گا جو وہ جانتا ہے۔ اے بیٹا! سن اور دیکھ اس سے پہلے کہ یہ تمہارے پاس آئے۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، بنو امیہ تمہارا خون بہائیں گے پھر وہ تمہیں اپنے دین سے ہٹا نہیں پائیں گے اور نہ تمہیں اپنے رب کے ذکر کو بھولائیں گے۔ حسين نے کہا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ مجھے کافی ہے۔ میں …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

بِمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 4885

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏}‏ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا …
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

بِمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:28#
وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِۦ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِن جُندٍ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ

PickthallWe sent not down against his people after him a host from heaven, nor do We ever send.

Yusuf AliAnd We sent not down against his People, after him, any hosts from heaven, nor was it needful for Us so to do.

The agreed readingGod sent no army from heaven against his people after him - for such a people no army was ever needed.
Urduاور اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا، اور نہ ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت تھی۔ ان کو ہلاک کرنے کے لیے کسی بڑے اہتمام کی حاجت نہ تھی۔
Arabicوما أنزلنا على قومه من بعده جندًا من السماء لإهلاكهم، وما كنا ننزل ذلك على الأمم إذا أهلكناها. فأمرهم كان أهون من أن يُحتاج فيه إلى ذلك.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 4885

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏}‏ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا …
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:29#
إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَٰمِدُونَ

PickthallIt was but one Shout, and lo! they were extinct.

Yusuf AliIt was no more than a single mighty Blast, and behold! they were (like ashes) quenched and silent.

The agreed readingIt was one cry only, and at once they were extinguished - still, like a fire gone out.
Urduبس ایک ہی چنگھاڑ تھی، اور وہ سب اسی وقت بجھ کر رہ گئے۔ جس طرح جلتی ہوئی آگ بجھ کر راکھ ہو جاتی ہے، اسی طرح ان کی ساری شان اور طاقت ایک لمحے میں ختم ہو گئی۔
Arabicما كانت عقوبتهم إلا صيحة واحدة، فإذا هم هامدون ساكنون قد ماتوا عن آخرهم. كنارٍ كانت مشتعلة ثم انطفأت فلم يبق لها أثر.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 4885

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏}‏ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا …
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:30#
يَٰحَسْرَةً عَلَى ٱلْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

PickthallAh, the anguish for the bondmen! Never came there unto them a messenger but they did mock him!

Yusuf AliAh! Alas for (My) Servants! There comes not a messenger to them but they mock him!

The agreed readingA cry of sorrow over the servants: no messenger ever comes to them but they mock him.
Urduافسوس ہے بندوں کے حال پر! ان کے پاس جو رسول بھی آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ اسی روش کا نتیجہ ہے کہ قیامت کے دن عذاب دیکھ کر وہ اپنے اوپر حسرت اور ندامت کریں گے۔
Arabicيا حسرةً على العباد وندامتَهم يوم القيامة حين يرون العذاب. وسببُ هذه الحسرة أنه ما يأتيهم رسول من عند الله إلا سخروا منه واستهزأوا به.
36:31#
أَلَمْ يَرَوْا۟ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ ٱلْقُرُونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُونَ

PickthallHave they not seen how many generations We destroyed before them, which indeed returned not unto them;

Yusuf AliSee they not how many generations before them we destroyed? Not to them will they return:

The agreed readingHave they not seen how many generations were destroyed before them, and that the destroyed do not return? History itself is a warning.
Urduکیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر دیا، اور وہ ان کی طرف پلٹ کر نہیں آتے؟ وہ اس طرح مٹے کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا، اور اس میں ان کے لیے عبرت ہے۔
Arabicألم يعتبر هؤلاء بمن أهلكنا قبلهم من الأمم والقرون بتكذيبهم رسلهم؟ فقد مضوا ولا يرجعون إلى الدنيا مرة أخرى.
36:32#
وَإِن كُلٌّ لَّمَّا جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ

PickthallBut all, without exception, will be brought before Us.

Yusuf AliBut each one of them all - will be brought before Us (for judgment).

The agreed readingYet none of them is lost from the account: all together will be brought before God.
Urduاور ان سب کو ایک دن ہمارے سامنے حاضر کیا جائے گا، کوئی بھی باقی نہ رہے گا۔ دنیا میں واپس نہ آنے کا مطلب یہ نہیں کہ قصہ ختم ہو گیا، بلکہ سب کو حساب اور جزا کے لیے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔
Arabicوما من أحد من هؤلاء ومن غيرهم إلا وهو مجموع محضَر عندنا يوم القيامة للحساب والجزاء. فانقطاعُ رجوعهم إلى الدنيا لا يعني أنهم فاتوا، بل موعدهم البعث.
36:33#
وَءَايَةٌ لَّهُمُ ٱلْأَرْضُ ٱلْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَٰهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ

PickthallA token unto them is the dead earth. We revive it, and We bring forth from it grain so that they eat thereof;

Yusuf AliA Sign for them is the earth that is dead: We do give it life, and produce grain therefrom, of which ye do eat.

The agreed readingA sign for them is the dead earth. God brings it to life and brings grain out of it, and from that they eat.
Urduاور ان کے لیے ایک نشانی مردہ زمین ہے: ہم نے اسے پانی سے زندہ کیا اور اس سے اناج نکالا جسے وہ کھاتے ہیں۔ جو زمین کو مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے وہی مُردوں کو بھی زندہ کرے گا، اور یہی اس کے وجود اور اس کی قدرت کی دلیل ہے۔
Arabicومن الأدلة لهم على قدرة الله على البعث هذه الأرض الميتة التي لا نبات فيها: أنزلنا عليها الماء فأحييناها، وأخرجنا منها حَبًّا يأكلون منه. فالذي أحياها بعد موتها قادر على إحياء الموتى.
36:34#
وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّٰتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَٰبٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ ٱلْعُيُونِ

PickthallAnd We have placed therein gardens of the date-palm and grapes, and We have caused springs of water to gush forth therein,

Yusuf AliAnd We produce therein orchard with date-palms and vines, and We cause springs to gush forth therein:

The agreed readingIn it He sets gardens of date-palms and grapevines, and causes springs to gush forth.
Urduاور ہم نے اس زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ بنائے اور اس میں چشمے جاری کر دیے جو ان کو سیراب کرتے ہیں۔ اناج کے ساتھ یہ پھل بھی اسی کی رحمت اور قدرت سے پیدا ہوتے ہیں۔
Arabicوجعلنا في هذه الأرض بساتين من نخيل وأعناب، وفجَّرنا فيها عيونًا من الماء تسقيها. وهذا وجهٌ آخر من إحيائها، أعجبُ وأبقى من إنبات الزرع.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 402

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا - وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Dharr reported:I asked the Messenger of Allah (ﷺ) the (implication of the) words of Allah, the Exalted: The sun glides to its appointed resting place. He replied: Its appointed resting place is under the Throne
وکیع نے اعمش سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا : ’’سورج اپنے مستقر کی طرف چل رہا ہے ۔ ‘ ‘ آپ نے جواب دیا : ’’اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَجَعَلْنَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4803

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dharr:I asked the Prophet (ﷺ) about the Statement of Allah:-- 'And the sun runs on fixed course for a term (decreed), ' (36.38) He said, "Its course is underneath "Allah's Throne." (Prostration of Sun trees, stars. mentioned in Qur'an and Hadith does not mean like our prostration but it means that these objects are obedient to their Creator (Allah) and they obey for what they have been created for
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان «والشمس تجري لمستقر لها‏» ”اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔“ کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَجَعَلْنَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3199

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي ذَرٍّ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ‏"‏ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهَا، وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ يُقْبَلَ مِنْهَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ يُؤْذَنَ لَهَا، يُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ‏.‏ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ‏}‏‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dhar:The Prophet (ﷺ) asked me at sunset, "Do you know where the sun goes (at the time of sunset)?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "It goes (i.e. travels) till it prostrates Itself underneath the Throne and takes the permission to rise again, and it is permitted and then (a time will come when) it will be about to prostrate itself but its prostration will not be accepted, and it will ask permission to go on its course but it will not be permitted, but it will be ordered to return whence it has come and so it will rise in the west. And that is the interpretation of the Statement of Allah: "And the sun Runs its fixed course For a term (decreed). that is …
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ یزید بن شریک نے اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے۔ پھر ( دوبارہ آنے ) کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے، جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہو گا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا۔ چنانچہ اس دن وہ مغربی ہی سے نکلے گا۔ اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَجَعَلْنَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:35#
لِيَأْكُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَفَلَا يَشْكُرُونَ

PickthallThat they may eat of the fruit thereof, and their hands made it not. Will they not, then, give thanks?

Yusuf AliThat they may enjoy the fruits of this (artistry): It was not their hands that made this: will they not then give thanks?

The agreed readingSo that they may eat of its fruit - fruit their hands did not make. Will they not give thanks?
Urduتاکہ لوگ اس کے پھلوں میں سے کھائیں، حالانکہ یہ سب ان کے اپنے ہاتھوں کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ اللہ کی رحمت اور قدرت سے پیدا ہوتا ہے۔ تو پھر کیا وہ اس کا شکر ادا نہیں کرتے؟
Arabicليأكل الناس من ثمر ذلك كله، وما صنعت أيديهم هذا الثمر ولا كان لهم فيه عمل، بل هو خلق الله ورزقه. أفلا يشكرونه على هذه النعم؟
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 402

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا - وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Dharr reported:I asked the Messenger of Allah (ﷺ) the (implication of the) words of Allah, the Exalted: The sun glides to its appointed resting place. He replied: Its appointed resting place is under the Throne
وکیع نے اعمش سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا : ’’سورج اپنے مستقر کی طرف چل رہا ہے ۔ ‘ ‘ آپ نے جواب دیا : ’’اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لِيَأْكُلُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4803

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dharr:I asked the Prophet (ﷺ) about the Statement of Allah:-- 'And the sun runs on fixed course for a term (decreed), ' (36.38) He said, "Its course is underneath "Allah's Throne." (Prostration of Sun trees, stars. mentioned in Qur'an and Hadith does not mean like our prostration but it means that these objects are obedient to their Creator (Allah) and they obey for what they have been created for
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان «والشمس تجري لمستقر لها‏» ”اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔“ کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لِيَأْكُلُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3199

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي ذَرٍّ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ‏"‏ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهَا، وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ يُقْبَلَ مِنْهَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ يُؤْذَنَ لَهَا، يُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ‏.‏ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ‏}‏‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dhar:The Prophet (ﷺ) asked me at sunset, "Do you know where the sun goes (at the time of sunset)?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "It goes (i.e. travels) till it prostrates Itself underneath the Throne and takes the permission to rise again, and it is permitted and then (a time will come when) it will be about to prostrate itself but its prostration will not be accepted, and it will ask permission to go on its course but it will not be permitted, but it will be ordered to return whence it has come and so it will rise in the west. And that is the interpretation of the Statement of Allah: "And the sun Runs its fixed course For a term (decreed). that is …
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ یزید بن شریک نے اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے۔ پھر ( دوبارہ آنے ) کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے، جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہو گا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا۔ چنانچہ اس دن وہ مغربی ہی سے نکلے گا۔ اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لِيَأْكُلُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:36#
سُبْحَٰنَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْأَزْوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ

PickthallGlory be to Him Who created all the sexual pairs, of that which the earth groweth, and of themselves, and of that which they know not!

Yusuf AliGlory to Allah, Who created in pairs all things that the earth produces, as well as their own (human) kind and (other) things of which they have no knowledge.

The agreed readingGlory to Him who created all the pairs: what the earth grows, the people themselves, and things they do not even know.
Urduپاک ہے وہ ذات جس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کیے: زمین سے اگنے والی چیزوں میں بھی، خود انسانوں میں بھی، اور ان مخلوقات میں بھی جنہیں یہ جانتے تک نہیں۔ تخلیق کا یہ ایک ہی اصول بتاتا ہے کہ خالق بھی ایک ہی ہے، اور وہی اکیلا ہر نقص اور شراکت سے پاک ہے۔
Arabicتنزَّه الله وتقدَّس، الذي خلق الأصناف كلها أزواجًا: مما تُنبت الأرض من الزروع والثمار، ومن أنفسهم ذكورًا وإناثًا، ومن مخلوقات أخرى لا يعلمونها. فالخلق كله له وحده.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 6 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة8 reports cited here — 6 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ṭabrisī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabrisī on this āyah

al-Ṭabrisī نے اس آیت پر نقل کیا

Nahj al-Balāgha, no. 197

اللَّهُمَّ إِنَّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ المُنْقَلَبِ، وَسُوءِ المَنظَرِ فِي الاْهْلِ وَالمَالِ والْوَلَدِ . اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ في السَّفَرِ، وَأَنْتَ الْخلِيفَةُ فِي الاْهْلِ، وَلاَ يَجْمَعُهُما غَيْرُكَ، لاِنَّ الْمُسْتَخْلَفَ لاَ يَكُونُ مُسْتَصْحَباً، وَالمُسْتَصْحَبُ لاَ يَكُونُ مُسْتَخْلَفاً.
My Allāh, I seek Thy protection from the hardships of journey, from the grief of returning and from the scene of devastation of property and men. O Allāh, Thou art the companion in journey and Thou art one who is left behind for (protection of the) family. None except Thee can join these two because one who is left behind cannot be a companion in journey nor one who is in company on a journey can at the same time be left behind.
اللهم میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں سفر کی وعثاء (مشقت) سے، منقلب کی کابت (غم) سے، اہل و مال و ولد میں سوء منظر سے۔ اللهم آپ سفر میں صاحب ہو، اور آپ اہل میں خليفہ ہو، اور یہ دونوں اکٹھے ہو سکتے ہیں صرف آپ سے، کیونکہ مستخلف سفر میں مستصحب نہیں ہو سکتا، اور مستصحب اہل میں مستخلف نہیں ہو سکتا۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

سُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabrisī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabrisī on this āyah

al-Ṭabrisī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 2, no. 1570

إذا أردت الخروج إلى الحج فاجمع أهلك وصل ركعتين ومجد الله كثيرا وصل على محمد وآله، وقل: "اللهم إني أستودعك اليوم ديني ونفسي ومالي وأهلي وولدي وجيراني، وأهل حزانتي الشاهد منا والغائب وجميع ما أنعمت به علي، اللهم اجعلنا في كنفك ومنعك وعياذك وعزك، عز جارك وجل ثناؤك، وامتنع عائذك، ولا إله غيرك، توكلت على الحي الذي لا يموت. الحمد لله الذي لم يتخذ صاحبة ولا ولدا، ولم يكن له شريك في الملك، ولم يكن له ولي من الذل وكبره تكبيرا، الله أكبر كبيرا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة وأصيلا". فإذا خرجت من منزلك فقل: "بسم الله الرحمن الرحيم لا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال والولد، اللهم إني أسألك في سفري هذا السرور والعمل بما …
If you intend to embark on Hajj, gather your family, perform two units of prayer, glorify Allah (swt) abundantly, send blessings upon Muhammad and his family, and say: "O Allah (swt), I entrust to You today my religion, myself, my wealth, my family, my children, my neighbors, those who are present among us, those who are absent, and all the blessings You have bestowed upon me. O Allah (swt), place us under Your protection, safeguarding, refuge, and might. Mighty is Your protection, exalted is Your praise, and inviolable is Your refuge. There is no deity other than You. I rely on the Living, who does not die. All praise is due to Allah (swt), who has not taken a consort or a child, who has …
جب تم حج پر جانے کا ارادہ کریں تو اپنے گھر والوں کو جمع کریں اور دو رکعت نماز پڑھیں اور بہت سارے اللہ کی تعظیم کریں اور محمد اور ان کی آل پر درود بھیجیں، اور یہ کہیں: اے اللہ! میں آج تمہارے پاس اپنے دین، اپنی جان، اپنے مال، اپنے گھر والوں، اپنی اولاد، اپنے ہمسائیوں کو سپرد کرتا ہوں، ہمارے میں سے جو حاضر ہیں اور جو غائب ہیں، اور تمام نعمتیں جو تم نے مجھے دی ہیں۔ اے اللہ! ہمیں اپنی حفاظت میں رکھیں اور اپنی حفاظت اور پناہ اور عزت میں۔ تمہاری حفاظت عزت والی ہے اور تمہاری تعریف عظیم ہے، اور تمہاری پناہ لینے والا محفوظ ہے، تمہارے علاوہ کوئی خدا نہیں۔ میں اس زندہ کے تولیے کرتا ہوں جو کبھی نہیں مرتا۔ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے کوئی بیوی نہیں بنائی اور نہ ہی کوئی بیٹا، اور اس کا بادشاہی میں …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

سُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabrisī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabrisī on this āyah

al-Ṭabrisī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 2599

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (1342)

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (1342)

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (1342)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الأَزْدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ‏{‏ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ‏}‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْبُعْدَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ …
Narrated Abdullah ibn Umar: When the Messenger of Allah (ﷺ) sat on his camel to go out on a journey, he said: "Allah is Most Great" three times. Then he said: "Glory be to Him Who has made subservient to us, for we had not the strength for it, and to our Lord do we return. O Allah, we ask Thee in this journey of ours, uprightness, piety and such deeds as are pleasing to Thee. O Allah, make easy for us this journey of ours and make its length short for us. O Allah, Thou art the Companion in the journey, and the One Who looks after the family and property in our absence." When he returned, he said these words adding: "Returning, repentant, serving and praising our Lord." The Prophet (ﷺ) and …
علی ازدی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں سکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سیدھے بیٹھ جاتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «‏‏‏‏{‏ سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون ‏}‏ اللهم إني أسألك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم ہوں علينا سفرنا هذا اللهم اطو لنا البعد اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال» پاک ہے وہ اللہ جس نے اس ( سواری ) کو ہمارے تابع کر دیا جب کہ ہم اس کو قابو میں لانے والے نہیں تھے، اور ہمیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے، اے اللہ! میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور پسندیدہ اعمال کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

سُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabrisī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabrisī on this āyah

al-Ṭabrisī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 2598

درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَافَرَ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated AbuHurayrah: When the Messenger of Allah (ﷺ) proceeded on journey, he would say: O Allah, Thou art the Companion in the journey, and the One Who looks after the family; O Allah, I seek refuge in Thee from the difficulty of travelling, finding harm when I return, and unhappiness in what I see coming to my family and property. O Allah, make the length of his journey short for us, and the journey easy for us
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال اللهم اطو لنا الأرض وهون علينا السفر» اے اللہ! تو ( میرے ) سفر کا رفیق اور گھر والوں کے لیے میرا قائم مقام ہے، اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی پریشانیوں سے اور غمگین و ناکام ہو کر لوٹنے سے اور لوٹ کر اہل اور مال میں برے منظر ( دیکھنے سے ) سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور ہم پر سفر آسان کر دے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

سُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 402

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا - وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Dharr reported:I asked the Messenger of Allah (ﷺ) the (implication of the) words of Allah, the Exalted: The sun glides to its appointed resting place. He replied: Its appointed resting place is under the Throne
وکیع نے اعمش سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا : ’’سورج اپنے مستقر کی طرف چل رہا ہے ۔ ‘ ‘ آپ نے جواب دیا : ’’اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

سُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4803

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dharr:I asked the Prophet (ﷺ) about the Statement of Allah:-- 'And the sun runs on fixed course for a term (decreed), ' (36.38) He said, "Its course is underneath "Allah's Throne." (Prostration of Sun trees, stars. mentioned in Qur'an and Hadith does not mean like our prostration but it means that these objects are obedient to their Creator (Allah) and they obey for what they have been created for
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان «والشمس تجري لمستقر لها‏» ”اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔“ کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

سُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3199

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي ذَرٍّ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ‏"‏ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهَا، وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ يُقْبَلَ مِنْهَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ يُؤْذَنَ لَهَا، يُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ‏.‏ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ‏}‏‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dhar:The Prophet (ﷺ) asked me at sunset, "Do you know where the sun goes (at the time of sunset)?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "It goes (i.e. travels) till it prostrates Itself underneath the Throne and takes the permission to rise again, and it is permitted and then (a time will come when) it will be about to prostrate itself but its prostration will not be accepted, and it will ask permission to go on its course but it will not be permitted, but it will be ordered to return whence it has come and so it will rise in the west. And that is the interpretation of the Statement of Allah: "And the sun Runs its fixed course For a term (decreed). that is …
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ یزید بن شریک نے اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے۔ پھر ( دوبارہ آنے ) کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے، جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہو گا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا۔ چنانچہ اس دن وہ مغربی ہی سے نکلے گا۔ اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

سُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabrisī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabrisī on this āyah

al-Ṭabrisī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 3275

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الأَزْدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ اللَّهُمَّ …
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported that whenever Allah's Messenger (ﷺ) mounted his camel while setting out on a journey, he glorified Allah (uttered Allah-o-Akbar) thrice, and then said:Hallowed is He Who subdued for us this (ride) and we were not ourselves powerful enough to use It as a ride, and we are going to return to our Lord. O Allah, we seek virtue and piety from Thee in this journey of ours and the act which pleaseth Thee. O Allah, lighten this journey of ours, and make its distance easy for us. O Allah, Thou art (our) companion during the journey, and guardian of (our) family. O Allah, I seek refuge with Thee from hardships of the journey, gloominess of the sights, and …
{سیدنا علی ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں سکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں سفر میں جانے کے لئے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے ، پھر یہ دعا پڑھتے : سبْحانَ الذي سخَّرَ لَنَا هذا وما كنَّا له مُقرنينَ ، وَإِنَّا إِلى ربِّنَا لمُنقَلِبُونَ . اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ في سَفَرِنَا هذا البرَّ والتَّقوى ، ومِنَ العَمَلِ ما تَرْضى . اللَّهُمَّ هَوِّنْ علَيْنا سفَرَنَا هذا وَاطْوِ عنَّا بُعْدَهُ ، اللَّهُمَّ أَنتَ الصَّاحِبُ في السَّفَرِ ، وَالخَلِيفَةُ في الأهْلِ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وعْثَاءِ السَّفَرِ ، وكآبةِ المنظَرِ ، وَسُوءِ المنْقلَبِ في المالِ والأهلِ " پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارے تابع کر دیا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

سُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:37#
وَءَايَةٌ لَّهُمُ ٱلَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ ٱلنَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ

PickthallA token unto them is night. We strip it of the day, and lo! they are in darkness.

