PickthallO ye who believe! Be not forward in the presence of Allah and His messenger, and keep your duty to Allah. Lo! Allah is Hearer, Knower.
Yusuf AliO Ye who believe! Put not yourselves forward before Allah and His Messenger; but fear Allah: for Allah is He Who hears and knows all things.
The agreed readingYou who believe, do not put yourselves forward ahead of God and His messenger, and be mindful of God. God is Hearing, Knowing.
Urduاے ایمان والو، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو، یعنی کسی بھی معاملے میں فیصلہ کرنے میں ان سے پہل نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدي الله ورسوله، أي لا تسبقوهما بالقول أو الفعل في أي أمر من الأمور، واتقوا الله في كل أحوالكم. إن الله سميع لأقوالكم، عليم بنياتكم وأفعالكم.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَنْبَأَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم افْتَقَدَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَعْلَمُ لَكَ عِلْمَهُ. فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ جَالِسًا فِي بَيْتِهِ مُنَكِّسًا رَأْسَهُ فَقَالَ لَهُ مَا شَأْنُكَ. فَقَالَ شَرٌّ. كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ، وَهْوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ. فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ كَذَا وَكَذَا ـ فَقَالَ مُوسَى ـ فَرَجَعَ إِلَيْهِ الْمَرَّةَ الآخِرَةَ …
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) missed Thabit bin Qais for a period (So he inquired about him). A man said. "O Allah's Apostle! I will bring you his news." So he went to Thabit and found him sitting in his house and bowing his head. The man said to Thabit, " 'What is the matter with you?" Thabit replied that it was an evil affair, for he used to raise his voice above the voice of the Prophet (ﷺ) and so all his good deeds had been annulled, and he considered himself as one of the people of the Fire. Then the man returned to the Prophet (ﷺ) and told him that Thabit had said, so-and-so. (Musa bin Anas) said: The man returned to Thabit with great glad tidings. The Prophet (ﷺ) said to …
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عون نے خبر دی، کہا کہ مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی، اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے لیے ان کی خبر لاتا ہوں۔ پھر وہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے دیکھا کہ وہ گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں پوچھا کیا حال ہے؟ کہا کہ برا حال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کے مقابلہ میں بلند آواز سے بولا کرتا تھا اب سارے نیک عمل اکارت ہوئے اور اہل دوزخ میں قرار دے دیا گیا ہوں۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے جو کچھ کہا تھا اس کی اطلاع آپ کو دی۔ موسیٰ بن انس نے …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُؤَمِّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَعْمِلْهُ عَلَى قَوْمِهِ . فَقَالَ عُمَرُ لاَ تَسْتَعْمِلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَتَكَلَّمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِي . فَقَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : ( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا …
Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair:"Al-Aqra' bin Habis arrived to meet the Prophet (ﷺ)" - he said - "so Abu Bakr said: 'O Messenger of Allah! Appoint him over his people.' 'Umar said: 'Do not appoint him O Messenger of Allah!' They continued talking before the Prophet (ﷺ) until they raised their voices. Abu Bakr said to 'Umar: 'You only wanted to contradict me.' So ['Umar] said: 'I did not want to contradict you.'" He said: "So this Ayah was revealed: 'O you who believe! Do not raise your voices above the voice of the Prophet (49:2).'" He said: "After that, when 'Umar spoke before the Prophet (ﷺ), his speech could not be heard until he told him he could not understand him." He (one of the …
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں ان کی اپنی قوم پر عامل بنا دیجئیے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں عامل نہ بنائیے، ان دونوں حضرات نے آپ کی موجودگی میں آپس میں توتو میں میں کی، ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، ابوبکر نے عمر رضی الله عنہما سے کہا: آپ کو تو بس ہماری مخالفت ہی کرنی ہے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي» ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو“ ( الحجرات: ۲ ) ، اس واقعہ کے بعد عمر رضی الله عنہ جب نبی اکرم …
Narrated `Abdullah bin Az-Zubair:A group of Bani Tamim came to the Prophet (and requested him to appoint a governor for them). Abu Bakr said, "Appoint Al-Qaqa bin Mabad." `Umar said, "Appoint Al-Aqra' bin Habis." On that Abu Bakr said (to `Umar). "You did not want but to oppose me!" `Umar replied "I did not intend to oppose you!" So both of them argued till their voices grew loud. So the following Verse was revealed: 'O you who believe! Be not forward
ہم سے حسن بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حجاج نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، انہیں ابن ابی ملیکہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ قبیلہ بنی تمیم کے سواروں کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان کا امیر آپ قعقاع بن معبد کو بنا دیں اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا بلکہ اقرع بن حابس کو امیر بنائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مقصد تو صرف میری مخالفت ہی کرنا ہے۔ عمر نے کہا کہ میں نے آپ کے خلاف کرنے کی غرض سے یہ نہیں کہا ہے۔ اس پر دونوں میں بحث چلی گئی اور آواز بھی بلند ہو گئی۔ اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدى الله ورسوله» کہ ”اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کے …
Narrated Ibn Abi Mulaika:`Abdullah bin Az-Zubair said that a group of riders belonging to Banu Tamim came to the Prophet, Abu Bakr said (to the Prophet (ﷺ) ), "Appoint Al-Qa'qa bin Mabad bin Zurara as (their) ruler." `Umar said (to the Prophet). "No! But appoint Al-Aqra bin H`Abis." Thereupon Abu Bakr said (to `Umar). "You just wanted to oppose me." `Umar replied. "I did not want to oppose you." So both of them argued so much that their voices became louder, and then the following Divine Verses were revealed in that connection:-- "O you who believe ! Do not be forward in the presence of Allah and His Apostle..." (till the end of Verse)
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے اور انہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ بنو تمیم کے چند سوار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ آپ ہمارا کوئی امیر منتخب کر دیجئیے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قعقاع بن معبد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو امیر منتخب کر دیجئیے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بلکہ آپ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر منتخب فرما دیجئیے۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تمہارا مقصد صرف مجھ سے اختلاف کرنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں میری غرض مخالفت کی نہیں ہے۔ دونوں اتنا جھگڑے کی آواز …
Abdullah bin Az-Zubair narrated that:A group from Banu Tamim came to the Prophet [SAW]. Abu Bakr said: "Appoint Al-Qa'qa' bin Ma'bad (as commander or governor)," and 'Umar said: "No, (appoint) Al-Aqra' bin Habis." They argued until they began to raise their voices, then the words were revealed: "O you who believe! Make not (a decision) in advance before Allah and His Messenger..." until the end of the Verse: "And if they had patience till you could come out to them, it would have been better for them
ہمیں الحسن بن محمد نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں حجاج نے ابن جریج سے حدیث کی، انہوں نے کہا: ابن ابی ملیکہ نے عبداللہ بن الزبیر سے خبر دی، انہوں نے بتایا کہ بنو تمیم کا ایک قافلہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا۔ ابو بکر نے کہا: القعقاع بن معبد کو امیر بناؤ۔ اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ الاقرع بن حابس کو بناؤ۔ تو وہ لڑنے لگے یہاں تک کہ ان کی آوازیں اونچی ہو گئیں۔ تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدى الله و رسوله۔ یہاں تک کہ و لو أنهم صبروا حتى تخرج إليهم لكان خيرا لهم۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Al-Bara':The Prophet (ﷺ) delivered the Khutba on the day of Nahr (`Id-ul-Adha) and said, "The first thing we should do on this day of ours is to pray and then return and slaughter (our sacrifices). So anyone who does so he acted according to our Sunna; and whoever slaughtered before the prayer then it was just meat that he offered to his family and would not be considered as a sacrifice in any way. My uncle Abu Burda bin Niyar got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I slaughtered the sacrifice before the prayer but I have a young she-goat which is better than an older sheep." The Prophet (ﷺ) said, "Slaughter it in lieu of the first and such a goat will not be considered as a …
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے زبید سے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن سب سے پہلے ہمیں نماز پڑھنی چاہیے پھر ( خطبہ کے بعد ) واپس آ کر قربانی کرنی چاہیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو یہ ایک ایسا گوشت ہو گا جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی سے تیار کر لیا ہے، یہ قربانی قطعاً نہیں۔ اس پر میرے ماموں ابوبردہ بن نیار نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو نماز کے پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا۔ البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دانت نکلی بکری سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ نبی …
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ أَهْلِ حِمْصَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ " كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ " . قَالَ أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ " . قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ فِي كِتَابِ اللَّهِ " . قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلاَ آلُو . فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم …
Some companions of Mu'adh ibn Jabal said:When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to send Mu'adh ibn Jabal to the Yemen, he asked: How will you judge when the occasion of deciding a case arises? He replied: I shall judge in accordance with Allah's Book. He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in Allah's Book? He replied: (I shall act) in accordance with the Sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ). He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in the Sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ) and in Allah's Book? He replied: I shall do my best to form an opinion and I shall spare no effort. The Messenger of Allah (ﷺ) then patted him on the breast and said: Praise …
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن ( کا گورنر ) بنا کرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم …
Narrated Abu Nadrah:"Abu Sa'eed Al-Khudri recited: And know that among you there is the Messenger of Allah. If he were to obey you in much of the matter, you would surely be in trouble (49:7). He said: "This is your Prophet (ﷺ) to whom the Revelation came, and the best of your leaders, if he had obeyed them in may of their matters, then he would have been in trouble. So how about you people today?
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت: «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ”جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے“ ( الحجرات: ۷ ) ، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا: یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے، چنانچہ ( آج ) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جا سکتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ …
PickthallO ye who believe! Lift not up your voices above the voice of the Prophet, nor shout when speaking to him as ye shout one to another, lest your works be rendered vain while ye perceive not.
Yusuf AliO ye who believe! Raise not your voices above the voice of the Prophet, nor speak aloud to him in talk, as ye may speak aloud to one another, lest your deeds become vain and ye perceive not.
The agreed readingYou who believe, do not raise your voices above the voice of the Prophet, and do not speak loudly to him as you speak loudly to one another, or your deeds may come to nothing without your realising it.
Urduاے ایمان والو، اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اونچی نہ کرو، اور نہ ہی اس سے اس طرح بلند آواز میں بات کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے بلند آواز میں بات کرتے ہو، ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي إذا تكلم، ولا تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض في مخاطبتكم اليومية، حذرًا من أن تحبط أعمالكم الصالحة وأنتم لا تشعرون بذلك.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَنْبَأَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم افْتَقَدَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَعْلَمُ لَكَ عِلْمَهُ. فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ جَالِسًا فِي بَيْتِهِ مُنَكِّسًا رَأْسَهُ فَقَالَ لَهُ مَا شَأْنُكَ. فَقَالَ شَرٌّ. كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ، وَهْوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ. فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ كَذَا وَكَذَا ـ فَقَالَ مُوسَى ـ فَرَجَعَ إِلَيْهِ الْمَرَّةَ الآخِرَةَ …
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) missed Thabit bin Qais for a period (So he inquired about him). A man said. "O Allah's Apostle! I will bring you his news." So he went to Thabit and found him sitting in his house and bowing his head. The man said to Thabit, " 'What is the matter with you?" Thabit replied that it was an evil affair, for he used to raise his voice above the voice of the Prophet (ﷺ) and so all his good deeds had been annulled, and he considered himself as one of the people of the Fire. Then the man returned to the Prophet (ﷺ) and told him that Thabit had said, so-and-so. (Musa bin Anas) said: The man returned to Thabit with great glad tidings. The Prophet (ﷺ) said to …
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عون نے خبر دی، کہا کہ مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی، اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے لیے ان کی خبر لاتا ہوں۔ پھر وہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے دیکھا کہ وہ گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں پوچھا کیا حال ہے؟ کہا کہ برا حال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کے مقابلہ میں بلند آواز سے بولا کرتا تھا اب سارے نیک عمل اکارت ہوئے اور اہل دوزخ میں قرار دے دیا گیا ہوں۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے جو کچھ کہا تھا اس کی اطلاع آپ کو دی۔ موسیٰ بن انس نے …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُؤَمِّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَعْمِلْهُ عَلَى قَوْمِهِ . فَقَالَ عُمَرُ لاَ تَسْتَعْمِلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَتَكَلَّمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِي . فَقَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : ( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا …
Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair:"Al-Aqra' bin Habis arrived to meet the Prophet (ﷺ)" - he said - "so Abu Bakr said: 'O Messenger of Allah! Appoint him over his people.' 'Umar said: 'Do not appoint him O Messenger of Allah!' They continued talking before the Prophet (ﷺ) until they raised their voices. Abu Bakr said to 'Umar: 'You only wanted to contradict me.' So ['Umar] said: 'I did not want to contradict you.'" He said: "So this Ayah was revealed: 'O you who believe! Do not raise your voices above the voice of the Prophet (49:2).'" He said: "After that, when 'Umar spoke before the Prophet (ﷺ), his speech could not be heard until he told him he could not understand him." He (one of the …
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں ان کی اپنی قوم پر عامل بنا دیجئیے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں عامل نہ بنائیے، ان دونوں حضرات نے آپ کی موجودگی میں آپس میں توتو میں میں کی، ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، ابوبکر نے عمر رضی الله عنہما سے کہا: آپ کو تو بس ہماری مخالفت ہی کرنی ہے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي» ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو“ ( الحجرات: ۲ ) ، اس واقعہ کے بعد عمر رضی الله عنہ جب نبی اکرم …
It is narrated on the authority of Anas b. Malik that when this verse:" O ye who believe I raise not your voices above the voice of the Prophet, nor shout loud unto him in discourse, as ye shout loud unto one another, lest your deeds should become null and void, while you perceive not" (xlix. 2-5), was revealed. Thabit b. Qais confined himself in his house and said: I am one of the denizens of Fire, and he deliberately avoided coming to the Apostle (ﷺ). The Apostle (ﷺ) asked Sa'd b, Mu'adh about him and said, Abu Amr, how is Thabit? Has he fallen sick? Sa'd said: He is my neighbour, but I do not know of his illness. Sa'd came to him (Thabit), and conveyed to him the message of the Messenger …
حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب یہ آیت اتری : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾’’ اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے اونچی مت کرو ۔ ‘ ‘ آیت کے آخر تک ۔ تو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنےگھر میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے : میں تو جہنمی ہوں ۔ انہوں نے ( خودکو ) نبی ﷺ ( کی خدمت میں حاضر ہونے ) سے بھی روک لیا ، رسول ا للہ ﷺنے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ’’ ابو عمرو! ثابت کو کیا ہوا ؟ کیا و ہ بیمار ہیں ؟ ‘ ‘ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ میرے پڑوسی ہیں اورمجھے ان کی کسی بیماری کا پتہ نہیں چلا ۔ حضرت انس نے کہا : اس کے بعد …
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَنْبَأَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم افْتَقَدَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ، فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَعْلَمُ لَكَ عِلْمَهُ. فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ جَالِسًا فِي بَيْتِهِ مُنَكِّسًا رَأْسَهُ، فَقَالَ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ شَرٌّ، كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ، وَهْوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ. فَأَتَى الرَّجُلُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ مُوسَى بْنُ أَنَسٍ فَرَجَعَ الْمَرَّةَ الآخِرَةَ بِبِشَارَةٍ عَظِيمَةٍ، فَقَالَ " اذْهَبْ …
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) noticed the absence of Thabit bin Qais. A man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I shall bring you his news." So he went to him and saw him sitting in his house drooping his head (sadly). He asked Thabit, "What's the matter?" Thabit replied, "An evil situation: A man used to raise his voice over the voice of the Prophet (ﷺ) and so all his good deeds have been annulled and he is from the people of Hell." The man went back and told the Prophet (ﷺ) that Thabit had said so-and-so. (The sub-narrator, Musa bin Anas said, "The man went to Thabit again with glad tidings)." The Prophet (ﷺ) said to him, "Go and say to Thabit: 'You are not from the people of Fire, …
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، انہیں موسیٰ بن انس نے خبر دی اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نہیں ملے تو ایک صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ کے لیے ان کی خبر لاتا ہوں۔ چنانچہ وہ ان کے یہاں آئے تو دیکھا کہ اپنے گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں، انہوں نے پوچھا کہ کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا کہ برا حال ہے۔ ان کی عادت تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اونچی آواز میں بولا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا اسی لیے میرا عمل غارت ہو گیا اور میں دوزخیوں میں ہو گیا ہوں۔ وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور …
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا ـ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ رَفَعَا أَصْوَاتَهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِ رَكْبُ بَنِي تَمِيمٍ، فَأَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ، وَأَشَارَ الآخَرُ بِرَجُلٍ آخَرَ ـ قَالَ نَافِعٌ لاَ أَحْفَظُ اسْمَهُ ـ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِي. قَالَ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ. فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فِي ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ} الآيَةَ. قَالَ ابْنُ …
Narrated Ibn Abi Mulaika:The two righteous persons were about to be ruined. They were Abu Bakr and `Umar who raised their voices in the presence of the Prophet (ﷺ) when a mission from Bani Tamim came to him. One of the two recommended Al-Aqra' bin Habis, the brother of Bani Mujashi (to be their governor) while the other recommended somebody else. (Nafi`, the sub-narrator said, I do not remember his name). Abu Bakr said to `Umar, "You wanted nothing but to oppose me!" `Umar said, "I did not intend to oppose you." Their voices grew loud in that argument, so Allah revealed: 'O you who believe! Raise not your voices above the voice of the Prophet.' (49.2) Ibn Az-Zubair said, "Since the …
ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ قریب تھا کہ وہ سب سے بہتر افراد تباہ ہو جائیں یعنی ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کر دی تھی۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب بنی تمیم کے سوار آئے تھے ( اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے درخواست کی کہ ہمارا کوئی امیر بنا دیں ) ان میں سے ایک ( عمر رضی اللہ عنہ ) نے مجاشع کے اقرع بن حابس کے انتخاب کے لیے کہا تھا اور دوسرے ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے ایک دوسرے کا نام پیش کیا تھا۔ نافع نے کہا کہ ان کا نام مجھے یاد نہیں۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کا ارادہ مجھ سے اختلاف کرنا ہی ہے۔ عمر رضی …
Abdullah bin Az-Zubair narrated that:A group from Banu Tamim came to the Prophet [SAW]. Abu Bakr said: "Appoint Al-Qa'qa' bin Ma'bad (as commander or governor)," and 'Umar said: "No, (appoint) Al-Aqra' bin Habis." They argued until they began to raise their voices, then the words were revealed: "O you who believe! Make not (a decision) in advance before Allah and His Messenger..." until the end of the Verse: "And if they had patience till you could come out to them, it would have been better for them
ہمیں الحسن بن محمد نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں حجاج نے ابن جریج سے حدیث کی، انہوں نے کہا: ابن ابی ملیکہ نے عبداللہ بن الزبیر سے خبر دی، انہوں نے بتایا کہ بنو تمیم کا ایک قافلہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا۔ ابو بکر نے کہا: القعقاع بن معبد کو امیر بناؤ۔ اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ الاقرع بن حابس کو بناؤ۔ تو وہ لڑنے لگے یہاں تک کہ ان کی آوازیں اونچی ہو گئیں۔ تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدى الله و رسوله۔ یہاں تک کہ و لو أنهم صبروا حتى تخرج إليهم لكان خيرا لهم۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ أَهْلِ حِمْصَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ " كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ " . قَالَ أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ " . قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ فِي كِتَابِ اللَّهِ " . قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلاَ آلُو . فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم …
Some companions of Mu'adh ibn Jabal said:When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to send Mu'adh ibn Jabal to the Yemen, he asked: How will you judge when the occasion of deciding a case arises? He replied: I shall judge in accordance with Allah's Book. He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in Allah's Book? He replied: (I shall act) in accordance with the Sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ). He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in the Sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ) and in Allah's Book? He replied: I shall do my best to form an opinion and I shall spare no effort. The Messenger of Allah (ﷺ) then patted him on the breast and said: Praise …
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن ( کا گورنر ) بنا کرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم …
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَةً لِعُمَرَ، كَانَتْ يُقَالُ لَهَا عَاصِيَةُ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمِيلَةَ .
Ibn 'Umar reported that 'Umar had a daughter who was called 'Asiya. Allah's Messenger (ﷺ) gave her the name of Jamila
حماد بن سلمہ نے عبیداللہ سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک صاحبزادی کو عاصیہ کہا جاتاتھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کانام جمیلہ رکھا دیا ۔
PickthallLo! they who subdue their voices in the presence of the messenger of Allah, those are they whose hearts Allah hath proven unto righteousness. Theirs will be forgiveness and immense reward.
Yusuf AliThose that lower their voices in the presence of Allah's Messenger,- their hearts has Allah tested for piety: for them is Forgiveness and a great Reward.
The agreed readingThose who lower their voices in the presence of God's messenger are the ones whose hearts God has tested for mindfulness of Him. Theirs is forgiveness and a great reward.
Urduجو لوگ اللہ کے رسول کی موجودگی میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں وہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے آزما کر پرکھ لیا ہے۔ ان کے لیے بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔
Arabicإن الذين يغضون أصواتهم عند رسول الله احترامًا وأدبًا هم أولئك الذين امتحن الله قلوبهم فوجدها صالحة للتقوى وخالصة له. لهم مغفرة لذنوبهم وأجر عظيم عند ربهم.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُؤَمِّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَعْمِلْهُ عَلَى قَوْمِهِ . فَقَالَ عُمَرُ لاَ تَسْتَعْمِلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَتَكَلَّمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِي . فَقَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : ( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا …
Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair:"Al-Aqra' bin Habis arrived to meet the Prophet (ﷺ)" - he said - "so Abu Bakr said: 'O Messenger of Allah! Appoint him over his people.' 'Umar said: 'Do not appoint him O Messenger of Allah!' They continued talking before the Prophet (ﷺ) until they raised their voices. Abu Bakr said to 'Umar: 'You only wanted to contradict me.' So ['Umar] said: 'I did not want to contradict you.'" He said: "So this Ayah was revealed: 'O you who believe! Do not raise your voices above the voice of the Prophet (49:2).'" He said: "After that, when 'Umar spoke before the Prophet (ﷺ), his speech could not be heard until he told him he could not understand him." He (one of the …
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں ان کی اپنی قوم پر عامل بنا دیجئیے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں عامل نہ بنائیے، ان دونوں حضرات نے آپ کی موجودگی میں آپس میں توتو میں میں کی، ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، ابوبکر نے عمر رضی الله عنہما سے کہا: آپ کو تو بس ہماری مخالفت ہی کرنی ہے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي» ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو“ ( الحجرات: ۲ ) ، اس واقعہ کے بعد عمر رضی الله عنہ جب نبی اکرم …
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَنْبَأَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم افْتَقَدَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَعْلَمُ لَكَ عِلْمَهُ. فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ جَالِسًا فِي بَيْتِهِ مُنَكِّسًا رَأْسَهُ فَقَالَ لَهُ مَا شَأْنُكَ. فَقَالَ شَرٌّ. كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ، وَهْوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ. فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ كَذَا وَكَذَا ـ فَقَالَ مُوسَى ـ فَرَجَعَ إِلَيْهِ الْمَرَّةَ الآخِرَةَ …
Narrated Anas bin Malik:The Prophet (ﷺ) missed Thabit bin Qais for a period (So he inquired about him). A man said. "O Allah's Apostle! I will bring you his news." So he went to Thabit and found him sitting in his house and bowing his head. The man said to Thabit, " 'What is the matter with you?" Thabit replied that it was an evil affair, for he used to raise his voice above the voice of the Prophet (ﷺ) and so all his good deeds had been annulled, and he considered himself as one of the people of the Fire. Then the man returned to the Prophet (ﷺ) and told him that Thabit had said, so-and-so. (Musa bin Anas) said: The man returned to Thabit with great glad tidings. The Prophet (ﷺ) said to …
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عون نے خبر دی، کہا کہ مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی، اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے لیے ان کی خبر لاتا ہوں۔ پھر وہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے دیکھا کہ وہ گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں پوچھا کیا حال ہے؟ کہا کہ برا حال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کے مقابلہ میں بلند آواز سے بولا کرتا تھا اب سارے نیک عمل اکارت ہوئے اور اہل دوزخ میں قرار دے دیا گیا ہوں۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے جو کچھ کہا تھا اس کی اطلاع آپ کو دی۔ موسیٰ بن انس نے …
It is narrated on the authority of Anas b. Malik that when this verse:" O ye who believe I raise not your voices above the voice of the Prophet, nor shout loud unto him in discourse, as ye shout loud unto one another, lest your deeds should become null and void, while you perceive not" (xlix. 2-5), was revealed. Thabit b. Qais confined himself in his house and said: I am one of the denizens of Fire, and he deliberately avoided coming to the Apostle (ﷺ). The Apostle (ﷺ) asked Sa'd b, Mu'adh about him and said, Abu Amr, how is Thabit? Has he fallen sick? Sa'd said: He is my neighbour, but I do not know of his illness. Sa'd came to him (Thabit), and conveyed to him the message of the Messenger …
حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب یہ آیت اتری : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾’’ اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے اونچی مت کرو ۔ ‘ ‘ آیت کے آخر تک ۔ تو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنےگھر میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے : میں تو جہنمی ہوں ۔ انہوں نے ( خودکو ) نبی ﷺ ( کی خدمت میں حاضر ہونے ) سے بھی روک لیا ، رسول ا للہ ﷺنے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ’’ ابو عمرو! ثابت کو کیا ہوا ؟ کیا و ہ بیمار ہیں ؟ ‘ ‘ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ میرے پڑوسی ہیں اورمجھے ان کی کسی بیماری کا پتہ نہیں چلا ۔ حضرت انس نے کہا : اس کے بعد …
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ أَهْلِ حِمْصَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ " كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ " . قَالَ أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ " . قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ فِي كِتَابِ اللَّهِ " . قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلاَ آلُو . فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم …
Some companions of Mu'adh ibn Jabal said:When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to send Mu'adh ibn Jabal to the Yemen, he asked: How will you judge when the occasion of deciding a case arises? He replied: I shall judge in accordance with Allah's Book. He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in Allah's Book? He replied: (I shall act) in accordance with the Sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ). He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in the Sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ) and in Allah's Book? He replied: I shall do my best to form an opinion and I shall spare no effort. The Messenger of Allah (ﷺ) then patted him on the breast and said: Praise …
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن ( کا گورنر ) بنا کرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم …
Narrated `Abdullah bin Az-Zubair:A group of Bani Tamim came to the Prophet (and requested him to appoint a governor for them). Abu Bakr said, "Appoint Al-Qaqa bin Mabad." `Umar said, "Appoint Al-Aqra' bin Habis." On that Abu Bakr said (to `Umar). "You did not want but to oppose me!" `Umar replied "I did not intend to oppose you!" So both of them argued till their voices grew loud. So the following Verse was revealed: 'O you who believe! Be not forward
ہم سے حسن بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حجاج نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، انہیں ابن ابی ملیکہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ قبیلہ بنی تمیم کے سواروں کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان کا امیر آپ قعقاع بن معبد کو بنا دیں اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا بلکہ اقرع بن حابس کو امیر بنائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مقصد تو صرف میری مخالفت ہی کرنا ہے۔ عمر نے کہا کہ میں نے آپ کے خلاف کرنے کی غرض سے یہ نہیں کہا ہے۔ اس پر دونوں میں بحث چلی گئی اور آواز بھی بلند ہو گئی۔ اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدى الله ورسوله» کہ ”اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کے …
Narrated Ibn Abi Mulaika:Once the two righteous men, i.e., Abu Bakr and `Umar were on the verge of destruction (and that was because): When the delegate of Bani Tamim came to the Prophet, one of them (either Abu Bakr or `Umar) recommended Al-Aqra' bin H`Abis at-Tamimi Al-Hanzali, the brother of Bani Majashi (to be appointed as their chief), while the other recommended somebody else. Abu Bakr said to `Umar, "You intended only to oppose me." `Umar said, "I did not intend to oppose you!" Then their voices grew louder in front of the Prophet (ﷺ) whereupon there was revealed: 'O you who believe! Do not raise your voices above the voice of the Prophet..a great reward.' (49.2-3) Ibn Az-Zubair …
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر نے دی، انہیں نافع بن عمر نے، ان سے ابن ابی ملکیہ نے بیان کیا کہ امت کے دو بہترین انسان قریب تھا کہ ہلاک ہو جاتے ( یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ) جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی تمیم کا وفد آیا تو ان میں سے ایک صاحب ( عمر رضی اللہ عنہ ) نے بنی مجاشع میں سے اقرع بن حابس حنظلی رضی اللہ عنہ کو ان کا سردار بنائے جانے کا مشورہ دیا ( تو انہوں نے یہ درخواست کی کہ کسی کو ہمارا سردار بنا دیجئیے ) اور دوسرے صاحب ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے دوسرے ( قعقاع بن سعید بن زرارہ ) کو بنائے جانے کا مشورہ دیا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کا مقصد صرف میری مخالفت کرنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ …
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا ـ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ رَفَعَا أَصْوَاتَهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِ رَكْبُ بَنِي تَمِيمٍ، فَأَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ، وَأَشَارَ الآخَرُ بِرَجُلٍ آخَرَ ـ قَالَ نَافِعٌ لاَ أَحْفَظُ اسْمَهُ ـ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِي. قَالَ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ. فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فِي ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ} الآيَةَ. قَالَ ابْنُ …
Narrated Ibn Abi Mulaika:The two righteous persons were about to be ruined. They were Abu Bakr and `Umar who raised their voices in the presence of the Prophet (ﷺ) when a mission from Bani Tamim came to him. One of the two recommended Al-Aqra' bin Habis, the brother of Bani Mujashi (to be their governor) while the other recommended somebody else. (Nafi`, the sub-narrator said, I do not remember his name). Abu Bakr said to `Umar, "You wanted nothing but to oppose me!" `Umar said, "I did not intend to oppose you." Their voices grew loud in that argument, so Allah revealed: 'O you who believe! Raise not your voices above the voice of the Prophet.' (49.2) Ibn Az-Zubair said, "Since the …
ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ قریب تھا کہ وہ سب سے بہتر افراد تباہ ہو جائیں یعنی ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کر دی تھی۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب بنی تمیم کے سوار آئے تھے ( اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے درخواست کی کہ ہمارا کوئی امیر بنا دیں ) ان میں سے ایک ( عمر رضی اللہ عنہ ) نے مجاشع کے اقرع بن حابس کے انتخاب کے لیے کہا تھا اور دوسرے ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے ایک دوسرے کا نام پیش کیا تھا۔ نافع نے کہا کہ ان کا نام مجھے یاد نہیں۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کا ارادہ مجھ سے اختلاف کرنا ہی ہے۔ عمر رضی …
Abdullah bin Az-Zubair narrated that:A group from Banu Tamim came to the Prophet [SAW]. Abu Bakr said: "Appoint Al-Qa'qa' bin Ma'bad (as commander or governor)," and 'Umar said: "No, (appoint) Al-Aqra' bin Habis." They argued until they began to raise their voices, then the words were revealed: "O you who believe! Make not (a decision) in advance before Allah and His Messenger..." until the end of the Verse: "And if they had patience till you could come out to them, it would have been better for them
ہمیں الحسن بن محمد نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں حجاج نے ابن جریج سے حدیث کی، انہوں نے کہا: ابن ابی ملیکہ نے عبداللہ بن الزبیر سے خبر دی، انہوں نے بتایا کہ بنو تمیم کا ایک قافلہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا۔ ابو بکر نے کہا: القعقاع بن معبد کو امیر بناؤ۔ اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ الاقرع بن حابس کو بناؤ۔ تو وہ لڑنے لگے یہاں تک کہ ان کی آوازیں اونچی ہو گئیں۔ تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدى الله و رسوله۔ یہاں تک کہ و لو أنهم صبروا حتى تخرج إليهم لكان خيرا لهم۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallLo! those who call thee from behind the private apartments, most of them have no sense.
Yusuf AliThose who shout out to thee from without the inner apartments - most of them lack understanding.
The agreed readingThose who call out to you from behind the private rooms - most of them do not use their reason.
