Pickthall(Here is) a surah which We have revealed and enjoined, and wherein We have revealed plain tokens, that haply ye may take heed.
Yusuf AliA sura which We have sent down and which We have ordained in it have We sent down Clear Signs, in order that ye may receive admonition.
The agreed readingA sūrah sent down and made binding: what is in it is not counsel but obligation. Clear signs were sent down in it, so that you would take heed and keep away from what is forbidden.
Urduیہ ایک ایسی سورت ہے جسے اللہ نے نازل فرمایا اور اس کے احکام کو لازمی فرض کے طور پر مقرر کیا جس میں اختیار کی گنجائش نہیں، اور اس میں واضح اور روشن آیات نازل کیں، تاکہ تم ان سے نصیحت حاصل کرو اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان سے بچو۔
Arabicهذه سورة أنزلها الله وفرض أحكامها على عباده فرضا لازما لا مجال فيه للاختيار، وأنزل فيها آيات واضحات بينات في أحكامها ومعانيها، لعلكم تتعظون بها وتجتنبون ما نهيتم عنه.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from `Ubadah bin Samit that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Learn from me. Allah (SWT) has ordained for them (women) another way. (If) a virgin (commits illegal sexual intercourse) with a virgin, (the punishment is) one hundred lashes and exile for one year. (If) a Thayyib (commits adultery) with a Thayyib (the punishment is) one hundred lashes and stoning.”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دین کے احکام ) مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ( جنہیں زنا کے جرم میں گھروں میں قید رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، اور اللہ کے حکم کا انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا ) راہ نکال دی ہے: کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے ۱؎۔
Ubada b. as-Samit reported:Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Receive (teaching) from me, receive (teaching) from me. Allah has ordained a way for those (women). When an unmarried male commits adultery with an unmarried female (they should receive) one hundred lashes and banishment for one year. And in case of married male committing adultery with a married female, they shall receive one hundred lashes and be stoned to death
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا : ہشیم نے ہمیں منصور سے خبر دی ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے حطان بن عبداللہ رقاشی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھ سے سیکھ لو ، مجھ سے سیکھ لو ، مجھ سے سیکھ لو ( جس طرح اللہ نے فرمایا تھا : " یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکالے ۔ " ( النساء : 15 : 4 ) اللہ نے ان کے لیے راہ نکالی ہے ، کنوارا ، کنواری سے ( زنا کرے ) تو ( ہر ایک کے لیے ) سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور شادی شدہ سے زنا کرے تو ( ہر ایک کے لیے ) سو کوڑے اور رجم ہے
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ قَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ فَأَخْشَى إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ مَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ …
Abdullah b. 'Abbas reported that 'Umar b. Khattab sat on the pulpit of Allah's Messenger (ﷺ) and said:Verily Allah sent Muhammad (ﷺ) with truth and He sent down the Book upon him, and the verse of stoning was included in what was sent down to him. We recited it, retained it in our memory and understood it. Allah's Messenger (ﷺ) awarded the punishment of stoning to death (to the married adulterer and adulteress) and, after him, we also awarded the punishment of stoning, I am afraid that with the lapse of time, the people (may forget it) and may say: We do not find the punishment of stoning in the Book of Allah, and thus go astray by abandoning this duty prescribed by Allah. Stoning is a duty …
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر تشریف فرما تھے : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی ، اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی ، ہم نے اسے پڑھا ، یاد کیا اور سمجھا ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ نے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی ، مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر ایک لمبا زمانہ گزر جائے گا تو کوئی کہنے والا کہے گا : ہم اللہ کی کتاب میں رجم ( کا حکم ) نہیں پاتے ، تو وہ لوگ ایسے فرض کو …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6829) Sahih Muslim (1691)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6829) Sahih Muslim (1691)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6829) Sahih Muslim (1691)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ، - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه خَطَبَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا وَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِهِ وَإِنِّي خَشِيتُ - إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ الزَّمَانُ - أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ تَعَالَى …
‘Abd Allah b. ‘Abbas said:‘Umar b. al-Khattab gave an address saying: Allah sent Muhammad (ﷺ) with truth and sent down the Books of him, and the verse of stoning was included in what He sent down to him. We read it and memorized it. The Messenger of Allah (ﷺ) had people stoned to death and we have done it also since his death. I am afraid the people might say with the passage of time: We do not find the verse of stoning in the Books of Allah, and thus they stray by abandoning a duty which Allah had received. Stoning is a duty laid down (by Allah) for married men and women who commit fornication when proof is established, or if there is pregnancy, or a confession. I swear by Allah, had it …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اس میں آپ نے کہا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی، تو جو آیتیں آپ پر نازل ہوئیں ان میں آیت رجم بھی ہے، ہم نے اسے پڑھا، اور یاد رکھا، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر زیادہ عرصہ گزر جائے تو کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ ہم اللہ کی کتاب میں آیت رجم نہیں پاتے، تو وہ اس فریضہ کو جسے اللہ نے نازل فرمایا ہے چھوڑ کر گمراہ ہو جائے، لہٰذا مردوں اور عورتوں میں سے جو زنا کرے اسے رجم ( سنگسار ) کرنا برحق ہے، جب وہ شادی شدہ ہو اور دلیل قائم ہو چکی ہو، یا حمل ہو جائے یا اعتراف کرے، اور قسم اللہ کی اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر …
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ، خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " .
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "(There are) two words which are dear to the Beneficent (Allah) and very light (easy) for the tongue (to say), but very heavy in weight in the balance. They are: ''Subhan Allah wa-bi hamdihi'' and ''Subhan Allah Al-`Azim." (see Hadith)
احمد بن إشكاب نے محمد بن فضيل سے روایت کی، محمد نے عمارة بن القعقاع سے روایت کی، عمارة نے ابو زرعة سے روایت کی، ابو زرعة نے ابو ہریرة رضی الله عنہ سے روایت کی۔ ابو ہریرة کہتے ہیں: نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: دو کلمات ہیں جو رحمٰن کو محبوب ہیں، زبان پر خفيفة ہیں لیکن ميزان میں ثقيلة ہیں: سبحان الله و بحمده، سبحان الله العظيم۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو طَلْحَةَ ـ رضى الله عنه ـ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ ". يُرِيدُ التَّمَاثِيلَ الَّتِي فِيهَا الأَرْوَاحُ.
Narrated Ibn `Abbas:Abu Talha, a companion of Allah's Messenger (ﷺ) and one of those who fought at Badr together with Allah's Apostle told me that Allah's Messenger (ﷺ) said. "Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture" He meant the images of creatures that have souls
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر بن راشد نے، انہیں زہری نے۔ (دوسری سند) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے، ان سے ابن شہاب (زہری) نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شریک تھے کہ فرشتے اس گھر میں نہیں آتے جس میں تصویر یا کتا ہو۔ ان کی مراد جاندار کی تصویر سے تھی۔
Narrated Ibn `Abbas:I used to teach (the Qur'an to) some people of the Muhajirln (emigrants), among whom there was `Abdur Rahman bin `Auf. While I was in his house at Mina, and he was with `Umar bin Al-Khattab during `Umar's last Hajj, `Abdur-Rahman came to me and said, "Would that you had seen the man who came today to the Chief of the Believers (`Umar), saying, 'O Chief of the Believers! What do you think about so-and-so who says, 'If `Umar should die, I will give the pledge of allegiance to such-andsuch person, as by Allah, the pledge of allegiance to Abu Bakr was nothing but a prompt sudden action which got established afterwards.' `Umar became angry and then said, 'Allah willing, I …
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں کئی مہاجرین کو ( قرآن مجید ) پڑھایا کرتا تھا۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ایک تھے۔ ابھی میں منیٰ میں ان کے مکان پر تھا اور وہ عمر رضی اللہ عنہ کے آخری حج میں ( سنہ 23 ھ ) ان کے ساتھ تھے کہ وہ میرے پاس لوٹ کر آئے اور کہا کہ کاش تم اس شخص کو دیکھتے جو آج امیرالمؤمنین کے پاس آیا تھا۔ اس نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! کیا آپ فلاں صاحب سے یہ پوچھ گچھ کریں گے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں صلاح صاحب طلحہ بن عبیداللہ سے بیعت کروں گا کیونکہ …
PickthallThe adulterer and the adulteress, scourge ye each one of them (with) a hundred stripes. And let not pity for the twain withhold you from obedience to Allah, if ye believe in Allah and the Last Day. And let a party of believers witness their punishment.
Yusuf AliThe woman and the man guilty of adultery or fornication,- flog each of them with a hundred stripes: Let not compassion move you in their case, in a matter prescribed by Allah, if ye believe in Allah and the Last Day: and let a party of the Believers witness their punishment.
The agreed readingThe woman and the man who commit fornication: a hundred lashes each. And no pity for the two of them is to hold you back from what God has laid down, if you believe in God and the Last Day. A group of the believers is to be present at the punishment.
Urduزانیہ عورت اور زانی مرد، ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو ان کے اس فعل کی سزا کے طور پر، اور ان پر ایسی نرمی تمہیں اللہ کی حد قائم کرنے سے نہ روکے اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر سچا ایمان رکھتے ہو، اور مومنوں کی ایک جماعت ان کی سزا کے وقت موجود ہو تاکہ یہ عبرت اور نصیحت کا باعث بنے۔
Arabicالزانية والزاني، اجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة عقوبة على فعلهما، ولا تأخذكم بهما رحمة تمنعكم من إقامة حد الله عليهما إن كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر إيمانا حقيقيا، وليحضر عقوبتهما جماعة من المؤمنين ليكون ذلك أبلغ في الزجر والعبرة.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 6 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة8 reports cited here — 6 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Ubada b. as-Samit reported:Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Receive (teaching) from me, receive (teaching) from me. Allah has ordained a way for those (women). When an unmarried male commits adultery with an unmarried female (they should receive) one hundred lashes and banishment for one year. And in case of married male committing adultery with a married female, they shall receive one hundred lashes and be stoned to death
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا : ہشیم نے ہمیں منصور سے خبر دی ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے حطان بن عبداللہ رقاشی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھ سے سیکھ لو ، مجھ سے سیکھ لو ، مجھ سے سیکھ لو ( جس طرح اللہ نے فرمایا تھا : " یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکالے ۔ " ( النساء : 15 : 4 ) اللہ نے ان کے لیے راہ نکالی ہے ، کنوارا ، کنواری سے ( زنا کرے ) تو ( ہر ایک کے لیے ) سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور شادی شدہ سے زنا کرے تو ( ہر ایک کے لیے ) سو کوڑے اور رجم ہے
It was narrated from `Ubadah bin Samit that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Learn from me. Allah (SWT) has ordained for them (women) another way. (If) a virgin (commits illegal sexual intercourse) with a virgin, (the punishment is) one hundred lashes and exile for one year. (If) a Thayyib (commits adultery) with a Thayyib (the punishment is) one hundred lashes and stoning.”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دین کے احکام ) مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ( جنہیں زنا کے جرم میں گھروں میں قید رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، اور اللہ کے حکم کا انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا ) راہ نکال دی ہے: کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے ۱؎۔
Ibn ‘Abbas said:The Qur’anic verse goes: “If any of your woman are guilty of lewdness, take the evidence of four (reliable) witnesses from amongst you against them, and if they testify, Confine them to houses until death do chain them or Allah ordains for them some (other) way. Allah then mentioned man after woman and combined them in another verse : “If two men among you are guilty of lewdness, punish them both. If they repent and amend, leave them alone. This command was abrogated by the verse relating to flogging : “The woman and the man guilty of adultery or fornication – flog each of them with one hundred stripes
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا» تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے ( سورۃ النساء: ۱۵ ) اور مرد کا ذکر عورت کے بعد کیا، پھر ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا فرمایا: «واللذان يأتيانها منكم فآذوهما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما» تم میں دونوں جو ایسا کر لیں انہیں ایذا دو اور اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منہ پھیر لو ( سورۃ النساء: ۱۶ ) ، پھر یہ «جَلْد» …
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid:Two men had a dispute in the presence of Allah's Messenger (ﷺ). One of them said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Judge between us according to Allah's Laws." The other who was wiser, said, "Yes, O Allah's Apostle! Judge between us according to Allah's Laws and allow me to speak. The Prophet (ﷺ) said, "Speak." He said, "My son was a laborer serving this (person) and he committed illegal sexual intercourse with his wife, The people said that my son is to be stoned to death, but I ransomed him with one-hundred sheep and a slave girl. Then I asked the learned people, who informed me that my son should receive one hundred lashes and will be exiled for one …
اسماعیل نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: مالک نے مجھے ابن شہاب سے روایت کی، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، ابو ہریرہ سے، اور زید بن خالد سے کہ ان دونوں نے انہیں خبر دی کہ دو آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) کے پاس اختلاف لے کر آئے۔ ایک نے کہا: ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کریں۔ دوسرے نے - اور وہ ان میں سے زیادہ عالم تھا - کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کریں، اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیں۔ کہا: بات کرو۔ وہ کہنے لگا: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا (مالک نے کہا: عسیف یعنی مزدور)۔ اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا۔ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کرنا ہے۔ تو میں نے اس سے سو بھیڑیں اور ایک لونڈی دے کر چھٹکارا پایا۔ پھر میں نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah and Zaid b. Khalid al-Juhani said:Two men brought a dispute before the Messenger of Allah (ﷺ). One of them said: Pronounce judgement between us in accordance with Allah’s Book, Messenger of Allah! The other who had more understanding said: Yes, Messenger of Allah! Pronounce judgement between us in accordance with Allah’s Book, and allow me to speak. He (the Prophet) said: Speak, He then said: My son who was a hired servant with this(man) committed fornication with his wife, and when I was told that my son must be stoned to death, I ransomed him with a hundred sheep and a slave girl of mine; but when I asked the learned, they told me that my son should receive a hundred lashes …
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے مابین اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ فرما دیجئیے، اور دوسرے نے جو ان دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا کہا: ہاں، اللہ کے رسول! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ فرمائیے، لیکن پہلے مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا: اچھا کہو اس نے کہنا شروع کیا: میرا بیٹا اس کے یہاں «عسیف» یعنی مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، تو میں نے اسے اپنی سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیئے میں دے دی، پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ پوچھا، تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی …
It was narrated from Abu Hurairah and Zaid bin Khalid Al-Juhani that:Two men referred a dispute to the Messenger of Allah [SAW]. One of them said: "O Messenger of Allah, pass judgment between us according to the Book of Allah." The other, who was wiser, said: "Yes, O Messenger of Allah, and allow me to speak." He said: "My son was a laborer serving this man, and he committed Zina with his wife. They told me that my son was to be stoned to death, but I ransomed him with one hundred sheep and a slave girl of mine. Then I asked the people of knowledge, who told me that my son was to be given one hundred lashes and exiled for a year, and that his (the man's) wife was to be stoned to death." The …
ہمیں محمد بن سلمہ نے بتایا، انہوں نے کہا کہ عبدالرحمن بن قاسم نے ہمیں خبر دی، مالک سے، ابن شہاب سے، عبیدالله بن عبدالله بن عتبہ سے، ابو ہریرہ اور زید بن خالد جہنی سے، کہ انہوں نے ان کو خبر دی کہ دو آدمی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس اپنے جھگڑے کے لیے آئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: ہمارے درمیان الله کی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں۔ دوسرے نے، جو ان میں زیادہ عالم تھے، کہا: ہاں، اے الله کے رسول، اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیں۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے یہاں ملازم تھا، اور اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم واجب ہے، تو میں نے اسے سو بکریوں اور اپنی ایک لونڈی سے چھڑایا۔ پھر میں نے علماء سے پوچھا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad and Ahmad ibn Muhammad all from ibn Mahbub from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ‘Abd Allah, has said that once this verse of the Holy Quran was revealed to the Messenger of Allah. ‘Collect religious tax (zakat) from them to purify and cleanse them . . .’ (9:103) It was revealed in the month of Ramadan, the Messenger of Allah commanded his announcer to announce among people that Allah has made it compulsory on you to pay zakat (charity) just as He has made obligatory upon you to perform Salah (prayer). Allah, the Most Majestic, the Most Glorious, has made it compulsory to pay zakat on gold and silver; and on …
ہمارے اصحاب کے ایک گروپ نے سہل بن زیاد اور احمد بن محمد سے روایت کی ہے، دونوں ابن محبوب سے روایت کرتے ہیں، وہ عبد اللہ بن سنان سے روایت کرتے ہیں۔ عبد اللہ بن سنان کہتے ہیں: ابوعبدالله علیہ السلام نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کی یہ آیت نازل کی "ان کے اموال سے صدقہ لے جو انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں بڑھاتا ہے" تو یہ رمضان کے مہینے میں نازل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنے منادی کو حکم دیا تو اس نے لوگوں میں اعلان کیا کہ اللہ نے تمہارے اوپر زکوۃ فرض کی ہے جیسے نماز فرض کی ہے۔ اللہ عز و جل نے ان پر سونے اور چاندی سے زکوۃ فرض کی اور اونٹ، گائے اور بکری سے صدقہ فرض کیا اور گندم، جو، کھجوریں اور کشمش سے۔ تو منادی نے رمضان کے مہینے میں ان میں یہ اعلان کیا اور اللہ نے انہیں اس کے علاوہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Ibn Mahbub has narrated from ‘ Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘If sweet basil is brought for one of you he must smell it and place it on his eyes because it is from the garden (paradises).”’
ابن محبوب نے عبد اللہ بن سنان سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو الْريْحَان لایا جائے تو وہ اسے سونگھے اور اسے اپنی آنکھوں پر رکھے، کیونکہ یہ من الْجَنَّة ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThe adulterer shall not marry save an adulteress or an idolatress, and the adulteress none shall marry save an adulterer or an idolater. All that is forbidden unto believers.
Yusuf AliLet no man guilty of adultery or fornication marry and but a woman similarly guilty, or an Unbeliever: nor let any but such a man or an Unbeliever marry such a woman: to the Believers such a thing is forbidden.
The agreed readingThe man given to fornication marries only a woman like himself or a woman who sets up partners with God, and the woman likewise; and marriage of that kind is forbidden to those who believe. The commentaries give the occasion together: some had wanted to marry women who were openly known for it.
Urduزنا میں مشہور مرد کی طرف رغبت صرف ایسی عورت کرتی ہے جو خود اسی جیسی بدکار ہو یا مشرکہ ہو جو اس کی پروا نہ کرے، اور زنا میں مشہور عورت کی طرف رغبت صرف ایسا مرد کرتا ہے جو خود بدکار ہو یا مشرک ہو، اور ایسا نکاح سچے مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔ روایات میں مل کر یہ بیان ہوا ہے کہ کچھ صحابہ نے ایک بدکار مشہور عورت سے نکاح کا ارادہ کیا تو اس سے منع کرتے ہوئے یہ آیت نازل ہوئی۔
Arabicالرجل المشهور بالزنا لا يرغب في نكاحه إلا امرأة مثله في الفجور أو امرأة مشركة لا تبالي بذلك، والمرأة المشهورة بالزنا لا يرغب في نكاحها إلا رجل مثلها فاجر أو رجل مشرك، وقد حرم مثل هذا الزواج على المؤمنين الصادقين. وقد اتفقت الروايات على سبب النزول: أن بعض الصحابة أراد أن يتزوج بامرأة معروفة بالفجور فنزلت الآية تحذر من ذلك.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭūsī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Qummī, al-Ṭūsī, al-Baghawī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr, al-Fayḍ al-Kāshānī, al-Ḥuwayzī, Ibn ʿĀshūr, Ṭabāṭabāʾī and Ṭanṭāwī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭūsī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated 'Amr bin Shu'aib:from his father, from his grandfather, who said "There was a man named Marthad bin Abi Marthad, and he was a man who would carry captives from Makkah to Al-Madinah." He said: "And there was a prostitute woman in Makkah called 'Anaq, who was a friend of his. He had promised a man from the captives of Makkah that he would transport him, and he said: 'So I came until I reached one of the walls of Makkah on a moon-lit night.' He said "'Anaq came along and she saw the darkness of my shadow next to the wall. When she reached me she recognized me and said: "Marthad?" So I replied: "(Yes it is) Marthad." She said: "Welcome, come and spend the night with us." I said: "O …
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مرثد بن مرثد نامی صحابی وہ ایسے ( جی دار و بہادر ) شخص تھے جو ( مسلمان ) قیدیوں کو مکہ سے نکال کر مدینہ لے آیا کرتے تھے، اور مکہ میں عناق نامی ایک زانیہ، بدکار عورت تھی، وہ عورت اس صحابی کی ( ان کے اسلام لانے سے پہلے کی ) دوست تھی، انہوں نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک قیدی شخص سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اسے قید سے نکال کر لے جائیں گے، کہتے ہیں کہ میں ( اسے قید سے نکال کر مدینہ لے جانے کے لیے ) آ گیا، میں ایک چاندنی رات میں مکہ کی دیواروں میں سے ایک دیوار کے سایہ میں جا کر کھڑا ہوا ہی تھا کہ عناق آ گئی۔ دیوار کے اوٹ میں میری سیاہ پرچھائیں اس نے دیکھ لی، جب میرے قریب پہنچی تو مجھے پہچان کر پوچھا: مرثد ہونا؟ میں نے کہا: ہاں، مرثد ہوں، اس نے خوش …
Narrated Ibn 'Abbas:It was narrated from Ibn 'Abbas that a man came to the Messenger of Allah and said: "I have a wife who is one of the most beloved of the people to me, but she does not object if anyone touches her." He said: "Divorce her." He said: "I cannot do without her." He said: "Then stay with her as much as you need to
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میری ایک بیوی ہے جو مجھے سبھی لوگوں سے زیادہ محبوب ہے مگر خرابی یہ ہے کہ وہ کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی ۱؎، آپ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو“، اس نے کہا: میں اس کے بغیر رہ نہ پاؤں گا۔ تو آپ نے کہا: پھر تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ( اور وہ جو دوسروں کو تیرا مال لے لینے دیتی ہے، اسے نظر انداز کر دے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث ( صحیح ) ثابت نہیں ہے، عبدالکریم ( راوی ) زیادہ قوی نہیں ہے اور ہارون بن رئاب ( راوی ) عبدالکریم سے زیادہ قوی راوی ہیں۔ انہوں نے اس حدیث کو مرسل بیان کیا ہے ہارون ثقہ راوی ہیں اور ان کی حدیث عبدالکریم کی حدیث کے مقابل میں زیادہ صحیح اور درست لگتی ہے۔
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The adulterer is not a believer while he is committing adultery, and the thief is not a believer while he is stealing, but there is a chance for repentance; (if he repents, Allah will accept the repentance)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا ۱؎ اور جب چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو چوری کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا، لیکن اس کے بعد بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، عائشہ اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ایک اور حدیث مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس کے اندر سے نکل کر اس کے سر کے اوپر چھتری جیسا ( معلق ) ہو جاتا ہے، اور جب اس فعل ( شنیع ) سے فارغ ہو جاتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا …
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet [SAW] said: "The adulterer is not a believer at the moment when he is committing adultery, and the thief is not a believer at the moment when he is stealing, and the wine drinker is not a believer at the moment when he is drinking wine, and the robber is not a believer at the moment when he is robbing and taking something valuable by force while the Muslims are looking at it
اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں خبر دی، کہا: ولید بن مسلم نے ہمیں حدیث سنائی، اوزاعی سے، زہری سے، کہا: سعید بن مسیب، ابو سلمہ بن عبدالرحمن، ابو بکر بن عبدالرحمن سب نے مجھ سے حدیث سنائی، ابو ہریرہ سے، نبی صلى الله عليه وسلم سے، کہا: زانی زنا نہ کرتا ہے جب وہ زنا کرتا ہے اور وہ مومن ہو۔ اور چور چوری نہ کرتا ہے جب وہ چوری کرتا ہے اور وہ مومن ہو۔ اور شراب پینے والا شراب نہ پیتا ہے جب وہ شراب پیتا ہے اور وہ مومن ہو۔ اور ناہب لوٹ نہ لیتا ہے بیش قیمتی چیز لوٹ کر جب کہ مسلمان اپنی نظریں اس کی طرف اٹھاتے ہوں اور وہ مومن ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated from abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"No one who commits Zina is a believer at the moment when he is committing Zina; no one who steals is a believe at the moment when he is stealing; no one who drinks wine is a believer at the moment when he is drinking it; and no robber is a believer at the moment when he is robbing and the people are looking on
الربیع بن سلیمان نے خبر دی، کہا کہ شعیب بن اللیث نے حدیث دی، کہا کہ لیث نے ابن عجلان سے، وہ قعقاع سے، وہ ابو صالح سے، وہ ابو ہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زانی موقع زنا پر بھی مومن نہیں ہے، چور موقع چوری پر بھی مومن نہیں ہے، شراب پینے والا موقع شراب پینے پر بھی مومن نہیں ہے، اور جو لوٹ مار کرے عزت والی لوٹ مار جو لوگ اپنی نگاہیں اس کی طرف لگاتے ہوں تو وہ بھی اس موقع پر مومن نہیں ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah observed:The fornicator who fornicates is not a believer so long as he commits it and no thief who steals is a believer as long as he commits theft, and no drunkard who drinks wine is a believer as long as he drinks it. 'Abdul-Malik b. Abi Bakr' narrated this on the authority of Abu Bakr b. Abdur-Rahman b. Harith and then said: Abu Huraira made this addition: No plunderer who plunders a valuable thing that attracts the attention of people is a believer so long as he commits this act
یونس بن ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے سنا ، دونوں کہتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’زانی زنا نہیں کرتا کہ جب زنا کر رہا ہو تو وہ مومن ہو ، چور چوری نہیں کرتا کہ جب چوری کرر ہا ہو تو وہ مومن ہو ، شرابی شراب نہیں پیتا کہ جب شراب پی رہا ہو تو وہ مومن ہو ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے بیان کیا کہ عبد الملک بن ابی بکر بن عبد الرحمٰن نے مجھےخبر دی کہ ( اس کے والد ) ابوبکر ان کے سامنے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ سب باتیں روایت کرتے ، پھرکہتے : اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان میں یہ بات بھی شامل کرتے تھے کہ ’’کسی بڑی قدر و قیمت والی چیز کو ، جس کی وجہ سے لوگ لوٹنے والے کی طرف نظر اٹھا …
1. Al-Husayn ibn Muhammad has narrated from Mu’alla’ ibn Muhammad from al-Hassan ibn Ali from Hammad ibn ‘Uthaman who has said the following: “Once, a man came to abu ‘ Abd Allah (a.s.), to complain before him (the Imam) against one of his companions. In a little while the defendant came in and abu ‘Abd Allah (a.s.), asked, ‘Why does so and so complain against you?’ He replied, ‘It is because I asked him for payment of what he owes to me.’ He (the narrator) has said that abu ‘Abd Allah (a.s.), then sat straight with anger and said, ‘It seems as if when you demand for payment of what others owe, you do not consider it maltreating him. Consider what Allah, most Majestic, most Glorious, has …
حسین بن محمد نے معلیٰ بن محمد سے روایت کی، حسن بن علی سے، حماد بن عثمان سے، انہوں نے کہا: ایک شخص ابی عبد اللہ علیہ السلام کے پاس گیا اور انہیں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں شکایت کی۔ تھوڑی دیر میں وہ شخص جو شکایت کا موضوع تھا، وہاں آ گیا۔ ابی عبد اللہ علیہ السلام نے اس سے کہا: فلاں آپ کے خلاف شکایت کیوں کر رہے ہیں؟ اس نے کہا: وہ اس لیے کہ میں نے اپنا حق ان سے مانگا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابی عبد اللہ علیہ السلام غصے میں بیٹھ گئے اور کہا: ایسا لگتا ہے کہ جب تم اپنا حق مانگتے ہو تو تمہیں لگتا ہے کہ یہ غلط نہیں۔ کیا تم نے دیکھا کہ اللہ عز و جل نے اپنی کتاب میں کیا کہا: "وہ برے حساب سے ڈرتے ہیں۔" کیا تمہیں لگتا ہے کہ وہ اللہ سے اس لیے ڈرتے تھے کہ اللہ ان پر ظلم کریں گے؟ نہیں، خدا کی قسم، وہ صرف حق کے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Muhammad b. Yahya has narrated from Ahmad b. Muhammad from Muhammad b. Isma‘il from al-Fadl b. Shadhan from Abul Sabbah al-Kinaniy who has said the following: “Abu Abdillah (as), has said, ‘For killing pigeons and its like in the state of Ihram, the ransom is one sheep, and for chicks it is one lamb for each.’ He (the Imam) was asked about a man who steps on the eggs of ostrich and breaks it, the Imam said, ‘Ali (as), issued a judgment that said, “He must send male camel on a female camel (i.e. to breed) to make an equal number of eggs affected and the mature offspring is sent as an offering for the Ka'aba."
2۔ محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے روایت کی، انہوں نے محمد بن اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن فضیل سے، انہوں نے ابو الصباح الکنانی سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے کہا: کبوتر اور اس کی ہمسری چیزوں کے بارے میں - اگر محرم اسے قتل کرے تو ایک بکری کا جزیہ ہے۔ اور اگر وہ بچے ہوں تو ہر ایک کے برابر ایک برّہ ہے۔ اور ایک آدمی کے بارے میں کہا جو شتر مرغ کے انڈے پر قدم رکھے اور انہیں توڑے جبکہ وہ محرم ہو - تو امام نے کہا: علی علیہ السلام نے فیصلہ دیا ہے کہ وہ انڈوں کی تعداد کے برابر نر اونٹوں کو مادہ اونٹوں کے پاس بھیجے تاکہ وہ حمل ہوں، اور جو اولاد محفوظ رہے یہاں تک کہ پیدا ہو، وہ اولاد خانہ کعبے کے لیے قربانی ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
4. A number of our people have narrated from Sahl ibn Ziyad from Ahmad ibn Muhammad from ibn abu Nasr from ‘Abd Allah ibn Muhammad al-Shamiy from al-Husayn ibn Hanzalah who has said the following: “One of the two Imam, (abu Ja‘far or abu ‘Abd Allah), ‘Alayhim al-Salam, has said, ‘Gourd, squash increases al-Damagh (abilities of the brain).”’
ہمارے اصحاب کے ایک گروپ نے، سہل بن زیاد سے، احمد بن محمد بن ابی نصر سے، عبداللہ بن محمد الشامی سے، حسین بن حنظلہ سے روایت کی ہے، ان میں سے کسی ایک (دونوں اماموں میں سے) علیہما السلام سے، کہا: الدباء دماغ میں اضافہ کرتا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd those who accuse honourable women but bring not four witnesses, scourge them (with) eighty stripes and never (afterward) accept their testimony - They indeed are evil-doers -
Yusuf AliAnd those who launch a charge against chaste women, and produce not four witnesses (to support their allegations),- flog them with eighty stripes; and reject their evidence ever after: for such men are wicked transgressors;-
The agreed readingThose who accuse chaste women and then cannot bring four witnesses who saw it: eighty lashes, and their testimony is never to be accepted again. They are the ones who have left obedience behind.
Urduاور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار عادل گواہ نہ لا سکیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ فعل دیکھا ہو، تو انہیں ان کے جھوٹے الزام کی سزا میں اسی کوڑے مارو، اور آئندہ کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ اس تہمت کی وجہ سے اللہ کی اطاعت سے نکلے ہوئے فاسق ہیں۔
Arabicوالذين يتهمون النساء العفيفات بالزنا ثم لا يأتون بأربعة شهود عدول رأوا الفعل بأعينهم، فاجلدوهم ثمانين جلدة على كذبهم في القذف، ولا تقبلوا لهم شهادة أبدا في أي أمر بعد ذلك، وأولئك هم الخارجون عن طاعة الله بهذا القذف.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Ṭūsī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, Ibn Kathīr, al-Ḥuwayzī, Ibn ʿĀshūr and Ṭabāṭabāʾī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے ۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
Abu Hurairah said A man from Banu Fazarah came to the Prophet (ﷺ) and said “My wife has given birth to a black son”. He said “Have you any camels?” He said “They are red”. He asked “Is there a dusky one among them?” He replied “Some of them are dusky”. He asked “How do you think they have come about?” He replied “This may be a strain to which they reverted”. He said “And this is perhaps a strain to which the child has reverted.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی فزارہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا بچہ جنا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پوچھا: کون سے رنگ کے ہیں؟ جواب دیا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کوئی خاکستری بھی ہے؟ جواب دیا: ہاں، خاکی رنگ کا بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ ، بولا: شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں بھی ہو سکتا ہے ( تمہارے لڑکے میں بھی ) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو ۱؎ ۔
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man from Banu Fazarah came to the Prophet and said: 'My wife has given birth to a black boy' -and he wanted to disown him. He said: 'Do you have camels?' He said: 'Yes.' He said: 'What color are they?' He said: 'Red.' He said: 'Are there any gray ones among them?' He said: 'There are some gray camels among them.' He said: 'Why is that do you think?' He said: 'Perhaps it is hereditary.' He said: 'Perhaps this is hereditary.' And he did not permit him to disown him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: سرخ، آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے؟“ اس نے کہا ( جی ہاں ) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا: کسی رگ نے اسے کھینچا ہو گا۔ آپ نے فرمایا: ” ( یہ بھی ایسا ہی سمجھ ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہو گا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْبَيِّنَةُ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . فَقَالَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي . قَالَ فَنَزَلَتْ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ} . حَتَّى بَلَغَ {وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ …
It was narrated from Ibn 'Abbas that:Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of the Prophet (ﷺ) of (committing adultery) with Sharik bin Sahma'. The Prophet said: "Bring proof or you will feel the Hadd (punishment) on your back." Hilal bin Umayyah said: "By the One Who sent you with the truth, I am telling the truth, and Allah will send down revelation concerning my situation which will spare my back." Then the following was revealed: "And for those who accuse their wives, but have no witnesses except themselves, let the testimony of one of them be four testimonies (i.e., testifies four times) by Allah that he is one of those who speak the truth. And the fifth (testimony should …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ ( بدکاری کا ) الزام لگایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں، اور اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی ایسا حکم اتارے گا جس سے میری پیٹھ حد لگنے سے بچ جائے گی، راوی نے کہا: پھر یہ آیت اتری: «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں ہوتے… یہاں تک کہ اخیر آیت: «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» ( سورة النور: ۶-۹ …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْبِيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ فَقَالَ هِلاَلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلاً عَلَى امْرَأَتِهِ أَيَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيَنْزِلَنَّ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ …
Narrated Ibn 'Abbas:"Hilal bin Umayyah went to the Prophet (ﷺ) and accused his wife of committing illegal sexual intercourse with Sharik bin Sahma. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Either you produce proof, or you will receive the legal punishment on your back.'" He said: "Hilal said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! If one of us saw a man over his wife, should he go and search for witnesses?' The Prophet (ﷺ) kept on saying: 'Either you produce proof, or you will receive the legal punishment on your back.'" He said: "Hilal then said, 'By Him Who sent you with the Truth and Allah will reveal to you what will save my back from the legal punishment.' Then (the following) was revealed: And for those …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی، ہلال نے کہا: جب ہم میں سے کوئی کسی شخص کو اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہوا دیکھے گا تو کیا وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے کہ تم گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی۔ ہلال نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں سچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے میں کوئی ایسی چیز ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو حد سے بچا دے گی، پھر ( اسی موقع پر ) آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم …
Malik related to me from Hisham ibn Urwa that his father said that there was only one hadd against a man who slandered a group of people. Malik said, "If they are on separate occasions there is still only one hadd against him." Malik related to me from Abu'r-Rijal Muhammad ibn Abd ar-Rahman ibn Haritha ibn an-Numan al- Ansari, then from the Banu'n-Najar from his mother Amra bint Abd ar- Rahman that two men cursed each other in the time of Umar ibn al- Khattab. One of them said to the other, " By Allah, my father is not an adulterer and my mother is not an adulteress." Umar ibn al-Khattab asked advice about that. One person said, "He has praised his father and mother." Another said, "His …
امام مالک سے روایت ہے ہشام بن عروہ سے، ان کے باپ سے، کہ انہوں نے ایک شخص کے بارے میں کہا جو ایک جماعت کو برا کہے تو اس پر صرف ایک سزا ہے۔ امام مالک نے کہا: اگر وہ الگ الگ موقع پر ہو تب بھی اس پر صرف ایک سزا ہے۔ امام مالک سے روایت ہے ابو الرجال محمد بن عبد الرحمن بن حارثہ بن النعمان الانصاری، پھر بنو النجار سے، اپنی والدہ عمرہ بنت عبد الرحمن سے، کہ دو آدمی عمر بن خطاب کے زمانے میں گالی گلوچ کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: الله کی قسم، میرا باپ زانی نہیں ہے اور نہ میری ماں زانیہ ہے۔ تو عمر بن خطاب نے اس بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا۔ ایک نے کہا: اس نے اپنے باپ اور ماں کی تعریف کی ہے۔ دوسروں نے کہا: اس کے باپ اور ماں کے لیے اس کے علاوہ دوسری تعریف ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسے سزا دی جائے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Huraira:A bedouin came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "My wife has delivered a black child." The Prophet (ﷺ) said to him, "Have you camels?" He replied, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "What color are they?" He replied, "They are red." The Prophet (ﷺ) further asked, "Are any of them gray in color?" He replied, "Yes." The Prophet asked him, "Whence did that grayness come?" He said, "I thing it descended from the camel's ancestors." Then the Prophet (ﷺ) said (to him), "Therefore, this child of yours has most probably inherited the color from his ancestors
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! میری بیوی نے کالا لڑکا جنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان کے رنگ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سرخ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا جس کی وجہ سے ایسا اونٹ پیدا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا بھی …
Narrated Abu Huraira:A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! A black child has been born for me." The Prophet asked him, "Have you got camels?" The man said, "Yes." The Prophet (ﷺ) asked him, "What color are they?" The man replied, "Red." The Prophet (ﷺ) said, "Is there a grey one among them?' The man replied, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Whence comes that?" He said, "May be it is because of heredity." The Prophet (ﷺ) said, "May be your latest son has this color because of heredity
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے یہاں تو کالا کلوٹا بچہ پیدا ہوا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سرخ رنگ کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ انہوں نے کہا کہ اپنی نسل کے کسی بہت پہلے کے اونٹ پر یہ پڑا …
Narrated AbuHurayrah: AbuHurayrah heard the Messenger of Allah (ﷺ) say when the verse about invoking curses came down: Any woman who brings to her family one who does not belong to it has nothing to do with Allah (i.e. expects no mercy from Allah), and Allah will not bring her into His Paradise. Allah, the Exalted, will veil Himself from any man who disowns his child when he looks at him, and disgrace him in the presence of all creatures, first and last
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کر دیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہو گا، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا ۱؎ ۔
PickthallSave those who afterward repent and make amends. (For such) lo! Allah is Forgiving, Merciful.
Yusuf AliUnless they repent thereafter and mend (their conduct); for Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.
The agreed readingExcept those who repent after it and set right what they did. God is forgiving to them and merciful, and the repentance is what ends the state they had fallen into.
Urduسوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس جھوٹی تہمت کے بعد توبہ کر لی اور اپنے اعمال درست کر لیے اور سچے دل سے توبہ کی، تو اللہ ان کے لیے بخشنے والا اور ان پر رحم کرنے والا ہے، اور یہی سچی توبہ ہے جو ان سے فسق کا وہ حکم اٹھا دیتی ہے جس میں وہ پڑ گئے تھے۔
Arabicإلا الذين تابوا من بعد هذا القذف الكاذب وأصلحوا أعمالهم وصدقوا في توبتهم، فإن الله غفور لهم رحيم بهم، والتوبة الصادقة هي التي ترفع عنهم حكم الفسق الذي وقعوا فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Rāzī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے ۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
Abu Hurairah said A man from Banu Fazarah came to the Prophet (ﷺ) and said “My wife has given birth to a black son”. He said “Have you any camels?” He said “They are red”. He asked “Is there a dusky one among them?” He replied “Some of them are dusky”. He asked “How do you think they have come about?” He replied “This may be a strain to which they reverted”. He said “And this is perhaps a strain to which the child has reverted.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی فزارہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا بچہ جنا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پوچھا: کون سے رنگ کے ہیں؟ جواب دیا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کوئی خاکستری بھی ہے؟ جواب دیا: ہاں، خاکی رنگ کا بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ ، بولا: شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں بھی ہو سکتا ہے ( تمہارے لڑکے میں بھی ) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو ۱؎ ۔
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man from Banu Fazarah came to the Prophet and said: 'My wife has given birth to a black boy' -and he wanted to disown him. He said: 'Do you have camels?' He said: 'Yes.' He said: 'What color are they?' He said: 'Red.' He said: 'Are there any gray ones among them?' He said: 'There are some gray camels among them.' He said: 'Why is that do you think?' He said: 'Perhaps it is hereditary.' He said: 'Perhaps this is hereditary.' And he did not permit him to disown him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: سرخ، آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے؟“ اس نے کہا ( جی ہاں ) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا: کسی رگ نے اسے کھینچا ہو گا۔ آپ نے فرمایا: ” ( یہ بھی ایسا ہی سمجھ ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہو گا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْبِيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ فَقَالَ هِلاَلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلاً عَلَى امْرَأَتِهِ أَيَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيَنْزِلَنَّ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ …
Narrated Ibn 'Abbas:"Hilal bin Umayyah went to the Prophet (ﷺ) and accused his wife of committing illegal sexual intercourse with Sharik bin Sahma. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Either you produce proof, or you will receive the legal punishment on your back.'" He said: "Hilal said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! If one of us saw a man over his wife, should he go and search for witnesses?' The Prophet (ﷺ) kept on saying: 'Either you produce proof, or you will receive the legal punishment on your back.'" He said: "Hilal then said, 'By Him Who sent you with the Truth and Allah will reveal to you what will save my back from the legal punishment.' Then (the following) was revealed: And for those …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی، ہلال نے کہا: جب ہم میں سے کوئی کسی شخص کو اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہوا دیکھے گا تو کیا وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے کہ تم گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی۔ ہلال نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں سچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے میں کوئی ایسی چیز ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو حد سے بچا دے گی، پھر ( اسی موقع پر ) آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْبَيِّنَةُ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . فَقَالَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي . قَالَ فَنَزَلَتْ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ} . حَتَّى بَلَغَ {وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ …
It was narrated from Ibn 'Abbas that:Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of the Prophet (ﷺ) of (committing adultery) with Sharik bin Sahma'. The Prophet said: "Bring proof or you will feel the Hadd (punishment) on your back." Hilal bin Umayyah said: "By the One Who sent you with the truth, I am telling the truth, and Allah will send down revelation concerning my situation which will spare my back." Then the following was revealed: "And for those who accuse their wives, but have no witnesses except themselves, let the testimony of one of them be four testimonies (i.e., testifies four times) by Allah that he is one of those who speak the truth. And the fifth (testimony should …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ ( بدکاری کا ) الزام لگایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں، اور اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی ایسا حکم اتارے گا جس سے میری پیٹھ حد لگنے سے بچ جائے گی، راوی نے کہا: پھر یہ آیت اتری: «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں ہوتے… یہاں تک کہ اخیر آیت: «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» ( سورة النور: ۶-۹ …
Narrated AbuHurayrah: AbuHurayrah heard the Messenger of Allah (ﷺ) say when the verse about invoking curses came down: Any woman who brings to her family one who does not belong to it has nothing to do with Allah (i.e. expects no mercy from Allah), and Allah will not bring her into His Paradise. Allah, the Exalted, will veil Himself from any man who disowns his child when he looks at him, and disgrace him in the presence of all creatures, first and last
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کر دیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہو گا، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا ۱؎ ۔
و ما كان فيه عن جرّاح المدائنيّ فقد رويته عن أبي رضي اللّه عنه- عن سعد ابن عبد اللّه، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسين بن سعيد، عن النضر بن سويد، عن القاسم بن سليمان، عن جرّاح المدائنيّ.
Everything in this book that is narrated from Jarrah Al-Mada'ini has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ahmad ibn Muhammad ibn 'Isa, from Al-Husayn ibn Sa'id, from Al-Nadr ibn Suwayd, from Al-Qasim ibn Sulayman, from Jarrah Al-Mada'ini.
اور جو اس کتاب میں جرّاح المدائنی سے روایت ہے تو میں نے اسے اپنے باپ سے روایت کی ہے - اللہ انہیں رضی کرے - سعد بن عبداللہ سے، احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، الحسین بن سعید سے، نضر بن سوید سے، قاسم بن سلیمان سے، جرّاح المدائنی سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Jamil ibn Darraj who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘An Imam must perform Salat (prayer) of al-Zuhr in Mina, stay the night there till the morning until sunrise; then leave for ‘Arafat . ‘“
علی بن ابراہیم نے اپنے باپا سے، باپا نے ابن أبي عمير سے، ابن أبي عمير نے جميل بن دراج سے روایت کی۔ جميل کہتے ہیں: ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: الإمام پر أن یصلی الظہر بمنیٰ، پھر وہاں بیت کرے اور صبح ہو جائے یہاں تک کہ الشمس نکلے، پھر عرفات کی طرف نکلے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ جَمِيلِ بْنِ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) أَوْصَانِي جَبْرَئِيلُ ( عليه السلام ) بِالسِّوَاكِ حَتَّى خِفْتُ عَلَى أَسْنَانِي .
8. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Jamil ibn Darraj who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, has said, ‘Jibril recommend me to brush my teeth so much so that I began to fear for my teeth.’”
علی بن ابراہیم روایت کرتے ہیں اپنے والد سے، ابن ابی عمیر سے، جمیل بن درّاج سے، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: جبریل (علیہ السلام) نے مجھے السواك کی وصیت کی یہاں تک کہ میں اپنے أسنان کے لیے خوف زدہ ہو گیا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAs for those who accuse their wives but have no witnesses except themselves; let the testimony of one of them be four testimonies, (swearing) by Allah that he is of those who speak the truth;
Yusuf AliAnd for those who launch a charge against their spouses, and have (in support) no evidence but their own,- their solitary evidence (can be received) if they bear witness four times (with an oath) by Allah that they are solemnly telling the truth;
The agreed readingA man who accuses his own wife and has no witness against her but himself: his testimony is four testimonies sworn by God that he is telling the truth.
Urduاور جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہ ہو، تو ان میں سے ہر ایک کی گواہی یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ اپنے اس الزام میں سچا ہے۔
Arabicوالذين يتهمون زوجاتهم بالزنا ولا يجدون شهودا عدولا على ذلك سوى أنفسهم، فشهادة أحدهم في هذه الحالة أن يشهد أربع مرات بالله العظيم أنه لصادق فيما رمى به زوجته من الفاحشة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Zamakhsharī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Zamakhsharī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr and Ṭanṭāwī on this āyah
al-Zamakhsharī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ". فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلاً يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ. فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ، فَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، …
Narrated Ibn `Abbas:Hilal bin Umaiya accused his wife of committing illegal sexual intercourse with Sharik bin Sahma' and filed the case before the Prophet. The Prophet (ﷺ) said (to Hilal), "Either you bring forth a proof (four witnesses) or you will receive the legal punishment (lashes) on your back." Hilal said, "O Allah's Apostle! If anyone of us saw a man over his wife, would he go to seek after witnesses?" The Prophet (ﷺ) kept on saying, "Either you bring forth the witnesses or you will receive the legal punishment (lashes) on your back." Hilal then said, "By Him Who sent you with the Truth, I am telling the truth and Allah will reveal to you what will save my back from legal …
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ہلال بن امیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت لگائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر کو مبتلا دیکھتا ہے تو کیا وہ ایسی حالت میں گواہ تلاش کرنے جائے گا؟ لیکن آپ یہی فرماتے رہے کہ گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری کی جائے گی۔ اس پر ہلال نے عرض کیا۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی ایسی آیت نازل فرمائے …
Ibn ‘Abbas said “Hilal bin Umayyah was one of the three persons whose repentance was accepted by Allaah. One night he returned from his land and found a man along with his wife. He witnessed with his eyes and heard with his ears. He did not threaten him till the morning.” Next day he went to the Apostle of Allaah(ﷺ) in the morning and said Apostle of Allaah(ﷺ) “I came to my wife in the night and found a man along with her. I saw with my own eyes and heard with my own ears. The Apostle of Allaah(ﷺ) disliked what he described and he took it seriously. There upon the following Qur’anic verse came down “And those who make charges against their spouses but have no witnesses except themselves, …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ( جو کہ ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے ( ایک غزوہ میں پچھڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کے بعد ) توبہ قبول فرمائی تھی، وہ ) اپنی زمین سے رات کو آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا، اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھا، اور کانوں سے پوری گفتگو سنی، لیکن صبح تک اس معاملہ کو دبا کر رکھا، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کو میں گھر آیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک مرد کو پایا، اپنی آنکھوں سے ( سب کچھ ) دیکھا، اور کانوں سے ( سب ) سنا، ان کی ان باتوں کو آپ نے ناپسند کیا اور ان پر ناگواری کا اظہار فرمایا، تو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْبِيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ فَقَالَ هِلاَلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلاً عَلَى امْرَأَتِهِ أَيَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيَنْزِلَنَّ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ …
Narrated Ibn 'Abbas:"Hilal bin Umayyah went to the Prophet (ﷺ) and accused his wife of committing illegal sexual intercourse with Sharik bin Sahma. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Either you produce proof, or you will receive the legal punishment on your back.'" He said: "Hilal said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! If one of us saw a man over his wife, should he go and search for witnesses?' The Prophet (ﷺ) kept on saying: 'Either you produce proof, or you will receive the legal punishment on your back.'" He said: "Hilal then said, 'By Him Who sent you with the Truth and Allah will reveal to you what will save my back from the legal punishment.' Then (the following) was revealed: And for those …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی، ہلال نے کہا: جب ہم میں سے کوئی کسی شخص کو اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہوا دیکھے گا تو کیا وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے کہ تم گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی۔ ہلال نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں سچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے میں کوئی ایسی چیز ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو حد سے بچا دے گی، پھر ( اسی موقع پر ) آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2671)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2671)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2671)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلاً عَلَى امْرَأَتِهِ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ …
Ibn ‘Abbas said “Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of Prophet (ﷺ) of having committed adultery with Sharik bin Sahma’”. The Prophet (ﷺ) said “Produce evidence or you must receive punishment on your back.” He said “Apostle of Allaah(ﷺ) when one of us sees a man having intercourse with his wife should he go and seek evidence?” But the Prophet (ﷺ) merely said “You must produce evidence or you must receive punishment on your back.” Hilal then said “By Him Who sent you with the Truth, I am speaking Truly. May Allaah send down something which will free my back from punishment. Then the following Qur’anic verses were revealed “And those who make charges against their spouses but …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ ( زنا کی ) تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ پیٹھ پر کوڑے لگیں گے ، تو ہلال نے کہا کہ: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص کسی آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈنے جائے؟ اس پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرمائے جا رہے تھے کہ: گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے پڑیں گے ، تو ہلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے بارے میں وحی نازل کر کے میری پیٹھ کو حد سے بری کرے گا، چنانچہ «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» کی …
Narrated Sa'eed bin Jubair:"I was asked about those who were involved in the case of Li'an and if they are to be separated, during the leadership of Mus'ab bin Az-Zubair. I did not know what to say. So I went to the house of 'Abdullah bin 'Umar and I sought permission to enter. I was told he was taking a nap, but he heard me taking and he said: 'Is it Ibn Jubair? Enter. You would not have come except for a need.'" He said: "So I entered and found him laying on a saddlecloth from his mount. I said: 'O Abu 'Abdur-Rahman! Are those involved in Li'an separated?' He said: 'Glorious is Allah! Yes. The first who asked about hat was so-and-so the son of so-and-so. He came to the Prophet (ﷺ) and …
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر رضی الله عنہ کی امارت کے زمانے میں مجھ سے پوچھا گیا: کیا لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آ گیا، ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، مجھ سے کہا گیا کہ وہ قیلولہ فرما رہے ہیں، مگر انہوں نے میری بات چیت سن لی۔ اور مجھے ( پکار کر ) کہا: ابن جبیر! اندر آ جاؤ، تم کسی ( دینی ) ضرورت ہی سے آئے ہو گے، میں اندر داخل ہوا، دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کجاوے کے نیچے ڈالنے والا کمبل بچھائے ہوئے ہیں، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! پاک اور برتر ذات ہے اللہ کی، …
Sa'eed bin Jubair narrated:"I was asked about those who were involved in the case of Li'an and if they are to be separated, during the leadership of Mus'ab bin Az-Zubair. I did not know what to say. So I went to the house of Abdullah bin Umar and I sought permission to enter. I was told that he was taking a nap, but he heard me talking and he said: 'Is it Ibn Jubair? Enter. You would not have come except for a need.'"He said: "So I entered and found him lying on a saddlecloth from his mount. I said: 'O Abu Abdur-Rahman! Are those involved in Li'an separated?' He said: 'Glorious is Allah! Yes. The first who asked about that was so-and-so the son of so-and-so. He came to the Prophet and said: …
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کے زمانہ امارت میں مجھ سے لعان ۱؎ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کر دی جائے؟ تو میں نہیں جان سکا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ چنانچہ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، بتایا گیا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے میری بات سن لی، اور کہا: ابن جبیر! آ جاؤ تمہیں کوئی ضرورت ہی لے کر آئی ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پالان پر بچھائے جانے والے کمبل پر لیٹے ہیں۔ میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟ کہا: سبحان اللہ! ہاں، سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ …
Sa'id b Jubair reported:I was asked about the invokers of curses during the reign of Mus'ab (b. Zubair) whether they could separate (themselves by this process). He said: I did not understand what to say. So I went to the house of Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) in Mecca. I said to his servant: Seek permission for Me. He said that he (Ibn 'Umar) had been taking rest. He (Ibn 'Umar) heard my voice. and said: Are you Ibn Jubair? I said: Yes. He'said: Come in. By Allah, it must be some (great) need which has brought you here at this Hour. So I got in and found him lying on a blanket reclining against a pillow stuffed with fibres of date-palm. I said: O Abu'Abd al-Rahman, should there be …
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے مجھ سے پوچھا گیا لعان کرنے والوں کا مسئلہ مصعب بن زبیر کی خلافت میں میں حیران ہوا کیا جواب دوں تو میں چلا عبداﷲ بن عمرؓ کے مکان کی طرف مکہ میں او ران کے غلام سے کہا میری عرض کرو اس نے کہا وہ آرام کرتے ہیں انہوں نے میری آواز سنی او رکہا کیا جبیر کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا اندر آ قسم خدا کی تو کسی کام سے آیا ہوگا میں اندر آگیا تو وہ ایک کمبل بچھائے بیٹھے تھے او رایک تکیے پر ٹیک لگائے تھے جو چھال سے کھجور کی بھرا ہوا تھا ۔ میں نے کہا اے ابوعبدالرحمن! لعان کرنے والوں میں جدائی کی جائے گی؟ انہوں نے کہا سبحان اﷲ بے شک جدائی کی جائے گی اور سب سے پہلے اس باب میں فلاں نے پوچھا جو فلاں کا بیٹا تھا رسول اﷲ ﷺ سے ۔ اس نے کہا یا رسول اﷲ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر ہم میں …
Abdul-Malik bin Abi Sulaiman said:"I heard Sa'eed bin Jubair say: 'I was asked about the two who engage in Li'an during the governorship of Ibn Az-Zubair - should they be separated? I did not know what to say, so I got up and went to the house of Ibn 'Umar and said: "O Abu 'Abdur-Rahman, should the two who engage in Li'an be separated?" He said: "Yes, Subhan Allah! The first one who asked about that was so-and-so the son of so-and-so who said: 'O Messenger of Allah, what do you think if a man among us sees his wife committing immoral actions, and if he speaks of it, he will be speaking of a grave matter, but if he keeps quiet, he will be keeping quiet about a grave matter?' He did not …
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو ) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق ( جدائی ) کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، سبحان اللہ، پاک و برتر ہے ذات اللہ کی۔ سب سے پہلے اس بارے میں فلاں ابن فلاں نے مسئلہ پوچھا تھا ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کا نام نہیں لیا ) اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! ( «ارأیت» عمرو بن علی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں انہوں نے اپنی …
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے ۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
PickthallAnd yet a fifth, invoking the curse of Allah on him if he is of those who lie.
