PickthallGlorified be He Who carried His servant by night from the Inviolable Place of Worship to the Far distant place of worship the neighbourhood whereof We have blessed, that We might show him of Our tokens! Lo! He, only He, is the Hearer, the Seer.
Yusuf AliGlory to (Allah) Who did take His servant for a Journey by night from the Sacred Mosque to the farthest Mosque, whose precincts We did bless,- in order that We might show him some of Our Signs: for He is the One Who heareth and seeth (all things).
The agreed readingGlory to the One who carried His servant by night from the Sacred Mosque to the Farthest Mosque, whose surroundings We have blessed, to show him of Our signs. The sūrah opens on the journey it is named for, and the commentaries note that the sentence begins by glorifying God rather than by praising the one carried. He is the Hearing, the Seeing.
Urduپاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی، جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں۔ یہ سورت اسی سفر یعنی اسراء کے بیان سے شروع ہوتی ہے، جس کی نسبت سے اس کا نام رکھا گیا ہے، اور مفسرین نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ یہ جملہ نبی کریم کی تعریف سے نہیں بلکہ اللہ کی تسبیح سے شروع ہوتا ہے۔ وہی سب کچھ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔
Arabicسبحان الذي أسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى الذي باركنا حوله، لنريه من آياتنا. افتتحت هذه السورة بهذه الرحلة التي سميت باسمها، وقد نبه المفسرون إلى أن الجملة بدأت بتنزيه الله لا بمدح المسرى به. إنه هو السميع البصير.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 4 من كتب أهل السنة، 4 من كتب الشيعة8 reports cited here — 4 Sunnī, 4 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 4 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Maḥallī and al-Suyūṭī، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr, al-Maḥallī and al-Suyūṭī and Ṭabāṭabāʾī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Maḥallī and al-Suyūṭī، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا
It is narrated on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:I was brought al-Buraq Who is an animal white and long, larger than a donkey but smaller than a mule, who would place his hoof a distance equal to the range of version. I mounted it and came to the Temple (Bait Maqdis in Jerusalem), then tethered it to the ring used by the prophets. I entered the mosque and prayed two rak'ahs in it, and then came out and Gabriel brought me a vessel of wine and a vessel of milk. I chose the milk, and Gabriel said: You have chosen the natural thing. Then he took me to heaven. Gabriel then asked the (gate of heaven) to be opened and he was asked who he was. He replied: …
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے براق لایا گیا۔ اور وہ ایک جانور ہے سفید رنگ کا گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا اپنے سم وہاں رکھتا ہے، جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے (تو ایک لمحہ میں آسمان تک جا سکتا ہے) میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس تک آیا۔ وہاں اس جانور کو حلقہ سے باندھ دیا۔ جس سے اور پیغمبر اپنے اپنے جانوروں کو باندھا کرتے تھے (یہ حلقہ مسجد کے دروازے پر ہے اور باندھ دینے سے معلوم ہوا کہ انسان کو اپنی چیزوں کی احتیاط اور حفاظت ضروری ہے اور یہ توکل کے خلاف نہیں) پھر میں مسجد کے اندر گیا اور دو رکعتیں نماز کی پڑھیں بعد اس کے باہر نکلا تو جبرئیل علیہ السلام دو برتن لے کر آئے ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ میں نے دودھ پسند …
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ " بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ ـ وَرُبَّمَا قَالَ فِي الْحِجْرِ ـ مُضْطَجِعًا، إِذْ أَتَانِي آتٍ فَقَدَّ ـ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فَشَقَّ ـ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ ـ فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ وَهْوَ إِلَى جَنْبِي مَا يَعْنِي بِهِ قَالَ مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مِنْ قَصِّهِ إِلَى شِعْرَتِهِ ـ فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِي، ثُمَّ أُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءَةٍ إِيمَانًا، فَغُسِلَ قَلْبِي ثُمَّ حُشِيَ، …
Narrated Anas bin Malik:Malik bin Sasaa said that Allah's Messenger (ﷺ) described to them his Night Journey saying, "While I was lying in Al-Hatim or Al-Hijr, suddenly someone came to me and cut my body open from here to here." I asked Al-Jarud who was by my side, "What does he mean?" He said, "It means from his throat to his pubic area," or said, "From the top of the chest." The Prophet (ﷺ) further said, "He then took out my heart. Then a gold tray of Belief was brought to me and my heart was washed and was filled (with Belief) and then returned to its original place. Then a white animal which was smaller than a mule and bigger than a donkey was brought to me." (On this Al-Jarud asked, …
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شب معراج کا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا۔ بعض دفعہ قتادہ نے حطیم کے بجائے حجر بیان کیا کہ میرے پاس ایک صاحب ( جبرائیل علیہ السلام ) آئے اور میرا سینہ چاک کیا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ یہاں سے یہاں تک۔ میں نے جارود سے سنا جو میرے قریب ہی بیٹھے تھے۔ پوچھا کہ انس رضی اللہ عنہ کی اس لفظ سے کیا مراد تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ حلق سے ناف تک چاک کیا ( قتادہ نے بیان کیا کہ ) …
Narrated Anas bin Malik:The night Allah's Messenger (ﷺ) was taken for a journey from the sacred mosque (of Mecca) Al-Ka`ba: Three persons came to him (in a dreamy while he was sleeping in the Sacred Mosque before the Divine Inspiration was revealed to Him. One of them said, "Which of them is he?" The middle (second) angel said, "He is the best of them." The last (third) angle said, "Take the best of them." Only that much happened on that night and he did not see them till they came on another night, i.e. after The Divine Inspiration was revealed to him. (Fath-ul-Bari Page 258, Vol. 17) and he saw them, his eyes were asleep but his heart was not----and so is the case with the prophets: their …
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے شریک بن عبداللہ بن ابی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے وہ واقعہ بیان کیا جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کعبہ سے معراج کے لیے لے جایا گیا کہ وحی آنے سے پہلے آپ کے پاس فرشتے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام میں سوئے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ ان میں سب سے بہتر ہیں تیسرے نے کہا کہ ان میں جو سب سے بہتر ہیں انہیں لے لو۔ اس رات کو بس اتنا ہی واقعہ پیش آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد انہیں نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ وہ دوسری رات آئے جب کہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا اور آپ …
Anas b. Malik, while recounting the Night journey of the Prophet (ﷺ), from the mosque of Ka'bah, reported:Three beings (angels) came to him in the mosque of the Ka'bah, while he was sleeping in the sacred mosque before it (the Command of Night Journey and Accension) was revealed to him. The rest of the hadith is narrated like that of Thabit. However, some portions have occurred before and some of them have occurred after; some have been added and some deleted
شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر نے حدیث سنائی ( کہا ) : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ ہمیں اس رات کے بارے میں حدیث سنا رہے تھے جس میں رسول اللہ ﷺ کو مسجد کعبہ سے رات کے سفر پر لے جایا گیا کہ آپ کی طرف وحی کیے جانے سے پہلے آپ کے پاس تین نفر ( فرشتے ) آئے ، اس وقت آپ مسجد حرام میں سوئے تھے ۔ شریک نے ’’واقعہ اسراء ‘ ‘ ثابت بنانی کی حدیث کی طرح سنایا اور اس میں کچھ چیزوں کو آگے پیچھے کر دیا اور ( کچھ میں ) کمی بیشی کی ۔ ( امام مسلم نے یہ تفصیل بتا کر پوری ورایت نقل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔)
96. Amīr al-mu’minīn, peace be upon him, said: The persons most attached to the prophets are those who know most what the prophets have brought. Then Amīr al-mu’minīn recited the verse: “Verily, of men the nearest to Abraham are surely those who followed him and this (Our) Prophet (Muḥammad) and those who believe.” (Qur’ān, 3:68) Then he said: The friend of Muḥammad is he who obeys Allāh, even though he may have no blood relationship, and the enemy of Muḥammad is he who disobeys Allāh even though he may have near kinship.
اور کہا (علیہ السلام): بے شک لوگوں میں سے انبیاء کے سب سے قریب وہ ہیں جو اس چیز کو سب سے زیادہ جانتے ہیں جو انبیاء لے کر آئے ہیں۔ پھر تلاوت کیا (علیہ السلام): {إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ} پھر کہا (علیہ السلام): بے شک محمد کا ولی وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے، اگرچہ اس کا رشتہ دور ہو، اور بے شک محمد کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے، اگرچہ اس کا رشتہ قریب ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[380/2] التوحيد: ابن الوليد، عن الصفار، عن ابن هاشم، عن ابن أبي عمير، عن هشام بن سالم، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قلت: فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا قال: التوحيد
2. [2/380] al-Tawhid: Ibn al-Walid from al-Saffar from Ibn Hashim from Ibn Abi Umayr from Hisham b. Salim from Abi Abdillah عليه السلام. He (Hisham) said: I said: “The Fitra of Allah which He created the people upon” (30:30)? He (the Imam) said: (that is) Tawhid.
یہ حدیث التوحید کے باب میں ہے۔ ابن الوليد نے الصفار سے حدیث روایت کی، انہوں نے ابن ہاشم سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے ہشام بن سالم سے، انہوں نے ابواعبداللہ علیہ السلام سے۔ ہشام بن سالم بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام سے کہا: اللہ تعالیٰ کا فطرت جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے - امام علیہ السلام نے جواب دیا: وہ توحید ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
4. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when the Messenger of Allah passed away they (people) heard a voice, but did not see anyone in person, saying, ‘Every soul is to experience the taste of death. You will certainly receive your reward on the Day of Judgment. Whoever is saved from the fire and is admitted in paradise, has become successful indeed.’ It also said, ‘In (the mercy of) Allah are good consequences for everyone who dies, solace for all forms of sorrow and compensation for every loss. In Allah, you must trust and in Him only place your hope. Deprived person, in …
علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے روایت کی، ان کے والد نے ابن ابی عمیر سے روایت کی، ابن ابی عمیر نے ہشام بن سالم سے روایت کی، ہشام نے کہا کہ ابو عبد الله (علیہ السلام) نے فرمایا: جب نبی (صلی الله علیہ وآلہ) کا انتقال ہوا تو لوگوں نے ایک آواز سنی مگر کوئی شخص نہ دیکھا۔ وہ کہہ رہی تھی: ہر نفس موت کا مزہ چکھے گا۔ اور تمہیں تمہارے اجر قیامت کے دن ہی دیے جائیں گے۔ تو جو شخص آگ سے بچایا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے وہ فوز پایا۔ اور کہا: الله میں ہر ہلاک ہونے والے کی جانشینی ہے، ہر مصیبت میں تسلی ہے، اور ہر ضائع چیز میں بدلہ ہے۔ پس الله پر اعتماد رکھو، اسی سے اپنی امید رکھو۔ اور یقیناً محروم وہ ہے جو ثواب سے محروم ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, says, ‘One who is occupied in speaking of Me instead of asking Me for help, I will grant him better than what 1 am to grant to one who asks Me for help.’”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی، وہ ابن ابی عمیر سے، وہ ہشام بن سالم سے، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل فرماتے ہیں: جو شخص میری یاد میں مشغول ہو کر سوال کرنے سے غافل رہے تو میں اسے بہتر دوں گا اس سے جو میں سوال کرنے والوں کو دیتا ہوں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWe gave unto Moses the Scripture, and We appointed it a guidance for the children of Israel, saying: Choose no guardian beside Me.
Yusuf AliWe gave Moses the Book, and made it a Guide to the Children of Israel, (commanding): "Take not other than Me as Disposer of (your) affairs."
The agreed readingAnd We gave Moses the Book and made it a guidance for the Children of Israel: take no one besides Me to put your affairs in the hands of.
Urduاور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب یعنی تورات عطا کی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنا دیا، اور حکم دیا کہ میرے سوا کسی اور کو اپنا کارساز نہ بناؤ۔
Arabicوآتينا موسى عليه السلام الكتاب وهو التوراة، وجعلناه هدى وبيانا للحق لبني إسرائيل جميعا، وأمرناهم ألا يتخذوا من دوني أحدا أبدا وكيلا يفوضون إليه أمورهم كلها.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik: That the Prophet (ﷺ) said: "Indeed Allah is pleased with the slave who, upon eating his food or drinking his drink, he praises Him for it." He said: There are narrations on this topic from 'Uqbah bin 'Amir, Abu Sa'eed, 'Aishah, Abu Ayyub, and Abu Hurairah. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan. More than one narrator has reported it from Zakariyya bin Abi Za'idah similarly, and we do not know of it except through the narration of Zakariyya bin Abi Za'idah
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو ایک لقمہ کھاتا ہے یا ایک گھونٹ پیتا ہے، تو اس پر اللہ کی تعریف کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- زکریا بن ابی زائدہ سے اسے کئی لوگوں نے اسی طرح روایت کیا ہے، ہم اسے صرف زکریا بن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں عقبہ بن عامر، ابوسعید، عائشہ، ابوایوب اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Abu Huraira:Some (cooked) meat was brought to Allah's Apostle and the meat of a forearm was presented to him as he used to like it. He ate a morsel of it and said, "I will be the chief of all the people on the Day of Resurrection. Do you know the reason for it? Allah will gather all the human beings of early generations as well as late generations on one plain so that the announcer will be able to make them all hear his voice and the watcher will be able to see all of them. The sun will come so close to the people that they will suffer such distress and trouble as they will not be able to bear or stand. Then the people will say, 'Don't you see to what state you have reached? Won't …
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ابوحیان (یحییٰ بن سعید) تیمی نے خبر دی۔ انہیں ابوزرعہ (ہرم) بن عمرو بن جریر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دست کا حصہ آپ کو پیش کیا گیا۔ تو آپ نے اپنے دانتوں سے اسے ایک بار نوچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت بہت پسند تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں سب لوگوں کا سردار ہوں گا تمہیں معلوم بھی ہے یہ کون سا دن ہو گا؟ اس دن دنیا کے شروع سے قیامت کے دن تک کی ساری خلقت ایک چٹیل میدان میں جمع ہو گی کہ ایک پکارنے والے کی آواز سب کے کانوں تک پہنچ سکے گی اور ایک نظر سب کو دیکھ سکے گی۔ سورج بالکل قریب ہو …
Abu Hurairah narrated:""Some meat was brought to the Prophet (s.a.w) and a foreleg was presented to him, and he used to like it, so he bit from it. Then he said: 'I will be the 'Leader' of the people on the Day of Resurrection. Do you know why that is? Allah will gather the people, the first and the last, on one level ground where they will (all) be able to hear a caller, and all of them will be visible, and the sun will be brought near such that the people will suffer distress and trouble that they cannot tolerate nor bear. Then some people will say: "Don't you see the state you have reached? Why don't you look for a person who can intercede for you with your Lord? " Some of them will say …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا، اس میں سے آپ کو دست کا گوشت دیا گیا جو کہ آپ کو بہت پسند تھا، اسے آپ نے نوچ نوچ کر کھایا، پھر فرمایا: ”قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار رہوں گا، کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے؟ وہ اس لیے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ایک ہموار کشادہ زمین پر اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کرے گا، جنہیں ایک پکارنے والا آواز دے گا اور انہیں ہر نگاہ والا دیکھ سکے گا، سورج ان سے بالکل قریب ہو گا جس سے لوگوں کا غم و کرب اس قدر بڑھ جائے گا جس کی نہ وہ طاقت رکھیں گے اور نہ ہی اسے برداشت کر سکیں گے، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا نہیں دیکھتے کہ تمہاری مصیبت کہاں تک پہنچ گئی ہے، ایسے شخص کو کیوں نہیں دیکھتے جو تمہارے رب سے تمہارے لیے …
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Allah is pleased with His servant who says: Al-Hamdu lillah while taking a morsel of food and while drinking
ابواسامہ اور محمد بن بشر نے زکریا بن ابی زائدہ سے ، انہوں نے سعید بن ابی بُردہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس بات پر ( اپنے ) بندے سے راضی ہوتا ہے کہ وہ ایک کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی حمد کرے یا پینے کی کوئی چیز ( پانی ، دودھ وغیرہ ) پیے اور اس پر اللہ کی حمد کرے ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقَدِّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ وَغَيْرُهُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُسَمِّ حُذَيْفَةَ .
Narrated Hudhayfah: The Prophet (ﷺ) said: Do not fast (for Ramadan) before the coming of the month until you sight the moon or complete the number (of thirty days); then fast until you sight the moon or complete the number (of thirty days)
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھے بغیر یا مہینے کی گنتی پوری کئے بغیر پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو، بلکہ چاند دیکھ کر یا گنتی پوری کر کے روزے رکھو ۔
Pickthall(They were) the seed of those whom We carried (in the ship) along with Noah. Lo! he was a grateful slave.
Yusuf AliO ye that are sprung from those whom We carried (in the Ark) with Noah! Verily he was a devotee most grateful.
The agreed readingDescendants of those We carried with Noah — he was a thankful servant. The commentaries note the reminder folded into the address: the line being spoken to is descended from a man whose one named quality was thankfulness.
Urduاے ان لوگوں کی اولاد جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا، بےشک وہ ایک شکر گزار بندہ تھے۔ مفسرین نے اس خطاب میں چھپی یاد دہانی کی طرف اشارہ کیا ہے: جن سے یہ بات کہی جا رہی ہے وہ اسی شخص کی نسل سے ہیں جس کی صرف ایک صفت شکر گزاری بیان کی گئی تھی۔
Arabicيا ذرية من حملنا مع نوح في السفينة، إنه كان عبدا شكورا. وقد نبه المفسرون إلى ما في هذا الخطاب من تذكير: أن هؤلاء المخاطبين هم ذرية رجل لم يوصف إلا بصفة الشكر.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 4 من كتب أهل السنة، 5 من كتب الشيعة9 reports cited here — 4 Sunnī, 5 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 5 شیعہ کتب سے
Narrated Anas bin Malik: That the Prophet (ﷺ) said: "Indeed Allah is pleased with the slave who, upon eating his food or drinking his drink, he praises Him for it." He said: There are narrations on this topic from 'Uqbah bin 'Amir, Abu Sa'eed, 'Aishah, Abu Ayyub, and Abu Hurairah. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan. More than one narrator has reported it from Zakariyya bin Abi Za'idah similarly, and we do not know of it except through the narration of Zakariyya bin Abi Za'idah
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو ایک لقمہ کھاتا ہے یا ایک گھونٹ پیتا ہے، تو اس پر اللہ کی تعریف کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- زکریا بن ابی زائدہ سے اسے کئی لوگوں نے اسی طرح روایت کیا ہے، ہم اسے صرف زکریا بن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں عقبہ بن عامر، ابوسعید، عائشہ، ابوایوب اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
5. It is narrated from him (narrator of the Hadith above) from ibn Mahbub from ‘Amr ibn Shamir from Jabir from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, is compassionate. He loves kindheartedness and awards for it with such things that He does not give due to rudeness.”
عنہ عن ابن محبوب عن عمرو بن شمر عن جابر عن ابی جعفر (علیہ السلام) نے کہا: الله تعالیٰ رفیق ہے۔ وہ رفق اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور رفق پر ایسا عطا کرتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abu Huraira:Some (cooked) meat was brought to Allah's Apostle and the meat of a forearm was presented to him as he used to like it. He ate a morsel of it and said, "I will be the chief of all the people on the Day of Resurrection. Do you know the reason for it? Allah will gather all the human beings of early generations as well as late generations on one plain so that the announcer will be able to make them all hear his voice and the watcher will be able to see all of them. The sun will come so close to the people that they will suffer such distress and trouble as they will not be able to bear or stand. Then the people will say, 'Don't you see to what state you have reached? Won't …
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ابوحیان (یحییٰ بن سعید) تیمی نے خبر دی۔ انہیں ابوزرعہ (ہرم) بن عمرو بن جریر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دست کا حصہ آپ کو پیش کیا گیا۔ تو آپ نے اپنے دانتوں سے اسے ایک بار نوچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت بہت پسند تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں سب لوگوں کا سردار ہوں گا تمہیں معلوم بھی ہے یہ کون سا دن ہو گا؟ اس دن دنیا کے شروع سے قیامت کے دن تک کی ساری خلقت ایک چٹیل میدان میں جمع ہو گی کہ ایک پکارنے والے کی آواز سب کے کانوں تک پہنچ سکے گی اور ایک نظر سب کو دیکھ سکے گی۔ سورج بالکل قریب ہو …
9. Abu Ali al-Ash‘ariy has narrated from Muhammad ibn Salim from Ahmad ibn al-Nadr from ‘Amr ibn Shamir from Jabir who has said the following: “Abu Ja‘far (a.s.), has said that when al-Husayn (a.s.), was murdered, he wore a dark color Jubbah (gown) of al-Khazz (garments made of skin or fur of an animal that lives in water). They found thirty-three torn spots in it because of being hit with swords, spears or arrows.’”
ابو علی الأشعری نے محمد بن سالم سے، احمد بن النضر سے، عمرو بن شمر سے، جابر سے روایت کی ہے کہ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: حسین بن علی علیہ السلام کو شہید کیا گیا اور ان پر سیاہ رنگ کی خز کا جبہ تھا۔ تو انہوں نے اس میں تیس تین زخم پائے، تلوار کے ضربوں، نیزے کے گھونسوں اور تیروں سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن الكاهليّ فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن أحمد بن محمّد بن أبي نصر البزنطيّ، عن عبد اللّه ابن يحيى الكاهليّ.
And whatever is narrated from Al-Kahili, I have narrated it from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sad ibn Abdullah, from Ahmad ibn Muhammad ibn Isa, from Ahmad ibn Muhammad ibn Abi Nasr Al-Bazanti, from Abdullah ibn Yahya Al-Kahili.
اور جو کچھ الكاهلي سے روایت ہے تو میں نے اسے اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کی - سعد بن عبداللہ سے، احمد بن محمد بن عیسى سے، احمد بن محمد بن ابي نصر البزنطي سے، عبداللہ ابن يحيى الكاهلي سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن محمّد بن حمران؛ و جميل بن درّاج فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن يعقوب بن يزيد، عن محمّد بن أبي عمير، عن محمّد بن حمران؛ و جميل بن درّاج.
Everything in this book that is narrated from Muhammad ibn Hurman and Jamil ibn Darraj has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ya'qub ibn Yazid, from Muhammad ibn Abi 'Umayr, from Muhammad ibn Hurman and Jamil ibn Darraj.
اور جو اس میں محمد بن حمران اور جميل بن دراج سے ہے تو میں نے اسے اپنے والد رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے، والد نے سعد بن عبد الله سے، سعد نے يعقوب بن يزيد سے، يعقوب نے محمد بن أبي عمير سے، محمد نے محمد بن حمران اور جميل بن دراج سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن يعقوب بن عثيم فقد رويته عن محمّد بن موسى بن المتوكّل- رضي اللّه عنه- عن عليّ بن إبراهيم بن هاشم، عن محمّد بن أبي عمير، عن يعقوب بن عثيم. و رويته عن أبي- رحمه اللّه- عن سعد بن عبد اللّه، عن يعقوب بن يزيد، عن محمّد بن أبي عمير، عن يعقوب بن عثيم.
Everything in this book that is narrated from Ya'qub ibn 'Athim has been transmitted by me from Muhammad ibn Musa ibn Al-Mutawakkil - may Allah (swt) be pleased with him - from Ali ibn Ibrahim ibn Hashim, from Muhammad ibn Abi Umayr, from Ya'qub ibn 'Athim. I have also narrated it from my father - may Allah (swt) have mercy on him - from Sa'd ibn Abdullah, from Ya'qub ibn Yazid, from Muhammad ibn Abi Umayr, from Ya'qub ibn 'Athim.
اور جو کچھ اس کتاب میں یعقوب بن عثیم سے روایت کی گئی ہے تو میں نے اسے محمد بن موسیٰ بن المتوکل - رضی اللہ عنہ - سے روایت کیا، وہ علی بن ابراہیم بن ہاشم سے، وہ محمد بن ابی عمیر سے، وہ یعقوب بن عثیم سے۔ اور میں نے اسے اپنے باپ - رحمہ اللہ - سے روایت کیا، وہ سعد بن عبد اللہ سے، وہ یعقوب بن یزید سے، وہ محمد بن ابی عمیر سے، وہ یعقوب بن عثیم سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Hurairah narrated:""Some meat was brought to the Prophet (s.a.w) and a foreleg was presented to him, and he used to like it, so he bit from it. Then he said: 'I will be the 'Leader' of the people on the Day of Resurrection. Do you know why that is? Allah will gather the people, the first and the last, on one level ground where they will (all) be able to hear a caller, and all of them will be visible, and the sun will be brought near such that the people will suffer distress and trouble that they cannot tolerate nor bear. Then some people will say: "Don't you see the state you have reached? Why don't you look for a person who can intercede for you with your Lord? " Some of them will say …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا، اس میں سے آپ کو دست کا گوشت دیا گیا جو کہ آپ کو بہت پسند تھا، اسے آپ نے نوچ نوچ کر کھایا، پھر فرمایا: ”قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار رہوں گا، کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے؟ وہ اس لیے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ایک ہموار کشادہ زمین پر اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کرے گا، جنہیں ایک پکارنے والا آواز دے گا اور انہیں ہر نگاہ والا دیکھ سکے گا، سورج ان سے بالکل قریب ہو گا جس سے لوگوں کا غم و کرب اس قدر بڑھ جائے گا جس کی نہ وہ طاقت رکھیں گے اور نہ ہی اسے برداشت کر سکیں گے، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا نہیں دیکھتے کہ تمہاری مصیبت کہاں تک پہنچ گئی ہے، ایسے شخص کو کیوں نہیں دیکھتے جو تمہارے رب سے تمہارے لیے …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقَدِّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ وَغَيْرُهُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُسَمِّ حُذَيْفَةَ .
Narrated Hudhayfah: The Prophet (ﷺ) said: Do not fast (for Ramadan) before the coming of the month until you sight the moon or complete the number (of thirty days); then fast until you sight the moon or complete the number (of thirty days)
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھے بغیر یا مہینے کی گنتی پوری کئے بغیر پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو، بلکہ چاند دیکھ کر یا گنتی پوری کر کے روزے رکھو ۔
PickthallAnd We decreed for the Children of Israel in the Scripture: Ye verily will work corruption in the earth twice, and ye will become great tyrants.
Yusuf AliAnd We gave (Clear) Warning to the Children of Israel in the Book, that twice would they do mischief on the earth and be elated with mighty arrogance (and twice would they be punished)!
The agreed readingAnd We decreed for the Children of Israel in the Book: you will work corruption in the earth twice, and you will rise to a great height.
Urduاور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ بتا دیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد برپا کرو گے اور بہت بڑی سرکشی اختیار کرو گے۔
Arabicوقضينا إلى بني إسرائيل جميعا في الكتاب المنزل عليهم أنهم سيفسدون حقا في الأرض مرتين اثنتين متتاليتين، وأنهم سيتجبرون ويطغون علوا كبيرا لا يخفى على أحد.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Huraira:Some (cooked) meat was brought to Allah's Apostle and the meat of a forearm was presented to him as he used to like it. He ate a morsel of it and said, "I will be the chief of all the people on the Day of Resurrection. Do you know the reason for it? Allah will gather all the human beings of early generations as well as late generations on one plain so that the announcer will be able to make them all hear his voice and the watcher will be able to see all of them. The sun will come so close to the people that they will suffer such distress and trouble as they will not be able to bear or stand. Then the people will say, 'Don't you see to what state you have reached? Won't …
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ابوحیان (یحییٰ بن سعید) تیمی نے خبر دی۔ انہیں ابوزرعہ (ہرم) بن عمرو بن جریر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دست کا حصہ آپ کو پیش کیا گیا۔ تو آپ نے اپنے دانتوں سے اسے ایک بار نوچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت بہت پسند تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں سب لوگوں کا سردار ہوں گا تمہیں معلوم بھی ہے یہ کون سا دن ہو گا؟ اس دن دنیا کے شروع سے قیامت کے دن تک کی ساری خلقت ایک چٹیل میدان میں جمع ہو گی کہ ایک پکارنے والے کی آواز سب کے کانوں تک پہنچ سکے گی اور ایک نظر سب کو دیکھ سکے گی۔ سورج بالکل قریب ہو …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقَدِّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ وَغَيْرُهُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُسَمِّ حُذَيْفَةَ .
Narrated Hudhayfah: The Prophet (ﷺ) said: Do not fast (for Ramadan) before the coming of the month until you sight the moon or complete the number (of thirty days); then fast until you sight the moon or complete the number (of thirty days)
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھے بغیر یا مہینے کی گنتی پوری کئے بغیر پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو، بلکہ چاند دیکھ کر یا گنتی پوری کر کے روزے رکھو ۔
PickthallSo when the time for the first of the two came, We roused against you slaves of Ours of great might who ravaged (your) country, and it was a threat performed.
Yusuf AliWhen the first of the warnings came to pass, We sent against you Our servants given to terrible warfare: They entered the very inmost parts of your homes; and it was a warning (completely) fulfilled.
The agreed readingSo when the first of the two came, We sent against you servants of Ours of great force, and they went through the homes — a promise carried out. The commentaries note the word for those sent: they were servants of God even in doing this.
Urduچنانچہ جب ان دونوں میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے ایسے بندے بھیجے جو زبردست قوت والے تھے، وہ گھروں کے اندر تک گھس گئے، اور یہ ایک ایسا وعدہ تھا جو پورا ہو کر ہی رہا۔ مفسرین نے اس لفظ پر توجہ دلائی ہے جو ان بھیجے جانے والوں کے لیے استعمال ہوا: وہ یہ کام کرتے ہوئے بھی اللہ کے بندے ہی کہلائے۔
Arabicفإذا جاء وعد أولاهما بعثنا عليكم عبادا لنا أولي بأس شديد فجاسوا خلال الديار، وكان وعدا مفعولا لا محالة. وقد نبه المفسرون إلى وصفهم بأنهم عباد لنا مع ما فعلوه.
PickthallThen we gave you once again your turn against them, and We aided you with wealth and children and made you more in soldiery.
Yusuf AliThen did We grant you the Return as against them: We gave you increase in resources and sons, and made you the more numerous in man-power.
The agreed readingThen We gave you back the turn against them, and supported you with wealth and sons, and made you greater in number.
Urduپھر ہم نے تمہیں دوبارہ ان پر غلبہ عطا کیا، اور تمہیں مال اور اولاد کے ذریعے مدد دی، اور تمہاری تعداد پہلے سے زیادہ کر دی۔
Arabicثم رددنا لكم بعد ذلك الكرة عليهم مرة أخرى بعد تلك الهزيمة القاسية، وأمددناكم بأموال كثيرة وبنين كثيرين، وجعلناكم أخيرا أكثر نفيرا وعددا من أعدائكم أجمعين.
Pickthall(Saying): If ye do good, ye do good for your own souls, and if ye do evil, it is for them (in like manner). So, when the time for the second (of the judgments) came (We roused against you others of Our slaves) to ravage you, and to enter the Temple even as they entered it the first time, and to lay waste all that they conquered with an utter wasting.
Yusuf AliIf ye did well, ye did well for yourselves; if ye did evil, (ye did it) against yourselves. So when the second of the warnings came to pass, (We permitted your enemies) to disfigure your faces, and to enter your Temple as they had entered it before, and to visit with destruction all that fell into their power.
The agreed readingIf you do good, you do good for yourselves; and if you do evil, it is against yourselves. So when the second came, it was that they should mar your faces and enter the place of worship as they entered it the first time, and destroy utterly whatever they overcame.
Urduاگر تم نیکی کرو گے تو اپنے ہی لیے کرو گے، اور اگر برائی کرو گے تو وہ بھی تمہارے ہی خلاف ہوگی۔ چنانچہ جب دوسرا وعدہ آیا تو یہ اس لیے تھا کہ وہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور اسی طرح مسجد میں داخل ہو جائیں جیسے پہلی بار داخل ہوئے تھے، اور جس چیز پر بھی غالب آئیں اسے بالکل تباہ و برباد کر دیں۔
Arabicإن أحسنتم أحسنتم لأنفسكم، وإن أسأتم فلها، فإذا جاء وعد الآخرة ليسوءوا وجوهكم جميعا وليدخلوا المسجد كما دخلوه أول مرة من قبل، وليتبروا ما علوا تتبيرا شديدا.
PickthallIt may be that your Lord will have mercy on you, but if ye repeat (the crime) We shall repeat (the punishment), and We have appointed hell a dungeon for the disbelievers.
Yusuf AliIt may be that your Lord may (yet) show Mercy unto you; but if ye revert (to your sins), We shall revert (to Our punishments): And we have made Hell a prison for those who reject (all Faith).
The agreed readingIt may be that your Lord will have mercy on you. But if you go back, We go back — and We have made Hell a confinement for those who refuse. The commentaries read the two halves as one standing rule rather than a threat about one occasion.
Urduہو سکتا ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے۔ لیکن اگر تم دوبارہ وہی روش اپناؤ گے تو ہم بھی دوبارہ وہی سزا دیں گے، اور ہم نے جہنم کو انکار کرنے والوں کے لیے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ مفسرین اس آیت کے دونوں حصوں کو کسی ایک واقعے کی دھمکی نہیں بلکہ ایک مستقل اور ہمیشہ قائم رہنے والا اصول سمجھتے ہیں۔
Arabicعسى ربكم أن يرحمكم، وإن عدتم عدنا، وجعلنا جهنم للكافرين حصيرا لا فكاك منه. وقد فهم المفسرون شطري الآية سنة ثابتة دائمة لا تهديدا بحادثة واحدة تمر ولا تعود.
PickthallLo! this Qur'an guideth unto that which is straightest, and giveth tidings unto the believers who do good works that theirs will be a great reward.
Yusuf AliVerily this Qur'an doth guide to that which is most right (or stable), and giveth the Glad Tidings to the Believers who work deeds of righteousness, that they shall have a magnificent reward;
The agreed readingThis Recitation guides to what is most upright, and gives good news to the believers who do righteous deeds that theirs is a great reward.
Urduبےشک یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے سیدھا ہے، اور ان مومنوں کو خوشخبری دیتا ہے جو نیک عمل کرتے ہیں کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
Arabicإن هذا القرآن العظيم الكريم يهدي للتي هي أقوم وأعدل الطرق كلها جميعا، ويبشر المؤمنين الذين يعملون الصالحات بأن لهم أجرا كبيرا عند ربهم يوم القيامة.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
[About Ahlu’I-bayt :] O people, he who seeks counsel from Allāh secures guidance, and he who adopts His word as guide is led towards what is more straight, because Allāh’s lover feels secure and His opponent feels afraid. It does not behoove one who knows His greatness to assume greatness, but the greatness of those who know His greatness is that they should know before Him, and the safety for those who know what His power is lies in submitting to Him. Do not be scared away from the truth like the scaring of the healthy from the scabbed person, or the sound person from the sick.
أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ مَنِ اسْتَنْصَحَ اللهَ وُفِّقَ - اے لوگو، جو استنصح ہو عند اللہ کے، وفق ہوا۔ وَمَنِ اتَّخَذَ قَوْلَهُ دَلِيلاً هُدِيَ - جو اس کے قول کو دلیل بنایا، رہنمائی پائی۔ لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ - سب سے سیدھے راستے کی طرف۔ جَارَ اللهِ آمِنٌ - اللہ کا قریب ترین ہو، وہ محفوظ۔ عَدُوَّهُ خَائِفٌ - دشمن خوف میں۔ يَعْلَمُونَ عَظَمَةَ اللهِ تَوَاضَعُوا لَهُ - جو عظمت جانتے ہیں، تواضع کریں۔ قُدْرَتُهُ - قدرت، اسْتَسْلِمُوا لَهُ - استسلام کریں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd that those who believe not in the Hereafter, for them We have prepared a painful doom.
Yusuf AliAnd to those who believe not in the Hereafter, (it announceth) that We have prepared for them a Penalty Grievous (indeed).
The agreed readingAnd that for those who do not believe in the Hereafter We have prepared a painful punishment. The commentaries note the two announcements coming together: the good news is not given alone.
Urduاور بےشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ مفسرین نے بتایا ہے کہ یہاں دونوں اعلان اکٹھے آئے ہیں: خوشخبری کبھی اکیلی نہیں دی جاتی۔
Arabicوأن الذين لا يؤمنون بالآخرة أعتدنا لهم جميعا عذابا أليما موجعا شديدا. وقد نبه المفسرون إلى اقتران البشارتين هنا: فلا تأتي البشرى وحدها من دون إنذار.
PickthallMan prayeth for evil as he prayeth for good; for man was ever hasty.
Yusuf AliThe prayer that man should make for good, he maketh for evil; for man is given to hasty (deeds).
The agreed readingAnd man prays for evil as he prays for good — man was ever hasty. The commentaries take the haste to be the cause: he asks for what he has not thought through, and the asking is the same in both cases.
Urduاور انسان برائی کے لیے اسی طرح دعا کرتا ہے جیسے وہ بھلائی کے لیے دعا کرتا ہے، انسان ہمیشہ سے جلد باز رہا ہے۔ مفسرین اس جلد بازی ہی کو اس کا سبب سمجھتے ہیں: وہ بغیر سوچے سمجھے وہ چیز مانگ لیتا ہے، اور دعا مانگنے کا انداز دونوں صورتوں میں ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔
Arabicويدعو الإنسان بالشر دعاءه بالخير، وكان الإنسان بطبعه عجولا دائما. وقد جعل المفسرون العجلة سبب ذلك: يدعو بما لم يتدبره جيدا، والدعاء في الحالين واحد لا يختلف.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Salim, the freed slave of Nasriyyin, said:I heard Abu Huraira as saying that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: O Allah, Muhammad is a human being. I lose my temper just as human beings lose temper, and I have held a covenant with Thee which Thou wouldst not break: For a believer whom I give any trouble or invoke curse or beat, make that an expiation (of his sins and a source of) his nearness to Thee on the Day of Resurrection
نصریوں کے آزاد کردہ غلام سالم نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ ( دعا کرتے ہوئے ) فرما رہے تھے : " اے اللہ! محمد ایک بشر ہی ہے ، جس طرح ایک بشر کو غصہ آتا ہے ، اسے بھی غصہ آتا ہے اور میں تیرے حضور ایک وعدہ لیتا ہوں جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ جس مومن کو بھی میں نے تکلیف پہنچائی ، اسے برا بھلا کہا یا کوڑے سے مارا تو اس سب کچھ کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دینا اور ایسی قربت میں بدل دینا جس کے ذریعے سے قیامت کے دن تو اسے اپنا قرب عطا فرمائے ۔
Anas reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When Allah fashioned Adam in Paradise, He left him as He liked him to leave. Then Iblis roamed round him to see what actually that was and when he found him hollow from within, he recognised that he had been created with a disposition that he would not have control over himself
یونس بن محمد نے حماد بن سلمہ سے ، انہوں نے ثابت سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی تو جب تک چاہا ان ( کے جسد ) کو وہاں رکھا ۔ ابلیس اس کے اردگرد گھوم کر دیکھنے لگا کہ وہ کیسا ہے ۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ ( جسم ) اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ اسے اس طرح پیدا کیا گیا کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتا ۔
PickthallAnd We appoint the night and the day two portents. Then We make dark the portent of the night, and We make the portent of the day sight-giving, that ye may seek bounty from your Lord, and that ye may know the computation of the years, and the reckoning; and everything have We expounded with a clear expounding.
Yusuf AliWe have made the Night and the Day as two (of Our) Signs: the Sign of the Night have We obscured, while the Sign of the Day We have made to enlighten you; that ye may seek bounty from your Lord, and that ye may know the number and count of the years: all things have We explained in detail.
The agreed readingAnd We made the night and the day two signs. We blotted out the sign of the night and made the sign of the day one you can see by, so that you may seek bounty from your Lord and know the count of the years and the reckoning. And everything We have set out in detail.
Urduاور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا۔ رات کی نشانی کو تاریک کر دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کر سکو۔ اور ہم نے ہر چیز کو خوب کھول کر بیان کر دیا ہے۔
Arabicوجعلنا الليل والنهار آيتين عظيمتين، فمحونا آية الليل وجعلنا آية النهار مضيئة مبصرة لتبتغوا فضلا من ربكم ولتعلموا عدد السنين والحساب، وكل شيء فصلناه تفصيلا كاملا.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 4 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة5 reports cited here — 4 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī في هذه الآية
Cited by al-Fayḍ al-Kāshānī and al-Ḥuwayzī on this āyah
al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا
He commanded it to remain stationary in obedience to His commands. He made its sun the bright indication for its day, and moon the gloomy indication for its night. He then put them in motion in their orbits and ordained their (pace of) movement in the stages of their paths in order to distinguish with their help between night and day, and in order that the reckoning of years and calculations may be known by their fixed movements. Then He hung in its vastness its Sky and put therein its decoration consisting of small bright pearls and lamp-like stars. He shot at the over-hearers arrows of bright meteors. He put them in motion on their appointed routine and made them into fixed stars, moving …
اور اس کو حکم دیا کہ وہ استسلام کے ساتھ اس کے حکم میں رہے۔ اور اس کے شمس کو بنایا آیہ روشن کا اس کے دن کے لیے، اور اس کے قمر کو بنایا آیہ مٹی دیے گئے کا اس کی رات سے۔ اور ان کو چلایا اپنے مناقل میں، اور ان کی مسیر کو ٹھہرایا ان کے مدارج میں، تاکہ لیل اور نہار کے درمیان فرق ہو، اور تاکہ سنین کی تعداد معلوم ہو اور حساب ہو ان کی پیمائیش سے۔ پھر لاگو کیا اس کے جو میں فلک، اور باندھا اس سے زینت خفیات درری سے اور مصابیح کواکب سے۔ اور چھوڑ دیے مسترقی السمع پر ثاقب شہب سے۔ اور چلایا انہیں اذلال تسخیر میں ثبات ثابت سے اور مسیر سائر سے، اور ہبوط اور صعود سے، اور نحوس اور سعود سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abdullah b. 'Amr b. al-'As reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Allah ordained the measures (of quality) of the creation fifty thousand years before He created the heavens and the earth, as His Throne was upon water
حیوہ اور نافع بن یزید نے ابوہانی سے اسی سند کے ساتھ اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی مگر ان دونوں نے یہ نہیں کہا : " اور اس کا عرش پانی پر تھا ۔
Amr b. al-'As reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He Is successful who has accepted Islam, who has been provided with sufficient for his want and been made contented by Allah with what He has given him
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " وہ انسان کا میاب و بامراد ہو گیا جو مسلمان ہو گیا اور اسے گزر بسر کے بقدر روزی ملی اور اللہ تعا لیٰ نے اسے جو دیا اس پر قناعت کی تو فیق بخشی ۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man who had been born in Al-Madinah died there, and the Messenger of Allah prayed for him, then he said: 'Would that he had died somewhere other than the place where he was born.' They said: 'Why is that, O Messenger of Allah?' He said: If a man dies somewhere other than the place where he was born, a space in him equal to the distance between the place where he was born and the place where he died
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔
It has been reported on the authority of Amr b. al-'As through a different chain of transmitters that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Death in the way of Allah blots out everything except debt
سعید بن ابی ایوب نے کہا : مجھے عیاش بن عباس قتبانی نے ابو عبدالرحمٰن حبلی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں قتل کیے جانے سے قرض کے سوا باقی تمام گناہ مٹا دیے جاتے ہیں ۔
PickthallAnd every man's augury have We fastened to his own neck, and We shall bring forth for him on the Day of Resurrection a book which he will find wide open.
Yusuf AliEvery man's fate We have fastened on his own neck: On the Day of Judgment We shall bring out for him a scroll, which he will see spread open.
The agreed readingAnd every person's portion We have fastened to his own neck, and on the Day of Resurrection We will bring out for him a book he will find spread open. The commentaries gloss what is fastened as his own deeds, and the neck as named because nothing clings closer.
Urduاور ہم نے ہر انسان کا نامۂ اعمال اس کی اپنی گردن میں لٹکا دیا ہے، اور قیامت کے دن ہم اس کے لیے ایک کتاب نکالیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا۔ مفسرین نے بتایا ہے کہ گردن میں لٹکائی گئی چیز سے مراد اس کے اپنے اعمال ہیں، اور گردن کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ اس سے زیادہ کوئی چیز چپکی ہوئی نہیں ہوتی۔
Arabicوكل إنسان ألزمناه طائره في عنقه، ونخرج له يوم القيامة كتابا يلقاه منشورا. وقد فسر المفسرون ما ألزم به على أنه عمله، والعنق لأنه أشد الأعضاء لزوما لما يعلق به.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
129- أخبرني جماعة عن أبي المفضل محمد بن عبد الله بن محمد بن عبيد الله بن المطلب رحمه الله قال: حدثنا أبو الحسين محمد بن بحر بن سهل الشيباني الرهني قال: أخبرنا علي بن الحارث عن سعد بن المنصور الجواشني قال: أخبرنا أحمد بن علي البديلي قال: أخبرني أبي عن سدير الصيرفي قال: دخلت أنا والمفضل بن عمر وداود بن كثير الرقي وأبو بصير وأبان بن تغلب على مولانا الصادق عليه السلام، فرأيناه جالسا على التراب وعليه مسح خيبري مطرف بلا جيب مقصر الكمين، وهو يبكي بكاء الوالهة الثكلى ذات الكبد الحري، قد نال الحزن من وجنتيه وشاع التغير في عارضيه وأبلى الدمع محجريه، وهو يقول: سيدي، غيبتك نفت رقادي، وضيقت على مهادي، وابتزت مني راحة فؤادي. سيدي، غيبتك أوصلت مصائبي بفجائع الأبد، وفقد الواحد بعد الواحد بفناء الجمع …
H 129 - A group has narrated from Abu Mufaddal Muhammad bin Abdullah bin Muhammad bin Ubaidullah bin Matlab that he said: Narrated to me Abul Husain Muhammad bin Bahr bin Sahl Shaibani Rahni from Ali bin Harith from Saad bin Mansur Jawashini from Ahmad bin Ali Budaili from his father from Sudair Sairafi that he said: I, along with Mufaddal Ibn Umar, Abu Basir, Aban Ibn Taghlib came to our master, Abu Abdullah Ja’far Ibn Muhammad (a.s) and found him sitting on bare earth. He had a Khaibari woolen cloak ringed at the neck, did not have any pockets and had short sleeves. He was crying like a deeply afflicted and bereaved mother of a child from the depths of a heart that was full of mourning. …
ایک جماعت نے ابو المفضل محمد بن عبدالله بن محمد بن عبیدالله بن المطلب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہمیں ابو الحسین محمد بن بحر بن سہل شیبانی رہنی نے خبر دی، انہوں نے علی بن الحارث سے، انہوں نے سعد بن المنصور الجواشنی سے، انہوں نے احمد بن علی البدیلی سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے سدیر الصیرفی سے روایت کی کہ وہ کہتے ہیں: میں اور المفضل بن عمر اور داود بن کثیر الرقی اور ابو بصیر اور ابان بن تغلب ہمارے مولیٰ صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہیں ننگی زمین پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ان کے پاس ایک خیبری چادر تھی جس کے دونوں سرے ملے ہوئے تھے، اس میں جیب نہیں تھی اور آستین چھوٹی تھی۔ وہ اس طرح رو رہے تھے جیسے کوئی بیقرار اور محتاج مائیں رو رہی ہو۔ غم نے ان کے رخساروں کو سیاہ کر رکھا تھا، …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Pickthall(And it will be said unto him): Read thy Book. Thy soul sufficeth as reckoner against thee this day.
Yusuf Ali(It will be said to him:) "Read thine (own) record: Sufficient is thy soul this day to make out an account against thee."
The agreed readingRead your book. Today your own soul is enough as a reckoner against you. The commentaries note who is made to do the reading and the reckoning: the one being judged, so that nothing has to be proved to him by anyone else.
Urduاپنی کتاب پڑھو، آج تمہارا اپنا نفس ہی تمہارا حساب لینے کے لیے کافی ہے۔ مفسرین نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ پڑھنے اور حساب لینے والا خود وہی شخص بنایا جاتا ہے جس کا فیصلہ ہو رہا ہے، تاکہ کسی اور کو اس کے سامنے کچھ ثابت نہ کرنا پڑے۔
Arabicاقرأ كتابك، كفى بنفسك اليوم عليك حسيبا. وقد نبه المفسرون إلى من يقرأ ويحاسب هنا: هو المحاسب نفسه، حتى لا يحتاج أن يثبت عليه أحد غيره شيئا.
PickthallWhosoever goeth right, it is only for (the good of) his own soul that he goeth right, and whosoever erreth, erreth only to its hurt. No laden soul can bear another's load, We never punish until we have sent a messenger.
Yusuf AliWho receiveth guidance, receiveth it for his own benefit: who goeth astray doth so to his own loss: No bearer of burdens can bear the burden of another: nor would We visit with Our Wrath until We had sent an messenger (to give warning).
The agreed readingWhoever goes right goes right for himself, and whoever strays strays against himself. And no bearer of a burden bears the burden of another. And We do not punish until We have sent a messenger. The commentaries read the last as a standing condition and not a description of one case.
Urduجو ہدایت پائے وہ اپنے ہی لیے ہدایت پاتا ہے، اور جو گمراہ ہو وہ اپنے ہی خلاف گمراہ ہوتا ہے۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور ہم کسی کو رسول بھیجے بغیر عذاب نہیں دیتے۔ مفسرین اس آخری بات کو ایک ہمیشہ قائم رہنے والی شرط سمجھتے ہیں، نہ کہ کسی ایک واقعے کا بیان۔
Arabicمن اهتدى فإنما يهتدي لنفسه، ومن ضل فإنما يضل عليها، ولا تزر وازرة وزر أخرى، وما كنا معذبين حتى نبعث رسولا. وقد فهم المفسرون هذا شرطا دائما لا وصفا لحادثة واحدة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ " ثُمَّ يَقُولُ {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ}
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "No child is born except on Al-Fitra (Islam) and then his parents make him Jewish, Christian or Magian, as an animal produces a perfect young animal: do you see any part of its body amputated?" Then he recited, 'The religion of pure Islamic Faith (Hanifa),(i.e. to worship none but Allah), The pure Allah's Islamic nature with which He (Allah) has created mankind. Let There be no change in Allah's religion (i.e. to join none in Allah's worship). That is the straight religion; but most of men know not
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسی جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم نے انہیں ناک کان کٹا ہوا کوئی بچہ دیکھا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم» ”اللہ کی اس فطرت کی اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يُولَدُ يُولَدُ عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تَنْتِجُونَ الإِبِلَ فَهَلْ تَجِدُونَ فِيهَا جَدْعَاءَ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ صَغِيرًا قَالَ " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
Abu Huraira reported from Allah's Messenger (may peace be upom him) many ahadith and one amongst them is that he is reported to have said:An infant is born according to his (true) nature. It is his parents Who make him a Jew, a Christian, just as a she-camel gives birth to its young ones. Do you find any deficiency in their limbs? You cut their ears (i. e. after birth). They (the Companions of the Holy Prophet) said: What is your opinion about him who dies in infancy? Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: It is Allah alone Who knows best what they would be doing
علاء کے والد عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر انسان کو اس کی ماں فطرت پر جنم دیتی ہے اور اس کے ماں باپ بعد میں اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ۔ اگر وہ دونوں ( صحیح ) مسلمان ہوں تو وہ مسلمان رہتا ہے اور ہر انسان کو جب اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کے دونوں پہلوؤں میں ہاتھ سے مارتا ہے سوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے کے ( انہیں اللہ نے اس سے محفوظ رکھا ۔)
Narrated Ibn Shihab:The funeral prayer should be offered for every child even if he were the son of a prostitute as he was born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone). If his parents are Muslims, particularly the father, even if his mother were a non-Muslim, and if he after the delivery cries (even once) before his death (i.e. born alive) then the funeral prayer must be offered. And if the child does not cry after his delivery (i.e. born dead) then his funeral prayer should not be offered, and he will be considered as a miscarriage. Abu Huraira, narrated that the Prophet (ﷺ) said, "Every child is born with a true faith (i.e. to worship none but Allah Alone) but …
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ابن شہاب ہر اس بچے کی جو وفات پا گیا ہو نماز جنازہ پڑھتے تھے۔ اگرچہ وہ حرام ہی کا بچہ کیوں نہ ہو کیونکہ اس کی پیدائش اسلام کی فطرت پر ہوئی۔ یعنی اس صورت میں جب کہ اس کے والدین مسلمان ہونے کے دعویدار ہوں۔ اگر صرف باپ مسلمان ہو اور ماں کا مذہب اسلام کے سوا کوئی اور ہو جب بھی بچہ کے رونے کی پیدائش کے وقت اگر آواز سنائی دیتی تو اس پر نماز پڑھی جاتی۔ لیکن اگر پیدائش کے وقت کوئی آواز نہ آتی تو اس کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ بلکہ ایسے بچے کو کچا حمل گر جانے کے درجہ میں سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس …
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ". ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه {فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ}
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Every child is born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone) but his parents convert him to Judaism, Christianity or Magianism, as an animal delivers a perfect baby animal. Do you find it mutilated?" Then Abu Huraira recited the holy verses: "The pure Allah's Islamic nature (true faith of Islam) (i.e. worshipping none but Allah) with which He has created human beings. No change let there be in the religion of Allah (i.e. joining none in worship with Allah). That is the straight religion (Islam) but most of men know, not
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک جانور ایک صحیح سالم جانور جنتا ہے۔ کیا تم اس کا کوئی عضو ( پیدائشی طور پر ) کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ‘ یہی «دين القيم» ہے۔
Abu Sa'eed narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Indeed, the most beloved of people to Allah on the Day of Judgement, and the nearest to Him in the status is the just Imam. And the most hated of people to Allah and the furthest from Him in status is the oppressive Imam
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور بیٹھنے میں اس کے سب سے قریب عادل حکمراں ہو گا، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور اس سے سب سے دور بیٹھنے والا ظالم حکمراں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah rejoices more over the repentance of His slave, than a man who loses his mount in a barren land, and he searches for it until he gets tired and covers his face with his garment, and while he is like that, he heard the footsteps of his mount where he lost it, so he lifts the garment from his face and there is his mount.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے ایسے ہی خوش ہوتا ہے جیسے کسی آدمی کی سواری چٹیل میدان میں کھو جائے، وہ اس کو تلاش کرے یہاں تک کہ جب وہ تھک جائے تو کپڑے سے اپنا منہ ڈھانک کر لیٹ جائے، اسی حالت میں اچانک وہ اپنی سواری کے قدموں کی چاپ وہاں سے آتی سنے جہاں اسے کھویا تھا، وہ اپنے چہرے سے اپنا کپڑا اٹھائے تو دیکھے کہ اس کی سواری موجود ہے ۔
Narrated Hasana' daughter of Mu'awiyah: She reported on the authority of her paternal uncle: I asked the Prophet (ﷺ): Who are in Paradise? He replied: Prophets are in Paradise, martyrs are in Paradise, infants are in Paradise and children buried alive are in Paradise
حسناء بنت معاویہ کے چچا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جنت میں کون ہو گا؟ آپ نے فرمایا: نبی جنت میں ہوں گے، شہید جنت میں ہوں گے، ( نابالغ ) بچے اور زندہ درگور کئے گئے بچے جنت میں ہوں گے ۔
Thawban narrated that the Messenger of Allah said:"The most virtuous of the Dinar is the Dinar spent by a man on his dependants, and the Dinar spent by a man on his beast in the Cause of Allah, and the Dinar spent by a man on his companions in the Cause of Allah." Abu Qilabah (one of the narrators) said: " He began with the dependants." Then he said: "And which man is greater in reward than a man who spends upon his depandants, having little ones by which Allah causes him to abstain (from the unlawful) and by which Allah enriches him
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دینار وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے جہاد کی سواری پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے“، ابوقلابہ کہتے ہیں: آپ نے بال بچوں کے نفقہ ( اخراجات ) سے شروعات کی پھر فرمایا: ”اس آدمی سے بڑا اجر و ثواب والا کون ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے، جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں حرام چیزوں سے بچاتا ہے اور انہیں مالدار بناتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Qabisah al Hilali:The solar eclipse took place... The narrator then narrated the tradition like that of Musa. The narrator again said: Until the stars appear (in the heaven)
ہلال بن عامر سے روایت ہے کہ قبیصہ ہلالی نے ان سے بیان کیا ہے کہ سورج میں گرہن لگا، پھر انہوں نے موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت ذکر کی، اس میں ہے: یہاں تک کہ ستارے دکھائی دینے لگے۔
PickthallAnd when We would destroy a township We send commandment to its folk who live at ease, and afterward they commit abomination therein, and so the Word (of doom) hath effect for it, and we annihilate it with complete annihilation.
Yusuf AliWhen We decide to destroy a population, We (first) send a definite order to those among them who are given the good things of this life and yet transgress; so that the word is proved true against them: then (it is) We destroy them utterly.
The agreed readingAnd when We intend to destroy a town, We command those in it who live in ease, and they defy in it, and the word falls due against it, and We destroy it utterly. The commentaries note whom the command reaches first: those with the most to lose.