Urduجو لوگ تمہیں ان کے گھروں کے حجروں کے پیچھے سے اونچی آواز میں پکارتے ہیں - ان میں سے اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے، ورنہ وہ اس بے ادبی کا مرتکب کبھی نہ ہوتے۔
Arabicإن الذين ينادونك أيها النبي بصوت مرتفع من وراء حجرات بيوتك بغير أدب ولا احترام - أكثرهم لا يعقلون ما يليق بمقامك عند الله، ولو عقلوا ذلك ما فعلوا هذا الفعل أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Nadrah:"Abu Sa'eed Al-Khudri recited: And know that among you there is the Messenger of Allah. If he were to obey you in much of the matter, you would surely be in trouble (49:7). He said: "This is your Prophet (ﷺ) to whom the Revelation came, and the best of your leaders, if he had obeyed them in may of their matters, then he would have been in trouble. So how about you people today?
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت: «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ”جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے“ ( الحجرات: ۷ ) ، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا: یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے، چنانچہ ( آج ) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جا سکتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ …
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man came to the Prophet (ﷺ), and said: My wife does not prevent the hand of a man who touches her. He said: Divorce her. He then said: I am afraid my inner self may covet her. He said: Then enjoy her
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میری عورت کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے سے جدا کر دو ، اس شخص نے کہا: مجھے ڈر ہے میرا دل اس میں لگا رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
PickthallAnd if they had had patience till thou camest forth unto them, it had been better for them. And Allah is Forgiving, Merciful.
Yusuf AliIf only they had patience until thou couldst come out to them, it would be best for them: but Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.
The agreed readingAnd had they been patient until you came out to them, it would have been better for them. And God is Forgiving, Merciful.
Urduاور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس نکل کر آتے، تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Arabicولو أن هؤلاء الذين نادوك صبروا وانتظروا بأدب حتى تخرج أنت بنفسك إليهم من بيتك، لكان ذلك خيرًا لهم في دنياهم وآخرتهم من استعجالهم. والله غفور لمن يتوب من ذنبه، رحيم بعباده المؤمنين جميعًا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Nadrah:"Abu Sa'eed Al-Khudri recited: And know that among you there is the Messenger of Allah. If he were to obey you in much of the matter, you would surely be in trouble (49:7). He said: "This is your Prophet (ﷺ) to whom the Revelation came, and the best of your leaders, if he had obeyed them in may of their matters, then he would have been in trouble. So how about you people today?
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت: «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ”جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے“ ( الحجرات: ۷ ) ، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا: یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے، چنانچہ ( آج ) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جا سکتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ …
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man came to the Prophet (ﷺ), and said: My wife does not prevent the hand of a man who touches her. He said: Divorce her. He then said: I am afraid my inner self may covet her. He said: Then enjoy her
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میری عورت کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے سے جدا کر دو ، اس شخص نے کہا: مجھے ڈر ہے میرا دل اس میں لگا رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
PickthallO ye who believe! If an evil-liver bring you tidings, verify it, lest ye smite some folk in ignorance and afterward repent of what ye did.
Yusuf AliO ye who believe! If a wicked person comes to you with any news, ascertain the truth, lest ye harm people unwittingly, and afterwards become full of repentance for what ye have done.
The agreed readingYou who believe, if a man who defies God brings you news, check it carefully, or you may strike a people in ignorance and then be sorry for what you did.
Urduاے ایمان والو، اگر کوئی نافرمان شخص تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو انجانے میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر جو کچھ تم نے کیا اس پر شرمندہ ہونا پڑے۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق خارج عن طاعة الله بخبر من الأخبار فتثبتوا منه وتحققوا، حذرًا من أن تصيبوا قومًا بجهالة منكم فتصبحوا على ما فعلتم بحقهم نادمين أشد الندم.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 2 من كتب أهل السنة، 5 من كتب الشيعة7 reports cited here — 2 Sunnī, 5 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 5 شیعہ کتب سے
7. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father and Ali ibn Muhammad al-Qasani from al-Qasim ibn Muhammad from al-Minqari from ‘Abd al-Razzaq from Mu’ammar from al-Zuhri who has said the following: “Once, Ali ibn al-Husayn (a.s.) was asked about racist feelings. He said, ‘The racist feeling that is a sin is the one that makes a person call the evil doers of his own people better than the virtuous individuals of the other people. A man’s loving his own people is not racism but it is a sin to help one’s own people to commit injustice.”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپا اور علی بن محمد القاسانی سے روایت کی، القاسم بن محمد سے، منقری سے، عبد الرزاق سے، معمر سے، الزہری سے کہتے ہیں: علی بن الحسین سے عصبیت کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے کہا: جس عصبیت پر آدمی گناہ گار ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی اپنی قوم کے برے لوگوں کو دوسری قوم کے اچھے لوگوں سے بہتر سمجھے۔ لیکن یہ عصبیت نہیں ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت کرے۔ لیکن عصبیت یہ ہے کہ آدمی اپنی قوم کو ظلم کرنے میں مدد دے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Nadrah:"Abu Sa'eed Al-Khudri recited: And know that among you there is the Messenger of Allah. If he were to obey you in much of the matter, you would surely be in trouble (49:7). He said: "This is your Prophet (ﷺ) to whom the Revelation came, and the best of your leaders, if he had obeyed them in may of their matters, then he would have been in trouble. So how about you people today?
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت: «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ”جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے“ ( الحجرات: ۷ ) ، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا: یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے، چنانچہ ( آج ) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جا سکتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ …
72. Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad Bin Isa, from Al-Hassan Bin Ali Bin Fazzaal, from Ali Bin Uqba, form Umar Bin Abaan, from Abdul Hameed Al-Wabishy, who has narrated the following: Abu Ja’far (asws) said, when I said from him (asws), ‘We have a neighbour who violates all the Prohibitions to the extent that he leaves the Prayer as well among other matters’. He (asws) said: ‘Glory be to Allah (azwj)! And that is a great matter. However, shall I (asws) inform you of the one who is more evil than him?’ I said, ‘Yes’. He (asws) said: ‘The one who is hostile to us (asws) (Nasibi) is more evil than him. But rather, there is none from the servant in whose presence the People (asws) of …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، الحسن بن علی بن فضال سے، علی بن عقبہ سے، عمر بن ابان سے، عبدالحمید الواbishی سے، ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کی، کہا: میں نے کہا: ہمارے پاس ایک پڑوسی ہے جو تمام حرام کاموں میں ملوث ہے یہاں تک کہ نماز بھی نہیں پڑھتا۔ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ بہت بڑی بات ہے۔ کیا میں تمہیں ایسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس سے زیادہ برا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ہمارے دشمن (ناصبی) اس سے زیادہ برے ہیں۔ لیکن یقیناً ہر بندہ جس کے سامنے اہل بیت کا ذکر ہو اور وہ ہمارے یادگار سے رقیق ہو جائے، فرشتے اس کی پیٹھ کو مسح کریں اور اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں - سوائے اس کے کہ اگر وہ کوئی ایسا گناہ کرے جو ایمان سے نکال دے۔ شفاعت قبول ہے لیکن ناصبی کے لیے قبول …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
13. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from al-Qasim ibn Muhammad from al-Minqari from Hafs ibn Ghiyath from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Jesus, son of Mary, peace be upon him, has said, ‘You work for the worldly things while your sustenance is there without work. Y ou do not work for the next life where you will not receive any sustenance without work. Woe upon you. You are bad scholars. You receive payments but destroy the work. Perhaps the worshippers’ deeds are accepted and perhaps they will be taken out of the narrow space of this world to the darkness of the grave. How can one be of the scholars who is on his way to the next life while he is holding to …
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی ہے القاسم بن محمد سے منقری سے حفص بن غیاث سے ابو عبدالله علیہ السلام سے کہا عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوۃ و السلام نے کہا تم دنیا کے لیے کام کرتے ہو اور تم اس میں بغیر عمل کے رزق پاتے ہو اور آخرت کے لیے کام نہیں کرتے حالانکہ تم اس میں عمل کے بغیر رزق نہیں پاتے۔ تم پر افسوس اے برے علماء! تم اجر لیتے ہو اور عمل برباد کرتے ہو۔ شاید ہے کہ کام والا اپنا عمل قبول کرے اور شاید ہے کہ وہ دنیا کی تنگی سے قبر کی تاریکی میں نکالے جائیں۔ کیسے ہو سکتا ہے علم والوں میں سے وہ جو اپنی آخرت کی طرف سفر میں ہو اور وہ اپنی دنیا کی طرف متوجہ ہو؟ اور جو چیز اسے نقصان دے وہ اس کے نزدیک زیادہ محبوب ہے اس چیز سے جو اسے فائدہ دے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حدثنا أبي - رحمه الله - قال: حدثنا سعد بن عبد الله، قال: حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، عن محمد بن إسماعيل بن بزيع، عن منصور بن يونس، عن جليس لأبي حمزة، عن أبي حمزة قال: قلت لأبي جعفر عليه السلام: قول الله تعالى " كل شئ هالك إلا وجهه " قال: فيهلك كل شئ ويبقى الوجه، إن الله عز وجل أعظم من أن يوصف بالوجه، ولكن معناه كل شئ هالك إلا دينه والوجه الذي يؤتي منه.
1. We were told by my father, may Allah grant him mercy, that he said: We were told by Sa’d bin Abdullah, that he said: We were told by Ahmad bin Muhammed bin ‘Isa, from Muhammed bin Isma’il bin Bazee’, from Mansur bin Yunus, from an attendant at Abu Hamza, from Abu Hamza, that he said: I said to Abu Ja’far, peace be upon him: The saying of Allah, Exalted is He: «Everything is to perish, except for His Face» (28:88) He said: Everything is to perish and His Face will remain. Indeed, Allah, Exalted and Glorious is He, is Greater than being characterized with a face, however, its meaning is: Everything is to perish, except for His religion and the face from which He is approached.
حدثنا أبي رحمه الله قال: حدثنا سعد بن عبد الله قال: حدثنا احمد بن محمد بن عيسی عن محمد بن إسماعيل بن بزيع عن منصور بن يونس عن جليس لأبي حمزة عن أبي حمزة قال: میں نے أبو جعفر علیہ السلام سے کہا: الله تعالیٰ کا قول: كل شيء هالك إلا وجهه۔ فرمایا: ہر چیز ہلاک ہو جاتی ہے اور چہرہ باقی رہتا ہے، اللہ عز وجل اتنا عظیم ہے کہ چہرے سے بیان کیا جائے، لیکن معناہ یہ ہے کہ ہر چیز ہلاک ہے سوائے اس کے دين اور اس وجہ کے جس سے وہ حاصل ہوتی ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The (Last) Hour shall not came till the sun rises from the place of its setting And on the day when it rises from the place of its setting even if all the people together affirmed their faith, it would not be of any avail to one who did not believe previously and derived no good out of his belief
علاء بن عبد الرحمن نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوتا ، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی ۔ جب وہ مغرب سے طلوع ہوجائے گا تو سب کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے ، اس دن ’’کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان ( کی حالت ) میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی ۔ ‘ ‘ ( عمل سے تصدیق نہ کی تھی ۔)
4-16 In another tradition it is narrated that (The author of the book narrated) my father - may God be pleased with him - narrated that Sa’d ibn Abdullah quoted on the authority of Ahmad ibn Muhammad ibn Isa, on the authority of Ali ibn al-Hakam, on the authority of Haydar ibn Ayyoub, “We were in a place known as Qaba in Medina where Muhammad ibn Zayd ibn Ali lived. Muhammad came later than usual. We asked him, ‘May we be your ransom! What kept you from coming on time?’ He said, ‘Abu Ibrahim (s) invited seventeen men from the descendants of Ali (s) and (the Blessed Lady) Fatima (s). He had us bear witness that his son Ali is his Testamentary Trustee and deputy in his lifetime and after his …
ایک اور نص: ہمیں میرے والد نے خبر دی کہ انہوں نے کہا: ہمیں سعد بن عبدالله نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں احمد بن محمد بن عیسیٰ نے خبر دی علی بن الحکم سے، انہوں نے حیدر بن ایوب سے کہا: ہم مدینے میں ایک جگہ میں تھے جسے قبا کہا جاتا تھا، جہاں محمد بن زید بن علی تھے۔ وہ اپنے معمولی وقت کے بعد آئے۔ ہم نے ان سے کہا: اللہ آپ کو ہمارے لیے قربان کرے۔ کیا چیز آپ کو روک کر رکھا؟ انہوں نے کہا: ابو ابراہیم علیہ السلام نے آج علی اور فاطمہ علیہما السلام کی نسل سے سترہ لوگوں کو بلایا۔ اور ان سے شہادت لی کہ علی ان کے بیٹے وصی اور وکیل ہیں ان کی زندگی میں اور ان کے بعد موت کے بعد۔ اور یہ کہ اس کی ہدایت ان کے خلاف اور ان کے حق میں نافذ ہے۔ پھر محمد بن زید نے کہا: خدا کی قسم اے حیدر! آج انہوں نے علی کو …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd know that the messenger of Allah is among you. If he were to obey you in much of the government, ye would surely be in trouble; but Allah hath endeared the faith to you and hath beautified it in your hearts, and hath made disbelief and lewdness and rebellion hateful unto you. Such are they who are the rightly guided.
Yusuf AliAnd know that among you is Allah's Messenger: were he, in many matters, to follow your (wishes), ye would certainly fall into misfortune: But Allah has endeared the Faith to you, and has made it beautiful in your hearts, and He has made hateful to you Unbelief, wickedness, and rebellion: such indeed are those who walk in righteousness;-
The agreed readingAnd know that God's messenger is among you. If he obeyed you in much of the matter, you would be in hardship; but God has made faith dear to you and made it fine in your hearts, and made refusal and defiance and disobedience hateful to you. Those are the rightly guided -
Urduاور جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول موجود ہے۔ اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیتا تو تم مشکل میں پڑ جاتے؛ لیکن اللہ نے ایمان کو تمہارے دلوں میں محبوب اور خوبصورت بنا دیا، اور کفر، نافرمانی اور گناہ کو تمہارے نزدیک ناپسندیدہ بنا دیا۔ یہی لوگ سیدھی راہ پانے والے ہیں -
Arabicواعلموا أن فيكم رسول الله يعيش بينكم، فلو كان يطيعكم في كثير من الأمر الذي تريدونه لوقعتم في العنت والمشقة. ولكن الله حبّب إليكم الإيمان وزيّنه في قلوبكم، وكرّه إليكم الكفر والفسوق والعصيان. أولئك هم الراشدون المهتدون -
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Fayḍ al-Kāshānī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Ṭūsī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, al-Fayḍ al-Kāshānī, Ibn ʿĀshūr, Ṭabāṭabāʾī and Ṭanṭāwī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Fayḍ al-Kāshānī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Abu Nadrah:"Abu Sa'eed Al-Khudri recited: And know that among you there is the Messenger of Allah. If he were to obey you in much of the matter, you would surely be in trouble (49:7). He said: "This is your Prophet (ﷺ) to whom the Revelation came, and the best of your leaders, if he had obeyed them in may of their matters, then he would have been in trouble. So how about you people today?
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت: «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ”جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے“ ( الحجرات: ۷ ) ، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا: یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے، چنانچہ ( آج ) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جا سکتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ . فَأَبَى عَلَيْهِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ " . فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ …
It was narrated from Urwah bin Zubair that 'Abdullah bin Zubair told him that:A man from the Ansar had a dispute with Zubair in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning a stream in the Harrah which they used to irrigate the date-palm trees. The Ansari said: "Let the water flow" but Zubair refused. So they referred that dispute to the Messenger of Allah (ﷺ) who said: "Irrigate (your land), O Zubair., and then let the water flow to your neighbor." The Ansari became angry and said "O Messenger of Allah, is it because he is your cousin?" The face of the Messenger of Allah (ﷺ) changed color (because of anger) and he said: "O Zubair, irrigate (your land) then block the water until it …
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقام حرہ کی اس نالی کے بارے میں جھگڑا کیا جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی چھوڑ دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے، زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، ان دونوں نے اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا کھیت سینچ لو! پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ، انصاری غضبناک ہو کر بولا: اللہ کے رسول! یہ اس وجہ سے کہ وہ آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا باغ سینچ لو، پھر پانی …
Pickthall(It is) a bounty and a grace from Allah; and Allah is Knower, Wise.