Yusuf AliAnd a Sign for them is the Night: We withdraw therefrom the Day, and behold they are plunged in darkness;

The agreed readingAnother sign is the night. God strips the day away from it, and at once they are in darkness.
Urduاور ان کے لیے ایک نشانی رات ہے: ہم اس سے دن کو کھینچ لیتے ہیں تو وہ یکایک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔ یہ منظر ہر روز ان کی آنکھوں کے سامنے دہرایا جاتا ہے، مگر وہ اس پر غور نہیں کرتے۔
Arabicومن الأدلة لهم الليلُ: ننزع منه النهار ونكشف عنه ضوءه، فإذا هم داخلون في الظلام. وهو أمر يتكرر أمام أعينهم كل يوم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Baghawī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3199

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي ذَرٍّ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ‏"‏ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهَا، وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ يُقْبَلَ مِنْهَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ يُؤْذَنَ لَهَا، يُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ‏.‏ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ‏}‏‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dhar:The Prophet (ﷺ) asked me at sunset, "Do you know where the sun goes (at the time of sunset)?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "It goes (i.e. travels) till it prostrates Itself underneath the Throne and takes the permission to rise again, and it is permitted and then (a time will come when) it will be about to prostrate itself but its prostration will not be accepted, and it will ask permission to go on its course but it will not be permitted, but it will be ordered to return whence it has come and so it will rise in the west. And that is the interpretation of the Statement of Allah: "And the sun Runs its fixed course For a term (decreed). that is …
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ یزید بن شریک نے اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے۔ پھر ( دوبارہ آنے ) کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے، جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہو گا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا۔ چنانچہ اس دن وہ مغربی ہی سے نکلے گا۔ اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَءَايَةٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī، al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī and al-Qurṭubī on this āyah

al-Ṭabarī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 401

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا ‏.‏
Abu Dharr reported:I entered the mosque and the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting there. When the sun disappeared (from the sight) he said: O Abu Dharr! Do you know where it goes? He (the narrator) said: Allah and His Apostle know best. He (the Holy Prophet) said. Verily it goes and begs permission, for prostration (to Allah) and the permission is granted to it. Once it would be said: Return to the place whence you came, and then it would rise from its setting place. Then he, after the recitation of 'Abdullah recited it: And that is its appointed term
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرماتھے ، جب سورج غائب ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے ابو ذر!کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ کہا : میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جاننے والے ہیں ۔ فرمایا : ’’ یہ جاتا ہے ، پھر سجدے کی اجازت مانگتا ہے تو اسے سجدے کی اجازت دی جاتی ہے ، ( پھر یوں ہو گا کہ ) جیسے اس سے کہہ دیا گیاہو ( اس میں اشارہ ہے کہ ہم حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے ، ہمیں تمثیلا اس کی خبر دی جا رہی ہے ) کہ جس طرف سے آئے تھے ، ادھر لوٹ جاؤ تویہ اپنی غروب ہونےوالے سمت سے طلوع ہو جائے گا ‘ ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : پھر آپ نے ﴿تَجْرِي …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَءَايَةٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4802

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَدْرِي أَيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ‏}‏‏"‏
Narrated Abu Dharr:Once I was with the Prophet (ﷺ) in the mosque at the time of sunset. The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Dharr! Do you know where the sun sets?" I replied, "Allah and His Apostle know best." He said, "It goes and prostrates underneath (Allah's) Throne; and that is Allah's Statement:-- 'And the sun runs on its fixed course for a term (decreed). And that is the decree of All-Mighty, the All-Knowing
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آفتاب غروب ہونے کے وقت میں مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوذر! تمہیں معلوم ہے یہ آفتاب کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے «والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم‏» کہ ”اور آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے، یہ زبردست علم والے کا ٹھہرایا ہوا اندازہ ہے۔“

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَءَايَةٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2186

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ تَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا اطْلُعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ ‏"‏ وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌ لَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَذَلِكَ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ وَحُذَيْفَةَ …
Abu Dharr said:"I entered the Masjid at sunset, and the Prophet(s.a.w) was sitting. He said: 'O Abu Dharr! Do you know where this(sun) goes?' I said:'Allah and His Messenger know better.' He said: 'Indeed it goes to seek permission to prostrate, so it is permitted. And it is as if it has been said to it: "Rise from whence you came." So it shall rise from its setting place.' Then he recited: 'That is its fixed course."' He said: "That is the recitation of 'Abdulla bim Mas'ud
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سورج ڈوبنے کے بعد میں مسجد میں داخل ہوا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابوذر! جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”وہ سجدے کی اجازت لینے جاتا ہے، اسے اجازت مل جاتی ہے لیکن ایک وقت اس سے کہا جائے گا: اسی جگہ سے نکلو جہاں سے آئے ہو، لہٰذا وہ پچھم سے نکلے گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وذلك مستقر لها» ”یہ اس کا ٹھکانا ہے“، راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی قرأت یہی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں صفوان بن عسال، حذیفہ، اسید، انس اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَءَايَةٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3227

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَدْرِي يَا أَبَا ذَرٍّ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا اطْلَعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ ‏:‏ ‏(‏وذلكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا ‏)‏ قَالَ وَذَلِكَ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Abu Dharr:"I entered the Masjid when the sun had set, and the Prophet (ﷺ) was sitting. He said: 'O Abu Dharr! Do you know where this goes?' I said: 'Allah and His Messenger know better.' He said: 'Indeed it goes to seek permission to prostrate, so it is permitted. And it is as if it has been said to it: "Rise from its setting place.' Then he recited: 'That is its fixed course.'" He said: "That is the recitation of 'Abdullah bin Mas'ud
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سورج ڈوبنے کے وقت داخل ہوا، آپ وہاں تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا: ”ابوذر! کیا تم جانتے ہو یہ ( سورج ) کہاں جاتا ہے؟“، ابوذر کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم، آپ نے فرمایا: ”وہ جا کر سجدہ کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے تو ان اس سے کہا جاتا ہے وہیں سے نکلو جہاں سے آئے ہو۔ پھر وہ ( قیامت کے قریب ) اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکلے گا“۔ ابوذر کہتے ہیں: پھر آپ نے «وذلك مستقر لها» ”یہی اس کے ٹھہرنے کی جگہ ہے“ پڑھا۔ راوی کہتے ہیں: یہی عبداللہ بن مسعود کی قرأت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَءَايَةٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 402

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا - وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Dharr reported:I asked the Messenger of Allah (ﷺ) the (implication of the) words of Allah, the Exalted: The sun glides to its appointed resting place. He replied: Its appointed resting place is under the Throne
وکیع نے اعمش سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا : ’’سورج اپنے مستقر کی طرف چل رہا ہے ۔ ‘ ‘ آپ نے جواب دیا : ’’اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَءَايَةٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4803

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dharr:I asked the Prophet (ﷺ) about the Statement of Allah:-- 'And the sun runs on fixed course for a term (decreed), ' (36.38) He said, "Its course is underneath "Allah's Throne." (Prostration of Sun trees, stars. mentioned in Qur'an and Hadith does not mean like our prostration but it means that these objects are obedient to their Creator (Allah) and they obey for what they have been created for
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان «والشمس تجري لمستقر لها‏» ”اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔“ کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَءَايَةٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:38#
وَٱلشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْعَلِيمِ

PickthallAnd the sun runneth on unto a resting-place for him. That is the measuring of the Mighty, the Wise.

Yusuf AliAnd the sun runs his course for a period determined for him: that is the decree of (Him), the Exalted in Might, the All-Knowing.

The agreed readingThe sun runs its course to a resting-place appointed for it. That is the measuring of the Mighty, the Knowing.
Urduاور سورج اپنے مقرر کیے ہوئے راستے پر چلتا رہتا ہے، اس سے ذرا ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ یہ اُس ہستی کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے جو زبردست ہے اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
Arabicوالشمس تجري إلى منتهًى قدَّره الله لها لا تتجاوزه ولا تقصر عنه. ذلك الجري على هذا النظام الدقيق تقديرُ العزيز الذي لا يُغلَب، العليم الذي لا يخفى عليه شيء.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr and Ṭanṭāwī on this āyah

al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3199

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي ذَرٍّ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ‏"‏ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهَا، وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ يُقْبَلَ مِنْهَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ يُؤْذَنَ لَهَا، يُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ‏.‏ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ‏}‏‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dhar:The Prophet (ﷺ) asked me at sunset, "Do you know where the sun goes (at the time of sunset)?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "It goes (i.e. travels) till it prostrates Itself underneath the Throne and takes the permission to rise again, and it is permitted and then (a time will come when) it will be about to prostrate itself but its prostration will not be accepted, and it will ask permission to go on its course but it will not be permitted, but it will be ordered to return whence it has come and so it will rise in the west. And that is the interpretation of the Statement of Allah: "And the sun Runs its fixed course For a term (decreed). that is …
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ یزید بن شریک نے اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے۔ پھر ( دوبارہ آنے ) کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے، جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہو گا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا۔ چنانچہ اس دن وہ مغربی ہی سے نکلے گا۔ اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلشَّمْسُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Qurṭubī، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Qurṭubī and Ibn ʿĀshūr on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، al-Qurṭubī، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 399

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، - حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ، - سَمِعَهُ فِيمَا، أَعْلَمُ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمًا ‏"‏ أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرُّ سَاجِدَةً وَلاَ تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا ارْتَفِعِي ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ثُمَّ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ …
It is narrated on the authority of Abu Dharr that the Messenger of Allah (ﷺ) one day said:Do you know where the sun goes? They replied: Allah and His Apostle know best. He (the Holy Prophet) observed: Verily it (the sun) glides till it reaches its resting place under the Throne. Then it falls prostrate and remains there until it is asked: Rise up and go to the place whence you came, and it goes back and continues emerging out from its rising place and then glides till it reaches its place of rest under the Throne and falls prostrate and remains in that state until it is asked: Rise up and return to the place whence you came, and it returns and emerges out from it rising place and the it …
(اسماعیل ) ابن علیہ نے کہا : ہمیں یونس نے ابراہیم بن یزید تیمی کے حوالے سے حدیث سنائی ، میرے علم کے مطابق ، انہوں نے یہ حدیث اپنے والد ( یزید ) سے سنی اور انہوں نے حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن پوچھا : ’’جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے جواب دیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے مستقر پر پہنچ جاتا ہے ، پھر سجدے میں چلا جاتا ہے ، وہ مسلسل اسی حالت میں رہتا ہے حتی کہ اسے کہا جاتا ہے : اٹھو! جہاں سے آئے تھے ادھر لوٹ جاؤ تو وہ واپس لوٹتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے ، پھر چلتا ہوا عرش کے نیچے اپنی جائے قرار پر پہنچ جاتا ہے ، پھر سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلشَّمْسُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī، Ṭanṭāwī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and Ṭanṭāwī on this āyah

al-Baghawī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4803

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dharr:I asked the Prophet (ﷺ) about the Statement of Allah:-- 'And the sun runs on fixed course for a term (decreed), ' (36.38) He said, "Its course is underneath "Allah's Throne." (Prostration of Sun trees, stars. mentioned in Qur'an and Hadith does not mean like our prostration but it means that these objects are obedient to their Creator (Allah) and they obey for what they have been created for
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان «والشمس تجري لمستقر لها‏» ”اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔“ کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلشَّمْسُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ṭabarī، al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī and al-Qurṭubī on this āyah

al-Ṭabarī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 401

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا ‏.‏
Abu Dharr reported:I entered the mosque and the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting there. When the sun disappeared (from the sight) he said: O Abu Dharr! Do you know where it goes? He (the narrator) said: Allah and His Apostle know best. He (the Holy Prophet) said. Verily it goes and begs permission, for prostration (to Allah) and the permission is granted to it. Once it would be said: Return to the place whence you came, and then it would rise from its setting place. Then he, after the recitation of 'Abdullah recited it: And that is its appointed term
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرماتھے ، جب سورج غائب ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے ابو ذر!کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ کہا : میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جاننے والے ہیں ۔ فرمایا : ’’ یہ جاتا ہے ، پھر سجدے کی اجازت مانگتا ہے تو اسے سجدے کی اجازت دی جاتی ہے ، ( پھر یوں ہو گا کہ ) جیسے اس سے کہہ دیا گیاہو ( اس میں اشارہ ہے کہ ہم حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے ، ہمیں تمثیلا اس کی خبر دی جا رہی ہے ) کہ جس طرف سے آئے تھے ، ادھر لوٹ جاؤ تویہ اپنی غروب ہونےوالے سمت سے طلوع ہو جائے گا ‘ ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : پھر آپ نے ﴿تَجْرِي …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلشَّمْسُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4802

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَدْرِي أَيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ‏}‏‏"‏
Narrated Abu Dharr:Once I was with the Prophet (ﷺ) in the mosque at the time of sunset. The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Dharr! Do you know where the sun sets?" I replied, "Allah and His Apostle know best." He said, "It goes and prostrates underneath (Allah's) Throne; and that is Allah's Statement:-- 'And the sun runs on its fixed course for a term (decreed). And that is the decree of All-Mighty, the All-Knowing
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آفتاب غروب ہونے کے وقت میں مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوذر! تمہیں معلوم ہے یہ آفتاب کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے «والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم‏» کہ ”اور آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے، یہ زبردست علم والے کا ٹھہرایا ہوا اندازہ ہے۔“

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلشَّمْسُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2186

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ تَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا اطْلُعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ ‏"‏ وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌ لَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَذَلِكَ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ وَحُذَيْفَةَ …
Abu Dharr said:"I entered the Masjid at sunset, and the Prophet(s.a.w) was sitting. He said: 'O Abu Dharr! Do you know where this(sun) goes?' I said:'Allah and His Messenger know better.' He said: 'Indeed it goes to seek permission to prostrate, so it is permitted. And it is as if it has been said to it: "Rise from whence you came." So it shall rise from its setting place.' Then he recited: 'That is its fixed course."' He said: "That is the recitation of 'Abdulla bim Mas'ud
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سورج ڈوبنے کے بعد میں مسجد میں داخل ہوا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابوذر! جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”وہ سجدے کی اجازت لینے جاتا ہے، اسے اجازت مل جاتی ہے لیکن ایک وقت اس سے کہا جائے گا: اسی جگہ سے نکلو جہاں سے آئے ہو، لہٰذا وہ پچھم سے نکلے گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وذلك مستقر لها» ”یہ اس کا ٹھکانا ہے“، راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی قرأت یہی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں صفوان بن عسال، حذیفہ، اسید، انس اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلشَّمْسُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 3227

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَدْرِي يَا أَبَا ذَرٍّ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا اطْلَعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ ‏:‏ ‏(‏وذلكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا ‏)‏ قَالَ وَذَلِكَ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Abu Dharr:"I entered the Masjid when the sun had set, and the Prophet (ﷺ) was sitting. He said: 'O Abu Dharr! Do you know where this goes?' I said: 'Allah and His Messenger know better.' He said: 'Indeed it goes to seek permission to prostrate, so it is permitted. And it is as if it has been said to it: "Rise from its setting place.' Then he recited: 'That is its fixed course.'" He said: "That is the recitation of 'Abdullah bin Mas'ud
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سورج ڈوبنے کے وقت داخل ہوا، آپ وہاں تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا: ”ابوذر! کیا تم جانتے ہو یہ ( سورج ) کہاں جاتا ہے؟“، ابوذر کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم، آپ نے فرمایا: ”وہ جا کر سجدہ کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے تو ان اس سے کہا جاتا ہے وہیں سے نکلو جہاں سے آئے ہو۔ پھر وہ ( قیامت کے قریب ) اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکلے گا“۔ ابوذر کہتے ہیں: پھر آپ نے «وذلك مستقر لها» ”یہی اس کے ٹھہرنے کی جگہ ہے“ پڑھا۔ راوی کہتے ہیں: یہی عبداللہ بن مسعود کی قرأت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلشَّمْسُ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:39#
وَٱلْقَمَرَ قَدَّرْنَٰهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلْعُرْجُونِ ٱلْقَدِيمِ

PickthallAnd for the moon We have appointed mansions till she return like an old shrivelled palm-leaf.

Yusuf AliAnd the Moon,- We have measured for her mansions (to traverse) till she returns like the old (and withered) lower part of a date-stalk.

The agreed readingThe moon is given stations, phase by phase, until it comes back thin and curved like an old dried palm-stalk.
Urduاور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں جنہیں وہ ایک ایک کر کے طے کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی سوکھی ٹہنی کی طرح باریک اور خمدار ہو کر رہ جاتا ہے۔ پہلے وہ ہلال کی صورت میں نکلتا ہے، پھر بڑھتے بڑھتے پورا ہوتا ہے، پھر گھٹتے گھٹتے اسی حالت پر آ جاتا ہے۔
Arabicوالقمر قدَّرنا سيره منازل يَنزلها ليلةً بعد ليلة، يبدأ دقيقًا ثم يكتمل ثم يعود فيدِقُّ، حتى يصير كعِذْق النخلة القديم في انحنائه ورقته واصفراره.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4802

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَدْرِي أَيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ‏}‏‏"‏
Narrated Abu Dharr:Once I was with the Prophet (ﷺ) in the mosque at the time of sunset. The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Dharr! Do you know where the sun sets?" I replied, "Allah and His Apostle know best." He said, "It goes and prostrates underneath (Allah's) Throne; and that is Allah's Statement:-- 'And the sun runs on its fixed course for a term (decreed). And that is the decree of All-Mighty, the All-Knowing
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آفتاب غروب ہونے کے وقت میں مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوذر! تمہیں معلوم ہے یہ آفتاب کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے «والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم‏» کہ ”اور آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے، یہ زبردست علم والے کا ٹھہرایا ہوا اندازہ ہے۔“

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلْقَمَرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3199

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي ذَرٍّ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ‏"‏ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهَا، وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ يُقْبَلَ مِنْهَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ يُؤْذَنَ لَهَا، يُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ‏.‏ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ‏}‏‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dhar:The Prophet (ﷺ) asked me at sunset, "Do you know where the sun goes (at the time of sunset)?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "It goes (i.e. travels) till it prostrates Itself underneath the Throne and takes the permission to rise again, and it is permitted and then (a time will come when) it will be about to prostrate itself but its prostration will not be accepted, and it will ask permission to go on its course but it will not be permitted, but it will be ordered to return whence it has come and so it will rise in the west. And that is the interpretation of the Statement of Allah: "And the sun Runs its fixed course For a term (decreed). that is …
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ یزید بن شریک نے اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے۔ پھر ( دوبارہ آنے ) کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے، جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہو گا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا۔ چنانچہ اس دن وہ مغربی ہی سے نکلے گا۔ اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلْقَمَرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 2965

وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً ‏.‏
Abu Dharr (Allah be pleased with him) said that Tamattu' in Hajj was a special (concession) only for the Companions of Muhammad (ﷺ)
اعمش نے ابراہیم تیمی سے ، انھوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک ) سے ، انھوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : حج میں تمتع ( حج کا احرام باندھنا پھرعمرہ کرکے احرام کھول دینا ) صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے لئے خاص تھا ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلْقَمَرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 2966

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَتْ لَنَا رُخْصَةً ‏.‏ يَعْنِي الْمُتْعَةَ فِي الْحَجِّ ‏.‏
Abu Dharr (Allah be pleased with him) reported:Tamattu' in Hajj was a special concession for us
عیاش عامری نے ابراہیم تیمی سے ، انھوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک ) سے ، انھوں نے ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : یہ رخصت صرف ہمارے ہی لئے تھی ، یعنی حج میں تمتع کی ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱلْقَمَرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:40#
لَا ٱلشَّمْسُ يَنۢبَغِى لَهَآ أَن تُدْرِكَ ٱلْقَمَرَ وَلَا ٱلَّيْلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ

PickthallIt is not for the sun to overtake the moon, nor doth the night outstrip the day. They float each in an orbit.

Yusuf AliIt is not permitted to the Sun to catch up the Moon, nor can the Night outstrip the Day: Each (just) swims along in (its own) orbit (according to Law).

The agreed readingNeither may the sun overtake the moon, nor does the night outrun the day: each swims in an orbit of its own.
Urduنہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے۔ ہر ایک اپنے مقرر مدار میں تیر رہا ہے، نہ اس سے ہٹتا ہے اور نہ کوئی ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے۔ یہ باقاعدگی خود بتاتی ہے کہ اس نظام کا چلانے والا ایک ہی ہے۔
Arabicلكلٍّ من هذه الآيات حدٌّ قدَّره الله لا يتجاوزه: فلا يصح للشمس أن تُدرك القمر فتجتمع معه أو تُذهِب نوره، ولا لليل أن يسبق النهار فيدخل قبل انقضاء وقته. وكلٌّ من الشمس والقمر والنجوم يسبح في فَلَكه على نظام محفوظ.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4802

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَدْرِي أَيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ‏}‏‏"‏
Narrated Abu Dharr:Once I was with the Prophet (ﷺ) in the mosque at the time of sunset. The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Dharr! Do you know where the sun sets?" I replied, "Allah and His Apostle know best." He said, "It goes and prostrates underneath (Allah's) Throne; and that is Allah's Statement:-- 'And the sun runs on its fixed course for a term (decreed). And that is the decree of All-Mighty, the All-Knowing
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آفتاب غروب ہونے کے وقت میں مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوذر! تمہیں معلوم ہے یہ آفتاب کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے «والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم‏» کہ ”اور آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے، یہ زبردست علم والے کا ٹھہرایا ہوا اندازہ ہے۔“

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3199

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي ذَرٍّ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ‏"‏ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهَا، وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ يُقْبَلَ مِنْهَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ يُؤْذَنَ لَهَا، يُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ‏.‏ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ‏}‏‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dhar:The Prophet (ﷺ) asked me at sunset, "Do you know where the sun goes (at the time of sunset)?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "It goes (i.e. travels) till it prostrates Itself underneath the Throne and takes the permission to rise again, and it is permitted and then (a time will come when) it will be about to prostrate itself but its prostration will not be accepted, and it will ask permission to go on its course but it will not be permitted, but it will be ordered to return whence it has come and so it will rise in the west. And that is the interpretation of the Statement of Allah: "And the sun Runs its fixed course For a term (decreed). that is …
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ یزید بن شریک نے اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے۔ پھر ( دوبارہ آنے ) کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے، جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہو گا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا۔ چنانچہ اس دن وہ مغربی ہی سے نکلے گا۔ اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 2965

وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً ‏.‏
Abu Dharr (Allah be pleased with him) said that Tamattu' in Hajj was a special (concession) only for the Companions of Muhammad (ﷺ)
اعمش نے ابراہیم تیمی سے ، انھوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک ) سے ، انھوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : حج میں تمتع ( حج کا احرام باندھنا پھرعمرہ کرکے احرام کھول دینا ) صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے لئے خاص تھا ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 2966

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَتْ لَنَا رُخْصَةً ‏.‏ يَعْنِي الْمُتْعَةَ فِي الْحَجِّ ‏.‏
Abu Dharr (Allah be pleased with him) reported:Tamattu' in Hajj was a special concession for us
عیاش عامری نے ابراہیم تیمی سے ، انھوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک ) سے ، انھوں نے ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : یہ رخصت صرف ہمارے ہی لئے تھی ، یعنی حج میں تمتع کی ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:41#
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ

PickthallAnd a token unto them is that We bear their offspring in the laden ship,

Yusuf AliAnd a Sign for them is that We bore their race (through the Flood) in the loaded Ark;

The agreed readingA further sign: God carried their forebears in the laden ship - the commentaries point to the Ark of Noah.
Urduاور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا، جو اللہ کے حکم سے پانی پر چلتی رہی اور ڈوبی نہیں۔ یہ اسی کی قدرت اور اسی کے احسان کا مظہر ہے۔
Arabicومن الأدلة لهم على قدرة الله وإنعامه أنَّا حملناهم في السفينة المملوءة بمن فيها وما فيها، فجرت بهم على الماء ولم تغرق.
36:42#
وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِۦ مَا يَرْكَبُونَ

PickthallAnd have created for them of the like thereof whereon they ride.

Yusuf AliAnd We have created for them similar (vessels) on which they ride.

The agreed readingAnd He created for them the like of it: the ships and vessels they build on that pattern, taught by God, and ride to this day, carrying them and their loads to where they are going.
Urduاور ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور سواریاں بھی پیدا کر دیں جن پر وہ سوار ہوتے اور اپنا سامان لے جاتے ہیں۔ یہ سب اللہ ہی کا عطا کیا ہوا انتظام ہے، انسان کا اپنا بنایا ہوا نہیں۔
Arabicوخلقنا لهم من مثل تلك السفينة ما يركبون فينتقلون به ويبلغون حاجتهم. فذلك كله من تسخير الله لهم ونعمته عليهم.
36:43#
وَإِن نَّشَأْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ يُنقَذُونَ

PickthallAnd if We will, We drown them, and there is no help for them, neither can they be saved;

Yusuf AliIf it were Our Will, We could drown them: then would there be no helper (to hear their cry), nor could they be delivered,

The agreed readingIf He willed He could drown them - no cry for help would serve, and no one would rescue them.
Urduاور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں، پھر نہ کوئی ان کی فریاد کو پہنچے اور نہ وہ چھڑائے جا سکیں۔ بڑے سے بڑا جہاز بھی سمندر کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔
Arabicوإن نشأ نُغرقهم وهم في تلك السفن، فلا مغيث يغيثهم مما نزل بهم، ولا هم يُنجَون من الغرق.
36:44#
إِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٍ

PickthallUnless by mercy from Us and as comfort for a while.