Urduاور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ اس میں نافرمانی کرتے ہیں، تو اس پر بات ثابت ہو جاتی ہے، اور ہم اسے پوری طرح تباہ کر دیتے ہیں۔ مفسرین نے بتایا ہے کہ یہ حکم سب سے پہلے انہی لوگوں تک پہنچتا ہے جن کے پاس کھونے کے لیے سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
Arabicوإذا أردنا أن نهلك قرية أمرنا مترفيها ففسقوا فيها، فحق عليها القول فدمرناها تدميرا. وقد نبه المفسرون إلى أن الأمر يبلغ أولا هؤلاء المترفين أصحاب النعمة الكبيرة.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī and al-Qurṭubī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Zainab bint Jahsh:That the Prophet (ﷺ) came to her in a state of fear saying, "None has the right to be worshiped but Allah! Woe to the Arabs because of evil that has come near. Today a hole has been made in the wall of Gog and Magog as large as this." pointing with two of his fingers making a circle. Zainab said, "I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we be destroyed though amongst us there are pious people? ' He said, 'Yes, if evil increases
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم کو زینب بنت ابی جحش رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت پریشان نظر آ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، عرب کے لیے تباہی اس شر سے آئے گی جس کے واقع ہونے کا زمانہ قریب آ گیا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا شگاف پیدا ہو گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں سے حلقہ بنا کر اس کی وضاحت کی۔ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم …
Zainab bint Jahsh reported that Allah's Apostle (ﷺ) got up from sleep saying:There is no being worthy of worship except Allah; there is a destruction in store for Arabia because of turmoil which is at hand, the barrier of Gog and Magog has opened so much. And Sufyan made a sign of ten with the help of his hand (in order to indicate the width of the gap) and I said: Allah's Messenger, would we be perished in spite of the fact that there would be good people amongst us? Thereupon he said: Of course, but only when the evil predominates
عمرو ناقد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں ن ے عروہ سے ، انھوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، انھوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند سے بیدار ہوئے جبکہ آپ فرمارہے تھے : "" اللہ کے سواکوئی سچا معبود نہیں ، عرب اس شر کی وجہ سے ہلاک ہوگئے جو قریب آپہنچا ہے ۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اس قدر جگہ کھل گئی ہے ۔ "" اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے دس کا اشارہ بنایا ۔ ( حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے عرض کی : ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے ، پھر بھی ہم ہلاک ہوجائیں گے؟فرمایا؛ "" ہاں جب شر اور گندگی زیادہ ہوجائے گی …
Narrated Zainab bint Jahsh:That the Prophet (ﷺ) once came to her in a state of fear and said, "None has the right to be worshipped but Allah. Woe unto the Arabs from a danger that has come near. An opening has been made in the wall of Gog and Magog like this," making a circle with his thumb and index finger. Zainab bint Jahsh said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we be destroyed even though there are pious persons among us?" He said, "Yes, when the evil persons will increase
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے، ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے، ان سے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ گھبرائے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، ملک عرب میں اس برائی کی وجہ سے بربادی آ جائے گی جس کے دن قریب آنے کو ہیں، آج یاجوج ماجوج نے دیوار میں اتنا سوراخ کر دیا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے اور اس کے قریب کی انگلی سے حلقہ بنا کر بتلایا۔ ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے سوال کیا: …
Zainab bint Jahsh, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that one day Allah's Messenger (ﷺ) came out in a state of excitement with his face quite red. And he was saying:There is no god but Allah; there is a destruction in store for Arabia because of the turmoil which is near at hand as the barrier of Gog and Magog has been opened like it, and he (in order to explain it) made a ring with the help of his thumb and forefinger. I said: Allah's Messenger, would we be destroyed despite the fact that there would be pious people amongst us? He said: Yes, when evil would be predominant
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ انھیں زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کے عالم میں سرخ چہرے کے ساتھ ( خواب گاہ سے ) نکلے ۔ آپ فرمارہے تھے : "" اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں عرب اسی شر کی وجہ سے ہلاک ہوگئے جو اب قریب آپہنچا ہے ۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار اس قدر کھل گئی ہے ۔ "" اور آپ نے شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنایا ۔ ( حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : تو میں نے عرض کی ہم میں نیک لوگ موجود ہوں ، …
It was narrated that Zainab bint Jahsh said:“The Messenger of Allah (ﷺ) woke up red in the face and said: ‘La ilaha illallah, woe to the Arabs from an evil that has drawn nigh. Today a hole has been opened in the barrier of Gog and Magog.’ And he gestured to indicate the size of the hole.” Zainab said: “I said: ‘O Messenger of Allah! Will we be destroyed when there are righteous people among us?’ He said: ‘If sin and evil deeds increase.’”
ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا مبارک چہرہ سرخ تھا، اور آپ فرما رہے تھے: «لا إله إلا الله» عرب کے لیے تباہی ہے اس فتنے سے جو قریب آ گیا ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی انگلیوں سے دس کی گرہ بنائی ۱؎، زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ حالانکہ ہم میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب معصیت ( برائی ) عام ہو جائے گی ۲؎۔
Narrated Zainab bint Jahsh:The Prophet (ﷺ) got up from his sleep with a flushed red face and said, "None has the right to be worshipped but Allah. Woe to the Arabs, from the Great evil that is nearly approaching them. Today a gap has been made in the wall of Gog and Magog like this." (Sufyan illustrated by this forming the number 90 or 100 with his fingers.) It was asked, "Shall we be destroyed though there are righteous people among us?" The Prophet (ﷺ) said, "Yes, if evil increased
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے سنا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کی تباہی اس بلا سے ہو گی جو قریب ہی آ لگی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا سوراخ ہو گیا اور سفیان نے نوے یا سو کے عدد کے لیے انگلی باندھی پوچھا گیا کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں صالحین بھی ہوں گے؟ فرمایا ہاں! جب برائی بڑھ جائے گی ( تو ایسا ہی ہو گا ) ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّهَا، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ انْكِحْ أُخْتِي عَزَّةَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَتُحِبِّينَ ذَلِكَ " . قَالَتْ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَإِنَّ ذَلِكَ لاَ يَحِلُّ لِي " . قَالَتْ فَإِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ . …
It was narrated from 'Urwah bin Zubair that Zainab bint Abi Salmah told him that Umm Habibah told her that she said to Messenger of Allah:“Marry my sister 'Azzah.” The Messenger of Allah said: 'Would you like that? “She said: “Yes, O Messenger of Allah. I am not the only one living with you and the one who most deserves to share good thingswith me is my sister.” The Messenger of Allah said: “But that is not permissible for me.” She said: “But we throught that you wanted to marry Durrah bint Abi Salmah.” The Messenger of Allah said: The daughter of Umm Salamah?” She said: “Yes” The Messenger of Allah said: “Even if she were not my step-daughter who is under my care, she would not be …
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ میری بہن عزہ سے نکاح کر لیجئیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو پسند کرتی ہو ؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں آپ کے پاس اکیلی نہیں ہوں ( کہ سوکن کا ہونا پسند نہ کروں ) خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حقدار میری بہن ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے لیے حلال نہیں ہے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں باتیں ہو رہی تھیں کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام سلمہ کی بیٹی سے ؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میری ربیبہ بھی نہ ہوتی تب بھی میرے لیے اس سے نکاح درست نہ ہوتا، اس …
PickthallHow many generations have We destroyed since Noah! And Allah sufficeth as Knower and Beholder of the sins of His slaves.
Yusuf AliHow many generations have We destroyed after Noah? and enough is thy Lord to note and see the sins of His servants.
The agreed readingAnd how many generations We have destroyed since Noah. And your Lord is enough as one aware of the sins of His servants, and seeing them.
Urduاور ہم نے نوح کے بعد کتنی ہی نسلیں ہلاک کر دیں۔ اور تمہارا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے خوب باخبر اور انہیں خوب دیکھنے والا ہے، اسی کا جاننا اور دیکھنا کافی ہے۔
Arabicوكم أهلكنا من القرون الغابرة الكثيرة من بعد نوح عليه السلام إهلاكا شديدا، وكفى بربك بذنوب جميع عباده خبيرا بصيرا لا يخفى عليه منها شيء أبدا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Narrated An-Nu'man bin Bashir: I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'Both legal and illegal things are evident but in between them there are doubtful (suspicious) things and most of the people have no knowledge about them. So whoever saves himself from these suspicious things saves his religion and his honor. And whoever indulges in these suspicious things is like a shepherd who grazes (his animals) near the Hima (private pasture) of someone else and at any moment he is liable to get in it. (O people!) Beware! Every king has a Hima and the Hima of Allah on the earth is His illegal (forbidden) things. Beware! There is a piece of flesh in the body if it becomes good (reformed) the whole body …
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے، انہوں نے عامر سے، کہا میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے حلال کھلا ہوا ہے اور حرام بھی کھلا ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں شبہ کی ہیں جن کو بہت لوگ نہیں جانتے ( کہ حلال ہیں یا حرام ) پھر جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بھی بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو ( شاہی محفوظ ) چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے۔ وہ قریب ہے کہ کبھی اس چراگاہ کے اندر گھس جائے ( اور شاہی مجرم قرار پائے ) سن لو ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں۔ ( پس ان …
PickthallWhoso desireth that (life) which hasteneth away, We hasten for him therein what We will for whom We please. And afterward We have appointed for him hell; he will endure the heat thereof, condemned, rejected.
Yusuf AliIf any do wish for the transitory things (of this life), We readily grant them - such things as We will, to such person as We will: in the end have We provided Hell for them: they will burn therein, disgraced and rejected.
The agreed readingWhoever wants the passing thing — We hasten to him in it what We will, for whom We will. Then We appoint Hell for him, which he enters, blamed and rejected. The commentaries note that even the hastening is twice limited: to what We will, and for whom We will.
Urduجو شخص جلدی ملنے والی دنیا چاہے، ہم اسے اسی دنیا میں جو چاہیں اور جسے چاہیں جلدی دے دیتے ہیں، پھر اس کے لیے جہنم مقرر کر دیتے ہیں جس میں وہ ملامت زدہ اور دھتکارا ہوا داخل ہوگا۔ مفسرین نے نشاندہی کی ہے کہ یہ جلدی دینا بھی دو شرطوں سے مقید ہے: جو ہم چاہیں، اور جسے ہم چاہیں۔
Arabicمن كان يريد العاجلة عجلنا له فيها ما نشاء لمن نريد، ثم جعلنا له جهنم يصلاها مذموما مدحورا. وقد نبه المفسرون إلى أن هذا التعجيل نفسه مقيد بقيدين: بما نشاء، ولمن نريد.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ".
Narrated `Umar bin Al-Khattab:I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "The (reward of) deeds, depend upon the intentions and every person will get the reward according to what he has intended. So whoever emigrated for the sake of Allah and His Apostle, then his emigration will be considered to be for Allah and His Apostle, and whoever emigrated for the sake of worldly gain or for a woman to marry, then his emigration will be considered to be for what he emigrated for
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے علقمہ بن وقاص لیثی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ بلاشبہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور انسان کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو واقعی وہ انہیں کے لیے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔
‘Umar bin Al Khattab reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Actions are to be judged only by intentions and a man will have only what he intended. When one’s emigration is to Allaah and His Apostle, his emigration is to Allaah and His Apostle but his emigration is to a worldly end at which he aims or to a woman whom he marries , his emigration is to that for which he emigrated
علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اسی کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے مانی جائے گی، اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی ہو گی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔
‘Alqamah bin Waqqas (said) that he heard ‘Umar bin Khattab, when he was addressing the people, saying:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Actions are but by the intention and every man will have but that which he intended. So he whose emigration was for Allah and His Messenger, his emigration was for Allah and His Messenger. But he whose emigration was for some worldly benefit or to take some woman in marriage, his emigration was for that which he migrated.”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہے، تو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہی ہو گی، اور جس کی ہجرت کسی دنیاوی مفاد کے لیے یا کسی عورت سے شادی کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے ۱؎۔
PickthallAnd whoso desireth the Hereafter and striveth for it with the effort necessary, being a believer; for such, their effort findeth favour (with their Lord).
Yusuf AliThose who do wish for the (things of) the Hereafter, and strive therefor with all due striving, and have Faith,- they are the ones whose striving is acceptable (to Allah).
The agreed readingAnd whoever wants the Hereafter and strives for it with the striving it deserves, being a believer — those, their striving is met with thanks.
Urduاور جو شخص آخرت چاہے اور اس کے لیے ویسی ہی کوشش کرے جیسی کوشش کرنی چاہیے، جبکہ وہ مومن بھی ہو، تو ایسے لوگوں کی کوشش قبول کی جائے گی اور ان کا شکریہ ادا کیا جائے گا۔
Arabicومن أراد الآخرة الباقية الدائمة وسعى لها سعيها الحق الكامل وهو مؤمن حقا بالله وحده لا شريك له، فأولئك كان سعيهم مشكورا مقبولا عند ربهم يوم القيامة.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 4 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة7 reports cited here — 4 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
33 - علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن منصور بن يونس، عن أبي بصير، عن أبي عبد الله (عليه السلام) فقال: قل: اللهم إني أسألك قول التوابين وعملهم و نور الأنبياء وصدقهم ونجاة المجاهدين وثوابهم وشكر المصطفين ونصيحتهم وعمل الذاكرين ويقينهم وإيمان العلماء وفقههم وتعبد الخاشعين وتواضعهم وحكم الفقهاء و سيرتهم وخشية المتقين ورغبتهم وتصديق المؤمنين وتوكلهم ورجاء المحسنين وبرهم اللهم إني أسألك ثواب الشاكرين ومنزلة المقربين ومرافقه النبيين، اللهم إني أسألك خوف العاملين لك وعمل الخائفين منك وخشوع العابدين لك ويقين المتوكلينعليك وتوكل المؤمنين بك، اللهم إنك بحاجتي عالم غير معلم وأنت لها واسع غير متكلف وأنت الذي لا يحفيك سائل (1) ولا ينقصك نائل ولا يبلغ مدحتك (2) قول قائل أنت كما تقول وفوق ما …
33. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Mansur ibn Yunus from abu Basir from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Say, ‘O Lord, I plead before You, to grant me such words as those of repenting people and their deeds, the light of the prophets and their truthfulness, salvation of the fighters for Your cause and their rewards, thankfulness of the chosen ones and their good advice, actions of those who speak of You and their certainty, belief of the scholars and their deep understanding, worship of the concerned people and their humility, the judgment of the experts in the law (Shari’ a) and their discipline, worries of the pious people and their …
علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے منصور بن یونس سے، انہوں نے ابو بصیر سے روایت کی، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے جنہوں نے فرمایا: کہو: اے اللہ! میں تم سے توبہ کار لوگوں کی دعا اور ان کے اعمال مانگتا ہوں، اور انبیاء کی روشنی اور ان کی سچائی، اور مجاہدین کی نجات اور ان کا ثواب، اور منتخب لوگوں کی شکر گزاری اور ان کی نصیحت، اور ذاکرین کے اعمال اور ان کا یقین، اور علماء کا ایمان اور ان کی فقہ، اور خاشعین کی عبادت اور ان کی تواضع، اور فقہاء کا حکم اور ان کی سیرت، اور متقین کا خوف اور ان کی رغبت، اور مؤمنین کی تصدیق اور ان کا توکل، اور احسان کار لوگوں کی امید اور ان کی بھلائی۔ اے اللہ! میں تم سے شاکروں کا ثواب، اور قریبین کا مرتبہ، اور انبیاء کی معیت مانگتا ہوں۔ اے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, says, ‘One who is occupied in speaking of Me instead of asking Me for help, I will grant him better than what 1 am to grant to one who asks Me for help.’”
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی، وہ ابن ابی عمیر سے، وہ ہشام بن سالم سے، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: بے شک اللہ عز و جل فرماتے ہیں: جو شخص میری یاد میں مشغول ہو کر سوال کرنے سے غافل رہے تو میں اسے بہتر دوں گا اس سے جو میں سوال کرنے والوں کو دیتا ہوں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
‘Umar bin Al Khattab reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Actions are to be judged only by intentions and a man will have only what he intended. When one’s emigration is to Allaah and His Apostle, his emigration is to Allaah and His Apostle but his emigration is to a worldly end at which he aims or to a woman whom he marries , his emigration is to that for which he emigrated
علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اسی کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے مانی جائے گی، اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی ہو گی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔
‘Alqamah bin Waqqas (said) that he heard ‘Umar bin Khattab, when he was addressing the people, saying:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Actions are but by the intention and every man will have but that which he intended. So he whose emigration was for Allah and His Messenger, his emigration was for Allah and His Messenger. But he whose emigration was for some worldly benefit or to take some woman in marriage, his emigration was for that which he migrated.”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہے، تو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہی ہو گی، اور جس کی ہجرت کسی دنیاوی مفاد کے لیے یا کسی عورت سے شادی کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے ۱؎۔
4. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Hisham ibn Salim who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when the Messenger of Allah passed away they (people) heard a voice, but did not see anyone in person, saying, ‘Every soul is to experience the taste of death. You will certainly receive your reward on the Day of Judgment. Whoever is saved from the fire and is admitted in paradise, has become successful indeed.’ It also said, ‘In (the mercy of) Allah are good consequences for everyone who dies, solace for all forms of sorrow and compensation for every loss. In Allah, you must trust and in Him only place your hope. Deprived person, in …
علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے روایت کی، ان کے والد نے ابن ابی عمیر سے روایت کی، ابن ابی عمیر نے ہشام بن سالم سے روایت کی، ہشام نے کہا کہ ابو عبد الله (علیہ السلام) نے فرمایا: جب نبی (صلی الله علیہ وآلہ) کا انتقال ہوا تو لوگوں نے ایک آواز سنی مگر کوئی شخص نہ دیکھا۔ وہ کہہ رہی تھی: ہر نفس موت کا مزہ چکھے گا۔ اور تمہیں تمہارے اجر قیامت کے دن ہی دیے جائیں گے۔ تو جو شخص آگ سے بچایا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے وہ فوز پایا۔ اور کہا: الله میں ہر ہلاک ہونے والے کی جانشینی ہے، ہر مصیبت میں تسلی ہے، اور ہر ضائع چیز میں بدلہ ہے۔ پس الله پر اعتماد رکھو، اسی سے اپنی امید رکھو۔ اور یقیناً محروم وہ ہے جو ثواب سے محروم ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated AbuUsayd Malik ibn Rabi'ah as-Sa'idi: While we were with the Messenger of Allah! (ﷺ) a man of Banu Salmah came to Him and said: Messenger of Allah is there any kindness left that I can do to my parents after their death? He replied: Yes, you can invoke blessings on them, forgiveness for them, carry out their final instructions after their death, join ties of relationship which are dependent on them, and honour their friends
ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ کے مر جانے کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہے، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، ان کے بعد ان کی وصیت و اقرار کو نافذ کرنا، جو رشتے انہیں کی وجہ سے جڑتے ہیں، انہیں جوڑے رکھنا، ان کے دوستوں کی خاطر مدارات کرنا ( ان حسن سلوک کی یہ مختلف صورتیں ہیں ) ۔
Abu Hurairah, may Allah be pleased with them, said that:Allah's Messenger said: "They said: 'O Messenger of Allah, whom should I treat kindly?' He said: 'Your mother.' He said: 'Then who?' He said :'Your mother." He said: 'Then who?' He said: 'Your father'. He said : 'Then who?' He said: 'The next closest and the next closest
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں ۔
PickthallEach do We supply, both these and those, from the bounty of thy Lord. And the bounty of thy Lord can never be walled up.
Yusuf AliOf the bounties of thy Lord We bestow freely on all- These as well as those: The bounties of thy Lord are not closed (to anyone).
The agreed readingTo each We extend, these and those, from the giving of your Lord. And your Lord's giving is not walled off. The commentaries take it to mean that provision in this world is not the sign of favour it is mistaken for: both parties are supplied from the same source.
Urduہم ہر ایک کو، انہیں بھی اور ان کو بھی، تمہارے رب کی عطا میں سے بڑھاتے رہتے ہیں، اور تمہارے رب کی عطا کبھی روکی نہیں جاتی۔ مفسرین اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں رزق ملنا اس منظوری کی نشانی نہیں جسے لوگ سمجھ بیٹھتے ہیں: دونوں فریق ایک ہی سرچشمے سے رزق پاتے ہیں۔
Arabicكلا نمد هؤلاء وهؤلاء من عطاء ربك، وما كان عطاء ربك محظورا ممنوعا عن أحد. وقد فهم المفسرون منه أن الرزق في الدنيا ليس دليل الرضا كما يظنه بعضهم، فكلا الفريقين يمد من مصدر واحد.
Mu'adh bin Jabal narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Whoever fasts Ramadan, performs the Salat, performs Hajj to the House" - I do not know whether he mentioned Zakat or not - "except that it is binding on Allah that He forgive him, whether he emigrated in the cause of Allah, or remained in his land in which he was born." Mu'adh said: "Should I not inform the people of this?" The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Leave the people to do deeds, for verily in Paradise there are a hundred levels, what is between every two levels is like what is between the heavens and the earth. Al-Firdaus is the highest of Paradise and its most expansive, and above that is the Throne of Ar-Rahman (the …
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے، نمازیں پڑھیں اور حج کیا ( – عطاء بن یسار کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ معاذ نے زکاۃ کا ذکر کیا یا نہیں – ) تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ اس کو بخش دے اگرچہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرے یا اپنی پیدائشی سر زمین میں ٹھہرا رہے“۔ معاذ نے کہا: کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو چھوڑ دو، وہ عمل کرتے رہیں، اس لیے کہ جنت میں سو درجے ہیں اور ایک درجہ سے دوسرے درجہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ زمین و آسمان کے درمیان کا، فردوس جنت کا اعلیٰ اور سب سے اچھا درجہ ہے، اسی کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں بہتی ہیں، لہٰذا جب تم …
Ubadah bin As-Samit narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"In Paradise, there are a hundred levels, what is between every two levels is like what is between the heavens and the earth. Al-Firdaus is ts highest level, and from it the four rivers of Paradise are made to flow forth. So when you ask Allah, ask Him for Al-Firdaus." Another chain reports a similar narration
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، درجہ کے اعتبار سے فردوس اعلیٰ جنت ہے، اسی سے جنت کی چاروں نہریں بہتی ہیں اور اسی کے اوپر عرش ہے، لہٰذا جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس مانگو“۔
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said: If one who is afflicted with poverty refers it to me, his poverty will not be brought to an end; but if one refers it to Allah, He will soon give him sufficiency, either by a speedy death or by a sufficiency which comes later
ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے ظاہر کر دے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا، اور جو اس کو اللہ سے ظاہر کرے ( یعنی اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا مانگے ) تو قریب ہے کہ اسے اللہ بے پروا کر دے یا تو جلد موت دے کر یا جلد مالدار کر کے ۔
PickthallThy Lord hath decreed, that ye worship none save Him, and (that ye show) kindness to parents. If one of them or both of them attain old age with thee, say not "Fie" unto them nor repulse them, but speak unto them a gracious word.
Yusuf AliThy Lord hath decreed that ye worship none but Him, and that ye be kind to parents. Whether one or both of them attain old age in thy life, say not to them a word of contempt, nor repel them, but address them in terms of honour.
The agreed readingAnd your Lord has decreed that you serve none but Him, and that you be good to parents. If one or both of them reach old age with you, do not say to them a word of contempt, and do not push them away, and speak to them a gracious word. The commentaries note what is forbidden first: not striking or refusing, but the smallest sound of impatience.
Urduاور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے نرم اور باعزت بات کرو۔ مفسرین نے بتایا ہے کہ سب سے پہلے جس چیز سے روکا گیا وہ مارنا یا صاف انکار کرنا نہیں بلکہ ناگواری کی سب سے چھوٹی سی آواز بھی ہے۔
Arabicوقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه، وبالوالدين إحسانا، إما يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما فلا تقل لهما أف ولا تنهرهما وقل لهما قولا كريما. وقد نبه المفسرون إلى أول ما نهي عنه: ليس الضرب ولا الرفض، بل أدنى صوت من أصوات الضجر.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira reported that a person came to Allah, 's Messenger (ﷺ) and said:Who among the people is most deserving of a fine treatment from my hand? He said: Your mother. He again said: Then who (is the next one)? He said: Again it is your mother (who deserves the best treatment from you). He said: Then who (is the next one)? He (the Holy Prophet) said: Again, it is your mother. He (again) said: Then who? Thereupon he said: Then it is your father. In the hadith transmitted on the authority of Qutalba, there is no mention of the word" the people
قتیبہ بن سعید بن جمیل بن طریف ثقفی اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : لوگوں میں سے حسنِ معاشرت ( خدمت اور حسن سلوک ) کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ نے فرمایا : تمہاری ماں ۔ "" اس نے کہا : پھر کون؟ فرمایا : "" پھر تمہاری ماں ۔ "" اس نے پوچھا : اس کے بعد کون؟ فرمایا : "" پھر تمہاری ماں ۔ "" اس نے پوچھا : پھر کون؟ فرمایا : "" پھر تمہارا والد ۔ "" اور قتیبہ کی حدیث میں ہے : میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حقدار کون ہے؟ اور انہوں نے "" لوگوں میں سے "" کا ذکر نہیں کیا ۔
It was narrated that Abu Hurairah said:“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah (ﷺ), tell me, which of the people has most right to my good companionship?' He said: 'Yes, by your father, you will certainly be told.' He said: 'Your mother,' He said: 'Then who?' He said: Then your mother.' He said: 'Then who?' He said: Then your mother.' He said: 'Then who?' He said: Then your father.' He said: 'Tell me, O Messenger of Allah (ﷺ) about my wealth- how should I give in charity?' He said: 'Yes, by Allah (SWT) you will certainly be told. You should give in charity when you are still healthy and greedy for wealth, hoping for a long life and fearing poverty. Do not tarry until …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیے کہ لوگوں میں کس کے ساتھ حسن سلوک کا حق مجھ پر زیادہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تمہارے والد کی قسم، تمہیں بتایا جائے گا، ( سب سے زیادہ حقدار ) تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا: پھر تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہارا باپ کہا: مجھے بتائیے کہ میں اپنا مال کس طرح صدقہ کروں؟ آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ بھی تمہیں بتایا جائے گا، صدقہ اس حال میں کرو کہ تم تندرست ہو، مال کی …
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“May the man before whom I am mentioned - and he does not send Salat upon me - be humiliated. And may a man upon whom Ramadan enters and then passes, before he is forgiven, be humiliated. And may a man whose parents reached old age in his presence, and they were not a cause for his entrance to Paradise, be humiliated.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ شخص مجھ پر درود نہ بھیجے، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر وہ مہینہ گزر گیا، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پایا ہو اور وہ دونوں اسے ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کرنے کی وجہ سے جنت کا مستحق نہ بنا سکے ہوں“، عبدالرحمٰن ( راوی ) کہتے ہیں: میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے دونوں ماں باپ کہا۔ یا یہ کہا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی بڑھاپے میں پایا ( اور ان کی خدمت کر کے اپنی مغفرت نہ کر الی ہو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ربعی بن ابراہیم اسماعیل …
Nu'man b. Bashir (Allah be pleased with him) reported:I heard Allah's Messenger (may peace be upon himn) as having said this (and Nu'man) pointed towards his ears with his fingers): What is lawful is evident and what is unlawful is evident, and in between them are the things doubtful which many people do not know. So he who guards against doubtful things keeps his religion and honour blameless, and he who indulges in doubtful things indulges in fact in unlawful things, just as a shepherd who pastures his animals round a preserve will soon pasture them in it. Beware, every king has a preserve, and the things God his declaced unlawful are His preserves. Beware, in the body there is a piece of …
عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زکریا نے شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( شعبی نے ) کہا : میں نے ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، ۔ ۔ اور حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا ۔ ۔ آپ فرما رہے تھے : " بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات ہیں لوگوں کی بڑی تعداد ان کو نہیں جانتی ، جو شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا ، جیسے چرواہا ( جو ) چراگاہ کے اردگرد ( بکریاں ) چراتا ہے ، قریب ہے وہ اس ( چراگاہ ) میں چرنے لگیں ، دیکھو! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہے ۔ دھیان …
Abdullah bin 'Amr narrated that :the Messenger of Allah said: "It is among the greatest of sins that a man should curse his parents." They said: "O Messenger of Allah! Does a man curse his parents?" He said: "Yes. He verbally abuses the father of a man, who in turn, verbally abuses his father, and he (retaliates and) curses his mother , so he curses his mother
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، وہ کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا، اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: I came to you to take the oath of allegiance to you on emigration, and I left my parents weeping. He (the Prophet) said: Return to them and make them laugh as you made them weep
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا ہوں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ، اور انہیں ہنساؤ جیسا کہ رلایا ہے ۱؎ ۔
Narrated Al-Musaiyab:When Abu Talib was in his death bed, the Prophet (ﷺ) went to him while Abu Jahl was sitting beside him. The Prophet (ﷺ) said, "O my uncle! Say: None has the right to be worshipped except Allah, an expression I will defend your case with, before Allah." Abu Jahl and `Abdullah bin Umaiya said, "O Abu Talib! Will you leave the religion of `Abdul Muttalib?" So they kept on saying this to him so that the last statement he said to them (before he died) was: "I am on the religion of `Abdul Muttalib." Then the Prophet said, " I will keep on asking for Allah's Forgiveness for you unless I am forbidden to do so." Then the following Verse was revealed:-- "It is not fitting for the …
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ان کے والد مسیب بن حزن صحابی رضی اللہ عنہ نے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت وہاں ابوجہل بھی بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چچا! کلمہ لا الہٰ الا اللہ ایک مرتبہ کہہ دو، اللہ کی بارگاہ میں ( آپ کی بخشش کے لیے ) ایک یہی دلیل میرے ہاتھ آ جائے گی۔“ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: اے ابوطالب! کیا عبدالمطلب کے دین سے تم پھر جاؤ گے! یہ دونوں ان ہی پر زور دیتے رہے اور آخری کلمہ جو ان کی زبان سے نکلا، وہ یہ تھا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں۔ پھر نبی کریم صلی …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلاَءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلاَنًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ - يَعْنِي - لاَ تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى نَفْسٍ " .
It was narrated from Al-Ash'ath bin sulaim, from his father that a man from among Banu Tha'labah bin Yarbu' said:"I came to the Prophet when he was speaking, and a man said: 'O Messenger of Allah, these are Banu Tha'labah bin Yarbu' who killed so and so.' The Messenger of Allah said: 'No,' meaning no soul is affected by the sin of another
قتيبہ سے ابو عوانہ سے اشعث بن سليم سے اس کے باپا سے بني ثعلبہ بن يربوع سے کہا: میں نبی کے پاس آیا جب وہ بات کر رہے تھے۔ ایک آدمی نے کہا: اے رسول اللہ! یہ بنو ثعلبہ بن يربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا۔ رسول اللہ نے کہا: نہیں، یعنی کوئی نفس دوسرے نفس پر کوئی جرم نہیں کرتا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Al-Walid bin 'Aizar:I heard Abi `Amr 'Ash-Shaibani saying, "The owner of this house." he pointed to `Abdullah's house, "said, 'I asked the Prophet (ﷺ) 'Which deed is loved most by Allah?" He replied, 'To offer prayers at their early (very first) stated times.' " `Abdullah asked, "What is the next (in goodness)?" The Prophet (ﷺ) said, "To be good and dutiful to one's parents," `Abdullah asked, "What is the next (in goodness)?" The Prophet (ﷺ) said, "To participate in Jihad for Allah's Cause." `Abdullah added, "The Prophet (ﷺ) narrated to me these three things, and if I had asked more, he would have told me more
ہم سے ابوالولید ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عیزار نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعمرو شیبانی سے سنا، کہا کہ ہمیں اس گھر والے نے خبر دی اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنا۔ پوچھا کہ پھر کون سا؟ فرمایا کہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ان کاموں کے متعلق بیان کیا اور اگر میں اسی طرح سوال کرتا رہتا تو آپ جواب دیتے رہتے۔
PickthallAnd lower unto them the wing of submission through mercy, and say: My Lord! Have mercy on them both as they did care for me when I was little.
Yusuf AliAnd, out of kindness, lower to them the wing of humility, and say: "My Lord! bestow on them thy Mercy even as they cherished me in childhood."
The agreed readingAnd lower to them the wing of humility out of mercy, and say: my Lord, have mercy on them as they brought me up when I was little. The commentaries gloss the lowered wing as gentleness in every movement, and note the reason the prayer gives for asking mercy on them: what they did for a person who could not yet do anything.
Urduاور رحمت کے ساتھ ان کے سامنے عاجزی کے بازو جھکائے رکھو، اور کہو: اے میرے رب، ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے مجھے بچپن میں پالا تھا۔ مفسرین نے عاجزی کے بازو جھکانے کی تشریح ہر حرکت میں نرمی کے طور پر کی ہے، اور بتایا ہے کہ اس دعا میں رحم مانگنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے ایک ایسے بچے کے لیے سب کچھ کیا جو خود کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں تھا۔
Arabicواخفض لهما جناح الذل من الرحمة، وقل رب ارحمهما كما ربياني صغيرا. وقد فسر المفسرون خفض الجناح بأنه الرفق في كل حركة، ونبهوا إلى سبب طلب الرحمة لهما: ما فعلاه لمن كان لا يقدر على شيء بعد.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Qurṭubī، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Qurṭubī and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Qurṭubī، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
It was narrated that Abu Hurairah said:“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah (ﷺ), tell me, which of the people has most right to my good companionship?' He said: 'Yes, by your father, you will certainly be told.' He said: 'Your mother,' He said: 'Then who?' He said: Then your mother.' He said: 'Then who?' He said: Then your mother.' He said: 'Then who?' He said: Then your father.' He said: 'Tell me, O Messenger of Allah (ﷺ) about my wealth- how should I give in charity?' He said: 'Yes, by Allah (SWT) you will certainly be told. You should give in charity when you are still healthy and greedy for wealth, hoping for a long life and fearing poverty. Do not tarry until …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیے کہ لوگوں میں کس کے ساتھ حسن سلوک کا حق مجھ پر زیادہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تمہارے والد کی قسم، تمہیں بتایا جائے گا، ( سب سے زیادہ حقدار ) تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا: پھر تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہارا باپ کہا: مجھے بتائیے کہ میں اپنا مال کس طرح صدقہ کروں؟ آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ بھی تمہیں بتایا جائے گا، صدقہ اس حال میں کرو کہ تم تندرست ہو، مال کی …
Abu Huraira reported that a person came to Allah, 's Messenger (ﷺ) and said:Who among the people is most deserving of a fine treatment from my hand? He said: Your mother. He again said: Then who (is the next one)? He said: Again it is your mother (who deserves the best treatment from you). He said: Then who (is the next one)? He (the Holy Prophet) said: Again, it is your mother. He (again) said: Then who? Thereupon he said: Then it is your father. In the hadith transmitted on the authority of Qutalba, there is no mention of the word" the people
قتیبہ بن سعید بن جمیل بن طریف ثقفی اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : لوگوں میں سے حسنِ معاشرت ( خدمت اور حسن سلوک ) کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ نے فرمایا : تمہاری ماں ۔ "" اس نے کہا : پھر کون؟ فرمایا : "" پھر تمہاری ماں ۔ "" اس نے پوچھا : اس کے بعد کون؟ فرمایا : "" پھر تمہاری ماں ۔ "" اس نے پوچھا : پھر کون؟ فرمایا : "" پھر تمہارا والد ۔ "" اور قتیبہ کی حدیث میں ہے : میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حقدار کون ہے؟ اور انہوں نے "" لوگوں میں سے "" کا ذکر نہیں کیا ۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“May the man before whom I am mentioned - and he does not send Salat upon me - be humiliated. And may a man upon whom Ramadan enters and then passes, before he is forgiven, be humiliated. And may a man whose parents reached old age in his presence, and they were not a cause for his entrance to Paradise, be humiliated.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ شخص مجھ پر درود نہ بھیجے، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر وہ مہینہ گزر گیا، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پایا ہو اور وہ دونوں اسے ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کرنے کی وجہ سے جنت کا مستحق نہ بنا سکے ہوں“، عبدالرحمٰن ( راوی ) کہتے ہیں: میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے دونوں ماں باپ کہا۔ یا یہ کہا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی بڑھاپے میں پایا ( اور ان کی خدمت کر کے اپنی مغفرت نہ کر الی ہو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ربعی بن ابراہیم اسماعیل …
Narrated Al-Musaiyab:When Abu Talib was in his death bed, the Prophet (ﷺ) went to him while Abu Jahl was sitting beside him. The Prophet (ﷺ) said, "O my uncle! Say: None has the right to be worshipped except Allah, an expression I will defend your case with, before Allah." Abu Jahl and `Abdullah bin Umaiya said, "O Abu Talib! Will you leave the religion of `Abdul Muttalib?" So they kept on saying this to him so that the last statement he said to them (before he died) was: "I am on the religion of `Abdul Muttalib." Then the Prophet said, " I will keep on asking for Allah's Forgiveness for you unless I am forbidden to do so." Then the following Verse was revealed:-- "It is not fitting for the …
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ان کے والد مسیب بن حزن صحابی رضی اللہ عنہ نے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت وہاں ابوجہل بھی بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چچا! کلمہ لا الہٰ الا اللہ ایک مرتبہ کہہ دو، اللہ کی بارگاہ میں ( آپ کی بخشش کے لیے ) ایک یہی دلیل میرے ہاتھ آ جائے گی۔“ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: اے ابوطالب! کیا عبدالمطلب کے دین سے تم پھر جاؤ گے! یہ دونوں ان ہی پر زور دیتے رہے اور آخری کلمہ جو ان کی زبان سے نکلا، وہ یہ تھا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں۔ پھر نبی کریم صلی …
Abdullah bin Amr narrated that:the Prophet said: "The Lord's pleasure is in the parent's pleasure, and the Lord's anger is in the parent's anger."(Hasan)
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے“۔
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah said: "When the deceased - or he said when one of you - is buried, two angels, black and blue (eyed_ come to him. One of them is called Al-Munkar, and the other An-Nakir. They say: 'What did you used to say about this man?' So he says what he was saying (before death) 'He is Allah's slave and His Messenger. I testify that none has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is His slave and His Messenger.' So they say: 'We knew that you would say this.' Then his grave is expanded to seventy by seventy cubits, then it is illuminated for him. Then it is said to him: 'Sleep.' So he said: 'Can I return to my family to inform them?' …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میت کو یا تم میں سے کسی کو دفنا دیا جاتا ہے تو اس کے پاس کالے رنگ کی نیلی آنکھ والے دو فرشتے آتے ہیں، ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔ اور وہ دونوں پوچھتے ہیں: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا۔ وہ ( میت ) کہتا ہے: وہی جو وہ خود کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں تو وہ دونوں کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر اس کی قبر طول و عرض میں ستر ستر گز کشادہ کر دی جاتی ہے، پھر اس میں روشنی کر دی جاتی ہے۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے: سو جا، وہ کہتا ہے: مجھے میرے گھر والوں …
Abdullah bin 'Amr narrated that :the Messenger of Allah said: "It is among the greatest of sins that a man should curse his parents." They said: "O Messenger of Allah! Does a man curse his parents?" He said: "Yes. He verbally abuses the father of a man, who in turn, verbally abuses his father, and he (retaliates and) curses his mother , so he curses his mother
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، وہ کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا، اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: I came to you to take the oath of allegiance to you on emigration, and I left my parents weeping. He (the Prophet) said: Return to them and make them laugh as you made them weep
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا ہوں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ، اور انہیں ہنساؤ جیسا کہ رلایا ہے ۱؎ ۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that:The Prophet [SAW] said: "The extinction of the whole world is less significant before Allah than killing a Muslim man
ہمیں خبر دی یحیی بن حکیم البصری نے، انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابن ابی عدی نے، شعبہ سے، یعلیٰ بن عطاء سے، ان کے باپ سے، عبد اللہ بن عمرو سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، انہوں نے فرمایا: "دنیا کا ختم ہو جانا اللہ کے نزدیک ایک مسلم آدمی کو قتل کرنے سے آسان ہے"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallYour Lord is Best Aware of what is in your minds. If ye are righteous, then lo! He was ever Forgiving unto those who turn (unto Him).
Yusuf AliYour Lord knoweth best what is in your hearts: If ye do deeds of righteousness, verily He is Most Forgiving to those who turn to Him again and again (in true penitence).
The agreed readingYour Lord knows best what is in your souls. If you are righteous, then He is Forgiving to those who turn back to Him again and again.
Urduتمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے۔ اگر تم نیک ہو تو بےشک وہ بار بار اس کی طرف رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔
Arabicربكم أعلم منكم جميعا بما في نفوسكم من خير وشر، إن تكونوا صالحين حقا فإنه كان دوما للأوابين التائبين الراجعين إليه دائما غفورا رحيما بهم أجمعين.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Let him be humbled into dust; let him be humbled into dust. It was said: Allah's Messenger, who is he? He said: He who sees either of his parents during their old age or he sees both of them, but he does not enter Paradise
ابو عوانہ نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " ( اس شخص کی ) ناک خاک آلود ہو گئی ، پھر ( اس کی ) ناک خاک آلود ہو گئی ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول! وہ کون شخص ہے؟ فرمایا : " جس نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا تو ( ان کی خدمت کر کے ) جنت میں داخل نہ ہوا ۔
Narrated 'Abdullah bin 'Umar: A man came to Prophet (ﷺ) seeking permission to go for Jihad. So he said: 'Do you have parents (living)? ' He said: 'Yes.' He said: 'Then it is for them that you should perform Jihad.'" [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from Ibn 'Abbas. This Hadith is Hasan Sahih. (One of the narrators) Abul-Abbas is the blind (Al-A'ma) poet (Ash-Sha'ir), from Makkah, and his name is As-Sa'ab bin Farrukh
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے ماں باپ ( زندہ ) ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”ان کی خدمت کی کوشش میں لگے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
‘Abd Allah bin ‘Amr said “A man came to the Prophet(ﷺ) and said “Apostle of Allaah(ﷺ), May I take part in jihad?” He asked “Do you have parents?” He replied “Yes”. So, strive for them.” Abu Dawud said:The name of the narrator Abu al-'Abbas, a poet, is al-Sa'ib b. Farrukh
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میں جہاد کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں دونوں میں جہاد کرو ۱؎ “ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ابو العباس شاعر ہیں جن کا نام سائب بن فروخ ہے ۔
Abdullah b. 'Amr reported that a person came to Allah's Apostle (ﷺ) and sought permission (to participate) in Jihad, whereupon he (the Holy Prophet) said:Are your parents living? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You should put in your best efforts (in their) service
وکیع نے سفیان سے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان اور شعبہ دونوں سے روایت کی ، دونوں نے کہا : ہمیں حبیب نے ابوعباس سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے آیا تو آپ نے فرمایا : " کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ " اس نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پھر ان ( کی خدمت بجا لانے ) میں جہاد کرو ۔ ( اپنی جان اور مال کو ان کی خدمت میں صرف کرو ۔)
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي هِشَامٌ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ قَدِمَتْ أُمِّي وَهْىَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَمُدَّتِهِمْ، إِذْ عَاهَدُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَبِيهَا، فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ وَهْىَ رَاغِبَةٌ {أَفَأَصِلُهَا} قَالَ " نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ ".
Narrated Asma':"My mother who was a Mushrikah (pagan, etc.), came with her father during the period of peace pact between the Muslims and the Quraish infidels. I went to seek the advice of the Prophet (ﷺ) saying, "My mother has arrived and she is hoping (for my favor)." The Prophet (ﷺ) said, "Yes, be good to your mother
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے ہشام نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میری والدہ مشرکہ تھیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریش کے ساتھ صلح کے زمانہ میں اپنے والد کے ساتھ ( مدینہ منورہ ) آئیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے متعلق پوچھا کہ میری والدہ آئی ہیں اور وہ اسلام سے الگ ہیں ( کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔
Narrated AbuUsayd Malik ibn Rabi'ah as-Sa'idi: While we were with the Messenger of Allah! (ﷺ) a man of Banu Salmah came to Him and said: Messenger of Allah is there any kindness left that I can do to my parents after their death? He replied: Yes, you can invoke blessings on them, forgiveness for them, carry out their final instructions after their death, join ties of relationship which are dependent on them, and honour their friends
ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ کے مر جانے کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہے، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، ان کے بعد ان کی وصیت و اقرار کو نافذ کرنا، جو رشتے انہیں کی وجہ سے جڑتے ہیں، انہیں جوڑے رکھنا، ان کے دوستوں کی خاطر مدارات کرنا ( ان حسن سلوک کی یہ مختلف صورتیں ہیں ) ۔
PickthallGive the kinsman his due, and the needy, and the wayfarer, and squander not (thy wealth) in wantonness.
Yusuf AliAnd render to the kindred their due rights, as (also) to those in want, and to the wayfarer: But squander not (your wealth) in the manner of a spendthrift.
The agreed readingAnd give the relative his due, and the needy, and the traveller, and do not squander in waste.
Urduاور اپنے قرابت دار کو اس کا پورا حق دو، اور مسکین اور مسافر کو بھی ان کا حق دو، اور فضول خرچی کر کے اپنا مال ہرگز مت اڑاؤ۔
Arabicوآت ذا القربى حقه الواجب كله من الإحسان والبر، وأعط المسكين وابن السبيل حقهما أيضا، ولا تنفق مالك في غير طاعة الله إسرافا وتبذيرا زائدا أبدا.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — جميعها من كتب أهل السنة6 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 6 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنِ الْمِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The poor man (miskin) is not the one who goes round to the people and is dismissed with one or two morsels. and one or two dates. They (the Prophet's Companions) said: Messenger of Allah, then who is miskin? He said: He who does not get enough to satisfy him, and he is not considered so (as to elicit the attention of the benevolent people), so that charity way be given to him. and he does not beg anything from people
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( اصل ) مسکین یہ گھومنے والا نہیں جو لو گوں کے پاس چکر لگا تا ہے پھر ایک دو لقمے یا ایک دوکھجور یں اسے واپس لوٹا دیتی ہیں ۔ " ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو مسکین کون ہے؟آپ نے فرمایا : " جو اتنی تونگری نہیں پاتا جو اسے ( سوال سے ) مستغنی کردے ، نہ ہی اس ( کے ضرورت مند ہونے ) کا پتہ چلتا ہے کہ اس کو صدقہ دیا جائے اور نہ ہی وہ لوگوں سے کوئی چیز مانگتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"The poor man (Miskin) is not the one who leaves if you give him a morsel or two, or a date or two." They said: "Then who is the Miskin, O Messenger of Allah?" He said: "The one who does not possess independence of means, and the people do not know of his need, so that they could give him charity
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک لقمے دو لقمے اور ایک کھجور، دو کھجور در در پھرائیں“۔ لوگوں نے کہا: پھر مسکین کون ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”مسکین وہ ہے: جو مالدار نہ ہو، اور لوگ اس کی محتاجی و حاجت مندی کو جان بھی نہ سکیں کہ اسے صدقہ دیں“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"The poor man (Miskin) is not the one who goes around asking people and they send him away with a morsel or two, of a date or two. "They said: "Then what does poor (Mishkin) mean?" He said: "The one who does not possess independence of means and no one notices him to give charity to him, and he does not stand and ask of people
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جو اس طرح لوگوں کے پاس چکر لگائے کہ ایک لقمہ دو لقمے یا ایک کھجور دو کھجوریں اسے در در پھرائیں“، لوگوں نے پوچھا: پھر مسکین کون ہے؟ فرمایا: ”مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال و دولت نہ ہو کہ وہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے دوسروں کا محتاج نہ رہے، اور وہ محسوس بھی نہ ہو سکے کہ وہ مسکین ہے کہ اسے ضرورت مند سمجھ کر صدقہ دیا جائے۔ اور نہ ہی وہ لوگوں کے سامنے مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوتا ہے“
It was narrated from Abu Hurairah that the messenger of Allah said:"The poor man (Miskin) is not the one who leaves if you give him a date or two, or a morsel or two. Rather the poor man is the one who refrains from asking. Recite if you wish: "They do not beg of people at all
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور ایک لقمہ یا دو لقمے ( در در ) گھماتے اور ( گھر گھر ) چکر لگواتے ہیں۔ بلکہ مسکین سوال سے بچنے والا ہے ۱؎ اگر تم چاہو تو پڑھو «لا يسألون الناس إلحافا» ”وہ لوگوں سے گڑگڑا کر نہیں مانگتے“ ( البقرہ: ۲۷۳ ) ۔
Yahya related to me from Malik from Abu'z-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The very poor are not the people who constantly walk from person to person and are given one or two morsels, and one or two dates." They said, "Who are the very poor, Messenger of Allah?" He said, "People who do not find enough for themselves and other people are not aware of them to give sadaqa to them, and they do not start begging from other people
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جو گھر گھر مانگتا پھرتا ہے کہیں سے ایک لقمہ ملا کہیں سے دو لقمے کہیں سے ایک کھجور کہیں سے دو کھجوریں۔ صحابہ نے پوچھا پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکیں کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس مال نہں ہے کہ وہ اپنی حاجت پوری کرے نہ لوگوں کو اس کا حال معلوم ہے تاکہ اس کو صدقہ دیں نہ وہ مانگنے کو کھڑا ہوتا ہے ۔
PickthallLo! the squanderers were ever brothers of the devils, and the devil was ever an ingrate to his Lord.
Yusuf AliVerily spendthrifts are brothers of the Evil Ones; and the Evil One is to his Lord (himself) ungrateful.
The agreed readingThe squanderers were ever the brothers of the satans, and Satan was ever ungrateful to his Lord. The commentaries read the kinship as one of method rather than of blood: they go the same way he goes.
Urduفضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا رہا ہے۔ مفسرین اس بھائی چارے کو نسب کا نہیں بلکہ طریقے کا رشتہ سمجھتے ہیں: وہ اسی راستے پر چلتے ہیں جس پر شیطان چلتا ہے۔
Arabicإن المبذرين كانوا إخوان الشياطين في الصفات، وكان الشيطان لربه كفورا جحودا. وقد فهم المفسرون هذه الأخوة مماثلة في السلوك لا في النسب: يسلكون طريقه نفسه.
PickthallBut if thou turn away from them, seeking mercy from thy Lord, for which thou hopest, then speak unto them a reasonable word.
Yusuf AliAnd even if thou hast to turn away from them in pursuit of the Mercy from thy Lord which thou dost expect, yet speak to them a word of easy kindness.
The agreed readingAnd if you turn from them, seeking a mercy from your Lord that you hope for, then say to them a gentle word. The commentaries read it as instruction for the one who has nothing to give: what cannot be given in money is still owed in speech.
Urduاور اگر تم ان سے اس لیے منہ موڑو کہ تمہیں اپنے رب کی جس رحمت کی امید ہے اس کے انتظار میں ہو، تو ان سے نرم بات کہو۔ مفسرین اسے اس شخص کے لیے ہدایت سمجھتے ہیں جس کے پاس دینے کو کچھ نہ ہو: جو مال میں نہیں دیا جا سکتا وہ بھی بات میں دینا واجب رہتا ہے۔
Arabicوإما تعرضن عنهم ابتغاء رحمة من ربك ترجوها، فقل لهم قولا ميسورا لينا. وقد فهمه المفسرون توجيها لمن لا يملك شيئا يعطيه: ما يعجز عنه المال يبقى واجبا في القول.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب الشيعة2 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام شیعہ کتب سے
Hadith.4959 - Bakr ibn Muhammad al-Azdi narrated from Abu Abdillah (as) that Commander of the Faithful (as) said: "Indeed, the one who harbors doubt and persists in disobedience is in the Fire; they are neither from us nor connected to us."
4959 - بکر بن محمد الأزدي نے أبي عبد الله عليه السلام سے روایت کی کہ امير المؤمنين عليه السلام نے فرمایا: "بے شک وہ شخص جو شک اور نافرمانی میں ہو وہ جہنم میں ہے، وہ ہم سے نہیں ہیں اور نہ ہمارے طرف سے ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Hadith.4961 - Muhammad ibn Abi Umayr narrated from Ishaq ibn Hilal, from Abu Abdillah (as), who said: "Indeed, Commander of the Faithful (as) said: 'Shall I not inform you of the gravest form of adultery?' They said: 'Yes.' Imam (as) said: 'It is when a woman brings another man onto her husband's bed and bears a child from him, then attributes that child to her husband. That woman is the one whom Allah (swt) will neither speak to nor look at on the Day of Judgment, nor will He (swt) purify her, and for her is a painful punishment.'"
محمد بن ابی عمیر نے اسحاق بن ہلال سے روایت کی، ابو عبداللہ علیہ السلام سے کہ: "بیشک امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑی زنا کی بات نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: وہ عورت ہے جو اپنے شوہر کے بستر پر (کسی اور آدمی کو) دوسری جگہ ڈالتی ہے پھر کسی اور سے بچہ لاتی ہے اور اسے اپنے شوہر کے ذمے لگا دیتی ہے۔ وہ عورت وہ ہے جس سے نہ تو اللہ بات کرے گا اور نہ ہی قیامت کے دن اس کی طرف دیکھے گا اور نہ اسے پاک کرے گا اور اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd let not thy hand be chained to thy neck nor open it with a complete opening, lest thou sit down rebuked, denuded.
Yusuf AliMake not thy hand tied (like a niggard's) to thy neck, nor stretch it forth to its utmost reach, so that thou become blameworthy and destitute.
The agreed readingAnd do not keep your hand chained to your neck, nor open it out completely, or you will sit down blamed and stripped bare. The commentaries take the two images as the two failures — holding back and pouring out — with the right conduct lying between them.