Yusuf AliAnd the fifth (oath) (should be) that they solemnly invoke the curse of Allah on themselves if they tell a lie.
The agreed readingAnd a fifth, calling God's curse down on himself if he is lying. That is what turns the punishment for false accusation away from him.
Urduاور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اگر وہ اپنے اس الزام میں جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اور یہی پانچویں گواہی ہے جو اس سے قذف کی وہ سزا ٹال دیتی ہے جو اس کے بغیر اس پر لازم ہوتی۔
Arabicوالمرة الخامسة أن يقول: علي لعنة الله إن كنت من الكاذبين فيما رميت به زوجتي. وهذه الشهادة الخامسة هي التي تدرأ عنه حد القذف الذي كان يجب عليه لولاها.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Rāzī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Ibn ‘Abbas said “Hilal bin Umayyah was one of the three persons whose repentance was accepted by Allaah. One night he returned from his land and found a man along with his wife. He witnessed with his eyes and heard with his ears. He did not threaten him till the morning.” Next day he went to the Apostle of Allaah(ﷺ) in the morning and said Apostle of Allaah(ﷺ) “I came to my wife in the night and found a man along with her. I saw with my own eyes and heard with my own ears. The Apostle of Allaah(ﷺ) disliked what he described and he took it seriously. There upon the following Qur’anic verse came down “And those who make charges against their spouses but have no witnesses except themselves, …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ( جو کہ ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے ( ایک غزوہ میں پچھڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کے بعد ) توبہ قبول فرمائی تھی، وہ ) اپنی زمین سے رات کو آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا، اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھا، اور کانوں سے پوری گفتگو سنی، لیکن صبح تک اس معاملہ کو دبا کر رکھا، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کو میں گھر آیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک مرد کو پایا، اپنی آنکھوں سے ( سب کچھ ) دیکھا، اور کانوں سے ( سب ) سنا، ان کی ان باتوں کو آپ نے ناپسند کیا اور ان پر ناگواری کا اظہار فرمایا، تو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن …
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ". فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلاً يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ. فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ، فَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، …
Narrated Ibn `Abbas:Hilal bin Umaiya accused his wife of committing illegal sexual intercourse with Sharik bin Sahma' and filed the case before the Prophet. The Prophet (ﷺ) said (to Hilal), "Either you bring forth a proof (four witnesses) or you will receive the legal punishment (lashes) on your back." Hilal said, "O Allah's Apostle! If anyone of us saw a man over his wife, would he go to seek after witnesses?" The Prophet (ﷺ) kept on saying, "Either you bring forth the witnesses or you will receive the legal punishment (lashes) on your back." Hilal then said, "By Him Who sent you with the Truth, I am telling the truth and Allah will reveal to you what will save my back from legal …
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ہلال بن امیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت لگائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر کو مبتلا دیکھتا ہے تو کیا وہ ایسی حالت میں گواہ تلاش کرنے جائے گا؟ لیکن آپ یہی فرماتے رہے کہ گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری کی جائے گی۔ اس پر ہلال نے عرض کیا۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی ایسی آیت نازل فرمائے …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2671)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2671)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2671)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلاً عَلَى امْرَأَتِهِ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ …
Ibn ‘Abbas said “Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of Prophet (ﷺ) of having committed adultery with Sharik bin Sahma’”. The Prophet (ﷺ) said “Produce evidence or you must receive punishment on your back.” He said “Apostle of Allaah(ﷺ) when one of us sees a man having intercourse with his wife should he go and seek evidence?” But the Prophet (ﷺ) merely said “You must produce evidence or you must receive punishment on your back.” Hilal then said “By Him Who sent you with the Truth, I am speaking Truly. May Allaah send down something which will free my back from punishment. Then the following Qur’anic verses were revealed “And those who make charges against their spouses but …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ ( زنا کی ) تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ پیٹھ پر کوڑے لگیں گے ، تو ہلال نے کہا کہ: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص کسی آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈنے جائے؟ اس پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرمائے جا رہے تھے کہ: گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے پڑیں گے ، تو ہلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے بارے میں وحی نازل کر کے میری پیٹھ کو حد سے بری کرے گا، چنانچہ «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» کی …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5259) Sahih Muslim (1492)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5259) Sahih Muslim (1492)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5259) Sahih Muslim (1492)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ . فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ لَهُ يَا …
Sahl bin Sa’ad Al Sa’idi said that ‘Uwaimir bin Ashqar Al Ajilani came to ‘Asim bin Adl and said to him “Asim tell me about a man who finds a man along with his wife. Should he kill him and then be killed by you, or how should he act? Ask the Apostle of Allaah(ﷺ) ‘Asim, for me about it. ‘Asim then asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about it. The Apostle of Allaah(ﷺ) disliked the question and denounced it. What ‘Asim heard from the Apostle of Allaah(ﷺ) fell heavy on him. When ‘Asim returned to his family ‘Uwaimr came to him and asked ‘Asim “What did the Apostle of Allaah(ﷺ) say to you”? Asim replied “You did not do good to me”. The Apostle of Allaah(ﷺ) disliked the question that I asked him. …
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عویمر بن اشقر عجلانی، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے آ کر کہنے لگے: عاصم! ذرا بتاؤ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی ( اجنبی ) شخص کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر اس کے بدلے میں تم اسے بھی قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھو، چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بغیر ضرورت ) اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس کی اس قدر برائی کی کہ عاصم رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات گراں گزری، جب عاصم رضی اللہ عنہ گھر لوٹے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے …
Narrated Sa'eed bin Jubair:"I was asked about those who were involved in the case of Li'an and if they are to be separated, during the leadership of Mus'ab bin Az-Zubair. I did not know what to say. So I went to the house of 'Abdullah bin 'Umar and I sought permission to enter. I was told he was taking a nap, but he heard me taking and he said: 'Is it Ibn Jubair? Enter. You would not have come except for a need.'" He said: "So I entered and found him laying on a saddlecloth from his mount. I said: 'O Abu 'Abdur-Rahman! Are those involved in Li'an separated?' He said: 'Glorious is Allah! Yes. The first who asked about hat was so-and-so the son of so-and-so. He came to the Prophet (ﷺ) and …
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر رضی الله عنہ کی امارت کے زمانے میں مجھ سے پوچھا گیا: کیا لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آ گیا، ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، مجھ سے کہا گیا کہ وہ قیلولہ فرما رہے ہیں، مگر انہوں نے میری بات چیت سن لی۔ اور مجھے ( پکار کر ) کہا: ابن جبیر! اندر آ جاؤ، تم کسی ( دینی ) ضرورت ہی سے آئے ہو گے، میں اندر داخل ہوا، دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کجاوے کے نیچے ڈالنے والا کمبل بچھائے ہوئے ہیں، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! پاک اور برتر ذات ہے اللہ کی، …
Sa'eed bin Jubair narrated:"I was asked about those who were involved in the case of Li'an and if they are to be separated, during the leadership of Mus'ab bin Az-Zubair. I did not know what to say. So I went to the house of Abdullah bin Umar and I sought permission to enter. I was told that he was taking a nap, but he heard me talking and he said: 'Is it Ibn Jubair? Enter. You would not have come except for a need.'"He said: "So I entered and found him lying on a saddlecloth from his mount. I said: 'O Abu Abdur-Rahman! Are those involved in Li'an separated?' He said: 'Glorious is Allah! Yes. The first who asked about that was so-and-so the son of so-and-so. He came to the Prophet and said: …
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کے زمانہ امارت میں مجھ سے لعان ۱؎ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کر دی جائے؟ تو میں نہیں جان سکا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ چنانچہ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، بتایا گیا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے میری بات سن لی، اور کہا: ابن جبیر! آ جاؤ تمہیں کوئی ضرورت ہی لے کر آئی ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پالان پر بچھائے جانے والے کمبل پر لیٹے ہیں۔ میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟ کہا: سبحان اللہ! ہاں، سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ …
Sa'id b Jubair reported:I was asked about the invokers of curses during the reign of Mus'ab (b. Zubair) whether they could separate (themselves by this process). He said: I did not understand what to say. So I went to the house of Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) in Mecca. I said to his servant: Seek permission for Me. He said that he (Ibn 'Umar) had been taking rest. He (Ibn 'Umar) heard my voice. and said: Are you Ibn Jubair? I said: Yes. He'said: Come in. By Allah, it must be some (great) need which has brought you here at this Hour. So I got in and found him lying on a blanket reclining against a pillow stuffed with fibres of date-palm. I said: O Abu'Abd al-Rahman, should there be …
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے مجھ سے پوچھا گیا لعان کرنے والوں کا مسئلہ مصعب بن زبیر کی خلافت میں میں حیران ہوا کیا جواب دوں تو میں چلا عبداﷲ بن عمرؓ کے مکان کی طرف مکہ میں او ران کے غلام سے کہا میری عرض کرو اس نے کہا وہ آرام کرتے ہیں انہوں نے میری آواز سنی او رکہا کیا جبیر کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا اندر آ قسم خدا کی تو کسی کام سے آیا ہوگا میں اندر آگیا تو وہ ایک کمبل بچھائے بیٹھے تھے او رایک تکیے پر ٹیک لگائے تھے جو چھال سے کھجور کی بھرا ہوا تھا ۔ میں نے کہا اے ابوعبدالرحمن! لعان کرنے والوں میں جدائی کی جائے گی؟ انہوں نے کہا سبحان اﷲ بے شک جدائی کی جائے گی اور سب سے پہلے اس باب میں فلاں نے پوچھا جو فلاں کا بیٹا تھا رسول اﷲ ﷺ سے ۔ اس نے کہا یا رسول اﷲ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر ہم میں …
Abdul-Malik bin Abi Sulaiman said:"I heard Sa'eed bin Jubair say: 'I was asked about the two who engage in Li'an during the governorship of Ibn Az-Zubair - should they be separated? I did not know what to say, so I got up and went to the house of Ibn 'Umar and said: "O Abu 'Abdur-Rahman, should the two who engage in Li'an be separated?" He said: "Yes, Subhan Allah! The first one who asked about that was so-and-so the son of so-and-so who said: 'O Messenger of Allah, what do you think if a man among us sees his wife committing immoral actions, and if he speaks of it, he will be speaking of a grave matter, but if he keeps quiet, he will be keeping quiet about a grave matter?' He did not …
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو ) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق ( جدائی ) کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، سبحان اللہ، پاک و برتر ہے ذات اللہ کی۔ سب سے پہلے اس بارے میں فلاں ابن فلاں نے مسئلہ پوچھا تھا ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کا نام نہیں لیا ) اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! ( «ارأیت» عمرو بن علی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں انہوں نے اپنی …
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے ۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
PickthallAnd it shall avert the punishment from her if she bear witness before Allah four times that the thing he saith is indeed false,
Yusuf AliBut it would avert the punishment from the wife, if she bears witness four times (with an oath) By Allah, that (her husband) is telling a lie;
The agreed readingAnd what turns the punishment away from her is that she swears four times by God that he is the one who is lying.
Urduاور بیوی سے وہ زنا کی سزا اسی طرح دور ہو جاتی ہے کہ وہ بھی چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ اس کا شوہر اس الزام میں جھوٹا ہے جو اس نے اس پر لگایا۔
Arabicويدفع عن هذه الزوجة حد الزنا الذي كان يستحقه قذف زوجها لها أن تشهد هي أيضا مقابل شهادته أربع مرات بالله العظيم أن زوجها كاذب فيما رماها به من تهمة الزنا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Zamakhsharī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Zamakhsharī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Zamakhsharī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ". فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلاً يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ. فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ، فَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، …
Narrated Ibn `Abbas:Hilal bin Umaiya accused his wife of committing illegal sexual intercourse with Sharik bin Sahma' and filed the case before the Prophet. The Prophet (ﷺ) said (to Hilal), "Either you bring forth a proof (four witnesses) or you will receive the legal punishment (lashes) on your back." Hilal said, "O Allah's Apostle! If anyone of us saw a man over his wife, would he go to seek after witnesses?" The Prophet (ﷺ) kept on saying, "Either you bring forth the witnesses or you will receive the legal punishment (lashes) on your back." Hilal then said, "By Him Who sent you with the Truth, I am telling the truth and Allah will reveal to you what will save my back from legal …
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ہلال بن امیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت لگائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر کو مبتلا دیکھتا ہے تو کیا وہ ایسی حالت میں گواہ تلاش کرنے جائے گا؟ لیکن آپ یہی فرماتے رہے کہ گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری کی جائے گی۔ اس پر ہلال نے عرض کیا۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی ایسی آیت نازل فرمائے …
Ibn ‘Abbas said “Hilal bin Umayyah was one of the three persons whose repentance was accepted by Allaah. One night he returned from his land and found a man along with his wife. He witnessed with his eyes and heard with his ears. He did not threaten him till the morning.” Next day he went to the Apostle of Allaah(ﷺ) in the morning and said Apostle of Allaah(ﷺ) “I came to my wife in the night and found a man along with her. I saw with my own eyes and heard with my own ears. The Apostle of Allaah(ﷺ) disliked what he described and he took it seriously. There upon the following Qur’anic verse came down “And those who make charges against their spouses but have no witnesses except themselves, …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ( جو کہ ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے ( ایک غزوہ میں پچھڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کے بعد ) توبہ قبول فرمائی تھی، وہ ) اپنی زمین سے رات کو آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا، اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھا، اور کانوں سے پوری گفتگو سنی، لیکن صبح تک اس معاملہ کو دبا کر رکھا، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کو میں گھر آیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک مرد کو پایا، اپنی آنکھوں سے ( سب کچھ ) دیکھا، اور کانوں سے ( سب ) سنا، ان کی ان باتوں کو آپ نے ناپسند کیا اور ان پر ناگواری کا اظہار فرمایا، تو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2671)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2671)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2671)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلاً عَلَى امْرَأَتِهِ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ …
Ibn ‘Abbas said “Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of Prophet (ﷺ) of having committed adultery with Sharik bin Sahma’”. The Prophet (ﷺ) said “Produce evidence or you must receive punishment on your back.” He said “Apostle of Allaah(ﷺ) when one of us sees a man having intercourse with his wife should he go and seek evidence?” But the Prophet (ﷺ) merely said “You must produce evidence or you must receive punishment on your back.” Hilal then said “By Him Who sent you with the Truth, I am speaking Truly. May Allaah send down something which will free my back from punishment. Then the following Qur’anic verses were revealed “And those who make charges against their spouses but …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ ( زنا کی ) تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ پیٹھ پر کوڑے لگیں گے ، تو ہلال نے کہا کہ: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص کسی آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈنے جائے؟ اس پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرمائے جا رہے تھے کہ: گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے پڑیں گے ، تو ہلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے بارے میں وحی نازل کر کے میری پیٹھ کو حد سے بری کرے گا، چنانچہ «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» کی …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْبِيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ فَقَالَ هِلاَلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلاً عَلَى امْرَأَتِهِ أَيَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيَنْزِلَنَّ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ …
Narrated Ibn 'Abbas:"Hilal bin Umayyah went to the Prophet (ﷺ) and accused his wife of committing illegal sexual intercourse with Sharik bin Sahma. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Either you produce proof, or you will receive the legal punishment on your back.'" He said: "Hilal said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! If one of us saw a man over his wife, should he go and search for witnesses?' The Prophet (ﷺ) kept on saying: 'Either you produce proof, or you will receive the legal punishment on your back.'" He said: "Hilal then said, 'By Him Who sent you with the Truth and Allah will reveal to you what will save my back from the legal punishment.' Then (the following) was revealed: And for those …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی، ہلال نے کہا: جب ہم میں سے کوئی کسی شخص کو اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہوا دیکھے گا تو کیا وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے کہ تم گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی۔ ہلال نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں سچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے میں کوئی ایسی چیز ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو حد سے بچا دے گی، پھر ( اسی موقع پر ) آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم …
Sa'id b Jubair reported:I was asked about the invokers of curses during the reign of Mus'ab (b. Zubair) whether they could separate (themselves by this process). He said: I did not understand what to say. So I went to the house of Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) in Mecca. I said to his servant: Seek permission for Me. He said that he (Ibn 'Umar) had been taking rest. He (Ibn 'Umar) heard my voice. and said: Are you Ibn Jubair? I said: Yes. He'said: Come in. By Allah, it must be some (great) need which has brought you here at this Hour. So I got in and found him lying on a blanket reclining against a pillow stuffed with fibres of date-palm. I said: O Abu'Abd al-Rahman, should there be …
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے مجھ سے پوچھا گیا لعان کرنے والوں کا مسئلہ مصعب بن زبیر کی خلافت میں میں حیران ہوا کیا جواب دوں تو میں چلا عبداﷲ بن عمرؓ کے مکان کی طرف مکہ میں او ران کے غلام سے کہا میری عرض کرو اس نے کہا وہ آرام کرتے ہیں انہوں نے میری آواز سنی او رکہا کیا جبیر کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا اندر آ قسم خدا کی تو کسی کام سے آیا ہوگا میں اندر آگیا تو وہ ایک کمبل بچھائے بیٹھے تھے او رایک تکیے پر ٹیک لگائے تھے جو چھال سے کھجور کی بھرا ہوا تھا ۔ میں نے کہا اے ابوعبدالرحمن! لعان کرنے والوں میں جدائی کی جائے گی؟ انہوں نے کہا سبحان اﷲ بے شک جدائی کی جائے گی اور سب سے پہلے اس باب میں فلاں نے پوچھا جو فلاں کا بیٹا تھا رسول اﷲ ﷺ سے ۔ اس نے کہا یا رسول اﷲ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر ہم میں …
Abdul-Malik bin Abi Sulaiman said:"I heard Sa'eed bin Jubair say: 'I was asked about the two who engage in Li'an during the governorship of Ibn Az-Zubair - should they be separated? I did not know what to say, so I got up and went to the house of Ibn 'Umar and said: "O Abu 'Abdur-Rahman, should the two who engage in Li'an be separated?" He said: "Yes, Subhan Allah! The first one who asked about that was so-and-so the son of so-and-so who said: 'O Messenger of Allah, what do you think if a man among us sees his wife committing immoral actions, and if he speaks of it, he will be speaking of a grave matter, but if he keeps quiet, he will be keeping quiet about a grave matter?' He did not …
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو ) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق ( جدائی ) کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، سبحان اللہ، پاک و برتر ہے ذات اللہ کی۔ سب سے پہلے اس بارے میں فلاں ابن فلاں نے مسئلہ پوچھا تھا ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کا نام نہیں لیا ) اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! ( «ارأیت» عمرو بن علی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں انہوں نے اپنی …
Sa'eed bin Jubair narrated:"I was asked about those who were involved in the case of Li'an and if they are to be separated, during the leadership of Mus'ab bin Az-Zubair. I did not know what to say. So I went to the house of Abdullah bin Umar and I sought permission to enter. I was told that he was taking a nap, but he heard me talking and he said: 'Is it Ibn Jubair? Enter. You would not have come except for a need.'"He said: "So I entered and found him lying on a saddlecloth from his mount. I said: 'O Abu Abdur-Rahman! Are those involved in Li'an separated?' He said: 'Glorious is Allah! Yes. The first who asked about that was so-and-so the son of so-and-so. He came to the Prophet and said: …
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کے زمانہ امارت میں مجھ سے لعان ۱؎ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کر دی جائے؟ تو میں نہیں جان سکا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ چنانچہ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، بتایا گیا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے میری بات سن لی، اور کہا: ابن جبیر! آ جاؤ تمہیں کوئی ضرورت ہی لے کر آئی ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پالان پر بچھائے جانے والے کمبل پر لیٹے ہیں۔ میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟ کہا: سبحان اللہ! ہاں، سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ …
Narrated Sa'eed bin Jubair:"I was asked about those who were involved in the case of Li'an and if they are to be separated, during the leadership of Mus'ab bin Az-Zubair. I did not know what to say. So I went to the house of 'Abdullah bin 'Umar and I sought permission to enter. I was told he was taking a nap, but he heard me taking and he said: 'Is it Ibn Jubair? Enter. You would not have come except for a need.'" He said: "So I entered and found him laying on a saddlecloth from his mount. I said: 'O Abu 'Abdur-Rahman! Are those involved in Li'an separated?' He said: 'Glorious is Allah! Yes. The first who asked about hat was so-and-so the son of so-and-so. He came to the Prophet (ﷺ) and …
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر رضی الله عنہ کی امارت کے زمانے میں مجھ سے پوچھا گیا: کیا لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آ گیا، ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، مجھ سے کہا گیا کہ وہ قیلولہ فرما رہے ہیں، مگر انہوں نے میری بات چیت سن لی۔ اور مجھے ( پکار کر ) کہا: ابن جبیر! اندر آ جاؤ، تم کسی ( دینی ) ضرورت ہی سے آئے ہو گے، میں اندر داخل ہوا، دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کجاوے کے نیچے ڈالنے والا کمبل بچھائے ہوئے ہیں، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! پاک اور برتر ذات ہے اللہ کی، …
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے ۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
PickthallAnd a fifth (time) that the wrath of Allah be upon her if he speaketh truth.
Yusuf AliAnd the fifth (oath) should be that she solemnly invokes the wrath of Allah on herself if (her accuser) is telling the truth.
The agreed readingAnd a fifth, calling God's anger down on herself if he is the one telling the truth.
Urduاور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اگر اس کا شوہر اپنے اس الزام میں سچا ہے تو اس پر اللہ کا غضب ہو۔ اور اس لعان کے بعد میاں بیوی ہمیشہ کے لیے جدا ہو جاتے ہیں اور دوبارہ اکٹھے نہیں ہوتے۔
Arabicوالمرة الخامسة أن تقول: علي غضب الله إن كان زوجي من الصادقين فيما رماني به من الزنا. وبهذا التلاعن بين الزوجين يفترقان ولا يجتمعان بعده أبدا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Zamakhsharī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Zamakhsharī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Zamakhsharī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ". فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلاً يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ. فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ، فَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، …
Narrated Ibn `Abbas:Hilal bin Umaiya accused his wife of committing illegal sexual intercourse with Sharik bin Sahma' and filed the case before the Prophet. The Prophet (ﷺ) said (to Hilal), "Either you bring forth a proof (four witnesses) or you will receive the legal punishment (lashes) on your back." Hilal said, "O Allah's Apostle! If anyone of us saw a man over his wife, would he go to seek after witnesses?" The Prophet (ﷺ) kept on saying, "Either you bring forth the witnesses or you will receive the legal punishment (lashes) on your back." Hilal then said, "By Him Who sent you with the Truth, I am telling the truth and Allah will reveal to you what will save my back from legal …
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ہلال بن امیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت لگائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر کو مبتلا دیکھتا ہے تو کیا وہ ایسی حالت میں گواہ تلاش کرنے جائے گا؟ لیکن آپ یہی فرماتے رہے کہ گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری کی جائے گی۔ اس پر ہلال نے عرض کیا۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی ایسی آیت نازل فرمائے …
Ibn ‘Abbas said “Hilal bin Umayyah was one of the three persons whose repentance was accepted by Allaah. One night he returned from his land and found a man along with his wife. He witnessed with his eyes and heard with his ears. He did not threaten him till the morning.” Next day he went to the Apostle of Allaah(ﷺ) in the morning and said Apostle of Allaah(ﷺ) “I came to my wife in the night and found a man along with her. I saw with my own eyes and heard with my own ears. The Apostle of Allaah(ﷺ) disliked what he described and he took it seriously. There upon the following Qur’anic verse came down “And those who make charges against their spouses but have no witnesses except themselves, …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ( جو کہ ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے ( ایک غزوہ میں پچھڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کے بعد ) توبہ قبول فرمائی تھی، وہ ) اپنی زمین سے رات کو آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا، اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھا، اور کانوں سے پوری گفتگو سنی، لیکن صبح تک اس معاملہ کو دبا کر رکھا، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کو میں گھر آیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک مرد کو پایا، اپنی آنکھوں سے ( سب کچھ ) دیکھا، اور کانوں سے ( سب ) سنا، ان کی ان باتوں کو آپ نے ناپسند کیا اور ان پر ناگواری کا اظہار فرمایا، تو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن …
6. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hammad from al-Halabiy who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘If a man accuses his wife he cannot condemn her unless he can say that he has seen a man between her legs fornicating.’ He (the narrator) has said that he (the Imam) was asked about the man who accuses. He (the Imam) said, ‘He condemns her and then they are separated from each other. She will never be lawful for him in marriage. However, if he confesses against himself before al-Li ‘an (condemnation) he is whipped as the penalty and she remains his woman.’” “He (the narrator) has said, ‘I asked him (the Imam) about a free person with …
علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے حماد سے، انہوں نے حلبی سے روایت کی، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے کہا: جب مرد اپنی بیوی پر تہمت لگائے تو وہ اس سے لعان نہیں کر سکتے جب تک وہ یہ نہ کہے کہ میں نے ایک مرد کو اس کی رانوں کے درمیان زنا کرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے کہا: اور اس سے پوچھا گیا ایک مرد کے بارے میں جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے۔ انہوں نے کہا: وہ لعان کرے پھر ان کے درمیان علیحدگی ہو، اور وہ اس کے لیے کبھی حلال نہیں ہوگی۔ لیکن اگر وہ لعان سے پہلے اپنے آپ پر اقرار کرے تو اسے حد کی جلدیں مریں اور وہ اس کی بیوی رہے۔ انہوں نے کہا: اور میں نے اس سے پوچھا ایک آزاد شخص کے بارے میں جو ایک لونڈی رکھتا ہے اور اس پر تہمت لگائے۔ انہوں نے کہا: وہ لعان کرے۔ انہوں نے کہا: اور …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
establishes conditions for li'an from Imam al-Sadiq: direct witnessing is required, the fifth oath is the final test, and partners are permanently separated
امام صادق سے: براہ راست گواہی ضروری ہے اور شہادتوں کے بعد علیحدگی ہمیشہ کی ہے
Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Rāzī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Abdul-Malik bin Abi Sulaiman said:"I heard Sa'eed bin Jubair say: 'I was asked about the two who engage in Li'an during the governorship of Ibn Az-Zubair - should they be separated? I did not know what to say, so I got up and went to the house of Ibn 'Umar and said: "O Abu 'Abdur-Rahman, should the two who engage in Li'an be separated?" He said: "Yes, Subhan Allah! The first one who asked about that was so-and-so the son of so-and-so who said: 'O Messenger of Allah, what do you think if a man among us sees his wife committing immoral actions, and if he speaks of it, he will be speaking of a grave matter, but if he keeps quiet, he will be keeping quiet about a grave matter?' He did not …
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو ) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق ( جدائی ) کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، سبحان اللہ، پاک و برتر ہے ذات اللہ کی۔ سب سے پہلے اس بارے میں فلاں ابن فلاں نے مسئلہ پوچھا تھا ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کا نام نہیں لیا ) اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! ( «ارأیت» عمرو بن علی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں انہوں نے اپنی …
Sa'id b Jubair reported:I was asked about the invokers of curses during the reign of Mus'ab (b. Zubair) whether they could separate (themselves by this process). He said: I did not understand what to say. So I went to the house of Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) in Mecca. I said to his servant: Seek permission for Me. He said that he (Ibn 'Umar) had been taking rest. He (Ibn 'Umar) heard my voice. and said: Are you Ibn Jubair? I said: Yes. He'said: Come in. By Allah, it must be some (great) need which has brought you here at this Hour. So I got in and found him lying on a blanket reclining against a pillow stuffed with fibres of date-palm. I said: O Abu'Abd al-Rahman, should there be …
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے مجھ سے پوچھا گیا لعان کرنے والوں کا مسئلہ مصعب بن زبیر کی خلافت میں میں حیران ہوا کیا جواب دوں تو میں چلا عبداﷲ بن عمرؓ کے مکان کی طرف مکہ میں او ران کے غلام سے کہا میری عرض کرو اس نے کہا وہ آرام کرتے ہیں انہوں نے میری آواز سنی او رکہا کیا جبیر کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا اندر آ قسم خدا کی تو کسی کام سے آیا ہوگا میں اندر آگیا تو وہ ایک کمبل بچھائے بیٹھے تھے او رایک تکیے پر ٹیک لگائے تھے جو چھال سے کھجور کی بھرا ہوا تھا ۔ میں نے کہا اے ابوعبدالرحمن! لعان کرنے والوں میں جدائی کی جائے گی؟ انہوں نے کہا سبحان اﷲ بے شک جدائی کی جائے گی اور سب سے پہلے اس باب میں فلاں نے پوچھا جو فلاں کا بیٹا تھا رسول اﷲ ﷺ سے ۔ اس نے کہا یا رسول اﷲ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر ہم میں …
Sa'eed bin Jubair narrated:"I was asked about those who were involved in the case of Li'an and if they are to be separated, during the leadership of Mus'ab bin Az-Zubair. I did not know what to say. So I went to the house of Abdullah bin Umar and I sought permission to enter. I was told that he was taking a nap, but he heard me talking and he said: 'Is it Ibn Jubair? Enter. You would not have come except for a need.'"He said: "So I entered and found him lying on a saddlecloth from his mount. I said: 'O Abu Abdur-Rahman! Are those involved in Li'an separated?' He said: 'Glorious is Allah! Yes. The first who asked about that was so-and-so the son of so-and-so. He came to the Prophet and said: …
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کے زمانہ امارت میں مجھ سے لعان ۱؎ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کر دی جائے؟ تو میں نہیں جان سکا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ چنانچہ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، بتایا گیا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے میری بات سن لی، اور کہا: ابن جبیر! آ جاؤ تمہیں کوئی ضرورت ہی لے کر آئی ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پالان پر بچھائے جانے والے کمبل پر لیٹے ہیں۔ میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟ کہا: سبحان اللہ! ہاں، سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ …
Narrated Sa'eed bin Jubair:"I was asked about those who were involved in the case of Li'an and if they are to be separated, during the leadership of Mus'ab bin Az-Zubair. I did not know what to say. So I went to the house of 'Abdullah bin 'Umar and I sought permission to enter. I was told he was taking a nap, but he heard me taking and he said: 'Is it Ibn Jubair? Enter. You would not have come except for a need.'" He said: "So I entered and found him laying on a saddlecloth from his mount. I said: 'O Abu 'Abdur-Rahman! Are those involved in Li'an separated?' He said: 'Glorious is Allah! Yes. The first who asked about hat was so-and-so the son of so-and-so. He came to the Prophet (ﷺ) and …
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر رضی الله عنہ کی امارت کے زمانے میں مجھ سے پوچھا گیا: کیا لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آ گیا، ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، مجھ سے کہا گیا کہ وہ قیلولہ فرما رہے ہیں، مگر انہوں نے میری بات چیت سن لی۔ اور مجھے ( پکار کر ) کہا: ابن جبیر! اندر آ جاؤ، تم کسی ( دینی ) ضرورت ہی سے آئے ہو گے، میں اندر داخل ہوا، دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کجاوے کے نیچے ڈالنے والا کمبل بچھائے ہوئے ہیں، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! پاک اور برتر ذات ہے اللہ کی، …
1. Al-Husayn ibn Muhammad has narrated from Mu’alla’ ibn Muhammad from al-Hassan ibn Ali from Hammad ibn ‘Uthaman who has said the following: “Once, a man came to abu ‘ Abd Allah (a.s.), to complain before him (the Imam) against one of his companions. In a little while the defendant came in and abu ‘Abd Allah (a.s.), asked, ‘Why does so and so complain against you?’ He replied, ‘It is because I asked him for payment of what he owes to me.’ He (the narrator) has said that abu ‘Abd Allah (a.s.), then sat straight with anger and said, ‘It seems as if when you demand for payment of what others owe, you do not consider it maltreating him. Consider what Allah, most Majestic, most Glorious, has …
حسین بن محمد نے معلیٰ بن محمد سے روایت کی، حسن بن علی سے، حماد بن عثمان سے، انہوں نے کہا: ایک شخص ابی عبد اللہ علیہ السلام کے پاس گیا اور انہیں اپنے ایک ساتھی کے بارے میں شکایت کی۔ تھوڑی دیر میں وہ شخص جو شکایت کا موضوع تھا، وہاں آ گیا۔ ابی عبد اللہ علیہ السلام نے اس سے کہا: فلاں آپ کے خلاف شکایت کیوں کر رہے ہیں؟ اس نے کہا: وہ اس لیے کہ میں نے اپنا حق ان سے مانگا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابی عبد اللہ علیہ السلام غصے میں بیٹھ گئے اور کہا: ایسا لگتا ہے کہ جب تم اپنا حق مانگتے ہو تو تمہیں لگتا ہے کہ یہ غلط نہیں۔ کیا تم نے دیکھا کہ اللہ عز و جل نے اپنی کتاب میں کیا کہا: "وہ برے حساب سے ڈرتے ہیں۔" کیا تمہیں لگتا ہے کہ وہ اللہ سے اس لیے ڈرتے تھے کہ اللہ ان پر ظلم کریں گے؟ نہیں، خدا کی قسم، وہ صرف حق کے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ جَمِيلِ بْنِ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) أَوْصَانِي جَبْرَئِيلُ ( عليه السلام ) بِالسِّوَاكِ حَتَّى خِفْتُ عَلَى أَسْنَانِي .
8. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Jamil ibn Darraj who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, has said, ‘Jibril recommend me to brush my teeth so much so that I began to fear for my teeth.’”
علی بن ابراہیم روایت کرتے ہیں اپنے والد سے، ابن ابی عمیر سے، جمیل بن درّاج سے، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: جبریل (علیہ السلام) نے مجھے السواك کی وصیت کی یہاں تک کہ میں اپنے أسنان کے لیے خوف زدہ ہو گیا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd had it not been for the grace of Allah and His mercy unto you, and that Allah is Clement, Wise, (ye had been undone).
Yusuf AliIf it were not for Allah's grace and mercy on you, and that Allah is Oft-Returning, full of Wisdom,- (Ye would be ruined indeed).
The agreed readingAnd were it not for God's favour to you and His mercy - the commentaries take the favour here as the covering of what would otherwise stand exposed - and that God turns to whoever turns to Him, and is wise in what He lays down.
Urduاور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، جس سے اس نے تمہاری اس بہتان میں پڑنے کی رسوائی پر پردہ ڈال دیا، اور اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ توبہ کرنے والوں کی توبہ خوب قبول کرنے والا اور اپنے احکام میں حکمت والا ہے، تو تم پر اس بہتان میں پڑنے کی وجہ سے بہت بڑا عذاب آ جاتا۔
Arabicولولا فضل الله عليكم ورحمته بستره لكم وعدم فضيحتكم بما وقعتم فيه من خوض في الإفك، وأن الله كثير القبول لتوبة من تاب إليه، حكيم فيما يشرعه من الأحكام والحدود، لحل بكم عذاب عظيم بسبب ما خضتم فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ". فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلاً يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ. فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ، فَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، …
Narrated Ibn `Abbas:Hilal bin Umaiya accused his wife of committing illegal sexual intercourse with Sharik bin Sahma' and filed the case before the Prophet. The Prophet (ﷺ) said (to Hilal), "Either you bring forth a proof (four witnesses) or you will receive the legal punishment (lashes) on your back." Hilal said, "O Allah's Apostle! If anyone of us saw a man over his wife, would he go to seek after witnesses?" The Prophet (ﷺ) kept on saying, "Either you bring forth the witnesses or you will receive the legal punishment (lashes) on your back." Hilal then said, "By Him Who sent you with the Truth, I am telling the truth and Allah will reveal to you what will save my back from legal …
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ہلال بن امیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت لگائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر کو مبتلا دیکھتا ہے تو کیا وہ ایسی حالت میں گواہ تلاش کرنے جائے گا؟ لیکن آپ یہی فرماتے رہے کہ گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری کی جائے گی۔ اس پر ہلال نے عرض کیا۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی ایسی آیت نازل فرمائے …
establishes the case showing why mercy was needed: Hilal ibn Umayyah accused his wife of adultery, and the li'an ruling was a merciful alternative to the hudud
حلال کے واقعے میں نبی کا رحمت: لعان کا حکم حد کی بجائے رحمت سے دیا گیا
Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.
ذكرها al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Rāzī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Ibn ‘Abbas said “Hilal bin Umayyah was one of the three persons whose repentance was accepted by Allaah. One night he returned from his land and found a man along with his wife. He witnessed with his eyes and heard with his ears. He did not threaten him till the morning.” Next day he went to the Apostle of Allaah(ﷺ) in the morning and said Apostle of Allaah(ﷺ) “I came to my wife in the night and found a man along with her. I saw with my own eyes and heard with my own ears. The Apostle of Allaah(ﷺ) disliked what he described and he took it seriously. There upon the following Qur’anic verse came down “And those who make charges against their spouses but have no witnesses except themselves, …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ( جو کہ ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے ( ایک غزوہ میں پچھڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کے بعد ) توبہ قبول فرمائی تھی، وہ ) اپنی زمین سے رات کو آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا، اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھا، اور کانوں سے پوری گفتگو سنی، لیکن صبح تک اس معاملہ کو دبا کر رکھا، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کو میں گھر آیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک مرد کو پایا، اپنی آنکھوں سے ( سب کچھ ) دیکھا، اور کانوں سے ( سب ) سنا، ان کی ان باتوں کو آپ نے ناپسند کیا اور ان پر ناگواری کا اظہار فرمایا، تو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2671)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2671)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2671)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلاً عَلَى امْرَأَتِهِ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ …
Ibn ‘Abbas said “Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of Prophet (ﷺ) of having committed adultery with Sharik bin Sahma’”. The Prophet (ﷺ) said “Produce evidence or you must receive punishment on your back.” He said “Apostle of Allaah(ﷺ) when one of us sees a man having intercourse with his wife should he go and seek evidence?” But the Prophet (ﷺ) merely said “You must produce evidence or you must receive punishment on your back.” Hilal then said “By Him Who sent you with the Truth, I am speaking Truly. May Allaah send down something which will free my back from punishment. Then the following Qur’anic verses were revealed “And those who make charges against their spouses but …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ ( زنا کی ) تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ پیٹھ پر کوڑے لگیں گے ، تو ہلال نے کہا کہ: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص کسی آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈنے جائے؟ اس پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرمائے جا رہے تھے کہ: گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے پڑیں گے ، تو ہلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے بارے میں وحی نازل کر کے میری پیٹھ کو حد سے بری کرے گا، چنانچہ «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» کی …
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے ۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
Abdul-Malik bin Abi Sulaiman said:"I heard Sa'eed bin Jubair say: 'I was asked about the two who engage in Li'an during the governorship of Ibn Az-Zubair - should they be separated? I did not know what to say, so I got up and went to the house of Ibn 'Umar and said: "O Abu 'Abdur-Rahman, should the two who engage in Li'an be separated?" He said: "Yes, Subhan Allah! The first one who asked about that was so-and-so the son of so-and-so who said: 'O Messenger of Allah, what do you think if a man among us sees his wife committing immoral actions, and if he speaks of it, he will be speaking of a grave matter, but if he keeps quiet, he will be keeping quiet about a grave matter?' He did not …
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو ) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق ( جدائی ) کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، سبحان اللہ، پاک و برتر ہے ذات اللہ کی۔ سب سے پہلے اس بارے میں فلاں ابن فلاں نے مسئلہ پوچھا تھا ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کا نام نہیں لیا ) اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! ( «ارأیت» عمرو بن علی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں انہوں نے اپنی …
Sa'id b Jubair reported:I was asked about the invokers of curses during the reign of Mus'ab (b. Zubair) whether they could separate (themselves by this process). He said: I did not understand what to say. So I went to the house of Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) in Mecca. I said to his servant: Seek permission for Me. He said that he (Ibn 'Umar) had been taking rest. He (Ibn 'Umar) heard my voice. and said: Are you Ibn Jubair? I said: Yes. He'said: Come in. By Allah, it must be some (great) need which has brought you here at this Hour. So I got in and found him lying on a blanket reclining against a pillow stuffed with fibres of date-palm. I said: O Abu'Abd al-Rahman, should there be …
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے مجھ سے پوچھا گیا لعان کرنے والوں کا مسئلہ مصعب بن زبیر کی خلافت میں میں حیران ہوا کیا جواب دوں تو میں چلا عبداﷲ بن عمرؓ کے مکان کی طرف مکہ میں او ران کے غلام سے کہا میری عرض کرو اس نے کہا وہ آرام کرتے ہیں انہوں نے میری آواز سنی او رکہا کیا جبیر کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا اندر آ قسم خدا کی تو کسی کام سے آیا ہوگا میں اندر آگیا تو وہ ایک کمبل بچھائے بیٹھے تھے او رایک تکیے پر ٹیک لگائے تھے جو چھال سے کھجور کی بھرا ہوا تھا ۔ میں نے کہا اے ابوعبدالرحمن! لعان کرنے والوں میں جدائی کی جائے گی؟ انہوں نے کہا سبحان اﷲ بے شک جدائی کی جائے گی اور سب سے پہلے اس باب میں فلاں نے پوچھا جو فلاں کا بیٹا تھا رسول اﷲ ﷺ سے ۔ اس نے کہا یا رسول اﷲ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر ہم میں …
Sa'eed bin Jubair narrated:"I was asked about those who were involved in the case of Li'an and if they are to be separated, during the leadership of Mus'ab bin Az-Zubair. I did not know what to say. So I went to the house of Abdullah bin Umar and I sought permission to enter. I was told that he was taking a nap, but he heard me talking and he said: 'Is it Ibn Jubair? Enter. You would not have come except for a need.'"He said: "So I entered and found him lying on a saddlecloth from his mount. I said: 'O Abu Abdur-Rahman! Are those involved in Li'an separated?' He said: 'Glorious is Allah! Yes. The first who asked about that was so-and-so the son of so-and-so. He came to the Prophet and said: …
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کے زمانہ امارت میں مجھ سے لعان ۱؎ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کر دی جائے؟ تو میں نہیں جان سکا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ چنانچہ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، بتایا گیا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے میری بات سن لی، اور کہا: ابن جبیر! آ جاؤ تمہیں کوئی ضرورت ہی لے کر آئی ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پالان پر بچھائے جانے والے کمبل پر لیٹے ہیں۔ میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟ کہا: سبحان اللہ! ہاں، سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ …
Narrated Sa'eed bin Jubair:"I was asked about those who were involved in the case of Li'an and if they are to be separated, during the leadership of Mus'ab bin Az-Zubair. I did not know what to say. So I went to the house of 'Abdullah bin 'Umar and I sought permission to enter. I was told he was taking a nap, but he heard me taking and he said: 'Is it Ibn Jubair? Enter. You would not have come except for a need.'" He said: "So I entered and found him laying on a saddlecloth from his mount. I said: 'O Abu 'Abdur-Rahman! Are those involved in Li'an separated?' He said: 'Glorious is Allah! Yes. The first who asked about hat was so-and-so the son of so-and-so. He came to the Prophet (ﷺ) and …
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر رضی الله عنہ کی امارت کے زمانے میں مجھ سے پوچھا گیا: کیا لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آ گیا، ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، مجھ سے کہا گیا کہ وہ قیلولہ فرما رہے ہیں، مگر انہوں نے میری بات چیت سن لی۔ اور مجھے ( پکار کر ) کہا: ابن جبیر! اندر آ جاؤ، تم کسی ( دینی ) ضرورت ہی سے آئے ہو گے، میں اندر داخل ہوا، دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کجاوے کے نیچے ڈالنے والا کمبل بچھائے ہوئے ہیں، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! پاک اور برتر ذات ہے اللہ کی، …
PickthallLo! they who spread the slander are a gang among you. Deem it not a bad thing for you; nay, it is good for you. Unto every man of them (will be paid) that which he hath earned of the sin; and as for him among them who had the greater share therein, his will be an awful doom.
Yusuf AliThose who brought forward the lie are a body among yourselves: think it not to be an evil to you; On the contrary it is good for you: to every man among them (will come the punishment) of the sin that he earned, and to him who took on himself the lead among them, will be a penalty grievous.
The agreed readingThose who brought the slander were a group among you, not one or two people. Do not count it a bad thing for you: it is good for you. Every one of them carries what he earned of the sin, and the one who took the largest share in it has a great punishment waiting.