Yusuf AliExcept by way of Mercy from Us, and by way of (world) convenience (to serve them) for a time.

The agreed readingOnly a mercy from Him keeps them afloat, and an enjoyment of life for a while - until their appointed terms.
Urduمگر یہ ہماری رحمت ہے کہ ہم انہیں بچا لیتے ہیں اور ایک مقررہ وقت تک فائدہ اٹھانے دیتے ہیں۔ ان کا سلامت رہنا ان کے اپنے زور سے نہیں بلکہ اللہ کی مہربانی سے ہے۔
Arabicلكن رحمةً منا ننجيهم بها، ونمتعهم إلى أجل مسمًّى ينتهون إليه. فبقاؤهم سالمين ليس بقوتهم، بل برحمة الله وتمتيعه إياهم إلى حين.
36:45#
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّقُوا۟ مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَمَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

PickthallWhen it is said unto them: Beware of that which is before you and that which is behind you, that haply ye may find mercy (they are heedless).

Yusuf AliWhen they are told, "Fear ye that which is before you and that which will be after you, in order that ye may receive Mercy," (they turn back).

The agreed readingWhen they are told: be wary of what lies before you and what lies behind you, so that you may find mercy - they turn away.
Urduاور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اُس سے بچو جو تمہارے آگے ہے اور جو تمہارے پیچھے گزر چکا ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے، تو یہ سنی ان سنی کر دیتے ہیں۔
Arabicوإذا قيل لهم: احذروا ما بين أيديكم وما خلفكم رجاء أن يرحمكم الله، أعرضوا ولم يستجيبوا. والمراد التحذير مما تقدَّم من العذاب ومما هم مقبلون عليه.
36:46#
وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ ءَايَةٍ مِّنْ ءَايَٰتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ

PickthallNever came a token of the tokens of their Lord to them, but they did turn away from it!

Yusuf AliNot a Sign comes to them from among the Signs of their Lord, but they turn away therefrom.

The agreed readingNot one sign of their Lord's signs ever comes to them - a sign sent to guide them to the truth and to show the messenger truthful - but they turn away from it and take nothing from it.
Urduاور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی آتی ہے، یہ اس سے منہ ہی موڑ لیتے ہیں۔ نہ اس میں غور کرتے ہیں اور نہ اس سے کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں۔
Arabicوما تأتيهم آية من آيات ربهم الدالة على وحدانيته وصدق رسوله إلا أعرضوا عنها ولم ينتفعوا بها. فذلك دأبهم مع كل آية.
36:47#
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَآءُ ٱللَّهُ أَطْعَمَهُۥٓ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ

PickthallAnd when it is said unto them: Spend of that wherewith Allah hath provided you, those who disbelieve say unto those who believe: Shall we feed those whom Allah, if He willed, would feed? Ye are in naught else than error manifest.

Yusuf AliAnd when they are told, "Spend ye of (the bounties) with which Allah has provided you," the Unbelievers say to those who believe: "Shall we then feed those whom, if Allah had so willed, He would have fed, (Himself)?- Ye are in nothing but manifest error."

The agreed readingWhen told to spend from what God has provided, those who refuse mock the believers: shall we feed those whom God, had He willed, would have fed Himself? You are in nothing but plain error.
Urduاور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے محتاجوں پر خرچ کرو تو کافر اہلِ ایمان سے مذاق کے طور پر کہتے ہیں: کیا ہم انہیں کھلائیں جنہیں اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا؟ تم تو کھلی گمراہی میں پڑے ہو۔ یوں وہ اللہ کی مشیت کا نام لے کر اس کے حکم سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
Arabicوإذا قيل لهم: أنفقوا مما رزقكم الله على المحتاجين، قال الذين كفروا للذين آمنوا على وجه الاستهزاء: أنطعم من لو شاء الله أطعمه؟ ما أنتم فيما تدعوننا إليه إلا في ضلال واضح.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية

Cited by Ṭabāṭabāʾī on this āyah

Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 3210

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ الْبَهِيمِ فَقَالَ ‏ "‏ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Dharr said:“I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the all-black dog and he said: ‘(It is) a devil.’”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالص سیاہ کتے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شیطان ہے ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَإِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية

Cited by Ṭabāṭabāʾī on this āyah

Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4803

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا‏}‏ قَالَ ‏"‏ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Dharr:I asked the Prophet (ﷺ) about the Statement of Allah:-- 'And the sun runs on fixed course for a term (decreed), ' (36.38) He said, "Its course is underneath "Allah's Throne." (Prostration of Sun trees, stars. mentioned in Qur'an and Hadith does not mean like our prostration but it means that these objects are obedient to their Creator (Allah) and they obey for what they have been created for
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان «والشمس تجري لمستقر لها‏» ”اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔“ کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَإِذَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:48#
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

PickthallAnd they say: When will this promise be fulfilled, if ye are truthful?

Yusuf AliFurther, they say, "When will this promise (come to pass), if what ye say is true?"

The agreed readingAnd they ask, hastening what they do not believe in: when is this promise, if you are truthful?
Urduاور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا، اگر تم سچے ہو؟ یہ سوال وہ جاننے کے لیے نہیں بلکہ جھٹلانے اور مذاق اڑانے کے لیے کرتے تھے۔
Arabicويقولون على وجه التكذيب والاستعجال: متى يقع هذا الوعد بالبعث إن كنتم صادقين فيما تخبروننا به؟
36:49#
مَا يَنظُرُونَ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً تَأْخُذُهُمْ وَهُمْ يَخِصِّمُونَ

PickthallThey await but one Shout, which will surprise them while they are disputing.

Yusuf AliThey will not (have to) wait for aught but a single Blast: it will seize them while they are yet disputing among themselves!

The agreed readingThey wait for nothing but a single cry - the commentaries name the first blast of the Trumpet - seizing them mid-argument, in the middle of ordinary life.
Urduیہ لوگ صرف ایک زور دار چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو انہیں اس حال میں آ پکڑے گی کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے۔ وہ اپنے کاروبار اور مشغلوں میں لگے ہوں گے اور یہ ان پر اچانک آ پڑے گی۔
Arabicما ينتظر هؤلاء المستعجلون إلا صيحة واحدة تأخذهم بغتة وهم منشغلون يتخاصمون في أمور دنياهم. فهي تفاجئهم وهم غافلون عنها.
36:50#
فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَلَآ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ

PickthallThen they cannot make bequest, nor can they return to their own folk.

Yusuf AliNo (chance) will they then have, by will, to dispose (of their affairs), nor to return to their own people!

The agreed readingToo sudden for a bequest to be made, too final for any return to their own people.
Urduپھر نہ وہ کوئی وصیت کر سکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ سکیں گے۔ جو جس حالت میں ہوگا اسی حالت میں دھرا رہ جائے گا۔
Arabicفلا يستطيعون حينئذ أن يوصوا بشيء، ولا أن يرجعوا إلى أهلهم في بيوتهم، بل يموتون في أماكنهم التي هم فيها. فالساعة لا تمهلهم لشيء.
36:51#
وَنُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ ٱلْأَجْدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ

PickthallAnd the trumpet is blown and lo! from the graves they hie unto their Lord,

Yusuf AliThe trumpet shall be sounded, when behold! from the sepulchres (men) will rush forth to their Lord!

The agreed readingThe Trumpet is blown - the commentaries call it the blast of the raising - and at once they are hurrying out of the graves to their Lord.
Urduاور صور پھونکا جائے گا تو وہ یکایک اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے، کسی تاخیر کی گنجائش نہ ہوگی۔
Arabicونُفخ في الصور نفخة البعث، فإذا هم يخرجون من قبورهم مسرعين إلى ربهم لا يتأخرون.
36:52#
قَالُوا۟ يَٰوَيْلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا هَٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحْمَٰنُ وَصَدَقَ ٱلْمُرْسَلُونَ

PickthallCrying: Woe upon us! Who hath raised us from our place of sleep? This is that which the Beneficent did promise, and the messengers spoke truth.

Yusuf AliThey will say: "Ah! Woe unto us! Who hath raised us up from our beds of repose?"... (A voice will say:) "This is what (Allah) Most Gracious had promised. And true was the word of the messengers!"

The agreed readingThe cry of the raised: woe to us, who has roused us from our resting-place? The answer is already in their mouths: this is what the All-Merciful promised, and the messengers told the truth.
Urduوہ کہیں گے: ہائے ہماری شامت! ہمیں ہماری خواب گاہ سے کس نے اٹھا دیا؟ پھر انہیں جواب ملے گا کہ یہ تو وہی ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔
Arabicقالوا: يا هلاكنا، مَن الذي بعثنا من مَرقدنا؟ فيُجابون: هذا هو الذي وعد به الرحمن، وصدق المرسلون فيما بلَّغوه عنه. فأقرُّوا حين لا ينفعهم الإقرار.
36:53#
إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً فَإِذَا هُمْ جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ

PickthallIt is but one Shout, and behold them brought together before Us!

Yusuf AliIt will be no more than a single Blast, when lo! they will all be brought up before Us!

The agreed readingIt is a single cry only - no more than one blast - and at once all of them together are brought before God, standing for the reckoning.
Urduبس ایک ہی چنگھاڑ ہوگی، اور یکایک وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کر دیے جائیں گے۔ کوئی نہ بھاگ سکے گا اور نہ چھپ سکے گا۔
Arabicما كانت إلا صيحة واحدة، فإذا هم جميعًا محضَرون عندنا للحساب والجزاء، لا يتخلف منهم أحد.
36:54#
فَٱلْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا وَلَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

PickthallThis day no soul is wronged in aught; nor are ye requited aught save what ye used to do.

Yusuf AliThen, on that Day, not a soul will be wronged in the least, and ye shall but be repaid the meeds of your past Deeds.

The agreed readingThat Day no soul is wronged in anything, and none are repaid except for what they used to do.
Urduپس اس دن کسی جان پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا، اور تمہیں بدلہ اسی کا دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے۔ نہ کسی کی نیکی ضائع ہوگی اور نہ کسی کو اس کے جرم سے زیادہ سزا ملے گی۔
Arabicفاليوم يقع الحساب بالعدل، فلا تُنقَص نفس من حقها شيئًا ولا تُحمَّل ما لم تعمل. ولا تُجزَون إلا جزاء ما كنتم تعملون في الدنيا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 184

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ‏.‏ قَالَ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ ‏{سَلاَمٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ}‏ قَالَ فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَلاَ يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَىْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ …
It was narrated that Jabor bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'While the people of Paradise are enjoying their blessings, a light will shine upon them, and they will raise their heads, and they will see their Lord looking upon them from above. He will say: "Peace be upon you, O people of Paradise." This is what Allah says in the Verse: "Salam (peace be upon you) - a Word from the Lord (Allah), The Most Merciful." He will look at them, and they will look at Him, and they will not pay any attention to the delights (of Paradise) so long as they look at Him, until He will screen Himself from them. But His light and blessing will remain with them in their bodies
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر سے جھانک رہا ہے، اور فرما رہا ہے: اے جنت والو! تم پر سلام ہو ، اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «سلام قولا من رب رحيم» ( سورة يس: 58 ) کا رحيم ( مہربان ) رب کی طرف سے ( اہل جنت کو ) سلام کہا جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک باری تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ان کو ملتی رہے گی وہ کسی بھی دوسری نعمت کی طرف مطلقاً نظر نہیں اٹھائیں گے، پھر وہ ان سے چھپ جائے گا، لیکن ان کے گھروں میں ہمیشہ کے لیے اس کا نور اور برکت باقی رہ جائے گی ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَٱلْيَوْمَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:55#
إِنَّ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ ٱلْيَوْمَ فِى شُغُلٍ فَٰكِهُونَ

PickthallLo! those who merit paradise this day are happily employed,

Yusuf AliVerily the Companions of the Garden shall that Day have joy in all that they do;

The agreed readingThe companions of the Garden that Day are absorbed in joy - occupied, the commentaries say, so fully with delight that no care can reach them.
Urduبے شک اہلِ جنت اُس دن ایسے مشغلے میں ہوں گے جو ان کے لیے سراسر لذت اور خوشی کا باعث ہوگا۔ وہ اپنی نعمتوں میں اس طرح محو ہوں گے کہ ہر دوسری چیز سے بے نیاز ہو جائیں گے۔
Arabicإن أصحاب الجنة يومئذ في شغل بما هم فيه من النعيم عن كل ما سواه، متلذذين مسرورين بما أعطاهم ربهم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 184

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ‏.‏ قَالَ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ ‏{سَلاَمٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ}‏ قَالَ فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَلاَ يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَىْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ …
It was narrated that Jabor bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'While the people of Paradise are enjoying their blessings, a light will shine upon them, and they will raise their heads, and they will see their Lord looking upon them from above. He will say: "Peace be upon you, O people of Paradise." This is what Allah says in the Verse: "Salam (peace be upon you) - a Word from the Lord (Allah), The Most Merciful." He will look at them, and they will look at Him, and they will not pay any attention to the delights (of Paradise) so long as they look at Him, until He will screen Himself from them. But His light and blessing will remain with them in their bodies
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر سے جھانک رہا ہے، اور فرما رہا ہے: اے جنت والو! تم پر سلام ہو ، اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «سلام قولا من رب رحيم» ( سورة يس: 58 ) کا رحيم ( مہربان ) رب کی طرف سے ( اہل جنت کو ) سلام کہا جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک باری تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ان کو ملتی رہے گی وہ کسی بھی دوسری نعمت کی طرف مطلقاً نظر نہیں اٹھائیں گے، پھر وہ ان سے چھپ جائے گا، لیکن ان کے گھروں میں ہمیشہ کے لیے اس کا نور اور برکت باقی رہ جائے گی ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:56#
هُمْ وَأَزْوَٰجُهُمْ فِى ظِلَٰلٍ عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ مُتَّكِـُٔونَ

PickthallThey and their wives, in pleasant shade, on thrones reclining;

Yusuf AliThey and their associates will be in groves of (cool) shade, reclining on Thrones (of dignity);

The agreed readingThey and their spouses recline on adorned couches, in spreading shade where no sun strikes them.
Urduوہ اور ان کی بیویاں سایوں میں مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، کمالِ راحت اور اطمینان کے ساتھ۔
Arabicهم وأزواجهم في ظلال وارفة، على الأسِرَّة المزيَّنة متكئون، في تمام الراحة والطمأنينة.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Man Lā Yaḥḍuruh al-Faqīh, vol. 2, no. 361

1932 - رَوَى عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : «إِذَا غَابَ اَلْقُرْصُ أَفْطَرَ اَلصَّائِمُ وَ دَخَلَ وَقْتُ اَلصَّلاَةِ.
Hadith.1932 - Amru ibn Shimr narrated from Jabir, from Abu Ja'far (as), who said that the Messenger of Allah (swt) (peace be upon him and his family) said: "When the disk of the sun disappears, the fasting person may break their fast, and the time for prayer begins."
روایت کی عمرو بن شمر نے جابر سے، جابر نے ابی جعفر (علیہ السلام) سے، کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: جب سورج کا دائرہ غائب ہو جائے تو روزے دار اپنا روزہ افطار کر سکتا ہے اور نماز کا وقت داخل ہو جاتا ہے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هُمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 184

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ‏.‏ قَالَ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ ‏{سَلاَمٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ}‏ قَالَ فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَلاَ يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَىْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ …
It was narrated that Jabor bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'While the people of Paradise are enjoying their blessings, a light will shine upon them, and they will raise their heads, and they will see their Lord looking upon them from above. He will say: "Peace be upon you, O people of Paradise." This is what Allah says in the Verse: "Salam (peace be upon you) - a Word from the Lord (Allah), The Most Merciful." He will look at them, and they will look at Him, and they will not pay any attention to the delights (of Paradise) so long as they look at Him, until He will screen Himself from them. But His light and blessing will remain with them in their bodies
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر سے جھانک رہا ہے، اور فرما رہا ہے: اے جنت والو! تم پر سلام ہو ، اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «سلام قولا من رب رحيم» ( سورة يس: 58 ) کا رحيم ( مہربان ) رب کی طرف سے ( اہل جنت کو ) سلام کہا جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک باری تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ان کو ملتی رہے گی وہ کسی بھی دوسری نعمت کی طرف مطلقاً نظر نہیں اٹھائیں گے، پھر وہ ان سے چھپ جائے گا، لیکن ان کے گھروں میں ہمیشہ کے لیے اس کا نور اور برکت باقی رہ جائے گی ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هُمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:57#
لَهُمْ فِيهَا فَٰكِهَةٌ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ

PickthallTheirs the fruit (of their good deeds) and theirs (all) that they ask;

Yusuf Ali(Every) fruit (enjoyment) will be there for them; they shall have whatever they call for;

The agreed readingTheirs is the fruit of the Garden, and theirs is whatever they call for: the word means what they ask for and wish for, and it comes to them.
Urduان کے لیے وہاں ہر قسم کے میوے ہوں گے، اور ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ طلب کریں۔ جس چیز کی بھی خواہش کریں گے وہ انہیں مل جائے گی۔
Arabicلهم في الجنة فاكهة من كل نوع لذيذ، ولهم فوق ذلك كل ما يطلبونه ويتمنَّونه، فما تمنَّوه وجدوه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 184

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ‏.‏ قَالَ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ ‏{سَلاَمٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ}‏ قَالَ فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَلاَ يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَىْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ …
It was narrated that Jabor bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'While the people of Paradise are enjoying their blessings, a light will shine upon them, and they will raise their heads, and they will see their Lord looking upon them from above. He will say: "Peace be upon you, O people of Paradise." This is what Allah says in the Verse: "Salam (peace be upon you) - a Word from the Lord (Allah), The Most Merciful." He will look at them, and they will look at Him, and they will not pay any attention to the delights (of Paradise) so long as they look at Him, until He will screen Himself from them. But His light and blessing will remain with them in their bodies
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر سے جھانک رہا ہے، اور فرما رہا ہے: اے جنت والو! تم پر سلام ہو ، اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «سلام قولا من رب رحيم» ( سورة يس: 58 ) کا رحيم ( مہربان ) رب کی طرف سے ( اہل جنت کو ) سلام کہا جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک باری تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ان کو ملتی رہے گی وہ کسی بھی دوسری نعمت کی طرف مطلقاً نظر نہیں اٹھائیں گے، پھر وہ ان سے چھپ جائے گا، لیکن ان کے گھروں میں ہمیشہ کے لیے اس کا نور اور برکت باقی رہ جائے گی ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَهُمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:58#
سَلَٰمٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ

PickthallThe word from a Merciful Lord (for them) is: Peace!

Yusuf Ali"Peace!" - a word (of salutation) from a Lord Most Merciful!

The agreed readingAnd over it all, a word spoken to them from a Merciful Lord: Peace. The commentaries treat this as the greater gift - that God Himself addresses them - and the point at which their safety is complete.
Urduاور ان کے لیے رب رحیم کی طرف سے سلام کہا جائے گا۔ یہ ان کی سب سے بڑی عزت اور سب سے بڑا انعام ہوگا، جس سے انہیں ہر طرح کی سلامتی حاصل ہو جائے گی۔
Arabicولهم سلام يُقال لهم من رب رحيم بهم. وبهذا السلام تتم لهم السلامة من كل وجه، وهي أعلى ما ينالون من الكرامة.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī, Ibn Kathīr and Ṭanṭāwī on this āyah

al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Ibn Mājah 184

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ‏.‏ قَالَ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ ‏{سَلاَمٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ}‏ قَالَ فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَلاَ يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَىْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ …
It was narrated that Jabor bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'While the people of Paradise are enjoying their blessings, a light will shine upon them, and they will raise their heads, and they will see their Lord looking upon them from above. He will say: "Peace be upon you, O people of Paradise." This is what Allah says in the Verse: "Salam (peace be upon you) - a Word from the Lord (Allah), The Most Merciful." He will look at them, and they will look at Him, and they will not pay any attention to the delights (of Paradise) so long as they look at Him, until He will screen Himself from them. But His light and blessing will remain with them in their bodies
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر سے جھانک رہا ہے، اور فرما رہا ہے: اے جنت والو! تم پر سلام ہو ، اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «سلام قولا من رب رحيم» ( سورة يس: 58 ) کا رحيم ( مہربان ) رب کی طرف سے ( اہل جنت کو ) سلام کہا جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک باری تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ان کو ملتی رہے گی وہ کسی بھی دوسری نعمت کی طرف مطلقاً نظر نہیں اٹھائیں گے، پھر وہ ان سے چھپ جائے گا، لیکن ان کے گھروں میں ہمیشہ کے لیے اس کا نور اور برکت باقی رہ جائے گی ۱؎۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

سَلَٰمٌ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:59#
وَٱمْتَٰزُوا۟ ٱلْيَوْمَ أَيُّهَا ٱلْمُجْرِمُونَ

PickthallBut avaunt ye, O ye guilty, this day!

Yusuf Ali"And O ye in sin! Get ye apart this Day!

The agreed readingAnd to the others: stand apart this Day, you who were guilty - the final separation of those who had lived mixed among the believers.
Urduاور کہا جائے گا: اے مجرمو! آج تم الگ ہو جاؤ۔ اہلِ ایمان اور مجرم اُس دن چھانٹ کر جدا جدا کر دیے جائیں گے۔
Arabicويقال يومئذ: انفصلوا اليوم وتميَّزوا عن المؤمنين أيها المجرمون. فيُفرَّق بين الفريقين، ويقف كلٌّ على حِدَة.
36:60#
أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا۟ ٱلشَّيْطَٰنَ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

PickthallDid I not charge you, O ye sons of Adam, that ye worship not the devil - Lo! he is your open foe! -

Yusuf Ali"Did I not enjoin on you, O ye Children of Adam, that ye should not worship Satan; for that he was to you an enemy avowed?-

The agreed readingThen the reproach: did I not charge you, children of Adam, not to serve Satan - he is an open enemy to you -
Urduاے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی بندگی نہ کرنا یعنی اس کی اطاعت نہ کرنا؟ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔
Arabicألم أوصكم يا بني آدم على ألسنة رسلي ألا تطيعوا الشيطان فيما يدعوكم إليه؟ إنه لكم عدو ظاهر العداوة، فكيف يطيع العاقل عدوًّا بيِّنَ العداوة؟
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3348

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَا آدَمُ‏.‏ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ‏.‏ فَيَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى، وَمَا هُمْ بِسُكَارَى، وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ قَالَ ‏"‏ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْكُمْ رَجُلٌ، وَمِنْ …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), 'O Adam.' Adam will reply, 'Labbaik wa Sa`daik', and all the good is in Your Hand.' Allah will say: 'Bring out the people of the fire.' Adam will say: 'O Allah! How many are the people of the Fire?' Allah will reply: 'From every one thousand, take out nine-hundred-and ninety-nine.' At that time children will become hoary headed, every pregnant female will have a miscarriage, and one will see mankind as drunken, yet they will not be drunken, but dreadful will be the Wrath of Allah." The companions of the Prophet (ﷺ) asked, "O Allah's Apostle! Who is that (excepted) one?" He said, "Rejoice with …
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام عرض کریں گے میں اطاعت کے لیے حاضر ہوں، مستعد ہوں، ساری بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جہنم میں جانے والوں کو ( لوگوں میں سے الگ ) نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے۔ اے اللہ! جہنمیوں کی تعداد کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت ( کی ہولناکی اور وحشت سے ) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ اس وقت تم ( خوف و دہشت سے ) لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَلَمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 532

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ - قَالَ - يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ‏.‏ قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ ‏"‏ …
Abu Sa'id reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah, the High and Glorious, would say: O Adam I and he would say: At Thy service, at thy beck and call, O Lord, and the good is in Thy Hand. Allah would say: Bring forth the group of (the denizens of) Fire. He (Adam) would say: Who are the denizens of Hell? It would be said: They are out of every thousand nine hundred and ninety-nine. He (the Holy Prophet) said: It is at this juncture that every child would become white-haired and every pregnant woman would abort and you would see people in a state of intoxication, and they would not be in fact intoxicated but grievous will be the torment of Allah. He (the narrator) said: This had a very …
جریر نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ عز وجل فرمائے گا : اے آدم ! وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں ( میرے رب! ) قسمت کی خوبی ( تیری عطا ہے ) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا : اللہ فرمائے گا : دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے : دوزخیوں کی جماعت ( تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔ یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے ۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے ، حالانکہ وہ ( نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا ۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ یہ بات ان ( صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَلَمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:61#
وَأَنِ ٱعْبُدُونِى هَٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ

PickthallBut that ye worship Me? That was the right path.