Urduاور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا مت رکھو، اور نہ ہی اسے پوری طرح کھلا چھوڑ دو، ورنہ تم ملامت زدہ اور خالی ہاتھ بیٹھے رہ جاؤ گے۔ مفسرین ان دونوں تصویروں کو دو ناکامیاں سمجھتے ہیں: روک رکھنا اور سب کچھ لٹا دینا، اور درست چلن ان دونوں کے درمیان ہے۔
Arabicولا تجعل يدك مغلولة إلى عنقك بخلا، ولا تبسطها كل البسط إسرافا، فتقعد ملوما محسورا نادما. وقد جعل المفسرون الصورتين إخفاقين اثنين: الإمساك والتبذير، والسلوك الصحيح بينهما.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 7 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة9 reports cited here — 7 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ، عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ ". وَحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ، عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، مِنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلاَ يُنْفِقُ إِلاَّ سَبَغَتْ ـ أَوْ وَفَرَتْ ـ عَلَى …
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The example of a miser and an almsgiver is like the example of two persons wearing iron cloaks." Allah's Messenger (ﷺ) also said, "The example of an almsgiver and a miser is like the example of two persons who have two iron cloaks on them from their breasts to their collar bones, and when the almsgiver wants to give in charity, the cloak becomes capacious till it covers his whole body to such an extent that it hides his fingertips and covers his footprints (obliterates his tracks). (1) And when the miser wants to spend, it (the iron cloak) sticks and every ring gets stuck to its place and he tries to widen it, but it did not become wide
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ایسے دو شخصوں کی طرح ہے جن کے بدن پر لوہے کے دو کرتے ہیں۔ ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں ابوالزناد نے خبر دی کہ عبداللہ بن ہرمز اعرج نے ان سے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ایسے دو شخصوں کی سی ہے جن کے بدن پر لوہے کے دو کرتے ہوں چھاتیوں سے …
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) preached and said: Abstain from avarice, for those who had been before you were annihilated due to avarice. It (avarice) commanded them to show niggardliness; it commanded them to cut off their relationship with their nearest relatives, so they cut off. It commanded them to show profligacy, so they showed it
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: بخل و حرص سے بچو اس لیے کہ تم سے پہلے لوگ بخل و حرص کی وجہ سے ہلاک ہوئے، حرص نے لوگوں کو بخل کا حکم دیا تو وہ بخیل ہو گئے، بخیل نے انہیں ناتا توڑنے کو کہا تو لوگوں نے ناتا توڑ لیا اور اس نے انہیں فسق و فجور کا حکم دیا تو وہ فسق و فجور میں لگ گئے ۔
7. Ali ibn Muhammad has narrated from Ahmad ibn abu ‘Abd Allah from his father from al-Nadr ibn Suwayd from Musa ibn Bakr from ‘Ajlan who has said the following: “Once, I was in the presence of abu ‘Abd Allah (a.s.), when a man came asking for help. He (the Imam) gave him a handful of dates from a basket. Then another one came also asking for help. He (the Imam) also gave him a handful of dates. Then another one came asking for help, and he gave him a handful as well. Yet another one came asking for help. He (the Imam) stood up and gave him a handful. Thereafter another one came asking for help. He (the Imam) said, ’Allah is our provider as well as yours.’ He then said, ‘Whoever would come …
علي بن محمد نے احمد بن ابی عبد الله سے روایت کی، احمد بن ابی عبد الله نے اپنے باپ سے روایت کی، اس کے باپ نے النضر بن سویدسے روایت کی، النضر بن سوید نے موسیٰ بن بکر سے روایت کی، اور موسیٰ بن بکر نے عجلان سے روایت کی۔ عجلان کہتے ہیں: میں ابی عبد الله (علیہ السلام) کے پاس موجود تھا جب ایک سائل آیا۔ امام علیہ السلام کھجوروں کی ایک ٹوکری کی طرف اٹھے اور اپنے ہاتھ میں خوب سارے کھجوریں بھریں اور انہیں (سائل کو) دے دیں۔ پھر دوسرا سائل آیا اور مدد مانگی۔ امام (پھر سے) اٹھے اور اپنے ہاتھ سے (کھجوریں) پکڑیں اور اسے دے دیں۔ پھر تیسرا سائل آیا اور مدد مانگی۔ امام اٹھے اور اپنے ہاتھ سے (کھجوریں) پکڑیں اور اسے دے دیں۔ پھر چوتھا سائل آیا اور مدد مانگی۔ امام اٹھے اور اپنے ہاتھ سے (کھجوریں) دے دیں۔ پھر …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Harun ibn Muslim Mas’adah ibn Sadaqah who has said the following: “Once, Sufyan al-Thawriy visited abu ‘ Abd Allah (a.s.). He saw the Imam wearing a cloth that was pure white like the membrane between an egg shell and its contents. He then said to the Imam, ‘This is not the kind of cloth you should wear.’ He (the Imam) said, ‘Listen to me and pay proper attention to what I say; it is good for you now and in future if you like to die following the Sunnah and truth and not in heresy. I can tell you that the Messenger of Allah lived at a time when poverty was rampant. When living conditions improve the people most deserving to benefit from …
علی بن ابراہیم نے ہارون بن مسلم سے، انہوں نے مسعدہ بن صدقہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: سفیان ثوری ابو عبد اللہ (علیہ السلام) کی خدمت میں تشریف لائے۔ انہوں نے دیکھا کہ آپ سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں بالکل انڈے کے سفید حصے کی طرح۔ سفیان نے کہا: یہ لباس آپ کے لیے شایان نہیں ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: میری سنو اور جو کہوں اس پر توجہ کرو کیونکہ یہ تمہارے لیے دنیا و آخرت میں بہتری کا باعث ہے، بشرطیکہ تم سنت اور حق پر مرو۔ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ایسے زمانے میں تھے جب بہت غربت تھی۔ لیکن جب دنیا کی دولت آتی ہے تو اس کے سب سے زیادہ حقدار نیک لوگ ہیں برے نہیں، مومن ہیں منافق نہیں، مسلم ہیں کافر نہیں۔ تو اے ثوری! تمہیں کیا ناپسند ہے؟ اللہ کی قسم! جب سے میں نے عقل حاصل …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Rafi' b. Khadij reported that the Messenger of Allah; (ﷺ) gave to Abu Sufyan b. Harb and Safwan. b. Umayya and 'Uyaina b. Hisn and Aqra' b. Habis, i.e. to every one of these persons, one hundred camels, and gave to 'Abbas b. Mirdas less than this number. Upon this 'Abbas b. Mirdis said:You allot the share of my booty and that of my horse between 'Uyaina and Aqra'. Both Uyaina and Aqra' are in no way more eminent than Mirdas (my father) in the assembly. I am in no way inferior to any one of these persons. And he who is let down today would not be elevated. He (the narrator) said: The Messenger of Allah (ﷺ) then completed one hundred camels for him
محمد بن ابی عمر مکی نے کہا : سفیان ( بن عینیہ ) نے ہمیں عمر بن سعید بن مسروق سےحدیث بیان کی ، انہوں نےاپنے والد ( سعید بن مسروق ) سے ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ سے اور انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان بن حرب ، صفوان بن امیہ ، عینیہ بن حصین اور اقرع بن جابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ دیئے اور عباس بن مرداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس سے کم دیے تو عباس بن مرد اس نے ( اشعار میں ) کہا : کیا آپ میری اور میرے گھوڑے عبید کی غنیمت عینیہ ( بن حصین بن حذیفہ بن بدر سید بن غطفان ) اور اقرع ( بن حابس رئیس تمیم ) کے درمیان قرار دیتے ہیں ، حالانکہ ( عینیہ کے پردادا ) بدر اور ( اقرع کے والد ) حابس کسی ( بڑوں کے ) …
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man said: 'O Messenger of Allah! Which emigration (Hijrah) is best?' He said: 'To leave what your Lord, the Mighty and Sublime, dislikes.' He said: 'There are two kinds of emigration, the emigration of the town dweller and the emigration of the Bedouin. As for the Bedouin, when he is called (to fight in Jihad) he must respond, and he must obey when he is commanded, and as for the town dweller, he is the one who is more severely tested and more greatly rewarded
احمد بن عبد اللہ بن الحکم نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: شعبہ نے ہمیں خبر دی، وہ عمرو بن مرہ سے، وہ عبد اللہ بن الحارث سے، وہ ابو کثیر سے، وہ عبد اللہ بن عمرو سے روایت کرتے ہیں۔ عبد اللہ بن عمرو کہتے ہیں: ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہِجرت بہتر ہے؟ فرمایا: یہ کہ تم اس چیز کو ترک کرو جس سے تمہارے رب کو (اللہ عزوجل کو) بیزاری ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہِجرت دو قسم کی ہے - حاضر کی ہِجرت اور بادی کی ہِجرت۔ جہاں تک بادی کا تعلق ہے، جب اسے بلایا جائے تو وہ جواب دیتا ہے، اور جب اسے حکم دیا جائے تو وہ اطاعت کرتا ہے۔ جہاں تک حاضر کا تعلق ہے، وہ ان دونوں میں زیادہ ابتلاء میں ہے اور ان میں زیادہ اجر والا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. فَقَالُوا السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الآنَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah created Adam, making him 60 cubits tall. When He created him, He said to him, "Go and greet that group of angels, and listen to their reply, for it will be your greeting (salutation) and the greeting (salutations of your offspring." So, Adam said (to the angels), As-Salamu Alaikum (i.e. Peace be upon you). The angels said, "As-salamu Alaika wa Rahmatu-l-lahi" (i.e. Peace and Allah's Mercy be upon you). Thus the angels added to Adam's salutation the expression, 'Wa Rahmatu-l-lahi,' Any person who will enter Paradise will resemble Adam (in appearance and figure). People have been decreasing in stature since Adam's creation
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کو ساٹھ ہاتھ لمبا بنایا پھر فرمایا کہ جا اور ان ملائکہ کو سلام کر، دیکھنا کن لفظوں میں وہ تمہارے سلام کا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا طریقہ سلام ہو گا۔ آدم علیہ السلام ( گئے اور ) کہا، السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ انہوں نے ورحمۃ اللہ کا جملہ بڑھا دیا، پس جو کوئی بھی جنت میں داخل ہو گا وہ آدم علیہ السلام کی شکل اور قامت پر داخل ہو گا، آدم علیہ السلام کے بعد انسانوں میں اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے۔“
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "A man bought a piece of land from another man, and the buyer found an earthenware jar filled with gold in the land. The buyer said to the seller. 'Take your gold, as I have bought only the land from you, but I have not bought the gold from you.' The (former) owner of the land said, "I have sold you the land with everything in it.' So both of them took their case before a man who asked, 'Do you have children?' One of them said, "I have a boy.' The other said, "I have a girl.' The man said, 'Marry the girl to the boy and spend the money on both of them and give the rest of it in charity
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص نے دوسرے شخص سے مکان خریدا اور مکان کے خریدار کو اس مکان میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا جس سے وہ مکان اس نے خریدا تھا اس سے اس نے کہا بھائی گھڑا لے جا۔ کیونکہ میں نے تم سے گھر خریدا ہے سونا نہیں خریدا تھا۔ لیکن پہلے مالک نے کہا کہ میں نے گھر کو ان تمام چیزوں سمیت تمہیں بیچ دیا تھا جو اس کے اندر موجود ہوں۔ یہ دونوں ایک تیسرے شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا کیا تمہارے کوئی اولاد ہے؟ اس پر ایک نے کہا کہ میرے ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے۔ فیصلہ کرنے …
حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْعَيْنُ حَقٌّ ". وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The evil eye is a fact," and he forbade tattooing
مجھ سے یحییٰ بن ابی بشیر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نظر لگ جانا حق ہے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے سے منع فرمایا۔
PickthallLo! thy Lord enlargeth the provision for whom He will, and straiteneth (it for whom He will). Lo, He was ever Knower, Seer of His slaves.
Yusuf AliVerily thy Lord doth provide sustenance in abundance for whom He pleaseth, and He provideth in a just measure. For He doth know and regard all His servants.
The agreed readingYour Lord spreads out provision for whom He wills and measures it narrowly. He is aware of His servants and sees them — and the commentaries attach the measuring to that knowing, so that the amount is not arbitrary.
Urduتمہارا رب جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دیتا ہے۔ بےشک وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر ہے اور انہیں خوب دیکھتا ہے۔ مفسرین اس تنگ اور کشادہ کرنے کو اسی علم سے جوڑتے ہیں تاکہ یہ سمجھا جائے کہ مقدار بےسبب طے نہیں ہوتی۔
Arabicإن ربك يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر على من يشاء، إنه كان بعباده خبيرا بصيرا. وقد ربط المفسرون هذا التقدير بذلك العلم، حتى لا يكون المقدار عبثا بلا حكمة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
He ordained livelihoods [3] with plenty and with paucity. He distributed them narrowly as well as profusely. He did it with justice to test whomever He desired, with prosperity or with destitution, and to test through it the gratefulness or endurance of the rich and the poor. Then He coupled plenty with misfortunates of destitution, safety with the distresses of calamities and pleasures of enjoyment with pangs of grief. He created fixed ages and made them long or short and earlier or later, and ended them up with death. He had made death capable of pulling up the ropes of ages and cutting them asunder.
اللہ تعالیٰ نے ارزاق کو قدر کیا اور کثرت دی اور تقلیل بھی دی۔ تنگی والوں اور سعت والوں میں تقسیم کیا اور عدل سے کیا تاکہ جسے چاہے اپنے کشائش اور معسوری سے ابتلاء کرے۔ اس کے ذریعے شکر اور صبر کی ابتلاء لے۔ غنی اور فقیر دونوں سے۔ سعت کے ساتھ فاقت کے عقابیل جوڑے۔ سلامتی کے ساتھ آفات کے طوارق جوڑے۔ افراح کی فرجوں کے ساتھ احزان کی غصس جوڑے۔ اللہ نے اجال کو خلق فرمایا اور طویل کیا اور قصیر بھی کیا۔ مقدم کیا اور موخر بھی کیا۔ موت کو ان کے اسباب سے وصل کیا۔ خالج بنایا شطانها کو اور قاطع بنایا مرائر أقرانها کو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ، عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ ". وَحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ، عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، مِنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلاَ يُنْفِقُ إِلاَّ سَبَغَتْ ـ أَوْ وَفَرَتْ ـ عَلَى …
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The example of a miser and an almsgiver is like the example of two persons wearing iron cloaks." Allah's Messenger (ﷺ) also said, "The example of an almsgiver and a miser is like the example of two persons who have two iron cloaks on them from their breasts to their collar bones, and when the almsgiver wants to give in charity, the cloak becomes capacious till it covers his whole body to such an extent that it hides his fingertips and covers his footprints (obliterates his tracks). (1) And when the miser wants to spend, it (the iron cloak) sticks and every ring gets stuck to its place and he tries to widen it, but it did not become wide
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ایسے دو شخصوں کی طرح ہے جن کے بدن پر لوہے کے دو کرتے ہیں۔ ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں ابوالزناد نے خبر دی کہ عبداللہ بن ہرمز اعرج نے ان سے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ایسے دو شخصوں کی سی ہے جن کے بدن پر لوہے کے دو کرتے ہوں چھاتیوں سے …
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As: The Messenger of Allah (ﷺ) preached and said: Abstain from avarice, for those who had been before you were annihilated due to avarice. It (avarice) commanded them to show niggardliness; it commanded them to cut off their relationship with their nearest relatives, so they cut off. It commanded them to show profligacy, so they showed it
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: بخل و حرص سے بچو اس لیے کہ تم سے پہلے لوگ بخل و حرص کی وجہ سے ہلاک ہوئے، حرص نے لوگوں کو بخل کا حکم دیا تو وہ بخیل ہو گئے، بخیل نے انہیں ناتا توڑنے کو کہا تو لوگوں نے ناتا توڑ لیا اور اس نے انہیں فسق و فجور کا حکم دیا تو وہ فسق و فجور میں لگ گئے ۔
7. Ali ibn Muhammad has narrated from Ahmad ibn abu ‘Abd Allah from his father from al-Nadr ibn Suwayd from Musa ibn Bakr from ‘Ajlan who has said the following: “Once, I was in the presence of abu ‘Abd Allah (a.s.), when a man came asking for help. He (the Imam) gave him a handful of dates from a basket. Then another one came also asking for help. He (the Imam) also gave him a handful of dates. Then another one came asking for help, and he gave him a handful as well. Yet another one came asking for help. He (the Imam) stood up and gave him a handful. Thereafter another one came asking for help. He (the Imam) said, ’Allah is our provider as well as yours.’ He then said, ‘Whoever would come …
علي بن محمد نے احمد بن ابی عبد الله سے روایت کی، احمد بن ابی عبد الله نے اپنے باپ سے روایت کی، اس کے باپ نے النضر بن سویدسے روایت کی، النضر بن سوید نے موسیٰ بن بکر سے روایت کی، اور موسیٰ بن بکر نے عجلان سے روایت کی۔ عجلان کہتے ہیں: میں ابی عبد الله (علیہ السلام) کے پاس موجود تھا جب ایک سائل آیا۔ امام علیہ السلام کھجوروں کی ایک ٹوکری کی طرف اٹھے اور اپنے ہاتھ میں خوب سارے کھجوریں بھریں اور انہیں (سائل کو) دے دیں۔ پھر دوسرا سائل آیا اور مدد مانگی۔ امام (پھر سے) اٹھے اور اپنے ہاتھ سے (کھجوریں) پکڑیں اور اسے دے دیں۔ پھر تیسرا سائل آیا اور مدد مانگی۔ امام اٹھے اور اپنے ہاتھ سے (کھجوریں) پکڑیں اور اسے دے دیں۔ پھر چوتھا سائل آیا اور مدد مانگی۔ امام اٹھے اور اپنے ہاتھ سے (کھجوریں) دے دیں۔ پھر …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Harun ibn Muslim Mas’adah ibn Sadaqah who has said the following: “Once, Sufyan al-Thawriy visited abu ‘ Abd Allah (a.s.). He saw the Imam wearing a cloth that was pure white like the membrane between an egg shell and its contents. He then said to the Imam, ‘This is not the kind of cloth you should wear.’ He (the Imam) said, ‘Listen to me and pay proper attention to what I say; it is good for you now and in future if you like to die following the Sunnah and truth and not in heresy. I can tell you that the Messenger of Allah lived at a time when poverty was rampant. When living conditions improve the people most deserving to benefit from …
علی بن ابراہیم نے ہارون بن مسلم سے، انہوں نے مسعدہ بن صدقہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: سفیان ثوری ابو عبد اللہ (علیہ السلام) کی خدمت میں تشریف لائے۔ انہوں نے دیکھا کہ آپ سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں بالکل انڈے کے سفید حصے کی طرح۔ سفیان نے کہا: یہ لباس آپ کے لیے شایان نہیں ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: میری سنو اور جو کہوں اس پر توجہ کرو کیونکہ یہ تمہارے لیے دنیا و آخرت میں بہتری کا باعث ہے، بشرطیکہ تم سنت اور حق پر مرو۔ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ایسے زمانے میں تھے جب بہت غربت تھی۔ لیکن جب دنیا کی دولت آتی ہے تو اس کے سب سے زیادہ حقدار نیک لوگ ہیں برے نہیں، مومن ہیں منافق نہیں، مسلم ہیں کافر نہیں۔ تو اے ثوری! تمہیں کیا ناپسند ہے؟ اللہ کی قسم! جب سے میں نے عقل حاصل …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man said: 'O Messenger of Allah! Which emigration (Hijrah) is best?' He said: 'To leave what your Lord, the Mighty and Sublime, dislikes.' He said: 'There are two kinds of emigration, the emigration of the town dweller and the emigration of the Bedouin. As for the Bedouin, when he is called (to fight in Jihad) he must respond, and he must obey when he is commanded, and as for the town dweller, he is the one who is more severely tested and more greatly rewarded
احمد بن عبد اللہ بن الحکم نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: شعبہ نے ہمیں خبر دی، وہ عمرو بن مرہ سے، وہ عبد اللہ بن الحارث سے، وہ ابو کثیر سے، وہ عبد اللہ بن عمرو سے روایت کرتے ہیں۔ عبد اللہ بن عمرو کہتے ہیں: ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہِجرت بہتر ہے؟ فرمایا: یہ کہ تم اس چیز کو ترک کرو جس سے تمہارے رب کو (اللہ عزوجل کو) بیزاری ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہِجرت دو قسم کی ہے - حاضر کی ہِجرت اور بادی کی ہِجرت۔ جہاں تک بادی کا تعلق ہے، جب اسے بلایا جائے تو وہ جواب دیتا ہے، اور جب اسے حکم دیا جائے تو وہ اطاعت کرتا ہے۔ جہاں تک حاضر کا تعلق ہے، وہ ان دونوں میں زیادہ ابتلاء میں ہے اور ان میں زیادہ اجر والا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. فَقَالُوا السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الآنَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Allah created Adam, making him 60 cubits tall. When He created him, He said to him, "Go and greet that group of angels, and listen to their reply, for it will be your greeting (salutation) and the greeting (salutations of your offspring." So, Adam said (to the angels), As-Salamu Alaikum (i.e. Peace be upon you). The angels said, "As-salamu Alaika wa Rahmatu-l-lahi" (i.e. Peace and Allah's Mercy be upon you). Thus the angels added to Adam's salutation the expression, 'Wa Rahmatu-l-lahi,' Any person who will enter Paradise will resemble Adam (in appearance and figure). People have been decreasing in stature since Adam's creation
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کو ساٹھ ہاتھ لمبا بنایا پھر فرمایا کہ جا اور ان ملائکہ کو سلام کر، دیکھنا کن لفظوں میں وہ تمہارے سلام کا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا طریقہ سلام ہو گا۔ آدم علیہ السلام ( گئے اور ) کہا، السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ انہوں نے ورحمۃ اللہ کا جملہ بڑھا دیا، پس جو کوئی بھی جنت میں داخل ہو گا وہ آدم علیہ السلام کی شکل اور قامت پر داخل ہو گا، آدم علیہ السلام کے بعد انسانوں میں اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے۔“
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "A man bought a piece of land from another man, and the buyer found an earthenware jar filled with gold in the land. The buyer said to the seller. 'Take your gold, as I have bought only the land from you, but I have not bought the gold from you.' The (former) owner of the land said, "I have sold you the land with everything in it.' So both of them took their case before a man who asked, 'Do you have children?' One of them said, "I have a boy.' The other said, "I have a girl.' The man said, 'Marry the girl to the boy and spend the money on both of them and give the rest of it in charity
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص نے دوسرے شخص سے مکان خریدا اور مکان کے خریدار کو اس مکان میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا جس سے وہ مکان اس نے خریدا تھا اس سے اس نے کہا بھائی گھڑا لے جا۔ کیونکہ میں نے تم سے گھر خریدا ہے سونا نہیں خریدا تھا۔ لیکن پہلے مالک نے کہا کہ میں نے گھر کو ان تمام چیزوں سمیت تمہیں بیچ دیا تھا جو اس کے اندر موجود ہوں۔ یہ دونوں ایک تیسرے شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا کیا تمہارے کوئی اولاد ہے؟ اس پر ایک نے کہا کہ میرے ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے۔ فیصلہ کرنے …
حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْعَيْنُ حَقٌّ ". وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ.
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "The evil eye is a fact," and he forbade tattooing
مجھ سے یحییٰ بن ابی بشیر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نظر لگ جانا حق ہے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے سے منع فرمایا۔
PickthallSlay not your children, fearing a fall to poverty, We shall provide for them and for you. Lo! the slaying of them is great sin.
Yusuf AliKill not your children for fear of want: We shall provide sustenance for them as well as for you. Verily the killing of them is a great sin.
The agreed readingAnd do not kill your children for fear of poverty. We provide for them and for you. Killing them is a great sin. The commentaries note the order of the answer: the fear is met first, and only then is the act named.
Urduاور اپنی اولاد کو غربت کے ڈر سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں اور تمہیں رزق دیتے ہیں۔ انہیں قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ مفسرین نے جواب کی ترتیب پر توجہ دلائی ہے: پہلے اس خوف کا جواب دیا گیا ہے، اور اس کے بعد ہی اس عمل کا نام لیا گیا ہے۔
Arabicولا تقتلوا أولادكم خشية إملاق وفقر، نحن نرزقهم وإياكم، إن قتلهم كان خطأ كبيرا. وقد نبه المفسرون إلى ترتيب الجواب: يرفع الخوف أولا، ثم يسمى الفعل بعد ذلك.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 4 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة6 reports cited here — 4 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Which is the biggest sin?" He said, "To set up rivals to Allah by worshipping others though He alone has created you." I asked, "What is next?" He said, "To kill your child lest it should share your food." I asked, "What is next?" He said, "To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے منصور اور سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوائل نے، ان سے ابومیسرہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک بناؤ، حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خطرے سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے کھانے میں تمہارے ساتھ شریک ہو گی۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو، یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے واصل نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے عرض کیا: یا …
It was narrated that 'Abdullah said:"I said: 'O Messenger of Allah, which sin is most grievous?' He said: 'Setting up a rival to Allah while it is He that created you.' I said: 'Then what?' He said: 'Killing your child so that he will not eat with you.' I said: 'Then what?' He said: 'Committing adultery with your neighbor's wife
ہمیں عمرو بن علی نے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں واصل نے روایت کی، وہ ابو وائل سے، وہ عبداللہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کے لیے شریک بنانا جب کہ وہی تمہیں خلق کیا۔ میں نے کہا: پھر کون سا؟ انہوں نے فرمایا: اپنے بیٹے کو قتل کرنا اس لیے کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے۔ میں نے کہا: پھر کون سا؟ انہوں نے فرمایا: اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرنا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
3. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from ‘Abd Allah ibn al-Mughirah from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “This is a narration of abu ‘Abd Allah (a.s.), from the Messenger of Allah. He (the Messenger of Allah) has said, ‘Allah, the Majestic, the Glorious, says to the angel guarding a believing person in his illness, “Write down for him (of good deeds) what you would write down for him of good deeds in his good health; it is I who have tied him down with My rope.’””
علي بن ابراہيم نے اپنے باپا سے، عبد الله بن المغيرة سے، عبد الله بن سنان سے روایت کی۔ کہا: رسول الله صلی الله علیہ وآلہ نے کہا: الله عز وجل الملک الموکل بالمؤمن کو کہتے ہیں: جب وہ مریض ہو تو اس کے لیے وہی لکھو جو تم صحت میں لکھتے تھے کیونکہ میں ہوں جس نے اسے اپنے حبال میں ڈالا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،. قَالَ وَحَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلْتُ ـ أَوْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ أَىُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللَّهِ أَكْبَرُ قَالَ " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهْوَ خَلَقَكَ ". قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ". قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ". قَالَ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم {وَالَّذِينَ لاَ …
Narrated `Abdullah:I or somebody, asked Allah's Messenger (ﷺ) "Which is the biggest sin in the Sight of Allah?" He said, "That you set up a rival (in worship) to Allah though He Alone created you." I asked, "What is next?" He said, "Then, that you kill your son, being afraid that he may share your meals with you." I asked, "What is next?" He said, "That you commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor." Then the following Verse was revealed to confirm the statement of Allah's Messenger (ﷺ): "Those who invoke not with Allah, any other god, nor kill life as Allah has forbidden except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ مجھ سے منصور اور سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے، ان سے ابومیسرہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (سفیان ثوری نے کہا کہ) اور مجھ سے واصل نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا، یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ اس کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہاری روزی …
It was narrated that 'Abdullah said:"I said: 'O Messenger of Allah, which sin is the most grievous?' He said: 'Setting up a rival to Allah while it is He that has created you.' I said: 'Then what?' He said: 'Killing your child for fear that he may eat with you.' I said: 'Then what?' He said: 'Committing adultery with your neighbor's wife
محمد بن بشار نے حدثنا عبدالرحمن، عبدالرحمن نے حدثنا سفیان، سفیان نے واصل سے، واصل نے ابو وائل سے، ابو وائل نے عمرو بن شرحبیل سے، عمرو نے عبداللہ سے روایت کی۔ عبداللہ نے کہا: میں نے کہا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک بنانا جب کہ وہ تمہیں پیدا کیا۔ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کیا؟ آپ نے فرمایا: اپنے بیٹے کو قتل کرنا اس ڈر سے کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے۔ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کیا؟ آپ نے فرمایا: اپنے ہمسائے کی زوجہ کے ساتھ زنا کرنا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
23. Muhammad ibn Yahya has narrated from Muhammad ibn al-Husayn from ‘Abd al-Rahman ibn abu Hashim from Salim ibn Salamah who has said the following: “Once, a man read before Abu ‘Abdillah (a.s.) certain letters from the Holy Quran, while I was present, which were not like those that people read. Abu ‘Abd Allah (a.s.) said, ‘Stop this reading. Read as people read until the one who will establish Divine Authority on earth will come. When he will come, the book of Allah, the Most Majestic, the Most Holy, will be read upon its limits. He then brought the copy of the Holy Quran that Ali (a.s.) had written and said, ‘Ali (a.s.) brought this to people when he completed writing down the Holy Quran …
محمد بن یحیٰ سے روایت ہے محمد بن الحسین سے، عبدالرحمٰن بن ابی ہاشم سے، سالم بن سلمہ سے کہا: ایک آدمی نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) کے سامنے قرآن کے کچھ حروف پڑھے جب میں سن رہا تھا، جو اس طرح نہیں تھے جس طرح لوگ انہیں پڑھتے ہیں۔ تو ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے کہا: اس قرآت سے رک جاؤ۔ اسی طرح پڑھو جیسے لوگ پڑھتے ہیں جب تک قائم نہ آ جائے۔ جب وہ آئے تو اللہ کی کتاب کو اس کی حقیقت کے مطابق پڑھے گا، اور علی (علیہ السلام) کے لکھے ہوئے مصحف کو نکالا، اور کہا: علی (علیہ السلام) نے جب قرآن لکھ لیا اور اسے لوگوں کے پاس نکالا، تو انہوں سے کہا: یہ اللہ کی کتاب ہے اللہ عزّ و جلّ کی طرف سے جیسے وہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر نازل کیا گیا، اور میں نے اسے دونوں لوحوں سے جمع کیا۔ تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd come not near unto adultery. Lo! it is an abomination and an evil way.
Yusuf AliNor come nigh to adultery: for it is a shameful (deed) and an evil, opening the road (to other evils).
The agreed readingAnd do not go near fornication. It is an indecency and an evil way. The commentaries fix on the wording: what is forbidden is going near it, which reaches everything that leads there and not only the act itself.
Urduاور زنا کے قریب بھی مت جاؤ، بےشک وہ بےحیائی اور بہت برا راستہ ہے۔ مفسرین اس لفظ پر توجہ دیتے ہیں: جس چیز سے روکا گیا ہے وہ قریب جانا ہے، جو اس کی طرف لے جانے والی ہر چیز کو شامل ہے، نہ کہ صرف خود اس عمل کو۔
Arabicولا تقربوا الزنى ودواعيه، إنه كان فاحشة قبيحة وساء سبيلا وطريقا. وقد ركز المفسرون على اللفظ: المنهي عنه هو القرب نفسه، فيشمل كل ما يفضي إليه لا الفعل وحده.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Darda' (Allah be pleased with him) related from the Prophet of Allah (ﷺ) that he came upon a woman who was in the advanced stage of pregnancy at the door of a tent. He (the Holy Prophet) said:Perhaps he (the man accompanying her) intends to cohabit with her. They said: Yes. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: I have decided to curse him with such a curse as may go along with him to his grave. How can he own him (the child to be born) and that is not lawful for him, and how can he take him as a servant for that is not lawful for him?
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے یزید بن خُمَیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبدالرحمٰن بن جبیر سے سنا وہ اپنے والد ( جبیر بن نفیر ) سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیمے کے دروازے پر کھڑی ایک پورے دِنوں کی حاملہ عورت ( لونڈی ) کے پاس سے گزرے ، آپ نے فرمایا : " شاید وہ ( اس کا مالک ) چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ مجامعت کرے؟ " صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی : جی ہاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے ارادہ کیا کہ اس پر ایسی لعنت بھیجوں جو اس کی قبر میں اس کے ساتھ جائے ۔ ایسا کام کرنے والا کیسے اس ( طرح کے بچے ) کو وارث بنائے گا ، جبکہ وہ ( وارث …
PickthallAnd slay not the life which Allah hath forbidden save with right. Whoso is slain wrongfully, We have given power unto his heir, but let him not commit excess in slaying. Lo! he will be helped.
Yusuf AliNor take life - which Allah has made sacred - except for just cause. And if anyone is slain wrongfully, we have given his heir authority (to demand qisas or to forgive): but let him not exceed bounds in the matter of taking life; for he is helped (by the Law).
The agreed readingAnd do not kill the soul God has made inviolable, except by right. Whoever is killed wrongfully, We have given his heir authority — so let him not go to excess in the killing; he is indeed helped.
Urduاور اس جان کو قتل مت کرو جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، سوائے حق کے۔ اور جو شخص ظلماً قتل کر دیا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو اختیار دے دیا ہے، پس وہ قتل میں زیادتی نہ کرے، بےشک اسے مدد دی گئی ہے۔
Arabicولا تقتلوا النفس التي حرم الله قتلها إلا بالحق الشرعي، ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لوليه سلطانا وحجة، فلا يسرف في القتل، إنه كان منصورا معانا.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 5 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة7 reports cited here — 5 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: The Messenger of Allah (ﷺ) Said: The blood of a Muslim man who testifies that there is no god but Allah and that Muhammad is Allah's Apostle should not lawfully be shed except only for one of three reasons: a man who committed fornication after marriage, in which case he should be stoned; one who goes forth to fight with Allah and His Apostle, in which case he should be killed or crucified or exiled from the land; or one who commits murder for which he is killed
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون جو صرف اللہ کے معبود ہونے اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو حلال نہیں سوائے تین صورتوں کے ایک وہ شخص جو شادی شدہ ہو اور اس کے بعد زنا کا ارتکاب کرے تو وہ رجم کیا جائے گا، دوسرے وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے نکلا ہو تو وہ قتل کیا جائے گا، یا اسے سولی دے دی جائے گی، یا وہ جلا وطن کر دیا جائے گا، تیسرے جس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اس کے بدلے وہ قتل کیا جائے گا ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: The verse "The punishment of those who wage war against Allah and His Apostle, and strive with might and main for mischief through the land is execution, or crucifixion, or the cutting off of hands and feet from opposite side or exile from the land...most merciful" was revealed about polytheists. If any of them repents before they are arrested, it does not prevent from inflicting on him the prescribed punishment which he deserves
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا أو تقطع أيديهم وأرجلهم من خلاف أو ينفوا من الأرض» سے «غفور رحيم» تک مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے تو جو اس پر قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کر لے تو ایسا نہ ہو گا کہ اس کے ذمہ سے حد ساقط ہو جائے ۲؎۔
Narrated Mu'awiyah:That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever drinks wine, then lash him. If he returns to it, then on the fourth time kill him
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئے تو اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معاویہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اسی طرح ثوری نے بطریق: «عاصم عن أبي صالح عن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور ابن جریج اور معمر نے بطریق: «سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابوصالح کی حدیث جو بواسطہ معاویہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں آئی ہے، یہ ابوصالح کی اس حدیث سے جو بواسطہ ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، شرید، شرحبیل بن اوس، جریر، …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I have been commanded to fight the people until they say: La ilaha illallah. If they say it, then their blood and wealth are protected from me, except for a right that is due from it, and their reckoning will be with Allah.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے جنگ کروں جب تک وہ «لا إله إلا الله» نہ کہہ دیں، جب وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیں ( اور شرک سے تائب ہو جائیں ) تو انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا، مگر ان کے حق کے بدلے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے ۱؎۔
Jabir narrated that :the Messenger of Allah said: “I have been ordered to fight the people until they say: ‘La ilaha illallah’. So when they say that, their blood and their wealth are safe from me, except for a right, and their reckoning is for Allah.” Then he recited: So remind them – you are only one who reminds. You are not a dictator over them
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں ( جنگ جاری رکھو ) جب تک کہ لوگ «لا إلہ إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں، جب لوگ اس کلمے کو کہنے لگ جائیں تو وہ اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، سوائے اس صورت کے جب کہ جان و مال دینا حق بن جائے تو پھر دینا ہی پڑے گا، اور ان کا ( حقیقی ) حساب تو اللہ ہی لے گا، پھر آپ نے آیت «إنما أنت مذكر لست عليهم بمصيطر» ”آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں“ ( الغاشیہ: ۲۲ ) ، پڑھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
8. Al-Husayn from Muhammad has narrated from Mu’alla’ ibn Muhammad from al-Hassan ibn Ali ibn Faddal from ‘Abd Allah ibn Sinan from ‘Umar ibn Yazid who has said the following: “This is concerning my question before abu ‘Abd Allah (a.s.), about the case of a boy who is breastfed once and twice. He (the Imam) said, ‘It does not cause unlawfulness.’ I counted up to ten times breastfeeding. He (the Imam) said, ‘If they are on different times they do not cause unlawfulness.’”
۸۔ الحسين بن محمد نے معلى بن محمد سے، الحسن بن علي بن فضال سے، عبد الله بن سنان سے، عمر بن يزيد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابو عبد الله علیہ السلام سے لڑکے کے بارے میں پوچھا جو ایک یا دو بار دودھ پیے، تو فرمایا: حرام نہیں کرتا۔ تو میں نے دس بار تک گنے تو فرمایا: جب متفرق ہوں تو حرام نہیں کرتا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali b. Muhammad has narrated from Salih b. Abi Hammad from al-Husayn ibn Yazid from al-Hassan b. Ali ibn Abi Hamzah from Ibrahim b. ‘Umar from Abi ‘Abdallah (a.s.), who has said the following: “Allah, the Most Holy, the Most High, created a name with letters that had no sound. He created it with the word that would not be spoken. He created it with a personality that had no body. It had a similarity that is not described. He created it with color that is colorless. Diameters were negated from it. Limitations were distanced away from it. The feel of all Mutawahhim (intuitive sense) is curtained from it. It is hidden but not covered. He placed it to be a perfect word consisting of four …
علی بن محمد نے صالح بن ابی حماد سے روایت کی، انہوں نے حسین بن یزید سے، انہوں نے حسن بن علی بن ابی حمزہ سے، انہوں نے ابراہیم بن عمر سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک نام پیدا کیا حروف سے جس میں آواز نہیں، اور لفظ سے جو بولا نہیں جاتا، اور شخصیت سے جو جسمانیت نہیں رکھتی، اور تشبیہ سے جو موصوف نہیں ہے، اور رنگ سے جو رنگین نہیں ہے۔ اس سے سمتیں منفی ہیں، اس سے حدود دور ہیں، ہر خیال کا احساس اس سے محجوب ہے۔ وہ چھپا ہے مگر پوشیدہ نہیں۔ پھر اس نے اسے ایک مکمل لفظ بنایا چار اجزاء پر جو ایک ساتھ ہیں، ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے پہلے نہیں۔ تو اس نے ان میں سے تین ناموں کو ظاہر کیا کیونکہ خلق کو ان کی ضرورت تھی، اور ایک نام کو چھپایا جو محفوظ اور مخزون نام …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallCome not near the wealth of the orphan save with that which is better till he come to strength; and keep the covenant. Lo! of the covenant it will be asked.
Yusuf AliCome not nigh to the orphan's property except to improve it, until he attains the age of full strength; and fulfil (every) engagement, for (every) engagement will be enquired into (on the Day of Reckoning).
The agreed readingAnd do not go near the orphan's property except in the way that is best, until he reaches his full strength. And fulfil the covenant — the covenant will be asked about.
Urduاور یتیم کے مال کے قریب مت جاؤ سوائے اس طریقے کے جو سب سے بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو، بےشک عہد کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔
Arabicولا تقربوا مال اليتيم أبدا إلا بالتي هي أحسن حتى يبلغ أشده وقوته، وأوفوا بالعهد كله دائما ولا تنقضوه، إن العهد كان مسؤولا عنه يوم القيامة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Refrain from seven (characteristics) which cause destruction. He was asked: What are they, Messenger of Allah ? He replied: To assign partner to Allah, magic, to kill a soul (man) which is prohibited by Allah except for which is due, to take usury, to consume the property of an orphan, to retreat on the day of the battle, and to slander chaste women, indiscreet but believing. Abu Dawud said: The name Abu al-Ghaith is Salim client of Ibn Muti
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں ( کبیرہ گناہوں ) سے بچو ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔
Narrated Abu Dharr: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Abu Dharr, I see you weak, and I like for you what I like for myself. Do not be a leader of two (persons), and do not be a guardian of an orphan. Abu Dawud said: This has been narrated only by the people of Egypt
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں تمہیں ضعیف دیکھتا ہوں اور میں تمہارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں، تو تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ ہونا، اور نہ یتیم کے مال کا ولی بننا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کی روایت کرنے میں اہل مصر منفرد ہیں۔
It has been reported on the authority of Abu Dharr that the Messenger of of Allah (ﷺ) said:Abu Dharr, I find that thou art weak and I like for thee what I like for myself. Do not rule over (even) two persons and do not manage the property of an orphan
ابو سالم جیشانی نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوذر! میں دیکھتا ہوں کہ تم کمزور ہو اور میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جسے اپنے لیے پسند کرتا ہوں ، تم کبھی دو آدمیوں پر امیر نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کے متولی بننا
Narrated Abdullah Ibn Abbas: When the verse: "O ye who believe! eat not up your property among yourselves in vanities, but let there be amongst you traffic and trade by mutual good will" was revealed, a man thought it a sin to eat in the house of another man after the revelation of this verse. Then this (injunction) was revealed by the verse in Surat an-Nur: "No blame on you whether you eat in company or separately." When a rich man (after revelation) invited a man from his people to eat food in his house, he would say: I consider it a sin to eat from it, and he said: a poor man is more entitled to it than I. The Arabic word tajannah means sin or fault. It was then declared lawful to eat …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ….. أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔
وَعَنْ يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet; said, "Allah has a sense of Ghira, and Allah's sense of Ghira is provoked when a believer does something which Allah has prohibited
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو غیرت اس وقت آتی ہے جب بندہ مومن وہ کام کرے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔
It was narrated that Abu Dharr said:"The Messenger of Allah said to me: 'O Abu Dharr, I think that you are weak, and I like for you what I like for myself. Do not accept a position of Amir over two people, and do not agree to be the guardian of an orphan's property
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ابوذر! میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں ( لہٰذا تم ) دو آدمیوں کا بھی سردار نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کا والی بننا“ ۱؎۔
It was narrated that Shakal bin Humaid said:"I came to the Prophet [SAW] and said: 'O Prophet of Allah, teach me words by which I may seek refuge (with Allah).' He took me by the hand then said: 'Say: A'udhu bika min sharri sam'i, wa sharri basari, wa sharri lisani, wa sharri qalbi, wa sharri mani (I seek refuge in You from the evil of my hearing, the evil of my seeing, the evil of my tongue, the evil of my heart, and the evil of my sperm),' until I had memorized it." Waki' contradicted him in the wordings
حسین بن اسحاق نے بیان کیا کہ ابو نعیم نے بتایا، سعد بن اوس نے حدیث دی، بلال بن یحییٰ نے مجھے بتایا کہ شتیر بن شکل نے اپنے والد شکل بن حمید سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی، مجھے وہ الفاظ سکھائیں جن سے میں پناہ مانگوں۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کہو: میں تیری پناہ چاہتا ہوں میری سنائی سے، میری دیکھی سے، میری زبان سے، میرے دل سے، اور میرے مادہ جنسی سے۔ انہوں نے کہا: حتیٰ کہ میں نے اسے یاد کر لیا۔ سعد نے کہا: مادہ جنسی کا مطلب اس کا رطوبت ہے۔ وکیع نے الفاظ میں اختلاف کیا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that Shakal bin Humaid said:"I came to the Prophet [SAW] and said: 'O Prophet of Allah, teach me words by means of which I may seek refuge with Allah.' He took me by the hand and said: 'Say: A'udhu bika min sharri sam'i, wa sharri basari, wa sharri lisani, wa sharri qalbi, wa sharri mani (I seek refuge with You from the evil of my hearing, the evil of my seeing, the evil of my tongue, the evil of my heart, and the evil of my sperm)
حسین بن اسحاق نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: ابو نعیم نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: سعد بن اوس نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: بلال بن یحیٰ نے مجھ سے بتایا کہ شتیر بن شکل نے انہیں اپنے والد شکل بن حمید سے خبر دی۔ شکل بن حمید کہتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی تعوذ سکھائیں جس سے میں بچاؤ مانگوں۔ تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کہو: اعوذ بک من شر سمعی و شر بصری و شر لسانی و شر قلبی و شر منیی۔ سعد کہتے ہیں: اور منی سے مراد اس کا پانی ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It has been narrated on the authority of 'Abd al-Rahman b. Abd Rabb al-Ka'ba who said:I entered the mosque when 'Abdullah b. 'Amr b. al-'As was sitting in the shade of the Ka'ba and the people had gathered around him. I betook myself to them and sat near him. (Now) Abdullah said: I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. We halted at a place. Some of us began to set right their tents, others began to compete with one another in shooting, and others began to graze their beasts, when an announcer of the Messenger of Allah (ﷺ) announced that the people should gather together for prayer, so we gathered around the Messenger of Allah (ﷺ). He said: It was the duty of every Prophet …
عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے میں مسجد میں گیا وہاں عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے پاس جمع تھے میں بھی گیا اور بیٹھا ۔ انہوں نے کہا ہم رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تھے ایک سفر میں تو ایک جگہ اترے ، کوئی اپنا ڈیرہ درست کرنے لگا ، کوئی تیر مارنے لگا ، کوئی اپنے جانوروں میں تھا کہ اتنے میں رسول اﷲ ﷺ کے پکارنے والے نے آواز دی نماز کے لیے اکٹھا ہوجاؤ ۔ ہم سب اپ کے پاس جمع ہوئے ۔ اپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر ضروری نہ ہو اپنی امت کو جو بہتر بات اس کو معلوم ہو بتانا اور جو بری بات ہو اس سے ڈرانا اور تمہاری یہ امت اس کے پہلے حصہ میں سلامتی ہے اور اخیر حصے میں بلا ہے اور وہ باتیں ہیں جو تم کو بری لگیں گی اور ایسے فتنے آویں گے کہ ایک فتنہ دوسرے …
PickthallFill the measure when ye measure, and weigh with a right balance; that is meet, and better in the end.
Yusuf AliGive full measure when ye measure, and weigh with a balance that is straight: that is the most fitting and the most advantageous in the final determination.
The agreed readingAnd give full measure when you measure, and weigh with the straight balance. That is better and fairer in the end.
Urduاور جب تم لوگوں کو ناپ کر دو تو ناپ پورا کرو، اور سیدھی ترازو سے تولو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہت اچھا ہے۔
Arabicوأوفوا الكيل تماما بلا نقصان إذا كلتم لغيركم من الناس أجمعين، وزنوا بالقسطاس المستقيم العادل الصحيح، ذلك خير لكم وأحسن تأويلا وعاقبة عند ربكم يوم القيامة.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abdullah Ibn Abbas: When the verse: "O ye who believe! eat not up your property among yourselves in vanities, but let there be amongst you traffic and trade by mutual good will" was revealed, a man thought it a sin to eat in the house of another man after the revelation of this verse. Then this (injunction) was revealed by the verse in Surat an-Nur: "No blame on you whether you eat in company or separately." When a rich man (after revelation) invited a man from his people to eat food in his house, he would say: I consider it a sin to eat from it, and he said: a poor man is more entitled to it than I. The Arabic word tajannah means sin or fault. It was then declared lawful to eat …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ….. أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔
Narrated Abu Dharr: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Abu Dharr, I see you weak, and I like for you what I like for myself. Do not be a leader of two (persons), and do not be a guardian of an orphan. Abu Dawud said: This has been narrated only by the people of Egypt
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں تمہیں ضعیف دیکھتا ہوں اور میں تمہارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں، تو تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ ہونا، اور نہ یتیم کے مال کا ولی بننا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کی روایت کرنے میں اہل مصر منفرد ہیں۔
It has been reported on the authority of Abu Dharr that the Messenger of of Allah (ﷺ) said:Abu Dharr, I find that thou art weak and I like for thee what I like for myself. Do not rule over (even) two persons and do not manage the property of an orphan
ابو سالم جیشانی نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوذر! میں دیکھتا ہوں کہ تم کمزور ہو اور میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جسے اپنے لیے پسند کرتا ہوں ، تم کبھی دو آدمیوں پر امیر نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کے متولی بننا
It was narrated that Abu Dharr said:"The Messenger of Allah said to me: 'O Abu Dharr, I think that you are weak, and I like for you what I like for myself. Do not accept a position of Amir over two people, and do not agree to be the guardian of an orphan's property
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ابوذر! میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں ( لہٰذا تم ) دو آدمیوں کا بھی سردار نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کا والی بننا“ ۱؎۔
It was narrated that Shakal bin Humaid said:"I came to the Prophet [SAW] and said: 'O Prophet of Allah, teach me words by means of which I may seek refuge with Allah.' He took me by the hand and said: 'Say: A'udhu bika min sharri sam'i, wa sharri basari, wa sharri lisani, wa sharri qalbi, wa sharri mani (I seek refuge with You from the evil of my hearing, the evil of my seeing, the evil of my tongue, the evil of my heart, and the evil of my sperm)
حسین بن اسحاق نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: ابو نعیم نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: سعد بن اوس نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: بلال بن یحیٰ نے مجھ سے بتایا کہ شتیر بن شکل نے انہیں اپنے والد شکل بن حمید سے خبر دی۔ شکل بن حمید کہتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی تعوذ سکھائیں جس سے میں بچاؤ مانگوں۔ تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کہو: اعوذ بک من شر سمعی و شر بصری و شر لسانی و شر قلبی و شر منیی۔ سعد کہتے ہیں: اور منی سے مراد اس کا پانی ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that Shakal bin Humaid said:"I came to the Prophet [SAW] and said: 'O Prophet of Allah, teach me words by which I may seek refuge (with Allah).' He took me by the hand then said: 'Say: A'udhu bika min sharri sam'i, wa sharri basari, wa sharri lisani, wa sharri qalbi, wa sharri mani (I seek refuge in You from the evil of my hearing, the evil of my seeing, the evil of my tongue, the evil of my heart, and the evil of my sperm),' until I had memorized it." Waki' contradicted him in the wordings
حسین بن اسحاق نے بیان کیا کہ ابو نعیم نے بتایا، سعد بن اوس نے حدیث دی، بلال بن یحییٰ نے مجھے بتایا کہ شتیر بن شکل نے اپنے والد شکل بن حمید سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی، مجھے وہ الفاظ سکھائیں جن سے میں پناہ مانگوں۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کہو: میں تیری پناہ چاہتا ہوں میری سنائی سے، میری دیکھی سے، میری زبان سے، میرے دل سے، اور میرے مادہ جنسی سے۔ انہوں نے کہا: حتیٰ کہ میں نے اسے یاد کر لیا۔ سعد نے کہا: مادہ جنسی کا مطلب اس کا رطوبت ہے۔ وکیع نے الفاظ میں اختلاف کیا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It has been narrated on the authority of 'Abd al-Rahman b. Abd Rabb al-Ka'ba who said:I entered the mosque when 'Abdullah b. 'Amr b. al-'As was sitting in the shade of the Ka'ba and the people had gathered around him. I betook myself to them and sat near him. (Now) Abdullah said: I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. We halted at a place. Some of us began to set right their tents, others began to compete with one another in shooting, and others began to graze their beasts, when an announcer of the Messenger of Allah (ﷺ) announced that the people should gather together for prayer, so we gathered around the Messenger of Allah (ﷺ). He said: It was the duty of every Prophet …
عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے میں مسجد میں گیا وہاں عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے پاس جمع تھے میں بھی گیا اور بیٹھا ۔ انہوں نے کہا ہم رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تھے ایک سفر میں تو ایک جگہ اترے ، کوئی اپنا ڈیرہ درست کرنے لگا ، کوئی تیر مارنے لگا ، کوئی اپنے جانوروں میں تھا کہ اتنے میں رسول اﷲ ﷺ کے پکارنے والے نے آواز دی نماز کے لیے اکٹھا ہوجاؤ ۔ ہم سب اپ کے پاس جمع ہوئے ۔ اپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر ضروری نہ ہو اپنی امت کو جو بہتر بات اس کو معلوم ہو بتانا اور جو بری بات ہو اس سے ڈرانا اور تمہاری یہ امت اس کے پہلے حصہ میں سلامتی ہے اور اخیر حصے میں بلا ہے اور وہ باتیں ہیں جو تم کو بری لگیں گی اور ایسے فتنے آویں گے کہ ایک فتنہ دوسرے …
Narrated 'Ali bin Abi Talib:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best of its women is Khadijah bint Khuwailid, and the best of its women is Mariam bint 'Imran
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر ( اپنے زمانہ میں ) خدیجہ بنت خویلد تھیں اور دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر ( اپنے زمانہ میں ) مریم بنت عمران تھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں، انس، ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
Pickthall(O man), follow not that whereof thou hast no knowledge. Lo! the hearing and the sight and the heart - of each of these it will be asked.
Yusuf AliAnd pursue not that of which thou hast no knowledge; for every act of hearing, or of seeing or of (feeling in) the heart will be enquired into (on the Day of Reckoning).
The agreed readingAnd do not follow what you have no knowledge of. The hearing, the sight and the heart — every one of these will be asked about. The commentaries take the questioning to fall on the faculties themselves: each will be asked what it was used for.
Urduاور جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو۔ کان، آنکھ اور دل — ان میں سے ہر ایک کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ مفسرین سمجھتے ہیں کہ یہ سوال خود ان اعضاء سے کیا جائے گا: ہر ایک سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس کام میں استعمال کیا گیا۔
Arabicولا تقف ما ليس لك به علم، إن السمع والبصر والفؤاد كل أولئك كان عنه مسؤولا. وقد جعل المفسرون السؤال واقعا على الجوارح نفسها: يسأل كل عضو عما استعمل فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 5 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة7 reports cited here — 5 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَىَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ فَقَالَ " أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ".
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) once entered upon me in a very happy mood, with his features glittering with joy, and said, "O `Aisha! won't you see that Mujazziz (a Qa'if) looked just now at Zaid bin Haritha and Usama bin Zaid and said, 'These feet (of Usama and his father) belong to each other." (See Hadith No. 755, Vol)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں ایک مرتبہ بہت خوش خوش تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمک رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم نے نہیں دیکھا، مجزز ( ایک قیافہ شناس ) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے ( صرف پاؤں دیکھے ) اور کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔“
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah came to me looking happy and cheerful, and he said: 'Did you not see that Mujazziz looked at Zaid bin Harithah and Usamah and said: These feet belong to one another
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش آئے، آپ کے چہرے کے خطوط خوشی سے چمک دمک رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”ارے تمہیں نہیں معلوم؟ مجزز ( قیافہ شناس ہے ) نے زید بن حارثہ اور اسامہ کو دیکھا تو کہنے لگا: ان کے پیروں کے بعض حصے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں“ ۱؎۔
Muslim bin Haisam narrated from Ash'ath bin Qais who said:“I came to the Messenger of Allah (ﷺ) with a delegation from Kindah, and they thought that I was the best of them. I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ) are you not from among us?' He said: 'We are the tribe of Banu Nadr bin Kinanah, and we do not attribute ourselves to our mother and we do not deny our forefathers.'”He said: “Ash'ath bin Qais used to say: 'If any man is brought to me who suggests that a man from Quraish does not belong to Nadr bin Kinanah, I would carry out the legal punishment (for slander) on him.'”
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ کندہ کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ لوگ مجھے سب سے بہتر سمجھتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں، نہ ہم اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں، اور نہ اپنے والد سے علیحدہ ہوتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں: اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میرے پاس اگر کوئی ایسا شخص آئے جو کسی قریشی کے نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہونے کا انکار کرے، تو میں اسے حد قذف لگاؤں گا۔
It was narrated that Shakal bin Humaid said:"I came to the Prophet [SAW] and said: 'O Prophet of Allah, teach me words by means of which I may seek refuge with Allah.' He took me by the hand and said: 'Say: A'udhu bika min sharri sam'i, wa sharri basari, wa sharri lisani, wa sharri qalbi, wa sharri mani (I seek refuge with You from the evil of my hearing, the evil of my seeing, the evil of my tongue, the evil of my heart, and the evil of my sperm)
حسین بن اسحاق نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: ابو نعیم نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: سعد بن اوس نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: بلال بن یحیٰ نے مجھ سے بتایا کہ شتیر بن شکل نے انہیں اپنے والد شکل بن حمید سے خبر دی۔ شکل بن حمید کہتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی تعوذ سکھائیں جس سے میں بچاؤ مانگوں۔ تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کہو: اعوذ بک من شر سمعی و شر بصری و شر لسانی و شر قلبی و شر منیی۔ سعد کہتے ہیں: اور منی سے مراد اس کا پانی ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that Shakal bin Humaid said:"I came to the Prophet [SAW] and said: 'O Prophet of Allah, teach me words by which I may seek refuge (with Allah).' He took me by the hand then said: 'Say: A'udhu bika min sharri sam'i, wa sharri basari, wa sharri lisani, wa sharri qalbi, wa sharri mani (I seek refuge in You from the evil of my hearing, the evil of my seeing, the evil of my tongue, the evil of my heart, and the evil of my sperm),' until I had memorized it." Waki' contradicted him in the wordings
حسین بن اسحاق نے بیان کیا کہ ابو نعیم نے بتایا، سعد بن اوس نے حدیث دی، بلال بن یحییٰ نے مجھے بتایا کہ شتیر بن شکل نے اپنے والد شکل بن حمید سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی، مجھے وہ الفاظ سکھائیں جن سے میں پناہ مانگوں۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کہو: میں تیری پناہ چاہتا ہوں میری سنائی سے، میری دیکھی سے، میری زبان سے، میرے دل سے، اور میرے مادہ جنسی سے۔ انہوں نے کہا: حتیٰ کہ میں نے اسے یاد کر لیا۔ سعد نے کہا: مادہ جنسی کا مطلب اس کا رطوبت ہے۔ وکیع نے الفاظ میں اختلاف کیا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
بعض أصحابنا مرسلا قال: إن أول ما نزل في تحريم الخمر قول الله عز وجل " يسئلونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس وإثمهما أكبر من نفعهما " فلما نزلت هذه الآية أحس القوم بتحريمها وتحريم الميسر وعلموا أن الاثم مما ينبغي اجتنابه ولا يحمل الله عز وجل عليهم من كل طريق لأنه قال: ومنافع للناس ثم أنزل الله عز وجل آية أخرى " إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون (1) " فكانت هذه الآية أشد من الأولى وأغلظ في التحريم ثم ثلث بآية أخرى فكانت أغلظ من الآية الأولى والثانية وأشد فقال عز وجل: " إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العدواة والبغضاء في الخمر والميسر ويصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة فهل أنتم منتهون (2) " فأمر عز وجل باجتنابها وفسر عللها التي لها ومن …
2. Certain persons of our people have, in mursal manner, narrated the following: “He (the Imam) (a.s.), has said, ‘The first thing about the unlawfulness of wine is in the words of Allah, most Majestic, most Glorious, “They ask you about wine and gambling. Say, ‘There is great sin in them and benefits for people but the sin in them is greater than their benefits.’” (2:219) When this verse was revealed people sensed the prohibition on it and prohibition on gambling. They learned that one must stay away from sins and that Allah, most Majestic, most Glorious, does not impose on them both ways because of His saying, “and benefits for people”. Thereafter Allah, most Majestic, most Glorious, sent …
ہماری بعض اصحاب نے مرسل انداز میں روایت کی ہے کہ: خمر کی تحریم میں سب سے پہلے جو نازل ہوا وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: 'وہ تم سے خمر اور میسر کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، کہو ان میں بڑی خرابی ہے اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں، مگر ان کی خرابی ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔' جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں کو خمر اور میسر کی تحریم کا احساس ہوا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ گناہ سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طریقے سے دبایا نہیں کیونکہ اس نے فرمایا: 'اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں۔' اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت نازل کی: 'خمر اور میسر اور بت اور فال کے تیر یہ سب شیطان کے گندے کام ہیں، پس ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔' یہ آیت پہلی سے سخت تر ہے اور تحریم میں زیادہ مضبوط ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
11 - حدثنا محمد بن يعقوب قال: حدثنا عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن الحسين بن سعيد، عن أبي وهب، عن محمد بن منصور قال: سألت عبداً صالحاً سلام الله عليه عن قول الله: قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (قال) فقال: إنّ القرآن له ظاهرٌ وباطن، فجميعُ ما حرّم الله في القرآن فهو حرام على ظاهره كما هو في الظاهر، والباطن من ذلك أئمّة الجور. وجميع ما أحل الله تعالى في الكتاب فهو حلال وهو الظاهر، والباطن من ذلك أئمة الحق.
(11) Muhammad bin Ya’qoob narrated from some of his companions from Ahmad bin Muhammad from al-Husayn bin Sa’eed from Abu Wahab that Muhammad bin Mansoor had said: “I have asked a virtuous slave (of Allah), peace be upon him, about the saying of Allah, “My Lord has only prohibited indecencies, those of them that are apparent as well as those that are concealed,” and he said: “The Qur’an has apparent meanings and hidden meanings. All of those that Allah has prohibited in the Qur’an are impermissible as they have been mentioned apparently whereas the hidden thing in that is the imams of injustice and all of those that Allah has permitted are permissible as they are apparent whereas the hidden …
محمد بن یعقوب نے ہمیں حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: ہمیں ہماری جماعت کے لوگوں نے خبر دی احمد بن محمد سے، الحسین بن سعید سے، ابو وہب سے، محمد بن منصور سے جو کہتے ہیں: میں نے ایک برکت والے شخص سے سوال کیا - اللہ کی رحمت ان پر - اللہ کے اس قول کے متعلق: "کہہ میرے پروردگار نے تو صرف بے حیائی کے کام حرام کیے ہیں، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں، اور گناہ اور حق کے خلاف سرکشی، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ شریک کیا جائے وہ چیزیں جن کے لیے اس نے کوئی سلطان نہیں نازل کیا، اور یہ کہ اللہ کے بارے میں وہ باتیں کی جائیں جو تم نہیں جانتے" - کہا - تو انہوں نے کہا: بیشک قرآن کا ظاہری معنی ہے اور بھی ایک معنی ہے جو پوشیدہ ہے۔ جتنا کچھ اللہ نے قرآن میں حرام کیا ہے وہ سب اپنے ظاہری معنی میں حرام ہے جیسا کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd walk not in the earth exultant. Lo! thou canst not rend the earth, nor canst thou stretch to the height of the hills.
Yusuf AliNor walk on the earth with insolence: for thou canst not rend the earth asunder, nor reach the mountains in height.