Yusuf AliA Grace and Favour from Allah; and Allah is full of Knowledge and Wisdom.
The agreed readinga bounty and a favour from God to them; and God is Knowing, Wise in all He does.
Urduیہ سب کچھ، یعنی ایمان کی محبت اور کفر سے نفرت، اللہ کی طرف سے ایک خاص فضل اور نعمت ہے ان کے لیے؛ اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا، اپنے ہر کام میں حکمت والا ہے۔
Arabicفذلك كله فضل من الله عليهم ونعمة كبيرة أنعم بها عليهم لا بشيء منهم. والله عليم بأحوال عباده، حكيم فيما يقدره ويقضيه من الأمور كلها.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Nadrah:"Abu Sa'eed Al-Khudri recited: And know that among you there is the Messenger of Allah. If he were to obey you in much of the matter, you would surely be in trouble (49:7). He said: "This is your Prophet (ﷺ) to whom the Revelation came, and the best of your leaders, if he had obeyed them in may of their matters, then he would have been in trouble. So how about you people today?
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت: «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ”جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے“ ( الحجرات: ۷ ) ، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا: یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے، چنانچہ ( آج ) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جا سکتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ …
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي أَنَّ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ. فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ حِمَارًا، فَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ مَعَهُ، وَهْىَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ، فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِلَيْكَ عَنِّي، وَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِي نَتْنُ حِمَارِكَ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْهُمْ وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ. فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَشَتَمَا، فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ، فَكَانَ بَيْنَهُمَا ضَرْبٌ …
Narrated Anas:It was said to the Prophet (ﷺ) "Would that you see `Abdullah bin Ubai." So, the Prophet (ﷺ) went to him, riding a donkey, and the Muslims accompanied him, walking on salty barren land. When the Prophet (ﷺ) reached `Abdullah bin Ubai, the latter said, "Keep away from me! By Allah, the bad smell of your donkey has harmed me." On that an Ansari man said (to `Abdullah), "By Allah! The smell of the donkey of Allah's Messenger (ﷺ) is better than your smell." On that a man from `Abdullah's tribe got angry for `Abdullah's sake, and the two men abused each other which caused the friends of the two men to get angry, and the two groups started fighting with sticks, shoes and hands. We …
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، اگر آپ عبداللہ بن ابی ( منافق ) کے یہاں تشریف لے چلتے تو بہتر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے یہاں ایک گدھے پر سوار ہو کر تشریف لے گئے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم پیدل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ جدھر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گزر رہے تھے وہ شور زمین تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے یہاں پہنچے تو وہ کہنے لگا ذرا آپ دور ہی رہئیے آپ کے گدھے کی بو نے میرا دماغ پریشان کر دیا ہے۔ اس پر ایک انصاری صحابی بولے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے۔ عبداللہ ( منافق ) کی طرف سے اس …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ . فَأَبَى عَلَيْهِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ " . فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ …
It was narrated from Urwah bin Zubair that 'Abdullah bin Zubair told him that:A man from the Ansar had a dispute with Zubair in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning a stream in the Harrah which they used to irrigate the date-palm trees. The Ansari said: "Let the water flow" but Zubair refused. So they referred that dispute to the Messenger of Allah (ﷺ) who said: "Irrigate (your land), O Zubair., and then let the water flow to your neighbor." The Ansari became angry and said "O Messenger of Allah, is it because he is your cousin?" The face of the Messenger of Allah (ﷺ) changed color (because of anger) and he said: "O Zubair, irrigate (your land) then block the water until it …
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقام حرہ کی اس نالی کے بارے میں جھگڑا کیا جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی چھوڑ دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے، زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، ان دونوں نے اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا کھیت سینچ لو! پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ، انصاری غضبناک ہو کر بولا: اللہ کے رسول! یہ اس وجہ سے کہ وہ آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا باغ سینچ لو، پھر پانی …
PickthallAnd if two parties of believers fall to fighting, then make peace between them. And if one party of them doeth wrong to the other, fight ye that which doeth wrong till it return unto the ordinance of Allah; then, if it return, make peace between them justly, and act equitably. Lo! Allah loveth the equitable.
Yusuf AliIf two parties among the Believers fall into a quarrel, make ye peace between them: but if one of them transgresses beyond bounds against the other, then fight ye (all) against the one that transgresses until it complies with the command of Allah; but if it complies, then make peace between them with justice, and be fair: for Allah loves those who are fair (and just).
The agreed readingAnd if two parties of the believers fall to fighting, make peace between them. Then if one of them goes on wronging the other, fight the one that does wrong until it comes back to God's command. Then if it comes back, make peace between them with justice, and be fair. God loves those who are fair.
Urduاور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرتا رہے تو اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو، اور انصاف کرو۔ اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
Arabicوإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا فيما بينهم فأصلحوا بينهما بكل طريق ممكن. فإن بغت إحداهما على الأخرى ولم تنصع للصلح فقاتلوا التي تبغي وتظلم حتى تفيء وترجع إلى أمر الله وحكمه. فإن فاءت ورجعت فأصلحوا بينهما بالعدل التام، وأقسطوا في كل حكمكم. إن الله يحب المقسطين العادلين.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 5 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة8 reports cited here — 5 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ قَالَ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ وَرَكِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِلَيْكَ عَنِّي فَوَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِي نَتْنُ حِمَارِكَ . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ - قَالَ - فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ - قَالَ - فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ - قَالَ - فَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ …
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik that it was said to the Prophet (ﷺ):Would that you approached Abdullah b. Ubayy (to persuade him to accept Islam). The Prophet (ﷺ) (accordingly) went to him, riding a donkey, and (a party of) Muslims also went (with him). On the way they had to walk over a piece of land affected with salinity. When the Prophet (ﷺ) approached him, he said: Do not come near me. By Allah, the obnoxious smell of your donkey has offended me. (As a rejoinder to this remark), a man from the Ansar said: By God, the smell of the donkey of the Messenger of Allah (ﷺ) is better than your smell. (At this), a man from the tribe of 'Abdullah got furious. Then people …
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی : ( کیا ہی اچھا ہو ) اگر آپ ( اسلام کی دعوت دینے کے لیے ) عبداللہ بن اُبی کے پاس بھی تشریف لے جائیں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سواری فرما کر اس کی طرف گئے اور مسلمان بھی گئے ، وہ شوریلی زمین تھی ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا : مجھ سے دور رہیں ، اللہ کی قسم! آپ کے گدھے کی بو سے مجھے اذیت ہو رہی ہے ۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھا تم سے زیادہ خوشبودار ہے ۔ اس پر عبداللہ بن اُبی کی قوم میں سے ایک شخص اس کی حمایت میں ، غصے میں آ گیا ۔ کہا : دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھی غصے میں آ گئے ۔ کہا : تو ان میں ہاتھوں ، چھیڑیوں اور …
Narrated Ibn 'Umar:That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Muslim is the brother of the Muslim, he doesn't oppress him and doesn't put him into ruin, and whoever is concerned for the needs of his brother, Allah is concerned for his needs, and whoever relieves a Muslim of a burden, Allah will relieve him of a burden from the burdens of the Day of Judgement and whoever covers (the faults of) a Muslim, Allah will cover (his faults) on the Day of Judgement
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۱؎، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As that:The Prophet [SAW] said: "Those who are just and fair will be with Allah, Most High, on thrones of light, at the right hand of the Most Merciful, those who are just in their rulings and in their dealings with their families and those of whom they are in charge." Muhammad (one of the narrators) said in his Hadith: "And both of His hands are right hands
ہمیں قتیبہ بن سعید نے خبر دی، کہا: سفیان نے ہمیں عمرو سے حدیث کی، اور ہمیں محمد بن آدم بن سلیمان نے خبر دی، ابن مبارک سے، سفیان بن عیینہ سے، عمرو بن دینار سے، عمرو بن اوس سے، عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: بیشک منصفانہ فیصلے کرنے والے اللہ تعالی کے ہاں نور کے منبروں پر رحمان کے داہنے جانب، جو اپنے فیصلوں اور اپنے اہل و عیال اور جو کوئی ان کے تحت ہو ان میں عدل کرتے ہوں۔ محمد نے اپنی حدیث میں کہا: اور اس کے دونوں ہاتھ داہنے ہاتھ ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي أَنَّ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ. فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ حِمَارًا، فَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ مَعَهُ، وَهْىَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ، فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِلَيْكَ عَنِّي، وَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِي نَتْنُ حِمَارِكَ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْهُمْ وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ. فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَشَتَمَا، فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ، فَكَانَ بَيْنَهُمَا ضَرْبٌ …
Narrated Anas:It was said to the Prophet (ﷺ) "Would that you see `Abdullah bin Ubai." So, the Prophet (ﷺ) went to him, riding a donkey, and the Muslims accompanied him, walking on salty barren land. When the Prophet (ﷺ) reached `Abdullah bin Ubai, the latter said, "Keep away from me! By Allah, the bad smell of your donkey has harmed me." On that an Ansari man said (to `Abdullah), "By Allah! The smell of the donkey of Allah's Messenger (ﷺ) is better than your smell." On that a man from `Abdullah's tribe got angry for `Abdullah's sake, and the two men abused each other which caused the friends of the two men to get angry, and the two groups started fighting with sticks, shoes and hands. We …
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، اگر آپ عبداللہ بن ابی ( منافق ) کے یہاں تشریف لے چلتے تو بہتر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے یہاں ایک گدھے پر سوار ہو کر تشریف لے گئے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم پیدل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ جدھر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گزر رہے تھے وہ شور زمین تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے یہاں پہنچے تو وہ کہنے لگا ذرا آپ دور ہی رہئیے آپ کے گدھے کی بو نے میرا دماغ پریشان کر دیا ہے۔ اس پر ایک انصاری صحابی بولے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے۔ عبداللہ ( منافق ) کی طرف سے اس …
Disobedience (nushuz) can occur from both the man and the woman. As for the man's disobedience, it is as Allah (swt), the Mighty and Majestic, says in His Book: "And if a woman fears ill-treatment or aversion from her husband, there is no blame upon them if they reconcile between themselves, and reconciliation is better" (Surah An-Nisa 4:128) This refers to a situation where a woman is with her husband, but he is displeased with her and intends to divorce her. She then says to him, "Keep me and do not divorce me, and I will relinquish what is due to me and allow you my day and night." This arrangement becomes acceptable to him. This was narrated by Al-Mufaddal ibn Salih from Zayd Al-Shahham …
نشوز شوہر اور بیوی دونوں سے ہو سکتی ہے۔ اما شوہر کی نشوز یہ ہے جو اللہ عز و جل نے اپنی کتاب میں فرمایا: 'اور اگر عورت اپنے شوہر سے برے سلوک یا اعراض کا ڈر رکھے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے درمیان صلح کریں اور صلح بہتر ہے'۔ اور یہ یہ ہے کہ عورت شوہر کے پاس ہو اور وہ اس سے خوش نہ ہو اور اس کو طلاق دینا چاہے تو وہ اس سے کہے: مجھے رکھو اور مجھے طلاق نہ دو اور میں تمہارے لیے جو مجھ پر ہے اسے چھوڑ دیتی ہوں اور میں تمہارے لیے اپنے دن اور رات کو حلال کر دیتی ہوں، تو یہ اس کے لیے پسندیدہ ہو گیا۔ اس کو المفضل بن صالح نے زید الشحام سے روایت کیا ہے ابو عبداللہ علیہ السلام سے۔ اما جب عورت ایسی نشوز کرے جیسی شوہر کی نشوز ہو تو یہ خلع ہے۔ اما عورت سے نشوز یہ ہے کہ وہ شوہر کی بستر میں اطاعت نہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Amr bin Aws narrated from Abdur-Rahman bin Abi Bakr:"The Prophet ordered Abdur-RAhman bin Abi Bakr to (accompany) Aishah to perform Umrah from At-Tan'im
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی الله عنہا کو تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
2. A number of our people has narrated from Ahmad ibn Muhammad from al-Husayn ibn Sa‘id from al-Qasim ibn Muhammad from Ali ibn abu Hamzah from abu Basir from abu ‘Abdallah (a.s.) who has said the following. “Allah, the Most Holy, the Most High, has two kinds of knowledge. One kind is His only and no creature knows about it. The other kind is that which He has thrown unto His angels and His Messenger. Whatever is thrown to the angels and the Messengers have reached us.”
ہمارے کچھ اصحاب نے احمد بن محمد سے روایت کی، وہ حسین بن سعید سے، وہ قاسم بن محمد سے، وہ علی بن ابی حمزہ سے، وہ ابو بصیر سے، اور ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل کے دو علم ہیں۔ ایک علم تو وہ ہے جو اس کے پاس ہے اور اس نے اپنی کسی مخلوق کو اس کا علم نہیں دیا۔ اور ایک علم وہ ہے جسے اس نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے۔ سو جو علم اس نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے، وہ ہم تک پہنچ گیا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
13. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from al-Qasim ibn Muhammad from al-Minqari from Hafs ibn Ghiyath from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Jesus, son of Mary, peace be upon him, has said, ‘You work for the worldly things while your sustenance is there without work. Y ou do not work for the next life where you will not receive any sustenance without work. Woe upon you. You are bad scholars. You receive payments but destroy the work. Perhaps the worshippers’ deeds are accepted and perhaps they will be taken out of the narrow space of this world to the darkness of the grave. How can one be of the scholars who is on his way to the next life while he is holding to …
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی ہے القاسم بن محمد سے منقری سے حفص بن غیاث سے ابو عبدالله علیہ السلام سے کہا عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوۃ و السلام نے کہا تم دنیا کے لیے کام کرتے ہو اور تم اس میں بغیر عمل کے رزق پاتے ہو اور آخرت کے لیے کام نہیں کرتے حالانکہ تم اس میں عمل کے بغیر رزق نہیں پاتے۔ تم پر افسوس اے برے علماء! تم اجر لیتے ہو اور عمل برباد کرتے ہو۔ شاید ہے کہ کام والا اپنا عمل قبول کرے اور شاید ہے کہ وہ دنیا کی تنگی سے قبر کی تاریکی میں نکالے جائیں۔ کیسے ہو سکتا ہے علم والوں میں سے وہ جو اپنی آخرت کی طرف سفر میں ہو اور وہ اپنی دنیا کی طرف متوجہ ہو؟ اور جو چیز اسے نقصان دے وہ اس کے نزدیک زیادہ محبوب ہے اس چیز سے جو اسے فائدہ دے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThe believers are naught else than brothers. Therefore make peace between your brethren and observe your duty to Allah that haply ye may obtain mercy.
Yusuf AliThe Believers are but a single Brotherhood: So make peace and reconciliation between your two (contending) brothers; and fear Allah, that ye may receive Mercy.
The agreed readingThe believers are only brothers, so make peace between your two brothers, and be mindful of God, so that you may be shown mercy.