Urduبیشک یہ بہتان اور جھوٹا الزام لانے والے تم میں سے ایک پوری جماعت تھی، نہ کہ صرف ایک یا دو شخص۔ اس معاملے کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ یہ تمہارے لیے بھلائی ہے کیونکہ اللہ نے اس کے ذریعے حضرت عائشہ کی برات ظاہر کی اور ایسی آیات نازل کیں جو قیامت تک پڑھی جائیں گی۔ ان بہتان لگانے والوں میں سے ہر ایک کو اس کے حصے کے مطابق گناہ ملے گا، اور جس نے اس بہتان کا سب سے بڑا حصہ اٹھایا اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔
Arabicإن الذين جاءوا بهذا الإفك والبهتان الكبير جماعة منكم أيها المؤمنون، وليس شخصا واحدا أو اثنين. لا تظنوا هذا الأمر شرا لكم، بل هو خير لكم لأن الله برأ به عائشة وأنزل فيه آيات تتلى إلى يوم القيامة. لكل واحد من هؤلاء المفترين ما اكتسبه من الإثم بقدر خوضه فيه، والذي تولى معظم الإفك ونشره منهم له عذاب عظيم في الدنيا والآخرة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Saʿdī، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Rāzī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr, al-Saʿdī and Ṭanṭāwī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Saʿdī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
narrates Aisha's direct account of the slander: she was left behind during an expedition, and hypocrites spread false accusations against her and Safwan
عائشہ کا براہ راست واقعہ: غزوے میں پیچھے رہی اور منافقین نے تہمت لگائی
Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Rāzī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated `Aisha:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots amongst his wives, and Allah's Messenger (ﷺ) used to take with him the one on whom lot fell. He drew lots amongst us during one of the Ghazwat which he fought. The lot fell on me and so I proceeded with Allah's Messenger (ﷺ) after Allah's order of veiling (the women) had been revealed. I was carried (on the back of a camel) in my howdah and carried down while still in it (when we came to a halt). So we went on till Allah's Messenger (ﷺ) had finished from that Ghazwa of his and returned. When we approached the city of Medina he announced at night that it was time for departure. So when they …
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر ‘ سعید بن مسیب ‘ علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب اہل افک ( یعنی تہمت لگانے والوں ) نے ان کے متعلق وہ سب کچھ کہا جو انہیں کہنا تھا ( ابن شہاب نے بیان کیا کہ ) تمام حضرات نے ( جن چار حضرات کے نام انہوں نے روایت کے سلسلے میں لیے ہیں ) مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا۔ یہ بھی تھا کہ ان میں سے بعض کو یہ قصہ زیادہ بہتر طریقہ پر یاد تھا اور عمدگی سے یہ قصہ بیان کرتا تھا اور میں نے ان …
records Aisha's account of the slander incident: separated from the army, retrieved by Safwan, and hypocrites seized the opportunity to spread falsehood
عائشہ کی تفصیل: لشکر سے الگ، صفوان کے ذریعے واپسی، منافقین کی تہمت
Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Rāzī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr and Ṭanṭāwī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
Sa'id b. Musayyib, 'Urwa b. Zubair, 'Alqama b. Waqqas and 'Ubaidullah b. Abdullah b. 'Utba b. Mas'ud--all of them reported the story of the false allegation against 'A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). And they (the slanderers) said what they had to say, but Allah exonerated her of this charge and all of them reported a part of the hadith and some of them who had better memories reported more and with better retention, and I tried to retain this hadith (listening) from every one of them that they reported to me and some of them attested the other. (The sumaried substance of the false allegation is this):'A'isha said: Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to set out on a journey he …
ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ …
Narrated Aisha:(the wife of the Prophet) "Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he would draw lots amongst his wives and would take with him the one upon whom the lot fell. During a Ghazwa of his, he drew lots amongst us and the lot fell upon me, and I proceeded with him after Allah had decreed the use of the veil by women. I was carried in a Howdah (on the camel) and dismounted while still in it. When Allah's Messenger (ﷺ) was through with his Ghazwa and returned home, and we approached the city of Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered us to proceed at night. When the order of setting off was given, I walked till I was past the army to answer the call of nature. After …
ہم سے ابوربیع، سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث کے بعض مطالب مجھ کو امام احمد بن یونس نے سمجھائے، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص لیثی اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ قصہ بیان کیا جب تہمت لگانے والوں نے ان پر پر تہمت لگائی لیکن اللہ تعالیٰ نے خود انہیں اس سے بری قرار دیا۔ زہری نے بیان کیا ( کہ زہری سے بیان کرنے والے، جن کا سند میں زہری کے بعد ذکر ہے ) تمام راویوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا ایک ایک حصہ بیان کیا تھا، بعض راویوں کو بعض دوسرے راویوں سے حدیث زیادہ یاد تھی اور وہ بیان بھی …
narrates the slander incident: Aisha lost her necklace during return, stayed behind searching, and became the target of the hypocrites' false accusations
عائشہ کی گردن کا ہار کھو جانا اور اسی وقت منافقین کی تہمت لگانا
Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Aisha:When there was said about me what was said which I myself was unaware of, Allah's Messenger (ﷺ) got up and addressed the people. He recited Tashah-hud, and after glorifying and praising Allah as He deserved, he said, "To proceed: O people Give me your opinion regarding those people who made a forged story against my wife. By Allah, I do not know anything bad about her. By Allah, they accused her of being with a man about whom I have never known anything bad, and he never entered my house unless I was present there, and whenever I went on a journey, he went with me." Sa`d bin Mu`adh got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ) Allow me to chop their heads off". Then a man from …
اور ابواسامہ حماد بن اسامہ نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب میرے متعلق ایسی باتیں کہی گئیں جن کا مجھے گمان بھی نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے معاملہ میں لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کے بعد اللہ کی حمد و ثنا اس کی شان کے مطابق بیان کی، پھر فرمایا، امابعد! تم لوگ مجھے ایسے لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری بیوی کو بدنام کیا ہے اور اللہ کی قسم! کہ میں نے اپنی بیوی میں کوئی برائی نہیں دیکھی اور تہمت بھی ایسے شخص ( صفوان بن معطل ) کے ساتھ لگائی ہے کہ اللہ کی قسم! ان میں بھی میں نے کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی۔ وہ میرے گھر میں جب بھی داخل …
Narrated Az-Zuhri:I heard `Urwa bin Az-Zubair, Sa`id bin Al-Musaiyab, 'Alqama bin Waqqas and 'Ubaidullah bin `Abdullah bin `Uqba relating from `Aisha, the wife of the Prophet (ﷺ) the narration of the people (i.e. the liars) who spread the slander against her and they said what they said, and how Allah revealed her innocence. Each of them related to me a portion of that narration. (They said that `Aisha said), ''Then Allah revealed the ten Verses starting with:--'Verily! Those who spread the slander..' (24.11-21) All these verses were in proof of my innocence. Abu Bakr As-Siddiq who used to provide for Mistah some financial aid because of his relation to him, said, "By Allah, I will never …
ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن المسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم سے سنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان کی بات کے متعلق، جب ان پر اتہام لگانے والوں نے اتہام لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس اتہام سے بری قرار دیا تھا، ان سب لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کوئی ایک ٹکڑا بیان کیا ( اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إن الذين جاءوا بالإفك» کہ ”بلاشبہ …
A'Isha reported:When I came under discussion what the people had to say about me, Allah's Messenger (ﷺ) stood up for delivering an address and he recited tashahhud (I bear witness to the fact that iheie is no god but Allah) and praised Allah, lauded Him what He rightly deserves and then said: Coming to the point. Give me an advice about them who have brought false charge about my family. By Allah, I know no evil in the members of my family and the person in connection with whom the false charge is being levelled, I know no evil in him too. And he never entered my house but in my presence and when I was away on a journey, he remained with me even in that. The rest of the hadith is the same …
ابو اسامہ نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب میرے معاملے میں وہ باتیں کہی گئیں جو کہی گئیں اور مجھے اس معاملے کا علم نہ تھا ، ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ۔ شہادتین پڑھیں ، اللہ کی حمد و ژنا کی جو اس کے شایان شان ہے ، پھر فرمایا : "" اس ( حمد و ثنا ) کے بعد! مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری اہلیہ پر بہتان لگایا اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میری اہلیہ کے خلاف کبھی کوئی برائی میرے علم میں نہیں آئی ۔ وہ ( صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ ) جس کے بارے میں انہوں نے تہمت لگائی ہے ، اللہ کی قسم! مجھے اس کے بارے میں کسی برائی کا علم نہیں ، وہ کبھی میرے گھر نہیں …
Narrated 'Aishah:"What was said about me had been said, and I myself was unaware of it, the Messenger of Allah (ﷺ) got up and addressed the people. He recited the Tashahhud and after praising and expressing gratitude to Allah, as He deserved, he said: 'To proceed: O people! Give me your opinion regarding those people who made a forged story against my wife. By Allah, I do not know anything bad about her at all. By Allah, they accused her of being with a man about whom I have never known anything bad, and he never entered my house unless I was present there, and whenever I went on a journey, he went with me.' Sa'd bin Mu'adh [may Allah be pleased with him] got up and said: 'O Messenger of …
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میرے بارے میں افواہیں پھیلائی جانے لگیں جو پھیلائی گئیں، میں ان سے بےخبر تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میرے تعلق سے ایک خطبہ دیا، آپ نے شہادتین پڑھیں، اللہ کے شایان شان تعریف و ثنا کی، اور حمد و صلاۃ کے بعد فرمایا: ”لوگو! ہمیں ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری گھر والی پر تہمت لگائی ہے، قسم اللہ کی! میں نے اپنی بیوی میں کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی، انہوں نے میری بیوی کو اس شخص کے ساتھ متہم کیا ہے جس کے بارے میں اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی برائی نہیں جانی، وہ میرے گھر میں کبھی بھی میری غیر موجودگی میں داخل نہیں ہوا، وہ جب بھی میرے گھر میں آیا ہے میں موجود رہا ہوں، اور جب بھی میں گھر سے غائب ہوا، سفر میں رہا وہ بھی …
Narrated Masruq:We went to `Aisha while Hassan bin Thabit was with her reciting poetry to her from some of his poetic verses, saying "A chaste wise lady about whom nobody can have suspicion. She gets up with an empty stomach because she never eats the flesh of indiscreet (ladies)." `Aisha said to him, "But you are not like that." I said to her, "Why do you grant him admittance, though Allah said:-- "and as for him among them, who had the greater share therein, his will be a severe torment." (24.11) On that, `Aisha said, "And what punishment is more than blinding?" She, added, "Hassan used to defend or say poetry on behalf of Allah's Messenger (ﷺ) (against the infidels)
مجھ سے بشر بن خالد نے بیان کیا ‘ ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہیں سلیمان نے ‘ انہیں ابوالضحیٰ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے یہاں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ موجود تھے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اپنے اشعار سنا رہے تھے۔ ایک شعر تھا جس کا ترجمہ یہ ہے۔ وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جس پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی ‘ وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتی۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا لیکن تم تو ایسے نہیں ثابت ہوئے۔ مسروق نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا ‘ آپ انہیں اپنے یہاں آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرما چکا ہے «والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم» …
records Hassan ibn Thabit's role in the slander: though he participated in spreading the ifk, his punishment was blindness and he later defended the Prophet
حسان بن ثابت کا کردار: تہمت میں شامل لیکن نابینا ہوا اور بعد میں نبی کی حمایت کی
Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.
PickthallWhy did not the believers, men and women, when ye heard it, think good of their own own folk, and say: It is a manifest untruth?
Yusuf AliWhy did not the believers - men and women - when ye heard of the affair,- put the best construction on it in their own minds and say, "This (charge) is an obvious lie"?
The agreed readingWhen you heard it, why did the believing men and women not think well of their own people and say outright: this is a plain lie? Faith itself is what should have produced that thought.
Urduتو جب تم نے یہ بہتان سنا تو مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے آپ اور اپنے دینی بھائیوں کے بارے میں نیک گمان کیوں نہ کیا اور صاف صاف کیوں نہ کہا کہ یہ تو کھلا جھوٹ ہے؟ خود ایمان ہی تو تھا جسے انہیں یہ نیک گمان دلانا چاہیے تھا۔
Arabicفهلا حين سمعتم هذا الإفك ظن المؤمنون والمؤمنات بأنفسهم وبإخوانهم في الدين خيرا، وقالوا صراحة: هذا كذب واضح لا شك فيه؟ فالإيمان نفسه هو الذي كان ينبغي أن يدفعهم إلى هذا الظن الحسن.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabrisī، al-Qurṭubī، al-Saʿdī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabrisī, al-Qurṭubī and al-Saʿdī on this āyah
al-Ṭabrisī، al-Qurṭubī، al-Saʿdī نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
Narrated `Aisha:Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots amongst his wives, and Allah's Messenger (ﷺ) used to take with him the one on whom lot fell. He drew lots amongst us during one of the Ghazwat which he fought. The lot fell on me and so I proceeded with Allah's Messenger (ﷺ) after Allah's order of veiling (the women) had been revealed. I was carried (on the back of a camel) in my howdah and carried down while still in it (when we came to a halt). So we went on till Allah's Messenger (ﷺ) had finished from that Ghazwa of his and returned. When we approached the city of Medina he announced at night that it was time for departure. So when they …
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر ‘ سعید بن مسیب ‘ علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب اہل افک ( یعنی تہمت لگانے والوں ) نے ان کے متعلق وہ سب کچھ کہا جو انہیں کہنا تھا ( ابن شہاب نے بیان کیا کہ ) تمام حضرات نے ( جن چار حضرات کے نام انہوں نے روایت کے سلسلے میں لیے ہیں ) مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا۔ یہ بھی تھا کہ ان میں سے بعض کو یہ قصہ زیادہ بہتر طریقہ پر یاد تھا اور عمدگی سے یہ قصہ بیان کرتا تھا اور میں نے ان …
Sa'id b. Musayyib, 'Urwa b. Zubair, 'Alqama b. Waqqas and 'Ubaidullah b. Abdullah b. 'Utba b. Mas'ud--all of them reported the story of the false allegation against 'A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). And they (the slanderers) said what they had to say, but Allah exonerated her of this charge and all of them reported a part of the hadith and some of them who had better memories reported more and with better retention, and I tried to retain this hadith (listening) from every one of them that they reported to me and some of them attested the other. (The sumaried substance of the false allegation is this):'A'isha said: Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to set out on a journey he …
ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ …
Narrated Um Ruman:Aisha's mother, When `Aisha was accused, she fell down Unconscious
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سلیمان بن کثیر نے خبر دی، انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب عائشہ نے تہمت کی خبر سنی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑی تھی۔
Narrated Masruq bin Al-Ajda:Um Ruman, the mother of `Aisha said that while `Aisha and she were sitting, an Ansari woman came and said, "May Allah harm such and-such a person!" Um Ruman said to her, What is the matter?" She replied, "My son was amongst those who talked of the story (of the Slander)." Um Ruman said, "What is that?" She said, "So-and-so..." and narrated the whole story. On that `Aisha said, "Did Allah's Apostle hear about that?" She replied, "Yes." `Aisha further said, "And Abu Bakr too?" She replied, "Yes." On that, `Aisha fell down fainting, and when she came to her senses, she had got fever with rigors. I put her clothes over her and covered her. The Prophet (ﷺ) came and …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ اللہ فلاں، فلاں کو تباہ کرے۔ ام رومان نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا بھی ان لوگوں کے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔ جنہوں نے اس طرح کی بات کی ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہے؟ اس پر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں نقل کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی …
Narrated Um Ruman:Who was `Aisha's mother: While I was with `Aisha, `Aisha got fever, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then `Aisha sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob and his sons:--'Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ تَقْرَأُ {إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ} وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا.
Narrated Ibn Abi Mulaika:`Aisha used to recite this Verse:-- 'Ida taliqunahu bi-alsinatikum' (24.15) "(As you tell lie with your tongues.)" and used to say "Al-Walaq" means "telling of a lie. "She knew this Verse more than anybody else as it was revealed about her
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ( سورۃ النور کی آیت میں ) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم» کرتی تھیں اور ( اس کی تفسیر میں ) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2593، 2688)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2593، 2688)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2593، 2688)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ .
A’ishah wife of the Prophet (ﷺ) reported “When the Apostle of Allaah(ﷺ) intended to go on a journey he cast lots amongst his wives and the one who was chosen by lot went on it with him. He divided his time, day and night (equally) for each of his wives except that Saudah daughter of Zam’ah gave her day to A’ishah
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تو جس کا نام نکلتا اس کو لے کر سفر کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بیوی کے لیے ایک دن رات کی باری بنا رکھی تھی، سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے رکھی تھی۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWhy did they not produce four witnesses? Since they produce not witnesses, they verily are liars in the sight of Allah.
Yusuf AliWhy did they not bring four witnesses to prove it? When they have not brought the witnesses, such men, in the sight of Allah, (stand forth) themselves as liars!
The agreed readingWhy did they not bring four witnesses to it? Since they brought none, they stand before God as the liars: a charge with no proof behind it is a lie in God's judgement, and that is why the penalty follows it.
Urduکیوں نہ یہ الزام لگانے والے اس پر چار عادل گواہ لائے جنہوں نے یہ معاملہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو؟ اور جب وہ مطلوبہ گواہ نہ لا سکے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں، کیونکہ بغیر ثبوت کے الزام اللہ کے حکم میں جھوٹ شمار ہوتا ہے، اور اسی وجہ سے ان پر حد قذف لازم آتی ہے۔
Arabicهلا جاء هؤلاء المفترون على هذا الإفك بأربعة شهود عدول رأوا الأمر بأعينهم؟ فإذ لم يأتوا بالشهود المطلوبين، فهم عند الله هم الكاذبون حقا، لأن الاتهام بلا دليل يكون كذبا في حكم الله، ولهذا يترتب عليهم حد القذف.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
Narrated 'Aishah:"When my innocence was revealed, the Messenger of Allah (ﷺ) stood on the Minbar and mentioned that. He recited the Qur'an, and when he descended, he ordered that two men, and the woman, be beaten as their Hadd
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میری صفائی و پاکدامنی کی آیت نازل ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا ذکر کیا، قرآن کی تلاوت کی، اور منبر سے اترنے کے بعد دو مردوں اور ایک عورت پر حد ( قذف ) جاری کرنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ ان سب پر حد جاری کر دی گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے محمد بن اسحاق کی روایت کے سوا اور کسی طریقے سے نہیں جانتے۔
It was narrated that 'Aishah said:“When my innocence was revealed, the Messenger of Allah (ﷺ) stood on the pulpit and mentioned that, and he recited Quran. When he came down, he ordered that the legal punishment (of slandering) be carried out on two men and a woman.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری براءت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا تذکرہ کر کے قرآنی آیات کی تلاوت کی، اور جب منبر سے اتر آئے، تو دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا چنانچہ ان کو حد لگائی گئی ۱؎۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَرَأَيْتَ هَذَا الْيَمَانِيَ يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ هُوَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ نَسْمَعُ مِنْهُ مَا لاَ نَسْمَعُ مِنْكُمْ أَوْ يَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ يَقُلْ . قَالَ أَمَّا أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ نَسْمَعْ فَلاَ أَشُكُّ …
Narrated Malik bin Abi 'Amir:"A man came to Talhah bin 'Ubaidullah and said: 'O Abu Muhammad, do you see this Yemeni - meaning: Abu Hurairah - is he more knowledgeable of the Ahadith of the Messenger of Allah (ﷺ) than you? We hear from him what we do not hear from you, or does he attribute to the Messenger of Allah (ﷺ) what he did not say?' He said: 'As for his having heard from the Messenger of Allah (ﷺ) what we did not hear from him, then that is because he was poor, having nothing, a guest of the Messenger of Allah (ﷺ), his hand was in the hand of the Messenger of Allah (ﷺ). And we used to be people of houses and wealth, and we used to come to the Messenger of Allah (ﷺ) at the two ends …
مالک بن ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے طلحہ بن عبیداللہ کے پاس آ کر کہا: اے ابو محمد! کیا یہ یمنی شخص یعنی ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کا آپ لوگوں سے زیادہ جانکار ہے، ہم اس سے ایسی حدیثیں سنتے ہیں جو آپ سے نہیں سنتے یا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی بات گھڑ کر کہتا ہے جو آپ نے نہیں فرمائی، تو انہوں نے کہا: نہیں ایسی بات نہیں، واقعی ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے آپ سے نہیں سنیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسکین تھے، ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان رہتے تھے، ان کا ہاتھ ( کھانے پینے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے ساتھ پڑتا تھا، اور ہم گھربار والے تھے اور مالدار لوگ تھے، ہم …
Narrated Um Ruman:Aisha's mother, When `Aisha was accused, she fell down Unconscious
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سلیمان بن کثیر نے خبر دی، انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب عائشہ نے تہمت کی خبر سنی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑی تھی۔
Narrated Masruq bin Al-Ajda:Um Ruman, the mother of `Aisha said that while `Aisha and she were sitting, an Ansari woman came and said, "May Allah harm such and-such a person!" Um Ruman said to her, What is the matter?" She replied, "My son was amongst those who talked of the story (of the Slander)." Um Ruman said, "What is that?" She said, "So-and-so..." and narrated the whole story. On that `Aisha said, "Did Allah's Apostle hear about that?" She replied, "Yes." `Aisha further said, "And Abu Bakr too?" She replied, "Yes." On that, `Aisha fell down fainting, and when she came to her senses, she had got fever with rigors. I put her clothes over her and covered her. The Prophet (ﷺ) came and …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ اللہ فلاں، فلاں کو تباہ کرے۔ ام رومان نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا بھی ان لوگوں کے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔ جنہوں نے اس طرح کی بات کی ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہے؟ اس پر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں نقل کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی …
Narrated Um Ruman:Who was `Aisha's mother: While I was with `Aisha, `Aisha got fever, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then `Aisha sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob and his sons:--'Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ تَقْرَأُ {إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ} وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا.
Narrated Ibn Abi Mulaika:`Aisha used to recite this Verse:-- 'Ida taliqunahu bi-alsinatikum' (24.15) "(As you tell lie with your tongues.)" and used to say "Al-Walaq" means "telling of a lie. "She knew this Verse more than anybody else as it was revealed about her
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ( سورۃ النور کی آیت میں ) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم» کرتی تھیں اور ( اس کی تفسیر میں ) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔
PickthallHad it not been for the grace of Allah and His mercy unto you in the world and the Hereafter an awful doom had overtaken you for that whereof ye murmured.
Yusuf AliWere it not for the grace and mercy of Allah on you, in this world and the Hereafter, a grievous penalty would have seized you in that ye rushed glibly into this affair.
The agreed readingAnd were it not for God's favour to you and His mercy, in this world and in the next, a great punishment would have caught you at once for what you plunged into.
Urduاور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت دنیا میں پردہ پوشی اور معافی کی صورت میں، اور آخرت میں توبہ کی قبولیت کی صورت میں نہ ہوتی، تو اس باطل بات میں پڑنے کی وجہ سے تمہیں فوری طور پر بہت بڑا عذاب پہنچ جاتا۔
Arabicولولا فضل الله عليكم ورحمته بكم في الدنيا بالستر والعفو، وفي الآخرة بقبول التوبة، لأصابكم فورا عذاب عظيم بسبب ما خضتم فيه من هذا الحديث الباطل.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
Narrated 'Aishah:"When my innocence was revealed, the Messenger of Allah (ﷺ) stood on the Minbar and mentioned that. He recited the Qur'an, and when he descended, he ordered that two men, and the woman, be beaten as their Hadd
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میری صفائی و پاکدامنی کی آیت نازل ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا ذکر کیا، قرآن کی تلاوت کی، اور منبر سے اترنے کے بعد دو مردوں اور ایک عورت پر حد ( قذف ) جاری کرنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ ان سب پر حد جاری کر دی گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے محمد بن اسحاق کی روایت کے سوا اور کسی طریقے سے نہیں جانتے۔
It was narrated that 'Aishah said:“When my innocence was revealed, the Messenger of Allah (ﷺ) stood on the pulpit and mentioned that, and he recited Quran. When he came down, he ordered that the legal punishment (of slandering) be carried out on two men and a woman.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری براءت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا تذکرہ کر کے قرآنی آیات کی تلاوت کی، اور جب منبر سے اتر آئے، تو دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا چنانچہ ان کو حد لگائی گئی ۱؎۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif Isnaad · Al-Albani: Daif Isnaad · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَرَأَيْتَ هَذَا الْيَمَانِيَ يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ هُوَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ نَسْمَعُ مِنْهُ مَا لاَ نَسْمَعُ مِنْكُمْ أَوْ يَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ يَقُلْ . قَالَ أَمَّا أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ نَسْمَعْ فَلاَ أَشُكُّ …
Narrated Malik bin Abi 'Amir:"A man came to Talhah bin 'Ubaidullah and said: 'O Abu Muhammad, do you see this Yemeni - meaning: Abu Hurairah - is he more knowledgeable of the Ahadith of the Messenger of Allah (ﷺ) than you? We hear from him what we do not hear from you, or does he attribute to the Messenger of Allah (ﷺ) what he did not say?' He said: 'As for his having heard from the Messenger of Allah (ﷺ) what we did not hear from him, then that is because he was poor, having nothing, a guest of the Messenger of Allah (ﷺ), his hand was in the hand of the Messenger of Allah (ﷺ). And we used to be people of houses and wealth, and we used to come to the Messenger of Allah (ﷺ) at the two ends …
مالک بن ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے طلحہ بن عبیداللہ کے پاس آ کر کہا: اے ابو محمد! کیا یہ یمنی شخص یعنی ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کا آپ لوگوں سے زیادہ جانکار ہے، ہم اس سے ایسی حدیثیں سنتے ہیں جو آپ سے نہیں سنتے یا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی بات گھڑ کر کہتا ہے جو آپ نے نہیں فرمائی، تو انہوں نے کہا: نہیں ایسی بات نہیں، واقعی ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے آپ سے نہیں سنیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسکین تھے، ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان رہتے تھے، ان کا ہاتھ ( کھانے پینے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے ساتھ پڑتا تھا، اور ہم گھربار والے تھے اور مالدار لوگ تھے، ہم …
Narrated Um Ruman:Aisha's mother, When `Aisha was accused, she fell down Unconscious
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سلیمان بن کثیر نے خبر دی، انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب عائشہ نے تہمت کی خبر سنی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑی تھی۔
Narrated Masruq bin Al-Ajda:Um Ruman, the mother of `Aisha said that while `Aisha and she were sitting, an Ansari woman came and said, "May Allah harm such and-such a person!" Um Ruman said to her, What is the matter?" She replied, "My son was amongst those who talked of the story (of the Slander)." Um Ruman said, "What is that?" She said, "So-and-so..." and narrated the whole story. On that `Aisha said, "Did Allah's Apostle hear about that?" She replied, "Yes." `Aisha further said, "And Abu Bakr too?" She replied, "Yes." On that, `Aisha fell down fainting, and when she came to her senses, she had got fever with rigors. I put her clothes over her and covered her. The Prophet (ﷺ) came and …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ اللہ فلاں، فلاں کو تباہ کرے۔ ام رومان نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا بھی ان لوگوں کے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔ جنہوں نے اس طرح کی بات کی ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہے؟ اس پر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں نقل کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی …
Narrated Um Ruman:Who was `Aisha's mother: While I was with `Aisha, `Aisha got fever, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then `Aisha sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob and his sons:--'Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ تَقْرَأُ {إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ} وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا.
Narrated Ibn Abi Mulaika:`Aisha used to recite this Verse:-- 'Ida taliqunahu bi-alsinatikum' (24.15) "(As you tell lie with your tongues.)" and used to say "Al-Walaq" means "telling of a lie. "She knew this Verse more than anybody else as it was revealed about her
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ( سورۃ النور کی آیت میں ) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم» کرتی تھیں اور ( اس کی تفسیر میں ) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔
PickthallWhen ye welcomed it with your tongues, and uttered with your mouths that whereof ye had no knowledge, ye counted it a trifle. In the sight of Allah it is very great.
Yusuf AliBehold, ye received it on your tongues, and said out of your mouths things of which ye had no knowledge; and ye thought it to be a light matter, while it was most serious in the sight of Allah.
The agreed readingYou passed it from tongue to tongue, each taking it up from the last, and said with your mouths what you had no knowledge of at all. You counted it a small thing, and with God it is great.
Urduجب تم اس بہتان کو زبانوں سے ایک دوسرے سے لیتے اور آگے پھیلاتے تھے بغیر کسی تحقیق کے، اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم اور یقین نہیں تھا، اور تم اسے معمولی سی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ یہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔
Arabicحين كنتم تتناقلون هذا الإفك بألسنتكم، يأخذه بعضكم عن بعض من غير تثبت، وتقولون بأفواهكم ما ليس لكم به علم ولا يقين، وتحسبون هذا الأمر أمرا هينا سهلا، وهو عند الله عظيم جدا.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Um Ruman:Aisha's mother, When `Aisha was accused, she fell down Unconscious
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سلیمان بن کثیر نے خبر دی، انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب عائشہ نے تہمت کی خبر سنی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑی تھی۔
Narrated Masruq bin Al-Ajda:Um Ruman, the mother of `Aisha said that while `Aisha and she were sitting, an Ansari woman came and said, "May Allah harm such and-such a person!" Um Ruman said to her, What is the matter?" She replied, "My son was amongst those who talked of the story (of the Slander)." Um Ruman said, "What is that?" She said, "So-and-so..." and narrated the whole story. On that `Aisha said, "Did Allah's Apostle hear about that?" She replied, "Yes." `Aisha further said, "And Abu Bakr too?" She replied, "Yes." On that, `Aisha fell down fainting, and when she came to her senses, she had got fever with rigors. I put her clothes over her and covered her. The Prophet (ﷺ) came and …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ اللہ فلاں، فلاں کو تباہ کرے۔ ام رومان نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا بھی ان لوگوں کے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔ جنہوں نے اس طرح کی بات کی ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہے؟ اس پر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں نقل کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی …
Narrated Um Ruman:Who was `Aisha's mother: While I was with `Aisha, `Aisha got fever, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then `Aisha sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob and his sons:--'Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ تَقْرَأُ {إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ} وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا.
Narrated Ibn Abi Mulaika:`Aisha used to recite this Verse:-- 'Ida taliqunahu bi-alsinatikum' (24.15) "(As you tell lie with your tongues.)" and used to say "Al-Walaq" means "telling of a lie. "She knew this Verse more than anybody else as it was revealed about her
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ( سورۃ النور کی آیت میں ) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم» کرتی تھیں اور ( اس کی تفسیر میں ) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔
Narrated Az-Zuhri:Al-Walid bin `Abdul Malik said to me, "Have you heard that `Ali' was one of those who slandered `Aisha?" I replied, "No, but two men from your people (named) Abu Salama bin `Abdur-Rahman and Abu Bakr bin `Abdur-Rahman bin Al-Harith have informed me that Aisha told them that `Ali remained silent about her case
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہشام بن یوسف نے اپنی یاد سے مجھے حدیث لکھوائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے خلیفہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا ‘ کیا تم کو معلوم ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں میں تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں ‘ البتہ تمہاری قوم ( قریش ) کے دو آدمیوں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے مجھے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ ان کے معاملے میں خاموش تھے۔ پھر لوگوں نے ہشام بن یوسف ( یا زہری ) سے دوبارہ پوچھا۔ انہوں نے یہی کہا «مسلما» اس میں شک نہ کیا «مسيئا» کا لفظ نہیں کہا اور «عليه» کا لفظ زیاوہ کیا ( یعنی زہری نے ولید کو اور کچھ …
Narrated `Umar bin Al-Khattab:People were (sometimes) judged by the revealing of a Divine Inspiration during the lifetime of Allah's Apostle but now there is no longer any more (new revelation). Now we judge you by the deeds you practice publicly, so we will trust and favor the one who does good deeds in front of us, and we will not call him to account about what he is really doing in secret, for Allah will judge him for that; but we will not trust or believe the one who presents to us with an evil deed even if he claims that his intentions were good
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، کہا کہ مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عتبہ نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور ہم صرف انہیں امور میں مواخذہ کریں گے جو تمہارے عمل سے ہمارے سامنے ظاہر ہوں گے۔ اس لیے جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا، ہم اسے امن دیں گے اور اپنے قریب رکھیں گے۔ اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اس کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے خواہ وہ یہی کہتا رہے …
PickthallWherefor, when ye heard it, said ye not: It is not for us to speak of this. Glory be to Thee (O Allah)! This is awful calumny.
Yusuf AliAnd why did ye not, when ye heard it, say? - "It is not right of us to speak of this: Glory to Allah! this is a most serious slander!"
The agreed readingAnd why, when you heard it, did you not say: it is not for us to speak of such a thing at all - glory be to You - this is a great slander?
Urduاور کیوں نہ تم نے یہ بہتان سنتے ہی کہا کہ ہمیں ہرگز ایسی بات کہنے کا کوئی حق نہیں، اے اللہ تو پاک ہے، یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے جو نبوت کے گھرانے کے بارے میں کہنا زیب نہیں دیتا؟
Arabicوهلا قلتم حين سمعتم هذا الإفك: ما ينبغي لنا أبدا أن نتكلم بمثل هذا الأمر، سبحانك اللهم، هذا بهتان عظيم لا يليق أن يقال في أهل بيت النبوة؟
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Um Ruman:Aisha's mother, When `Aisha was accused, she fell down Unconscious
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سلیمان بن کثیر نے خبر دی، انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب عائشہ نے تہمت کی خبر سنی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑی تھی۔
Narrated Masruq bin Al-Ajda:Um Ruman, the mother of `Aisha said that while `Aisha and she were sitting, an Ansari woman came and said, "May Allah harm such and-such a person!" Um Ruman said to her, What is the matter?" She replied, "My son was amongst those who talked of the story (of the Slander)." Um Ruman said, "What is that?" She said, "So-and-so..." and narrated the whole story. On that `Aisha said, "Did Allah's Apostle hear about that?" She replied, "Yes." `Aisha further said, "And Abu Bakr too?" She replied, "Yes." On that, `Aisha fell down fainting, and when she came to her senses, she had got fever with rigors. I put her clothes over her and covered her. The Prophet (ﷺ) came and …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ اللہ فلاں، فلاں کو تباہ کرے۔ ام رومان نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا بھی ان لوگوں کے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔ جنہوں نے اس طرح کی بات کی ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہے؟ اس پر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں نقل کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی …
Narrated Um Ruman:Who was `Aisha's mother: While I was with `Aisha, `Aisha got fever, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then `Aisha sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob and his sons:--'Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ تَقْرَأُ {إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ} وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا.
Narrated Ibn Abi Mulaika:`Aisha used to recite this Verse:-- 'Ida taliqunahu bi-alsinatikum' (24.15) "(As you tell lie with your tongues.)" and used to say "Al-Walaq" means "telling of a lie. "She knew this Verse more than anybody else as it was revealed about her
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ( سورۃ النور کی آیت میں ) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم» کرتی تھیں اور ( اس کی تفسیر میں ) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔
Narrated Az-Zuhri:Al-Walid bin `Abdul Malik said to me, "Have you heard that `Ali' was one of those who slandered `Aisha?" I replied, "No, but two men from your people (named) Abu Salama bin `Abdur-Rahman and Abu Bakr bin `Abdur-Rahman bin Al-Harith have informed me that Aisha told them that `Ali remained silent about her case
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہشام بن یوسف نے اپنی یاد سے مجھے حدیث لکھوائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے خلیفہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا ‘ کیا تم کو معلوم ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں میں تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں ‘ البتہ تمہاری قوم ( قریش ) کے دو آدمیوں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے مجھے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ ان کے معاملے میں خاموش تھے۔ پھر لوگوں نے ہشام بن یوسف ( یا زہری ) سے دوبارہ پوچھا۔ انہوں نے یہی کہا «مسلما» اس میں شک نہ کیا «مسيئا» کا لفظ نہیں کہا اور «عليه» کا لفظ زیاوہ کیا ( یعنی زہری نے ولید کو اور کچھ …
Narrated `Umar bin Al-Khattab:People were (sometimes) judged by the revealing of a Divine Inspiration during the lifetime of Allah's Apostle but now there is no longer any more (new revelation). Now we judge you by the deeds you practice publicly, so we will trust and favor the one who does good deeds in front of us, and we will not call him to account about what he is really doing in secret, for Allah will judge him for that; but we will not trust or believe the one who presents to us with an evil deed even if he claims that his intentions were good
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، کہا کہ مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عتبہ نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور ہم صرف انہیں امور میں مواخذہ کریں گے جو تمہارے عمل سے ہمارے سامنے ظاہر ہوں گے۔ اس لیے جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا، ہم اسے امن دیں گے اور اپنے قریب رکھیں گے۔ اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اس کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے خواہ وہ یہی کہتا رہے …
Sa'id b. Musayyib, 'Urwa b. Zubair, 'Alqama b. Waqqas and 'Ubaidullah b. Abdullah b. 'Utba b. Mas'ud--all of them reported the story of the false allegation against 'A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). And they (the slanderers) said what they had to say, but Allah exonerated her of this charge and all of them reported a part of the hadith and some of them who had better memories reported more and with better retention, and I tried to retain this hadith (listening) from every one of them that they reported to me and some of them attested the other. (The sumaried substance of the false allegation is this):'A'isha said: Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to set out on a journey he …
ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ …
PickthallAllah admonisheth you that ye repeat not the like thereof ever, if ye are (in truth) believers.
Yusuf AliAllah doth admonish you, that ye may never repeat such (conduct), if ye are (true) Believers.
The agreed readingGod warns you never to go back to anything like it again, if you are believers: it is the faith itself that is being appealed to.
Urduاللہ تعالی تمہیں نصیحت کرتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ آئندہ کبھی ایسی بات دوبارہ نہ دہراؤ، اگر تم واقعی مومن ہو، کیونکہ خود ایمان ہی وہ ضمانت ہے جو دوبارہ ایسے بہتان میں پڑنے سے روکتی ہے۔
Arabicيعظكم الله ويحذركم أن تعودوا لمثل هذا القول والفعل مرة أخرى أبدا ما دمتم أحياء، إن كنتم مؤمنين حقا بالله ورسوله، فالإيمان نفسه هو ضمانة عدم العودة إلى مثل هذا الإفك.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Um Ruman:Aisha's mother, When `Aisha was accused, she fell down Unconscious
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سلیمان بن کثیر نے خبر دی، انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب عائشہ نے تہمت کی خبر سنی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑی تھی۔
Narrated Masruq bin Al-Ajda:Um Ruman, the mother of `Aisha said that while `Aisha and she were sitting, an Ansari woman came and said, "May Allah harm such and-such a person!" Um Ruman said to her, What is the matter?" She replied, "My son was amongst those who talked of the story (of the Slander)." Um Ruman said, "What is that?" She said, "So-and-so..." and narrated the whole story. On that `Aisha said, "Did Allah's Apostle hear about that?" She replied, "Yes." `Aisha further said, "And Abu Bakr too?" She replied, "Yes." On that, `Aisha fell down fainting, and when she came to her senses, she had got fever with rigors. I put her clothes over her and covered her. The Prophet (ﷺ) came and …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ اللہ فلاں، فلاں کو تباہ کرے۔ ام رومان نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا بھی ان لوگوں کے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔ جنہوں نے اس طرح کی بات کی ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہے؟ اس پر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں نقل کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی …
Narrated Um Ruman:Who was `Aisha's mother: While I was with `Aisha, `Aisha got fever, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then `Aisha sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob and his sons:--'Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ تَقْرَأُ {إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ} وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا.
Narrated Ibn Abi Mulaika:`Aisha used to recite this Verse:-- 'Ida taliqunahu bi-alsinatikum' (24.15) "(As you tell lie with your tongues.)" and used to say "Al-Walaq" means "telling of a lie. "She knew this Verse more than anybody else as it was revealed about her
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ( سورۃ النور کی آیت میں ) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم» کرتی تھیں اور ( اس کی تفسیر میں ) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔
Narrated Az-Zuhri:Al-Walid bin `Abdul Malik said to me, "Have you heard that `Ali' was one of those who slandered `Aisha?" I replied, "No, but two men from your people (named) Abu Salama bin `Abdur-Rahman and Abu Bakr bin `Abdur-Rahman bin Al-Harith have informed me that Aisha told them that `Ali remained silent about her case
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہشام بن یوسف نے اپنی یاد سے مجھے حدیث لکھوائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے خلیفہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا ‘ کیا تم کو معلوم ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں میں تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں ‘ البتہ تمہاری قوم ( قریش ) کے دو آدمیوں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے مجھے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ ان کے معاملے میں خاموش تھے۔ پھر لوگوں نے ہشام بن یوسف ( یا زہری ) سے دوبارہ پوچھا۔ انہوں نے یہی کہا «مسلما» اس میں شک نہ کیا «مسيئا» کا لفظ نہیں کہا اور «عليه» کا لفظ زیاوہ کیا ( یعنی زہری نے ولید کو اور کچھ …
Narrated `Umar bin Al-Khattab:People were (sometimes) judged by the revealing of a Divine Inspiration during the lifetime of Allah's Apostle but now there is no longer any more (new revelation). Now we judge you by the deeds you practice publicly, so we will trust and favor the one who does good deeds in front of us, and we will not call him to account about what he is really doing in secret, for Allah will judge him for that; but we will not trust or believe the one who presents to us with an evil deed even if he claims that his intentions were good
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، کہا کہ مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عتبہ نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور ہم صرف انہیں امور میں مواخذہ کریں گے جو تمہارے عمل سے ہمارے سامنے ظاہر ہوں گے۔ اس لیے جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا، ہم اسے امن دیں گے اور اپنے قریب رکھیں گے۔ اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اس کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے خواہ وہ یہی کہتا رہے …
Sa'id b. Musayyib, 'Urwa b. Zubair, 'Alqama b. Waqqas and 'Ubaidullah b. Abdullah b. 'Utba b. Mas'ud--all of them reported the story of the false allegation against 'A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). And they (the slanderers) said what they had to say, but Allah exonerated her of this charge and all of them reported a part of the hadith and some of them who had better memories reported more and with better retention, and I tried to retain this hadith (listening) from every one of them that they reported to me and some of them attested the other. (The sumaried substance of the false allegation is this):'A'isha said: Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to set out on a journey he …
ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ …
PickthallAnd He expoundeth unto you the revelations. Allah is Knower, Wise.
Yusuf AliAnd Allah makes the Signs plain to you: for Allah is full of knowledge and wisdom.
The agreed readingAnd He makes the signs plain to you, in what He commands and in what He forbids. God knows all of it, and He is wise in what He lays down.
Urduاور اللہ تمہارے لیے اپنی آیات اور احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے، اس میں بھی جس کا وہ حکم دیتا ہے اور اس میں بھی جس سے وہ منع کرتا ہے، اور اللہ تمہارے تمام معاملات کو خوب جاننے والا اور اپنی شریعت میں حکمت والا ہے۔
Arabicويوضح الله ويبين لكم آياته وأحكامه بيانا واضحا فيما يأمركم به وفيما ينهاكم عنه، والله عليم بجميع أموركم الظاهرة والباطنة، حكيم فيما يشرعه لكم من الأحكام والحدود.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Um Ruman:Aisha's mother, When `Aisha was accused, she fell down Unconscious
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سلیمان بن کثیر نے خبر دی، انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب عائشہ نے تہمت کی خبر سنی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑی تھی۔
Narrated Masruq bin Al-Ajda:Um Ruman, the mother of `Aisha said that while `Aisha and she were sitting, an Ansari woman came and said, "May Allah harm such and-such a person!" Um Ruman said to her, What is the matter?" She replied, "My son was amongst those who talked of the story (of the Slander)." Um Ruman said, "What is that?" She said, "So-and-so..." and narrated the whole story. On that `Aisha said, "Did Allah's Apostle hear about that?" She replied, "Yes." `Aisha further said, "And Abu Bakr too?" She replied, "Yes." On that, `Aisha fell down fainting, and when she came to her senses, she had got fever with rigors. I put her clothes over her and covered her. The Prophet (ﷺ) came and …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ اللہ فلاں، فلاں کو تباہ کرے۔ ام رومان نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا بھی ان لوگوں کے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔ جنہوں نے اس طرح کی بات کی ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہے؟ اس پر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں نقل کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی …
Narrated Um Ruman:Who was `Aisha's mother: While I was with `Aisha, `Aisha got fever, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then `Aisha sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob and his sons:--'Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ تَقْرَأُ {إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ} وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا.
Narrated Ibn Abi Mulaika:`Aisha used to recite this Verse:-- 'Ida taliqunahu bi-alsinatikum' (24.15) "(As you tell lie with your tongues.)" and used to say "Al-Walaq" means "telling of a lie. "She knew this Verse more than anybody else as it was revealed about her
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ( سورۃ النور کی آیت میں ) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم» کرتی تھیں اور ( اس کی تفسیر میں ) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔
Narrated Az-Zuhri:Al-Walid bin `Abdul Malik said to me, "Have you heard that `Ali' was one of those who slandered `Aisha?" I replied, "No, but two men from your people (named) Abu Salama bin `Abdur-Rahman and Abu Bakr bin `Abdur-Rahman bin Al-Harith have informed me that Aisha told them that `Ali remained silent about her case
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہشام بن یوسف نے اپنی یاد سے مجھے حدیث لکھوائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے خلیفہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا ‘ کیا تم کو معلوم ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں میں تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں ‘ البتہ تمہاری قوم ( قریش ) کے دو آدمیوں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے مجھے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ ان کے معاملے میں خاموش تھے۔ پھر لوگوں نے ہشام بن یوسف ( یا زہری ) سے دوبارہ پوچھا۔ انہوں نے یہی کہا «مسلما» اس میں شک نہ کیا «مسيئا» کا لفظ نہیں کہا اور «عليه» کا لفظ زیاوہ کیا ( یعنی زہری نے ولید کو اور کچھ …
Narrated `Umar bin Al-Khattab:People were (sometimes) judged by the revealing of a Divine Inspiration during the lifetime of Allah's Apostle but now there is no longer any more (new revelation). Now we judge you by the deeds you practice publicly, so we will trust and favor the one who does good deeds in front of us, and we will not call him to account about what he is really doing in secret, for Allah will judge him for that; but we will not trust or believe the one who presents to us with an evil deed even if he claims that his intentions were good
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، کہا کہ مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عتبہ نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور ہم صرف انہیں امور میں مواخذہ کریں گے جو تمہارے عمل سے ہمارے سامنے ظاہر ہوں گے۔ اس لیے جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا، ہم اسے امن دیں گے اور اپنے قریب رکھیں گے۔ اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اس کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے خواہ وہ یہی کہتا رہے …
Sa'id b. Musayyib, 'Urwa b. Zubair, 'Alqama b. Waqqas and 'Ubaidullah b. Abdullah b. 'Utba b. Mas'ud--all of them reported the story of the false allegation against 'A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). And they (the slanderers) said what they had to say, but Allah exonerated her of this charge and all of them reported a part of the hadith and some of them who had better memories reported more and with better retention, and I tried to retain this hadith (listening) from every one of them that they reported to me and some of them attested the other. (The sumaried substance of the false allegation is this):'A'isha said: Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to set out on a journey he …
ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ …
PickthallLo! those who love that slander should be spread concerning those who believe, theirs will be a painful punishment in the world and the Hereafter. Allah knoweth. Ye know not.
Yusuf AliThose who love (to see) scandal published broadcast among the Believers, will have a grievous Penalty in this life and in the Hereafter: Allah knows, and ye know not.
The agreed readingThose who like to see indecency spread among those who believe have a painful punishment in this world and the next. The commentaries carry a report that takes the words very wide: even a man repeating about a believer what his own eyes saw and his own ears heard falls under them. God knows, and you do not.
Urduبیشک جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی اور بری بات پھیل جائے ان کے لیے دنیا میں حد یا تعزیر کی صورت میں اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ روایات میں اس معاملے کو بہت وسیع معنی میں بیان کیا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ آدمی بھی اس وعید میں شامل ہے جو کسی مومن کے بارے میں وہ بات آگے بیان کرے جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھی اور کانوں سے سنی ہو اور جس سے اسے تکلیف پہنچے۔ اور اللہ حقیقت جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
Arabicإن الذين يحبون أن تنتشر الفاحشة والقول القبيح بين المؤمنين لهم عذاب مؤلم في الدنيا بالحد أو التعزير، وفي الآخرة بعذاب النار. وقد جاء في الروايات ما يوسع معنى هذا الأمر توسيعا كبيرا، حتى إن الرجل الذي يحدث عن مؤمن بما رآه بعينه وسمعه بأذنه من أمر يسوءه يدخل في هذا الوعيد. والله يعلم حقيقة الأمور وأنتم لا تعلمون.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 6 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة8 reports cited here — 6 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
570. A number of our companions, from Sahl Bin Ziyad, from Yahya Bin Al-Mubarak, from Abdullah Bin Jabalat, from Is’haq Bin Ammar, who has said: Abu Abdullah (asws) has said: ‘This is how Allah (azwj), Blessed and High Revealed it:“ [9:128] Certainly a Messenger has come to us from among ourselves; grievous to him is our falling into distress, full of concern for us; to the believers (he is) compassionate”.
جماعت ہماری اصحاب سے سہل بن زیاد سے یحیٰ بن المبارک سے عبداللہ بن جبلہ سے اسحاق بن عمار سے ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اسی طرح نازل کیا: "لقد جاءنا رسول من انفسنا عزیز علیہ ما عنتنا حریص علینا بالمؤمنین رؤوف رحیم" - یقیناً ہمارے پاس ایک رسول آیا ہمارے میں سے، اس کے لیے سخت ہے ہماری مشقت، ہمارے لیے حریص، مومنین کے لیے رحم دل اور مہربان۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
9. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Mahbub from abu Ayyub from Sama‘ah who has said the following: “This is concerning my question before abu ‘ Abd Allah (a.s.), about the case of a man who had found a certain amount of property from banu ’Umayyah. He gives charity thereof, helps his relatives, performs al-Hajj therewith, so that Allah may forgive what he has earned and says, ’Good deeds remove bad deeds.’ Abu ‘Abd Allah (a.s.), said, ’Sins do not expiate sins. Only good deeds remove sins.’ He (the Imam) then said, ’If he has mixed lawful with unlawful and is not able to distinguish, then it is not harmful.’”
عدہ اصحاب ہمیں احمد بن محمد سے خبر دیتے ہیں، ابن محبوب سے، ابو ایوب سے، سماعہ سے، کہتے ہیں: میں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا جو بنو امیہ کے دور میں مال حاصل کرتے تھے اور وہ اس میں سے صدقہ کرتے ہیں، اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتے ہیں، اور حج کرتے ہیں تاکہ اللہ اسے معاف کر دے جو وہ کمایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں۔ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے کہا: ایک برائی دوسری برائی کو ختم نہیں کرتی، بلکہ نیکی برائی کو ختم کرتی ہے۔ پھر فرمایا: اگر اس نے حلال کو حرام سے ملا دیا ہے اور ہو اس طرح آپس میں مختلط ہو جائے کہ حلال کو حرام سے الگ نہ کیا جا سکے تو کوئی حرج نہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے ۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: The Prophet (ﷺ) said, "A Muslim is the one who avoids harming Muslims with his tongue and hands. And a Muhajir (emigrant) is the one who gives up (abandons) all what Allah has forbidden
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے یہ حدیث بیان کی، ان کو شعبہ نے وہ عبداللہ بن ابی السفر اور اسماعیل سے روایت کرتے ہیں، وہ دونوں شعبی سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے فرمایا اور ابومعاویہ نے کہ ہم کو حدیث بیان کی داؤد بن ابی ہند نے، انہوں نے روایت کی عامر شعبی سے، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے، وہ حدیث بیان کرتے ہیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( وہی مذکورہ حدیث ) اور کہا کہ عبدالاعلیٰ نے روایت کیا …
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ ".
Narrated `Abdullah bin `Amr:The Prophet (ﷺ) said, "A Muslim is the one who avoids harming Muslims with his tongue or his hands. And a Muhajir (an emigrant) is the one who gives up (abandons) all what Allah has forbidden
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، ان سے عامر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے ( تکلیف پہنچنے سے ) محفوظ رکھے اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے رک جائے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔“
Narrated Um Ruman:Aisha's mother, When `Aisha was accused, she fell down Unconscious
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سلیمان بن کثیر نے خبر دی، انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب عائشہ نے تہمت کی خبر سنی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑی تھی۔
PickthallHad it not been for the grace of Allah and His mercy unto you, and that Allah is Clement, Merciful, (ye had been undone).
Yusuf AliWere it not for the grace and mercy of Allah on you, and that Allah is full of kindness and mercy, (ye would be ruined indeed).
The agreed readingAnd were it not for God's favour to you and His mercy, and that God is kind and merciful, the punishment would have come on you at once. It is said a second time to show the size of what was done.
Urduاور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے، تو تمہارے اس معاملے میں پڑتے ہی تم پر عذاب جلدی آ جاتا۔ اور یہ آیت دوبارہ اس لیے دہرائی گئی تاکہ اس بہتان میں پڑنے والوں کے گناہ کی سنگینی کو واضح کیا جائے۔
Arabicولولا فضل الله عليكم ورحمته بكم، وأن الله رؤوف بعباده رحيم بهم، لعجل لكم العذاب فور وقوعكم في هذا الأمر. وقد كررت هذه الآية مرة أخرى للتنبيه على عظم ما وقع فيه من خاضوا في الإفك.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
Sa'id b. Musayyib, 'Urwa b. Zubair, 'Alqama b. Waqqas and 'Ubaidullah b. Abdullah b. 'Utba b. Mas'ud--all of them reported the story of the false allegation against 'A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). And they (the slanderers) said what they had to say, but Allah exonerated her of this charge and all of them reported a part of the hadith and some of them who had better memories reported more and with better retention, and I tried to retain this hadith (listening) from every one of them that they reported to me and some of them attested the other. (The sumaried substance of the false allegation is this):'A'isha said: Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to set out on a journey he …
ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ …
Narrated Um Ruman:Aisha's mother, When `Aisha was accused, she fell down Unconscious
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سلیمان بن کثیر نے خبر دی، انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب عائشہ نے تہمت کی خبر سنی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑی تھی۔
Narrated Masruq bin Al-Ajda:Um Ruman, the mother of `Aisha said that while `Aisha and she were sitting, an Ansari woman came and said, "May Allah harm such and-such a person!" Um Ruman said to her, What is the matter?" She replied, "My son was amongst those who talked of the story (of the Slander)." Um Ruman said, "What is that?" She said, "So-and-so..." and narrated the whole story. On that `Aisha said, "Did Allah's Apostle hear about that?" She replied, "Yes." `Aisha further said, "And Abu Bakr too?" She replied, "Yes." On that, `Aisha fell down fainting, and when she came to her senses, she had got fever with rigors. I put her clothes over her and covered her. The Prophet (ﷺ) came and …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ اللہ فلاں، فلاں کو تباہ کرے۔ ام رومان نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا بھی ان لوگوں کے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔ جنہوں نے اس طرح کی بات کی ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہے؟ اس پر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں نقل کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی …
Narrated Um Ruman:Who was `Aisha's mother: While I was with `Aisha, `Aisha got fever, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Probably her fever is caused by the story related by the people (about her)." I said, "Yes." Then `Aisha sat up and said, "My example and your example is similar to that of Jacob and his sons:--'Nay, but your minds have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. It is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you assert
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ تَقْرَأُ {إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ} وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا.