The agreed readingAnd do not walk in the earth exultant. You will not split the earth open, and you will not reach the mountains in height. The commentaries read the answer as measuring the swagger against the ground under it and the peaks above it.
Urduاور زمین میں اکڑ کر مت چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ اونچائی میں پہاڑوں تک پہنچ سکتے ہو۔ مفسرین اس جواب کو اس اکڑ کے نیچے موجود زمین اور اس کے اوپر کھڑی چوٹیوں سے ناپ کر سمجھتے ہیں۔
Arabicولا تمش في الأرض مرحا متكبرا، إنك لن تخرق الأرض بمشيك ولن تبلغ الجبال طولا مهما تكبرت. وقد قاس المفسرون هذا الجواب بالأرض تحت الخيلاء وبالقمم فوقها.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
Yahya related to me from Malik from Abu'z-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "On the Day of Rising, Allah the Blessed, the Exalted, will not look at a person who drags his lower garment in arrogance
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ نہیں نظر کرے گا اللہ قیامت کے روز اس شخص کی طرف جو اپنا تہ بند لٹکائے تکبر کے طور پر ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا ".
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ), "Allah will not look, on the Day of Resurrection, at a person who drags his Izar (behind him) out of pride and arrogance
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنا تہمد غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف دیکھے گا نہیں۔“
Iylas bin Salamah bin Al-Akwa' narrated from his father that the Messenger of Allah said:"A man shall remain exalting himself until he is written among the tyrants, so that he suffers from their afflictions
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان ہمیشہ اپنے آپ کو تکبر ( گھمنڈ ) کی طرف لے جاتا ہے، یہاں تک کہ ظالموں کی فہرست میں اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اور اس لیے اسے وہی عذاب لاحق ہوتا ہے جو ظالموں کو لاحق ہوا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Iyad. b. Himar reported tbat, while Allah's Messenger (ﷺ) was delivering an address, he stated that Allah commanded me The rest of the hadith is the same, and there is an addition in it:" Allah revealed to me that we should be humble amongst ourselves and none should show pride upon the others, And it does not behove one to do so, and He also said: There are among you people to follow not caring a bit for their family and property. Qatada said: Abu Abdullah, would this happen? Thereupon he said: Yes. By Allah, I found this in the days of ignorance that a person grazed the goat of a tribe and did not find anyone but their slave-girl (and he did not spare her) but committed adultery with her
مطر نے کہا : مجھے قتادہ نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو قبیلہ مجاشع سے تھے ، روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے ۔ اس کے بعد قتادہ سے ہشام کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی اور اس میں مزید یہ کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تم سب تواضع اختیار کرو حتی کہ کو ئی شخص دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص دوسرے پر زیادتی نہ کرے ۔ " انھوں نے اس حدیث میں کہا : وہ تم میں ( برائی کے کاموں میں دوسروں کے ) پیچھے لگنے والے ہیں والوں اور مال کے بھی متلاشی نہیں ( کہ کما کر دوسروں سے مستغنیٰ ہو جا ئیں ۔ ) تو میں ( قتادہ ) نے ( مطرف سے ) کہا …
It was narrated from Ibn Jabir, from his father, that the Messenger of Allah said:"There is a kind of protective Jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, loves anda kind that Allah, the Mighty and Sublime, hates, and a kind of pride that Allah, the Mighty and Sublime, loves and a kind that Allah, the Mighty and Sublime, hates, As for the protective jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, loves, it is protective jealousy when there are grounds for suspicion. As for the protective jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, hates, it is protective jealousy when there are no grounds for suspicion. As for the pride that Allah, the Mighty and Sublime, loves, it is when a man feels …
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے، ( ایسے ہی ) ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو جس غیرت کو اللہ پسند کرتا ہے وہ تہمت کی جگہ کی غیرت ہے، اور وہ غیرت ۱؎ جو اللہ عزوجل کو ناپسند ہے تو وہ غیر تہمت کی جگہ کی غیرت ہے ۲؎ رہا فخر جو اللہ کو پسند ہے تو وہ آدمی کا لڑائی کے وقت یا صدقہ دیتے وقت اپنی ذات پر فخر ہے ۳؎ اور وہ فخر جو اللہ کو ناپسند ہے وہ یہ ہے کہ آدمی لغو اور بیہودہ کاموں پر فخر کرے“۔
Narrated 'Ali:"The Prophet (ﷺ) was not tall nor was he short, his hands and feet were thick, his head was large, he was big-boned, he had a long Masrubah (the line of hair from the chest to the navel), and whenever he walked, he leaned forward as if he was going down a decline. I have not seen anyone before him nor after him that resembled him (ﷺ)
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لمبے تھے نہ پستہ قد، آپ کی ہتھیلیاں اور پاؤں گوشت سے پُر تھے، آپ بڑے سر اور موٹے جوڑوں والے تھے، ( یعنی گھٹنے اور کہنیاں گوشت سے پُر اور فربہ تھیں ) ، سینہ سے ناف تک باریک بال تھے، جب چلتے تو آگے جھکے ہوئے ہوتے گویا آپ اوپر سے نیچے اتر رہے ہیں، میں نے نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کسی کو آپ جیسا دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهِ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّمَا الأَرْضُ تُطْوَى لَهُ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
Narrated Abu Hurairah:"I have not seen anything more beautiful than the Messenger of Allah (ﷺ). It was as if the sun flowed upon his face. And I have not seen anyone quicker in his walking than the Messenger of Allah (ﷺ). It was as if the earth was made easy for him. We would be exerting ourselves while he would not be struggling
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، گویا آپ کے چہرہ پر سورج پھر رہا ہے، اور نہ میں نے کسی کو آپ سے زیادہ تیز رفتار دیکھا، گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی، ہمیں آپ کے ساتھ چلنے میں زحمت اٹھانی پڑتی تھی اور آپ کوئی دقت محسوس کئے بغیر چلے جاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
It was narrated from 'Iyad bin Himar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever finds lost property, let him ask one or two men of good character to witness it, then he should not alter it nor conceal it. If its owner comes along, then he has more right to it, otherwise it belongs to Allah (SWT), Who gives it to whomsoever He wills.”
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی گری پڑی چیز ملے تو وہ ایک یا دو معتبر شخص کو اس پر گواہ بنا لے، پھر وہ نہ اس میں تبدیلی کرے اور نہ چھپائے، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے ۱؎۔
Narrated Iyad ibn Himar: The Prophet (ﷺ) said: He who finds something should call one or two trusty persons as witnesses and not conceal it or cover it up; then if he finds its owner he should return it to him, otherwise it is Allah's property which He gives to whom He will
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے لقطہٰ ملے تو وہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے ۱؎ اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے، اگر اس کے مالک کو پا جائے تو اسے واپس کر دے، ورنہ وہ اللہ عزوجل کا مال ہے جسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے ۔
PickthallThe evil of all that is hateful in the sight of thy Lord.
Yusuf AliOf all such things the evil is hateful in the sight of thy Lord.
The agreed readingAll of that — its evil is hateful in the sight of your Lord. The commentaries read the sentence as closing the whole list that came before it, so that everything named is gathered under one judgement.
Urduیہ سب کچھ — اس کی برائی تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ مفسرین اس جملے کو اس سے پہلے آنے والی پوری فہرست کا خاتمہ سمجھتے ہیں، تاکہ ہر بیان کردہ بات ایک ہی فیصلے کے تحت جمع ہو جائے۔
Arabicكل ذلك المذكور كان سيئه عند ربك مكروها بغيضا. وقد قرأ المفسرون هذه الجملة خاتمة لكل ما سبق ذكره، فيجتمع كل ما ذكر تحت حكم واحد.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Ibn Jabir, from his father, that the Messenger of Allah said:"There is a kind of protective Jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, loves anda kind that Allah, the Mighty and Sublime, hates, and a kind of pride that Allah, the Mighty and Sublime, loves and a kind that Allah, the Mighty and Sublime, hates, As for the protective jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, loves, it is protective jealousy when there are grounds for suspicion. As for the protective jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, hates, it is protective jealousy when there are no grounds for suspicion. As for the pride that Allah, the Mighty and Sublime, loves, it is when a man feels …
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے، ( ایسے ہی ) ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو جس غیرت کو اللہ پسند کرتا ہے وہ تہمت کی جگہ کی غیرت ہے، اور وہ غیرت ۱؎ جو اللہ عزوجل کو ناپسند ہے تو وہ غیر تہمت کی جگہ کی غیرت ہے ۲؎ رہا فخر جو اللہ کو پسند ہے تو وہ آدمی کا لڑائی کے وقت یا صدقہ دیتے وقت اپنی ذات پر فخر ہے ۳؎ اور وہ فخر جو اللہ کو ناپسند ہے وہ یہ ہے کہ آدمی لغو اور بیہودہ کاموں پر فخر کرے“۔
PickthallThis is (part) of that wisdom wherewith thy Lord hath inspired thee (O Muhammad). And set not up with Allah any other god, lest thou be cast into hell, reproved, abandoned.
Yusuf AliThese are among the (precepts of) wisdom, which thy Lord has revealed to thee. Take not, with Allah, another object of worship, lest thou shouldst be thrown into Hell, blameworthy and rejected.
The agreed readingThat is of the wisdom your Lord has revealed to you. And do not set up another god beside God, or you will be thrown into Hell, blamed and driven away.
Urduیہ وہ حکمت ہے جو تمہارے رب نے تمہاری طرف وحی کی ہے۔ اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہراؤ، ورنہ تم ملامت زدہ اور دھتکارے ہوئے جہنم میں پھینک دیے جاؤ گے۔
Arabicذلك مما أوحى إليك ربك من الحكمة العظيمة الجليلة، ولا تجعل أيها الإنسان مع الله إلها آخر تعبده معه أبدا، فتلقى في جهنم ملوما مدحورا مطرودا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 1 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة4 reports cited here — 1 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
Narrated 'Abdullah:"I asked the Messenger of Allah (ﷺ) which sin is the worst.' He said: 'That you make an equal to Allah while it is He who created you, that you kill your child so that he not eat with you - or because of your food, that you commit adultery with your neighbor's wife.'" He said: "And he recited this Ayah: 'And those who invoke not any other god along with Allah, nor kill such life as Allah has forbidden, except for what is required, nor commit illegal sexual intercourse - and whoever does that shall receive punishment. The torment will be doubled for him on the Day of Resurrection, and he will abide therein in disgrace (25:)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا گناہ بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”بڑا گناہ یہ ہے کہ تم کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ، جب کہ اسی نے تم کو پیدا کیا ہے، اور تم اپنے بیٹے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ رہے گا تو تمہارے ساتھ کھائے پیئے گا، یا تمہارے کھانے میں سے کھائے گا، اور تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو، اور آپ نے یہ آیت پڑھی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثاما يضاعف له العذاب يوم القيامة ويخلد فيه مهانا» ”اللہ کے بندے وہ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود جان کر نہیں پکارتے، اور کسی جان کو جس کا قتل اللہ نے حرام کر دیا ہے، ناحق ( یعنی بغیر قصاص وغیرہ ) قتل نہیں …
26-3 قال: فما السبعون؟ قال: اختار موسى قومه سبعين رجلا لميقات ربه عز وجل، قال: فما الثمانون؟ قال: قرية بالجزيرة يقال لها ثمانون منها قعد نوح في السفينة واستوت على الجودي، وأغرق الله القوم، قال: فما التسعون؟ قال: الفلك المشحون اتخذ نوح عليه السلام فيه تسعين بيتا للبهائم،قال: فما المائة؟ قال: كان أجل داود عليه السلام ستين سنة فوهب له آدم عليه السلام أربعين سنة من عمره فلما حضرت آدم الوفاة جحد فجحدت ذريته. فقال له: يا شاب صف لي محمدا كأني أنظر إليه حتى أومن به الساعة، فبكى أمير المؤمنين عليه السلام ثم قال: يا يهودي هيجت أحزاني كان حبيبي رسول الله صلى الله عليه وآله صلت الجبين، مقرون الحجابين، أدعج العنين، سهل الخدين، أقنى الانف، دقيق المسربة، كث اللحية براق الثنايا، كان عنقه إبريق فضة، كان له …
26-3 The Jew asked, ‘What are the seventy?’ Ali (MGB) replied, ‘This refers to the seventy persons which Moses chose from amongst his family to take to the place of meeting his Lord - the Honorable the Exalted God.’ The Jew asked, ‘What are the eighty?’ Ali (MGB) replied, ‘Eighty here refers to the name of a village in an island where Noah boarded his ark and then landed on Judi and God drowned his tribe.’The Jew asked, ‘What are the ninety?’ Ali (MGB) replied, ‘It refers to the Ark in which Noah built ninety compartments for living creatures.’The Jew asked, ‘What are the one-hundred?’ Ali (MGB) replied, ‘David’s (MGB) life was only sixty years, but Adam (MGB) donated forty years of his own …
وہ کہتے ہیں: تو سو سے کیا مراد ہے؟ امیرالمومنین نے کہا: ستر سے مراد وہ ستر آدمی ہیں جنہیں موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم میں سے اپنے رب کے وعدے کے لیے منتخب کیا۔ یہودی نے کہا: اسی سے کیا مراد ہے؟ علی علیہ السلام نے کہا: جزیرے میں ایک بستی ہے جس کا نام اسی ہے، اسی سے نوح علیہ السلام نے کشتی میں سوار ہونے کی تیاری کی اور وہ جودی پر اترے، اور اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو غرق کیا۔ یہودی نے کہا: نوے سے کیا مراد ہے؟ علی علیہ السلام نے کہا: وہ بھرے ہوئے کشتی سے مراد ہے۔ نوح علیہ السلام نے اس میں جانوروں کے لیے نوے گھر بنائے تھے۔ یہودی نے کہا: سو سے کیا مراد ہے؟ علی علیہ السلام نے کہا: داؤد علیہ السلام کی عمر ستر سال تھی، لیکن آدم علیہ السلام نے انہیں اپنی عمر کے چالیس سال دے دیے۔ جب آدم علیہ السلام کی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Harun ibn Muslim Mas’adah ibn Sadaqah who has said the following: “Once, Sufyan al-Thawriy visited abu ‘ Abd Allah (a.s.). He saw the Imam wearing a cloth that was pure white like the membrane between an egg shell and its contents. He then said to the Imam, ‘This is not the kind of cloth you should wear.’ He (the Imam) said, ‘Listen to me and pay proper attention to what I say; it is good for you now and in future if you like to die following the Sunnah and truth and not in heresy. I can tell you that the Messenger of Allah lived at a time when poverty was rampant. When living conditions improve the people most deserving to benefit from …
علی بن ابراہیم نے ہارون بن مسلم سے، انہوں نے مسعدہ بن صدقہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: سفیان ثوری ابو عبد اللہ (علیہ السلام) کی خدمت میں تشریف لائے۔ انہوں نے دیکھا کہ آپ سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں بالکل انڈے کے سفید حصے کی طرح۔ سفیان نے کہا: یہ لباس آپ کے لیے شایان نہیں ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: میری سنو اور جو کہوں اس پر توجہ کرو کیونکہ یہ تمہارے لیے دنیا و آخرت میں بہتری کا باعث ہے، بشرطیکہ تم سنت اور حق پر مرو۔ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ایسے زمانے میں تھے جب بہت غربت تھی۔ لیکن جب دنیا کی دولت آتی ہے تو اس کے سب سے زیادہ حقدار نیک لوگ ہیں برے نہیں، مومن ہیں منافق نہیں، مسلم ہیں کافر نہیں۔ تو اے ثوری! تمہیں کیا ناپسند ہے؟ اللہ کی قسم! جب سے میں نے عقل حاصل …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
7. Ali ibn Muhammad has narrated from Ahmad ibn abu ‘Abd Allah from his father from al-Nadr ibn Suwayd from Musa ibn Bakr from ‘Ajlan who has said the following: “Once, I was in the presence of abu ‘Abd Allah (a.s.), when a man came asking for help. He (the Imam) gave him a handful of dates from a basket. Then another one came also asking for help. He (the Imam) also gave him a handful of dates. Then another one came asking for help, and he gave him a handful as well. Yet another one came asking for help. He (the Imam) stood up and gave him a handful. Thereafter another one came asking for help. He (the Imam) said, ’Allah is our provider as well as yours.’ He then said, ‘Whoever would come …
علي بن محمد نے احمد بن ابی عبد الله سے روایت کی، احمد بن ابی عبد الله نے اپنے باپ سے روایت کی، اس کے باپ نے النضر بن سویدسے روایت کی، النضر بن سوید نے موسیٰ بن بکر سے روایت کی، اور موسیٰ بن بکر نے عجلان سے روایت کی۔ عجلان کہتے ہیں: میں ابی عبد الله (علیہ السلام) کے پاس موجود تھا جب ایک سائل آیا۔ امام علیہ السلام کھجوروں کی ایک ٹوکری کی طرف اٹھے اور اپنے ہاتھ میں خوب سارے کھجوریں بھریں اور انہیں (سائل کو) دے دیں۔ پھر دوسرا سائل آیا اور مدد مانگی۔ امام (پھر سے) اٹھے اور اپنے ہاتھ سے (کھجوریں) پکڑیں اور اسے دے دیں۔ پھر تیسرا سائل آیا اور مدد مانگی۔ امام اٹھے اور اپنے ہاتھ سے (کھجوریں) پکڑیں اور اسے دے دیں۔ پھر چوتھا سائل آیا اور مدد مانگی۔ امام اٹھے اور اپنے ہاتھ سے (کھجوریں) دے دیں۔ پھر …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallHath your Lord then distinguished you (O men of Makka) by giving you sons, and hath chosen for Himself females from among the angels? Lo! verily ye speak an awful word!
Yusuf AliHas then your Lord (O Pagans!) preferred for you sons, and taken for Himself daughters among the angels? Truly ye utter a most dreadful saying!
The agreed readingHas your Lord then chosen sons for you and taken females from among the angels for Himself? You are saying a monstrous thing. The commentaries note the argument is taken from their own preference and turned back on them.
Urduکیا تمہارے رب نے تمہارے لیے تو بیٹے چن لیے اور اپنے لیے فرشتوں میں سے بیٹیاں بنا لیں؟ بےشک تم بہت بڑی بات کہہ رہے ہو۔ مفسرین نے بتایا ہے کہ یہ دلیل انہی کی اپنی پسند سے لے کر انہی پر پلٹا دی گئی ہے۔
Arabicأفأصفاكم ربكم بالبنين واتخذ من الملائكة إناثا لنفسه؟ إنكم لتقولون قولا عظيما شنيعا. وقد نبه المفسرون إلى أن الحجة أخذت من هوى المشركين أنفسهم ثم ردت عليهم.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 3 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة6 reports cited here — 3 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
Narrated `Abdullah:We used to consider miracles as Allah's Blessings, but you people consider them to be a warning. Once we were with Allah's Messenger (ﷺ) on a journey, and we ran short of water. He said, "Bring the water remaining with you." The people brought a utensil containing a little water. He placed his hand in it and said, "Come to the blessed water, and the Blessing is from Allah." I saw the water flowing from among the fingers of Allah's Messenger (ﷺ) , and no doubt, we heard the meal glorifying Allah, when it was being eaten (by him)
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ معجزات کو ہم تو باعث برکت سمجھتے تھے اور تم لوگ ان سے ڈرتے ہو۔ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور پانی تقریباً ختم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ بھی پانی بچ گیا ہو اسے تلاش کرو۔ چنانچہ لوگ ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال دیا اور فرمایا: برکت والا پانی لو اور برکت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی فوارے …
Narrated `Abdullah:Once we were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) in a cave. Surat-al-Mursalat (77) was revealed there, and we were learning it from Allah's Messenger (ﷺ) . Suddenly a snake came out of its hole and we rushed towards it to kill it, but it hastened and entered its hole before we were able to catch it. Allah's Messenger (ﷺ) said," It has been saved from your evil and you have been saved from its evil
ہم سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی، انہیں اسرائیل نے، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( مقام منیٰ میں ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آیت «والمرسلات عرفا» نازل ہوئی، ابھی ہم آپ کی زبان مبارک سے اسے سن ہی رہے تھے کہ ایک بل میں سے ایک سانپ نکلا۔ ہم اسے مارنے کے لیے جھپٹے، لیکن وہ بھاگ گیا اور اپنے بل میں داخل ہو گیا، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس پر فرمایا ”تمہارے ہاتھ سے وہ اسی طرح بچ نکلا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے“ اور یحییٰ نے اسرائیل سے روایت کیا ہے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح …
Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) was in Makkah, then Hijrah was ordered, so the following was revealed to him: Say: 'My Lord! Let my entry be good, and likewise my exit be good. And grant me from You a helping authority (17:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ملا، اسی موقع پر آیت: «وقل رب أدخلني مدخل صدق وأخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا» ”دعا کر، اے میرے رب! مجھے اچھی جگہ پہنچا اور مجھے اچھی طرح نکال، اور اپنی طرف سے مجھے قوی مددگار مہیا فرما“ ( بنی اسرائیل: ۸۰ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
الحسن بن محبوب عن أبي حمزة الثمالي عن أبي جعفر عليه السلام قال: إن الله عز وجل أوحى إلى داود عليه السلام أن أئت عبدي دانيال فقل له: انك عصيتني فغفرت لك وعصيتني فغفرت لك وعصيتني فغفرت لك فان أنت عصيتني الرابعة لم اغفر لك فاتاه داود عليه السلام فقال: يا دانيال انى رسول الله إليك وهو يقول لك انك عصيتني فغفرت لك وعصيتني فغفرت لك وعصيتني فغفرت لك فان أنت عصيتني الرابعة لم أغفر لك فقال له دانيال: قد أبلغت يا نبي الله فلما كان في السحر قام دانيال فناجى ربه فقال: يا رب ان داود نبيك اخبرني عنك انني قد عصيتك فغفرت لي وعصيتك فغفرت لي وعصيتك فغفرت لي وأخبرني عنك انى ان عصيتك الرابعة لم تغفر لي فوعزتك وجلالك لئن لم تعصمني لأعصينك ثم لأعصينك ثم لأعصينك.
16.Al-Ḥasan ibn Maḥbūb narrated from Abū Ḥamzah al-Thumālī, from Abū Jaʿfar (a) who said, “Verily Allah, the Almighty, revealed to Dāwūd (a), ‘Go to My servant Dānyāl and say to him: [My Lord says] you have disobeyed Me yet I forgave you, and you disobeyed Me [again] yet I forgave you, and you disobeyed Me [again] yet I forgave you. But if you disobey me a fourth time, I will not forgive you.’ So Dāwūd (a) went to him and said, ‘O Dānyāl, I am indeed a messenger of Allah to you; and He says to you: Verily you have disobeyed Me yet I forgave you, and you disobeyed Me [again] yet I forgave you, and you disobeyed Me [again] yet I forgave you. But if you disobey me a fourth time, I will not …
الحسن بن محبوب نے ابو حمزہ الثمالی سے، انہوں نے ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اللہ عز وجل نے داود علیہ السلام کو وحی کی کہ میرے بندے دانیال کے پاس جاؤ اور کہو: تم نے مجھ سے عصیان کی تو میں نے تمہیں معاف کیا۔ اور پھر عصیان کی تو معاف کیا۔ اور پھر عصیان کی تو معاف کیا۔ لیکن اگر تم چوتھی بار عصیان کرو تو میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔ تو داود علیہ السلام ان کے پاس گئے اور کہا: اے دانیال! میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف۔ اور وہ تمہیں کہتے ہیں: تم نے مجھ سے عصیان کی تو میں نے معاف کیا۔ اور عصیان کی تو معاف کیا۔ اور عصیان کی تو معاف کیا۔ لیکن اگر چوتھی بار عصیان کرو تو معاف نہیں کروں گا۔ تو دانیال نے کہا: اے نبی اللہ! آپ نے پہنچا دیا۔ جب سحر ہوا تو دانیال کھڑے ہوئے اور اپنے رب …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
12 - علي بن أحمد قال: حدثنا عبيد الله بن موسى العلوي، عن علي بن إبراهيم بن هاشم، عن علي بن إسماعيل، عن حماد بن عيسى، عن إبراهيم بن عمر اليماني، عن أبي الطفيل، عن أبي جعفر محمد بن علي، عن أبيه علي بن الحسين : أن ابن عباس بعث إليه مَن يسأله عن هذه الآية يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ فغضب عليّ بن الحسين وقال للسائل: ودِدتُ أن الذي أمرك بهذا واجهني به. ثم قال: نزَلَت في أبي وفينا ولم يكن الرباط الذي أمرَنا به بعد وسيكون ذلك ذريّة من نسلنا المرابط. ثم قال: أما إنّ في صلبه (يعني ابن عباس ) وديعةً ذرئت لنارِ جهنم، سيخرجون أقواماً من دين الله أفواجاً وستصبغ الأرض بدماء فراخ من فراخ آل محمّد تنهض تلك الفراخ في غير وقت، …
(12) Ali bin Ahmad narrated from Obaydillah bin Musa al-Alawi from Ali bin Ibraheem bin Hashim from Ali bin Issma’eel from Hammad bin Eessa from Ibraheem bin Umar al-Yamani from Abut-Tufayl that Abu Ja’far Muhammad bin Ali al-Baqir (as) had said: Once ibn Abbas sent a messenger to Ali bin al-Husayn as-Sajjad (as) asking him about this Qur’anic verse, “O you who believe! Be patient and excel in patience and remain steadfast.” Ali bin al-Husayn (as) became angry and said to the messenger: “I wish that he, who has sent you with this, faced me with it.” Then he said: “This verse has been revealed about my father and us. Perseverance that we have been ordered of has not occurred yet. It will be …
علی بن احمد نے کہا: ہمیں عبید الله بن موسیٰ العلوی نے بتایا، وہ علی بن ابراہیم بن ہاشم سے، وہ علی بن اسماعیل سے، وہ حماد بن عیسیٰ سے، وہ ابراہیم بن عمر الیمانی سے، وہ ابو الطفیل سے، وہ ابو جعفر محمد بن علی سے، وہ اپنے والد علی بن الحسین سے روایت کرتے ہیں: ابن عباس نے علی بن الحسین کے پاس کوئی بھیجا تاکہ اس آیت کے بارے میں پوچھے: "اے ایمان والو! صبر کرو، صابری اختیار کرو، اور ربط (حالات مند) رہو، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہیں فلاح ملے"۔ علی بن الحسین غصے میں آ گئے اور سوال کنندہ سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ جس نے تمہیں یہ بھیجا ہے وہ خود مجھے سے یہ سوال کرتا۔ پھر کہا: یہ آیت میرے والد اور ہم کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور ربط (حالات مند) جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے وہ ابھی واقع نہیں ہوا، لیکن یہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن ربعيّ بن عبد اللّه فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه؛ و الحميريّ جميعا عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسين بن سعيد، عن حمّاد بن عيسى، عن ربعي بن عبد اللّه بن جارود الهذليّ و هو عربيّ بصريّ.
Everything in this book that is narrated from Rubay ibn Abdullah has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sad ibn Abdullah and Al-Himyari together, from Ahmad ibn Muhammad ibn Isa, from Al-Husayn ibn Said, from Hammad ibn Isa, from Rubay ibn Abdullah ibn Jarud Al-Hudhali, who was an Arab from Basra.
اور جو اس میں ربعي بن عبد الله سے ہے تو میں نے اسے اپنے أبي رضي الله عنه سے روایت کیا ہے سعد بن عبد الله اور الحميري دونوں سے احمد بن محمد بن عيسی سے الحسين بن سعيد سے حماد بن عيسیٰ سے ربعي بن عبد الله بن جارود الهذلي سے جو عربي بصري تھے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWe verily have displayed (Our warnings) in this Qur'an that they may take heed, but it increaseth them in naught save aversion.
Yusuf AliWe have explained (things) in various (ways) in this Qur'an, in order that they may receive admonition, but it only increases their flight (from the Truth)!
The agreed readingAnd We have turned it about in this Recitation so that they might take heed, and it only increases them in turning away.
Urduاور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان پھیر پھیر کر کیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں، لیکن یہ انہیں نفرت میں اور بھی بڑھا دیتا ہے۔
Arabicولقد صرفنا في هذا القرآن العظيم الكريم الأمثال والمواعظ الكثيرة المتنوعة ليتذكروا ويتعظوا جميعا بها، وما يزيدهم ذلك التصريف إلا نفورا وبعدا شديدا عن الحق أبدا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated AbuHurayrah: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He then mentioned a tradition like it. This version adds: When they propound that, say: "Say Allah is one. Allah is He to Whom men repair. He has not begotten and He has not been begotten, and no one is equal to Him." Then one should spit three times on his left side and seek refuge in Allah from Satan
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، پھر اس جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے، آپ نے فرمایا: جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو: «الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ۱؎، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے ۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَ رَجُلاً يَقْرَأُ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ * لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ * وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ } فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَجَبَتْ " . فَسَأَلْتُهُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْجَنَّةُ " .
It was narrated that Ubaid bin Hunain, the freed slave of the family of Zaib bin Al-Khattab, said:"I heard Abu Hurairah say: 'I came back (from a journey) with the Messenger of Allah (ﷺ) and he heard a man reciting 'Say: He is Allah, (the) One, Allah-us-Samad (the Self-Sufficient Master). He begets not, nor was He begotten. And there is none equal or comparable unto Him.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is guaranteed.' We asked him: 'What, O Messenger of Allah?' He said: 'Paradise
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» پڑھتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ، میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت ۔
Narrated `Abdullah:We used to consider miracles as Allah's Blessings, but you people consider them to be a warning. Once we were with Allah's Messenger (ﷺ) on a journey, and we ran short of water. He said, "Bring the water remaining with you." The people brought a utensil containing a little water. He placed his hand in it and said, "Come to the blessed water, and the Blessing is from Allah." I saw the water flowing from among the fingers of Allah's Messenger (ﷺ) , and no doubt, we heard the meal glorifying Allah, when it was being eaten (by him)
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ معجزات کو ہم تو باعث برکت سمجھتے تھے اور تم لوگ ان سے ڈرتے ہو۔ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور پانی تقریباً ختم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ بھی پانی بچ گیا ہو اسے تلاش کرو۔ چنانچہ لوگ ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال دیا اور فرمایا: برکت والا پانی لو اور برکت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی فوارے …
Narrated `Abdullah:Once we were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) in a cave. Surat-al-Mursalat (77) was revealed there, and we were learning it from Allah's Messenger (ﷺ) . Suddenly a snake came out of its hole and we rushed towards it to kill it, but it hastened and entered its hole before we were able to catch it. Allah's Messenger (ﷺ) said," It has been saved from your evil and you have been saved from its evil
ہم سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی، انہیں اسرائیل نے، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( مقام منیٰ میں ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آیت «والمرسلات عرفا» نازل ہوئی، ابھی ہم آپ کی زبان مبارک سے اسے سن ہی رہے تھے کہ ایک بل میں سے ایک سانپ نکلا۔ ہم اسے مارنے کے لیے جھپٹے، لیکن وہ بھاگ گیا اور اپنے بل میں داخل ہو گیا، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس پر فرمایا ”تمہارے ہاتھ سے وہ اسی طرح بچ نکلا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے“ اور یحییٰ نے اسرائیل سے روایت کیا ہے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح …
PickthallSay (O Muhammad, to the disbelievers): If there were other gods along with Him, as they say, then had they sought a way against the Lord of the Throne.
Yusuf AliSay: If there had been (other) gods with Him, as they say,- behold, they would certainly have sought out a way to the Lord of the Throne!
The agreed readingSay: if there were gods beside Him, as they say, they would have sought a way to the Owner of the Throne. The commentaries read it as an argument from what gods would do: more than one would mean rivalry, and rivalry is not what they claim.
Urduکہہ دیجیے: اگر اس کے ساتھ اور بھی معبود ہوتے جیسا کہ وہ کہتے ہیں، تو وہ ضرور عرش کے مالک تک پہنچنے کا کوئی راستہ تلاش کرتے۔ مفسرین اسے اس دلیل کے طور پر پڑھتے ہیں کہ معبود ہونے کا تقاضا ہی یہ ہے: ایک سے زیادہ ہونے کا مطلب ہوگا آپس کی چپقلش، اور یہ چپقلش وہ خود بھی نہیں مانتے۔
Arabicقل: لو كان مع الله آلهة أخرى كما يقولون، إذا لابتغت تلك الآلهة إلى ذي العرش سبيلا للمغالبة. وقد قرأ المفسرون هذا حجة من طبيعة الآلهة: تعددها يعني التنازع، وهذا التنازع لا يقرون به هم أنفسهم.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 5 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة8 reports cited here — 5 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine names, one hundred less one, for He is One and loves the odd (numbered). Whoever learns them will enter Paradise. They are: Allah, Al-Wahid (the One), As-Samad (the Self-Sufficient Master who all creatures need, He neither eats nor drinks), Al-Awwal (the First), Al-Akhir (the Last), Az-Zahir (the Most High), Al-Batin (the Most Near), Al-Khaliq (the Creator), Al-Bari (the Inventor of all things), Al-Musawwir (the Bestower of forms), Al-Malik (the King), Al-Haqq (the Truth), As-Salam (the One free from all defects), Al-Mu'min (the Giver of security), Al-Muhaymin (the Watcher over His creatures), …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ ، «الواحد» اکیلا، ایکتا ، «الصمد» بے نیاز ، «الأول» پہلا ، «الآخر» پچھلا ، «الظاهر» ظاہر ، «الباطن» باطن ، «الخالق» پیدا کرنے والا ، «البارئ» بنانے والا ، «المصور» صورت بنانے والا ، «الملك» بادشاہ ، «الحق» سچا ، «السلام» سلامتی دینے والا ، «المؤمن» یقین والا ، «المهيمن» نگہبان ، «العزيز» غالب ، «الجبار» تسلط والا ، «المتكبر» بڑائی والا ، «الرحمن» بہت رحم کرنے والا ،«الرحيم» مہربان ، «اللطيف» بندوں پر شفقت کرنے …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلاً يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:"The Prophet (saas) heard a man say: 'Allahumma! Inni as'aluka bi-annaka Antallahul-Ahadus-Samad, alladhi lam yalid wa lam yuwlud, wa lam yakun lahu kufuwan ahad (O Allah! I ask You by virtue of Your being Allah, the One, the Self-Sufficient Master, Who begets not nor was begotten, and there is none co-equal or comparable to Him).' The Messenger of Allah (saas) said: 'He has asked Allah by His Greatest Name, which if He is asked thereby He gives, and if He is called upon thereby He answers
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا: «اللهم إني أسألك بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔
Narrated Mihjan ibn al-Adra': The Messenger of Allah (ﷺ) entered the mosque and saw a man who had finished his prayer, and was reciting the tashahhud saying: O Allah, I ask you, O Allah, the One, the eternally besought of all, He begetteth not, nor was He begotten, and there is none comparable unto Him, that you may forgive me my sins, you are Most Forgiving, Merciful. He (the Prophet) said: He was forgiven (repeating three times)
محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی نماز پوری کر لی، اور تشہد میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے: «اللهم إني أسألك يا الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» اے تنہا و اکیلا، باپ بیٹا سے بے نیاز، بے مقابل ولا مثیل اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے، بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے یہ سن کر آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا: اسے بخش دیا گیا، اسے بخش دیا گیا ۔
5. It is narrated from him (narrator of the Hadith above) from ibn Mahbub from ‘Amr ibn Shamir from Jabir from abu Ja’far (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Majestic, the Most Holy, is compassionate. He loves kindheartedness and awards for it with such things that He does not give due to rudeness.”
عنہ عن ابن محبوب عن عمرو بن شمر عن جابر عن ابی جعفر (علیہ السلام) نے کہا: الله تعالیٰ رفیق ہے۔ وہ رفق اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور رفق پر ایسا عطا کرتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated `Abdullah:We used to consider miracles as Allah's Blessings, but you people consider them to be a warning. Once we were with Allah's Messenger (ﷺ) on a journey, and we ran short of water. He said, "Bring the water remaining with you." The people brought a utensil containing a little water. He placed his hand in it and said, "Come to the blessed water, and the Blessing is from Allah." I saw the water flowing from among the fingers of Allah's Messenger (ﷺ) , and no doubt, we heard the meal glorifying Allah, when it was being eaten (by him)
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ معجزات کو ہم تو باعث برکت سمجھتے تھے اور تم لوگ ان سے ڈرتے ہو۔ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور پانی تقریباً ختم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ بھی پانی بچ گیا ہو اسے تلاش کرو۔ چنانچہ لوگ ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال دیا اور فرمایا: برکت والا پانی لو اور برکت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی فوارے …
Narrated `Abdullah:Once we were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) in a cave. Surat-al-Mursalat (77) was revealed there, and we were learning it from Allah's Messenger (ﷺ) . Suddenly a snake came out of its hole and we rushed towards it to kill it, but it hastened and entered its hole before we were able to catch it. Allah's Messenger (ﷺ) said," It has been saved from your evil and you have been saved from its evil
ہم سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی، انہیں اسرائیل نے، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( مقام منیٰ میں ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آیت «والمرسلات عرفا» نازل ہوئی، ابھی ہم آپ کی زبان مبارک سے اسے سن ہی رہے تھے کہ ایک بل میں سے ایک سانپ نکلا۔ ہم اسے مارنے کے لیے جھپٹے، لیکن وہ بھاگ گیا اور اپنے بل میں داخل ہو گیا، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس پر فرمایا ”تمہارے ہاتھ سے وہ اسی طرح بچ نکلا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے“ اور یحییٰ نے اسرائیل سے روایت کیا ہے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح …
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Isma’if ibn Marrar from Yunus from ibn Muskan in a marfu‘ manner from a man who has said the following: “Abu Ja’far (a.s.), has said, ‘Once, when, in the Masjid, the Messenger of Allah asked several people to stand up. They numbered five people and then he asked them, ’Leave our Masjid. Do not perform Salah (prayer) here; you do not pay zakat.’”
علي بن ابراہيم نے اپنے باپا سے، اسماعيل بن مرار سے، يونس سے، ابن مسکان سے روایت کی، اسے بلند کرتے ہوئے ایک آدمی سے، ابو جعفر سے کہا: بينا رسول اللہ في المسجد اذ قال: قم یا فلان قم یا فلان حتی اخرج خمسة نفر فقال: اخرجوا من مسجدنا لا تصلوا فيہ وأنتم لا تزکون۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
9. Abu Ali al-Ash‘ariy has narrated from Muhammad ibn Salim from Ahmad ibn al-Nadr from ‘Amr ibn Shamir from Jabir who has said the following: “Abu Ja‘far (a.s.), has said that when al-Husayn (a.s.), was murdered, he wore a dark color Jubbah (gown) of al-Khazz (garments made of skin or fur of an animal that lives in water). They found thirty-three torn spots in it because of being hit with swords, spears or arrows.’”
ابو علی الأشعری نے محمد بن سالم سے، احمد بن النضر سے، عمرو بن شمر سے، جابر سے روایت کی ہے کہ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: حسین بن علی علیہ السلام کو شہید کیا گیا اور ان پر سیاہ رنگ کی خز کا جبہ تھا۔ تو انہوں نے اس میں تیس تین زخم پائے، تلوار کے ضربوں، نیزے کے گھونسوں اور تیروں سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallGlorified is He, and High Exalted above what they say!
Yusuf AliGlory to Him! He is high above all that they say!- Exalted and Great (beyond measure)!
The agreed readingGlory to Him, high above what they say, and far above it. The commentaries gloss what they say as the partners they had just been shown could not exist, so the exalting answers an argument rather than opening one.
Urduوہ پاک ہے اور ان کی باتوں سے بہت بلند اور برتر ہے۔ مفسرین اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ان کی باتوں سے مراد وہی شریک ہیں جن کا وجود ابھی ثابت کیا جا چکا کہ ناممکن ہے، اس لیے یہ تنزیہ ایک دلیل کا جواب ہے، نئی بات کا آغاز نہیں۔
Arabicسبحانه وتعالى عما يقولون علوا كبيرا. وقد فسر المفسرون قولهم بالشركاء الذين بينت الآية قبلها استحالة وجودهم، فهذا التنزيه جواب على حجة سابقة لا افتتاح لحجة جديدة.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine names, one hundred less one, for He is One and loves the odd (numbered). Whoever learns them will enter Paradise. They are: Allah, Al-Wahid (the One), As-Samad (the Self-Sufficient Master who all creatures need, He neither eats nor drinks), Al-Awwal (the First), Al-Akhir (the Last), Az-Zahir (the Most High), Al-Batin (the Most Near), Al-Khaliq (the Creator), Al-Bari (the Inventor of all things), Al-Musawwir (the Bestower of forms), Al-Malik (the King), Al-Haqq (the Truth), As-Salam (the One free from all defects), Al-Mu'min (the Giver of security), Al-Muhaymin (the Watcher over His creatures), …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ ، «الواحد» اکیلا، ایکتا ، «الصمد» بے نیاز ، «الأول» پہلا ، «الآخر» پچھلا ، «الظاهر» ظاہر ، «الباطن» باطن ، «الخالق» پیدا کرنے والا ، «البارئ» بنانے والا ، «المصور» صورت بنانے والا ، «الملك» بادشاہ ، «الحق» سچا ، «السلام» سلامتی دینے والا ، «المؤمن» یقین والا ، «المهيمن» نگہبان ، «العزيز» غالب ، «الجبار» تسلط والا ، «المتكبر» بڑائی والا ، «الرحمن» بہت رحم کرنے والا ،«الرحيم» مہربان ، «اللطيف» بندوں پر شفقت کرنے …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلاً يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:"The Prophet (saas) heard a man say: 'Allahumma! Inni as'aluka bi-annaka Antallahul-Ahadus-Samad, alladhi lam yalid wa lam yuwlud, wa lam yakun lahu kufuwan ahad (O Allah! I ask You by virtue of Your being Allah, the One, the Self-Sufficient Master, Who begets not nor was begotten, and there is none co-equal or comparable to Him).' The Messenger of Allah (saas) said: 'He has asked Allah by His Greatest Name, which if He is asked thereby He gives, and if He is called upon thereby He answers
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا: «اللهم إني أسألك بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔
Narrated Mihjan ibn al-Adra': The Messenger of Allah (ﷺ) entered the mosque and saw a man who had finished his prayer, and was reciting the tashahhud saying: O Allah, I ask you, O Allah, the One, the eternally besought of all, He begetteth not, nor was He begotten, and there is none comparable unto Him, that you may forgive me my sins, you are Most Forgiving, Merciful. He (the Prophet) said: He was forgiven (repeating three times)
محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی نماز پوری کر لی، اور تشہد میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے: «اللهم إني أسألك يا الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» اے تنہا و اکیلا، باپ بیٹا سے بے نیاز، بے مقابل ولا مثیل اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے، بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے یہ سن کر آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا: اسے بخش دیا گیا، اسے بخش دیا گیا ۔
Narrated `Abdullah:We used to consider miracles as Allah's Blessings, but you people consider them to be a warning. Once we were with Allah's Messenger (ﷺ) on a journey, and we ran short of water. He said, "Bring the water remaining with you." The people brought a utensil containing a little water. He placed his hand in it and said, "Come to the blessed water, and the Blessing is from Allah." I saw the water flowing from among the fingers of Allah's Messenger (ﷺ) , and no doubt, we heard the meal glorifying Allah, when it was being eaten (by him)
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ معجزات کو ہم تو باعث برکت سمجھتے تھے اور تم لوگ ان سے ڈرتے ہو۔ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور پانی تقریباً ختم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ بھی پانی بچ گیا ہو اسے تلاش کرو۔ چنانچہ لوگ ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال دیا اور فرمایا: برکت والا پانی لو اور برکت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی فوارے …
Narrated `Abdullah:Once we were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) in a cave. Surat-al-Mursalat (77) was revealed there, and we were learning it from Allah's Messenger (ﷺ) . Suddenly a snake came out of its hole and we rushed towards it to kill it, but it hastened and entered its hole before we were able to catch it. Allah's Messenger (ﷺ) said," It has been saved from your evil and you have been saved from its evil
ہم سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی، انہیں اسرائیل نے، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( مقام منیٰ میں ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آیت «والمرسلات عرفا» نازل ہوئی، ابھی ہم آپ کی زبان مبارک سے اسے سن ہی رہے تھے کہ ایک بل میں سے ایک سانپ نکلا۔ ہم اسے مارنے کے لیے جھپٹے، لیکن وہ بھاگ گیا اور اپنے بل میں داخل ہو گیا، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس پر فرمایا ”تمہارے ہاتھ سے وہ اسی طرح بچ نکلا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے“ اور یحییٰ نے اسرائیل سے روایت کیا ہے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح …
PickthallThe seven heavens and the earth and all that is therein praise Him, and there is not a thing but hymneth His praise; but ye understand not their praise. Lo! He is ever Clement, Forgiving.
Yusuf AliThe seven heavens and the earth, and all beings therein, declare His glory: there is not a thing but celebrates His praise; And yet ye understand not how they declare His glory! Verily He is Oft-Forbear, Most Forgiving!
The agreed readingThe seven heavens and the earth and everyone in them glorify Him. There is nothing at all that does not glorify Him with praise, but you do not understand their glorifying. He is Forbearing, Forgiving. The commentaries note that the failure named at the end is ours, not theirs.
Urduساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے سب اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو، لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں پاتے۔ وہ بردبار، بخشنے والا ہے۔ مفسرین بتاتے ہیں کہ آخر میں جس کمی کا ذکر ہوا ہے وہ ہماری اپنی کمی ہے، ان مخلوقات کی نہیں۔
Arabicتسبح له السماوات السبع والأرض ومن فيهن، وإن من شيء إلا يسبح بحمده ولكن لا تفقهون تسبيحهم، إنه كان حليما غفورا. وقد نبه المفسرون إلى أن القصور المذكور في آخر الآية قصورنا نحن، لا قصور تلك المخلوقات.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 6 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة7 reports cited here — 6 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
It was narrated that Ibn ' Abbas said:"The Messenger of Allah passed by two graves and said: "They are being punished but they are not being punished for anything that was difficult to avoid. One of them used not to take care to avoid getting urine on his body or clothes, and the other used to walk about spreading gossip.' Then he took a fresh palm stalk and broke it in half, and planted one half on each grave. They said: 'O Messenger of Allah, why did not do that?' He said: 'May it be reduced for them so long as this does not dry out
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبر کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دئیے جا رہے ہیں، رہا ان میں سے ایک تو وہ اپنے پیشاب سے اچھی طرح پاکی حاصل نہیں کرتا تھا، اور رہا دوسرا تو وہ چغل خوری کرتا تھا، پھر آپ نے کھجور کی ایک ہری ٹہنی لی ( اور ) اسے آدھا آدھا چیر دیا، پھر ہر ایک کی قبر پہ گاڑ دیا“، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید ان دونوں کا عذاب ہلکا کر دیا جائے جب تک یہ دونوں ( ٹہنیاں ) خشک نہ ہوں“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) passed by two graves and said: 'These two are being punished, but they are not being punished for something that was difficult to avoid. As for this, he used not to take precautions to avoid (his body to clothes being soiled by) urine, and this one used to walk around spreading malicious gossip.' Then he called for a fresh palm-leaf stalk and split it in two, and placed one piece on each of the two graves. They said: 'O Messenger of Allah, why did you do that?' He said: 'Perhaps the torment will be reduced for them so long as this does not dry out.'" Mansur Contradicted him, he reported it from Mujahid from ibn 'Abbas but he …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ دونوں قبر والے عذاب دئیے جا رہے ہیں، اور کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں دیے جا رہے ہیں ۱؎، رہا یہ شخص تو اپنے پیشاب کی چھینٹ سے نہیں بچتا تھا، اور رہا یہ ( دوسرا ) شخص تو یہ چغل خوری کیا کرتا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی، اور اسے چیر کر دو ٹکڑے کیے اور ہر ایک کی قبر پر ایک ایک شاخ گاڑ دی، پھر فرمایا: امید ہے کہ جب تک یہ دونوں خشک نہ ہو جائیں ان کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے ۲؎۔
Times do not keep company with Him, and implements do not help Him. His Being precedes times. His Existence precedes non-existence and His eternity precedes beginning. By His creating the senses it is known that He has no senses. By the contraries in various matters it is known that He has no contrary, and by the similarity between things it is known that there is nothing similar to Him. He has made light the contrary of darkness, brightness that of gloom, dryness that of moisture and heat that of cold. He produces affection among inimical things. He fuses together diverse things, brings near remote things and separates things which are joined together.
اوقات اس کو نہیں ساتھ دیتے، اور ادوات اس کو نہیں مدد دیتے۔ اس کی کون اوقات سے پہلے ہے، اس کی وجود عدم سے پہلے ہے، اور اس کی ازل ابتدا سے پہلے ہے۔ اس کے ذریعے مشاعر کو شعور دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے مشعر نہیں۔ اس کے ذریعے امور میں مضادت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے ضد نہیں۔ اس کے ذریعے اشیاء میں مقارنت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے قرین نہیں۔ نور کو ظلمت کے مقابل رکھا، وضوح کو بہمت کے مقابل، جمود کو بلل کے مقابل، حرور کو صرد کے مقابل۔ متعادیات میں الفت پیدا کرتا ہے، متباینات میں موافقت رکھتا ہے، متباعدات کو قریب کرتا ہے، متدانیات کو الگ کرتا ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated `Abdullah:We used to consider miracles as Allah's Blessings, but you people consider them to be a warning. Once we were with Allah's Messenger (ﷺ) on a journey, and we ran short of water. He said, "Bring the water remaining with you." The people brought a utensil containing a little water. He placed his hand in it and said, "Come to the blessed water, and the Blessing is from Allah." I saw the water flowing from among the fingers of Allah's Messenger (ﷺ) , and no doubt, we heard the meal glorifying Allah, when it was being eaten (by him)
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ معجزات کو ہم تو باعث برکت سمجھتے تھے اور تم لوگ ان سے ڈرتے ہو۔ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور پانی تقریباً ختم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ بھی پانی بچ گیا ہو اسے تلاش کرو۔ چنانچہ لوگ ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال دیا اور فرمایا: برکت والا پانی لو اور برکت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی فوارے …
Narrated `Abdullah:Once we were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) in a cave. Surat-al-Mursalat (77) was revealed there, and we were learning it from Allah's Messenger (ﷺ) . Suddenly a snake came out of its hole and we rushed towards it to kill it, but it hastened and entered its hole before we were able to catch it. Allah's Messenger (ﷺ) said," It has been saved from your evil and you have been saved from its evil
ہم سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی، انہیں اسرائیل نے، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( مقام منیٰ میں ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آیت «والمرسلات عرفا» نازل ہوئی، ابھی ہم آپ کی زبان مبارک سے اسے سن ہی رہے تھے کہ ایک بل میں سے ایک سانپ نکلا۔ ہم اسے مارنے کے لیے جھپٹے، لیکن وہ بھاگ گیا اور اپنے بل میں داخل ہو گیا، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس پر فرمایا ”تمہارے ہاتھ سے وہ اسی طرح بچ نکلا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے“ اور یحییٰ نے اسرائیل سے روایت کیا ہے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح …
Ibn Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by two graves and said: They (their occupants) are being tormented, but they are not tormented for a grievous sin. One of them carried tales and the other did not keep himself safe from being defiled by urine. He then called for a fresh twig and split it into two parts, and planted them on each grave and then said: Perhaps, their punishment way be mitigated as long as these twigs remain fresh
وکیع نے بیان کیا ، ( کہا : ) ہمیں اعمش نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے مجاہد کو طاؤس سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسو ل اللہ ﷺ کا گزر دو قبروں پر ہوا تو آپ نے فرمایا : ’’ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی غلطی کی بناپر عذاب نہیں ہو رہا ( جس سے بچنا دشوار ہوتا ۔ ) ان میں ایک تو چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا ۔ ‘ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر آپ نے ایک تازہ کھجور کی چھڑی منگوائی اور اس کو دوحصوں میں چیر دیا ، پھر ایک حصہ اس قبر پر گاڑ دیا اور دوسرا اس ( دوسری قبر ) پر ، پھر آپ نے فرمایا : ’’امید ہے جب تک یہ دو ٹہنیاں سوکھیں گی نہیں ، ان کا عذاب ہلکا رہے گا ۔ ‘ ‘
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) passed by two graves and said, "Both of them (persons in the grave) are being tortured, and they are not being tortured for a major sin. This one used not to save himself from being soiled with his urine, and the other used to go about with calumnies (among the people to rouse hostilities, e.g., one goes to a person and tells him that so-and-so says about him such-and-such evil things). The Prophet (ﷺ) then asked for a green leaf of a date-palm tree, split it into two pieces and planted one on each grave and said, "It is hoped that their punishment may be abated till those two pieces of the leaf get dried." (See Hadith No 215, Vol)
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے مجاہد سے سنا، وہ طاؤس سے بیان کرتے تھے اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ ان دونوں مردوں کو عذاب ہو رہا ہے اور یہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہیں ہیں بلکہ یہ ( ایک قبر کا مردہ ) اپنے پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا ( یا پیشاب کرتے وقت پردہ نہیں کرتا تھا ) اور یہ ( دوسری قبر والا مردہ ) چغل خور تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری شاخ منگائی اور اسے دو ٹکڑوں میں توڑ کر دونوں قبروں پر گاڑ دیا اس کے بعد فرمایا کہ جب تک یہ شاخیں سوکھ نہ جائیں اس وقت تک شاید ان دونوں کا عذاب ہلکا رہے۔
PickthallAnd when thou recitest the Qur'an we place between thee and those who believe not in the Hereafter a hidden barrier;
Yusuf AliWhen thou dost recite the Qur'an, We put, between thee and those who believe not in the Hereafter, a veil invisible:
The agreed readingAnd when you recite the Recitation, We place between you and those who do not believe in the Hereafter a veil that is hidden.
Urduاور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پوشیدہ پردہ حائل کر دیتے ہیں۔
Arabicوإذا قرأت أيها الرسول الكريم هذا القرآن العظيم جعلنا بينك وبين الذين لا يؤمنون بالآخرة حجابا مستورا ساترا خفيا يحجب عقولهم كلها عن فهمه تماما أبدا.
PickthallAnd We place upon their hearts veils lest they should understand it, and in their ears a deafness; and when thou makest mention of thy Lord alone in the Qur'an, they turn their backs in aversion.
Yusuf AliAnd We put coverings over their hearts (and minds) lest they should understand the Qur'an, and deafness into their ears: when thou dost commemorate thy Lord and Him alone in the Qur'an, they turn on their backs, fleeing (from the Truth).
The agreed readingAnd We put coverings over their hearts so they will not understand it, and a heaviness in their ears. And when you mention your Lord alone in the Recitation, they turn their backs and go off.
Urduاور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں تاکہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں، اور ان کے کانوں میں بوجھ رکھ دیا ہے۔ اور جب تم قرآن میں اپنے رب کا اکیلے ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں۔
Arabicوجعلنا على قلوبهم أكنة كثيرة كي لا يفقهوه، وفي آذانهم وقرا وصمما ثقيلا، وإذا ذكرت ربك في القرآن وحده لا شريك له ولوا على أدبارهم نفورا هاربين.
PickthallWe are Best Aware of what they wish to hear when they give ear to thee and when they take secret counsel, when the evil-doers say: Ye follow but a man bewitched.
Yusuf AliWe know best why it is they listen, when they listen to thee; and when they meet in private conference, behold, the wicked say, "Ye follow none other than a man bewitched!"
The agreed readingWe know best what they listen for when they listen to you, and when they talk in private, when the wrongdoers say: you are only following a man under a spell.
Urduہم خوب جانتے ہیں کہ وہ کس ارادے سے سنتے ہیں جب تمہاری بات سنتے ہیں، اور جب وہ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں، جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم تو بس ایک جادو زدہ آدمی کی پیروی کر رہے ہو۔
Arabicنحن أعلم منكم جميعا بما يستمعون به إذ يستمعون إليك، وإذ هم نجوى يتناجون سرا فيما بينهم، إذ يقول الظالمون: إن تتبعون إلا رجلا مسحورا مجنونا.
PickthallSee what similitudes they coin for thee, and thus are all astray, and cannot find a road!
Yusuf AliSee what similes they strike for thee: but they have gone astray, and never can they find a way.
The agreed readingSee what likenesses they strike for you — so they have gone astray and cannot find a way. The commentaries note that the charges they brought contradicted each other, which is what the wandering describes.
Urduذرا دیکھو کہ وہ تمہارے بارے میں کیسی کیسی مثالیں گھڑتے ہیں، سو وہ بھٹک گئے ہیں اور کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ مفسرین بتاتے ہیں کہ وہ جو الزامات لگاتے تھے وہ خود ایک دوسرے سے متصادم تھے، اور یہی بھٹکنا اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔
Arabicانظر كيف ضربوا لك الأمثال المتناقضة، فضلوا عن الحق فلا يستطيعون سبيلا إليه. وقد نبه المفسرون إلى أن التهم التي رموك بها كانت متناقضة فيما بينها، وهذا هو عين الضلال الموصوف هنا.
Yahya related to me from Malik from Abu Ubayd, the mawla of Sulayman ibn Abd alMalik, from Ubada ibn Nusayy from Qays ibn al Harith that Abu Abdullah as-Sunabihi said, "I arrived in Madina in the khalifate of Abu Bakr as-Siddiq, and I prayed maghrib behind him. He recited the umm al Qur'an and two suras from the shorter ones of the mufassal in the first two rakas. Then he stood up in the third and I drew so near to him that my clothes were almost touching his clothes. I heard him reciting the umm al-Qur'an and this ayat, 'Our Lord, do not make our hearts go astray after You have guided us, and give us mercy from Your presence. Surely You are the Giver. ' " (Sura 3 ayat)
ابو عبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ میں آیا مدینہ میں جب ابوبکر خلیفہ تھے تو پڑھی میں نے پیچھے ان کے مغرب کی نماز تو پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک سورت مفصل کو چھوٹی سورتوں میں سے پڑھی پھر جب تیسری رکعت کے واسطے کھڑے ہوئے تو میں نزدیک ہو گیا ان کے یہاں تک کہ میرے کپڑے قریب تھے کہ چھو جائیں ان کے کپڑوں سے تو سنا میں نے پڑی انہوں نے سورت فاتحہ اور اس آیت کو ربنا (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ) 3۔ ال عمران : 8)۔
The agreed readingSay: be stones, or iron — the commentaries read the answer as conceding the hardest material they could name and then showing it changes nothing, since the difficulty they are raising was never about the material.