Urduمومن تو آپس میں بھائی بھائی ہی ہیں، سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
Arabicإنما المؤمنون إخوة في الدين مهما اختلفوا، فأصلحوا بين أخويكم المتخاصمين بكل حكمة، واتقوا الله في كل ما تفعلونه، لعلكم ترحمون من ربكم يوم القيامة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Narrated Ibn 'Umar:That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Muslim is the brother of the Muslim, he doesn't oppress him and doesn't put him into ruin, and whoever is concerned for the needs of his brother, Allah is concerned for his needs, and whoever relieves a Muslim of a burden, Allah will relieve him of a burden from the burdens of the Day of Judgement and whoever covers (the faults of) a Muslim, Allah will cover (his faults) on the Day of Judgement
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۱؎، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2442) Sahih Muslim (2580)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2442) Sahih Muslim (2580)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2442) Sahih Muslim (2580)
‘Abd Allah b. Umar reported the prophet (May peace be upon him) as saying :A Muslim is a Muslim’s brother: he does not wrong him or abandon him. If anyone cares for his brother’s need, Allah will care for his need ; if anyone removes a Muslim’s anxiety, Allah will remove from him, on account of it, one of the anxieties of the Day of resurrection ; and if anyone conceals a Muslim’s fault, Allah will conceal his fault on the Day of resurrection
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ ( خود ) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے ( کسی ظالم ) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "A Muslim is a brother of another Muslim, so he should not oppress him, nor should he hand him over to an oppressor. Whoever fulfilled the needs of his brother, Allah will fulfill his needs; whoever brought his (Muslim) brother out of a discomfort, Allah will bring him out of the discomforts of the Day of Resurrection, and whoever screened a Muslim, Allah will screen him on the Day of Resurrection
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سالم نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Don't nurse grudge and don't bid him out for raising the price and don't nurse aversion or enmity and don't enter into a transaction when the others have entered into that transaction and be as fellow-brothers and servants of Allah. A Muslim is the brother of a Muslim. He neither oppresses him nor humiliates him nor looks down upon him. The piety is here, (and while saying so) he pointed towards his chest thrice. It is a serious evil for a Muslim that he should look down upon his brother Muslim. All things of a Muslim are inviolable for his brother in faith: his blood, his wealth and his honour
داؤد بن قیس نے ہمیں عامر بن کریز کے آزاد کردہ غلام ابوسعید سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے کے لیے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو ، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ مسلمان ( دوسرے ) مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے ، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے ۔ تقویٰ یہاں ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا ، ( پھر فرمایا ) : " کسی آدمی کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے ، ہر مسلمان پر ( …
(Prophet (sw) continued); O' Ali (as), it is not appropriate for an intelligent person to travel except for three reasons: to seek provision for his livelihood, to gather provisions for the Hereafter, or to enjoy a permissible pleasure. O' Ali (as), there are three noble traits in both this world and the Hereafter: to forgive those who wrong you, to maintain ties with those who cut you off, and to show patience with those who act ignorantly towards you. O' Ali (as), hasten to accomplish four things before four: your youth before your old age, your health before your illness, your wealth before your poverty, and your life before your death. O' Ali (as), Allah (swt), the Almighty, dislikes …
یا علی! عاقل شخص کے لیے سفر کرنا درست نہیں ہے مگر تین چیزوں کے لیے: معاش کی اصلاح کے لیے، یا آخرت کے لیے توشہ جمع کرنے کے لیے، یا حلال لذت کے لیے۔ یا علی! تین چیزیں دنیا اور آخرت میں اخلاق کے شرف میں سے ہیں: یہ کہ تم اس سے درگزر کرو جو تمہیں ظلم کرے، اور اس سے تعلق رکھو جو تمہیں الگ کرے، اور اس سے حلم رکھو جو تمہارے ساتھ جہالت کا رویہ اختیار کرے۔ یا علی! چار چیزوں میں جلدی کرو چار کے پہلے: اپنی جوانی بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت بیماری سے پہلے، اپنی دولت غربت سے پہلے، اور اپنی زندگی موت سے پہلے۔ یا علی! اللہ عزّ وجل نے اپنی امت کے لیے ناپسند فرمایا ہے: نماز میں بے چینی، صدقہ میں احسان جتانا، جنابت میں مسجد میں آنا، قبروں میں ہنسنا، گھروں میں جھانکنا، اور عورتوں کی شرم گاہ کی طرف دیکھنا کیونکہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Nadrah:"Abu Sa'eed Al-Khudri recited: And know that among you there is the Messenger of Allah. If he were to obey you in much of the matter, you would surely be in trouble (49:7). He said: "This is your Prophet (ﷺ) to whom the Revelation came, and the best of your leaders, if he had obeyed them in may of their matters, then he would have been in trouble. So how about you people today?
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت: «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ”جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے“ ( الحجرات: ۷ ) ، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا: یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے، چنانچہ ( آج ) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جا سکتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ …
Narrated 'Urwa:The Prophet (ﷺ) asked Abu Bakr for `Aisha's hand in marriage. Abu Bakr said "But I am your brother." The Prophet (ﷺ) said, "You are my brother in Allah's religion and His Book, but she (Aisha) is lawful for me to marry
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے یزید بن حبیب نے، ان سے عراک بن مالک نے اور ان سے عروہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے لیے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں آپ کا بھائی ہوں۔ ( تو عائشہ سے کیسے نکاح کریں گے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے رشتہ سے تم میرے بھائی ہو اور عائشہ میرے لیے حلال ہے۔
Amr bin Aws narrated from Abdur-Rahman bin Abi Bakr:"The Prophet ordered Abdur-RAhman bin Abi Bakr to (accompany) Aishah to perform Umrah from At-Tan'im
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی الله عنہا کو تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas: When the verse: "O ye who believe! eat not up your property among yourselves in vanities, but let there be amongst you traffic and trade by mutual good will" was revealed, a man thought it a sin to eat in the house of another man after the revelation of this verse. Then this (injunction) was revealed by the verse in Surat an-Nur: "No blame on you whether you eat in company or separately." When a rich man (after revelation) invited a man from his people to eat food in his house, he would say: I consider it a sin to eat from it, and he said: a poor man is more entitled to it than I. The Arabic word tajannah means sin or fault. It was then declared lawful to eat …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ….. أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔
PickthallO ye who believe! Let not a folk deride a folk who may be better than they (are), not let women (deride) women who may be better than they are; neither defame one another, nor insult one another by nicknames. Bad is the name of lewdness after faith. And whoso turneth not in repentance, such are evil-doers.
Yusuf AliO ye who believe! Let not some men among you laugh at others: It may be that the (latter) are better than the (former): Nor let some women laugh at others: It may be that the (latter are better than the (former): Nor defame nor be sarcastic to each other, nor call each other by (offensive) nicknames: Ill-seeming is a name connoting wickedness, (to be used of one) after he has believed: And those who do not desist are (indeed) doing wrong.
The agreed readingYou who believe, let no people mock another people who may be better than they are, nor let women mock other women who may be better than they are. And do not find fault with one another, nor call one another by insulting nicknames. An evil name it is to be called defiant after faith. And whoever does not turn back - those are the wrongdoers.
Urduاے ایمان والو، کوئی قوم کسی دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہو، اور نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور آپس میں ایک دوسرے پر عیب نہ لگاؤ، اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد نافرمان کہلانا بہت برا نام ہے۔ اور جو توبہ نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا لا يسخر قوم من قوم آخرين، عسى أن يكونوا خيرًا منهم عند الله، ولا نساء من نساء أخريات، عسى أن يكن خيرًا منهن. ولا تلمزوا أنفسكم، أي لا يعب بعضكم بعضًا، ولا تنابزوا بالألقاب السيئة. بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان بالله. ومن لم يتب من ذلك فأولئك هم الظالمون لأنفسهم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Narrated Anas:said: "It reached Safiyyah that Hafsah said: 'The daughter of a Jew' so she wept. Then the Prophet (ﷺ) entered upon her while she was crying, so he said: 'What makes you cry?' She said: 'Hafsah said to me that I am the daughter of a Jew.' So the Prophet (ﷺ) said: 'And you are the daughter of a Prophet, and your uncle is a Prophet, and you are married to a Prophet, so what is she boasting to you about?' Then he said: 'Fear Allah, O Hafsah
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ رضی الله عنہا کو یہ بات پہنچی کہ ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا نے انہیں یہودی کی بیٹی ہونے کا طعنہ دیا ہے، تو وہ رونے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں، آپ نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟ تو انہوں نے کہا: حفصہ نے مجھے یہ طعنہ دیا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایک نبی کی بیٹی ہے، تیرا چچا بھی نبی ہے ۱؎ اور تو ایک نبی کے عقد میں ہے، تو وہ کس بات میں تجھ پر فخر کر رہی ہے، پھر آپ نے ( حفصہ سے ) فرمایا: ”حفصہ! اللہ سے ڈر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Abu Hudhaifah narrated - and he was one of the companions of 'Abdullãh bin Mas'üd - from 'Aishah who said:"I told the Prophet (ﷺ) about a man, so he said: 'I do not like to talk about a man, even if I were to get this or that (for doing so)." She said: "I said: 'O Messenger of Allah! Safiyyah is a woman who is ..." and she used her hand as if to indicate that she is short - "So he said: 'You have said a statement which, if it were mixed in with the water of the sea, it would pollute it
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اور مجھے اتنا اور اتنا مال ملے“۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیشک صفیہ ایک عورت ہیں، اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا، گویا یہ مراد لے رہی تھیں کہ صفیہ پستہ قد ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”بیشک تم نے اپنی باتوں میں ایسی بات ملائی ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بدل جائے“ ۱؎۔
Narrated Abu Jubairah bin Ad-Dahhak:"A man among us would be known by two or three names. He would be called by one that perhaps he disliked, so this Ayah was revealed: Nor insult with nicknames (49:)
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے دو دو تین تین نام ہوا کرتے تھے، ان میں سے بعض کو بعض نام سے پکارا جاتا تھا، اور بعض نام سے پکارنا اسے برا لگتا تھا، اس پر یہ آیت «ولا تنابزوا بالألقاب» ”لوگوں کو برے القاب ( برے ناموں ) سے نہ پکارو“ ( الحجرات: ۱۱ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوجبیرہ، یہ ثابت بن ضحاک بن خلیفہ انصاری کے بھائی ہیں، اور ابوزید سعید بن الربیع صاحب الہروی بصرہ کے رہنے والے ثقہ ( معتبر ) شخص ہیں۔
Narrated AbuJubayrah ibn ad-Dahhak: This verse was revealed about us, the Banu Salimah: "Nor call each other by (offensive) nicknames: ill-seeming is a name connoting wickedness (to be used of one) after he has believed." He said: When the apostle of Allah (ﷺ) came to us, every one of us had two or three names. The Messenger of Allah (ﷺ) began to say: O so and so! But they would say: Keep silence, Messenger of Allah! He becomes angry by this name. So this verse was revealed: "Nor call each other by (offensive) nicknames
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہمارے یعنی بنو سلمہ کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان» ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو، ایمان کے بعد برے نام سے پکارنا برا ہے ( الحجرات: ۱۱ ) ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں، تو آپ نے پکارنا شروع کیا: اے فلاں، تو لوگ کہتے: اللہ کے رسول! اس نام سے نہ پکاریئے، وہ اس نام سے چڑھتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب» ۔
Narrated Ibn 'Abbas:"They (the Companions) said: 'O Messenger of Allah, how do you hold those who died while they were drinking Khamr - considering that the prohibition of intoxicants is now revealed?' So, (the following) Ayah was revealed: "Those who believe and do righteous good deeds, there is no sin on them for what they ate (in the past), if they fear Allah and believe and do righteous good deeds
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو لوگ شراب پیتے تھے اور مر گئے ان کا کیا ہو گا؟ اس وقت آیت «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات» ”ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو انہوں نے ( حرمت سے پہلے ) کھائے پئے جب کہ انہوں نے پرہیزگاری اختیار کر لی، ایمان لائے اور اچھے عمل کیے“ ( المائدہ: ۹۳ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
8. Humayd ibn Ziyad has narrated from ibn Sama‘ah from Muhammad ibn Ziyad from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ’Abd Allah (a.s.), has said that ’Amir al-Mu’minin issued a judgment about one whose husband had died before going to bed with her, that said, ’She must not marry until her waiting period of four months and ten days is complete, which is the waiting period for one whose husband dies.’”
حمید بن زیاد ابن سماعہ سے، محمد بن زیاد سے، عبد اللہ بن سنان سے، ابو عبد اللہ (علیہ السلام) سے، کہتے ہیں: امیر المومنین (علیہ السلام) نے قضا کی المتوفی عنہا زوجہا میں اور وہ اسے نہیں چھوا تھا، کہا: تنکح نہ کرے جب تک اعتداد چار اشہر اور عشر کریں، عدة المتوفی عنہا زوجہا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abdullah Ibn Abbas: When the verse: "O ye who believe! eat not up your property among yourselves in vanities, but let there be amongst you traffic and trade by mutual good will" was revealed, a man thought it a sin to eat in the house of another man after the revelation of this verse. Then this (injunction) was revealed by the verse in Surat an-Nur: "No blame on you whether you eat in company or separately." When a rich man (after revelation) invited a man from his people to eat food in his house, he would say: I consider it a sin to eat from it, and he said: a poor man is more entitled to it than I. The Arabic word tajannah means sin or fault. It was then declared lawful to eat …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ….. أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔
Yahya related to me from Malik that he had heard that Abdullah ibn Abbas used to say, "The least difficult thing acceptable as a sacrificial animal is a sheep." Malik said, "That is what I like most out of what I have heard about the matter, because Allah, the Blessed and Exalted, says in His Book, 'O you who trust, do not kill game while you are in ihram. Whoever of you kills it intentionally, there shall be repayment the like of what he has slain, from livestock, as shall be judged by two men of justice among you, a sacrificial animal which will reach the Kaba, or food for poor people, or the equivalent of that in fasting,' (Sura 5 ayat 95) and a sheep is one of the animals which is …
اور مجھے مالک سے حدیث بیان کی گئی کہ عبداللہ بن عباس کہتے تھے: 'جو کفایت کے ساتھ قربانی ملے' وہ بکری ہے۔ مالک نے کہا: یہ بات مجھے اس مسئلے میں سب سے زیادہ پسند ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: اے ایمان والو! شکار نہ کرو جب تم احرام میں ہو اور جو تم میں سے اسے قصداً قتل کرے تو اس کا جزاء نظیر جانور ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو منصف کریں - قربانی جو خانہ کعبے تک پہنچے یا فدیہ - کمزوروں کو کھانا یا برابری کا روزہ۔ تو جس چیز پر قربانی کا حکم لاگو ہو وہ بکری ہے اور اللہ نے اسے قربانی کا نام دیا ہے۔ اور یہ ہماری نزد میں اختلاف سے آزاد ہے۔ اور کوئی کیسے شک کر سکتا ہے اس میں۔ اور ہر چیز جو اونٹ یا گائے کے فیصلے تک نہ پہنچے تو اس میں فیصلہ بکری ہے۔ اور جو چیز بکری کے فیصلے تک نہ پہنچے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It has been narrated on the authority of 'Abd al-Rahman b. Abd Rabb al-Ka'ba who said:I entered the mosque when 'Abdullah b. 'Amr b. al-'As was sitting in the shade of the Ka'ba and the people had gathered around him. I betook myself to them and sat near him. (Now) Abdullah said: I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. We halted at a place. Some of us began to set right their tents, others began to compete with one another in shooting, and others began to graze their beasts, when an announcer of the Messenger of Allah (ﷺ) announced that the people should gather together for prayer, so we gathered around the Messenger of Allah (ﷺ). He said: It was the duty of every Prophet …
عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے میں مسجد میں گیا وہاں عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے پاس جمع تھے میں بھی گیا اور بیٹھا ۔ انہوں نے کہا ہم رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تھے ایک سفر میں تو ایک جگہ اترے ، کوئی اپنا ڈیرہ درست کرنے لگا ، کوئی تیر مارنے لگا ، کوئی اپنے جانوروں میں تھا کہ اتنے میں رسول اﷲ ﷺ کے پکارنے والے نے آواز دی نماز کے لیے اکٹھا ہوجاؤ ۔ ہم سب اپ کے پاس جمع ہوئے ۔ اپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر ضروری نہ ہو اپنی امت کو جو بہتر بات اس کو معلوم ہو بتانا اور جو بری بات ہو اس سے ڈرانا اور تمہاری یہ امت اس کے پہلے حصہ میں سلامتی ہے اور اخیر حصے میں بلا ہے اور وہ باتیں ہیں جو تم کو بری لگیں گی اور ایسے فتنے آویں گے کہ ایک فتنہ دوسرے …
PickthallO ye who believe! Shun much suspicion; for lo! some suspicion is a crime. And spy not, neither backbite one another. Would one of you love to eat the flesh of his dead brother? Ye abhor that (so abhor the other)! And keep your duty (to Allah). Lo! Allah is Relenting, Merciful.
Yusuf AliO ye who believe! Avoid suspicion as much (as possible): for suspicion in some cases is a sin: And spy not on each other behind their backs. Would any of you like to eat the flesh of his dead brother? Nay, ye would abhor it... But fear Allah: For Allah is Oft-Returning, Most Merciful.
The agreed readingYou who believe, keep away from much suspicion; some suspicion is a sin. And do not spy, and do not speak ill of one another behind their backs. Would any of you like to eat the flesh of his dead brother? You would hate it. So be mindful of God; God is Ever-Relenting, Merciful.