Narrated Ibn Abi Mulaika:`Aisha used to recite this Verse:-- 'Ida taliqunahu bi-alsinatikum' (24.15) "(As you tell lie with your tongues.)" and used to say "Al-Walaq" means "telling of a lie. "She knew this Verse more than anybody else as it was revealed about her
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ( سورۃ النور کی آیت میں ) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم» کرتی تھیں اور ( اس کی تفسیر میں ) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔
Narrated Az-Zuhri:Al-Walid bin `Abdul Malik said to me, "Have you heard that `Ali' was one of those who slandered `Aisha?" I replied, "No, but two men from your people (named) Abu Salama bin `Abdur-Rahman and Abu Bakr bin `Abdur-Rahman bin Al-Harith have informed me that Aisha told them that `Ali remained silent about her case
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہشام بن یوسف نے اپنی یاد سے مجھے حدیث لکھوائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے خلیفہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا ‘ کیا تم کو معلوم ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں میں تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں ‘ البتہ تمہاری قوم ( قریش ) کے دو آدمیوں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے مجھے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ ان کے معاملے میں خاموش تھے۔ پھر لوگوں نے ہشام بن یوسف ( یا زہری ) سے دوبارہ پوچھا۔ انہوں نے یہی کہا «مسلما» اس میں شک نہ کیا «مسيئا» کا لفظ نہیں کہا اور «عليه» کا لفظ زیاوہ کیا ( یعنی زہری نے ولید کو اور کچھ …
Narrated `Umar bin Al-Khattab:People were (sometimes) judged by the revealing of a Divine Inspiration during the lifetime of Allah's Apostle but now there is no longer any more (new revelation). Now we judge you by the deeds you practice publicly, so we will trust and favor the one who does good deeds in front of us, and we will not call him to account about what he is really doing in secret, for Allah will judge him for that; but we will not trust or believe the one who presents to us with an evil deed even if he claims that his intentions were good
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، کہا کہ مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عتبہ نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور ہم صرف انہیں امور میں مواخذہ کریں گے جو تمہارے عمل سے ہمارے سامنے ظاہر ہوں گے۔ اس لیے جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا، ہم اسے امن دیں گے اور اپنے قریب رکھیں گے۔ اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اس کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے خواہ وہ یہی کہتا رہے …
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallO ye who believe! Follow not the footsteps of the devil. Unto whomsoever followeth the footsteps of the devil, lo! he commandeth filthiness and wrong. Had it not been for the grace of Allah and His mercy unto you, not one of you would ever have grown pure. But Allah causeth whom He will to grow. And Allah is Hearer, Knower.
Yusuf AliO ye who believe! follow not Satan's footsteps: if any will follow the footsteps of Satan, he will (but) command what is shameful and wrong: and were it not for the grace and mercy of Allah on you, not one of you would ever have been pure: but Allah doth purify whom He pleases: and Allah is One Who hears and knows (all things).
The agreed readingYou who believe: do not walk in Satan's footsteps - the commentaries name the spreading of talk like this as one of those steps. Whoever follows them is following one who commands nothing but indecency and wrong. And were it not for God's favour to you and His mercy, not one of you would ever have come clean; but God purifies whom He wills, and He hears and knows.
Urduاے ایمان والو! شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو، اور مفسرین نے ایسی بری باتیں پھیلانا بھی شیطان کے قدموں میں شمار کیا ہے۔ اور جو شیطان کے قدموں کی پیروی کرے تو وہ صرف بے حیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی گناہوں سے پاک نہ ہوتا، لیکن اللہ اپنے جس بندے کو چاہے پاک کر دیتا ہے، اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا، لا تتبعوا خطوات الشيطان ووساوسه، وقد عد المفسرون نشر مثل هذا الحديث القبيح من خطواته. ومن يتبع خطوات الشيطان فإنه يأمر بالفحشاء والمنكر ولا يأمر بغيرهما. ولولا فضل الله عليكم ورحمته ما تطهر منكم أحد أبدا من دنس الذنوب، ولكن الله يطهر ويزكي من يشاء من عباده، والله سميع لأقوالكم عليم بنياتكم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 5 من كتب أهل السنة، 4 من كتب الشيعة9 reports cited here — 5 Sunnī, 4 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 4 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Ṭabrisī، al-Qurṭubī، al-Saʿdī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Ṭabrisī, al-Qurṭubī and al-Saʿdī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Ṭabrisī، al-Qurṭubī، al-Saʿdī نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
Sa'id b. Musayyib, 'Urwa b. Zubair, 'Alqama b. Waqqas and 'Ubaidullah b. Abdullah b. 'Utba b. Mas'ud--all of them reported the story of the false allegation against 'A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). And they (the slanderers) said what they had to say, but Allah exonerated her of this charge and all of them reported a part of the hadith and some of them who had better memories reported more and with better retention, and I tried to retain this hadith (listening) from every one of them that they reported to me and some of them attested the other. (The sumaried substance of the false allegation is this):'A'isha said: Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to set out on a journey he …
ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ …
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
8. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from Ali ibn al-Hakam from Sayf ibn ‘Amirah from Mansur ibn Hazim from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Abu Ja’far (a.s.) has said, ‘In the sight of Allah there is no worship more virtuous than chastity in matters of stomach and genital organs.’”
محمد بن يحيى نے احمد بن محمد سے علي بن الحکم سے سيف بن عميرة سے منصور بن حازم سے ابو جعفر علیه السلام سے روایت کی۔ کہا: الله کے نزدیک کوئی عبادت عفّة البطن والفرج سے بہتر نہیں ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ غَيْرُ نِسَائِهِ .
It was narrated that ‘Aishah said:“If I had known then what I know now, no one would have washed the Prophet (ﷺ) but his wives.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہو گیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں۱؎۔
درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ أَهْدَى النَّجَاشِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَلْقَةً فِيهَا خَاتَمُ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِعُودٍ وَإِنَّهُ لَمُعْرِضٌ عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ ثُمَّ دَعَا ابْنَةَ ابْنَتِهِ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ فَقَالَ " تَحَلَّىْ بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ " .
It was narrated that ‘Aishah the Mother of the Believers said:“Najashi sent some jewelry as a gift to the Messenger of Allah (ﷺ). Among that was a gold ring with an Ethiopian gemstone. The Messenger of Allah (ﷺ) picked it up with a stick – as if he found it distasteful – or with one of his fingers, then he called for his daughter, Umamah bint Abul-‘As, and said: ‘Wear this, O my daughter.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چھلا بطور ہدیہ بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، انگوٹھی میں حبشی نگینہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکڑی سے چھوا، آپ اس سے اعراض کر رہے تھے، یا پھر اپنی ایک انگلی سے چھوا، اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلا کر فرمایا: بیٹی! اسے تم پہن لو ۔
26. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from Ali ibn al-Hakam from Sayf ibn ‘Amirah from Dawud ibn Farqad from Sabir Mawla’ Bassam who has said the following: “Once, abu ‘Abd Allah (a.s.), led us in al-Maghrib Salah (prayer). He read al-M‘udhatayn (chapters 113, 114) and said that they are of al-Quran.’”
محمد بن يحيى نے احمد بن محمد سے، احمد نے علی بن الحكم سے، علی نے سيف بن عميرة سے، سيف نے داود بن فرقد سے، داود نے صابر مولى بسام سے روایت کی۔ صابر کہتے ہیں: ابو عبد الله نے ہمیں مغرب کی نماز میں اما کیا، انہوں نے المعوذتين پڑھے، پھر کہا: یہ من الحرآن ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad from Ali ibn al-Hakam from Ali ibn abu Hamzah who has said the following: “Once, abu Ibrahim (a.s.), was asked about the case of a woman whose husband becomes mentally ill after marriage or becomes insane. He (the Imam) said, ‘If she wants to pull herself away from him she can do so if so she wishes.”’
ہمارے اصحاب کا ایک گروپ احمد بن محمد سے روایت کرتا ہے۔ احمد نے علی بن احمد سے کہا۔ علی نے محمد بن خالد سے کہا۔ محمد نے رفاعہ سے کہا۔ رفاعہ نے مسلمہ سے کہا۔ مسلمہ نے ابو عبداللہ سے کہا کہ اللہ کا رسول نے فرمایا: خیال رکھو، بہت سے لوگ روزہ رکھتے ہیں لیکن انہیں صرف بھوک اور پیاس ملتی ہے۔ بہت سے لوگ رات کو جاگتے ہیں لیکن انہیں صرف تھکاوٹ ملتی ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
569. Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad, from Ali Bin Al-Hakam, from Ali Bin Abu Hamza, from Abu Baseer, who has said: Abu Ja’far (asws) said: ‘Are you (asws) reciting: “[9:112] They who repent (Al-Ta’iboun), who serve (Al-Abidoun)”?’ So he (asws) said: ‘No. Recite “Al-Ta’ibeen Al-Abideen” upto the end of it’. So I asked about the reason for that, he (asws) said: ‘He (azwj) Bought from the Believers (their own selves), the repentant (and) the worshippers’.
محمد بن یحیی، احمد بن محمد، علی بن الحکم، علی بن ابو حمزہ سے، اور ابو بصیر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابو جعفر (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم 'التائبون العابدون' پڑھ رہے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، 'التائبین العابدین' پڑھو، اس کے آخر تک۔ پھر ان سے اس کے علة کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وہ (اللہ تعالیٰ) نے مومنین سے تائبین اور عابدین کو خریدا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd let not those who possess dignity and ease among you swear not to give to the near of kin and to the needy, and to fugitives for the cause of Allah. Let them forgive and show indulgence. Yearn ye not that Allah may forgive you? Allah is Forgiving, Merciful.
Yusuf AliLet not those among you who are endued with grace and amplitude of means resolve by oath against helping their kinsmen, those in want, and those who have left their homes in Allah's cause: let them forgive and overlook, do you not wish that Allah should forgive you? For Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.
The agreed readingAnd those among you who have means and plenty are not to swear off giving to their relatives, to the needy, and to those who emigrated for God's sake. Let them pardon and let it pass. Do you not want God to forgive you? God is forgiving and merciful.
Urduتم میں سے جو لوگ مال اور کشادگی والے ہیں وہ اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کسی غلطی کی وجہ سے مال دینے سے قسم کھا کر باز نہ رہیں، بلکہ انہیں معاف کریں اور درگزر کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے جیسے تم دوسروں کو معاف کرتے ہو؟ اور اللہ اپنے بندوں کے گناہ بخشنے والا اور ان پر رحم کرنے والا ہے۔
Arabicولا يحلف أصحاب الفضل والمال والسعة منكم أن لا يعطوا أقاربهم والمساكين والمهاجرين في سبيل الله شيئا بسبب ذنب صدر منهم، بل ليعفوا عنهم وليصفحوا عن زلتهم. ألا تحبون أن يغفر الله لكم ذنوبكم كما تعفون أنتم عن غيركم؟ والله غفور لذنوب عباده رحيم بهم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Saʿdī، Ibn ʿĀshūr، Muftī Muḥammad Shafīʿ، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Ṭūsī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr, al-Saʿdī, Ibn ʿĀshūr, Muftī Muḥammad Shafīʿ, Ṭabāṭabāʾī and Ṭanṭāwī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Saʿdī، Ibn ʿĀshūr، Muftī Muḥammad Shafīʿ، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
Sa'id b. Musayyib, 'Urwa b. Zubair, 'Alqama b. Waqqas and 'Ubaidullah b. Abdullah b. 'Utba b. Mas'ud--all of them reported the story of the false allegation against 'A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ). And they (the slanderers) said what they had to say, but Allah exonerated her of this charge and all of them reported a part of the hadith and some of them who had better memories reported more and with better retention, and I tried to retain this hadith (listening) from every one of them that they reported to me and some of them attested the other. (The sumaried substance of the false allegation is this):'A'isha said: Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to set out on a journey he …
ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ …
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better and offer expiation for his oath
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ۱؎۔
Adi b. Hatim reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who took an oath, but he found something else better than that, should do that which is better and break his oath
شعبہ نے عبدالعزیز بن رفیع سے ، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے اور انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کوئی قسم کھائی ، پھر کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھا تو وہ وہی کام کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو ترک کر دے ۔ ( اور کفارہ ادا کر دے)
Narrated Um Ruman:Aisha's mother, When `Aisha was accused, she fell down Unconscious
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سلیمان بن کثیر نے خبر دی، انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب عائشہ نے تہمت کی خبر سنی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑی تھی۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ غَيْرُ نِسَائِهِ .
It was narrated that ‘Aishah said:“If I had known then what I know now, no one would have washed the Prophet (ﷺ) but his wives.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہو گیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں۱؎۔
درجته: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Hasan · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ أَهْدَى النَّجَاشِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَلْقَةً فِيهَا خَاتَمُ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِعُودٍ وَإِنَّهُ لَمُعْرِضٌ عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ ثُمَّ دَعَا ابْنَةَ ابْنَتِهِ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ فَقَالَ " تَحَلَّىْ بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ " .
It was narrated that ‘Aishah the Mother of the Believers said:“Najashi sent some jewelry as a gift to the Messenger of Allah (ﷺ). Among that was a gold ring with an Ethiopian gemstone. The Messenger of Allah (ﷺ) picked it up with a stick – as if he found it distasteful – or with one of his fingers, then he called for his daughter, Umamah bint Abul-‘As, and said: ‘Wear this, O my daughter.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چھلا بطور ہدیہ بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، انگوٹھی میں حبشی نگینہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکڑی سے چھوا، آپ اس سے اعراض کر رہے تھے، یا پھر اپنی ایک انگلی سے چھوا، اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلا کر فرمایا: بیٹی! اسے تم پہن لو ۔
It was narrated that Umm Hisham bin Harithah bin An-Nu'man said:"Our oven and the oven of the Messenger of Allah (ﷺ) were the same for two years, or for one year and part of a year. And I only learned "Surah Qaf. By the Glorious Quran" from the tongue of the Messenger of Allah (ﷺ), who used to recited it every Friday from the Minbar, when he addresses the people
یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمان بن سعد نے زرارہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور دو یا ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ ایک ہی رہا اور میں نے سورہ ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ( کسی اور سے نہیں بلکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر یاد کی ، آپ ہر جمعے کے دن جب لوگوں کو خطبہ دیتے تو اسے منبر پر پڑھتے تھے ۔
PickthallLo! as for those who traduce virtuous, believing women (who are) careless, cursed are they in the world and the Hereafter. Theirs will be an awful doom
Yusuf AliThose who slander chaste women, indiscreet but believing, are cursed in this life and in the Hereafter: for them is a grievous Penalty,-
The agreed readingThose who accuse chaste believing women - women so far from such things that they never even enter their minds - are cursed in this world and the next, and a great punishment waits for them.
Urduبیشک جو لوگ ان پاکدامن، بے خبر مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں جن کے دل میں ایسی بات کبھی آتی ہی نہیں، ایسے تہمت لگانے والے دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ کی رحمت سے دور اور ملعون ہیں، اور ان کے لیے جہنم کی آگ میں بہت بڑا عذاب ہے۔
Arabicإن الذين يتهمون بالزنا النساء المحصنات العفيفات الغافلات اللاتي لا يخطر مثل هذا الأمر ببالهن أصلا، هؤلاء الرامون ملعونون مطرودون من رحمة الله في الدنيا والآخرة، ولهم عذاب عظيم شديد في نار جهنم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Refrain from seven (characteristics) which cause destruction. He was asked: What are they, Messenger of Allah ? He replied: To assign partner to Allah, magic, to kill a soul (man) which is prohibited by Allah except for which is due, to take usury, to consume the property of an orphan, to retreat on the day of the battle, and to slander chaste women, indiscreet but believing. Abu Dawud said: The name Abu al-Ghaith is Salim client of Ibn Muti
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں ( کبیرہ گناہوں ) سے بچو ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ قَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلاَتِ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Avoid the seven great destructive sins." The people enquired, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What are they?" He said, "To join others in worship along with Allah, to practice sorcery, to kill the life which Allah has forbidden except for a just cause, (according to Islamic law), to eat up Riba (usury), to eat up an orphan's wealth, to give back to the enemy and fleeing from the battlefield at the time of fighting, and to accuse, chaste women, who never even think of anything touching chastity and are good believers
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ ان سے ثور بن زید مدنی نے بیان کیا ‘ ان سے ابوغیث نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات گناہوں سے جو تباہ کر دینے والے ہیں بچتے رہو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ‘ جادو کرنا ‘ کسی کی ناحق جان لینا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ لڑائی میں سے بھاگ جانا ‘ پاک دامن بھولی بھالی ایمان والی عورتوں پر تہمت لگانا۔“
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:Avoid the seven noxious things. It was said (by the hearers): What are they, Messenger of Allah? He (the Holy Prophet) replied: Associating anything with Allah, magic, killing of one whom God has declared inviolate without a just cause, consuming the property of an orphan, and consuming of usury, turning back when the army advances, and slandering chaste women who are believers, but unwary
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ سات تباہ کن گناہوں سے بچو ۔ ‘ ‘ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں ؟ فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک ، جادو ، جس جان کا قتل اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اسے ناحق قتل کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سود کھانا ، لڑائی کے دن دشمن کو پشت دکھانا ( بھاگ جانا ) اور پاک دامن ، بے خبر مومن عورتوں پر الزام تراشی کرنا ۔ ‘ ‘
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"Avoid the seven sins that doom one to Hell." It was said: "O Messenger of Allah, what are they?" He said: "Associating others with Allah (Shirk), magic, killing a soul whom Allah has forbidden killing, except in cases dictated by Islamic law, consuming Riba, consuming the property of orphans, fleeing on the day of the march (to battlefield), and slandering chaste women who never even think of anything touching their chastity and are good believers
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو“، پوچھا گیا: اللہ کے رسول! یہ کیا کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، بخیلی، کسی شخص کا قتل جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے وقت پیٹھ دکھا کر بھاگ جانا، اور بھولی بھالی پاک دامن مسلمان عورتوں پر تہمت لگانا“۔
سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے ۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔
Abu Sa'eed narrated regarding His (Allah's) statement:Kal Muhl, the Prophet (s.a.w)said: 'Like boiling oil, such that when it is brought close to his face, the skin of his face will fall off into it
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے قول «كالمهل» کے بارے میں فرمایا: ”وہ پانی تلچھٹ کی طرح ہو گا جب اسے ( کافر ) اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، اور رشدین کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالإِيمَانِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ} الآيَةَ .
It was narrated from Abu Sa'eed that:The Messenger of Allah said: "If you see a man frequenting the mosques, then bear witness to his faith. Allah says: 'The mosques of Allah shall be maintained only by those who believe in Allah and the Last Day. [At-Taubah:]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی شخص کو مسجد میں ( نماز کے لیے ) پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله» اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پہ ایمان رکھتے ہیں ( سورة التوبة: ۱۸ ) ۔
PickthallOn the day when their tongues and their hands and their feet testify against them as to what they used to do,
Yusuf AliOn the Day when their tongues, their hands, and their feet will bear witness against them as to their actions.
The agreed readingOn the day their own tongues and their own hands and feet give evidence against them for what they used to do.
Urduاس دن کو یاد کرو جب ان تہمت لگانے والوں کے خلاف ان کی اپنی زبانیں گواہی دیں گی کہ انہوں نے کیا جھوٹ بولا، اور ان کے اپنے ہاتھ اور پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ دنیا میں کیا برے کام کرتے رہے، یعنی ہر عضو اپنے کیے کی حقیقت خود بیان کرے گا۔
Arabicاذكر يوم القيامة حين تشهد على هؤلاء القاذفين ألسنتهم بما نطقت به من الكذب، وتشهد أيديهم وأرجلهم بما كانوا يعملونه من الأعمال السيئة في الدنيا، فينطق كل عضو منهم بحقيقة ما فعل.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Refrain from seven (characteristics) which cause destruction. He was asked: What are they, Messenger of Allah ? He replied: To assign partner to Allah, magic, to kill a soul (man) which is prohibited by Allah except for which is due, to take usury, to consume the property of an orphan, to retreat on the day of the battle, and to slander chaste women, indiscreet but believing. Abu Dawud said: The name Abu al-Ghaith is Salim client of Ibn Muti
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں ( کبیرہ گناہوں ) سے بچو ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ قَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلاَتِ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Avoid the seven great destructive sins." The people enquired, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What are they?" He said, "To join others in worship along with Allah, to practice sorcery, to kill the life which Allah has forbidden except for a just cause, (according to Islamic law), to eat up Riba (usury), to eat up an orphan's wealth, to give back to the enemy and fleeing from the battlefield at the time of fighting, and to accuse, chaste women, who never even think of anything touching chastity and are good believers
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ ان سے ثور بن زید مدنی نے بیان کیا ‘ ان سے ابوغیث نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات گناہوں سے جو تباہ کر دینے والے ہیں بچتے رہو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ‘ جادو کرنا ‘ کسی کی ناحق جان لینا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ لڑائی میں سے بھاگ جانا ‘ پاک دامن بھولی بھالی ایمان والی عورتوں پر تہمت لگانا۔“
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:Avoid the seven noxious things. It was said (by the hearers): What are they, Messenger of Allah? He (the Holy Prophet) replied: Associating anything with Allah, magic, killing of one whom God has declared inviolate without a just cause, consuming the property of an orphan, and consuming of usury, turning back when the army advances, and slandering chaste women who are believers, but unwary
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ سات تباہ کن گناہوں سے بچو ۔ ‘ ‘ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں ؟ فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک ، جادو ، جس جان کا قتل اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اسے ناحق قتل کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سود کھانا ، لڑائی کے دن دشمن کو پشت دکھانا ( بھاگ جانا ) اور پاک دامن ، بے خبر مومن عورتوں پر الزام تراشی کرنا ۔ ‘ ‘
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"Avoid the seven sins that doom one to Hell." It was said: "O Messenger of Allah, what are they?" He said: "Associating others with Allah (Shirk), magic, killing a soul whom Allah has forbidden killing, except in cases dictated by Islamic law, consuming Riba, consuming the property of orphans, fleeing on the day of the march (to battlefield), and slandering chaste women who never even think of anything touching their chastity and are good believers
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو“، پوچھا گیا: اللہ کے رسول! یہ کیا کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، بخیلی، کسی شخص کا قتل جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے وقت پیٹھ دکھا کر بھاگ جانا، اور بھولی بھالی پاک دامن مسلمان عورتوں پر تہمت لگانا“۔
Abu Sa'eed narrated regarding His (Allah's) statement:Kal Muhl, the Prophet (s.a.w)said: 'Like boiling oil, such that when it is brought close to his face, the skin of his face will fall off into it
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے قول «كالمهل» کے بارے میں فرمایا: ”وہ پانی تلچھٹ کی طرح ہو گا جب اسے ( کافر ) اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، اور رشدین کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالإِيمَانِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ} الآيَةَ .
It was narrated from Abu Sa'eed that:The Messenger of Allah said: "If you see a man frequenting the mosques, then bear witness to his faith. Allah says: 'The mosques of Allah shall be maintained only by those who believe in Allah and the Last Day. [At-Taubah:]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی شخص کو مسجد میں ( نماز کے لیے ) پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله» اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پہ ایمان رکھتے ہیں ( سورة التوبة: ۱۸ ) ۔
PickthallOn that day Allah will pay them their just due, and they will know that Allah, He is the Manifest Truth.
Yusuf AliOn that Day Allah will pay them back (all) their just dues, and they will realise that Allah is the (very) Truth, that makes all things manifest.
The agreed readingOn that day God pays them their due in full, and they come to know that God is the plain truth: the recompense they used to doubt stands in front of them, made real.
Urduاس دن اللہ ان بہتان لگانے والوں کو ان کا صحیح اور پورا بدلہ دے گا، اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ اللہ ہی کھلی اور واضح حق ذات ہے، اور وہ بدلہ جس میں وہ شک کیا کرتے تھے ان کے سامنے حقیقت بن کر آ جائے گا۔
Arabicفي ذلك اليوم يوفي الله هؤلاء المفترين جزاءهم الحق العادل الذي يستحقونه بلا زيادة ولا نقصان، ويتيقنون حينئذ أن الله هو الحق الواضح الظاهر الذي لا يخفى، فيقع أمامهم ذلك الجزاء الذي كانوا يشكون فيه واقعا حقيقيا لا شك فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Refrain from seven (characteristics) which cause destruction. He was asked: What are they, Messenger of Allah ? He replied: To assign partner to Allah, magic, to kill a soul (man) which is prohibited by Allah except for which is due, to take usury, to consume the property of an orphan, to retreat on the day of the battle, and to slander chaste women, indiscreet but believing. Abu Dawud said: The name Abu al-Ghaith is Salim client of Ibn Muti
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں ( کبیرہ گناہوں ) سے بچو ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ قَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلاَتِ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Avoid the seven great destructive sins." The people enquired, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What are they?" He said, "To join others in worship along with Allah, to practice sorcery, to kill the life which Allah has forbidden except for a just cause, (according to Islamic law), to eat up Riba (usury), to eat up an orphan's wealth, to give back to the enemy and fleeing from the battlefield at the time of fighting, and to accuse, chaste women, who never even think of anything touching chastity and are good believers
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ ان سے ثور بن زید مدنی نے بیان کیا ‘ ان سے ابوغیث نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات گناہوں سے جو تباہ کر دینے والے ہیں بچتے رہو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ‘ جادو کرنا ‘ کسی کی ناحق جان لینا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ لڑائی میں سے بھاگ جانا ‘ پاک دامن بھولی بھالی ایمان والی عورتوں پر تہمت لگانا۔“
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:Avoid the seven noxious things. It was said (by the hearers): What are they, Messenger of Allah? He (the Holy Prophet) replied: Associating anything with Allah, magic, killing of one whom God has declared inviolate without a just cause, consuming the property of an orphan, and consuming of usury, turning back when the army advances, and slandering chaste women who are believers, but unwary
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ سات تباہ کن گناہوں سے بچو ۔ ‘ ‘ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں ؟ فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک ، جادو ، جس جان کا قتل اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اسے ناحق قتل کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سود کھانا ، لڑائی کے دن دشمن کو پشت دکھانا ( بھاگ جانا ) اور پاک دامن ، بے خبر مومن عورتوں پر الزام تراشی کرنا ۔ ‘ ‘
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"Avoid the seven sins that doom one to Hell." It was said: "O Messenger of Allah, what are they?" He said: "Associating others with Allah (Shirk), magic, killing a soul whom Allah has forbidden killing, except in cases dictated by Islamic law, consuming Riba, consuming the property of orphans, fleeing on the day of the march (to battlefield), and slandering chaste women who never even think of anything touching their chastity and are good believers
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو“، پوچھا گیا: اللہ کے رسول! یہ کیا کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، بخیلی، کسی شخص کا قتل جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے وقت پیٹھ دکھا کر بھاگ جانا، اور بھولی بھالی پاک دامن مسلمان عورتوں پر تہمت لگانا“۔
Abu Sa'eed narrated regarding His (Allah's) statement:Kal Muhl, the Prophet (s.a.w)said: 'Like boiling oil, such that when it is brought close to his face, the skin of his face will fall off into it
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے قول «كالمهل» کے بارے میں فرمایا: ”وہ پانی تلچھٹ کی طرح ہو گا جب اسے ( کافر ) اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، اور رشدین کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلاَؤُكِ . فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " …
It was narrated from'Aishah that Barirah came to 'Aishah asking her to help her with her contract of manumission.' Aishah said:"Go back to your masters, and if they agree to let me pay off your contract of manumission, and let your loyalty be to me, then I will do it" Barirah told her masters about that, but they refused and said: "If she wants to seek reward (with Allah) by freeing you, let her do so, but your loyalty will be to us." She told the Messenger of Allah about that , and the Messenger of Allah said to her; "Buy her and set her free, and loyalty belongs to the one who set the slave free," Then the Messenger of Allah said: "What is the matter with people who stipulate conditions …
قتیبہ بن سعید نے ہمیں خبر دی، کہا: لیث نے ہمیں حدیث سنائی، ابن شہاب سے، عروہ سے، عائشہ سے، انہوں نے خبر دی کہ بریرہ عائشہ کے پاس آئی ان سے اپنی کتابت میں مدد مانگنے کے لیے۔ عائشہ نے اس سے کہا: اپنے لوگوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری کتابت ادا کر دوں اور تمہاری ولا میری ہو جائے، تو میں ایسا کروں گی۔ تو بریرہ نے اپنے لوگوں سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے انکار کیا اور کہا: اگر وہ اپنا ثواب رکھنے کے لیے تمہیں آزاد کرنا چاہے تو کرے، لیکن تمہاری ولا ہماری ہے۔ تو اس نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس سے فرمایا: خریدو اور آزاد کرو، کیونکہ ولا اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ایسے لوگوں کو کیا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالإِيمَانِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ} الآيَةَ .
It was narrated from Abu Sa'eed that:The Messenger of Allah said: "If you see a man frequenting the mosques, then bear witness to his faith. Allah says: 'The mosques of Allah shall be maintained only by those who believe in Allah and the Last Day. [At-Taubah:]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی شخص کو مسجد میں ( نماز کے لیے ) پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله» اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پہ ایمان رکھتے ہیں ( سورة التوبة: ۱۸ ) ۔
PickthallVile women are for vile men, and vile men for vile women. Good women are for good men, and good men for good women; such are innocent of that which people say: For them is pardon and a bountiful provision.
Yusuf AliWomen impure are for men impure, and men impure for women impure and women of purity are for men of purity, and men of purity are for women of purity: these are not affected by what people say: for them there is forgiveness, and a provision honourable.
The agreed readingBad women belong with bad men and bad men with bad women; good women with good men and good men with good women. The commentaries read the words as covering speech as well as people - foul talk belongs with the foul. Those who are good stand clear of what is said about them, and for them is forgiveness and a generous provision.
Urduناپاک باتیں اور کام ناپاک مردوں اور ناپاک عورتوں کے لائق ہیں، اور ناپاک مرد اور ناپاک عورتیں انہی ناپاک باتوں اور کاموں کے لائق ہیں، اور پاکیزہ باتیں اور کام پاکیزہ مردوں اور عورتوں کے لائق ہیں، اور وہ بھی انہی کے لائق ہیں۔ پس نیک اور پاکباز لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو بہتان لگانے والے ان کے بارے میں کہتے ہیں، اور ان کے لیے گناہوں کی معافی اور عزت والا رزق ہے۔
Arabicالكلمات الخبيثة والأفعال الخبيثة تليق بالرجال الخبيثين والنساء الخبيثات، والرجال الخبيثون والنساء الخبيثات يليق بهم القول والفعل الخبيث، والكلمات الطيبة والأفعال الطيبة تليق بالرجال والنساء الطيبين، وهم يليق بهم مثل ذلك. فأهل الصلاح والطهارة مبرؤون مما يقوله فيهم أهل الإفك والبهتان، ولهم مغفرة لذنوبهم ورزق كريم في الجنة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ الَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ …
Narrated Aisha:(The wife of the Prophet) Whenever Allah's Messenger (ﷺ) intended to go on a journey, he used to draw lots among his wives and would take with him the one on whom the lot had fallen. Once he drew lots when he wanted to carry out a Ghazwa, and the lot came upon me. So I proceeded with Allah's Apostle after Allah's order of veiling (the women) had been revealed and thus I was carried in my howdah (on a camel) and dismounted while still in it. We carried on our journey, and when Allah's Apostle had finished his Ghazwa and returned and we approached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) ordered to proceed at night. When the army was ordered to resume the homeward journey, I got up and …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی جس میں تہمت لگانے والوں نے ان کے متعلق افواہ اڑائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ ان تمام راویوں نے پوری حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا اور ان راویوں میں سے بعض کا بیان بعض دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض راوی کو بعض دوسرے کے مقابلہ میں حدیث زیادہ بہتر طریقہ پر محفوظ، یاد تھی۔ مجھ سے یہ حدیث عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح …
56 - محمد بن همام قال: حدثنا جعفر بن محمد بن مالك الفزاري الكوفي، قال: حدثني محمد بن أحمد، عن محمد بن سنان، عن يونس بن ظبيان، عن أبي عبد الله قال: إذا كان ليلة الجمعة أهبط الرب تعالى ملكاً إلى السماء الدنيا، فإذا طلع الفجر جلس ذلك الملك على العرش فوق البيت المعمور، ونصب لمحمد وعلي والحسن والحسين منابر من نور، فيصعدون عليها وتجمع لهم الملائكة والنبيون والمؤمنون، وتفتح أبواب السماء، فإذا زالت الشمس قال رسول الله: يا رب ميعادك الذي وعدت به في كتابك. هو هذه الآية وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ …
(56) Muhammad bin Hammam narrated from Ja’far bin Muhammad bin Malik from Muhammad bin Ahmad from Muhammad bin Sinan from Younus bin Dhabyan that Abu Abdullah as-Sadiq (as) had said: “When the night of Friday comes, Allah sends down an angel to the lower heaven. When dawn comes, the angel sits on a throne on the House (the Kaaba) and sets minbars of light for Muhammad, Ali, al-Hasan and al-Husayn (peace be upon them). They ascend the minbars. The angels, the prophets and the believers are invited to gather before them. The gates of the heavens are opened. When the sun declines, the Prophet (S) says: “O my Lord, carry out Your promise that You have promised of in Your Book by this verse, …
محمد بن ہمام کہتے ہیں: جعفر بن محمد بن مالک الفزاری الکوفی نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: محمد بن احمد نے مجھے حدیث سنائی، محمد بن سنان سے، وہ یونس بن ظبیان سے روایت کرتے ہیں، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے، انہوں نے فرمایا: جب جمعہ کی رات ہوتی ہے تو رب تعالیٰ ایک فرشتہ آسمان دنیا میں نازل فرماتا ہے، پھر جب فجر طلوع ہوتی ہے تو وہ فرشتہ بیت المعمور کے اوپر عرش پر بیٹھ جاتا ہے، اور محمد و علی اور حسن و حسین کے لیے نور کے منبر نصب کرتا ہے، پھر وہ ان منبروں پر چڑھتے ہیں، اور ملائکہ اور انبیاء اور مومنین ان کے پاس جمع کر دیے جاتے ہیں، اور آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھلتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں: یا رب! یہ تمہارا وہ وعدہ ہے جو تم نے اپنی کتاب میں دیا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
7. Ahmad ibn Muhammad has narrated from Mu‘awiyah ibn Hakim who has said the following: “Al-Rida’ (a.s.), once read the following as Khutbah (sermon) when solemnizing a marriage: ‘All praise belongs to Allah who has praised Himself in the book and has opened His book with it, has made it the first reward of the recipient of His bounties and the last words of the dwellers of His paradise. I testify that no one other than Allah alone, who has no partners, deserves worship, a testimony that I present purely for Him and save in reserve with Him. O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause. He is the last in the line of prophets and the best of …
احمد بن محمد نے معاویہ بن حکیم سے روایت کی، کہتے ہیں کہ الرضا علیہ السلام نے یہ خطبہ پڑھا: تمام تعریف اللہ کے لیے جس نے اپنی کتاب میں اپنی تعریف کی، اور اپنی کتاب کو تعریف سے شروع کیا، اور تعریف کو اپنی نعمت دینے والوں کا پہلا انعام بنایا، اور اپنی جنت والوں کی آخری دعا بنایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی عبادت کے لائق نہیں مگر اللہ تنہا، اس کا کوئی شریک نہیں، گواہی جو میں خالصتا اس کے لیے پیش کرتا ہوں اور اس کے ساتھ محفوظ رکھتا ہوں۔ اور اللہ کی درود و سلام ہو محمد خاتم النبوہ اور بہترین مخلوقات پر، اور ان کی آل، رحمت کی آل، نعمت کے درخت، رسالت کا معدن، ملائکہ کی ملاقات کی جگہ۔ اور تمام تعریف اللہ کے لیے جو ہمیشہ سے اس کے علم میں رہا، اور اس کی بولنے والی کتاب میں، اور اس کی سچی بیان میں۔ کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
7. Through the same chain of narrators it is narrated from abu Ja‘far (a.s.) who has said the following. “Allah, Majestic is Whose mention, created the Night of Determination when He first created the world and created in it the first prophet that would come and the first executor of the will (of prophet) that would come. He decreed that in every year there must be one night in which the interpretation and the clarification of would be sent until another such night in the coming year. Whoever would deny it has certainly rejected the knowledge of Allah, Majestic is Whose mention. It is because the prophets, the Messengers and Muhadditun (spokesmen for Allah) without receiving Divine …
۷۔ ابوجعفر علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے رات القدر کو اسی وقت خلق کیا جب اس نے دنیا کو سب سے پہلے خلق کیا، اور اس میں اس نے سب سے پہلے نبی کو خلق کیا جو ہوگا اور سب سے پہلے وصی کو خلق کیا جو ہوگا۔ اور اس نے قضاء کی ہے کہ ہر سال میں ایک رات ہو جس میں وہ اگلے سال تک امور کی تفسیر نازل کرے۔ جو اس کا انکار کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم کو رد کرتا ہے، کیونکہ انبیاء، رسل اور محدثین اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتے جب تک ان پر اللہ کی حجت نہ ہو - وہ حجت جو انہیں اس رات میں ملتی ہے ساتھ ہی جبریل علیہ السلام جو انہیں حجت دیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: محدثین کو بھی جبریل یا دوسرے فرشتے آتے ہیں؟ امام نے فرمایا: انبیاء اور رسل صلی اللہ علیہ وآلہ کے لیے تو یقیناً ہے، لیکن ان سے سوا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Ibn Umar narrated that:the Messenger of Allah said: “For forty sheep, one sheep up to one hundred and twenty. If there is one more. Then two sheep, up to two hundred. If there is one more, then three sheep, up to three hundred. If there are more than that, then for every hundred one sheep. Do not separate combined flock and do not combine separate flocks for fear of Sadaqah. Each partner (who has a share in the flock) should pay in proportion to his shares. And the Zakat collector should not accept any decrepit or defective animal, nor any male goat, unless he wishes to.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر دو سو سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، اور اگر تین سو سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری ہے، اور جو جانور اکٹھے ہوں انہیں زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ نہ کیا جائے، اور نہ ہی جو الگ الگ ہوں انہیں اکٹھا کیا جائے، اور اگر مال میں دو شخص شریک ہوں تو دونوں اپنے اپنے حصہ کے موافق زکاۃ پوری کریں ۱؎، اور زکاۃ میں عامل زکاۃ کو بوڑھا، عیب دار اور جفتی کا مخصوص بکرا نہ دیا جائے، الا یہ کہ عامل زکاۃ خود ہی لینا چاہے ۲؎۔
Narrated Ali ibn AbuTalib: Ali separated between a slave-girl and her child. The Prophet (ﷺ) prohibited it and made the sale transactions withdrawn. Abu Dawud said: The narrator Maimun (b. Abi Shaib) did not meet 'Ali. He (Maimun) was killed in the battle of Jamajim in 83 A.H. Abu Dawud said: The battle of Harrah took place in 63 A.H., and Ibn al-Zubair was killed in 73 A.H
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی کرا دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، اور بیع کو رد کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میمون نے علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے، میمون جنگ جماجم میں قتل کئے گئے، اور جماجم ۸۳ ہجری میں ہوئی ہے، نیز واقعہ حرہ ( ۶۳ ہجری ) میں پیش آیا، اور ابن زبیر ( ۷۳ ہجری ) میں قتل ہوئے۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and …
اخبرنا احمد بن سلیمان، کہا: حدثنا محاضر، کہا: حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن زید بن ارقم، کہا: میں تمہیں کچھ نہ سکھاتا ہوں مگر وہی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے: 'اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں عجز اور سستی اور بخل اور بزدلی اور بڑھاپے سے اور قبر کے عذاب سے۔ اے الله، میری روح کو تقویٰ دے اور اسے پاک کر۔ تو سب سے بہتر ہے جو اسے پاک کرے۔ تو اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے الله، میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے دل سے جو خاشع نہ ہو اور ایسی روح سے جو اطمینان نہ پائے اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے اور ایسے دعا سے جس کا جواب نہ دیا جائے۔'
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The wise statement is the lost property of the believer, so wherever he finds it, then he is more worthy of it
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے جہاں کہیں بھی اسے پائے وہ اسے حاصل کر لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- ابراہیم بن فضل مدنی مخزومی حدیث بیان کرنے میں حفظ کے تعلق سے کمزور مانے جاتے ہیں۔
درجته: Al-Albani: Very Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Very Daif · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Very Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Very Daif · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Very Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Very Daif · Shuaib Al Arnaut: Very Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ حَيْثُمَا وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A wise word is the lost property of the believer, so wherever he finds it, he has more right to it.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے ۱؎۔
PickthallO ye who believe! Enter not houses other than your own without first announcing your presence and invoking peace upon the folk thereof. That is better for you, that ye may be heedful.
Yusuf AliO ye who believe! enter not houses other than your own, until ye have asked permission and saluted those in them: that is best for you, in order that ye may heed (what is seemly).
The agreed readingYou who believe: do not go into houses that are not your own until you have asked leave and greeted the people in them. The commentaries give the form of it from the practice - peace be upon you, may I come in? That is better for you, so that you keep it in mind.
Urduاے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک ان کے مکینوں سے اجازت نہ لے لو اور انہیں سلام نہ کر لو۔ روایات میں اس کا طریقہ یوں آیا ہے: السلام علیکم، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ یہ اجازت لینا اور سلام کرنا تمہارے لیے بہتر ہے، تاکہ تم اس ادب کو یاد رکھو۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا، لا تدخلوا بيوتا ليست بيوتكم حتى تستأذنوا أهلها وتسلموا عليهم. وقد جاءت صيغة ذلك في الأثر: السلام عليكم أأدخل؟ ذلك الاستئذان والتسليم خير لكم من الدخول المفاجئ، لعلكم تتذكرون هذا الأدب فتحافظون عليه.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Rāzī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Abdullah ibn Busr: When the Messenger of Allah (ﷺ) came to some people's door, he did not face it squarely, but faced the right or left corner, and said: Peace be upon you! peace be upon you! That was because there were no curtains on the doors of the house at that time
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: السلام علیکم، السلام علیکم یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا رَجُلٌ، مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتٍ فَقَالَ أَلِجُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِخَادِمِهِ " اخْرُجْ إِلَى هَذَا فَعَلِّمْهُ الاِسْتِئْذَانَ فَقُلْ لَهُ قُلِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ " . فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ .
Narrated Rib'i: A man of Banu Amir told that he asked the Prophet (ﷺ) for permission (to enter the house) when he was in the house, saying: May I enter ? The Prophet (ﷺ) said to his servant: Go out to this (man) and teach him how to ask permission to enter the house, and say to him: "Say : Peace be upon you. May I enter?" The man heard it and said: Peace be upon you! May I enter ? The Prophet (ﷺ) permitted him and he entered
ربعی کہتے ہیں کہ بنو عامر کے ایک شخص نے ہم سے بیان کیا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی آپ گھر میں تھے تو کہا: «ألج» ( کیا میں اندر آ جاؤں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے فرمایا: تم اس شخص کے پاس جاؤ اور اسے اجازت لینے کا طریقہ سکھاؤ اور اس سے کہو السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ اس آدمی نے یہ بات سن لی اور کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، اور وہ اندر آ گیا۔
درجته: Al-Albani: Daif Isnaad · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif Isnaad · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif Isnaad · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif Isnaad · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif Isnaad · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif Isnaad · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - الْمَعْنَى - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَنْزِلِنَا فَقَالَ " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا . قَالَ قَيْسٌ فَقُلْتُ أَلاَ تَأْذَنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ ذَرْهُ يُكْثِرْ عَلَيْنَا مِنَ السَّلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ …
Narrated Qays ibn Sa'd: The Messenger of Allah (ﷺ) came to visit us in our house, and said: Peace and Allah's mercy be upon you! Sa'd returned the greeting in a lower tone. Qays said: I said: Do you not grant permission to the Messenger of Allah (ﷺ) to enter? He said: Leave him, he will give us many greetings. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Peace and Allah's mercy be upon you! Sa'd again responded in a lower tone. The Messenger of Allah (ﷺ) again said: Peace and Allah's mercy be upon you! So the Messenger of Allah (ﷺ) went away. Sa'd went after him and said: Messenger of Allah! I heard your greetings and responded in a lower tone so that you might give us many greetings. The …
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ملاقات کے لیے تشریف لائے ( باہر رک کر ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں: میں نے ( سعد سے ) کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ سعد نے کہا چھوڑو ( جلدی نہ کرو ) ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کی دعا زیادہ کر لینے دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ( اور جواب نہ سن کر ) لوٹ پڑے، تو سعد نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پا لیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! …
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If a person were to cast a glance in your (house) without permission, and you had in your hand a staff and you would have thrust that in his eyes, there is no harm for you
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر کو ئی شخص اجازت کے بغیر تمھا رے ہاں جھا نکے اور تم کنکری مارکر اس کی آنکھ پھوڑدو تو تم پر کو ئی گناہ نہیں ہے ( کو ئی سزایا جرمانہ نہیں ۔)
Another version of this tradition transmitted through a different chain of narrators by Ibn ‘Abbas says:“He took my head or the hair of my head and made me stand on his right side”
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا۔
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Muhammad ibn abu Hamzah who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘Of the rules about women one is that they can leave their garments aside and this refers to their gown only.’”
۲۔ علي بن إبراهيم نے اپنے والد سے، ابن أبي عمير سے، محمد بن أبي حمزة سے، ابو عبد الله علیہ السلام سے روایت کی، انہوں نے کہا: بزرگ عمر والی عورتوں کے لیے کوئی خرابی نہیں کہ وہ اپنے کپڑے اتار دیں، کہا: وہ صرف چادر اتاریں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that Zainab said:“There was an old woman who used to enter upon us and perform Ruqyah from erysipelas: Contagious disease which causes fever and leaves a red coloration of the skin. We had a bed with long legs, and when ‘Abdullah entered he would clear his throat and make noise. He entered one day and when she heard his voice she veiled herself from him. He came and sat beside me, and touched me, and he found a sting. He said: ‘What is this?’ I said: ‘An amulet against erysipelas.’ He pulled it, broke it and threw it away, and said: ‘The family of ‘Abdullah has no need of polytheism.’ I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Ruqyah (i.e., which consist of the names of idols …
زینب زوجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک بڑھیا آیا کرتی تھیں، وہ «حمرہ» ۱؎ کا دم کرتی تھیں، ہمارے پاس بڑے پایوں کی ایک چارپائی تھی، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب گھر آتے تو کھنکھارتے اور آواز دیتے، ایک دن وہ گھر کے اندر آئے جب اس بڑھیا نے ان کی آواز سنی تو ان سے پردہ کر لیا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آ کر میری ایک جانب بیٹھ گئے اور مجھے چھوا تو ان کا ہاتھ ایک گنڈے سے جا لگا، پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ سرخ بادے ( «حمرہ» ) کے لیے دم کیا ہوا گنڈا ہے، یہ سن کر انہوں نے اسے کھینچا اور کاٹ کر پھینک دیا اور کہا: عبداللہ کے گھرانے کو شرک کی حاجت نہیں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: دم، تعویذ، گنڈے اور ٹونا …
5. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Faddal from abu Jamilah from Muhammad al-Halabi from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Blessed, the Most High, has said, ‘The most beloved matter to Me through which My servant seeks to be loved is to fulfill what 1 have made obligatory upon him.’”
ہمارے اصحاب میں سے جماعت نے احمد بن محمد سے، ابن فضال سے، ابو جميلة سے، محمد الحلبي سے روایت کی ہے کہ ابو عبد الله علیہ السلام نے کہا: الله تبارک و تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے مجھے کسی چیز سے اپنے کے قریب نہیں کیا ہے، اس سے زیادہ محبوب ہے جو میں نے اس پر فرض کیا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Allah (swt), the Blessed and Exalted, said: "They ask you what has been made lawful for them. Say: Lawful to you are all good things, and what you have taught of hunting animals, trained as hounds, teaching them of what Allah (swt) has taught you. So eat of what they catch for you, and mention the name of Allah (swt) upon it." (Surah Al-Ma'idah 5:4).
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے۔ کہو: تمہارے لیے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو شکاری جانور تم نے سکھائے ہیں - کتوں کی طرح - انہیں سکھاتے ہوئے جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے، تو جو یہ تمہارے لیے پکڑیں اسے کھاؤ اور اس پر اللہ کا نام یاد کرو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd if ye find no-one therein, still enter not until permission hath been given. And if it be said unto you: Go away again, then go away, for it is purer for you. Allah knoweth what ye do.
Yusuf AliIf ye find no one in the house, enter not until permission is given to you: if ye are asked to go back, go back: that makes for greater purity for yourselves: and Allah knows well all that ye do.
The agreed readingAnd if you find no one in them, do not go in until leave is given. If you are told to go back, then go back and do not press: that is cleaner for you. God knows what you do.
Urduپس اگر ان گھروں میں تمہیں کوئی نہ ملے تو ان میں داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے، اور اگر تمہیں گھر والوں کی طرف سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس چلے جاؤ اور اصرار نہ کرو، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ اور شک سے دور رکھنے والا ہے۔ اور اللہ تمہارے داخل ہونے اور اجازت لینے سب کاموں کو خوب جاننے والا ہے۔
Arabicفإن لم تجدوا في تلك البيوت أحدا فلا تدخلوها حتى يؤذن لكم من صاحبها، وإن قيل لكم من أهلها ارجعوا فارجعوا ولا تصروا على الدخول، فذلك أطهر لقلوبكم وأنقى لكم من الريبة. والله عليم بكل ما تعملونه من دخول أو استئذان.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 6 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة7 reports cited here — 6 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ هُزَيْلٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ - قَالَ عُثْمَانُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ - فَوَقَفَ عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَأْذِنُ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ - قَالَ عُثْمَانُ مُسْتَقْبِلَ الْبَابِ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَكَذَا عَنْكَ أَوْ هَكَذَا فَإِنَّمَا الاِسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ " .
Narrated Huzayl: A man came. Uthman's version has: Sa'd ibn AbuWaqqas came. He stood at the door. Uthman's version has: (He stood) facing the door. The Prophet (ﷺ) said to him: Away from it, (stand) this side or that side. Asking permission is meant to escape from the look of an eye
ہزیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ( عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے ) تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح؟ ( یعنی دروازہ سے ہٹ کر ) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے۔
Narrated Abdullah ibn Busr: When the Messenger of Allah (ﷺ) came to some people's door, he did not face it squarely, but faced the right or left corner, and said: Peace be upon you! peace be upon you! That was because there were no curtains on the doors of the house at that time
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: السلام علیکم، السلام علیکم یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If a person were to cast a glance in your (house) without permission, and you had in your hand a staff and you would have thrust that in his eyes, there is no harm for you
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر کو ئی شخص اجازت کے بغیر تمھا رے ہاں جھا نکے اور تم کنکری مارکر اس کی آنکھ پھوڑدو تو تم پر کو ئی گناہ نہیں ہے ( کو ئی سزایا جرمانہ نہیں ۔)
4. He has narrated from Hisham ibn Salim from Habib al-Sajistani from abu Ja‘far (a.s.) who has said the following. “Allah, the Most Holy, the Most High, has said, ’I will cause to suffer punishment all those who live a religious life in Islam under the guardianship of unjust Imams who possesses no authority from Allah even though such followers would be virtuous and pious in their deeds. I will forgive all those who live a religious life in Islamunder the guardianship of an Imam who is just in his dealings and possess authority from Allah even though such followers in their dealings would be unjust sinners.”