Urduکہہ دیجیے: تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ مفسرین اس جواب کو یوں سمجھتے ہیں کہ سب سے سخت مادے کو مان کر بھی یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا، کیونکہ جو اشکال یہ اٹھا رہے تھے اس کا تعلق کبھی مادے سے تھا ہی نہیں۔
Arabicقل: كونوا حجارة أو حديدا في الشدة والقوة. وقد قرأ المفسرون هذا الجواب تسليما بأقسى مادة يذكرونها ثم إثباتا أن ذلك لا يغير شيئا، لأن الإشكال الذي أثاروه لم يكن يوما عن المادة نفسها.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Abu Ubayd, the mawla of Sulayman ibn Abd alMalik, from Ubada ibn Nusayy from Qays ibn al Harith that Abu Abdullah as-Sunabihi said, "I arrived in Madina in the khalifate of Abu Bakr as-Siddiq, and I prayed maghrib behind him. He recited the umm al Qur'an and two suras from the shorter ones of the mufassal in the first two rakas. Then he stood up in the third and I drew so near to him that my clothes were almost touching his clothes. I heard him reciting the umm al-Qur'an and this ayat, 'Our Lord, do not make our hearts go astray after You have guided us, and give us mercy from Your presence. Surely You are the Giver. ' " (Sura 3 ayat)
ابو عبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ میں آیا مدینہ میں جب ابوبکر خلیفہ تھے تو پڑھی میں نے پیچھے ان کے مغرب کی نماز تو پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک سورت مفصل کو چھوٹی سورتوں میں سے پڑھی پھر جب تیسری رکعت کے واسطے کھڑے ہوئے تو میں نزدیک ہو گیا ان کے یہاں تک کہ میرے کپڑے قریب تھے کہ چھو جائیں ان کے کپڑوں سے تو سنا میں نے پڑی انہوں نے سورت فاتحہ اور اس آیت کو ربنا (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ) 3۔ ال عمران : 8)۔
PickthallOr some created thing that is yet greater in your thoughts! Then they will say: Who shall bring us back (to life). Say: He Who created you at the first. Then will they shake their heads at thee, and say: When will it be? Say: It will perhaps be soon;
Yusuf Ali"Or created matter which, in your minds, is hardest (to be raised up),- (Yet shall ye be raised up)!" then will they say: "Who will cause us to return?" Say: "He who created you first!" Then will they wag their heads towards thee, and say, "When will that be?" Say, "May be it will be quite soon!
The agreed readingor some created thing greater still in your minds. Then they will say: who will bring us back? Say: the One who brought you into being the first time. Then they will shake their heads at you and say: when is it? Say: it may well be near.
Urduیا کوئی ایسی مخلوق بن جاؤ جو تمہارے خیال میں اس سے بھی بڑھ کر ہو۔ پھر وہ کہیں گے: ہمیں کون واپس لوٹائے گا؟ کہہ دیجیے: وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ پھر وہ تمہارے سامنے اپنے سر ہلائیں گے اور کہیں گے: یہ کب ہوگا؟ کہہ دیجیے: امید ہے کہ یہ قریب ہی ہو۔
Arabicأو خلقا مما يكبر في صدوركم عن الحجارة والحديد. فسيقولون: من يعيدنا إلى الحياة؟ قل: الذي فطركم أول مرة من العدم. فسينغضون إليك رؤوسهم استهزاء ويقولون: متى هو؟ قل: عسى أن يكون قريبا منكم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Abu Ubayd, the mawla of Sulayman ibn Abd alMalik, from Ubada ibn Nusayy from Qays ibn al Harith that Abu Abdullah as-Sunabihi said, "I arrived in Madina in the khalifate of Abu Bakr as-Siddiq, and I prayed maghrib behind him. He recited the umm al Qur'an and two suras from the shorter ones of the mufassal in the first two rakas. Then he stood up in the third and I drew so near to him that my clothes were almost touching his clothes. I heard him reciting the umm al-Qur'an and this ayat, 'Our Lord, do not make our hearts go astray after You have guided us, and give us mercy from Your presence. Surely You are the Giver. ' " (Sura 3 ayat)
ابو عبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ میں آیا مدینہ میں جب ابوبکر خلیفہ تھے تو پڑھی میں نے پیچھے ان کے مغرب کی نماز تو پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک سورت مفصل کو چھوٹی سورتوں میں سے پڑھی پھر جب تیسری رکعت کے واسطے کھڑے ہوئے تو میں نزدیک ہو گیا ان کے یہاں تک کہ میرے کپڑے قریب تھے کہ چھو جائیں ان کے کپڑوں سے تو سنا میں نے پڑی انہوں نے سورت فاتحہ اور اس آیت کو ربنا (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ) 3۔ ال عمران : 8)۔
PickthallA day when He will call you and ye will answer with His praise, and ye will think that ye have tarried but a little while.
Yusuf Ali"It will be on a Day when He will call you, and ye will answer (His call) with (words of) His praise, and ye will think that ye tarried but a little while!"
The agreed readingOn a Day when He will call you and you will answer with His praise, and you will think you had stayed only a little while.
Urduجس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کے ساتھ اس کی پکار کا جواب دو گے، اور تمہیں یہی گمان ہوگا کہ تم دنیا میں بہت ہی تھوڑی دیر ٹھہرے تھے۔
Arabicيوم يدعوكم ربكم من قبوركم فتستجيبون له بحمده منقادين خاضعين، وتظنون من شدة هول ذلك اليوم أن لبثتم في الدنيا إلا قليلا جدا من الزمن الفاني.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Abu Ubayd, the mawla of Sulayman ibn Abd alMalik, from Ubada ibn Nusayy from Qays ibn al Harith that Abu Abdullah as-Sunabihi said, "I arrived in Madina in the khalifate of Abu Bakr as-Siddiq, and I prayed maghrib behind him. He recited the umm al Qur'an and two suras from the shorter ones of the mufassal in the first two rakas. Then he stood up in the third and I drew so near to him that my clothes were almost touching his clothes. I heard him reciting the umm al-Qur'an and this ayat, 'Our Lord, do not make our hearts go astray after You have guided us, and give us mercy from Your presence. Surely You are the Giver. ' " (Sura 3 ayat)
ابو عبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ میں آیا مدینہ میں جب ابوبکر خلیفہ تھے تو پڑھی میں نے پیچھے ان کے مغرب کی نماز تو پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک سورت مفصل کو چھوٹی سورتوں میں سے پڑھی پھر جب تیسری رکعت کے واسطے کھڑے ہوئے تو میں نزدیک ہو گیا ان کے یہاں تک کہ میرے کپڑے قریب تھے کہ چھو جائیں ان کے کپڑوں سے تو سنا میں نے پڑی انہوں نے سورت فاتحہ اور اس آیت کو ربنا (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ) 3۔ ال عمران : 8)۔
PickthallTell My bondmen to speak that which is kindlier. Lo! the devil soweth discord among them. Lo! the devil is for man an open foe.
Yusuf AliSay to My servants that they should (only) say those things that are best: for Satan doth sow dissensions among them: For Satan is to man an avowed enemy.
The agreed readingAnd tell My servants to say what is best. Satan stirs up trouble between them — Satan was ever an open enemy to man. The commentaries read the instruction as given about speech to those who oppose them, and the reason as given immediately after it.
Urduاور میرے بندوں سے کہو کہ وہ بہترین بات کہا کریں۔ شیطان ان کے درمیان فساد ڈالتا رہتا ہے — شیطان انسان کا کھلا دشمن رہا ہے۔ مفسرین اس ہدایت کو ان مخالفین سے بات چیت کے بارے میں سمجھتے ہیں، اور اس کی وجہ فوراً اسی کے بعد بیان کر دی گئی ہے۔
Arabicوقل لعبادي المؤمنين يقولوا التي هي أحسن مع من يخالفهم، إن الشيطان ينزغ بينهم بالكلام السيئ، إن الشيطان كان للإنسان عدوا مبينا ظاهر العداوة. وقد فهم المفسرون هذا التوجيه في الكلام مع المخالفين، وذكر السبب عقبه مباشرة.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ، يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ فَيَطْلُبُهُ وَيَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ. قَالَ وَاللَّهِ لَنْ يَزَالَ يَطْلُبُهُ حَتَّى يَبْسُطَ يَدَهُ فَيُلْقِمَهَا فَاهُ ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَا رَبُّ النَّعَمِ لَمْ يُعْطِ حَقَّهَا، تُسَلَّطُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَخْبِطُ وَجْهَهُ بِأَخْفَافِهَا ". وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ فِي رَجُلٍ لَهُ إِبِلٌ، فَخَافَ أَنْ تَجِبَ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ، فَبَاعَهَا بِإِبِلٍ مِثْلِهَا، …
Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection the Kanz (Treasure or wealth of which, Zakat has not been paid) of anyone of you will appear in the shape of a huge bald headed poisonous male snake and its owner will run away from it, but it will follow him and say, 'I am your Kanz.'" The Prophet (ﷺ) added, "By Allah, that snake will keep on following him until he stretches out his hand and let the snake swallow it." Allah's Messenger (ﷺ) added, "If the owner of camels does not pay their Zakat, then, on the Day of Resurrection those camels will come to him and will strike his face with their hooves." Some people said: Concerning a man who has camels, and is …
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن تم میں سے کسی کا خزانہ (وہ دولت جس کی زکاۃ ادا نہ کی گئی ہو) ایک گنجا سانپ بن کر ظاہر ہوگا اور اس کا صاحب اس سے بھاگے گا تو وہ اس کے پیچھے دوڑے گا اور کہے گا کہ میں تمہارا خزانہ ہوں۔ فرمایا: اللہ کی قسم، وہ سانپ اسے ہمیشہ تلاش کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور وہ سانپ اس کے منہ میں چلا جائے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چوپائے کا مالک ہو اور اس کی زکاۃ نہ دے تو قیامت کے دن وہ چوپائے اس کے خلاف (ہلاک ہونے کے لیے) بھیجے جائیں گے اور وہ اپنے کھروں سے اس کے چہرے کو مارتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں نے اس بارے میں کہا ایک شخص کے لیے جس کے پاس اونٹ ہوں، تو …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallYour Lord is Best Aware of you. If He will, He will have mercy on you, or if He will, He will punish you. We have not sent thee (O Muhammad) as a warden over them.
Yusuf AliIt is your Lord that knoweth you best: If He please, He granteth you mercy, or if He please, punishment: We have not sent thee to be a disposer of their affairs for them.
The agreed readingYour Lord knows you best. If He wills He will have mercy on you, and if He wills He will punish you. And We have not sent you to be a keeper over them.
Urduتمہارا رب تمہیں سب سے بہتر جانتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے، اور اگر وہ چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔
Arabicربكم أعلم بكم منكم أنفسكم جميعا، إن يشأ يرحمكم فيوفقكم للإيمان الصادق الكامل، وإن يشأ يعذبكم بذنوبكم التي اقترفتموها، وما أرسلناك عليهم وكيلا تتولى أمرهم كله.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdullah:Regarding the explanation of the Verse: 'Those whom they call upon (worship) (like Jesus the Son of Mary, angels etc.) desire (for themselves) means of access to their Lord (Allah) as to which of them should be the nearer and they hope for His Mercy and fear His torment.' (17.57) They themselves (e.g. Angels, saints, Apostles, Jesus, etc.,) worshipped Allah, Those Jinns who were worshipped by some Arabs became Muslims (embraced Islam), but those human beings stuck to their (old) religion. Al- A`mash said extra: 'Say, (O Muhammad): Call unto those besides Him whom you assume (to be gods)
مجھ سے عمرو بن علی بن فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے کہا ہم سے سفیان نے، کہا مجھ سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبداللہ بن معمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ( آیت ) «إلى ربهم الوسيلة» کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، لیکن وہ جِن بعد میں مسلمان ہو گئے اور یہ مشرک ( کم بخت ) ان ہی کی پرستش کرتے جاہلی شریعت پر قائم رہے۔ عبیداللہ اشجعی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا اور ان سے اعمش نے بیان کیا، اس میں یوں ہے کہ اس آیت «قل ادعوا الذين زعمتم» کا شان نزول یہ ہے آخر تک۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَى رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لاَ غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "While Job was naked, taking a bath, a swarm of gold locusts fell on him and he started collecting them in his garment. His Lord called him, 'O Job! Have I not made you rich enough to need what you see? He said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with your Blessing
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں۔ وہ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ اے ایوب! جو کچھ تم دیکھ رہے ہو ( سونے کی ٹڈیاں ) کیا میں نے تمہیں اس سے بےپروا نہیں کر دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ صحیح ہے ‘ اے رب العزت! لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
PickthallAnd thy Lord is Best Aware of all who are in the heavens and the earth. And we preferred some of the prophets above others, and unto David We gave the Psalms.
Yusuf AliAnd it is your Lord that knoweth best all beings that are in the heavens and on earth: We did bestow on some prophets more (and other) gifts than on others: and We gave to David (the gift of) the Psalms.
The agreed readingAnd your Lord knows best whoever is in the heavens and the earth. And We favoured some of the prophets over others, and We gave David the Psalms.
Urduاور تمہارا رب آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے اسے خوب جانتا ہے۔ اور ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی، اور ہم نے داؤد علیہ السلام کو زبور عطا کی۔
Arabicوربك أعلم بمن في السماوات والأرض من جميع خلقه أجمعين، ولقد فضلنا بعض النبيين على بعضهم الآخر بالفضائل والدرجات، وآتينا داود النبي الكريم عليه السلام زبورا عظيما.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdullah:Regarding the explanation of the Verse: 'Those whom they call upon (worship) (like Jesus the Son of Mary, angels etc.) desire (for themselves) means of access to their Lord (Allah) as to which of them should be the nearer and they hope for His Mercy and fear His torment.' (17.57) They themselves (e.g. Angels, saints, Apostles, Jesus, etc.,) worshipped Allah, Those Jinns who were worshipped by some Arabs became Muslims (embraced Islam), but those human beings stuck to their (old) religion. Al- A`mash said extra: 'Say, (O Muhammad): Call unto those besides Him whom you assume (to be gods)
مجھ سے عمرو بن علی بن فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے کہا ہم سے سفیان نے، کہا مجھ سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبداللہ بن معمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ( آیت ) «إلى ربهم الوسيلة» کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، لیکن وہ جِن بعد میں مسلمان ہو گئے اور یہ مشرک ( کم بخت ) ان ہی کی پرستش کرتے جاہلی شریعت پر قائم رہے۔ عبیداللہ اشجعی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا اور ان سے اعمش نے بیان کیا، اس میں یوں ہے کہ اس آیت «قل ادعوا الذين زعمتم» کا شان نزول یہ ہے آخر تک۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَى رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لاَ غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "While Job was naked, taking a bath, a swarm of gold locusts fell on him and he started collecting them in his garment. His Lord called him, 'O Job! Have I not made you rich enough to need what you see? He said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with your Blessing
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں۔ وہ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ اے ایوب! جو کچھ تم دیکھ رہے ہو ( سونے کی ٹڈیاں ) کیا میں نے تمہیں اس سے بےپروا نہیں کر دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ صحیح ہے ‘ اے رب العزت! لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ہو سکتا ہوں۔“
PickthallSay: Cry unto those (saints and angels) whom ye assume (to be gods) beside Him, yet they have no power to rid you of misfortune nor to change.
Yusuf AliSay: "Call on those - besides Him - whom ye fancy: they have neither the power to remove your troubles from you nor to change them."
The agreed readingSay: call on those you claim beside Him — they have no power to lift harm from you, or to shift it.
Urduکہہ دیجیے: انہیں پکارو جنہیں تم اللہ کے سوا معبود سمجھتے ہو، وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ اسے ٹالنے کا۔
Arabicقل لهم أيها الرسول الكريم: ادعوا الذين زعمتم آلهة من دونه إن كنتم صادقين، فلا يملكون كشف الضر عنكم ولا تحويلا له إلى غيركم أبدا قط.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdullah:Regarding the explanation of the Verse: 'Those whom they call upon (worship) (like Jesus the Son of Mary, angels etc.) desire (for themselves) means of access to their Lord (Allah) as to which of them should be the nearer and they hope for His Mercy and fear His torment.' (17.57) They themselves (e.g. Angels, saints, Apostles, Jesus, etc.,) worshipped Allah, Those Jinns who were worshipped by some Arabs became Muslims (embraced Islam), but those human beings stuck to their (old) religion. Al- A`mash said extra: 'Say, (O Muhammad): Call unto those besides Him whom you assume (to be gods)
مجھ سے عمرو بن علی بن فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے کہا ہم سے سفیان نے، کہا مجھ سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبداللہ بن معمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ( آیت ) «إلى ربهم الوسيلة» کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، لیکن وہ جِن بعد میں مسلمان ہو گئے اور یہ مشرک ( کم بخت ) ان ہی کی پرستش کرتے جاہلی شریعت پر قائم رہے۔ عبیداللہ اشجعی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا اور ان سے اعمش نے بیان کیا، اس میں یوں ہے کہ اس آیت «قل ادعوا الذين زعمتم» کا شان نزول یہ ہے آخر تک۔
Narrated `Abdullah:Regarding the Verse: 'Those whom they call upon (worship) (like Jesus the Son of Mary or angels etc.) desire (for themselves) means of access, to their Lord....' (17.57) (It was revealed regarding) some Jinns who used to be worshipped (by human beings). They later embraced Islam (while those people kept on worshipping them)
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان اعمش نے، انہیں ابراہیم نخعی نے، انہیں ابومعمر نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت «الذين يدعون يبتغون إلى ربهم الوسيلة» کی تفسیر میں کہا کہ کچھ جِن ایسے تھے جن کی آدمی پرستش کیا کرتے تھے پھر وہ جِن مسلمان ہو گئے۔
Abdullah b. Mas'ud said in connection with the verse:" Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord," that that verse was revealed in connection with a party of Arabs who used to worship a group amnogst the jinn; the jinn embraced Islam but the people kept worshipping them without being conscious of it. Then this verse was revealed:" Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord
شعبہ نے سلیمان ( اعمش ) سے اسی سندکے ساتھ یہی روایت کی ۔
Abdullah b. Mas'ud reported in connection with the verse:" Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord," that it related to a group of people who worshipped a party amongst the Jinn. The group from amongst the Jinn embraced Islam, but the people kept worshipping them as they did before, and it was (on this occasion) that the verse was revealed:" Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord." This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman with the same chain of transmitters
سفیان نے اعمش سے انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( اس آیت کے متعلق ) روایت کی : " وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں ، وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : انسانوں کی ایک جماعت جنوں کی ایک جماعت کی پرستش کرتی تھی ، تو جنوں کی جماعت نے اسلام قبول کرلیا اور انسان بدستور ان کی عبادت سے لگے رہے ۔ اس پر ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " وہ لوگ جنھیں یہ پکارتے ہیں ، وہ خود اپنے رب کی طرف ( کسی نیک عمل کا ) وسیلہ تلاش کرتے ہیں ۔
PickthallThose unto whom they cry seek the way of approach to their Lord, which of them shall be the nearest; they hope for His mercy and they fear His doom. Lo! the doom of thy Lord is to be shunned.
Yusuf AliThose whom they call upon do desire (for themselves) means of access to their Lord, - even those who are nearest: they hope for His Mercy and fear His Wrath: for the Wrath of thy Lord is something to take heed of.
The agreed readingThose they call on are themselves seeking the way to their Lord, which of them is nearest; they hope for His mercy and fear His punishment. Your Lord's punishment is a thing to be wary of. The commentaries note the case being made: what is being prayed to is itself praying.
Urduجنہیں یہ پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف قربت کا راستہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ قریب ہے، وہ اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ تمہارے رب کا عذاب واقعی ڈرنے کی چیز ہے۔ مفسرین اس دلیل کو یوں بیان کرتے ہیں: جسے پکارا جا رہا ہے وہ خود بھی پکارنے والا ہے۔
Arabicأولئك الذين يدعونهم يبتغون إلى ربهم الوسيلة أيهم أقرب، ويرجون رحمته ويخافون عذابه، إن عذاب ربك كان محذورا حقا. وقد نبه المفسرون إلى الحجة القائمة هنا: المدعو نفسه داع لربه.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Abdullah b. Mas'ud said in connection with the verse:" Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord," that that verse was revealed in connection with a party of Arabs who used to worship a group amnogst the jinn; the jinn embraced Islam but the people kept worshipping them without being conscious of it. Then this verse was revealed:" Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord
شعبہ نے سلیمان ( اعمش ) سے اسی سندکے ساتھ یہی روایت کی ۔
Abdullah b. Mas'ud reported in connection with the verse:" Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord," that it related to a group of people who worshipped a party amongst the Jinn. The group from amongst the Jinn embraced Islam, but the people kept worshipping them as they did before, and it was (on this occasion) that the verse was revealed:" Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord." This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman with the same chain of transmitters
سفیان نے اعمش سے انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( اس آیت کے متعلق ) روایت کی : " وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں ، وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : انسانوں کی ایک جماعت جنوں کی ایک جماعت کی پرستش کرتی تھی ، تو جنوں کی جماعت نے اسلام قبول کرلیا اور انسان بدستور ان کی عبادت سے لگے رہے ۔ اس پر ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " وہ لوگ جنھیں یہ پکارتے ہیں ، وہ خود اپنے رب کی طرف ( کسی نیک عمل کا ) وسیلہ تلاش کرتے ہیں ۔
Narrated `Abdullah:Regarding the explanation of the Verse: 'Those whom they call upon (worship) (like Jesus the Son of Mary, angels etc.) desire (for themselves) means of access to their Lord (Allah) as to which of them should be the nearer and they hope for His Mercy and fear His torment.' (17.57) They themselves (e.g. Angels, saints, Apostles, Jesus, etc.,) worshipped Allah, Those Jinns who were worshipped by some Arabs became Muslims (embraced Islam), but those human beings stuck to their (old) religion. Al- A`mash said extra: 'Say, (O Muhammad): Call unto those besides Him whom you assume (to be gods)
مجھ سے عمرو بن علی بن فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے کہا ہم سے سفیان نے، کہا مجھ سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبداللہ بن معمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ( آیت ) «إلى ربهم الوسيلة» کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، لیکن وہ جِن بعد میں مسلمان ہو گئے اور یہ مشرک ( کم بخت ) ان ہی کی پرستش کرتے جاہلی شریعت پر قائم رہے۔ عبیداللہ اشجعی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا اور ان سے اعمش نے بیان کیا، اس میں یوں ہے کہ اس آیت «قل ادعوا الذين زعمتم» کا شان نزول یہ ہے آخر تک۔
Narrated `Abdullah:Regarding the Verse: 'Those whom they call upon (worship) (like Jesus the Son of Mary or angels etc.) desire (for themselves) means of access, to their Lord....' (17.57) (It was revealed regarding) some Jinns who used to be worshipped (by human beings). They later embraced Islam (while those people kept on worshipping them)
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان اعمش نے، انہیں ابراہیم نخعی نے، انہیں ابومعمر نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت «الذين يدعون يبتغون إلى ربهم الوسيلة» کی تفسیر میں کہا کہ کچھ جِن ایسے تھے جن کی آدمی پرستش کیا کرتے تھے پھر وہ جِن مسلمان ہو گئے۔
Abdullah b. Mas'ud reported in connection with the words of Allah, the Exalted and Glorious:" Those to whom they call upon, themselves seek the means or access to their Lord as to whoever of them becomes nearest" (xvii. 57) that it related to a party of Jinn who were being worshipped and they embraced Islam but those who worshipped them kept on worshipping them (though the Jinn whom the misguided people worshipped had become Muslims). It was then that this verse was revealed
عبداللہ بن ادریس نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق روایت کی : " وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کو ن زیادہ نزدیک ہوگا ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی تھی اور ( اس سے پہلے ) ان کی پوجاکی جاتی تھی ، تو جو ان کی عبادت کیاکرتے تھے ، ان کی عبادت پرقائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی ۔
PickthallThere is not a township but We shall destroy it ere the Day of Resurrection, or punish it with dire punishment. That is set forth in the Book (of Our decrees).
Yusuf AliThere is not a population but We shall destroy it before the Day of Judgment or punish it with a dreadful Penalty: that is written in the (eternal) Record.
The agreed readingAnd there is no town but We will destroy it before the Day of Resurrection, or punish it with a severe punishment. That is written in the Book.
Urduاور کوئی بھی بستی ایسی نہیں ہے مگر ہم اسے قیامت سے پہلے ہی ہلاک کر دیں گے یا اسے سخت عذاب میں مبتلا کریں گے، یہ بات کتاب میں پہلے سے لکھی جا چکی ہے۔
Arabicوإن من قرية ظالمة كافرة إلا نحن مهلكوها جميعا لا محالة قبل يوم القيامة، أو معذبوها عذابا شديدا أليما، كان ذلك مسطورا مكتوبا في الكتاب المحفوظ.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abdul-Wahid bin Sulaim narrated:"I arrived in Makkah and met 'Ata bin Abi Rabah. I said to him: 'O Abu Muhammad! The people of Al-Basrah speak about Al-Qadar.' He said: 'O my son! Do you recite the Quran?' I said: 'Yes.' He said: 'Then recite Az-Zukhruf to me.'" He said: 'So I recited: Ha Mim. By the manifest Book. Verily, We have made it a Qur'an in Arabic that you may be able to understand. And verily, it is in the Mother of Book with Us, indeed exalted, full of wisdom. Then he said: 'Do you know what Mother of Books is?' I said: 'Allah and His Messenger know better.' He said:'It is a book that Allah wrote before He created the Heavens, and before He created the earth. In it, it is …
عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں کہ میں مکہ گیا تو عطاء بن ابی رباح سے ملاقات کی اور ان سے کہا: ابو محمد! بصرہ والے تقدیر کے سلسلے میں ( برسبیل انکار ) کچھ گفتگو کرتے ہیں، انہوں نے کہا: بیٹے! کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: سورۃ الزخرف پڑھو، میں نے پڑھا: «حم والكتاب المبين إنا جعلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون وإنه في أم الكتاب لدينا لعلي حكيم» ”حم، قسم ہے اس واضح کتاب کی، ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو، یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے، اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے“ ( الزخرف: ۱-۴ ) پڑھی، انہوں نے کہا: جانتے ہو ام الکتاب کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ ایک کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کے پیدا …
PickthallNaught hindereth Us from sending portents save that the folk of old denied them. And We gave Thamud the she-camel - a clear portent save to warn.
Yusuf AliAnd We refrain from sending the signs, only because the men of former generations treated them as false: We sent the she-camel to the Thamud to open their eyes, but they treated her wrongfully: We only send the Signs by way of terror (and warning from evil).
The agreed readingAnd nothing stopped Us from sending the signs except that the earlier peoples denied them. And We gave Thamud the she-camel, plain to see, and they wronged her. And We do not send the signs except to make people afraid.
Urduاور ہمیں نشانیاں بھیجنے سے کسی چیز نے نہیں روکا سوائے اس کے کہ پہلے لوگوں نے انہیں جھٹلایا تھا۔ اور ہم نے ثمود کو کھلی نظر آنے والی اونٹنی دی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ اور ہم نشانیاں صرف اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ لوگ ڈر جائیں۔
Arabicوما منعنا أن نرسل بالآيات إلا أن كذب بها الأولون قبلهم، وآتينا ثمود الناقة مبصرة واضحة فظلموا بها فعقروها، وما نرسل بالآيات إلا تخويفا للناس جميعا.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Abu Bakrah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The sun and moon are two signs of Allah (SWT), the Most High, and they do not become eclipsed for death or birth of anyone, rather Allah (SWT), the Mighty and Sublime, strikes fear into His slaves through them
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو کسی کے مرنے اور کسی کے پیدا ہونے سے گرہن نہیں لگتا، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said:"The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He stood and led the people in prayer. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he stood for a long time that was shorter than the first time, then he bowed for a long time that was shorter than the first time. Then he prostrated for a long time, then he sat up, then he prostrated for a long time that was shorter than the first time. Then he stood up and bowed twice again, doing the same again. Then he prostrated twice, doing the same again, until he had finished his prayer. Then he said: 'The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT), and they do not …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ کھڑے ہوئے، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر قیام کیا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا، پھر آپ ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوئے، تو آپ نے دو رکوع کیے، اور ان میں پہلے جیسا ہی کیا، پھر آپ نے دو سجدے کیے، ان دونوں میں اسی طرح کرتے رہے جیسے پہلے کیا تھا یہاں تک کہ اپنی نماز سے فارغ ہو گئے، پھر آپ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو …
It was narrated that Qabisah bin Mukhariq Al-Hilali said:"There was an eclipse of the sun and at the time we were with the Messenger of Allah (ﷺ) in Al-Madinah. He rushed out dragging his garment and prayed two rak'ahs, which he made lengthy. The end of his prayer coincided with the end of the eclipse. He praised and glorified Allah (SWT), then he said: 'The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT), and they do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see anything of that, then pray like the last obligatory prayer you did before that
قبیصہ بن مخارق الہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا، ہم لوگ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں تھے، آپ گھبرائے ہوئے اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اتنا لمبا کیا کہ آپ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج چھٹ چکا تھا، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے، تو جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو اس تازہ فرض نماز کی طرح نماز پڑھو جو تم نے ( گرہن لگنے پہلے ) پڑھی ہے ۔
Narrated `Aisha:In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the sun eclipsed, so he led the people in prayer, and stood up and performed a long Qiyam, then bowed for a long while. He stood up again and performed a long Qiyam but this time the period of standing was shorter than the first. He bowed again for a long time but shorter than the first one, then he prostrated and prolonged the prostration. He did the same in the second rak`a as he did in the first and then finished the prayer; by then the sun (eclipse) had cleared. He delivered the Khutba (sermon) and after praising and glorifying Allah he said, "The sun and the moon are two signs amongst the signs of Allah; they do not eclipse on …
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو بڑی دیر تک کھڑے رہے، قیام کے بعد رکوع کیا اور رکوع میں بہت دیر تک رہے۔ پھر رکوع سے اٹھنے کے بعد دیر تک دوبارہ کھڑے رہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے قیام سے کچھ کم، پھر رکوع کیا تو بڑی دیر تک رکوع میں رہے لیکن پہلے سے مختصر، پھر سجدہ میں گئے اور دیر تک سجدہ کی حالت میں رہے۔ دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم …
A'isha reported that there was a solar eclipse in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He stood up to pray and prolonged his stand very much. He then bowed and prolonged very much his bowing. He then raised his head and prolonged his stand much, but it was less than the (duration) of the first stand. He then bowed and prolonged bowing much, but it was less than the duration of his first bowing. He then prostrated and then stood up and prolonged the stand, but it was less than the first stand. He then bowed and prolonged his bowing, but it was less than the first bowing. He then lifted his head and then stood up and prolonged his stand, but it was less than the first stand. He then bowed …
امام مالک بن انس اور عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد عروہ سے حدیث سنا ئی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زما نے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے قیام فر ما یا اور بہت ہی لمبا قیام کیا ، پھر آپ نے رکو ع کیا تو انتہا ئی طویل رکوع کیا پھر آپ نے سر اٹھا یا تو انتہائی طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے ( کچھ ) کم تھا پھر آپ نے ( دوبارہ ) رکو ع کیا تو بہت لمبا رکو ع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے سجدے کیے پھر آپ کھڑے ہو گئے اور قیام کو لمبا کیا وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے اپنا سر اٹھا یا …
Ibn 'Abbas commented on Allah, the Most High, saying:And We made not the vision which We showed but a trial for mankind (17:60). He said: "It is the vision he saw with his eyes, on the night the Prophet (ﷺ) was taken on the journey to Bait Al-Maqdis. And the accursed tree in the Qur'an (17:60). He said: "It is the Zaqqum tree
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» ”اور نہیں کیا ہم نے وہ مشاہدہ کہ جسے ہم نے تمہیں کروایا ہے ( یعنی إسراء و معراج کے موقع پر جو کچھ دکھلایا ہے ) مگر لوگوں کی آزمائش کے لیے“ ( بنی اسرائیل: ۶۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد ( کھلی ) آنکھوں سے دیکھنا تھا، جس دن آپ کو بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تھی ۱؎ انہوں نے یہ بھی کہا «والشجرة الملعونة في القرآن» میں شجرہ «ملعونہ» سے مراد تھوہڑ کا درخت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ} قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ، أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ. قَالَ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ قَالَ هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ.
Narrated Ibn `Abbas:Regarding the Statement of Allah" "And We granted the vision (Ascension to the heavens) which We made you see (as an actual eye witness) was only made as a trial for the people." (17.60) Ibn `Abbas added: The sights which Allah's Messenger (ﷺ) was shown on the Night Journey when he was taken to Bait-ulMaqdis (i.e. Jerusalem) were actual sights, (not dreams). And the Cursed Tree (mentioned) in the Qur'an is the tree of Zaqqum (itself)
(ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ کے ارشاد «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھایا اس سے مقصد صرف لوگوں کا امتحان تھا ) فرمایا کہ اس میں رؤیا سے آنکھ سے دیکھنا ہی مراد ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معراج کی رات میں دکھایا گیا تھا جس میں آپ کو بیت المقدس تک لے جایا گیا تھا اور قرآن مجید میں «الشجرة الملعونة» کا ذکر آیا ہے وہ تھوہڑ کا درخت ہے۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا صَوْتَهُ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْفِضُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ مَا كَانَ يَسْمَعُهُ أَصْحَابُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً } " .
It was narrated that Ibn Abbas said:"The Prophet (ﷺ) used to raise his voice when reciting Quran, and when the idolaters heard his voice they would insult the Quran and the one who had brought it. So the Prophet (ﷺ) began to lower his voice such that his companions would not hear him. Then Allah (SWT), the Mighty and Sublime, revealed: 'And offer your salah (prayer) neither aloud nor in a low voice, but follow a way between
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، تو جب مشرک آپ کی آواز سنتے تو وہ قرآن کو اور اسے لے کر آنے والے کو برا بھلا کہتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو اتنی پست آواز سے پڑھنے لگے کہ آپ کے ساتھی بھی نہیں سن پاتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» یعنی اے محمد! نہ اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھیں، اور نہ بہت پست آواز سے بلکہ ان کے بیچ کا راستہ اختیار کریں ( بنی اسرائیل: ۱۱۰ ) ۔
PickthallAnd (it was a warning) when we told thee: Lo! thy Lord encompasseth mankind, and We appointed the sight which We showed thee as an ordeal for mankind, and (likewise) the Accursed Tree in the Qur'an. We warn them, but it increaseth them in naught save gross impiety.
Yusuf AliBehold! We told thee that thy Lord doth encompass mankind round about: We granted the vision which We showed thee, but as a trial for men,- as also the Cursed Tree (mentioned) in the Qur'an: We put terror (and warning) into them, but it only increases their inordinate transgression!
The agreed readingAnd when We said to you: your Lord encompasses people. And We made the sight We showed you only a trial for people, and the accursed tree in the Recitation. And We frighten them, and it only increases them in great rebellion.
Urduاور جب ہم نے تم سے کہا: تمہارا رب لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اور ہم نے وہ نظارہ جو ہم نے تمہیں دکھایا صرف لوگوں کے لیے ایک آزمائش بنایا، اور قرآن میں مذکور ملعون درخت کو بھی۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں، مگر یہ انہیں اور بھی بڑی سرکشی میں بڑھا دیتا ہے۔
Arabicوإذ قلنا لك إن ربك أحاط بالناس علما وقدرة، وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس، والشجرة الملعونة في القرآن، ونخوفهم فما يزيدهم ذلك إلا طغيانا كبيرا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ} قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ. قَالَ {وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ} قَالَ هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ.
Narrated Ibn `Abbas:(regarding the Verse) "And We granted the vision (Ascension to the heavens "Miraj") which We showed you (O Muhammad as an actual eye witness) but as a trial for mankind.' (17.60): Allah's Apostle actually saw with his own eyes the vision (all the things which were shown to him) on the night of his Night Journey to Jerusalem (and then to the heavens). The cursed tree which is mentioned in the Qur'an is the tree of Az-Zaqqum
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» ”اور وہ رؤیا جو ہم نے تمہیں دکھایا ہے اسے ہم نے صرف لوگوں کے لیے آزمائش بنایا ہے۔“ کے متعلق کہا کہ اس سے مراد آنکھ کا دیکھنا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معراج کی رات دکھایا گیا تھا۔ جب آپ کو بیت المقدس تک رات کو لے جایا گیا تھا، کہا کہ قرآن مجید میں «الشجرة الملعونة» سے مراد «زقوم.» کا درخت ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنه ـ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ} قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ {وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ} شَجَرَةُ الزَّقُّومِ.
Narrated Ibn `Abbas:Regarding: 'And We granted the vision (Ascension to the Heaven "Miraj") which We showed you (O Muhammad as an actual eye witness) but as a trial for mankind.' (17.60) It was an actual eyewitness which was shown to Allah's Messenger (ﷺ) during the night he was taken on a journey (through the heavens). And the cursed tree is the tree of Az-Zaqqum (a bitter pungent tree which grows at the bottom of Hell)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آیت «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» میں «رؤيا» سے آنکھ کا دیکھنا مراد ہے ( بیداری میں نہ کہ خواب میں ) یعنی وہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج میں دکھایا گیا اور «شجرة الملعونة» سے تھوہڑ کا درخت مراد ہے۔
Ibn 'Abbas commented on Allah, the Most High, saying:And We made not the vision which We showed but a trial for mankind (17:60). He said: "It is the vision he saw with his eyes, on the night the Prophet (ﷺ) was taken on the journey to Bait Al-Maqdis. And the accursed tree in the Qur'an (17:60). He said: "It is the Zaqqum tree
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» ”اور نہیں کیا ہم نے وہ مشاہدہ کہ جسے ہم نے تمہیں کروایا ہے ( یعنی إسراء و معراج کے موقع پر جو کچھ دکھلایا ہے ) مگر لوگوں کی آزمائش کے لیے“ ( بنی اسرائیل: ۶۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد ( کھلی ) آنکھوں سے دیکھنا تھا، جس دن آپ کو بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تھی ۱؎ انہوں نے یہ بھی کہا «والشجرة الملعونة في القرآن» میں شجرہ «ملعونہ» سے مراد تھوہڑ کا درخت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Al-Qasim bin Al-Fadl Al-Huddani narrated from Yusuf bin Sa’d, who said:“A man stood up in front of Al-Hasan bin Ali, after he pledged to Mu’awiyah, so he said: ‘You have made fools of the believers.’ – or: ‘O you who has made fools of the believers’ – So he said: ‘Do not scold me so, may Allah have mercy upon you, for indeed the Prophet had a dream in which he saw Banu Umayyah upon his Minbar. That distressed him, so (the following) was revealed: Verily We have granted you Al-Kauthar (O Muhammad) meaning a river in Paradise, and (the following) was revealed: ‘Verily We have sent it down on the Night of Al-Qadr. And what will make you know what the Night of Al-Qadr is? The Night of Al-Qadr …
یوسف بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص حسن بن علی رضی الله عنہما کے پاس ان کے معاویہ رضی الله عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لینے کے بعد گیا اور کہا: آپ نے تو مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دی، ( راوی کو شک ہے «سودت» کہا یا «يا مسود وجوه المؤمنين» ( مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دینے والا ) کہا، انہوں نے کہا تو مجھ پر الزام نہ رکھ، اللہ تم پر رحم فرمائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی امیہ اپنے منبر پر دکھائے گئے تو آپ کو یہ چیز بری لگی، اس پر آیت «إنا أعطيناك الكوثر» ”اے محمد! ہم نے آپ کو کوثر دی“، نازل ہوئی۔ کوثر جنت کی ایک نہر ہے اور سورۃ القدر کی آیات «إنا أنزلناه في ليلة القدر وما أدراك ما ليلة القدر ليلة القدر خير من ألف شهر» ”ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا، اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ …
PickthallAnd when We said unto the angels: Fall down prostrate before Adam and they fell prostrate all save Iblis, he said: Shall I fall prostrate before that which Thou hast created of clay?
Yusuf AliBehold! We said to the angels: "Bow down unto Adam": They bowed down except Iblis: He said, "Shall I bow down to one whom Thou didst create from clay?"
The agreed readingAnd when We said to the angels: prostrate to Adam — and they prostrated, except Iblis. He said: shall I prostrate to one You created from clay?
Urduاور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے کہا: کیا میں اس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے؟
Arabicوإذ قلنا للملائكة جميعا: اسجدوا لآدم تحية وتكريما له، فسجدوا كلهم إلا إبليس استكبر وامتنع حقا عن السجود تماما، قال: أأسجد لمن خلقته أنت طينا ضعيفا؟
PickthallHe said: Seest Thou this (creature) whom Thou hast honoured above me, if Thou give me grace until the Day of Resurrection I verily will seize his seed, save but a few.
Yusuf AliHe said: "Seest Thou? this is the one whom Thou hast honoured above me! If Thou wilt but respite me to the Day of Judgment, I will surely bring his descendants under my sway - all but a few!"
The agreed readingHe said: do You see this one You have honoured above me? If You give me time until the Day of Resurrection, I will take his offspring in hand, all but a few.
Urduاس نے کہا: کیا تو نے دیکھا اس کو جسے تو نے مجھ پر عزت دی ہے؟ اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو میں اس کی اولاد کو، سوائے چند تھوڑے لوگوں کے، اپنے قابو میں لے لوں گا۔
Arabicقال إبليس متعجبا متكبرا: أرأيتك هذا الذي كرمت علي وفضلته دوني، لئن أخرتني وأمهلتني إلى يوم القيامة لأحتنكن ذريته جميعا كلهم إلا قليلا منهم دون غيرهم.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ فَقَالَ بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا. فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرُّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا ".
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you, when intending to have a sexual relation (sleep) with his wife, says: Bismillah, Allahumma jannibna ashShaitan, wa Jannib ash-Shaitana ma razaqtana, Satan would never harm that child, should it be ordained that they will have one. (Because of that sleep)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سالم نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘””جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھ لے «باسم الله، اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا.» ”شروع اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھنا اور تو جو ہمیں بچہ عطا کرے اسے بھی شیطان سے دور رکھنا۔“ تو اگر اسی صحبت میں ان دونوں سے کوئی بچہ نصیب ہوا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5165) Sahih Muslim (1434)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5165) Sahih Muslim (1434)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5165) Sahih Muslim (1434)
Ibn ‘Abbas reported the Prophet (ﷺ) as saying “If anyone who means to have intercourse with his wife says “In the name of Allaah, O Allaah, keep us away from the devil and keep the devil away from what You hast provided us.” It will be ordained that no devil will ever harm the child born to them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے: «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا» اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ہم کو شیطان سے بچا اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے گزند سے محفوظ رکھ پھر اگر اس مباشرت سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا یا شیطان اسے کبھی نقصان نہ پہنچ اس کے گا ۔
PickthallAnd excite any of them whom thou canst with thy voice, and urge thy horse and foot against them, and be a partner in their wealth and children, and promise them. Satan promiseth them only to deceive.
Yusuf Ali"Lead to destruction those whom thou canst among them, with thy (seductive) voice; make assaults on them with thy cavalry and thy infantry; mutually share with them wealth and children; and make promises to them." But Satan promises them nothing but deceit.
The agreed readingAnd unsettle whomever of them you can with your voice, and bring against them your horsemen and your men on foot, and be their partner in wealth and children, and promise them. And Satan promises them nothing but deception.
Urduاور ان میں سے جسے تو اپنی آواز سے بہکا سکے بہکا لے، اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لے آ، اور مال اور اولاد میں ان کا ساجھی بن جا، اور ان سے وعدے کر۔ اور شیطان انہیں سوائے دھوکے کے کچھ اور وعدہ نہیں دیتا۔
Arabicواستفزز من استطعت منهم جميعا بصوتك المغري، وأجلب عليهم بخيلك ورجلك المهاجمين، وشاركهم في الأموال والأولاد، وعدهم الوعود الكاذبة، وما يعدهم الشيطان إلا غرورا وباطلا محضا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ فَقَالَ بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا. فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرُّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا ".
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you, when intending to have a sexual relation (sleep) with his wife, says: Bismillah, Allahumma jannibna ashShaitan, wa Jannib ash-Shaitana ma razaqtana, Satan would never harm that child, should it be ordained that they will have one. (Because of that sleep)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سالم نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘””جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھ لے «باسم الله، اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا.» ”شروع اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھنا اور تو جو ہمیں بچہ عطا کرے اسے بھی شیطان سے دور رکھنا۔“ تو اگر اسی صحبت میں ان دونوں سے کوئی بچہ نصیب ہوا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5165) Sahih Muslim (1434)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5165) Sahih Muslim (1434)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5165) Sahih Muslim (1434)
Ibn ‘Abbas reported the Prophet (ﷺ) as saying “If anyone who means to have intercourse with his wife says “In the name of Allaah, O Allaah, keep us away from the devil and keep the devil away from what You hast provided us.” It will be ordained that no devil will ever harm the child born to them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے: «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا» اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ہم کو شیطان سے بچا اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے گزند سے محفوظ رکھ پھر اگر اس مباشرت سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا یا شیطان اسے کبھی نقصان نہ پہنچ اس کے گا ۔
PickthallLo! My (faithful) bondmen - over them thou hast no power, and thy Lord sufficeth as (their) guardian.
Yusuf Ali"As for My servants, no authority shalt thou have over them:" Enough is thy Lord for a Disposer of affairs.
The agreed readingOver My servants you have no authority. And your Lord is enough as one to rely on. The commentaries note that the answer to the whole boast is one sentence long.
Urduمیرے بندوں پر تیرا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اور تمہارا رب ہی بھروسہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ مفسرین بتاتے ہیں کہ ابلیس کی اس ساری شیخی کا جواب صرف ایک ہی جملے میں دے دیا گیا ہے۔
Arabicإن عبادي المؤمنين ليس لك عليهم سلطان ولا قدرة على إغوائهم، وكفى بربك وكيلا حافظا لهم. وقد نبه المفسرون إلى أن جواب هذا التبجح كله جاء في جملة واحدة فقط.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ فَقَالَ بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا. فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرُّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا ".
Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you, when intending to have a sexual relation (sleep) with his wife, says: Bismillah, Allahumma jannibna ashShaitan, wa Jannib ash-Shaitana ma razaqtana, Satan would never harm that child, should it be ordained that they will have one. (Because of that sleep)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سالم نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘””جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھ لے «باسم الله، اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا.» ”شروع اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھنا اور تو جو ہمیں بچہ عطا کرے اسے بھی شیطان سے دور رکھنا۔“ تو اگر اسی صحبت میں ان دونوں سے کوئی بچہ نصیب ہوا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5165) Sahih Muslim (1434)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5165) Sahih Muslim (1434)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (5165) Sahih Muslim (1434)
Ibn ‘Abbas reported the Prophet (ﷺ) as saying “If anyone who means to have intercourse with his wife says “In the name of Allaah, O Allaah, keep us away from the devil and keep the devil away from what You hast provided us.” It will be ordained that no devil will ever harm the child born to them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے: «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا» اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ہم کو شیطان سے بچا اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے گزند سے محفوظ رکھ پھر اگر اس مباشرت سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا یا شیطان اسے کبھی نقصان نہ پہنچ اس کے گا ۔
You should therefore spend all your force against him, and all your efforts against him, because, by Allāh, he boasted over your (i.e., Adam’s) origin, questioned your position and spoke lightly of your lineage. He advanced on you with his army, and brought his footmen towards your path. They are chasing you from every place, and they are hitting you at every finger joint. You are not able to defend by any means, nor can you repulse them by any determination. You are in the thick of disgrace, the ring of straitness, the field of death and the way of distress.
تو اپنی حدّ اس پر لگاؤ، اور اس کے لیے تمہاری جدّ۔ الله کی قسم، لقد فخر علی أصلکم، اور وقع فی حسبکم، اور دفع فی نسبکم، اور أجلب بخیلہ علیکم، اور قصد برجلہ سبیلکم۔ یقتنصونکم بکل مکان، اور یضربون منکم کل بنان۔ لا تمتنعون بحیلہ، اور لا تدفعون بعزیمہ، فی حومۃ ذل، اور حلقۃ ضیق، اور عرصۃ موت، اور جولۃ بلا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Pickthall(O mankind), your Lord is He Who driveth for you the ship upon the sea that ye may seek of His bounty. Lo! He was ever Merciful toward you.
Yusuf AliYour Lord is He That maketh the Ship go smoothly for you through the sea, in order that ye may seek of his Bounty. For he is unto you most Merciful.
The agreed readingYour Lord is the One who drives the ships along the sea for you, so that you may seek of His bounty. He was ever Merciful to you.
Urduتمہارا رب وہی ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ وہ تم پر ہمیشہ سے بہت مہربان رہا ہے۔
Arabicربكم هو الذي يزجي لكم سفنكم الفلك في البحر برفق ولطف، لتبتغوا من فضله ورزقه الواسع تماما، إنه كان بكم جميعا رحيما في كل أحوالكم دائما.
PickthallAnd when harm toucheth you upon the sea, all unto whom ye cry (for succour) fail save Him (alone), but when He bringeth you safe to land, ye turn away, for man was ever thankless.
Yusuf AliWhen distress seizes you at sea, those that ye call upon - besides Himself - leave you in the lurch! but when He brings you back safe to land, ye turn away (from Him). Most ungrateful is man!
The agreed readingAnd when harm touches you at sea, those you call on are gone, except Him. Then when He brings you safe to land, you turn away — and man was ever ungrateful. The commentaries note that the sea strips the case bare: at that moment nobody calls on anything else.
Urduاور جب سمندر میں تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو جنہیں تم پکارتے ہو وہ سب غائب ہو جاتے ہیں، سوائے اسی ایک ذات کے۔ پھر جب وہ تمہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو تم منہ موڑ لیتے ہو — انسان ہمیشہ سے ناشکرا رہا ہے۔ مفسرین بتاتے ہیں کہ سمندر اس دلیل کو بالکل صاف کر کے دکھا دیتا ہے: اس لمحے کوئی بھی کسی اور کو نہیں پکارتا۔
Arabicوإذا مسكم الضر في البحر ضل عنكم من تدعون إلا إياه وحده، فلما نجاكم إلى البر أعرضتم، وكان الإنسان كفورا جحودا. وقد نبه المفسرون إلى أن البحر يجرد هذه الحجة تماما: في تلك اللحظة لا يدعو أحد غيره أبدا.
PickthallFeel ye then secure that He will not cause a slope of the land to engulf you, or send a sand-storm upon you, and then ye will find that ye have no protector?
Yusuf AliDo ye then feel secure that He will not cause you to be swallowed up beneath the earth when ye are on land, or that He will not send against you a violent tornado (with showers of stones) so that ye shall find no one to carry out your affairs for you?
The agreed readingDo you feel safe that He will not make the side of the land swallow you up, or send a storm of stones against you, and then you will find no one to rely on?
Urduکیا تم اس بات سے بےخوف ہو گئے ہو کہ وہ تمہیں خشکی ہی میں دھنسا دے، یا تم پر پتھروں کا طوفان بھیج دے، پھر تمہیں اپنے لیے کوئی بھروسہ کرنے والا نہ ملے؟
Arabicأفأمنتم أيها الناس أن يخسف بكم الله جانب البر فتغرقون في التراب، أو يرسل عليكم حاصبا شديدا من الحجارة، ثم لا تجدوا لكم وكيلا يحفظكم أبدا؟
PickthallOr feel ye secure that He will not return you to that (plight) a second time, and send against you a hurricane of wind and drown you for your thanklessness, and then ye will not find therein that ye have any avenger against Us?
Yusuf AliOr do ye feel secure that He will not send you back a second time to sea and send against you a heavy gale to drown you because of your ingratitude, so that ye find no helper. Therein against Us?
The agreed readingOr do you feel safe that He will not send you back into it a second time, and send a shattering wind against you and drown you for your ingratitude, and then you will find no one to press your case against Us?
Urduیا کیا تم اس بات سے بےخوف ہو گئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ سمندر میں لے جائے، پھر تم پر تیز آندھی بھیجے اور تمہاری ناشکری کی وجہ سے تمہیں ڈبو دے، پھر تمہیں کوئی ایسا نہ ملے جو ہمارے خلاف تمہارا مقدمہ لڑ سکے؟
Arabicأم أمنتم أن يعيدكم الله فيه تارة أخرى، فيرسل عليكم قاصفا شديدا من الريح فيغرقكم بما كفرتم به، ثم لا تجدوا لكم علينا بذلك تبيعا يطالب.
PickthallVerily we have honoured the Children of Adam. We carry them on the land and the sea, and have made provision of good things for them, and have preferred them above many of those whom We created with a marked preferment.
Yusuf AliWe have honoured the sons of Adam; provided them with transport on land and sea; given them for sustenance things good and pure; and conferred on them special favours, above a great part of our creation.
The agreed readingAnd We have honoured the children of Adam, and carried them on land and sea, and provided them with good things, and favoured them above much of what We created, with a clear favouring.
Urduاور بےشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی، اور انہیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا، اور انہیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں، اور ہم نے اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں واضح طور پر فضیلت دی۔
Arabicولقد كرمنا بني آدم جميعا تكريما بالعقل والرسل، وحملناهم في البر والبحر، ورزقناهم من الطيبات الحلال الطاهرة، وفضلناهم على كثير ممن خلقنا تفضيلا عظيما واضحا جدا.
PickthallOn the day when We shall summon all men with their record, whoso is given his book in his right hand - such will read their book and they will not be wronged a shred.
Yusuf AliOne day We shall call together all human beings with their (respective) Imams: those who are given their record in their right hand will read it (with pleasure), and they will not be dealt with unjustly in the least.
The agreed readingOn the Day We call every people with their record, then whoever is given his book in his right hand — those will read their book, and they will not be wronged by so much as the thread in a date-stone.
Urduجس دن ہم ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے، تو جسے اس کی کتاب اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی وہ لوگ اپنی کتاب پڑھیں گے، اور ان پر کھجور کی گٹھلی کے دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
Arabicيوم ندعو كل أناس بإمامهم الذي كانوا يقتدون به في الدنيا، فمن أوتي كتابه بيمينه فأولئك يقرأون كتابهم فرحين مسرورين، ولا يظلمون فتيلا مقدار خيط النواة أبدا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that regarding the saying of Allah, Most High: "The Day when We shall call together all human beings with their (respective) Imam (17:71)" the Prophet (ﷺ) said: "One of you will be called out to be given his record in his right hand, he will be grown in his body to sixty forearm-lengths, his face will be whitened, and a crown of sparkling pearls will be placed upon his head. So he will go to his companions, who can see him from afar, and they will say: 'O Allah! Bring this one to us, and let us be blessed by him.' Until he reaches them, and says to them: 'Receive the good news! For each man among you shall be the likes of this.'" [He (ﷺ) said:] "As for the disbeliever, …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «يوم ندعو كل أناس بإمامهم» ”جس دن ہم ہر انسان کو اس کے امام ( اگوا و پیشوا ) کے ساتھ بلائیں گے“ ( بنی اسرائیل: ۷۱ ) ، کے بارے میں فرمایا: ”ان میں سے جو کوئی ( جنتی شخص ) بلایا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم بڑھا کر ساٹھ گز کا کر دیا جائے گا، اس کا چہرہ چمکتا ہوا ہو گا اس کے سر پر موتیوں کا جھلملاتا ہوا تاج رکھا جائے گا، پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس جائے گا، اسے لوگ دور سے دیکھ کر کہیں گے: اے اللہ! ایسی ہی نعمتوں سے ہمیں بھی نواز، اور ہمیں بھی ان میں برکت عطا کر، وہ ان کے پاس پہنچ کر کہے گا: تم سب خوش ہو جاؤ۔ ہر شخص کو ایسا ہی ملے گا، لیکن کافر کا معاملہ کیا ہو …
PickthallWhoso is blind here will be blind in the Hereafter, and yet further from the road.
Yusuf AliBut those who were blind in this world, will be blind in the hereafter, and most astray from the Path.
The agreed readingAnd whoever is blind in this is blind in the Hereafter, and further off the way still. The commentaries gloss the blindness as blindness to the truth rather than of the eye.
Urduاور جو شخص اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا، بلکہ راستے سے اور بھی زیادہ بھٹکا ہوا ہوگا۔ مفسرین اس اندھے پن کی تشریح آنکھ کے اندھے پن سے نہیں بلکہ حق سے اندھے پن کے طور پر کرتے ہیں۔
Arabicومن كان في هذه الدنيا أعمى القلب عن الحق فهو في الآخرة أعمى وأضل سبيلا وطريقا. وقد فسر المفسرون هذا العمى عمى القلب عن الحق لا عمى العين نفسها.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that regarding the saying of Allah, Most High: "The Day when We shall call together all human beings with their (respective) Imam (17:71)" the Prophet (ﷺ) said: "One of you will be called out to be given his record in his right hand, he will be grown in his body to sixty forearm-lengths, his face will be whitened, and a crown of sparkling pearls will be placed upon his head. So he will go to his companions, who can see him from afar, and they will say: 'O Allah! Bring this one to us, and let us be blessed by him.' Until he reaches them, and says to them: 'Receive the good news! For each man among you shall be the likes of this.'" [He (ﷺ) said:] "As for the disbeliever, …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «يوم ندعو كل أناس بإمامهم» ”جس دن ہم ہر انسان کو اس کے امام ( اگوا و پیشوا ) کے ساتھ بلائیں گے“ ( بنی اسرائیل: ۷۱ ) ، کے بارے میں فرمایا: ”ان میں سے جو کوئی ( جنتی شخص ) بلایا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم بڑھا کر ساٹھ گز کا کر دیا جائے گا، اس کا چہرہ چمکتا ہوا ہو گا اس کے سر پر موتیوں کا جھلملاتا ہوا تاج رکھا جائے گا، پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس جائے گا، اسے لوگ دور سے دیکھ کر کہیں گے: اے اللہ! ایسی ہی نعمتوں سے ہمیں بھی نواز، اور ہمیں بھی ان میں برکت عطا کر، وہ ان کے پاس پہنچ کر کہے گا: تم سب خوش ہو جاؤ۔ ہر شخص کو ایسا ہی ملے گا، لیکن کافر کا معاملہ کیا ہو …
31-61 According to the same documentation, regarding the Honorable the Exalted God’s words, ‘One day We shall call together all human beings with their (respective) Imams…’ God’s Prophet (S) said the following, “All the nations will be called together with the Imams of their time, the Book of their Lord, and the Traditions of their Prophet.”