Yusuf Ali"And that ye should worship Me, (for that) this was the Straight Way?

The agreed readingAnd to serve Me, worshipping Me alone and obeying Me? That, the commentaries say, is the straight path - the road that actually arrives.
Urduاور یہ کہ میری ہی بندگی کرنا، یہی سیدھا راستہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کی طرف سب انبیاء بلاتے رہے اور جو منزل تک پہنچاتا ہے۔
Arabicوأوصيتكم أن تعبدوني وحدي ولا تشركوا بي شيئًا. هذا هو الطريق المستقيم الموصِل إلى رضا الله وجنته.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3348

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَا آدَمُ‏.‏ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ‏.‏ فَيَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى، وَمَا هُمْ بِسُكَارَى، وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ قَالَ ‏"‏ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْكُمْ رَجُلٌ، وَمِنْ …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), 'O Adam.' Adam will reply, 'Labbaik wa Sa`daik', and all the good is in Your Hand.' Allah will say: 'Bring out the people of the fire.' Adam will say: 'O Allah! How many are the people of the Fire?' Allah will reply: 'From every one thousand, take out nine-hundred-and ninety-nine.' At that time children will become hoary headed, every pregnant female will have a miscarriage, and one will see mankind as drunken, yet they will not be drunken, but dreadful will be the Wrath of Allah." The companions of the Prophet (ﷺ) asked, "O Allah's Apostle! Who is that (excepted) one?" He said, "Rejoice with …
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام عرض کریں گے میں اطاعت کے لیے حاضر ہوں، مستعد ہوں، ساری بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جہنم میں جانے والوں کو ( لوگوں میں سے الگ ) نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے۔ اے اللہ! جہنمیوں کی تعداد کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت ( کی ہولناکی اور وحشت سے ) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ اس وقت تم ( خوف و دہشت سے ) لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَأَنِ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 532

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ - قَالَ - يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ‏.‏ قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ ‏"‏ …
Abu Sa'id reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah, the High and Glorious, would say: O Adam I and he would say: At Thy service, at thy beck and call, O Lord, and the good is in Thy Hand. Allah would say: Bring forth the group of (the denizens of) Fire. He (Adam) would say: Who are the denizens of Hell? It would be said: They are out of every thousand nine hundred and ninety-nine. He (the Holy Prophet) said: It is at this juncture that every child would become white-haired and every pregnant woman would abort and you would see people in a state of intoxication, and they would not be in fact intoxicated but grievous will be the torment of Allah. He (the narrator) said: This had a very …
جریر نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ عز وجل فرمائے گا : اے آدم ! وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں ( میرے رب! ) قسمت کی خوبی ( تیری عطا ہے ) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا : اللہ فرمائے گا : دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے : دوزخیوں کی جماعت ( تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔ یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے ۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے ، حالانکہ وہ ( نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا ۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ یہ بات ان ( صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَأَنِ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:62#
وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا أَفَلَمْ تَكُونُوا۟ تَعْقِلُونَ

PickthallYet he hath led astray of you a great multitude. Had ye then no sense?

Yusuf Ali"But he did lead astray a great multitude of you. Did ye not, then, understand?

The agreed readingYet Satan led a great multitude of you astray - creatures beyond counting. Did you not use reason, when his enmity had been declared to you from the start?
Urduاور اس نے تم میں سے بہت بڑی خلقت کو گمراہ کر دیا۔ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے تھے؟ عقل تمہارے پاس موجود تھی، پھر بھی تم اپنے دشمن کے پیچھے لگ گئے۔
Arabicولقد أضلَّ الشيطان منكم خلقًا كثيرًا فأخرجهم عن الحق. أفلم تكن لكم عقول تنظر في عداوته فتنهاكم عن اتباعه؟
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3348

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَا آدَمُ‏.‏ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ‏.‏ فَيَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى، وَمَا هُمْ بِسُكَارَى، وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ قَالَ ‏"‏ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْكُمْ رَجُلٌ، وَمِنْ …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), 'O Adam.' Adam will reply, 'Labbaik wa Sa`daik', and all the good is in Your Hand.' Allah will say: 'Bring out the people of the fire.' Adam will say: 'O Allah! How many are the people of the Fire?' Allah will reply: 'From every one thousand, take out nine-hundred-and ninety-nine.' At that time children will become hoary headed, every pregnant female will have a miscarriage, and one will see mankind as drunken, yet they will not be drunken, but dreadful will be the Wrath of Allah." The companions of the Prophet (ﷺ) asked, "O Allah's Apostle! Who is that (excepted) one?" He said, "Rejoice with …
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام عرض کریں گے میں اطاعت کے لیے حاضر ہوں، مستعد ہوں، ساری بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جہنم میں جانے والوں کو ( لوگوں میں سے الگ ) نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے۔ اے اللہ! جہنمیوں کی تعداد کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت ( کی ہولناکی اور وحشت سے ) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ اس وقت تم ( خوف و دہشت سے ) لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَلَقَدْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 532

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ - قَالَ - يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ‏.‏ قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ ‏"‏ …
Abu Sa'id reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah, the High and Glorious, would say: O Adam I and he would say: At Thy service, at thy beck and call, O Lord, and the good is in Thy Hand. Allah would say: Bring forth the group of (the denizens of) Fire. He (Adam) would say: Who are the denizens of Hell? It would be said: They are out of every thousand nine hundred and ninety-nine. He (the Holy Prophet) said: It is at this juncture that every child would become white-haired and every pregnant woman would abort and you would see people in a state of intoxication, and they would not be in fact intoxicated but grievous will be the torment of Allah. He (the narrator) said: This had a very …
جریر نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ عز وجل فرمائے گا : اے آدم ! وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں ( میرے رب! ) قسمت کی خوبی ( تیری عطا ہے ) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا : اللہ فرمائے گا : دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے : دوزخیوں کی جماعت ( تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔ یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے ۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے ، حالانکہ وہ ( نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا ۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ یہ بات ان ( صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَلَقَدْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:63#
هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ

PickthallThis is hell which ye were promised (if ye followed him).

Yusuf Ali"This is the Hell of which ye were (repeatedly) warned!

The agreed readingThis is Hell - the very one you were promised, the commentaries say, and which the messengers warned you of while you met the warning with mockery.
Urduیہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا اور تم اسے جھٹلاتے تھے۔ آج وہ تمہارے سامنے موجود ہے۔
Arabicهذه جهنم التي كنتم تُوعَدون بها في الدنيا فتكذِّبون. ها هي حاضرة تشاهدونها عِيانًا.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 4730

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (2968)

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (2968)

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (2968)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ نَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلاَّ كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said :The people asked : Messenger of Allah! Shall we see our lord, the Exalted, on the Day of resurrection? He replied : Do you feel any trouble in seeing the sun at noon when it is not in the cloud? They said: No. He asked : Do you feel any trouble in seeing the moon on the night when it is full and not in the cloud? They replied: No. He said: By him in whose hand my soul is, you will not feel any trouble in seeing him except as much as you feel in seeing any of them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو، جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں اللہ کے دیدار میں کوئی دقت نہ ہو گی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں ہوتی ہے ۱؎ ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هَٰذِهِۦ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7438

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلاَّ كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا - قَالَ - فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ أَىْ فُلْ أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ …
Abu Huraira reported that they (the Companions of the Holy Prophet) said:Allah's Messenger, will we be able to see our Lord on the Day of Judgment? He said: Do you feel any difficulty in seeing the sun in the noon when there is no cloud over it? They said: No. He again said: Do you feel any difficulty in seeing the moon on the fourteenth night when there is no cloud over it? They said: No. Thereupon he said: By Allah Who is One in Whose Hand is my life. you will not face any difficulty in seeing your Lord but only so much as you feel in seeing one of them. Then Allah would sit in judgment upon the servant and would say: O, so and so, did I not honour you and make you the chief and provide …
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تمھیں سورج کودیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے ۔ ؟ "" انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا تمھیں چاند کو دیکھنے میں کو ئی زحمت ہوتی ہے؟ "" انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ !تمھیں اپنے رب کو دیکھنے میں اس سے زیادہ زحمت نہیں ہو گی جتنی زحمت تمھیں ان دونوں کو دیکھنے میں ہو تی ہے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هَٰذِهِۦ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6573

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أُنَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ، لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ …
Narrated Abu Huraira:Some people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we see our Lord on the Day of Resurrection?" He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the sun when it is not hidden by clouds?" They replied, "No, Allah's Messenger (ﷺ)." He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the moon when it is full and not hidden by clouds?" They replied, No, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "So you will see Him (your Lord) on the Day of Resurrection similarly Allah will gather all the people and say, 'Whoever used to worship anything should follow that thing. 'So, he who used to worship the sun, will follow it, and he who used to worship the moon will follow …
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو سعید اور عطا بن یزید نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے، کہا ہم کو معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عطا بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے جبکہ اس پر کوئی بادل ( ابر ) وغیرہ نہ ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا جب کوئی بادل نہ ہو تو تمہیں …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هَٰذِهِۦ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7439

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ قَالَ يَقُولُ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَيَقُولُ فَإِنِّي لاَ أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلاَّ شَاهِدًا مِنِّي قَالَ فَيَقُولُ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا …
Anas b. Malik reported:We were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) when he smiled, and said: Do you know why I laughed? We said: Allah and His Messenger, know best. Thereupon he said: It was because (there came to my mind the) talk which the servant would have with his Lord (on the Day of judgment). He would say: My Lord, have you not guaranteed me protection against injustice? He would say: Yes. Then the servant would say: I do not deem valid any witness against me but my own self, and He would say: Well, enough would be the witness of your self against you and that of the two angels who had been appointed to record your deeds. Then the seal would be set upon his mouth and it would be …
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بیٹھے ہوئے ) تھے کہ آپ ہنس پڑے پھر آپ نے پوچھا : " کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہو ں ؟ " ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی کئی بات پر ہنسی آتی ہے وہ کہے گا ۔ اے میرے رب!کیا تونے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : وہ فرمائے گا ۔ کیوں نہیں !فرمایا بندہ کہے گا میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی ( کی گواہی ) کو جائز قرار نہیں دیتا ۔ تو وہ فرمائے گا آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہواور کراماً کا تبین بھی گواہ ہیں چنانچہ اس کے منہ پر مہرلگادی جائے گی ۔ اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هَٰذِهِۦ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3348

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَا آدَمُ‏.‏ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ‏.‏ فَيَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى، وَمَا هُمْ بِسُكَارَى، وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ قَالَ ‏"‏ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْكُمْ رَجُلٌ، وَمِنْ …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), 'O Adam.' Adam will reply, 'Labbaik wa Sa`daik', and all the good is in Your Hand.' Allah will say: 'Bring out the people of the fire.' Adam will say: 'O Allah! How many are the people of the Fire?' Allah will reply: 'From every one thousand, take out nine-hundred-and ninety-nine.' At that time children will become hoary headed, every pregnant female will have a miscarriage, and one will see mankind as drunken, yet they will not be drunken, but dreadful will be the Wrath of Allah." The companions of the Prophet (ﷺ) asked, "O Allah's Apostle! Who is that (excepted) one?" He said, "Rejoice with …
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام عرض کریں گے میں اطاعت کے لیے حاضر ہوں، مستعد ہوں، ساری بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جہنم میں جانے والوں کو ( لوگوں میں سے الگ ) نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے۔ اے اللہ! جہنمیوں کی تعداد کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت ( کی ہولناکی اور وحشت سے ) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ اس وقت تم ( خوف و دہشت سے ) لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هَٰذِهِۦ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 532

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ - قَالَ - يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ‏.‏ قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ ‏"‏ …
Abu Sa'id reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah, the High and Glorious, would say: O Adam I and he would say: At Thy service, at thy beck and call, O Lord, and the good is in Thy Hand. Allah would say: Bring forth the group of (the denizens of) Fire. He (Adam) would say: Who are the denizens of Hell? It would be said: They are out of every thousand nine hundred and ninety-nine. He (the Holy Prophet) said: It is at this juncture that every child would become white-haired and every pregnant woman would abort and you would see people in a state of intoxication, and they would not be in fact intoxicated but grievous will be the torment of Allah. He (the narrator) said: This had a very …
جریر نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ عز وجل فرمائے گا : اے آدم ! وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں ( میرے رب! ) قسمت کی خوبی ( تیری عطا ہے ) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا : اللہ فرمائے گا : دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے : دوزخیوں کی جماعت ( تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔ یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے ۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے ، حالانکہ وہ ( نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا ۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ یہ بات ان ( صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

هَٰذِهِۦ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:64#
ٱصْلَوْهَا ٱلْيَوْمَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

PickthallBurn therein this day for that ye disbelieved.

Yusuf Ali"Embrace ye the (fire) this Day, for that ye (persistently) rejected (Truth)."

The agreed readingEnter it today and burn, for your refusal - for the refusal you lived in and died on.
Urduآج اس میں داخل ہو جاؤ اور اس کا مزہ چکھو، اس کفر کے بدلے میں جو تم کرتے رہے تھے۔
Arabicادخلوها اليوم وذوقوا حرَّها، جزاءً بما كنتم تكفرون في الدنيا. وهو أمر يُراد به الإهانة والتقريع.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 4730

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (2968)

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (2968)

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (2968)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ نَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلاَّ كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said :The people asked : Messenger of Allah! Shall we see our lord, the Exalted, on the Day of resurrection? He replied : Do you feel any trouble in seeing the sun at noon when it is not in the cloud? They said: No. He asked : Do you feel any trouble in seeing the moon on the night when it is full and not in the cloud? They replied: No. He said: By him in whose hand my soul is, you will not feel any trouble in seeing him except as much as you feel in seeing any of them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو، جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں اللہ کے دیدار میں کوئی دقت نہ ہو گی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں ہوتی ہے ۱؎ ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱصْلَوْهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7438

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلاَّ كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا - قَالَ - فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ أَىْ فُلْ أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ …
Abu Huraira reported that they (the Companions of the Holy Prophet) said:Allah's Messenger, will we be able to see our Lord on the Day of Judgment? He said: Do you feel any difficulty in seeing the sun in the noon when there is no cloud over it? They said: No. He again said: Do you feel any difficulty in seeing the moon on the fourteenth night when there is no cloud over it? They said: No. Thereupon he said: By Allah Who is One in Whose Hand is my life. you will not face any difficulty in seeing your Lord but only so much as you feel in seeing one of them. Then Allah would sit in judgment upon the servant and would say: O, so and so, did I not honour you and make you the chief and provide …
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تمھیں سورج کودیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے ۔ ؟ "" انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا تمھیں چاند کو دیکھنے میں کو ئی زحمت ہوتی ہے؟ "" انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ !تمھیں اپنے رب کو دیکھنے میں اس سے زیادہ زحمت نہیں ہو گی جتنی زحمت تمھیں ان دونوں کو دیکھنے میں ہو تی ہے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱصْلَوْهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6573

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أُنَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ، لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ …
Narrated Abu Huraira:Some people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we see our Lord on the Day of Resurrection?" He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the sun when it is not hidden by clouds?" They replied, "No, Allah's Messenger (ﷺ)." He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the moon when it is full and not hidden by clouds?" They replied, No, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "So you will see Him (your Lord) on the Day of Resurrection similarly Allah will gather all the people and say, 'Whoever used to worship anything should follow that thing. 'So, he who used to worship the sun, will follow it, and he who used to worship the moon will follow …
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو سعید اور عطا بن یزید نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے، کہا ہم کو معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عطا بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے جبکہ اس پر کوئی بادل ( ابر ) وغیرہ نہ ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا جب کوئی بادل نہ ہو تو تمہیں …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱصْلَوْهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7439

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ قَالَ يَقُولُ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَيَقُولُ فَإِنِّي لاَ أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلاَّ شَاهِدًا مِنِّي قَالَ فَيَقُولُ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا …
Anas b. Malik reported:We were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) when he smiled, and said: Do you know why I laughed? We said: Allah and His Messenger, know best. Thereupon he said: It was because (there came to my mind the) talk which the servant would have with his Lord (on the Day of judgment). He would say: My Lord, have you not guaranteed me protection against injustice? He would say: Yes. Then the servant would say: I do not deem valid any witness against me but my own self, and He would say: Well, enough would be the witness of your self against you and that of the two angels who had been appointed to record your deeds. Then the seal would be set upon his mouth and it would be …
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بیٹھے ہوئے ) تھے کہ آپ ہنس پڑے پھر آپ نے پوچھا : " کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہو ں ؟ " ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی کئی بات پر ہنسی آتی ہے وہ کہے گا ۔ اے میرے رب!کیا تونے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : وہ فرمائے گا ۔ کیوں نہیں !فرمایا بندہ کہے گا میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی ( کی گواہی ) کو جائز قرار نہیں دیتا ۔ تو وہ فرمائے گا آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہواور کراماً کا تبین بھی گواہ ہیں چنانچہ اس کے منہ پر مہرلگادی جائے گی ۔ اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱصْلَوْهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3348

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَا آدَمُ‏.‏ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ‏.‏ فَيَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى، وَمَا هُمْ بِسُكَارَى، وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ قَالَ ‏"‏ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْكُمْ رَجُلٌ، وَمِنْ …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), 'O Adam.' Adam will reply, 'Labbaik wa Sa`daik', and all the good is in Your Hand.' Allah will say: 'Bring out the people of the fire.' Adam will say: 'O Allah! How many are the people of the Fire?' Allah will reply: 'From every one thousand, take out nine-hundred-and ninety-nine.' At that time children will become hoary headed, every pregnant female will have a miscarriage, and one will see mankind as drunken, yet they will not be drunken, but dreadful will be the Wrath of Allah." The companions of the Prophet (ﷺ) asked, "O Allah's Apostle! Who is that (excepted) one?" He said, "Rejoice with …
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام عرض کریں گے میں اطاعت کے لیے حاضر ہوں، مستعد ہوں، ساری بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جہنم میں جانے والوں کو ( لوگوں میں سے الگ ) نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے۔ اے اللہ! جہنمیوں کی تعداد کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت ( کی ہولناکی اور وحشت سے ) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ اس وقت تم ( خوف و دہشت سے ) لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱصْلَوْهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 532

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ - قَالَ - يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ‏.‏ قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ ‏"‏ …
Abu Sa'id reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah, the High and Glorious, would say: O Adam I and he would say: At Thy service, at thy beck and call, O Lord, and the good is in Thy Hand. Allah would say: Bring forth the group of (the denizens of) Fire. He (Adam) would say: Who are the denizens of Hell? It would be said: They are out of every thousand nine hundred and ninety-nine. He (the Holy Prophet) said: It is at this juncture that every child would become white-haired and every pregnant woman would abort and you would see people in a state of intoxication, and they would not be in fact intoxicated but grievous will be the torment of Allah. He (the narrator) said: This had a very …
جریر نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ عز وجل فرمائے گا : اے آدم ! وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں ( میرے رب! ) قسمت کی خوبی ( تیری عطا ہے ) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا : اللہ فرمائے گا : دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے : دوزخیوں کی جماعت ( تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔ یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے ۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے ، حالانکہ وہ ( نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا ۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ یہ بات ان ( صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱصْلَوْهَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:65#
ٱلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

PickthallThis day We seal up their mouths, and their hands speak out to Us and their feet bear witness as to what they used to earn.

Yusuf AliThat Day shall We set a seal on their mouths. But their hands will speak to us, and their feet bear witness, to all that they did.

The agreed readingThat Day God seals their mouths, and their own hands speak to Him and their feet bear witness to what they earned.
Urduآج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے، اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے اس کی جو وہ کماتے رہے تھے۔ جب وہ اپنے جرائم سے انکار کریں گے تو ان کے اپنے اعضاء ان کے خلاف سچی گواہی دیں گے۔
Arabicاليوم نطبع على أفواههم فلا ينطقون بإنكار، وتُكلِّمنا أيديهم بما عملت، وتشهد أرجلهم بما كانوا يكسبون. فتشهد عليهم جوارحهم بما جحدته ألسنتهم.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Baghawī، al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and al-Qurṭubī on this āyah

al-Baghawī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7438

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلاَّ كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا - قَالَ - فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ أَىْ فُلْ أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ …
Abu Huraira reported that they (the Companions of the Holy Prophet) said:Allah's Messenger, will we be able to see our Lord on the Day of Judgment? He said: Do you feel any difficulty in seeing the sun in the noon when there is no cloud over it? They said: No. He again said: Do you feel any difficulty in seeing the moon on the fourteenth night when there is no cloud over it? They said: No. Thereupon he said: By Allah Who is One in Whose Hand is my life. you will not face any difficulty in seeing your Lord but only so much as you feel in seeing one of them. Then Allah would sit in judgment upon the servant and would say: O, so and so, did I not honour you and make you the chief and provide …
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تمھیں سورج کودیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے ۔ ؟ "" انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا تمھیں چاند کو دیکھنے میں کو ئی زحمت ہوتی ہے؟ "" انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ !تمھیں اپنے رب کو دیکھنے میں اس سے زیادہ زحمت نہیں ہو گی جتنی زحمت تمھیں ان دونوں کو دیکھنے میں ہو تی ہے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱلْيَوْمَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī، al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī and al-Qurṭubī on this āyah

al-Baghawī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7439

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ قَالَ يَقُولُ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَيَقُولُ فَإِنِّي لاَ أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلاَّ شَاهِدًا مِنِّي قَالَ فَيَقُولُ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا …
Anas b. Malik reported:We were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) when he smiled, and said: Do you know why I laughed? We said: Allah and His Messenger, know best. Thereupon he said: It was because (there came to my mind the) talk which the servant would have with his Lord (on the Day of judgment). He would say: My Lord, have you not guaranteed me protection against injustice? He would say: Yes. Then the servant would say: I do not deem valid any witness against me but my own self, and He would say: Well, enough would be the witness of your self against you and that of the two angels who had been appointed to record your deeds. Then the seal would be set upon his mouth and it would be …
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بیٹھے ہوئے ) تھے کہ آپ ہنس پڑے پھر آپ نے پوچھا : " کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہو ں ؟ " ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی کئی بات پر ہنسی آتی ہے وہ کہے گا ۔ اے میرے رب!کیا تونے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : وہ فرمائے گا ۔ کیوں نہیں !فرمایا بندہ کہے گا میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی ( کی گواہی ) کو جائز قرار نہیں دیتا ۔ تو وہ فرمائے گا آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہواور کراماً کا تبین بھی گواہ ہیں چنانچہ اس کے منہ پر مہرلگادی جائے گی ۔ اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱلْيَوْمَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 4730

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (2968)

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (2968)

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (2968)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ نَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلاَّ كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said :The people asked : Messenger of Allah! Shall we see our lord, the Exalted, on the Day of resurrection? He replied : Do you feel any trouble in seeing the sun at noon when it is not in the cloud? They said: No. He asked : Do you feel any trouble in seeing the moon on the night when it is full and not in the cloud? They replied: No. He said: By him in whose hand my soul is, you will not feel any trouble in seeing him except as much as you feel in seeing any of them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو، جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں اللہ کے دیدار میں کوئی دقت نہ ہو گی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں ہوتی ہے ۱؎ ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱلْيَوْمَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Baghawī في هذه الآية

Cited by al-Baghawī on this āyah

al-Baghawī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6573

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أُنَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ، لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ …
Narrated Abu Huraira:Some people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we see our Lord on the Day of Resurrection?" He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the sun when it is not hidden by clouds?" They replied, "No, Allah's Messenger (ﷺ)." He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the moon when it is full and not hidden by clouds?" They replied, No, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "So you will see Him (your Lord) on the Day of Resurrection similarly Allah will gather all the people and say, 'Whoever used to worship anything should follow that thing. 'So, he who used to worship the sun, will follow it, and he who used to worship the moon will follow …
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو سعید اور عطا بن یزید نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے، کہا ہم کو معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عطا بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے جبکہ اس پر کوئی بادل ( ابر ) وغیرہ نہ ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا جب کوئی بادل نہ ہو تو تمہیں …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱلْيَوْمَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:66#
وَلَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلَىٰٓ أَعْيُنِهِمْ فَٱسْتَبَقُوا۟ ٱلصِّرَٰطَ فَأَنَّىٰ يُبْصِرُونَ

PickthallAnd had We willed, We verily could have quenched their eyesight so that they should struggle for the way. Then how could they have seen?

Yusuf AliIf it had been our Will, We could surely have blotted out their eyes; then should they have run about groping for the Path, but how could they have seen?

The agreed readingHad God willed, He could have wiped out their eyes; they would race for the path - and how could they see?
Urduاور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں، پھر وہ راستے کی طرف لپکیں تو انہیں کہاں سجھائی دے؟ یہ اللہ کا حلم ہے کہ اس نے ایسا نہیں کیا۔
Arabicولو نشاء لمحونا أعينهم فأعميناهم، ثم لو بادروا إلى الطريق ليمضوا فيه فكيف يبصرونه؟ فهم في قبضة الله متى شاء.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7439

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ قَالَ يَقُولُ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَيَقُولُ فَإِنِّي لاَ أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلاَّ شَاهِدًا مِنِّي قَالَ فَيَقُولُ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا …
Anas b. Malik reported:We were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) when he smiled, and said: Do you know why I laughed? We said: Allah and His Messenger, know best. Thereupon he said: It was because (there came to my mind the) talk which the servant would have with his Lord (on the Day of judgment). He would say: My Lord, have you not guaranteed me protection against injustice? He would say: Yes. Then the servant would say: I do not deem valid any witness against me but my own self, and He would say: Well, enough would be the witness of your self against you and that of the two angels who had been appointed to record your deeds. Then the seal would be set upon his mouth and it would be …
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بیٹھے ہوئے ) تھے کہ آپ ہنس پڑے پھر آپ نے پوچھا : " کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہو ں ؟ " ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی کئی بات پر ہنسی آتی ہے وہ کہے گا ۔ اے میرے رب!کیا تونے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : وہ فرمائے گا ۔ کیوں نہیں !فرمایا بندہ کہے گا میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی ( کی گواہی ) کو جائز قرار نہیں دیتا ۔ تو وہ فرمائے گا آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہواور کراماً کا تبین بھی گواہ ہیں چنانچہ اس کے منہ پر مہرلگادی جائے گی ۔ اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَلَوْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7438

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلاَّ كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا - قَالَ - فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ أَىْ فُلْ أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ …
Abu Huraira reported that they (the Companions of the Holy Prophet) said:Allah's Messenger, will we be able to see our Lord on the Day of Judgment? He said: Do you feel any difficulty in seeing the sun in the noon when there is no cloud over it? They said: No. He again said: Do you feel any difficulty in seeing the moon on the fourteenth night when there is no cloud over it? They said: No. Thereupon he said: By Allah Who is One in Whose Hand is my life. you will not face any difficulty in seeing your Lord but only so much as you feel in seeing one of them. Then Allah would sit in judgment upon the servant and would say: O, so and so, did I not honour you and make you the chief and provide …
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تمھیں سورج کودیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے ۔ ؟ "" انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا تمھیں چاند کو دیکھنے میں کو ئی زحمت ہوتی ہے؟ "" انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ !تمھیں اپنے رب کو دیکھنے میں اس سے زیادہ زحمت نہیں ہو گی جتنی زحمت تمھیں ان دونوں کو دیکھنے میں ہو تی ہے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَلَوْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:67#
وَلَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنَٰهُمْ عَلَىٰ مَكَانَتِهِمْ فَمَا ٱسْتَطَٰعُوا۟ مُضِيًّا وَلَا يَرْجِعُونَ

PickthallAnd had We willed, We verily could have fixed them in their place, making them powerless to go forward or turn back.

Yusuf AliAnd if it had been Our Will, We could have transformed them (to remain) in their places; then should they have been unable to move about, nor could they have returned (after error).

The agreed readingAnd had He willed, He could have transformed them where they stood, unable to go forward or back.
Urduاور اگر ہم چاہیں تو انہیں ان کی جگہ ہی پر مسخ کر دیں، پھر نہ وہ آگے چل سکیں اور نہ پیچھے لوٹ سکیں۔ یہ سب ان کے بس میں نہیں، وہ ہر لمحہ اللہ کی قدرت میں ہیں۔
Arabicولو نشاء لغيَّرنا خِلقتهم وأقعدناهم في أماكنهم التي هم فيها، فما استطاعوا مضيًّا إلى أمام ولا رجوعًا إلى وراء.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7439

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ قَالَ يَقُولُ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَيَقُولُ فَإِنِّي لاَ أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلاَّ شَاهِدًا مِنِّي قَالَ فَيَقُولُ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا …
Anas b. Malik reported:We were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) when he smiled, and said: Do you know why I laughed? We said: Allah and His Messenger, know best. Thereupon he said: It was because (there came to my mind the) talk which the servant would have with his Lord (on the Day of judgment). He would say: My Lord, have you not guaranteed me protection against injustice? He would say: Yes. Then the servant would say: I do not deem valid any witness against me but my own self, and He would say: Well, enough would be the witness of your self against you and that of the two angels who had been appointed to record your deeds. Then the seal would be set upon his mouth and it would be …
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بیٹھے ہوئے ) تھے کہ آپ ہنس پڑے پھر آپ نے پوچھا : " کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہو ں ؟ " ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی کئی بات پر ہنسی آتی ہے وہ کہے گا ۔ اے میرے رب!کیا تونے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : وہ فرمائے گا ۔ کیوں نہیں !فرمایا بندہ کہے گا میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی ( کی گواہی ) کو جائز قرار نہیں دیتا ۔ تو وہ فرمائے گا آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہواور کراماً کا تبین بھی گواہ ہیں چنانچہ اس کے منہ پر مہرلگادی جائے گی ۔ اور …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَلَوْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 7438

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏"‏ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلاَّ كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا - قَالَ - فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ أَىْ فُلْ أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ …
Abu Huraira reported that they (the Companions of the Holy Prophet) said:Allah's Messenger, will we be able to see our Lord on the Day of Judgment? He said: Do you feel any difficulty in seeing the sun in the noon when there is no cloud over it? They said: No. He again said: Do you feel any difficulty in seeing the moon on the fourteenth night when there is no cloud over it? They said: No. Thereupon he said: By Allah Who is One in Whose Hand is my life. you will not face any difficulty in seeing your Lord but only so much as you feel in seeing one of them. Then Allah would sit in judgment upon the servant and would say: O, so and so, did I not honour you and make you the chief and provide …
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تمھیں سورج کودیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے ۔ ؟ "" انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا تمھیں چاند کو دیکھنے میں کو ئی زحمت ہوتی ہے؟ "" انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : "" مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ !تمھیں اپنے رب کو دیکھنے میں اس سے زیادہ زحمت نہیں ہو گی جتنی زحمت تمھیں ان دونوں کو دیکھنے میں ہو تی ہے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَلَوْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:68#
وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِى ٱلْخَلْقِ أَفَلَا يَعْقِلُونَ

PickthallHe whom we bring unto old age, We reverse him in creation (making him go back to weakness after strength). Have ye then no sense?

Yusuf AliIf We grant long life to any, We cause him to be reversed in nature: Will they not then understand?

The agreed readingWhomever God gives long life, He bends back in constitution - strength returned to weakness. Will they not use reason?
Urduاور جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں الٹا کر دیتے ہیں: پہلے اس کی قوت اور عقل بڑھتی ہے، پھر گھٹتے گھٹتے وہ اسی کمزوری کی طرف لوٹ آتا ہے جہاں سے اس نے آغاز کیا تھا۔ تو کیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے؟
Arabicومن نُطِل عمره نردَّه في خلقه إلى الحال التي بدأ منها: ضعفٌ في الجسم ونقصٌ في القوة والعقل بعد الشباب والقوة. أفلا يعقلون فيعتبروا بذلك؟
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 5009

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ وَجْهُهُ أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ فَإِذَا كَانَ الْقُرْآنُ وَالْعِلْمُ الْغَالِبُ فَلَيْسَ جَوْفُ هَذَا عِنْدَنَا مُمْتَلِئًا مِنَ الشِّعْرِ وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا ‏.‏ قَالَ كَأَنَّ الْمَعْنَى أَنْ يَبْلُغَ مِنْ بَيَانِهِ أَنْ يَمْدَحَ الإِنْسَانَ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى …
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :it is better for a man’s belly to be full of pus than to be full of poetry. Abu ‘Ali said : I have been told that Abu ‘Ubaid said : It means that his heart is full of poetry so much so that it makes him neglectful of the Quran and remembrance of Allah. If the Quran and the knowledge (of religion) are dominant, the belly will not be full of poetry in our opinion. Some eloquent speech is magic. It means that a man expresses his eloquence by praising another man, and he speaks the truth about him so much so that he attracts the hearts to his speech. He then condemns him and speaks the truth about him so much so …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل ( شعر سے پیٹ بھرنے کی ) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے ( اور آپ نے فرمایا ) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات ( تعریف میں ) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 3869

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ إِنْ أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ قَوْمٌ يَعْنِي التِّرْيَاقَ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If I drink an antidote, or tie an amulet, or compose poetry, I am the type who does not care what he does. Abu Dawud said: THis was peculiar to the Prophet (ﷺ), but some people have allowed to use it, i.e. antidote
عبدالرحمٰن بن رافع تنوخی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: مجھے پرواہ نہیں جو بھی میرا حال ہو اگر میں تریاق پیوں یا تعویذ گنڈا لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھا، کچھ لوگوں نے تریاق پینے کی رخصت دی ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6927

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ‏.‏ فَقُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ ‏"‏ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:A group of Jews asked permission to visit the Prophet (and when they were admitted) they said, "As- Samu 'Alaika (Death be upon you)." I said (to them), "But death and the curse of Allah be upon you!" The Prophet (ﷺ) said, "O `Aisha! Allah is kind and lenient and likes that one should be kind and lenient in all matters." I said, "Haven't you heard what they said?" He said, "I said (to them), 'Wa 'Alaikum (and upon you)
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ یہود میں سے چند لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت چاہی جب آئے تو کہنے لگے «السام عليك‏.‏» میں نے جواب میں یوں کہا «عليكم السام واللعنة‏.‏» ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نرمی کرتا ہے اور ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے ان کا کہنا نہیں سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بھی تو جواب دے دیا «وعليكم» ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3034

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَنْقُلُ التُّرَابَ حَتَّى وَارَى التُّرَابُ شَعَرَ صَدْرِهِ، وَكَانَ رَجُلاً كَثِيرَ الشَّعَرِ وَهْوَ يَرْتَجِزُ بِرَجَزِ عَبْدِ اللَّهِ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأَعْدَاءَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ‏.‏
Narrated Al-Bara:I saw Allah's Messenger (ﷺ) on the day (of the battle) of the Trench carrying earth till the hair of his chest were covered with dust and he was a hairy man. He was reciting the following verses of `Abdullah (bin Rawaha): "O Allah, were it not for You, We would not have been guided, Nor would we have given in charity, nor prayed. So, bestow on us calmness, and when we meet the enemy. Then make our feet firm, for indeed, Yet if they want to put us in affliction, (i.e. want to fight against us) we would not (flee but withstand them)." The Prophet (ﷺ) used to raise his voice while reciting these verses. (See Hadith No. 432, Vol)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ غزوہ احزاب میں ( خندق کھودتے ہوئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود مٹی اٹھا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سینہ مبارک کے بال مٹی سے اٹ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( جسم مبارک پر ) بال بہت گھنے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھ رہے تھے ”اے اللہ! اگر تیری ہدایت نہ ہوتی تو ہم کبھی سیدھا راستہ نہ پاتے ‘ نہ صدقہ کر سکتے اور نہ نماز پڑھتے۔ اب تو، یا اللہ! ہمارے دلوں کو سکون اور اطمینان عطا فرما ‘ اور اگر ( دشمنوں سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھ ‘ دشمنوں نے ہمارے اوپر زیادتی کی ہے۔ جب بھی وہ ہم کو …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4106

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يُحَدِّثُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ، وَخَنْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَيْتُهُ يَنْقُلُ مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ حَتَّى وَارَى عَنِّي الْغُبَارُ جِلْدَةَ بَطْنِهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعَرِ، فَسَمِعْتُهُ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَاتِ ابْنِ رَوَاحَةَ، وَهْوَ يَنْقُلُ مِنَ التُّرَابِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِنْ …
Narrated Al-Bara:When it was the day of Al-Ahzab (i.e. the clans) and Allah's Messenger (ﷺ) dug the trench, I saw him carrying earth out of the trench till dust made the skin of his `Abdomen out of my sight and he was a hairy man. I heard him reciting the poetic verses composed by Ibn Rawaha while he was carrying the earth, "O Allah! Without You we would not have been guided, nor would we have given in charity, nor would we have prayed. So, (O Allah), please send Sakina (i.e. calmness) upon us and make our feet firm if we meet the enemy, as they have rebelled against us. And if they intend affliction (i.e. want to frighten us, and fight against us) then we would not (flee but withstand …
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے ابواسحاق سبیعی نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ خندق کھودتے ہوئے اس کے اندر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کی کھال مٹی سے اٹ گئی تھی۔ آپ کے ( سینے سے پیٹ تک ) گھنے بالوں ( کی ایک لکیر ) تھی۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار مٹی اٹھاتے ہوئے پڑھ رہے تھے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4104

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى أَغْمَرَ بَطْنَهُ أَوِ اغْبَرَّ بَطْنُهُ يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ أَبَيْنَا أَبَيْنَا‏.‏
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) was carrying earth on the day of Al-Khandaq till his `Abdomen was fully covered with dust, and he was saying, "By Allah, without Allah we would not have been guided, neither would we have given in charity, nor would we have prayed. So (O Allah), please send Sakina (i.e. calmness) upon us, and make our feet firm if we meet the enemy as the enemy have rebelled against us, and if they intend affliction, (i.e. want to frighten us and fight against us then we would not flee but withstand them)." The Prophet (ﷺ) used to raise his voice saying, "Abaina! Abaina! (i.e. would not, we would not)
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے ان سے ابواسحاق سبیعی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق میں ( خندق کی کھدائی کے وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بطن مبارک غبار سے اٹ گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا۔ نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس تو ہمارے دلوں پر سکینت و طمانیت نازل فرما اور اگر ہماری کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عنایت فرما۔ جو لوگ ہمارے خلاف چڑھ آئے ہیں جب یہ کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں مانتے۔ «أبينا أبينا» ( ہم ان کی نہیں مانتے۔ ہم ان کی نہیں مانتے ) …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 2837

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ يَنْقُلُ التُّرَابَ وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ، وَهُوَ يَقُولُ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا‏.‏ فَأَنْزِلِ السَّكِينَةَ عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا‏.‏ إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا‏.‏
Narrated Al-Bara:On the day (of the battle) of Al-Ahzab (i.e. clans) I saw the Prophet (ﷺ) carrying earth, and the earth was covering the whiteness of his `Abdomen. And he was saying, "Without You (O Allah!) we would have got no guidance, nor given in charity, nor prayed. So please bless us with tranquility and make firm our feet when we meet our enemies. Indeed (these) people have rebelled against (oppressed) us but never shall we yield if they try to bring affliction upon us
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب ( خندق ) کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی ( خندق کھودنے کی وجہ سے جو نکلتی تھی ) خود ڈھو رہے تھے۔ مٹی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور یہ شعر کہہ رہے تھے «لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا‏.‏ فأنزل السكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا‏.‏ إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا‏.‏» ”اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور ہم نہ صدقہ دیتے، اور نہ نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما، اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں، تو ہمیں ثابت قدم رکھ، بے شک ان لوگوں نے ہم پر …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 2802

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ وَقَدْ دَمِيَتْ إِصْبَعُهُ، فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ أَنْتِ إِلاَّ إِصْبَعٌ دَمِيتِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ‏"‏‏.‏
Narrated Jundab bin Sufyan:In one of the holy Battles a finger of Allah's Messenger (ﷺ) (got wounded and) bled. He said, "You are just a finger that bled, and what you got is in Allah's Cause
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسود بن قیس نے اور ان سے جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی لڑائی کے موقع پر موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی سے مخاطب ہو کر فرمایا تیری حقیقت ایک زخمی انگلی کے سوا کیا ہے اور جو کچھ ملا ہے اللہ کے راستے میں ملا ہے ( مولانا وحیدالزماں مرحوم نے ترجمہ یوں کیا ہے ) ایک انگلی ہے تیری ہستی یہی۔۔۔ تو اللہ کی راہ میں زخمی ہوئی۔۔۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6146

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، سَمِعْتُ جُنْدَبًا، يَقُولُ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي إِذْ أَصَابَهُ حَجَرٌ فَعَثَرَ فَدَمِيَتْ إِصْبَعُهُ فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ أَنْتِ إِلاَّ إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ‏"‏‏.‏
Narrated Jundub:While the Prophet (ﷺ) was walking, a stone hit his foot and stumbled and his toe was injured. He then (quoting a poetic verse) said, "You are not more than a toe which has been bathed in blood in Allah's Cause
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے جندب بن عبداللہ بجلی سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ آپ کو پتھر سے ٹھوکر لگی اور آپ گر پڑے، اس سے آپ کی انگلی سے خون بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا ”تو تو اک انگلی ہے اور کیا ہے جو زخمی ہو گئی… کیا ہوا اگر راہ مولیٰ میں تو زخمی ہو گئی۔“

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَن

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:69#
وَمَا عَلَّمْنَٰهُ ٱلشِّعْرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ

PickthallAnd We have not taught him (Muhammad) poetry, nor is it meet for him. This is naught else than a Reminder and a Lecture making plain,

Yusuf AliWe have not instructed the (Prophet) in Poetry, nor is it meet for him: this is no less than a Message and a Qur'an making things clear:

The agreed readingGod did not teach His Prophet poetry, and it is not fitting for him. What he brings is nothing but a Reminder and a clear Qur'an - the answer, the commentaries note, to those who called it a poet's work.
Urduاور ہم نے اس نبی ﷺ کو شعر نہیں سکھایا اور نہ یہ اُن کے شایانِ شان ہے۔ یہ جواب اُن کافروں کو ہے جو کہتے تھے کہ آپ ﷺ شاعر ہیں اور یہ کلام شاعری ہے۔ یہ تو صرف ایک نصیحت ہے اور واضح قرآن ہے۔
Arabicوما علَّمنا محمدًا الشعر وما يليق به ولا يتيسر له، ردًّا على من قال إنه شاعر وإن ما جاء به شعر. ما هو إلا ذكرٌ يتذكَّر به من له عقل، وقرآن مبين واضح الدلالة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Zamakhsharī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Zamakhsharī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6146

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، سَمِعْتُ جُنْدَبًا، يَقُولُ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي إِذْ أَصَابَهُ حَجَرٌ فَعَثَرَ فَدَمِيَتْ إِصْبَعُهُ فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ أَنْتِ إِلاَّ إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ‏"‏‏.‏
Narrated Jundub:While the Prophet (ﷺ) was walking, a stone hit his foot and stumbled and his toe was injured. He then (quoting a poetic verse) said, "You are not more than a toe which has been bathed in blood in Allah's Cause
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے جندب بن عبداللہ بجلی سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ آپ کو پتھر سے ٹھوکر لگی اور آپ گر پڑے، اس سے آپ کی انگلی سے خون بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا ”تو تو اک انگلی ہے اور کیا ہے جو زخمی ہو گئی… کیا ہوا اگر راہ مولیٰ میں تو زخمی ہو گئی۔“

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Zamakhsharī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Zamakhsharī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 2802

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ وَقَدْ دَمِيَتْ إِصْبَعُهُ، فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ أَنْتِ إِلاَّ إِصْبَعٌ دَمِيتِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ‏"‏‏.‏
Narrated Jundab bin Sufyan:In one of the holy Battles a finger of Allah's Messenger (ﷺ) (got wounded and) bled. He said, "You are just a finger that bled, and what you got is in Allah's Cause
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسود بن قیس نے اور ان سے جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی لڑائی کے موقع پر موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی سے مخاطب ہو کر فرمایا تیری حقیقت ایک زخمی انگلی کے سوا کیا ہے اور جو کچھ ملا ہے اللہ کے راستے میں ملا ہے ( مولانا وحیدالزماں مرحوم نے ترجمہ یوں کیا ہے ) ایک انگلی ہے تیری ہستی یہی۔۔۔ تو اللہ کی راہ میں زخمی ہوئی۔۔۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 6362

وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَتَقَارَبَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَاتِمٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ قَالَ لأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ فَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي ‏.‏ فَانْطَلَقَ الآخَرُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَقَالَ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ …
Ibn `Abbas reported that when Abu Dharr heard of the advent of the Apostle (ﷺ) in Mecca he said:Brother, ride in this valley and bring information for me about the person who claims that there comes to him information from the Heavens. Listen to his words and then come to me. So he rode on until he came to Mecca and he heard his words (the sacred words of the Holy Prophet) and then came back to Abu Dharr and said: I have seen him exhorting (people) to develop good morals and his expressions can in no way be termed as poetry. He (Abu Dharr) said: I have not been satisfied with it regarding that which I had in my mind (as I sent you). So he took up provisions for the journey and a small …
ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ جب سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ میں مبعوث ہونے کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ سوار ہو کر اس وادی کو جا اور اس شخص کو دیکھ کر آ جو کہتا ہے مجھے آسمان سے خبر آتی ہے ، ان کی بات سن پھر میرے پاس آ ۔ وہ روانہ ہوا ، یہاں تک کہ مکہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا ، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ کر گیا اور بولا کہ میں نے اس شخص کو دیکھا ، وہ اچھی خصلتوں کا حکم کرتا ہے اور ایک کلام سناتا ہے جو شعر نہیں ہے ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اس سے تسلی نہیں ہوئی ۔ پھر انہوں نے خود زادراہ لیا اور پانی کی ایک مشک لی یہاں تک کہ مکہ میں آئے اور مسجدالحرام …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3861

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي، فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ، وَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ، ثُمَّ ائْتِنِي‏.‏ فَانْطَلَقَ الأَخُ حَتَّى قَدِمَهُ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، فَقَالَ لَهُ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الأَخْلاَقِ، وَكَلاَمًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ‏.‏ فَقَالَ مَا شَفَيْتَنِي مِمَّا أَرَدْتُ، فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ فِيهَا …
Narrated Ibn `Abbas:When Abu Dhar received the news of the Advent of the Prophet (ﷺ) he said to his brother, "Ride to this valley (of Mecca) and try to find out the truth of the person who claims to be a prophet who is informed of the news of Heaven. Listen to what he says and come back to me." So his brother set out and came to the Prophet (ﷺ) and listened to some of his talks, and returned to Abu Dhar and said to him. "I have seen him enjoining virtuous behavior and saying something that is not poetry." Abu Dhar said, "You have not satisfied me as to what I wanted." He then took his journey-food and carried a waterskin of his, containing some water till he reached Mecca. He went to the …
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے، کہا ہم سے مثنیٰ نے، ان سے ابوجمرہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے۔ میرے لیے خبریں حاصل کر کے لا۔ اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں خود سنیں پھر واپس ہو کر انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 6359

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ وَكَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَا فَنَزَلْنَا عَلَى خَالٍ لَنَا فَأَكْرَمَنَا خَالُنَا وَأَحْسَنَ إِلَيْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ فَقَالُوا إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِكَ خَالَفَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ فَجَاءَ خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْنَا الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقُلْتُ لَهُ أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ فَقَدْ كَدَّرْتَهُ وَلاَ جِمَاعَ لَكَ فِيمَا بَعْدُ ‏.‏ فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا وَتَغَطَّى …
Abdullah b. Samit reported that Abu Dharr said:We set out from our tribe Ghafir who look upon the prohibited months as permissible months. I and my brother Unais and our mother stayed with our maternal uncle who treated us well. The men of his tribe fell jealous and they said: When you are anay from your house, Unais commits adultery with your wife. Our -naternal uncle came and he accused us of the sin which was conveyed to him. I said: You have undone the good you did to us. We cannot stay with you after this. We came to our camels and loaded (our) luggage. Our maternal uncle began to weep covering himself with (a piece of) cloth. We proceeded on until we encamped by the side of Mecca. …
ہداب بن خالد ازدی نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے عبداللہ بن صامت سے خبر دی ، انھوں نے کہا ، کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ، میرا بھائی انیس اور ہماری ماں تینوں اپنی قوم غفار میں سے نکلے جو حرام مہینے کو بھی حلال سمجھتے تھے ۔ پس ہم اپنے ایک ماموں کے پاس اترے ۔ اس نے ہماری خاطر کی اور ہمارے ساتھ نیکی کی تو اس کی قوم نے ہم سے حسد کیا اور ( ہمارے ماموں سے ) کہنے لگے کہ جب تو اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے تو انیس تیری بی بی کے ساتھ زنا کرتا ہے ۔ وہ ہمارے پاس آیا اور اس نے یہ بات ( حماقت سے ) مشہور کر دی ۔ میں نے کہا کہ تو نے ہمارے ساتھ جو احسان کیا تھا وہ بھی خراب ہو گیا ہے ، اب ہم تیرے ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ آخر ہم اپنے اونٹوں کے پاس گئے اور اپنا …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية

Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah

Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ Muslim 5889

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بْنِ عُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The truest word uttered by a poet is this verse of Labid: "Behold! apart from Allah everything is vain," and Umayya b. Abu Salt was almost a Muslim
سفیان نے عبد الملک بن عمیر سے روایت کی ، کہا : ہمیں ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے ۔ " سن رکھو!اللہ کے سوا ہر چیز ( جس کی عبادت کی جا تی ہے ) باطل ہے ۔ " اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہوجاتا ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 5009

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ وَجْهُهُ أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ فَإِذَا كَانَ الْقُرْآنُ وَالْعِلْمُ الْغَالِبُ فَلَيْسَ جَوْفُ هَذَا عِنْدَنَا مُمْتَلِئًا مِنَ الشِّعْرِ وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا ‏.‏ قَالَ كَأَنَّ الْمَعْنَى أَنْ يَبْلُغَ مِنْ بَيَانِهِ أَنْ يَمْدَحَ الإِنْسَانَ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى …
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :it is better for a man’s belly to be full of pus than to be full of poetry. Abu ‘Ali said : I have been told that Abu ‘Ubaid said : It means that his heart is full of poetry so much so that it makes him neglectful of the Quran and remembrance of Allah. If the Quran and the knowledge (of religion) are dominant, the belly will not be full of poetry in our opinion. Some eloquent speech is magic. It means that a man expresses his eloquence by praising another man, and he speaks the truth about him so much so that he attracts the hearts to his speech. He then condemns him and speaks the truth about him so much so …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل ( شعر سے پیٹ بھرنے کی ) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے ( اور آپ نے فرمایا ) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات ( تعریف میں ) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 3869

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ إِنْ أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ قَوْمٌ يَعْنِي التِّرْيَاقَ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If I drink an antidote, or tie an amulet, or compose poetry, I am the type who does not care what he does. Abu Dawud said: THis was peculiar to the Prophet (ﷺ), but some people have allowed to use it, i.e. antidote
عبدالرحمٰن بن رافع تنوخی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: مجھے پرواہ نہیں جو بھی میرا حال ہو اگر میں تریاق پیوں یا تعویذ گنڈا لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھا، کچھ لوگوں نے تریاق پینے کی رخصت دی ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6927

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ‏.‏ فَقُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ ‏"‏ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:A group of Jews asked permission to visit the Prophet (and when they were admitted) they said, "As- Samu 'Alaika (Death be upon you)." I said (to them), "But death and the curse of Allah be upon you!" The Prophet (ﷺ) said, "O `Aisha! Allah is kind and lenient and likes that one should be kind and lenient in all matters." I said, "Haven't you heard what they said?" He said, "I said (to them), 'Wa 'Alaikum (and upon you)
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ یہود میں سے چند لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت چاہی جب آئے تو کہنے لگے «السام عليك‏.‏» میں نے جواب میں یوں کہا «عليكم السام واللعنة‏.‏» ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نرمی کرتا ہے اور ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے ان کا کہنا نہیں سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بھی تو جواب دے دیا «وعليكم» ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَمَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:70#
لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ

PickthallTo warn whosoever liveth, and that the word may be fulfilled against the disbelievers.

Yusuf AliThat it may give admonition to any (who are) alive, and that the charge may be proved against those who reject (Truth).

The agreed readingSent to warn whoever is alive - alive of heart, the commentaries gloss - and so that the word may be proved true against those who refuse.
Urduتاکہ وہ اُس شخص کو خبردار کرے جو زندہ ہو، یعنی جس کا دل حق کو قبول کرنے والا ہو، کیونکہ فائدہ اسی کو پہنچتا ہے۔ اور تاکہ کافروں پر حجت تمام ہو جائے اور عذاب کی بات ان پر ثابت ہو جائے۔
Arabicأُنزل لينذر مَن كان حيَّ القلب واعيًا، فهو الذي ينتفع بالإنذار. ويثبت قول العذاب على الكافرين، إذ قامت عليهم به الحجة فلم يبق لهم عذر.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Zamakhsharī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Zamakhsharī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6146

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، سَمِعْتُ جُنْدَبًا، يَقُولُ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي إِذْ أَصَابَهُ حَجَرٌ فَعَثَرَ فَدَمِيَتْ إِصْبَعُهُ فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ أَنْتِ إِلاَّ إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ‏"‏‏.‏
Narrated Jundub:While the Prophet (ﷺ) was walking, a stone hit his foot and stumbled and his toe was injured. He then (quoting a poetic verse) said, "You are not more than a toe which has been bathed in blood in Allah's Cause
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے جندب بن عبداللہ بجلی سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ آپ کو پتھر سے ٹھوکر لگی اور آپ گر پڑے، اس سے آپ کی انگلی سے خون بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا ”تو تو اک انگلی ہے اور کیا ہے جو زخمی ہو گئی… کیا ہوا اگر راہ مولیٰ میں تو زخمی ہو گئی۔“

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لِّيُنذِرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Zamakhsharī، Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by al-Zamakhsharī and Ibn Kathīr on this āyah

al-Zamakhsharī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 2802

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ وَقَدْ دَمِيَتْ إِصْبَعُهُ، فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ أَنْتِ إِلاَّ إِصْبَعٌ دَمِيتِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ‏"‏‏.‏
Narrated Jundab bin Sufyan:In one of the holy Battles a finger of Allah's Messenger (ﷺ) (got wounded and) bled. He said, "You are just a finger that bled, and what you got is in Allah's Cause
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسود بن قیس نے اور ان سے جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی لڑائی کے موقع پر موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی سے مخاطب ہو کر فرمایا تیری حقیقت ایک زخمی انگلی کے سوا کیا ہے اور جو کچھ ملا ہے اللہ کے راستے میں ملا ہے ( مولانا وحیدالزماں مرحوم نے ترجمہ یوں کیا ہے ) ایک انگلی ہے تیری ہستی یہی۔۔۔ تو اللہ کی راہ میں زخمی ہوئی۔۔۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لِّيُنذِرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 5009

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ وَجْهُهُ أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ فَإِذَا كَانَ الْقُرْآنُ وَالْعِلْمُ الْغَالِبُ فَلَيْسَ جَوْفُ هَذَا عِنْدَنَا مُمْتَلِئًا مِنَ الشِّعْرِ وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا ‏.‏ قَالَ كَأَنَّ الْمَعْنَى أَنْ يَبْلُغَ مِنْ بَيَانِهِ أَنْ يَمْدَحَ الإِنْسَانَ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى …
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :it is better for a man’s belly to be full of pus than to be full of poetry. Abu ‘Ali said : I have been told that Abu ‘Ubaid said : It means that his heart is full of poetry so much so that it makes him neglectful of the Quran and remembrance of Allah. If the Quran and the knowledge (of religion) are dominant, the belly will not be full of poetry in our opinion. Some eloquent speech is magic. It means that a man expresses his eloquence by praising another man, and he speaks the truth about him so much so that he attracts the hearts to his speech. He then condemns him and speaks the truth about him so much so …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل ( شعر سے پیٹ بھرنے کی ) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے ( اور آپ نے فرمایا ) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات ( تعریف میں ) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لِّيُنذِرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 3869

درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ إِنْ أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا كَانَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ قَوْمٌ يَعْنِي التِّرْيَاقَ ‏.‏
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If I drink an antidote, or tie an amulet, or compose poetry, I am the type who does not care what he does. Abu Dawud said: THis was peculiar to the Prophet (ﷺ), but some people have allowed to use it, i.e. antidote
عبدالرحمٰن بن رافع تنوخی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: مجھے پرواہ نہیں جو بھی میرا حال ہو اگر میں تریاق پیوں یا تعویذ گنڈا لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھا، کچھ لوگوں نے تریاق پینے کی رخصت دی ہے۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لِّيُنذِرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6927

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ‏.‏ فَقُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ ‏"‏ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ‏"‏‏.‏
Narrated `Aisha:A group of Jews asked permission to visit the Prophet (and when they were admitted) they said, "As- Samu 'Alaika (Death be upon you)." I said (to them), "But death and the curse of Allah be upon you!" The Prophet (ﷺ) said, "O `Aisha! Allah is kind and lenient and likes that one should be kind and lenient in all matters." I said, "Haven't you heard what they said?" He said, "I said (to them), 'Wa 'Alaikum (and upon you)
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ یہود میں سے چند لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت چاہی جب آئے تو کہنے لگے «السام عليك‏.‏» میں نے جواب میں یوں کہا «عليكم السام واللعنة‏.‏» ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نرمی کرتا ہے اور ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے ان کا کہنا نہیں سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بھی تو جواب دے دیا «وعليكم» ۔

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لِّيُنذِرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3034

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَنْقُلُ التُّرَابَ حَتَّى وَارَى التُّرَابُ شَعَرَ صَدْرِهِ، وَكَانَ رَجُلاً كَثِيرَ الشَّعَرِ وَهْوَ يَرْتَجِزُ بِرَجَزِ عَبْدِ اللَّهِ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأَعْدَاءَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ‏.‏
Narrated Al-Bara:I saw Allah's Messenger (ﷺ) on the day (of the battle) of the Trench carrying earth till the hair of his chest were covered with dust and he was a hairy man. He was reciting the following verses of `Abdullah (bin Rawaha): "O Allah, were it not for You, We would not have been guided, Nor would we have given in charity, nor prayed. So, bestow on us calmness, and when we meet the enemy. Then make our feet firm, for indeed, Yet if they want to put us in affliction, (i.e. want to fight against us) we would not (flee but withstand them)." The Prophet (ﷺ) used to raise his voice while reciting these verses. (See Hadith No. 432, Vol)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ غزوہ احزاب میں ( خندق کھودتے ہوئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود مٹی اٹھا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سینہ مبارک کے بال مٹی سے اٹ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( جسم مبارک پر ) بال بہت گھنے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھ رہے تھے ”اے اللہ! اگر تیری ہدایت نہ ہوتی تو ہم کبھی سیدھا راستہ نہ پاتے ‘ نہ صدقہ کر سکتے اور نہ نماز پڑھتے۔ اب تو، یا اللہ! ہمارے دلوں کو سکون اور اطمینان عطا فرما ‘ اور اگر ( دشمنوں سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھ ‘ دشمنوں نے ہمارے اوپر زیادتی کی ہے۔ جب بھی وہ ہم کو …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لِّيُنذِرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4106

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يُحَدِّثُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ، وَخَنْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَيْتُهُ يَنْقُلُ مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ حَتَّى وَارَى عَنِّي الْغُبَارُ جِلْدَةَ بَطْنِهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعَرِ، فَسَمِعْتُهُ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَاتِ ابْنِ رَوَاحَةَ، وَهْوَ يَنْقُلُ مِنَ التُّرَابِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِنْ …
Narrated Al-Bara:When it was the day of Al-Ahzab (i.e. the clans) and Allah's Messenger (ﷺ) dug the trench, I saw him carrying earth out of the trench till dust made the skin of his `Abdomen out of my sight and he was a hairy man. I heard him reciting the poetic verses composed by Ibn Rawaha while he was carrying the earth, "O Allah! Without You we would not have been guided, nor would we have given in charity, nor would we have prayed. So, (O Allah), please send Sakina (i.e. calmness) upon us and make our feet firm if we meet the enemy, as they have rebelled against us. And if they intend affliction (i.e. want to frighten us, and fight against us) then we would not (flee but withstand …
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے ابواسحاق سبیعی نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ خندق کھودتے ہوئے اس کے اندر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کی کھال مٹی سے اٹ گئی تھی۔ آپ کے ( سینے سے پیٹ تک ) گھنے بالوں ( کی ایک لکیر ) تھی۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار مٹی اٹھاتے ہوئے پڑھ رہے تھے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لِّيُنذِرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4104

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى أَغْمَرَ بَطْنَهُ أَوِ اغْبَرَّ بَطْنُهُ يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ أَبَيْنَا أَبَيْنَا‏.‏
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) was carrying earth on the day of Al-Khandaq till his `Abdomen was fully covered with dust, and he was saying, "By Allah, without Allah we would not have been guided, neither would we have given in charity, nor would we have prayed. So (O Allah), please send Sakina (i.e. calmness) upon us, and make our feet firm if we meet the enemy as the enemy have rebelled against us, and if they intend affliction, (i.e. want to frighten us and fight against us then we would not flee but withstand them)." The Prophet (ﷺ) used to raise his voice saying, "Abaina! Abaina! (i.e. would not, we would not)
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے ان سے ابواسحاق سبیعی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق میں ( خندق کی کھدائی کے وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بطن مبارک غبار سے اٹ گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا۔ نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس تو ہمارے دلوں پر سکینت و طمانیت نازل فرما اور اگر ہماری کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عنایت فرما۔ جو لوگ ہمارے خلاف چڑھ آئے ہیں جب یہ کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں مانتے۔ «أبينا أبينا» ( ہم ان کی نہیں مانتے۔ ہم ان کی نہیں مانتے ) …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لِّيُنذِرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 2837

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ يَنْقُلُ التُّرَابَ وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ، وَهُوَ يَقُولُ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا‏.‏ فَأَنْزِلِ السَّكِينَةَ عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا‏.‏ إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا‏.‏
Narrated Al-Bara:On the day (of the battle) of Al-Ahzab (i.e. clans) I saw the Prophet (ﷺ) carrying earth, and the earth was covering the whiteness of his `Abdomen. And he was saying, "Without You (O Allah!) we would have got no guidance, nor given in charity, nor prayed. So please bless us with tranquility and make firm our feet when we meet our enemies. Indeed (these) people have rebelled against (oppressed) us but never shall we yield if they try to bring affliction upon us
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب ( خندق ) کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی ( خندق کھودنے کی وجہ سے جو نکلتی تھی ) خود ڈھو رہے تھے۔ مٹی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور یہ شعر کہہ رہے تھے «لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا‏.‏ فأنزل السكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا‏.‏ إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا‏.‏» ”اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور ہم نہ صدقہ دیتے، اور نہ نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما، اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں، تو ہمیں ثابت قدم رکھ، بے شک ان لوگوں نے ہم پر …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لِّيُنذِرَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:71#
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَآ أَنْعَٰمًا فَهُمْ لَهَا مَٰلِكُونَ

PickthallHave they not seen how We have created for them of Our handiwork the cattle, so that they are their owners,

Yusuf AliSee they not that it is We Who have created for them - among the things which Our hands have fashioned - cattle, which are under their dominion?-

The agreed readingHave they not seen the cattle God created for them by His own handiwork, so that they are their owners?
Urduکیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اپنی ہی قدرت سے ان کے لیے چوپائے پیدا کیے، پھر وہ ان کے مالک بنے؟ ان کے بنانے میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔
Arabicأولم ينظروا فيعتبروا أنَّا خلقنا لهم بقدرتنا وحدنا أنعامًا، فجعلناهم مالكين لها متصرفين فيها، لا تمتنع عليهم؟
36:72#
وَذَلَّلْنَٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ

PickthallAnd have subdued them unto them, so that some of them they have for riding, some for food?

Yusuf AliAnd that We have subjected them to their (use)? of them some do carry them and some they eat:

The agreed readingHe subdued the animals to them, so that some carry them on their journeys and bear their loads, and some they eat.
Urduاور ہم نے ان جانوروں کو ان کے تابع کر دیا، تو ان میں سے بعض پر وہ سواری کرتے اور بوجھ لادتے ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں۔ اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور جانور ان کے قابو میں اسی لیے آتے ہیں کہ اللہ نے انہیں مطیع بنا دیا ہے۔
Arabicوسخَّرناها لهم وجعلناها منقادة، فمنها ما يركبونه ويحملون عليه أثقالهم، ومنها ما يأكلون من لحومها.
36:73#
وَلَهُمْ فِيهَا مَنَٰفِعُ وَمَشَارِبُ أَفَلَا يَشْكُرُونَ

PickthallBenefits and (divers) drinks have they from them. Will they not then give thanks?

Yusuf AliAnd they have (other) profits from them (besides), and they get (milk) to drink. Will they not then be grateful?

The agreed readingIn them are further benefits and drinks - wool and milk, the commentaries list. Will they not give thanks?
Urduاور ان جانوروں میں ان کے لیے اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور پینے کی چیزیں یعنی ان کا دودھ بھی ہے۔ ان کی اون، بال اور کھالوں سے بھی طرح طرح کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ تو کیا وہ اس منعم کا شکر ادا نہیں کرتے؟
Arabicولهم فيها منافع أخرى من أصوافها وأوبارها وأشعارها وغير ذلك، ومشارب من ألبانها. أفلا يشكرون الله الذي أنعم عليهم بهذا كله؟
36:74#
وَٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ ءَالِهَةً لَّعَلَّهُمْ يُنصَرُونَ

PickthallAnd they have taken (other) gods beside Allah, in order that they may be helped.

Yusuf AliYet they take (for worship) gods other than Allah, (hoping) that they might be helped!

The agreed readingYet they have taken gods other than God and serve them, hoping to be helped by them and shielded from God's punishment by their intercession.
Urduاور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں، اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی۔ ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے انہوں نے اپنی امیدیں غیروں سے وابستہ کر لیں۔
Arabicواتخذ المشركون من دون الله آلهة يعبدونها، رجاء أن تنصرهم وتدفع عنهم. فقابلوا هذه النعم كلها بأن تركوا عبادة المنعم بها.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2557

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ أَلاَ يَتْبَعُ كُلُّ إِنْسَانٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَهُ ‏.‏ فَيُمَثَّلُ لِصَاحِبِ الصَّلِيبِ صَلِيبُهُ وَلِصَاحِبِ التَّصَاوِيرِ تَصَاوِيرُهُ وَلِصَاحِبِ النَّارِ نَارُهُ فَيَتْبَعُونَ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ وَيَبْقَى الْمُسْلِمُونَ فَيَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ أَلاَ تَتَّبِعُونَ النَّاسَ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ …
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Allah will gather mankind on the Day of Resurrection on a single plane, then the Lord of the Worlds will come to them and say: 'Let every person follow what they used to worship.' SO to the worshipper of the cross, his cross shall be symbolized to him, and to the worshipper of images his images, and to the worshipper of fire his fire. They will follow what they used to worship, and the Muslims will remain. Then the Lord of the Worlds will come to them and say: 'Do you not follow the people?' So they will say: 'We seek refuge in Allah from you, we seek refuge in Allah from you, Allah is our Lord, and we shall remain here until …
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک وسیع اور ہموار زمین میں جمع کرے گا، پھر اللہ رب العالمین ان کے سامنے اچانک آئے گا اور کہے گا: کیوں نہیں ہر آدمی اس چیز کے پیچھے چلا جاتا ہے جس کی وہ عبادت کرتا تھا؟ چنانچہ صلیب پوجنے والوں کے سامنے ان کی صلیب کی صورت بن جائے گی، بت پوجنے والوں کے سامنے بتوں کی صورت بن جائے گی اور آگ پوجنے والوں کے سامنے آگ کی صورت بن جائے گی، پھر وہ لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے لگ جائیں گے اور مسلمان ٹھہرے رہیں گے، پھر رب العالمین ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَٱتَّخَذُوا۟

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:75#
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَهُمْ وَهُمْ لَهُمْ جُندٌ مُّحْضَرُونَ

PickthallIt is not in their power to help them; but they (the worshippers) are unto them a host in arms.

Yusuf AliThey have not the power to help them: but they will be brought up (before Our Judgment-seat) as a troop (to be condemned).

The agreed readingThose gods have no power to help them, though the worshippers stand ranged around them like an army.
Urduوہ ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے، بلکہ یہ لوگ خود ان کے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں۔ جو خود بے بس ہیں وہ کسی اور کو کیا فائدہ پہنچائیں گے۔
Arabicلا تستطيع تلك الآلهة أن تنصرهم ولا أن تدفع عنهم شيئًا. وهم وآلهتهم محضَرون جميعًا في العذاب.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2557

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ أَلاَ يَتْبَعُ كُلُّ إِنْسَانٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَهُ ‏.‏ فَيُمَثَّلُ لِصَاحِبِ الصَّلِيبِ صَلِيبُهُ وَلِصَاحِبِ التَّصَاوِيرِ تَصَاوِيرُهُ وَلِصَاحِبِ النَّارِ نَارُهُ فَيَتْبَعُونَ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ وَيَبْقَى الْمُسْلِمُونَ فَيَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ أَلاَ تَتَّبِعُونَ النَّاسَ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ …
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Allah will gather mankind on the Day of Resurrection on a single plane, then the Lord of the Worlds will come to them and say: 'Let every person follow what they used to worship.' SO to the worshipper of the cross, his cross shall be symbolized to him, and to the worshipper of images his images, and to the worshipper of fire his fire. They will follow what they used to worship, and the Muslims will remain. Then the Lord of the Worlds will come to them and say: 'Do you not follow the people?' So they will say: 'We seek refuge in Allah from you, we seek refuge in Allah from you, Allah is our Lord, and we shall remain here until …
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک وسیع اور ہموار زمین میں جمع کرے گا، پھر اللہ رب العالمین ان کے سامنے اچانک آئے گا اور کہے گا: کیوں نہیں ہر آدمی اس چیز کے پیچھے چلا جاتا ہے جس کی وہ عبادت کرتا تھا؟ چنانچہ صلیب پوجنے والوں کے سامنے ان کی صلیب کی صورت بن جائے گی، بت پوجنے والوں کے سامنے بتوں کی صورت بن جائے گی اور آگ پوجنے والوں کے سامنے آگ کی صورت بن جائے گی، پھر وہ لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے لگ جائیں گے اور مسلمان ٹھہرے رہیں گے، پھر رب العالمین ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

لَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:76#
فَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ إِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ

PickthallSo let not their speech grieve thee (O Muhammad). Lo! We know what they conceal and what proclaim.

Yusuf AliLet not their speech, then, grieve thee. Verily We know what they hide as well as what they disclose.

The agreed readingSo let their talk not grieve the Prophet: God knows what they conceal and what they declare.
Urduپس اے نبی ﷺ! ان کی باتیں آپ کو غم میں نہ ڈالیں۔ بے شک ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، اور ہم اسی کے مطابق ان کو بدلہ دیں گے۔
Arabicفلا يحزنك -أيها الرسول- ما يقولونه فيك وفيما جئت به. إنا نعلم ما يخفونه وما يعلنونه، لا يخفى علينا منه شيء، وسنجازيهم عليه.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ṭūsī في هذه الآية

Cited by al-Ṭūsī on this āyah

al-Ṭūsī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Tawḥīd, no. 1

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الواحد الأحد الذي لا شريك له، الفرد الصمد الذي لا شبيه له، الأول القديم الذي لا غاية له، الآخر الباقي الذي لا نهاية له، الموجود الثابت الذي لا عدم له، الملك الدائم الذي لا زوال له، القادر الذي لا يعجزه شئ، العليم الذي لا يخفى عليه شئ، الحي لا بحياة، الكائن لا في مكان، السميع البصير الذي لا آلة له ولا أداة، الذي أمر بالعدل، وأخذ بالفضل، وحكم بالفصل، لا معقب لحكمه، ولا راد لقضائه، ولا غالب لإرادته، ولا قاهر لمشيته، وإنما أمره إذا أراد شيئا أن يقول له كن فيكون، فسبحان الذي بيده ملكوت كل شئ، وإليه المرجع والمصير. وأشهد أن لا إله إلا الله رب العالمين، وأشهد أن محمد عبده ورسوله سيد النبيين وخير خلقه أجمعين، وأشهد أن علي بن أبي طالب سيد الوصيين وإمام المتقين و قائد …
All praise be to Allah, the One and Only, who does not have a partner; the Peerless, the Needless, who has no like; the First, the Ever-Existent, who has no limit; the Last and the Everlasting who has no end; the Existing, the Constant, who has no non-existence; the Eternal King, who does not decline; the Power who is not weakened; the All-Knowing from who nothing can be hidden; the Alive but not with life; the One who Exists, but who is not confined to place; the All-Hearing and the All-Seeing, who has no ears and eyes; the One who ordered with justice, punished with favour, and commanded with bounty, but not to trap people under His Command. There is no rejecter to His Judgement, no …
بسم الله الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ کے لیے جو ایک و یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، یکتا و لاشریک جس کی کوئی ہمسری نہیں، سب سے پہلے اور قدیم جس کی کوئی انتہا نہیں، آخری اور ہمیشہ رہنے والا جس کا کوئی خاتمہ نہیں، موجود اور قائم جس کا کوئی عدم نہیں، ہمیشہ باقی بادشاہ جس کا کوئی زوال نہیں، قدرتوار جس سے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، علم والا جس سے کوئی چیز مخفی نہیں، زندہ بغیر جیون کے، موجود بغیر مکان کے، سننے والا دیکھنے والا جس کے پاس کوئی آلہ یا اوزار نہیں۔ جس نے عدل کا حکم دیا، فضل کے ساتھ سلوک کیا، حکمت سے فیصلہ کیا۔ اس کے فیصلے کو کوئی واپس نہیں کر سکتا، اس کے حکم کو کوئی بدل نہیں سکتا، اس کی مرضی کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، اس کے ارادے کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اور تو اس کا امر صرف یہ ہے …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَلَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Qurṭubī في هذه الآية

Cited by al-Qurṭubī on this āyah

al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا

Jāmiʿ al-Tirmidhī 2557

درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ أَلاَ يَتْبَعُ كُلُّ إِنْسَانٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَهُ ‏.‏ فَيُمَثَّلُ لِصَاحِبِ الصَّلِيبِ صَلِيبُهُ وَلِصَاحِبِ التَّصَاوِيرِ تَصَاوِيرُهُ وَلِصَاحِبِ النَّارِ نَارُهُ فَيَتْبَعُونَ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ وَيَبْقَى الْمُسْلِمُونَ فَيَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ أَلاَ تَتَّبِعُونَ النَّاسَ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ …
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Allah will gather mankind on the Day of Resurrection on a single plane, then the Lord of the Worlds will come to them and say: 'Let every person follow what they used to worship.' SO to the worshipper of the cross, his cross shall be symbolized to him, and to the worshipper of images his images, and to the worshipper of fire his fire. They will follow what they used to worship, and the Muslims will remain. Then the Lord of the Worlds will come to them and say: 'Do you not follow the people?' So they will say: 'We seek refuge in Allah from you, we seek refuge in Allah from you, Allah is our Lord, and we shall remain here until …
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک وسیع اور ہموار زمین میں جمع کرے گا، پھر اللہ رب العالمین ان کے سامنے اچانک آئے گا اور کہے گا: کیوں نہیں ہر آدمی اس چیز کے پیچھے چلا جاتا ہے جس کی وہ عبادت کرتا تھا؟ چنانچہ صلیب پوجنے والوں کے سامنے ان کی صلیب کی صورت بن جائے گی، بت پوجنے والوں کے سامنے بتوں کی صورت بن جائے گی اور آگ پوجنے والوں کے سامنے آگ کی صورت بن جائے گی، پھر وہ لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے لگ جائیں گے اور مسلمان ٹھہرے رہیں گے، پھر رب العالمین ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَلَا

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:77#
أَوَلَمْ يَرَ ٱلْإِنسَٰنُ أَنَّا خَلَقْنَٰهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ

PickthallHath not man seen that We have created him from a drop of seed? Yet lo! he is an open opponent.

Yusuf AliDoth not man see that it is We Who created him from sperm? yet behold! he (stands forth) as an open adversary!

The agreed readingHas man not seen that God created him from a drop? Yet there he stands, an open adversary.
Urduکیا انسان نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے ایک قطرے سے پیدا کیا؟ پھر یکایک وہ کھلم کھلا جھگڑنے والا بن گیا۔ اپنی اصل کو بھول کر وہ اپنے خالق کے سامنے حجت بازی کرنے لگا۔
Arabicأولم ينظر الإنسان المنكِر للبعث في أول خلقه، أنَّا خلقناه من نطفة ثم نقلناه في الأطوار حتى استوى؟ فإذا هو مجادلٌ شديد الخصومة بيِّن الجدال، ينكر ما هو أهون من ابتداء خلقه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 7506

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ، فَإِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ وَاذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لاَ يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، وَأَمَرَ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لِمَ فَعَلْتَ قَالَ مِنْ خَشْيَتِكَ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ، فَغَفَرَ لَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "A man who never did any good deed, said that if he died, his family should burn him and throw half the ashes of his burnt body in the earth and the other half in the sea, for by Allah, if Allah should get hold of him, He would inflict such punishment on him as He would not inflict on anybody among the people. But Allah ordered the sea to collect what was in it (of his ashes) and similarly ordered the earth to collect what was in it (of his ashes). Then Allah said (to the recreated man ), 'Why did you do so?' The man replied, 'For being afraid of You, and You know it (very well).' So Allah forgave him
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص نے جس نے ( بنی اسرائیل میں سے ) کوئی نیک کام کبھی نہیں کیا تھا، وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا ڈالیں اور اس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی دریا میں بکھیر دیں کیونکہ اللہ کی قسم اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو ایسا عذاب مجھ کو دے گا جو دنیا کے کسی شخص کو بھی وہ نہیں دے گا۔ پھر اللہ نے سمندر کو حکم دیا اور اس نے تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اس نے خشکی کو حکم دیا اور اس نے بھی اپنی تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَوَلَمْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:78#
وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِىَ خَلْقَهُۥ قَالَ مَن يُحْىِ ٱلْعِظَٰمَ وَهِىَ رَمِيمٌ

PickthallAnd he hath coined for Us a similitude, and hath forgotten the fact of his creation, saying: Who will revive these bones when they have rotted away?

Yusuf AliAnd he makes comparisons for Us, and forgets his own (origin and) Creation: He says, "Who can give life to (dry) bones and decomposed ones (at that)?"

The agreed readingHe coins a comparison for God and forgets his own creation, asking: who will give life to bones once they have rotted? The commentaries record the occasion together - a denier crumbling an old bone before the Prophet.
Urduاور اس نے ہمارے بارے میں مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا۔ کہنے لگا: ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جب وہ بوسیدہ ہو چکی ہوں گی؟ گویا اس نے خالق کو مخلوق پر قیاس کر لیا۔
Arabicوضرب لنا مثلًا لا يصح ضربه، إذ قاس قدرة الخالق بقدرة المخلوق، ونسي كيف بدأ الله خلقه. قال منكِرًا: من يحيي العظام وقد بَلِيَتْ وتفتَّتت؟
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 7506

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ، فَإِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ وَاذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لاَ يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، وَأَمَرَ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لِمَ فَعَلْتَ قَالَ مِنْ خَشْيَتِكَ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ، فَغَفَرَ لَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "A man who never did any good deed, said that if he died, his family should burn him and throw half the ashes of his burnt body in the earth and the other half in the sea, for by Allah, if Allah should get hold of him, He would inflict such punishment on him as He would not inflict on anybody among the people. But Allah ordered the sea to collect what was in it (of his ashes) and similarly ordered the earth to collect what was in it (of his ashes). Then Allah said (to the recreated man ), 'Why did you do so?' The man replied, 'For being afraid of You, and You know it (very well).' So Allah forgave him
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص نے جس نے ( بنی اسرائیل میں سے ) کوئی نیک کام کبھی نہیں کیا تھا، وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا ڈالیں اور اس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی دریا میں بکھیر دیں کیونکہ اللہ کی قسم اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو ایسا عذاب مجھ کو دے گا جو دنیا کے کسی شخص کو بھی وہ نہیں دے گا۔ پھر اللہ نے سمندر کو حکم دیا اور اس نے تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اس نے خشکی کو حکم دیا اور اس نے بھی اپنی تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

وَضَرَبَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:79#
قُلْ يُحْيِيهَا ٱلَّذِىٓ أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ

PickthallSay: He will revive them Who produced them at the first, for He is Knower of every creation,

Yusuf AliSay, "He will give them life Who created them for the first time! for He is Well-versed in every kind of creation!-

The agreed readingSay: He will give them life who produced them the first time. He knows every creation.
Urduآپ ﷺ کہہ دیجیے: انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ جو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے، اور وہ ہر مخلوق کا پورا علم رکھنے والا ہے۔
Arabicقل: يحييها الذي أنشأها أول مرة من العدم، فمن قدر على الابتداء فهو على الإعادة أقدر. وهو بكل خلق عليم لا يخفى عليه شيء منه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 7506

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ، فَإِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ وَاذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لاَ يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، وَأَمَرَ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لِمَ فَعَلْتَ قَالَ مِنْ خَشْيَتِكَ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ، فَغَفَرَ لَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "A man who never did any good deed, said that if he died, his family should burn him and throw half the ashes of his burnt body in the earth and the other half in the sea, for by Allah, if Allah should get hold of him, He would inflict such punishment on him as He would not inflict on anybody among the people. But Allah ordered the sea to collect what was in it (of his ashes) and similarly ordered the earth to collect what was in it (of his ashes). Then Allah said (to the recreated man ), 'Why did you do so?' The man replied, 'For being afraid of You, and You know it (very well).' So Allah forgave him
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص نے جس نے ( بنی اسرائیل میں سے ) کوئی نیک کام کبھی نہیں کیا تھا، وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا ڈالیں اور اس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی دریا میں بکھیر دیں کیونکہ اللہ کی قسم اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو ایسا عذاب مجھ کو دے گا جو دنیا کے کسی شخص کو بھی وہ نہیں دے گا۔ پھر اللہ نے سمندر کو حکم دیا اور اس نے تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اس نے خشکی کو حکم دیا اور اس نے بھی اپنی تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

قُلْ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:80#
ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلشَّجَرِ ٱلْأَخْضَرِ نَارًا فَإِذَآ أَنتُم مِّنْهُ تُوقِدُونَ

PickthallWho hath appointed for you fire from the green tree, and behold! ye kindle from it.

Yusuf Ali"The same Who produces for you fire out of the green tree, when behold! ye kindle therewith (your own fires)!

The agreed readingThe One who makes fire for you out of the green tree, so that from it you kindle.
Urduوہی ہے جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی، پھر تم اسی سے آگ سلگاتے ہو۔ جو ایک ہی چیز میں تری اور آگ جمع کر سکتا ہے، اس کے لیے مُردوں کو زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟
Arabicهو الذي جعل لكم من الشجر الأخضر الرطب نارًا، فإذا أنتم منه توقدون. فمن جمع بين الرطوبة والنار في شيء واحد قادر على إحياء الموتى.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 7506

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ، فَإِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ وَاذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لاَ يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، وَأَمَرَ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لِمَ فَعَلْتَ قَالَ مِنْ خَشْيَتِكَ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ، فَغَفَرَ لَهُ ‏"‏‏.‏
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "A man who never did any good deed, said that if he died, his family should burn him and throw half the ashes of his burnt body in the earth and the other half in the sea, for by Allah, if Allah should get hold of him, He would inflict such punishment on him as He would not inflict on anybody among the people. But Allah ordered the sea to collect what was in it (of his ashes) and similarly ordered the earth to collect what was in it (of his ashes). Then Allah said (to the recreated man ), 'Why did you do so?' The man replied, 'For being afraid of You, and You know it (very well).' So Allah forgave him
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص نے جس نے ( بنی اسرائیل میں سے ) کوئی نیک کام کبھی نہیں کیا تھا، وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا ڈالیں اور اس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی دریا میں بکھیر دیں کیونکہ اللہ کی قسم اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو ایسا عذاب مجھ کو دے گا جو دنیا کے کسی شخص کو بھی وہ نہیں دے گا۔ پھر اللہ نے سمندر کو حکم دیا اور اس نے تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اس نے خشکی کو حکم دیا اور اس نے بھی اپنی تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

ٱلَّذِى

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:81#
أَوَلَيْسَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ ٱلْخَلَّٰقُ ٱلْعَلِيمُ

PickthallIs not He Who created the heavens and the earth Able to create the like of them? Aye, that He is! for He is the All-Wise Creator,

Yusuf Ali"Is not He Who created the heavens and the earth able to create the like thereof?" - Yea, indeed! for He is the Creator Supreme, of skill and knowledge (infinite)!

The agreed readingIs not the Creator of the heavens and the earth able to create the like of them again? Yes indeed - He is the Creator, the Knowing.
Urduکیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو پیدا کر دے؟ کیوں نہیں! اور وہی بہت پیدا کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ جو اتنی بڑی مخلوق پیدا کر سکتا ہے وہ انسان کو دوبارہ بنانے سے عاجز نہیں۔
Arabicأوليس الذي خلق السماوات والأرض على عِظَمهما بقادر على أن يخلق مثلهم؟ بلى إنه قادر على ذلك، وهو الخلَّاق الذي خلق كل شيء، العليم بكل ما خلق.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 874

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، مَوْلَى الأَنْصَارِ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عَبْسٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ يَقُولُ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ - ثَلاَثًا - ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ‏"‏ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ يَقُولُ ‏"‏ …
Narrated Hudhayfah: Hudhayfah saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying at night. He said: Allah is most great" three times, "Possessor of kingdom, grandeur, greatness and majesty." He then began (his prayer) and recited Surah al-Baqarah; then he bowed and he paused in bowing as long as he stood up; he said while bowing, "Glory be to my mighty Lord," "Glory be to my mighty Lord" ; then he raised his head, after bowing: then he stood up and he paused as long as he paused in bowing and said, "Praise be to my Lord" ; then he prostrated and paused in prostration as long as he paused in the standing position; he said while prostrating: "Glory be to my most high Lord"; then he raised his head after …
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ تین بار «الله اكبر» ، اور ( ایک بار ) «ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآت شروع کی تو سورۃ البقرہ کی قرآت کی، پھر رکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع قریب قریب آپ کے قیام کے برابر رہا اور آپ اپنے رکوع میں«سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم» کہہ رہے تھے، پھر رکوع سے سر اٹھایا ( اور کھڑے رہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے رکوع کے قریب قریب رہا اور آپ اس درمیان «لربي الحمد» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَوَلَيْسَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 873

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً فَقَامَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ لاَ يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلاَّ وَقَفَ فَسَأَلَ وَلاَ يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلاَّ وَقَفَ فَتَعَوَّذَ - قَالَ - ثُمَّ رَكَعَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ‏ "‏ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ ذَلِكَ - ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِآلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً سُورَةً ‏.‏
Narrated Awf ibn Malik al-Ashja'i: I stood up to pray along with the Messenger of Allah (ﷺ); he got up and recited Surat al-Baqarah (Surah 2). When he came to a verse which spoke of mercy, he stopped and made supplication, and when he came to verse which spoke of punishment, he stopped and sought refuge in Allah, then he bowed and paused as long as he stood (reciting Surah al-Baqarah), and said while bowing, "Glory be to the Possessor of greatness, the Kingdom, grandeur and majesty." :Then he prostrated himself and paused as long as he stood up and recited Surat Aal Imran (Surah 3) and then recited many surahs one after another
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی رحمت والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور سوال کرتے، اور کسی عذاب والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور اس سے پناہ مانگتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے بقدر لمبا رکوع کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پڑھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے بقدر لمبا سجدہ کیا، سجدے میں بھی آپ نے وہی دعا پڑھی، جو رکوع میں پڑھی تھی پھر اس کے بعد کھڑے ہوئے اور سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ( بقیہ رکعتوں میں ) ایک ایک سورۃ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَوَلَيْسَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 1132

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَدَأَ فَاسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْبَقَرَةِ لاَ يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلاَّ وَقَفَ وَسَأَلَ وَلاَ يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلاَّ وَقَفَ يَتَعَوَّذُ ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ‏"‏ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ …
Awf bin Malik said:"I prayed Qiyam with the Prophet (ﷺ). He started by using the Siwak and performing wudu, then he stood and prayed. He started reciting Al-Baqarah and he did not come to any verse that spoke of mercy but he paused and asked for mercy, and he did not come to any verse that spoke of punishment but he paused (and sought refuge with Allah from that). Then he bowed and he stayed bowing for as long as he had stood,a nd he said while bowing: 'Subhanaka Dhil-jabaraut wal-malakut wal-kibriya' wal-'azamah (Glory be to the One Who has all power, sovereignty, magnificence and might.)' Then he prostrated for as long as he had bowed, saying while prostrating: 'Subhana Dhil-jabarut …
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھا، پہلے آپ نے مسواک کی، پھر وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کی، آپ جب بھی کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس پر رحمت کا سوال کرتے، اور جب بھی عذاب کی کسی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے، اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، تو رکوع میں اپنے قیام کے بقدر ٹھہرے رہے، آپ اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پھر آپ نے اپنے رکوع کے بقدر سجدہ کیا، اور اپنے سجدے میں آپ کہہ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة»، پھر آپ نے دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ایک اور سورۃ پڑھی، پھر ایک اور سورۃ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

أَوَلَيْسَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:82#
إِنَّمَآ أَمْرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيْـًٔا أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

PickthallBut His command, when He intendeth a thing, is only that He saith unto it: Be! and it is.

Yusuf AliVerily, when He intends a thing, His Command is, "be", and it is!

The agreed readingHis command, when He wills a thing, is only to say to it: Be - and it is. The commentaries apply it directly to the question just asked: dying and living, raising and gathering, all stand on that one word.
Urduاس کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے: ہو جا، اور وہ ہو جاتی ہے۔ نہ اسے کوئی دیر لگتی ہے اور نہ چھوٹی بڑی چیز میں کوئی فرق ہے۔
Arabicإنما شأنه سبحانه إذا أراد شيئًا أن يقول له: كن، فيكون. فلا يتوقف مراده على سبب ولا يعجزه شيء، ومن ذلك الإماتة والإحياء والبعث.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 3 من كتب أهل السنة، 4 من كتب الشيعة7 reports cited here — 3 Sunnī, 4 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 4 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 1, no. 336

درجته: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: صحيح

grading: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: صحيح

درجہ: Behbudi: لم يخرجه · al-Majlisi: صحيح

2ـ أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى قَالَ سَأَلَنِي أَبُو قُرَّةَ الْمُحَدِّثُ أَنْ أُدْخِلَهُ عَلَى أَبِي الْحَسَنِ الرِّضَا (عَلَيْهِ السَّلام) فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَلالِ وَالْحَرَامِ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَ فَتُقِرُّ أَنَّ الله مَحْمُولٌ فَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ (عَلَيْهِ السَّلام) كُلُّ مَحْمُولٍ مَفْعُولٌ بِهِ مُضَافٌ إِلَى غَيْرِهِ مُحْتَاجٌ وَالْمَحْمُولُ اسْمُ نَقْصٍ فِي اللَّفْظِ وَالْحَامِلُ فَاعِلٌ وَهُوَ فِي اللَّفْظِ مِدْحَةٌ وَكَذَلِكَ قَوْلُ الْقَائِلِ فَوْقَ وَتَحْتَ وَأَعْلَى وَأَسْفَلَ وَقَدْ قَالَ الله وَلله الاسْماءُ الْحُسْنى‏ فَادْعُوهُ بِها وَلَمْ يَقُلْ فِي كُتُبِهِ إِنَّهُ …
2. Ahmad ibn Idris from Muhammad ibn ‘Abd al-Jabbar from Safwan ibn Yahya who has said the following. “Abu Qurrah, the narrator of Hadith asked for help to meet Imam Ali abu al-Hassan al-Rida (a.s.). I requested the Imam (a.s.) to meet him and he agreed. Abu Qurrah asked the Imam about the lawful and unlawful matters and then said, “Do you affirm that Allah is carried?” Imam abu al-Hassan (a.s.) replied, “Every thing in an objective case is related to another thing and is dependent. Being carried is the name for verbal defect. On the other hand, carrier is in a subjective case and it verbally is a word to convey praises and so is the expression of one who says, “Above, below, upper and …
احمد بن إدريس نے محمد بن عبد الجبار کے وسیلہ سے صفوان بن يحيی سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ صفوان بن يحيی کہتے ہیں: ابو قرہ نام کے ایک محدث، ایک علم دین کے راوی نے مجھ سے یہ درخواست اور التماس کی ہے کہ میں اس کے لیے ابو الحسن الرضا علیہ السلام کے دربار میں داخل ہونے کا راستہ اور موقع فراہم کروں اور وہ ان حضرت سے ملاقات کر سکے۔ میں نے ان حضرت ابو الحسن سے اجازت کی درخواست کی۔ انہوں نے مجھے اجازت عطا فرمائی اور ابو قرہ کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ ابو قرہ ان کے آگے حاضر ہوئے اور سب سے پہلے انہوں نے ان حضرت سے حلال اور حرام کے بارے میں کئی مسائل اور سوالات پوچھے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اہم سوال کیا اور کہا: کیا آپ یہ بات تسلیم کرتے ہیں، قبول کرتے ہیں، اقرار کرتے ہیں کہ اللہ محمول ہے، یعنی یہ کہ اللہ …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 5, no. 909

درجته: al-Majlisi: ضعيف

grading: al-Majlisi: ضعيف

درجہ: al-Majlisi: ضعيف

7- عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَمُّونٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مِسْمَعِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ (عَلَيْهِ السَّلام) قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ الأجِيرُ الْمُشَارِكُ هُوَ ضَامِنٌ إِلا مِنْ سَبُعٍ أَوْ مِنْ غَرَقٍ أَوْ حَرَقٍ أَوْ لِصٍّ مُكَابِرٍ.
7. A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad from Muhammad ibn al-Hassan ibn Shammun from ‘Abd Allah ibn ‘Abd al-Rahman from Misma’ ibn ‘Abd al-Malik who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that ’Amir al-Mu’minin has said, ‘One hired and a partner are liable unless it (the loss) is because of beasts, drowning, burning or a stubborn thief.’”
عدة من أصحابنا نے سہل بن زياد سے روایت کی، سہل نے محمد بن الحسن بن شمون سے، محمد نے عبد الله بن عبد الرحمن سے، عبد الله نے مسمع بن عبد الملك سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں: ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: امیر المؤمنین صلوات الله علیہ نے کہا: اجیر المشارک ضامن ہے إلا سبع یا غرق یا حرق یا لص مکابر کے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 874

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، مَوْلَى الأَنْصَارِ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عَبْسٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ يَقُولُ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ - ثَلاَثًا - ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ‏"‏ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ يَقُولُ ‏"‏ …
Narrated Hudhayfah: Hudhayfah saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying at night. He said: Allah is most great" three times, "Possessor of kingdom, grandeur, greatness and majesty." He then began (his prayer) and recited Surah al-Baqarah; then he bowed and he paused in bowing as long as he stood up; he said while bowing, "Glory be to my mighty Lord," "Glory be to my mighty Lord" ; then he raised his head, after bowing: then he stood up and he paused as long as he paused in bowing and said, "Praise be to my Lord" ; then he prostrated and paused in prostration as long as he paused in the standing position; he said while prostrating: "Glory be to my most high Lord"; then he raised his head after …
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ تین بار «الله اكبر» ، اور ( ایک بار ) «ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآت شروع کی تو سورۃ البقرہ کی قرآت کی، پھر رکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع قریب قریب آپ کے قیام کے برابر رہا اور آپ اپنے رکوع میں«سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم» کہہ رہے تھے، پھر رکوع سے سر اٹھایا ( اور کھڑے رہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے رکوع کے قریب قریب رہا اور آپ اس درمیان «لربي الحمد» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 873

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً فَقَامَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ لاَ يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلاَّ وَقَفَ فَسَأَلَ وَلاَ يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلاَّ وَقَفَ فَتَعَوَّذَ - قَالَ - ثُمَّ رَكَعَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ‏ "‏ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ ذَلِكَ - ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِآلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً سُورَةً ‏.‏
Narrated Awf ibn Malik al-Ashja'i: I stood up to pray along with the Messenger of Allah (ﷺ); he got up and recited Surat al-Baqarah (Surah 2). When he came to a verse which spoke of mercy, he stopped and made supplication, and when he came to verse which spoke of punishment, he stopped and sought refuge in Allah, then he bowed and paused as long as he stood (reciting Surah al-Baqarah), and said while bowing, "Glory be to the Possessor of greatness, the Kingdom, grandeur and majesty." :Then he prostrated himself and paused as long as he stood up and recited Surat Aal Imran (Surah 3) and then recited many surahs one after another
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی رحمت والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور سوال کرتے، اور کسی عذاب والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور اس سے پناہ مانگتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے بقدر لمبا رکوع کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پڑھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے بقدر لمبا سجدہ کیا، سجدے میں بھی آپ نے وہی دعا پڑھی، جو رکوع میں پڑھی تھی پھر اس کے بعد کھڑے ہوئے اور سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ( بقیہ رکعتوں میں ) ایک ایک سورۃ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 1132

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَدَأَ فَاسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْبَقَرَةِ لاَ يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلاَّ وَقَفَ وَسَأَلَ وَلاَ يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلاَّ وَقَفَ يَتَعَوَّذُ ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ‏"‏ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ …
Awf bin Malik said:"I prayed Qiyam with the Prophet (ﷺ). He started by using the Siwak and performing wudu, then he stood and prayed. He started reciting Al-Baqarah and he did not come to any verse that spoke of mercy but he paused and asked for mercy, and he did not come to any verse that spoke of punishment but he paused (and sought refuge with Allah from that). Then he bowed and he stayed bowing for as long as he had stood,a nd he said while bowing: 'Subhanaka Dhil-jabaraut wal-malakut wal-kibriya' wal-'azamah (Glory be to the One Who has all power, sovereignty, magnificence and might.)' Then he prostrated for as long as he had bowed, saying while prostrating: 'Subhana Dhil-jabarut …
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھا، پہلے آپ نے مسواک کی، پھر وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کی، آپ جب بھی کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس پر رحمت کا سوال کرتے، اور جب بھی عذاب کی کسی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے، اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، تو رکوع میں اپنے قیام کے بقدر ٹھہرے رہے، آپ اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پھر آپ نے اپنے رکوع کے بقدر سجدہ کیا، اور اپنے سجدے میں آپ کہہ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة»، پھر آپ نے دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ایک اور سورۃ پڑھی، پھر ایک اور سورۃ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 7, no. 448

درجته: al-Majlisi: صحيح

grading: al-Majlisi: صحيح

درجہ: al-Majlisi: صحيح

1- مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ وَعَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ جَمِيعاً عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ ابْنِ رِئَابٍ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (عَلَيْهِ السَّلام) قَالَ إِنَّ عَلِيّاً (عَلَيْهِ السَّلام) كَانَ يَقْضِي فِي الْمَوَارِيثِ فِيمَا أَدْرَكَ الإسْلامَ مِنْ مَالِ مُشْرِكٍ تَرَكَهُ لَمْ يَكُنْ قُسِمَ قَبْلَ الإسْلامِ أَنَّهُ كَانَ يَجْعَلُ لِلنِّسَاءِ وَالرِّجَالِ حُظُوظَهُمْ مِنْهُ عَلَى كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه).
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad, a number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad, and Ali ibn Ibrahim has narrated from his father all from ibn Mahbub from ibn Ri’ab from abu Hamzah who has narrated the following: “Abu Ja’far (a.s.), has said that Ali (a.s.), once issued a judgment. It was in the case of those who became Muslims and the legacy of pagans, which was not distributed before his becoming a Muslim. It gave men and women their shares according to the book of Allah, most Majestic, most Glorious, and the Sunnah of His Holy Prophet, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause.’”
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے روایت کی، اور ہمارے اصحاب کی ایک جماعت نے سہل بن زیاد سے روایت کی۔ اور علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے۔ یہ سب ابن محبوب سے، وہ ابن ریاب سے، وہ ابو حمزہ سے، وہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں۔ ابو جعفر نے کہا: بیشک علی علیہ السلام میراث کے معاملات میں فیصلہ کرتے تھے۔ جب کوئی مشرک کا مال باقی رہ جاتا تھا جو اسلام سے پہلے تقسیم نہ ہوا ہوتا، اور وہ شخص اسلام قبول کر لیتا تھا، تو علی اس میں عورتوں اور مردوں کو اللہ عزوجل کی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کی سنت کے مطابق ان کے حصے دیتے تھے۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها al-Ḥuwayzī في هذه الآية

Cited by al-Ḥuwayzī on this āyah

al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Kāfi, vol. 2, no. 112

درجته: al-Majlisi: موثق وآخره مرسل

grading: al-Majlisi: موثق وآخره مرسل

درجہ: al-Majlisi: موثق وآخره مرسل

2ـ عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الله بْنِ مُسْكَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيهِ السَّلام) قَالَ إِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ خَصَّ رُسُلَهُ بِمَكَارِمِ الأخْلاقِ فَامْتَحِنُوا أَنْفُسَكُمْ فَإِنْ كَانَتْ فِيكُمْ فَاحْمَدُوا الله وَاعْلَمُوا أَنَّ ذَلِكَ مِنْ خَيْرٍ وَإِنْ لا تَكُنْ فِيكُمْ فَاسْأَلُوا الله وَارْغَبُوا إِلَيْهِ فِيهَا قَالَ فَذَكَرَهَا عَشَرَةً الْيَقِينَ وَالْقَنَاعَةَ وَالصَّبْرَ وَالشُّكْرَ وَالْحِلْمَ وَحُسْنَ الْخُلُقِ وَالسَّخَاءَ وَالْغَيْرَةَ وَالشَّجَاعَةَ وَالْمُرُوءَةَ قَالَ وَرَوَى بَعْضُهُمْ بَعْدَ هَذِهِ الْخِصَالِ الْعَشَرَةِ وَزَادَ فِيهَا الصِّدْقَ وَأَدَاءَ الأمَانَةِ.
2. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn Khalid from ‘Uthman ibn ‘Isa from ‘Abd Allah ibn Muskan from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, chose His messengers for noble moral (human) qualities. You must test yourselves. If you find the noble qualities in you then be thankful to Allah and understand that it is of goodness. If you do not find them in you, then pray to Allah to grant them to you and show Him that you are interested in having them. The narrator has said that the Imam counted the noble qualities up to ten: They consist of Certainty, Contentment, Patience, Thankfulness, Forbearance, Good Moral …
ہمارے اصحاب کے ایک گروپ نے احمد بن محمد بن خالد سے روایت کی، عثمان بن عیسیٰ سے، عبداللہ بن مسکان سے، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے، انہوں نے فرمایا: اللہ عزّ وجلّ نے اپنے رسولوں کو مکارم الاخلاق (بہترین اخلاق) سے خصوصی کیا ہے، تو اپنے نفس کو آزمائو، اگر یہ تمہارے اندر ہیں تو اللہ کا شکر کرو اور جان لو کہ یہ خیر سے ہے، اور اگر تمہارے اندر نہیں ہیں تو اللہ سے مانگو اور اس سے رغبت کرو۔ انہوں نے ان کو دس بیان کیے: یقین، قناعت، صبر، شکر، حلم، حسن الخلق، سخاوت، غیرت، شجاعت، اور مروت۔ اور بعض نے ان دس خصلتوں کے بعد صدق (سچائی) اور امانت کی ادائی کو شامل کیا۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

إِنَّمَآ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

36:83#
فَسُبْحَٰنَ ٱلَّذِى بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَىْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

PickthallTherefor Glory be to Him in Whose hand is the dominion over all things! Unto Him ye will be brought back.

Yusuf AliSo glory to Him in Whose hands is the dominion of all things: and to Him will ye be all brought back.

The agreed readingSo glory be to Him in whose hand is the dominion of all things. To Him you will be returned.
Urduپس پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی اور اس پر پورا اختیار ہے۔ اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے، جہاں وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Arabicفتنزَّه الله وتقدَّس، الذي بيده مُلك كل شيء والتصرف فيه لا يُنازَع. وإليه وحده تُرَدُّون يوم القيامة فيجازيكم على أعمالكم.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 3 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة6 reports cited here — 3 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے

ذكرها al-Ṭabarī في هذه الآية

Cited by al-Ṭabarī on this āyah

al-Ṭabarī نے اس آیت پر نقل کیا

Al-Tawḥīd, no. 1

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الواحد الأحد الذي لا شريك له، الفرد الصمد الذي لا شبيه له، الأول القديم الذي لا غاية له، الآخر الباقي الذي لا نهاية له، الموجود الثابت الذي لا عدم له، الملك الدائم الذي لا زوال له، القادر الذي لا يعجزه شئ، العليم الذي لا يخفى عليه شئ، الحي لا بحياة، الكائن لا في مكان، السميع البصير الذي لا آلة له ولا أداة، الذي أمر بالعدل، وأخذ بالفضل، وحكم بالفصل، لا معقب لحكمه، ولا راد لقضائه، ولا غالب لإرادته، ولا قاهر لمشيته، وإنما أمره إذا أراد شيئا أن يقول له كن فيكون، فسبحان الذي بيده ملكوت كل شئ، وإليه المرجع والمصير. وأشهد أن لا إله إلا الله رب العالمين، وأشهد أن محمد عبده ورسوله سيد النبيين وخير خلقه أجمعين، وأشهد أن علي بن أبي طالب سيد الوصيين وإمام المتقين و قائد …
All praise be to Allah, the One and Only, who does not have a partner; the Peerless, the Needless, who has no like; the First, the Ever-Existent, who has no limit; the Last and the Everlasting who has no end; the Existing, the Constant, who has no non-existence; the Eternal King, who does not decline; the Power who is not weakened; the All-Knowing from who nothing can be hidden; the Alive but not with life; the One who Exists, but who is not confined to place; the All-Hearing and the All-Seeing, who has no ears and eyes; the One who ordered with justice, punished with favour, and commanded with bounty, but not to trap people under His Command. There is no rejecter to His Judgement, no …
بسم الله الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ کے لیے جو ایک و یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، یکتا و لاشریک جس کی کوئی ہمسری نہیں، سب سے پہلے اور قدیم جس کی کوئی انتہا نہیں، آخری اور ہمیشہ رہنے والا جس کا کوئی خاتمہ نہیں، موجود اور قائم جس کا کوئی عدم نہیں، ہمیشہ باقی بادشاہ جس کا کوئی زوال نہیں، قدرتوار جس سے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، علم والا جس سے کوئی چیز مخفی نہیں، زندہ بغیر جیون کے، موجود بغیر مکان کے، سننے والا دیکھنے والا جس کے پاس کوئی آلہ یا اوزار نہیں۔ جس نے عدل کا حکم دیا، فضل کے ساتھ سلوک کیا، حکمت سے فیصلہ کیا۔ اس کے فیصلے کو کوئی واپس نہیں کر سکتا، اس کے حکم کو کوئی بدل نہیں سکتا، اس کی مرضی کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، اس کے ارادے کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اور تو اس کا امر صرف یہ ہے …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَسُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية

Cited by Ṭabāṭabāʾī on this āyah

Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا

Nahj al-Balāgha, no. 889

يُخْبِرُ لاَ بِلِسَان وَلَهوَات، وَيَسْمَعُ لاَ بِخُروُق وَأَدَوَات، يَقُولُ وَلاَ يَلْفِظُ، َيَحْفَظُ وَلاَ َ تَحَفَّظُ، وَيُرِيدُ وَلاَ يُضْمِرُ. يُحِبُّ وَيَرْضَى مِنْ غَيْرِ رِقَّة، وَيُبْغِضُ وَيَغْضَبُ مِنْ غَيْرِ مَشَقَّة. يَقُولُ لِمَا أَرَادَ كَوْنَهُ: ﴿كُن فَيَكُونُ﴾، لاَ بِصَوْت يَقْرَعُ، وَلاَ بِنِدَاء يُسْمَعُ، وَإِنَّمَا كَلاَمُهُ سُبْحَانَهُ فِعْلٌ مِنْهُ أَنْشَأَهُ وَمَثَّلَهُ، لَمْ يَكُنْ مِنْ قَبْلِ ذلِكَ كَائِناً، َلَوْ كَانَ قَدِيماً لَكَانَ إِلهاً ثَانِياً.
He conveys news, but not with the tongue or voice. He listens, but not with the holes of the ears or the organs of hearing. He says, but does not utter words. He remembers, but does not memorise. He determines, but not by exercising His mind. He loves and approves without any sentimentality (of heart). He hates and feels angry without any painstaking. When He intends to create someone He says “Be” and there he is, not by a voice that is heard or a call that is audible, but His speech, may He be glorified, is an act from Him, that He originated and fashioned. It was not existing before that, if it had been eternal, it would have been the second god.
وہ يُخْبِرُ دیتا ہے لیکن لسان و ہنسلی سے نہیں، يَسْمَعُ سنتا ہے لیکن کانوں کے سوراخ سے نہیں، يَقُولُ کہتا ہے لیکن الفاظ سے نہیں، يَحْفَظُ حفاظت رکھتا ہے لیکن محفوظ نہیں ہوتا، يُرِيدُ چاہتا ہے لیکن ضمیر میں نہیں۔ يُحِبُّ محبت کرتا ہے اور يَرْضَى رضا رکھتا ہے بغیر رقت کے، يُبْغِضُ بغض کرتا ہے اور يَغْضَبُ غضب کرتا ہے بغیر مشقت کے۔ جب کہتا ہے جس چیز کو كُن فَيَكُونُ ہونا چاہتا ہے، بغیر صوت اور نداء کے۔ اس کی کلام سُبْحَانَهُ فعل ہے جسے انجام دیتا ہے، پہلے نہ تھی۔ اگر قَدِيماً ہوتی تو الہٰ ثانی ہوتا۔

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَسُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 874

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، مَوْلَى الأَنْصَارِ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عَبْسٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ يَقُولُ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ - ثَلاَثًا - ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ‏"‏ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ يَقُولُ ‏"‏ …
Narrated Hudhayfah: Hudhayfah saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying at night. He said: Allah is most great" three times, "Possessor of kingdom, grandeur, greatness and majesty." He then began (his prayer) and recited Surah al-Baqarah; then he bowed and he paused in bowing as long as he stood up; he said while bowing, "Glory be to my mighty Lord," "Glory be to my mighty Lord" ; then he raised his head, after bowing: then he stood up and he paused as long as he paused in bowing and said, "Praise be to my Lord" ; then he prostrated and paused in prostration as long as he paused in the standing position; he said while prostrating: "Glory be to my most high Lord"; then he raised his head after …
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ تین بار «الله اكبر» ، اور ( ایک بار ) «ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآت شروع کی تو سورۃ البقرہ کی قرآت کی، پھر رکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع قریب قریب آپ کے قیام کے برابر رہا اور آپ اپنے رکوع میں«سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم» کہہ رہے تھے، پھر رکوع سے سر اٹھایا ( اور کھڑے رہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے رکوع کے قریب قریب رہا اور آپ اس درمیان «لربي الحمد» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَسُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan Abī Dāwūd 873

درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً فَقَامَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ لاَ يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلاَّ وَقَفَ فَسَأَلَ وَلاَ يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلاَّ وَقَفَ فَتَعَوَّذَ - قَالَ - ثُمَّ رَكَعَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ‏ "‏ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ ذَلِكَ - ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِآلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً سُورَةً ‏.‏
Narrated Awf ibn Malik al-Ashja'i: I stood up to pray along with the Messenger of Allah (ﷺ); he got up and recited Surat al-Baqarah (Surah 2). When he came to a verse which spoke of mercy, he stopped and made supplication, and when he came to verse which spoke of punishment, he stopped and sought refuge in Allah, then he bowed and paused as long as he stood (reciting Surah al-Baqarah), and said while bowing, "Glory be to the Possessor of greatness, the Kingdom, grandeur and majesty." :Then he prostrated himself and paused as long as he stood up and recited Surat Aal Imran (Surah 3) and then recited many surahs one after another
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی رحمت والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور سوال کرتے، اور کسی عذاب والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور اس سے پناہ مانگتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے بقدر لمبا رکوع کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پڑھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام کے بقدر لمبا سجدہ کیا، سجدے میں بھی آپ نے وہی دعا پڑھی، جو رکوع میں پڑھی تھی پھر اس کے بعد کھڑے ہوئے اور سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ( بقیہ رکعتوں میں ) ایک ایک سورۃ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَسُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ibn Kathīr في هذه الآية

Cited by Ibn Kathīr on this āyah

Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا

Sunan al-Nasāʾī 1132

درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَدَأَ فَاسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْبَقَرَةِ لاَ يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلاَّ وَقَفَ وَسَأَلَ وَلاَ يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلاَّ وَقَفَ يَتَعَوَّذُ ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ‏"‏ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ …
Awf bin Malik said:"I prayed Qiyam with the Prophet (ﷺ). He started by using the Siwak and performing wudu, then he stood and prayed. He started reciting Al-Baqarah and he did not come to any verse that spoke of mercy but he paused and asked for mercy, and he did not come to any verse that spoke of punishment but he paused (and sought refuge with Allah from that). Then he bowed and he stayed bowing for as long as he had stood,a nd he said while bowing: 'Subhanaka Dhil-jabaraut wal-malakut wal-kibriya' wal-'azamah (Glory be to the One Who has all power, sovereignty, magnificence and might.)' Then he prostrated for as long as he had bowed, saying while prostrating: 'Subhana Dhil-jabarut …
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھا، پہلے آپ نے مسواک کی، پھر وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کی، آپ جب بھی کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس پر رحمت کا سوال کرتے، اور جب بھی عذاب کی کسی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے، اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، تو رکوع میں اپنے قیام کے بقدر ٹھہرے رہے، آپ اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پھر آپ نے اپنے رکوع کے بقدر سجدہ کیا، اور اپنے سجدے میں آپ کہہ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة»، پھر آپ نے دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ایک اور سورۃ پڑھی، پھر ایک اور سورۃ …

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَسُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.

ذكرها Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية

Cited by Ṭabāṭabāʾī on this āyah

Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا

Nahj al-Balāgha, no. 20

صفة خلق آدم عليه‌ السلام : ثُمَّ جَمَعَ سُبْحَانَهُ مِنْ حَزْنِ الاْرْضِ وَسَهْلِهَا، وَعَذْبِهَا وَسَبَخِهَا، تُرْبَةً سَنَّهَا بالمَاءِ حَتَّى خَلَصَتْ، وَلاَطَهَا بِالبَلَّةِ حَتَّى لَزَبَتْ، فَجَبَلَ مِنْها صُورَةً ذَاتَ أَحْنَاء وَوُصُول، وَأَعْضَاء وَفُصُول: أَجْمَدَهَا حَتَّى اسْتَمْسَكَتْ، وَأَصْلَدَهَا حَتَّى صَلْصَلَتْ، لِوَقْت مَعْدُود، وَأجَل مَعْلُوم، ثُمَّ نَفَخَ فِيها مِنْ رُوحِهِ فَمَثُلَتْ إِنْساناً ذَا أَذْهَان يُجيلُهَا، وَفِكَر يَتَصَرَّفُ بِهَا، وَجَوَارِحَ يَخْتَدِمُهَا، وَأَدَوَات يُقَلِّبُهَا، وَمَعْرِفَة يَفْرُقُ بِهَا بَيْنَ الحَقِّ وَالبَاطِلِ، والاَذْوَاقِ والَمشَامِّ، وَالاْلوَانِ وَالاْجْنَاس، مَعْجُوناً بطِينَةِ الاْلوَانِ الُمخْتَلِفَةِ، وَالاَشْبَاهِ …
Description of the Creation of Adam : Allāh collected from hard, soft, sweet and sour earth, clay which He dripped in water till it got pure, and kneaded it with moisture till it became gluey. From it He carved an image with curves, joints, limbs and segments. He solidified it till it dried up for a fixed time and a known duration. Then He blew into it out of His Spirit whereupon it took the pattern of a human being with mind that governs him, intelligence which he makes use of, limbs that serve him, organs that change his position, sagacity that differentiates between truth and untruth, tastes and smells, colours and species. He is a mixture of clays of different colours, cohesive …
صفتِ خلقِ آدم علیہ السلام: پھر اللہ سبحانہ نے زمین کی حزن و سہل، عذب و سبخ سے جمع کیا، تربہ اسے سنہ کیا پانی سے یہاں تک کہ خالص ہو گیا، اور اسے بلة سے ملایا یہاں تک کہ لازبت ہو گئی۔ تو اس سے ایک صورتِ أحناء و وصول، أعضاء و فصول بنایا: اسے أجمد کیا یہاں تک کہ استمسکت ہو گیا، اور أصلد کیا یہاں تک کہ صلصلت ہو گیا، معدودِ وقت اور معلومِ اجل کے لیے۔ پھر اس میں اپنی روح سے پھونکا تو یہ انسان بنا جو أذہان رکھتا ہے انہیں چلاتا ہے، اور فکر رکھتا ہے اسے حرکت دیتا ہے، اور جوارح رکھتا ہے انہیں خدمت لیتا ہے، اور أدوات رکھتا ہے انہیں تبدیل کرتا ہے، اور معرفت رکھتا ہے اس سے حق و باطل میں فرق کرتا ہے، أذواق و مشامّ میں، ألوان و أجناس میں۔ معجوں طینةِ ألوانِ مختلفہ، اور أشباہِ مؤتلفہ، اور أضدادِ متعادیہ، …

الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد

This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet

یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا

الخبر كاملا →

the full report →

مکمل روایت →

فَسُبْحَٰنَ

Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.