وہ ہشام بن سالم سے روایت کی، وہ حبیب سجستانی سے، وہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے کہا: میں ضرور اسلام میں ہر ایسے رعایا کو عذاب دوں گا جو کسی ظالم امام کی ولایت میں داخل ہو گیا جو اللہ کی طرف سے نہیں، اگرچہ وہ رعایا اپنے اعمال میں نیک اور پرہیزگار ہوں، اور میں ضرور ہر ایسے رعایا کو معاف کروں گا جو اسلام میں اللہ کی طرف سے کسی عادل امام کی ولایت میں داخل ہو گیا، اگرچہ وہ رعایا اپنے نفس میں ظالم اور مسیء ہوں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Jabir narrated:"We said: 'O Messenger of Allah! We practice Azl, but the Jews claim that it is minor infanticide.' So he said: 'The Jews lie. When Allah wants to create it, nothing can prevent Him
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ عزل ۱؎ کرتے تھے، تو یہودیوں نے کہا: قبر میں زندہ دفن کرنے کی یہ ایک چھوٹی صورت ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہودیوں نے جھوٹ کہا۔ اللہ جب اسے پیدا کرنا چاہے گا تو اسے کوئی روک نہیں سکے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عمر، براء اور ابوہریرہ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah said:"It is not righteousness to fast when traveling. Take to the concession which Allah, the mighty and sublime, has granted you, accept it
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے، اللہ عزوجل کی دی گئی رخصت ( اجازت ) کو لازم پکڑو اور اسے قبول کرو“۔
Pickthall(It is) no sin for you to enter uninhabited houses wherein is comfort for you. Allah knoweth what ye proclaim and what ye hide.
Yusuf AliIt is no fault on your part to enter houses not used for living in, which serve some (other) use for you: And Allah has knowledge of what ye reveal and what ye conceal.
The agreed readingThere is no blame in going into houses where no one lives and where there is some use in it for you. The commentaries name the same kinds of place: the public inn, the bath-house, the way-station. And God knows what you show and what you keep hidden.
Urduتم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جاؤ جن میں کوئی مستقل نہیں رہتا اور جن میں تمہارے لیے کوئی فائدہ ہو۔ مفسرین نے ایسے گھروں کی مثالوں میں سرائے، عام حمام اور مسافروں کے پڑاؤ کا ذکر کیا ہے جنہیں لوگ بغیر مستقل رہائش کے استعمال کرتے ہیں۔ اور اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو اپنے دلوں میں چھپاتے ہو۔
Arabicليس عليكم إثم في أن تدخلوا بيوتا غير مسكونة يسكنها أحد بعينه، فيها منفعة ومتاع لكم. وقد ذكر المفسرون من أمثلة هذه البيوت: الخانات والحمامات العامة ومحطات المسافرين التي يستخدمها الناس دون سكنى دائمة. والله يعلم ما تظهرونه من أعمالكم وما تخفونه في صدوركم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Rāzī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Rāzī, Ibn Kathīr and Ṭanṭāwī on this āyah
Narrated Abdullah ibn Busr: When the Messenger of Allah (ﷺ) came to some people's door, he did not face it squarely, but faced the right or left corner, and said: Peace be upon you! peace be upon you! That was because there were no curtains on the doors of the house at that time
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: السلام علیکم، السلام علیکم یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If a person were to cast a glance in your (house) without permission, and you had in your hand a staff and you would have thrust that in his eyes, there is no harm for you
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر کو ئی شخص اجازت کے بغیر تمھا رے ہاں جھا نکے اور تم کنکری مارکر اس کی آنکھ پھوڑدو تو تم پر کو ئی گناہ نہیں ہے ( کو ئی سزایا جرمانہ نہیں ۔)
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6245) Sahih Muslim (2153)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6245) Sahih Muslim (2153)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6245) Sahih Muslim (2153)
Abu Sa’id al-Khudri said:I was sitting in one of the meeting of the Ansar. Abu Musa came terrified. We asked him; what makes you terrified? He replied: ‘Umar sent for me; so I went to him and asked his permission three times, but he did not permit me (to enter), so I came back. He asked; what has prevented you from coming to me? I replied: I came and asked permission three times, but it was not granted to me (so I returned). The Messenger of Allah (May peace be upon him) has said: When one of you asks permission three times and it is not granted to him, he should go away. He (‘Umar’) said; establish the proof of it. So Abu Sa’id said: the youngest of the people will accompany you. So Abu …
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجالس میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے آئے، تو ہم نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے بلا بھیجا تھا، میں ان کے پاس آیا، اور تین بار ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، مگر مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ گیا ( دوبارہ ملاقات پر ) انہوں نے کہا: تم میرے پاس کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا: میں تو آپ کے پاس گیا تھا، تین بار اجازت مانگی، پھر مجھے اجازت نہ دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اندر آنے کی اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ لوٹ جائے ( یہ سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس بات کے لیے گواہ پیش …
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet (ﷺ) said: to Ali: Do not give a second look, Ali, (because) while you are not to blame for the first, you have no right to the second
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: علی! ( اجنبی عورت پر ) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے، دوسری جائز نہیں ۱؎۔
Narrated Ibn Buraidah:from his father (from the Prophet (ﷺ)) who said: "O 'Ali! Do not follow a look with a look, the first is for you, but the next is not for you
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! نظر کے بعد نظر نہ اٹھاؤ، کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر ( معاف ) ہے اور دوسری ( معاف ) نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Sa'eed [Al-Khudri] from his father who said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'A man is not to look at the 'Awrah of a man, and a woman is not to look at the 'Awrah of a woman. A man is not to be alone with a man under one garment, and a woman is not to be alone with a woman under one garment
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد مرد کی شرمگاہ اور عورت عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور مرد مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں ننگا ہو کر نہ لیٹے اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، غریب صحیح ہے۔
6. Ahmad ibn Muhammad al-Kufiy has narrated from ibn Jumhur from his father from Muhammad ibn Sinan from al-Mufaddal ibn ‘Umar who has said the following: “He has also said that al-Asamm has narrated to us from Hariz from Muhammad ibn Muslim from abu ‘Abd Allah (a.s.), who has said the following: ‘’Amir al-Mu’minin (a.s.), has said, “Instruct your families to speak good words when someone among you dies. When father of Fatimah, ‘Alayha al-Salam, died, daughters of children of Hashim supported her and she said to them, ‘Ignore eulogies but you must pray (to Allah).”””
احمد بن محمد الکوفی نے ابن جمہور سے، انہوں نے اپنے باپا سے روایت کی، انہوں نے محمد بن سنان سے، المفضل بن عمر سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے۔ اور الاصم نے حریز سے ہمیں خبر دی، انہوں نے محمد بن مسلم سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: اپنے اہل خانہ کو حکم دو کہ جب تمہارے میں سے کوئی فوت ہو تو اچھی بات کہیں، کیونکہ جب فاطمہ علیہا السلام کے باپا فوت ہوئے، تو بنو ہاشم کی بیٹیوں نے اسے تسلی دی تو انہوں نے کہا: ان عددوں اور گنتیوں کو چھوڑ دو، اور بجائے اس کے دعا پر عمل کرو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
27 - أبو علي الأشعري، عن محمد بن عبد الجبار، عن صفوان بن يحيى، عن العلاء بن رزين، عن محمد بن مسلم، عن أبي جعفر (عليه السلام) قال: قل: " اللهم أوسع علي في رزقي وامدد لي في عمري واغفر لي ذنبي واجعلني ممن تنتصر به لدينك ولا تستبدل بي غيري ".
27. Abu Ali al-Ash’ari has narrated from Muhammad ibn ‘Abd al-Jabbar from Safwan ibn Yahya from al-‘Ala’ ibn Razin from Muhammad ibn Muslim from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Say, ‘O Lord, increase my sustenance, prolong my life, forgive my sins and make me of those whom You employ to support Your religion and do not replace me by others.’”
ابو علي الأشعري نے محمد بن عبد الجبار سے صفوان بن يحيی سے العلاء بن رزين سے محمد بن مسلم سے ابو جعفر علیه السلام سے روایت کی۔ کہا: کہو: اے الله مجھے اپنی رزق میں کشائش دے اور میری عمر کو طول دے اور مجھے میری گناہوں سے بخش دے اور مجھے ان لوگوں میں سے بنا جن سے تو اپنے دین کی حمایت کرتا ہے اور میری جگہ کسی اور کو مت لے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Abu Ali al-Ash’ariy has narrated from Muhammad ibn ‘Abd al-Jabbar from Safwan ibn Yahya from ‘Abd Allah ibn Muskan from Yahya al-Halabiy from ‘Abd al-Hamid al-Ta’iy from Zurarah ibn ‘A‘yan who has said the following: “This is concerning my question before abu ‘Abd Allah (a.s.), if I can marry a Murji’ah or Harawriyah (two sects). He (the Imam) said, ‘No, but you must marry simple hearted woman.’ I then said, ‘By Allah, it is only a believer or unbeliever.’ Abu ‘Abd Allah (a.s.), said, ‘What is the position of Thanawiy (a sect) people about Allah, most Majestic, most Glorious? The words of Allah, most Majestic, most Glorious, are truer than what you say “. . . except the weak ones of man, …
ابو علی الاشعري نے محمد بن عبد الجبار سے روایت کی، محمد بن عبد الجبار نے صفوان بن یحیٰ سے روایت کی، صفوان بن یحیٰ نے عبد الله بن مسکان سے روایت کی، عبد الله بن مسکان نے یحیٰ الحلبی سے روایت کی، یحیٰ الحلبی نے عبد الحمید الطائی سے روایت کی، عبد الحمید الطائی نے زرارہ بن أعین سے روایت کی۔ زرارہ بن أعین کہتے ہیں: میں نے ابی عبد الله علیہ السلام سے کہا: کیا میں ایک مرجئہ یا خارجہ (حروریہ) عورت سے نکاح کروں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ سادہ دل خواتین میں سے ایک عورت سے نکاح کرو۔ زرارہ کہتے ہیں: میں نے کہا: واللہ تو عورت یا تو مومن ہے یا کافر۔ ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: پھر ثنویہ فرقہ کے لوگ کہاں ہیں؟ الله تعالیٰ کا قول تمہاری بات سے بہت زیادہ سچا ہے جب الله کہتے ہیں: سوائے
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallTell the believing men to lower their gaze and be modest. That is purer for them. Lo! Allah is aware of what they do.
Yusuf AliSay to the believing men that they should lower their gaze and guard their modesty: that will make for greater purity for them: And Allah is well acquainted with all that they do.
The agreed readingSay to the men who believe: let them lower their eyes from what is not theirs to look at, and guard themselves from what is not lawful. That is cleaner for them, and it keeps them clear of what raises doubt. God is aware of what they do.
Urduاے نبی! مومن مردوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں ان چیزوں سے نیچی رکھیں جن کو دیکھنا ان کے لیے جائز نہیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت ان چیزوں سے کریں جو ان کے لیے حلال نہیں۔ یہ نگاہ نیچی رکھنا اور حفاظت کرنا ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے اور انہیں شک و شبہے سے دور رکھتا ہے۔ بیشک اللہ ان کے ظاہری اور پوشیدہ سب اعمال سے خوب باخبر ہے۔
Arabicقل أيها النبي للرجال المؤمنين: ينبغي أن يغضوا من أبصارهم عما لا يحل لهم النظر إليه، ويحفظوا فروجهم عما لا يحل لهم من الفواحش. ذلك الغض والحفظ أطهر لقلوبهم ويبعدهم عن الريبة والشبهة. إن الله خبير بما يصنعونه من أعمال ظاهرة وخفية.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Ibn Buraidah:from his father (from the Prophet (ﷺ)) who said: "O 'Ali! Do not follow a look with a look, the first is for you, but the next is not for you
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! نظر کے بعد نظر نہ اٹھاؤ، کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر ( معاف ) ہے اور دوسری ( معاف ) نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) said: A man should not look at the private parts of another man, and a woman should not look at the private parts of another woman. A man should not lie with another man without wearing lower garment under one cover; and a woman should not be lie with another woman without wearing lower garment under one cover
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی عورت کے ستر کو نہ دیکھے اور نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے ۔
Abu Sa`id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying :Avoid sitting in the roads. The people said: Apostle of Allah! We must have meeting places in which to converse. The apostle of Allah (ﷺ) said: If you insist on meeting, give the road its due. They asked: What is the due of roads, Apostle of Allah? He replied: Lowering the eyes, removing anything offensive, returning salutation, commanding what is reputable and forbidding what is disreputable
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں اپنی مجالس سے مفر نہیں ہم ان میں ( ضروری امور پر ) گفتگو کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: پھر اگر تم نہیں مانتے تو راستے کا حق ادا کرو لوگوں نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ۔
Abd al-Rahman, the son of Abu Sa'id al-Khudri, reported from his father:The Messenger of Allah (ﷺ) said: A man should not see the private parts of another man, and a woman should not see the private parts of another woman, and a man should not lie with another man under one covering, and a woman should not lie with another woman under one covering
زید نےحباب نے ضحاک بن عثمان سے روایت کی ، کہا : مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ مرد ، مردکا ستر نہ دیکھے اور عورت ، عورت کا ستر نہ دیکھے ۔ مرد ، مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ ہو اور عورت ، عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ ہو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ، بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلاَّ الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " . قَالُوا وَمَا حَقُّهُ قَالَ " غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الأَذَى وَرَدُّ السَّلاَمِ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
Abu Sa'id Khudri reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Avoid sitting on the paths. They (the Companions) said: Allah's Messenger, we cannot help but holding our meetings (in these paths) and discuss matters (there). Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: If you insist on holding meetings, then give the path its due right. They said: What are its due rights? Upon this he said: Lowering the gaze, refraining from doing harm, exchanging of greetings. commanding of good and forbidding from evil
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " راستوں میں بیٹھنے سے اجتنا ب کرو ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے ( را ستے کی ) مجلسوں کے بغیر جن میں ( بیٹھ کر ) ہم باتیں کرتے ہیں ، کو ئی چارہ نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اگر تم مجا لس کے بغیر نہیں رہ ہو سکتے تو را ستے کا حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے کہا : اس کا حق کیا ہے ؟آپ نے فر ما یا : " نگاہ نیچی رکھنا تکلیف دہ چیزوں کو ( را ستے سے ) ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، اچھا ئی کی تلقین کرنا اور بر ائی سے روکنا ۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet (ﷺ) said: to Ali: Do not give a second look, Ali, (because) while you are not to blame for the first, you have no right to the second
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: علی! ( اجنبی عورت پر ) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے، دوسری جائز نہیں ۱؎۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Sa'eed [Al-Khudri] from his father who said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'A man is not to look at the 'Awrah of a man, and a woman is not to look at the 'Awrah of a woman. A man is not to be alone with a man under one garment, and a woman is not to be alone with a woman under one garment
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد مرد کی شرمگاہ اور عورت عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور مرد مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں ننگا ہو کر نہ لیٹے اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، غریب صحیح ہے۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Abd ar- Rahman ibn Abi Said al-Khudri from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not let anyone pass in front of you when you are praying. Repel him as much as you can, and, if he refuses, fight him, for he is only a shaytan
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے جانے نہ دے اگر کوئی جانا چاہے تو اس کو اشارہ سے منع کرے اگر نہ مانے تو پھر زور سے منع کرے اس لئے کہ وہ شیطان ہے ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَنْظُرِ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلاَ يَنْظُرِ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ " .
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Abu Sa'eed Al-Khudri from his father that:The Messenger of Allah said: "No woman should look at the nakedness of another woman, and no man should look at the nakedness of another man
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت عورت کے اور مرد مرد کے ستر کو نہ دیکھے ۔
PickthallAnd tell the believing women to lower their gaze and be modest, and to display of their adornment only that which is apparent, and to draw their veils over their bosoms, and not to reveal their adornment save to their own husbands or fathers or husbands' fathers, or their sons or their husbands' sons, or their brothers or their brothers' sons or sisters' sons, or their women, or their slaves, or male attendants who lack vigour, or children who know naught of women's nakedness. And let them not stamp their feet so as to reveal what they hide of their adornment. And turn unto Allah together, O believers, in order that ye may succeed.
Yusuf AliAnd say to the believing women that they should lower their gaze and guard their modesty; that they should not display their beauty and ornaments except what (must ordinarily) appear thereof; that they should draw their veils over their bosoms and not display their beauty except to their husbands, their fathers, their husband's fathers, their sons, their husbands' sons, their brothers or their brothers' sons, or their sisters' sons, or their women, or the slaves whom their right hands possess, or male servants free of physical needs, or small children who have no sense of the shame of sex; and that they should not strike their feet in order to draw attention to their hidden ornaments. And O ye Believers! turn ye all together towards Allah, that ye may attain Bliss.
The agreed readingSay the same to the women who believe: let them lower their eyes and guard themselves, and not put their adornment on show beyond what appears of it, and let them draw their coverings over their breasts. The adornment is not shown except before their husbands and the men of their own household named here, and their women, and those in whom no desire is left, and children too young to know. And they are not to stamp their feet so as to make known what they hide. And turn to God, all of you who believe, so that you may come through.
Urduاور مومن عورتوں سے بھی یہی کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں ناجائز چیزوں سے نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حرام سے حفاظت کریں، اور اپنی پوشیدہ زینت ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود بخود ظاہر ہو جیسے اوپر کے کپڑے، اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈال لیں تاکہ وہ پوری طرح چھپ جائیں۔ اور اپنی زینت کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں، باپوں، شوہروں کے باپوں، بیٹوں، شوہروں کے بیٹوں، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں، اپنی مسلمان عورتوں، اپنی مملوکہ لونڈیوں، یا ایسے خادم مردوں کے جنہیں عورتوں کی طرف کوئی رغبت نہ ہو، یا ایسے بچوں کے جو ابھی عورتوں کے پردے کی باتیں نہیں سمجھتے۔ اور چلتے ہوئے اپنے پاؤں زمین پر اس طرح نہ ماریں کہ ان کی چھپی ہوئی زینت یعنی پازیب کی آواز سنائی دے۔ اور اے مومنو! تم سب اللہ کی طرف اس بارے میں کسی کوتاہی سے توبہ کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
Arabicوقل للنساء المؤمنات مثل ذلك: يغضضن من أبصارهن عما لا يحل، ويحفظن فروجهن عن الحرام، ولا يظهرن زينتهن الخفية إلا ما ظهر منها بحكم الضرورة كالثياب الظاهرة، وليضربن بأغطية رؤوسهن على صدورهن وفتحات جيوبهن ليسترنها تماما. ولا يبدين زينتهن إلا لأزواجهن أو آبائهن أو آباء أزواجهن أو أبنائهن أو أبناء أزواجهن أو إخوانهن أو أبناء إخوانهن أو أبناء أخواتهن أو نسائهن المسلمات أو ما ملكت أيمانهن، أو الخدم من الرجال الذين لا رغبة لهم في النساء، أو الأطفال الذين لم يبلغوا سن معرفة عورات النساء. ولا يضربن بأرجلهن عند المشي ليظهر صوت خلخالهن فيعلم ما يخفينه من الزينة. وتوبوا إلى الله جميعا أيها المؤمنون من أي تقصير في هذه الآداب، لعلكم تفوزون بالفلاح.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (2181)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (2181)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (2181)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً فَقَالَ إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَا هُنَا لاَ يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ هَذَا " . فَحَجَبُوهُ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: A mukhannath (eunuch) used to enter upon the wives of Prophet (ﷺ). They (the people) counted him among those who were free of physical needs. One day the Prophet (ﷺ) entered upon us when he was with one of his wives, and was describing the qualities of a woman, saying: When she comes forward, she comes forward with four (folds in her stomach), and when she goes backward, she goes backward with eight (folds in her stomach). The Prophet (ﷺ) said: Do I not see that this (man) knows what here lies. Then they (the wives) observed veil from him
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث ( ہجڑا ) آتا جاتا تھا اسے لوگ اس صنف میں شمار کرتے تھے جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے وہ مخنث آپ کی ایک بیوی کے پاس تھا، اور ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں پڑ جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتوں کی باتیں جانتا ہے، اب یہ تمہارے پاس ہرگز نہ آیا کرے، تو وہ سب اس سے پردہ کرنے لگیں ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الأَنْطَاكِيُّ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدٍ، - قَالَ يَعْقُوبُ ابْنُ دُرَيْكٍ - عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ رِقَاقٌ فَأَعْرَضَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " يَا أَسْمَاءُ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ تَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلاَّ هَذَا وَهَذَا " . وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا مُرْسَلٌ خَالِدُ بْنُ دُرَيْكٍ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ رضى الله عنها .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: Asma, daughter of AbuBakr, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) wearing thin clothes. The Messenger of Allah (ﷺ) turned his attention from her. He said: O Asma', when a woman reaches the age of menstruation, it does not suit her that she displays her parts of body except this and this, and he pointed to his face and hands. Abu Dawud said: This is a mursal tradition (i.e. the narrator who transmitted it from 'Aishah is missing) Khalid b. Duraik did not see 'Aishah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ باریک کپڑا پہنے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا: اسماء! جب عورت بالغ ہو جائے تو درست نہیں کہ اس کی کوئی چیز نظر آئے سوائے اس کے اور اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کی جانب اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے خالد بن دریک نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو جُمَيْعٍ، سَالِمُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا قَالَ وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا تَلْقَى قَالَ " إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلاَمُكِ " .
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet (ﷺ) brought Fatimah a slave which he donated to her. Fatimah wore a garment which, when she covered her head, did not reach her feet, and when she covered her feet by it, that garment did not reach her head. When the Prophet (ﷺ) saw her struggle, he said: There is no harm to you: Here is only your father and slave
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام لے کر آئے جس کو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا، اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ایسا کپڑا پہنے تھیں کہ جب اس سے سر ڈھانکتیں تو پاؤں کھل جاتا اور جب پاؤں ڈھانکتیں تو سر کھل جاتا، فاطمہ رضی اللہ عنہا جن صورت حال سے دو چار تھیں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: تم پر کوئی مضائقہ نہیں، یہاں صرف تمہارے والد ہیں یا تمہارا غلام ہے ۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ نِسَاءَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلَ، لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ {وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ} شَقَّقْنَ مُرُوطَهُنَّ فَاخْتَمَرْنَ بِها.
Narrated `Aishah:May Allah bestow His Mercy on the early emigrant women. When Allah revealed: "... and to draw their veils all over their Juyubihinna (i.e., their bodies, faces, necks and bosoms)..." (V.24:31) they tore their Murut (woolen dresses or waist-binding clothes or aprons etc.) and covered their heads and faces with those torn Muruts
اور احمد بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد شبیب بن سعید نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ ان عورتوں پر رحم کرے جنہوں نے پہلی ہجرت کی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آیت «وليضربن بخمرهن على جيوبهن» ”اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں۔“ ( تاکہ سینہ اور گلا وغیرہ نہ نظر آئے ) نازل کی، تو انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کر ان کے دوپٹے بنا لیے۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي نَبْهَانُ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ مَيْمُونَةُ فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " احْتَجِبَا مِنْهُ " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَعْمَى لاَ يُبْصِرُنَا وَلاَ يَعْرِفُنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا لأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً أَلاَ تَرَى إِلَى اعْتِدَادِ فَاطِمَةَ …
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: I was with the Messenger of Allah (ﷺ) while Maymunah was with him. Then Ibn Umm Maktum came. This happened when we were ordered to observe veil (purdah). The Prophet (ﷺ) said: Observe veil from him. We asked: Messenger of Allah! is he not blind? He can neither see us nor recognise us. The Prophet (ﷺ) said: Are both of you blind? Do you not see him? AbuDawud said: This was peculiar to the wives of the Prophet (ﷺ). Do you not see that Fatimah daughter of Qays passed her waiting period with Ibn Umm Maktum. The Prophet (ﷺ) said to Fatimah daughter of Qays: Pass your waiting period with Ibn Umm Maktum, for he is a blind man. You can put off your clothes with …
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم …
Ibn Umar said:“In one sitting of the Messenger of Allah (ﷺ), one could count that he said a hundred time, before he would get up: ‘O my Lord, forgive me, and accept my repentance. Verily, You are the Oft-Returning, the Most Forgiving (Rabbighfirlī watub `alayya innaka antat-Tawwābul-Ghafūr).’”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مجلس میں مجلس سے اٹھنے سے پہلے سو سو مرتبہ: «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور» ”اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے اور بخشنے والا ہے“، گنا جاتا تھا۔ سفیان نے محمد بن سوقہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَالْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْمَجْلِسِ يَقُولُ " رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَىَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ " . مِائَةَ مَرَّةٍ .
It was narrated that Ibn `Umar said:"We used to count that the Messenger of Allah (ﷺ) said one hundred times in a gathering: 'Rabbighfirli wa tub `alayya innaka Antat-Tawwabur-Rahim (O Allah forgive me and accept my repentance, for You are the Accepter of repentance, the Most Merciful)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم شمار کرتے رہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور» اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول فرما لے، تو ہی توبہ قبول فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے سو بار کہتے تھے۔
Narrated Abdullah ibn Umar: We counted that the Messenger of Allah (ﷺ) would say a hundred times during a meeting: "My Lord, forgive me and pardon me; Thou art the Pardoning and forgiving One
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سو بار: «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الرحيم» اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول کر، تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے کہنے کو شمار کرتے تھے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ نَبْهَانَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا، كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَيْمُونَةُ قَالَتْ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " احْتَجِبَا مِنْهُ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ هُوَ أَعْمَى لاَ يُبْصِرُنَا وَلاَ يَعْرِفُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ …
Narrated Nabhan the freed slave of Umm Salamah:to Ibn Shihab, that Umm Salamah narrated to him, that she and Maimunah were with the Messenger of Allah (ﷺ), she said: "So when we were with him, Ibn Umm Maktum came, and he entered upon him, and that was after veiling had been ordered for us. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Veil yourselves from him.' So I said: 'O Messenger of Allah! Is he not blind such that he can not see us or recognize us?' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Are you two blind such that you can not see him?
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں اور میمونہ رضی الله عنہا بھی موجود تھیں، اسی دوران کہ ہم دونوں آپ کے پاس بیٹھی تھیں، عبداللہ بن ام مکتوم آئے اور آپ کے پاس پہنچ گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ہمیں پردے کا حکم دیا جا چکا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں ان سے پردہ کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ اندھے نہیں ہیں؟ نہ وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں؟ اور نہ ہمیں پہچان سکتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں بھی اندھی ہو؟ کیا تم دونوں انہیں دیکھتی نہیں ہو؟“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
PickthallAnd marry such of you as are solitary and the pious of your slaves and maid-servants. If they be poor, Allah will enrich them of His bounty. Allah is of ample means, Aware.
Yusuf AliMarry those among you who are single, or the virtuous ones among yourselves, male or female: if they are in poverty, Allah will give them means out of His grace: for Allah encompasseth all, and he knoweth all things.
The agreed readingMarry off those among you who have no spouse - the word covers a man or a woman alike - and the upright among those you own. If they are poor, God will make them independent out of His bounty. God's giving is wide, and He knows.
Urduاور تم میں سے جو بے نکاح ہیں انہیں نکاح کروا دو، خواہ مرد ہوں یا عورتیں، اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا بھی نکاح کروا دو۔ اگر وہ فقیر ہوں تو یہ تمہیں ان کے نکاح سے نہ روکے، کیونکہ اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔ اور اللہ کشادہ فضل والا اور اپنے بندوں کے حالات اور ضرورتوں کو خوب جاننے والا ہے۔
Arabicوزوجوا من لا زوج له أو لها منكم من الأحرار، وزوجوا الصالحين من عبيدكم وإمائكم المملوكين. إن يكونوا فقراء لا يملكون مهرا فلا يمنعكم ذلك من تزويجهم، فإن الله سيغنيهم من فضله وكرمه بعد الزواج. والله واسع الفضل والرزق، عليم بأحوال عباده وحاجاتهم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 7 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة9 reports cited here — 7 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Ṭūsī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, Ibn ʿĀshūr and Ṭabāṭabāʾī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا
7. Ahmad ibn Muhammad has narrated from Mu‘awiyah ibn Hakim who has said the following: “Al-Rida’ (a.s.), once read the following as Khutbah (sermon) when solemnizing a marriage: ‘All praise belongs to Allah who has praised Himself in the book and has opened His book with it, has made it the first reward of the recipient of His bounties and the last words of the dwellers of His paradise. I testify that no one other than Allah alone, who has no partners, deserves worship, a testimony that I present purely for Him and save in reserve with Him. O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause. He is the last in the line of prophets and the best of …
احمد بن محمد نے معاویہ بن حکیم سے روایت کی، کہتے ہیں کہ الرضا علیہ السلام نے یہ خطبہ پڑھا: تمام تعریف اللہ کے لیے جس نے اپنی کتاب میں اپنی تعریف کی، اور اپنی کتاب کو تعریف سے شروع کیا، اور تعریف کو اپنی نعمت دینے والوں کا پہلا انعام بنایا، اور اپنی جنت والوں کی آخری دعا بنایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی عبادت کے لائق نہیں مگر اللہ تنہا، اس کا کوئی شریک نہیں، گواہی جو میں خالصتا اس کے لیے پیش کرتا ہوں اور اس کے ساتھ محفوظ رکھتا ہوں۔ اور اللہ کی درود و سلام ہو محمد خاتم النبوہ اور بہترین مخلوقات پر، اور ان کی آل، رحمت کی آل، نعمت کے درخت، رسالت کا معدن، ملائکہ کی ملاقات کی جگہ۔ اور تمام تعریف اللہ کے لیے جو ہمیشہ سے اس کے علم میں رہا، اور اس کی بولنے والی کتاب میں، اور اس کی سچی بیان میں۔ کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from Muhammad ibn ‘Isa from Yunus from Hisham ibn al-Hakam who has said the following: “He (the Imam) (a.s.), has said, ‘Allah, most High has made marriage lawful on the basis of His servants’ ability to pay mahr (dower) and their ability to provide maintenance, so He has said, “Marry whomever of women you like, two, three or four and if you fear of failure to maintain justice then marry only one or a slave-girl that you own.” (4:3) Allah has also said, “Anyone of you who is not able to pay mahr (dower) to marry chaste believing woman he can marry of the slave-girls that you own of the young believing woman.” (4:128) Allah has said, “If you seek advantage …
علی بن ابراہیم نے محمد بن عیسیٰ سے روایت کی، انہوں نے یونس سے، انہوں نے ہشام بن الحکم سے، کہا: امام (علیہ السلام) نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نکاح کو بندوں کی طاقت کے لحاظ سے حلال کیا ہے - مہر دینے کی طاقت اور نفقہ دینے کی صلاحیت میں۔ اس لیے فرماتے ہیں: تم جو عورتیں پسند کرو ان سے نکاح کرو، دو دو، تین تین، چار چار۔ اور اگر تمہیں خوف ہو کہ انصاف نہ کر سکو تو ایک سے، یا جو تمہارے ہاتھ میں لونڈیاں ہوں۔ اور فرماتے ہیں: اور جو تم میں سے اتنا مالدار نہ ہو کہ مومن عورتوں سے نکاح کر سکے تو تمہاری مومن لونڈیوں میں سے۔ اور فرماتے ہیں: تو جو فائدہ تم ان سے اٹھاؤ تو انہیں ان کی مزدوری دو، ایک مقررہ فریضے کے طور پر۔ اور کوئی گناہ نہیں تمہاری طرف اس میں کہ جس پر تم آپس میں رضا مندی سے طے کرو۔ پس اللہ نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abdullah (b. Mas'ud) (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to us:0 young men, those among you who can support a wife should marry, for it restrains eyes (from casting evil glances) and preserves one from immorality; but he who cannot afford It should observe fast for it is a means of controlling the sexual desire
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " اے جوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے ، یہ نگاہوں کو جھکانے اور شرمنگاہ کی حفاظت کرنے میں ( دوسری چیزوں کی نسبت ) بڑھ کر ہے ، اور جو استطاعت نہ پائے ، وہ خود پر روزے کو لازم کر لے ، یہ اس کے لیے اس کی خواہش کو قطع کرنے والا ہے
Abdullah bin Mas'ud narrated:"We went with Allah's Messenger, while we were young men who had nothing. He said: 'O young men! You should marry, for indeed it helps in lowering the gaze and protecting the private parts. Whoever among you is not able to marry, then let him fast, for indeed fasting will diminish his sexual desire
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم نوجوان تھے، ہمارے پاس ( شادی وغیرہ امور میں سے ) کسی چیز کی مقدرت نہ تھی۔ تو آپ نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تمہارے اوپر ۱؎ نکاح لازم ہے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی کرنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اور جو تم میں سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس پر صوم کا اہتمام ضروری ہے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس سند سے کئی لوگوں نے اسی کے مثل اعمش سے روایت کی ہے، ۳- اور ابومعاویہ اور محاربی نے یہ حدیث بطریق: «الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ۴- دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔
Narrated 'Abdullah:It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah said to us: 'O young men, whoever among you can afford it, let him get married, for it is more effective in lowering the gaze and guarding chastity, and whoever cannot then he should fast, for it will be a restraint (wija') for him
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نوجوانوں سے کہا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ کا بار اٹھا سکتا ہو، اسے شادی کر لینی چاہیئے، کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور جو نکاح کی ذمہ داریاں نہ نبھا سکتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ روزہ اس کے لیے شہوت کا توڑ ہے“۔
It was narrated that 'Abdullah said:"We went out with the Messenger of Allah and we were young men who could not afford anything. He said: 'O young men, you should get married, for it is more effective in lowering the gaze and protecting one's chastity. Whoever cannot afford it should fast, for it will be a restraint Wija, for him
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہم سب نوجوان تھے۔ ہم ( جوانی کے جوش میں ) کسی چیز پر قابو نہیں رکھ پاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم اپنے اوپر شادی کرنے کو لازم پکڑو کیونکہ یہ نظر کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے، اور جو نہ کر سکتا ہو ( یعنی نان، نفقے کا بوجھ نہ اٹھا سکتا ہو ) وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے کیونکہ یہ اس کے لیے بمنزلہ خصی بنا دینے کے ہے“۔
Aishah narrated that:The Messenger of Allah said: "Whichever woman married without the permission of her Wali her marriage is invalid, her marriage is invalid, her marriage is invalid. If he entered into her, then the Mahr is for her in lieu of what he enjoyed from her private part. If they disagree, then the Sultan is the Wali for one who has no Wali
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس نے اس سے دخول کر لیا ہے تو اس کی شرمگاہ حلال کر لینے کے عوض اس کے لیے مہر ہے، اور اگر اولیاء میں جھگڑا ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید انصاری، یحییٰ بن ایوب، سفیان ثوری، اور کئی حفاظ حدیث نے اسی طرح ابن جریج سے روایت کی ہے، ۳- ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی ( پچھلی ) حدیث میں اختلاف ہے، اسے اسرائیل، شریک بن عبداللہ، ابو عوانہ، زہیر بن معاویہ اور قیس بن ربیع نے بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ .
It was narrated from Abu Mas'ud that :the Prophet (ﷺ) forbade the price of a dog, the payment (given to a prostitute) and the payment made to a soothsayer
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا ہے۱؎۔
Narrated 'Alqamah:It was narrated from 'Alqamah and Al-Aswad that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah said to us: 'Whoever among you can afford it, let him get married, and whoever cannot then he should fast, for it will be a restraint (wija') for him.'" Abu Abdur-Rahman said: (The mention of) Al-Aswad in this hadith is not preserved
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( نوجوانوں ) سے فرمایا: ”جو شخص بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہوا سے شادی کر لینی چاہیئے اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے، کیونکہ وہ اس کے لیے توڑ ہے، یعنی روزہ آدمی کی شہوت کو دبا اور کچل دیتا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں ”اسود“ راوی کا ذکر نہیں ہے۔
PickthallAnd let those who cannot find a match keep chaste till Allah give them independence by His grace. And such of your slaves as seek a writing (of emancipation), write it for them if ye are aware of aught of good in them, and bestow upon them of the wealth of Allah which He hath bestowed upon you. Force not your slave-girls to whoredom that ye may seek enjoyment of the life of the world, if they would preserve their chastity. And if one force them, then (unto them), after their compulsion, lo! Allah will be Forgiving, Merciful.
Yusuf AliLet those who find not the wherewithal for marriage keep themselves chaste, until Allah gives them means out of His grace. And if any of your slaves ask for a deed in writing (to enable them to earn their freedom for a certain sum), give them such a deed if ye know any good in them: yea, give them something yourselves out of the means which Allah has given to you. But force not your maids to prostitution when they desire chastity, in order that ye may make a gain in the goods of this life. But if anyone compels them, yet, after such compulsion, is Allah, Oft-Forgiving, Most Merciful (to them),
The agreed readingThose who cannot find the means to marry are to keep chaste until God makes them independent out of His bounty, and the commentaries pass on the Prophet's counsel to the young men in the same breath. Those you own who ask for a writ of freedom: write it for them if you know some good in them, and give them out of the wealth God gave you. And do not force your slave women into prostitution when they want to stay chaste, for the goods of this life; and if anyone forces them, God after that forcing is forgiving and merciful to them.
Urduاور جن لوگوں کو نکاح کا کوئی ذریعہ نہ ملے وہ اس وقت تک عفت اختیار کریں جب تک اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی نہ کر دے اور نکاح کا سامان پیدا نہ کر دے۔ روایات میں مل کر یہ بیان ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوجوانوں کو اسی صبر اور روزے کی نصیحت فرمایا کرتے تھے تاکہ وہ عفت پر قائم رہ سکیں۔ اور تمہارے مملوک غلام و لونڈیاں جو مال کے بدلے آزادی کی تحریر مانگیں تو اگر تم ان میں کمانے کی صلاحیت، امانت اور بھلائی دیکھو تو انہیں یہ تحریر لکھ دو، اور اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے انہیں بھی دو تاکہ وہ اپنی آزادی حاصل کر سکیں۔ اور اپنی باندیوں کو دنیا کا فانی مال کمانے کے لیے زنا پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاک دامن رہنا چاہتی ہوں۔ اور جو کوئی انہیں مجبور کرے تو اللہ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد ان کے لیے بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
Arabicوليتعفف عن الزنا الذين لا يجدون وسيلة إلى النكاح لفقرهم حتى يغنيهم الله من فضله وييسر لهم أمر الزواج. وقد اتفقت الروايات على أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ينصح الشباب بهذا الصبر والصوم عونا لهم على العفة. والذين يطلبون منكم كتابة عقد يحررون به أنفسهم من مماليككم مقابل مال يؤدونه، فاكتبوا لهم ذلك العقد إن علمتم فيهم قدرة على الكسب وأمانة وصلاحا، وأعطوهم من مال الله الذي أعطاكم ليعينهم على تحرير أنفسهم. ولا تجبروا جواريكم على الزنا طلبا لكسب الدنيا الفانية إذا كن يردن العفة والتحصن. ومن أكرههن على ذلك فإن الله من بعد إكراههن لهن غفور لهن رحيم بهن يتجاوز عنهن ما وقعن فيه مكرهات.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from Muhammad ibn ‘Isa from Yunus from Hisham ibn al-Hakam who has said the following: “He (the Imam) (a.s.), has said, ‘Allah, most High has made marriage lawful on the basis of His servants’ ability to pay mahr (dower) and their ability to provide maintenance, so He has said, “Marry whomever of women you like, two, three or four and if you fear of failure to maintain justice then marry only one or a slave-girl that you own.” (4:3) Allah has also said, “Anyone of you who is not able to pay mahr (dower) to marry chaste believing woman he can marry of the slave-girls that you own of the young believing woman.” (4:128) Allah has said, “If you seek advantage …
علی بن ابراہیم نے محمد بن عیسیٰ سے روایت کی، انہوں نے یونس سے، انہوں نے ہشام بن الحکم سے، کہا: امام (علیہ السلام) نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نکاح کو بندوں کی طاقت کے لحاظ سے حلال کیا ہے - مہر دینے کی طاقت اور نفقہ دینے کی صلاحیت میں۔ اس لیے فرماتے ہیں: تم جو عورتیں پسند کرو ان سے نکاح کرو، دو دو، تین تین، چار چار۔ اور اگر تمہیں خوف ہو کہ انصاف نہ کر سکو تو ایک سے، یا جو تمہارے ہاتھ میں لونڈیاں ہوں۔ اور فرماتے ہیں: اور جو تم میں سے اتنا مالدار نہ ہو کہ مومن عورتوں سے نکاح کر سکے تو تمہاری مومن لونڈیوں میں سے۔ اور فرماتے ہیں: تو جو فائدہ تم ان سے اٹھاؤ تو انہیں ان کی مزدوری دو، ایک مقررہ فریضے کے طور پر۔ اور کوئی گناہ نہیں تمہاری طرف اس میں کہ جس پر تم آپس میں رضا مندی سے طے کرو۔ پس اللہ نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Hadith.1340 - I heard our teacher, Muhammad ibn al-Hasan, say: It was narrated that Imam Jafar ibn Muhammad Al-Sadiq (as) was asked about the words of Allah (swt), the Mighty and Majestic: "And when you travel throughout the land, there is no blame upon you for shortening the prayer, if you fear that those who disbelieve may harm you" (Surah An-Nisa 4:101). Imam (as) said: "This refers to a second form of shortening, where a man reduces two rak'ahs to one."
۱۳۴۰۔ اور میں نے اپنے شیخ محمد بن الحسن رضي الله عنه کو سنا کہ وہ کہتے تھے: روایت ہے کہ الصادق علیہ السلام سے اللہ عزّ وجل کے قول کے بارے میں پوچھا گیا: اور جب تم سفر میں ہو تو تمہاری کوئی خرابی نہیں کہ نماز میں قصر کرو اگر تم ڈرو کہ جو منکریں ہوں وہ تمہیں فتنہ میں ڈالیں، تو فرمایا: یہ دوسری قصر ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی دو رکعت کو ایک رکعت میں کر دے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
26-3 قال: فما السبعون؟ قال: اختار موسى قومه سبعين رجلا لميقات ربه عز وجل، قال: فما الثمانون؟ قال: قرية بالجزيرة يقال لها ثمانون منها قعد نوح في السفينة واستوت على الجودي، وأغرق الله القوم، قال: فما التسعون؟ قال: الفلك المشحون اتخذ نوح عليه السلام فيه تسعين بيتا للبهائم،قال: فما المائة؟ قال: كان أجل داود عليه السلام ستين سنة فوهب له آدم عليه السلام أربعين سنة من عمره فلما حضرت آدم الوفاة جحد فجحدت ذريته. فقال له: يا شاب صف لي محمدا كأني أنظر إليه حتى أومن به الساعة، فبكى أمير المؤمنين عليه السلام ثم قال: يا يهودي هيجت أحزاني كان حبيبي رسول الله صلى الله عليه وآله صلت الجبين، مقرون الحجابين، أدعج العنين، سهل الخدين، أقنى الانف، دقيق المسربة، كث اللحية براق الثنايا، كان عنقه إبريق فضة، كان له …
26-3 The Jew asked, ‘What are the seventy?’ Ali (MGB) replied, ‘This refers to the seventy persons which Moses chose from amongst his family to take to the place of meeting his Lord - the Honorable the Exalted God.’ The Jew asked, ‘What are the eighty?’ Ali (MGB) replied, ‘Eighty here refers to the name of a village in an island where Noah boarded his ark and then landed on Judi and God drowned his tribe.’The Jew asked, ‘What are the ninety?’ Ali (MGB) replied, ‘It refers to the Ark in which Noah built ninety compartments for living creatures.’The Jew asked, ‘What are the one-hundred?’ Ali (MGB) replied, ‘David’s (MGB) life was only sixty years, but Adam (MGB) donated forty years of his own …
وہ کہتے ہیں: تو سو سے کیا مراد ہے؟ امیرالمومنین نے کہا: ستر سے مراد وہ ستر آدمی ہیں جنہیں موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم میں سے اپنے رب کے وعدے کے لیے منتخب کیا۔ یہودی نے کہا: اسی سے کیا مراد ہے؟ علی علیہ السلام نے کہا: جزیرے میں ایک بستی ہے جس کا نام اسی ہے، اسی سے نوح علیہ السلام نے کشتی میں سوار ہونے کی تیاری کی اور وہ جودی پر اترے، اور اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو غرق کیا۔ یہودی نے کہا: نوے سے کیا مراد ہے؟ علی علیہ السلام نے کہا: وہ بھرے ہوئے کشتی سے مراد ہے۔ نوح علیہ السلام نے اس میں جانوروں کے لیے نوے گھر بنائے تھے۔ یہودی نے کہا: سو سے کیا مراد ہے؟ علی علیہ السلام نے کہا: داؤد علیہ السلام کی عمر ستر سال تھی، لیکن آدم علیہ السلام نے انہیں اپنی عمر کے چالیس سال دے دیے۔ جب آدم علیہ السلام کی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Jabir reported that 'Abdullah b. Ubayy b. Salul used to say to his slave-girl:Go and fetch something for us by committing prostitution. It was in this connection that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse:" And compel not your slave-girls to prostitution when they desire to keep chaste in order to seek the frail goods of this world's life, and whoever compels them, then surely after their compulsion Allah is Forgiving, Merciful" (xxiv)
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : عبداللہ بن ابی سلول اپنی ایک باندی سے کہتا تھا : جا اور ( بذریعہ بدکاری ) ہمارے لیے کچھ کما کرلا ، تو اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی؛ " اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ ( خصوصاً ) اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سازوسامان حاصل کرو اور جو کوئی انھیں مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کا بعد " ان کے لیے " بڑا بخشنے والا ، بڑا رحم کرنے والا ہے ۔
It was narrated that:Alqamah bin Qais said: “I was with Abdullah bin Masud in Mina, and Uthman took him aside. I was sitting near him. Uthman said to him: 'Would you like that I marry you to a young virgin who will remind you of how you were in the past?' When Abdullah saw that he did not say anything to him apart from that, he gestured to me, so I came and he said: 'As you say that the Messenger of Allah said “O young men, whoever among you can afford it, let him get married, for it is more effective in lowering the gaze and guarding one's chastity. Whoever cannot afford it, let him fast, for it will diminish his desire.” ' ”
علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں تھا، تو عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لے کر تنہائی میں گئے، میں ان کے قریب بیٹھا تھا، عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے کرا دوں جو آپ کو ماضی کے حسین لمحات کی یاد دلا دے؟ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ ان سے اس کے علاوہ کوئی راز کی بات نہیں کہنا چاہتے، تو انہوں نے مجھ کو قریب آنے کا اشارہ کیا، میں قریب آ گیا، اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے: اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شخص نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو وہ شادی کر لے، اس لیے کہ اس سے نگاہیں زیادہ …
Narrated 'Alqamah:It was narrated from 'Alqamah and Al-Aswad that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah said to us: 'Whoever among you can afford it, let him get married, and whoever cannot then he should fast, for it will be a restraint (wija') for him.'" Abu Abdur-Rahman said: (The mention of) Al-Aswad in this hadith is not preserved
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( نوجوانوں ) سے فرمایا: ”جو شخص بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہوا سے شادی کر لینی چاہیئے اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے، کیونکہ وہ اس کے لیے توڑ ہے، یعنی روزہ آدمی کی شہوت کو دبا اور کچل دیتا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں ”اسود“ راوی کا ذکر نہیں ہے۔
A’ishah wife of the Prophet (ﷺ) said “Marriage in pre Islamic times was of four kinds.” One of them was the marriage contracted by the people today. A man asked another man to marry his relative (sister or daughter) to him. He fixed the dower and married her to him. Another kind of marriage was that a man asked his wife when she became pure from menstruation to send fro so and so and have sexual intercourse with him. Her husband kept himself aloof and did not have intercourse with her till It became apparent that she was pregnant from the man who had intercourse with her. When it was manifest that she was pregnant, her husband approached her if he liked. This marriage was called istibda’(to …
محمد بن مسلم بن شہاب کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ زمانہ جاہلیت میں چار قسم کے نکاح ہوتے تھے: ایک تو ایسے ہی جیسے اس زمانے میں ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے پاس اس کی بہن یا بیٹی وغیرہ کے لیے نکاح کا پیغام دیتا ہے وہ مہر ادا کرتا ہے اور نکاح کر لیتا ہے۔ نکاح کی دوسری قسم یہ تھی کہ آدمی اپنی بیوی سے حیض سے پاک ہونے کے بعد کہہ دیتا کہ فلاں شخص کو بلوا لے، اور اس کا نطفہ حاصل کر لے پھر وہ شخص تب تک اپنی بیوی سے صحبت نہ کرتا جب تک کہ مطلوبہ شخص سے حمل نہ قرار پا جاتا، حمل ظاہر ہونے کے بعد ہی وہ چاہتا تو اس سے جماع کرتا، ایسا اس لیے کیا جاتا تھا تاکہ لڑکا نجیب ( عمدہ نسب کا ) ہو، اس نکاح کو نکاح استبضاع ( نطفہ حاصل کرنے کا نکاح …
Narrated 'Alqama:While I was with `Abdullah, `Uthman met him at Mina and said, "O Abu `Abdur-Rahman ! I have something to say to you." So both of them went aside and `Uthman said, "O Abu `Abdur-Rah. man! Shall we marry you to a virgin who will make you remember your past days?" When `Abdullah felt that he was not in need of that, he beckoned me (to join him) saying, "O 'Alqama!" Then I heard him saying (in reply to `Uthman), "As you have said that, (I tell you that) the Prophet (ﷺ) once said to us, 'O young people! Whoever among you is able to marry, should marry, and whoever is not able to marry, is recommended to fast, as fasting diminishes his sexual power
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ بن قیس نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ان سے عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں ملاقات کی اور کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! مجھے آپ سے ایک کام ہے پھر وہ دونوں تنہائی میں چلے گئے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ منظور کریں گے کہ ہم آپ کا نکاح کسی کنواری لڑکی سے کر دیں جو آپ کو گزرے ہوئے ایام یاد دلا دے۔ چونکہ عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے اس لیے انہوں نے مجھے اشارہ کیا اور کہا: علقمہ! میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ کا یہ مشورہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے …
Narrated `Abdur-Rahman bin `Auf:I got an agreement written between me and Umaiya bin Khalaf that Umaiya would look after my property (or family) in Mecca and I would look after his in Medina. When I mentioned the word 'Ar-Rahman' in the documents, Umaiya said, "I do not know 'Ar-Rahman.' Write down to me your name, (with which you called yourself) in the Pre-Islamic Period of Ignorance." So, I wrote my name ' `Abdu `Amr'. On the day (of the battle) of Badr, when all the people went to sleep, I went up the hill to protect him. Bilal(1) saw him (i.e. Umaiya) and went to a gathering of Ansar and said, "(Here is) Umaiya bin Khalaf! Woe to me if he escapes!" So, a group of Ansar went out with …
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یوسف بن ماجشون نے بیان کیا، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ان کے باپ نے، اور ان سے صالح کے دادا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے امیہ بن خلف سے یہ معاہدہ اپنے اور اس کے درمیان لکھوایا کہ وہ میرے بال بچوں یا میری جائیداد کی جو مکہ میں ہے، حفاظت کرے اور میں اس کی جائیداد کی جو مدینہ میں ہے حفاظت کروں۔ جب میں نے اپنا نام لکھتے وقت رحمان کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ میں رحمن کو کیا جانوں۔ تم اپنا وہی نام لکھواؤ جو زمانہ جاہلیت میں تھا۔ چنانچہ میں نے عبد عمرو لکھوایا۔ بدر کی لڑائی کے موقع پر میں ایک پہاڑ کی طرف گیا تاکہ لوگوں سے آنکھ بچا کر اس کی حفاظت کر سکوں، لیکن بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور …
PickthallAnd verily We have sent down for you revelations that make plain, and the example of those who passed away before you. An admonition unto those who ward off (evil).