اور اسی اسناد کے ساتھ کہا جاتا ہے: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے الله عز و جل کے قول میں کہا: "جس دن ہم ہر قوم کو ان کے إمام کے ساتھ بلائیں گے" - تو ہر قوم اپنے زمانے کے إمام، اپنے رب کی كتاب، اور اپنے نبی کی سنة کے ساتھ بلائی جائے گی۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd they indeed strove hard to beguile thee (Muhammad) away from that wherewith We have inspired thee, that thou shouldst invent other than it against Us; and then would they have accepted thee as a friend.
Yusuf AliAnd their purpose was to tempt thee away from that which We had revealed unto thee, to substitute in our name something quite different; (in that case), behold! they would certainly have made thee (their) friend!
The agreed readingAnd they were close to luring you away from what We revealed to you, so that you would invent something else against Us — and then they would have taken you as a friend.
Urduاور وہ اس بات کے بہت قریب پہنچ گئے تھے کہ تمہیں اس چیز سے پھسلا دیں جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی ہے، تاکہ تم ہمارے بارے میں اس کے سوا کوئی اور بات گھڑ لو — اور تب وہ تمہیں اپنا دوست بھی بنا لیتے۔
Arabicولقد قارب المشركون جميعا وكادوا أن يفتنوك عن الذي أوحينا إليك حقا، لتفتري علينا غيره من عندك زورا، وإذا لاتخذوك خليلا حبيبا لهم مقربا جدا منهم.
PickthallAnd if We had not made thee wholly firm thou mightest almost have inclined unto them a little.
Yusuf AliAnd had We not given thee strength, thou wouldst nearly have inclined to them a little.
The agreed readingAnd had We not made you firm, you might almost have leaned towards them a little. The commentaries note that the āyah names how near it came and who prevented it, in the same breath.
Urduاور اگر ہم نے تمہیں ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو تم ان کی طرف تھوڑا سا جھکنے کے قریب پہنچ گئے ہوتے۔ مفسرین بتاتے ہیں کہ یہ آیت ایک ہی سانس میں بتا رہی ہے کہ یہ کتنے قریب پہنچا تھا اور کس نے اسے روکا۔
Arabicولولا أن ثبتناك على الحق لقد كدت تركن إليهم شيئا قليلا. وقد نبه المفسرون إلى أن الآية تذكر مدى قرب ذلك ومن منعه في نفس النفس الواحد.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih Mutawatir · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Mutawatir · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Sahih Mutawatir · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Mutawatir · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih Mutawatir · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Mutawatir · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ " .
It was narrated that Mu'adh bin Jabal said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I have been commanded to fight the people until they testify to La ilaha ill-allah (none has the right to be worshipped but Allah) and that I am the Messenger of Allah, and establish regular prayers and pay Zakat
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے قتال ( لڑنے ) کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں ۔
PickthallThen had we made thee taste a double (punishment) of living and a double (punishment) of dying, then hadst thou found no helper against Us.
Yusuf AliIn that case We should have made thee taste an equal portion (of punishment) in this life, and an equal portion in death: and moreover thou wouldst have found none to help thee against Us!
The agreed readingThen We would have made you taste double in life and double in death, and then you would have found no helper against Us.
Urduتب ہم تمہیں اس دنیا کی زندگی میں بھی دگنا اور موت کے بعد بھی دگنا عذاب چکھا دیتے، اور پھر تمہیں ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار نہ ملتا۔
Arabicإذا لأذقناك حينئذ ضعف عذاب الحياة الدنيا وضعف عذاب الممات الشديد في الآخرة أيضا، ثم لا تجد لك علينا نصيرا واحدا ينصرك أبدا من ذلك العذاب.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih Mutawatir · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Mutawatir · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Sahih Mutawatir · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Mutawatir · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih Mutawatir · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Mutawatir · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ " .
It was narrated that Mu'adh bin Jabal said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I have been commanded to fight the people until they testify to La ilaha ill-allah (none has the right to be worshipped but Allah) and that I am the Messenger of Allah, and establish regular prayers and pay Zakat
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے قتال ( لڑنے ) کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں ۔
PickthallAnd they indeed wished to scare thee from the land that they might drive thee forth from thence, and then they would have stayed (there) but a little after thee.
Yusuf AliTheir purpose was to scare thee off the land, in order to expel thee; but in that case they would not have stayed (therein) after thee, except for a little while.
The agreed readingAnd they were close to unsettling you out of the land, to drive you from it — and then they would have stayed after you only a little while.
Urduاور وہ اس بات کے بھی قریب پہنچ گئے تھے کہ تمہیں اس زمین سے بےچین کر کے نکال باہر کریں، اور اگر وہ ایسا کرتے تو تمہارے بعد وہ خود بھی بہت تھوڑی دیر ہی ٹھہر پاتے۔
Arabicوإن كادوا حقا ليستفزونك من هذه الأرض بإزعاجهم إياك وتضييقهم عليك ليخرجوك منها، وإذا لا يلبثون خلافك وبعدك في تلك الأرض إلا زمنا قليلا جدا إطلاقا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 2 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة3 reports cited here — 2 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih Mutawatir · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Mutawatir · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Sahih Mutawatir · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Mutawatir · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih Mutawatir · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Mutawatir · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ " .
It was narrated that Mu'adh bin Jabal said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I have been commanded to fight the people until they testify to La ilaha ill-allah (none has the right to be worshipped but Allah) and that I am the Messenger of Allah, and establish regular prayers and pay Zakat
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے قتال ( لڑنے ) کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں ۔
Narrated Abu Burdah bin Abi Musa:from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah sent down two guarantees of safety for the benefit of my Ummah: And Allah would not punish them while you are among them, nor will He punish them while they seek forgiveness (8:33). So when I pass, I leave seeking forgiveness among them until the Day of Resurrection
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لیے اللہ نے مجھ پر دو امان نازل فرمائے ہیں ( ایک ) «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم» ”تمہارے موجود رہتے ہوئے اللہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، ( دوسرا ) «وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون» ”دوسرے جب وہ توبہ و استغفار کرتے رہیں گے تو بھی ان پر اللہ عذاب نازل نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، اور جب میں ( اس دنیا سے ) چلا جاؤں گا تو ان کے لیے دوسرا امان استغفار قیامت تک چھوڑ جاؤں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے۔ ۲- اسماعیل بن مہاجر حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔
88. (Imām) Abū Ja‘far Muḥammad ibn ‘Alī al-Bāqir, peace be upon him, has related from Amīr al-mu’minīn, peace be upon him, that he said: There are two sources of deliverance from the Allāh’s punishment, one of which has been raised up, while the other is before you. You should therefore adhere to it. The source of deliverance which has been raised up is the Messenger of Allāh (may He bless him and his descendants), while the source of deliverance that remains is the seeking of forgiveness. Allāh, the Glorified, has said: And Allāh is not to chastise them while you are among them, nor is Allāh to chastise them while yet they seek forgiveness. (Qur’ān, 8:33)
ابو جعفر محمد بن علی الباقر علیہ السلام نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا: زمین پر الله کے عذاب سے دو حفاظتیں تھیں، ان میں سے ایک تو اٹھا لی جا چکی ہے اور دوسری تمہارے سامنے ہے تو اسے مضبوطی سے پکڑے رہو۔ جو حفاظت اٹھا لی گئی ہے وہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ ہیں، اور جو حفاظت باقی رہی ہے وہ استغفار (مغفرت چاہنا) ہے۔ الله تعالیٰ نے فرمایا: اور
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Pickthall(Such was Our) method in the case of those whom We sent before thee (to mankind), and thou wilt not find for Our method aught of power to change.
Yusuf Ali(This was Our) way with the messengers We sent before thee: thou wilt find no change in Our ways.
The agreed readingThe way of those We sent before you — and you will find no change in Our way. The commentaries gloss the way as what happened to peoples who drove out their messenger.
Urduیہ ان رسولوں کا طریقہ رہا ہے جنہیں ہم نے تم سے پہلے بھیجا تھا، اور تم ہمارے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ مفسرین اس طریقے کی تشریح ان قوموں کے انجام کے طور پر کرتے ہیں جنہوں نے اپنے رسول کو نکال باہر کیا۔
Arabicسنة من قد أرسلنا قبلك من رسلنا، ولا تجد لسنتنا تحويلا ولا تبديلا. وقد فسر المفسرون هذه السنة بما حل بالأقوام التي أخرجت رسولها من بينها.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
88. (Imām) Abū Ja‘far Muḥammad ibn ‘Alī al-Bāqir, peace be upon him, has related from Amīr al-mu’minīn, peace be upon him, that he said: There are two sources of deliverance from the Allāh’s punishment, one of which has been raised up, while the other is before you. You should therefore adhere to it. The source of deliverance which has been raised up is the Messenger of Allāh (may He bless him and his descendants), while the source of deliverance that remains is the seeking of forgiveness. Allāh, the Glorified, has said: And Allāh is not to chastise them while you are among them, nor is Allāh to chastise them while yet they seek forgiveness. (Qur’ān, 8:33)
ابو جعفر محمد بن علی الباقر علیہ السلام نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا: زمین پر الله کے عذاب سے دو حفاظتیں تھیں، ان میں سے ایک تو اٹھا لی جا چکی ہے اور دوسری تمہارے سامنے ہے تو اسے مضبوطی سے پکڑے رہو۔ جو حفاظت اٹھا لی گئی ہے وہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ ہیں، اور جو حفاظت باقی رہی ہے وہ استغفار (مغفرت چاہنا) ہے۔ الله تعالیٰ نے فرمایا: اور
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih Mutawatir · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Mutawatir · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Sahih Mutawatir · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Mutawatir · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih Mutawatir · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih Mutawatir · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ " .
It was narrated that Mu'adh bin Jabal said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I have been commanded to fight the people until they testify to La ilaha ill-allah (none has the right to be worshipped but Allah) and that I am the Messenger of Allah, and establish regular prayers and pay Zakat
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے قتال ( لڑنے ) کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں ۔
Abdullah bin Mas'ud narrated:"We went with Allah's Messenger, while we were young men who had nothing. He said: 'O young men! You should marry, for indeed it helps in lowering the gaze and protecting the private parts. Whoever among you is not able to marry, then let him fast, for indeed fasting will diminish his sexual desire
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم نوجوان تھے، ہمارے پاس ( شادی وغیرہ امور میں سے ) کسی چیز کی مقدرت نہ تھی۔ تو آپ نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تمہارے اوپر ۱؎ نکاح لازم ہے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی کرنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اور جو تم میں سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس پر صوم کا اہتمام ضروری ہے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس سند سے کئی لوگوں نے اسی کے مثل اعمش سے روایت کی ہے، ۳- اور ابومعاویہ اور محاربی نے یہ حدیث بطریق: «الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ۴- دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔
Narrated Abu Hurairah:regarding Allah, Most High, saying: "And recite the Qur'an in the early dawn. Verily the recitation of the Qur'an in the early dawn is ever witnessed (17:78)." The Prophet (ﷺ) said: "It is witnessed by the angels of the night and the angels of the day
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» ”صبح کو قرآن پڑھا کرو کیونکہ صبح قرآن پڑھنے کا وقت فرشتوں کے حاضر ہونے کا ہوتا ہے“ ( بنی اسرائیل: ۷۸ ) ، کے متعلق فرمایا: ”اس وقت رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے سب حاضر ( و موجود ) ہوتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Abdullah:It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah said to us: 'O young men, whoever among you can afford it, let him get married, for it is more effective in lowering the gaze and guarding chastity, and whoever cannot then he should fast, for it will be a restraint (wija') for him
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نوجوانوں سے کہا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ کا بار اٹھا سکتا ہو، اسے شادی کر لینی چاہیئے، کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور جو نکاح کی ذمہ داریاں نہ نبھا سکتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ روزہ اس کے لیے شہوت کا توڑ ہے“۔
It was narrated that 'Abdullah said:"We went out with the Messenger of Allah and we were young men who could not afford anything. He said: 'O young men, you should get married, for it is more effective in lowering the gaze and protecting one's chastity. Whoever cannot afford it should fast, for it will be a restraint Wija, for him
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہم سب نوجوان تھے۔ ہم ( جوانی کے جوش میں ) کسی چیز پر قابو نہیں رکھ پاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم اپنے اوپر شادی کرنے کو لازم پکڑو کیونکہ یہ نظر کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے، اور جو نہ کر سکتا ہو ( یعنی نان، نفقے کا بوجھ نہ اٹھا سکتا ہو ) وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے کیونکہ یہ اس کے لیے بمنزلہ خصی بنا دینے کے ہے“۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَلِّ عَلَىَّ وَعَلَى زَوْجِي . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ " .
Narrated Jabir ibn Abdullah: A woman said to the Prophet (ﷺ): Invoke blessing on me as well as on my husband. The Prophet (ﷺ) said: May Allah send blessing on you and your husband
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے اور میرے شوہر کے لیے رحمت کی دعا فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صلى الله عليك وعلى زوجك» اللہ تجھ پر اور تیرے شوہر پر رحمت نازل فرمائے ۔
Narrated AbudDarda': I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If any of you is suffering from anything or his brother is suffering, he should say: Our Lord is Allah Who is in the heaven, holy is Thy name, Thy command reigns supreme in the heaven and the earth, as Thy mercy in the heaven, make Thy mercy in the earth; forgive us our sins, and our errors; Thou art the Lord of good men; send down mercy from Thy mercy, and remedy, and remedy from Thy remedy on this pain so that it is healed up
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو بیمار ہو یا جس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے: «ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض كما رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك على هذا الوجع» ہمارے رب! جو آسمان کے اوپر ہے تیرا نام پاک ہے، تیرا ہی اختیار ہے آسمان اور زمین میں، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی رحمت زمین پر بھی نازل فرما، ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے، تو ( رب پروردگار ) ہے پاک اور اچھے لوگوں کا، اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اور اپنی شفاء میں سے ایک شفاء اس درد پر بھی نازل فرما تو وہ صحت یاب ہو جائے گا ۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا مَشَى مَشَى أَصْحَابُهُ أَمَامَهُ وَتَرَكُوا ظَهْرَهُ لِلْمَلاَئِكَةِ .
It was narrarted that Jabir bin 'Abdullah said:"When the Prophet walked, his Companions would walk in front of him, and he would leave his back for the angels
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے آگے آگے چلتے اور آپ کی پیٹھ فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے۔
PickthallEstablish worship at the going down of the sun until the dark of night, and (the recital of) the Qur'an at dawn. Lo! (the recital of) the Qur'an at dawn is ever witnessed.
Yusuf AliEstablish regular prayers - at the sun's decline till the darkness of the night, and the morning prayer and reading: for the prayer and reading in the morning carry their testimony.
The agreed readingEstablish the prayer at the sun's decline until the darkening of the night, and the recitation at dawn. The recitation at dawn is witnessed. Both traditions gloss the sun's decline as its turning past the meridian, and read the whole line as marking out the times.
Urduنماز قائم کرو سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک، اور فجر کی قرأت بھی۔ فجر کی قرأت کی حاضری دی جاتی ہے۔ دونوں روایات سورج کے ڈھلنے کی تشریح اس کے آسمان کے وسط سے ڈھلک جانے کے طور پر کرتی ہیں، اور اس پوری بات کو نمازوں کے اوقات کی نشاندہی سمجھتی ہیں۔
Arabicأقم الصلاة لدلوك الشمس إلى غسق الليل، وقرآن الفجر، إن قرآن الفجر كان مشهودا. وقد فسر المفسران دلوك الشمس بميلها بعد زوالها عن وسط السماء، وقرآ الآية كلها تحديدا لأوقات الصلاة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr and Ṭanṭāwī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Ibn Al-Musaiyab:Abu Huraira said, "The Prophet (ﷺ) said, 'A prayer performed in congregation is twenty-five times more superior in reward to a prayer performed by a single person. The angels of the night and the angels of the day are assembled at the time of the Fajr (Morning) prayer." Abu Huraira added, "If you wish, you can recite:-- 'Verily! The recitation of the Qur'an in the early dawn (Morning prayer) is ever witnessed (attended by the angels of the day and the night)
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف اور سعید بن مسیب اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تنہا نماز پڑھنے کے مقابلے میں جماعت سے نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس گنا زیادہ ہے اور صبح کی نماز میں رات کے اور دن کے فرشتے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھو «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» یعنی فجر میں قرآت قرآن زیادہ کیا کرو کیونکہ یہ نماز فرشتوں کی حاضری کا وقت ہے۔
Narrated Abu Hurairah:regarding Allah, Most High, saying: "And recite the Qur'an in the early dawn. Verily the recitation of the Qur'an in the early dawn is ever witnessed (17:78)." The Prophet (ﷺ) said: "It is witnessed by the angels of the night and the angels of the day
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» ”صبح کو قرآن پڑھا کرو کیونکہ صبح قرآن پڑھنے کا وقت فرشتوں کے حاضر ہونے کا ہوتا ہے“ ( بنی اسرائیل: ۷۸ ) ، کے متعلق فرمایا: ”اس وقت رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے سب حاضر ( و موجود ) ہوتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Prayer said in a congregation is twenty-five degrees more excellent than prayer said by a single person. He (Abu Huraira further) said: The angels of the night and the angels of the day meet together. Abu Huraira said: Recite it you like:" Surely the recital of the Qur'an at dawn is witnessed" (al-Qur'an, xvii)
عبدالاعلی نے معمر سے ، انھوں نے زہری سے ، اسی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ سب کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا اکیلے انسان کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے ۔ ’’آپ نے فرمایا : ’’رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ( جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے ) : ’’ اور فجر کے وقت قرآن پڑھنا بلاشبہ فجر کی قراءت میں حاضری دی جاتی ہے
Narrated Abu Huraira:Some (cooked) meat was brought to Allah's Apostle and the meat of a forearm was presented to him as he used to like it. He ate a morsel of it and said, "I will be the chief of all the people on the Day of Resurrection. Do you know the reason for it? Allah will gather all the human beings of early generations as well as late generations on one plain so that the announcer will be able to make them all hear his voice and the watcher will be able to see all of them. The sun will come so close to the people that they will suffer such distress and trouble as they will not be able to bear or stand. Then the people will say, 'Don't you see to what state you have reached? Won't …
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ابوحیان (یحییٰ بن سعید) تیمی نے خبر دی۔ انہیں ابوزرعہ (ہرم) بن عمرو بن جریر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دست کا حصہ آپ کو پیش کیا گیا۔ تو آپ نے اپنے دانتوں سے اسے ایک بار نوچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت بہت پسند تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں سب لوگوں کا سردار ہوں گا تمہیں معلوم بھی ہے یہ کون سا دن ہو گا؟ اس دن دنیا کے شروع سے قیامت کے دن تک کی ساری خلقت ایک چٹیل میدان میں جمع ہو گی کہ ایک پکارنے والے کی آواز سب کے کانوں تک پہنچ سکے گی اور ایک نظر سب کو دیکھ سکے گی۔ سورج بالکل قریب ہو …
Narrated Abu Huraira:We were in the company of the Prophet (ﷺ) at a banquet and a cooked (mutton) forearm was set before him, and he used to like it. He ate a morsel of it and said, "I will be the chief of all the people on the Day of Resurrection. Do you know how Allah will gather all the first and the last (people) in one level place where an observer will be able to see (all) of them and they will be able to hear the announcer, and the sun will come near to them. Some People will say: Don't you see, in what condition you are and the state to which you have reached? Why don't you look for a person who can intercede for you with your Lord? Some people will say: Appeal to your father, …
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے ابوحیان یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دستی کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت مرغوب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دستی کی ہڈی کا گوشت دانتوں سے نکال کر کھایا۔ پھر فرمایا کہ میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا۔ تمہیں معلوم ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) تمام مخلوق کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا؟ اس طرح کہ دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا۔ آواز دینے والے کی آواز ہر جگہ سنی جا سکے گی اور سورج بالکل قریب ہو جائے گا۔ ایک شخص اپنے …
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا. فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّنَا. فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ وَيَقُولُ ـ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ. فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ ـ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلاً. …
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah will gather all the people on the Day of Resurrection and they will say, 'Let us request someone to intercede for us with our Lord so that He may relieve us from this place of ours.' Then they will go to Adam and say, 'You are the one whom Allah created with His Own Hands, and breathed in you of His soul, and ordered the angels to prostrate to you; so please intercede for us with our Lord.' Adam will reply, 'I am not fit for this undertaking, and will remember his sin, and will say, 'Go to Noah, the first Apostle sent by Allah' They will go to him and he will say, 'I am not fit for this undertaking', and will remember his sin and say, 'Go to …
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا۔ اس وقت لوگ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے رب کے حضور میں کسی کی شفاعت لے جائیں تو نفع بخش ثابت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے ہم اپنی اس حالت سے نجات پا جائیں۔ چنانچہ لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے آپ ہی وہ بزرگ نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ کے اندر اپنی چھپائی ہوئی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا، آپ ہمارے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کریں۔ وہ کہیں گے کہ میں تو اس لائق نہیں ہوں، پھر وہ اپنی لغزش یاد کریں گے اور کہیں گے کہ نوح کے پاس جاؤ، وہ سب سے پہلے …
Abu Huraira reported:Meat was one day brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and a foreleg was offered to him, a part which he liked. He sliced with his teeth a piece out of it and said: I shall be the leader of mankind on the Day of Resurrection. Do you know why? Allah would gather in one plain the earlier and the later (of the human race) on the Day of Resurrection. Then the voice of the proclaimer would be heard by all of them and the eyesight would penetrate through all of them and the sun would come near. People would then experience a degree of anguish, anxiety and agony which they shall not be able to bear and they shall not be able to stand. Some people would say to the others: Don …
ابو حیان نے ابو زرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : ایک دن رسو ل اللہ ﷺ کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دستی اٹھا کر آپ کو پیش کی گئی کیونکہ آپ آپ کو مرغوب تھی ، آپ نے اپنےدندان مبارک سے ایک بار اس میں سے تناول کیا اور فرمایا : ’’ میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا ۔ کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہو گا؟ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام اگلون اور پچھلوں کو ایک ہموار چٹیل میدان میں جمع کرے گا ۔ بلانے والا سب کو اپنی آواز سنائے گا اور ( اللہ کی ) نظر سب کے آر پار ( سب کو دیکھ رہی ) ہو گی ۔ سورج قریب ہو جائے گا اور لوگوں کو اس قدر غم اور کرب لاحق ہو گا جوان کی طاقت سے زیادہ اور ناقابل برداشت ہو گا ۔ لوگ ایک دوسرے کہیں گے : کیا دیکھتے نہیں تم کس حالت …
وَحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ .
Abu Huraira reported:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying a hadith like that of Yunus
۔ زبیدی نے ( ابن شہاب ) زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہا تھے .... ( بقیہ ) یونس کی حدیث کے مانند ہے ۔
Abu Hurairah narrated:""Some meat was brought to the Prophet (s.a.w) and a foreleg was presented to him, and he used to like it, so he bit from it. Then he said: 'I will be the 'Leader' of the people on the Day of Resurrection. Do you know why that is? Allah will gather the people, the first and the last, on one level ground where they will (all) be able to hear a caller, and all of them will be visible, and the sun will be brought near such that the people will suffer distress and trouble that they cannot tolerate nor bear. Then some people will say: "Don't you see the state you have reached? Why don't you look for a person who can intercede for you with your Lord? " Some of them will say …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا، اس میں سے آپ کو دست کا گوشت دیا گیا جو کہ آپ کو بہت پسند تھا، اسے آپ نے نوچ نوچ کر کھایا، پھر فرمایا: ”قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار رہوں گا، کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے؟ وہ اس لیے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ایک ہموار کشادہ زمین پر اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کرے گا، جنہیں ایک پکارنے والا آواز دے گا اور انہیں ہر نگاہ والا دیکھ سکے گا، سورج ان سے بالکل قریب ہو گا جس سے لوگوں کا غم و کرب اس قدر بڑھ جائے گا جس کی نہ وہ طاقت رکھیں گے اور نہ ہی اسے برداشت کر سکیں گے، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا نہیں دیکھتے کہ تمہاری مصیبت کہاں تک پہنچ گئی ہے، ایسے شخص کو کیوں نہیں دیکھتے جو تمہارے رب سے تمہارے لیے …
PickthallAnd some part of the night awake for it, a largess for thee. It may be that thy Lord will raise thee to a praised estate.
Yusuf AliAnd pray in the small watches of the morning: (it would be) an additional prayer (or spiritual profit) for thee: soon will thy Lord raise thee to a Station of Praise and Glory!
The agreed readingAnd in part of the night keep vigil with it, as something extra for you. It may be that your Lord will raise you to a praised station.
Urduاور رات کے کچھ حصے میں اس کے ساتھ بیدار رہو، یہ تمہارے لیے ایک اضافی نیکی ہے۔ امید ہے کہ تمہارا رب تمہیں ایک قابل تعریف مقام پر کھڑا کرے گا۔
Arabicومن الليل فقم فتهجد به قائما خاشعا، زيادة نافلة لك على فرضك المكتوب، عسى أن يبعثك ربك حقا مقاما محمودا يحمدك فيه الأولون والآخرون جميعا تماما.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Baghawī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Jabir bin `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever after listening to the Adhan says, 'Allahumma Rabba hadhihi-dda` watit-tammah, was-salatil qa'imah, ati Muhammadan al-wasilata wal-fadilah, wa b`ath-hu maqaman mahmudan-il-ladhi wa`adtahu' [O Allah! Lord of this perfect call (perfect by not ascribing partners to You) and of the regular prayer which is going to be established, give Muhammad the right of intercession and illustriousness, and resurrect him to the best and the highest place in Paradise that You promised him (of)], then my intercession for him will be allowed on the Day of Resurrection
ہم سے علی بن عیاش ہمدانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن المنکدر سے بیان کیا، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اذان سن کر یہ کہے «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته» اسے قیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلاَةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". رَوَاهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Jabir bin `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever, after listening to the Adhan (for the prayer) says, 'O Allah, the Lord of this complete call and of this prayer, which is going to be established! Give Muhammad Al-Wasila and Al-Fadila and raise him to Al-Maqam-al-Mahmud which You have promised him,' will be granted my intercession for him on the Day of Resurrection
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة، آت محمدا الوسيلة والفضيلة، وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته، حلت له شفاعتي يوم القيامة .» ”اے اللہ! اس کامل پکار کے رب اور کھڑی ہونے والی نماز کے رب! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قرب اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر کھڑا کیجؤ۔ جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔“ تو اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت ضروری ہو گی۔ اس حدیث کو حمزہ بن عبداللہ نے بھی اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ …
Narrated Abu Hurairah:regarding Allah's saying: "It may be that your Lord will raise you to a praised station (17:79)" that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about it and he said: "It is the intercession
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ”عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا“ ( بنی اسرائیل: ۷۹ ) ، کے بارے میں پوچھے جانے پر فرمایا: ”اس سے مراد شفاعت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور داود زغافری: داود اود بن یزید بن عبداللہ اودی ہیں، اور یہ عبداللہ بن ادریس کے چچا ہیں۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ أَبُو النَّاسِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلاَئِكَتَهُ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَىْءٍ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا. فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ ذَنْبَهُ فَيَسْتَحِي ـ ائْتُوا …
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "On the Day of Resurrection the Believers will assemble and say, 'Let us ask somebody to intercede for us with our Lord.' So they will go to Adam and say, 'You are the father of all the people, and Allah created you with His Own Hands, and ordered the angels to prostrate to you, and taught you the names of all things; so please intercede for us with your Lord, so that He may relieve us from this place of ours.' Adam will say, 'I am not fit for this (i.e. intercession for you).' Then Adam will remember his sin and feel ashamed thereof. He will say, 'Go to Noah, for he was the first Apostle, Allah sent to the inhabitants of the earth.' They will go to him …
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومنین قیامت کے دن پریشان ہو کر جمع ہوں گے اور ( آپس میں ) کہیں گے، بہتر یہ تھا کہ اپنے رب کے حضور میں آج کسی کو ہم اپنا سفارشی بناتے۔ چنانچہ سب لوگ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونگے اور عرض کریں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا۔ آپ کے لیے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام …
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will gather the believers on the Day of Resurrection in the same way (as they are gathered in this life), and they will say, 'Let us ask someone to intercede for us with our Lord that He may relieve us from this place of ours.' Then they will go to Adam and say, 'O Adam! Don't you see the people (people's condition)? Allah created you with His Own Hands and ordered His angels to prostrate before you, and taught you the names of all the things. Please intercede for us with our Lord so that He may relieve us from this place of ours.' Adam will say, 'I am not fit for this undertaking' and mention to them the mistakes he had committed, and add, "But …
مجھ سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے، انہوں نے قتادہ بن دعامہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسی طرح جیسے ہم دنیا میں جمع ہوتے ہیں، مومنوں کو اکٹھا کرے گا ( وہ گرمی وغیرہ سے پریشان ہو کر ) کہیں گے کاش ہم کسی کی سفارش اپنے مالک کے پاس لے جاتے تاکہ ہمیں اپنی اس حالت سے آرام ملتا۔ چنانچہ سب مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ ان سے کہیں گے آدم! آپ لوگوں کا حال نہیں دیکھتے کس بلا میں گرفتار ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ( خاص ) اپنے ہاتھ سے بنایا اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور ہر چیز کے نام آپ کو بتلائے ( ہر لغت میں بولنا بات کرنا سکھلایا ) کچھ سفارش کیجئے تاکہ ہم لوگوں کو اس جگہ سے نجات ہو کر آرام ملے۔ …
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I shall be pre-eminent amongst the descendants of Adam on the Day of Resurrection and I will be the first intercessor and the first whose intercession will be accepted (by Allah)
عبداللہ بن فروخ نے کہا : مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں قیامت کے دن ( تمام ) اولاد آدم کا سردار ہوں گا ، پہلا شخص ہوں گا جس کی قبر کھلے گی ، سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلا ہوں گا جس کی شفاعت قبول ہوگی ۔
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The believers will be gathered on the Day of Resurrection, inspired or worried.” – Sa’eed was not sure – “And they will say: ‘If we seek someone to intercede for us with our Lord, we may find relief from our situation.’ So they will go to Adam and will say: ‘You are Adam, the father of mankind. Allah created you with His Hand and His angels prostrated to you. Intercede for us with your Lord, that He might grant us relief from our situation.’ He will say: ‘I am not the one,’ and he will mention to them and complain of the sin that he committed. He will feel too shy to do that (and will say): ‘Rather go to Nuh, for he …
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن قیامت کے دن جمع ہوں گے اور ان کے دلوں میں ڈال دیا جائے گا، یا وہ سوچنے لگیں گے، ( یہ شک راوی حدیث سعید کو ہوا ہے ) ، تو وہ کہیں گے: اگر ہم کسی کی سفارش اپنے رب کے پاس لے جاتے تو وہ ہمیں اس حالت سے راحت دے دیتا، وہ سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم ہیں، سارے انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنے فرشتوں سے آپ کا سجدہ کرایا، تو آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئیے کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دیدے، آپ فرمائیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں – آپ اپنے کئے ہوئے گناہ کو یاد کر کے اس کا شکوہ ان لوگوں کے سامنے کریں گے، اور اس بات سے شرمندہ ہوں گے، پھر فرمائیں گے: …
Narrated At-Tufail bin Ubayy bin Ka'b:from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The parable of me and the Prophets is that of a man who built a house, and he built it well, completing it, and beautifying it, but he left a space for one brick. So the people began going around the house amazed at it, saying "If only the space for that brick was filled.' And I am, with regards to the Prophets, in the position of that brick." And with this chain, from the Prophet (ﷺ) that he said: "Upon the Day of Judgement I will be the leader of the Prophets and their spokesman, and the bearer of their intercession, without bragging
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں میری مثال ایک ایسے آدمی کی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے بہت اچھا بنایا، مکمل اور نہایت خوبصورت بنایا، لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس میں پھرتے تھے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے، کاش اس اینٹ کی جگہ بھی پوری ہو جاتی، تو میں نبیوں میں ایسے ہی ہوں جیسی خالی جگہ کی یہ اینٹ ہے“۔
Abu Hurairah narrated:""Some meat was brought to the Prophet (s.a.w) and a foreleg was presented to him, and he used to like it, so he bit from it. Then he said: 'I will be the 'Leader' of the people on the Day of Resurrection. Do you know why that is? Allah will gather the people, the first and the last, on one level ground where they will (all) be able to hear a caller, and all of them will be visible, and the sun will be brought near such that the people will suffer distress and trouble that they cannot tolerate nor bear. Then some people will say: "Don't you see the state you have reached? Why don't you look for a person who can intercede for you with your Lord? " Some of them will say …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا، اس میں سے آپ کو دست کا گوشت دیا گیا جو کہ آپ کو بہت پسند تھا، اسے آپ نے نوچ نوچ کر کھایا، پھر فرمایا: ”قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار رہوں گا، کیا تم لوگوں کو اس کی وجہ معلوم ہے؟ وہ اس لیے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ایک ہموار کشادہ زمین پر اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کرے گا، جنہیں ایک پکارنے والا آواز دے گا اور انہیں ہر نگاہ والا دیکھ سکے گا، سورج ان سے بالکل قریب ہو گا جس سے لوگوں کا غم و کرب اس قدر بڑھ جائے گا جس کی نہ وہ طاقت رکھیں گے اور نہ ہی اسے برداشت کر سکیں گے، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا نہیں دیکھتے کہ تمہاری مصیبت کہاں تک پہنچ گئی ہے، ایسے شخص کو کیوں نہیں دیکھتے جو تمہارے رب سے تمہارے لیے …
PickthallAnd say: My Lord! Cause me to come in with a firm incoming and to go out with a firm outgoing. And give me from Thy presence a sustaining Power.
Yusuf AliSay: "O my Lord! Let my entry be by the Gate of Truth and Honour, and likewise my exit by the Gate of Truth and Honour; and grant me from Thy Presence an authority to aid (me)."
The agreed readingAnd say: my Lord, bring me in by a true entering and bring me out by a true leaving, and give me from Yourself an authority to help me. The commentaries read the pairing as covering both ends of anything undertaken, and the last request as asking for what makes the two hold.
Urduاور کہو: اے میرے رب، مجھے سچا داخلہ دے کر داخل کر اور سچا اخراج دے کر نکال، اور اپنی طرف سے مجھے ایک مددگار اختیار عطا کر۔ مفسرین اس جوڑے کو ہر کام کے دونوں سروں کا احاطہ سمجھتے ہیں، اور آخری دعا کو اس چیز کی طلب سمجھتے ہیں جو ان دونوں کو قائم رکھے۔
Arabicوقل: رب أدخلني مدخل صدق وأخرجني مخرج صدق، واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا يعينني. وقد قرأ المفسرون هذا الزوج شاملا لطرفي كل أمر يبدأ، والطلب الأخير طلبا لما يثبت هذين الطرفين.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — جميعها من كتب أهل السنة7 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 7 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Ṭūsī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr, al-Fayḍ al-Kāshānī, Ibn ʿĀshūr, Ṭabāṭabāʾī and Ṭanṭāwī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) was in Makkah, then Hijrah was ordered, so the following was revealed to him: Say: 'My Lord! Let my entry be good, and likewise my exit be good. And grant me from You a helping authority (17:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ملا، اسی موقع پر آیت: «وقل رب أدخلني مدخل صدق وأخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا» ”دعا کر، اے میرے رب! مجھے اچھی جگہ پہنچا اور مجھے اچھی طرح نکال، اور اپنی طرف سے مجھے قوی مددگار مہیا فرما“ ( بنی اسرائیل: ۸۰ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتُّونَ وَثَلاَثُمِائَةِ نُصُبٍ فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ وَيَقُولُ {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} {جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ}
Narrated `Abdullah bin Masud:Allah's Messenger (ﷺ) entered Mecca (in the year of the Conquest) and there were three-hundred and sixty idols around the Ka`ba. He then started hitting them with a stick in his hand and say: 'Truth (i.e. Islam) has come and falsehood (disbelief) vanished. Truly falsehood (disbelief) is ever bound to vanish.' (17.81) 'Truth has come and falsehood (Iblis) can not create anything
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ ابن ابی نجیح نے، ان سے مجاہد نے، ان سے ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں ( فتح کے بعد ) داخل ہوئے تو کعبہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی لکڑی سے ایک کو ٹکراتے جاتے اور پڑھتے جاتے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا»، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» حق آیا اور جھوٹ نابود ہوا بیشک جھوٹ نابود ہونے والا ہی تھا۔
It has been narrated by Ibn Abdullah who said:The Prophet (ﷺ) entered Mecca. There were three hundred and sixty idols around the Ka'ba. He began to thrust them with the stick that was in his hand saying:" Truth has come and falsehood has vanished. Lo! falsehood was destined to vanish" (xvii. 8). Truth has arrived, and falsehood can neither create anything from the beginning nor can It restore to life
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے ۔ ۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن ابی نجیح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے ابومعمر سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کو اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی لکڑی سے کچوکا دے کر گرانے لگے اور یہ فرمانے لگے : " حق آ گیا اور باطل مٹ گیا ، بلاشبہ باطل مٹنے والا ہے ۔ حق آ گیا اور باطل نہ آغاز کرتا ہے اور نہ لوٹاتا ہے " ( بلکہ دونوں اللہ عزوجل جلالہ کے کام ہیں ۔ ) ابن ابی عمر نے اضافہ کیا : فتح مکہ کے دن
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلاَثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَطْعَنُهَا بِمِخْصَرَةٍ فِي يَدِهِ وَرُبَّمَا قَالَ بِعُودٍ وَيَقُولُ : (جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ) : (جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ ) . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
Narrated Ibn Mas'ud:"The Messenger of Allah (ﷺ) entered Makkah during the year of the Conquest, and there were three hundred and sixty Nusb (Altars to sacrifice to idols) around the Ka'bah. So the Prophet (ﷺ) started hitting them with a stick he had in his hand" - or perhaps he said: "With a piece of wood, and he was saying: The truth has come and falsehood has vanished. Surely falsehood is ever bound to vanish (17:81). The truth has come and falsehood can neither originate anything nor resurrect (anything) (34:)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس سال مکہ فتح ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آپ اپنے ہاتھ میں لی ہوئی چھڑی سے انہیں کچوکے لگانے لگے ( عبداللہ نے کبھی ایسا کہا ) اور کبھی کہا کہ آپ اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیے ہوئے تھے، اور انہیں ہاتھ لگاتے ہوئے کہتے جاتے تھے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا» ”حق آ گیا باطل مٹ گیا باطل کو مٹنا اور ختم ہونا ہی تھا“ ( بنی اسرائیل: ۸۱ ) ، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» ”حق غالب آ گیا ہے، اب باطل نہ ابھر سکے گا اور نہ ہی لوٹ کر آئے گا“ ( سبا: ۴۹ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتُّونَ وَثَلاَثُمِائَةِ نُصُبٍ، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ وَيَقُولُ " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، جَاءَ الْحَقُّ، وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ ".
Narrated `Abdullah:When the Prophet (ﷺ) entered Mecca on the day of the Conquest, there were 360 idols around the Ka`ba. The Prophet (ﷺ) started striking them with a stick he had in his hand and was saying, "Truth has come and Falsehood will neither start nor will it reappear
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سلیمان بن عیینہ نے خبر دی ‘ انہیں ابن ابی نجیح نے ‘ انہیں مجاہد نے ‘ انہیں ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھڑی سے جو دست مبارک میں تھی ‘ مارتے جاتے تھے اور اس آیت کی تلاوت کرتے جاتے «جاء الحق وزهق الباطل، جاء الحق، وما يبدئ الباطل وما يعيد» کہ ”حق قائم ہو گیا اور باطل مغلوب ہو گیا ‘ حق قائم ہو گیا اور باطل سے نہ شروع میں کچھ ہو سکا ہے نہ آئندہ کچھ ہو سکتا ہے۔“
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَكُونُ قِبْلَتَانِ فِي بَلَدٍ وَاحِدٍ " .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (ﷺ) said: Two qiblahs in one land are not right
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ملک میں دو قبلے نہیں ہو سکتے ، ( یعنی مسلمان اور یہود و نصاریٰ عرب میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ) ۔
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, the one who does not have the Qur'an inside him (his heart), is like the ruined house
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ یاد نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
PickthallAnd say: Truth hath come and falsehood hath vanished away. Lo! falsehood is ever bound to vanish.
Yusuf AliAnd say: "Truth has (now) arrived, and Falsehood perished: for Falsehood is (by its nature) bound to perish."
The agreed readingAnd say: the truth has come and falsehood has vanished. The commentaries read the truth here as Islam and the falsehood as the idolatry it displaced, and place the words at the entry into Mecca. Falsehood is called ever bound to vanish because it cannot stand where the truth arrives.
Urduاور کہو: حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔ مفسرین یہاں حق سے مراد اسلام اور باطل سے مراد وہ شرک لیتے ہیں جسے اسلام نے ہٹا دیا، اور یہ الفاظ مکہ میں داخلے کے موقع پر رکھتے ہیں۔ باطل کو ہمیشہ مٹنے والا اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ اس جگہ ٹھہر ہی نہیں سکتا جہاں حق آ پہنچے۔
Arabicوقل: جاء الحق وزهق الباطل. وقد فسر المفسرون الحق هنا بالإسلام، والباطل بالشرك الذي أزاله، ووضعوا هذه الكلمات عند دخول مكة. وسمي الباطل زهوقا دائما لأنه لا يثبت حيث يصل الحق.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب أهل السنة9 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Baghawī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتُّونَ وَثَلاَثُمِائَةِ نُصُبٍ فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ وَيَقُولُ {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} {جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ}
Narrated `Abdullah bin Masud:Allah's Messenger (ﷺ) entered Mecca (in the year of the Conquest) and there were three-hundred and sixty idols around the Ka`ba. He then started hitting them with a stick in his hand and say: 'Truth (i.e. Islam) has come and falsehood (disbelief) vanished. Truly falsehood (disbelief) is ever bound to vanish.' (17.81) 'Truth has come and falsehood (Iblis) can not create anything
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ ابن ابی نجیح نے، ان سے مجاہد نے، ان سے ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں ( فتح کے بعد ) داخل ہوئے تو کعبہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی لکڑی سے ایک کو ٹکراتے جاتے اور پڑھتے جاتے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا»، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» حق آیا اور جھوٹ نابود ہوا بیشک جھوٹ نابود ہونے والا ہی تھا۔
It has been narrated by Ibn Abdullah who said:The Prophet (ﷺ) entered Mecca. There were three hundred and sixty idols around the Ka'ba. He began to thrust them with the stick that was in his hand saying:" Truth has come and falsehood has vanished. Lo! falsehood was destined to vanish" (xvii. 8). Truth has arrived, and falsehood can neither create anything from the beginning nor can It restore to life
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے ۔ ۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن ابی نجیح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے ابومعمر سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کو اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی لکڑی سے کچوکا دے کر گرانے لگے اور یہ فرمانے لگے : " حق آ گیا اور باطل مٹ گیا ، بلاشبہ باطل مٹنے والا ہے ۔ حق آ گیا اور باطل نہ آغاز کرتا ہے اور نہ لوٹاتا ہے " ( بلکہ دونوں اللہ عزوجل جلالہ کے کام ہیں ۔ ) ابن ابی عمر نے اضافہ کیا : فتح مکہ کے دن
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلاَثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَطْعَنُهَا بِمِخْصَرَةٍ فِي يَدِهِ وَرُبَّمَا قَالَ بِعُودٍ وَيَقُولُ : (جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ) : (جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ ) . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
Narrated Ibn Mas'ud:"The Messenger of Allah (ﷺ) entered Makkah during the year of the Conquest, and there were three hundred and sixty Nusb (Altars to sacrifice to idols) around the Ka'bah. So the Prophet (ﷺ) started hitting them with a stick he had in his hand" - or perhaps he said: "With a piece of wood, and he was saying: The truth has come and falsehood has vanished. Surely falsehood is ever bound to vanish (17:81). The truth has come and falsehood can neither originate anything nor resurrect (anything) (34:)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس سال مکہ فتح ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آپ اپنے ہاتھ میں لی ہوئی چھڑی سے انہیں کچوکے لگانے لگے ( عبداللہ نے کبھی ایسا کہا ) اور کبھی کہا کہ آپ اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیے ہوئے تھے، اور انہیں ہاتھ لگاتے ہوئے کہتے جاتے تھے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا» ”حق آ گیا باطل مٹ گیا باطل کو مٹنا اور ختم ہونا ہی تھا“ ( بنی اسرائیل: ۸۱ ) ، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» ”حق غالب آ گیا ہے، اب باطل نہ ابھر سکے گا اور نہ ہی لوٹ کر آئے گا“ ( سبا: ۴۹ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) was in Makkah, then Hijrah was ordered, so the following was revealed to him: Say: 'My Lord! Let my entry be good, and likewise my exit be good. And grant me from You a helping authority (17:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ملا، اسی موقع پر آیت: «وقل رب أدخلني مدخل صدق وأخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا» ”دعا کر، اے میرے رب! مجھے اچھی جگہ پہنچا اور مجھے اچھی طرح نکال، اور اپنی طرف سے مجھے قوی مددگار مہیا فرما“ ( بنی اسرائیل: ۸۰ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتُّونَ وَثَلاَثُمِائَةِ نُصُبٍ، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ وَيَقُولُ " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، جَاءَ الْحَقُّ، وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ ".
Narrated `Abdullah:When the Prophet (ﷺ) entered Mecca on the day of the Conquest, there were 360 idols around the Ka`ba. The Prophet (ﷺ) started striking them with a stick he had in his hand and was saying, "Truth has come and Falsehood will neither start nor will it reappear
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سلیمان بن عیینہ نے خبر دی ‘ انہیں ابن ابی نجیح نے ‘ انہیں مجاہد نے ‘ انہیں ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھڑی سے جو دست مبارک میں تھی ‘ مارتے جاتے تھے اور اس آیت کی تلاوت کرتے جاتے «جاء الحق وزهق الباطل، جاء الحق، وما يبدئ الباطل وما يعيد» کہ ”حق قائم ہو گیا اور باطل مغلوب ہو گیا ‘ حق قائم ہو گیا اور باطل سے نہ شروع میں کچھ ہو سکا ہے نہ آئندہ کچھ ہو سکتا ہے۔“
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Prayer in congregation is twenty-five times more virtuous than the prayer of any one of you offered on his own. The angels of the night and the day meet at Fajr prayer. Recite if you wish: Verily, the recitation of the Qur'an in the early dawn is ever witnessed."[1] [1]Al-Isra' 17:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تمہاری تنہا نماز سے پچیس گنا فضیلت رکھتی ہے ۱؎ رات اور دن کے فرشتے نماز فجر میں اکٹھا ہوتے ہیں، اگر تم چاہو تو آیت کریمہ «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» ۲؎ پڑھ لو ( الاسراء: ۲۸ ) ۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اشْهَدُوا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Ibn Mas'ud:"The moon was cleft asunder during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), so the Prophet (ﷺ) said to us: 'Bear witness
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم سب گواہ رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ibn 'Umar narrated that :the Prophet said: "Among the most dutiful of deeds is that a man nurture relations with the people his father was friends with
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بہتر سلوک اور سب سے اچھا برتاؤ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ سند صحیح ہے، یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما سے کئی سندوں سے آئی ہے، ۲- اس باب میں ابواسید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed the one who betrays will have a banner erected for him on the Day of Judgement." [He said:] There are narrations on this topic from 'Ali, 'Abdullah bin Mas'ud, Abu Sa'eed Al-Khudri, and Anas. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. I asked Muhammad about the Hadith of Suwaid, from Abu Ishaq, from 'Umarah bin 'Umair, from 'Ali, from the Prophet (ﷺ) who said: "For every person who betrays there will be banner." He said: "I do not know of this Hadith being Marfu
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”بیشک بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد سے سوید کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا جسے وہ ابواسحاق سبیعی سے، ابواسحاق نے عمارہ بن عمیر سے، عمارہ نے علی رضی الله عنہ سے اور علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ہر عہد توڑنے والے کے لیے ایک جھنڈا ہو گا“، محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: میرے علم میں یہ حدیث مرفوع نہیں ہے، ۳- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، ابو سعید خدری اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
PickthallAnd We reveal of the Qur'an that which is a healing and a mercy for believers though it increase the evil-doers in naught save ruin.
Yusuf AliWe send down (stage by stage) in the Qur'an that which is a healing and a mercy to those who believe: to the unjust it causes nothing but loss after loss.
The agreed readingAnd We send down of the Recitation what is a healing and a mercy for the believers, and it only increases the wrongdoers in loss. The commentaries note the same thing acting two ways, according to what meets it.
Urduاور ہم قرآن میں سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے، اور یہ ظالموں کو خسارے کے سوا کچھ نہیں بڑھاتا۔ مفسرین بتاتے ہیں کہ یہ ایک ہی چیز دو مختلف طریقوں سے اثر کرتی ہے، اس بات کے مطابق کہ وہ کس سے ٹکراتی ہے۔
Arabicوننزل من القرآن ما هو شفاء ورحمة للمؤمنين، ولا يزيد الظالمين إلا خسارا. وقد نبه المفسرون إلى أن الشيء الواحد يعمل هنا عملين مختلفين، بحسب من يلقاه ويستقبله.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْمَرَضِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا ثَقُلَ كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَكَتِهَا. فَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ كَيْفَ يَنْفِثُ قَالَ كَانَ يَنْفِثُ عَلَى يَدَيْهِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ.
Narrated `Aisha:During the Prophet's fatal illness, he used to recite the Mu'auwidhat (Surat An-Nas and Surat Al- Falaq) and then blow his breath over his body. When his illness was aggravated, I used to recite those two Suras and blow my breath over him and make him rub his body with his own hand for its blessings." (Ma`mar asked Az-Zuhri: How did the Prophet (ﷺ) use to blow? Az-Zuhri said: He used to blow on his hands and then passed them over his face
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں اپنے اوپر معوذات ( سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) کا دم کیا کرتے تھے۔ پھر جب آپ کے لیے دشوار ہو گیا تو میں ان کا دم آپ پر کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم مبارک پر بھی پھیر لیتی تھی۔ پھر میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کرتے تھے، انہوں نے بتایا کہ اپنے ہاتھ پر دم کر کے ہاتھ کو چہرے پر پھیرا کرتے تھے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اشْهَدُوا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Ibn Mas'ud:"The moon was cleft asunder during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), so the Prophet (ﷺ) said to us: 'Bear witness
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم سب گواہ رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلاَثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَطْعَنُهَا بِمِخْصَرَةٍ فِي يَدِهِ وَرُبَّمَا قَالَ بِعُودٍ وَيَقُولُ : (جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ) : (جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ ) . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
Narrated Ibn Mas'ud:"The Messenger of Allah (ﷺ) entered Makkah during the year of the Conquest, and there were three hundred and sixty Nusb (Altars to sacrifice to idols) around the Ka'bah. So the Prophet (ﷺ) started hitting them with a stick he had in his hand" - or perhaps he said: "With a piece of wood, and he was saying: The truth has come and falsehood has vanished. Surely falsehood is ever bound to vanish (17:81). The truth has come and falsehood can neither originate anything nor resurrect (anything) (34:)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس سال مکہ فتح ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آپ اپنے ہاتھ میں لی ہوئی چھڑی سے انہیں کچوکے لگانے لگے ( عبداللہ نے کبھی ایسا کہا ) اور کبھی کہا کہ آپ اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیے ہوئے تھے، اور انہیں ہاتھ لگاتے ہوئے کہتے جاتے تھے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا» ”حق آ گیا باطل مٹ گیا باطل کو مٹنا اور ختم ہونا ہی تھا“ ( بنی اسرائیل: ۸۱ ) ، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» ”حق غالب آ گیا ہے، اب باطل نہ ابھر سکے گا اور نہ ہی لوٹ کر آئے گا“ ( سبا: ۴۹ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Narrated Muhammad bin Ka'b Al-Qurazi:"I heard 'Abdullah bin Mas'ud saying: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: "[Whoever recites a letter] from Allah's Book, then he receives the reward from it, and the reward of ten the like of it. I do not say that Alif Lam Mim is a letter, but Alif is a letter, Lam is a letter and Mim is a letter
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا «الم» ایک حرف ہے، بلکہ «الف» ایک حرف ہے، «لام» ایک حرف ہے اور «میم» ایک حرف ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابن مسعود سے روایت کی گئی ہے، ۲- اس حدیث کو ابوالاحوص نے ابن مسعود سے روایت کیا ہے۔ بعض نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے اور بعض نے اسے ابن مسعود سے موقوفاً روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Abu Sa'eed narrated:"The Messenger of Allah (s.a.w) dispatched us on a military expedition. We camped with some people and asked them to entertain us but they did not entertain us. Their leader was stung so they came to us saying: 'Is there anyone among you who can treat a scorpion sting with Ruqyah?' I said: 'Yes I can. But I will not do any Ruqyah until you give us some sheep.' They said: 'Then we shall give you thirty sheep.' We accepted that,and I recited Al-Hamda [Lillah] seven times. He became better and we took the sheep." He said: "We became concerned about that being permissible and said: 'Do not be hasty until we reach the Messenger of Allah (S.A.W)." He said: "When we arrived …
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا، ہم نے ایک قوم کے پاس پڑاؤ ڈالا اور ان سے ضیافت کی درخواست کی، لیکن ان لوگوں نے ہماری ضیافت نہیں کی، اسی دوران ان کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا، چنانچہ انہوں نے ہمارے پاس آ کر کہا: کیا آپ میں سے کوئی بچھو کے ڈنک سے جھاڑ پھونک کرتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں کرتا ہوں، لیکن اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک کہ تم مجھے کچھ بکریاں نہ دے دو، انہوں نے کہا: ہم تم کو تیس بکریاں دیں گے، چنانچہ ہم نے قبول کر لیا اور میں نے سات بار سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ صحت یاب ہو گیا اور ہم نے بکریاں لے لیں ۱؎، ہمارے دل میں بکریوں کے متعلق کچھ خیال آیا ۲؎، لہٰذا ہم نے کہا: جلدی نہ کرو، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ …
PickthallAnd when We make life pleasant unto man, he turneth away and is averse; and when ill toucheth him he is in despair.
Yusuf AliYet when We bestow Our favours on man, he turns away and becomes remote on his side (instead of coming to Us), and when evil seizes him he gives himself up to despair!
The agreed readingAnd when We favour man he turns away and holds himself aloof, and when harm touches him he despairs.
Urduاور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے اور خود کو الگ کر لیتا ہے، اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مایوس ہو جاتا ہے۔
Arabicوإذا أنعمنا على الإنسان بمال أو صحة أو نعمة أخرى أعرض عن طاعتنا ونأى بجانبه متكبرا، وإذا مسه الشر القليل كان يؤوسا قنوطا من رحمة ربه.
Narrated `Abdullah:While I was going with the Prophet (ﷺ) through the ruins of Medina and he was reclining on a date-palm leaf stalk, some Jews passed by. Some of them said to the others: Ask him (the Prophet) about the spirit. Some of them said that they should not ask him that question as he might give a reply which would displease them. But some of them insisted on asking, and so one of them stood up and asked, "O Abul-Qasim ! What is the spirit?" The Prophet (ﷺ) remained quiet. I thought he was being inspired Divinely. So I stayed till that state of the Prophet (while being inspired) was over. The Prophet (ﷺ) then said, "And they ask you (O Muhammad) concerning the spirit --Say: The …
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے، ان سے اعمش سلیمان بن مہران نے ابراہیم کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے علقمہ سے نقل کیا، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی چھڑی پر سہارا دے کر چل رہے تھے، تو کچھ یہودیوں کا ( ادھر سے ) گزر ہوا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کے بارے میں کچھ پوچھو، ان میں سے کسی نے کہا مت پوچھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں ناگوار ہو ( مگر ) ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور پوچھیں گے، پھر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا، اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی، میں نے ( دل میں ) …
Narrated `Abdullah:While I was walking with Allah's Messenger (ﷺ) in one of the fields of Medina and he was walking leaning on a stick, he passed a group of Jews. Some of them said to the others, "Ask him (the Prophet) about the spirit." Others said, "Do not ask him." But they asked him and he stood leaning on the stick and I was standing behind him and I thought that he was being divinely inspired. Then he said, "They ask you concerning the spirit say: The spirit, its knowledge is with My Lord. And of knowledge you (O men!) have been given only a little." ...(17.85) On that some of the Jews said to the others, "Didn't we tell you not to ask?