Urduاے ایمان والو، زیادہ گمان کرنے سے بچو؛ کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اور جاسوسی نہ کرو، اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ تم اسے ناپسند کرو گے۔ سو اللہ سے ڈرتے رہو؛ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرًا من الظن السيئ بإخوانكم؛ إن بعض الظن إثم يُحاسب عليه. ولا تجسسوا على عورات بعضكم، ولا يغتب بعضكم بعضًا في غيابهم. أيحب أحدكم أن يأكل لحم أخيه ميتًا؟ فكرهتموه بفطرتكم. فاتقوا الله في كل ذلك؛ إن الله تواب على من رجع إليه، رحيم بعباده المؤمنين.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 6 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة7 reports cited here — 6 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Avoid suspicion, for suspicion is the gravest lie in talk and do not be inquisitive about one another and do not spy upon one another and do not feel envy with the other, and nurse no malice, and nurse no aversion and hostility against one another. And be fellow-brothers and servants of Allah
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بدگمانی سے دور رہو کیونکہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے ، دوسروں کے ظاہری عیب تلاش کرو نہ دوسروں کے باطنی عیب ڈھونڈو ، مال و دولت میں ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت نہ کرو ، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، آپس میں بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو ، اور اللہ کے ایسے بندے بن کر رہو جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔
Nafi' narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (s.a.w) ascended the Minbar and called out with a raised voice: ’O you who accepted Islam with his tongue, while faith has not reached his heart! Do not harm the Muslims, nor revile them, nor spy on them to expose their secrets. For indeed whoever tries to expose his Muslims brother’s secrets, Allah exposes his secrets wide open, even if he were in the depth of his house.’” He (Nafl’) said: ‘ One day Ibn ‘Umar looked at the House- or – the Ka’bah and said: ‘What is it that is more honored than you, and whose honor is more sacred than yours! And the believer’s honor is more sacred to Allah than yours.’”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے، بلند آواز سے پکارا اور فرمایا: ”اے اسلام لانے والے زبانی لوگوں کی جماعت ان کے دلوں تک ایمان نہیں پہنچا ہے! مسلمانوں کو تکلیف مت دو، ان کو عار مت دلاؤ اور ان کے عیب نہ تلاش کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب ڈھونڈتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا عیب ڈھونڈتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب ڈھونڈتا ہے، اسے رسوا و ذلیل کر دیتا ہے، اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو“۔ راوی ( نافع ) کہتے ہیں: ایک دن ابن عمر رضی الله عنہما نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر کہا: کعبہ! تم کتنی عظمت والے ہو! اور تمہاری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن اللہ کی نظر میں مومن ( کامل ) کی حرمت تجھ سے زیادہ عظیم ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث …
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do you know what is backbiting? They (the Companions) said: Allah and His Messenger know best. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Backbiting implies your talking about your brother in a manner which he does not like. It was said to him: What is your opinion about this that if I actually find (that failing) in my brother which I made a mention of? He said: If (that failing) is actually found (in him) what you assert, you in fact backbited him, and if that is not in him it is a slander
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ " انہوں ( صحابہ ) نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول خوب جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اپنے بھائی کا اس طرح تذکرہ کرنا جو اسے ناپسند ہو ۔ " عرض کی گئی : آپ یہ دیکھئے کہ اگر میرے بھائی میں وہ بات واقعی موجود ہو جو میں کہتا ہوں ( تو؟ ) آپ نے فرمایا : " جو کچھ تم کہتے ہو ، اگر اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی ، اگر اس میں وہ ( عیب ) موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، وَابْنُ، عَوْفٍ - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ أَوْ كِدْتَ أَنْ تُفْسِدَهُمْ " . فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةٌ سَمِعَهَا مُعَاوِيَةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفَعَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا .
Narrated Mu'awiyah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If you search for the faults of the people, you will corrupt them, or will nearly corrupt them. AbudDarda' said: These are the words which Mu'awiyah himself from the Messenger of Allah (ﷺ), and Allah benefited him by them
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں بگاڑ پیدا کر دو گے، یا قریب ہے کہ ان میں اور بگاڑ پیدا کر دو ۱؎۔ ابو الدرداء کہتے ہیں: یہ وہ کلمہ ہے جسے معاویہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور اللہ نے انہیں اس سے فائدہ پہنچایا ہے۔
Abu Hurairah narrated that it was said:" O Messenger of Allah! What is backbiting?" He said : " Mentioning your brother with that which he does not like." He said " What if what I said about him is so?" He said: "If what you said about him is so, then you have backbitten him, and if it is not as you said, then you have slandered him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کسی نے کہا: اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس انداز سے اپنے بھائی کا تمہارا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرے“، اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ چیز اس میں موجود ہو جسے میں بیان کر رہا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت ( چغلی ) کی، اور جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود نہیں ہے تو تم نے اس پر تہمت باندھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبرزہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu Hurairah said:The Messenger of Allah (ﷺ) was asked: Messenger of Allah! What is back-biting? He replied: It is saying something about your brother which he would dislike. He was asked again: Tell me how the matter stands if what I say about my brother is true? He replied: If what you say of him is true, you have slandered him, and if what you say of him is not true, you have reviled him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا کہ اسے ناگوار ہو عرض کیا گیا: اور اگر میرے بھائی میں وہ چیز پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ چیز اس کے اندر ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر جو تم کہہ رہے ہو اس کے اندر نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا ۔
5. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Hammad ibn ‘Isa from Ibrahim ibn ‘Umar al-Yamani from Sulaym ibn Qays al-Hilali from Amir al-Mu’minin (a.s.) who has said the following. “Allah, the Most Holy, the Most High, cleansed us, granted us protection against sins, made us to bear witness to the activities of His creatures and granted us Divine authority on earth. He made us to be with the holy Quran and the Holy Quran to be with us. We do not depart the Holy Quran and the Holy Quran does not depart us.”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے حماد بن عیسیٰ سے ابراہیم بن عمر الیمانی سے سلیم بن قیس الہلالی سے امیر المؤمنین صلی الله علیہ وآلہ سے روایت کی: انہوں نے کہا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں پاک کیا اور معصوم بنایا، اور ہمیں اپنی مخلوقات پر شاہد بنایا اور اپنی زمین پر اپنی حجت بنایا، اور ہمیں قرآن کے ساتھ رکھا، اور قرآن کو ہمارے ساتھ رکھا، ہم اس سے جدا نہیں ہوتے اور یہ ہم سے جدا نہیں ہوتا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallO mankind! Lo! We have created you male and female, and have made you nations and tribes that ye may know one another. Lo! the noblest of you, in the sight of Allah, is the best in conduct. Lo! Allah is Knower, Aware.
Yusuf AliO mankind! We created you from a single (pair) of a male and a female, and made you into nations and tribes, that ye may know each other (not that ye may despise (each other). Verily the most honoured of you in the sight of Allah is (he who is) the most righteous of you. And Allah has full knowledge and is well acquainted (with all things).
The agreed readingPeople, God created you from a male and a female, and made you peoples and tribes so that you may know one another. The most honoured of you with God is the one most mindful of Him. God is Knowing, Aware.
Urduلوگو، اللہ نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں بانٹ دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، نہ کہ اس لیے کہ ایک دوسرے پر فخر کرو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ رکھتا ہو۔ اللہ خوب جاننے والا، پوری طرح باخبر ہے۔
Arabicيا أيها الناس إنا خلقناكم جميعًا من ذكر واحد وأنثى واحدة هما آدم وحواء، وجعلناكم شعوبًا كبيرة وقبائل صغيرة لتتعارفوا فيما بينكم لا لتتفاخروا. إن أكرمكم عند الله في الحقيقة أتقاكم له، لا أكثركم نسبًا أو مالًا. إن الله عليم بكم، خبير بأحوالكم كلها.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Ṭūsī, al-Baghawī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr, al-Ḥuwayzī, Ibn ʿĀshūr, Ṭabāṭabāʾī and Ṭanṭāwī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) gave a Khutbah to the people on the day of the conquest of Makkah, and he said: "O you people! Verily Allah has removed the slogans of Jahiliyyah from you, and its reverence of its forefathers. So, now there are two types of men: A man who is righteous, has Taqwa and honorable before Allah, and a wicked man, who is miserable and insignificant to Allah. People are children of Adam and Allah created Adam from the dust. Allah said: O you people! We have created you from a male and a female, and made you into nations and tribes, that you may know one another. Verily, the most honorable of you with Allah is the one who has most Taqwa. Verily, …
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا: ”لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر و غرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے، اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں ( ۱ ) اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور ( ۲ ) دوسرا فاجر بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمزور، لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں۔ اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير» ”اے لوگو! ہم نے تمہیں نر اور مادہ ( کے ملاپ ) سے پیدا کیا اور ہم نے تمہیں کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، ( کہ کون کس قبیلے اور کس …
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Verily Allah does not look to your faces and your wealth but He looks to your heart and to your deeds
یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا ، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے ۔
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) was asked, "Who is the most honorable amongst the people?" He replied, "The most Allah fearing." The people said, "We do not want to ask you about this." He said, "The most honorable person is Joseph, Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Khalil" The people said, 'We do not want to ask you about this." He said," Then you want to ask me about the origins of the Arabs? People are of various origins. The best in the pre-Islamic period are the best in Islam, provided they comprehend (the religious knowledge)
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ‘ انہیں سعید بن ابی سعید نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ شریف آدمی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اللہ کا خوف زیادہ رکھتا ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ عرب کے خانوادوں کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو۔ دیکھو! لوگوں کی مثال کانوں کی سی ہے ( کسی کان میں سے اچھا مال نکلتا ہے کسی میں سے …
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) was asked, "Who are the most honorable of the people?" The Prophet (ﷺ) said, "The most honorable of them in Allah's Sight are those who keep their duty to Allah and fear Him. They said, "We do not ask you about that." He said, "Then the most honorable of the people is Joseph, Allah's prophet, the son of Allah's prophet, the son of Allah's prophet, the son of Allah's Khalil i.e. Abraham) They said, "We do not ask you about that." The Prophet (ﷺ) said, Do you ask about (the virtues of the ancestry of the Arabs?" They said, "Yes," He said, "Those who were the best amongst you in the pre-Islamic Period are the best amongst you in Islam if they …
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال کیا کہ انسانوں میں کون سب سے زیادہ شریف ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف یوسف علیہ السلام ہیں «نبي الله ابن نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله» ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا یہ بھی مقصد نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، عرب کے خاندانوں کے متعلق تم معلوم کرنا چاہتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم …
203. Ali b. Ibrahim [narrated] from Abdullah b. Muhammad b. Isa from Safwan b. Yahya from Hanan who said: I heard my father narrated from Abu Ja’far (as) having said: ‘Salman (ra) was seated with a number of people from Quraysh in a Mosque. They started priding over their lineages and ancestry until they reached Salman (ra). Umar b. al-Khattab said to him, ‘Inform me who you are, and who your father is, and what your origin is’. So he said: ‘I am Salman, son of a servant of Allah (swt). I had strayed but Allah (swt) had guided me through Muhammad (saw), and I was needy so Allah (swt) enriched through Muhammad (saw), and I was owned [as a slave] so Allah (swt) freed me through Muhammad …
علی بن ابراہیم سے روایت ہے، انہوں نے عبداللہ بن محمد بن عیسیٰ سے بیان کیا، انہوں نے صفوان بن یحیٰ سے، انہوں نے حنان سے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا کہ وہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: سلمان رضی اللہ عنہ مسجد میں قریش کے ایک گروپ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہ اپنے نسب کو بیان کرنے اور اپنے خاندانوں کو رفع تر کرنے لگے یہاں تک کہ سلمان تک پہنچے۔ تو عمر بن خطاب نے ان سے کہا: مجھے بتاؤ تم کون ہو اور تمہارا باپ کون ہے اور تمہاری اصل کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں سلمان بن عبداللہ ہوں۔ میں گمراہ تھا تو اللہ عزوجل نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے ذریعے ہدایت دی۔ اور میں غریب تھا تو اللہ عزوجل نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے ذریعے غنی بنایا۔ اور میں غلام تھا تو اللہ عزوجل نے مجھے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى " .
It was narrated from Samurah bin Jundab that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Being honorable is wealth and noble character is piety.’
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عالیٰ نسبی ( اچھے حسب و نسب والا ہونا ) مال ہے، اور کرم ( جود و سخا اور فیاضی ) تقویٰ ہے ۱؎۔
2. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn ‘Isa from Ali ibn al-Hakam from abu Ayyub al-Khazzaz from Muhammad ibn Muslim who has said the following: “Abu Ja’far (a.s.), has said, ‘One who decides to visit this House is not properly prepared without three characteristics. One should be able to abstain (stay away from sins) which keeps him away from violating the laws of Allah, exercise forbearance to overcome his anger, and moral discipline with which he behaves (properly) with his companion.’”
عدة سے احمد بن محمد سے علي بن الحكم سے ابو ايوب سے محمد بن مسلم سے ابو جعفر: اس راه پر کوئی قابل قدر نہ ہے اگر تین خصائل نہ ہوں - ورع جو معاصي سے روكے، حلم جو غضب کو سنبھالے، حسن صحبت ان کے ساتھ جو ساتھ ہوں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Mahbub from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that once the Messenger of Allah raised his head to the heaven and smiled. He was asked, ‘O Messenger of Allah, we saw you. Why did you raise your head to the heaven and smile?’ He then replied, ‘I was amazed when I saw two angels come down from the heaven looking for a believing, virtuous servant (of Allah) in the place he performs his prayers, so they can record his deeds of that day and night but they could not find him there. They then ascended to the heaven saying, “Lord, we looked for Your so and so believing servant in …
عدہ سے ہم نے احمد بن محمد سے، ابن محبوب سے، عبد الله بن سنان سے، ابی عبد الله علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو ہنستے ہوئے۔ ان سے کہا گیا: یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور ہنستے ہوئے۔ آپ نے کہا: ہاں، مجھے حیرت ہوئی دو فرشتوں کے لیے جو آسمان سے زمین پر اترے، ایک ایمان والے اور صالح بندے کو تلاش کر رہے تھے اس نماز کی جگہ میں جہاں وہ نماز پڑھتے تھے تاکہ اس کے دن اور رات کا عمل لکھیں۔ لیکن وہ اسے اس نماز کی جگہ میں نہ پایا۔ تو وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے اور کہا: ہمارے رب! تمہارے بندے ایمان والے فلاں کو ہم نے اس کی نماز کی جگہ تلاش کیا تاکہ اس کے دن رات کا عمل لکھیں لیکن ہم نہ پائے۔ لیکن ہم نے اسے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Huraira:Some people asked the Prophet: "Who is the most honorable amongst the people?" He replied, "The most honorable among them is the one who is the most Allah-fearing." They said, "O Allah's Prophet! We do not ask about this." He said, "Then the most honorable person is Joseph, Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, the son of Allah's Khalil." They said, "We do not ask about this." He said, "Then you want to ask me about the Arabs' descent?" They said, "Yes." He said, "Those who were best in the pre-Islamic period, are the best in Islam, if they comprehend (the religious knowledge)
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم نے معتمر بن سلیمان سے سنا ‘ انہوں نے عبداللہ عمری سے ‘ انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو ‘ وہ سب سے زیادہ شریف ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر سب سے زیادہ شریف یوسف نبی اللہ بن نبی اللہ ( یعقوب ) بن نبی اللہ ( اسحاق ) بن خلیل اللہ ( ابراہیم علیہ السلام ) تھے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم لوگ عرب کے شرفاء کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ …
PickthallThe wandering Arabs say: We believe. Say (unto them, O Muhammad): Ye believe not, but rather say "We submit," for the faith hath not yet entered into your hearts. Yet, if ye obey Allah and His messenger, He will not withhold from you aught of (the reward of) your deeds. Lo! Allah is Forgiving, Merciful.
Yusuf AliThe desert Arabs say, "We believe." Say, "Ye have no faith; but ye (only) say, 'We have submitted our wills to Allah,' For not yet has Faith entered your hearts. But if ye obey Allah and His Messenger, He will not belittle aught of your deeds: for Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful."
The agreed readingThe desert Arabs say: we believe. Say: you do not believe; say rather, we have submitted - for faith has not yet entered your hearts. But if you obey God and His messenger, He will not withhold anything from your deeds. God is Forgiving, Merciful.