Yusuf AliWe have already sent down to you verses making things clear, an illustration from (the story of) people who passed away before you, and an admonition for those who fear (Allah).
The agreed readingClear signs have been sent down to you, and with them a case drawn from the lives of those who passed away before, and a warning for those who guard themselves.
Urduاور ہم نے تمہاری طرف اس سورت میں ایسی آیات نازل کیں جن کے معنی واضح اور احکام روشن ہیں، اور ان لوگوں کی مثال بھی جو تم سے پہلے گزر چکے اور ان پر جو گزرا، اور یہ سب متقی لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔
Arabicولقد أنزلنا إليكم في هذه السورة آيات واضحات المعنى مبينات الأحكام، ومثلا مضروبا من أخبار الأمم الذين مضوا قبلكم وما جرى لهم، وموعظة يتعظ بها المتقون الذين يخافون الله.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from Muhammad ibn ‘Isa from Yunus from Hisham ibn al-Hakam who has said the following: “He (the Imam) (a.s.), has said, ‘Allah, most High has made marriage lawful on the basis of His servants’ ability to pay mahr (dower) and their ability to provide maintenance, so He has said, “Marry whomever of women you like, two, three or four and if you fear of failure to maintain justice then marry only one or a slave-girl that you own.” (4:3) Allah has also said, “Anyone of you who is not able to pay mahr (dower) to marry chaste believing woman he can marry of the slave-girls that you own of the young believing woman.” (4:128) Allah has said, “If you seek advantage …
علی بن ابراہیم نے محمد بن عیسیٰ سے روایت کی، انہوں نے یونس سے، انہوں نے ہشام بن الحکم سے، کہا: امام (علیہ السلام) نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نکاح کو بندوں کی طاقت کے لحاظ سے حلال کیا ہے - مہر دینے کی طاقت اور نفقہ دینے کی صلاحیت میں۔ اس لیے فرماتے ہیں: تم جو عورتیں پسند کرو ان سے نکاح کرو، دو دو، تین تین، چار چار۔ اور اگر تمہیں خوف ہو کہ انصاف نہ کر سکو تو ایک سے، یا جو تمہارے ہاتھ میں لونڈیاں ہوں۔ اور فرماتے ہیں: اور جو تم میں سے اتنا مالدار نہ ہو کہ مومن عورتوں سے نکاح کر سکے تو تمہاری مومن لونڈیوں میں سے۔ اور فرماتے ہیں: تو جو فائدہ تم ان سے اٹھاؤ تو انہیں ان کی مزدوری دو، ایک مقررہ فریضے کے طور پر۔ اور کوئی گناہ نہیں تمہاری طرف اس میں کہ جس پر تم آپس میں رضا مندی سے طے کرو۔ پس اللہ نے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that:Alqamah bin Qais said: “I was with Abdullah bin Masud in Mina, and Uthman took him aside. I was sitting near him. Uthman said to him: 'Would you like that I marry you to a young virgin who will remind you of how you were in the past?' When Abdullah saw that he did not say anything to him apart from that, he gestured to me, so I came and he said: 'As you say that the Messenger of Allah said “O young men, whoever among you can afford it, let him get married, for it is more effective in lowering the gaze and guarding one's chastity. Whoever cannot afford it, let him fast, for it will diminish his desire.” ' ”
علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں تھا، تو عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لے کر تنہائی میں گئے، میں ان کے قریب بیٹھا تھا، عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے کرا دوں جو آپ کو ماضی کے حسین لمحات کی یاد دلا دے؟ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ ان سے اس کے علاوہ کوئی راز کی بات نہیں کہنا چاہتے، تو انہوں نے مجھ کو قریب آنے کا اشارہ کیا، میں قریب آ گیا، اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے: اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شخص نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو وہ شادی کر لے، اس لیے کہ اس سے نگاہیں زیادہ …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ .
It was narrated from Abu Mas'ud that :the Prophet (ﷺ) forbade the price of a dog, the payment (given to a prostitute) and the payment made to a soothsayer
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا ہے۱؎۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"There are three, all of whom have a promise of help from Allah: 'The Mujahid who strives in the cause of Allah, the Mighty and Sublime; the man who gets married, seeking to keep himself chaste; and the slave who has a contract of manumission and wants to buy his freedom
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگ ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق اور واجب ہے، ( ایک ) اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا ( دوسرا ) ایسا نکاح کرنے والا، جو نکاح کے ذریعہ پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو ( تیسرا ) وہ مکاتب ۱؎ جو مکاتبت کی رقم ادا کر کے آزاد ہو جانے کی کوشش کر رہا ہو“۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2563) Sahih Muslim (1504)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2563) Sahih Muslim (1504)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2563) Sahih Muslim (1504)
Aishah said:Barirah came seeking my help to purchase her freedom. She said: I have arranged with my people to buy my freedom for nine 'uqiyahs: one to be paid annually. So help me. She ('Aishah) said: If your people are willing that I should count them ('uqiyahs) out to them all at one time and set you free and that I shall have the right to inherit from you, I shall do so. She then went to her people. The narrator then transmitted the rest of the tradition like the version of al-Zuhri. He added to the wordings of the Prophet (ﷺ) in the last: What is the matter with people that one of you says: Set free, O so-and-so, and the right of inheritance belongs to me. The right of inheritance …
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہو گی ؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا ( کیسی لغو بات ہے ) ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ، مُكَاتَبِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ كَانَ لإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ " .
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) said to us: If one of you has a slave, and he enters into an agreement to purchase his freedom, and can pay the full price, she must veil herself from him
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب غلام نبھان کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب تم عورتوں میں سے کسی کا کوئی مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنا بدل کتابت ادا کر لے جائے تو تمہیں اس سے پردہ کرنا چاہیئے ( کیونکہ اب وہ آزاد کی طرح ہے ) ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2661، 2717) Sahih Muslim (1504)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2661، 2717) Sahih Muslim (1504)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2661، 2717) Sahih Muslim (1504)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ . فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلاَؤُكِ . فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي …
Urwah quoting from 'Aishah said that Barirah came to her seeking her help to purchase her freedom, and she did not pay anything for her freedom. 'Aishah said to her:Return to your people ; if you like that I make payment for the purchase of your freedom on your behalf and I shall have the right to inherit from you, I shall do so. Barirah mentioned it to her people, but they refused and said: If she wants to purchase your freedom for reward from Allah, she may do so, but the right to inherit from her shall be ours. She mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said: Purchase her (freedom) and set her free, for the right of inheritance belongs to only to the one …
عروہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں ابھی اس میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اپنے آدمیوں سے جا کر پوچھ لو اگر انہیں یہ منظور ہو کہ تمہارا بدل کتابت ادا کر کے تمہاری ولاء ۱؎ میں لے لوں تو میں یہ کرتی ہوں، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے آدمیوں سے جا کر اس کا ذکر کیا تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کیا اور کہا: اگر وہ اسے ثواب کی نیت سے کرنا چاہتی ہیں تو کریں، تمہاری ولاء ہماری ہی ہو گی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: تم خرید کر اسے آزاد کر دو ولاء تو اسی کی ہو گی جو …
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي نَبْهَانُ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ مَيْمُونَةُ فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " احْتَجِبَا مِنْهُ " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَعْمَى لاَ يُبْصِرُنَا وَلاَ يَعْرِفُنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا لأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً أَلاَ تَرَى إِلَى اعْتِدَادِ فَاطِمَةَ …
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: I was with the Messenger of Allah (ﷺ) while Maymunah was with him. Then Ibn Umm Maktum came. This happened when we were ordered to observe veil (purdah). The Prophet (ﷺ) said: Observe veil from him. We asked: Messenger of Allah! is he not blind? He can neither see us nor recognise us. The Prophet (ﷺ) said: Are both of you blind? Do you not see him? AbuDawud said: This was peculiar to the wives of the Prophet (ﷺ). Do you not see that Fatimah daughter of Qays passed her waiting period with Ibn Umm Maktum. The Prophet (ﷺ) said to Fatimah daughter of Qays: Pass your waiting period with Ibn Umm Maktum, for he is a blind man. You can put off your clothes with …
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم …
Narrated Al-Harith Al-A'war:"I passed by the Masjid when the people were absorbed in story-telling. So I entered upon 'Ali and said: 'O Commander of the believers! Do you not see the people are becoming engrossed in story-telling?' He said: 'They have been consumed with it?' I said: "Yes.' He said: 'As for me, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "Indeed there comes a Fitnah" So I said: "What is the way out from it O Messenger of Allah?" He said: "Allah's book. In it is news for what happened before you, and information about what comes after you, and judgement for what happens between you. It is the Criterion (between right and wrong) without jest. Whoever among the oppressive …
حارث اعور کہتے ہیں کہ مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں، میں علی رضی الله عنہ کے پاس پہنچا۔ میں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں؟ ۔ انہوں نے کہا: کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: مگر میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب کوئی فتنہ برپا ہو گا“، میں نے کہا: اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہو گی؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان کے امور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے، اور وہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے۔ …
PickthallAllah is the Light of the heavens and the earth. The similitude of His light is as a niche wherein is a lamp. The lamp is in a glass. The glass is as it were a shining star. (This lamp is) kindled from a blessed tree, an olive neither of the East nor of the West, whose oil would almost glow forth (of itself) though no fire touched it. Light upon light. Allah guideth unto His light whom He will. And Allah speaketh to mankind in allegories, for Allah is Knower of all things.
Yusuf AliAllah is the Light of the heavens and the earth. The Parable of His Light is as if there were a Niche and within it a Lamp: the Lamp enclosed in Glass: the glass as it were a brilliant star: Lit from a blessed Tree, an Olive, neither of the east nor of the west, whose oil is well-nigh luminous, though fire scarce touched it: Light upon Light! Allah doth guide whom He will to His Light: Allah doth set forth Parables for men: and Allah doth know all things.
The agreed readingGod is the light of the heavens and the earth. His light is set out in a comparison: a niche holding a lamp, the lamp inside glass, and the glass like a shining star; the lamp fed from a blessed olive tree belonging to no one quarter, neither east nor west, whose oil is so clear it would almost give light of itself before any fire touched it. Light upon light. God guides to His light whom He wills, and He sets such comparisons before people, and He knows everything.
Urduاللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے جس کی روشنی سے ان کے رہنے والے ہدایت پاتے ہیں۔ اس کے نور کی مثال مومن کے دل میں ایسی ہے جیسے ایک طاق ہو جس میں چراغ رکھا ہو، وہ چراغ ایک شیشے کے اندر ہو، وہ شیشہ اپنی چمک کی وجہ سے گویا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہو، یہ چراغ زیتون کے ایک بابرکت درخت کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو نہ خالص مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف بلکہ دونوں طرف سے دھوپ لیتا ہے اس لیے اس کا تیل نہایت صاف ہے، اس کا تیل ایسا صاف ہے کہ آگ چھوئے بغیر بھی روشن ہونے کے قریب ہو، یعنی نور پر نور۔ اللہ اپنے جس بندے کو چاہے اس نور کی طرف ہدایت دیتا ہے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ ان کی سمجھ آسان ہو، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
Arabicالله هو نور السماوات والأرض الذي به يهتدي أهلهما. مثل نوره في قلب المؤمن كمشكاة، وهي التجويف الذي يوضع فيه المصباح، فيها مصباح، وذلك المصباح موضوع في زجاجة صافية، تلك الزجاجة كأنها كوكب مضيء لامع من صفائها، يوقد هذا المصباح من زيت شجرة مباركة هي شجرة الزيتون، لا هي في جهة الشرق فقط ولا في جهة الغرب فقط بل تصيبها الشمس من الجانبين فيصفو زيتها، يكاد زيتها من صفائه يضيء من نفسه ولو لم تمسسه نار، فهو نور فوق نور. يهدي الله لهذا النور من يشاء من عباده، ويضرب الله الأمثال للناس ليقربوا المعاني إلى أفهامهم، والله بكل شيء عليم لا يخفى عليه شيء منه.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Its obligation is recognised by those believers whom neither the adornment of property nor the coolness of the eyes produced by children can turn away from it. Allāh, the Glorified, says: “Men whom neither merchandise nor any sale diverteth from the remembrance of Allah and constancy in prayer and paying the poor-rate; ...” (Qur’ān, 24:37)
اور بیشک اللہ کے حق کو مومن لوگوں کی ایک جماعت نے سمجھا ہے - جنہیں مال کی زینت ان سے منحرف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اولاد اور مال کی خوشی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رجال ہیں جنہیں تجارت اور بیع و شراء اللہ کی یاد سے اور نماز کے قیام سے اور زکاۃ کی ادائیگی سے منحرف نہیں کرتے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Ibn `Abbas:Whenever the Prophet (ﷺ) offered his Tahajjud prayer, he would say, "O Allah, our Lord! All the praises are for You; You are the Keeper (Establisher or the One Who looks after) of the Heavens and the Earth. All the Praises are for You; You are the Light of the Heavens and the Earth and whatever is therein. You are the Truth, and Your saying is the Truth, and Your promise is the Truth, and the meeting with You is the Truth, and Paradise is the Truth, and the (Hell) Fire is the Truth. O Allah! I surrender myself to You, and believe in You, and I put my trust in You (solely depend upon). And to You I complain of my opponents and with Your Evidence I argue. So please forgive …
مجھ سے ثابت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے سلیمان احول نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تہجد کی نماز میں یہ دعا کرتے تھے «اللهم ربنا لك الحمد، أنت قيم السموات والأرض، ولك الحمد أنت رب السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن، أنت الحق، وقولك الحق، ووعدك الحق، ولقاؤك الحق، والجنة حق، والنار حق، والساعة حق، اللهم لك أسلمت، وبك آمنت، وعليك توكلت، وإليك خاصمت، وبك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت …
Abu Al-Aliyah narrated from Ubayy bin Ka’b:“The idolaters were saying to the Messenger of Allah: ‘Name the lineage of your Lord for us.’ So Allah, Most High, revealed: Say: “He is Allah, the One. Allah As-Samad.” So As-Samad is ‘the One Who does not beget, nor is He begotten,’ because there is nothing born except it will die, and there is nothing that dies except that it will be inherited from, and verily. Allah, the Mighty and Sublime, does not die, nor is He inherited from. ‘And there is none comparable to Him.’ He said: ‘There is nothing similar to Him, nor equal to Him, nor is there anything like Him.’”
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے «قل هو الله أحد الله الصمد» ”کہہ دیجئیے اللہ اکیلا ہے، اللہ بے نیاز ہے“ ( الاخلاص: ۱-۲ ) ، نازل فرمائی، اور «صمد» وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہو، اس لیے ( اصول یہ ہے کہ ) جو بھی کوئی چیز پیدا ہو گی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرے گی اس کا وارث ہو گا، اور اللہ عزوجل کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو گا، «ولم يكن له كفوا أحد» ”اور نہ اس کا کوئی «کفو» ( ہمسر ) ہے“، راوی کہتے ہیں: «کفو» یعنی اس کے مشابہ اور برابر کوئی نہیں ہے، اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔
It was narrated that Ibn `Abbas said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Tahajjud at night, he would say: “Allahumma lakal-hamd, Anta nurus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Anta qayyamus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Anta malikus- samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Antal-haqq, wa wa`duka haqq, wa liqa’uka haqq, wa qawluka haqq, wal-jannatu haqq, wan-naru haqq, was-sa`atu haqq, wan-nabiyyuna haqq, wa Muhammadun haqq. Allahumma laka aslamtu, wa bika amantu, wa `alaika tawakkaltu wa ilaika anabtu, wa bika khasamtu, wa ilaika hakamtu, faghfirli ma qaddamtu wa ma akhkhartu, wa ma asrartu wa ma a`lantu. Antal-muqaddimu wa Antal-muakhkhiru. La …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت مالك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت الحق ووعدك حق ولقاؤك حق وقولك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا إله غيرك ولا حول ولا قوة إلا بك» اے اللہ! تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا نور ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کی تدبیر کرنے والا …
Narrated Ubayy b. Ka'b:An eclipse of the sun took place in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). The Prophet (ﷺ) led them in prayer. He recited one of the long surahs, bowing five times and prostrating himself twice. He then stood up for the second rak'ah, recited one of the long surahs, bowed five times, prostrated himself twice, then sat where he was facing the qiblah and made the supplication till the eclipse was over
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( دو رکعت ) پڑھائی تو آپ نے لمبی سورتوں میں سے ایک سورۃ کی قرآت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قرآت فرمائی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر قبلہ رخ بیٹھے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ گرہن چھٹ گیا۔
Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) set out with the intention of going to Suq `Ukaz (market of `Ukaz) along with some of his companions. At the same time, a barrier was put between the devils and the news of heaven. Fire commenced to be thrown at them. The Devils went to their people, who asked them, "What is wrong with you?" They said, "A barrier has been placed between us and the news of heaven. And fire has been thrown at us." They said, "The thing which has put a barrier between you and the news of heaven must be something which has happened recently. Go eastward and westward and see what has put a barrier between you and the news of heaven." Those who went towards Tihama came across …
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے ( شہاب ثاقب ) پھینکے جانے لگے تھے۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور ( جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو ) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس …
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ، كَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَإِذَا سَمِعَهُ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ} أَىْ بِقِرَاءَتِكَ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ، فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ، {وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} عَنْ أَصْحَابِكَ فَلاَ تُسْمِعُهُمْ {وَابْتَغِ بَيْنَ …
Narrated Ibn `Abbas:(regarding): 'Neither say your, prayer aloud, nor say it in a low tone.' (17.110) This Verse was revealed while Allah's Messenger (ﷺ) was hiding himself in Mecca. When he prayed with his companions, he used to raise his voice with the recitation of Qur'an, and if the pagans happened to hear him, they would abuse the Qur'an, the One who revealed it and the one who brought it. Therefore Allah said to His Prophet : 'Neither say your prayer aloud.' (17.110) i.e. do not recite aloud lest the pagans should hear you, but follow a way between
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم بن بشیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبشر نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» ”اور آپ نماز میں نہ تو بہت پکار کر پڑھئے اور نہ ( بالکل ) چپکے ہی چپکے“ کے متعلق فرمایا کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ( کافروں کے ڈر سے ) چھپے رہتے تو اس زمانہ میں جب آپ اپنے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے تو قرآن مجید کی تلاوت بلند آواز سے کرتے، مشرکین سنتے تو قرآن کو بھی گالی دیتے اور اس کے نازل کرنے والے اور اس کے لانے والے کو بھی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کہا کہ آپ نماز نہ تو بہت پکار کر پڑھیں ( یعنی قرآت خوب جہر کے ساتھ نہ کریں ) …
Pickthall(This lamp is found) in houses which Allah hath allowed to be exalted and that His name shall be remembered therein. Therein do offer praise to Him at morn and evening.
Yusuf Ali(Lit is such a Light) in houses, which Allah hath permitted to be raised to honour; for the celebration, in them, of His name: In them is He glorified in the mornings and in the evenings, (again and again),-
The agreed readingIn houses that God has allowed to be raised in honour and His name to be remembered in them, where He is declared free of all fault, morning and evening.
Urduیہ نور ایسے گھروں میں پایا جاتا ہے جن کو اللہ نے تعمیر اور تعظیم کی اجازت دی ہے اور جن میں اس کا نام یاد کیا جاتا ہے، ان میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کی جاتی ہے، اور ان گھروں سے مراد مساجد ہیں۔
Arabicهذا النور موجود في بيوت أذن الله وأمر أن ترفع بالبناء والتعظيم، ويذكر فيها اسمه بالعبادة والتلاوة، ينزه فيها الله عن كل نقص صباحا ومساء، وهذه البيوت هي المساجد.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 7 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة9 reports cited here — 7 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Rāzī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr, Ibn ʿĀshūr and Ṭanṭāwī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
ومن كلام له (عليه السلام) قاله عند تلاوته ﴿يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ. رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾
Delivered after reciting the verse: therein declare glory unto Him in the mornings and the evenings; Men whom neither merchandise nor any sale diverteth from the remembrance of Allah. (Qur’ān, 24:36-37)
اور ان کے کلام میں سے جو انہوں نے "﴿يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ. رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾" کو پڑھتے ہوئے کہا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Its obligation is recognised by those believers whom neither the adornment of property nor the coolness of the eyes produced by children can turn away from it. Allāh, the Glorified, says: “Men whom neither merchandise nor any sale diverteth from the remembrance of Allah and constancy in prayer and paying the poor-rate; ...” (Qur’ān, 24:37)
اور بیشک اللہ کے حق کو مومن لوگوں کی ایک جماعت نے سمجھا ہے - جنہیں مال کی زینت ان سے منحرف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اولاد اور مال کی خوشی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رجال ہیں جنہیں تجارت اور بیع و شراء اللہ کی یاد سے اور نماز کے قیام سے اور زکاۃ کی ادائیگی سے منحرف نہیں کرتے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (477) Sahih Muslim (649)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (477) Sahih Muslim (649)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (477) Sahih Muslim (649)
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Prayer said by a man in congregation is twenty five degrees more excellent than prayer said by him alone in his house or in the market. This is because when any of you performs ablution and does it perfectly, and goes out to the mosque having no intention except praying, and nothing moves him except prayer, then at every step which he takes his rank is elevated by one degree on account of this (walking), and one sin is remitted from him for this (walking), till he enters the mosque. When he enters the mosque, he will be reckoned as praying as long as he will be detained by the prayer. The angels keep on invoking blessing on any of …
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”باجماعت نماز گھر یا بازار میں اکیلے نماز (پڑھنے) کی بہ نسبت پچیس درجے زیادہ ہوتی ہے۔ وہ یوں کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور کامل اچھی طرح وضو کرے اور مسجد میں آئے اور اس کی نیت صرف نماز ہی ہو اور نماز ہی نے اسے اٹھایا ہو تو وہ جو قدم بھی اٹھائے گا اس سے اس کا ایک درجہ بلند ہو گا اور ایک غلطی معاف ہو گی حتیٰ کہ مسجد میں داخل ہو جائے۔ اور جب مسجد میں داخل ہو جائے تو وہ نماز میں شمار ہوتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھے۔ اور جب تک کوئی اپنی اس جگہ پر بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہو تو فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔“ اور ان کی یہ دعا …
It was narrated that 'Abdul-Malik bin Sa'eed said:"I heard Abu Humaid and Abu Usaid say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When any one of you enters the Masjid, let him say: 'Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of your mercy). And when he leaves let him say: Allahumma inni as'aluka min fadlik (O Allah, I ask You of Your bounty)
ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: «اللہم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے پڑھے، اور جب نکلے تو: «اللہم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں پڑھے ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ لْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ . وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ " .
It was narrated that Abu Humaid As-Sa'idi said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you enters the mosque, let him send peace upon the prophet, then let him say: "Allahummaftah li abwaba rahmatika (O Allah, open to me the gates of Your mercy)." And when he leaves, let him say: "Allahumma inni as'aluka min fadlika. (O Allah, I ask of you from Your bounty)
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے، پھر کہے:«اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ وَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Mesenger of Allah said: "When anyone of enters the mosque, let him send peace upon the Prophet, then let him say: 'Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of Your mercy).' And when he leaves, let him send peace upon the Prophet and say: 'Allahumma- simni minash-shaitanir-rajim (O Allah, protect me from the accursed Shaitan)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے اور کہے:«اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے، اور کہے: «اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم» اے اللہ! مردود شیطان سے میری حفاظت فرما ۱؎۔
Abu Usaid reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When any one of you enters the mosque, he should say:" O Allah! open for me the doors of Thy mercy" ; and when he steps out he should say: 'O Allah! I beg of Thee Thy Grace." (Imam Muslim said: I heard Yahya saying: I transcribed this hadith from the compilation of Sulaiman b. Bilal)
(یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں سلمان بن بلال نے ربعیہ بن عبدالرحمان سے خبر دی ، انھوں نے عبدالملک بن سعید سے ، اور انھوں نے حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ یا حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتو کہے "" اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ "" اے اللہ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔ اور جب مسجد سے نکلے تو کہے "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ "" اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتاہوں ۔ "" امام مسلم ؒ نے کہا : میں نے یحییٰ بن یحییٰ س سنا ، وہ کہتے تھے ، میں نے یہ حدیث سلیمان بن بلال کی کتاب سے لکھی ہے ، انھوں نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے ۔ کہ یحییٰ …
Narrated AbuUmamah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone goes out from his house after performing ablution for saying the prescribed prayer in congregation (in the mosque), his reward will be like that of one who goes for hajj pilgrimage after wearing ihram (robe worn by the hajj pilgrims). And he who goes out to say the mid-morning (duha) prayer, and takes the trouble for this purpose, will take the reward like that of a person who performs umrah. And a prayer followed by a prayer with no worldly talk during the gap between them will be recorded in Illiyyun
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کے لیے نکلے، تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کی طرح ہے، اور جو چاشت کی نماز کے لیے نکلے اور اسی کی خاطر تکلیف برداشت کرتا ہو تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کے ثواب کی طرح ہے، اور ایک نماز سے لے کر دوسری نماز کے بیچ میں کوئی لغو کام نہ ہو تو وہ علیین ۱؎میں لکھی جاتی ہے ۔
It was narrated that 'Umar bin Khattab said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever builds a mosque in which the Name of Allah is mentioned, Allah will build a house for him in Paradise
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔
PickthallMen whom neither merchandise nor sale beguileth from remembrance of Allah and constancy in prayer and paying to the poor their due; who fear a day when hearts and eyeballs will be overturned;
Yusuf AliBy men whom neither traffic nor merchandise can divert from the Remembrance of Allah, nor from regular Prayer, nor from the practice of regular Charity: Their (only) fear is for the Day when hearts and eyes will be transformed (in a world wholly new),-
The agreed readingBy men whom no trading and no sale can distract from remembering God, from establishing the prayer and from giving the zakat. They are in fear of a day on which hearts and eyes will be turned over.
Urduان مسجدوں میں ایسے مرد اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں ان کی تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر، نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی، اور وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن دل خوف سے کانپ اٹھیں گے اور آنکھیں شدت ہولناکی سے پلٹ جائیں گی۔
Arabicيسبح في هذه المساجد رجال لا تشغلهم تجارتهم ولا بيعهم عن ذكر الله وعن إقامة الصلاة بحدودها وعن أداء الزكاة المفروضة، وهم يخافون يوم القيامة، يوما تضطرب فيه القلوب من الخوف وتتحول فيه الأبصار من شدة الهول.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 7 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة9 reports cited here — 7 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you see someone selling or buying in the Masjid then say: 'May Allah not profit your business.' And when you see someone announcing about something lost then say: 'May Allah not return it to you.'" The Hadith of Abu Hurairah is Hasan Gharib. This is acted upon according to some of the people of knowledge. They dislike selling and buying in the Masjid. This is the view of Ahmad and Ishaq. Some of the people of knowledge permitted selling and buying in the Masjid
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں گمشدہ چیز ( کا اعلان کرتے ہوئے اسے ) تلاش کرتا ہو تو کہو: اللہ تمہاری چیز تمہیں نہ لوٹائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ مسجد میں خرید و فروخت ناجائز سمجھتے ہیں۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- بعض اہل علم نے اس میں خرید و فروخت کی رخصت دی ہے ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (477) Sahih Muslim (649)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (477) Sahih Muslim (649)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (477) Sahih Muslim (649)
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Prayer said by a man in congregation is twenty five degrees more excellent than prayer said by him alone in his house or in the market. This is because when any of you performs ablution and does it perfectly, and goes out to the mosque having no intention except praying, and nothing moves him except prayer, then at every step which he takes his rank is elevated by one degree on account of this (walking), and one sin is remitted from him for this (walking), till he enters the mosque. When he enters the mosque, he will be reckoned as praying as long as he will be detained by the prayer. The angels keep on invoking blessing on any of …
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”باجماعت نماز گھر یا بازار میں اکیلے نماز (پڑھنے) کی بہ نسبت پچیس درجے زیادہ ہوتی ہے۔ وہ یوں کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور کامل اچھی طرح وضو کرے اور مسجد میں آئے اور اس کی نیت صرف نماز ہی ہو اور نماز ہی نے اسے اٹھایا ہو تو وہ جو قدم بھی اٹھائے گا اس سے اس کا ایک درجہ بلند ہو گا اور ایک غلطی معاف ہو گی حتیٰ کہ مسجد میں داخل ہو جائے۔ اور جب مسجد میں داخل ہو جائے تو وہ نماز میں شمار ہوتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھے۔ اور جب تک کوئی اپنی اس جگہ پر بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہو تو فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔“ اور ان کی یہ دعا …
It was narrated that 'Umar bin Khattab said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever builds a mosque in which the Name of Allah is mentioned, Allah will build a house for him in Paradise
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔
Abu Usaid reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When any one of you enters the mosque, he should say:" O Allah! open for me the doors of Thy mercy" ; and when he steps out he should say: 'O Allah! I beg of Thee Thy Grace." (Imam Muslim said: I heard Yahya saying: I transcribed this hadith from the compilation of Sulaiman b. Bilal)
(یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں سلمان بن بلال نے ربعیہ بن عبدالرحمان سے خبر دی ، انھوں نے عبدالملک بن سعید سے ، اور انھوں نے حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ یا حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتو کہے "" اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ "" اے اللہ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔ اور جب مسجد سے نکلے تو کہے "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ "" اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتاہوں ۔ "" امام مسلم ؒ نے کہا : میں نے یحییٰ بن یحییٰ س سنا ، وہ کہتے تھے ، میں نے یہ حدیث سلیمان بن بلال کی کتاب سے لکھی ہے ، انھوں نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے ۔ کہ یحییٰ …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ وَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Mesenger of Allah said: "When anyone of enters the mosque, let him send peace upon the Prophet, then let him say: 'Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of Your mercy).' And when he leaves, let him send peace upon the Prophet and say: 'Allahumma- simni minash-shaitanir-rajim (O Allah, protect me from the accursed Shaitan)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے اور کہے:«اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے، اور کہے: «اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم» اے اللہ! مردود شیطان سے میری حفاظت فرما ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ لْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ . وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ " .
It was narrated that Abu Humaid As-Sa'idi said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you enters the mosque, let him send peace upon the prophet, then let him say: "Allahummaftah li abwaba rahmatika (O Allah, open to me the gates of Your mercy)." And when he leaves, let him say: "Allahumma inni as'aluka min fadlika. (O Allah, I ask of you from Your bounty)
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے، پھر کہے:«اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔
It was narrated that 'Abdul-Malik bin Sa'eed said:"I heard Abu Humaid and Abu Usaid say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When any one of you enters the Masjid, let him say: 'Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of your mercy). And when he leaves let him say: Allahumma inni as'aluka min fadlik (O Allah, I ask You of Your bounty)
ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: «اللہم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے پڑھے، اور جب نکلے تو: «اللہم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں پڑھے ۔
ومن كلام له (عليه السلام) قاله عند تلاوته ﴿يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ. رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾
Delivered after reciting the verse: therein declare glory unto Him in the mornings and the evenings; Men whom neither merchandise nor any sale diverteth from the remembrance of Allah. (Qur’ān, 24:36-37)
اور ان کے کلام میں سے جو انہوں نے "﴿يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ. رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾" کو پڑھتے ہوئے کہا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Its obligation is recognised by those believers whom neither the adornment of property nor the coolness of the eyes produced by children can turn away from it. Allāh, the Glorified, says: “Men whom neither merchandise nor any sale diverteth from the remembrance of Allah and constancy in prayer and paying the poor-rate; ...” (Qur’ān, 24:37)
اور بیشک اللہ کے حق کو مومن لوگوں کی ایک جماعت نے سمجھا ہے - جنہیں مال کی زینت ان سے منحرف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اولاد اور مال کی خوشی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رجال ہیں جنہیں تجارت اور بیع و شراء اللہ کی یاد سے اور نماز کے قیام سے اور زکاۃ کی ادائیگی سے منحرف نہیں کرتے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThat Allah may reward them with the best of what they did, and increase reward for them of His bounty. Allah giveth blessings without stint to whom He will.
Yusuf AliThat Allah may reward them according to the best of their deeds, and add even more for them out of His Grace: for Allah doth provide for those whom He will, without measure.
The agreed readingSo that God may repay them for the best of what they did and give them more besides out of His bounty. And God provides for whom He wills without keeping count.
Urduوہ یہ سب اس لیے کرتے ہیں تاکہ اللہ انہیں قیامت کے دن ان کے بہترین اعمال کا بہترین بدلہ دے، اور اپنے فضل سے اس پر مزید بھی عطا کرے، اور اللہ اپنے جس بندے کو چاہے بے حساب اور بے شمار رزق عطا کرتا ہے۔
Arabicيفعلون ذلك ليجزيهم الله يوم القيامة أحسن ثواب على أحسن ما عملوه من الأعمال، ويزيدهم فوق ذلك من فضله وكرمه تفضلا منه لا استحقاقا، والله يرزق من يشاء من عباده رزقا واسعا بغير حساب ولا تقدير.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 7 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة9 reports cited here — 7 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
It was narrated that 'Umar bin Khattab said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever builds a mosque in which the Name of Allah is mentioned, Allah will build a house for him in Paradise
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (477) Sahih Muslim (649)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (477) Sahih Muslim (649)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (477) Sahih Muslim (649)
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Prayer said by a man in congregation is twenty five degrees more excellent than prayer said by him alone in his house or in the market. This is because when any of you performs ablution and does it perfectly, and goes out to the mosque having no intention except praying, and nothing moves him except prayer, then at every step which he takes his rank is elevated by one degree on account of this (walking), and one sin is remitted from him for this (walking), till he enters the mosque. When he enters the mosque, he will be reckoned as praying as long as he will be detained by the prayer. The angels keep on invoking blessing on any of …
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”باجماعت نماز گھر یا بازار میں اکیلے نماز (پڑھنے) کی بہ نسبت پچیس درجے زیادہ ہوتی ہے۔ وہ یوں کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور کامل اچھی طرح وضو کرے اور مسجد میں آئے اور اس کی نیت صرف نماز ہی ہو اور نماز ہی نے اسے اٹھایا ہو تو وہ جو قدم بھی اٹھائے گا اس سے اس کا ایک درجہ بلند ہو گا اور ایک غلطی معاف ہو گی حتیٰ کہ مسجد میں داخل ہو جائے۔ اور جب مسجد میں داخل ہو جائے تو وہ نماز میں شمار ہوتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھے۔ اور جب تک کوئی اپنی اس جگہ پر بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہو تو فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔“ اور ان کی یہ دعا …
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you see someone selling or buying in the Masjid then say: 'May Allah not profit your business.' And when you see someone announcing about something lost then say: 'May Allah not return it to you.'" The Hadith of Abu Hurairah is Hasan Gharib. This is acted upon according to some of the people of knowledge. They dislike selling and buying in the Masjid. This is the view of Ahmad and Ishaq. Some of the people of knowledge permitted selling and buying in the Masjid
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں گمشدہ چیز ( کا اعلان کرتے ہوئے اسے ) تلاش کرتا ہو تو کہو: اللہ تمہاری چیز تمہیں نہ لوٹائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ مسجد میں خرید و فروخت ناجائز سمجھتے ہیں۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- بعض اہل علم نے اس میں خرید و فروخت کی رخصت دی ہے ۱؎۔
Abu Usaid reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When any one of you enters the mosque, he should say:" O Allah! open for me the doors of Thy mercy" ; and when he steps out he should say: 'O Allah! I beg of Thee Thy Grace." (Imam Muslim said: I heard Yahya saying: I transcribed this hadith from the compilation of Sulaiman b. Bilal)
(یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں سلمان بن بلال نے ربعیہ بن عبدالرحمان سے خبر دی ، انھوں نے عبدالملک بن سعید سے ، اور انھوں نے حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ یا حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتو کہے "" اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ "" اے اللہ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔ اور جب مسجد سے نکلے تو کہے "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ "" اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتاہوں ۔ "" امام مسلم ؒ نے کہا : میں نے یحییٰ بن یحییٰ س سنا ، وہ کہتے تھے ، میں نے یہ حدیث سلیمان بن بلال کی کتاب سے لکھی ہے ، انھوں نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے ۔ کہ یحییٰ …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ وَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Mesenger of Allah said: "When anyone of enters the mosque, let him send peace upon the Prophet, then let him say: 'Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of Your mercy).' And when he leaves, let him send peace upon the Prophet and say: 'Allahumma- simni minash-shaitanir-rajim (O Allah, protect me from the accursed Shaitan)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے اور کہے:«اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے، اور کہے: «اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم» اے اللہ! مردود شیطان سے میری حفاظت فرما ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ لْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ . وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ " .
It was narrated that Abu Humaid As-Sa'idi said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you enters the mosque, let him send peace upon the prophet, then let him say: "Allahummaftah li abwaba rahmatika (O Allah, open to me the gates of Your mercy)." And when he leaves, let him say: "Allahumma inni as'aluka min fadlika. (O Allah, I ask of you from Your bounty)
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے، پھر کہے:«اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔
It was narrated that 'Abdul-Malik bin Sa'eed said:"I heard Abu Humaid and Abu Usaid say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When any one of you enters the Masjid, let him say: 'Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of your mercy). And when he leaves let him say: Allahumma inni as'aluka min fadlik (O Allah, I ask You of Your bounty)
ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: «اللہم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے پڑھے، اور جب نکلے تو: «اللہم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں پڑھے ۔
ومن كلام له (عليه السلام) قاله عند تلاوته ﴿يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ. رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾
Delivered after reciting the verse: therein declare glory unto Him in the mornings and the evenings; Men whom neither merchandise nor any sale diverteth from the remembrance of Allah. (Qur’ān, 24:36-37)
اور ان کے کلام میں سے جو انہوں نے "﴿يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ. رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾" کو پڑھتے ہوئے کہا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Its obligation is recognised by those believers whom neither the adornment of property nor the coolness of the eyes produced by children can turn away from it. Allāh, the Glorified, says: “Men whom neither merchandise nor any sale diverteth from the remembrance of Allah and constancy in prayer and paying the poor-rate; ...” (Qur’ān, 24:37)
اور بیشک اللہ کے حق کو مومن لوگوں کی ایک جماعت نے سمجھا ہے - جنہیں مال کی زینت ان سے منحرف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اولاد اور مال کی خوشی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رجال ہیں جنہیں تجارت اور بیع و شراء اللہ کی یاد سے اور نماز کے قیام سے اور زکاۃ کی ادائیگی سے منحرف نہیں کرتے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAs for those who disbelieve, their deeds are as a mirage in a desert. The thirsty one supposeth it to be water till he cometh unto it and findeth it naught, and findeth, in the place thereof, Allah Who payeth him his due; and Allah is swift at reckoning.
Yusuf AliBut the Unbelievers,- their deeds are like a mirage in sandy deserts, which the man parched with thirst mistakes for water; until when he comes up to it, he finds it to be nothing: But he finds Allah (ever) with him, and Allah will pay him his account: and Allah is swift in taking account.
The agreed readingAnd those who refuse - their deeds are like a mirage on flat ground, which a thirsty man takes for water until he comes to it and finds nothing there. What he finds is God, who settles his account in full. And God is swift at the reckoning.
Urduاور جو لوگ کافر ہیں ان کے اعمال جنہیں وہ فائدہ مند سمجھتے تھے ایسے ہیں جیسے کسی ہموار میدان میں سراب، جسے پیاسا آدمی دور سے پانی سمجھتا ہے، یہاں تک کہ جب وہاں پہنچتا ہے تو اسے کچھ نہیں پاتا، بلکہ اس کے بجائے وہاں اللہ کا حساب اور فیصلہ پاتا ہے، تو اللہ اسے اس کا پورا بدلہ دیتا ہے۔ اور اللہ اپنے بندوں کا حساب لینے میں بہت جلدی کرنے والا ہے۔
Arabicوأما الذين كفروا فإن أعمالهم التي حسبوها نافعة لهم كسراب في أرض مستوية يظنه العطشان من بعيد ماء، حتى إذا وصل إليه لم يجد شيئا منه، ووجد بدلا من ذلك حكم الله وحسابه هناك حاضرا، فيوفيه الله جزاءه كاملا. والله سريع في محاسبة عباده لا يستغرق ذلك منه وقتا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Al-Aliyah narrated from Ubayy bin Ka’b:“The idolaters were saying to the Messenger of Allah: ‘Name the lineage of your Lord for us.’ So Allah, Most High, revealed: Say: “He is Allah, the One. Allah As-Samad.” So As-Samad is ‘the One Who does not beget, nor is He begotten,’ because there is nothing born except it will die, and there is nothing that dies except that it will be inherited from, and verily. Allah, the Mighty and Sublime, does not die, nor is He inherited from. ‘And there is none comparable to Him.’ He said: ‘There is nothing similar to Him, nor equal to Him, nor is there anything like Him.’”
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے «قل هو الله أحد الله الصمد» ”کہہ دیجئیے اللہ اکیلا ہے، اللہ بے نیاز ہے“ ( الاخلاص: ۱-۲ ) ، نازل فرمائی، اور «صمد» وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہو، اس لیے ( اصول یہ ہے کہ ) جو بھی کوئی چیز پیدا ہو گی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرے گی اس کا وارث ہو گا، اور اللہ عزوجل کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو گا، «ولم يكن له كفوا أحد» ”اور نہ اس کا کوئی «کفو» ( ہمسر ) ہے“، راوی کہتے ہیں: «کفو» یعنی اس کے مشابہ اور برابر کوئی نہیں ہے، اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔
Narrated Ubayy b. Ka'b:An eclipse of the sun took place in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). The Prophet (ﷺ) led them in prayer. He recited one of the long surahs, bowing five times and prostrating himself twice. He then stood up for the second rak'ah, recited one of the long surahs, bowed five times, prostrated himself twice, then sat where he was facing the qiblah and made the supplication till the eclipse was over
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( دو رکعت ) پڑھائی تو آپ نے لمبی سورتوں میں سے ایک سورۃ کی قرآت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قرآت فرمائی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر قبلہ رخ بیٹھے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ گرہن چھٹ گیا۔
PickthallOr as darkness on a vast, abysmal sea. There covereth him a wave, above which is a wave, above which is a cloud. Layer upon layer of darkness. When he holdeth out his hand he scarce can see it. And he for whom Allah hath not appointed light, for him there is no light.
Yusuf AliOr (the Unbelievers' state) is like the depths of darkness in a vast deep ocean, overwhelmed with billow topped by billow, topped by (dark) clouds: depths of darkness, one above another: if a man stretches out his hands, he can hardly see it! for any to whom Allah giveth not light, there is no light!
The agreed readingOr their deeds are like layers of darkness in a deep sea: a wave over him, and a wave above that, and cloud above that - darkness piled on darkness, so that a man putting out his own hand can barely see it. And whoever God has given no light has no light at all.
Urduیا ان کے اعمال ایسے تاریک ہیں جیسے ایک گہرے سمندر کی تہ در تہ اندھیریاں ہوں جسے موج ڈھانپے ہوئے ہو، اس موج کے اوپر ایک اور موج ہو، اور ان دونوں موجوں کے اوپر گہرا بادل ہو، یہ سب اندھیرے ایک دوسرے کے اوپر ہوں، یہاں تک کہ آدمی اگر اپنا ہاتھ نکالے تو اس شدید تاریکی میں اسے دیکھ ہی نہ سکے۔ اور جسے اللہ نور نہ دے تو اس کے لیے دنیا میں ہدایت کا اور آخرت میں نجات کا کوئی نور نہیں۔
Arabicأو تكون أعمالهم كظلمات متراكمة في بحر عميق يغطيه موج، من فوق ذلك الموج موج آخر، ومن فوق الموجين سحاب كثيف، ظلمات بعضها فوق بعض، حتى إن الرجل إذا أخرج يده في هذا الظلام الشديد لم يكد يراها من شدة الظلمة. ومن لم يجعل الله له نورا يهتدي به في الدنيا فما له من نور يهديه في الدين أو في الآخرة.
PickthallHast thou not seen that Allah, He it is Whom all who are in the heavens and the earth praise, and the birds in their flight? Of each He knoweth verily the worship and the praise; and Allah is Aware of what they do.
Yusuf AliSeest thou not that it is Allah Whose praises all beings in the heavens and on earth do celebrate, and the birds (of the air) with wings outspread? Each one knows its own (mode of) prayer and praise. And Allah knows well all that they do.
The agreed readingHave you not seen that everyone in the heavens and the earth declares God free of fault, and the birds too, with their wings spread out? Each one of them knows its own prayer and its own way of praising. And God knows what they do.
Urduکیا تم نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی تسبیح کرتا ہے، اور پرندے بھی جو اپنے پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں؟ ہر ایک مخلوق کو اللہ نے اس کی اپنی نماز اور اپنی تسبیح کا طریقہ سکھا رکھا ہے، اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جاننے والا ہے۔
Arabicأولم تعلم أن الله ينزهه عن كل نقص كل من في السماوات والأرض بلسان الحال أو المقال، والطيور أيضا وهي باسطة أجنحتها في الجو؟ كل واحد من هذه المخلوقات قد علمه الله كيفية صلاته وتسبيحه الخاص به، والله عليم بجميع ما يفعلونه من عبادة وتسبيح.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Abi Unaysa that Abd al-Hamid ibn Abd ar-Rahman ibn Zayd ibn al-Khattab informed him from Muslim ibn Yasar al-Juhani that Umar ibn al-Khattab was asked about this ayat - "When your Lord took their progeny from the Banu Adam from their backs and made them testify against themselves. 'Am I not your Lord?' They said, 'Yes, we bear witness' Lest you should say on the Day of Rising, 'We were heedless of that.'" (Sura 7 ayat 172) Umar ibn al-Khattab said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, being asked about it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'Allah, the Blessed, the Exalted, …
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال ہوا اس آیت کے متعلق یعنی یاد کر اس وقت کو جب تیرے پروردگار نے آدم کی پیٹھ سے ان کی تمام اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ کیا ان پر اس بات کا کیا میں نہیں ہوں پروردگار تمہارا، بولے کیوں نہیں تو پروردگار ہے ہمارا، ہم نے اس واسطے گواہ کیا کہ کہیں ایسا نہ کہو تم قیامت کے روز کہ ہم تو اس سے غافل تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی اس آیت کی تفسیر کا سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ جل جلالہ نے آدم کو پیدا کیا پھر ان میں اپنا داہنا ہاتھ پھیرا اور اولاد نکالی اور فرمایا میں نے ان کو جنت کے لئے پیدا کیا اور یہ لوگ جنیتوں کے کام کریں گے پھر بایاں ہاتھ پھیرا ان کی پیٹھ …
Narrated Muslim bin Yasar Al-Juhani:that 'Umar bin Al-Khattab was asked about this Ayah: And when your Lord brought forth from the Children of Adam, from their loins, their seed and made them testify as to themselves: "Am I not your Lord?" They said: "Yes! We testify," lest you should say on the Day of Resurrection: 'Verily, we have been unaware of this (7:172).'" So 'Umar bin Al-Khattab said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) being asked about it. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed Allah created Adam, then He wiped his back with His Right Hand, and his offspring came out of him. So he said: "I created these for Paradise, and they will do the deeds of the people of Paradise." …
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے آیت «وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذريتهم وأشهدهم على أنفسهم ألست بربكم قالوا بلى شهدنا أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين» ۱؎ کا مطلب پوچھا گیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ سے اسی آیت کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ نے آدم کو پیدا کیا پھر اپنا داہنا ہاتھ ان کی پیٹھ پر پھیرا اور ان کی ایک ذریت ( نسل ) کو نکالا، اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ جنت ہی کا کام کریں گے، پھر ( دوبارہ ) ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور وہاں سے ایک ذریت ( ایک نسل ) نکالی اور کہا کہ میں نے انہیں جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اور جہنمیوں کا کام کریں گے“۔ ایک …
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"There were kings after 'Isa bin Mariam who altered the Tawrah and the Injil, but there were among them believers who read the Tawrah. It was said to their kings: 'We have never heard of any slander worse than that of those (believers) who slander us and recite: "And whosoever does not judge by what Allah has revealed, such are the disbelievers." In these Verses, they are criticizing us for our deeds when they recite them.' So he called them together and gave them the choice between being put to death, or giving up reading the Tawrah and Injil, except for what had been altered. They said: 'Why do you want us to change? Leave us alone.' Some of them said: …
الحسين بن حریث نے ہمیں خبر دی، انہوں نے الفضل بن موسیٰ سے کہا، انہوں نے سفیان بن سعید سے، انہوں نے عطاء بن السائب سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، ابن عباس سے کہا: عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے بعد بادشاہ تھے جنہوں نے تورات اور انجیل میں تبدیلیاں کیں۔ لیکن ان میں سے کچھ مومن تھے جو تورات پڑھتے تھے۔ ان کے بادشاہوں سے کہا گیا: ہم نے ان سے بدتر کوئی گالی نہیں سنی جو ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور یہ آیت پڑھتے ہیں: اور جو اللہ کے نازل کردہ سے حکم نہ دے تو وہ کافروں میں سے ہیں۔ یہ آیات ہیں اور ہمارے اعمال پر نکیر ہے۔ تو انہوں نے انہیں جمع کیا اور انہیں موت یا تورات اور انجیل پڑھنا چھوڑ دینے کے علاوہ جو انہوں نے تبدیل کیا ہے اس کا انتخاب دیا۔ انہوں نے کہا: تم ہمسے کیا چاہتے ہو؟ ہمیں تنہا چھوڑ دو۔ ان میں …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd unto Allah belongeth the Sovereignty of the heavens and the earth, and unto Allah is the journeying.
Yusuf AliYea, to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth; and to Allah is the final goal (of all).
The agreed readingAnd the kingdom of the heavens and the earth is God's - the stores of the rain and the provision and the growing are His - and the journey ends with Him.
Urduاور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت صرف اللہ ہی کی ہے، بارش اور رزق اور روئیدگی کے سارے خزانے اسی کے ہاتھ میں ہیں، اور سب کو آخرکار اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
Arabicولله وحده ملك السماوات والأرض وما فيهما من مخلوقات، فخزائن المطر والرزق والنبات وكل شيء كلها بيده سبحانه يتصرف فيها كيف يشاء، وإلى الله وحده المرجع والمصير يوم القيامة لا إلى أحد سواه.
PickthallHast thou not seen how Allah wafteth the clouds, then gathereth them, then maketh them layers, and thou seest the rain come forth from between them; He sendeth down from the heaven mountains wherein is hail, and smiteth therewith whom He will, and averteth it from whom He will. The flashing of His lightning all but snatcheth away the sight.
Yusuf AliSeest thou not that Allah makes the clouds move gently, then joins them together, then makes them into a heap? - then wilt thou see rain issue forth from their midst. And He sends down from the sky mountain masses (of clouds) wherein is hail: He strikes therewith whom He pleases and He turns it away from whom He pleases, the vivid flash of His lightning well-nigh blinds the sight.
The agreed readingHave you not seen how God drives the clouds along, then joins the scattered pieces into one, then piles them up, and then the rain comes out from the middle of them? And He sends down out of the sky what the commentaries describe as mountains of cloud with hail in them, and strikes with it whom He wills and turns it away from whom He wills. The flash of His lightning almost takes the sight away.
Urduکیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کس طرح بکھرے ہوئے بادلوں کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر ان کے ٹکڑوں کو آپس میں جوڑ دیتا ہے، پھر انہیں ایک دوسرے کے اوپر تہ در تہ بنا دیتا ہے، تو تم دیکھتے ہو کہ بارش اسی جمع شدہ بادل کے درمیان سے نکلتی ہے؟ اور اللہ آسمان سے پہاڑوں جیسے بادلوں میں سے اولے نازل کرتا ہے، پھر جسے چاہے اس سے پہنچاتا ہے اور جسے چاہے اس سے بچا لیتا ہے۔ اور اس کی بجلی کی چمک اپنی شدت سے آنکھوں کی روشنی تقریبا چھین لیتی ہے۔
Arabicأولم تر كيف يسوق الله السحاب المتفرق برفق، ثم يجمع بين أجزائه المتناثرة، ثم يجعله متراكما بعضه فوق بعض، فترى المطر يخرج من خلال ذلك السحاب المتراكم؟ وينزل الله من السماء ما يشبه الجبال من السحاب فيه برد، فيصيب بهذا البرد من يشاء من عباده ويصرفه عمن يشاء منهم. ويكاد ضوء برقه الشديد يخطف الأبصار من شدة لمعانه.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If the din were at the Pleiades, even then a person from Persia would have taken hold of it, or one amongst the Persian descent would have surely found it
یزید بن اصم جزری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اگر دین ثریا پر ہوتا تب بھی فارس کا کوئی شخص ۔ ۔ ۔ یا آپ نے فرمایا ۔ ۔ ۔ فرزندان فارس میں سے کوئی شخص اس تک پہنچتا اور اسے حاصل کرلیتا ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ،. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ لاَ تَمُرَّ عَلَىَّ ثَلاَثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَىْءٌ، إِلاَّ شَيْئًا أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Apostle said, "If I had gold equal to the mountain of Uhud, it would not please me that anything of it should remain with me after three nights (i.e., I would spend all of it in Allah's Cause) except what I would keep for repaying debts
مجھ سے احمد بن شبیب نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے اس میں خوشی ہو گی کہ تین دن بھی مجھ پر اس حال میں نہ گزرنے پائیں کہ اس میں سے میرے پاس کچھ بھی باقی بچے۔ البتہ اگر کسی کا قرض دور کرنے کے لیے کچھ رکھ چھوڑوں تو یہ اور بات ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا يَسُرُّنِي أَنْ لاَ يَمُرَّ عَلَىَّ ثَلاَثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ شَىْءٌ، إِلاَّ شَىْءٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ ". رَوَاهُ صَالِحٌ وَعُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If I had gold equal to the mountain of Uhud, it would not please me that it should remain with me for more than three days, except an amount which I would keep for repaying debts
ہم سے احمد بن شبیب بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے کہ ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تب بھی مجھے یہ پسند نہیں کہ تین دن گزر جائیں اور اس ( سونے ) کا کوئی حصہ میرے پاس رہ جائے۔ سوا اس کے جو میں کسی قرض کے دینے کے لیے رکھ چھوڑوں۔ اس کی روایت صالح اور عقیل نے زہری سے کی ہے۔
PickthallAllah causeth the revolution of the day and the night. Lo! herein is indeed a lesson for those who see.
Yusuf AliIt is Allah Who alternates the Night and the Day: verily in these things is an instructive example for those who have vision!
The agreed readingGod turns the night and the day about, bringing each of them in place of the other. In that turning there is a lesson for those who have eyes to see with.
Urduاللہ رات اور دن کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے، ہر ایک کو دوسرے کی جگہ لاتا ہے، کبھی ایک کو لمبا اور دوسرے کو مختصر کر دیتا ہے۔ بیشک اس الٹ پھیر میں آنکھوں والوں کے لیے بڑی عبرت اور نصیحت ہے۔
Arabicيقلب الله الليل والنهار فيأتي بأحدهما مكان الآخر، يطيل هذا ويقصر ذاك بحسب الفصول. إن في هذا التقليب لعبرة عظيمة لأصحاب البصائر الذين ينظرون بعين الاعتبار.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الأَمْرُ، أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah said, 'The son of Adam hurts me for he abuses Time though I am Time: in My Hands are all things, and I cause the revolution of day and night
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ میں رات اور دن کو ادلتا بدلتا رہتا ہوں۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الأَمْرُ، أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah said: "The son of Adam hurts Me by abusing Time, for I am Time; in My Hands are all things and I cause the revolution of night and day.' " (See Hadith No. 351, Vol)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہو رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔“
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (4826) Sahih Muslim (2246)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (4826) Sahih Muslim (2246)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (4826) Sahih Muslim (2246)
Abu Hurairah reported the prophet (ﷺ) as saying:Allah most high says : “The son of Adam injures me by abusing time, whereas I am time. Authority is in my hand. I alternate the night and the day”. Ibn al-Sarh said: “on the authority of Ibn al-Musayyab instead of Sa’id’
ہمیں محمد بن الصباح بن سفیان اور ابن السرح نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے بیان کیا، الزہری سے، سعید سے، ابی ہریرہ سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اللہ عز و جل فرمایا: ابن آدم مجھے ستم کرتا ہے، وہ الدہر کو سب کرتا ہے، اور میں ہی الدہر ہوں، میرے ہاتھ میں امر ہے، میں رات اور دن کو پلٹاتا ہوں۔ ابن السرح نے کہا: ابن المسیب سے ہے سعید کی جگہ۔ اللہ بہتر جاننے والا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلاَثِينَ يَوْمًا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Whenever you sight the new moon (of the month of Ramadan) observe fast. and when you sight it (the new moon of Shawwal) break it, and if the sky is cloudy for you, then observe fast for thirty days
سعید بن مسیب ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار ( عید ) کرو اگر مطلع ابر آلود ہوتو تم تیس د نوں کے روزے رکھو ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ " رَأَيْتُ مُوسَى وَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ رَجِلٌ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى، فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ، وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم بِهِ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ، وَفِي الآخَرِ خَمْرٌ فَقَالَ اشْرَبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ. فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ فَقِيلَ أَخَذْتَ الْفِطْرَةَ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ …
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "On the night of my Ascension to Heaven, I saw (the prophet) Moses who was a thin person with lank hair, looking like one of the men of the tribe of Shanua; and I saw Jesus who was of average height with red face as if he had just come out of a bathroom. And I resemble prophet Abraham more than any of his offspring does. Then I was given two cups, one containing milk and the other wine. Gabriel said, 'Drink whichever you like.' I took the milk and drank it. Gabriel said, 'You have accepted what is natural, (True Religion i.e. Islam) and if you had taken the wine, your followers would have gone astray
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی کیفیت بیان کی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایک دبلے پتلے سیدھے بالوں والے آدمی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قبیلہ شنوہ میں سے ہوں اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا ‘ وہ میانہ قد اور نہایت سرخ و سفید رنگ والے تھے۔ ایسے تروتازہ اور پاک و صاف کہ معلوم ہوتا تھا کہ ابھی غسل خانہ سے نکلے ہیں اور میں ابراہیم علیہ السلام سے ان کی اولاد میں سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ پھر دو برتن میرے سامنے لائے گئے۔ ایک میں دودھ تھا اور …
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَيَقُولُونَ الْكَرْمُ، إِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "They say Al-Karm (the generous), and in fact Al-Karm is the heart of a believer
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگ ( انگور کو ) «كرم» کہتے ہیں، «كرم» تو مومن کا دل ہے۔“
PickthallAllah hath created every animal of water. Of them is (a kind) that goeth upon its belly and (a kind) that goeth upon two legs and (a kind) that goeth upon four. Allah createth what He will. Lo! Allah is Able to do all things.
Yusuf AliAnd Allah has created every animal from water: of them there are some that creep on their bellies; some that walk on two legs; and some that walk on four. Allah creates what He wills for verily Allah has power over all things.
The agreed readingGod created every living creature out of water. Some of them go on their bellies, some walk on two legs and some on four. God creates what He wills, and He is able to do anything.
Urduاور اللہ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا، ان میں سے کچھ اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں جیسے سانپ، کچھ دو پاؤں پر چلتے ہیں جیسے انسان اور پرندے، اور کچھ چار پاؤں پر چلتے ہیں جیسے چوپائے۔ اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
Arabicوالله خلق كل حيوان يدب على الأرض من ماء أصل خلقه، فمنها ما يزحف على بطنه كالحيات، ومنها ما يمشي على رجلين كالإنسان والطير، ومنها ما يمشي على أربع أرجل كالأنعام. يخلق الله ما يشاء من صور وأشكال، إن الله على كل شيء قدير لا يعجزه شيء.
PickthallVerily We have sent down revelations and explained them. Allah guideth whom He will unto a straight path.
Yusuf AliWe have indeed sent down signs that make things manifest: and Allah guides whom He wills to a way that is straight.
The agreed readingSigns have been sent down that make the matter plain, and God guides whom He wills to a path that runs straight.
Urduہم نے اس قرآن میں ایسی آیات نازل کیں جو حق اور باطل، حلال اور حرام کو واضح طور پر بیان کرتی ہیں جس میں کوئی ابہام نہیں، اور اللہ اپنے جس بندے کو چاہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں۔
Arabicلقد أنزلنا في هذا القرآن آيات تبين الحق من الباطل والحلال من الحرام بيانا واضحا لا لبس فيه، والله يوفق ويهدي من يشاء من عباده إلى طريق مستقيم لا اعوجاج فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 2 من كتب أهل السنة، 4 من كتب الشيعة6 reports cited here — 2 Sunnī, 4 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 4 شیعہ کتب سے
There are some people devoted to the remembrance (of Allāh) who have adopted it in place of worldly matters so that commerce or trade does not turn them away from it. They pass their life in it. They speak into the ears of neglectful persons warning against matters held unlawful by Allāh, they order them to practise justice and themselves keep practising it, and they refrain them from the unlawful and themselves refrain from it. It is as though they have finished the journey of this world towards the next world and have beheld what lies beyond it. Consequently, they have become acquainted with all that befell them in the interstice during their long stay therein, and the Day of Judgement …
اور بیشک الذِکر کے لیے اہل ہیں وہ لوگ جنہوں نے اسے دنیا کی جگہ اختیار کیا ہے۔ تجارت اور بیع انہیں اس سے غافل نہیں کر سکتی۔ وہ ایّام الحیاة کو اس سے کاٹتے ہیں۔ وہ زواجر کو اللہ کے محرمات سے دھائی دیتے ہیں غافلوں کی سماعوں میں۔ وہ قِسط کا حکم دیتے ہیں اور خود بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔ وہ منکر سے منع کرتے ہیں اور خود بھی اس سے منع رہتے ہیں۔ گویا انہوں نے دنیا کو آخرت کی طرف قطع کیا ہے، حالانکہ وہ اسی میں ہیں۔ تو انہوں نے وہ دیکھا جو اس کے ورا ہے۔ گویا انہوں نے برزخ کے اہل کی غیوب کو دیکھا ہے طول الاقامہ میں۔ اور قیامت نے ان پر اپنے وعدہ کو حقق کیا ہے۔ تو انہوں نے اس کا غطاء اہل دنیا کے لیے کشف کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ گویا وہ وہی دیکھتے ہیں جو لوگ نہیں دیکھتے، اور سنتے ہیں جو نہیں سنتے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي شَطْرَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اقْرَءُوا يَقُولُ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَمِدَنِي عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ . فَيَقُولُ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} فَيَقُولُ أَثْنَى عَلَىَّ عَبْدِي …
It was narrated that Abu Hurairah said, 'I heard the Messenger of Allah(ﷺ) say':"Allah said: 'I have divided the prayer between Myself and My slave into two halves, and My slave shall have what he has asked for.'When the slave says: 'Al-hamdulillah i rabbil Alameen (All the praise is to Allah, the Lord of all that exists),' Allah says:'My slave has praised Me, and My slave shall have what he has asked for.' And when he says: 'Ar-Rahmanir-Rahim (The Mos Gracious, the Most Merciful),' Allah says: 'My slave has extolled Me, and My slave shall have what he has asked for.' And when he says: 'Maliki yawmiddin [The Only Owner (and he Ruling Judge] if the Day of Recompense],' Allahs says: 'My slave …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، آدھا میرے لیے ہے، اور آدھا میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پڑھو!، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «حمدني عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری حمد ثنا بیان کی، اور بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، اور جب بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أثنى علي عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری تعریف کی، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ …
Abu Huraira reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said: If anyone observes prayer in which he does not recite Umm al-Qur'an, It is deficient [he said this three times] and not complete. It was said to Abu Huraira: At times we are behind the Imam. He said: Recite it inwardly, for he had heard the Messenger of Allah (ﷺ) declare that Allah the Exalted had said: I have divided the prayer into two halves between Me and My servant, and My servant will receive what he asks. When the servant says: Praise be to Allah, the Lord of the universe, Allah the Most High says: My servant has praised Me. And when he (the servant) says: The Most Compassionate, the Merciful, Allah the Most High says: My servant …
سفیان بن عیینہ نے علاء بن عبد الرحمن سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القریٰ کی قراءت نہ کی تو ناقص ہے ۔ ‘ ‘ تین مرتبہ فرمایا ، یعنی پوری ہی نہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : اس کو اپنے دل میں پڑھ لو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے جب بندہ ﴿الحمد لله رب العالمين﴾ ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے جو جہانوں کا رب ہے ۔ ‘ ‘ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے …
7. Through the same chain of narrators it is narrated from abu Ja‘far (a.s.) who has said the following. “Allah, Majestic is Whose mention, created the Night of Determination when He first created the world and created in it the first prophet that would come and the first executor of the will (of prophet) that would come. He decreed that in every year there must be one night in which the interpretation and the clarification of would be sent until another such night in the coming year. Whoever would deny it has certainly rejected the knowledge of Allah, Majestic is Whose mention. It is because the prophets, the Messengers and Muhadditun (spokesmen for Allah) without receiving Divine …
۷۔ ابوجعفر علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے رات القدر کو اسی وقت خلق کیا جب اس نے دنیا کو سب سے پہلے خلق کیا، اور اس میں اس نے سب سے پہلے نبی کو خلق کیا جو ہوگا اور سب سے پہلے وصی کو خلق کیا جو ہوگا۔ اور اس نے قضاء کی ہے کہ ہر سال میں ایک رات ہو جس میں وہ اگلے سال تک امور کی تفسیر نازل کرے۔ جو اس کا انکار کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم کو رد کرتا ہے، کیونکہ انبیاء، رسل اور محدثین اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتے جب تک ان پر اللہ کی حجت نہ ہو - وہ حجت جو انہیں اس رات میں ملتی ہے ساتھ ہی جبریل علیہ السلام جو انہیں حجت دیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: محدثین کو بھی جبریل یا دوسرے فرشتے آتے ہیں؟ امام نے فرمایا: انبیاء اور رسل صلی اللہ علیہ وآلہ کے لیے تو یقیناً ہے، لیکن ان سے سوا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
56 - محمد بن همام قال: حدثنا جعفر بن محمد بن مالك الفزاري الكوفي، قال: حدثني محمد بن أحمد، عن محمد بن سنان، عن يونس بن ظبيان، عن أبي عبد الله قال: إذا كان ليلة الجمعة أهبط الرب تعالى ملكاً إلى السماء الدنيا، فإذا طلع الفجر جلس ذلك الملك على العرش فوق البيت المعمور، ونصب لمحمد وعلي والحسن والحسين منابر من نور، فيصعدون عليها وتجمع لهم الملائكة والنبيون والمؤمنون، وتفتح أبواب السماء، فإذا زالت الشمس قال رسول الله: يا رب ميعادك الذي وعدت به في كتابك. هو هذه الآية وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ …
(56) Muhammad bin Hammam narrated from Ja’far bin Muhammad bin Malik from Muhammad bin Ahmad from Muhammad bin Sinan from Younus bin Dhabyan that Abu Abdullah as-Sadiq (as) had said: “When the night of Friday comes, Allah sends down an angel to the lower heaven. When dawn comes, the angel sits on a throne on the House (the Kaaba) and sets minbars of light for Muhammad, Ali, al-Hasan and al-Husayn (peace be upon them). They ascend the minbars. The angels, the prophets and the believers are invited to gather before them. The gates of the heavens are opened. When the sun declines, the Prophet (S) says: “O my Lord, carry out Your promise that You have promised of in Your Book by this verse, …
محمد بن ہمام کہتے ہیں: جعفر بن محمد بن مالک الفزاری الکوفی نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: محمد بن احمد نے مجھے حدیث سنائی، محمد بن سنان سے، وہ یونس بن ظبیان سے روایت کرتے ہیں، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے، انہوں نے فرمایا: جب جمعہ کی رات ہوتی ہے تو رب تعالیٰ ایک فرشتہ آسمان دنیا میں نازل فرماتا ہے، پھر جب فجر طلوع ہوتی ہے تو وہ فرشتہ بیت المعمور کے اوپر عرش پر بیٹھ جاتا ہے، اور محمد و علی اور حسن و حسین کے لیے نور کے منبر نصب کرتا ہے، پھر وہ ان منبروں پر چڑھتے ہیں، اور ملائکہ اور انبیاء اور مومنین ان کے پاس جمع کر دیے جاتے ہیں، اور آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھلتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں: یا رب! یہ تمہارا وہ وعدہ ہے جو تم نے اپنی کتاب میں دیا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Hadith.4309 - Talhah ibn Zayd narrated from Imam Jafar ibn Muhammad Al-Sadiq (as) from his father, Imam Muhammad ibn Ali Al-Baqir (as), regarding a pregnant woman who drank medicine and caused a miscarriage. Imam (as) said: "She must offer expiation for it."
طلحة بن زيد نے جعفر بن محمد سے روایت کی، ان کے والد (علیہ السلام) سے: ایک حاملہ عورت کے بارے میں جس نے دوائی پی اور اپنا بچہ ضائع کر دیا۔ انہوں نے فرمایا: "وہ اس کا كفاره دے"۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd they say: We believe in Allah and the messenger, and we obey; then after that a faction of them turn away. Such are not believers.
Yusuf AliThey say, "We believe in Allah and in the messenger, and we obey": but even after that, some of them turn away: they are not (really) Believers.
The agreed readingThey say: we believe in God and in the Messenger, and we obey. Then a group of them turns away after saying it. People like that are not believers: what they do contradicts what they said.
Urduاور بعض منافق زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کی، پھر اس دعوے کے باوجود ان میں سے ایک گروہ رسول کے فیصلے کی طرف بلائے جانے پر منہ موڑ لیتا ہے۔ اور یہ منہ موڑنے والے حقیقت میں مومن نہیں ہیں، ان کے اعمال ان کے اقوال کو جھٹلا رہے ہیں۔
Arabicويقول بعض المنافقين بألسنتهم: آمنا بالله وبالرسول وأطعنا أوامرهما، ثم بعد هذا القول يعرض عن الطاعة الحقيقية فريق منهم إذا دعوا إلى حكم الرسول. وما هؤلاء المعرضون بالمؤمنين الصادقين، فأفعالهم تكذب أقوالهم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Its obligation is recognised by those believers whom neither the adornment of property nor the coolness of the eyes produced by children can turn away from it. Allāh, the Glorified, says: “Men whom neither merchandise nor any sale diverteth from the remembrance of Allah and constancy in prayer and paying the poor-rate; ...” (Qur’ān, 24:37)
اور بیشک اللہ کے حق کو مومن لوگوں کی ایک جماعت نے سمجھا ہے - جنہیں مال کی زینت ان سے منحرف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اولاد اور مال کی خوشی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رجال ہیں جنہیں تجارت اور بیع و شراء اللہ کی یاد سے اور نماز کے قیام سے اور زکاۃ کی ادائیگی سے منحرف نہیں کرتے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd when they appeal unto Allah and His messenger to judge between them, lo! a faction of them are averse;
Yusuf AliWhen they are summoned to Allah and His messenger, in order that He may judge between them, behold some of them decline (to come).
The agreed readingAnd when they are called to God and His Messenger so that judgement may be given between them, a group of them will not come.
Urduاور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ ان کے آپس کے جھگڑوں کا فیصلہ ہو، تو ان میں سے ایک گروہ اس دعوت سے منہ موڑ لیتا ہے اور اس پر لبیک نہیں کہتا، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں نہیں آئے گا۔
Arabicوإذا دعي هؤلاء المنافقون إلى حكم الله ورسوله ليفصل بينهم في خصوماتهم، إذا بفريق منهم يعرضون عن هذه الدعوة ولا يستجيبون لها، لعلمهم أن الحكم لن يكون في صالحهم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
Its obligation is recognised by those believers whom neither the adornment of property nor the coolness of the eyes produced by children can turn away from it. Allāh, the Glorified, says: “Men whom neither merchandise nor any sale diverteth from the remembrance of Allah and constancy in prayer and paying the poor-rate; ...” (Qur’ān, 24:37)
اور بیشک اللہ کے حق کو مومن لوگوں کی ایک جماعت نے سمجھا ہے - جنہیں مال کی زینت ان سے منحرف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اولاد اور مال کی خوشی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رجال ہیں جنہیں تجارت اور بیع و شراء اللہ کی یاد سے اور نماز کے قیام سے اور زکاۃ کی ادائیگی سے منحرف نہیں کرتے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallBut if right had been with them they would have come unto him willingly.
Yusuf AliBut if the right is on their side, they come to him with all submission.
The agreed readingBut if the ruling is going to fall in their favour, they come to him quickly and willingly. The turning aside was never about the judge.
Urduاور اگر فیصلہ ان کے حق میں اور ان کی مصلحت میں ہو تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فورا اطاعت کے ساتھ دوڑے چلے آتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا پہلے منہ موڑنا فیصلے کے انصاف میں شک کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے نقصان کے ڈر سے تھا۔
Arabicوإن يكن الحكم في صالحهم ولمصلحتهم يأتوا إلى الرسول صلى الله عليه وسلم منقادين مسرعين طائعين، مما يدل على أن إعراضهم الأول لم يكن بسبب شك في عدالة الحكم بل بسبب خوفهم أن يخسروا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
Its obligation is recognised by those believers whom neither the adornment of property nor the coolness of the eyes produced by children can turn away from it. Allāh, the Glorified, says: “Men whom neither merchandise nor any sale diverteth from the remembrance of Allah and constancy in prayer and paying the poor-rate; ...” (Qur’ān, 24:37)
اور بیشک اللہ کے حق کو مومن لوگوں کی ایک جماعت نے سمجھا ہے - جنہیں مال کی زینت ان سے منحرف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اولاد اور مال کی خوشی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رجال ہیں جنہیں تجارت اور بیع و شراء اللہ کی یاد سے اور نماز کے قیام سے اور زکاۃ کی ادائیگی سے منحرف نہیں کرتے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallIs there in their hearts a disease, or have they doubts, or fear they lest Allah and His messenger should wrong them in judgment? Nay, but such are evil-doers.
Yusuf AliIs it that there is a disease in their hearts? or do they doubt, or are they in fear, that Allah and His Messenger will deal unjustly with them? Nay, it is they themselves who do wrong.
The agreed readingIs there a sickness in their hearts, or have they come to doubt, or do they fear that God and His Messenger will deal unfairly with them? None of those. They are the wrongdoers, and that is the whole of it.
Urduکیا ان منافقوں کے دلوں میں نفاق کی کوئی بیماری ہے جو انہیں اطاعت سے روکتی ہے، یا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شک ہے، یا وہ ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول فیصلے میں ان پر ظلم کریں گے؟ ان میں سے کوئی بات بھی وجہ نہیں، بلکہ حقیقت میں یہ لوگ اپنی جانوں پر خود ظلم کرنے والے ہیں کیونکہ انہوں نے حق سے منہ موڑا۔
Arabicأفي قلوب هؤلاء المنافقين مرض من نفاق يمنعهم من الانقياد، أم شكوا في صحة نبوة الرسول صلى الله عليه وسلم، أم يخافون أن يظلمهم الله ورسوله في الحكم؟ ليس شيء من ذلك هو السبب، بل هم في حقيقة أمرهم الظالمون لأنفسهم بإعراضهم عن الحق.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
Its obligation is recognised by those believers whom neither the adornment of property nor the coolness of the eyes produced by children can turn away from it. Allāh, the Glorified, says: “Men whom neither merchandise nor any sale diverteth from the remembrance of Allah and constancy in prayer and paying the poor-rate; ...” (Qur’ān, 24:37)
اور بیشک اللہ کے حق کو مومن لوگوں کی ایک جماعت نے سمجھا ہے - جنہیں مال کی زینت ان سے منحرف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اولاد اور مال کی خوشی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رجال ہیں جنہیں تجارت اور بیع و شراء اللہ کی یاد سے اور نماز کے قیام سے اور زکاۃ کی ادائیگی سے منحرف نہیں کرتے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThe saying of (all true) believers when they appeal unto Allah and His messenger to judge between them is only that they say: We hear and we obey. And such are the successful.
Yusuf AliThe answer of the Believers, when summoned to Allah and His Messenger, in order that He may judge between them, is no other than this: they say, "We hear and we obey": it is such as these that will attain felicity.
The agreed readingWhen those who believe are called to God and His Messenger for judgement, there is only one thing they say: we hear and we obey. Those are the ones who come through.
Urduسچے مومنوں کا قول تو بس یہی ہونا چاہیے تھا کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی طرف بلایا جائے تاکہ ان کے جھگڑوں کا تصفیہ ہو، تو وہ بغیر کسی تردد کے کہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا، اور یہی لوگ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونے والے ہیں۔
Arabicما كان ينبغي أن يكون قول المؤمنين الصادقين إذا دعوا إلى حكم الله ورسوله ليفصل بينهم في نزاعاتهم إلا أن يقولوا: سمعنا هذا الحكم وأطعناه بلا تردد، وأولئك الذين يقولون هذا هم الفائزون الناجحون في الدنيا والآخرة.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid:Two men had a dispute in the presence of Allah's Messenger (ﷺ). One of them said, "Judge us according to Allah's Laws." The other who was more wise said, "Yes, Allah's Messenger (ﷺ), judge us according to Allah's Laws and allow me to speak (first)" The Prophet (ﷺ) said to him, 'Speak " He said, "My son was a laborer for this man, and he committed illegal sexual intercourse with his wife, and the people told me that my son should be stoned to death, but I have given one-hundred sheep and a slave girl as a ransom (expiation) for my son's sin. Then I asked the religious learned people (about It), and they told me that my son should he flogged …
عبداللہ بن یوسف سے روایت ہے، انہوں نے مالک سے خبر دی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، انہوں نے ابو ہریرہ اور زید بن خالد سے۔ انہوں نے خبر دی کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے پاس جھگڑے کے لیے حاضر ہوئے۔ ایک نے کہا: ہم میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں۔ دوسرا جو ان سے زیادہ عالم تھا کہا: جی ہاں یا رسول اللہ، ہم میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: بات کرو۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے یہاں مزدور تھا۔ مالک کہتے ہیں: عسیف یعنی مزدور۔ وہ اس کی بیوی سے غلط کام میں پڑ گیا۔ مجھے لوگوں نے خبر دی کہ میرے بیٹے کو سنگسار کرنا ہے۔ تو میں نے ایک سو بھیڑیں اور ایک لڑکی دے کر اپنے بیٹے کو …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah and Zaid b. Khalid al-Juhani said:Two men brought a dispute before the Messenger of Allah (ﷺ). One of them said: Pronounce judgement between us in accordance with Allah’s Book, Messenger of Allah! The other who had more understanding said: Yes, Messenger of Allah! Pronounce judgement between us in accordance with Allah’s Book, and allow me to speak. He (the Prophet) said: Speak, He then said: My son who was a hired servant with this(man) committed fornication with his wife, and when I was told that my son must be stoned to death, I ransomed him with a hundred sheep and a slave girl of mine; but when I asked the learned, they told me that my son should receive a hundred lashes …
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے مابین اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ فرما دیجئیے، اور دوسرے نے جو ان دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا کہا: ہاں، اللہ کے رسول! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ فرمائیے، لیکن پہلے مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا: اچھا کہو اس نے کہنا شروع کیا: میرا بیٹا اس کے یہاں «عسیف» یعنی مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، تو میں نے اسے اپنی سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیئے میں دے دی، پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ پوچھا، تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی …
PickthallHe who obeyeth Allah and His messenger, and feareth Allah, and keepeth duty (unto Him): such indeed are the victorious.
Yusuf AliIt is such as obey Allah and His Messenger, and fear Allah and do right, that will win (in the end),
The agreed readingAnd whoever obeys God and His Messenger, and fears God, and is mindful of Him - those are the ones who win.
Urduاور جو کوئی اللہ کی اطاعت کرے اس کے حکموں اور ممانعتوں میں، اور رسول کی اطاعت کرے جو کچھ وہ اپنے رب کی طرف سے پہنچائیں، اور اللہ سے چھپے اور کھلے میں ڈرے اور اس کے حکم کی خلاف ورزی سے بچے، تو یہی لوگ دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی سے کامیاب ہونے والے ہیں۔
Arabicومن يطع الله فيما أمر ونهى، ويطع رسوله فيما بلغه عن ربه، ويخش الله في السر والعلن، ويحذر مخالفة أمره، فأولئك هم الفائزون بكل خير في الدنيا والآخرة.
PickthallThey swear by Allah solemnly that, if thou order them, they will go forth. Say: Swear not; known obedience (is better). Lo! Allah is Informed of what ye do.
Yusuf AliThey swear their strongest oaths by Allah that, if only thou wouldst command them, they would leave (their homes). Say: "Swear ye not; Obedience is (more) reasonable; verily, Allah is well acquainted with all that ye do."
The agreed readingThey swear their strongest oaths that if he ordered them out they would go. Say: do not swear. What is asked of you is obedience of a known kind, and God is aware of what you actually do.
Urduاور یہ منافق اللہ کی بڑی سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیں تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔ اے نبی! ان سے کہہ دیں کہ جھوٹی قسمیں نہ کھاؤ، تم سے تو صرف پہچانی ہوئی سچی اطاعت مطلوب ہے نہ کہ صرف زبانی قسم، بیشک اللہ تمہارے اصل اعمال سے خوب باخبر ہے۔
Arabicوحلف هؤلاء المنافقون بالله أشد الأيمان وأقواها أنهم لو أمرهم الرسول صلى الله عليه وسلم بالخروج للجهاد لخرجوا معه دون تردد. قل لهم أيها النبي: لا تحلفوا هذه الأيمان الكاذبة، فالمطلوب منكم طاعة معروفة صادقة لا مجرد قسم باللسان، إن الله خبير بحقيقة أعمالكم لا يخفى عليه شيء منها.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ ثُمَّ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ تَبُوكَ وَهُوَ يُرِيدُ الرُّومَ وَنَصَارَى الْعَرَبِ بِالشَّامِ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ كَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله …
Ibn Shihab reported that Allah's Messenger (ﷺ) made an expedition to Tabuk and he (the Holy Prophet) had in his mind (the idea of threatening the) Christians of Arabia in Syria and those of Rome. Ibn Shihab (further) reported that 'Abd al-Rahman b. 'Abdullah b. Ka'b informed him that Abdullah b. Ka'b who served as the guide of Ka'b b. 'Malik as he became blind that he heard Ka'b b. Malik narrate the story of his remaining behind Allah's Messenger (ﷺ) from the Battle of Tabuk. Ka'b b. Malik said:I never remained behind Allah's Messenger (ﷺ) from any expedition which he undertook except the Battle of Tabuk and that of the Battle of Badr. So far as the Battle of Badr is concerned, nobody was …
عُقیل بن ابن شہاب سے یونس کی سند کے ساتھ زہری سے بالکل اسی طرح روایت کی ۔
PickthallSay: Obey Allah and obey the messenger. But if ye turn away, then (it is) for him (to do) only that wherewith he hath been charged, and for you (to do) only that wherewith ye have been charged. If ye obey him, ye will go aright. But the messenger hath no other charge than to convey (the message) plainly.
Yusuf AliSay: "Obey Allah, and obey the Messenger: but if ye turn away, he is only responsible for the duty placed on him and ye for that placed on you. If ye obey him, ye shall be on right guidance. The Messenger's duty is only to preach the clear (Message).
The agreed readingSay: obey God and obey the Messenger. If you turn away, he has only what was laid on him to carry, and you have what was laid on you. If you obey him you will be guided; and the Messenger's whole charge is to deliver the message plainly.
Urduاے نبی! ان سے کہہ دیں کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم منہ موڑ لو تو رسول پر صرف وہی ذمہ داری ہے جو اسے سونپی گئی یعنی پیغام پہنچانا، اور تم پر وہی ذمہ داری ہے جو تمہیں سونپی گئی یعنی اطاعت کرنا۔ اور اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے، اور رسول پر صاف صاف پیغام پہنچانے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں۔
Arabicقل لهم أيها النبي: أطيعوا الله في أوامره ونواهيه، وأطيعوا الرسول فيما يبلغه عن ربه. فإن أعرضتم وتوليتم عن هذه الطاعة، فإنما على الرسول ما حمل من تبليغ الرسالة، وعليكم أنتم ما حملتم من الاستجابة والانقياد. وإن تطيعوه تهتدوا إلى الصراط المستقيم، وما على الرسول من واجب إلا البلاغ الواضح البين.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Sa'eed bin Jumhan narrated:"Safinah narrated to me, he said: 'The Messenger of Allah(s.a.w) said: "Al-Khilafah will be in my Ummah for thirty years, then there will be monarchy after that."' Then Safinah said to me: 'Count the Khilafah of Abu Bakr,' then he said: 'Count the Khilafah of 'Umar and the Khilafah of 'Uthman.' Then he said to me: 'Count the Khilafah of 'Ali."' He said: "So we found that they add up to thirty years." Sa'eed said: "I said to him: 'Banu Umaiyyah claim that the Khilafah is among them.' He said: 'Banu Az-Zarqa' lie, rather they are a monarchy, among the worst of monarchies
سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ ہم سے سفینہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی“، پھر مجھ سے سفینہ رضی الله عنہ نے کہا: ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت، عمر رضی الله عنہ کی خلافت، عثمان رضی الله عنہ کی خلافت اور علی رضی الله عنہ کی خلافت، شمار کرو ۱؎، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی الله عنہ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ ان کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف سعید بن …
Narrated `Adi bin Hatim:While I was in the city of the Prophet, a man came and complained to him (the Prophet, ) of destitution and poverty. Then another man came and complained of robbery (by highwaymen). The Prophet said, "Adi! Have you been to Al-Hira?" I said, "I haven't been to it, but I was informed about it." He said, "If you should live for a long time, you will certainly see that a lady in a Howdah traveling from Al-Hira will (safely reach Mecca and) perform the Tawaf of the Ka`ba, fearing none but Allah." I said to myself, "What will happen to the robbers of the tribe of Tai who have spread evil throughout the country?" The Prophet (ﷺ) further said, "If you should live long, the …
مجھ سے محمد بن حکم نے بیان کیا، کہا ہم کو نضر نے خبر دی، کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، کہا ہم کو سعد طائی نے خبر دی، انہیں محل بن خلیفہ نے خبر دی، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک صاحب آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فقر و فاقہ کی شکایت کی، پھر دوسرے صاحب آئے اور راستوں کی بدامنی کی شکایت کی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عدی! تم نے مقام حیرہ دیکھا ہے؟ ( جو کوفہ کے پاس ایک بستی ہے ) میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تو نہیں، البتہ اس کا نام میں نے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری زندگی کچھ اور لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ہودج میں ایک عورت اکیلی حیرہ سے سفر کرے گی اور ( مکہ پہنچ کر ) کعبہ …
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ ثُمَّ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةَ تَبُوكَ وَهُوَ يُرِيدُ الرُّومَ وَنَصَارَى الْعَرَبِ بِالشَّامِ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ كَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله …
Ibn Shihab reported that Allah's Messenger (ﷺ) made an expedition to Tabuk and he (the Holy Prophet) had in his mind (the idea of threatening the) Christians of Arabia in Syria and those of Rome. Ibn Shihab (further) reported that 'Abd al-Rahman b. 'Abdullah b. Ka'b informed him that Abdullah b. Ka'b who served as the guide of Ka'b b. 'Malik as he became blind that he heard Ka'b b. Malik narrate the story of his remaining behind Allah's Messenger (ﷺ) from the Battle of Tabuk. Ka'b b. Malik said:I never remained behind Allah's Messenger (ﷺ) from any expedition which he undertook except the Battle of Tabuk and that of the Battle of Badr. So far as the Battle of Badr is concerned, nobody was …
عُقیل بن ابن شہاب سے یونس کی سند کے ساتھ زہری سے بالکل اسی طرح روایت کی ۔
PickthallAllah hath promised such of you as believe and do good work that He will surely make them to succeed (the present rulers) in the earth even as He caused those who were before them to succeed (others); and that He will surely establish for them their religion which He hath approved for them, and will give them in exchange safety after their fear. They serve Me. They ascribe no thing as partner unto Me. Those who disbelieve henceforth, they are the miscreants.
Yusuf AliAllah has promised, to those among you who believe and work righteous deeds, that He will, of a surety, grant them in the land, inheritance (of power), as He granted it to those before them; that He will establish in authority their religion - the one which He has chosen for them; and that He will change (their state), after the fear in which they (lived), to one of security and peace: 'They will worship Me (alone) and not associate aught with Me. 'If any do reject Faith after this, they are rebellious and wicked.
The agreed readingGod has promised those among them who believe and do what is right that He will give them the earth in succession, as He gave it to those before them; that He will make firm for them the religion He chose for them; and that He will exchange their fear for safety. They serve Him and set up no partner with Him. And whoever refuses after that has left obedience behind.
Urduاللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے کہ وہ انہیں زمین میں ایسے ہی خلافت دے گا جیسے ان سے پہلے نیک لوگوں کو دی، اور ان کے لیے اس دین کو مضبوطی سے قائم کرے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا یعنی اسلام، اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور جو اس واضح نعمت کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔
Arabicوعد الله المؤمنين منكم الذين عملوا الأعمال الصالحة أنه سيجعلهم خلفاء متمكنين في الأرض كما جعل من قبلهم من الأمم الصالحة خلفاء فيها، وأنه سيثبت ويقوي لهم دينهم الذي اختاره ورضيه لهم وهو الإسلام، وأنه سيبدل حالهم من الخوف إلى الأمن التام. يعبدون الله وحده لا يشركون به شيئا من دون الله، ومن كفر بهذه النعمة بعد وضوحها فأولئك هم الخارجون عن طاعة الله.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
Sa'eed bin Jumhan narrated:"Safinah narrated to me, he said: 'The Messenger of Allah(s.a.w) said: "Al-Khilafah will be in my Ummah for thirty years, then there will be monarchy after that."' Then Safinah said to me: 'Count the Khilafah of Abu Bakr,' then he said: 'Count the Khilafah of 'Umar and the Khilafah of 'Uthman.' Then he said to me: 'Count the Khilafah of 'Ali."' He said: "So we found that they add up to thirty years." Sa'eed said: "I said to him: 'Banu Umaiyyah claim that the Khilafah is among them.' He said: 'Banu Az-Zarqa' lie, rather they are a monarchy, among the worst of monarchies
سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ ہم سے سفینہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی“، پھر مجھ سے سفینہ رضی الله عنہ نے کہا: ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت، عمر رضی الله عنہ کی خلافت، عثمان رضی الله عنہ کی خلافت اور علی رضی الله عنہ کی خلافت، شمار کرو ۱؎، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی الله عنہ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ ان کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف سعید بن …
10 - وعن غندر عن شعبة قال: حدثنا أبو عوانة، عن عبد الملك بن عمير، عن جابر بن سمرة قال: سمعت رسول الله يقول: لا يزال هذا الدين مستقيماً حتى يقوم اثنا عشر خليفة. ثم قال كلمة لم أفهمها، فسألت أبي فقال قال: كلهم من قريش.
(10) Ghundur narrated from Shu’ba from Abu Owana from Abdul Melik bin Omayr from Jabir bin Samra that the Prophet (S) had said: “This religion is still prevailing until twelve caliphs will have ruled.” Then he said something that I could not understand. I asked my father and he said that the Prophet (S) had said: “All of them are from Quraysh.”
غندر نے شعبة سے روایت کی کہا: ہمیں ابو عوانة نے حدیث سنائی، عبد الملک بن عمیر سے، جابر بن سمرہ سے کہا: میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یہ دین ہمیشہ سیدھا رہے گا جب تک بارہ خلیفہ (قائم ہوں)۔ پھر انہوں نے کوئی بات کہی جو میں نے سمجھ نہ سکا، تو میں نے اپنے والد سے پوچھا تو انہوں نے کہا: انہوں نے فرمایا: یہ سب قریش سے ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Thawban narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Indeed Allah gathered the earth for me so that I saw its east and its west. And surely my Ummah's authority shall reach over all that was shown to me of it. And I have been granted the two treasures; the red and the white. I asked my Lord that my Ummah is not to be destroyed by a universal drought, and that He does not overcome them by enemies outside of them, reaching to their heart of power. My Lord said: 'O Muhammad! When I issue a decree it is not reversed. I have granted for your Ummah that they shall not be destroyed by universal drought. And that they not be overcome by enemies outside of themselves reaching to their heart of …
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے مشرق ( پورب ) و مغرب ( پچھم ) کو دیکھا یقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک میرے لیے زمین سمیٹی گئی، اور مجھے سرخ و سفید دو خزانے دے گئے، میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے دعا کی کہ ان کو کسی عام قحط سے ہلاک نہ کرے اور نہ ان پر غیروں میں سے کوئی ایسا دشمن مسلط کر جو انہیں جڑ سے مٹا دے، میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے بدلتا نہیں، تیری امت کے حق میں تیری یہ دعا میں نے قبول کی کہ میں اسے عام قحط سے ہلاک و برباد نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط کروں گا جو ان میں سے نہ ہو اور جو انہیں جڑ سے مٹا دے، گو …
It has been narrated on the authority of Thauban that the Messenger of Allah (ﷺ) said:A group of people from my Umma will always remain triumphant on the right path and continue to be triumphant (against their opponents). He who deserts them shall not be able to do them any harm. They will remain in this position until Allah's Command is executed (i.e. Qiyamah is established). In Qutaiba's version of the tradition, we do not have the words:" They will remain in this position
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا کوئی ان کا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کا حکم آوے ( یعنی قیامت ) اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔
7. Through the same chain of narrators it is narrated from abu Ja‘far (a.s.) who has said the following. “Allah, Majestic is Whose mention, created the Night of Determination when He first created the world and created in it the first prophet that would come and the first executor of the will (of prophet) that would come. He decreed that in every year there must be one night in which the interpretation and the clarification of would be sent until another such night in the coming year. Whoever would deny it has certainly rejected the knowledge of Allah, Majestic is Whose mention. It is because the prophets, the Messengers and Muhadditun (spokesmen for Allah) without receiving Divine …
۷۔ ابوجعفر علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے رات القدر کو اسی وقت خلق کیا جب اس نے دنیا کو سب سے پہلے خلق کیا، اور اس میں اس نے سب سے پہلے نبی کو خلق کیا جو ہوگا اور سب سے پہلے وصی کو خلق کیا جو ہوگا۔ اور اس نے قضاء کی ہے کہ ہر سال میں ایک رات ہو جس میں وہ اگلے سال تک امور کی تفسیر نازل کرے۔ جو اس کا انکار کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم کو رد کرتا ہے، کیونکہ انبیاء، رسل اور محدثین اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتے جب تک ان پر اللہ کی حجت نہ ہو - وہ حجت جو انہیں اس رات میں ملتی ہے ساتھ ہی جبریل علیہ السلام جو انہیں حجت دیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: محدثین کو بھی جبریل یا دوسرے فرشتے آتے ہیں؟ امام نے فرمایا: انبیاء اور رسل صلی اللہ علیہ وآلہ کے لیے تو یقیناً ہے، لیکن ان سے سوا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Asim narrated from Zirr, from 'Abdullah, from the Prophet(s.a.w) who said:"A man is coming from the people of my family whose name agrees with my name." 'Asim said: "Abu Salih narrated to us from Abu Hurairah, who said: 'If there did not remain in the world but one day, then Allah would extend that day until he comes
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھرانے کا ایک آدمی جو میرا ہم نام ہو گا حکومت کرے گا“۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: اگر دنیا کا صرف ایک دن بھی باقی رہے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا یہاں تک کہ وہ آدمی حکومت کر لے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
56 - محمد بن همام قال: حدثنا جعفر بن محمد بن مالك الفزاري الكوفي، قال: حدثني محمد بن أحمد، عن محمد بن سنان، عن يونس بن ظبيان، عن أبي عبد الله قال: إذا كان ليلة الجمعة أهبط الرب تعالى ملكاً إلى السماء الدنيا، فإذا طلع الفجر جلس ذلك الملك على العرش فوق البيت المعمور، ونصب لمحمد وعلي والحسن والحسين منابر من نور، فيصعدون عليها وتجمع لهم الملائكة والنبيون والمؤمنون، وتفتح أبواب السماء، فإذا زالت الشمس قال رسول الله: يا رب ميعادك الذي وعدت به في كتابك. هو هذه الآية وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ …
(56) Muhammad bin Hammam narrated from Ja’far bin Muhammad bin Malik from Muhammad bin Ahmad from Muhammad bin Sinan from Younus bin Dhabyan that Abu Abdullah as-Sadiq (as) had said: “When the night of Friday comes, Allah sends down an angel to the lower heaven. When dawn comes, the angel sits on a throne on the House (the Kaaba) and sets minbars of light for Muhammad, Ali, al-Hasan and al-Husayn (peace be upon them). They ascend the minbars. The angels, the prophets and the believers are invited to gather before them. The gates of the heavens are opened. When the sun declines, the Prophet (S) says: “O my Lord, carry out Your promise that You have promised of in Your Book by this verse, …
محمد بن ہمام کہتے ہیں: جعفر بن محمد بن مالک الفزاری الکوفی نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: محمد بن احمد نے مجھے حدیث سنائی، محمد بن سنان سے، وہ یونس بن ظبیان سے روایت کرتے ہیں، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے، انہوں نے فرمایا: جب جمعہ کی رات ہوتی ہے تو رب تعالیٰ ایک فرشتہ آسمان دنیا میں نازل فرماتا ہے، پھر جب فجر طلوع ہوتی ہے تو وہ فرشتہ بیت المعمور کے اوپر عرش پر بیٹھ جاتا ہے، اور محمد و علی اور حسن و حسین کے لیے نور کے منبر نصب کرتا ہے، پھر وہ ان منبروں پر چڑھتے ہیں، اور ملائکہ اور انبیاء اور مومنین ان کے پاس جمع کر دیے جاتے ہیں، اور آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھلتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں: یا رب! یہ تمہارا وہ وعدہ ہے جو تم نے اپنی کتاب میں دیا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It has been narrated on the authority of 'Abd al-Rahman b. Abd Rabb al-Ka'ba who said:I entered the mosque when 'Abdullah b. 'Amr b. al-'As was sitting in the shade of the Ka'ba and the people had gathered around him. I betook myself to them and sat near him. (Now) Abdullah said: I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. We halted at a place. Some of us began to set right their tents, others began to compete with one another in shooting, and others began to graze their beasts, when an announcer of the Messenger of Allah (ﷺ) announced that the people should gather together for prayer, so we gathered around the Messenger of Allah (ﷺ). He said: It was the duty of every Prophet …
عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے میں مسجد میں گیا وہاں عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے پاس جمع تھے میں بھی گیا اور بیٹھا ۔ انہوں نے کہا ہم رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تھے ایک سفر میں تو ایک جگہ اترے ، کوئی اپنا ڈیرہ درست کرنے لگا ، کوئی تیر مارنے لگا ، کوئی اپنے جانوروں میں تھا کہ اتنے میں رسول اﷲ ﷺ کے پکارنے والے نے آواز دی نماز کے لیے اکٹھا ہوجاؤ ۔ ہم سب اپ کے پاس جمع ہوئے ۔ اپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر ضروری نہ ہو اپنی امت کو جو بہتر بات اس کو معلوم ہو بتانا اور جو بری بات ہو اس سے ڈرانا اور تمہاری یہ امت اس کے پہلے حصہ میں سلامتی ہے اور اخیر حصے میں بلا ہے اور وہ باتیں ہیں جو تم کو بری لگیں گی اور ایسے فتنے آویں گے کہ ایک فتنہ دوسرے …
Narrated Abdullah Ibn Abbas: When the verse: "O ye who believe! eat not up your property among yourselves in vanities, but let there be amongst you traffic and trade by mutual good will" was revealed, a man thought it a sin to eat in the house of another man after the revelation of this verse. Then this (injunction) was revealed by the verse in Surat an-Nur: "No blame on you whether you eat in company or separately." When a rich man (after revelation) invited a man from his people to eat food in his house, he would say: I consider it a sin to eat from it, and he said: a poor man is more entitled to it than I. The Arabic word tajannah means sin or fault. It was then declared lawful to eat …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ….. أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔
PickthallEstablish worship and pay the poor-due and obey the messenger, that haply ye may find mercy.
Yusuf AliSo establish regular Prayer and give regular Charity; and obey the Messenger; that ye may receive mercy.
The agreed readingAnd establish the prayer, and give the zakat, and obey the Messenger - so that mercy may be shown to you.
Urduاور نماز کو اس کے ارکان اور شرطوں کے ساتھ پوری طرح قائم کرو، اور زکوۃ اس کے حق داروں کو ادا کرو، اور رسول کی اطاعت کرو جو کچھ وہ تمہیں حکم دیں، تاکہ اس اطاعت اور عبادت کی بدولت اللہ تم پر رحم فرمائے۔
Arabicوأقيموا الصلاة المفروضة بأركانها وشروطها كاملة في أوقاتها، وأدوا الزكاة المفروضة على أموالكم لمستحقيها من الفقراء والمساكين، وأطيعوا الرسول صلى الله عليه وسلم فيما يأمركم به وينهاكم عنه، لعل الله يرحمكم بسبب هذه الطاعة والعبادة الخالصة.
PickthallThink not that the disbelievers can escape in the land. Fire will be their home - a hapless journey's end!
Yusuf AliNever think thou that the Unbelievers are going to frustrate (Allah's Plan) on earth: their abode is the Fire,- and it is indeed an evil refuge!
The agreed readingDo not think that those who refuse can slip away in the earth or put themselves out of reach. Their shelter is the Fire, and it is an evil place to end.
Urduیہ گمان مت کرو کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اس پر ڈٹے رہے وہ زمین میں کہیں بھاگ کر اللہ کی قدرت سے نکل جائیں گے یا اسے عاجز کر دیں گے، بلکہ آخرت میں ان کا ٹھکانہ آگ ہے، اور وہ کتنا ہی برا ٹھکانہ اور انجام ہے۔
Arabicلا تظنن أن الذين كفروا وأصروا على كفرهم يفلتون من قدرة الله في الأرض أو يعجزونه هربا منه، بل مصيرهم ومأواهم النار في الآخرة، وبئس ذلك المكان مصيرا ومستقرا لهم.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 1 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة4 reports cited here — 1 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
In this matter, victory or defeat is not dependent on the smallness or greatness of forces. It is Allāh’s religion which He has raised above all faiths, and His army which He has mobilised and extended, till it has reached the point where it stands now, and has arrived its present positions. We hold a promise from Allāh, and He will fulfil His promise and support His army.
یقیناً یہ امر نہ اس کی نصرت اور نہ خذلان کثرت پر ہے اور نہ قلت پر۔ یہ دین الله ہے جس کو اس نے أَظْهَرَهُ، اور یہ اس کا جند ہے جس کو اس نے أَعَدَّهُ اور أَمَدَّهُ، یہاں تک کہ جہاں تک بَلَغَ ہوا اور جہاں طَلَعَ ہوا۔ اور ہم موعود من الله کے اوپر ہیں، اور اللہ وعده منجز کرنے والا ہے، اور اپنے جند کی ناصر ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
If the Persians see you tomorrow they will say, “He is the root (chief) of Arabia. If we do away with him we will be in peace.” In this way this will heighten their eagerness against you and their keenness to aim at you. You say that they have set out to fight against the Muslims. Well, Allāh detests their setting out more than you do, and He is more capable of preventing what He detests. As regards your idea about their (large) number, in the past we did not fight on the strength of large numbers but we fought on the basis of Allāh’s support and assistance.