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع بن جراح نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چھڑی پر ٹیکا لیتے جاتے تھے۔ پھر آپ یہودیوں کی ایک جماعت سے گزرے تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ ان سے روح کے متعلق پوچھو اور بعض نے کہا کہ اس کے متعلق مت پوچھو۔ آخر انہوں نے پوچھا تو آپ چھڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور میں آپ کے پیچھے تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ چنانچہ آپ نے یہ آیت پڑھی «ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» ”اور لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرْثٍ وَهْوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ إِذْ مَرَّ الْيَهُودُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، فَقَالَ مَا رَابَكُمْ إِلَيْهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَىْءٍ تَكْرَهُونَهُ فَقَالُوا سَلُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، فَقُمْتُ مَقَامِي، فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْىُ قَالَ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ …
Narrated `Abdullah:While I was in the company of the Prophet (ﷺ) on a farm and he was reclining on a palm leaf stalk, some Jews passed by. Some of them said to the others. "Ask him (the Prophet (ﷺ) about the spirit." Some of them said, "What urges you to ask him about it" Others said, "(Don't) lest he should give you a reply which you dislike." But they said, "Ask him." So they asked him about the Spirit. The Prophet (ﷺ) kept quiet and did not give them any answer. I knew that he was being divinely inspired so I stayed at my place. When the divine inspiration had been revealed, the Prophet (ﷺ) said. "They ask you (O, Muhammad) concerning the Spirit, Say: "The spirit," its knowledge is with …
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا، ان سے علقمہ نے، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں حاضر تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھجور کے ایک تنے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ کچھ یہودی اس طرف سے گزرے۔ کسی یہودی نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ ان میں سے کسی نے اس پر کہا ایسا کیوں کرتے ہو؟ دوسرا یہودی بولا۔ کہیں وہ کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں، جو تم کو ناپسند ہو۔ رائے اس پر ٹھہری کہ روح کے بارے میں پوچھنا ہی چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے آپ سے اس کے بارے میں سوال کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ . فَأَبَى عَلَيْهِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ " . فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ …
It was narrated from Urwah bin Zubair that 'Abdullah bin Zubair told him that:A man from the Ansar had a dispute with Zubair in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning a stream in the Harrah which they used to irrigate the date-palm trees. The Ansari said: "Let the water flow" but Zubair refused. So they referred that dispute to the Messenger of Allah (ﷺ) who said: "Irrigate (your land), O Zubair., and then let the water flow to your neighbor." The Ansari became angry and said "O Messenger of Allah, is it because he is your cousin?" The face of the Messenger of Allah (ﷺ) changed color (because of anger) and he said: "O Zubair, irrigate (your land) then block the water until it …
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقام حرہ کی اس نالی کے بارے میں جھگڑا کیا جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی چھوڑ دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے، زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، ان دونوں نے اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا کھیت سینچ لو! پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ، انصاری غضبناک ہو کر بولا: اللہ کے رسول! یہ اس وجہ سے کہ وہ آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا باغ سینچ لو، پھر پانی …
PickthallThey are asking thee concerning the Spirit. Say: The Spirit is by command of my Lord, and of knowledge ye have been vouchsafed but little.
Yusuf AliThey ask thee concerning the Spirit (of inspiration). Say: "The Spirit (cometh) by command of my Lord: of knowledge it is only a little that is communicated to you, (O men!)"
The agreed readingAnd they ask you about the Spirit. Say: the Spirit is of my Lord's command, and you have been given only a little of knowledge. The commentaries note that the answer does not withhold an explanation so much as place the question where the questioner cannot follow.
Urduاور وہ تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو: روح میرے رب کے حکم میں سے ہے، اور تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔ مفسرین بتاتے ہیں کہ یہ جواب کوئی وضاحت روکنے کے بجائے اس سوال کو ایسی جگہ رکھ دیتا ہے جہاں سوال کرنے والا خود ساتھ نہیں چل سکتا۔
Arabicويسألونك عن الروح، قل: الروح من أمر ربي وعلمه وحده، وما أوتيتم من العلم إلا قليلا جدا. وقد نبه المفسرون إلى أن الجواب لا يمنع تفسيرا بقدر ما يضع السؤال حيث لا يقدر السائل أن يتابعه.
الأخبار المذكورة هنا: 6 — 5 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة6 reports cited here — 5 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 6 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, Ibn Kathīr, Ibn ʿĀshūr and Ṭanṭāwī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Ibn 'Abbas:"The Quraish said to the Jews: 'Give us something that we can ask this man about.' So he said: 'Ask him about the Ruh.' So they asked him about the Ruh. So Allah Most High, revealed: They ask you concerning the Ruh. Say: The Ruh is one of the things, the knowledge of which is only with my Lord. And of knowledge, you have been given only a little (17:85). They replied: 'We have been given immense knowledge, we were given the Tawrah, and whoever has been given the Tawrah, then he has indeed been given a wealth of knowledge.' So the following was revealed: Say: 'If the sea were ink for the Words of my Lord, surely the sea would be exhausted (before the Words of my Lord …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا سوال دو جسے ہم اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے پوچھیں، انہوں نے کہا: اس شخص سے روح کے بارے میں سوال کرو، تو انہوں نے آپ سے روح کے بارے میں پوچھا ( روح کی حقیقت کیا ہے؟ ) اس پر اللہ نے آیت «ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» ”تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو! روح امر الٰہی ہے، تمہیں بہت ہی تھوڑا علم دیا گیا ہے“ ( بنی اسرائیل: ۸۵ ) ، انہوں نے کہا: ہمیں تو بہت زیادہ علم حاصل ہے، ہمیں توراۃ ملی ہے، اور جسے توراۃ دی گئی ہو اسے بہت بڑی خیر مل گئی، اس پر آیت «قل لو كان البحر مدادا لكلمات ربي لنفد البحر» ”کہہ دیجئیے: اگر میرے رب کی باتیں، کلمے، معلومات و مقدرات …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرْثٍ وَهْوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ إِذْ مَرَّ الْيَهُودُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، فَقَالَ مَا رَابَكُمْ إِلَيْهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَىْءٍ تَكْرَهُونَهُ فَقَالُوا سَلُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، فَقُمْتُ مَقَامِي، فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْىُ قَالَ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ …
Narrated `Abdullah:While I was in the company of the Prophet (ﷺ) on a farm and he was reclining on a palm leaf stalk, some Jews passed by. Some of them said to the others. "Ask him (the Prophet (ﷺ) about the spirit." Some of them said, "What urges you to ask him about it" Others said, "(Don't) lest he should give you a reply which you dislike." But they said, "Ask him." So they asked him about the Spirit. The Prophet (ﷺ) kept quiet and did not give them any answer. I knew that he was being divinely inspired so I stayed at my place. When the divine inspiration had been revealed, the Prophet (ﷺ) said. "They ask you (O, Muhammad) concerning the Spirit, Say: "The spirit," its knowledge is with …
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا، ان سے علقمہ نے، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں حاضر تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھجور کے ایک تنے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ کچھ یہودی اس طرف سے گزرے۔ کسی یہودی نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ ان میں سے کسی نے اس پر کہا ایسا کیوں کرتے ہو؟ دوسرا یہودی بولا۔ کہیں وہ کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں، جو تم کو ناپسند ہو۔ رائے اس پر ٹھہری کہ روح کے بارے میں پوچھنا ہی چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے آپ سے اس کے بارے میں سوال کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے …
Narrated `Abdullah:While I was walking with Allah's Messenger (ﷺ) in one of the fields of Medina and he was walking leaning on a stick, he passed a group of Jews. Some of them said to the others, "Ask him (the Prophet) about the spirit." Others said, "Do not ask him." But they asked him and he stood leaning on the stick and I was standing behind him and I thought that he was being divinely inspired. Then he said, "They ask you concerning the spirit say: The spirit, its knowledge is with My Lord. And of knowledge you (O men!) have been given only a little." ...(17.85) On that some of the Jews said to the others, "Didn't we tell you not to ask?
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع بن جراح نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چھڑی پر ٹیکا لیتے جاتے تھے۔ پھر آپ یہودیوں کی ایک جماعت سے گزرے تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ ان سے روح کے متعلق پوچھو اور بعض نے کہا کہ اس کے متعلق مت پوچھو۔ آخر انہوں نے پوچھا تو آپ چھڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور میں آپ کے پیچھے تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ چنانچہ آپ نے یہ آیت پڑھی «ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» ”اور لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے …
Narrated `Abdullah:While I was going with the Prophet (ﷺ) through the ruins of Medina and he was reclining on a date-palm leaf stalk, some Jews passed by. Some of them said to the others: Ask him (the Prophet) about the spirit. Some of them said that they should not ask him that question as he might give a reply which would displease them. But some of them insisted on asking, and so one of them stood up and asked, "O Abul-Qasim ! What is the spirit?" The Prophet (ﷺ) remained quiet. I thought he was being inspired Divinely. So I stayed till that state of the Prophet (while being inspired) was over. The Prophet (ﷺ) then said, "And they ask you (O Muhammad) concerning the spirit --Say: The …
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے، ان سے اعمش سلیمان بن مہران نے ابراہیم کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے علقمہ سے نقل کیا، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی چھڑی پر سہارا دے کر چل رہے تھے، تو کچھ یہودیوں کا ( ادھر سے ) گزر ہوا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کے بارے میں کچھ پوچھو، ان میں سے کسی نے کہا مت پوچھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں ناگوار ہو ( مگر ) ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور پوچھیں گے، پھر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا، اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی، میں نے ( دل میں ) …
Narrated Ibn Mas`ud:While I was walking in company with the Prophet (ﷺ) in one of the fields of Medina, the Prophet (ﷺ) was reclining on a palm leave stalk which he carried with him. We passed by a group of Jews. Some of them said to the others, "Ask him about the spirit." The others said, "Do not ask him, lest he would say something that you hate." Some of them said, "We will ask him." So a man from among them stood up and said, 'O Abal-Qasim! What is the spirit?" The Prophet (ﷺ) kept quiet and I knew that he was being divinely inspired. Then he said: "They ask you concerning the Spirit, Say: The Spirit; its knowledge is with my Lord. And of knowledge you (mankind) have been given only a …
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ بن قیس نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی کا سہارا لیتے جاتے تھے، پھر ہم یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ کچھ یہودیوں نے مشورہ دیا کہ نہ پوچھو، کہیں کوئی ایسی بات نہ کہیں جس کا ( ان کی زبان سے سننا ) تم پسند نہ کرو۔ لیکن بعض نے اصرار کیا کہ نہیں! ہم پوچھیں گے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے اٹھ کر کہا: اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش …
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الواحد الأحد الذي لا شريك له، الفرد الصمد الذي لا شبيه له، الأول القديم الذي لا غاية له، الآخر الباقي الذي لا نهاية له، الموجود الثابت الذي لا عدم له، الملك الدائم الذي لا زوال له، القادر الذي لا يعجزه شئ، العليم الذي لا يخفى عليه شئ، الحي لا بحياة، الكائن لا في مكان، السميع البصير الذي لا آلة له ولا أداة، الذي أمر بالعدل، وأخذ بالفضل، وحكم بالفصل، لا معقب لحكمه، ولا راد لقضائه، ولا غالب لإرادته، ولا قاهر لمشيته، وإنما أمره إذا أراد شيئا أن يقول له كن فيكون، فسبحان الذي بيده ملكوت كل شئ، وإليه المرجع والمصير. وأشهد أن لا إله إلا الله رب العالمين، وأشهد أن محمد عبده ورسوله سيد النبيين وخير خلقه أجمعين، وأشهد أن علي بن أبي طالب سيد الوصيين وإمام المتقين و قائد …
All praise be to Allah, the One and Only, who does not have a partner; the Peerless, the Needless, who has no like; the First, the Ever-Existent, who has no limit; the Last and the Everlasting who has no end; the Existing, the Constant, who has no non-existence; the Eternal King, who does not decline; the Power who is not weakened; the All-Knowing from who nothing can be hidden; the Alive but not with life; the One who Exists, but who is not confined to place; the All-Hearing and the All-Seeing, who has no ears and eyes; the One who ordered with justice, punished with favour, and commanded with bounty, but not to trap people under His Command. There is no rejecter to His Judgement, no …
بسم الله الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ کے لیے جو ایک و یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، یکتا و لاشریک جس کی کوئی ہمسری نہیں، سب سے پہلے اور قدیم جس کی کوئی انتہا نہیں، آخری اور ہمیشہ رہنے والا جس کا کوئی خاتمہ نہیں، موجود اور قائم جس کا کوئی عدم نہیں، ہمیشہ باقی بادشاہ جس کا کوئی زوال نہیں، قدرتوار جس سے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، علم والا جس سے کوئی چیز مخفی نہیں، زندہ بغیر جیون کے، موجود بغیر مکان کے، سننے والا دیکھنے والا جس کے پاس کوئی آلہ یا اوزار نہیں۔ جس نے عدل کا حکم دیا، فضل کے ساتھ سلوک کیا، حکمت سے فیصلہ کیا۔ اس کے فیصلے کو کوئی واپس نہیں کر سکتا، اس کے حکم کو کوئی بدل نہیں سکتا، اس کی مرضی کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، اس کے ارادے کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اور تو اس کا امر صرف یہ ہے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd if We willed We could withdraw that which We have revealed unto thee, then wouldst thou find no guardian for thee against Us in respect thereof.
Yusuf AliIf it were Our Will, We could take away that which We have sent thee by inspiration: then wouldst thou find none to plead thy affair in that matter as against Us,-
The agreed readingAnd if We willed, We could take away what We have revealed to you, and then you would find no one to rely on against Us in it.
Urduاور اگر ہم چاہتے تو جو کچھ ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے وہ لے جاتے، پھر تمہیں اس معاملے میں ہمارے خلاف کوئی بھروسہ کرنے والا نہ ملتا۔
Arabicولئن شئنا حقا لنذهبن بالذي أوحينا إليك من هذا القرآن العظيم كله تماما، ثم لا تجد لك به علينا وكيلا واحدا يرده عليك أبدا مطلقا قط.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Islam will wear out as embroidery on a garment wears out, until no one will know what fasting, prayer, (pilgrimage) rites and charity are. The Book of Allah will be taken away at night, and not one Verse of it will be left on earth. And there will be some people left, old men and old women, who will say: “We saw our fathers saying these words: ‘La ilaha illallah’ so we say them too.” Silah said to him: “What good will (saying): La ilaha illallah do them, when they do not know what fasting, prayer, (pilgrimage) rites and charity are?” Hudhaifah turned away from his. He repeated his question three times, and …
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام ایسا ہی پرانا ہو جائے گا جیسے کپڑے کے نقش و نگار پرانے ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ یہ جاننے والے بھی باقی نہ رہیں گے کہ نماز، روزہ، قربانی اور صدقہ و زکاۃ کیا چیز ہے؟ اور کتاب اللہ ایک رات میں ایسی غائب ہو جائے گی کہ اس کی ایک آیت بھی باقی نہ رہ جائے گی ۱؎، اور لوگوں کے چند گروہ ان میں سے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں باقی رہ جائیں گے، کہیں گے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو یہ کلمہ «لا إله إلا الله» کہتے ہوئے پایا، تو ہم بھی اسے کہا کرتے ہیں ۲؎۔ صلہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب انہیں یہ نہیں معلوم ہو گا کہ نماز، روزہ، قربانی اور صدقہ و زکاۃ کیا چیز ہے تو انہیں فقط یہ کلمہ «لا إله إلا الله» کیا فائدہ پہنچائے گا؟ تو …
Pickthall(It is naught) save mercy from thy Lord. Lo! His kindness unto thee was ever great.
Yusuf AliExcept for Mercy from thy Lord: for his bounty is to thee (indeed) great.
The agreed readingExcept as a mercy from your Lord. His favour towards you has been great. The commentaries read it as naming the only reason what was given was not taken back, and the naming falls on mercy rather than on anything earned.
Urduسوائے تمہارے رب کی طرف سے رحمت کے۔ اس کا فضل تم پر بہت بڑا رہا ہے۔ مفسرین اسے اس واحد وجہ کے بیان کے طور پر پڑھتے ہیں کہ جو کچھ دیا گیا وہ کیوں واپس نہیں لیا گیا، اور یہ وجہ رحمت پر رکھی گئی ہے، کسی کمائے ہوئے استحقاق پر نہیں۔
Arabicإلا رحمة من ربك بك، إن فضله كان عليك كبيرا عظيما. وقد قرأ المفسرون هذا بيانا للسبب الوحيد الذي لم يسترجع لأجله ما أعطي، وهذا السبب وضع على الرحمة لا على أي استحقاق مكتسب.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Islam will wear out as embroidery on a garment wears out, until no one will know what fasting, prayer, (pilgrimage) rites and charity are. The Book of Allah will be taken away at night, and not one Verse of it will be left on earth. And there will be some people left, old men and old women, who will say: “We saw our fathers saying these words: ‘La ilaha illallah’ so we say them too.” Silah said to him: “What good will (saying): La ilaha illallah do them, when they do not know what fasting, prayer, (pilgrimage) rites and charity are?” Hudhaifah turned away from his. He repeated his question three times, and …
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام ایسا ہی پرانا ہو جائے گا جیسے کپڑے کے نقش و نگار پرانے ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ یہ جاننے والے بھی باقی نہ رہیں گے کہ نماز، روزہ، قربانی اور صدقہ و زکاۃ کیا چیز ہے؟ اور کتاب اللہ ایک رات میں ایسی غائب ہو جائے گی کہ اس کی ایک آیت بھی باقی نہ رہ جائے گی ۱؎، اور لوگوں کے چند گروہ ان میں سے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں باقی رہ جائیں گے، کہیں گے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو یہ کلمہ «لا إله إلا الله» کہتے ہوئے پایا، تو ہم بھی اسے کہا کرتے ہیں ۲؎۔ صلہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب انہیں یہ نہیں معلوم ہو گا کہ نماز، روزہ، قربانی اور صدقہ و زکاۃ کیا چیز ہے تو انہیں فقط یہ کلمہ «لا إله إلا الله» کیا فائدہ پہنچائے گا؟ تو …
PickthallSay: Verily, though mankind and the jinn should assemble to produce the like of this Qur'an, they could not produce the like thereof though they were helpers one of another.
Yusuf AliSay: "If the whole of mankind and Jinns were to gather together to produce the like of this Qur'an, they could not produce the like thereof, even if they backed up each other with help and support.
The agreed readingSay: if all human beings and jinn gathered to bring the like of this Recitation, they would not bring the like of it, even if they backed one another. The commentaries take the challenge to be open and still standing.
Urduکہہ دیجیے: اگر تمام انسان اور جن مل کر اس قرآن جیسا کچھ لانے کے لیے جمع ہو جائیں تو وہ اس جیسا نہیں لا سکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ بن جائیں۔ مفسرین اس چیلنج کو کھلا اور آج تک قائم سمجھتے ہیں۔
Arabicقل: لئن اجتمعت الإنس والجن جميعا على أن يأتوا بمثل هذا القرآن، لا يأتون بمثله أبدا، ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا ومعينا. وقد فهم المفسرون هذا التحدي تحديا مفتوحا قائما إلى اليوم.
PickthallAnd verily We have displayed for mankind in this Qur'an all kind of similitudes, but most of mankind refuse aught save disbelief.
Yusuf AliAnd We have explained to man, in this Qur'an, every kind of similitude: yet the greater part of men refuse (to receive it) except with ingratitude!
The agreed readingAnd We have turned about for people in this Recitation every kind of likeness, and most people refused anything but denial.
Urduاور بےشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال کو پھیر پھیر کر بیان کیا ہے، مگر اکثر لوگوں نے انکار کے سوا کچھ اور قبول نہیں کیا۔
Arabicولقد صرفنا ونوعنا للناس أجمعين في هذا القرآن العظيم الكريم من كل مثل ينفعهم ويعتبرون به ويتذكرون، فأبى أكثر الناس إلا كفورا وجحودا شديدا للحق.
PickthallAnd they say: We will not put faith in thee till thou cause a spring to gush forth from the earth for us;
Yusuf AliThey say: "We shall not believe in thee, until thou cause a spring to gush forth for us from the earth,
The agreed readingAnd they said: we will not believe you until you make a spring gush out of the earth for us,
Urduاور انہوں نے صاف صاف انکار کرتے ہوئے کہہ دیا: ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک تم ہمارے لیے اس زمین سے کوئی چشمہ نہ نکال دو،
Arabicوقال هؤلاء الكافرون المعاندون جميعا حقا: لن نؤمن لك أيها الرسول الكريم أبدا حتى تفجر لنا من هذه الأرض المباركة ينبوعا يجري بغزارة تامة أمامنا جميعا،
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Uqbah bin 'Amir narrated:"I said: 'O Messenger of Allah! What is the means to salvation?' He said: 'That you control your tongue, suffice yourself your house, and cry over your sins
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
It was narrated from Abu Umamah that:The Messenger of Allah said: "None of you should fail to say, when he enters his toilet: 'Allahumma inni a`udhu bika minar-rijsin-najis, al-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (O Allah, I seek refuge with You from the filthy and impure, the evil one with evil companions, the accursed Shaitan).'" (Da'if) Another chain with a slightly different wording from Ibn Abi Maryam who mentioned similar, but he did not say in his narration: "Minar-rijsin-najis (From the filthy and the impure)" he only said: "Minal-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (From the evil one with evil companions, the accursed Shaitan)
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو اس دعا کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرے: «اللهم إني أعوذ بك من الرجس النجس الخبيث المخبث الشيطان الرجيم» یعنی: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپاک، گندے، برے بدکار راندے ہوئے شیطان کے شر سے ۔
Uqbah bin 'Amir narrated:"I said: 'O Messenger of Allah! What is the means to salvation?' He said: 'That you control your tongue, suffice yourself your house, and cry over your sins
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
It was narrated from Abu Umamah that:The Messenger of Allah said: "None of you should fail to say, when he enters his toilet: 'Allahumma inni a`udhu bika minar-rijsin-najis, al-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (O Allah, I seek refuge with You from the filthy and impure, the evil one with evil companions, the accursed Shaitan).'" (Da'if) Another chain with a slightly different wording from Ibn Abi Maryam who mentioned similar, but he did not say in his narration: "Minar-rijsin-najis (From the filthy and the impure)" he only said: "Minal-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (From the evil one with evil companions, the accursed Shaitan)
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو اس دعا کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرے: «اللهم إني أعوذ بك من الرجس النجس الخبيث المخبث الشيطان الرجيم» یعنی: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپاک، گندے، برے بدکار راندے ہوئے شیطان کے شر سے ۔
PickthallOr thou cause the heaven to fall upon us piecemeal, as thou hast pretended, or bring Allah and the angels as a warrant;
Yusuf Ali"Or thou cause the sky to fall in pieces, as thou sayest (will happen), against us; or thou bring Allah and the angels before (us) face to face:
The agreed readingor you make the sky fall on us in pieces, as you claim, or you bring God and the angels before us face to face,
Urduیا تم آسمان کو ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دو جیسا کہ تم دعویٰ کرتے ہو، یا تم اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے رو در رو لے آؤ،
Arabicأو تسقط أنت علينا هذه السماء كسفا متناثرة قطعا كما زعمت أنت لنا من قبل، أو تأتينا بالله وملائكته جميعا قبيلا مواجهة أمامنا تماما حقا،
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Uqbah bin 'Amir narrated:"I said: 'O Messenger of Allah! What is the means to salvation?' He said: 'That you control your tongue, suffice yourself your house, and cry over your sins
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
It was narrated from Abu Umamah that:The Messenger of Allah said: "None of you should fail to say, when he enters his toilet: 'Allahumma inni a`udhu bika minar-rijsin-najis, al-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (O Allah, I seek refuge with You from the filthy and impure, the evil one with evil companions, the accursed Shaitan).'" (Da'if) Another chain with a slightly different wording from Ibn Abi Maryam who mentioned similar, but he did not say in his narration: "Minar-rijsin-najis (From the filthy and the impure)" he only said: "Minal-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (From the evil one with evil companions, the accursed Shaitan)
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو اس دعا کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرے: «اللهم إني أعوذ بك من الرجس النجس الخبيث المخبث الشيطان الرجيم» یعنی: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپاک، گندے، برے بدکار راندے ہوئے شیطان کے شر سے ۔
PickthallOr thou have a house of gold; or thou ascend up into heaven, and even then we will put no faith in thine ascension till thou bring down for us a book that we can read. Say (O Muhammad): My Lord be Glorified! Am I aught save a mortal messenger?
Yusuf Ali"Or thou have a house adorned with gold, or thou mount a ladder right into the skies. No, we shall not even believe in thy mounting until thou send down to us a book that we could read." Say: "Glory to my Lord! Am I aught but a man,- a messenger?"
The agreed readingor you have a house of gold, or you climb up into the sky — and we will not believe your climbing until you bring down a book we can read. Say: glory to my Lord — am I anything but a mortal, a messenger?
Urduیا تمہارے پاس سونے کا کوئی گھر ہو، یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ — اور ہم تمہارے چڑھنے پر بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک تم ہمارے لیے ایسی کتاب نہ اتار لاؤ جسے ہم خود پڑھ سکیں۔ کہہ دو: میرا رب پاک ہے — کیا میں ایک بشر، ایک رسول کے سوا کچھ اور ہوں؟
Arabicأو يكون لك بيت من ذهب وزخرف، أو ترقى في السماء صاعدا، ولن نؤمن لرقيك حتى تنزل علينا كتابا نقرأه نحن نفسنا. قل: سبحان ربي، هل كنت إلا بشرا رسولا مثلكم؟
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ibn ‘Abbas said “When the Apostle of Allaah(ﷺ) had victory over Quraish in the batte of Badr and came to Madeenah he gathered the Jews in the market of Banu Qainuqa and said “O community of Jews embrace Islam before you suffer an injury as the Quraish suffered.” They said “Muhammad, you should not deceive yourself (taking pride) that you had killed a few persons of the Quariash who were inexperienced and did not know how to fight. Had you fought with us, you would have known us. You have never met people like us.” Allah Most High revealed about this the following verse “Say to those who reject faith, soon will ye be vanished... one army was fighting in the cause of Allaah, the other …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں قریش پر فتح حاصل کی اور مدینہ لوٹ کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بنی قینقاع کے بازار میں اکٹھا کیا، اور ان سے کہا: اے یہود کی جماعت! تم مسلمان ہو جاؤ قبل اس کے کہ تمہارا حال بھی وہی ہو جو قریش کا ہوا ، انہوں نے کہا: محمد! تم اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تم نے قریش کے کچھ نا تجربہ کار لوگوں کو جو جنگ سے واقف نہیں تھے قتل کر دیا ہے، اگر تم ہم سے لڑتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ مرد میدان ہم ہیں ابھی تمہاری ہم جیسے جنگجو بہادر لوگوں سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «قل للذين كفروا ستغلبون» کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے ( سورۃ آل عمران: ۱۲ ) حدیث کے راوی مصرف نے …
Uqbah bin 'Amir narrated:"I said: 'O Messenger of Allah! What is the means to salvation?' He said: 'That you control your tongue, suffice yourself your house, and cry over your sins
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
It was narrated from Abu Umamah that:The Messenger of Allah said: "None of you should fail to say, when he enters his toilet: 'Allahumma inni a`udhu bika minar-rijsin-najis, al-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (O Allah, I seek refuge with You from the filthy and impure, the evil one with evil companions, the accursed Shaitan).'" (Da'if) Another chain with a slightly different wording from Ibn Abi Maryam who mentioned similar, but he did not say in his narration: "Minar-rijsin-najis (From the filthy and the impure)" he only said: "Minal-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (From the evil one with evil companions, the accursed Shaitan)
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو اس دعا کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرے: «اللهم إني أعوذ بك من الرجس النجس الخبيث المخبث الشيطان الرجيم» یعنی: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپاک، گندے، برے بدکار راندے ہوئے شیطان کے شر سے ۔
PickthallAnd naught prevented mankind from believing when the guidance came unto them save that they said: Hath Allah sent a mortal as (His) messenger?
Yusuf AliWhat kept men back from belief when Guidance came to them, was nothing but this: they said, "Has Allah sent a man (like us) to be (His) Messenger?"
The agreed readingAnd nothing kept people from believing when the guidance came to them except that they said: has God sent a mortal as a messenger?
Urduاور لوگوں کو ایمان لانے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ جب ان کے پاس ہدایت آئی تو انہوں نے کہا: کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟
Arabicوما منع أكثر الناس جميعا أن يؤمنوا حين جاءهم الهدى الواضح البين إلا أن قالوا جاحدين منكرين متعجبين: أبعث الله كذلك بشرا مثلنا رسولا حقا وفعلا؟
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas b. Malik reported that a person said:Allah's Messenger, how the non-believers be made to assemble on the Day of Resurrection (by crawling) on their faces? Thereupon he said: Is He Who is powerful to make them walk on their feet not powerful enough to make them (crawl) upon their faces on the Day of Resurrection? Qatada said: Of course, it is so. (He adjured): By the might of our Lord
شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز کافر کو کس طرح منہ کے بل میدان حشر میں لایا جائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کہ جس نے دنیا میں پاؤں کے بل چلایا ہےوہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلائے؟ "" قتادہ نے ( حدیث سنانے کے بعد ) کہا : کیوں نہیں ، ہمارے رب کی عزت کی قسم! ( وہ قادر ہے)
PickthallSay: If there were in the earth angels walking secure, We had sent down for them from heaven an angel as messenger.
Yusuf AliSay, "If there were settled, on earth, angels walking about in peace and quiet, We should certainly have sent them down from the heavens an angel for a messenger."
The agreed readingSay: if there were angels walking about settled on the earth, We would have sent down to them from the sky an angel as a messenger. The commentaries take the principle to be that a messenger is sent of the same kind as those he is sent to.
Urduکہہ دیجیے: اگر زمین پر فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم ان کی طرف آسمان سے ایک فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔ مفسرین اس اصول کو یوں بیان کرتے ہیں کہ رسول ہمیشہ اسی جنس میں سے بھیجا جاتا ہے جس کی طرف اسے بھیجا جا رہا ہو۔
Arabicقل: لو كان في الأرض ملائكة يمشون عليها مطمئنين مستقرين، لنزلنا عليهم من السماء ملكا رسولا من جنسهم. وقد جعل المفسرون هذا مبدأ عاما: يرسل الرسول من جنس من أرسل إليهم دائما.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas b. Malik reported that a person said:Allah's Messenger, how the non-believers be made to assemble on the Day of Resurrection (by crawling) on their faces? Thereupon he said: Is He Who is powerful to make them walk on their feet not powerful enough to make them (crawl) upon their faces on the Day of Resurrection? Qatada said: Of course, it is so. (He adjured): By the might of our Lord
شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز کافر کو کس طرح منہ کے بل میدان حشر میں لایا جائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کہ جس نے دنیا میں پاؤں کے بل چلایا ہےوہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلائے؟ "" قتادہ نے ( حدیث سنانے کے بعد ) کہا : کیوں نہیں ، ہمارے رب کی عزت کی قسم! ( وہ قادر ہے)
Anas b. Malik reported that a person said:Allah's Messenger, how the non-believers be made to assemble on the Day of Resurrection (by crawling) on their faces? Thereupon he said: Is He Who is powerful to make them walk on their feet not powerful enough to make them (crawl) upon their faces on the Day of Resurrection? Qatada said: Of course, it is so. (He adjured): By the might of our Lord
شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز کافر کو کس طرح منہ کے بل میدان حشر میں لایا جائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کہ جس نے دنیا میں پاؤں کے بل چلایا ہےوہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلائے؟ "" قتادہ نے ( حدیث سنانے کے بعد ) کہا : کیوں نہیں ، ہمارے رب کی عزت کی قسم! ( وہ قادر ہے)
PickthallAnd he whom Allah guideth, he is led aright; while, as for him whom He sendeth astray, for them thou wilt find no protecting friends beside Him, and We shall assemble them on the Day of Resurrection on their faces, blind, dumb and deaf; their habitation will be hell; whenever it abateth, We increase the flame for them.
Yusuf AliIt is he whom Allah guides, that is on true Guidance; but he whom He leaves astray - for such wilt thou find no protector besides Him. On the Day of Judgment We shall gather, them together, prone on their faces, blind, dumb, and deaf: their abode will be Hell: every time it shows abatement, We shall increase from them the fierceness of the Fire.
The agreed readingAnd whoever God guides is the one guided, and whoever He lets go astray — you will find them no protectors besides Him. And We will gather them on the Day of Resurrection on their faces, blind and dumb and deaf. Their shelter is Hell; whenever it dies down, We increase the blaze for them.
Urduجسے اللہ ہدایت دے وہی حقیقت میں ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہ کر دے تو اس کے سوا اس کا کوئی مددگار اور دوست نہیں مل سکتا۔ اور ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اس حال میں اٹھائیں گے کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب بھی اس کی آگ بجھنے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔
Arabicومن يهده الله فهو المهتدي إلى الحق حقا، ومن يضلله فيخذله ويكله إلى نفسه فلا يجد من دون الله وليا ولا نصيرا أبدا، ونحشرهم يوم القيامة على وجوههم عميا وبكما وصما جميعا، ومصيرهم إلى نار جهنم الملتهبة، كلما خمدت زدناهم فيها سعيرا وتأججا شديدا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Anas b. Malik reported that a person said:Allah's Messenger, how the non-believers be made to assemble on the Day of Resurrection (by crawling) on their faces? Thereupon he said: Is He Who is powerful to make them walk on their feet not powerful enough to make them (crawl) upon their faces on the Day of Resurrection? Qatada said: Of course, it is so. (He adjured): By the might of our Lord
شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز کافر کو کس طرح منہ کے بل میدان حشر میں لایا جائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کہ جس نے دنیا میں پاؤں کے بل چلایا ہےوہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلائے؟ "" قتادہ نے ( حدیث سنانے کے بعد ) کہا : کیوں نہیں ، ہمارے رب کی عزت کی قسم! ( وہ قادر ہے)
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "People will be gathered in three classes on the Day of Resurrection: A class walking, a class riding, and a class upon their faces." It was said: "O Messenger of Allah! How will they walk upon their faces?" He said: "Indeed the One Who made them walk upon their feet, is able to make them walk upon their faces. Verily they will try to protect their faces from every bump and thorn
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ تین طرح سے جمع کئے جائیں گے، ایک گروہ چل کر آئے گا، اور ایک گروہ سوار ہو کر آئے گا اور ایک گروہ اپنے منہ کے بل آئے گا“۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! وہ لوگ اپنے منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے انہیں قدموں سے چلایا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ وہ انہیں ان کے منہ کے بل چلا دے، سنو ( یہی نہیں ہو گا کہ وہ چلیں گے بلکہ ) وہ منہ ہی سے ہر بلندی ( نشیب و فراز ) اور کانٹے سے بچ کر چلیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- وہیب نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے باپ طاؤس سے اور طاؤس نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
PickthallThat is their reward because they disbelieved Our revelations and said: When we are bones and fragments shall we, forsooth, be raised up as a new creation?
Yusuf AliThat is their recompense, because they rejected Our signs, and said, "When we are reduced to bones and broken dust, should we really be raised up (to be) a new Creation?"
The agreed readingThat is their recompense, because they refused Our signs and said: when we are bones and crumbled fragments, are we really to be raised as a new creation?
Urduیہ ان کی سزا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کا انکار کیا اور کہا: کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں اور مٹی کے بکھرے ہوئے ریزے بن جائیں گے تو کیا واقعی ہمیں ایک نئی مخلوق بنا کر دوبارہ اٹھایا جائے گا؟
Arabicذلك العقاب جزاؤهم حقا بسبب أنهم كفروا بآيات الله وحججه الواضحة جميعا، وقالوا مستنكرين جاحدين: أإذا متنا وصرنا عظاما بالية وأجزاء متفتتة متناثرة، أنبعث حقا بعد ذلك خلقا جديدا كاملا؟
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "People will be gathered in three classes on the Day of Resurrection: A class walking, a class riding, and a class upon their faces." It was said: "O Messenger of Allah! How will they walk upon their faces?" He said: "Indeed the One Who made them walk upon their feet, is able to make them walk upon their faces. Verily they will try to protect their faces from every bump and thorn
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ تین طرح سے جمع کئے جائیں گے، ایک گروہ چل کر آئے گا، اور ایک گروہ سوار ہو کر آئے گا اور ایک گروہ اپنے منہ کے بل آئے گا“۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! وہ لوگ اپنے منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے انہیں قدموں سے چلایا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ وہ انہیں ان کے منہ کے بل چلا دے، سنو ( یہی نہیں ہو گا کہ وہ چلیں گے بلکہ ) وہ منہ ہی سے ہر بلندی ( نشیب و فراز ) اور کانٹے سے بچ کر چلیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- وہیب نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے باپ طاؤس سے اور طاؤس نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الواحد الأحد الذي لا شريك له، الفرد الصمد الذي لا شبيه له، الأول القديم الذي لا غاية له، الآخر الباقي الذي لا نهاية له، الموجود الثابت الذي لا عدم له، الملك الدائم الذي لا زوال له، القادر الذي لا يعجزه شئ، العليم الذي لا يخفى عليه شئ، الحي لا بحياة، الكائن لا في مكان، السميع البصير الذي لا آلة له ولا أداة، الذي أمر بالعدل، وأخذ بالفضل، وحكم بالفصل، لا معقب لحكمه، ولا راد لقضائه، ولا غالب لإرادته، ولا قاهر لمشيته، وإنما أمره إذا أراد شيئا أن يقول له كن فيكون، فسبحان الذي بيده ملكوت كل شئ، وإليه المرجع والمصير. وأشهد أن لا إله إلا الله رب العالمين، وأشهد أن محمد عبده ورسوله سيد النبيين وخير خلقه أجمعين، وأشهد أن علي بن أبي طالب سيد الوصيين وإمام المتقين و قائد …
All praise be to Allah, the One and Only, who does not have a partner; the Peerless, the Needless, who has no like; the First, the Ever-Existent, who has no limit; the Last and the Everlasting who has no end; the Existing, the Constant, who has no non-existence; the Eternal King, who does not decline; the Power who is not weakened; the All-Knowing from who nothing can be hidden; the Alive but not with life; the One who Exists, but who is not confined to place; the All-Hearing and the All-Seeing, who has no ears and eyes; the One who ordered with justice, punished with favour, and commanded with bounty, but not to trap people under His Command. There is no rejecter to His Judgement, no …
بسم الله الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ کے لیے جو ایک و یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، یکتا و لاشریک جس کی کوئی ہمسری نہیں، سب سے پہلے اور قدیم جس کی کوئی انتہا نہیں، آخری اور ہمیشہ رہنے والا جس کا کوئی خاتمہ نہیں، موجود اور قائم جس کا کوئی عدم نہیں، ہمیشہ باقی بادشاہ جس کا کوئی زوال نہیں، قدرتوار جس سے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، علم والا جس سے کوئی چیز مخفی نہیں، زندہ بغیر جیون کے، موجود بغیر مکان کے، سننے والا دیکھنے والا جس کے پاس کوئی آلہ یا اوزار نہیں۔ جس نے عدل کا حکم دیا، فضل کے ساتھ سلوک کیا، حکمت سے فیصلہ کیا۔ اس کے فیصلے کو کوئی واپس نہیں کر سکتا، اس کے حکم کو کوئی بدل نہیں سکتا، اس کی مرضی کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، اس کے ارادے کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اور تو اس کا امر صرف یہ ہے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallHave they not seen that Allah Who created the heavens and the earth is Able to create the like of them, and hath appointed for them an end whereof there is no doubt? But the wrong-doers refuse aught save disbelief.
Yusuf AliSee they not that Allah, Who created the heavens and the earth, has power to create the like of them (anew)? Only He has decreed a term appointed, of which there is no doubt. But the unjust refuse (to receive it) except with ingratitude.
The agreed readingHave they not seen that God, who created the heavens and the earth, is able to create the like of them, and has set a term for them there is no doubt about? And the wrongdoers refused anything but denial.
Urduکیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس بات پر بھی قادر ہے کہ ان جیسوں کو دوبارہ پیدا کر دے، اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں کوئی شک نہیں، پھر بھی ظالموں نے انکار کے سوا کچھ قبول نہ کیا۔
Arabicأولم يتبصر هؤلاء المشركون ويعلموا أن الله الذي خلق السموات والأرض العظيمتين قادر تماما على أن يخلق أمثالهم مرة أخرى، وقد جعل لهم وقتا محددا معلوما لا شك فيه أبدا، فأبى الظالمون الجاحدون إلا جحودا وكفورا حقا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الواحد الأحد الذي لا شريك له، الفرد الصمد الذي لا شبيه له، الأول القديم الذي لا غاية له، الآخر الباقي الذي لا نهاية له، الموجود الثابت الذي لا عدم له، الملك الدائم الذي لا زوال له، القادر الذي لا يعجزه شئ، العليم الذي لا يخفى عليه شئ، الحي لا بحياة، الكائن لا في مكان، السميع البصير الذي لا آلة له ولا أداة، الذي أمر بالعدل، وأخذ بالفضل، وحكم بالفصل، لا معقب لحكمه، ولا راد لقضائه، ولا غالب لإرادته، ولا قاهر لمشيته، وإنما أمره إذا أراد شيئا أن يقول له كن فيكون، فسبحان الذي بيده ملكوت كل شئ، وإليه المرجع والمصير. وأشهد أن لا إله إلا الله رب العالمين، وأشهد أن محمد عبده ورسوله سيد النبيين وخير خلقه أجمعين، وأشهد أن علي بن أبي طالب سيد الوصيين وإمام المتقين و قائد …
All praise be to Allah, the One and Only, who does not have a partner; the Peerless, the Needless, who has no like; the First, the Ever-Existent, who has no limit; the Last and the Everlasting who has no end; the Existing, the Constant, who has no non-existence; the Eternal King, who does not decline; the Power who is not weakened; the All-Knowing from who nothing can be hidden; the Alive but not with life; the One who Exists, but who is not confined to place; the All-Hearing and the All-Seeing, who has no ears and eyes; the One who ordered with justice, punished with favour, and commanded with bounty, but not to trap people under His Command. There is no rejecter to His Judgement, no …
بسم الله الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ کے لیے جو ایک و یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، یکتا و لاشریک جس کی کوئی ہمسری نہیں، سب سے پہلے اور قدیم جس کی کوئی انتہا نہیں، آخری اور ہمیشہ رہنے والا جس کا کوئی خاتمہ نہیں، موجود اور قائم جس کا کوئی عدم نہیں، ہمیشہ باقی بادشاہ جس کا کوئی زوال نہیں، قدرتوار جس سے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، علم والا جس سے کوئی چیز مخفی نہیں، زندہ بغیر جیون کے، موجود بغیر مکان کے، سننے والا دیکھنے والا جس کے پاس کوئی آلہ یا اوزار نہیں۔ جس نے عدل کا حکم دیا، فضل کے ساتھ سلوک کیا، حکمت سے فیصلہ کیا۔ اس کے فیصلے کو کوئی واپس نہیں کر سکتا، اس کے حکم کو کوئی بدل نہیں سکتا، اس کی مرضی کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، اس کے ارادے کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اور تو اس کا امر صرف یہ ہے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallSay (unto them): If ye possessed the treasures of the mercy of my Lord, ye would surely hold them back for fear of spending, for man was ever grudging.
Yusuf AliSay: "If ye had control of the Treasures of the Mercy of my Lord, behold, ye would keep them back, for fear of spending them: for man is (every) niggardly!"
The agreed readingSay: if you owned the treasuries of my Lord's mercy, you would hold them back for fear of spending — and man was ever tight-fisted.
Urduکہہ دیجیے: اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو خرچ ہو جانے کے خوف سے انہیں روک کر رکھ لیتے، اور انسان ہمیشہ سے ہی بڑا بخیل اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔
Arabicقل لهم: لو كنتم تملكون خزائن رحمة ربي التي لا تنفد ولا تبيد أبدا، إذا لبخلتم بها وأمسكتم عن العطاء خوفا من نفادها وفقركم بعدها، وكان الإنسان في طبعه بخيلا شحيحا تماما بما في يده.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Abu Hurairah:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Ar-Rahman's Hand is full, He spends without any decrease, night and day.' He said: 'Do you not see how much He has spent since He created the heavens and the earth, yet it has not decreased what is in His Hand, and His Throne is over the water, and in His Other Hand is the Mizan (Scale) which He raises and lowers
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوتا ہے، ( کبھی خالی نہیں ہوتا ) بخشش و عطا کرتا رہتا ہے، رات و دن لٹانے اور اس کے دیتے رہنے سے بھی کمی نہیں ہوتی، آپ نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے دیکھا ( سوچا؟ ) جب سے اللہ نے آسمان پیدا کیے ہیں کتنا خرچ کر چکا ہے؟ اتنا کچھ خرچ کر چکنے کے باوجود اللہ کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کچھ بھی کمی نہیں ہوئی۔ اس کا عرش پانی پر ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے وہ اسے بلند کرتا اور جھکاتا ہے ( جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث اس آیت «وقالت اليهود يد الله مغلولة غلت أيديهم ولعنوا بما قالوا بل يداه مبسوطتان ينفق كيف يشاء» ۱؎ کی …
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ يَمِينَ اللَّهِ مَلأَى لاَ يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مَا فِي يَمِينِهِ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الأُخْرَى الْفَيْضُ ـ أَوِ الْقَبْضُ ـ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The Right (Hand) of Allah Is full, and (Its fullness) is not affected by the continuous spending night and day. Do you see what He has spent since He created the Heavens and the Earth? Yet all that has not decreased what is in His Right Hand. His Throne is over the water and in His other Hand is the Bounty or the Power to bring about death, and He raises some people and brings others down." (See Hadith No)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اسے کوئی خرچ کم نہیں کرتا جو دن و رات وہ کرتا رہتا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب سے زمین و آسمان کو اس نے پیدا کیا ہے کتنا خرچ کر دیا ہے۔ اس سارے خرچ نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے جسے وہ اٹھاتا اور جھکاتا ہے۔
Narrated Safwan bin Assal:"A Jew said to his companion: 'Accompany us to this Prophet.' So his companion said: 'Do not say: "Prophet". For if he hears you (say that) then he will be very happy.' So they went to the Messenger of Allah (ﷺ) to question him about nine clear signs. So he said to them: 'Do not associate anything with Allah, nor steal, nor commit unlawful intercourse, nor take a life which Allah has made prohibited prohibited, except for what is required (in the law), nor hasten to damage the reputation of one of power so that he will be killed, nor practice magic, nor consume Riba, nor falsely accuse the chaste woman, nor turn to flee on the day of the march, and for you Jews …
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: چلو اس نبی کے پاس لے چلتے ہیں۔ اس کے ساتھی نے کہا ”نبی“ نہ کہو۔ ورنہ اگر انہوں نے سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ( موسیٰ علیہ السلام کو دی گئیں ) نو کھلی ہوئی نشانیوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے ان سے کہا ( ۱ ) کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ ( ۲ ) چوری نہ کرو ( ۳ ) زنا نہ کرو ( ۴ ) ناحق کسی کو قتل نہ کرو ( ۵ ) کسی بےگناہ کو حاکم کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے ( ۶ ) جادو نہ کرو ( ۷ ) سود مت کھاؤ ( ۸ ) پارسا عورت پر زنا کی تہمت مت لگاؤ ( ۹ ) اور دشمن سے مقابلے کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اور خاص تم یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ «سبت» …
Narrated Ibn 'Abbas:"The Quraish said to the Jews: 'Give us something that we can ask this man about.' So he said: 'Ask him about the Ruh.' So they asked him about the Ruh. So Allah Most High, revealed: They ask you concerning the Ruh. Say: The Ruh is one of the things, the knowledge of which is only with my Lord. And of knowledge, you have been given only a little (17:85). They replied: 'We have been given immense knowledge, we were given the Tawrah, and whoever has been given the Tawrah, then he has indeed been given a wealth of knowledge.' So the following was revealed: Say: 'If the sea were ink for the Words of my Lord, surely the sea would be exhausted (before the Words of my Lord …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا سوال دو جسے ہم اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے پوچھیں، انہوں نے کہا: اس شخص سے روح کے بارے میں سوال کرو، تو انہوں نے آپ سے روح کے بارے میں پوچھا ( روح کی حقیقت کیا ہے؟ ) اس پر اللہ نے آیت «ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» ”تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو! روح امر الٰہی ہے، تمہیں بہت ہی تھوڑا علم دیا گیا ہے“ ( بنی اسرائیل: ۸۵ ) ، انہوں نے کہا: ہمیں تو بہت زیادہ علم حاصل ہے، ہمیں توراۃ ملی ہے، اور جسے توراۃ دی گئی ہو اسے بہت بڑی خیر مل گئی، اس پر آیت «قل لو كان البحر مدادا لكلمات ربي لنفد البحر» ”کہہ دیجئیے: اگر میرے رب کی باتیں، کلمے، معلومات و مقدرات …
PickthallAnd verily We gave unto Moses nine tokens, clear proofs (of Allah's Sovereignty). Do but ask the Children of Israel how he came unto them, then Pharaoh said unto him: Lo! I deem thee one bewitched, O Moses.
Yusuf AliTo Moses We did give Nine Clear Signs: As the Children of Israel: when he came to them, Pharaoh said to him: "O Moses! I consider thee, indeed, to have been worked upon by sorcery!
The agreed readingAnd We gave Moses nine clear signs. So ask the Children of Israel: when he came to them, Pharaoh said to him: I think you are under a spell, Moses.
Urduاور ہم نے موسیٰ کو نو واضح نشانیاں عطا کی تھیں، جیسے لاٹھی کا اژدہا بن جانا، چمکتا ہوا ہاتھ، قحط سالی اور پھلوں کی کمی۔ آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں کہ جب موسیٰ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا: اے موسیٰ، میں تو تمہیں جادو زدہ سمجھتا ہوں۔
Arabicولقد آتينا موسى تسع آيات بينات واضحات، منها العصا واليد والسنون ونقص الثمرات والطوفان والجراد والقمل، فاسأل بني إسرائيل عن ذلك حقا، إذ جاءهم موسى فقال له فرعون: إني لأظنك يا موسى ساحرا مسحورا مغلوبا على عقلك تماما.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Zamakhsharī، al-Fayḍ al-Kāshānī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Zamakhsharī and al-Fayḍ al-Kāshānī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Zamakhsharī، al-Fayḍ al-Kāshānī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Safwan bin Assal:"A Jew said to his companion: 'Accompany us to this Prophet.' So his companion said: 'Do not say: "Prophet". For if he hears you (say that) then he will be very happy.' So they went to the Messenger of Allah (ﷺ) to question him about nine clear signs. So he said to them: 'Do not associate anything with Allah, nor steal, nor commit unlawful intercourse, nor take a life which Allah has made prohibited prohibited, except for what is required (in the law), nor hasten to damage the reputation of one of power so that he will be killed, nor practice magic, nor consume Riba, nor falsely accuse the chaste woman, nor turn to flee on the day of the march, and for you Jews …
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: چلو اس نبی کے پاس لے چلتے ہیں۔ اس کے ساتھی نے کہا ”نبی“ نہ کہو۔ ورنہ اگر انہوں نے سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ( موسیٰ علیہ السلام کو دی گئیں ) نو کھلی ہوئی نشانیوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے ان سے کہا ( ۱ ) کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ ( ۲ ) چوری نہ کرو ( ۳ ) زنا نہ کرو ( ۴ ) ناحق کسی کو قتل نہ کرو ( ۵ ) کسی بےگناہ کو حاکم کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے ( ۶ ) جادو نہ کرو ( ۷ ) سود مت کھاؤ ( ۸ ) پارسا عورت پر زنا کی تہمت مت لگاؤ ( ۹ ) اور دشمن سے مقابلے کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اور خاص تم یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ «سبت» …
Narrated Safwan bin 'Assal Al-Muradi:"A Jew said to his companion: 'Accompany us to this Prophet.' So his companion said: 'Do not say: "Prophet," for if he hears you calling him a Prophet then he will be happy.' So they went to the Prophet (ﷺ) to question him about Allah, the Most High, saying: And indeed we gave Musa nine clear signs (17:101). So the Messenger of Allah (ﷺ) said to them: 'Do not associate anything with Allah, nor commit unlawful intercourse, nor take a life which Allah has made prohibited, except for what is required (in the law), nor steal, nor practice magic, nor hasten to damage the reputation of an innocent person in front of a ruler, so that he will be killed, nor …
صفوان بن عسال رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ یہود میں سے ایک یہودی نے دوسرے یہودی سے کہا: اس نبی کے پاس مجھے لے چلو، ہم چل کر ان سے ( کچھ ) پوچھتے ہیں، دوسرے نے کہا: انہیں نبی نہ کہو، اگر انہوں نے سن لیا کہ تم انہیں نبی کہتے ہو تو ( مارے خوشی کے ) ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی۔ پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ولقد آتينا موسى تسع آيات بينات» ”ہم نے موسیٰ کو نو نشانیاں دیں“ ( اسرائیل: ۱۰۱ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ وہ نو نشانیاں کیا تھیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، زنا نہ کرو، ناحق کسی شخص کا قتل نہ کرو، چوری نہ کرو، جادو نہ کرو، کسی بری ( بےگناہ ) شخص کو ( مجرم بنا کر ) بادشاہ کے سامنے نہ لے …
It was narrated that Safwan bin 'Assal said:"A Jew said to his companion: 'Let us go to this Prophet.' His companion said to him: 'Do not say Prophet; if he hears you, he will become big-headed.' So they came to the Messenger of Allah [SAW] and asked him about nine clear signs. He said to them: 'Do not associate anything with Allah, do not steal, do not commit adultery, do not kill any soul whom Allah has forbidden you to kill, except by right, do not speak falsely about an innocent man before a ruler, do not engage in magic, do not consume Riba (usury), do not slander chaste women, and do not flee on the day of the march (to battle). And for you Jews especially, do not break the Sabbath.' …
محمد بن العلاء نے ہمیں خبر دی۔ ابن إدريس سے۔ کہا: شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ عمرو بن مرّہ سے۔ عبداللہ بن سلمہ سے۔ صفوان بن عسّال سے۔ صفوان کہتے ہیں: ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم اس نبی کے پاس چلیں۔ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: نبی کہہ نہ۔ اگر وہ تمہیں سنے تو اس کو بڑا ہوجانے والی بات ہوگی۔ تو وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور نو آیات بیّنات (واضح آیات) کے بارے میں ان سے پوچھا۔ تو انہوں نے ان سے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ چوری نہ کرو۔ زنا نہ کرو۔ کسی جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے سوائے حق کے۔ کسی بے گناہ کو حاکم کے پاس بدنام کرنے کے لیے نہ جاؤ۔ جادو نہ کرو۔ سود نہ کھاؤ۔ عفیفہ عورت پر تہمت نہ لگاؤ۔ لڑائی کے دن نہ بھاگو۔ اور تم یہودیوں کے لیے خاص …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ يَمِينَ اللَّهِ مَلأَى لاَ يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مَا فِي يَمِينِهِ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الأُخْرَى الْفَيْضُ ـ أَوِ الْقَبْضُ ـ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ ".
Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "The Right (Hand) of Allah Is full, and (Its fullness) is not affected by the continuous spending night and day. Do you see what He has spent since He created the Heavens and the Earth? Yet all that has not decreased what is in His Right Hand. His Throne is over the water and in His other Hand is the Bounty or the Power to bring about death, and He raises some people and brings others down." (See Hadith No)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اسے کوئی خرچ کم نہیں کرتا جو دن و رات وہ کرتا رہتا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب سے زمین و آسمان کو اس نے پیدا کیا ہے کتنا خرچ کر دیا ہے۔ اس سارے خرچ نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے جسے وہ اٹھاتا اور جھکاتا ہے۔
PickthallHe said: In truth thou knowest that none sent down these (portents) save the Lord of the heavens and the earth as proofs, and lo! (for my part) I deem thee lost, O Pharaoh.
Yusuf AliMoses said, "Thou knowest well that these things have been sent down by none but the Lord of the heavens and the earth as eye-opening evidence: and I consider thee indeed, O Pharaoh, to be one doomed to destruction!"
The agreed readingHe said: you know well that none sent these down except the Lord of the heavens and the earth, as things to see by. And I think you are lost, Pharaoh.