Urduدیہاتی عرب کہتے ہیں: ہم ایمان لائے۔ کہہ دو: تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یہ کہو کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا - کیونکہ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔ اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Arabicقالت الأعراب من أهل البادية آمنا. قل لهم: لم تؤمنوا بعد إيمانًا كاملًا، ولكن قولوا أسلمنا واستسلمنا ظاهرًا، ولما يدخل الإيمان الحقيقي في قلوبكم بعد. وإن تطيعوا الله ورسوله في كل أمر لا ينقصكم من أعمالكم شيئًا. إن الله غفور لذنوبكم، رحيم بضعفكم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (27) Sahih Muslim (150)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (27) Sahih Muslim (150)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (27) Sahih Muslim (150)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رِجَالاً وَلَمْ يُعْطِ رَجُلاً مِنْهُمْ شَيْئًا فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَلَمْ تُعْطِ فُلاَنًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوْ مُسْلِمٌ " . حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلاَثًا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَوْ مُسْلِمٌ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي أُعْطِي رِجَالاً وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُمْ لاَ أُعْطِيهِ شَيْئًا …
Sa’d b. Abi Waqqas said :The Prophet (May peace be upon him) gave some people and did not give anything to a man of them. Sa’d said : Messenger of Allah! You gave so and so, so and so, but did not give anything to so and so while he is a believer. The Prophet (May peace be upon him) said : Or he is a Muslim. Sa’d repeated it thrice and the Prophet (May peace be upon him) then said : I give some people and leave him who is dearer to me than them. I do not give him anything fearing lest he should fall into Hell on his face
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا تو سعد نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں اور فلاں کو دیا لیکن فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا مسلم ہے سعد نے تین بار یہی عرض کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے: یا مسلم ہے پھر آپ نے فرمایا: میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور ان میں تجھے جو زیادہ محبوب ہے اسے چھوڑ دیتا ہوں، میں اسے کچھ بھی نہیں دیتا، ایسا اس اندیشے سے کہ کہیں وہ جہنم میں اوندھے منہ نہ ڈال دیئے جائیں ۱؎ ۔
It was narrated from Abu Hurairah that :The Messenger of Allah [SAW] said: "We will fight the people until they say La ilaha illallah. If they say La ilaha illallah then their blood and their wealth become forbidden to us, except for a right that is due, and their reckoning will be with Allah
قاسم بن زکریا بن دینار نے ہمیں خبر دی: عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا: شیبان نے عاصم سے زیاد بن قیس سے ابو ہریرہ سے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی: ہم لوگوں سے لڑتے ہیں یہاں تک کہ وہ کہیں لا إله إلا الله۔ اگر وہ لا إله إلا الله کہہ دیں تو ان کا خون اور ان کا مال ہم پر حرام ہو جاتا ہے سوائے اس کے جو حق میں ہے، اور ان کا حساب اللہ کے پاس ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I have been commanded to fight the people until they say: La ilaha illallah. If they say: La ilaha illallah, then their blood and wealth are protected from me, except for a right that is due from it, and their reckoning will be with Allah.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں جب تک وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار نہ کر لیں، جب انہوں نے اس کا اقرار کر لیا، تو اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا، مگر ان کے حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے ۔
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn ‘Isa from Ali ibn al-Hakam from al-Husayn ibn abu al-‘Ala’ from abu ‘Abd Allah recipient of divine supreme covenant who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, has not sent any prophet who would not be truthful in their words and trustworthy in returning the trust without discriminating between virtuous or otherwise people.”
1۔ محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے روایت کی، انہوں نے علی بن الحکم سے، انہوں نے حسین بن ابی العلاء سے، انہوں نے ابواعبداللہ علیہ السلام سے کہا: بیشک اللہ عز و جل نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر سچی بات اور امانت کی ادائیگی کے ساتھ - نیک اور برے دونوں کو برابری کے ساتھ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas narrated from his father, who said:"I was ill during the year of the Conquest (of Makkah) with an illness bringing me to the brink of death. So The Messenger of Allah (S.A.W) came to visit me, and I said: 'O Messenger of Allah (S.A.W)! Indeed I have a great deal of wealth and I do not have any heirs except my daughter, so should I will all of my wealth?' He said: 'No.' I said: 'Then two-thirds of my wealth?' He said: 'No.' I said: 'Then half?' He said: 'No.' I said: 'Then a third' He said: 'No.' A third and a third is too much. If you leave your heirs without need it is better than to leave them in poverty begging from the people. Indeed you do not do any …
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں ایسا بیمار پڑا کہ موت کے قریب پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، کیا میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: دو تہائی مال کی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: آدھا مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: ایک تہائی کی؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کی وصیت کرو اور ایک تہائی بھی بہت ہے ۱؎، تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج و غریب چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھیریں، تم جو بھی خرچ کرتے ہو اس پر تم کو ضرور اجر …
7 - وتصديق ذلك ما أخرجه شيخنا محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد رضي الله عنه في جامعه، وحدثنا به، عن محمد بن الحسن الصفار عن العباس بن معروف، قال: حدثني عبد الرحمن بن أبي نجران، عن حماد بن عثمان، عن عبد الرحيم القصير، قال: كتبت على يدي عبد الملك بن أعين إلى أبي عبد الله عليه السلام جعلت فداك، اختلف الناس في أشياء قد كتبت بها إليك، فأن رأيت جعلني الله فداك أن تشرح لي جميع ما كتبت به إليك، اختلف الناس جعلت فداك بالعراق في المعرفة والجحود، فأخبرني جعلت فداك أهما مخلوقان؟ واختلفوا في القرآن، فزعم قوم: أن القرآن كلام الله غير مخلوق وقال آخرون: كلم الله مخلوق، وعن الاستطاعة أقبل الفعل أو مع الفعل؟ فإن أصحابنا قد اختلفوا فيه ورووا فيه، وعن الله تبارك وتعالى هل يوصف بالصورة أو بالتخطيط؟ فإن رأيت …
7. The confirmation of this is of this is what our Shaykh Muhammad ibn al-Hasan ibn Ahmad ibn al-Walid (RA) has mentioned in his Jami`; and said, on the authority of Muhammad ibn alHasan al-Saffar, on the authority of al-‘Abbas ibn Ma`rub that `Abd al-Rahman ibn Abu Najran related to me, on the authority of Hammad ibn `Uthman, on the authority of `Abd al-Rahim alQasir that I wrote to Abu `Abd Allah al-Sadiq (AS) and sent it with `Abd al-Malik ibn A``yun: May I be your ransom! I write to you regarding matters in which people have differed. If you seem it appropriate, may Allah take me as your ransom, then please answer me. The people of Iraq have differed regarding recognition and denial. …
یہ تصدیق ہے اس بات کی جو ہمارے شیخ محمد بن الحسن بن احمد بن الولید نے اپنی جامع میں نقل کی ہے، اور یہ حدیث ہمیں سنائی گئی محمد بن الحسن الصفار سے، العباس بن معروف سے، جو کہتے ہیں: عبد الرحمن بن ابی نجران نے مجھے حدیث سنائی، حماد بن عثمان سے، عبد الرحيم القصير سے۔ انہوں نے کہا: میں نے عبد الملك بن أعين کے ذریعے امام ابو عبد الله علیہ السلام کو خط لکھا: میں آپ کا فدا ہو جاؤں! لوگوں نے ان چیزوں میں اختلاف کیا ہے جن کے بارے میں میں آپ کو لکھا ہوں۔ اگر آپ نے مناسب سمجھا تو براہ کرم تمام ان چیزوں کی وضاحت لکھ کر بھیجیں جن کے بارے میں میں نے آپ کو لکھا ہے۔ لوگوں نے عراق میں معرفت اور انکار کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ براہ کرم مجھے بتائیں: کیا یہ دونوں چیزیں مخلوق ہیں؟ اور انہوں نے قرآن کے بارے میں …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated `Abdullah bin Zaid bin `Asim:When Allah gave to His Apostle the war booty on the day of Hunain, he distributed that booty amongst those whose hearts have been (recently) reconciled (to Islam), but did not give anything to the Ansar. So they seemed to have felt angry and sad as they did not get the same as other people had got. The Prophet (ﷺ) then delivered a sermon before them, saying, "O, the assembly of Ansar! Didn't I find you astray, and then Allah guided you on the Right Path through me? You were divided into groups, and Allah brought you together through me; you were poor and Allah made you rich through me." Whatever the Prophet (ﷺ) said, they (i.e. the Ansar) said, "Allah …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ نے اس کی تقسیم کمزور ایمان کے لوگوں میں ( جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے ) کر دی اور انصار کو اس میں سے کچھ نہیں دیا۔ اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ وہ مال جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کو دیا انہیں کیوں نہیں دیا۔ آپ نے اس کے بعد انہیں خطاب کیا اور فرمایا: اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور تم میں آپس میں دشمنی اور نااتفاقی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم میں باہم الفت …
حدثنا أبي، ومحمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد - رضي الله عنهما - قالا: حدثنا عبد الله بن جعفر الحميري، عن محمد بن الحسين بن أبي الخطاب، قال: حدثنا النضر بن شعيب، عن عبد الغفار الجازي، عن أبي عبد الله عليه السلام في قول الله عز وجل: " إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا " قال: الرجس هو الشك.
1. We were told by my father, and Muhammed bin Hasan bin Ahmad bin Waleed, may Allah be pleased with them both, that they both said: We were told by Abdullah bin Ja’far al-Himyari, from Muhammed bin Hussain bin Abi’l-Khattab, that he said: We were told by Nadr bin Shu’aib, from Abdul-Ghaffar al-Jazi, from Abu Abdillah, peace be upon him, with regards to the saying of Allah, Exalted and Glorious is He: «Allah only wants, verily, to remove from you impurity, (O) Household, and to purify you a (complete) purification.» (33:33) He said: Impurity is doubt.
حدثنا ابی، محمد بن الحسن بن احمد بن الولید (رضی اللہ عنہما)، قالا: حدثنا عبد اللہ بن جعفر الحمیری، محمد بن الحسین بن ابی الخطاب سے، کہا: حدثنا النضر بن شعیب، عبد الغفار الجازی سے، ابو عبد اللہ (علیہ السلام) سے اللہ عز و جل کے قول میں: "إنما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہركم تطہيرا"، کہا: الرجس ہو الشک۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Yahya b. Ya`mur said :The first to speak on Divine decree in al-Basrah was Ma`bad al Juhani. I and Humaid b. `Abd al-Rahman al-Himyari proceeded to perform Hajj or `Umrah. We said : would that we meet any of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) so that we could ask him about what they say with regard to divine decree. So Allah helped us to meet `Abd Allah b. `Umar who was entering the mosque. So I and my companion surrounded him, and I thought that my companion would entrust me the task of speaking to him. Then I said : Abu ‘Abd al-Rahman, there appeared on our side some people who recite the Qur'an and are engaged in the hair-splitting of knowledge. They conceive that there is no …
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ بصرہ میں سب سے پہلے معبد جہنی نے تقدیر کا انکار کیا، ہم اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری حج یا عمرے کے لیے چلے، تو ہم نے دل میں کہا: اگر ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ہوئی تو ہم ان سے تقدیر کے متعلق لوگ جو باتیں کہتے ہیں اس کے بارے میں دریافت کریں گے، تو اللہ نے ہماری ملاقات عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کرا دی، وہ ہمیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں گھیر لیا، میرا خیال تھا کہ میرے ساتھی گفتگو کا موقع مجھے ہی دیں گے اس لیے میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے اور اس میں علمی باریکیاں نکالتے ہیں، کہتے ہیں: تقدیر کوئی چیز نہیں ۱؎، سارے کام یوں ہی ہوتے ہیں، تو آپ …
PickthallThe (true) believers are those only who believe in Allah and His messenger and afterward doubt not, but strive with their wealth and their lives for the cause of Allah. Such are the sincere.
Yusuf AliOnly those are Believers who have believed in Allah and His Messenger, and have never since doubted, but have striven with their belongings and their persons in the Cause of Allah: Such are the sincere ones.
The agreed readingThe believers are only those who believe in God and His messenger and then do not doubt, and who strive with their wealth and their lives in God's way. Those are the truthful ones.
Urduمومن تو صرف وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہیں پڑے، اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا۔ یہی سچے لوگ ہیں۔
Arabicإنما المؤمنون الحقيقيون هم الذين آمنوا بالله ورسوله ثم لم يرتابوا ولم يشكوا في إيمانهم بعد ذلك، وجاهدوا بأموالهم وأنفسهم في سبيل الله مخلصين. أولئك هم الصادقون في دعوى إيمانهم لا غيرهم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ - قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَعْطَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رِجَالاً وَلَمْ يُعْطِ رَجُلاً مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَلَمْ تُعْطِ فُلاَنًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوْ مُسْلِمٌ " . حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلاَثًا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَوْ مُسْلِمٌ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأُعْطِي رِجَالاً وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُمْ لاَ أُعْطِيهِ …
It was narrated from 'Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas that his father said:"The Prophet [SAW] gave a share (of some spoils of war) to some men and not to others. Sa'd said: 'O Messenger of Allah [SAW], you gave to so-and-so and so-and-so, but you did not give anything to so-and-so, and he is a believer.' The Prophet [SAW] said: 'Or a Muslim,' until Sa'd had repeated it three times, and the Prophet [SAW] said: 'I give to some men, and leave those who are dearer to me, without giving them anything, lest (the former) be thrown into Hell on their faces
ہمیں محمد بن عبد الاعلى نے خبر دی، کہا: ہمیں بیان کیا محمد نے - اور وہ ابن ثور ہے - کہا معمر نے، اور مجھے خبر دی الزهري نے، عامر بن سعد بن ابي وقاص سے، اس کے باپا سے، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجال کو أعطى کیا اور ان میں سے ایک رجل کو کچھ نہ دیا۔ کہا سعد: اے رسول اللہ! آپ نے فلاں اور فلاں کو دیا اور فلاں کو کچھ نہ دیا، اور وہ مؤمن ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: "یا مسلم"۔ یہاں تک کہ سعد نے اسے تین بار أعاد کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم "یا مسلم" کہہ رہے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: "میں رجال کو أعطي کرتا ہوں اور جو مجھے ان سے زیادہ أحب ہے اسے نہیں دیتا مخافہ کہ وہ النار میں ان کے وجوه پر کب ہوں۔"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas narrated from his father, who said:"I was ill during the year of the Conquest (of Makkah) with an illness bringing me to the brink of death. So The Messenger of Allah (S.A.W) came to visit me, and I said: 'O Messenger of Allah (S.A.W)! Indeed I have a great deal of wealth and I do not have any heirs except my daughter, so should I will all of my wealth?' He said: 'No.' I said: 'Then two-thirds of my wealth?' He said: 'No.' I said: 'Then half?' He said: 'No.' I said: 'Then a third' He said: 'No.' A third and a third is too much. If you leave your heirs without need it is better than to leave them in poverty begging from the people. Indeed you do not do any …
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں ایسا بیمار پڑا کہ موت کے قریب پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، کیا میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: دو تہائی مال کی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: آدھا مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: ایک تہائی کی؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کی وصیت کرو اور ایک تہائی بھی بہت ہے ۱؎، تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج و غریب چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھیریں، تم جو بھی خرچ کرتے ہو اس پر تم کو ضرور اجر …
Narrated `Abdullah bin Zaid bin `Asim:When Allah gave to His Apostle the war booty on the day of Hunain, he distributed that booty amongst those whose hearts have been (recently) reconciled (to Islam), but did not give anything to the Ansar. So they seemed to have felt angry and sad as they did not get the same as other people had got. The Prophet (ﷺ) then delivered a sermon before them, saying, "O, the assembly of Ansar! Didn't I find you astray, and then Allah guided you on the Right Path through me? You were divided into groups, and Allah brought you together through me; you were poor and Allah made you rich through me." Whatever the Prophet (ﷺ) said, they (i.e. the Ansar) said, "Allah …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ نے اس کی تقسیم کمزور ایمان کے لوگوں میں ( جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے ) کر دی اور انصار کو اس میں سے کچھ نہیں دیا۔ اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ وہ مال جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کو دیا انہیں کیوں نہیں دیا۔ آپ نے اس کے بعد انہیں خطاب کیا اور فرمایا: اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور تم میں آپس میں دشمنی اور نااتفاقی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم میں باہم الفت …
PickthallSay (unto them, O Muhammad): Would ye teach Allah your religion, when Allah knoweth all that is in the heavens and all that is in the earth, and Allah is Aware of all things?