بیشک اعاجم اگر تمہیں غدا دیکھیں تو کہیں گے: یہ اصل العرب ہے۔ اگر اقتطعتموہ تو استراحتم۔ فیکون ذلک أشد لکلبھم علیک وطمعھم فیک۔ جہاں تک تم نے مسیر القوم الیٰ قتال المسلمین کا ذکر کیا ہے، بیشک اللہ سبحانہ ان کی مسیر سے تمہ سے زیادہ ناراض ہے، اور وہ تغییر کرنے پر اقدر (زیادہ قادر) ہے۔ جہاں تک عددھم کا ذکر ہے، بیشک ہم کثرت سے قتال نہیں کرتے تھے، بلکہ ہم النصر والمعونہ سے لڑے ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
The position of the head of government is that of the thread for beads, as it connects them and keeps them together. If the thread is broken, they will disperse and be lost, and will never come together again. The Arabs today, even though small in number are big because of Islam and strong because of unity. You should remain like the axis for them, and rotate the mill (of government) with (the help of) the Arabs, and be their root. Avoid battle, because if you leave this place the Arabs will attack you from all sides and directions till the unguarded places left behind by you will become more important than those before you.
اور مكان القيم بالأمر مكان النظام سے الخرز میں، يجمعه و يضمه۔ فإن انقطع النظام تفرق و ذہب، ثم لم يجتمع بحذافيره أبدا۔ اور العرب اليوم و إن كانوا قليل، فھم كثيرون بالإسلام، عزيزون بالاجتماع! تو قطب بن، اور الرحا کو العرب سے استدير، اور انہیں دونك نار الحرب سے أصل۔ فإنك إن شخصت اس أرض سے انقضت عليك العرب ان الأطراف و الأقطار سے، یہاں تک كہ جو تو العورات پيچھے چھوڑے وہ تيرے لیے اہم ہوں گے ان سے جو تيرے سامنے ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Asim narrated from Zirr, from 'Abdullah, from the Prophet(s.a.w) who said:"A man is coming from the people of my family whose name agrees with my name." 'Asim said: "Abu Salih narrated to us from Abu Hurairah, who said: 'If there did not remain in the world but one day, then Allah would extend that day until he comes
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھرانے کا ایک آدمی جو میرا ہم نام ہو گا حکومت کرے گا“۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: اگر دنیا کا صرف ایک دن بھی باقی رہے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا یہاں تک کہ وہ آدمی حکومت کر لے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
PickthallO ye who believe! Let your slaves, and those of you who have not come to puberty, ask leave of you at three times (before they come into your presence): Before the prayer of dawn, and when ye lay aside your raiment for the heat of noon, and after the prayer of night. Three times of privacy for you. It is no sin for them or for you at other times, when some of you go round attendant upon others (if they come into your presence without leave). Thus Allah maketh clear the revelations for you. Allah is Knower, Wise.
Yusuf AliO ye who believe! let those whom your right hands possess, and the (children) among you who have not come of age ask your permission (before they come to your presence), on three occasions: before morning prayer; the while ye doff your clothes for the noonday heat; and after the late-night prayer: these are your three times of undress: outside those times it is not wrong for you or for them to move about attending to each other: Thus does Allah make clear the Signs to you: for Allah is full of knowledge and wisdom.
The agreed readingYou who believe: those you own, and the children among you who have not yet reached maturity, are to ask leave at three times - before the dawn prayer, at noon when you have put off your clothes, and after the night prayer. Those are three times of privacy for you. Outside them there is no blame on you or on them, since you come and go among one another. So God makes the signs clear to you; and God knows, and is wise.
Urduاے ایمان والو! تمہارے مملوک غلام اور لونڈیاں، اور تمہارے وہ بچے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے، انہیں چاہیے کہ تین اوقات میں تم سے اجازت لے کر آئیں: فجر کی نماز سے پہلے، ظہر کے وقت جب تم قیلولے کے لیے کپڑے اتارتے ہو، اور عشا کی نماز کے بعد۔ یہ تمہارے لیے تین پردے کے اوقات ہیں۔ ان کے علاوہ تم پر اور ان پر بغیر اجازت آنے جانے میں کوئی گناہ نہیں کیونکہ تم آپس میں ایک دوسرے کے پاس بار بار آتے جاتے ہو۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، اور اللہ تمہارے حالات جاننے والا اور اپنی شریعت میں حکمت والا ہے۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا، ينبغي لمملوكيكم من العبيد والإماء، ولأطفالكم الذين لم يبلغوا الحلم بعد، أن يستأذنوا عليكم في ثلاثة أوقات: قبل صلاة الفجر، وحين تخلعون ثيابكم للقيلولة في الظهيرة، ومن بعد صلاة العشاء. هذه ثلاثة أوقات عورة وخلوة لكم فيها. وليس عليكم ولا عليهم حرج في الدخول بلا استئذان في غير هذه الأوقات، لأنكم يطوف بعضكم على بعض كثيرا في أموركم. وبمثل هذا البيان يوضح الله لكم آياته، والله عليم بأحوالكم، حكيم فيما يشرعه لكم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Ṭūsī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr, Ibn ʿĀshūr and Ṭabāṭabāʾī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Abdullah Ibn Abbas: Ikrimah said: A group of people from Iraq said: Ibn Abbas, what is your opinion about the verse in which we have been commanded whatever we have been commanded, but no one acts upon it? The word of Allah, Most High, reads: "O ye who believe! Let those whom your right hands possess, and the (children) among you, who have not come of age, ask your permission (before) they enter your presence on three occasions: before morning prayer, while you are undressing for the noonday heat, and after late-night prayer. These are your three times of undress; outside those times it is not wrong for you or for them to move about." Al-Qa'nabi recited the verse up to "full of …
عکرمہ سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگوں نے کہا: ابن عباس! اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس میں ہمیں حکم دیا گیا جو حکم دیا گیا لیکن اس پر کسی نے عمل نہیں کیا، یعنی اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها الذين آمنوا ليستأذنكم الذين ملكت أيمانكم والذين لم يبلغوا الحلم منكم ثلاث مرات من قبل صلاة الفجر وحين تضعون ثيابكم من الظهيرة ومن بعد صلاة العشاء ثلاث عورات لكم ليس عليكم ولا عليهم جناح بعدهن طوافون عليكم» اے ایمان والو! تمہارے غلاموں اور لونڈیوں کو اور تمہارے سیانے لیکن نابالغ بچوں کو تین اوقات میں تمہارے پاس اجازت لے کر ہی آنا چاہیئے نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم کپڑے اتار کر آرام کے لیے لیٹتے ہو، بعد نماز عشاء یہ تینوں وقت پردہ پوشی کے ہیں ان تینوں اوقات کے علاوہ اوقات میں کوئی مضائقہ …
Ibn ‘Abbas said :Most of the people did not act upon the verse about asking permission to enter the house. I have commanded this slave-girl of mine to ask my permission to enter. Abu Dawud said: 'Ata also transmitted it from Ibn 'Abbas in a similar way. He commanded to act upon this
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ آیت استیذان پر اکثر لوگوں نے عمل نہیں کیا، لیکن میں نے تو اپنی لونڈی کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ اسے بھی میرے پاس آنا ہو تو مجھ سے اجازت طلب کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ اس کا ( استیذان کا ) حکم دیتے تھے۔
Uthman bin Affan narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever attends Isha (prayer) in congregation, then he has (the reward as if he had) stood half of the night. And whoever prays Isha and Fajr in congregation, then he has (the reward as if he had) spend the entire night standing (in prayer)
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو عشاء کی جماعت میں حاضر رہے گا تو اسے آدھی رات کے قیام کا ثواب ملے گا اور جو عشاء اور فجر دونوں نمازیں جماعت سے ادا کرے گا، اسے پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عثمان کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، انس، عمارہ بن رویبہ، جندب بن عبداللہ بن سفیان بجلی، ابی ابن کعب، ابوموسیٰ اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہ حدیث عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کے طریق سے عثمان رضی الله عنہ سے موقوفاً روایت کی گئی ہے، اور کئی دوسری سندوں سے بھی یہ عثمان رضی الله عنہ سے مرفوعاً مروی ہے۔
Anas bin Malik narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever performs Salat for Allah for forty days in congregation, catching the first Takbir, two absolutions are written for him: absolution from the Fire, and absolution from the Fire, and absolution from hypocrisy
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی رضا کے لیے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی تو اس کے لیے دو قسم کی برات لکھی جائے گی: ایک آگ سے برات، دوسری نفاق سے برات“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: انس سے یہ حدیث موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ ابوقتیبہ سلمہ بن قتیبہ کے سوا کسی نے اسے مرفوع روایت کیا ہو یہ حدیث حبیب بن ابی حبیب بجلی سے بھی روایت کی جاتی ہے انہوں نے اسے انس بن مالک سے روایت کیا ہے اور اسے انس ہی کا قول قرار دیا ہے، اسے مرفوع نہیں کیا، نیز اسماعیل بن عیاش نے یہ حدیث بطریق «عمارة بن غزية عن أنس بن مالك عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اور یہ حدیث غیر محفوظ اور مرسل ۱؎ …
درجته: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Mawdu · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ " مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدٍ جَمَاعَةً أَرْبَعِينَ لَيْلَةً لاَ تَفُوتُهُ الرَّكْعَةُ الأُولَى مِنْ صَلاَةِ الْعِشَاءِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عِتْقًا مِنَ النَّارِ " .
It was narrated from 'Umar bin Khattab that:The Prophet used to say: "Whoever performs prayer in congregation at the mosque for forty nights, never missing the first Rak'ah of the 'Isha' prayer, Allah will thereby decree for him salvation from the Fire
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس شخص نے مسجد میں چالیس دن تک جماعت کے ساتھ نماز پڑھی، اور نماز عشاء کی پہلی رکعت فوت نہ ہوئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دے گا ۱؎۔
Narrated Ibn 'Abbas:The verse: "And say to the believing women that they should lower gaze was partly abrogated by the verse: "Such elderly women as are past the prospect of marriage
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ( سورۃ النور: ۳۱ ) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو ( سورۃ النور: ۶۰ ) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: Ibn Abbas explained the following Qur'anic verse: "O ye who believe! fasting is prescribed for you as it was prescribed for those before you" During the lifetime of the Prophet (ﷺ), when the people offered night prayer, they were asked to abstain from food and drink and (intercourse with) women, they kept fast till the next night. A man betrayed himself and had intercourse with his wife after he had offered the night prayer, and he did not break his fast. So Allah, the Exalted, intended to make it (fasting) easy for those who survived, thus providing a concession and utility. Allah, the Glorified, said: "Allah knoweth what ye used to do secretly among …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ «يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم» اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دئیے گئے تھے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۳ ) نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عشاء پڑھتے ہی لوگوں پر کھانا، پینا اور عورتوں سے جماع کرنا حرام ہو جاتا، اور وہ آئندہ رات تک روزے سے رہتے، ایک شخص نے اپنے نفس سے خیانت کی، اس نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی حالانکہ وہ عشاء پڑھ چکا تھا، اور اس نے روزہ نہیں توڑا تو اللہ تعالیٰ نے باقی لوگوں کو آسانی اور رخصت دینی اور انہیں فائدہ پہنچانا چاہا تو فرمایا: «علم الله أنكم كنتم تختانون أنفسكم» اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم اپنے آپ سے خیانت …
The Qur’anic verse “Those of you who die and leave widows should bequeath for their widows a year’s maintenance and residence was abrogated by the verse containing the laws of succession, as one-fourth or one-eighth share was prescribed for them (i.e., the widows). The waiting period for one year was also repealed as a period of four months ten days was prescribed for them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کا فرمان «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» ” اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے “ ( سورۃ البقرہ : ۲۴۰ ) میراث کی آیت نازل ہو جانے کے بعد منسوخ ہو گیا کیونکہ اس میں ان کے لیے چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کر دیا گیا ہے اسی طرح ایک سال تک نہ نکلنے کا حکم چار مہینے دس دن کی عدت کا حکم آ جانے کے بعد منسوخ ہو گیا ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas: When the verse: "O ye who believe! eat not up your property among yourselves in vanities, but let there be amongst you traffic and trade by mutual good will" was revealed, a man thought it a sin to eat in the house of another man after the revelation of this verse. Then this (injunction) was revealed by the verse in Surat an-Nur: "No blame on you whether you eat in company or separately." When a rich man (after revelation) invited a man from his people to eat food in his house, he would say: I consider it a sin to eat from it, and he said: a poor man is more entitled to it than I. The Arabic word tajannah means sin or fault. It was then declared lawful to eat …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ….. أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔
PickthallAnd when the children among you come to puberty then let them ask leave even as those before them used to ask it. Thus Allah maketh clear His revelations for you. Allah is Knower, Wise.
Yusuf AliBut when the children among you come of age, let them (also) ask for permission, as do those senior to them (in age): Thus does Allah make clear His Signs to you: for Allah is full of knowledge and wisdom.
The agreed readingAnd when the children among you reach maturity, let them ask leave at every time, as those older than them do. So God makes His signs clear to you; and God knows, and is wise.
Urduاور جب تمہارے بچے بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں چاہیے کہ ہر وقت اجازت لے کر آئیں جیسے ان سے پہلے کے بڑے ہر وقت اجازت لیتے تھے، اور صرف بچوں کے لیے مقرر تین اوقات پر اکتفا نہ کریں۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، اور اللہ تمہارے حالات جاننے والا اور اپنی شریعت میں حکمت والا ہے۔
Arabicوإذا بلغ الأطفال منكم سن الحلم والبلوغ، فليستأذنوا في جميع الأوقات كما كان يستأذن الكبار من قبلهم في كل وقت، ولا يقتصرون على الأوقات الثلاثة الخاصة بالصغار. وبمثل هذا البيان يوضح الله لكم آياته، والله عليم بأحوالكم، حكيم فيما يشرعه.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Rāzī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by al-Rāzī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
al-Rāzī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Abdullah Ibn Abbas: Ikrimah said: A group of people from Iraq said: Ibn Abbas, what is your opinion about the verse in which we have been commanded whatever we have been commanded, but no one acts upon it? The word of Allah, Most High, reads: "O ye who believe! Let those whom your right hands possess, and the (children) among you, who have not come of age, ask your permission (before) they enter your presence on three occasions: before morning prayer, while you are undressing for the noonday heat, and after late-night prayer. These are your three times of undress; outside those times it is not wrong for you or for them to move about." Al-Qa'nabi recited the verse up to "full of …
عکرمہ سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگوں نے کہا: ابن عباس! اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس میں ہمیں حکم دیا گیا جو حکم دیا گیا لیکن اس پر کسی نے عمل نہیں کیا، یعنی اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها الذين آمنوا ليستأذنكم الذين ملكت أيمانكم والذين لم يبلغوا الحلم منكم ثلاث مرات من قبل صلاة الفجر وحين تضعون ثيابكم من الظهيرة ومن بعد صلاة العشاء ثلاث عورات لكم ليس عليكم ولا عليهم جناح بعدهن طوافون عليكم» اے ایمان والو! تمہارے غلاموں اور لونڈیوں کو اور تمہارے سیانے لیکن نابالغ بچوں کو تین اوقات میں تمہارے پاس اجازت لے کر ہی آنا چاہیئے نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم کپڑے اتار کر آرام کے لیے لیٹتے ہو، بعد نماز عشاء یہ تینوں وقت پردہ پوشی کے ہیں ان تینوں اوقات کے علاوہ اوقات میں کوئی مضائقہ …
Ibn ‘Abbas said :Most of the people did not act upon the verse about asking permission to enter the house. I have commanded this slave-girl of mine to ask my permission to enter. Abu Dawud said: 'Ata also transmitted it from Ibn 'Abbas in a similar way. He commanded to act upon this
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ آیت استیذان پر اکثر لوگوں نے عمل نہیں کیا، لیکن میں نے تو اپنی لونڈی کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ اسے بھی میرے پاس آنا ہو تو مجھ سے اجازت طلب کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ اس کا ( استیذان کا ) حکم دیتے تھے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas: When the verse: "O ye who believe! eat not up your property among yourselves in vanities, but let there be amongst you traffic and trade by mutual good will" was revealed, a man thought it a sin to eat in the house of another man after the revelation of this verse. Then this (injunction) was revealed by the verse in Surat an-Nur: "No blame on you whether you eat in company or separately." When a rich man (after revelation) invited a man from his people to eat food in his house, he would say: I consider it a sin to eat from it, and he said: a poor man is more entitled to it than I. The Arabic word tajannah means sin or fault. It was then declared lawful to eat …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ….. أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔
The Qur’anic verse “Those of you who die and leave widows should bequeath for their widows a year’s maintenance and residence was abrogated by the verse containing the laws of succession, as one-fourth or one-eighth share was prescribed for them (i.e., the widows). The waiting period for one year was also repealed as a period of four months ten days was prescribed for them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کا فرمان «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» ” اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے “ ( سورۃ البقرہ : ۲۴۰ ) میراث کی آیت نازل ہو جانے کے بعد منسوخ ہو گیا کیونکہ اس میں ان کے لیے چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کر دیا گیا ہے اسی طرح ایک سال تک نہ نکلنے کا حکم چار مہینے دس دن کی عدت کا حکم آ جانے کے بعد منسوخ ہو گیا ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: Ibn Abbas explained the following Qur'anic verse: "O ye who believe! fasting is prescribed for you as it was prescribed for those before you" During the lifetime of the Prophet (ﷺ), when the people offered night prayer, they were asked to abstain from food and drink and (intercourse with) women, they kept fast till the next night. A man betrayed himself and had intercourse with his wife after he had offered the night prayer, and he did not break his fast. So Allah, the Exalted, intended to make it (fasting) easy for those who survived, thus providing a concession and utility. Allah, the Glorified, said: "Allah knoweth what ye used to do secretly among …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ «يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم» اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دئیے گئے تھے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۳ ) نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عشاء پڑھتے ہی لوگوں پر کھانا، پینا اور عورتوں سے جماع کرنا حرام ہو جاتا، اور وہ آئندہ رات تک روزے سے رہتے، ایک شخص نے اپنے نفس سے خیانت کی، اس نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی حالانکہ وہ عشاء پڑھ چکا تھا، اور اس نے روزہ نہیں توڑا تو اللہ تعالیٰ نے باقی لوگوں کو آسانی اور رخصت دینی اور انہیں فائدہ پہنچانا چاہا تو فرمایا: «علم الله أنكم كنتم تختانون أنفسكم» اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم اپنے آپ سے خیانت …
Narrated Ibn 'Abbas:The verse: "And say to the believing women that they should lower gaze was partly abrogated by the verse: "Such elderly women as are past the prospect of marriage
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ( سورۃ النور: ۳۱ ) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو ( سورۃ النور: ۶۰ ) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔
PickthallAs for women past child-bearing, who have no hope of marriage, it is no sin for them if they discard their (outer) clothing in such a way as not to show adornment. But to refrain is better for them. Allah is Hearer, Knower.
Yusuf AliSuch elderly women as are past the prospect of marriage,- there is no blame on them if they lay aside their (outer) garments, provided they make not a wanton display of their beauty: but it is best for them to be modest: and Allah is One Who sees and knows all things.
The agreed readingOlder women who no longer look for marriage are not blamed for laying aside the outer garment, so long as they do not put adornment on show. And it is better for them not to lay it aside. God hears and knows.
Urduاور وہ بوڑھی عورتیں جن کی عمر ایسی ہو چکی ہو کہ نہ حیض آتا ہو نہ اولاد کی امید ہو اور نہ نکاح کی خواہش رہی ہو، ان پر اپنے بعض بیرونی کپڑے جیسے چادر یا اوڑھنی اتار دینے میں کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ وہ اس سے کوئی زینت ظاہر کرنے کا ارادہ نہ رکھتی ہوں۔ پھر بھی ان کا یہ کپڑے نہ اتارنا ان کے لیے بہتر اور احتیاط کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ ان کی باتیں سننے والا اور ان کی نیتوں کو جاننے والا ہے۔
Arabicوالنساء الكبيرات في السن اللاتي قعدن عن الحيض والولد ولم يعد لهن رغبة أو رجاء في النكاح، ليس عليهن إثم في أن يضعن بعض ثيابهن الخارجية كالخمار أو الرداء، بشرط ألا يقصدن بذلك إظهار زينة تلفت الأنظار. ومع ذلك فتعففهن عن وضع هذه الثياب خير لهن وأقرب إلى الاحتياط والتقوى. والله سميع لأقوالهن عليم بنياتهن.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭūsī, al-Ṭabrisī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Abdullah Ibn Abbas: Ikrimah said: A group of people from Iraq said: Ibn Abbas, what is your opinion about the verse in which we have been commanded whatever we have been commanded, but no one acts upon it? The word of Allah, Most High, reads: "O ye who believe! Let those whom your right hands possess, and the (children) among you, who have not come of age, ask your permission (before) they enter your presence on three occasions: before morning prayer, while you are undressing for the noonday heat, and after late-night prayer. These are your three times of undress; outside those times it is not wrong for you or for them to move about." Al-Qa'nabi recited the verse up to "full of …
عکرمہ سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگوں نے کہا: ابن عباس! اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس میں ہمیں حکم دیا گیا جو حکم دیا گیا لیکن اس پر کسی نے عمل نہیں کیا، یعنی اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها الذين آمنوا ليستأذنكم الذين ملكت أيمانكم والذين لم يبلغوا الحلم منكم ثلاث مرات من قبل صلاة الفجر وحين تضعون ثيابكم من الظهيرة ومن بعد صلاة العشاء ثلاث عورات لكم ليس عليكم ولا عليهم جناح بعدهن طوافون عليكم» اے ایمان والو! تمہارے غلاموں اور لونڈیوں کو اور تمہارے سیانے لیکن نابالغ بچوں کو تین اوقات میں تمہارے پاس اجازت لے کر ہی آنا چاہیئے نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم کپڑے اتار کر آرام کے لیے لیٹتے ہو، بعد نماز عشاء یہ تینوں وقت پردہ پوشی کے ہیں ان تینوں اوقات کے علاوہ اوقات میں کوئی مضائقہ …
Ibn ‘Abbas said :Most of the people did not act upon the verse about asking permission to enter the house. I have commanded this slave-girl of mine to ask my permission to enter. Abu Dawud said: 'Ata also transmitted it from Ibn 'Abbas in a similar way. He commanded to act upon this
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ آیت استیذان پر اکثر لوگوں نے عمل نہیں کیا، لیکن میں نے تو اپنی لونڈی کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ اسے بھی میرے پاس آنا ہو تو مجھ سے اجازت طلب کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ اس کا ( استیذان کا ) حکم دیتے تھے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas: When the verse: "O ye who believe! eat not up your property among yourselves in vanities, but let there be amongst you traffic and trade by mutual good will" was revealed, a man thought it a sin to eat in the house of another man after the revelation of this verse. Then this (injunction) was revealed by the verse in Surat an-Nur: "No blame on you whether you eat in company or separately." When a rich man (after revelation) invited a man from his people to eat food in his house, he would say: I consider it a sin to eat from it, and he said: a poor man is more entitled to it than I. The Arabic word tajannah means sin or fault. It was then declared lawful to eat …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ….. أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔
The Qur’anic verse “Those of you who die and leave widows should bequeath for their widows a year’s maintenance and residence was abrogated by the verse containing the laws of succession, as one-fourth or one-eighth share was prescribed for them (i.e., the widows). The waiting period for one year was also repealed as a period of four months ten days was prescribed for them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کا فرمان «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» ” اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے “ ( سورۃ البقرہ : ۲۴۰ ) میراث کی آیت نازل ہو جانے کے بعد منسوخ ہو گیا کیونکہ اس میں ان کے لیے چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کر دیا گیا ہے اسی طرح ایک سال تک نہ نکلنے کا حکم چار مہینے دس دن کی عدت کا حکم آ جانے کے بعد منسوخ ہو گیا ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: Ibn Abbas explained the following Qur'anic verse: "O ye who believe! fasting is prescribed for you as it was prescribed for those before you" During the lifetime of the Prophet (ﷺ), when the people offered night prayer, they were asked to abstain from food and drink and (intercourse with) women, they kept fast till the next night. A man betrayed himself and had intercourse with his wife after he had offered the night prayer, and he did not break his fast. So Allah, the Exalted, intended to make it (fasting) easy for those who survived, thus providing a concession and utility. Allah, the Glorified, said: "Allah knoweth what ye used to do secretly among …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ «يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم» اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دئیے گئے تھے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۳ ) نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عشاء پڑھتے ہی لوگوں پر کھانا، پینا اور عورتوں سے جماع کرنا حرام ہو جاتا، اور وہ آئندہ رات تک روزے سے رہتے، ایک شخص نے اپنے نفس سے خیانت کی، اس نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی حالانکہ وہ عشاء پڑھ چکا تھا، اور اس نے روزہ نہیں توڑا تو اللہ تعالیٰ نے باقی لوگوں کو آسانی اور رخصت دینی اور انہیں فائدہ پہنچانا چاہا تو فرمایا: «علم الله أنكم كنتم تختانون أنفسكم» اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم اپنے آپ سے خیانت …
Narrated Ibn 'Abbas:The verse: "And say to the believing women that they should lower gaze was partly abrogated by the verse: "Such elderly women as are past the prospect of marriage
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ( سورۃ النور: ۳۱ ) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو ( سورۃ النور: ۶۰ ) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔
Abdullah b. Mas'ud reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:None loves one's own praise more than Allah, the Exalted and Glurious, does. It is because of this that He has praised Himself, and none is more self-respecting than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts and there is none who is more anxious to accept the apologies of the people than Allah Himself and it is because of this that He has revealed the Book and sent the Messengers
عبدالرحمٰن بن یزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر مدح پسند ہو ، اسی بنا پر اس نے اپنی مدح فرمائی اور کوئی نہیں جو اللہ سے بڑھ کر غیرت مند ہو ، اسی بنا پر اس نے تمام فواحش حرام کر دیں اور کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر ( بندوں کا اس سے ) معذرت کرنا پسند ہو ، اسی بنا پر اس نے کتاب نازل فرمائی اور پیغمبروں کو بھیجا ۔
AbU Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:Two are the types of the denizens of Hell whom I did not see: people having flogs like the tails of the ox with them and they would be beating people, and the women who would be dressed but appear to be naked, who would be inclined (to evil) and make their husbands incline towards it. Their heads would be like the humps of the bukht camel inclined to one side. They will not enter Paradise and they would not smell its odour whereas its odour would be smelt from such and such distance
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا ۔ ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں ، وہ لوگوں کو اس سے مارتے ہیں دوسرے وہ عورتیں جو پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں ( یعنی ستر کے لائق لباس نہیں ہیں ) ، سیدھی راہ سے بہکانے والی ، خود بہکنے والی اور ان کے سر بختی ( اونٹ کی ایک قسم ہے ) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے آ رہی ہو گی ۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Two are the types amongst the denizens of Hell, the one possessing whips like the tail of an ox and they flog people with their help. (The second one) the women who would be naked in spite of their being dressed, who are seduced (to wrong paths) and seduce others with their hair high like humps. These women would not get into Paradise and they would not perceive the odour of Paradise, although its frag- rance can be perceived from such and such distance (from great distance)
سہیل کے والد ( ابو صالح ) نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اہل جہنم کے دو قسمیں ایسی ہیں جن کو ( دنیوی زندگی میں ) میں نے ( خود ) نہیں دیکھا ۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پاس گایوں کی دموں کی طرح سے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کوماریں گے اور ( دوسرے گروہ میں ) وہ عورتیں ہیں جو لباس پہنے ہوئے ( بھی ) ننگی ہوں گی ، دوسروں کو ( گناہ پر ) مائل کرنے والی ، خود مائل ہونے والی ہوں گی ان کے سر ( علاقہ ) بخت کی اونٹنیوں کے ایک طرف جھکے ہوئے کوہانوں جیسے ہوں گے ۔ یہ عورتیں جنت میں داخل ہوں گی نہ اسکی خوشبو سونگھیں گی ۔ حالانکہ اس کی خوشبو اتنے اتنے ( لمبے ) فاصلے سےمحسوس ہوتی ہوگی ۔
PickthallNo blame is there upon the blind nor any blame upon the lame nor any blame upon the sick nor on yourselves if ye eat from your houses, or the houses of your fathers, or the houses of your mothers, or the houses of your brothers, or the houses of your sisters, or the houses of your fathers' brothers, or the houses of your fathers' sisters, or the houses of your mothers' brothers, or the houses of your mothers' sisters, or (from that) whereof ye hold the keys, or (from the house) of a friend. No sin shall it be for you whether ye eat together or apart. But when ye enter houses, salute one another with a greeting from Allah, blessed and sweet. Thus Allah maketh clear His revelations for you, that haply ye may understand.
Yusuf AliIt is no fault in the blind nor in one born lame, nor in one afflicted with illness, nor in yourselves, that ye should eat in your own houses, or those of your fathers, or your mothers, or your brothers, or your sisters, or your father's brothers or your father's sisters, or your mother's brothers, or your mother's sisters, or in houses of which the keys are in your possession, or in the house of a sincere friend of yours: there is no blame on you, whether ye eat in company or separately. But if ye enter houses, salute each other - a greeting of blessing and purity as from Allah. Thus does Allah make clear the signs to you: that ye may understand.
The agreed readingThere is no blame on the blind, the lame or the sick, nor on yourselves, in eating in your own houses, or in the houses of your fathers, mothers, brothers, sisters, uncles and aunts on either side, or a house whose key you hold, or a friend's house. There is no blame in eating together or separately. The commentaries agree on what made it necessary to say: people had started holding back from eating with the disabled, and from eating in a house left in their charge. And when you enter houses, greet one another with a greeting from God, blessed and good. So God makes the signs clear to you, that you may use your minds.
Urduاندھے پر کوئی حرج نہیں، لنگڑے پر کوئی حرج نہیں، بیمار پر کوئی حرج نہیں، اور نہ خود تم پر اس بات میں کوئی حرج ہے کہ تم اپنے گھروں سے، یا اپنے باپوں، ماؤں، بھائیوں، بہنوں، چچاؤں، پھوپھیوں، ماموؤں یا خالاؤں کے گھروں سے، یا اس گھر سے جس کی چابی تمہارے پاس ہو، یا اپنے دوست کے گھر سے کھانا کھاؤ۔ روایات میں مل کر یہ بیان ہوا ہے کہ لوگ معذوروں کے ساتھ کھانے اور اپنے سپرد کیے گئے گھر میں کھانے سے ہچکچاتے تھے۔ تم پر اکٹھے یا الگ الگ کھانے میں کوئی گناہ نہیں۔ اور جب گھروں میں داخل ہو تو ان کے رہنے والوں کو اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ سلام کرو۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔
Arabicليس على الأعمى حرج ولا على الأعرج حرج ولا على المريض حرج، وليس على أنفسكم أنتم حرج في أن تأكلوا من بيوتكم، أو بيوت آبائكم، أو بيوت أمهاتكم، أو بيوت إخوانكم، أو بيوت أخواتكم، أو بيوت أعمامكم، أو عماتكم، أو أخوالكم، أو خالاتكم، أو البيت الذي بيدكم مفتاحه، أو بيت صديقكم. وقد اتفقت الروايات على سبب هذا البيان: أن الناس كانوا يتحرجون من الأكل مع أصحاب الأعذار، ويتحرجون من الأكل في البيت الموكل إليهم حفظه. ليس عليكم جناح أن تأكلوا مجتمعين أو متفرقين. فإذا دخلتم بيوتا فسلموا على أهلها تحية طيبة مباركة من عند الله. وبمثل هذا البيان يوضح الله لكم آياته لعلكم تعقلونها وتفهمونها.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī في هذه الآية
Cited by al-Ṭūsī, al-Ṭabrisī and al-Rāzī on this āyah
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنِ الْجَعْدِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رضى الله عنه قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ - قَالَ - فَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ فَقَالَتْ يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْ لَهُ بَعَثَتْ إِلَيْكَ بِهَا أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلاَمَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلاَمَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا مِنَّا لَكَ قَلِيلٌ . فَقَالَ " ضَعْهُ " . …
Narrated Al-Ja'd bin Abi 'Uthman:from Anas bin Malik: "The Messenger of Allah (ﷺ) got married, and he went in with his wife." He said: "So my mother, Umm Sulaim prepared some Hais in a Tawr (a vessel made of brass and stone) and said: 'O Anas! Take this to the Prophet (ﷺ).' I said to him: 'My mother sent this to you, and she conveys her Salam, and says: 'This is a little something from us for you.'" He said: 'Put it down.' Then he said: 'Go and invite so-and-so, so-and-so, and so-and-so for me, and whomever you meet.'" He named some people, and said: "I invited those he named, and whomever I met." - He (Al-Ja'd) said: "I said to Anas: 'How many of you were there?' He said: 'Roughly about …
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی ( زینب بنت جحش رضی الله عنہا ) کے پاس تشریف لے گئے، اس موقع پر میری ماں ام سلیم رضی الله عنہا نے حیس ۱؎ تیار کیا، اسے ایک چھوٹے برتن میں رکھا، پھر ( مجھ سے ) کہا: ( بیٹے ) انس! اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: اسے میری امی جان نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور انہوں نے آپ کو سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تھوڑا سا ہدیہ میری طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہے، اللہ کے رسول! میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میں نے عرض کیا: میری امی جان آپ کو سلام کہتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ میری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا ہدیہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے رکھ دو“، پھر فرمایا: ”جاؤ …
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ـ وَاسْمُهُ الْجَعْدُ ـ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَّ بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا مَرَّ بِجَنَبَاتِ أُمِّ سُلَيْمٍ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا بِزَيْنَبَ فَقَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ لَوْ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدِيَّةً فَقُلْتُ لَهَا افْعَلِي. فَعَمَدَتْ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَاتَّخَذَتْ حَيْسَةً فِي بُرْمَةٍ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا مَعِي إِلَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لِي " ضَعْهَا ". ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَالَ " ادْعُ لِي رِجَالاً ـ سَمَّاهُمْ ـ …
Narrated Anas bin Malik: "Whenever the Prophet (ﷺ) passed by (my mother Um-Sulaim) he used to enter her and greet her. Anas further said: Once the Prophet (ﷺ) way a bridegroom during his marriage with Zainab, Um Sulaim said to me, "Let us give a gift to Allah's Messenger (ﷺ) ." I said to her, "Do it." So she prepared Haisa (a sweet dish) made from dates, butter and dried yoghurt and she sent it with me to him. I took it to him and he said, "Put it down," and ordered me to call some men whom he named, and to invite whomever I would meet. I did what he ordered me to do, and when I returned, I found the house crowded with people and saw the Prophet (ﷺ) keeping his hand over the Haisa and …
اور ابراہیم بن طہمان نے ابوعثمان جعد بن دینار سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک سے، ابوعثمان کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے سے بنی رفاعہ کی مسجد میں ( جو بصرہ میں ہے ) گزرے۔ میں نے ان سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا آپ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے، ان کو سلام کرتے ( وہ آپ کی رضاعی خالہ ہوتی تھیں ) ۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے۔ آپ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا تو ام سلیم ( میری ماں ) مجھ سے کہنے لگیں اس وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ تحفہ بھیجیں تو اچھا ہے۔ میں نے کہا مناسب ہے۔ انہوں نے کھجور اور گھی اور پنیر ملا کر ایک …
Narrated Shaqiq bin Salama:`Abdullah said, "Whenever we prayed behind the Prophet (ﷺ) we used to recite (in sitting) 'Peace be on Gabriel, Michael, peace be on so and so. Once Allah's Messenger (ﷺ) looked back at us and said, 'Allah Himself is As-Salam (Peace), and if anyone of you prays then he should say, at-Tahiyatu li l-lahi wa ssalawatu wa t-taiyibat. As-salamu `alalika aiyuha n-Nabiyu wa rahmatu l-lahi wa barakatuh. Assalamu `alaina wa `ala `ibadi l-lahi s-salihin. (All the compliments, prayers and good things are due to Allah; peace be on you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings [be on you]. Peace be on us an on the pious subjects of Allah). (If you say that, it will reach all …
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے شقیق بن سلمہ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو کہتے ( ترجمہ ) سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر سلام ہو فلاں اور فلاں پر ( اللہ پر سلام ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اللہ تو خود ”سلام“ ہے۔ ( تم اللہ کو کیا سلام کرتے ہو ) اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یہ کہے «التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» تمام آداب بندگی، تمام عبادات اور تمام بہترین تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ آپ پر سلام ہو اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں …
Narrated Abdullah Ibn Abbas: When the verse: "O ye who believe! eat not up your property among yourselves in vanities, but let there be amongst you traffic and trade by mutual good will" was revealed, a man thought it a sin to eat in the house of another man after the revelation of this verse. Then this (injunction) was revealed by the verse in Surat an-Nur: "No blame on you whether you eat in company or separately." When a rich man (after revelation) invited a man from his people to eat food in his house, he would say: I consider it a sin to eat from it, and he said: a poor man is more entitled to it than I. The Arabic word tajannah means sin or fault. It was then declared lawful to eat …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ….. أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (1215)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (1215)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim (1215)
حَدَّثَنَا ابْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلاَّ طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الأَوَّلَ .
Jabir bin ‘Abdallah said “Neither the Prophet (ﷺ) nor his Companions ran between Al Safa’ and Al Marwah except once and that was his first running.”
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ( جنہوں نے قران کیا تھا ) صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک ہی سعی کی اپنے پہلے طواف کے وقت۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say the tashahhud saying, "In the name of Allah. Greetings belong to Allah. Prayers belong to Allah. Pure actions belong to Allah. Peace be on the Prophet and the mercy of Allah and His blessings. Peace be on us and on the slaves of Allah who are salihun. I testify that there is no god except Allah. I testify that Muhammad is the Messenger of Allah." "Bismillah, at-tahiyatu lillah, as-salawatu lillah, az-zakiyatu lillah. As-salamu ala'n-nabiyyi wa rahmatullahi wa barakatuhu. As-salamu alayna wa ala ibadi'llahi's-salihin. Shahidtu an la ilaha illallah. Shahidtu anna Muhammadu'r-rasulu'llah." He used to say this after the …
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر تشہد پڑھتے تھے اس طرح بسم اللہ التحیات لللہ کہتے تھے یہ پہلی دو رکعتوں کے بعد مانگتے تھے بعد تشہد کے جو کچھ جی چاہتا تھا پھر جب اخیر قعدہ کرتے اور اسی طرح پڑھتے مگر پہلے تشہد پڑھتے پھر دعا مانگتے جو چاہتے اور بعد تشہد کے جب سلام پھیرنے لگتے تو کہتے السلام علی البنی ورحمة اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد الصالحین السلام علیکم داہنی طرف کہتے پھر امام کے سلام کا جواب دیتے پھر اگر کوئی بائیں طرف والا ان کو سلام کرتا تو اس کو بھی جواب دیتے ۔
It was narrated from Zaid bin Khalid that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Whoever equips a warrior in the cause of Allah has fought, and whoever looks after his family in his absence has fought
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں کسی لڑنے والے کو اسلحہ اور دیگر سامان جنگ سے لیس کیا۔ اس نے ( گویا کہ ) خود جنگ میں شرکت کی، اور جس نے مجاہد کے جہاد پر نکلنے کے بعد اس کے گھر والوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی ۱؎ تو وہ بھی ( گویا کہ ) جنگ میں شریک ہوا“۔
Narrated Irbad ibn Sariyah: AbdurRahman ibn Amr as-Sulami and Hujr ibn Hujr said: We came to Irbad ibn Sariyah who was among those about whom the following verse was revealed: "Nor (is there blame) on those who come to thee to be provided with mounts, and when thou saidst: "I can find no mounts for you." We greeted him and said: We have come to see you to give healing and obtain benefit from you. Al-Irbad said: One day the Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, then faced us and gave us a lengthy exhortation at which the eyes shed tears and the hearts were afraid. A man said: Messenger of Allah! It seems as if it were a farewell exhortation, so what injunction do you give us? He then …
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ «ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه» ۱؎ نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، …
Ibn ‘Abbas said:The Messenger of Allah( may peace be upon him) used to teach us the tashahhud as he would teach us the Qur’an, and would say: The blessed adoration of the tongue, acts of worship (and) all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Peace be upon us and upon Allah’s upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is Allah’s apostle (peace be upon him)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے، آپ کہا کرتے تھے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله» آداب، بندگیاں، پاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
PickthallThey only are the true believers who believe in Allah and His messenger and, when they are with him on some common errand, go not away until they have asked leave of him. Lo! those who ask leave of thee, those are they who believe in Allah and His messenger. So, if they ask thy leave for some affair of theirs, give leave to whom thou wilt of them, and ask for them forgiveness of Allah. Lo! Allah is Forgiving, Merciful.
Yusuf AliOnly those are believers, who believe in Allah and His Messenger: when they are with him on a matter requiring collective action, they do not depart until they have asked for his leave; those who ask for thy leave are those who believe in Allah and His Messenger; so when they ask for thy leave, for some business of theirs, give leave to those of them whom thou wilt, and ask Allah for their forgiveness: for Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.
The agreed readingThose who truly believe are the ones who, when they are with the Messenger on a matter that has gathered them all - the commentaries name the Friday gathering, the festivals, war, and consultation - do not go off until they have asked his leave. Those who ask leave are the ones who believe in God and His Messenger. So when they ask leave for some affair of their own, give leave to whom you will of them, and ask God's forgiveness for them; God is forgiving and merciful.
Urduسچے مومن تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، اور جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی ایسے اجتماعی معاملے میں ہوں جو سب مسلمانوں سے متعلق ہو، اور مفسرین نے اس کی مثالوں میں جمعہ، عیدین، جہاد اور مشورہ کا ذکر کیا ہے، تو وہ اس وقت تک نہیں جاتے جب تک آپ سے جانے کی اجازت نہ لے لیں۔ جو لوگ آپ سے اجازت مانگتے ہیں وہی حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس جب وہ اپنے کسی ذاتی کام کے لیے اجازت مانگیں تو ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں، اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگیں، بیشک اللہ ان کے گناہ بخشنے والا اور ان پر رحم کرنے والا ہے۔
Arabicإنما المؤمنون الصادقون هم الذين آمنوا بالله ورسوله، وإذا كانوا مع الرسول صلى الله عليه وسلم في أمر جامع يهم المسلمين جميعا، وقد ذكر المفسرون من أمثلته صلاة الجمعة والأعياد والجهاد والمشورة، لم يذهبوا ولم ينصرفوا حتى يستأذنوه في الانصراف. إن الذين يستأذنونك في مثل هذه الأحوال هم الذين يؤمنون بالله ورسوله حقا. فإذا استأذنوك لبعض شؤونهم الخاصة فأذن لمن شئت منهم، واستغفر لهم الله، إن الله غفور لذنوبهم رحيم بهم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated AbuHurayrah: The Prophet (ﷺ) said: When one of you comes to an assembly, he should give a salutation and if he feels inclined to get up, he should give a salutation, for the former is not more of a duty than the latter
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے ( بلکہ دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے ) ۔
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever has oppressed another person concerning his reputation or anything else, he should beg him to forgive him before the Day of Resurrection when there will be no money (to compensate for wrong deeds), but if he has good deeds, those good deeds will be taken from him according to his oppression which he has done, and if he has no good deeds, the sins of the oppressed person will be loaded on him
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ ( سے ظلم کیا ہو ) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے ( مظلوم ) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ ابوعبدللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا سعید مقبری کا نام مقبری اس لیے ہوا کہ قبرستان کے قریب انہوں نے قیام کیا تھا۔ ابوعبداللہ ( …
PickthallMake not the calling of the messenger among you as your calling one of another. Allah knoweth those of you who steal away, hiding themselves. And let those who conspire to evade orders beware lest grief or painful punishment befall them.
Yusuf AliDeem not the summons of the Messenger among yourselves like the summons of one of you to another: Allah doth know those of you who slip away under shelter of some excuse: then let those beware who withstand the Messenger's order, lest some trial befall them, or a grievous penalty be inflicted on them.
The agreed readingDo not address the Messenger the way you address one another. The commentaries agree on it exactly: not O Muhammad, but O Prophet of God, O Messenger of God, said gently and with the voice lowered. God knows those who slip away from the gathering under cover of others; and let those who go against his command beware of a trial that may strike them, or a painful punishment.
Urduرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپس میں اس طرح مت پکارو جیسے تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ روایات میں مل کر یہ بیان ہوا ہے کہ ادب یہ ہے کہ کہا جائے: اے اللہ کے نبی، اے اللہ کے رسول، نرمی اور دھیمی آواز کے ساتھ، نہ کہ محض اے محمد۔ اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو دوسروں کی آڑ میں چپکے سے مجلس سے نکل جاتے ہیں بغیر اجازت کے، پس جو لوگ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں دنیا میں کوئی فتنہ یا آخرت میں دردناک عذاب انہیں آ نہ لے۔
Arabicلا تنادوا الرسول صلى الله عليه وسلم فيما بينكم بمجرد اسمه كما ينادي بعضكم بعضا. وقد اتفقت الروايات على أن الأدب هو أن يقال: يا نبي الله، يا رسول الله، بصوت خافض ولين، لا يا محمد. قد يعلم الله الذين ينسلون من المجلس متسللين مستترين وراء غيرهم دون استئذان، فليحذر الذين يخالفون أمر الرسول أن تصيبهم فتنة في الدنيا أو يصيبهم عذاب أليم في الآخرة.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفِ الصَّلاَةَ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَفِيهِمُ الضَّعِيفَ وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ فَلْيُطِلْ صَلاَتَهُ مَا شَاءَ " .
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira transmitted to us from Muhammad the Messenger of Allah (ﷺ), and he narrated (some) ahadith out of (these narrations and one of them is this): The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you stands to lead people In prayer, he should shorten it, for amongst them are the aged, and amongst them are the weak, but when he prays by himself, he may prolong his prayer as he likes
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں یہ احادیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمد رسو اللہﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں کا امام بنے تو وہ نماز میں تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو اپنی نماز جتنی چاہے طویل کر لے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 1> </ہیڈنگ 1>
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْرِدُوا عَنِ الْحَرِّ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira narrated to us from the Prophet and he transmitted some ahadith-one of them was that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Let the heat become less severe before prayer, for the intensity of heat is from the exhalation of Hell
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے بیان کیں ، پھر انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ : اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’نمازوں میں گرمی سے بچنے کے لیے ( وقت ) ٹھنڈا ہونے دو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘
PickthallLo! verily unto Allah belongeth whatsoever is in the heavens and the earth. He knoweth your condition. And (He knoweth) the Day when they are returned unto Him so that He may inform them of what they did. Allah is Knower of all things.
Yusuf AliBe quite sure that to Allah doth belong whatever is in the heavens and on earth. Well doth He know what ye are intent upon: and one day they will be brought back to Him, and He will tell them the truth of what they did: for Allah doth know all things.
The agreed readingEverything in the heavens and the earth belongs to God, by making and by ownership. He knows already what state you are in, and He knows the day when they will be returned to Him, and He will tell them then what they did. God knows everything.
Urduخبردار! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ صرف اللہ ہی کی ملکیت اور تخلیق ہے، اور وہی تمہاری تمام حالتوں اور نیتوں کو خوب جانتا ہے، اور اس دن کو بھی جانتا ہے جب وہ سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے، تو وہ انہیں اس دن ان کے اچھے اور برے اعمال کی حقیقت بتا دے گا۔ اور اللہ اپنی مخلوق کی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، اس سے کچھ پوشیدہ نہیں۔
Arabicألا إن لله وحده ملكا وخلقا كل ما في السماوات والأرض، وقد يعلم سبحانه ما أنتم عليه من الأحوال والنيات، ويعلم يوم يرجعون إليه للحساب، فينبئهم يومئذ بحقيقة ما عملوه من خير أو شر. والله بكل شيء من أمور خلقه عليم لا يخفى عليه شيء.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from 'Aishah that she said:"Praise be to Allah Whose hearing encompasses all voices. Khawlah came to the Messenger of Allah complaining about her husband, but I could not hear what she said. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: 'Indeed Allah has heard the statement of her that disputes with you concerning her husband, and complains to Allah. And Allah hears the argument between you both
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو ہر آواز سنتا ہے، خولہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں ( کہ انہوں نے ان سے ظہار کر لیا ہے ) ان کی باتیں مجھے سنائی نہ پڑ رہی تھیں، تو اللہ عزوجل نے «قد سمع اللہ قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى اللہ واللہ يسمع تحاوركما» اتاری ( جس سے ہم سبھی کو معلوم ہو گیا کہ کیا باتیں ہو رہی تھیں ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلاَةِ فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَبَبْتُهُ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ قَالَ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه …
Narrated `Umar bin Khattab:I heard Hisham bin Hakim bin Hizam reciting Surat-al-Furqan during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), and I listened to his recitation and noticed that he recited it in several ways which Allah's Messenger (ﷺ) had not taught me. So I was on the point of attacking him in the prayer, but I waited till he finished his prayer, and then I seized him by the collar and said, "Who taught you this Surah which I have heard you reciting?" He replied, "Allah's Messenger (ﷺ) taught it to me." I said, "You are telling a lie; By Allah! Allah's Messenger (ﷺ) taught me (in a different way) this very Surah which I have heard you reciting." So I took him, leading him to Allah's …
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے مسعود بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے خبر دی کہ ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں ان کی قرآت کو غور سے سننے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے بہت سے طریقوں میں تلاوت کر رہے تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں سکھایا تھا۔ ممکن تھا کہ میں نماز ہی میں ان کا سر پکڑ لیتا لیکن میں نے انتظار کیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر لپیٹ دی اور پوچھا یہ سورتیں جنہیں ابھی ابھی تمہیں پڑھتے ہوئے میں نے سنا ہے …
Narrated `Umar bin Al-Khattab:I heard Hisham bin Hakim reciting Surat-al-Furqan during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), I listened to his recitation and noticed that he was reciting in a way that Allah's Messenger (ﷺ) had not taught me. I was about to jump over him while He was still in prayer, but I waited patiently and when he finished his prayer, I put my sheet round his neck (and pulled him) and said, "Who has taught you this Sura which I have heard you reciting?" Hisham said, "Allah's Messenger (ﷺ) taught it to me." I said, "You are telling a lie, for he taught it to me in a way different from the way you have recited it!" Then I started leading (dragged) him to Allah's Messenger …
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے، ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں نے دیکھا کہ وہ قرآن مجید بہت سے ایسے طریقوں سے پڑھ رہے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں پڑھائے تھے۔ قریب تھا کہ نماز ہی میں ان پر میں ہلہ کر دوں لیکن میں نے صبر سے کام لیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی گردن میں اپنی چادر کا پھندا لگا دیا اور ان سے کہا تمہیں یہ سورت اس طرح کس نے پڑھائی جسے …
Narrated Al-Qasim bin Abi Bazza:That he asked Sa`id bin Jubair, "Is there any repentance of the one who has murdered a believer intentionally?" Then I recited to him:-- "Nor kill such life as Allah has forbidden except for a just cause." Sa`id said, "I recited this very Verse before Ibn `Abbas as you have recited it before me. Ibn `Abbas said, 'This Verse was revealed in Mecca and it has been abrogated by a Verse in Surat-An-Nisa which was later revealed in Medina
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے قاسم بن ابی بزہ نے خبر دی، انہوں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو کیا اس کی اس گناہ سے توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ ( ابن ابی بزہ نے بیان کیا کہ ) میں نے اس پر یہ آیت پڑھی «ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» کہ ”اور جس جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہ کرتے، مگر ہاں حق کے ساتھ۔“ سعید بن جبیر نے کہا کہ میں نے بھی یہ آیت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے پڑھی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ مکی آیت اور مدنی آیت جو اس سلسلہ میں سورۃ نساء میں ہے اس سے اس کا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