Urduموسیٰ نے کہا: تجھے خوب معلوم ہے کہ یہ روشن نشانیاں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتاریں، یہ تو بصیرت دلانے کے لیے ہیں، اور میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ اے فرعون، تو ہلاکت میں پڑنے والا ہے۔
Arabicقال موسى: لقد تيقنت يا فرعون حقا أنه ما أنزل هذه الآيات التسع الواضحة إلا رب السموات والأرض، لتكون دلالات وبصائر يستدل بها أولو الألباب جميعا، وإني لعلى يقين تام أنك يا فرعون هالك مغلوب ملعون أبدا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Safwan bin Assal:"A Jew said to his companion: 'Accompany us to this Prophet.' So his companion said: 'Do not say: "Prophet". For if he hears you (say that) then he will be very happy.' So they went to the Messenger of Allah (ﷺ) to question him about nine clear signs. So he said to them: 'Do not associate anything with Allah, nor steal, nor commit unlawful intercourse, nor take a life which Allah has made prohibited prohibited, except for what is required (in the law), nor hasten to damage the reputation of one of power so that he will be killed, nor practice magic, nor consume Riba, nor falsely accuse the chaste woman, nor turn to flee on the day of the march, and for you Jews …
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: چلو اس نبی کے پاس لے چلتے ہیں۔ اس کے ساتھی نے کہا ”نبی“ نہ کہو۔ ورنہ اگر انہوں نے سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ( موسیٰ علیہ السلام کو دی گئیں ) نو کھلی ہوئی نشانیوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے ان سے کہا ( ۱ ) کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ ( ۲ ) چوری نہ کرو ( ۳ ) زنا نہ کرو ( ۴ ) ناحق کسی کو قتل نہ کرو ( ۵ ) کسی بےگناہ کو حاکم کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے ( ۶ ) جادو نہ کرو ( ۷ ) سود مت کھاؤ ( ۸ ) پارسا عورت پر زنا کی تہمت مت لگاؤ ( ۹ ) اور دشمن سے مقابلے کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اور خاص تم یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ «سبت» …
It was narrated that Safwan bin 'Assal said:"A Jew said to his companion: 'Let us go to this Prophet.' His companion said to him: 'Do not say Prophet; if he hears you, he will become big-headed.' So they came to the Messenger of Allah [SAW] and asked him about nine clear signs. He said to them: 'Do not associate anything with Allah, do not steal, do not commit adultery, do not kill any soul whom Allah has forbidden you to kill, except by right, do not speak falsely about an innocent man before a ruler, do not engage in magic, do not consume Riba (usury), do not slander chaste women, and do not flee on the day of the march (to battle). And for you Jews especially, do not break the Sabbath.' …
محمد بن العلاء نے ہمیں خبر دی۔ ابن إدريس سے۔ کہا: شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ عمرو بن مرّہ سے۔ عبداللہ بن سلمہ سے۔ صفوان بن عسّال سے۔ صفوان کہتے ہیں: ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم اس نبی کے پاس چلیں۔ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: نبی کہہ نہ۔ اگر وہ تمہیں سنے تو اس کو بڑا ہوجانے والی بات ہوگی۔ تو وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور نو آیات بیّنات (واضح آیات) کے بارے میں ان سے پوچھا۔ تو انہوں نے ان سے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ چوری نہ کرو۔ زنا نہ کرو۔ کسی جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے سوائے حق کے۔ کسی بے گناہ کو حاکم کے پاس بدنام کرنے کے لیے نہ جاؤ۔ جادو نہ کرو۔ سود نہ کھاؤ۔ عفیفہ عورت پر تہمت نہ لگاؤ۔ لڑائی کے دن نہ بھاگو۔ اور تم یہودیوں کے لیے خاص …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Safwan bin 'Assal Al-Muradi:"A Jew said to his companion: 'Accompany us to this Prophet.' So his companion said: 'Do not say: "Prophet," for if he hears you calling him a Prophet then he will be happy.' So they went to the Prophet (ﷺ) to question him about Allah, the Most High, saying: And indeed we gave Musa nine clear signs (17:101). So the Messenger of Allah (ﷺ) said to them: 'Do not associate anything with Allah, nor commit unlawful intercourse, nor take a life which Allah has made prohibited, except for what is required (in the law), nor steal, nor practice magic, nor hasten to damage the reputation of an innocent person in front of a ruler, so that he will be killed, nor …
صفوان بن عسال رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ یہود میں سے ایک یہودی نے دوسرے یہودی سے کہا: اس نبی کے پاس مجھے لے چلو، ہم چل کر ان سے ( کچھ ) پوچھتے ہیں، دوسرے نے کہا: انہیں نبی نہ کہو، اگر انہوں نے سن لیا کہ تم انہیں نبی کہتے ہو تو ( مارے خوشی کے ) ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی۔ پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ولقد آتينا موسى تسع آيات بينات» ”ہم نے موسیٰ کو نو نشانیاں دیں“ ( اسرائیل: ۱۰۱ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ وہ نو نشانیاں کیا تھیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، زنا نہ کرو، ناحق کسی شخص کا قتل نہ کرو، چوری نہ کرو، جادو نہ کرو، کسی بری ( بےگناہ ) شخص کو ( مجرم بنا کر ) بادشاہ کے سامنے نہ لے …
PickthallAnd he wished to scare them from the land, but We drowned him and those with him, all together.
Yusuf AliSo he resolved to remove them from the face of the earth: but We did drown him and all who were with him.
The agreed readingSo he wanted to drive them out of the land, and We drowned him and all who were with him.
Urduفرعون نے چاہا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل کو ان کی سرزمین سے اکھاڑ کر باہر نکال دے، تو ہم نے اسے اور اس کے ساتھ موجود سب لشکریوں کو مکمل طور پر غرق کر دیا۔
Arabicفأراد فرعون أن يزعج موسى ويخرجه هو ومن معه من بني إسرائيل جميعا من أرض مصر، فأغرقناه تماما ومن معه من جنده كلهم في البحر عقابا لهم حقا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Safwan bin Assal:"A Jew said to his companion: 'Accompany us to this Prophet.' So his companion said: 'Do not say: "Prophet". For if he hears you (say that) then he will be very happy.' So they went to the Messenger of Allah (ﷺ) to question him about nine clear signs. So he said to them: 'Do not associate anything with Allah, nor steal, nor commit unlawful intercourse, nor take a life which Allah has made prohibited prohibited, except for what is required (in the law), nor hasten to damage the reputation of one of power so that he will be killed, nor practice magic, nor consume Riba, nor falsely accuse the chaste woman, nor turn to flee on the day of the march, and for you Jews …
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: چلو اس نبی کے پاس لے چلتے ہیں۔ اس کے ساتھی نے کہا ”نبی“ نہ کہو۔ ورنہ اگر انہوں نے سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ( موسیٰ علیہ السلام کو دی گئیں ) نو کھلی ہوئی نشانیوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے ان سے کہا ( ۱ ) کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ ( ۲ ) چوری نہ کرو ( ۳ ) زنا نہ کرو ( ۴ ) ناحق کسی کو قتل نہ کرو ( ۵ ) کسی بےگناہ کو حاکم کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے ( ۶ ) جادو نہ کرو ( ۷ ) سود مت کھاؤ ( ۸ ) پارسا عورت پر زنا کی تہمت مت لگاؤ ( ۹ ) اور دشمن سے مقابلے کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اور خاص تم یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ «سبت» …
Narrated Safwan bin 'Assal Al-Muradi:"A Jew said to his companion: 'Accompany us to this Prophet.' So his companion said: 'Do not say: "Prophet," for if he hears you calling him a Prophet then he will be happy.' So they went to the Prophet (ﷺ) to question him about Allah, the Most High, saying: And indeed we gave Musa nine clear signs (17:101). So the Messenger of Allah (ﷺ) said to them: 'Do not associate anything with Allah, nor commit unlawful intercourse, nor take a life which Allah has made prohibited, except for what is required (in the law), nor steal, nor practice magic, nor hasten to damage the reputation of an innocent person in front of a ruler, so that he will be killed, nor …
صفوان بن عسال رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ یہود میں سے ایک یہودی نے دوسرے یہودی سے کہا: اس نبی کے پاس مجھے لے چلو، ہم چل کر ان سے ( کچھ ) پوچھتے ہیں، دوسرے نے کہا: انہیں نبی نہ کہو، اگر انہوں نے سن لیا کہ تم انہیں نبی کہتے ہو تو ( مارے خوشی کے ) ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی۔ پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ولقد آتينا موسى تسع آيات بينات» ”ہم نے موسیٰ کو نو نشانیاں دیں“ ( اسرائیل: ۱۰۱ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ وہ نو نشانیاں کیا تھیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، زنا نہ کرو، ناحق کسی شخص کا قتل نہ کرو، چوری نہ کرو، جادو نہ کرو، کسی بری ( بےگناہ ) شخص کو ( مجرم بنا کر ) بادشاہ کے سامنے نہ لے …
It was narrated that Safwan bin 'Assal said:"A Jew said to his companion: 'Let us go to this Prophet.' His companion said to him: 'Do not say Prophet; if he hears you, he will become big-headed.' So they came to the Messenger of Allah [SAW] and asked him about nine clear signs. He said to them: 'Do not associate anything with Allah, do not steal, do not commit adultery, do not kill any soul whom Allah has forbidden you to kill, except by right, do not speak falsely about an innocent man before a ruler, do not engage in magic, do not consume Riba (usury), do not slander chaste women, and do not flee on the day of the march (to battle). And for you Jews especially, do not break the Sabbath.' …
محمد بن العلاء نے ہمیں خبر دی۔ ابن إدريس سے۔ کہا: شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ عمرو بن مرّہ سے۔ عبداللہ بن سلمہ سے۔ صفوان بن عسّال سے۔ صفوان کہتے ہیں: ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم اس نبی کے پاس چلیں۔ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: نبی کہہ نہ۔ اگر وہ تمہیں سنے تو اس کو بڑا ہوجانے والی بات ہوگی۔ تو وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور نو آیات بیّنات (واضح آیات) کے بارے میں ان سے پوچھا۔ تو انہوں نے ان سے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ چوری نہ کرو۔ زنا نہ کرو۔ کسی جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے سوائے حق کے۔ کسی بے گناہ کو حاکم کے پاس بدنام کرنے کے لیے نہ جاؤ۔ جادو نہ کرو۔ سود نہ کھاؤ۔ عفیفہ عورت پر تہمت نہ لگاؤ۔ لڑائی کے دن نہ بھاگو۔ اور تم یہودیوں کے لیے خاص …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd We said unto the Children of Israel after him: Dwell in the land; but when the promise of the Hereafter cometh to pass We shall bring you as a crowd gathered out of various nations.
Yusuf AliAnd We said thereafter to the Children of Israel, "Dwell securely in the land (of promise)": but when the second of the warnings came to pass, We gathered you together in a mingled crowd.
The agreed readingAnd We said to the Children of Israel after him: live in the land. And when the promise of the Hereafter comes, We will bring you all together in one gathering.
Urduاور ہم نے فرعون کی ہلاکت کے بعد بنی اسرائیل سے کہا: اس سرزمین میں آباد ہو جاؤ، پھر جب آخرت کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آئے گا تو ہم تم سب کو، جہاں کہیں بھی ہو گے، اکٹھا کر کے میدان حشر میں لے آئیں گے۔
Arabicوقلنا من بعد هلاك فرعون وجنده جميعا لبني إسرائيل: اسكنوا هذه الأرض المباركة، فإذا جاء يوم القيامة ووعد الآخرة جئنا بكم جميعا من قبوركم إلى موقف الحساب تماما وحقا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Safwan bin Assal:"A Jew said to his companion: 'Accompany us to this Prophet.' So his companion said: 'Do not say: "Prophet". For if he hears you (say that) then he will be very happy.' So they went to the Messenger of Allah (ﷺ) to question him about nine clear signs. So he said to them: 'Do not associate anything with Allah, nor steal, nor commit unlawful intercourse, nor take a life which Allah has made prohibited prohibited, except for what is required (in the law), nor hasten to damage the reputation of one of power so that he will be killed, nor practice magic, nor consume Riba, nor falsely accuse the chaste woman, nor turn to flee on the day of the march, and for you Jews …
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: چلو اس نبی کے پاس لے چلتے ہیں۔ اس کے ساتھی نے کہا ”نبی“ نہ کہو۔ ورنہ اگر انہوں نے سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ( موسیٰ علیہ السلام کو دی گئیں ) نو کھلی ہوئی نشانیوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے ان سے کہا ( ۱ ) کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ ( ۲ ) چوری نہ کرو ( ۳ ) زنا نہ کرو ( ۴ ) ناحق کسی کو قتل نہ کرو ( ۵ ) کسی بےگناہ کو حاکم کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے ( ۶ ) جادو نہ کرو ( ۷ ) سود مت کھاؤ ( ۸ ) پارسا عورت پر زنا کی تہمت مت لگاؤ ( ۹ ) اور دشمن سے مقابلے کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اور خاص تم یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ «سبت» …
Narrated Safwan bin 'Assal Al-Muradi:"A Jew said to his companion: 'Accompany us to this Prophet.' So his companion said: 'Do not say: "Prophet," for if he hears you calling him a Prophet then he will be happy.' So they went to the Prophet (ﷺ) to question him about Allah, the Most High, saying: And indeed we gave Musa nine clear signs (17:101). So the Messenger of Allah (ﷺ) said to them: 'Do not associate anything with Allah, nor commit unlawful intercourse, nor take a life which Allah has made prohibited, except for what is required (in the law), nor steal, nor practice magic, nor hasten to damage the reputation of an innocent person in front of a ruler, so that he will be killed, nor …
صفوان بن عسال رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ یہود میں سے ایک یہودی نے دوسرے یہودی سے کہا: اس نبی کے پاس مجھے لے چلو، ہم چل کر ان سے ( کچھ ) پوچھتے ہیں، دوسرے نے کہا: انہیں نبی نہ کہو، اگر انہوں نے سن لیا کہ تم انہیں نبی کہتے ہو تو ( مارے خوشی کے ) ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی۔ پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ولقد آتينا موسى تسع آيات بينات» ”ہم نے موسیٰ کو نو نشانیاں دیں“ ( اسرائیل: ۱۰۱ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ وہ نو نشانیاں کیا تھیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، زنا نہ کرو، ناحق کسی شخص کا قتل نہ کرو، چوری نہ کرو، جادو نہ کرو، کسی بری ( بےگناہ ) شخص کو ( مجرم بنا کر ) بادشاہ کے سامنے نہ لے …
It was narrated that Safwan bin 'Assal said:"A Jew said to his companion: 'Let us go to this Prophet.' His companion said to him: 'Do not say Prophet; if he hears you, he will become big-headed.' So they came to the Messenger of Allah [SAW] and asked him about nine clear signs. He said to them: 'Do not associate anything with Allah, do not steal, do not commit adultery, do not kill any soul whom Allah has forbidden you to kill, except by right, do not speak falsely about an innocent man before a ruler, do not engage in magic, do not consume Riba (usury), do not slander chaste women, and do not flee on the day of the march (to battle). And for you Jews especially, do not break the Sabbath.' …
محمد بن العلاء نے ہمیں خبر دی۔ ابن إدريس سے۔ کہا: شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ عمرو بن مرّہ سے۔ عبداللہ بن سلمہ سے۔ صفوان بن عسّال سے۔ صفوان کہتے ہیں: ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم اس نبی کے پاس چلیں۔ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: نبی کہہ نہ۔ اگر وہ تمہیں سنے تو اس کو بڑا ہوجانے والی بات ہوگی۔ تو وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور نو آیات بیّنات (واضح آیات) کے بارے میں ان سے پوچھا۔ تو انہوں نے ان سے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ چوری نہ کرو۔ زنا نہ کرو۔ کسی جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے سوائے حق کے۔ کسی بے گناہ کو حاکم کے پاس بدنام کرنے کے لیے نہ جاؤ۔ جادو نہ کرو۔ سود نہ کھاؤ۔ عفیفہ عورت پر تہمت نہ لگاؤ۔ لڑائی کے دن نہ بھاگو۔ اور تم یہودیوں کے لیے خاص …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWith truth have We sent it down, and with truth hath it descended. And We have sent thee as naught else save a bearer of good tidings and a warner.
Yusuf AliWe sent down the (Qur'an) in Truth, and in Truth has it descended: and We sent thee but to give Glad Tidings and to warn (sinners).
The agreed readingAnd with the truth We sent it down, and with the truth it came down. And We sent you only as a bearer of good news and a warner.
Urduاور ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق ہی کے ساتھ اترا ہے۔ اور ہم نے آپ کو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ آپ خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بن کر آئیں۔
Arabicوبالحق أنزلنا هذا القرآن الكريم لأمر العباد ونهيهم وثوابهم وعقابهم جميعا، وبالصدق والعدل والحفظ من كل تغيير وتبديل نزل حقا، وما أرسلناك أيها الرسول الكريم إلا مبشرا بالجنة لمن أطاع ومخوفا بالنار لمن عصى وكفر تماما.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Safwan bin Assal:"A Jew said to his companion: 'Accompany us to this Prophet.' So his companion said: 'Do not say: "Prophet". For if he hears you (say that) then he will be very happy.' So they went to the Messenger of Allah (ﷺ) to question him about nine clear signs. So he said to them: 'Do not associate anything with Allah, nor steal, nor commit unlawful intercourse, nor take a life which Allah has made prohibited prohibited, except for what is required (in the law), nor hasten to damage the reputation of one of power so that he will be killed, nor practice magic, nor consume Riba, nor falsely accuse the chaste woman, nor turn to flee on the day of the march, and for you Jews …
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: چلو اس نبی کے پاس لے چلتے ہیں۔ اس کے ساتھی نے کہا ”نبی“ نہ کہو۔ ورنہ اگر انہوں نے سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ( موسیٰ علیہ السلام کو دی گئیں ) نو کھلی ہوئی نشانیوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے ان سے کہا ( ۱ ) کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ ( ۲ ) چوری نہ کرو ( ۳ ) زنا نہ کرو ( ۴ ) ناحق کسی کو قتل نہ کرو ( ۵ ) کسی بےگناہ کو حاکم کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے ( ۶ ) جادو نہ کرو ( ۷ ) سود مت کھاؤ ( ۸ ) پارسا عورت پر زنا کی تہمت مت لگاؤ ( ۹ ) اور دشمن سے مقابلے کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اور خاص تم یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ «سبت» …
It was narrated that Safwan bin 'Assal said:"A Jew said to his companion: 'Let us go to this Prophet.' His companion said to him: 'Do not say Prophet; if he hears you, he will become big-headed.' So they came to the Messenger of Allah [SAW] and asked him about nine clear signs. He said to them: 'Do not associate anything with Allah, do not steal, do not commit adultery, do not kill any soul whom Allah has forbidden you to kill, except by right, do not speak falsely about an innocent man before a ruler, do not engage in magic, do not consume Riba (usury), do not slander chaste women, and do not flee on the day of the march (to battle). And for you Jews especially, do not break the Sabbath.' …
محمد بن العلاء نے ہمیں خبر دی۔ ابن إدريس سے۔ کہا: شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ عمرو بن مرّہ سے۔ عبداللہ بن سلمہ سے۔ صفوان بن عسّال سے۔ صفوان کہتے ہیں: ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم اس نبی کے پاس چلیں۔ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: نبی کہہ نہ۔ اگر وہ تمہیں سنے تو اس کو بڑا ہوجانے والی بات ہوگی۔ تو وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور نو آیات بیّنات (واضح آیات) کے بارے میں ان سے پوچھا۔ تو انہوں نے ان سے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ چوری نہ کرو۔ زنا نہ کرو۔ کسی جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے سوائے حق کے۔ کسی بے گناہ کو حاکم کے پاس بدنام کرنے کے لیے نہ جاؤ۔ جادو نہ کرو۔ سود نہ کھاؤ۔ عفیفہ عورت پر تہمت نہ لگاؤ۔ لڑائی کے دن نہ بھاگو۔ اور تم یہودیوں کے لیے خاص …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd (it is) a Qur'an that We have divided, that thou mayst recite it unto mankind at intervals, and We have revealed it by (successive) revelation.
Yusuf Ali(It is) a Qur'an which We have divided (into parts from time to time), in order that thou mightest recite it to men at intervals: We have revealed it by stages.
The agreed readingAnd a Recitation We have divided, so that you may recite it to people at intervals; and We sent it down, sending it down by stages. The commentaries read the dividing as the reason it could be carried and kept.
Urduاور یہ ایسا قرآن ہے جسے ہم نے حصوں میں تقسیم کر کے نازل کیا تاکہ آپ اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنائیں، اور ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے آہستہ آہستہ اتارا۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ اسی تقسیم کی وجہ سے اسے یاد رکھنا اور آگے پہنچانا آسان ہو گیا۔
Arabicوأنزلنا إليك قرآنا بيناه وفصلناه فارقا بين الهدى والضلال والحق والباطل تماما، لتقرأه على الناس في تؤدة وتمهل حقا، ونزلناه مفرقا شيئا بعد شيء على حسب الحوادث ومقتضيات الأحوال، وقد جعل المفسرون هذا التفريق سببا لحفظه وتبليغه جميعا.
PickthallSay: Believe therein or believe not, lo! those who were given knowledge before it, when it is read unto them, fall down prostrate on their faces, adoring,
Yusuf AliSay: "Whether ye believe in it or not, it is true that those who were given knowledge beforehand, when it is recited to them, fall down on their faces in humble prostration,
The agreed readingSay: believe in it or do not believe. Those given the knowledge before it, when it is recited to them, fall down on their faces prostrating,
Urduکہہ دیجیے: تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، اس سے پہلے جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ جب یہ قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو بےاختیار اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں،
Arabicقل لهم: آمنوا به أو لا تؤمنوا، فإن الذين أوتوا العلم من قبله من أهل الكتاب حقا، إذا قرئ عليهم هذا القرآن يخشعون تماما فيخرون ساجدين على أذقانهم وجوههم تعظيما لله وشكرا له.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said :"A man who cries out of fearing Allah, will not be put into the Fire until milk returns to the udder; and dust raised in the cause of Allah and the smoke of Jahannam will not be gathered together." [He said:] There are narrations on this topic from Abu Raihanah and Ibn 'Abbas. [He said:] This Hadith is [Hasan] Sahih. Muhammad bin 'Abdur-Rahman is the Mawla of the family of Talbah, and he is from Al-Madinah, and trustworthy. Shu'bah and Sufyan Ath-Thawri reported from him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جا سکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے اور اللہ کی راہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوریحانہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن عبدالرحمٰن آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام ہیں مدنی ہیں، ثقہ ہیں، ان سے شعبہ اور سفیان ثوری نے روایت کی ہے۔
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said, "A man who wept out of the fear of Allah shall not enter the Fire until the milk returns to the udder; and dust in the cause of Allah and the smoke of Hell shall not come together." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Muhammad bin 'Abdur-Rahman is freed slave of Abu Talhah, and he is from Al-Madinah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ڈر سے رونے والا جہنم میں داخل نہیں ہو گا یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس لوٹ جائے، ( اور یہ محال ہے ) اور جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said:"No man who weeps for fear of Allah will be touched by the Fire until the milk goes back into the udders. And the dust (of Jihad) in the cause of Allah and the smoke of Hell, will never be combined in the nostrils of a Muslim
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے خوف سے رونے والے کو جہنم کی آگ اس وقت تک لقمہ نہیں بنا سکتی جب تک کہ ( تھن سے نکلا ہوا ) دودھ تھن میں واپس نہ پہنچا دیا جائے ۱؎، اور کسی مسلمان کے نتھنے میں جہاد کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے ۲؎۔
PickthallSaying: Glory to our Lord! Verily the promise of our Lord must be fulfilled.
Yusuf Ali"And they say: 'Glory to our Lord! Truly has the promise of our Lord been fulfilled!'"
The agreed readingSaying: glory to our Lord — our Lord's promise was bound to be fulfilled. The commentaries note that what they declare on falling down is not their own state but God's keeping of His word.
Urduاور وہ کہتے ہیں: ہمارا رب ہر عیب اور کمی سے پاک ہے، ہمارے رب کا وعدہ تو ہر حال میں پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔ مفسرین اس پر یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ سجدے میں گرتے ہوئے وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ ان کی اپنی کیفیت نہیں بلکہ اللہ کے اپنا وعدہ پورا کرنے کا اعلان ہے۔
Arabicويقولون: تنزيها لربنا وتبرئة له مما يصفه المشركون به تماما، ما كان وعد ربنا من ثواب وعقاب إلا واقعا حقا لا محالة، وقد جعل المفسرون هذا القول شاهدا على أن ما يظهر منهم عند السجود ليس حالهم وحدهم بل هو وفاء الله بوعده جميعا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said :"A man who cries out of fearing Allah, will not be put into the Fire until milk returns to the udder; and dust raised in the cause of Allah and the smoke of Jahannam will not be gathered together." [He said:] There are narrations on this topic from Abu Raihanah and Ibn 'Abbas. [He said:] This Hadith is [Hasan] Sahih. Muhammad bin 'Abdur-Rahman is the Mawla of the family of Talbah, and he is from Al-Madinah, and trustworthy. Shu'bah and Sufyan Ath-Thawri reported from him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جا سکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے اور اللہ کی راہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوریحانہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن عبدالرحمٰن آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام ہیں مدنی ہیں، ثقہ ہیں، ان سے شعبہ اور سفیان ثوری نے روایت کی ہے۔
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said, "A man who wept out of the fear of Allah shall not enter the Fire until the milk returns to the udder; and dust in the cause of Allah and the smoke of Hell shall not come together." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Muhammad bin 'Abdur-Rahman is freed slave of Abu Talhah, and he is from Al-Madinah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ڈر سے رونے والا جہنم میں داخل نہیں ہو گا یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس لوٹ جائے، ( اور یہ محال ہے ) اور جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said:"No man who weeps for fear of Allah will be touched by the Fire until the milk goes back into the udders. And the dust (of Jihad) in the cause of Allah and the smoke of Hell, will never be combined in the nostrils of a Muslim
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے خوف سے رونے والے کو جہنم کی آگ اس وقت تک لقمہ نہیں بنا سکتی جب تک کہ ( تھن سے نکلا ہوا ) دودھ تھن میں واپس نہ پہنچا دیا جائے ۱؎، اور کسی مسلمان کے نتھنے میں جہاد کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے ۲؎۔
PickthallThey fall down on their faces, weeping, and it increaseth humility in them.
Yusuf AliThey fall down on their faces in tears, and it increases their (earnest) humility.
The agreed readingAnd they fall down on their faces weeping, and it increases them in humility. The commentaries note that what increases is not their knowledge but their lowness before it.
Urduاور وہ اپنے چہروں کے بل روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں، اور یہ قرآن سننا انہیں مزید عاجزی اور خشوع عطا کرتا ہے۔ مفسرین اس پر بتاتے ہیں کہ یہاں جو چیز بڑھتی ہے وہ ان کا علم نہیں بلکہ قرآن کے سامنے ان کی عاجزی اور پستی ہے۔
Arabicيقع هؤلاء ساجدين على وجوههم يبكون تأثرا بمواعظ القرآن حقا، ويزيدهم سماع القرآن ومواعظه خضوعا لأمر الله وعظيم قدرته تماما، وقد جعل المفسرون هذا الخشوع زيادة في تواضعهم لا في علمهم أنفسهم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said :"A man who cries out of fearing Allah, will not be put into the Fire until milk returns to the udder; and dust raised in the cause of Allah and the smoke of Jahannam will not be gathered together." [He said:] There are narrations on this topic from Abu Raihanah and Ibn 'Abbas. [He said:] This Hadith is [Hasan] Sahih. Muhammad bin 'Abdur-Rahman is the Mawla of the family of Talbah, and he is from Al-Madinah, and trustworthy. Shu'bah and Sufyan Ath-Thawri reported from him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جا سکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے اور اللہ کی راہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوریحانہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن عبدالرحمٰن آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام ہیں مدنی ہیں، ثقہ ہیں، ان سے شعبہ اور سفیان ثوری نے روایت کی ہے۔
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said, "A man who wept out of the fear of Allah shall not enter the Fire until the milk returns to the udder; and dust in the cause of Allah and the smoke of Hell shall not come together." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Muhammad bin 'Abdur-Rahman is freed slave of Abu Talhah, and he is from Al-Madinah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ڈر سے رونے والا جہنم میں داخل نہیں ہو گا یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس لوٹ جائے، ( اور یہ محال ہے ) اور جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said:"No man who weeps for fear of Allah will be touched by the Fire until the milk goes back into the udders. And the dust (of Jihad) in the cause of Allah and the smoke of Hell, will never be combined in the nostrils of a Muslim
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے خوف سے رونے والے کو جہنم کی آگ اس وقت تک لقمہ نہیں بنا سکتی جب تک کہ ( تھن سے نکلا ہوا ) دودھ تھن میں واپس نہ پہنچا دیا جائے ۱؎، اور کسی مسلمان کے نتھنے میں جہاد کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے ۲؎۔
PickthallSay (unto mankind): Cry unto Allah, or cry unto the Beneficent, unto whichsoever ye cry (it is the same). His are the most beautiful names. And thou (Muhammad), be not loud-voiced in thy worship nor yet silent therein, but follow a way between.
Yusuf AliSay: "Call upon Allah, or call upon Rahman: by whatever name ye call upon Him, (it is well): for to Him belong the Most Beautiful Names. Neither speak thy Prayer aloud, nor speak it in a low tone, but seek a middle course between."
The agreed readingSay: call on God, or call on the Compassionate — whichever you call on, to Him belong the most beautiful names. And do not be loud in your prayer, and do not be silent in it, but seek a way between the two.
Urduکہہ دیجیے: تم اللہ کو پکارو یا رحمٰن کو پکارو، جس نام سے بھی پکارو، سب اچھے نام اسی کے لیے ہیں۔ اور اپنی نماز میں نہ تو بہت اونچی آواز نکالو اور نہ بالکل خاموشی اختیار کرو، بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو۔
Arabicقل لهم: ادعوا الله أو ادعوا الرحمن، فبأي أسمائه دعوتموه فإنكم تدعون ربا واحدا حقا، لأن أسماءه كلها حسنى جميعا، ولا تجهر بصلاتك فيسمعك المشركون، ولا تخافت بها فلا يسمعك أصحابك، وكن وسطا بين الجهر والهمس تماما.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Baghawī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ، كَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَإِذَا سَمِعَهُ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ} أَىْ بِقِرَاءَتِكَ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ، فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ، {وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} عَنْ أَصْحَابِكَ فَلاَ تُسْمِعُهُمْ {وَابْتَغِ بَيْنَ …
Narrated Ibn `Abbas:(regarding): 'Neither say your, prayer aloud, nor say it in a low tone.' (17.110) This Verse was revealed while Allah's Messenger (ﷺ) was hiding himself in Mecca. When he prayed with his companions, he used to raise his voice with the recitation of Qur'an, and if the pagans happened to hear him, they would abuse the Qur'an, the One who revealed it and the one who brought it. Therefore Allah said to His Prophet : 'Neither say your prayer aloud.' (17.110) i.e. do not recite aloud lest the pagans should hear you, but follow a way between
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم بن بشیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبشر نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» ”اور آپ نماز میں نہ تو بہت پکار کر پڑھئے اور نہ ( بالکل ) چپکے ہی چپکے“ کے متعلق فرمایا کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ( کافروں کے ڈر سے ) چھپے رہتے تو اس زمانہ میں جب آپ اپنے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے تو قرآن مجید کی تلاوت بلند آواز سے کرتے، مشرکین سنتے تو قرآن کو بھی گالی دیتے اور اس کے نازل کرنے والے اور اس کے لانے والے کو بھی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کہا کہ آپ نماز نہ تو بہت پکار کر پڑھیں ( یعنی قرآت خوب جہر کے ساتھ نہ کریں ) …
Ibn 'Abbas reported:The word of (Allah) Great and Glorious: 'And utter not thy prayer loudly, nor be low in it" (xvii. 110) was revealed as the Messenger of Allah (may peace beupon him) was hiding himself in Mecca. When he led his Companions in prayer he raised his voice (while reciting the) Qur'an. And when the polytheists heard that, they reviled the Qur'an and Him Who revealed it and him who brought it. Upon this Allah, the Exalted, said to His Apostle (ﷺ): Utter not thy prayer so loudly that the polytheists may hear thy recitation and (recite it) not so low that it may be inaudible to your Companions. Make them hear the Qur'an, but do not recite it loudly and seek a (middle) way between …
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها﴾ ’’ اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ اسے پست کریں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی ، انہوں نے کہا : یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہﷺ مکہ میں پوشیدہ ( عبادت کرتے ) تھے ۔ جب آپ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تو قراءت بلند آواز سے کرتے تھے ، مشرک جب یہ قراءت سنتے تو قرآن کو ، اس کے نازل کرنے والے کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو ہدایت کی : ’’ اپنی نماز میں ( آواز کو اس قدر ) بلند نہ کریں ‘ ‘ کہ آپ کی قراءت مشرکوں کو سنائی دے ’’ اور نہ اس ( کی آواز ) کو پست کریں ‘ ‘ اپنے ساتھیوں سے ، انہیں قرآن سنائیں اور آواز اتنی زیاد اونچی نہ کریں ’’اور ان ( دونوں ) …
It was narrated that Ibn 'Abbas said:Concerning the saying of Allah, the Mighty and Sublime: "And offer your salah (prayer) neither aloud nor in a low voice"- It was revealed when the Messenger of Allah (ﷺ) was still (preaching) in secret in Makkah. When he led his companions in prayer, he would raise his voice" -(One of the narrators) Ibn Mani' said: He would recite the Quran out loud"- "And when the idolators heard his voice they would insult the Quran, and the One Who revealed it, and the one who brought it. So Allah, the Mighty and Sublime, said to His Prophet (ﷺ): And offer your salah (prayer) neither aloud that is, such that the idolators can hear your recitation and insult the Quran; …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپے رہتے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کو نماز پڑھاتے تو اپنی آواز بلند کرتے، ( ابن منیع کی روایت میں ہے: قرآن زور سے پڑھتے ) جب مشرکین آپ کی آواز سنتے تو قرآن کو اور جس نے اسے نازل کیا ہے اسے، اور جو لے کر آیا ہے اسے سب کو برا بھلا کہتے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے محمد! اپنی نماز یعنی اپنی قرأت کو بلند نہ کریں کہ مشرکین سنیں تو قرآن کو برا بھلا کہیں، اور نہ اسے اتنی پست آواز میں پڑھیں کہ آپ کے ساتھی سن ہی نہ سکیں، بلکہ ان دونوں کے بیچ کا راستہ اختیار کریں۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا صَوْتَهُ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْفِضُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ مَا كَانَ يَسْمَعُهُ أَصْحَابُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً } " .
It was narrated that Ibn Abbas said:"The Prophet (ﷺ) used to raise his voice when reciting Quran, and when the idolaters heard his voice they would insult the Quran and the one who had brought it. So the Prophet (ﷺ) began to lower his voice such that his companions would not hear him. Then Allah (SWT), the Mighty and Sublime, revealed: 'And offer your salah (prayer) neither aloud nor in a low voice, but follow a way between
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، تو جب مشرک آپ کی آواز سنتے تو وہ قرآن کو اور اسے لے کر آنے والے کو برا بھلا کہتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو اتنی پست آواز سے پڑھنے لگے کہ آپ کے ساتھی بھی نہیں سن پاتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» یعنی اے محمد! نہ اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھیں، اور نہ بہت پست آواز سے بلکہ ان کے بیچ کا راستہ اختیار کریں ( بنی اسرائیل: ۱۱۰ ) ۔
1. Ali b. Muhammad has narrated from Salih b. Abi Hammad from al-Husayn ibn Yazid from al-Hassan b. Ali ibn Abi Hamzah from Ibrahim b. ‘Umar from Abi ‘Abdallah (a.s.), who has said the following: “Allah, the Most Holy, the Most High, created a name with letters that had no sound. He created it with the word that would not be spoken. He created it with a personality that had no body. It had a similarity that is not described. He created it with color that is colorless. Diameters were negated from it. Limitations were distanced away from it. The feel of all Mutawahhim (intuitive sense) is curtained from it. It is hidden but not covered. He placed it to be a perfect word consisting of four …
علی بن محمد نے صالح بن ابی حماد سے روایت کی، انہوں نے حسین بن یزید سے، انہوں نے حسن بن علی بن ابی حمزہ سے، انہوں نے ابراہیم بن عمر سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک نام پیدا کیا حروف سے جس میں آواز نہیں، اور لفظ سے جو بولا نہیں جاتا، اور شخصیت سے جو جسمانیت نہیں رکھتی، اور تشبیہ سے جو موصوف نہیں ہے، اور رنگ سے جو رنگین نہیں ہے۔ اس سے سمتیں منفی ہیں، اس سے حدود دور ہیں، ہر خیال کا احساس اس سے محجوب ہے۔ وہ چھپا ہے مگر پوشیدہ نہیں۔ پھر اس نے اسے ایک مکمل لفظ بنایا چار اجزاء پر جو ایک ساتھ ہیں، ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے پہلے نہیں۔ تو اس نے ان میں سے تین ناموں کو ظاہر کیا کیونکہ خلق کو ان کی ضرورت تھی، اور ایک نام کو چھپایا جو محفوظ اور مخزون نام …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Sa'eed bin Jubair:from Ibn 'Abbas regarding Allah's saying: "And offer your Salat neither aloud nor in a low voice but follow a way between." He said: "It was revealed when the Messenger of Allah (ﷺ) was hiding himself in Makkah, and when he led his Companions in Salat, he would raise his voice with the Qur'an. So when the idolaters heard it they would insult the Qur'an, the One Who revealed it, and the one who came with it. So Allah, Most High, said to His Prophet: 'And offer your Salat neither aloud' that is: Your recitation, so that the idolaters would not hear it and insult the Qur'an. 'Nor in a low voice (too low)' for your Companions, 'but follow a way between
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» ”صلاۃ میں آواز بہت بلند نہ کیجئے اور نہ ہی بہت پست بلکہ دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کیجئے“ ( الاسراء: ۱۱۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں: یہ آیت مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب آپ مکہ میں چھپے چھپے رہتے تھے، جب آپ اپنے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، مشرکین جب سن لیتے تو قرآن، قرآن نازل کرنے والے اور قرآن لانے والے سب کو گالیاں دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: «ولا تجهر بصلاتك» بلند آواز سے نماز نہ پڑھو ( یعنی بلند آواز سے قرأت نہ کرو ) کہ جسے سن کر مشرکین قرآن کو گالیاں دینے لگیں اور نہ دھیمی آواز سے پڑھو ( کہ تمہارے صحابہ سن نہ …
2 - قال: أخبرني أبو الحسن علي بن الحسن المراغي قال: حدثنا أبو القاسم الحسن بن علي بن الحسن الكوفي قال: حدثنا جعفر بن محمد بن مروان قال: حدثنا أبي قال: حدثنا أحمد بن عيسى قال: حدثنا محمد بن جعفر بن محمد ابن علي، عن أبيه عليهم السلام قال: فقد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رجلا من أصحابه، ثم رآه بعد ذلك، فقال [له]: ما أبطأ بك عنا ؟ فقال: السقم والفقر يا رسول الله، فقال له النبي صلى الله عليه وآله وسلم: ألا أعلمك دعوات تدعو بهن فيذهب الله عنك السقم و ينفي عنك الفقر؟ قال له: بلى بأبي أنت وأمي يا رسول الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: قل: " لا حول ولا قوة إلا بالله، توكلت على الحي الذي لا يموت، الحمد لله الذي لم يتخذ ولدا، ولم يكن له شريك في الملك، ولم يكن له ولي من الذل، وكبره …
2. He said: Abul Hasan ‘Ali ibn al-Khalid al-Maraghi reported to me from Abul Qasim al-Hasan ibn ‘Ali ibn al-Hasan al-Kufi, who reported from Ja’far ibn Muhammad ibn Marwan, who reported from his father, who reported from Ahmed ibn Isa, who reported from Muhammad ibn Ja’far ibn Muhammad ibn ‘Ali, from his father, peace be upon them all, that: The Prophet, peace be upon him and his progeny, once missed one of his companions for a time and then, when he saw him again, he asked: "What has kept you from us so long?’ He said: "O Prophet of Allah, illness and poverty prevented me." The Prophet, peace be upon him and his progeny, said: "May I not teach you prayers which you would recite so that …
کہا: ابو الحسن علی بن الحسن المراغی نے مجھے خبر دی، کہا: ابو القاسم الحسن بن علی بن الحسن الکوفی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: جعفر بن محمد بن مروان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میرے باپ نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: احمد بن عیسیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: محمد بن جعفر بن محمد بن علی نے اپنے باپ سے روایت کی، ان تمام پر سلام ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اپنے صحابیوں میں سے ایک شخص کو کم دیکھ رہے تھے، پھر وہ اس کے بعد اس کو دوبارہ دیکھا تو اس سے کہا: تمہیں ہمارے پاس کیا تھام رہا تھا؟ تو اس نے کہا: یا رسول اللہ، بیماری اور غربت۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ نے اس سے کہا: کیا میں تمہیں دعائیں نہ سکھاؤں جن کو تم کہو تو اللہ تم سے بیماری دور کر دے اور تم سے غربت کو نفی کر دے؟ اس نے اس سے کہا: …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
إذا أردت الخروج إلى الحج فاجمع أهلك وصل ركعتين ومجد الله كثيرا وصل على محمد وآله، وقل: "اللهم إني أستودعك اليوم ديني ونفسي ومالي وأهلي وولدي وجيراني، وأهل حزانتي الشاهد منا والغائب وجميع ما أنعمت به علي، اللهم اجعلنا في كنفك ومنعك وعياذك وعزك، عز جارك وجل ثناؤك، وامتنع عائذك، ولا إله غيرك، توكلت على الحي الذي لا يموت. الحمد لله الذي لم يتخذ صاحبة ولا ولدا، ولم يكن له شريك في الملك، ولم يكن له ولي من الذل وكبره تكبيرا، الله أكبر كبيرا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة وأصيلا". فإذا خرجت من منزلك فقل: "بسم الله الرحمن الرحيم لا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال والولد، اللهم إني أسألك في سفري هذا السرور والعمل بما …
If you intend to embark on Hajj, gather your family, perform two units of prayer, glorify Allah (swt) abundantly, send blessings upon Muhammad and his family, and say: "O Allah (swt), I entrust to You today my religion, myself, my wealth, my family, my children, my neighbors, those who are present among us, those who are absent, and all the blessings You have bestowed upon me. O Allah (swt), place us under Your protection, safeguarding, refuge, and might. Mighty is Your protection, exalted is Your praise, and inviolable is Your refuge. There is no deity other than You. I rely on the Living, who does not die. All praise is due to Allah (swt), who has not taken a consort or a child, who has …
جب تم حج پر جانے کا ارادہ کریں تو اپنے گھر والوں کو جمع کریں اور دو رکعت نماز پڑھیں اور بہت سارے اللہ کی تعظیم کریں اور محمد اور ان کی آل پر درود بھیجیں، اور یہ کہیں: اے اللہ! میں آج تمہارے پاس اپنے دین، اپنی جان، اپنے مال، اپنے گھر والوں، اپنی اولاد، اپنے ہمسائیوں کو سپرد کرتا ہوں، ہمارے میں سے جو حاضر ہیں اور جو غائب ہیں، اور تمام نعمتیں جو تم نے مجھے دی ہیں۔ اے اللہ! ہمیں اپنی حفاظت میں رکھیں اور اپنی حفاظت اور پناہ اور عزت میں۔ تمہاری حفاظت عزت والی ہے اور تمہاری تعریف عظیم ہے، اور تمہاری پناہ لینے والا محفوظ ہے، تمہارے علاوہ کوئی خدا نہیں۔ میں اس زندہ کے تولیے کرتا ہوں جو کبھی نہیں مرتا۔ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے کوئی بیوی نہیں بنائی اور نہ ہی کوئی بیٹا، اور اس کا بادشاہی میں …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Qatadah narrated that :The Prophet (S) said to Abu Bakr: "I passed by you while you were reciting and your voice was low." He said: "I let He who, I was consulting hear." He said: "Raise your voice." Then he said to Umar: "I passed by while you were reciting and your voice was loud." So he said: "I repel drowsiness and keep Ash-Shaitan away." So he said: "Lower your voice
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”میں ( تہجد کے وقت ) تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز کچھ دھیمی تھی؟“ کہا: میں تو صرف اسے سنا رہا تھا جس سے میں مناجات کر رہا تھا۔ ( یعنی اللہ کو ) آپ نے فرمایا: ”اپنی آواز کچھ بلند کر لیا کرو“، اور عمر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”میں تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز بہت اونچی تھی؟“، کہا: میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ام ہانی، انس، ام سلمہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسے یحییٰ بن اسحاق نے حماد بن …
PickthallAnd say: Praise be to Allah, Who hath not taken unto Himself a son, and Who hath no partner in the Sovereignty, nor hath He any protecting friend through dependence. And magnify Him with all magnificence.
Yusuf AliSay: "Praise be to Allah, who begets no son, and has no partner in (His) dominion: Nor (needs) He any to protect Him from humiliation: yea, magnify Him for His greatness and glory!"
The agreed readingAnd say: praise be to God, who has taken no son, and who has no partner in the dominion, and who has no protector out of weakness. And magnify Him greatly.
Urduاور کہہ دیجیے: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، جس نے نہ کوئی اولاد بنائی، نہ بادشاہت میں اس کا کوئی ساجھی ہے، اور نہ اسے کمزوری کی وجہ سے کسی مددگار کی ضرورت ہے۔ اور اس کی بڑائی خوب اچھی طرح بیان کرو۔
Arabicوقل لهم: الحمد لله الذي له الكمال والثناء جميعا، الذي تنزه عن اتخاذ الولد ولم يكن له شريك في الملك حقا، ولم يكن له وليٌّ من خلقه من الذل أبدا فهو الغني القوي وحده، وعظمه تعظيما تاما كاملا.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine names, one hundred less one, for He is One and loves the odd (numbered). Whoever learns them will enter Paradise. They are: Allah, Al-Wahid (the One), As-Samad (the Self-Sufficient Master who all creatures need, He neither eats nor drinks), Al-Awwal (the First), Al-Akhir (the Last), Az-Zahir (the Most High), Al-Batin (the Most Near), Al-Khaliq (the Creator), Al-Bari (the Inventor of all things), Al-Musawwir (the Bestower of forms), Al-Malik (the King), Al-Haqq (the Truth), As-Salam (the One free from all defects), Al-Mu'min (the Giver of security), Al-Muhaymin (the Watcher over His creatures), …
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ ، «الواحد» اکیلا، ایکتا ، «الصمد» بے نیاز ، «الأول» پہلا ، «الآخر» پچھلا ، «الظاهر» ظاہر ، «الباطن» باطن ، «الخالق» پیدا کرنے والا ، «البارئ» بنانے والا ، «المصور» صورت بنانے والا ، «الملك» بادشاہ ، «الحق» سچا ، «السلام» سلامتی دینے والا ، «المؤمن» یقین والا ، «المهيمن» نگہبان ، «العزيز» غالب ، «الجبار» تسلط والا ، «المتكبر» بڑائی والا ، «الرحمن» بہت رحم کرنے والا ،«الرحيم» مہربان ، «اللطيف» بندوں پر شفقت کرنے …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلاً يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:"The Prophet (saas) heard a man say: 'Allahumma! Inni as'aluka bi-annaka Antallahul-Ahadus-Samad, alladhi lam yalid wa lam yuwlud, wa lam yakun lahu kufuwan ahad (O Allah! I ask You by virtue of Your being Allah, the One, the Self-Sufficient Master, Who begets not nor was begotten, and there is none co-equal or comparable to Him).' The Messenger of Allah (saas) said: 'He has asked Allah by His Greatest Name, which if He is asked thereby He gives, and if He is called upon thereby He answers
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا: «اللهم إني أسألك بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔
1. Ali b. Muhammad has narrated from Salih b. Abi Hammad from al-Husayn ibn Yazid from al-Hassan b. Ali ibn Abi Hamzah from Ibrahim b. ‘Umar from Abi ‘Abdallah (a.s.), who has said the following: “Allah, the Most Holy, the Most High, created a name with letters that had no sound. He created it with the word that would not be spoken. He created it with a personality that had no body. It had a similarity that is not described. He created it with color that is colorless. Diameters were negated from it. Limitations were distanced away from it. The feel of all Mutawahhim (intuitive sense) is curtained from it. It is hidden but not covered. He placed it to be a perfect word consisting of four …
علی بن محمد نے صالح بن ابی حماد سے روایت کی، انہوں نے حسین بن یزید سے، انہوں نے حسن بن علی بن ابی حمزہ سے، انہوں نے ابراہیم بن عمر سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک نام پیدا کیا حروف سے جس میں آواز نہیں، اور لفظ سے جو بولا نہیں جاتا، اور شخصیت سے جو جسمانیت نہیں رکھتی، اور تشبیہ سے جو موصوف نہیں ہے، اور رنگ سے جو رنگین نہیں ہے۔ اس سے سمتیں منفی ہیں، اس سے حدود دور ہیں، ہر خیال کا احساس اس سے محجوب ہے۔ وہ چھپا ہے مگر پوشیدہ نہیں۔ پھر اس نے اسے ایک مکمل لفظ بنایا چار اجزاء پر جو ایک ساتھ ہیں، ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے پہلے نہیں۔ تو اس نے ان میں سے تین ناموں کو ظاہر کیا کیونکہ خلق کو ان کی ضرورت تھی، اور ایک نام کو چھپایا جو محفوظ اور مخزون نام …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Mihjan ibn al-Adra': The Messenger of Allah (ﷺ) entered the mosque and saw a man who had finished his prayer, and was reciting the tashahhud saying: O Allah, I ask you, O Allah, the One, the eternally besought of all, He begetteth not, nor was He begotten, and there is none comparable unto Him, that you may forgive me my sins, you are Most Forgiving, Merciful. He (the Prophet) said: He was forgiven (repeating three times)
محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی نماز پوری کر لی، اور تشہد میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے: «اللهم إني أسألك يا الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» اے تنہا و اکیلا، باپ بیٹا سے بے نیاز، بے مقابل ولا مثیل اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے، بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے یہ سن کر آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا: اسے بخش دیا گیا، اسے بخش دیا گیا ۔
Narrated Sa'eed bin Jubair:from Ibn 'Abbas regarding Allah's saying: "And offer your Salat neither aloud nor in a low voice but follow a way between." He said: "It was revealed when the Messenger of Allah (ﷺ) was hiding himself in Makkah, and when he led his Companions in Salat, he would raise his voice with the Qur'an. So when the idolaters heard it they would insult the Qur'an, the One Who revealed it, and the one who came with it. So Allah, Most High, said to His Prophet: 'And offer your Salat neither aloud' that is: Your recitation, so that the idolaters would not hear it and insult the Qur'an. 'Nor in a low voice (too low)' for your Companions, 'but follow a way between
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» ”صلاۃ میں آواز بہت بلند نہ کیجئے اور نہ ہی بہت پست بلکہ دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کیجئے“ ( الاسراء: ۱۱۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں: یہ آیت مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب آپ مکہ میں چھپے چھپے رہتے تھے، جب آپ اپنے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، مشرکین جب سن لیتے تو قرآن، قرآن نازل کرنے والے اور قرآن لانے والے سب کو گالیاں دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: «ولا تجهر بصلاتك» بلند آواز سے نماز نہ پڑھو ( یعنی بلند آواز سے قرأت نہ کرو ) کہ جسے سن کر مشرکین قرآن کو گالیاں دینے لگیں اور نہ دھیمی آواز سے پڑھو ( کہ تمہارے صحابہ سن نہ …
Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.
ذكرها al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭūsī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Qummī, al-Ṭūsī, al-Baghawī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, Ibn Kathīr, al-Fayḍ al-Kāshānī, al-Ḥuwayzī, Ibn ʿĀshūr and Ṭabāṭabāʾī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭūsī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا
2 - قال: أخبرني أبو الحسن علي بن الحسن المراغي قال: حدثنا أبو القاسم الحسن بن علي بن الحسن الكوفي قال: حدثنا جعفر بن محمد بن مروان قال: حدثنا أبي قال: حدثنا أحمد بن عيسى قال: حدثنا محمد بن جعفر بن محمد ابن علي، عن أبيه عليهم السلام قال: فقد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رجلا من أصحابه، ثم رآه بعد ذلك، فقال [له]: ما أبطأ بك عنا ؟ فقال: السقم والفقر يا رسول الله، فقال له النبي صلى الله عليه وآله وسلم: ألا أعلمك دعوات تدعو بهن فيذهب الله عنك السقم و ينفي عنك الفقر؟ قال له: بلى بأبي أنت وأمي يا رسول الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: قل: " لا حول ولا قوة إلا بالله، توكلت على الحي الذي لا يموت، الحمد لله الذي لم يتخذ ولدا، ولم يكن له شريك في الملك، ولم يكن له ولي من الذل، وكبره …
2. He said: Abul Hasan ‘Ali ibn al-Khalid al-Maraghi reported to me from Abul Qasim al-Hasan ibn ‘Ali ibn al-Hasan al-Kufi, who reported from Ja’far ibn Muhammad ibn Marwan, who reported from his father, who reported from Ahmed ibn Isa, who reported from Muhammad ibn Ja’far ibn Muhammad ibn ‘Ali, from his father, peace be upon them all, that: The Prophet, peace be upon him and his progeny, once missed one of his companions for a time and then, when he saw him again, he asked: "What has kept you from us so long?’ He said: "O Prophet of Allah, illness and poverty prevented me." The Prophet, peace be upon him and his progeny, said: "May I not teach you prayers which you would recite so that …
کہا: ابو الحسن علی بن الحسن المراغی نے مجھے خبر دی، کہا: ابو القاسم الحسن بن علی بن الحسن الکوفی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: جعفر بن محمد بن مروان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میرے باپ نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: احمد بن عیسیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: محمد بن جعفر بن محمد بن علی نے اپنے باپ سے روایت کی، ان تمام پر سلام ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اپنے صحابیوں میں سے ایک شخص کو کم دیکھ رہے تھے، پھر وہ اس کے بعد اس کو دوبارہ دیکھا تو اس سے کہا: تمہیں ہمارے پاس کیا تھام رہا تھا؟ تو اس نے کہا: یا رسول اللہ، بیماری اور غربت۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ نے اس سے کہا: کیا میں تمہیں دعائیں نہ سکھاؤں جن کو تم کہو تو اللہ تم سے بیماری دور کر دے اور تم سے غربت کو نفی کر دے؟ اس نے اس سے کہا: …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.
ذكرها al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭūsī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Qummī, al-Ṭūsī, al-Baghawī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, Ibn Kathīr, al-Fayḍ al-Kāshānī, al-Ḥuwayzī, Ibn ʿĀshūr and Ṭabāṭabāʾī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭūsī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا
إذا أردت الخروج إلى الحج فاجمع أهلك وصل ركعتين ومجد الله كثيرا وصل على محمد وآله، وقل: "اللهم إني أستودعك اليوم ديني ونفسي ومالي وأهلي وولدي وجيراني، وأهل حزانتي الشاهد منا والغائب وجميع ما أنعمت به علي، اللهم اجعلنا في كنفك ومنعك وعياذك وعزك، عز جارك وجل ثناؤك، وامتنع عائذك، ولا إله غيرك، توكلت على الحي الذي لا يموت. الحمد لله الذي لم يتخذ صاحبة ولا ولدا، ولم يكن له شريك في الملك، ولم يكن له ولي من الذل وكبره تكبيرا، الله أكبر كبيرا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة وأصيلا". فإذا خرجت من منزلك فقل: "بسم الله الرحمن الرحيم لا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال والولد، اللهم إني أسألك في سفري هذا السرور والعمل بما …
If you intend to embark on Hajj, gather your family, perform two units of prayer, glorify Allah (swt) abundantly, send blessings upon Muhammad and his family, and say: "O Allah (swt), I entrust to You today my religion, myself, my wealth, my family, my children, my neighbors, those who are present among us, those who are absent, and all the blessings You have bestowed upon me. O Allah (swt), place us under Your protection, safeguarding, refuge, and might. Mighty is Your protection, exalted is Your praise, and inviolable is Your refuge. There is no deity other than You. I rely on the Living, who does not die. All praise is due to Allah (swt), who has not taken a consort or a child, who has …
جب تم حج پر جانے کا ارادہ کریں تو اپنے گھر والوں کو جمع کریں اور دو رکعت نماز پڑھیں اور بہت سارے اللہ کی تعظیم کریں اور محمد اور ان کی آل پر درود بھیجیں، اور یہ کہیں: اے اللہ! میں آج تمہارے پاس اپنے دین، اپنی جان، اپنے مال، اپنے گھر والوں، اپنی اولاد، اپنے ہمسائیوں کو سپرد کرتا ہوں، ہمارے میں سے جو حاضر ہیں اور جو غائب ہیں، اور تمام نعمتیں جو تم نے مجھے دی ہیں۔ اے اللہ! ہمیں اپنی حفاظت میں رکھیں اور اپنی حفاظت اور پناہ اور عزت میں۔ تمہاری حفاظت عزت والی ہے اور تمہاری تعریف عظیم ہے، اور تمہاری پناہ لینے والا محفوظ ہے، تمہارے علاوہ کوئی خدا نہیں۔ میں اس زندہ کے تولیے کرتا ہوں جو کبھی نہیں مرتا۔ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے کوئی بیوی نہیں بنائی اور نہ ہی کوئی بیٹا، اور اس کا بادشاہی میں …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that Ibn 'Abbas said:Concerning the saying of Allah, the Mighty and Sublime: "And offer your salah (prayer) neither aloud nor in a low voice"- It was revealed when the Messenger of Allah (ﷺ) was still (preaching) in secret in Makkah. When he led his companions in prayer, he would raise his voice" -(One of the narrators) Ibn Mani' said: He would recite the Quran out loud"- "And when the idolators heard his voice they would insult the Quran, and the One Who revealed it, and the one who brought it. So Allah, the Mighty and Sublime, said to His Prophet (ﷺ): And offer your salah (prayer) neither aloud that is, such that the idolators can hear your recitation and insult the Quran; …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپے رہتے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کو نماز پڑھاتے تو اپنی آواز بلند کرتے، ( ابن منیع کی روایت میں ہے: قرآن زور سے پڑھتے ) جب مشرکین آپ کی آواز سنتے تو قرآن کو اور جس نے اسے نازل کیا ہے اسے، اور جو لے کر آیا ہے اسے سب کو برا بھلا کہتے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے محمد! اپنی نماز یعنی اپنی قرأت کو بلند نہ کریں کہ مشرکین سنیں تو قرآن کو برا بھلا کہیں، اور نہ اسے اتنی پست آواز میں پڑھیں کہ آپ کے ساتھی سن ہی نہ سکیں، بلکہ ان دونوں کے بیچ کا راستہ اختیار کریں۔
Narrated Talhah bin Khirash:"I heard Jabir bin 'Abdullah saying: 'I heard the Prophet (ﷺ) saying: "The Fire shall not touch the Muslim who saw me, or saw one who saw me
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جہنم کی آگ کسی ایسے مسلمان کو نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا، یا کسی ایسے شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ہے“، طلحہ ( راوی حدیث ) نے کہا: تو میں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو دیکھا ہے اور موسیٰ نے کہا: میں نے طلحہ کو دیکھا ہے اور یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے موسیٰ ( راوی حدیث ) نے کہا: اور تم نے مجھے دیکھا ہے اور ہم سب اللہ سے نجات کے امیدوار ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم انصاری کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس حدیث کو علی بن مدینی نے اور محدثین میں سے کئی اور لوگوں نے بھی موسیٰ سے روایت کی ہے۔