Yusuf AliSay: "What! Will ye instruct Allah about your religion? But Allah knows all that is in the heavens and on earth: He has full knowledge of all things.
The agreed readingSay: are you teaching God your religion, when God knows all that is in the heavens and all that is in the earth? And God knows all things.
Urduکہہ دو: کیا تم اللہ کو اپنا دین سکھا رہے ہو، جبکہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے؟ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
Arabicقل لهم أيها النبي: أتُعلّمون الله بدينكم وحقيقة إيمانكم، والله يعلم ما في السماوات كلها وما في الأرض جميعًا لا يخفى عليه شيء منها؟ والله بكل شيء من أموركم عليم لا يحتاج إلى تعليم منكم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ - قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَعْطَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رِجَالاً وَلَمْ يُعْطِ رَجُلاً مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَلَمْ تُعْطِ فُلاَنًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوْ مُسْلِمٌ " . حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلاَثًا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَوْ مُسْلِمٌ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأُعْطِي رِجَالاً وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُمْ لاَ أُعْطِيهِ …
It was narrated from 'Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas that his father said:"The Prophet [SAW] gave a share (of some spoils of war) to some men and not to others. Sa'd said: 'O Messenger of Allah [SAW], you gave to so-and-so and so-and-so, but you did not give anything to so-and-so, and he is a believer.' The Prophet [SAW] said: 'Or a Muslim,' until Sa'd had repeated it three times, and the Prophet [SAW] said: 'I give to some men, and leave those who are dearer to me, without giving them anything, lest (the former) be thrown into Hell on their faces
ہمیں محمد بن عبد الاعلى نے خبر دی، کہا: ہمیں بیان کیا محمد نے - اور وہ ابن ثور ہے - کہا معمر نے، اور مجھے خبر دی الزهري نے، عامر بن سعد بن ابي وقاص سے، اس کے باپا سے، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجال کو أعطى کیا اور ان میں سے ایک رجل کو کچھ نہ دیا۔ کہا سعد: اے رسول اللہ! آپ نے فلاں اور فلاں کو دیا اور فلاں کو کچھ نہ دیا، اور وہ مؤمن ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: "یا مسلم"۔ یہاں تک کہ سعد نے اسے تین بار أعاد کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم "یا مسلم" کہہ رہے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: "میں رجال کو أعطي کرتا ہوں اور جو مجھے ان سے زیادہ أحب ہے اسے نہیں دیتا مخافہ کہ وہ النار میں ان کے وجوه پر کب ہوں۔"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas narrated from his father, who said:"I was ill during the year of the Conquest (of Makkah) with an illness bringing me to the brink of death. So The Messenger of Allah (S.A.W) came to visit me, and I said: 'O Messenger of Allah (S.A.W)! Indeed I have a great deal of wealth and I do not have any heirs except my daughter, so should I will all of my wealth?' He said: 'No.' I said: 'Then two-thirds of my wealth?' He said: 'No.' I said: 'Then half?' He said: 'No.' I said: 'Then a third' He said: 'No.' A third and a third is too much. If you leave your heirs without need it is better than to leave them in poverty begging from the people. Indeed you do not do any …
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں ایسا بیمار پڑا کہ موت کے قریب پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، کیا میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: دو تہائی مال کی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: آدھا مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: ایک تہائی کی؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کی وصیت کرو اور ایک تہائی بھی بہت ہے ۱؎، تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج و غریب چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھیریں، تم جو بھی خرچ کرتے ہو اس پر تم کو ضرور اجر …
Narrated `Abdullah bin Zaid bin `Asim:When Allah gave to His Apostle the war booty on the day of Hunain, he distributed that booty amongst those whose hearts have been (recently) reconciled (to Islam), but did not give anything to the Ansar. So they seemed to have felt angry and sad as they did not get the same as other people had got. The Prophet (ﷺ) then delivered a sermon before them, saying, "O, the assembly of Ansar! Didn't I find you astray, and then Allah guided you on the Right Path through me? You were divided into groups, and Allah brought you together through me; you were poor and Allah made you rich through me." Whatever the Prophet (ﷺ) said, they (i.e. the Ansar) said, "Allah …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ نے اس کی تقسیم کمزور ایمان کے لوگوں میں ( جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے ) کر دی اور انصار کو اس میں سے کچھ نہیں دیا۔ اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ وہ مال جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کو دیا انہیں کیوں نہیں دیا۔ آپ نے اس کے بعد انہیں خطاب کیا اور فرمایا: اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور تم میں آپس میں دشمنی اور نااتفاقی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم میں باہم الفت …
PickthallThey make it a favour unto thee (Muhammad) that they have surrendered (unto Him). Say: Deem not your Surrender a favour unto me; but Allah doth confer a favour on you, inasmuch as He hath led you to the Faith, if ye are earnest.
Yusuf AliThey impress on thee as a favour that they have embraced Islam. Say, "Count not your Islam as a favour upon me: Nay, Allah has conferred a favour upon you that He has guided you to the faith, if ye be true and sincere.
The agreed readingThey count it a favour to you that they have submitted. Say: do not count your submission a favour to me; rather God has done you a favour in guiding you to faith, if you are truthful.
Urduوہ اس بات کو تم پر احسان جتاتے ہیں کہ وہ اسلام لائے ہیں۔ کہہ دو: اپنے اسلام لانے کو مجھ پر احسان مت جتاؤ؛ بلکہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی طرف ہدایت دی، اگر تم سچے ہو۔
Arabicيمنّون عليك أيها النبي أنهم أسلموا وقبلوا دينك. قل لهم: لا تمنّوا عليّ بإسلامكم فإنه لكم لا لي، بل الله يمنّ عليكم أنتم أنه هداكم إلى الإيمان الحق، إن كنتم صادقين فيما تقولون.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ - قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَعْطَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رِجَالاً وَلَمْ يُعْطِ رَجُلاً مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَلَمْ تُعْطِ فُلاَنًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوْ مُسْلِمٌ " . حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلاَثًا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَوْ مُسْلِمٌ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأُعْطِي رِجَالاً وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُمْ لاَ أُعْطِيهِ …
It was narrated from 'Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas that his father said:"The Prophet [SAW] gave a share (of some spoils of war) to some men and not to others. Sa'd said: 'O Messenger of Allah [SAW], you gave to so-and-so and so-and-so, but you did not give anything to so-and-so, and he is a believer.' The Prophet [SAW] said: 'Or a Muslim,' until Sa'd had repeated it three times, and the Prophet [SAW] said: 'I give to some men, and leave those who are dearer to me, without giving them anything, lest (the former) be thrown into Hell on their faces
ہمیں محمد بن عبد الاعلى نے خبر دی، کہا: ہمیں بیان کیا محمد نے - اور وہ ابن ثور ہے - کہا معمر نے، اور مجھے خبر دی الزهري نے، عامر بن سعد بن ابي وقاص سے، اس کے باپا سے، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجال کو أعطى کیا اور ان میں سے ایک رجل کو کچھ نہ دیا۔ کہا سعد: اے رسول اللہ! آپ نے فلاں اور فلاں کو دیا اور فلاں کو کچھ نہ دیا، اور وہ مؤمن ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: "یا مسلم"۔ یہاں تک کہ سعد نے اسے تین بار أعاد کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم "یا مسلم" کہہ رہے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: "میں رجال کو أعطي کرتا ہوں اور جو مجھے ان سے زیادہ أحب ہے اسے نہیں دیتا مخافہ کہ وہ النار میں ان کے وجوه پر کب ہوں۔"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas narrated from his father, who said:"I was ill during the year of the Conquest (of Makkah) with an illness bringing me to the brink of death. So The Messenger of Allah (S.A.W) came to visit me, and I said: 'O Messenger of Allah (S.A.W)! Indeed I have a great deal of wealth and I do not have any heirs except my daughter, so should I will all of my wealth?' He said: 'No.' I said: 'Then two-thirds of my wealth?' He said: 'No.' I said: 'Then half?' He said: 'No.' I said: 'Then a third' He said: 'No.' A third and a third is too much. If you leave your heirs without need it is better than to leave them in poverty begging from the people. Indeed you do not do any …
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں ایسا بیمار پڑا کہ موت کے قریب پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، کیا میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: دو تہائی مال کی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: آدھا مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: ایک تہائی کی؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کی وصیت کرو اور ایک تہائی بھی بہت ہے ۱؎، تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج و غریب چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھیریں، تم جو بھی خرچ کرتے ہو اس پر تم کو ضرور اجر …
Narrated `Abdullah bin Zaid bin `Asim:When Allah gave to His Apostle the war booty on the day of Hunain, he distributed that booty amongst those whose hearts have been (recently) reconciled (to Islam), but did not give anything to the Ansar. So they seemed to have felt angry and sad as they did not get the same as other people had got. The Prophet (ﷺ) then delivered a sermon before them, saying, "O, the assembly of Ansar! Didn't I find you astray, and then Allah guided you on the Right Path through me? You were divided into groups, and Allah brought you together through me; you were poor and Allah made you rich through me." Whatever the Prophet (ﷺ) said, they (i.e. the Ansar) said, "Allah …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ نے اس کی تقسیم کمزور ایمان کے لوگوں میں ( جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے ) کر دی اور انصار کو اس میں سے کچھ نہیں دیا۔ اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ وہ مال جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کو دیا انہیں کیوں نہیں دیا۔ آپ نے اس کے بعد انہیں خطاب کیا اور فرمایا: اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور تم میں آپس میں دشمنی اور نااتفاقی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم میں باہم الفت …
PickthallLo! Allah knoweth the Unseen of the heavens and the earth. And Allah is Seer of what ye do.
Yusuf Ali"Verily Allah knows the secrets of the heavens and the earth: and Allah Sees well all that ye do."
The agreed readingGod knows the unseen of the heavens and the earth, and God sees everything that you do.
Urduاللہ آسمانوں اور زمین دونوں کا غیب پوری طرح جانتا ہے، اور اللہ وہ سب کچھ اچھی طرح دیکھنے والا ہے جو تم کرتے ہو، چاہے وہ چھپا ہو یا بالکل ظاہر ہو۔
Arabicإن الله يعلم غيب السماوات والأرض جميعًا لا يخفى عليه منه شيء، والله بصير بما تعملونه من الأعمال كلها، ظاهرها وخفيها، سبحانه لا تخفى عليه خافية.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 6 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة7 reports cited here — 6 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
1. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Mahbub from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that once the Messenger of Allah raised his head to the heaven and smiled. He was asked, ‘O Messenger of Allah, we saw you. Why did you raise your head to the heaven and smile?’ He then replied, ‘I was amazed when I saw two angels come down from the heaven looking for a believing, virtuous servant (of Allah) in the place he performs his prayers, so they can record his deeds of that day and night but they could not find him there. They then ascended to the heaven saying, “Lord, we looked for Your so and so believing servant in …
عدہ سے ہم نے احمد بن محمد سے، ابن محبوب سے، عبد الله بن سنان سے، ابی عبد الله علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو ہنستے ہوئے۔ ان سے کہا گیا: یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور ہنستے ہوئے۔ آپ نے کہا: ہاں، مجھے حیرت ہوئی دو فرشتوں کے لیے جو آسمان سے زمین پر اترے، ایک ایمان والے اور صالح بندے کو تلاش کر رہے تھے اس نماز کی جگہ میں جہاں وہ نماز پڑھتے تھے تاکہ اس کے دن اور رات کا عمل لکھیں۔ لیکن وہ اسے اس نماز کی جگہ میں نہ پایا۔ تو وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے اور کہا: ہمارے رب! تمہارے بندے ایمان والے فلاں کو ہم نے اس کی نماز کی جگہ تلاش کیا تاکہ اس کے دن رات کا عمل لکھیں لیکن ہم نہ پائے۔ لیکن ہم نے اسے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated `Abdullah bin Zaid bin `Asim:When Allah gave to His Apostle the war booty on the day of Hunain, he distributed that booty amongst those whose hearts have been (recently) reconciled (to Islam), but did not give anything to the Ansar. So they seemed to have felt angry and sad as they did not get the same as other people had got. The Prophet (ﷺ) then delivered a sermon before them, saying, "O, the assembly of Ansar! Didn't I find you astray, and then Allah guided you on the Right Path through me? You were divided into groups, and Allah brought you together through me; you were poor and Allah made you rich through me." Whatever the Prophet (ﷺ) said, they (i.e. the Ansar) said, "Allah …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ نے اس کی تقسیم کمزور ایمان کے لوگوں میں ( جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے ) کر دی اور انصار کو اس میں سے کچھ نہیں دیا۔ اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ وہ مال جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کو دیا انہیں کیوں نہیں دیا۔ آپ نے اس کے بعد انہیں خطاب کیا اور فرمایا: اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور تم میں آپس میں دشمنی اور نااتفاقی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم میں باہم الفت …
Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas narrated from his father, who said:"I was ill during the year of the Conquest (of Makkah) with an illness bringing me to the brink of death. So The Messenger of Allah (S.A.W) came to visit me, and I said: 'O Messenger of Allah (S.A.W)! Indeed I have a great deal of wealth and I do not have any heirs except my daughter, so should I will all of my wealth?' He said: 'No.' I said: 'Then two-thirds of my wealth?' He said: 'No.' I said: 'Then half?' He said: 'No.' I said: 'Then a third' He said: 'No.' A third and a third is too much. If you leave your heirs without need it is better than to leave them in poverty begging from the people. Indeed you do not do any …
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں ایسا بیمار پڑا کہ موت کے قریب پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، کیا میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: دو تہائی مال کی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: آدھا مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: ایک تہائی کی؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کی وصیت کرو اور ایک تہائی بھی بہت ہے ۱؎، تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج و غریب چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھیریں، تم جو بھی خرچ کرتے ہو اس پر تم کو ضرور اجر …
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) gave a Khutbah to the people on the day of the conquest of Makkah, and he said: "O you people! Verily Allah has removed the slogans of Jahiliyyah from you, and its reverence of its forefathers. So, now there are two types of men: A man who is righteous, has Taqwa and honorable before Allah, and a wicked man, who is miserable and insignificant to Allah. People are children of Adam and Allah created Adam from the dust. Allah said: O you people! We have created you from a male and a female, and made you into nations and tribes, that you may know one another. Verily, the most honorable of you with Allah is the one who has most Taqwa. Verily, …
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا: ”لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر و غرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے، اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں ( ۱ ) اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور ( ۲ ) دوسرا فاجر بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمزور، لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں۔ اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير» ”اے لوگو! ہم نے تمہیں نر اور مادہ ( کے ملاپ ) سے پیدا کیا اور ہم نے تمہیں کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، ( کہ کون کس قبیلے اور کس …
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us and said: 'Whoever has land, let him cultivate it or allow someone else to cultivate it, and not rent it out.' ”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں خود کھیتی کرے، یا کسی کو کھیتی کے لیے دیدے، لیکن کرائے پر نہ دے ۔
Yahya related to me from Malik from Damra ibn Said al-Mazini from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud that Umar ibn al-Khattab asked Abu Waqid al-Laythi what the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to recite in the prayers of Adha and Fitr. He said, "He used to recite Qaf (Sura 50) and al-lnshiqaq (Sura)
عمر بن خطاب نے پوچھا ابوواقد لیثی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی سورتیں پڑھتے تھے عیدین میں بو لے سورت قاف اور سورت قمر ۔
Narrated Abu Wa'il:from a man of Rabi'ah who said: "I arrived in Al-Madinah, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the emissary of 'Ad to him. I said: 'I seek refuge in Allah from being like the emissary of 'Ad.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'And what of the emissary of 'Ad?'" He said: "I said: You have got the one who is informed about it. When 'Ad suffered from famine they sent Qail and he stayed with Bakr bin Mu'awiyah. He gave him wine to drink and two slave girls to sing for him. Then he went out towards the mountains of Murrah and said: "O Allah! I did not come to You to cure a sick person, nor to ransom a captive! So give water to Your slave as You used to do, …
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا …