PickthallO mankind! Fear your Lord. Lo! the earthquake of the Hour (of Doom) is a tremendous thing.
Yusuf AliO mankind! fear your Lord! for the convulsion of the Hour (of Judgment) will be a thing terrible!
The agreed readingPeople: be mindful of your Lord. The quaking that comes with the Hour is a tremendous thing. The address is to all people together and not to one group among them.
Urduاے لوگو، اپنے رب سے ڈرو۔ قیامت کے ساتھ آنے والا زلزلہ ایک بہت بڑی چیز ہے۔ یہ خطاب تمام لوگوں کو ایک ساتھ کیا گیا ہے، کسی ایک گروہ کو خاص کر کے نہیں۔
Arabicيا أيها الناس جميعا اتقوا ربكم؛ إن زلزلة الساعة أمر عظيم جدا يصاحب قيام القيامة. والخطاب هنا موجه للناس كلهم معا، وليس لفئة واحدة منهم دون غيرها.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Rāzī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated 'Imran bin Husain:when (the following) was revealed: "O mankind! Have Taqwa of your Lord! Verily the earthquake of the hour is a terrible thing..." up to His saying: "But Allah's torment is severe...(22:1 & 2)" - he said: "These Ayat were revealed while he (ﷺ) was on a journey and he said: 'Do you know what Day this is?' So they said: 'Allah and His Messenger know better.' He said: 'That is the day when Allah says to Adam: Send forth those who are to be sent to the Fire. So he says: O Lord! How many are to be sent? He says: Nine-hundred and ninety-nine in the Fire, and one to Paradise. He said: "So the Muslims started crying. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Close your ranks …
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے قول «ولكن عذاب الله شديد» ۱؎ تک نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفر میں تھے، آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ آدم ( علیہ السلام ) سے کہے گا «ابعث بعث النار» ”جہنم میں جانے والی جماعت کو چھانٹ کر بھیجو“ آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب «بعث النار» ”کیا ہے ( یعنی کتنے ) ؟“ اللہ فرمائے گا: نو سو ننانوے ( ۹۹۹ ) افراد جہنم میں اور ( ان کے مقابل میں ) ایک شخص جنت میں جائے گا، یہ سن کر مسلمان ( صحابہ ) رونے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی …
Abu Sa'id reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah, the High and Glorious, would say: O Adam I and he would say: At Thy service, at thy beck and call, O Lord, and the good is in Thy Hand. Allah would say: Bring forth the group of (the denizens of) Fire. He (Adam) would say: Who are the denizens of Hell? It would be said: They are out of every thousand nine hundred and ninety-nine. He (the Holy Prophet) said: It is at this juncture that every child would become white-haired and every pregnant woman would abort and you would see people in a state of intoxication, and they would not be in fact intoxicated but grievous will be the torment of Allah. He (the narrator) said: This had a very …
جریر نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ عز وجل فرمائے گا : اے آدم ! وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں ( میرے رب! ) قسمت کی خوبی ( تیری عطا ہے ) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا : اللہ فرمائے گا : دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے : دوزخیوں کی جماعت ( تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔ یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے ۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے ، حالانکہ وہ ( نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا ۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ بات ان ( صحابہ کرام رضی اللہ …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), 'O Adam.' Adam will reply, 'Labbaik wa Sa`daik', and all the good is in Your Hand.' Allah will say: 'Bring out the people of the fire.' Adam will say: 'O Allah! How many are the people of the Fire?' Allah will reply: 'From every one thousand, take out nine-hundred-and ninety-nine.' At that time children will become hoary headed, every pregnant female will have a miscarriage, and one will see mankind as drunken, yet they will not be drunken, but dreadful will be the Wrath of Allah." The companions of the Prophet (ﷺ) asked, "O Allah's Apostle! Who is that (excepted) one?" He said, "Rejoice with …
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام عرض کریں گے میں اطاعت کے لیے حاضر ہوں، مستعد ہوں، ساری بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جہنم میں جانے والوں کو ( لوگوں میں سے الگ ) نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے۔ اے اللہ! جہنمیوں کی تعداد کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت ( کی ہولناکی اور وحشت سے ) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ اس وقت تم ( خوف و دہشت سے ) لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "On the day of Resurrection Allah will say, 'O Adam!' Adam will reply, 'Labbaik our Lord, and Sa`daik ' Then there will be a loud call (saying), Allah orders you to take from among your offspring a mission for the (Hell) Fire.' Adam will say, 'O Lord! Who are the mission for the (Hell) Fire?' Allah will say, 'Out of each thousand, take out 999.' At that time every pregnant female shall drop her load (have a miscarriage) and a child will have grey hair. And you shall see mankind as in a drunken state, yet not drunk, but severe will be the torment of Allah." (22.2) (When the Prophet (ﷺ) mentioned this), the people were so distressed (and …
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک قیامت کے دن آدم علیہ السلام سے فرمائے گا۔ اے آدم! وہ عرض کریں گے، میں حاضر ہوں اے رب! تیری فرمانبرداری کے لیے۔ پروردگار آواز سے پکارے گا ( یا فرشتہ پروردگار کی طرف سے آواز دے گا ) اللہ حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں سے دوزخ کا جتھا نکالو۔ وہ عرض کریں گے اے پروردگار! دوزخ کا جتھا کتنا نکالوں۔ حکم ہو گا ( راوی نے کہا میں سمجھتا ہوں ) ہر ہزار آدمیوں میں نو سو ننانوے ( گویا ہزار میں ایک جنتی ہو گا ) یہ ایسا سخت وقت ہو گا کہ پیٹ والی کا حمل گر جائے گا اور بچہ ( فکر کے مارے ) بوڑھا …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ يَا آدَمُ. فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ. فَيُنَادَى بِصَوْتٍ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُخْرِجَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَى النَّارِ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), 'O Adam!' Adam will reply, 'Labbaik wa Sa`daik! ' Then a loud Voice will be heard (Saying) 'Allah Commands you to take out the mission of the Hell Fire from your offspring
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم! وہ کہیں گے «لبيك وسعديك.» پھر بلند آواز سے ندا دے گا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا لشکر نکال۔“
Narrated 'Imran bin Husain:"We were with the Prophet (ﷺ) on a journey when some of his Companions fell behind. So the Messenger of Allah (ﷺ) raised his voice reciting these two Ayat: "O mankind! Have Taqwa of your Lord! Verily the earthquake of the hour is a terrible thing..." up to His saying: but Allah's torment is severe (21:1 & 2)." When his Companions heard that, they hastened to catch up with him, since they knew that he had something to say. He (ﷺ) said: 'Do you know what Day this is? That is the Day when Adam will be called. His Lord will call him and say: O Adam, send forth those who are to be sent to the Fire. He will say: O Lord! How many are to be sent to the Fire? He will say: …
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، اور چلنے میں ایک دوسرے سے آگے پیچھے ہو گئے تھے، آپ نے بآواز بلند یہ دونوں آیتیں: «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے لے کر «عذاب الله شديد» تک تلاوت فرمائی، جب صحابہ نے یہ سنا تو اپنی سواریوں کو ابھار کر ان کی رفتار بڑھا دی، اور یہ جان لیا کہ کوئی بات ہے جسے آپ فرمانے والے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“، صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکاریں گے اور وہ اپنے رب کو جواب دیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: «ابعث بعث النار» ”بھیجو جہنم میں جانے والی جماعت کو“، آدم علیہ …
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ عِرَاضَ الْوُجُوهِ كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ يَرْبِطُونَ خَيْلَهُمْ بِالنَّخْلِ " .
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Hour will not begin until you fight people with small eyes and wide faces, as if their eyes are the pupils of locusts and as if their faces are hammered shields. They will be wearing shoes of hair, using leather shields and tying their horses to date-palm trees.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چوڑے ہوں گے، گویا کہ ان کی آنکھیں ٹڈی کی آنکھیں ہیں، اور ان کے چہرے چپٹی ڈھالیں ہیں، وہ بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں بنائیں گے اور کھجور کے درختوں کی جڑوں سے اپنے گھوڑے باندھیں گے ۔
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It is not lawful for a woman believing in Allah and the Hereafter to undertake journey extending over three days or more, except when she is in the company of her father, or her son, or her husband, or her brother, or any other Mahram
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو صالح سے انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو عورت اللہ اور یو م آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زائد کا سفر کرے الایہ کہ اس کے ساتھ اس کا والد یا اس کا بیٹا یا اس کا خاوند یااس کا بھا ئی یا اس کا کو ئی محرم ہو ،
PickthallOn the day when ye behold it, every nursing mother will forget her nursling and every pregnant one will be delivered of her burden, and thou (Muhammad) wilt see mankind as drunken, yet they will not be drunken, but the Doom of Allah will be strong (upon them).
Yusuf AliThe Day ye shall see it, every mother giving suck shall forget her suckling-babe, and every pregnant female shall drop her load (unformed): thou shalt see mankind as in a drunken riot, yet not drunk: but dreadful will be the Wrath of Allah.
The agreed readingOn the day you see it, a nursing mother forgets the child at her breast and a pregnant woman puts down what she is carrying. You will see people as though they were drunk, and they are not drunk: what has taken hold of them is the severity of God's punishment.
Urduجس دن تم اسے دیکھو گے، ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی، اور ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی۔ تم لوگوں کو نشے میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے: انہیں تو اللہ کے عذاب کی شدت نے پکڑ رکھا ہوگا۔
Arabicفي ذلك اليوم الذي ترون فيه تلك الزلزلة الشديدة، تذهل كل امرأة مرضعة عما كانت ترضعه من طفلها، وتضع كل امرأة ذات حمل حملها من شدة الفزع، وترى الناس كأنهم سكارى وما هم في الحقيقة بسكارى من الخمر، ولكن عذاب الله شديد جدا قد أذهب عقولهم.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Ṭūsī, al-Baghawī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, Ibn Kathīr, al-Ḥuwayzī, Ibn ʿĀshūr and Ṭabāṭabāʾī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Baghawī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), 'O Adam.' Adam will reply, 'Labbaik wa Sa`daik', and all the good is in Your Hand.' Allah will say: 'Bring out the people of the fire.' Adam will say: 'O Allah! How many are the people of the Fire?' Allah will reply: 'From every one thousand, take out nine-hundred-and ninety-nine.' At that time children will become hoary headed, every pregnant female will have a miscarriage, and one will see mankind as drunken, yet they will not be drunken, but dreadful will be the Wrath of Allah." The companions of the Prophet (ﷺ) asked, "O Allah's Apostle! Who is that (excepted) one?" He said, "Rejoice with …
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام عرض کریں گے میں اطاعت کے لیے حاضر ہوں، مستعد ہوں، ساری بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جہنم میں جانے والوں کو ( لوگوں میں سے الگ ) نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے۔ اے اللہ! جہنمیوں کی تعداد کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت ( کی ہولناکی اور وحشت سے ) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ اس وقت تم ( خوف و دہشت سے ) لوگوں کو مدہوشی کے عالم میں دیکھو …
Abu Sa'id reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah, the High and Glorious, would say: O Adam I and he would say: At Thy service, at thy beck and call, O Lord, and the good is in Thy Hand. Allah would say: Bring forth the group of (the denizens of) Fire. He (Adam) would say: Who are the denizens of Hell? It would be said: They are out of every thousand nine hundred and ninety-nine. He (the Holy Prophet) said: It is at this juncture that every child would become white-haired and every pregnant woman would abort and you would see people in a state of intoxication, and they would not be in fact intoxicated but grievous will be the torment of Allah. He (the narrator) said: This had a very …
جریر نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ عز وجل فرمائے گا : اے آدم ! وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں ( میرے رب! ) قسمت کی خوبی ( تیری عطا ہے ) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا : اللہ فرمائے گا : دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے : دوزخیوں کی جماعت ( تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔ یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے ۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے ، حالانکہ وہ ( نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا ۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ بات ان ( صحابہ کرام رضی اللہ …
Narrated 'Imran bin Husain:when (the following) was revealed: "O mankind! Have Taqwa of your Lord! Verily the earthquake of the hour is a terrible thing..." up to His saying: "But Allah's torment is severe...(22:1 & 2)" - he said: "These Ayat were revealed while he (ﷺ) was on a journey and he said: 'Do you know what Day this is?' So they said: 'Allah and His Messenger know better.' He said: 'That is the day when Allah says to Adam: Send forth those who are to be sent to the Fire. So he says: O Lord! How many are to be sent? He says: Nine-hundred and ninety-nine in the Fire, and one to Paradise. He said: "So the Muslims started crying. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Close your ranks …
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے قول «ولكن عذاب الله شديد» ۱؎ تک نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفر میں تھے، آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ آدم ( علیہ السلام ) سے کہے گا «ابعث بعث النار» ”جہنم میں جانے والی جماعت کو چھانٹ کر بھیجو“ آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب «بعث النار» ”کیا ہے ( یعنی کتنے ) ؟“ اللہ فرمائے گا: نو سو ننانوے ( ۹۹۹ ) افراد جہنم میں اور ( ان کے مقابل میں ) ایک شخص جنت میں جائے گا، یہ سن کر مسلمان ( صحابہ ) رونے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "On the day of Resurrection Allah will say, 'O Adam!' Adam will reply, 'Labbaik our Lord, and Sa`daik ' Then there will be a loud call (saying), Allah orders you to take from among your offspring a mission for the (Hell) Fire.' Adam will say, 'O Lord! Who are the mission for the (Hell) Fire?' Allah will say, 'Out of each thousand, take out 999.' At that time every pregnant female shall drop her load (have a miscarriage) and a child will have grey hair. And you shall see mankind as in a drunken state, yet not drunk, but severe will be the torment of Allah." (22.2) (When the Prophet (ﷺ) mentioned this), the people were so distressed (and …
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک قیامت کے دن آدم علیہ السلام سے فرمائے گا۔ اے آدم! وہ عرض کریں گے، میں حاضر ہوں اے رب! تیری فرمانبرداری کے لیے۔ پروردگار آواز سے پکارے گا ( یا فرشتہ پروردگار کی طرف سے آواز دے گا ) اللہ حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں سے دوزخ کا جتھا نکالو۔ وہ عرض کریں گے اے پروردگار! دوزخ کا جتھا کتنا نکالوں۔ حکم ہو گا ( راوی نے کہا میں سمجھتا ہوں ) ہر ہزار آدمیوں میں نو سو ننانوے ( گویا ہزار میں ایک جنتی ہو گا ) یہ ایسا سخت وقت ہو گا کہ پیٹ والی کا حمل گر جائے گا اور بچہ ( فکر کے مارے ) بوڑھا …
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَقُولُ اللَّهُ يَا آدَمُ. فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ. فَيُنَادَى بِصَوْتٍ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُخْرِجَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَى النَّارِ ".
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), 'O Adam!' Adam will reply, 'Labbaik wa Sa`daik! ' Then a loud Voice will be heard (Saying) 'Allah Commands you to take out the mission of the Hell Fire from your offspring
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم! وہ کہیں گے «لبيك وسعديك.» پھر بلند آواز سے ندا دے گا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا لشکر نکال۔“
Narrated 'Imran bin Husain:"We were with the Prophet (ﷺ) on a journey when some of his Companions fell behind. So the Messenger of Allah (ﷺ) raised his voice reciting these two Ayat: "O mankind! Have Taqwa of your Lord! Verily the earthquake of the hour is a terrible thing..." up to His saying: but Allah's torment is severe (21:1 & 2)." When his Companions heard that, they hastened to catch up with him, since they knew that he had something to say. He (ﷺ) said: 'Do you know what Day this is? That is the Day when Adam will be called. His Lord will call him and say: O Adam, send forth those who are to be sent to the Fire. He will say: O Lord! How many are to be sent to the Fire? He will say: …
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، اور چلنے میں ایک دوسرے سے آگے پیچھے ہو گئے تھے، آپ نے بآواز بلند یہ دونوں آیتیں: «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے لے کر «عذاب الله شديد» تک تلاوت فرمائی، جب صحابہ نے یہ سنا تو اپنی سواریوں کو ابھار کر ان کی رفتار بڑھا دی، اور یہ جان لیا کہ کوئی بات ہے جسے آپ فرمانے والے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“، صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکاریں گے اور وہ اپنے رب کو جواب دیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: «ابعث بعث النار» ”بھیجو جہنم میں جانے والی جماعت کو“، آدم علیہ …
درجته: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Hasan Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ عِرَاضَ الْوُجُوهِ كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ يَرْبِطُونَ خَيْلَهُمْ بِالنَّخْلِ " .
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Hour will not begin until you fight people with small eyes and wide faces, as if their eyes are the pupils of locusts and as if their faces are hammered shields. They will be wearing shoes of hair, using leather shields and tying their horses to date-palm trees.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چوڑے ہوں گے، گویا کہ ان کی آنکھیں ٹڈی کی آنکھیں ہیں، اور ان کے چہرے چپٹی ڈھالیں ہیں، وہ بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں بنائیں گے اور کھجور کے درختوں کی جڑوں سے اپنے گھوڑے باندھیں گے ۔
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It is not lawful for a woman believing in Allah and the Hereafter to undertake journey extending over three days or more, except when she is in the company of her father, or her son, or her husband, or her brother, or any other Mahram
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو صالح سے انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو عورت اللہ اور یو م آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زائد کا سفر کرے الایہ کہ اس کے ساتھ اس کا والد یا اس کا بیٹا یا اس کا خاوند یااس کا بھا ئی یا اس کا کو ئی محرم ہو ،
PickthallAmong mankind is he who disputeth concerning Allah without knowledge, and followeth each froward devil;
Yusuf AliAnd yet among men there are such as dispute about Allah, without knowledge, and follow every evil one obstinate in rebellion!
The agreed readingAmong people is one who disputes about God without knowledge and follows every rebellious satan. The commentaries give the occasion together: it came down about a practised arguer of Mecca who said the angels were God's daughters and the Qur'an old tales, and who denied that anyone is raised after death. The words take in him and everyone like him.
Urduلوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو بغیر علم کے اللہ کے بارے میں جھگڑتا ہے اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتا ہے۔ مفسرین اس موقع کا ذکر ایک ساتھ کرتے ہیں: یہ آیت مکہ کے ایک ماہر جھگڑالو کے بارے میں نازل ہوئی جو کہتا تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور قرآن پرانی کہانیاں ہیں، اور جو اس بات کا انکار کرتا تھا کہ کوئی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ یہ الفاظ اسے بھی شامل کرتے ہیں اور اس جیسے ہر شخص کو بھی۔
Arabicومن الناس من يجادل في الله بغير علم ويتبع كل شيطان مريد؛ يخاصم في قدرة الله على البعث دون علم يستند إليه، متبعا أئمة الضلال من كل شيطان متمرد. وتحمل التفاسير المناسبة معا: نزلت في مجادل معروف بمكة يقول إن الملائكة بنات الله والقرآن أساطير الأولين، وينكر أن أحدا يبعث بعد الموت. والكلام يشمله ويشمل كل من هو مثله.
PickthallFor him it is decreed that whoso taketh him for friend, he verily will mislead him and will guide him to the punishment of the Flame.
Yusuf AliAbout the (Evil One) it is decreed that whoever turns to him for friendship, him will he lead astray, and he will guide him to the Penalty of the Fire.
The agreed readingIt stands decreed of that satan that whoever takes him for a patron will be led astray by him and led to the punishment of the Blaze. Leading astray is what he is made for; the Blaze is where the leading ends.
Urduاس شیطان کے بارے میں یہ طے کر دیا گیا ہے کہ جو کوئی اسے اپنا دوست بنائے گا وہ اسے گمراہ کر دے گا اور بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔ گمراہ کرنا ہی اس کا کام ہے؛ اور آگ ہی وہ جگہ ہے جہاں یہ راہ نمائی ختم ہوتی ہے۔
Arabicكتب على هذا الشيطان أن من تولاه واتبعه فإنه يضله عن الحق، ويسوقه إلى عذاب النار وجهنم الموقدة. فالإضلال هو غايته، والنار هي منتهى ذلك الإضلال.
PickthallO mankind! if ye are in doubt concerning the Resurrection, then lo! We have created you from dust, then from a drop of seed, then from a clot, then from a little lump of flesh shapely and shapeless, that We may make (it) clear for you. And We cause what We will to remain in the wombs for an appointed time, and afterward We bring you forth as infants, then (give you growth) that ye attain your full strength. And among you there is he who dieth (young), and among you there is he who is brought back to the most abject time of life, so that, after knowledge, he knoweth naught. And thou (Muhammad) seest the earth barren, but when We send down water thereon, it doth thrill and swell and put forth every lovely kind (of growth).
Yusuf AliO mankind! if ye have a doubt about the Resurrection, (consider) that We created you out of dust, then out of sperm, then out of a leech-like clot, then out of a morsel of flesh, partly formed and partly unformed, in order that We may manifest (our power) to you; and We cause whom We will to rest in the wombs for an appointed term, then do We bring you out as babes, then (foster you) that ye may reach your age of full strength; and some of you are called to die, and some are sent back to the feeblest old age, so that they know nothing after having known (much), and (further), thou seest the earth barren and lifeless, but when We pour down rain on it, it is stirred (to life), it swells, and it puts forth every kind of beautiful growth (in pairs).
The agreed readingIf they doubt that anyone is raised, the answer is set out as a thing they have already watched happen: dust, then a drop, then a clinging clot, then a lump formed and unformed. What is willed stays in the womb for its term and comes out an infant, then grows to full strength; some are taken early and some are left to the age at which what they knew drains away. And the earth lies dead until water comes down on it, and then it stirs and swells and puts out every lovely kind. The first beginning is the proof of the second.
Urduاگر انہیں دوبارہ اٹھائے جانے میں شک ہے تو اس کا جواب ایک ایسی چیز کی صورت میں دیا گیا ہے جسے وہ خود دیکھ چکے ہیں: مٹی، پھر ایک قطرہ، پھر جما ہوا خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، بنا ہوا اور ادھورا۔ جو کچھ چاہا جاتا ہے وہ ایک مقررہ مدت تک رحم میں ٹھہرا رہتا ہے اور پھر ایک بچے کی صورت میں باہر آتا ہے، پھر اپنی پوری قوت تک پہنچتا ہے؛ کچھ کو جلدی اٹھا لیا جاتا ہے اور کچھ کو اس عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے جہاں ان کا جانا ہوا علم ختم ہو جاتا ہے۔ اور زمین مردہ پڑی ہوتی ہے یہاں تک کہ اس پر پانی اترتا ہے، تو وہ حرکت میں آ جاتی ہے، پھول جاتی ہے، اور ہر خوبصورت قسم کی چیز اگاتی ہے۔ پہلی ابتدا ہی دوسری کی دلیل ہے۔
Arabicيا أيها الناس إن كنتم في شك من البعث، فتأملوا في خلقكم: خلقناكم من تراب، ثم من نطفة وهي مني يقذفه الرجل في رحم المرأة، ثم من علقة، ثم من مضغة مخلقة وغير مخلقة، لنبين لكم قدرتنا؛ ونقر في الأرحام ما نشاء إلى وقت معلوم، ثم نخرجكم طفلا، ثم تبلغون أشدكم، ومنكم من يموت صغيرا، ومنكم من يرد إلى أرذل العمر حتى لا يعرف بعد علمه شيئا. وترى الأرض يابسة ميتة، فإذا أنزلنا عليها الماء تحركت وانتفخت وأنبتت من كل نوع بهيج جميل. فالخلق الأول دليل على الخلق الثاني.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 6 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة8 reports cited here — 6 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Narrated `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ), the true and truly inspired said, "(as regards your creation), every one of you is collected in the womb of his mother for the first forty days, and then he becomes a clot for another forty days, and then a piece of flesh for another forty days. Then Allah sends an angel to write four items: He writes his deeds, time of his death, means of his livelihood, and whether he will be wretched or blessed (in religion). Then the soul is breathed into his body. So a man may do deeds characteristic of the people of the (Hell) Fire, so much so that there is only the distance of a cubit between him and it, and then what has been written (by the angel) …
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور آپ سچوں کے سچے تھے کہ انسان کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں پہلے چالیس دن تک پوری کی جاتی ہے۔ پھر وہ اتنے ہی دنوں تک «علقة» یعنی غلیظ اور جامد خون کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں کے لیے «مضغة» ( گوشت کا لوتھڑا ) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پھر ( چوتھے چلہ میں ) اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے۔ پس وہ فرشتہ اس کے عمل، اس کی مدت زندگی، روزی اور یہ کہ وہ نیک ہے یا بد، کو لکھ لیتا ہے۔ اس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پس انسان ( زندگی بھر ) …
Abdullah bin Mas'ud said:"The Messenger of Allah (ﷺ), the true and truly inspired one, told us that: 'The creation of one of you is put together in his mother's womb for forty days, then it becomes a clot for a similar length of time, then it becomes a chewed lump of flesh for a similar length of time. Then Allah sends the angel to him and commands him to write down four things. He says: "Write down his deeds, his life span, his provision, and whether he is doomed (destined for Hell) or blessed (destined for Paradise)." By the One in Whose Hand is my soul! One of you may do the deeds of the people of Paradise until there is no more than a forearm's length between him and it, then the decree …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق و مصدوق ( یعنی جو خود سچے ہیں اور سچے مانے گئے ہیں ) نے بیان کیا کہ پیدائش اس طرح ہے کہ تم میں سے ہر ایک کا نطفہ خلقت ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے، پھر وہ چالیس دن تک جما ہوا خون رہتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار باتوں کا حکم دے کر ایک فرشتہ بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس فرشتہ سے کہتا ہے: اس کا عمل، اس کی مدت عمر، اس کا رزق، اور اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی جنت والوں کا عمل کر رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر اس کا مقدر غالب آ جاتا ہے ( …
It was narrated that 'Amr bin Maimun Al-Awdi said:"Sa'd used to teach his children these words as a teacher teaches his students, and he said that the Messenger of Allah [SAW] used to seek refuge by means of them at the end of every prayer: 'Allahumma inni a'udhu bika minal-bukhli, wa a'udhu bika minal-jubni, wa a'udhu bika an uradda ila ardhalil-'umuri, wa a'udhu bika min fitnatid-dunya, wa a'udhu bika min 'adhabil-qabr (O Allah, I seek refuge with You from miserliness, and I seek refuge in You from cowardice, and I seek refuge in You from reaching the age of senility, and I seek refuge in You from the trials of this world, and I seek refuge in You from the torment of the grave.) So I …
یحیی بن محمد نے ہمیں خبر دی، حبان بن ہلال نے ہمیں خبر دی، ابو عوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے، عمرو بن میمون الاودی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سعد اپنے بیٹوں کو ان الفاظ کو سکھاتے تھے جیسے معلم بچوں کو سکھاتا ہے۔ اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نماز کے بعد ان سے پناہ مانگتے تھے: اے اللہ! میں تمہارے پناہ میں ہوں بخل سے، اور میں تمہارے پناہ میں ہوں بزدلی سے، اور میں تمہارے پناہ میں ہوں کہ مجھے بدتریں عمر کی طرف واپس کیا جائے، اور میں تمہارے پناہ میں ہوں دنیا کی آزمائش سے، اور میں تمہارے پناہ میں ہوں قبر کے عذاب سے۔ تو میں نے اسے مصعب کو بیان کیا تو انہوں نے اسے صحیح کیا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَسِقْطٌ أُقَدِّمُهُ بَيْنَ يَدَىَّ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ فَارِسٍ أُخَلِّفُهُ خَلْفِي " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘A miscarried fetus sent before me is dearer to me than a horseman whom I leave behind.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناتمام بچہ جسے میں آگے بھیجوں، میرے نزدیک اس سوار سے زیادہ محبوب ہے جسے میں پیچھے چھوڑ جاؤں ۱؎ ۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:“Allah said: ‘I have prepared for My righteous worshippers, what no eye has seen, nor ear has hear, and no human heart has conceived.’ So recite if you wish: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes as a reward for what they used to do. And in Paradise there is a tree under whose shade a rider can travel for one hundred years without stopping. Recite if you wish: And in shade extended. And the space occupied by a whip in Paradise is better than the world and whatever is in it. Recite if you wish: And whoever is removed away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful. The life of this …
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کی ہیں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہے، تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھ کی ٹھنڈک کے طور پر جو چیز تیار کی گئی ہے اسے کوئی بھی نہیں جانتا“ ( السجدۃ: ۱۷ ) ، جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کی ( گھنی ) چھاؤں میں سوار سو برس تک بھی چلتا چلا جائے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، تم چاہو تو آیت کا یہ ٹکڑا «وظل ممدود» ”پھیلا ہوا لمبا لمبا سایہ“ ( الواقعہ: ۳۰ ) ، پڑھ لو، جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ برابر …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ امْرَأَتِهِ ابْنَةِ خَارِجَةَ بِالْعَوَالِي فَجَعَلُوا يَقُولُونَ لَمْ يَمُتِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِنَّمَا هُوَ بَعْضُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ عِنْدَ الْوَحْىِ . فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَقَالَ أَنْتَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُمِيتَكَ مَرَّتَيْنِ قَدْ وَاللَّهِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . وَعُمَرُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ …
It was narrated that ‘Aishah said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) passed away, Abu Bakr was with his wife, the daughter of Kharijah, in villages surrounding Al-Madinah. They started to say: ‘The Prophet (ﷺ) has not died, rather he has been overcome with what used to overcome him at the time of Revelation.’ Then Abu Bakr came and uncovered his (the Prophet’s (ﷺ)) face, kissed him between the eyes and said: ‘You are too noble before Allah for Him to cause you to die twice. By Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) has indeed died.’ ‘Umar was in a corner of the mosque saying: ‘By Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) has not died and he will never die until the hands and feet of most of the hypocrites …
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے ساتھ جو کہ خارجہ کی بیٹی تھیں عوالی مدینہ میں تھے، لوگ کہنے لگے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وحی کے وقت جو حال آپ کا ہوا کرتا تھا ویسے ہی ہو گیا ہے، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا، اور کہا: آپ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز و محترم ہیں کہ آپ کو دو بار موت دے ۱؎، قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک گوشہ میں یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرے نہیں ہیں، اور نہ آپ مریں گے، یہاں تک کہ بہت سے منافقوں …
2. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad and Ali ibn Ibrahim has narrated from his father all from ibn Mahbub from abu Ja‘far al-Ahwal from Salam ibn al-Mustanir who has narrated the following: “This is about the meaning of the words of Allah, most Majestic, most Glorious. ‘. . . We made a covenant with Adam (a.s.), before but he forgot and We did not find in him firm determination.’ (20:115) Abu Ja‘far (a.s.), has said, ‘When Allah, most Majestic, most Glorious, said to Adam (a.s.), to enter in the garden (paradises) He said, “O Adam, you must not go near this tree.’” He (the Imam) said that He showed it to him and Adam said to his Lord, “How will I go near the tree when …
محمد بن یحییٰ نے احمد بن محمد سے روایت کی اور علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی، سب ابن محبوب سے، وہ ابو جعفر الاحول سے، وہ سلام بن المستنیر سے، وہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، اللہ عز و جل کے اس قول کے بارے میں: اور بے شک ہم نے آدم سے پہلے سے عہد لیا تھا، پھر وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں عزم نہ پایا۔ انہوں نے کہا: جب اللہ عز و جل نے آدم سے کہا جنت میں داخل ہو، تو اس نے کہا: اے آدم! اس درخت کے قریب نہ جاؤ۔ انہوں نے کہا: اور اس نے اسے وہ درخت دکھایا۔ تو آدم نے اپنے رب سے کہا: میں اس درخت کے قریب کیسے جاؤں جب تم نے مجھے اور میری بیوی کو اس سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: تو اللہ نے ان دونوں سے کہا اس درخت کے قریب نہ جاؤ، یعنی اس سے نہ کھاؤ۔ تو آدم اور اس کی بیوی نے کہا: ہاں، اے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad and Ali ibn Ibrahim his father all from ibn Mahbub from al-Ri’ab from Abu Basir from Abu ‘Abdallah (a.s.) who said: “Allah, the Most High, revealed to ʿImrān: “I will grant you a righteous and blessed son who will cure the blind and the leper and bring the dead back to life by Allah’s permission. I will make him a messenger to the Children of Israel.” ʿImrān conveyed this to his wife, Ḥannah, the mother of Maryam. When she became pregnant, she assumed the child in her womb was a boy. However, when she gave birth, she said: “O my Lord, I have delivered a female.” Allah says: “And the male is not like the female,” meaning that a …
محمد بن یحیی نے احمد بن محمد سے روایت کی، اور علی بن ابراہیم اپنے باپا سے، دونوں ابن محبوب سے، انہوں نے ابن ریاب سے، انہوں نے ابو بصیر سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے کہا: اللہ تعالیٰ نے عمران کو وحی بھیجی: میں تمہیں ایک نیک اور بہترین بیٹا دوں گا، جو تمام معیوبیوں سے پاک ہے۔ وہ اندھے کو شفا دے گا، کوڑھی کو صحت بخشے گا، اور اللہ کی اجازت سے مردے کو زندہ کرے گا، اور میں اسے بنی اسرائیل کا رسول بناتا ہوں۔ تو عمران نے اپنی بیوی ہنہ کو یہ خبر دی، جو مریم کی ماں تھی۔ جب وہ حاملہ ہوئی تو اسے اپنے نفس میں یقین تھا کہ یہ لڑکا ہے۔ جب وہ اسے جنم دے دیا تو کہا: اے میرے ربّ، میں نے تو لڑکی دی ہے۔ اللہ فرماتا ہے: اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں ہے۔ یعنی بیٹی رسول نہیں ہو سکتی۔ اللہ عز و جل فرماتے ہیں: اور اللہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThat is because Allah, He is the Truth and because He quickeneth the dead, and because He is Able to do all things;
Yusuf AliThis is so, because Allah is the Reality: it is He Who gives life to the dead, and it is He Who has power over all things.
The agreed readingAll of that is because God is the Truth - the one that holds and does not pass - and because He is the one who gives life to the dead, and because His power reaches everything.
Urduیہ سب اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے — وہ ذات جو قائم رہتی ہے اور جس کا زوال نہیں — اور اس لیے کہ وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے، اور اس لیے کہ اس کی قدرت ہر چیز تک پہنچتی ہے۔
Arabicوكل ذلك الذي ذكرناه من أطوار خلقكم دليل قاطع على أن الله هو الحق الثابت الذي لا شك فيه أبدا، وعلى أنه يحيي الموتى، وعلى أنه على كل شيء قدير لا يعجزه شيء.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ), the true and truly inspired said, "(as regards your creation), every one of you is collected in the womb of his mother for the first forty days, and then he becomes a clot for another forty days, and then a piece of flesh for another forty days. Then Allah sends an angel to write four items: He writes his deeds, time of his death, means of his livelihood, and whether he will be wretched or blessed (in religion). Then the soul is breathed into his body. So a man may do deeds characteristic of the people of the (Hell) Fire, so much so that there is only the distance of a cubit between him and it, and then what has been written (by the angel) …
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور آپ سچوں کے سچے تھے کہ انسان کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں پہلے چالیس دن تک پوری کی جاتی ہے۔ پھر وہ اتنے ہی دنوں تک «علقة» یعنی غلیظ اور جامد خون کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں کے لیے «مضغة» ( گوشت کا لوتھڑا ) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پھر ( چوتھے چلہ میں ) اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے۔ پس وہ فرشتہ اس کے عمل، اس کی مدت زندگی، روزی اور یہ کہ وہ نیک ہے یا بد، کو لکھ لیتا ہے۔ اس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پس انسان ( زندگی بھر ) …
Abdullah bin Mas'ud said:"The Messenger of Allah (ﷺ), the true and truly inspired one, told us that: 'The creation of one of you is put together in his mother's womb for forty days, then it becomes a clot for a similar length of time, then it becomes a chewed lump of flesh for a similar length of time. Then Allah sends the angel to him and commands him to write down four things. He says: "Write down his deeds, his life span, his provision, and whether he is doomed (destined for Hell) or blessed (destined for Paradise)." By the One in Whose Hand is my soul! One of you may do the deeds of the people of Paradise until there is no more than a forearm's length between him and it, then the decree …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق و مصدوق ( یعنی جو خود سچے ہیں اور سچے مانے گئے ہیں ) نے بیان کیا کہ پیدائش اس طرح ہے کہ تم میں سے ہر ایک کا نطفہ خلقت ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے، پھر وہ چالیس دن تک جما ہوا خون رہتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار باتوں کا حکم دے کر ایک فرشتہ بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس فرشتہ سے کہتا ہے: اس کا عمل، اس کی مدت عمر، اس کا رزق، اور اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی جنت والوں کا عمل کر رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر اس کا مقدر غالب آ جاتا ہے ( …
Narrated Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami:that 'Ali bin Abi Talib said: "'Abdur-Rahman bin 'Awf prepared some food for which he invited us, and he gave us some wine to drink. The wine began to affect us when it was time for Salat. So they encouraged me (to lead) and I recited: 'Say: O you disbelievers! I do not worship what you worship, and we worship what you worship' - so Allah, Most High, revealed: O you who believe! Do not approach Salat when you are in a drunken state until you know what you are saying (4:)
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا، پھر ہمیں بلا کر کھلایا اور شراب پلائی۔ شراب نے ہماری عقلیں ماؤف کر دیں، اور اسی دوران نماز کا وقت آ گیا، تو لوگوں نے مجھے ( امامت کے لیے ) آگے بڑھا دیا، میں نے پڑھا «قل يا أيها الكافرون لا أعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» ”اے نبی! کہہ دیجئیے: کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، اور ہم اسی کو پوجتے ہیں جنہیں تم پوجتے ہو“، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» ”اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو، تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو“ ( النساء: ۴۳ ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن …
Narrated Abdullah Ibn Abbas: When the verse: "O ye who believe! eat not up your property among yourselves in vanities, but let there be amongst you traffic and trade by mutual good will" was revealed, a man thought it a sin to eat in the house of another man after the revelation of this verse. Then this (injunction) was revealed by the verse in Surat an-Nur: "No blame on you whether you eat in company or separately." When a rich man (after revelation) invited a man from his people to eat food in his house, he would say: I consider it a sin to eat from it, and he said: a poor man is more entitled to it than I. The Arabic word tajannah means sin or fault. It was then declared lawful to eat …
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ….. أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔
Ibn ‘Abbas explained the Qur’anic verse It is not lawful for you forcibly to inherit the woman (of your deceased kinsmen) nor (that) ye should put constraint upon them that ye may take away a part of that which ye have given them, unless they be guilty of flagrant lewdness and said “This means that a man used to inherit a relative woman. He prevented her from marriage till she died or returned her dower to her. Hence, Allaah prohibited that practice
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۲ ) کے متعلق مروی ہے کہ ایسا ہوتا تھا کہ آدمی اپنی کسی قرابت دار عورت کا وارث ہوتا تو اسے دوسرے سے نکاح سے روکے رکھتا یہاں تک کہ وہ یا تو مر جاتی یا اسے اپنا مہر دے دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں حکم نازل فرما کر ایسا کرنے سے منع کر دیا۔
PickthallAnd because the Hour will come, there is no doubt thereof; and because Allah will raise those who are in the graves.
Yusuf AliAnd verily the Hour will come: there can be no doubt about it, or about (the fact) that Allah will raise up all who are in the graves.
The agreed readingAnd because the Hour is coming with no doubt in it, and because God will raise whoever is in the graves. What settles it is that He has promised it.
Urduاور اس لیے کہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں، اور اس لیے کہ اللہ قبروں میں جو بھی ہیں انہیں اٹھائے گا۔ اس بات کو پکا کرنے والی چیز یہ ہے کہ اس نے اس کا وعدہ کیا ہے۔
Arabicوأن الساعة آتية لا شك في إتيانها أبدا، وأن الله يبعث الموتى من قبورهم ليجازيهم على أعمالهم؛ والذي يثبت ذلك حقا أنه وعد به وعدا لا يتخلف.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 3 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة5 reports cited here — 3 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Narrated `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ), the true and truly inspired said, "(as regards your creation), every one of you is collected in the womb of his mother for the first forty days, and then he becomes a clot for another forty days, and then a piece of flesh for another forty days. Then Allah sends an angel to write four items: He writes his deeds, time of his death, means of his livelihood, and whether he will be wretched or blessed (in religion). Then the soul is breathed into his body. So a man may do deeds characteristic of the people of the (Hell) Fire, so much so that there is only the distance of a cubit between him and it, and then what has been written (by the angel) …
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور آپ سچوں کے سچے تھے کہ انسان کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں پہلے چالیس دن تک پوری کی جاتی ہے۔ پھر وہ اتنے ہی دنوں تک «علقة» یعنی غلیظ اور جامد خون کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں کے لیے «مضغة» ( گوشت کا لوتھڑا ) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پھر ( چوتھے چلہ میں ) اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے۔ پس وہ فرشتہ اس کے عمل، اس کی مدت زندگی، روزی اور یہ کہ وہ نیک ہے یا بد، کو لکھ لیتا ہے۔ اس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پس انسان ( زندگی بھر ) …
Abdullah bin Mas'ud said:"The Messenger of Allah (ﷺ), the true and truly inspired one, told us that: 'The creation of one of you is put together in his mother's womb for forty days, then it becomes a clot for a similar length of time, then it becomes a chewed lump of flesh for a similar length of time. Then Allah sends the angel to him and commands him to write down four things. He says: "Write down his deeds, his life span, his provision, and whether he is doomed (destined for Hell) or blessed (destined for Paradise)." By the One in Whose Hand is my soul! One of you may do the deeds of the people of Paradise until there is no more than a forearm's length between him and it, then the decree …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق و مصدوق ( یعنی جو خود سچے ہیں اور سچے مانے گئے ہیں ) نے بیان کیا کہ پیدائش اس طرح ہے کہ تم میں سے ہر ایک کا نطفہ خلقت ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے، پھر وہ چالیس دن تک جما ہوا خون رہتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار باتوں کا حکم دے کر ایک فرشتہ بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس فرشتہ سے کہتا ہے: اس کا عمل، اس کی مدت عمر، اس کا رزق، اور اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی جنت والوں کا عمل کر رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر اس کا مقدر غالب آ جاتا ہے ( …
Hudhaifa b. Usaid reported directly from Allah's Messenger (ﷺ) that he said:When the drop of (semen) remains in the womb for forty or forty five nights, the angel comes and says: My Lord, will he be good or evil? And both these things would be written. Then the angel says: My Lord, would he be male or female? And both these things are written. And his deeds and actions, his death, his livelihood; these are also recorded. Then his document of destiny is rolled and there is no addition to nor subtraction from it
عمرو بن دینار نے ابوطفیل ( عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ ) سے ، انہوں نے حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی ( مرفوع بیان کی ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب نطفہ ( چالیس چالیس دنوں کے دو مرحلوں کے بعد تیسرے مرحلے میں ) چالیس یا پینتالیس راتیں رحم میں ٹھہرا رہتا ہے تو ( اللہ کا مقرر کیا ہوا ) فرشتہ اس کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے : اے رب! یہ خوش نصیب ہو گا یا بدنصیب ہو گا؟ تو دونوں ( باتوں میں سے اللہ کو بتائے اس ) کو لکھ لیا جاتا ہے ، پھر کہتا ہے : اے رب! یہ مرد ہے یا عورت؟ پھر دونوں ( میں سے جو اللہ بتائے اس ) کو لکھ لیا جاتا ہے ، پھر اس کا عمل ، اس کے قدموں کے نشانات ، اس کی مدت عمر اور اس کا رزق لکھ لیا جاتا ہے ، پھر ( اندراج کے ) …
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Jamil ibn Darraj who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘An Imam must perform Salat (prayer) of al-Zuhr in Mina, stay the night there till the morning until sunrise; then leave for ‘Arafat . ‘“
علی بن ابراہیم نے اپنے باپا سے، باپا نے ابن أبي عمير سے، ابن أبي عمير نے جميل بن دراج سے روایت کی۔ جميل کہتے ہیں: ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: الإمام پر أن یصلی الظہر بمنیٰ، پھر وہاں بیت کرے اور صبح ہو جائے یہاں تک کہ الشمس نکلے، پھر عرفات کی طرف نکلے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ جَمِيلِ بْنِ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ( صلى الله عليه وآله ) أَوْصَانِي جَبْرَئِيلُ ( عليه السلام ) بِالسِّوَاكِ حَتَّى خِفْتُ عَلَى أَسْنَانِي .
8. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Ibn Abi ‘Umayr from Jamil ibn Darraj who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that the Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, has said, ‘Jibril recommend me to brush my teeth so much so that I began to fear for my teeth.’”
علی بن ابراہیم روایت کرتے ہیں اپنے والد سے، ابن ابی عمیر سے، جمیل بن درّاج سے، ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: جبریل (علیہ السلام) نے مجھے السواك کی وصیت کی یہاں تک کہ میں اپنے أسنان کے لیے خوف زدہ ہو گیا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd among mankind is he who disputeth concerning Allah without knowledge or guidance or a scripture giving light,
Yusuf AliYet there is among men such a one as disputes about Allah, without Knowledge, without Guidance, and without a Book of Enlightenment,-
The agreed readingAnd among people is one who disputes about God with nothing behind him: no knowledge, no guidance he was given, and no book with any light in it.
Urduاور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کے بارے میں جھگڑتا ہے حالانکہ اس کے پاس کچھ نہیں: نہ کوئی علم، نہ کوئی ہدایت جو اسے دی گئی ہو، اور نہ کوئی ایسی کتاب جس میں کوئی روشنی ہو۔
Arabicومن الناس من يجادل في الله بغير علم ولا هدى ولا كتاب منير، لا علم يصل به إلى الحق، ولا هادٍ يتبعه، ولا كتاب من عند الله يهديه إليه.
PickthallTurning away in pride to beguile (men) from the way of Allah. For him in this world is ignominy, and on the Day of Resurrection We make him taste the doom of burning.
Yusuf Ali(Disdainfully) bending his side, in order to lead (men) astray from the Path of Allah: for him there is disgrace in this life, and on the Day of Judgment We shall make him taste the Penalty of burning (Fire).
The agreed readingHe turns his side away in pride, to lead others off God's path. For him there is disgrace in this world, and on the Day of Resurrection he will be made to taste the punishment of burning.
Urduوہ تکبر سے اپنی گردن موڑ لیتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے ہٹا دے۔ اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے، اور قیامت کے دن اسے جلانے والے عذاب کا مزہ چکھایا جائے گا۔
Arabicإنه يلوي عنقه تكبرًا ليصد الناس عن سبيل الله، فله في الدنيا ذلة بسبب ما ينزل به من عقاب، وفي الآخرة يذوقه الله عذاب النار المحرقة.
Pickthall(And unto him it will be said): This is for that which thy two hands have sent before, and because Allah is no oppressor of His slaves.
Yusuf Ali(It will be said): "This is because of the deeds which thy hands sent forth, for verily Allah is not unjust to His servants.
The agreed readingThat is for what your own hands sent on ahead - the hands are named because most of what a person does is done with them - and God does no wrong to His servants: no one is punished for what he did not do.
Urduیہ اس کا نتیجہ ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا، ہاتھوں کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ انسان کے اکثر کام انہی سے ہوتے ہیں، اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا: کسی کو اس کام کی سزا نہیں دی جاتی جو اس نے نہیں کیا۔
Arabicذلك العذاب الذي تذوقه إنما هو بسبب ما قدمته يداك من الكفر والمعاصي، والله سبحانه لا يعذب أحدًا من عباده بغير ذنب اقترفه، فليس هو ظالما لأحد منهم.
PickthallAnd among mankind is he who worshippeth Allah upon a narrow marge so that if good befalleth him he is content therewith, but if a trial befalleth him, he falleth away utterly. He loseth both the world and the Hereafter. That is the sheer loss.
Yusuf AliThere are among men some who serve Allah, as it were, on the verge: if good befalls them, they are, therewith, well content; but if a trial comes to them, they turn on their faces: they lose both this world and the Hereafter: that is loss for all to see!
The agreed readingAnd among people is one who worships God on an edge, with no footing under him. If good comes to him he settles; if a trial comes - fitna here in the sense of an affliction that tests him - he turns right round and goes back the way he came. He has lost this world and the next together, and that is loss with nothing hidden about it.
Urduاور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی عبادت کنارے پر کھڑے ہو کر کرتا ہے، جس کے نیچے کوئی مضبوط قدم نہیں ہوتا۔ اگر اسے بھلائی مل جائے تو مطمئن ہو جاتا ہے، اور اگر کوئی آزمائش آ پڑے تو الٹے پاؤں پھر جاتا ہے، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھاتا ہے، اور یہی وہ کھلا خسارہ ہے جس میں کچھ بھی چھپا ہوا نہیں۔
Arabicومن الناس مَن يعبد الله وهو مضطرب على شكٍّ لا ثبات فيه، فإن أصابه خير اطمأن به واستقر، وإن أصابه ابتلاء وفتنة انقلب راجعًا على عقبيه، فخسر دنياه وآخرته معًا، وذلك هو الخسران الواضح البيّن الذي لا خفاء فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 3 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة4 reports cited here — 3 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Qurṭubī, Ibn Kathīr, Ibn ʿĀshūr and Ṭanṭāwī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Ibn `Abbas:Regarding the Verse: "And among men is he who worships Allah's as it were on the very edge." (22.11). A man used to come to Medina and if his wife brought a son and his mares produces offspring, he would say, "This religion (Islam) is good," but if his wife did not give birth to a child and his mares produced no offspring, he would say, "This religion is bad
مجھ سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکیر نے، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «ومن الناس من يعبد الله على حرف» ”اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کی عبادت کنارہ پر ( کھڑا ہو کر ) کرتا ہے۔“ کے متعلق فرمایا کہ بعض لوگ مدینہ آتے ( اور اپنے اسلام کا اظہار کرتے ) اس کے بعد اگر اس کی بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوتا اور گھوڑی بھی بچہ دیتی تو وہ کہتے کہ یہ دین ( اسلام ) بڑا اچھا دین ہے، لیکن اگر ان کے یہاں لڑکا نہ پیدا ہوتا اور گھوڑی بھی کوئی بچہ نہ دیتی تو کہتے کہ یہ تو برا دین ہے اس پر مذکور بالا آیت نازل ہوئی۔
Ordering and the words above are this project's own, not the commentator's. The quotation and the attribution are his.
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Qummī, al-Ṭūsī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, Ibn Kathīr, al-Fayḍ al-Kāshānī, al-Ḥuwayzī, Ibn ʿĀshūr, Ṭabāṭabāʾī and Ṭanṭāwī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn Kathīr، al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله المحمود لنعمته المعبود لقدرته ، المطاع في سلطانه المرهوب لجلاله ، المرغوب إليه فيما عنده ، النافذ أمره في جميع خلقه ، علا فاستعلى ودنا فتعالى ، وارتفع فوق كل منظر ، الذي لا بدء لأوليته ، ولا غاية لأزليته ، القائم قبل الأشياء ، والدائم الذي به قوامها ، والقاهر الذي لا يؤوده حفظها والقادر الذي بعظمته تفرد بالملكوت وبقدرته توحد بالجبروت ، وبحكمته أظهر حججه على خلقه . اخترع الأشياء إنشاء ، وابتدعها ابتداء ، بقدرته وحكمته ، لا من شئ فيبطل الاختراع ولا لعلة فلا يصح الابتداع ، خلق ما شاء كيف شاء ، متوحدا ” بذلك لإظهار حكمته ، وحقيقة ربوبيته ، لا تضبطه العقول ، ولا تبلغه الأوهام ، ولا تدركه الأبصار ، ولا يحيط به مقدار ، عجزت دونه العبارة ، وكلت دونه الأبصار ، وضل …
In the Praise of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah Who is praised for His bounties, worshipped for His Might, obeyed in His rule and feared for His Majesty. He possesses all that is attractive; His commands pervade in all of His creation. He is High, the Most High. He is near in His Highness and the Most High above being seen. His being the first has had no beginning and He is eternal. He existed before the existence of all things and He is the eternal Who guards all things. He is the overwhelming power and the preservation of the things does not burden Him. He is the only Almighty in His kingdom and only power to compel what is to compel. Through wisdom He has …
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے جو اپنی نعمتوں پر تعریف شائستہ ہے، اپنی قدرت پر معبود ہے، اپنی سلطان میں مطاع ہے، اپنی عظمت پر مخوف ہے۔ جس کے پاس ہر دل پسند چیز ہے، جس کا حکم تمام خلق میں جاری ہے۔ وہ بلند ہے پھر مزید بلند ہوا، نزدیک ہے پھر عالیٰ ہوا، ہر نظر سے بلند ہے۔ جس کی ابتدا کا کوئی آغاز نہیں، جس کی ازل کا کوئی انجام نہیں۔ وہ تمام چیزوں سے پہلے قائم تھا، وہ ابدی ہے جو سب کو قائم رکھتا ہے۔ وہ غالب قاہر ہے جس کو نگرانی میں تکلیف نہیں، وہ قدیر ہے جس کی عظمت سے ملکوت میں منفرد ہے اور جس کی قدرت سے جبروت میں تنہا ہے، اور اپنی حکمت سے اپنی حجتوں کو خلق پر ظاہر کیا۔ اس نے اشیاء کو ایجاد سے خلق کیا، اور انہیں ابتدائے سے بنایا، اپنی قدرت اور حکمت سے، کسی چیز سے نہیں کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ قَالَ " وَمَا أَهْلَكَكَ " . قَالَ حَوَّلْتُ رَحْلِي اللَّيْلَةَ . قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ الآيَةَ : (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ) أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحِيضَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ …
Narrated Ibn 'Abbas:"'Umar came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah! I am ruined!' He said: 'Why are you ruined?' He said: 'I turned my mount during the night (meaning that he went into his wife from behind).'" He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) did not say anything in reply to him. Then Allah revealed this Ayah to the Messenger of Allah (ﷺ): 'Your wives are a tilth for you, so go to your tilth when or how you will (2:223).' From the front, the back, avoiding the anus, and menstruation
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ہلاک کر دیا؟“ کہا: رات میں نے سواری تبدیل کر دی ( یعنی میں نے بیوی سے آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے صحبت کر لی ) ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ سن کر ) انہیں کوئی جواب نہ دیا، تو آپ پر یہ آیت: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل ہوئی، بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرو، مگر دبر سے اور حیض سے بچو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) used to prolong the recitation of the Qur'an in the two rak'ahs after the sunset prayer until the people praying in the mosque dispersed. Abu Dawud said: This has been reported by Nasr al-Mujaddir from Ya'qub al-Qummi with the same chain of narrators. Abu Dawud said: Muhammad b. 'Isa b. al-tabba' transmitted from Nasr al-Mujaddir from Ya'qub in like manner
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہو جاتے ( یعنی سنتیں پڑھ پڑھ کر چلے جاتے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے محمد بن عیسی بن طباع نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
PickthallHe calleth, beside Allah, unto that which hurteth him not nor benefiteth him. That is the far error.
Yusuf AliThey call on such deities, besides Allah, as can neither hurt nor profit them: that is straying far indeed (from the Way)!
The agreed readingHe calls on something other than God that cannot hurt him if he leaves it and cannot help him if he serves it. That is error gone far from the truth.
Urduوہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کو پکارتا ہے جو نہ اسے چھوڑنے پر نقصان دے سکے اور نہ اس کی عبادت کرنے پر کوئی فائدہ پہنچا سکے۔ یہی وہ گمراہی ہے جو حق سے بہت دور جا پڑی ہے۔
Arabicإنه يدعو من دون الله ما لا يضره إن تركه ولا ينفعه إن عبده، فتلك الأصنام لا تضر ولا تنفع، وذلك الدعاء هو عين الضلال البعيد عن الحق.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — 3 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة5 reports cited here — 3 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 5 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله المحمود لنعمته المعبود لقدرته ، المطاع في سلطانه المرهوب لجلاله ، المرغوب إليه فيما عنده ، النافذ أمره في جميع خلقه ، علا فاستعلى ودنا فتعالى ، وارتفع فوق كل منظر ، الذي لا بدء لأوليته ، ولا غاية لأزليته ، القائم قبل الأشياء ، والدائم الذي به قوامها ، والقاهر الذي لا يؤوده حفظها والقادر الذي بعظمته تفرد بالملكوت وبقدرته توحد بالجبروت ، وبحكمته أظهر حججه على خلقه . اخترع الأشياء إنشاء ، وابتدعها ابتداء ، بقدرته وحكمته ، لا من شئ فيبطل الاختراع ولا لعلة فلا يصح الابتداع ، خلق ما شاء كيف شاء ، متوحدا ” بذلك لإظهار حكمته ، وحقيقة ربوبيته ، لا تضبطه العقول ، ولا تبلغه الأوهام ، ولا تدركه الأبصار ، ولا يحيط به مقدار ، عجزت دونه العبارة ، وكلت دونه الأبصار ، وضل …
In the Praise of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah Who is praised for His bounties, worshipped for His Might, obeyed in His rule and feared for His Majesty. He possesses all that is attractive; His commands pervade in all of His creation. He is High, the Most High. He is near in His Highness and the Most High above being seen. His being the first has had no beginning and He is eternal. He existed before the existence of all things and He is the eternal Who guards all things. He is the overwhelming power and the preservation of the things does not burden Him. He is the only Almighty in His kingdom and only power to compel what is to compel. Through wisdom He has …
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے جو اپنی نعمتوں پر تعریف شائستہ ہے، اپنی قدرت پر معبود ہے، اپنی سلطان میں مطاع ہے، اپنی عظمت پر مخوف ہے۔ جس کے پاس ہر دل پسند چیز ہے، جس کا حکم تمام خلق میں جاری ہے۔ وہ بلند ہے پھر مزید بلند ہوا، نزدیک ہے پھر عالیٰ ہوا، ہر نظر سے بلند ہے۔ جس کی ابتدا کا کوئی آغاز نہیں، جس کی ازل کا کوئی انجام نہیں۔ وہ تمام چیزوں سے پہلے قائم تھا، وہ ابدی ہے جو سب کو قائم رکھتا ہے۔ وہ غالب قاہر ہے جس کو نگرانی میں تکلیف نہیں، وہ قدیر ہے جس کی عظمت سے ملکوت میں منفرد ہے اور جس کی قدرت سے جبروت میں تنہا ہے، اور اپنی حکمت سے اپنی حجتوں کو خلق پر ظاہر کیا۔ اس نے اشیاء کو ایجاد سے خلق کیا، اور انہیں ابتدائے سے بنایا، اپنی قدرت اور حکمت سے، کسی چیز سے نہیں کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Ibn `Abbas:Regarding the Verse: "And among men is he who worships Allah's as it were on the very edge." (22.11). A man used to come to Medina and if his wife brought a son and his mares produces offspring, he would say, "This religion (Islam) is good," but if his wife did not give birth to a child and his mares produced no offspring, he would say, "This religion is bad
مجھ سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکیر نے، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «ومن الناس من يعبد الله على حرف» ”اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کی عبادت کنارہ پر ( کھڑا ہو کر ) کرتا ہے۔“ کے متعلق فرمایا کہ بعض لوگ مدینہ آتے ( اور اپنے اسلام کا اظہار کرتے ) اس کے بعد اگر اس کی بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوتا اور گھوڑی بھی بچہ دیتی تو وہ کہتے کہ یہ دین ( اسلام ) بڑا اچھا دین ہے، لیکن اگر ان کے یہاں لڑکا نہ پیدا ہوتا اور گھوڑی بھی کوئی بچہ نہ دیتی تو کہتے کہ یہ تو برا دین ہے اس پر مذکور بالا آیت نازل ہوئی۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ قَالَ " وَمَا أَهْلَكَكَ " . قَالَ حَوَّلْتُ رَحْلِي اللَّيْلَةَ . قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ الآيَةَ : (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ) أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحِيضَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ …
Narrated Ibn 'Abbas:"'Umar came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah! I am ruined!' He said: 'Why are you ruined?' He said: 'I turned my mount during the night (meaning that he went into his wife from behind).'" He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) did not say anything in reply to him. Then Allah revealed this Ayah to the Messenger of Allah (ﷺ): 'Your wives are a tilth for you, so go to your tilth when or how you will (2:223).' From the front, the back, avoiding the anus, and menstruation
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ہلاک کر دیا؟“ کہا: رات میں نے سواری تبدیل کر دی ( یعنی میں نے بیوی سے آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے صحبت کر لی ) ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ سن کر ) انہیں کوئی جواب نہ دیا، تو آپ پر یہ آیت: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل ہوئی، بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرو، مگر دبر سے اور حیض سے بچو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from Muhammad ibn ‘Isa from Yunus from a man from Zurara who has said the following: “Once I asked abu Ja’far (a.s.) ‘What do you say about marriage of the people. I have reached this age as you can see and I am not married yet.’ The Imam asked, ‘What prevents you from becoming married?’ I said, ‘What prevents me is fear that it may not be lawful to marry from them. What is your instruction?’ The Imam asked, ‘How can you live and you are young, can you exercise patience?’ I said, ‘I can buy slaves.’ The Imam asked, ‘Here you are, how, can slaves be lawful?’ I said, ‘A slave is not like a free person. If something may make me suspicious I can sell her and stay …
علی بن ابراہیم نے محمد بن عیسیٰ سے روایت کی اور محمد بن عیسیٰ نے یونس سے روایت کی اور یونس نے ایک شخص سے روایت کی اور اس نے زرارہ بن أعین سے روایت کی۔ زرارہ بن أعین کہتے ہیں: میں ابو جعفر محمد بن علی الباقر علیہ السلام کے سامنے حاضر تھا اور میں نے ان سے درخواست کی اور کہا: ابا جعفر! آپ کا نظریہ اور رائے کیا ہے لوگوں سے نکاح کے معاملے میں؟ کیونکہ میں تو اس عمر کو پہنچ گیا ہوں جیسا آپ دیکھ رہے ہیں اور میں نے ہنوز تک کسی عورت سے نکاح نہیں کیا۔ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں اس سے کیا روک رہا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ تم نکاح نہیں کر رہے؟ میں نے جواب دیا اور کہا: جو چیز مجھے روک رہی ہے وہ یہ ہے کہ میں خوف میں ہوں اور ڈرتا ہوں کہ ان لوگوں سے میرا نکاح ممکن ہے کہ مجھے حلال نہ ہو۔ تو براہ کرم آپ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) used to prolong the recitation of the Qur'an in the two rak'ahs after the sunset prayer until the people praying in the mosque dispersed. Abu Dawud said: This has been reported by Nasr al-Mujaddir from Ya'qub al-Qummi with the same chain of narrators. Abu Dawud said: Muhammad b. 'Isa b. al-tabba' transmitted from Nasr al-Mujaddir from Ya'qub in like manner
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہو جاتے ( یعنی سنتیں پڑھ پڑھ کر چلے جاتے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے محمد بن عیسی بن طباع نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
PickthallHe calleth unto him whose harm is nearer than his benefit; verily an evil patron and verily an evil friend!
Yusuf Ali(Perhaps) they call on one whose hurt is nearer than his profit: evil, indeed, is the patron, and evil the companion (or help)!
The agreed readingHe calls on a thing whose harm is nearer to him than any good of it - the harm is real and the benefit only imagined. An evil patron, the commentaries say, and an evil companion.
Urduوہ ایسی ہستی کو پکارتا ہے جس کا نقصان اس کے فائدے سے کہیں زیادہ قریب ہے، نقصان یقینی ہے اور فائدہ محض وہم۔ تفسیروں کے مطابق وہ بہت ہی برا کارساز اور بہت ہی برا ساتھی ہے۔
Arabicإنه يدعو معبودًا ضرره أقرب إليه من نفعه، فذلك المعبود بئس الناصر لمن يستنصره وبئس الصاحب لمن يصحبه، لأن ضرره محقق ونفعه موهوم لا حقيقة له.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 3 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة4 reports cited here — 3 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله المحمود لنعمته المعبود لقدرته ، المطاع في سلطانه المرهوب لجلاله ، المرغوب إليه فيما عنده ، النافذ أمره في جميع خلقه ، علا فاستعلى ودنا فتعالى ، وارتفع فوق كل منظر ، الذي لا بدء لأوليته ، ولا غاية لأزليته ، القائم قبل الأشياء ، والدائم الذي به قوامها ، والقاهر الذي لا يؤوده حفظها والقادر الذي بعظمته تفرد بالملكوت وبقدرته توحد بالجبروت ، وبحكمته أظهر حججه على خلقه . اخترع الأشياء إنشاء ، وابتدعها ابتداء ، بقدرته وحكمته ، لا من شئ فيبطل الاختراع ولا لعلة فلا يصح الابتداع ، خلق ما شاء كيف شاء ، متوحدا ” بذلك لإظهار حكمته ، وحقيقة ربوبيته ، لا تضبطه العقول ، ولا تبلغه الأوهام ، ولا تدركه الأبصار ، ولا يحيط به مقدار ، عجزت دونه العبارة ، وكلت دونه الأبصار ، وضل …
In the Praise of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah Who is praised for His bounties, worshipped for His Might, obeyed in His rule and feared for His Majesty. He possesses all that is attractive; His commands pervade in all of His creation. He is High, the Most High. He is near in His Highness and the Most High above being seen. His being the first has had no beginning and He is eternal. He existed before the existence of all things and He is the eternal Who guards all things. He is the overwhelming power and the preservation of the things does not burden Him. He is the only Almighty in His kingdom and only power to compel what is to compel. Through wisdom He has …
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے جو اپنی نعمتوں پر تعریف شائستہ ہے، اپنی قدرت پر معبود ہے، اپنی سلطان میں مطاع ہے، اپنی عظمت پر مخوف ہے۔ جس کے پاس ہر دل پسند چیز ہے، جس کا حکم تمام خلق میں جاری ہے۔ وہ بلند ہے پھر مزید بلند ہوا، نزدیک ہے پھر عالیٰ ہوا، ہر نظر سے بلند ہے۔ جس کی ابتدا کا کوئی آغاز نہیں، جس کی ازل کا کوئی انجام نہیں۔ وہ تمام چیزوں سے پہلے قائم تھا، وہ ابدی ہے جو سب کو قائم رکھتا ہے۔ وہ غالب قاہر ہے جس کو نگرانی میں تکلیف نہیں، وہ قدیر ہے جس کی عظمت سے ملکوت میں منفرد ہے اور جس کی قدرت سے جبروت میں تنہا ہے، اور اپنی حکمت سے اپنی حجتوں کو خلق پر ظاہر کیا۔ اس نے اشیاء کو ایجاد سے خلق کیا، اور انہیں ابتدائے سے بنایا، اپنی قدرت اور حکمت سے، کسی چیز سے نہیں کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Ibn `Abbas:Regarding the Verse: "And among men is he who worships Allah's as it were on the very edge." (22.11). A man used to come to Medina and if his wife brought a son and his mares produces offspring, he would say, "This religion (Islam) is good," but if his wife did not give birth to a child and his mares produced no offspring, he would say, "This religion is bad
مجھ سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکیر نے، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «ومن الناس من يعبد الله على حرف» ”اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کی عبادت کنارہ پر ( کھڑا ہو کر ) کرتا ہے۔“ کے متعلق فرمایا کہ بعض لوگ مدینہ آتے ( اور اپنے اسلام کا اظہار کرتے ) اس کے بعد اگر اس کی بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوتا اور گھوڑی بھی بچہ دیتی تو وہ کہتے کہ یہ دین ( اسلام ) بڑا اچھا دین ہے، لیکن اگر ان کے یہاں لڑکا نہ پیدا ہوتا اور گھوڑی بھی کوئی بچہ نہ دیتی تو کہتے کہ یہ تو برا دین ہے اس پر مذکور بالا آیت نازل ہوئی۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan · Al-Albani: Hasan · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ قَالَ " وَمَا أَهْلَكَكَ " . قَالَ حَوَّلْتُ رَحْلِي اللَّيْلَةَ . قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ الآيَةَ : (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ) أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحِيضَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ …
Narrated Ibn 'Abbas:"'Umar came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah! I am ruined!' He said: 'Why are you ruined?' He said: 'I turned my mount during the night (meaning that he went into his wife from behind).'" He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) did not say anything in reply to him. Then Allah revealed this Ayah to the Messenger of Allah (ﷺ): 'Your wives are a tilth for you, so go to your tilth when or how you will (2:223).' From the front, the back, avoiding the anus, and menstruation
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ہلاک کر دیا؟“ کہا: رات میں نے سواری تبدیل کر دی ( یعنی میں نے بیوی سے آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے صحبت کر لی ) ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ سن کر ) انہیں کوئی جواب نہ دیا، تو آپ پر یہ آیت: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل ہوئی، بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرو، مگر دبر سے اور حیض سے بچو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) used to prolong the recitation of the Qur'an in the two rak'ahs after the sunset prayer until the people praying in the mosque dispersed. Abu Dawud said: This has been reported by Nasr al-Mujaddir from Ya'qub al-Qummi with the same chain of narrators. Abu Dawud said: Muhammad b. 'Isa b. al-tabba' transmitted from Nasr al-Mujaddir from Ya'qub in like manner
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہو جاتے ( یعنی سنتیں پڑھ پڑھ کر چلے جاتے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے محمد بن عیسی بن طباع نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
PickthallLo! Allah causeth those who believe and do good works to enter Gardens underneath which rivers flow. Lo! Allah doth what He intendeth.
Yusuf AliVerily Allah will admit those who believe and work righteous deeds, to Gardens, beneath which rivers flow: for Allah carries out all that He plans.
The agreed readingThose who believe and do what is right are brought into Gardens with rivers running beneath them. God does what He intends, and nothing stands between His intending it and its happening.
Urduجو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اللہ انہیں ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے، اور اس کے ارادے اور اس کے پورا ہونے کے درمیان کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوتی۔
Arabicإن الله يدخل الذين آمنوا وعملوا الصالحات جنات تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها، وإن الله يفعل ما يريد فلا راد لأمره ولا مانع لإرادته، فليس بين إرادته وبين وقوع الأمر أي حائل.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب الشيعة5 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام شیعہ کتب سے
26-14 وبر الوالدين واجب، فان كانا مشركين فلا تطعهما ولا غيرهما في المعصية، فانه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالقوالانبياء والاوصياء لا ذنوب لهم لانهم معصومون مطهرونوتحليل المتعتين واجب كما أنزلهما الله عز وجل في كتابه وسنهما رسول الله صلى الله عليه وآله: متعة الحج ومتعة النساءوالفرائض على ما أنزل الله تبارك وتعالى. والعقيقة للولد الذكر والانثى يوم السابع، ويسمى الولد يوم السابع، ويحلق رأسه ويصدق بوزنه شعره ذهبا أو فضة. والله عز وجل لا يكلف نفسا إلا وسعها ولا يكلفها فوق طاقتهاوأفعال العباد مخلوقة خلق تقدير، لا خلق تكوين، والله خالق كل شيء، ولا يقول بالجبر ولا بالتفويض ولا يأخذ الله عز وجل البرئ بالسقيم، ولا يعذب الله عز وجل الاطفال بذنوب الآباء، فانه قال في محكم كتابه: "وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ …
26-14 Doing good to one’s parents is obligatory. However, if they are polytheists, do not obey either of them nor anyone else regarding sins, because there is no necessity to obey people by disobeying the Creator! The Prophets and their Trustees never commit any sins, since they are sinless and innocent.The two temporary issues which the Prophet established are both legitimate since the Honorable the Exalted God revealed them in His Book and God’s Prophet practiced them. They are the temporary Hajj or Mutat al-Hajj and the temporary marriage with women that is Mutat al-Nisa. The inheritance laws are as ordained by the Blessed the Sublime God. Boys and girls should be shaved when they are …
والدین کے ساتھ حسن سلوک واجب ہے۔ اگر وہ مشرک ہوں تو ان کی اطاعت نہ کرو، نہ ہی کسی اور کی، معصیت میں، کیونکہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت واجب نہیں۔ انبیاء اور ان کے اوصیاء کے کوئی گناہ نہیں، کیونکہ وہ معصوم اور پاک ہیں۔ دونوں متعے حلال ہیں جیسے اللہ عزّ و جلّ نے انہیں اپنی کتاب میں نازل کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ان کی سنت بنائی: حج کا متعہ اور عورتوں کا متعہ۔ وراثت اللہ تبارک و تعالیٰ کے جیسے نازل کیا۔ ہفتویں دن لڑکے اور لڑکی دونوں کا عقیقہ ہے۔ ہفتویں دن بچے کا نام رکھا جاتا ہے، اس کا سر منڈایا جاتا ہے، اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر سونا یا چاندی صدقہ دیا جاتا ہے۔ اللہ عزّ و جلّ کوئی نفس کو اس سے زیادہ بوجھ نہیں دیتا جتنا وہ برداشت کر سکے۔ بندوں کے افعال اللہ کے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[التكبير أيام التشريق] والتكبير في الأضحى من صلاة الظهر يوم النحر إلى صلاة الغداة يوم الرابع يكون ذلك في خمس عشرة صلاة وذلك بمنى، وبالأمصار في دبر عشرة صلوات من صلاة الظهر يوم النحر إلى صلاة الغداة يوم الثالث ، والتكبير أن تقول: " الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد، الله أكبر على ما هدانا، والحمد لله على ما أبلانا، والله أكبر على ما رزقنا من بهيمة الأنعام ".
RECITING TAKBIR DURING THE DAYS OF TASHRIQ The Takbir of Eid al-Adha begins after the Dhuhr prayer on the Day of Sacrifice (10th Dhul-Hijjah) and continues until the Fajr prayer on the fourth day (13th Dhul-Hijjah), totaling fifteen prayers for those in Mina. For those in other locations (al-Amsar), the Takbir is recited after ten prayers, starting from Dhuhr on the Day of Sacrifice (10th Dhul-Hijjah) until the Fajr prayer of the third day (12th Dhul-Hijjah). The Takbir is as follows: "Allahu Akbar, Allahu Akbar, La ilaha illa Allah, wa Allahu Akbar, Allahu Akbar, wa lillahi al-hamd. Allahu Akbar ala ma hadana, wa al-hamdu lillahi ala ma ablaha, wa Allahu Akbar ala ma razaqana min bahimat …
ایام التشریق میں تکبیر: عید الاضحیٰ کی تکبیر عید کے دن ظہر سے لے کر چوتھے دن فجر تک ہے، یہ منیٰ میں پندرہ نمازوں میں ہے۔ شہروں میں عید کے دن ظہر سے تیسرے دن فجر تک دس نمازوں میں تکبیر ہے۔ تکبیر یہ ہے: خدا سب سے بڑا ہے، خدا سب سے بڑا، کوئی معبود نہیں سوائے خدا کے، خدا بہت بڑا، خدا بہت بڑا، ہمیشہ خدا کے لیے تعریف ہے، خدا بڑا ہے اس بات پر جو ہمیں ہدایت دی، شکر ہے خدا کو اس پر جو ہمیں آزمایا، خدا بہت بڑا ہے اس بات پر جو ہمیں حیوانات سے رزق دیا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[التلبية] ثم لب بالتلبيات الأربع سرا وهي المفروضات تقول: "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك، والملك لا شريك لك". هذه الأربع مفروضات، ثم قم فامض هنيئة، فإذا استوت بك الأرض راكبا كنت أو ماشيا فأعلن التلبية وارفع صوتك بها. وإن كنت أخذت على طريق المدينة وأحرمت من مسجد الشجرة فلب سرا بهذه التلبيات الأربع المفروضات حتى تأتي البيداء وتبلغ الميل الذي على يسار الطريق. فإذا بلغته فارفع صوتك بالتلبية ولا تجز الميل إلا ملبيا، وتقول: "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك. لبيك ذا المعارج، لبيك لبيك تبدئ والمعاد إليك، لبيك لبيك داعيا إلى دار السلام، لبيك لبيك غفار الذنوب، لبيك لبيك مرهوبا ومرغوبا إليك، لبيك لبيك أنت الغنى ونحن الفقراء إليك. …
THE TALBIYAH Then recite the four mandatory phrases of the Talbiyah silently: "Here I am, O Allah (swt), here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Indeed, all praise, blessings, and sovereignty are Yours. You have no partner." These four are obligatory. Then proceed for a short while. When you reach level ground, whether riding or walking, proclaim the Talbiyah and raise your voice. If you are traveling the route of Medina and have assumed Ihram from the Mosque of the Tree (Masjid Al-Shajarah), recite the four obligatory Talbiyah phrases silently until you reach Al-Bayda' and the milestone to the left of the road. When you reach it, raise your voice with the Talbiyah and do not …
تلبیہ پھر تم چار فرض تلبیے خاموشی میں کہو: "یہاں میں ہوں اے اللہ یہاں میں ہوں، یہاں میں ہوں تیرا کوئی شریک نہیں یہاں میں ہوں، سب تعریف اور نعمت تیری ہے، اور بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔" یہ چار فرض ہیں۔ پھر آگے بڑھو کچھ دیر تک۔ جب تمہارے نیچے زمین برابر ہو تو خواہ تم سوار ہو یا پیدل ہو، تلبیہ کو بلند صورت میں کہو۔ اگر تم مدینہ کی سڑک سے آ رہے ہو اور مسجد الشجرہ سے احرام باندھا ہے تو ان چار فرض تلبیوں کو خاموشی سے کہو یہاں تک کہ تم البیدا تک پہنچو اور جو میل کا پتھر سڑک کے بائیں طرف ہے وہاں تک۔ جب اس تک پہنچو تو تلبیہ کو بلند صورت میں کہو اور اس میل کو بغیر تلبیہ کہے مت چھوڑو۔ کہو: "یہاں میں ہوں اے اللہ یہاں میں ہوں، یہاں میں ہوں تیرا کوئی شریک نہیں یہاں میں ہوں، سب تعریف اور نعمت …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
وينبغي للرجل إذا كان ليلة الفطر أن يصلي المغرب ثلاثا، ثم يسجد ويقول في سجوده: يا ذا الطول، يا ذا الحول، يا مصطفي محمد وناصره، صل على محمد وآل محمد، واغفر لي كل ذنب أذنبته ونسيته وهو عندك في كتاب مبين، ثم يقول مائة مرة: أتوب إلى الله عز وجل. ويكبر بعد المغرب والعشاء الآخرة وصلاة الغداة والعيد والظهر والعصر كما يكبر أيام التشريق، يقول: الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر ولله الحمد، الله أكبر على ما هدانا، والحمد لله على ما أبلانا، ولا يقول فيه: ورزقنا من بهيمة الانعام، فإن ذلك في أيام التشريق.
One the eve of al-Fitr, a man should pray the three [units of] Maghrib, then perform a sujud, then say in his sujud: ya dhal tawl, ya dhal hawl, ya mustafi Muhammad wa nasirah, salli `ala muhammadan wa alih Muhammad, waghfir li kulli dhanbin adhnabtahu wa nasitah, wa huwa `indika fi kitabin mubin (O Patient and Powerful [God]! O Him who chose Muhammad and supported him! Bless Muhammad and the Family of Muhammad, and forgive me for every sin that I remember and that I have forgotten; and [they are all] with You in a Clear Book). Then, he should say one hundred times: atubu illallah `azza wa jal (I repent to Allah, Glorious and Majestic). Then, he should do takbir after Maghrib, the final …
ليلة الفطر: رجل مغرب تین بار پڑھے سجدہ کرے و کہے يا ذا الطول يا ذا الحول يا مصطفي محمد و ناصره صل على محمد و آل محمد واغفر ذنب أذنبته ونسيته۔ سو بار کہے اتوب الى الله عز وجل۔ مغرب و عشاء و فجر و عيد و ظهر و عصر کے بعد تکبیر کہے الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر لله الحمد على ما هدانا والحمد على ما ابلانا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
4. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father and Muhammad ibn ‘Isma‘il has narrated from al-Fadl ibn Shadhan from Safwan ibn Yahya and Ibn Abi ‘Umayr from Mu‘awiyah ibn ‘Ammar who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘Takbir in the days of Tashriq is from Salat (prayer) of al-Zuhr on the day of al-Nahr (slaughtering the offering, 10th of Dhu al-Hajjah) to Salat (prayer) of al-‘Asr of the last day of Tashriq, if you remain in Mina’. If you leave Mina 5 you are not obligated for anything in this matter. In Takhir say, ’Allah is great beyond description, Allah is great beyond description. No one deserves worship except Allah. Allah is great beyond description. Allah is …
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے اور محمد بن اسماعیل نے الفضل بن شاذان سے صفوان بن یحیٰ اور ابن ابی عمیر کے ذریعے معاویہ بن عمار سے روایت کی ہے کہ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: ایام تشریق میں تکبیر عید کے دن ظہر کی نماز سے لے کر تشریق کے آخری دن عصر کی نماز تک ہے، اگر تم منیٰ میں ٹھہرے رہو۔ اور اگر تم منیٰ سے نکل جاؤ تو تم پر تکبیر واجب نہیں ہے۔ اور تکبیر یہ ہے کہ تم کہو: الله اکبر الله اکبر، لا إله إلا الله، الله اکبر الله اکبر، ولله الحمد، الله اکبر علی ما ہدانا، الله اکبر علی ما رزقنا من بہیمۃ الانعام، والحمد لله علی ما ابلانا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWhoso is wont to think (through envy) that Allah will not give him (Muhammad) victory in the world and the Hereafter (and is enraged at the thought of his victory), let him stretch a rope up to the roof (of his dwelling), and let him hang himself. Then let him see whether his strategy dispelleth that whereat he rageth!.
Yusuf AliIf any think that Allah will not help him (His Messenger) in this world and the Hereafter, let him stretch out a rope to the ceiling and cut (himself) off: then let him see whether his plan will remove that which enrages (him)!
The agreed readingWhoever supposes that God will not help His messenger in this world and the next - let him stretch a rope to the roof and make an end of himself, and then see whether his scheme has taken away the thing that enrages him. The help comes either way; the rage is his own to carry.
Urduجو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ اللہ اپنے رسول کی مدد دنیا اور آخرت میں ہرگز نہیں کرے گا، تو اسے چاہیے کہ چھت تک ایک رسی باندھ کر اپنی جان ختم کر لے، پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس چیز کو دور کر سکی جو اسے غصہ دلاتی ہے۔ مدد بہرحال آ کر رہے گی، اور یہ غصہ اسی کے سینے میں رہ جائے گا۔
Arabicمن كان يظن أن الله لن ينصر نبيه في الدنيا والآخرة فليمدد حبلًا إلى سقف بيته ثم ليقطع نفسه به، ثم لينظر هل يذهب ذلك بما يجده في نفسه من الغيظ، فالنصر واقع لا محالة وغيظه باقٍ في صدره.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ عَمِّي أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبُرَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غِبْتُ عَنْهُ أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ . قَالَ فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ فَاسْتَقْبَلَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ قَالَ …
Narrated Anas:"My paternal uncle Anas bin An-Nadr - after whom I was named - did not participate in the battle of Badr with the Messenger of Allah (ﷺ). This distressed him and he said: 'I was absent from the first battle which the Messenger of Allah (ﷺ) attended. By Allah! If Allah gives me the opportunity to participate in another battle along with the Messenger of Allah (ﷺ), then Allah will see what I will do!'" He said: "He did not want to say more than that. A year later, he attended the battle of Uhud, where he saw Sa'd bin Mu'adh and said: 'O Abu 'Amr where are you going?' He said: 'I long for the fragrance of Paradise and I have found it near the mountains of Uhud.' He fought them …
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضر رضی الله عنہ جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا تھا جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے، یہ بات انہیں بڑی شاق اور گراں گزر رہی تھی، کہتے تھے: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس حاضر و موجود تھے میں اس سے غیر حاضر رہا، ( اس کا مجھے بےحد افسوس ہے ) مگر سنو! قسم اللہ کی! اب اگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک ہونے کا موقع ملا تو یقیناً اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں، راوی کہتے ہیں: وہ اس کے سوا اور کچھ کہنے سے ڈرتے ( اور بچتے ) رہے، پھر اگلے سال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک ہوئے، سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا ان سے سامنا ہوا تو انہوں نے کہا: …
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَدْرًا - قَالَ - فَشَقَّ عَلَيْهِ قَالَ أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُيِّبْتُ عَنْهُ وَإِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَرَانِيَ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ - قَالَ - فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا - قَالَ - فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ - قَالَ - فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ فَقَالَ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ …
It has been Deported on the authority of Anas who said:My uncle and I have been named after him was not present with the Messenger of Allah (mav peace be upon him) on the Day of Badr. He felt distressed about it. He would say: I have missed the first battle fought by the Messenger of Allah (ﷺ), and if God now gives me an opportunity to see a battlefield with the Messenger of Allah (ﷺ), God will see what I do therein. He was afraid to say more than this (lest he be unable to keep his word with God). He was present with the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Uhud. He met Sa'd b. Mu'adh (who was retreating). Anas said to him: O Abu 'Amr, where (are you going)? Woe (to thee)! I find the smell …
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے چچا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا ہے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہو سکے تھے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزری تھی ۔ انہوں نے کہا : یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے اور میں اس سے غیر حاضر رہا ، اس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کوئی معرکہ مجھے دکھایا تو اللہ مجھے بھی دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ وہ ان کلمات کے علاوہ کوئی اور بات کہنے سے ڈرے ( دل میں بہت کچھ کر گزرنے کا عزم تھا لیکن اس فقرے سے زیادہ کچھ نہیں کہا ۔ ) ، پھر وہ غزوہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے ، کہا : پھر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آئے تو ( میرے چچا ) …
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ فَقَدْتُ آيَةً مِنَ الأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ، كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهَا، فَالْتَمَسْنَاهَا فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ } فَأَلْحَقْنَاهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ.
Narrated Zaid bin Thabit:When we wrote the Holy Qur'an, I missed one of the Verses of Surat-al-Ahzab which I used to hear Allah's Messenger (ﷺ) reciting. Then we searched for it and found it with Khuza`ima bin Thabit Al-Ansari. The Verse was:-- 'Among the Believers are men Who have been true to Their Covenant with Allah, Of them, some have fulfilled Their obligations to Allah (i.e. they have been Killed in Allah's Cause), And some of them are (still) waiting" (33.23) So we wrote this in its place in the Qur'an
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب ہم قرآن مجید کو لکھنے لگے تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت ( لکھی ہوئی ) نہیں ملی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تلاوت کرتے بارہا سنا تھا۔ پھر جب ہم نے اس کی تلاش کی تو وہ آیت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ہمیں ملی ( آیت یہ تھی ) «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» پھر ہم نے اس آیت کو اس کی سورت میں قرآن مجید میں ملا دیا۔
PickthallThus We reveal it as plain revelations, and verily Allah guideth whom He will.
Yusuf AliThus have We sent down Clear Signs; and verily Allah doth guide whom He will!
The agreed readingAnd in that manner the whole of it was sent down: clear signs, plain on the face of them. And God guides whom He wills to guide.
Urduاور اسی طرح ہم نے اس پورے قرآن کو نازل کیا: ایسی کھلی نشانیاں جو اپنے آپ میں بالکل واضح ہیں۔ اور بے شک اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت عطا کرتا ہے۔
Arabicوكما بيّنا الحجج الواضحة على البعث، كذلك أنزلنا هذا القرآن كله آيات واضحة بيّنة لا لبس فيها ولا غموض، وإن الله يهدي إلى سبيل الهداية من يشاء ذلك بفضله ورحمته.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated `Abdullah:Allah's Messenger (ﷺ), the true and truly inspired said, "(as regards your creation), every one of you is collected in the womb of his mother for the first forty days, and then he becomes a clot for another forty days, and then a piece of flesh for another forty days. Then Allah sends an angel to write four items: He writes his deeds, time of his death, means of his livelihood, and whether he will be wretched or blessed (in religion). Then the soul is breathed into his body. So a man may do deeds characteristic of the people of the (Hell) Fire, so much so that there is only the distance of a cubit between him and it, and then what has been written (by the angel) …
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور آپ سچوں کے سچے تھے کہ انسان کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں پہلے چالیس دن تک پوری کی جاتی ہے۔ پھر وہ اتنے ہی دنوں تک «علقة» یعنی غلیظ اور جامد خون کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں کے لیے «مضغة» ( گوشت کا لوتھڑا ) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پھر ( چوتھے چلہ میں ) اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے۔ پس وہ فرشتہ اس کے عمل، اس کی مدت زندگی، روزی اور یہ کہ وہ نیک ہے یا بد، کو لکھ لیتا ہے۔ اس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پس انسان ( زندگی بھر ) …
Abdullah (b. Mas'ud) reported that Allah's Messenger (ﷺ) who is the most truthful (of the human beings) and his being truthful (is a fact) said:Verily your creation is on this wise. The constituents of one of you are collected for forty days in his mother's womb in the form of blood, after which it becomes a clot of blood in another period of forty days. Then it becomes a lump of flesh and forty days later Allah sends His angel to it with instructions concerning four things, so the angel writes down his livelihood, his death, his deeds, his fortune and misfortune. By Him, besides Whom there is no god, that one amongst you acts like the people deserving Paradise until between him and …
عبداللہ بن نمیر ہمدانی ، ابومعاویہ اور وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں اعمش نے زید بن وہب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ سچ بتاتے ہیں اور انہیں ( وحی کے ذریعے سے ) سچ بتایا جاتا ہے نے فرمایا : " تم میں سے ہر ایک شخص کا مادہ تخلیق چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں اکٹھا کیا جاتا ہے ، پھر وہ اتنی مدت ( چالیس دن ) کے لیے علقہ ( جونک کی طرح رحم کی دیوار کے ساتھ چپکا ہوا ) رہتا ہے ، پھر اتنی ہی مدت کے لیے مُضغہ کی شکل میں رہتا ہے ( جس میں ریڑھ کی ہڈی کے نشانات دانت سے چبائے جانے کے نشانات سے مشابہ ہوتے ہیں ۔ ) پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو ( پانچویں مہینے نیوروسیل ، یعنی دماغ کی تخلیق …
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6594) Sahih Muslim (2643)
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6594) Sahih Muslim (2643)
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6594) Sahih Muslim (2643)
‘Abd Allah b. Mas’ud said :The Messenger of Allah (May peace be upon him) who spoke the truth and whose word was belief told us the following : The constituents of one of you are collected for forty days in his mother’s womb, then they become a piece of congealed blood for a similar period, then they become a lump of flesh for a similar period. Then Allah sends to him an angel with four words who records his provision the period of his life, his deeds, and whether he will be miserable or blessed ; thereafter he breathes the spirit into him. One of you will do the deeds of those who go to Paradise so that there will be only a cubit between him and it or will be within a cubit, then what is …
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آپ صادق اور آپ کی صداقت مسلم ہے ) بیان فرمایا: تم میں سے ہر شخص کا تخلیقی نطفہ چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع رکھا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ خون کا جما ہوا ٹکڑا رہتا ہے، پھر وہ اتنے ہی دن گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے: تو وہ اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عمل لکھتا ہے، پھر لکھتا ہے: آیا وہ بدبخت ہے یا نیک بخت، پھر وہ اس میں روح پھونکتا ہے، اب اگر تم میں سے کوئی جنتیوں کے عمل کرتا ہے، یہاں تک کہ اس ( شخص ) کے اور اس ( جنت ) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب ( تقدیر ) اس پر سبقت کر جاتی ہے اور وہ جہنمیوں کے …
Abdullah bin Mas'ud said:The Messenger of Allah (s.a.w) narrated to us - and he is the truthful and entrusted one: 'Indeed the creation of one of you is gathered inside his mother in forty days. Then, for a similar period, he is a clot. Then, for a similar period, he is a piece of flesh. Then Allah sends the angel to him to blow the soul into him, and he is ordered to write four (things): To write his provision, his life-span, his works, and whether he will be wretched or happy. By the One besides Whom there is none other worthy of worship! One of you will do deeds of the people of Paradise, until there is between him and it but a forearm span, then he is overcome by what is written for …
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ۱؎، ”تم میں سے ہر آدمی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن تک «علقة» ( یعنی جمے ہوئے خون ) کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن تک «مضغة» ( یعنی گوشت کے لوتھڑے ) کی شکل میں رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے، پھر اسے چار چیزوں ( کے لکھنے ) کا حکم کیا جاتا ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے: اس کا رزق، اس کی موت، اس کا عمل اور یہ چیز کہ وہ «شقي» ( بدبخت ) ہے یا «سعيد» ( نیک بخت ) ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تم میں سے کوئی آدمی جنتیوں کا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک گز کا فاصلہ …
PickthallLo! those who believe (this revelation), and those who are Jews, and the Sabaeans and the Christians and the Magians and the idolaters - Lo! Allah will decide between them on the Day of Resurrection. Lo! Allah is Witness over all things.
Yusuf AliThose who believe (in the Qur'an), those who follow the Jewish (scriptures), and the Sabians, Christians, Magians, and Polytheists,- Allah will judge between them on the Day of Judgment: for Allah is witness of all things.
The agreed readingThose who believe, and the Jews, and the Sabaeans, and the Christians, and the Magians, and those who set up partners with God - God will decide between them all on the Day of Resurrection, setting the one who was right apart from the one who was wrong. He is a witness over everything.
Urduجو لوگ ایمان لائے، اور یہودی، اور صابی، اور نصاریٰ، اور مجوسی، اور جنہوں نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے - اللہ قیامت کے دن ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا، حق پر چلنے والے کو باطل پر چلنے والے سے الگ کر دے گا۔ وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
Arabicإن الذين آمنوا، واليهود، والصابئين، والنصارى، والمجوس، والذين أشركوا بالله - إن الله يقضي بينهم جميعًا يوم القيامة، فيميز المحق من المبطل، فيدخل المؤمنين الجنة ويدخل غيرهم النار، وهو على كل شيء من أقوالهم وأعمالهم شهيد.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
[النظر إلى الحجر الأسود] ثم انظر إلى الحجر الأسود واستقبله بوجهك وقل " الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله، سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيى ويميت، ويميت ويحيي وهو حي لا يموت، بيده الخير، وهو على كل شئ قدير، اللهم صل على محمد وآل محمد ، وبارك على محمد وآل محمد كأفضل ما صليت وباركت وترحمت على إبراهيم و آل إبراهيم إنك حميد مجيد، وسلام على جميع النبيين والمرسلين والحمد الله رب العالمين، اللهم إني أومن بوعدك، وأصدق رسلك، وأتبع كتابك ".
GAZING AT THE BLACK STONE Then, look at the Black Stone and face it directly, and say: "All praise is due to Allah (swt), who guided us to this, and we would not have been guided had Allah (swt) not guided us. Glory be to Allah (swt), and all praise is due to Allah (swt). There is no deity except Allah (swt), and Allah (swt) is the Greatest. There is no deity except Allah (swt) alone, without partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise. He gives life and causes death, and He causes death and gives life, and He is the Ever-Living who does not die. In His hand is all goodness, and He is capable of all things. O Allah (swt), send blessings upon Muhammad and the family of …
حجر اسود کی طرف نظر: پھر حجر اسود کو دیکھو اور کہو الحمد للہ جس نے ہدایت دی۔ اللہ پاک ہے کوئی معبود نہیں تنہا ہے۔ بادشاہت اسی کے لیے زندہ کرتا مارتا ہے۔ بھلائی ہاتھ میں ہر چیز پر قادر۔ اللهم درود محمد و آل محمد پر جیسے ابراہیم و آل ابراہیم۔ برکت اور رحمت دے۔ نبیین رسولین سلام۔ الحمد ہے اللہ رب العالمین۔ ایمان ہے وعدے پر رسولوں پر کتاب پر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallHast thou not seen that unto Allah payeth adoration whosoever is in the heavens and whosoever is in the earth, and the sun, and the moon, and the stars, and the hills, and the trees, and the beasts, and many of mankind, while there are many unto whom the doom is justly due. He whom Allah scorneth, there is none to give him honour. Lo! Allah doeth what He will.
Yusuf AliSeest thou not that to Allah bow down in worship all things that are in the heavens and on earth,- the sun, the moon, the stars; the hills, the trees, the animals; and a great number among mankind? But a great number are (also) such as are fit for Punishment: and such as Allah shall disgrace,- None can raise to honour: for Allah carries out all that He wills.
The agreed readingEverything in the heavens and the earth bows to God - the sun, the moon, the stars, the mountains, the trees, the animals - each in the way that is asked of it. Many of the people bow too, and add to it the bowing of the prayer; and there are many on whom the punishment has fallen due. Whoever God leaves without honour has no one who can give it to him.
Urduآسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کے آگے سجدہ ریز ہے - سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت اور جانور - ہر ایک اپنے اپنے انداز میں جو اس سے مانگا گیا ہے۔ بہت سے انسان بھی سجدہ کرتے ہیں اور اس میں نماز کا سجدہ بھی شامل کرتے ہیں، جبکہ بہت سوں پر عذاب ثابت ہو چکا ہے۔ جسے اللہ ذلیل کر دے اسے عزت دینے والا کوئی نہیں ملتا۔
Arabicأفلا ترى أن الله يسجد له سجود طاعة كل من في السماوات وكل من في الأرض، والشمس والقمر والنجوم والجبال والشجر والدواب، كل واحد منها يسجد بالطريقة التي أُمر بها؟ وكثير من الناس يسجدون أيضًا ويزيدون على ذلك سجود الصلاة، وكثير منهم قد وجب عليه العذاب، ومن يُهِنه الله فما له من مُكرم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
It is narrated on the authority of Abu Huraira that when, the son of Adam recites the Ayat of Sajdah (prostration) and then falls down in prostration, the Satan goes into seclusion and weeps and says:Alas, and in the narration of Abu Kuraib the words are: Woe unto me, the son of Adam was commanded to prostrate, and he prostrated and Paradise was entitled to him and I was commanded to prostrate, but I refused and am doomed to Hell
حضرت ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہو ں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب ابن آدم سجدے کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے وہاں سے ہٹ جاتا ہے ، وہ کہتا ہے : ہائے اس کی ہلاکت ! ( اور ابوکریب کی روایت میں ہے ، ہائے میری ہلاکت! ) ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا ، اس پر اسے جنت مل گئی اور مجھے سجدے کا حکم ملا تو میں نے انکار کیا ، سو میرے لیے آگ ہے ۔ ‘ ‘
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي يَقُولُ يَا وَيْلَهُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When a son of Adam recites a Sajdah* and prostrates, Satan withdraws weeping, saying: ‘Woe is me! The son of Adam was commanded to prostrate and he prostrated, and Paradise will be his; I was commanded to prostrate and I refused, so I am doomed to Hell.’” * An Ayah indicating prostration
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان آیت سجدہ تلاوت کرتا اور سجدہ کرتا ہے، تو شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے، اور کہتا ہے: ہائے خرابی! ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا، اس نے سجدہ کیا، اب اس کے لیے جنت ہے، اور مجھ کو سجدہ کا حکم ہوا، میں نے انکار کیا، میرے لیے جہنم ہے ۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ الْعُتَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ، - مِنْ بَنِي عَبْدِ كُلاَلٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ مِنْهَا ثَلاَثٌ فِي الْمُفَصَّلِ وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رُوِيَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً وَإِسْنَادُهُ وَاهٍ .
Narrated Amr ibn al-'As: The Prophet (ﷺ) taught me fifteen prostrations while reciting the Qur'an, including three in al-Mufassal and two in Surah al-Hajj. Abu Dawud said: Abu al-Darda' has reported eleven prostrations from the Prophet (ﷺ), but chain of this tradition is weak
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن مجید میں ( ۱۵ ) سجدے ۱؎ پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں ۲؎ اور دو سورۃ الحج میں ۳؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گیارہ سجدے نقل کئے ہیں، لیکن اس کی سند کمزور ہے۔
Al-Hasan bin Muhammad bin Ubaidullah bin Abi Yazid said:Ibn Juraij said to me: O Hasan! Ubaidullah bin Abi Yazid informed me that Ibn Abbas said: "A man came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah! I had a dream at night while I was sleeping in which I was praying behind a tree, when I prostrated the tree prostrated along with me. Then I heard it saying: (Allahummaktuh li biha indaka ajran, wad a anni biha wizran, waj'alha li biha indaka dhukhran, wa taqabbalha minni kama taqabbaltaha min abdiki Dawud.)" (O Allah! Record for me, a reward with You for it, remove a sin for me by it, and store it away for me with You, and accept it from me as You accepted it from Your worshipper …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات اپنے کو دیکھا اور میں سو رہا تھا ( یعنی خواب میں دیکھا ) کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو میرے سجدے کے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا، پھر میں نے اسے سنا، وہ کہہ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ”اے اللہ! اس کے بدلے تو میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس کے بدلے میرا بوجھ مجھ سے ہٹا دے، اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے، اور اسے مجھ سے تو اسی طرح قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داود سے قبول کیا تھا“۔ حسن بن محمد بن عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں: مجھ سے ابن …
Al-Hasan bin Muhammad bin Ubaidullah bin Abi Yazid said:“Ibn Juraij said to me: “Ubaidullah bin Abi Yazid informed me that Ibn Abbas said: “A man came to the Prophet and said: ‘O Messenger of Allah! I had a dream at night while I was sleeping, in which I was praying behind a tree, when I prostrated, the tree prostrated along with me. Then I heard it saying: “O Allah! Record for me a reward with You for it, remove a sin from me by it, and store it away for me with You for it, and accept it from me as You accepted it from Your worshipper Dawud (Allāhumma uktub lī bihā `indaka ajran, waḍa` `annī bihā wizran, waj`alhā lī `indaka dhukhran, wa taqabbalhā minnī kamā taqabbalta min `abdika Dāwūd).” …
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سویا ہوا تھا، رات میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا تو ان میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو درخت نے بھی میرے سجدے کی متابعت کرتے ہوئے سجدہ کیا، میں نے سنا وہ پڑھ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ”اے اللہ! تو اس کے بدلے میرے لیے اپنے پاس اجر و ثواب لکھ لے، اور اس کے عوض مجھ پر سے ( گناہوں کا ) بوجھ اتار دے اور اسے اپنے پاس ( میرے لیے آخرت کا ) ذخیرہ بنا دے، اور اسے میرے لیے ایسے ہی قبول کر لے جس طرح تو نے اپنے بندے داود علیہ السلام کے لیے قبول کیا تھا“۔ ابن جریج کہتے …
Narrated Qais:I heard Abu Dhar swearing that the following Holy verse:-- "These two opponents (believers and disbelievers) disputing with each other about their Lord," (22.19) was revealed concerning those men who fought on the day of Badr, namely, Hamza, `Ali, Ubaida bin Al-Harith, `Utba and Shaiba----the two sons of Rabi`a-- and Al-Walid bin `Utba
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسمیہ کہتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ان کے بارے میں اتری جو بدر کی لڑائی میں مقابلے کے لیے نکلے تھے یعنی حمزہ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم ( مسلمانوں کی طرف سے ) اور عتبہ، شیبہ، ربیعہ کے بیٹے اور ولید بن عتبہ ( کافروں کی طرف سے ) ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Dharr through another chain of transmitters
سفیان نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے ، انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر یہ کہتے ہوئے سنا : هَذَانِ خَصْمَانِ یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( آگے ) ہشیم کی حدیث کے مانند ہے ۔
Abu Dharr took an oath that this verse:" These two adversaries who dispute about their Lord" (xxii. 19) was revealed in connection with those who on the Day of Badr came out (of rows to fight against the non-believers and they were) Hamza, 'Ali, 'Ubaida b. Harith (from the side of the Muslims) and 'Utba and Shaiba, both of them the sons of Rabi'a and Walid b. 'Utba (from the side of the non-believers of Mecca)
ہشیم نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے اور انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا کہ ( آیت ) : " یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا ۔ " ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت ( رودرودسیدھی لڑائی ) کی : حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ( دوسری طرف سے ) ربیعہ کے دو بیٹے : عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ۔
[النظر إلى الحجر الأسود] ثم انظر إلى الحجر الأسود واستقبله بوجهك وقل " الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله، سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيى ويميت، ويميت ويحيي وهو حي لا يموت، بيده الخير، وهو على كل شئ قدير، اللهم صل على محمد وآل محمد ، وبارك على محمد وآل محمد كأفضل ما صليت وباركت وترحمت على إبراهيم و آل إبراهيم إنك حميد مجيد، وسلام على جميع النبيين والمرسلين والحمد الله رب العالمين، اللهم إني أومن بوعدك، وأصدق رسلك، وأتبع كتابك ".
GAZING AT THE BLACK STONE Then, look at the Black Stone and face it directly, and say: "All praise is due to Allah (swt), who guided us to this, and we would not have been guided had Allah (swt) not guided us. Glory be to Allah (swt), and all praise is due to Allah (swt). There is no deity except Allah (swt), and Allah (swt) is the Greatest. There is no deity except Allah (swt) alone, without partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise. He gives life and causes death, and He causes death and gives life, and He is the Ever-Living who does not die. In His hand is all goodness, and He is capable of all things. O Allah (swt), send blessings upon Muhammad and the family of …
حجر اسود کی طرف نظر: پھر حجر اسود کو دیکھو اور کہو الحمد للہ جس نے ہدایت دی۔ اللہ پاک ہے کوئی معبود نہیں تنہا ہے۔ بادشاہت اسی کے لیے زندہ کرتا مارتا ہے۔ بھلائی ہاتھ میں ہر چیز پر قادر۔ اللهم درود محمد و آل محمد پر جیسے ابراہیم و آل ابراہیم۔ برکت اور رحمت دے۔ نبیین رسولین سلام۔ الحمد ہے اللہ رب العالمین۔ ایمان ہے وعدے پر رسولوں پر کتاب پر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThese twain (the believers and the disbelievers) are two opponents who contend concerning their Lord. But as for those who disbelieve, garments of fire will be cut out for them; boiling fluid will be poured down on their heads,
Yusuf AliThese two antagonists dispute with each other about their Lord: But those who deny (their Lord),- for them will be cut out a garment of Fire: over their heads will be poured out boiling water.
The agreed readingThese are two sides in a dispute about their Lord: those who believe on the one side, and the rest on the other, however many groups the rest divide into. For those who refuse, garments of fire are cut to their measure, and boiling water is poured over their heads.
Urduیہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں: ایک طرف وہ جو ایمان لائے، اور دوسری طرف باقی سب، چاہے وہ کتنے ہی گروہوں میں بٹے ہوں۔ جن لوگوں نے انکار کیا ان کے لیے آگ کے کپڑے ناپ کر کاٹے جائیں گے، اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔
Arabicهذان فريقان تخاصما في ربهم: فريق الإيمان وفريق الكفر مهما تعددت طوائفه، فأما فريق الكفر فتحيط بهم النار مثل إحاطة الثياب بلابسها، ويُصبّ من فوق رؤوسهم الماء البالغ في الحرارة.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Baghawī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Qais bin Ubad:`Ali said, "I will be the first to kneel before the Beneficent on the Day of Resurrection because of the dispute." Qais said; This Verse: 'These two opponents (believers and disbelievers dispute with each other about their Lord,' (22.19) was revealed in connection with those who came out for the Battle of Badr, i.e. `Ali, Hamza, 'Ubaida, Shaiba bin Rabi`a, `Utba bin Rabi`a and Al-Walid bin `Utba
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سلیمان سے سنا، انہوں نے ابومجلز سے سن کر کہا کہ یہ خود ان ( ابومجلز ) کا قول ہے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پہلا شخص ہوں گا۔ جو رحمن کے حضور میں قیامت کے دن اپنا دعویٰ پیش کرنے کے لیے چہار زانو بیٹھوں گا۔ قیس نے کہا کہ آپ ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم» کہ یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا“ بیان کیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر کی لڑائی میں دعوت مقابلہ دی تھی۔ یعنی ( مسلمانوں کی طرف سے ) علی، حمزہ اور عبیدہ رضی اللہ عنہم نے اور ( کفار کی طرف سے ) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور …
Abu Dharr took an oath that this verse:" These two adversaries who dispute about their Lord" (xxii. 19) was revealed in connection with those who on the Day of Badr came out (of rows to fight against the non-believers and they were) Hamza, 'Ali, 'Ubaida b. Harith (from the side of the Muslims) and 'Utba and Shaiba, both of them the sons of Rabi'a and Walid b. 'Utba (from the side of the non-believers of Mecca)
ہشیم نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے اور انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا کہ ( آیت ) : " یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا ۔ " ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت ( رودرودسیدھی لڑائی ) کی : حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ( دوسری طرف سے ) ربیعہ کے دو بیٹے : عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Dharr through another chain of transmitters
سفیان نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے ، انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر یہ کہتے ہوئے سنا : هَذَانِ خَصْمَانِ یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( آگے ) ہشیم کی حدیث کے مانند ہے ۔
Narrated Qais:I heard Abu Dhar swearing that the following Holy verse:-- "These two opponents (believers and disbelievers) disputing with each other about their Lord," (22.19) was revealed concerning those men who fought on the day of Badr, namely, Hamza, `Ali, Ubaida bin Al-Harith, `Utba and Shaiba----the two sons of Rabi`a-- and Al-Walid bin `Utba
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسمیہ کہتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ان کے بارے میں اتری جو بدر کی لڑائی میں مقابلے کے لیے نکلے تھے یعنی حمزہ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم ( مسلمانوں کی طرف سے ) اور عتبہ، شیبہ، ربیعہ کے بیٹے اور ولید بن عتبہ ( کافروں کی طرف سے ) ۔
Narrated Qais bin Ubad:Abu Dharr used to take an oath confirming that the Verse: 'These two opponents (believers, and disbelievers) dispute with each other about their Lord.' (22.19) was Revealed in connection with Hamza and his two companions and `Utbah and his two companions on the day when they went out to the battle of Badr
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس بن عباد نے اور انہیں ابوذر رضی اللہ عنہ نے وہ قسم کھا کر بیان کرتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا۔“ حمزہ اور آپ کے دونوں ساتھیوں ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی طرف سے ) اور ( مشرکین کی طرف سے ) عتبہ اور اس کے دونوں ساتھیوں ( شیبہ اور ولید بن عتبہ ) کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب انہوں نے بدر کی لڑائی میں میدان میں آ کر مقابلہ کی دعوت دی تھی۔ اس روایت کو سفیان نے ابوہاشم سے اور عثمان نے جریر سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابوہاشم سے اور انہوں نے ابومجلز سے اسی …
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:Indeed Hamim will be poured over their heads. The Hamim will penetrate until it finds its way to his insides. Then whatever is inside him will fall out until it pours over his feet while it melts away. Then he will be reformed to how he was
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کے سر پر «ماء حمیم» ( گرم پانی ) انڈیلا جائے گا تو وہ ( بدن میں ) سرایت کر جائے گا یہاں تک کہ اس کے پیٹ تک جا پہنچے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹے گا یہاں تک کہ اس کے پیروں ( یعنی سرین ) سے نکل جائے گا۔ یہی وہ «صہر» ہے ( جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے ) پھر اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Hammam b. Munabbih reported that Abu Huraira narrated to them some ahadith of Allah's Messenger (ﷺ) and one of them is this that Allah's Messenger (ﷺ) said:The Paradise and the Hell fell into dispute and the Hell said: 1 have been distinguished for accommodating (the haughty and proud in me), and the Paradise said: What is the matter that the meek and the humble and the downtrodden and simple would find an abode in me? Thereupon Allah said to Paradise: You are a (means) of My Mercy. 1 shall show mercy through you to one whom I will from amongst My servants. And lie said to the Hell: You are a (sign) of My chastisement and I shall chastise through you anyone whom I will from amongst My …
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے بہت سی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت اوردوزخ نے ( اپنے اپنے بارے میں ) ایک دوسرے کو دلائل دیئے ۔ دوزخ نے کہا : مجھے تکبر اور جبر کرنے والوں ( کا ٹھکانہ ہونے ) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے ۔ جنت نے کہا : میرا کیا حال ہے کہ میرے اندر لوگوں میں سے کمزور خاک نشین اور سیدھے سادے لوگ داخل ہوں گے؟تو اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا : تو سراسر میری رحمت ہے ، تیرے ذریعے سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا رحمت سے نوازوں گا اور دوزخ سے کہا : تو صرف اور صرف میرا عذاب ہے ، تیرے ذریعے میں …
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The least of the people of Paradise in position is the one with eighty thousand servants and seventy-two wives. He shall have a tent of pearl, peridot, and corundum set up for him,(the size of which is) like that which is between Al-Jabiyyah and Sana'a."And with this chain, it is narrated from the Prophet (s.a.w) that he said: "Whoever of the people of (destined to enter) Paradise dies, young or old, they shall be brought back in Paradise thirty years old, they will not increase in that ever, and likewise the people of the Fire." And with this chain, it is narrated from the Prophet (s.a.w) that he said: "There are upon …
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کم درجے کا جتنی وہ ہے جس کے لیے اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں ہوں گی۔ اس کے لیے موتی، زمرد اور یاقوت کا خیمہ نصب کیا جائے گا جو مقام جابیہ سے صنعاء ( یمن ) تک کے برابر ہو گا“۔
[النظر إلى الحجر الأسود] ثم انظر إلى الحجر الأسود واستقبله بوجهك وقل " الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله، سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيى ويميت، ويميت ويحيي وهو حي لا يموت، بيده الخير، وهو على كل شئ قدير، اللهم صل على محمد وآل محمد ، وبارك على محمد وآل محمد كأفضل ما صليت وباركت وترحمت على إبراهيم و آل إبراهيم إنك حميد مجيد، وسلام على جميع النبيين والمرسلين والحمد الله رب العالمين، اللهم إني أومن بوعدك، وأصدق رسلك، وأتبع كتابك ".
GAZING AT THE BLACK STONE Then, look at the Black Stone and face it directly, and say: "All praise is due to Allah (swt), who guided us to this, and we would not have been guided had Allah (swt) not guided us. Glory be to Allah (swt), and all praise is due to Allah (swt). There is no deity except Allah (swt), and Allah (swt) is the Greatest. There is no deity except Allah (swt) alone, without partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise. He gives life and causes death, and He causes death and gives life, and He is the Ever-Living who does not die. In His hand is all goodness, and He is capable of all things. O Allah (swt), send blessings upon Muhammad and the family of …
حجر اسود کی طرف نظر: پھر حجر اسود کو دیکھو اور کہو الحمد للہ جس نے ہدایت دی۔ اللہ پاک ہے کوئی معبود نہیں تنہا ہے۔ بادشاہت اسی کے لیے زندہ کرتا مارتا ہے۔ بھلائی ہاتھ میں ہر چیز پر قادر۔ اللهم درود محمد و آل محمد پر جیسے ابراہیم و آل ابراہیم۔ برکت اور رحمت دے۔ نبیین رسولین سلام۔ الحمد ہے اللہ رب العالمین۔ ایمان ہے وعدے پر رسولوں پر کتاب پر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWhereby that which is in their bellies, and their skins too, will be melted;
Yusuf AliWith it will be scalded what is within their bodies, as well as (their) skins.
The agreed readingWith it what is inside them is melted as well as what is outside: the heat works on their insides as it works on their skin.
Urduاسی کھولتے ہوئے پانی سے ان کے پیٹ کے اندر کی چیزیں پگھل جائیں گی اور ساتھ ہی ان کی کھالیں بھی گلنے لگیں گی، یہ گرمی جتنا اثر اندر کرتی ہے اتنا ہی باہر جلد پر بھی کرتی ہے۔
Arabicيذاب بذلك الحميم الشديد الحرارة ما في بطونهم من الأحشاء، ثم يصل أثره إلى جلودهم من الخارج فيذيبها كما أذاب ما في بطونهم من الداخل، فلا يسلم منه ظاهرهم ولا باطنهم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr في هذه الآية
Cited by al-Baghawī, al-Qurṭubī and Ibn Kathīr on this āyah
al-Baghawī، al-Qurṭubī، Ibn Kathīr نے اس آیت پر نقل کیا
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:Indeed Hamim will be poured over their heads. The Hamim will penetrate until it finds its way to his insides. Then whatever is inside him will fall out until it pours over his feet while it melts away. Then he will be reformed to how he was
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کے سر پر «ماء حمیم» ( گرم پانی ) انڈیلا جائے گا تو وہ ( بدن میں ) سرایت کر جائے گا یہاں تک کہ اس کے پیٹ تک جا پہنچے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹے گا یہاں تک کہ اس کے پیروں ( یعنی سرین ) سے نکل جائے گا۔ یہی وہ «صہر» ہے ( جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے ) پھر اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Abu Dharr took an oath that this verse:" These two adversaries who dispute about their Lord" (xxii. 19) was revealed in connection with those who on the Day of Badr came out (of rows to fight against the non-believers and they were) Hamza, 'Ali, 'Ubaida b. Harith (from the side of the Muslims) and 'Utba and Shaiba, both of them the sons of Rabi'a and Walid b. 'Utba (from the side of the non-believers of Mecca)
ہشیم نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے اور انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا کہ ( آیت ) : " یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا ۔ " ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت ( رودرودسیدھی لڑائی ) کی : حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ( دوسری طرف سے ) ربیعہ کے دو بیٹے : عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ۔
Narrated Qais:I heard Abu Dhar swearing that the following Holy verse:-- "These two opponents (believers and disbelievers) disputing with each other about their Lord," (22.19) was revealed concerning those men who fought on the day of Badr, namely, Hamza, `Ali, Ubaida bin Al-Harith, `Utba and Shaiba----the two sons of Rabi`a-- and Al-Walid bin `Utba
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسمیہ کہتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ان کے بارے میں اتری جو بدر کی لڑائی میں مقابلے کے لیے نکلے تھے یعنی حمزہ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم ( مسلمانوں کی طرف سے ) اور عتبہ، شیبہ، ربیعہ کے بیٹے اور ولید بن عتبہ ( کافروں کی طرف سے ) ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Dharr through another chain of transmitters
سفیان نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے ، انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر یہ کہتے ہوئے سنا : هَذَانِ خَصْمَانِ یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( آگے ) ہشیم کی حدیث کے مانند ہے ۔
Narrated Qais bin Ubad:Abu Dharr used to take an oath confirming that the Verse: 'These two opponents (believers, and disbelievers) dispute with each other about their Lord.' (22.19) was Revealed in connection with Hamza and his two companions and `Utbah and his two companions on the day when they went out to the battle of Badr
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس بن عباد نے اور انہیں ابوذر رضی اللہ عنہ نے وہ قسم کھا کر بیان کرتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا۔“ حمزہ اور آپ کے دونوں ساتھیوں ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی طرف سے ) اور ( مشرکین کی طرف سے ) عتبہ اور اس کے دونوں ساتھیوں ( شیبہ اور ولید بن عتبہ ) کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب انہوں نے بدر کی لڑائی میں میدان میں آ کر مقابلہ کی دعوت دی تھی۔ اس روایت کو سفیان نے ابوہاشم سے اور عثمان نے جریر سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابوہاشم سے اور انہوں نے ابومجلز سے اسی …
Narrated Qais bin Ubad:`Ali said, "I will be the first to kneel before the Beneficent on the Day of Resurrection because of the dispute." Qais said; This Verse: 'These two opponents (believers and disbelievers dispute with each other about their Lord,' (22.19) was revealed in connection with those who came out for the Battle of Badr, i.e. `Ali, Hamza, 'Ubaida, Shaiba bin Rabi`a, `Utba bin Rabi`a and Al-Walid bin `Utba
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سلیمان سے سنا، انہوں نے ابومجلز سے سن کر کہا کہ یہ خود ان ( ابومجلز ) کا قول ہے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پہلا شخص ہوں گا۔ جو رحمن کے حضور میں قیامت کے دن اپنا دعویٰ پیش کرنے کے لیے چہار زانو بیٹھوں گا۔ قیس نے کہا کہ آپ ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم» کہ یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا“ بیان کیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر کی لڑائی میں دعوت مقابلہ دی تھی۔ یعنی ( مسلمانوں کی طرف سے ) علی، حمزہ اور عبیدہ رضی اللہ عنہم نے اور ( کفار کی طرف سے ) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور …
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The least of the people of Paradise in position is the one with eighty thousand servants and seventy-two wives. He shall have a tent of pearl, peridot, and corundum set up for him,(the size of which is) like that which is between Al-Jabiyyah and Sana'a."And with this chain, it is narrated from the Prophet (s.a.w) that he said: "Whoever of the people of (destined to enter) Paradise dies, young or old, they shall be brought back in Paradise thirty years old, they will not increase in that ever, and likewise the people of the Fire." And with this chain, it is narrated from the Prophet (s.a.w) that he said: "There are upon …
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کم درجے کا جتنی وہ ہے جس کے لیے اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں ہوں گی۔ اس کے لیے موتی، زمرد اور یاقوت کا خیمہ نصب کیا جائے گا جو مقام جابیہ سے صنعاء ( یمن ) تک کے برابر ہو گا“۔
Narrated Abu Mijlaz:From Qais bin Ubad: `Ali bin Abi Talib said, "I shall be the first man to kneel down before (Allah), the Beneficent to receive His judgment on the day of Resurrection (in my favor)." Qais bin Ubad also said, "The following Verse was revealed in their connection:-- "These two opponents believers and disbelievers) Dispute with each other About their Lord." (22.19) Qais said that they were those who fought on the day of Badr, namely, Hamza, `Ali, 'Ubaida or Abu 'Ubaida bin Al-Harith, Shaiba bin Rabi`a, `Utba and Al-Walid bin `Utba
مجھ سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا، ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابومجلز نے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قیامت کے دن میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں جھگڑا چکانے کے لیے دو زانو ہو کر بیٹھے گا۔ قیس بن عباد نے بیان کیا کہ انہیں حضرات ( حمزہ، علی اور عبیدہ رضی اللہ عنہم ) کے بارے میں سورۃ الحج کی یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں لڑائی کی۔“ بیان کیا کہ یہ وہی ہیں جو بدر کی لڑائی میں لڑنے نکلے تھے، مسلمانوں کی طرف سے حمزہ، علی اور عبیدہ یا ابوعبیدہ بن حارث رضوان اللہ علیہم ( اور کافروں کی طرف سے ) شیبہ بن …
[النظر إلى الحجر الأسود] ثم انظر إلى الحجر الأسود واستقبله بوجهك وقل " الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله، سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيى ويميت، ويميت ويحيي وهو حي لا يموت، بيده الخير، وهو على كل شئ قدير، اللهم صل على محمد وآل محمد ، وبارك على محمد وآل محمد كأفضل ما صليت وباركت وترحمت على إبراهيم و آل إبراهيم إنك حميد مجيد، وسلام على جميع النبيين والمرسلين والحمد الله رب العالمين، اللهم إني أومن بوعدك، وأصدق رسلك، وأتبع كتابك ".
GAZING AT THE BLACK STONE Then, look at the Black Stone and face it directly, and say: "All praise is due to Allah (swt), who guided us to this, and we would not have been guided had Allah (swt) not guided us. Glory be to Allah (swt), and all praise is due to Allah (swt). There is no deity except Allah (swt), and Allah (swt) is the Greatest. There is no deity except Allah (swt) alone, without partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise. He gives life and causes death, and He causes death and gives life, and He is the Ever-Living who does not die. In His hand is all goodness, and He is capable of all things. O Allah (swt), send blessings upon Muhammad and the family of …
حجر اسود کی طرف نظر: پھر حجر اسود کو دیکھو اور کہو الحمد للہ جس نے ہدایت دی۔ اللہ پاک ہے کوئی معبود نہیں تنہا ہے۔ بادشاہت اسی کے لیے زندہ کرتا مارتا ہے۔ بھلائی ہاتھ میں ہر چیز پر قادر۔ اللهم درود محمد و آل محمد پر جیسے ابراہیم و آل ابراہیم۔ برکت اور رحمت دے۔ نبیین رسولین سلام۔ الحمد ہے اللہ رب العالمین۔ ایمان ہے وعدے پر رسولوں پر کتاب پر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Yusuf AliIn addition there will be maces of iron (to punish) them.
The agreed readingAnd there are maces of iron for them, to strike their heads with. The commentaries carry a report of the weight of them: if one were set down on the earth, all of mankind and the jinn together could not lift it.
Urduاور ان کے لیے لوہے کے گرز ہیں جن سے ان کے سروں پر ضرب لگائی جائے گی۔ تفسیروں میں یہ روایت ملتی ہے کہ اگر ان میں سے ایک گرز زمین پر رکھ دیا جائے تو تمام انسان اور جن مل کر بھی اسے اٹھا نہ سکیں۔
Arabicولهم في النار مطارق من حديد تضرب بها الملائكة رؤوسهم، وقد ورد في الأثر أنه لو وُضع واحد من هذه المطارق على الأرض لَما استطاع الإنس والجن مجتمعين أن يرفعوه من ثقله.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Rāzī and al-Qurṭubī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Rāzī، al-Qurṭubī نے اس آیت پر نقل کیا
Abu Dharr took an oath that this verse:" These two adversaries who dispute about their Lord" (xxii. 19) was revealed in connection with those who on the Day of Badr came out (of rows to fight against the non-believers and they were) Hamza, 'Ali, 'Ubaida b. Harith (from the side of the Muslims) and 'Utba and Shaiba, both of them the sons of Rabi'a and Walid b. 'Utba (from the side of the non-believers of Mecca)
ہشیم نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے اور انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا کہ ( آیت ) : " یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا ۔ " ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت ( رودرودسیدھی لڑائی ) کی : حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ( دوسری طرف سے ) ربیعہ کے دو بیٹے : عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:Indeed Hamim will be poured over their heads. The Hamim will penetrate until it finds its way to his insides. Then whatever is inside him will fall out until it pours over his feet while it melts away. Then he will be reformed to how he was
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کے سر پر «ماء حمیم» ( گرم پانی ) انڈیلا جائے گا تو وہ ( بدن میں ) سرایت کر جائے گا یہاں تک کہ اس کے پیٹ تک جا پہنچے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹے گا یہاں تک کہ اس کے پیروں ( یعنی سرین ) سے نکل جائے گا۔ یہی وہ «صہر» ہے ( جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے ) پھر اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Qais:I heard Abu Dhar swearing that the following Holy verse:-- "These two opponents (believers and disbelievers) disputing with each other about their Lord," (22.19) was revealed concerning those men who fought on the day of Badr, namely, Hamza, `Ali, Ubaida bin Al-Harith, `Utba and Shaiba----the two sons of Rabi`a-- and Al-Walid bin `Utba
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسمیہ کہتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ان کے بارے میں اتری جو بدر کی لڑائی میں مقابلے کے لیے نکلے تھے یعنی حمزہ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم ( مسلمانوں کی طرف سے ) اور عتبہ، شیبہ، ربیعہ کے بیٹے اور ولید بن عتبہ ( کافروں کی طرف سے ) ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Dharr through another chain of transmitters
سفیان نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے ، انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر یہ کہتے ہوئے سنا : هَذَانِ خَصْمَانِ یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( آگے ) ہشیم کی حدیث کے مانند ہے ۔
Narrated Qais bin Ubad:Abu Dharr used to take an oath confirming that the Verse: 'These two opponents (believers, and disbelievers) dispute with each other about their Lord.' (22.19) was Revealed in connection with Hamza and his two companions and `Utbah and his two companions on the day when they went out to the battle of Badr
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس بن عباد نے اور انہیں ابوذر رضی اللہ عنہ نے وہ قسم کھا کر بیان کرتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا۔“ حمزہ اور آپ کے دونوں ساتھیوں ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی طرف سے ) اور ( مشرکین کی طرف سے ) عتبہ اور اس کے دونوں ساتھیوں ( شیبہ اور ولید بن عتبہ ) کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب انہوں نے بدر کی لڑائی میں میدان میں آ کر مقابلہ کی دعوت دی تھی۔ اس روایت کو سفیان نے ابوہاشم سے اور عثمان نے جریر سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابوہاشم سے اور انہوں نے ابومجلز سے اسی …
Narrated Qais bin Ubad:`Ali said, "I will be the first to kneel before the Beneficent on the Day of Resurrection because of the dispute." Qais said; This Verse: 'These two opponents (believers and disbelievers dispute with each other about their Lord,' (22.19) was revealed in connection with those who came out for the Battle of Badr, i.e. `Ali, Hamza, 'Ubaida, Shaiba bin Rabi`a, `Utba bin Rabi`a and Al-Walid bin `Utba
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سلیمان سے سنا، انہوں نے ابومجلز سے سن کر کہا کہ یہ خود ان ( ابومجلز ) کا قول ہے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پہلا شخص ہوں گا۔ جو رحمن کے حضور میں قیامت کے دن اپنا دعویٰ پیش کرنے کے لیے چہار زانو بیٹھوں گا۔ قیس نے کہا کہ آپ ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم» کہ یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا“ بیان کیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر کی لڑائی میں دعوت مقابلہ دی تھی۔ یعنی ( مسلمانوں کی طرف سے ) علی، حمزہ اور عبیدہ رضی اللہ عنہم نے اور ( کفار کی طرف سے ) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور …
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The least of the people of Paradise in position is the one with eighty thousand servants and seventy-two wives. He shall have a tent of pearl, peridot, and corundum set up for him,(the size of which is) like that which is between Al-Jabiyyah and Sana'a."And with this chain, it is narrated from the Prophet (s.a.w) that he said: "Whoever of the people of (destined to enter) Paradise dies, young or old, they shall be brought back in Paradise thirty years old, they will not increase in that ever, and likewise the people of the Fire." And with this chain, it is narrated from the Prophet (s.a.w) that he said: "There are upon …
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کم درجے کا جتنی وہ ہے جس کے لیے اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں ہوں گی۔ اس کے لیے موتی، زمرد اور یاقوت کا خیمہ نصب کیا جائے گا جو مقام جابیہ سے صنعاء ( یمن ) تک کے برابر ہو گا“۔
Narrated Abu Mijlaz:From Qais bin Ubad: `Ali bin Abi Talib said, "I shall be the first man to kneel down before (Allah), the Beneficent to receive His judgment on the day of Resurrection (in my favor)." Qais bin Ubad also said, "The following Verse was revealed in their connection:-- "These two opponents believers and disbelievers) Dispute with each other About their Lord." (22.19) Qais said that they were those who fought on the day of Badr, namely, Hamza, `Ali, 'Ubaida or Abu 'Ubaida bin Al-Harith, Shaiba bin Rabi`a, `Utba and Al-Walid bin `Utba
مجھ سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا، ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابومجلز نے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قیامت کے دن میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں جھگڑا چکانے کے لیے دو زانو ہو کر بیٹھے گا۔ قیس بن عباد نے بیان کیا کہ انہیں حضرات ( حمزہ، علی اور عبیدہ رضی اللہ عنہم ) کے بارے میں سورۃ الحج کی یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں لڑائی کی۔“ بیان کیا کہ یہ وہی ہیں جو بدر کی لڑائی میں لڑنے نکلے تھے، مسلمانوں کی طرف سے حمزہ، علی اور عبیدہ یا ابوعبیدہ بن حارث رضوان اللہ علیہم ( اور کافروں کی طرف سے ) شیبہ بن …
[النظر إلى الحجر الأسود] ثم انظر إلى الحجر الأسود واستقبله بوجهك وقل " الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله، سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيى ويميت، ويميت ويحيي وهو حي لا يموت، بيده الخير، وهو على كل شئ قدير، اللهم صل على محمد وآل محمد ، وبارك على محمد وآل محمد كأفضل ما صليت وباركت وترحمت على إبراهيم و آل إبراهيم إنك حميد مجيد، وسلام على جميع النبيين والمرسلين والحمد الله رب العالمين، اللهم إني أومن بوعدك، وأصدق رسلك، وأتبع كتابك ".
GAZING AT THE BLACK STONE Then, look at the Black Stone and face it directly, and say: "All praise is due to Allah (swt), who guided us to this, and we would not have been guided had Allah (swt) not guided us. Glory be to Allah (swt), and all praise is due to Allah (swt). There is no deity except Allah (swt), and Allah (swt) is the Greatest. There is no deity except Allah (swt) alone, without partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise. He gives life and causes death, and He causes death and gives life, and He is the Ever-Living who does not die. In His hand is all goodness, and He is capable of all things. O Allah (swt), send blessings upon Muhammad and the family of …
حجر اسود کی طرف نظر: پھر حجر اسود کو دیکھو اور کہو الحمد للہ جس نے ہدایت دی۔ اللہ پاک ہے کوئی معبود نہیں تنہا ہے۔ بادشاہت اسی کے لیے زندہ کرتا مارتا ہے۔ بھلائی ہاتھ میں ہر چیز پر قادر۔ اللهم درود محمد و آل محمد پر جیسے ابراہیم و آل ابراہیم۔ برکت اور رحمت دے۔ نبیین رسولین سلام۔ الحمد ہے اللہ رب العالمین۔ ایمان ہے وعدے پر رسولوں پر کتاب پر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallWhenever, in their anguish, they would go forth from thence they are driven back therein and (it is said unto them): Taste the doom of burning.
Yusuf AliEvery time they wish to get away therefrom, from anguish, they will be forced back therein, and (it will be said), "Taste ye the Penalty of Burning!"
The agreed readingEvery time the anguish makes them try to climb out of it, they are driven back in, and told: taste the punishment of burning.
Urduجب بھی تکلیف کی شدت انہیں اس میں سے نکلنے کی کوشش پر مجبور کرتی ہے، انہیں دوبارہ اسی میں دھکیل دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو۔
Arabicكلما حاولوا أن يخرجوا من النار هربًا من شدة الكرب الذي يلاقونه فيها، أُعيدوا إليها مرة أخرى بالضرب، وقيل لهم توبيخًا: ذوقوا عذاب الحريق الذي لا مفر منه.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Abu Dharr took an oath that this verse:" These two adversaries who dispute about their Lord" (xxii. 19) was revealed in connection with those who on the Day of Badr came out (of rows to fight against the non-believers and they were) Hamza, 'Ali, 'Ubaida b. Harith (from the side of the Muslims) and 'Utba and Shaiba, both of them the sons of Rabi'a and Walid b. 'Utba (from the side of the non-believers of Mecca)
ہشیم نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے اور انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا کہ ( آیت ) : " یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا ۔ " ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت ( رودرودسیدھی لڑائی ) کی : حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ( دوسری طرف سے ) ربیعہ کے دو بیٹے : عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:Indeed Hamim will be poured over their heads. The Hamim will penetrate until it finds its way to his insides. Then whatever is inside him will fall out until it pours over his feet while it melts away. Then he will be reformed to how he was
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کے سر پر «ماء حمیم» ( گرم پانی ) انڈیلا جائے گا تو وہ ( بدن میں ) سرایت کر جائے گا یہاں تک کہ اس کے پیٹ تک جا پہنچے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹے گا یہاں تک کہ اس کے پیروں ( یعنی سرین ) سے نکل جائے گا۔ یہی وہ «صہر» ہے ( جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے ) پھر اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Qais:I heard Abu Dhar swearing that the following Holy verse:-- "These two opponents (believers and disbelievers) disputing with each other about their Lord," (22.19) was revealed concerning those men who fought on the day of Badr, namely, Hamza, `Ali, Ubaida bin Al-Harith, `Utba and Shaiba----the two sons of Rabi`a-- and Al-Walid bin `Utba
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسمیہ کہتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ان کے بارے میں اتری جو بدر کی لڑائی میں مقابلے کے لیے نکلے تھے یعنی حمزہ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم ( مسلمانوں کی طرف سے ) اور عتبہ، شیبہ، ربیعہ کے بیٹے اور ولید بن عتبہ ( کافروں کی طرف سے ) ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Dharr through another chain of transmitters
سفیان نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے ، انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر یہ کہتے ہوئے سنا : هَذَانِ خَصْمَانِ یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( آگے ) ہشیم کی حدیث کے مانند ہے ۔
Narrated Qais bin Ubad:Abu Dharr used to take an oath confirming that the Verse: 'These two opponents (believers, and disbelievers) dispute with each other about their Lord.' (22.19) was Revealed in connection with Hamza and his two companions and `Utbah and his two companions on the day when they went out to the battle of Badr
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس بن عباد نے اور انہیں ابوذر رضی اللہ عنہ نے وہ قسم کھا کر بیان کرتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا۔“ حمزہ اور آپ کے دونوں ساتھیوں ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی طرف سے ) اور ( مشرکین کی طرف سے ) عتبہ اور اس کے دونوں ساتھیوں ( شیبہ اور ولید بن عتبہ ) کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب انہوں نے بدر کی لڑائی میں میدان میں آ کر مقابلہ کی دعوت دی تھی۔ اس روایت کو سفیان نے ابوہاشم سے اور عثمان نے جریر سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابوہاشم سے اور انہوں نے ابومجلز سے اسی …
Narrated Qais bin Ubad:`Ali said, "I will be the first to kneel before the Beneficent on the Day of Resurrection because of the dispute." Qais said; This Verse: 'These two opponents (believers and disbelievers dispute with each other about their Lord,' (22.19) was revealed in connection with those who came out for the Battle of Badr, i.e. `Ali, Hamza, 'Ubaida, Shaiba bin Rabi`a, `Utba bin Rabi`a and Al-Walid bin `Utba
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سلیمان سے سنا، انہوں نے ابومجلز سے سن کر کہا کہ یہ خود ان ( ابومجلز ) کا قول ہے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پہلا شخص ہوں گا۔ جو رحمن کے حضور میں قیامت کے دن اپنا دعویٰ پیش کرنے کے لیے چہار زانو بیٹھوں گا۔ قیس نے کہا کہ آپ ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم» کہ یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا“ بیان کیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر کی لڑائی میں دعوت مقابلہ دی تھی۔ یعنی ( مسلمانوں کی طرف سے ) علی، حمزہ اور عبیدہ رضی اللہ عنہم نے اور ( کفار کی طرف سے ) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور …
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The least of the people of Paradise in position is the one with eighty thousand servants and seventy-two wives. He shall have a tent of pearl, peridot, and corundum set up for him,(the size of which is) like that which is between Al-Jabiyyah and Sana'a."And with this chain, it is narrated from the Prophet (s.a.w) that he said: "Whoever of the people of (destined to enter) Paradise dies, young or old, they shall be brought back in Paradise thirty years old, they will not increase in that ever, and likewise the people of the Fire." And with this chain, it is narrated from the Prophet (s.a.w) that he said: "There are upon …
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کم درجے کا جتنی وہ ہے جس کے لیے اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں ہوں گی۔ اس کے لیے موتی، زمرد اور یاقوت کا خیمہ نصب کیا جائے گا جو مقام جابیہ سے صنعاء ( یمن ) تک کے برابر ہو گا“۔
Narrated Abu Mijlaz:From Qais bin Ubad: `Ali bin Abi Talib said, "I shall be the first man to kneel down before (Allah), the Beneficent to receive His judgment on the day of Resurrection (in my favor)." Qais bin Ubad also said, "The following Verse was revealed in their connection:-- "These two opponents believers and disbelievers) Dispute with each other About their Lord." (22.19) Qais said that they were those who fought on the day of Badr, namely, Hamza, `Ali, 'Ubaida or Abu 'Ubaida bin Al-Harith, Shaiba bin Rabi`a, `Utba and Al-Walid bin `Utba
مجھ سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا، ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابومجلز نے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قیامت کے دن میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں جھگڑا چکانے کے لیے دو زانو ہو کر بیٹھے گا۔ قیس بن عباد نے بیان کیا کہ انہیں حضرات ( حمزہ، علی اور عبیدہ رضی اللہ عنہم ) کے بارے میں سورۃ الحج کی یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں لڑائی کی۔“ بیان کیا کہ یہ وہی ہیں جو بدر کی لڑائی میں لڑنے نکلے تھے، مسلمانوں کی طرف سے حمزہ، علی اور عبیدہ یا ابوعبیدہ بن حارث رضوان اللہ علیہم ( اور کافروں کی طرف سے ) شیبہ بن …
[النظر إلى الحجر الأسود] ثم انظر إلى الحجر الأسود واستقبله بوجهك وقل " الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله، سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيى ويميت، ويميت ويحيي وهو حي لا يموت، بيده الخير، وهو على كل شئ قدير، اللهم صل على محمد وآل محمد ، وبارك على محمد وآل محمد كأفضل ما صليت وباركت وترحمت على إبراهيم و آل إبراهيم إنك حميد مجيد، وسلام على جميع النبيين والمرسلين والحمد الله رب العالمين، اللهم إني أومن بوعدك، وأصدق رسلك، وأتبع كتابك ".
GAZING AT THE BLACK STONE Then, look at the Black Stone and face it directly, and say: "All praise is due to Allah (swt), who guided us to this, and we would not have been guided had Allah (swt) not guided us. Glory be to Allah (swt), and all praise is due to Allah (swt). There is no deity except Allah (swt), and Allah (swt) is the Greatest. There is no deity except Allah (swt) alone, without partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise. He gives life and causes death, and He causes death and gives life, and He is the Ever-Living who does not die. In His hand is all goodness, and He is capable of all things. O Allah (swt), send blessings upon Muhammad and the family of …
حجر اسود کی طرف نظر: پھر حجر اسود کو دیکھو اور کہو الحمد للہ جس نے ہدایت دی۔ اللہ پاک ہے کوئی معبود نہیں تنہا ہے۔ بادشاہت اسی کے لیے زندہ کرتا مارتا ہے۔ بھلائی ہاتھ میں ہر چیز پر قادر۔ اللهم درود محمد و آل محمد پر جیسے ابراہیم و آل ابراہیم۔ برکت اور رحمت دے۔ نبیین رسولین سلام۔ الحمد ہے اللہ رب العالمین۔ ایمان ہے وعدے پر رسولوں پر کتاب پر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallLo! Allah will cause those who believe and do good works to enter Gardens underneath which rivers flow, wherein they will be allowed armlets of gold, and pearls, and their raiment therein will be silk.
Yusuf AliAllah will admit those who believe and work righteous deeds, to Gardens beneath which rivers flow: they shall be adorned therein with bracelets of gold and pearls; and their garments there will be of silk.
The agreed readingThose who believe and do what is right are brought into Gardens with rivers running beneath them. There they are given bracelets of gold and pearl, and what they wear is silk - the very thing that was forbidden to the men among them in this life.
Urduجو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، انہیں ایسے باغات میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہاں انہیں سونے اور موتی کے کنگن پہنائے جائیں گے، اور ان کا لباس ریشم کا ہوگا - وہی چیز جو دنیا میں ان کے مردوں پر حرام تھی۔
Arabicإن الله يدخل الذين آمنوا وعملوا الصالحات جنات تجري من تحتها الأنهار، ويزينهم فيها بأسورة من الذهب واللؤلؤ، ويكون لباسهم فيها الحرير، وهو نفسه ما كان محرّمًا على رجالهم في الدنيا.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 3 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة4 reports cited here — 3 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Abu Dharr took an oath that this verse:" These two adversaries who dispute about their Lord" (xxii. 19) was revealed in connection with those who on the Day of Badr came out (of rows to fight against the non-believers and they were) Hamza, 'Ali, 'Ubaida b. Harith (from the side of the Muslims) and 'Utba and Shaiba, both of them the sons of Rabi'a and Walid b. 'Utba (from the side of the non-believers of Mecca)
ہشیم نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے اور انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا کہ ( آیت ) : " یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا ۔ " ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت ( رودرودسیدھی لڑائی ) کی : حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ( دوسری طرف سے ) ربیعہ کے دو بیٹے : عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ۔
It was narrated from Ibn 'Umar that:The Messenger of Allah [SAW] said: "Whoever drinks Khamr in this world and does not repent from that, will be denied it in the Hereafter
اخبرنا قتیبہ، مالک سے، والحارث بن مسکین قراء ہ علیہ واناسمع، واللفظ لہ، ابن القاسم سے، کہا: مالک نے ہمیں حدیث سنائی، نافع سے، ابن عمر سے، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: "جو اس دنیا میں خمر پیے پھر اس سے توبہ نہ کرے تو آخرت میں اس سے محروم کر دیا جائے گا۔"
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[النظر إلى الحجر الأسود] ثم انظر إلى الحجر الأسود واستقبله بوجهك وقل " الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله، سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيى ويميت، ويميت ويحيي وهو حي لا يموت، بيده الخير، وهو على كل شئ قدير، اللهم صل على محمد وآل محمد ، وبارك على محمد وآل محمد كأفضل ما صليت وباركت وترحمت على إبراهيم و آل إبراهيم إنك حميد مجيد، وسلام على جميع النبيين والمرسلين والحمد الله رب العالمين، اللهم إني أومن بوعدك، وأصدق رسلك، وأتبع كتابك ".
GAZING AT THE BLACK STONE Then, look at the Black Stone and face it directly, and say: "All praise is due to Allah (swt), who guided us to this, and we would not have been guided had Allah (swt) not guided us. Glory be to Allah (swt), and all praise is due to Allah (swt). There is no deity except Allah (swt), and Allah (swt) is the Greatest. There is no deity except Allah (swt) alone, without partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise. He gives life and causes death, and He causes death and gives life, and He is the Ever-Living who does not die. In His hand is all goodness, and He is capable of all things. O Allah (swt), send blessings upon Muhammad and the family of …
حجر اسود کی طرف نظر: پھر حجر اسود کو دیکھو اور کہو الحمد للہ جس نے ہدایت دی۔ اللہ پاک ہے کوئی معبود نہیں تنہا ہے۔ بادشاہت اسی کے لیے زندہ کرتا مارتا ہے۔ بھلائی ہاتھ میں ہر چیز پر قادر۔ اللهم درود محمد و آل محمد پر جیسے ابراہیم و آل ابراہیم۔ برکت اور رحمت دے۔ نبیین رسولین سلام۔ الحمد ہے اللہ رب العالمین۔ ایمان ہے وعدے پر رسولوں پر کتاب پر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThey are guided unto gentle speech; they are guided unto the path of the Glorious One.
Yusuf AliFor they have been guided (in this life) to the purest of speeches; they have been guided to the Path of Him Who is Worthy of (all) Praise.
The agreed readingThey were guided to the good word - the commentaries take it as the word that there is no god but God - and guided to the path of the One who is praised.
Urduانہیں پاکیزہ بات کی طرف رہنمائی دی گئی - تفسیریں اسے کلمہ 'لا الٰہ الا اللہ' مراد لیتی ہیں - اور انہیں اس ہستی کے راستے کی طرف ہدایت دی گئی جو ہر تعریف کے لائق ہے۔
Arabicلقد أرشدهم الله في الحياة الدنيا إلى طيب الأقوال، وهو شهادة أن لا إله إلا الله، وأرشدهم إلى طريق الإسلام المحمود الذي يفضي بهم إلى رضا ربهم.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 3 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة4 reports cited here — 3 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Abu Dharr took an oath that this verse:" These two adversaries who dispute about their Lord" (xxii. 19) was revealed in connection with those who on the Day of Badr came out (of rows to fight against the non-believers and they were) Hamza, 'Ali, 'Ubaida b. Harith (from the side of the Muslims) and 'Utba and Shaiba, both of them the sons of Rabi'a and Walid b. 'Utba (from the side of the non-believers of Mecca)
ہشیم نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے اور انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا کہ ( آیت ) : " یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا ۔ " ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت ( رودرودسیدھی لڑائی ) کی : حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ( دوسری طرف سے ) ربیعہ کے دو بیٹے : عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said concerning Surat An-Nahl - :"Whoever disbelieved in Allah after his belief, except him who is forced thereto and whose heart is at rest with Faith; but such as open their breasts to disbelief, on them is wrath from Allah, and theirs will be a great torment." "This was abrogated, and an exception was made, as Allah said: "Then, verily, your Lord for those who emigrated after they had been put to trials and thereafter strove hard and fought (for the Cause of Allah) and were patient, verily, your Lord afterward is, Oft-Forgiving, Most Merciful." This was 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh who was the governor of Egypt and used to write to the Messenger of …
ہمیں زکریا بن یحییٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث کی، انہوں نے کہا: علی بن الحسین بن واقد نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھ کو یزید النحوی سے خبر دی، عکرمہ سے، ابن عباس سے کہا: سورہ النحل میں لیہ کہ 'من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکره' سے لیہ کہ 'لہم عذاب عظیم' تک یہ منسوخ ہوا اور اس میں سے استثناء کی گئی اور فرمایا گیا 'ثم ان ربك للذین ہاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاہدوا و صبروا ان ربك من بعدہا لغفور رحیم۔' اور یہ عبداللہ بن سعد بن ابی السرح کے بارے میں ہے جو مصر کا والی تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے لکھتے تھے۔ شیطان نے انہیں گمراہ کیا اور وہ کافروں کی طرف چلے گئے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن انہیں قتل کرنے کا حکم …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
It was narrated that Qais bin ‘Ubaid said:“I heard Abu Dharr swearing that these verses were revealed concerning those six people on the Day of Badr: ‘These two opponents (believers and disbelievers) dispute with each other about their Lord.”[22:19] to the words “Verily, Allah does what he wills.’[22:14] (that is) Hamzah bin ‘Abdul-Muttalib, ‘Ali bin Abi Talib, ‘Ubaidah bin Al-Harith, ‘Utbah bin Rabi’ah, Shaibah bin Rabi’ah and Al-Walid bin ‘Utbah. They argued with one another on the Day of Badr.”
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر کہتے سنا کہ آیت کریمہ: «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ( سورۃ الحج: ۱۹ ) یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں اپنے رب کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا سے «إن الله يفعل ما يريد» ( سورۃ الحج: ۲۴ ) تک، ان چھ لوگوں کے بارے میں اتری جو بدر کے دن باہم لڑے، حمزہ بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما مسلمانوں کی طرف سے، اور عبیدہ بن حارث، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کافروں کی طرف سے۔
[النظر إلى الحجر الأسود] ثم انظر إلى الحجر الأسود واستقبله بوجهك وقل " الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله، سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيى ويميت، ويميت ويحيي وهو حي لا يموت، بيده الخير، وهو على كل شئ قدير، اللهم صل على محمد وآل محمد ، وبارك على محمد وآل محمد كأفضل ما صليت وباركت وترحمت على إبراهيم و آل إبراهيم إنك حميد مجيد، وسلام على جميع النبيين والمرسلين والحمد الله رب العالمين، اللهم إني أومن بوعدك، وأصدق رسلك، وأتبع كتابك ".
GAZING AT THE BLACK STONE Then, look at the Black Stone and face it directly, and say: "All praise is due to Allah (swt), who guided us to this, and we would not have been guided had Allah (swt) not guided us. Glory be to Allah (swt), and all praise is due to Allah (swt). There is no deity except Allah (swt), and Allah (swt) is the Greatest. There is no deity except Allah (swt) alone, without partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise. He gives life and causes death, and He causes death and gives life, and He is the Ever-Living who does not die. In His hand is all goodness, and He is capable of all things. O Allah (swt), send blessings upon Muhammad and the family of …
حجر اسود کی طرف نظر: پھر حجر اسود کو دیکھو اور کہو الحمد للہ جس نے ہدایت دی۔ اللہ پاک ہے کوئی معبود نہیں تنہا ہے۔ بادشاہت اسی کے لیے زندہ کرتا مارتا ہے۔ بھلائی ہاتھ میں ہر چیز پر قادر۔ اللهم درود محمد و آل محمد پر جیسے ابراہیم و آل ابراہیم۔ برکت اور رحمت دے۔ نبیین رسولین سلام۔ الحمد ہے اللہ رب العالمین۔ ایمان ہے وعدے پر رسولوں پر کتاب پر۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallLo! those who disbelieve and bar (men) from the way of Allah and from the Inviolable Place of Worship, which We have appointed for mankind together, the dweller therein and the nomad: whosoever seeketh wrongful partiality therein, him We shall cause to taste a painful doom.
Yusuf AliAs to those who have rejected (Allah), and would keep back (men) from the Way of Allah, and from the Sacred Mosque, which We have made (open) to (all) men - equal is the dweller there and the visitor from the country - and any whose purpose therein is profanity or wrong-doing - them will We cause to taste of a most Grievous Penalty.
The agreed readingThose who refuse, and who block others from God's way and from the Sacred Mosque - which was made for all people alike, the one settled there and the one who comes in from outside - and whoever means to turn aside in it and do wrong there: he will be made to taste a painful punishment.
Urduجو لوگ انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو اللہ کے راستے اور مسجد حرام سے روکتے ہیں - جو تمام لوگوں کے لیے یکساں بنائی گئی، وہاں رہنے والا اور باہر سے آنے والا سب برابر ہیں - اور جو کوئی وہاں کجروی اور ظلم کا ارادہ کرے، اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھایا جائے گا۔
Arabicإن الذين كفروا ويصدون الناس عن سبيل الله وعن المسجد الحرام الذي جعلناه قبلة للناس، يستوي فيه المقيم فيه والطارئ عليه، ومن يرد فيه بظلم وانحراف نذيقه من العذاب الأليم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 4 من كتب أهل السنة، 5 من كتب الشيعة9 reports cited here — 4 Sunnī, 5 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 5 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī في هذه الآية
Cited by al-Fayḍ al-Kāshānī and al-Ḥuwayzī on this āyah
al-Fayḍ al-Kāshānī، al-Ḥuwayzī نے اس آیت پر نقل کیا
Ask the people of Mecca not to charge rent from lodgers, because Allāh, the Glorified, says that: “alike; for the dweller therein as well as the stranger” (Qur’ān, 22:25).
اور أَهْل مَكَّة کو مُرْ کہ وہ کسی ساكن سے اَجْراً نہ لیں، کیونکہ اللہ سُبْحَانَهُ فرماتے ہیں: سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ (یکساں ہیں وہ جو اس میں رہتے ہیں اور وہ جو بدوی ہیں)
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Daif · Shuaib Al Arnaut: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ، قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا تُدْعَى رِبَاعُ مَكَّةَ إِلاَّ السَّوَائِبَ مَنِ احْتَاجَ سَكَنَ وَمَنِ اسْتَغْنَى أَسْكَنَ .
It was narrated that ‘Alqamah bin Nadlah said:“The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr and ‘Umar died, and the houses in Makkah were still called free. Whoever needed to, lived there, and whoever had no need of them allowed others to live there (without asking for rent).”
علقمہ بن نضلہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے انتقال کے وقت تک مکہ کے گھروں کو صرف «سوائب» کہا جاتا تھا ۱؎جو ضرورت مند ہوتا ان میں رہتا، اور جس کو حاجت نہ ہوتی، وہ دوسروں کو اس میں رہنے کے لیے دے دیتا۔
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: I said: Messenger of Allah, should we not build a house or a building which shades you from the sun? He replied: No, it is a place for the one who reaches there earlier
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں ایک گھر یا عمارت نہ بنا دیں جو آپ کو دھوپ سے سایہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ ( منیٰ ) اس کی جائے قیام ہے جو یہاں پہلے پہنچ جائے۱؎ ۔
It was narrated that Usamah bin Zaid said:“I said: ‘O Messenger of Allah, where will you stay tomorrow?’ That was during his Hajj. He said: ‘Has ‘Aqil left us any house?’ Then he said: ‘Tomorrow we will stay in the valley of Banu Kinanah, Muhassab where the Quraish swore an oath of disbelief.’” That was where the Banu Kinana had sworn an oath with the Quriash against Banu Hashim, that they would not intermarry with them or engage in trade with them. Ma’mar said: “Zuhri said: Khaif means a valley.’”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل ( مکہ میں ) کہاں اتریں گے؟ یہ بات آپ کے حج کے دوران کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر باقی چھوڑا ہے ؟ ۱؎ پھر فرمایا: ہم کل «خیف بنی کنانہ» یعنی محصب میں اتریں گے، جہاں قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی، اور وہ یہ تھی کہ بنی کنانہ نے قریش سے عہد کیا تھا کہ وہ بنی ہاشم سے نہ تو شادی بیاہ کریں گے اور نہ ان سے تجارتی لین دین ۲؎۔ زہری کہتے ہیں کہ «خیف» وادی کو کہتے ہیں۔
It was narrated from Usamah bin Zaid, who attributed it to the Prophet (ﷺ):“The Muslim does not inherit from a disbeliever and the disbeliever does not inherit from a Muslim.”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا، اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا ۔
2. Muhammad b. Yahya has narrated from Ahmad b. Muhammad from Muhammad b. Isma‘il from al-Fadl b. Shadhan from Abul Sabbah al-Kinaniy who has said the following: “Abu Abdillah (as), has said, ‘For killing pigeons and its like in the state of Ihram, the ransom is one sheep, and for chicks it is one lamb for each.’ He (the Imam) was asked about a man who steps on the eggs of ostrich and breaks it, the Imam said, ‘Ali (as), issued a judgment that said, “He must send male camel on a female camel (i.e. to breed) to make an equal number of eggs affected and the mature offspring is sent as an offering for the Ka'aba."
2۔ محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے روایت کی، انہوں نے محمد بن اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن فضیل سے، انہوں نے ابو الصباح الکنانی سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے کہا: کبوتر اور اس کی ہمسری چیزوں کے بارے میں - اگر محرم اسے قتل کرے تو ایک بکری کا جزیہ ہے۔ اور اگر وہ بچے ہوں تو ہر ایک کے برابر ایک برّہ ہے۔ اور ایک آدمی کے بارے میں کہا جو شتر مرغ کے انڈے پر قدم رکھے اور انہیں توڑے جبکہ وہ محرم ہو - تو امام نے کہا: علی علیہ السلام نے فیصلہ دیا ہے کہ وہ انڈوں کی تعداد کے برابر نر اونٹوں کو مادہ اونٹوں کے پاس بھیجے تاکہ وہ حمل ہوں، اور جو اولاد محفوظ رہے یہاں تک کہ پیدا ہو، وہ اولاد خانہ کعبے کے لیے قربانی ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
13. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from Hammad ibn ‘Isa from Al-Husayn ibn al-Mukhtar from ‘Ala’ ibn Kamil who has said the following: “Once, I was sitting with abu ‘Abd Allah (a.s.), when someone inside the house began to cry loudly. Abu ‘Abd Allah (a.s.), stood up and then sat down saying, ‘To Allah we belong and to Him we return,’ and continued his Hadith until he finished and then said, ‘We love to enjoy the wellbeing of our own selves, our children and our properties. If the systems of the working of things bring something upon us, then we have no right to love anything other than what Allah loves to happen to us.”
13: علی بن ابراہیم نے اپنے باپا سے روایت کی۔ باپا نے حماد بن عیسیٰ سے۔ حماد نے حسین بن مختار سے۔ حسین نے علاء بن کامل سے۔ علاء نے کہا: میں ابو عبداللہ علیہ السلام کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ گھر سے کوئی ایک خاتون پکار کر رونے لگی۔ ابو عبداللہ علیہ السلام اٹھے پھر بیٹھ گئے اور انا للہ وانا الیہ راجعون کہا۔ اپنی بات میں جاری رہے جب تک اسے مکمل نہ کیا۔ پھر فرمایا: ہم چاہتے ہیں کہ اپنے آپ میں، اپنی اولاد میں اور اپنے مال میں عافیت رکھیں۔ جب اللہ کا فیصلہ آتا ہے تو ہمارے لیے جائز نہیں ہے کہ ہم اس چیز کو پسند کریں جو اللہ نے ہمارے لیے پسند نہ کی۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. Ali has narrated from his father from Hammad ibn ‘Isa and Muhammad ibn Isma’il from al-Fadl ibn Shadhan from Hammad ibn ‘Isa and Muhammad ibn Yahya from Ahmad ibn Muhammad from Hammad ibn ‘Isa from Hariz from Zurarah who has said the following: “Abu Ja’far (a.s.), has said, ‘When you stand up for Salah (prayer) do not allow one foot to touch the other, leave between them a distance of one finger at the least and one Shibr (about 8 inches) at most. Allow your shoulders to relax and leave your hands alone. Do not crisscross your fingers. Instead they should be kept on your thighs on its front side and your eyes should look at the place for prostration. During Ruku‘ position line up your …
علی نے اپنے باپا سے، حماد بن عیسیٰ سے اور محمد بن اسماعیل نے فضل بن شاذان سے، حماد بن عیسیٰ سے روایت کی اور محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے، حماد بن عیسیٰ سے، حریز سے، زرارہ سے کہا: ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم نماز میں کھڑے ہو تو اپنا ایک پیر دوسرے سے ملاؤ نہیں، بلکہ ان کے درمیان ایک انگلی کے برابر فاصلہ رکھو، کم از کم ایک انگلی اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت ہو۔ اپنے کندھوں کو آرام دو، اپنے ہاتھوں کو چھوڑ دو، اپنی انگلیوں کو آپس میں ملاؤ نہیں، بلکہ انہیں اپنی رانوں پر اپنے گھٹنوں کے سامنے رکھو، اور اپنی نظر سجدہ کی جگہ پر رکھو۔ جب تم رکوع کرو تو اپنے پیروں کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رکھتے ہوئے صف بندی کرو، اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر مکمل طور پر رکھو، اپنا دایا ہاتھ اپنے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن الوليد بن صبيح فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن عليّ بن إبراهيم، عن أبيه، عن حمّاد بن عيسى، عن الحسين بن المختار، عن الوليد ابن صبيح.
Everything in this book that is narrated from Al-Walid ibn Subayh has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Ali ibn Ibrahim, from his father, from Hammad ibn Isa, from Al-Husayn ibn Al-Mukhtar, from Al-Walid ibn Subayh.
و ما کان فیہ عن الولید بن صبیح فقد روايته عن ابی (رضی اللہ عنہ) علی بن ابراہیم سے، اس کے باپا سے، حماد بن عیسیٰ سے، الحسین بن المختار سے، الولید بن صبیح سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd (remember) when We prepared for Abraham the place of the (holy) House, saying: Ascribe thou no thing as partner unto Me, and purify My House for those who make the round (thereof) and those who stand and those who bow and make prostration.
Yusuf AliBehold! We gave the site, to Abraham, of the (Sacred) House, (saying): "Associate not anything (in worship) with Me; and sanctify My House for those who compass it round, or stand up, or bow, or prostrate themselves (therein in prayer).
The agreed readingAnd when the place of the House was shown to Abraham so that he could build it: set up nothing as a partner with Me, and keep My House clean for those who go round it and those who stand and bow and prostrate there.
Urduاور جب ابراہیم کو بیت اللہ کی جگہ دکھائی گئی تاکہ وہ اسے تعمیر کریں: میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور میرے گھر کو ان لوگوں کے لیے پاک صاف رکھو جو اس کا طواف کرتے ہیں اور جو کھڑے ہو کر، جھک کر اور سجدہ کر کے عبادت کرتے ہیں۔
Arabicواذكر إذ بيّنا لإبراهيم مكان البيت القديم ليبنيه من جديد، وأوحينا إليه ألا تشرك بي شيئًا في عبادتك، وطهّر بيتي من كل رجس للطائفين به، والقائمين فيه، والراكعين الساجدين.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — 1 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة3 reports cited here — 1 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 3 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
Narrated Abu Dharr:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Which mosque was built first?" He replied, "Al-Masjid-ul-Haram." I asked, "Which (was built) next?" He replied, "Al-Masjid-ul-Aqsa (i.e. Jerusalem)." I asked, "What was the period in between them?" He replied, "Forty (years)." He then added, "Wherever the time for the prayer comes upon you, perform the prayer, for all the earth is a place of worshipping for you
مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی تھی؟ فرمایا کہ مسجد الحرام! میں نے سوال کیا، اس کے بعد کون سی؟ فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ۔ میں نے سوال کیا اور ان دونوں کی تعمیر کا درمیانی فاصلہ کتنا تھا؟ فرمایا کہ چالیس سال۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ بھی نماز کا وقت ہو جائے فوراً نماز پڑھ لو۔ تمہارے لیے تمام روئے زمین مسجد ہے۔
6. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Faddal from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when Ibrahim and Isma‘il were commanded to build the House, and when it was completed, Ibrahim sat on a corner and then called, ‘You must come (you singular) for Hajj, come for Hajj.’ Had he called, ‘You must come (you plural)’ no one would go for Hajj except human beings that existed in those days. He, however, called, ‘You must come (you singular) for Hajj.’ In so doing, he made all people in the backs of men to answer the call of the caller to Allah, the Most Majestic, the Most Glorious. Those who said, ‘Labbayk, (here …
عدہ کے ہمارے اصحاب نے احمد بن محمد سے، ابن فضال سے، عبداللہ بن سنان سے، ابوعبداللہ (علیہ السلام) سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا: جب ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کو گھر کی تعمیر کا حکم دیا گیا اور اس کی تعمیر مکمل ہو گئی تو ابراہیم ایک کونے پر بیٹھ گئے۔ پھر انہوں نے پکارا: حج کے لیے آؤ، حج کے لیے آؤ! اگر وہ پکارتے کہ حج کے لیے آ جاؤ تو صرف وہی لوگ حج کریں جو اس دن انسان کے طور پر پیدا تھے۔ لیکن انہوں نے پکارا: حج کے لیے آؤ! تو لوگوں نے مردوں کی کمر میں جواب دیا: لبیک اے اللہ کے بلانے والے! لبیک اے اللہ کے بلانے والے! عزیز و جلیل۔ تو جو شخص دس بار لبیک کہے تو دس بار حج کرتا ہے، اور جو پانچ بار لبیک کہے تو پانچ بار حج کرتا ہے، اور جو اس سے زیادہ لبیک کہے تو اسی تعداد کے مطابق حج کرتا ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[التلبية] ثم لب بالتلبيات الأربع سرا وهي المفروضات تقول: "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك، والملك لا شريك لك". هذه الأربع مفروضات، ثم قم فامض هنيئة، فإذا استوت بك الأرض راكبا كنت أو ماشيا فأعلن التلبية وارفع صوتك بها. وإن كنت أخذت على طريق المدينة وأحرمت من مسجد الشجرة فلب سرا بهذه التلبيات الأربع المفروضات حتى تأتي البيداء وتبلغ الميل الذي على يسار الطريق. فإذا بلغته فارفع صوتك بالتلبية ولا تجز الميل إلا ملبيا، وتقول: "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك. لبيك ذا المعارج، لبيك لبيك تبدئ والمعاد إليك، لبيك لبيك داعيا إلى دار السلام، لبيك لبيك غفار الذنوب، لبيك لبيك مرهوبا ومرغوبا إليك، لبيك لبيك أنت الغنى ونحن الفقراء إليك. …
THE TALBIYAH Then recite the four mandatory phrases of the Talbiyah silently: "Here I am, O Allah (swt), here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Indeed, all praise, blessings, and sovereignty are Yours. You have no partner." These four are obligatory. Then proceed for a short while. When you reach level ground, whether riding or walking, proclaim the Talbiyah and raise your voice. If you are traveling the route of Medina and have assumed Ihram from the Mosque of the Tree (Masjid Al-Shajarah), recite the four obligatory Talbiyah phrases silently until you reach Al-Bayda' and the milestone to the left of the road. When you reach it, raise your voice with the Talbiyah and do not …
تلبیہ پھر تم چار فرض تلبیے خاموشی میں کہو: "یہاں میں ہوں اے اللہ یہاں میں ہوں، یہاں میں ہوں تیرا کوئی شریک نہیں یہاں میں ہوں، سب تعریف اور نعمت تیری ہے، اور بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔" یہ چار فرض ہیں۔ پھر آگے بڑھو کچھ دیر تک۔ جب تمہارے نیچے زمین برابر ہو تو خواہ تم سوار ہو یا پیدل ہو، تلبیہ کو بلند صورت میں کہو۔ اگر تم مدینہ کی سڑک سے آ رہے ہو اور مسجد الشجرہ سے احرام باندھا ہے تو ان چار فرض تلبیوں کو خاموشی سے کہو یہاں تک کہ تم البیدا تک پہنچو اور جو میل کا پتھر سڑک کے بائیں طرف ہے وہاں تک۔ جب اس تک پہنچو تو تلبیہ کو بلند صورت میں کہو اور اس میل کو بغیر تلبیہ کہے مت چھوڑو۔ کہو: "یہاں میں ہوں اے اللہ یہاں میں ہوں، یہاں میں ہوں تیرا کوئی شریک نہیں یہاں میں ہوں، سب تعریف اور نعمت …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd proclaim unto mankind the pilgrimage. They will come unto thee on foot and on every lean camel; they will come from every deep ravine,
Yusuf Ali"And proclaim the Pilgrimage among men: they will come to thee on foot and (mounted) on every kind of camel, lean on account of journeys through deep and distant mountain highways;
The agreed readingAnd call the people to the pilgrimage. They will come to you on foot and on every lean beast, out of every deep mountain pass, from wherever they are.
Urduاور لوگوں کو حج کی طرف بلاؤ۔ وہ تمہارے پاس پیدل بھی آئیں گے اور ہر دبلے جانور پر سوار ہو کر بھی، ہر گہرے پہاڑی راستے سے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔
Arabicوناد في الناس بالحج يأتوك سعيًا على أرجلهم مشاة، ويأتوك أيضًا راكبين على كل بعير مهزول من طول السفر ومشقته، يأتون من كل طريق بعيد مهما بعدت بهم الديار.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — جميعها من كتب الشيعة9 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 9 — تمام شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭabrisī، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, al-Qummī, al-Ṭabrisī, al-Ḥuwayzī, Ibn ʿĀshūr and Ṭabāṭabāʾī on this āyah
al-Ṭabarī، al-Qummī، al-Ṭabrisī، al-Ḥuwayzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا
[التلبية] ثم لب بالتلبيات الأربع سرا وهي المفروضات تقول: "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك، والملك لا شريك لك". هذه الأربع مفروضات، ثم قم فامض هنيئة، فإذا استوت بك الأرض راكبا كنت أو ماشيا فأعلن التلبية وارفع صوتك بها. وإن كنت أخذت على طريق المدينة وأحرمت من مسجد الشجرة فلب سرا بهذه التلبيات الأربع المفروضات حتى تأتي البيداء وتبلغ الميل الذي على يسار الطريق. فإذا بلغته فارفع صوتك بالتلبية ولا تجز الميل إلا ملبيا، وتقول: "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك. لبيك ذا المعارج، لبيك لبيك تبدئ والمعاد إليك، لبيك لبيك داعيا إلى دار السلام، لبيك لبيك غفار الذنوب، لبيك لبيك مرهوبا ومرغوبا إليك، لبيك لبيك أنت الغنى ونحن الفقراء إليك. …
THE TALBIYAH Then recite the four mandatory phrases of the Talbiyah silently: "Here I am, O Allah (swt), here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Indeed, all praise, blessings, and sovereignty are Yours. You have no partner." These four are obligatory. Then proceed for a short while. When you reach level ground, whether riding or walking, proclaim the Talbiyah and raise your voice. If you are traveling the route of Medina and have assumed Ihram from the Mosque of the Tree (Masjid Al-Shajarah), recite the four obligatory Talbiyah phrases silently until you reach Al-Bayda' and the milestone to the left of the road. When you reach it, raise your voice with the Talbiyah and do not …
تلبیہ پھر تم چار فرض تلبیے خاموشی میں کہو: "یہاں میں ہوں اے اللہ یہاں میں ہوں، یہاں میں ہوں تیرا کوئی شریک نہیں یہاں میں ہوں، سب تعریف اور نعمت تیری ہے، اور بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔" یہ چار فرض ہیں۔ پھر آگے بڑھو کچھ دیر تک۔ جب تمہارے نیچے زمین برابر ہو تو خواہ تم سوار ہو یا پیدل ہو، تلبیہ کو بلند صورت میں کہو۔ اگر تم مدینہ کی سڑک سے آ رہے ہو اور مسجد الشجرہ سے احرام باندھا ہے تو ان چار فرض تلبیوں کو خاموشی سے کہو یہاں تک کہ تم البیدا تک پہنچو اور جو میل کا پتھر سڑک کے بائیں طرف ہے وہاں تک۔ جب اس تک پہنچو تو تلبیہ کو بلند صورت میں کہو اور اس میل کو بغیر تلبیہ کہے مت چھوڑو۔ کہو: "یہاں میں ہوں اے اللہ یہاں میں ہوں، یہاں میں ہوں تیرا کوئی شریک نہیں یہاں میں ہوں، سب تعریف اور نعمت …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
6. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Faddal from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that when Ibrahim and Isma‘il were commanded to build the House, and when it was completed, Ibrahim sat on a corner and then called, ‘You must come (you singular) for Hajj, come for Hajj.’ Had he called, ‘You must come (you plural)’ no one would go for Hajj except human beings that existed in those days. He, however, called, ‘You must come (you singular) for Hajj.’ In so doing, he made all people in the backs of men to answer the call of the caller to Allah, the Most Majestic, the Most Glorious. Those who said, ‘Labbayk, (here …
عدہ کے ہمارے اصحاب نے احمد بن محمد سے، ابن فضال سے، عبداللہ بن سنان سے، ابوعبداللہ (علیہ السلام) سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا: جب ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کو گھر کی تعمیر کا حکم دیا گیا اور اس کی تعمیر مکمل ہو گئی تو ابراہیم ایک کونے پر بیٹھ گئے۔ پھر انہوں نے پکارا: حج کے لیے آؤ، حج کے لیے آؤ! اگر وہ پکارتے کہ حج کے لیے آ جاؤ تو صرف وہی لوگ حج کریں جو اس دن انسان کے طور پر پیدا تھے۔ لیکن انہوں نے پکارا: حج کے لیے آؤ! تو لوگوں نے مردوں کی کمر میں جواب دیا: لبیک اے اللہ کے بلانے والے! لبیک اے اللہ کے بلانے والے! عزیز و جلیل۔ تو جو شخص دس بار لبیک کہے تو دس بار حج کرتا ہے، اور جو پانچ بار لبیک کہے تو پانچ بار حج کرتا ہے، اور جو اس سے زیادہ لبیک کہے تو اسی تعداد کے مطابق حج کرتا ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father and Muhammad ibn ’Isma‘il from al-Fadl ibn Shadhan all from Ibn Abi ‘Umayr from ‘Abd al-Rahman ibn af-Hajjaj who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘On five Qala’is (young she camel) Zakat is one sheep and Zakat is not due on less than five camels. On ten Zakat is two sheep, on fifteen Zakat is three sheep, on twenty Zakat is four sheep, on twenty-five Zakat is five sheep and on twenty-six Zakat is one Bintu Makhad up to thirty- five. 5 ‘Abd al-Rahman has said that this is the difference between us and the people. If one is increased Zakat is one Bintu Labun up to forty-five. With the increase of one more camel Zakat is …
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے اور محمد بن اسمٰعیل نے فضل بن شاذان سے، دونوں ابن ابی عمیر سے، عبد الرحمٰن بن حجاج سے، ابی عبد اللہ علیہ السلام سے روایت کی، انہوں نے کہا: پانچ اونٹھیوں میں ایک بکری، اور پانچ سے کم میں کوئی چیز نہیں۔ دس میں دو بکریاں، پندرہ میں تین بکریاں، بیس میں چار، پچیس میں پانچ، چھبیس میں بنت مخاض ہے جو پینتیس تک، اور عبد الرحمٰن نے کہا: یہ فرق ہے ہمارے اور لوگوں کے درمیان۔ پھر اگر ایک اور بڑھے تو پینتالیس تک بنت لبون ہے۔ پھر اگر ایک اور بڑھے تو ساٹھ تک حقہ۔ پھر اگر ایک اور بڑھے تو پچھتر تک جذعہ۔ پھر اگر ایک اور بڑھے تو نوے تک دو بنت لبون۔ پھر اگر اونٹ بہت ہو جائیں تو ہر پچاس میں حقہ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن شهاب بن عبد ربّه فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن سعد بن عبد اللّه، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسن بن محبوب، عن شهاب بن عبد ربّه.
Everything in this book that is narrated from Shihab ibn Abd Rabbih has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Sad ibn Abdullah, from Ahmad ibn Muhammad ibn Isa, from Al-Hasan ibn Mahbub, from Shihab ibn Abd Rabbih.
اور جو کچھ شهاب بن عبد ربّه سے روایت ہے تو میں نے اسے اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کی - سعد بن عبداللہ سے، احمد بن محمد بن عیسى سے، الحسن بن محبوب سے، شهاب بن عبد ربّه سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
72. Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad Bin Isa, from Al-Hassan Bin Ali Bin Fazzaal, from Ali Bin Uqba, form Umar Bin Abaan, from Abdul Hameed Al-Wabishy, who has narrated the following: Abu Ja’far (asws) said, when I said from him (asws), ‘We have a neighbour who violates all the Prohibitions to the extent that he leaves the Prayer as well among other matters’. He (asws) said: ‘Glory be to Allah (azwj)! And that is a great matter. However, shall I (asws) inform you of the one who is more evil than him?’ I said, ‘Yes’. He (asws) said: ‘The one who is hostile to us (asws) (Nasibi) is more evil than him. But rather, there is none from the servant in whose presence the People (asws) of …
محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، الحسن بن علی بن فضال سے، علی بن عقبہ سے، عمر بن ابان سے، عبدالحمید الواbishی سے، ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کی، کہا: میں نے کہا: ہمارے پاس ایک پڑوسی ہے جو تمام حرام کاموں میں ملوث ہے یہاں تک کہ نماز بھی نہیں پڑھتا۔ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ بہت بڑی بات ہے۔ کیا میں تمہیں ایسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس سے زیادہ برا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ہمارے دشمن (ناصبی) اس سے زیادہ برے ہیں۔ لیکن یقیناً ہر بندہ جس کے سامنے اہل بیت کا ذکر ہو اور وہ ہمارے یادگار سے رقیق ہو جائے، فرشتے اس کی پیٹھ کو مسح کریں اور اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں - سوائے اس کے کہ اگر وہ کوئی ایسا گناہ کرے جو ایمان سے نکال دے۔ شفاعت قبول ہے لیکن ناصبی کے لیے قبول …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2ـ عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ فَضَّالٍ عَنْ عَبْدِ الله بْنِ بُكَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الله بْنِ أَعْيَنَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله (عَلَيهِ السَّلام) قَالَ إِنَّ الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُمَجِّدُ نَفْسَهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثَلاثَ مَرَّاتٍ فَمَنْ مَجَّدَ الله بِمَا مَجَّدَ بِهِ نَفْسَهُ ثُمَّ كَانَ فِي حَالِ شِقْوَةٍ حَوَّلَهُ الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَى سَعَادَةٍ يَقُولُ أَنْتَ الله لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ أَنْتَ الله لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ أَنْتَ الله لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الْعَزِيزُ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ أَنْتَ الله لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ مَالِكُ يَوْمِ الدِّينِ أَنْتَ الله لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الْغَفُورُ …
2. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Faddal from ‘Abd Allah ibn Bukayr from ‘Abd Allah ibn ‘A’Yun from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Allah, the Most Blessed, the Most High, glorifies Himself three times every-day and night. Whoever glorifies Allah with the words with which He has glorified Himself, and happens to be in a condition of misfortune, Allah, the Most Majestic, the Most Holy, will turn him into a condition of good fortune. “He should say, ‘You are Allah, no one deserves to be worshipped except You, the Cherisher of the worlds. You are Allah; no one deserves to be worshipped except You, the Beneficent, the Merciful. You are …
ہمارے بعض ساتھیوں نے احمد بن محمد سے روایت کی ہے، انہوں نے ابن فضال سے، انہوں نے عبداللہ بن بکیر سے، انہوں نے عبداللہ بن اعین سے، انہوں نے ابی عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی۔ فرمایا: بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ ہر روز و رات میں اپنے آپ کو تین بار منزہ بناتے ہیں۔ اس لیے جو شخص اللہ کو اسی منزہی کے ساتھ منزہ بنائے جس طریقے سے وہ خود اپنے آپ کو منزہ بناتے ہیں، پھر اگر وہ شخص بدقسمتی کی حالت میں ہو تو اللہ عزوجل اسے خوشقسمتی کی طرف متوجہ فرمائیں گے۔ وہ یہ کہے: تو ہی اللہ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو عالم کا رب ہے۔ تو ہی اللہ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو رحمان و رحیم ہے۔ تو ہی اللہ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو عزیز اور علی اور عظیم ہے۔ تو ہی اللہ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father and Muhammad ibn Isma’Il have narrated from al-Fadl ibn Shadhan all from Ibn Abi ‘Umayr from Ibrahim ibn ‘Abd al-Hamid from al-Sabbah ibn Sayabah from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Whoever, after Maghrib prayer, says three times, ‘All praise belongs to Allah, Who does as He wills and does not do what others will,’ will receive a great deal of good.”
علي بن إبراهيم سے اپنے باپا سے اور محمد بن إسمعيل سے الفضل بن شاذان سے دونوں ابن أبي عمير سے إبراهيم بن عبد الحميد سے الصباح بن سيابة سے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے: جو شخص مغرب کے بعد تین مرتبہ کہے الحمد لله الذي يفعل ما يشاء ولا يفعل ما يشاء غيره تو اسے بہت خیر عطا دی جائے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
1. A number of our people have narrated from Ahmad ibn Muhammad from ibn Mahbub from ‘Abd Allah ibn Sinan who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that once the Messenger of Allah raised his head to the heaven and smiled. He was asked, ‘O Messenger of Allah, we saw you. Why did you raise your head to the heaven and smile?’ He then replied, ‘I was amazed when I saw two angels come down from the heaven looking for a believing, virtuous servant (of Allah) in the place he performs his prayers, so they can record his deeds of that day and night but they could not find him there. They then ascended to the heaven saying, “Lord, we looked for Your so and so believing servant in …
عدہ سے ہم نے احمد بن محمد سے، ابن محبوب سے، عبد الله بن سنان سے، ابی عبد الله علیہ السلام سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو ہنستے ہوئے۔ ان سے کہا گیا: یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور ہنستے ہوئے۔ آپ نے کہا: ہاں، مجھے حیرت ہوئی دو فرشتوں کے لیے جو آسمان سے زمین پر اترے، ایک ایمان والے اور صالح بندے کو تلاش کر رہے تھے اس نماز کی جگہ میں جہاں وہ نماز پڑھتے تھے تاکہ اس کے دن اور رات کا عمل لکھیں۔ لیکن وہ اسے اس نماز کی جگہ میں نہ پایا۔ تو وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے اور کہا: ہمارے رب! تمہارے بندے ایمان والے فلاں کو ہم نے اس کی نماز کی جگہ تلاش کیا تاکہ اس کے دن رات کا عمل لکھیں لیکن ہم نہ پائے۔ لیکن ہم نے اسے …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن عبد اللّه بن بكير فقد رويته عن أبي- رضي اللّه عنه- عن عبد اللّه ابن جعفر الحميريّ، عن أحمد بن محمّد بن عيسى، عن الحسن بن عليّ بن فضّال، عن عبد اللّه بن بكير.
Everything in this book that is narrated from Abdullah ibn Bukayr has been transmitted by me from my father - may Allah (swt) be pleased with him - from Abdullah ibn Ja'far Al-Himyari, from Ahmad ibn Muhammad ibn Isa, from Al-Hasan ibn Ali ibn Faddal, from Abdullah ibn Bukayr.
اور جو کچھ اس میں عبد اللّه بن بكير سے ہے، تو میں نے اسے اپنے أبي سے روایت کیا ہے - رضي اللّه عنه - عبد اللّه ابن جعفر الحميریّ سے، أحمد بن محمّد بن عيسى سے، الحسن بن عليّ بن فضّال سے، عبد اللّه بن بكير سے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThat they may witness things that are of benefit to them, and mention the name of Allah on appointed days over the beast of cattle that He hath bestowed upon them. Then eat thereof and feed therewith the poor unfortunate.
Yusuf Ali"That they may witness the benefits (provided) for them, and celebrate the name of Allah, through the Days appointed, over the cattle which He has provided for them (for sacrifice): then eat ye thereof and feed the distressed ones in want.
The agreed readingSo that they may be present for what benefits them - the commentaries take the benefit as of this world and the next together - and so that they may mention God's name over the animals He has provided them, on the days appointed for it. Then they are to eat of them and feed the poor who are in want.
Urduتاکہ وہ اس چیز میں حاضر ہوں جو ان کے لیے فائدہ مند ہے - تفسیریں اس فائدے کو دنیا اور آخرت دونوں کا مجموعہ قرار دیتی ہیں - اور تاکہ وہ مقررہ دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں عطا کیے ہیں۔ پھر وہ خود بھی کھائیں اور ضرورت مند غریبوں کو بھی کھلائیں۔
Arabicليحضروا ما فيه نفع لهم من مغفرة الذنوب والثواب في الدنيا والآخرة معًا، وليذكروا اسم الله في أيام معلومات على ما رزقهم من بهيمة الأنعام، فكلوا من هذه الهدايا وأطعموا منها الفقير المحتاج.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 5 من كتب أهل السنة، 4 من كتب الشيعة9 reports cited here — 5 Sunnī, 4 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 5 اہل سنت کی کتب سے، 4 شیعہ کتب سے
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There are no days during which righteous deeds are more beloved to Allah than these days,” meaning the (first) ten days of Dhul- Hijjah. They said: “O Messenger of Allah! Not even Jihad in the cause of Allah?” He said: “Not even Jihad in the cause of Allah, unless a man goes out with himself and his wealth and does not bring anything back.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے ۔
حدثنا محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد - رحمه الله - قال: حدثنا الحسين بن الحسن بن أبان، عن الحسين بن سعيد، عن حماد بن عيسى، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: سمعته يقول: قال علي عليه السلام في قول الله عز وجل: " ويذكروا اسم الله في أيام معلومات " قال: أيام العشر.
1. We were told by Muhammed bin Hasan bin Ahmad bin Waleed, may Allah grant him mercy, that he said: We were told by Hussain bin Hasan bin Aban, from Hussain bin Sa’eed, from Hammad bin Isa, from Abu Abdillah, peace be upon him, that he said: I heard him say: Ali, peace be upon him, said with regards to the saying of Allah, Exalted and Glorious is He: «and mention the Name of Allah in known days» (22:28). He said: The days of the ten.
روایت ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا: عالم وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور حکمت پر عمل کرے۔ اللہ نے فرمایا: ہم علماء کو لازمی دعا دیتے ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Nubayshah: The Prophet (ﷺ) said: We forbade you to eat their meat for more than three days in order that you might have abundance; now Allah has produced abundance, so you may eat, store up and seek reward. Beware, these days are days of eating, drinking and remembrance of Allah, Most High
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا ( بھی ) رکھو اور ( صدقہ دے کر ) ثواب ( بھی ) کماؤ، سن لو! یہ دن کھانے، پینے اور اللہ عزوجل کی یاد ( شکر گزاری ) کے ہیں ۔
Ibn Abbas narrated:(A Hadith similar to no. 716 with a different chain)
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوخالد احمر نے اعمش سے یہ حدیث بہت عمدہ طریقے سے روایت کی ہے، ۳- ابوخالد الاحمر کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی اسے اعمش سے ابوخالد کی روایت کے مثل روایت کیا ہے، ابومعاویہ نے اور دوسرے کئی اور لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «الأعمش عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے سلمہ بن کہیل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی عطاء اور مجاہد کے واسطے کا، ابوخالد کا نام سلیمان بن حیان ہے۔
Narrated Al-Bara' bin 'Azib :"The Messenger of Allah (ﷺ) delivered a sermon to us on the Day of Nahr and he said: 'None of you should slaughter until he performs the Salat." He said: 'So my maternal uncle stood and said: ' O Messenger of Allah, this is the day in which meat is disliked, and I hastened my sacrifice to feed my family and the people of my dwellings - or - 'my neighbors.' He said: 'Repeat your slaughter with another.' He said: 'O Messenger of Allah (ﷺ) I have a she-kid that has better meat than my sheep, should I slaughter it?' He said: 'Yes, and it is better and it will suffice for you, but a Jadha' will not be accepted after you
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا، آپ نے خطبہ کے دوران فرمایا: ”جب تک نماز عید ادا نہ کر لے کوئی ہرگز قربانی نہ کرے“۔ براء کہتے ہیں: میرے ماموں کھڑے ہوئے ۱؎، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں ( زیادہ ہونے کی وجہ سے ) گوشت قابل نفرت ہو جاتا ہے، اس لیے میں نے اپنی قربانی جلد کر دی تاکہ اپنے بال بچوں اور گھر والوں یا پڑوسیوں کو کھلا سکوں؟ آپ نے فرمایا: ”پھر دوسری قربانی کرو“، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس دودھ پیتی پٹھیا ہے اور گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا میں اس کو ذبح کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں! وہ تمہاری دونوں قربانیوں سے بہتر ہے، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ ( بچے ) کی قربانی کافی …
[التلبية] ثم لب بالتلبيات الأربع سرا وهي المفروضات تقول: "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك، والملك لا شريك لك". هذه الأربع مفروضات، ثم قم فامض هنيئة، فإذا استوت بك الأرض راكبا كنت أو ماشيا فأعلن التلبية وارفع صوتك بها. وإن كنت أخذت على طريق المدينة وأحرمت من مسجد الشجرة فلب سرا بهذه التلبيات الأربع المفروضات حتى تأتي البيداء وتبلغ الميل الذي على يسار الطريق. فإذا بلغته فارفع صوتك بالتلبية ولا تجز الميل إلا ملبيا، وتقول: "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك. لبيك ذا المعارج، لبيك لبيك تبدئ والمعاد إليك، لبيك لبيك داعيا إلى دار السلام، لبيك لبيك غفار الذنوب، لبيك لبيك مرهوبا ومرغوبا إليك، لبيك لبيك أنت الغنى ونحن الفقراء إليك. …
THE TALBIYAH Then recite the four mandatory phrases of the Talbiyah silently: "Here I am, O Allah (swt), here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Indeed, all praise, blessings, and sovereignty are Yours. You have no partner." These four are obligatory. Then proceed for a short while. When you reach level ground, whether riding or walking, proclaim the Talbiyah and raise your voice. If you are traveling the route of Medina and have assumed Ihram from the Mosque of the Tree (Masjid Al-Shajarah), recite the four obligatory Talbiyah phrases silently until you reach Al-Bayda' and the milestone to the left of the road. When you reach it, raise your voice with the Talbiyah and do not …
تلبیہ پھر تم چار فرض تلبیے خاموشی میں کہو: "یہاں میں ہوں اے اللہ یہاں میں ہوں، یہاں میں ہوں تیرا کوئی شریک نہیں یہاں میں ہوں، سب تعریف اور نعمت تیری ہے، اور بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔" یہ چار فرض ہیں۔ پھر آگے بڑھو کچھ دیر تک۔ جب تمہارے نیچے زمین برابر ہو تو خواہ تم سوار ہو یا پیدل ہو، تلبیہ کو بلند صورت میں کہو۔ اگر تم مدینہ کی سڑک سے آ رہے ہو اور مسجد الشجرہ سے احرام باندھا ہے تو ان چار فرض تلبیوں کو خاموشی سے کہو یہاں تک کہ تم البیدا تک پہنچو اور جو میل کا پتھر سڑک کے بائیں طرف ہے وہاں تک۔ جب اس تک پہنچو تو تلبیہ کو بلند صورت میں کہو اور اس میل کو بغیر تلبیہ کہے مت چھوڑو۔ کہو: "یہاں میں ہوں اے اللہ یہاں میں ہوں، یہاں میں ہوں تیرا کوئی شریک نہیں یہاں میں ہوں، سب تعریف اور نعمت …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا سُمِّيَ الْبَيْتُ الْعَتِيقَ لأَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهِ جَبَّارٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "It is only called Al-Bait Al-'Atiq because it has not been conquered by a tyrant
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خانہ کعبہ کا نام «بيت العتيق» ۱؎ ( آزاد گھر ) اس لیے رکھا گیا کہ اس پر کسی جابر و ظالم کا غلبہ و قبضہ نہیں ہو سکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله المحمود لنعمته المعبود لقدرته ، المطاع في سلطانه المرهوب لجلاله ، المرغوب إليه فيما عنده ، النافذ أمره في جميع خلقه ، علا فاستعلى ودنا فتعالى ، وارتفع فوق كل منظر ، الذي لا بدء لأوليته ، ولا غاية لأزليته ، القائم قبل الأشياء ، والدائم الذي به قوامها ، والقاهر الذي لا يؤوده حفظها والقادر الذي بعظمته تفرد بالملكوت وبقدرته توحد بالجبروت ، وبحكمته أظهر حججه على خلقه . اخترع الأشياء إنشاء ، وابتدعها ابتداء ، بقدرته وحكمته ، لا من شئ فيبطل الاختراع ولا لعلة فلا يصح الابتداع ، خلق ما شاء كيف شاء ، متوحدا ” بذلك لإظهار حكمته ، وحقيقة ربوبيته ، لا تضبطه العقول ، ولا تبلغه الأوهام ، ولا تدركه الأبصار ، ولا يحيط به مقدار ، عجزت دونه العبارة ، وكلت دونه الأبصار ، وضل …
In the Praise of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah Who is praised for His bounties, worshipped for His Might, obeyed in His rule and feared for His Majesty. He possesses all that is attractive; His commands pervade in all of His creation. He is High, the Most High. He is near in His Highness and the Most High above being seen. His being the first has had no beginning and He is eternal. He existed before the existence of all things and He is the eternal Who guards all things. He is the overwhelming power and the preservation of the things does not burden Him. He is the only Almighty in His kingdom and only power to compel what is to compel. Through wisdom He has …
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے جو اپنی نعمتوں پر تعریف شائستہ ہے، اپنی قدرت پر معبود ہے، اپنی سلطان میں مطاع ہے، اپنی عظمت پر مخوف ہے۔ جس کے پاس ہر دل پسند چیز ہے، جس کا حکم تمام خلق میں جاری ہے۔ وہ بلند ہے پھر مزید بلند ہوا، نزدیک ہے پھر عالیٰ ہوا، ہر نظر سے بلند ہے۔ جس کی ابتدا کا کوئی آغاز نہیں، جس کی ازل کا کوئی انجام نہیں۔ وہ تمام چیزوں سے پہلے قائم تھا، وہ ابدی ہے جو سب کو قائم رکھتا ہے۔ وہ غالب قاہر ہے جس کو نگرانی میں تکلیف نہیں، وہ قدیر ہے جس کی عظمت سے ملکوت میں منفرد ہے اور جس کی قدرت سے جبروت میں تنہا ہے، اور اپنی حکمت سے اپنی حجتوں کو خلق پر ظاہر کیا۔ اس نے اشیاء کو ایجاد سے خلق کیا، اور انہیں ابتدائے سے بنایا، اپنی قدرت اور حکمت سے، کسی چیز سے نہیں کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
و ما كان فيه عن إبراهيم بن ميمون فقد رويته عن محمّد بن الحسن- رضي اللّه عنه- عن الحسين بن الحسن بن أبان، عن الحسين بن سعيد، عن حمّاد بن عيسى، عن معاوية بن عمّار، عن إبراهيم بن ميمون بيّاع الهرويّ مولى آل الزّبير.
Everything in this book that is narrated from Ibrahim ibn Maymun has been transmitted by me from Muhammad ibn Al-Hasan - may Allah (swt) be pleased with him - from Al-Husayn ibn Al-Hasan ibn Aban, from Al-Husayn ibn Sa'id, from Hammad ibn 'Isa, from Mu'awiyah ibn 'Ammar, from Ibrahim ibn Maymun, the cloth seller from Herat and a freed servant (mawla) of the family of Al-Zubayr.
اور جو اس میں ابراہیم بن میمون سے ہے تو میں نے اسے محمد بن الحسن رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے، محمد نے الحسين بن الحسن بن أبان سے، الحسين نے الحسين بن سعيد سے، الحسين نے حماد بن عيسى سے، حماد نے معاویہ بن عمار سے، معاویہ نے ابراہیم بن میمون بياع الهروي، جو آل الزبير کے مولى تھے، سے روایت کی۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThen let them make an end of their unkemptness and pay their vows and go around the ancient House.
Yusuf Ali"Then let them complete the rites prescribed for them, perform their vows, and (again) circumambulate the Ancient House."
The agreed readingThen let them put off the unkemptness the pilgrim has been carrying - the hair, the nails, the dirt of the road - and let them fulfil what they vowed, and go round the Ancient House.
Urduپھر انہیں چاہیے کہ وہ اپنی وہ ژولیدگی دور کریں جو حاجی اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے - بال، ناخن، سفر کی میل - اور اپنی منتیں پوری کریں، اور قدیم گھر کا طواف کریں۔
Arabicثم ليقضوا تفثهم بحلق رؤوسهم وقص أظفارهم وإزالة الوسخ المتراكم عليهم من الإحرام، وليوفوا بما أوجبوه على أنفسهم من نذور الحج، وليطوفوا طواف الإفاضة بالبيت العتيق.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
It was narrated from Ibn Umar, that:when the Messenger of Allah performed Tawaf in Hajj and Umarah- as he first arrived (in Makkah), he would hasten in three rounds, and walk (at a regular pace) in four. Then he prayed two Rakahs, then he performed sai between As-Safa and Al-Marwah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آتے ہی جب حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو تین پھیرے دوڑ کر چلتے اور چار پھیرے عام چال سے چلتے، پھر دو رکعت پڑھتے، پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا سُمِّيَ الْبَيْتُ الْعَتِيقَ لأَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهِ جَبَّارٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "It is only called Al-Bait Al-'Atiq because it has not been conquered by a tyrant
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خانہ کعبہ کا نام «بيت العتيق» ۱؎ ( آزاد گھر ) اس لیے رکھا گیا کہ اس پر کسی جابر و ظالم کا غلبہ و قبضہ نہیں ہو سکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
Narrated Al-Bara' bin 'Azib :"The Messenger of Allah (ﷺ) delivered a sermon to us on the Day of Nahr and he said: 'None of you should slaughter until he performs the Salat." He said: 'So my maternal uncle stood and said: ' O Messenger of Allah, this is the day in which meat is disliked, and I hastened my sacrifice to feed my family and the people of my dwellings - or - 'my neighbors.' He said: 'Repeat your slaughter with another.' He said: 'O Messenger of Allah (ﷺ) I have a she-kid that has better meat than my sheep, should I slaughter it?' He said: 'Yes, and it is better and it will suffice for you, but a Jadha' will not be accepted after you
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا، آپ نے خطبہ کے دوران فرمایا: ”جب تک نماز عید ادا نہ کر لے کوئی ہرگز قربانی نہ کرے“۔ براء کہتے ہیں: میرے ماموں کھڑے ہوئے ۱؎، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں ( زیادہ ہونے کی وجہ سے ) گوشت قابل نفرت ہو جاتا ہے، اس لیے میں نے اپنی قربانی جلد کر دی تاکہ اپنے بال بچوں اور گھر والوں یا پڑوسیوں کو کھلا سکوں؟ آپ نے فرمایا: ”پھر دوسری قربانی کرو“، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس دودھ پیتی پٹھیا ہے اور گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا میں اس کو ذبح کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں! وہ تمہاری دونوں قربانیوں سے بہتر ہے، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ ( بچے ) کی قربانی کافی …
2. Humayd ibn Ziyad has narrated from ibn Sama‘ah from more than one person from Aban from Zurarah who has said the following: “Abu Ja‘far (a.s.), has said, ‘One who is performing al-‘Umrah must discontinue al- Talbiyah (here I am, O Lord, to obey Your command) when he enters al-Haram (the sacred area).’”
२۔ حمید بن زیاد نے ابن سماعہ سے، کئی لوگوں سے، ابان سے، زراره سے، ابی جعفر علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: معتمر کا تَلْبِيَة قطع ہو جاتی ہے جب وہ الْحَرَم میں داخل ہو۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Ibn Abbas narrated:(A Hadith similar to no. 716 with a different chain)
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوخالد احمر نے اعمش سے یہ حدیث بہت عمدہ طریقے سے روایت کی ہے، ۳- ابوخالد الاحمر کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی اسے اعمش سے ابوخالد کی روایت کے مثل روایت کیا ہے، ابومعاویہ نے اور دوسرے کئی اور لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «الأعمش عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے سلمہ بن کہیل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی عطاء اور مجاہد کے واسطے کا، ابوخالد کا نام سلیمان بن حیان ہے۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There are no days during which righteous deeds are more beloved to Allah than these days,” meaning the (first) ten days of Dhul- Hijjah. They said: “O Messenger of Allah! Not even Jihad in the cause of Allah?” He said: “Not even Jihad in the cause of Allah, unless a man goes out with himself and his wealth and does not bring anything back.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے ۔
Narrated Nubayshah: The Prophet (ﷺ) said: We forbade you to eat their meat for more than three days in order that you might have abundance; now Allah has produced abundance, so you may eat, store up and seek reward. Beware, these days are days of eating, drinking and remembrance of Allah, Most High
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا ( بھی ) رکھو اور ( صدقہ دے کر ) ثواب ( بھی ) کماؤ، سن لو! یہ دن کھانے، پینے اور اللہ عزوجل کی یاد ( شکر گزاری ) کے ہیں ۔
19. It is narrated that Ma‘d ibn ‘Adnan was afraid of the disappearance of landmarks of the Sacred area, so he placed special markings and he was the first to do so. Thereafter, Jurhum became dominant over the care taking of the House. They, generation after generation, were the caretakers until they became rebellious in Makkah and violated its sanctity, consumed its properties, and committed injustice against people who came to Makkah. Whoever transgressed and rebelled in Makkah, even during the time of ignorance, people who wronged others and violated its sanctity; any king who did so was destroyed right there and then. It was called Bakkah, because transgressors’ necks were crushed when …
ابو علی الاشعری سے روایت ہے محمد بن عبدالجبار سے، انہوں نے کہا: محمد بن اسمائیل نے ہم کو خبر دی، انہوں نے علی بن النعمان سے، انہوں نے سعید الاعرج سے، انہوں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عرب ہمیشہ حنیفیت کے کسی نہ کسی حصے پر باقی رہے۔ وہ صلہ رحم کرتے تھے، مہمان کی ضیافت کرتے تھے، بیت اللہ کا حج کرتے تھے، اور کہتے تھے: یتیم کے مال سے بچو، کیونکہ یتیم کا مال بندھن ہے۔ اور وہ کچھ حرام کاموں سے بچتے تھے سزا کے خوف سے۔ اور جب وہ حرام کاموں میں مبتلا ہوتے تھے تو انہیں مہلت نہ دی جاتی تھی۔ وہ حرم کے درختوں کی چھال لیتے تھے اور اسے اونٹوں کی گردن میں لٹکاتے تھے۔ تو کوئی اُس اونٹ سے کچھ لینے کی ہمت نہیں کرتا تھا، خواہ وہ کہیں بھی جاتا۔ اور کوئی حرم کے درخت کے علاوہ کسی اور چیز …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Muhammad b. Yahya has narrated from Ahmad b. Muhammad from Muhammad b. Isma‘il from al-Fadl b. Shadhan from Abul Sabbah al-Kinaniy who has said the following: “Abu Abdillah (as), has said, ‘For killing pigeons and its like in the state of Ihram, the ransom is one sheep, and for chicks it is one lamb for each.’ He (the Imam) was asked about a man who steps on the eggs of ostrich and breaks it, the Imam said, ‘Ali (as), issued a judgment that said, “He must send male camel on a female camel (i.e. to breed) to make an equal number of eggs affected and the mature offspring is sent as an offering for the Ka'aba."
2۔ محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے روایت کی، انہوں نے محمد بن اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن فضیل سے، انہوں نے ابو الصباح الکنانی سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے کہا: کبوتر اور اس کی ہمسری چیزوں کے بارے میں - اگر محرم اسے قتل کرے تو ایک بکری کا جزیہ ہے۔ اور اگر وہ بچے ہوں تو ہر ایک کے برابر ایک برّہ ہے۔ اور ایک آدمی کے بارے میں کہا جو شتر مرغ کے انڈے پر قدم رکھے اور انہیں توڑے جبکہ وہ محرم ہو - تو امام نے کہا: علی علیہ السلام نے فیصلہ دیا ہے کہ وہ انڈوں کی تعداد کے برابر نر اونٹوں کو مادہ اونٹوں کے پاس بھیجے تاکہ وہ حمل ہوں، اور جو اولاد محفوظ رہے یہاں تک کہ پیدا ہو، وہ اولاد خانہ کعبے کے لیے قربانی ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThat (is the command). And whoso magnifieth the sacred things of Allah, it will be well for him in the sight of his Lord. The cattle are lawful unto you save that which hath been told you. So shun the filth of idols, and shun lying speech,
Yusuf AliSuch (is the Pilgrimage): whoever honours the sacred rites of Allah, for him it is good in the Sight of his Lord. Lawful to you (for food in Pilgrimage) are cattle, except those mentioned to you (as exception): but shun the abomination of idols, and shun the word that is false,-
The agreed readingThat is the command. Whoever holds in honour what God has made inviolable will find it better for him with his Lord. The cattle are lawful to you apart from what has already been named to you as forbidden. So keep clear of the filth of idols, and keep clear of false speech.
Urduیہ ہے حکم۔ جو شخص اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے، یہ اس کے لیے اس کے رب کے ہاں بہتر ہے۔ تمہارے لیے چوپائے حلال کیے گئے ہیں سوائے ان کے جو تمہیں پہلے سے بتائے جا چکے ہیں کہ حرام ہیں۔ سو بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی بچو۔
Arabicذلك الذي أمرتم به من مناسك الحج، ومن يعظّم ما أوجبه الله عليكم من حرمات فذلك خير له عند ربه. وأحلّت لكم بهيمة الأنعام إلا ما نهيتم عنه، فاجتنبوا رجس الأوثان واجتنبوا قول الزور والكذب.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 3 من كتب أهل السنة، 5 من كتب الشيعة8 reports cited here — 3 Sunnī, 5 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 3 اہل سنت کی کتب سے، 5 شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Rāzī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Rāzī, Ibn Kathīr, Ibn ʿĀshūr and Ṭanṭāwī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Rāzī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Khuraym Ibn Fatik: The Messenger of Allah (ﷺ) offered the morning prayer. When he finished it, he stood up and said three times: False witness has been made equivalent to attributing a partner to Allah. He then recited: "So avoid the abomination of idols and avoid speaking falsehood as people pure of faith to Allah, not associating anything with Him
خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی:«فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشركين به» بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر ( سورۃ الحج: ۳۰ ) ۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Daif · Al-Albani: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ الأَسَدِيِّ، عَنْ فَاتِكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : (وَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ وَاخْتَلَفُوا فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ . وَلاَ نَعْرِفُ لأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ سَمَاعًا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله …
Ayman bin Khuraim narrated that the Prophet (s.a.w) stood to give a Khutbah and said:"O you people False witness is tantamount to Shirk with Allah" Then the Messenger of Allah (s.a.w)recited: So shun the Rijs of the idols, and shun false speech
ایمن بن خریم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور» ”تو بتوں کی گندگی سے بچے رہو ( ان کی پرستش نہ کرو ) اور جھوٹ بولنے سے بچے رہو“ ( الحج: ۳۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سفیان بن زیاد کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور لوگوں نے سفیان بن زیاد سے اس حدیث کی روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے، ۳- نیز ہم ایمن بن خریم کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع بھی نہیں جانتے ہیں۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ". قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ". وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ " أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ ". فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْتُ لاَ يَسْكُتُ.
Narrated Abu Bakra:Allah's Messenger (ﷺ) said thrice, "Shall I not inform you of the biggest of the great sins?" We said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)" He said, "To join partners in worship with Allah: to be undutiful to one's parents." The Prophet (ﷺ) sat up after he had been reclining and added, "And I warn you against giving forged statement and a false witness; I warn you against giving a forged statement and a false witness." The Prophet kept on saying that warning till we thought that he would not stop
مجھ سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد واسطی نے بیان کیا، ان سے جریری نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی ( سب سے بڑے گناہ ہیں ) آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہیں ہوں گے۔
11 - حدثنا محمد بن يعقوب قال: حدثنا عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن الحسين بن سعيد، عن أبي وهب، عن محمد بن منصور قال: سألت عبداً صالحاً سلام الله عليه عن قول الله: قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (قال) فقال: إنّ القرآن له ظاهرٌ وباطن، فجميعُ ما حرّم الله في القرآن فهو حرام على ظاهره كما هو في الظاهر، والباطن من ذلك أئمّة الجور. وجميع ما أحل الله تعالى في الكتاب فهو حلال وهو الظاهر، والباطن من ذلك أئمة الحق.
(11) Muhammad bin Ya’qoob narrated from some of his companions from Ahmad bin Muhammad from al-Husayn bin Sa’eed from Abu Wahab that Muhammad bin Mansoor had said: “I have asked a virtuous slave (of Allah), peace be upon him, about the saying of Allah, “My Lord has only prohibited indecencies, those of them that are apparent as well as those that are concealed,” and he said: “The Qur’an has apparent meanings and hidden meanings. All of those that Allah has prohibited in the Qur’an are impermissible as they have been mentioned apparently whereas the hidden thing in that is the imams of injustice and all of those that Allah has permitted are permissible as they are apparent whereas the hidden …
محمد بن یعقوب نے ہمیں حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: ہمیں ہماری جماعت کے لوگوں نے خبر دی احمد بن محمد سے، الحسین بن سعید سے، ابو وہب سے، محمد بن منصور سے جو کہتے ہیں: میں نے ایک برکت والے شخص سے سوال کیا - اللہ کی رحمت ان پر - اللہ کے اس قول کے متعلق: "کہہ میرے پروردگار نے تو صرف بے حیائی کے کام حرام کیے ہیں، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں، اور گناہ اور حق کے خلاف سرکشی، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ شریک کیا جائے وہ چیزیں جن کے لیے اس نے کوئی سلطان نہیں نازل کیا، اور یہ کہ اللہ کے بارے میں وہ باتیں کی جائیں جو تم نہیں جانتے" - کہا - تو انہوں نے کہا: بیشک قرآن کا ظاہری معنی ہے اور بھی ایک معنی ہے جو پوشیدہ ہے۔ جتنا کچھ اللہ نے قرآن میں حرام کیا ہے وہ سب اپنے ظاہری معنی میں حرام ہے جیسا کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
بعض أصحابنا مرسلا قال: إن أول ما نزل في تحريم الخمر قول الله عز وجل " يسئلونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس وإثمهما أكبر من نفعهما " فلما نزلت هذه الآية أحس القوم بتحريمها وتحريم الميسر وعلموا أن الاثم مما ينبغي اجتنابه ولا يحمل الله عز وجل عليهم من كل طريق لأنه قال: ومنافع للناس ثم أنزل الله عز وجل آية أخرى " إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون (1) " فكانت هذه الآية أشد من الأولى وأغلظ في التحريم ثم ثلث بآية أخرى فكانت أغلظ من الآية الأولى والثانية وأشد فقال عز وجل: " إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العدواة والبغضاء في الخمر والميسر ويصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة فهل أنتم منتهون (2) " فأمر عز وجل باجتنابها وفسر عللها التي لها ومن …
2. Certain persons of our people have, in mursal manner, narrated the following: “He (the Imam) (a.s.), has said, ‘The first thing about the unlawfulness of wine is in the words of Allah, most Majestic, most Glorious, “They ask you about wine and gambling. Say, ‘There is great sin in them and benefits for people but the sin in them is greater than their benefits.’” (2:219) When this verse was revealed people sensed the prohibition on it and prohibition on gambling. They learned that one must stay away from sins and that Allah, most Majestic, most Glorious, does not impose on them both ways because of His saying, “and benefits for people”. Thereafter Allah, most Majestic, most Glorious, sent …
ہماری بعض اصحاب نے مرسل انداز میں روایت کی ہے کہ: خمر کی تحریم میں سب سے پہلے جو نازل ہوا وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: 'وہ تم سے خمر اور میسر کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، کہو ان میں بڑی خرابی ہے اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں، مگر ان کی خرابی ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔' جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں کو خمر اور میسر کی تحریم کا احساس ہوا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ گناہ سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طریقے سے دبایا نہیں کیونکہ اس نے فرمایا: 'اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں۔' اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت نازل کی: 'خمر اور میسر اور بت اور فال کے تیر یہ سب شیطان کے گندے کام ہیں، پس ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔' یہ آیت پہلی سے سخت تر ہے اور تحریم میں زیادہ مضبوط ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
4. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father and Muhammad ibn ‘Isma‘il has narrated from al-Fadl ibn Shadhan from Safwan ibn Yahya and Ibn Abi ‘Umayr from Mu‘awiyah ibn ‘Ammar who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘Takbir in the days of Tashriq is from Salat (prayer) of al-Zuhr on the day of al-Nahr (slaughtering the offering, 10th of Dhu al-Hajjah) to Salat (prayer) of al-‘Asr of the last day of Tashriq, if you remain in Mina’. If you leave Mina 5 you are not obligated for anything in this matter. In Takhir say, ’Allah is great beyond description, Allah is great beyond description. No one deserves worship except Allah. Allah is great beyond description. Allah is …
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے اور محمد بن اسماعیل نے الفضل بن شاذان سے صفوان بن یحیٰ اور ابن ابی عمیر کے ذریعے معاویہ بن عمار سے روایت کی ہے کہ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: ایام تشریق میں تکبیر عید کے دن ظہر کی نماز سے لے کر تشریق کے آخری دن عصر کی نماز تک ہے، اگر تم منیٰ میں ٹھہرے رہو۔ اور اگر تم منیٰ سے نکل جاؤ تو تم پر تکبیر واجب نہیں ہے۔ اور تکبیر یہ ہے کہ تم کہو: الله اکبر الله اکبر، لا إله إلا الله، الله اکبر الله اکبر، ولله الحمد، الله اکبر علی ما ہدانا، الله اکبر علی ما رزقنا من بہیمۃ الانعام، والحمد لله علی ما ابلانا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
وينبغي للرجل إذا كان ليلة الفطر أن يصلي المغرب ثلاثا، ثم يسجد ويقول في سجوده: يا ذا الطول، يا ذا الحول، يا مصطفي محمد وناصره، صل على محمد وآل محمد، واغفر لي كل ذنب أذنبته ونسيته وهو عندك في كتاب مبين، ثم يقول مائة مرة: أتوب إلى الله عز وجل. ويكبر بعد المغرب والعشاء الآخرة وصلاة الغداة والعيد والظهر والعصر كما يكبر أيام التشريق، يقول: الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر ولله الحمد، الله أكبر على ما هدانا، والحمد لله على ما أبلانا، ولا يقول فيه: ورزقنا من بهيمة الانعام، فإن ذلك في أيام التشريق.
One the eve of al-Fitr, a man should pray the three [units of] Maghrib, then perform a sujud, then say in his sujud: ya dhal tawl, ya dhal hawl, ya mustafi Muhammad wa nasirah, salli `ala muhammadan wa alih Muhammad, waghfir li kulli dhanbin adhnabtahu wa nasitah, wa huwa `indika fi kitabin mubin (O Patient and Powerful [God]! O Him who chose Muhammad and supported him! Bless Muhammad and the Family of Muhammad, and forgive me for every sin that I remember and that I have forgotten; and [they are all] with You in a Clear Book). Then, he should say one hundred times: atubu illallah `azza wa jal (I repent to Allah, Glorious and Majestic). Then, he should do takbir after Maghrib, the final …
ليلة الفطر: رجل مغرب تین بار پڑھے سجدہ کرے و کہے يا ذا الطول يا ذا الحول يا مصطفي محمد و ناصره صل على محمد و آل محمد واغفر ذنب أذنبته ونسيته۔ سو بار کہے اتوب الى الله عز وجل۔ مغرب و عشاء و فجر و عيد و ظهر و عصر کے بعد تکبیر کہے الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر لله الحمد على ما هدانا والحمد على ما ابلانا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[التكبير أيام التشريق] والتكبير في الأضحى من صلاة الظهر يوم النحر إلى صلاة الغداة يوم الرابع يكون ذلك في خمس عشرة صلاة وذلك بمنى، وبالأمصار في دبر عشرة صلوات من صلاة الظهر يوم النحر إلى صلاة الغداة يوم الثالث ، والتكبير أن تقول: " الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد، الله أكبر على ما هدانا، والحمد لله على ما أبلانا، والله أكبر على ما رزقنا من بهيمة الأنعام ".
RECITING TAKBIR DURING THE DAYS OF TASHRIQ The Takbir of Eid al-Adha begins after the Dhuhr prayer on the Day of Sacrifice (10th Dhul-Hijjah) and continues until the Fajr prayer on the fourth day (13th Dhul-Hijjah), totaling fifteen prayers for those in Mina. For those in other locations (al-Amsar), the Takbir is recited after ten prayers, starting from Dhuhr on the Day of Sacrifice (10th Dhul-Hijjah) until the Fajr prayer of the third day (12th Dhul-Hijjah). The Takbir is as follows: "Allahu Akbar, Allahu Akbar, La ilaha illa Allah, wa Allahu Akbar, Allahu Akbar, wa lillahi al-hamd. Allahu Akbar ala ma hadana, wa al-hamdu lillahi ala ma ablaha, wa Allahu Akbar ala ma razaqana min bahimat …
ایام التشریق میں تکبیر: عید الاضحیٰ کی تکبیر عید کے دن ظہر سے لے کر چوتھے دن فجر تک ہے، یہ منیٰ میں پندرہ نمازوں میں ہے۔ شہروں میں عید کے دن ظہر سے تیسرے دن فجر تک دس نمازوں میں تکبیر ہے۔ تکبیر یہ ہے: خدا سب سے بڑا ہے، خدا سب سے بڑا، کوئی معبود نہیں سوائے خدا کے، خدا بہت بڑا، خدا بہت بڑا، ہمیشہ خدا کے لیے تعریف ہے، خدا بڑا ہے اس بات پر جو ہمیں ہدایت دی، شکر ہے خدا کو اس پر جو ہمیں آزمایا، خدا بہت بڑا ہے اس بات پر جو ہمیں حیوانات سے رزق دیا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallTurning unto Allah (only), not ascribing partners unto Him; for whoso ascribeth partners unto Allah, it is as if he had fallen from the sky and the birds had snatched him or the wind had blown him to a far-off place.
Yusuf AliBeing true in faith to Allah, and never assigning partners to Him: if anyone assigns partners to Allah, is as if he had fallen from heaven and been snatched up by birds, or the wind had swooped (like a bird on its prey) and thrown him into a far-distant place.
The agreed readingTurning away from everything else towards the one God, setting up no partner with Him. Whoever does set up a partner with God is like a man who has fallen out of the sky, whom the birds snatch up or the wind carries off to some far place.
Urduہر چیز سے منہ موڑ کر صرف ایک اللہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ جو کوئی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو آسمان سے گر پڑا ہو، جسے پرندے اچک لیں یا ہوا اسے کسی دور دراز جگہ پھینک دے۔
Arabicكونوا مائلين إلى الله وحده، غير مشركين به شيئًا، ومن يشرك بالله فكأنما سقط من السماء، فتخطفه الطير في الهواء أو تقذفه الريح إلى مكان بعيد سحيق.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — 2 من كتب أهل السنة، 2 من كتب الشيعة4 reports cited here — 2 Sunnī, 2 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 4 — 2 اہل سنت کی کتب سے، 2 شیعہ کتب سے
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ". قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ". وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ " أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ ". فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْتُ لاَ يَسْكُتُ.
Narrated Abu Bakra:Allah's Messenger (ﷺ) said thrice, "Shall I not inform you of the biggest of the great sins?" We said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)" He said, "To join partners in worship with Allah: to be undutiful to one's parents." The Prophet (ﷺ) sat up after he had been reclining and added, "And I warn you against giving forged statement and a false witness; I warn you against giving a forged statement and a false witness." The Prophet kept on saying that warning till we thought that he would not stop
مجھ سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد واسطی نے بیان کیا، ان سے جریری نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی ( سب سے بڑے گناہ ہیں ) آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہیں ہوں گے۔
Narrated Khuraym Ibn Fatik: The Messenger of Allah (ﷺ) offered the morning prayer. When he finished it, he stood up and said three times: False witness has been made equivalent to attributing a partner to Allah. He then recited: "So avoid the abomination of idols and avoid speaking falsehood as people pure of faith to Allah, not associating anything with Him
خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی:«فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشركين به» بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر ( سورۃ الحج: ۳۰ ) ۔
11 - حدثنا محمد بن يعقوب قال: حدثنا عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن الحسين بن سعيد، عن أبي وهب، عن محمد بن منصور قال: سألت عبداً صالحاً سلام الله عليه عن قول الله: قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (قال) فقال: إنّ القرآن له ظاهرٌ وباطن، فجميعُ ما حرّم الله في القرآن فهو حرام على ظاهره كما هو في الظاهر، والباطن من ذلك أئمّة الجور. وجميع ما أحل الله تعالى في الكتاب فهو حلال وهو الظاهر، والباطن من ذلك أئمة الحق.
(11) Muhammad bin Ya’qoob narrated from some of his companions from Ahmad bin Muhammad from al-Husayn bin Sa’eed from Abu Wahab that Muhammad bin Mansoor had said: “I have asked a virtuous slave (of Allah), peace be upon him, about the saying of Allah, “My Lord has only prohibited indecencies, those of them that are apparent as well as those that are concealed,” and he said: “The Qur’an has apparent meanings and hidden meanings. All of those that Allah has prohibited in the Qur’an are impermissible as they have been mentioned apparently whereas the hidden thing in that is the imams of injustice and all of those that Allah has permitted are permissible as they are apparent whereas the hidden …
محمد بن یعقوب نے ہمیں حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: ہمیں ہماری جماعت کے لوگوں نے خبر دی احمد بن محمد سے، الحسین بن سعید سے، ابو وہب سے، محمد بن منصور سے جو کہتے ہیں: میں نے ایک برکت والے شخص سے سوال کیا - اللہ کی رحمت ان پر - اللہ کے اس قول کے متعلق: "کہہ میرے پروردگار نے تو صرف بے حیائی کے کام حرام کیے ہیں، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں، اور گناہ اور حق کے خلاف سرکشی، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ شریک کیا جائے وہ چیزیں جن کے لیے اس نے کوئی سلطان نہیں نازل کیا، اور یہ کہ اللہ کے بارے میں وہ باتیں کی جائیں جو تم نہیں جانتے" - کہا - تو انہوں نے کہا: بیشک قرآن کا ظاہری معنی ہے اور بھی ایک معنی ہے جو پوشیدہ ہے۔ جتنا کچھ اللہ نے قرآن میں حرام کیا ہے وہ سب اپنے ظاہری معنی میں حرام ہے جیسا کہ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
بعض أصحابنا مرسلا قال: إن أول ما نزل في تحريم الخمر قول الله عز وجل " يسئلونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس وإثمهما أكبر من نفعهما " فلما نزلت هذه الآية أحس القوم بتحريمها وتحريم الميسر وعلموا أن الاثم مما ينبغي اجتنابه ولا يحمل الله عز وجل عليهم من كل طريق لأنه قال: ومنافع للناس ثم أنزل الله عز وجل آية أخرى " إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون (1) " فكانت هذه الآية أشد من الأولى وأغلظ في التحريم ثم ثلث بآية أخرى فكانت أغلظ من الآية الأولى والثانية وأشد فقال عز وجل: " إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العدواة والبغضاء في الخمر والميسر ويصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة فهل أنتم منتهون (2) " فأمر عز وجل باجتنابها وفسر عللها التي لها ومن …
2. Certain persons of our people have, in mursal manner, narrated the following: “He (the Imam) (a.s.), has said, ‘The first thing about the unlawfulness of wine is in the words of Allah, most Majestic, most Glorious, “They ask you about wine and gambling. Say, ‘There is great sin in them and benefits for people but the sin in them is greater than their benefits.’” (2:219) When this verse was revealed people sensed the prohibition on it and prohibition on gambling. They learned that one must stay away from sins and that Allah, most Majestic, most Glorious, does not impose on them both ways because of His saying, “and benefits for people”. Thereafter Allah, most Majestic, most Glorious, sent …
ہماری بعض اصحاب نے مرسل انداز میں روایت کی ہے کہ: خمر کی تحریم میں سب سے پہلے جو نازل ہوا وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: 'وہ تم سے خمر اور میسر کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، کہو ان میں بڑی خرابی ہے اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں، مگر ان کی خرابی ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔' جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں کو خمر اور میسر کی تحریم کا احساس ہوا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ گناہ سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طریقے سے دبایا نہیں کیونکہ اس نے فرمایا: 'اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ہیں۔' اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت نازل کی: 'خمر اور میسر اور بت اور فال کے تیر یہ سب شیطان کے گندے کام ہیں، پس ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔' یہ آیت پہلی سے سخت تر ہے اور تحریم میں زیادہ مضبوط ہے۔ …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThat (is the command). And whoso magnifieth the offerings consecrated to Allah, it surely is from devotion of the hearts,
Yusuf AliSuch (is his state): and whoever holds in honour the symbols of Allah, (in the sacrifice of animals), such (honour) should come truly from piety of heart.
The agreed readingWhoever holds in honour the markers God has set - and the commentaries name among them the animals brought for sacrifice, chosen well and kept well - is showing something that comes from the mindfulness of God in the heart, and not from the act on its own.
Urduجو شخص اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے - تفسیریں ان میں قربانی کے وہ جانور شامل کرتی ہیں جنہیں اچھی طرح چن کر اور اچھی طرح رکھ کر لایا جائے - وہ دراصل وہ چیز ظاہر کر رہا ہے جو دل کے تقویٰ سے آتی ہے، نہ کہ محض عمل سے۔
Arabicذلك، ومن يعظّم شعائر الله - ومنها الهدي الذي يُختار سمينًا حسنًا ويُحسن حفظه ورعايته - فإن تعظيمها ليس من مجرد الفعل الظاهر، بل هو علامة على تقوى القلوب وخشيتها.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — جميعها من كتب أهل السنة8 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 8 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَأَبُو الْوَلِيدِ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ حَدِّثْنِي بِمَا، كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنَ الأَضَاحِيِّ . فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هَكَذَا بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ " أَرْبَعٌ لاَ تُجْزِئُ فِي الأَضَاحِيِّ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْكَسِيرَةُ …
Sulaiman bin ‘Abdur-Rahman said:“I heard ‘Ubaid bin Fairuz say: ‘I said to Bara’ bin ‘Azib: “Tell us of the sacrificial animals that the Messenger of Allah (ﷺ) disliked or forbade.” He said: “Allah’s Messenger (ﷺ) said like this with his hand. And my hand is shorter than his hand:* ‘There are four that will not be accepted as sacrifices: The one-eyed animal that is obviously blind in one eye; the sick animal that is obviously sick; the lame animal with an obvious limp; and the animal that is so emaciated that it is as if there is no marrow in its bones.’” He said:** “And I dislike that the animal should have some fault in its ears.” He said: “What you dislike, forget about it and do not …
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: مجھ سے قربانی کے ان جانوروں کو بیان کیجئیے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا، یا منع کیا ہے؟ تو براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے ( جب کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے ) فرمایا: چار قسم کے جانوروں کی قربانی درست نہیں: ایک کانا جس کا کانا پن واضح ہو، دوسرے بیمار جس کی بیماری عیاں اور ظاہر ہو، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو، چوتھا ایسا لاغر اور دبلا پتلا جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ۱؎۔ عبید نے کہا: میں اس جانور کو بھی مکروہ جانتا ہوں جس کے کان میں نقص ہو تو براء رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے تم ناپسند کرو اسے چھوڑ دو، لیکن دوسروں …
Narrated Abdullah ibn Umar: Umar ibn al-Khattab named a bukhti camel for sacrifice (at hajj). He was offered three hundred dinars for it (as its price). He came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I named a bukhti camel for sacrifice and I was offered for it three hundred dinars. May I sell it and purchase another one for its price? No, sacrifice it. Abu Dawud said: This was due to the fact that 'Umar had made an incision in hump
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ ہدی کیا پھر انہیں اس کی قیمت تین سو دینار دی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میں نے بختی اونٹ ہدی کیا اس کے بعد مجھے اس کی قیمت تین سو دینار مل رہی ہے، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے ( ہدی کے لیے ) ایک اونٹ خرید لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اسی کو نحر کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ممانعت ( نہی ) اس لیے تھی کہ وہ اس کا اشعار کر چکے تھے۔
Anas bin Malik narrated:That the Prophet saw a man driving his Badanah so he said to him: "Ride it." He said: "O Messenger of Allah! It is a Badanah." So on the third or fourth time he said to him: "Ride it. And woe to you
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کے اونٹ ہانکتے دیکھا، تو اسے حکم دیا ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہدی کا اونٹ ہے، پھر آپ نے اس سے تیسری یا چوتھی بار میں کہا: ”اس پر سوار ہو جاؤ، تمہارا برا ہو ۱؎ یا تمہاری ہلاکت ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوہریرہ، اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہ میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کی اجازت دی ہے، جب کہ وہ اس کا محتاج ہو، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۴- بعض کہتے ہیں: جب تک مجبور نہ ہو ہدی کے جانور پر سوار نہ ہو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ لَهُ " ارْكَبْهَا ". فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ " ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ، أَوْ وَيْحَكَ ".
Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) saw a man driving a Badana (i.e. camel for sacrifice) and said to him, "Ride on it." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! It is a Badana." (The Prophet (ﷺ) repeated his order) and on the third or fourth time he said, "Ride it, (woe to you" or said: "May Allah be merciful to you)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص قربانی کا اونٹ ہانکے لیے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا۔ اس صاحب نے کہا یا رسول اللہ! یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا افسوس! سوار بھی ہو جا یا آپ نے «ويلك» کی بجائے «ويحك» فرمایا جس کے معنی بھی وہی ہیں۔
Yahya related to me from Malik from Abu'z Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, saw a man driving forward a camel which he was going to sacrifice, and he told him to ride it. The man said, "Messenger of Allah, it is an animal that I am going to sacrifice," and he replied, "Ride it, woe on you," either the second or the third time
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ایک شخص کو ہانکتا تھا اونٹ ہدی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار ہو جا اس پر وہ بولا کہ ہدی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار ہو جا خرابی ہو تیری، دوسری یا تیسری مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ " ارْكَبْهَا ". فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. فَقَالَ " ارْكَبْهَا ". قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ " ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ ". فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الثَّانِيَةِ.
Narrated Abu Huraira':Allah's Messenger (ﷺ) saw a man driving his Badana (sacrificial camel). He said, "Ride on it." The man said, "It is a Badana." The Prophet (ﷺ) said, "Ride on it." He (the man) said, "It is a Badana." The Prophet said, "Ride on it." And on the second or the third time he (the Prophet (ﷺ) ) added, "Woe to you
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قربانی کا جانور لے جاتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا۔ اس شخص نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جانا۔ اس نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا افسوس! سوار بھی ہو جاؤ ( «ويلك» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) دوسری یا تیسری مرتبہ فرمایا۔
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ وَيَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَأَبُو الْوَلِيدِ قَالُوا أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ حَدِّثْنِي مَا، كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَضَاحِي . قَالَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْبَعَةٌ لاَ يَجْزِينَ فِي الأَضَاحِي الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ …
Ubaid bin Fairuz said:"I said to Al-Bara bin Azib: 'Tell me of the sacrificial animals that the Messenger of Allah dislike or forbade. He said: "The Messenger of Allah gestured like this with his hand, and my hands are shorter than the hand of the Messenger of Allah, (and he said). 'There are four that will not do as sacrifices: The animal that clearly has one bad eye: the sick animals that is obviously sick; the lame animal with an obvious lamp; and the animal that is so emaciated that it is as if there is no marrow in its bones: He said: "And I dislike that the animal should have some fault in its horns or ears." He said: "What you dislike, forget about it, and do not make it forbidden to …
محمد بن بشار نے ہمیں اطلاع دی، کہا: محمد بن جعفر، اور ابو داؤد، یحییٰ، عبد الرحمان، ابن ابی عدی اور ابو الولید نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: شعبہ نے ہمیں اطلاع دی، کہا: میں نے سلیمان بن عبد الرحمان سے سنا، کہا: میں نے عبید بن فیروز سے سنا، کہا: میں نے براء بن عازب سے کہا: مجھے بتائیں وہ جانوریں جن سے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و سلم نے ناپسند کیا یا منع فرمایا۔ کہا: رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و سلم نے اس طرح اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، اور میرا ہاتھ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے: چار جانوریں قربانی میں درست نہیں ہیں: اندھی جانور جس کی اندھاپن واضح ہو، بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑی جانور جس کی لنگڑی واضح ہو، اور ٹوٹی ہوئی جانور جس میں مغز نہ رہ گیا ہو۔ کہا: میں ناپسند کرتا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated Khuraym Ibn Fatik: The Messenger of Allah (ﷺ) offered the morning prayer. When he finished it, he stood up and said three times: False witness has been made equivalent to attributing a partner to Allah. He then recited: "So avoid the abomination of idols and avoid speaking falsehood as people pure of faith to Allah, not associating anything with Him
خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی:«فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشركين به» بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر ( سورۃ الحج: ۳۰ ) ۔
PickthallTherein are benefits for you for an appointed term; and afterward they are brought for sacrifice unto the ancient House.
Yusuf AliIn them ye have benefits for a term appointed: in the end their place of sacrifice is near the Ancient House.
The agreed readingThere are uses in them for you until the appointed time, and the commentaries agree on where the use stops: ride the animal if you need to, without being hard on it, and take its milk without draining it. Then the place where its slaughter becomes lawful is at the Ancient House.
Urduان جانوروں میں تمہارے لیے مقررہ وقت تک فائدے ہیں، اور تفسیریں اس بات پر متفق ہیں کہ فائدہ کہاں رک جاتا ہے: ضرورت پڑنے پر سوار ہو جاؤ بغیر اسے تکلیف دیے، اور اس کا دودھ لو بغیر اسے خشک کیے۔ پھر اس کے ذبح کی جگہ قدیم گھر کے پاس ہے۔
Arabicلكم في هذه الهدايا منافع تنتفعون بها إلى أجل محدد، مثل الركوب عند الحاجة من غير أن تشقّوا عليها، وشرب لبنها من غير أن تستنزفوه كله، ثم بعد ذلك يكون محلّ حلّها وذبحها عند البيت العتيق القديم.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Baghawī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and al-Baghawī on this āyah
Yahya related to me from Malik from Abu'z Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, saw a man driving forward a camel which he was going to sacrifice, and he told him to ride it. The man said, "Messenger of Allah, it is an animal that I am going to sacrifice," and he replied, "Ride it, woe on you," either the second or the third time
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ایک شخص کو ہانکتا تھا اونٹ ہدی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار ہو جا اس پر وہ بولا کہ ہدی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار ہو جا خرابی ہو تیری، دوسری یا تیسری مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ " ارْكَبْهَا ". فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. فَقَالَ " ارْكَبْهَا ". قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ " ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ ". فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الثَّانِيَةِ.
Narrated Abu Huraira':Allah's Messenger (ﷺ) saw a man driving his Badana (sacrificial camel). He said, "Ride on it." The man said, "It is a Badana." The Prophet (ﷺ) said, "Ride on it." He (the man) said, "It is a Badana." The Prophet said, "Ride on it." And on the second or the third time he (the Prophet (ﷺ) ) added, "Woe to you
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قربانی کا جانور لے جاتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا۔ اس شخص نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جانا۔ اس نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا افسوس! سوار بھی ہو جاؤ ( «ويلك» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) دوسری یا تیسری مرتبہ فرمایا۔
Anas bin Malik narrated:That the Prophet saw a man driving his Badanah so he said to him: "Ride it." He said: "O Messenger of Allah! It is a Badanah." So on the third or fourth time he said to him: "Ride it. And woe to you
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کے اونٹ ہانکتے دیکھا، تو اسے حکم دیا ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہدی کا اونٹ ہے، پھر آپ نے اس سے تیسری یا چوتھی بار میں کہا: ”اس پر سوار ہو جاؤ، تمہارا برا ہو ۱؎ یا تمہاری ہلاکت ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوہریرہ، اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہ میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کی اجازت دی ہے، جب کہ وہ اس کا محتاج ہو، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۴- بعض کہتے ہیں: جب تک مجبور نہ ہو ہدی کے جانور پر سوار نہ ہو۔
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَأَبُو الْوَلِيدِ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ حَدِّثْنِي بِمَا، كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنَ الأَضَاحِيِّ . فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هَكَذَا بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ " أَرْبَعٌ لاَ تُجْزِئُ فِي الأَضَاحِيِّ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْكَسِيرَةُ …
Sulaiman bin ‘Abdur-Rahman said:“I heard ‘Ubaid bin Fairuz say: ‘I said to Bara’ bin ‘Azib: “Tell us of the sacrificial animals that the Messenger of Allah (ﷺ) disliked or forbade.” He said: “Allah’s Messenger (ﷺ) said like this with his hand. And my hand is shorter than his hand:* ‘There are four that will not be accepted as sacrifices: The one-eyed animal that is obviously blind in one eye; the sick animal that is obviously sick; the lame animal with an obvious limp; and the animal that is so emaciated that it is as if there is no marrow in its bones.’” He said:** “And I dislike that the animal should have some fault in its ears.” He said: “What you dislike, forget about it and do not …
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: مجھ سے قربانی کے ان جانوروں کو بیان کیجئیے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا، یا منع کیا ہے؟ تو براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے ( جب کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے ) فرمایا: چار قسم کے جانوروں کی قربانی درست نہیں: ایک کانا جس کا کانا پن واضح ہو، دوسرے بیمار جس کی بیماری عیاں اور ظاہر ہو، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو، چوتھا ایسا لاغر اور دبلا پتلا جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ۱؎۔ عبید نے کہا: میں اس جانور کو بھی مکروہ جانتا ہوں جس کے کان میں نقص ہو تو براء رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے تم ناپسند کرو اسے چھوڑ دو، لیکن دوسروں …
درجته: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
grading: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
درجہ: Abu Ghuddah: Sahih · Al-Albani: Sahih · Zubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ وَيَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَأَبُو الْوَلِيدِ قَالُوا أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ حَدِّثْنِي مَا، كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَضَاحِي . قَالَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْبَعَةٌ لاَ يَجْزِينَ فِي الأَضَاحِي الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ …
Ubaid bin Fairuz said:"I said to Al-Bara bin Azib: 'Tell me of the sacrificial animals that the Messenger of Allah dislike or forbade. He said: "The Messenger of Allah gestured like this with his hand, and my hands are shorter than the hand of the Messenger of Allah, (and he said). 'There are four that will not do as sacrifices: The animal that clearly has one bad eye: the sick animals that is obviously sick; the lame animal with an obvious lamp; and the animal that is so emaciated that it is as if there is no marrow in its bones: He said: "And I dislike that the animal should have some fault in its horns or ears." He said: "What you dislike, forget about it, and do not make it forbidden to …
محمد بن بشار نے ہمیں اطلاع دی، کہا: محمد بن جعفر، اور ابو داؤد، یحییٰ، عبد الرحمان، ابن ابی عدی اور ابو الولید نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: شعبہ نے ہمیں اطلاع دی، کہا: میں نے سلیمان بن عبد الرحمان سے سنا، کہا: میں نے عبید بن فیروز سے سنا، کہا: میں نے براء بن عازب سے کہا: مجھے بتائیں وہ جانوریں جن سے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و سلم نے ناپسند کیا یا منع فرمایا۔ کہا: رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و سلم نے اس طرح اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، اور میرا ہاتھ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے: چار جانوریں قربانی میں درست نہیں ہیں: اندھی جانور جس کی اندھاپن واضح ہو، بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑی جانور جس کی لنگڑی واضح ہو، اور ٹوٹی ہوئی جانور جس میں مغز نہ رہ گیا ہو۔ کہا: میں ناپسند کرتا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father and Muhammad ibn Isma‘il from al-Fadl ibn Shadhan from Safwan ibn Yahya from Mu‘awiyah ibn ‘Ammar who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said that the pagans would depart ‘Arafat before sunset. The Messenger of Allah, O Allah, grant compensation to Muhammad and his family worthy of their services to Your cause, opposed them. He departed after sunset. He (the narrator) has said that abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘When it is sunset, then depart ‘Arafat along with the people in a calm and dignified manner. Ask forgiveness from Allah, the Most Majestic, the Most Glorious, who has said, “Then depart ‘Arafat as people do and ask …
علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے اور محمد بن اسماعیل نے فضل بن شاذان سے صفوان بن یحیی نے معاویہ بن عمار سے روایت کی ہے کہا: ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ مشرکین آفاق سے قبل از غروب آفتاب روانہ ہوتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے ان کی مخالفت کی اور غروب آفتاب کے بعد روانہ ہوئے۔ کہا: اور ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: جب آفتاب ڈوب جائے تو لوگوں کے ساتھ روانہ ہو اور تم پر سکون اور وقار ہے اور استغفار کے ساتھ روانہ ہو کیونکہ اللہ عز و جل فرماتے ہیں: پھر جہاں سے لوگ روانہ ہوں وہاں سے روانہ ہو اور اللہ سے بخشش مانگو بیشک اللہ بخشنے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔ پس جب تم سرخ ٹیلے کی طرف سے راستے کی داہنی طرف پہنچ جاؤ تو کہو: اے اللہ میری کھڑے ہونے پر رحم کر اور میرے علم میں …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Muhammad b. Yahya has narrated from Ahmad b. Muhammad from Muhammad b. Isma‘il from al-Fadl b. Shadhan from Abul Sabbah al-Kinaniy who has said the following: “Abu Abdillah (as), has said, ‘For killing pigeons and its like in the state of Ihram, the ransom is one sheep, and for chicks it is one lamb for each.’ He (the Imam) was asked about a man who steps on the eggs of ostrich and breaks it, the Imam said, ‘Ali (as), issued a judgment that said, “He must send male camel on a female camel (i.e. to breed) to make an equal number of eggs affected and the mature offspring is sent as an offering for the Ka'aba."
2۔ محمد بن یحیٰ نے احمد بن محمد سے روایت کی، انہوں نے محمد بن اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن فضیل سے، انہوں نے ابو الصباح الکنانی سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے کہا: کبوتر اور اس کی ہمسری چیزوں کے بارے میں - اگر محرم اسے قتل کرے تو ایک بکری کا جزیہ ہے۔ اور اگر وہ بچے ہوں تو ہر ایک کے برابر ایک برّہ ہے۔ اور ایک آدمی کے بارے میں کہا جو شتر مرغ کے انڈے پر قدم رکھے اور انہیں توڑے جبکہ وہ محرم ہو - تو امام نے کہا: علی علیہ السلام نے فیصلہ دیا ہے کہ وہ انڈوں کی تعداد کے برابر نر اونٹوں کو مادہ اونٹوں کے پاس بھیجے تاکہ وہ حمل ہوں، اور جو اولاد محفوظ رہے یہاں تک کہ پیدا ہو، وہ اولاد خانہ کعبے کے لیے قربانی ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ قَالَ رَجُلٌ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ فَنَزَلَتْ : ( أذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ * الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ ) النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ .
Narrated Sa'eed bin Jubair:"When the Prophet (ﷺ) was expelled from Makkah a man said: 'They have driven out their Prophet' so (the following) was revealed: "Permission (to fight) is given to those who are fought against, because they have been wronged; and surely, Allah is able to give them victory. Those who have been expelled from their homes unjustly (22:39)." [Those who were expelled were the Prophet (ﷺ) and his Companions
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکالے گئے، ایک آدمی نے کہا: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا تو اس پر آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير الذين أخرجوا من ديارهم بغير حق» ”ان لوگوں کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے مظلوم ( و کمزور ) سمجھ کر جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، اللہ ان ( مظلومین ) کی مدد پر قادر ہے“ ( الحج: ۳۹ ) ، نازل ہوئی، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو ناحق نکال دیا گیا ۱؎۔
2. Abu Ali al-Ash’ariy has narrated from Muhammad ibn ‘Abd al-Jabbar from Safwan ibn Yahya from ‘Abd Allah ibn Muskan from Yahya al-Halabiy from ‘Abd al-Hamid al-Ta’iy from Zurarah ibn ‘A‘yan who has said the following: “This is concerning my question before abu ‘Abd Allah (a.s.), if I can marry a Murji’ah or Harawriyah (two sects). He (the Imam) said, ‘No, but you must marry simple hearted woman.’ I then said, ‘By Allah, it is only a believer or unbeliever.’ Abu ‘Abd Allah (a.s.), said, ‘What is the position of Thanawiy (a sect) people about Allah, most Majestic, most Glorious? The words of Allah, most Majestic, most Glorious, are truer than what you say “. . . except the weak ones of man, …
ابو علی الاشعري نے محمد بن عبد الجبار سے روایت کی، محمد بن عبد الجبار نے صفوان بن یحیٰ سے روایت کی، صفوان بن یحیٰ نے عبد الله بن مسکان سے روایت کی، عبد الله بن مسکان نے یحیٰ الحلبی سے روایت کی، یحیٰ الحلبی نے عبد الحمید الطائی سے روایت کی، عبد الحمید الطائی نے زرارہ بن أعین سے روایت کی۔ زرارہ بن أعین کہتے ہیں: میں نے ابی عبد الله علیہ السلام سے کہا: کیا میں ایک مرجئہ یا خارجہ (حروریہ) عورت سے نکاح کروں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ سادہ دل خواتین میں سے ایک عورت سے نکاح کرو۔ زرارہ کہتے ہیں: میں نے کہا: واللہ تو عورت یا تو مومن ہے یا کافر۔ ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا: پھر ثنویہ فرقہ کے لوگ کہاں ہیں؟ الله تعالیٰ کا قول تمہاری بات سے بہت زیادہ سچا ہے جب الله کہتے ہیں: سوائے
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd for every nation have We appointed a ritual, that they may mention the name of Allah over the beast of cattle that He hath given them for food; and your god is One God, therefor surrender unto Him. And give good tidings (O Muhammad) to the humble,
Yusuf AliTo every people did We appoint rites (of sacrifice), that they might celebrate the name of Allah over the sustenance He gave them from animals (fit for food). But your god is One God: submit then your wills to Him (in Islam): and give thou the good news to those who humble themselves,-
The agreed readingFor every community that went before, a rite of sacrifice was appointed, so that they would mention God's name over the animals He had provided them. Your God is one God: submit to Him. And give good news to the humble, those who have been brought low before God.
Urduپہلے گزری ہوئی ہر امت کے لیے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کیا گیا تھا، تاکہ وہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں عطا کیے تھے۔ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اسی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرو۔ اور عاجزی اختیار کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو، جو اللہ کے سامنے جھک چکے ہیں۔
Arabicولكل أمة مضت جعلنا منسكًا ليذكروا اسم الله على ما رزقهم من بهيمة الأنعام، فمعبودكم معبود واحد فله وحده انقادوا، وبشّر المخبتين الخاشعين الذين خضعوا لله.
PickthallWhose hearts fear when Allah is mentioned, and the patient of whatever may befall them, and those who establish worship and who spend of that We have bestowed on them.
Yusuf AliTo those whose hearts when Allah is mentioned, are filled with fear, who show patient perseverance over their afflictions, keep up regular prayer, and spend (in charity) out of what We have bestowed upon them.
The agreed readingThey are the ones whose hearts stir with awe when God is mentioned, who are patient under whatever comes upon them, who establish the prayer at its times, and who spend from what they have been given.
Urduیہ وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز اٹھتے ہیں، جو ان پر آنے والی ہر مصیبت پر صبر کرتے ہیں، جو نماز کو اس کے وقت پر قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ انہیں دیا گیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
Arabicهم الذين إذا ذُكر الله خافوا وارتعدت قلوبهم من هيبته، ويصبرون صبرًا جميلًا على ما أصابهم من البلاء والمحن، ويؤدون الصلاة في أوقاتها كاملة، وينفقون مما رزقهم الله من غير بخل.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَتَى عَلَى رَجُلٍ، قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ يَنْحَرُهَا، قَالَ ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً، سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ يُونُسَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ.
Narrated Ziyad bin Jubair:I saw Ibn `Umar passing by a man who had made his Badana sit to slaughter it. Ibn `Umar said, "Slaughter it while it is standing with one leg tied up as is the tradition of Muhammad
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زیاد بن جبیر نے کہ میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے کھڑا کر اور باندھ دے، پھر نحر کر کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ شعبہ نے یونس سے بیان کیا کہ مجھے زیادہ نے خبر دی۔
PickthallAnd the camels! We have appointed them among the ceremonies of Allah. Therein ye have much good. So mention the name of Allah over them when they are drawn up in lines. Then when their flanks fall (dead), eat thereof and feed the beggar and the suppliant. Thus have We made them subject unto you, that haply ye may give thanks.
Yusuf AliThe sacrificial camels we have made for you as among the symbols from Allah: in them is (much) good for you: then pronounce the name of Allah over them as they line up (for sacrifice): when they are down on their sides (after slaughter), eat ye thereof, and feed such as (beg not but) live in contentment, and such as beg with due humility: thus have We made animals subject to you, that ye may be grateful.
The agreed readingThe sacrificial camels are among the markers God has set for you, and there is good for you in them. Mention God's name over them as they stand in line - the commentaries describe the same posture, the animal standing with its forelegs bound. When their sides have gone down, eat of them, and feed the poor man who keeps quiet about his need and the one who comes and asks. They were made subject to you so that you would be thankful.
Urduقربانی کے اونٹ تمہارے لیے اللہ کی مقرر کردہ نشانیوں میں سے ہیں، اور ان میں تمہارے لیے بھلائی ہے۔ ان پر اللہ کا نام لو جب وہ صف بستہ کھڑے ہوں - تفسیریں اسی حالت کا ذکر کرتی ہیں کہ جانور اپنی اگلی ٹانگ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے۔ جب ان کے پہلو زمین پر گر جائیں تو ان میں سے کھاؤ، اور اس محتاج کو بھی کھلاؤ جو اپنی ضرورت پر خاموش رہتا ہے اور اس کو بھی جو آ کر مانگتا ہے۔ یہ جانور تمہارے لیے مسخر کیے گئے تاکہ تم شکر ادا کرو۔
Arabicوالإبل والبقر التي تُنحر جعلناها لكم من شعائر الله، لكم فيها نفع كبير في دنياكم وأجر في آخرتكم، فاذكروا اسم الله عليها وهي قائمة معقولة إحدى يديها على ثلاث قوائم، فإذا سقطت على جنبها بعد الذبح فكلوا منها، وأطعموا القانع الذي يقنع ولا يسأل والمعترّ الذي يتعرض ويسأل، وهكذا سخّرها الله لكم لعلكم تشكرون نعمته.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Narrated Al-Bara' bin `Azib:The Prophet (ﷺ) said, "The first thing that we should do on this day of ours is to pray and then return to slaughter the sacrifice. So anyone who does so, he acted according to our Sunna (tradition), and whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, it was just meat which he presented to his family and would not be considered as Nusuk." A person from the Ansar named Abu Burda bin Niyar said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I slaughtered the Nusuk (before the prayer) but I have a young shegoat which is better than an older sheep." The Prophet (ﷺ) said, "Sacrifice it in lieu of the first, but it will not be sufficient (as a sacrifice) for anybody else after you
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زبید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، ان سے براء بن عازب نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اس دن پہلے نماز پڑھیں گے پھر خطبہ کے بعد واپس ہو کر قربانی کریں گے۔ جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق عمل کیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو اس کا ذبیحہ گوشت کا جانور ہے جسے وہ گھر والوں کے لیے لایا ہے، قربانی سے اس کا کوئی بھی تعلق نہیں۔ ایک انصاری رضی اللہ عنہ جن کا نام ابوبردہ بن نیار تھا بولے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے تو ( نماز سے پہلے ہی ) قربانی کر دی لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو دوندی ہوئی بکری سے بھی اچھی ہے۔ آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ اچھا اسی …
Narrated Al-Bara':The Prophet (ﷺ) delivered the Khutba on the day of Nahr (`Id-ul-Adha) and said, "The first thing we should do on this day of ours is to pray and then return and slaughter (our sacrifices). So anyone who does so he acted according to our Sunna; and whoever slaughtered before the prayer then it was just meat that he offered to his family and would not be considered as a sacrifice in any way. My uncle Abu Burda bin Niyar got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I slaughtered the sacrifice before the prayer but I have a young she-goat which is better than an older sheep." The Prophet (ﷺ) said, "Slaughter it in lieu of the first and such a goat will not be considered as a …
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے زبید سے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن سب سے پہلے ہمیں نماز پڑھنی چاہیے پھر ( خطبہ کے بعد ) واپس آ کر قربانی کرنی چاہیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو یہ ایک ایسا گوشت ہو گا جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی سے تیار کر لیا ہے، یہ قربانی قطعاً نہیں۔ اس پر میرے ماموں ابوبردہ بن نیار نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو نماز کے پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا۔ البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دانت نکلی بکری سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ نبی …
It was narrated that Shaddad bin Aws said:"The Messenger of Allah said: 'Allah has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters
ہمیں الحسين بن حريث ابو عمار نے خبر دی، کہا: جرير نے ہمیں منصور سے خبر دی، خالد الحذاء سے، ابو قلابہ سے، ابو الأشعث الصنعاني سے، شداد بن أوس سے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ نے ہر چیز میں احسان (مہارت) لکھ دیا ہے، تو جب تم قتل کرو تو احسان کے ساتھ قتل کرو، اور جب ذبح کرو تو احسان کے ساتھ ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو تکلیف سے بچائے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[الذبح] واشتر هديك إن كان من البدن أو من البقر أو من الغنم وإلا فاجعله كبشا سمينا فحلا، فإن لم تجد فحلا فموجوءا من الضأن فإن لم تجد فتيسا فحلا، وإن لم تجد فما تيسر لك، وعظم شعائر الله عز وجل فإنها من تقوى القلوب، ولا تعط الجزار جلودها ولا قلائدها ولا جلالها ولكن تصدق بها، ولا تعط السلاخ منها شيئا. فإذا اشتريت هديك فاستقبل القبلة وانحره أو اذبحه وقل: " وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين، اللهم منك ولك بسم الله والله أكبر، اللهم تقبل مني " ثم اذبح ولا تنخع حتى يموت ويبرد ثم كل وتصدق وأطعم وأهد إلى من شئت، ثم احلق رأسك. وقد ذكرت الأضاحي في هذا الكتاب وأنا أعيد ذكر ما لا بد من …
THE SACRIFICE Purchase your sacrificial animal—whether it be a camel, cow, or sheep. If not, choose a well-fed ram; if not a ram, then a castrated sheep. If even that is unavailable, a goat will suffice. Magnify the sacred rites of Allah (swt), for they stem from the piety of hearts. Do not give the butcher the hide, collars, or saddle cloths of the animal. Instead, distribute these as charity. Do not give the skin or any part of it as payment to the slaughterer. When you have purchased your sacrificial animal, face the Qibla and slaughter or sacrifice it while saying: "I turn my face to the One who originated the heavens and the earth, as a true monotheist, submitting to Him, and I am not …
قربانی کے بارے میں: اپنی قربانی خریدو، اگر اونٹ یا گائے یا بکریاں ہوں تو ٹھیک ہے، ورنہ ایک موٹی اور نر دنبہ لو۔ اگر نہ ملے تو بھیڑ کا خصی لو۔ اگر وہ بھی نہ ملے تو بکرا لو۔ اگر وہ بھی نہ ملے تو جو سہولت سے مل جائے۔ اور اللہ کے شعائر کو عظمت دو کیونکہ یہ دلوں کی تقویٰ سے آتے ہیں۔ قصائی کو جلدیں اور نیاز اور برسالیں نہ دینا بلکہ صدقہ کرنا۔ اور کھال نچھالنے والے کو کوئی چیز نہ دینا۔ جب تم قربانی خرید لو تو قبلے کی طرف پھیرو اور اسے نحر کرو یا ذبح کرو اور کہو: میں نے اپنا رخ اس طرف کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، خالص ایمان کے ساتھ مسلمانانہ طریقے سے، اور میں مشرکوں میں سے نہیں۔ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو تمام عالموں کا رب ہے۔ اس کا کوئی …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that when he brought an animal to be sacrificed from Madina he would garland it and brand it at Dhu'l-Hulayfa, doing the garlanding before the branding, but doing both in the same place, while facing the qibla. He would garland the animal with two sandals and brand it on its left side. It would then be driven with him until he observed the standing together with everybody at Arafa. Then he would drive it on with him when everybody else moved on, and then when he arrived at Mina on the morning of the sacrifice, he would sacrifice the animal, before he shaved his head. He would sacrifice the animals with his own hands ,lining …
عبداللہ بن عمر جب ہدی لے جاتے مدینہ سے تو تقلید کرتے اس کی اور اشعار کرتے اس کا ذوالحلیفہ میں، مگر تقلید اشعار سے پہلے کرتے لیکن دونوں ایک ہی مقام میں کرتے اس طرح پر کہ ہدی کا منہ قبلہ کی طرف کر کے پہلے اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکا دیتے پھر اشعار کرتے بائیں طرف سے اور ہدی کو اپنے ساتھ لے جاتے یہاں تک کہ عرفہ کے روز عرفات میں بھی سب لوگوں کے ساتھ رہتے پھر جب لوگ لوٹتے تو ہدی بھی لوٹ کر آتی، جب منی میں صبح کو یوم النحر میں پہنچتے تو اس کو نحر کرتے قبل حلق یا قصر کے اور عبداللہ بن عمر اپنی ہدی کو آپ نحر کرتے ان کو کھڑا کرتے صف باندھ کر منہ ان کا قبلہ کی طرف کرتے پھر اس کو نحر کرتے اور ان کا گوشت بھی کھاتے دوسروں کو بھی کھلاتے ۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed two rams on the Day of ‘Eid. When he turned them to face towards the prayer direction he said: ‘Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, as a monotheist, and I am not of the polytheists. Verily, my prayer, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of all that exists. He has no partner. And of this I have been commanded, and I am the first of the Muslims. [6:79,162-163] O Allah, from You to You, on behalf of Muhammad and his nation.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن دو مینڈھوں کی قربانی کی، اور جس وقت ان کا منہ قبلے کی طرف کیا تو فرمایا: «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم منك ولك عن محمد وأمته» میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں، بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم ہے اور سب سے پہلے میں اس کے تابعداروں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی طرف سے ہے، اور تیرے ہی واسطے …
‘Ali b. Ali Talib said:When the Messenger of Allah (ﷺ) stood up for prayer, he uttered the takbir (Allah is most great), then said: I have turned my face, breaking with all others, towards Him Who created the heavens and the earth, and I am not a polytheist. My prayer and my devotion, my life and my death belong to Allah, the Lord of the Universe, Who has no partner. That is what I have been commanded, and I am first of Muslims (those who surrender themselves). O Allah, Thou art the King. There is no God but Thee. Thou art my Lord and I am Thy servant. I have wronged myself, but I acknowledge my sin, so forgive me all my sins; Thou Who alone canst forgive sins; and guide me to the best …
(علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم أنت الملك لا إله لي إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك» میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے …
It was narrated from Muhammad bin Maslamah that:When the Messenger of Allah (ﷺ) stood to offer a voluntary prayer he would say: " Allahu Akbar Wajahtu wajhi lilladhi fataras-samawatiwal-arda hanifan musliman wa ma ana minal-mushrikin. Inna salati wa nusuki wa mahyaya wa mamati lillahi rabbil-alamin, la sharika lahu, wa bidhalika umirtu wa ana awwalul-muslimin. Allahumma antal-maliku la ilaha illa anta subhanaka wa bihamdik (Allah is Most Great. Verily, I have turned my face toward Him who created the Heavens and the Earth hanifa (worhsipping none but Allah Alone), as a Muslim, and I am not of the idolaters. Verily, my Salah, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of …
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو کہتے: «اللہ أكبر وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللہم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك وبحمدك» اللہ بہت بڑا ہے، میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی جانب کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں اللہ کے ساتھ ساجھی بنانے والوں میں سے نہیں ہوں، یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ( پالنہار ) ہے جس کا کوئی ساجھی نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ! تو صاحب قدرت و اقتدار …
Yahya related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Abu Bakr ibn Abd ar-Rahman, from Abu Salih as-Sammani from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If someone does ghusl for major ritual impurity on the day of jumua and then goes in the first part of the time, it is as if he had offered up a camel. If he goes in the second part of the time, it is as if he had offered up a cow. If he goes in the third part of the time, it is as if he had offered up a horned ram. If he goes in the fourth part of the time, it is as if he had offered up a hen. If he goes in the fifth part of the time, it is as if he had offered up an egg. And when the …
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص غسل کرے جمعہ کے دن مانند غسل جنابت کے پھر جائے مسجد کو پہلی ساعت میں تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک اونٹ اور جو جائے دوسری ساعت میں تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک بیل یا گائے اور جو جائے تیسری ساعت تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک مینڈھا سینگ دار اور چوتھی ساعت میں جائے تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک مرغ اور جو پانچویں ساعت میں جائے تو صدقہ دیا اس نے ایک انڈا پھر جس وقت امام نکلتا ہے خطبہ کو فرشتے آتے ہیں خطبہ سننے کو ۔
PickthallTheir flesh and their food reach not Allah, but the devotion from you reacheth Him. Thus have We made them subject unto you that ye may magnify Allah that He hath guided you. And give good tidings (O Muhammad) to the good.
Yusuf AliIt is not their meat nor their blood, that reaches Allah: it is your piety that reaches Him: He has thus made them subject to you, that ye may glorify Allah for His Guidance to you and proclaim the good news to all who do right.
The agreed readingNeither the flesh nor the blood reaches God. What reaches Him from you is the mindfulness of God behind the act. They were made subject to you so that you would magnify God for having guided you. And give good news to those who do good.
Urduنہ گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ خون۔ اس تک تمہاری طرف سے جو چیز پہنچتی ہے وہ عمل کے پیچھے موجود تقویٰ ہے۔ یہ جانور تمہارے لیے اس لیے مسخر کیے گئے تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔
Arabicلن يصل إلى الله لحوم هذه الذبائح ولا دماؤها، ولكن يصل إليه ما فيها من تقوى قلوبكم، وكذلك ذللها الله لكم لتكبروا الله شاكرين على ما هداكم إليه من الحق، وأخبر المحسنين بالبشرى.
الأخبار المذكورة هنا: 7 — 4 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة7 reports cited here — 4 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 7 — 4 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) commanded that a ram with black legs, black belly and black (circles) round the eyes should be brought to him, so that he should sacrifice it. He said to 'A'isha:Give me the large knife, and then said: Sharpen it on a stone. She did that. He then took it (the knife) and then the ram; he placed it on the ground and then sacrificed it, saying: Bismillah, Allah-humma Taqabbal min Muhammadin wa Al-i-Muhammadin, wa min Ummati Muhammadin (In the name of Allah," O Allah, accept [this sacrifice] on behalf of Muhammad and the family of Muhammad and the Umma of Muhammad
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو ، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو ( یعنی پاؤں ، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں ) ۔ پھر ایک ایسا مینڈھا قربانی کے لئے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! چھری لا ۔ پھر فرمایا کہ اس کو پتھر سے تیز کر لے ۔ میں نے تیز کر دی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی ، مینڈھے کو پکڑا ، اس کو لٹایا ، پھر ذبح کرتے وقت فرمایا کہ بسم اللہ ، اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل کی طرف سے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت کی طرف سے اس کو قبول کر ، پھر اس کی قربانی کی ۔
Jubair bin Mut'im narrated that :the Prophet said: "O Banu Abd Manaf! Do not prevent anyone from performing Tawaf around this House, and Salat, whichever hour it is of the night or day
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی عبد مناف! رات دن کے کسی بھی حصہ میں کسی کو اس گھر کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے نہ روکو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جبیر مطعم رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن ابی نجیح نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن باباہ سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- مکے میں عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں: عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز پڑھنے اور طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۱؎ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ۲؎ سے دلیل لی ہے۔ اور بعض کہتے ہیں: اگر کوئی عصر …
It was narrated from Jubair bin Mut'im that the Prophet (ﷺ) said:"O Banu 'Abd Manaf, do not prevent anyone from circumambulating this House and praying at any time he wants of night or day
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! تم کسی کو رات یا دن کسی بھی وقت اس گھر کا طواف کرنے، اور نماز پڑھنے سے نہ روکو ۔
حدثنا محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد - رحمه الله - قال: حدثنا الحسين بن الحسن بن أبان، عن الحسين بن سعيد، عن حماد بن عيسى، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: سمعته يقول: قال علي عليه السلام في قول الله عز وجل: " ويذكروا اسم الله في أيام معلومات " قال: أيام العشر.
1. We were told by Muhammed bin Hasan bin Ahmad bin Waleed, may Allah grant him mercy, that he said: We were told by Hussain bin Hasan bin Aban, from Hussain bin Sa’eed, from Hammad bin Isa, from Abu Abdillah, peace be upon him, that he said: I heard him say: Ali, peace be upon him, said with regards to the saying of Allah, Exalted and Glorious is He: «and mention the Name of Allah in known days» (22:28). He said: The days of the ten.
روایت ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا: عالم وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور حکمت پر عمل کرے۔ اللہ نے فرمایا: ہم علماء کو لازمی دعا دیتے ہیں۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
[التلبية] ثم لب بالتلبيات الأربع سرا وهي المفروضات تقول: "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك، والملك لا شريك لك". هذه الأربع مفروضات، ثم قم فامض هنيئة، فإذا استوت بك الأرض راكبا كنت أو ماشيا فأعلن التلبية وارفع صوتك بها. وإن كنت أخذت على طريق المدينة وأحرمت من مسجد الشجرة فلب سرا بهذه التلبيات الأربع المفروضات حتى تأتي البيداء وتبلغ الميل الذي على يسار الطريق. فإذا بلغته فارفع صوتك بالتلبية ولا تجز الميل إلا ملبيا، وتقول: "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك. لبيك ذا المعارج، لبيك لبيك تبدئ والمعاد إليك، لبيك لبيك داعيا إلى دار السلام، لبيك لبيك غفار الذنوب، لبيك لبيك مرهوبا ومرغوبا إليك، لبيك لبيك أنت الغنى ونحن الفقراء إليك. …
THE TALBIYAH Then recite the four mandatory phrases of the Talbiyah silently: "Here I am, O Allah (swt), here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Indeed, all praise, blessings, and sovereignty are Yours. You have no partner." These four are obligatory. Then proceed for a short while. When you reach level ground, whether riding or walking, proclaim the Talbiyah and raise your voice. If you are traveling the route of Medina and have assumed Ihram from the Mosque of the Tree (Masjid Al-Shajarah), recite the four obligatory Talbiyah phrases silently until you reach Al-Bayda' and the milestone to the left of the road. When you reach it, raise your voice with the Talbiyah and do not …
تلبیہ پھر تم چار فرض تلبیے خاموشی میں کہو: "یہاں میں ہوں اے اللہ یہاں میں ہوں، یہاں میں ہوں تیرا کوئی شریک نہیں یہاں میں ہوں، سب تعریف اور نعمت تیری ہے، اور بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔" یہ چار فرض ہیں۔ پھر آگے بڑھو کچھ دیر تک۔ جب تمہارے نیچے زمین برابر ہو تو خواہ تم سوار ہو یا پیدل ہو، تلبیہ کو بلند صورت میں کہو۔ اگر تم مدینہ کی سڑک سے آ رہے ہو اور مسجد الشجرہ سے احرام باندھا ہے تو ان چار فرض تلبیوں کو خاموشی سے کہو یہاں تک کہ تم البیدا تک پہنچو اور جو میل کا پتھر سڑک کے بائیں طرف ہے وہاں تک۔ جب اس تک پہنچو تو تلبیہ کو بلند صورت میں کہو اور اس میل کو بغیر تلبیہ کہے مت چھوڑو۔ کہو: "یہاں میں ہوں اے اللہ یہاں میں ہوں، یہاں میں ہوں تیرا کوئی شریک نہیں یہاں میں ہوں، سب تعریف اور نعمت …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Narrated 'Aishah:The Prophet (Saws) ordered a horned ram with black legs, black belly and black round the eyes, and it was brought from him to sacrifice. He said: 'Aishah, get the knife then he said: Sharpen it with a stone. So I did. He took it, then take the ram he placed it on the ground and slaughtered it. He then said: In the name of Allah. O Allah, accept it for Muhammad, Muhammad's family and Muhammad's people. Then he sacrificed it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ دار مینڈھا لانے کا حکم دیا جس کی آنکھ سیاہ ہو، سینہ، پیٹ اور پاؤں بھی سیاہ ہوں، پھر اس کی قربانی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ چھری لاؤ ، پھر فرمایا: اسے پتھر پر تیز کرو ، تو میں نے چھری تیز کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ میں لیا اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور کہا:«بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد» اللہ کے نام سے ذبح کرتا ہوں، اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد کی جانب سے اسے قبول فرما پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قربانی کی۔
Hadith.5205 - Ibn Mahbub narrated from Ali ibn Ri'ab from Abdullah ibn Sinan from Abu Abdullah (as) regarding a man who pushed another man onto someone else, causing that person's death. Imam (as) said: "The blood money (diyyah) is upon the one who fell onto the man and killed him, and it must be paid to the heirs of the murdered person." Imam (as) further said: "Then the one who was pushed may seek the diyyah from the one who pushed him." Imam (as) also said: "And if the one who was pushed suffers any harm, the responsibility falls upon the one who pushed him as well."
ابن محبوب سے علي بن رئاب سے عبد اللہ بن سنان سے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے: رجل جو رجل کو رجل کے اوپر دھکا دیتا ہے تو وہ مار دیتا ہے۔ فرمایا: دیہ اس پر ہے جو رجل کے اوپر گرا اور وہ قتل ہوا، مقتول کے ولیوں کے لیے۔ اور جو دھکا دیا گیا وہ دیہ کے ساتھ واپس لوٹائے گا جس نے اسے دھکیا۔ اور اگر مدفوع کو کچھ نقصان ہو تو وہ بھی دافع پر ہے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallLo! Allah defendeth those who are true. Lo! Allah loveth not each treacherous ingrate.
Yusuf AliVerily Allah will defend (from ill) those who believe: verily, Allah loveth not any that is a traitor to faith, or show ingratitude.
The agreed readingGod defends those who believe. He does not love anyone who betrays a trust and is ungrateful for what he was given.
Urduاللہ ان لوگوں کا دفاع کرتا ہے جو ایمان لائے ہیں۔ وہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو امانت میں خیانت کرے اور جو کچھ اسے دیا گیا اس پر ناشکری کرے۔
Arabicإن الله يدفع عن الذين آمنوا شر أعدائهم ويحميهم من كيدهم، فإن الله لا يحب كل خوان لأمانته، كفور لنعمه لا يشكرها بل يجحدها ويكفر بها.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ قَالَ رَجُلٌ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ فَنَزَلَتْ : ( أذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ * الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ ) النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ .
Narrated Sa'eed bin Jubair:"When the Prophet (ﷺ) was expelled from Makkah a man said: 'They have driven out their Prophet' so (the following) was revealed: "Permission (to fight) is given to those who are fought against, because they have been wronged; and surely, Allah is able to give them victory. Those who have been expelled from their homes unjustly (22:39)." [Those who were expelled were the Prophet (ﷺ) and his Companions
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکالے گئے، ایک آدمی نے کہا: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا تو اس پر آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير الذين أخرجوا من ديارهم بغير حق» ”ان لوگوں کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے مظلوم ( و کمزور ) سمجھ کر جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، اللہ ان ( مظلومین ) کی مدد پر قادر ہے“ ( الحج: ۳۹ ) ، نازل ہوئی، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو ناحق نکال دیا گیا ۱؎۔
اضطجع بين ركعتي الفجر وركعتي الغداة على يمينك مستقبل القبلة وقل في ضجعتك استمسكت بعروة الله الوثقى التي لا انفصام لها، واعتصمت بحبل الله المتين، وأعوذ بالله من شر فسقة العرب والعجم، وأعوذ بالله من شر فسقه الجن والإنس ، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح، فالق الاصباح، سبحان رب الصباح فالق الاصباح " ثم تقول: " بسم الله وضعت جنبي لله، فوضت أمري إلى الله أطلب حاجتي من الله توكلت على الله حسبي الله ونعم الوكيل ومن يتوكل على الله فهو حسبه إن الله بالغ أمره قد جعل الله لكل شئ قدرا اللهم ومن أصبح وحاجته إلى مخلوق فإن حاجتي ورغبتي إليك " وتقرأ خمس آيات من آخر آل عمران " إن في خلق السماوات والأرض - إلى قوله: - إنك لا تخلف الميعاد. وصل على محمد وآله مائة مرة فإنه
Between the two Rak'ahs of Fajr and the two Rak'ahs of Ghadah (morning prayer), lie down on your right side facing the Qibla and say: "I have held firmly to the strong rope of Allah (swt) which cannot be broken, and I have sought refuge in the strong handhold of Allah (swt). I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the Arabs and non-Arabs, and I seek refuge in Allah (swt) from the evil of the wicked among the jinn and humans. Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning, Glory be to the Lord (azj) of the morning, the one who splits the morning." Then say: "In the …
فجر کی دونوں رکعات اور صبح کی نماز کی دونوں رکعات کے درمیان اپنے دائیں جانب لیٹو اور قبلہ کی طرف رخ کیے ہوئے کہو: میں نے اللہ کی مضبوط رسی کو مضبوطی سے تھاما ہے جس میں کوئی شگاف نہیں، اور میں نے اللہ کی متین رسی سے اعتصام کیا، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں عرب اور عجم کے فاسقوں کی شرائی سے، اور میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں جن اور انسان کے فاسقوں کی شرائی سے۔ صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا، صبح کے رب کی تسبیح ہے، صبح کو پھاڑنے والا۔ پھر کہو: اللہ کے نام سے میں نے اپنا جسم اللہ کے لیے رکھا، میں نے اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کیا، میں اللہ سے اپنی حاجت مانگتا ہوں، میں اللہ پر توکل کرتا ہوں، اللہ مجھ کے لیے کافی ہے اور بہترین محافظ ہے، اور جو …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallSanction is given unto those who fight because they have been wronged; and Allah is indeed Able to give them victory;
Yusuf AliTo those against whom war is made, permission is given (to fight), because they are wronged;- and verily, Allah is most powerful for their aid;-
The agreed readingPermission to fight is given to those who are being fought, because they have been wronged - the commentaries mark this as the first āyah to come down on the matter. And God is well able to help them.
Urduجن لوگوں سے لڑا جا رہا ہے انہیں لڑنے کی اجازت دی گئی ہے، کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے - تفسیریں اس آیت کو اس معاملے میں نازل ہونے والی پہلی آیت قرار دیتی ہیں۔ اور اللہ ان کی مدد کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔
Arabicأذن الله للمؤمنين الذين يقاتلهم المشركون أن يقاتلوا دفاعًا عن أنفسهم، بسبب ما وقع عليهم من ظلم أعدائهم وعدوانهم، وإن الله على نصرهم وإعانتهم لقدير قادر.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 8 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة9 reports cited here — 8 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 8 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
ذكرها al-Ṭabarī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī في هذه الآية
Cited by al-Ṭabarī, Ibn Kathīr and Ṭanṭāwī on this āyah
al-Ṭabarī، Ibn Kathīr، Ṭanṭāwī نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated It was narrated that Ibn Abbas said:“When the Prophet was expelled from Makkah, Abu Bakr said to him: ‘They have driven out their Prophet, verily to Allah we belong and to Him we return. They are surely doomed.’ Then it was revealed: ‘Permission to fight (against disbelievers) is given to those (believers) who are fought against, because they have been wronged; and surely, Allah is able to give them (believers) victory.’ Then I knew that there would be fighting.” Ibn Abbas said: “This is the first Verse that was revealed concerning fighting.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا «إنا لله وإنا إليه راجعون» یہ لوگ ضرور ہلاک ہو جائیں گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ على نصرهم لقدير» ”جن ( مسلمانوں ) سے ( کافر ) جنگ کر رہے ہیں، انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ بھی مظلوم ہیں۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے“۔ ( الحج: ۳۹ ) تو میں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ ہو گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”یہ پہلی آیت ہے جو جنگ کے بارے میں اتری ہے“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ قَالَ رَجُلٌ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ فَنَزَلَتْ : ( أذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ * الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ ) النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ .
Narrated Sa'eed bin Jubair:"When the Prophet (ﷺ) was expelled from Makkah a man said: 'They have driven out their Prophet' so (the following) was revealed: "Permission (to fight) is given to those who are fought against, because they have been wronged; and surely, Allah is able to give them victory. Those who have been expelled from their homes unjustly (22:39)." [Those who were expelled were the Prophet (ﷺ) and his Companions
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکالے گئے، ایک آدمی نے کہا: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا تو اس پر آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير الذين أخرجوا من ديارهم بغير حق» ”ان لوگوں کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے مظلوم ( و کمزور ) سمجھ کر جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، اللہ ان ( مظلومین ) کی مدد پر قادر ہے“ ( الحج: ۳۹ ) ، نازل ہوئی، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو ناحق نکال دیا گیا ۱؎۔
Narrated Ibn 'Abbas:"When the Prophet (ﷺ) was expelled from Makkah, Abu Bakr said: 'They have driven out their Prophet to their own doom.' So Allah, Most High, revealed: 'Permission (to fight) is given to those who are fought against, because they have been wronged; and surely, Allah is able to give them victory (22:39).' So Abu Bakr said: 'Then I knew that there would be fighting
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنے نبی کو ( اپنے وطن سے ) نکال دیا ہے، یہ لوگ ضرور ہلاک ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير» ”ان لوگوں کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے مظلوم ( و کمزور ) سمجھ کر جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، اللہ ان ( مظلومین ) کی مدد پر قادر ہے“ ( الحج: ۳۹ ) ، نازل فرمائی ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: ( جب یہ آیت نازل ہوئی تو ) میں نے یہ سمجھ لیا کہ اب ( مسلمانوں اور کافروں میں ) لڑائی ہو گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
It has been reported on the authority of Barra' who said:The Messenger of Allah (ﷺ) was carrying the earth with us on the Day of Ahzab and the whiteness of his belly had been covered with earth. (While engaged in this toil) he was reciting: By God, if Thou hadst not guided us We would have neither been guided aright nor practised charity, Nor offered prayers. Descend on us peace and tranquillity. Behold I these people (the Meccans) refused to follow us. According to another version, he recited: The chieftains (of the tribes) refused to follow us When they contemplated mischief, we rejected it. And with this (verse) he would raise his voice
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مٹی اٹھا کر پھینک رہے تھے ، ( اس ) مٹی نے بطن مبارک کی سفیدی کو چھپا لیا تھا اور آپ فرما رہے تھے : "" اللہ کی قسم! اگر تیرا کرم نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ، نہ صدقہ کرتے ، نہ نماز پڑھتے ۔ ہم پر ضرور بالضرور سکینت نازل فرما ۔ ان لوگوں نے ہم پر ظؒم کیا ہے ۔ "" کہا : بسا اوقات آپ فرماتے : "" ان سرداروں نے ہم پر ( اپنا ظلم روکنے سے ) انکار کر دیا ، جب وہ فتنے کا ارادہ کرتے ہیں ہم اس ( میں پڑنے ) سے انکار کر دیتے ہیں ۔ "" آپ ان ( الفاظ ) پر اپنی آواز کو بلند فرما لیتے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَنْقُلُ التُّرَابَ حَتَّى وَارَى التُّرَابُ شَعَرَ صَدْرِهِ، وَكَانَ رَجُلاً كَثِيرَ الشَّعَرِ وَهْوَ يَرْتَجِزُ بِرَجَزِ عَبْدِ اللَّهِ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأَعْدَاءَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ.
Narrated Al-Bara:I saw Allah's Messenger (ﷺ) on the day (of the battle) of the Trench carrying earth till the hair of his chest were covered with dust and he was a hairy man. He was reciting the following verses of `Abdullah (bin Rawaha): "O Allah, were it not for You, We would not have been guided, Nor would we have given in charity, nor prayed. So, bestow on us calmness, and when we meet the enemy. Then make our feet firm, for indeed, Yet if they want to put us in affliction, (i.e. want to fight against us) we would not (flee but withstand them)." The Prophet (ﷺ) used to raise his voice while reciting these verses. (See Hadith No. 432, Vol)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ غزوہ احزاب میں ( خندق کھودتے ہوئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود مٹی اٹھا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سینہ مبارک کے بال مٹی سے اٹ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( جسم مبارک پر ) بال بہت گھنے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھ رہے تھے ”اے اللہ! اگر تیری ہدایت نہ ہوتی تو ہم کبھی سیدھا راستہ نہ پاتے ‘ نہ صدقہ کر سکتے اور نہ نماز پڑھتے۔ اب تو، یا اللہ! ہمارے دلوں کو سکون اور اطمینان عطا فرما ‘ اور اگر ( دشمنوں سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھ ‘ دشمنوں نے ہمارے اوپر زیادتی کی ہے۔ جب بھی وہ ہم کو …
Narrated Al-Bara:When it was the day of Al-Ahzab (i.e. the clans) and Allah's Messenger (ﷺ) dug the trench, I saw him carrying earth out of the trench till dust made the skin of his `Abdomen out of my sight and he was a hairy man. I heard him reciting the poetic verses composed by Ibn Rawaha while he was carrying the earth, "O Allah! Without You we would not have been guided, nor would we have given in charity, nor would we have prayed. So, (O Allah), please send Sakina (i.e. calmness) upon us and make our feet firm if we meet the enemy, as they have rebelled against us. And if they intend affliction (i.e. want to frighten us, and fight against us) then we would not (flee but withstand …
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے ابواسحاق سبیعی نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ خندق کھودتے ہوئے اس کے اندر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کی کھال مٹی سے اٹ گئی تھی۔ آپ کے ( سینے سے پیٹ تک ) گھنے بالوں ( کی ایک لکیر ) تھی۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار مٹی اٹھاتے ہوئے پڑھ رہے تھے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس …
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى أَغْمَرَ بَطْنَهُ أَوِ اغْبَرَّ بَطْنُهُ يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ أَبَيْنَا أَبَيْنَا.
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) was carrying earth on the day of Al-Khandaq till his `Abdomen was fully covered with dust, and he was saying, "By Allah, without Allah we would not have been guided, neither would we have given in charity, nor would we have prayed. So (O Allah), please send Sakina (i.e. calmness) upon us, and make our feet firm if we meet the enemy as the enemy have rebelled against us, and if they intend affliction, (i.e. want to frighten us and fight against us then we would not flee but withstand them)." The Prophet (ﷺ) used to raise his voice saying, "Abaina! Abaina! (i.e. would not, we would not)
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے ان سے ابواسحاق سبیعی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق میں ( خندق کی کھدائی کے وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بطن مبارک غبار سے اٹ گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا۔ نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس تو ہمارے دلوں پر سکینت و طمانیت نازل فرما اور اگر ہماری کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عنایت فرما۔ جو لوگ ہمارے خلاف چڑھ آئے ہیں جب یہ کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں مانتے۔ «أبينا أبينا» ( ہم ان کی نہیں مانتے۔ ہم ان کی نہیں مانتے ) …
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ يَنْقُلُ التُّرَابَ وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ، وَهُوَ يَقُولُ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا. فَأَنْزِلِ السَّكِينَةَ عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا. إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا.
Narrated Al-Bara:On the day (of the battle) of Al-Ahzab (i.e. clans) I saw the Prophet (ﷺ) carrying earth, and the earth was covering the whiteness of his `Abdomen. And he was saying, "Without You (O Allah!) we would have got no guidance, nor given in charity, nor prayed. So please bless us with tranquility and make firm our feet when we meet our enemies. Indeed (these) people have rebelled against (oppressed) us but never shall we yield if they try to bring affliction upon us
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب ( خندق ) کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی ( خندق کھودنے کی وجہ سے جو نکلتی تھی ) خود ڈھو رہے تھے۔ مٹی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور یہ شعر کہہ رہے تھے «لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا. فأنزل السكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا. إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا.» ”اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور ہم نہ صدقہ دیتے، اور نہ نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما، اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں، تو ہمیں ثابت قدم رکھ، بے شک ان لوگوں نے ہم پر …
56 - محمد بن همام قال: حدثنا جعفر بن محمد بن مالك الفزاري الكوفي، قال: حدثني محمد بن أحمد، عن محمد بن سنان، عن يونس بن ظبيان، عن أبي عبد الله قال: إذا كان ليلة الجمعة أهبط الرب تعالى ملكاً إلى السماء الدنيا، فإذا طلع الفجر جلس ذلك الملك على العرش فوق البيت المعمور، ونصب لمحمد وعلي والحسن والحسين منابر من نور، فيصعدون عليها وتجمع لهم الملائكة والنبيون والمؤمنون، وتفتح أبواب السماء، فإذا زالت الشمس قال رسول الله: يا رب ميعادك الذي وعدت به في كتابك. هو هذه الآية وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ …
(56) Muhammad bin Hammam narrated from Ja’far bin Muhammad bin Malik from Muhammad bin Ahmad from Muhammad bin Sinan from Younus bin Dhabyan that Abu Abdullah as-Sadiq (as) had said: “When the night of Friday comes, Allah sends down an angel to the lower heaven. When dawn comes, the angel sits on a throne on the House (the Kaaba) and sets minbars of light for Muhammad, Ali, al-Hasan and al-Husayn (peace be upon them). They ascend the minbars. The angels, the prophets and the believers are invited to gather before them. The gates of the heavens are opened. When the sun declines, the Prophet (S) says: “O my Lord, carry out Your promise that You have promised of in Your Book by this verse, …
محمد بن ہمام کہتے ہیں: جعفر بن محمد بن مالک الفزاری الکوفی نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: محمد بن احمد نے مجھے حدیث سنائی، محمد بن سنان سے، وہ یونس بن ظبیان سے روایت کرتے ہیں، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے، انہوں نے فرمایا: جب جمعہ کی رات ہوتی ہے تو رب تعالیٰ ایک فرشتہ آسمان دنیا میں نازل فرماتا ہے، پھر جب فجر طلوع ہوتی ہے تو وہ فرشتہ بیت المعمور کے اوپر عرش پر بیٹھ جاتا ہے، اور محمد و علی اور حسن و حسین کے لیے نور کے منبر نصب کرتا ہے، پھر وہ ان منبروں پر چڑھتے ہیں، اور ملائکہ اور انبیاء اور مومنین ان کے پاس جمع کر دیے جاتے ہیں، اور آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھلتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں: یا رب! یہ تمہارا وہ وعدہ ہے جو تم نے اپنی کتاب میں دیا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThose who have been driven from their homes unjustly only because they said: Our Lord is Allah - For had it not been for Allah's repelling some men by means of others, cloisters and churches and oratories and mosques, wherein the name of Allah is oft mentioned, would assuredly have been pulled down. Verily Allah helpeth one who helpeth Him. Lo! Allah is Strong, Almighty -
Yusuf Ali(They are) those who have been expelled from their homes in defiance of right,- (for no cause) except that they say, "our Lord is Allah". Did not Allah check one set of people by means of another, there would surely have been pulled down monasteries, churches, synagogues, and mosques, in which the name of Allah is commemorated in abundant measure. Allah will certainly aid those who aid his (cause);- for verily Allah is full of Strength, Exalted in Might, (able to enforce His Will).
The agreed readingThey were driven out of their homes for no reason except that they said: our Lord is God - and that is no reason at all. Were it not that God holds some people back by means of others, the places where God's name is much mentioned would have been pulled down: monasteries, churches, synagogues and mosques alike. God helps whoever helps His cause; He is strong and mighty.
Urduانہیں اپنے گھروں سے کسی جرم کے بغیر نکالا گیا، سوائے اس کے کہ وہ کہتے تھے: ہمارا رب اللہ ہے - اور یہ کوئی وجہ ہی نہیں تھی۔ اگر اللہ لوگوں میں سے ایک گروہ کو دوسرے کے ذریعے نہ روکتا تو وہ جگہیں گرا دی جاتیں جہاں اللہ کا نام بکثرت لیا جاتا ہے: خانقاہیں، گرجا گھر، عبادت خانے اور مسجدیں سب۔ اللہ اس کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کرے، وہ زبردست اور غالب ہے۔
Arabicهؤلاء هم الذين أخرجهم الكفار من ديارهم ظلمًا بغير جرم ارتكبوه، إلا أنهم قالوا: ربنا الله. ولولا أن الله يدفع بعض الناس ببعض لهُدمت صوامع الرهبان وكنائس النصارى ومساجد المسلمين التي يُذكر فيها اسم الله كثيرًا، والله ينصر من ينصر دينه، إنه لقوي عزيز.
الأخبار المذكورة هنا: 8 — 7 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة8 reports cited here — 7 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 8 — 7 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Narrated It was narrated that Ibn Abbas said:“When the Prophet was expelled from Makkah, Abu Bakr said to him: ‘They have driven out their Prophet, verily to Allah we belong and to Him we return. They are surely doomed.’ Then it was revealed: ‘Permission to fight (against disbelievers) is given to those (believers) who are fought against, because they have been wronged; and surely, Allah is able to give them (believers) victory.’ Then I knew that there would be fighting.” Ibn Abbas said: “This is the first Verse that was revealed concerning fighting.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا «إنا لله وإنا إليه راجعون» یہ لوگ ضرور ہلاک ہو جائیں گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ على نصرهم لقدير» ”جن ( مسلمانوں ) سے ( کافر ) جنگ کر رہے ہیں، انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ بھی مظلوم ہیں۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے“۔ ( الحج: ۳۹ ) تو میں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ ہو گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”یہ پہلی آیت ہے جو جنگ کے بارے میں اتری ہے“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ قَالَ رَجُلٌ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ فَنَزَلَتْ : ( أذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ * الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ ) النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ .
Narrated Sa'eed bin Jubair:"When the Prophet (ﷺ) was expelled from Makkah a man said: 'They have driven out their Prophet' so (the following) was revealed: "Permission (to fight) is given to those who are fought against, because they have been wronged; and surely, Allah is able to give them victory. Those who have been expelled from their homes unjustly (22:39)." [Those who were expelled were the Prophet (ﷺ) and his Companions
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکالے گئے، ایک آدمی نے کہا: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا تو اس پر آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير الذين أخرجوا من ديارهم بغير حق» ”ان لوگوں کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے مظلوم ( و کمزور ) سمجھ کر جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، اللہ ان ( مظلومین ) کی مدد پر قادر ہے“ ( الحج: ۳۹ ) ، نازل ہوئی، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو ناحق نکال دیا گیا ۱؎۔
It has been reported on the authority of Barra' who said:The Messenger of Allah (ﷺ) was carrying the earth with us on the Day of Ahzab and the whiteness of his belly had been covered with earth. (While engaged in this toil) he was reciting: By God, if Thou hadst not guided us We would have neither been guided aright nor practised charity, Nor offered prayers. Descend on us peace and tranquillity. Behold I these people (the Meccans) refused to follow us. According to another version, he recited: The chieftains (of the tribes) refused to follow us When they contemplated mischief, we rejected it. And with this (verse) he would raise his voice
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مٹی اٹھا کر پھینک رہے تھے ، ( اس ) مٹی نے بطن مبارک کی سفیدی کو چھپا لیا تھا اور آپ فرما رہے تھے : "" اللہ کی قسم! اگر تیرا کرم نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ، نہ صدقہ کرتے ، نہ نماز پڑھتے ۔ ہم پر ضرور بالضرور سکینت نازل فرما ۔ ان لوگوں نے ہم پر ظؒم کیا ہے ۔ "" کہا : بسا اوقات آپ فرماتے : "" ان سرداروں نے ہم پر ( اپنا ظلم روکنے سے ) انکار کر دیا ، جب وہ فتنے کا ارادہ کرتے ہیں ہم اس ( میں پڑنے ) سے انکار کر دیتے ہیں ۔ "" آپ ان ( الفاظ ) پر اپنی آواز کو بلند فرما لیتے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَنْقُلُ التُّرَابَ حَتَّى وَارَى التُّرَابُ شَعَرَ صَدْرِهِ، وَكَانَ رَجُلاً كَثِيرَ الشَّعَرِ وَهْوَ يَرْتَجِزُ بِرَجَزِ عَبْدِ اللَّهِ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأَعْدَاءَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ.
Narrated Al-Bara:I saw Allah's Messenger (ﷺ) on the day (of the battle) of the Trench carrying earth till the hair of his chest were covered with dust and he was a hairy man. He was reciting the following verses of `Abdullah (bin Rawaha): "O Allah, were it not for You, We would not have been guided, Nor would we have given in charity, nor prayed. So, bestow on us calmness, and when we meet the enemy. Then make our feet firm, for indeed, Yet if they want to put us in affliction, (i.e. want to fight against us) we would not (flee but withstand them)." The Prophet (ﷺ) used to raise his voice while reciting these verses. (See Hadith No. 432, Vol)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ غزوہ احزاب میں ( خندق کھودتے ہوئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود مٹی اٹھا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سینہ مبارک کے بال مٹی سے اٹ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( جسم مبارک پر ) بال بہت گھنے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھ رہے تھے ”اے اللہ! اگر تیری ہدایت نہ ہوتی تو ہم کبھی سیدھا راستہ نہ پاتے ‘ نہ صدقہ کر سکتے اور نہ نماز پڑھتے۔ اب تو، یا اللہ! ہمارے دلوں کو سکون اور اطمینان عطا فرما ‘ اور اگر ( دشمنوں سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھ ‘ دشمنوں نے ہمارے اوپر زیادتی کی ہے۔ جب بھی وہ ہم کو …
Narrated Al-Bara:When it was the day of Al-Ahzab (i.e. the clans) and Allah's Messenger (ﷺ) dug the trench, I saw him carrying earth out of the trench till dust made the skin of his `Abdomen out of my sight and he was a hairy man. I heard him reciting the poetic verses composed by Ibn Rawaha while he was carrying the earth, "O Allah! Without You we would not have been guided, nor would we have given in charity, nor would we have prayed. So, (O Allah), please send Sakina (i.e. calmness) upon us and make our feet firm if we meet the enemy, as they have rebelled against us. And if they intend affliction (i.e. want to frighten us, and fight against us) then we would not (flee but withstand …
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے ابواسحاق سبیعی نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ خندق کھودتے ہوئے اس کے اندر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کی کھال مٹی سے اٹ گئی تھی۔ آپ کے ( سینے سے پیٹ تک ) گھنے بالوں ( کی ایک لکیر ) تھی۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار مٹی اٹھاتے ہوئے پڑھ رہے تھے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس …
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى أَغْمَرَ بَطْنَهُ أَوِ اغْبَرَّ بَطْنُهُ يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ أَبَيْنَا أَبَيْنَا.
Narrated Al-Bara:The Prophet (ﷺ) was carrying earth on the day of Al-Khandaq till his `Abdomen was fully covered with dust, and he was saying, "By Allah, without Allah we would not have been guided, neither would we have given in charity, nor would we have prayed. So (O Allah), please send Sakina (i.e. calmness) upon us, and make our feet firm if we meet the enemy as the enemy have rebelled against us, and if they intend affliction, (i.e. want to frighten us and fight against us then we would not flee but withstand them)." The Prophet (ﷺ) used to raise his voice saying, "Abaina! Abaina! (i.e. would not, we would not)
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے ان سے ابواسحاق سبیعی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق میں ( خندق کی کھدائی کے وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بطن مبارک غبار سے اٹ گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا۔ نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس تو ہمارے دلوں پر سکینت و طمانیت نازل فرما اور اگر ہماری کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عنایت فرما۔ جو لوگ ہمارے خلاف چڑھ آئے ہیں جب یہ کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں مانتے۔ «أبينا أبينا» ( ہم ان کی نہیں مانتے۔ ہم ان کی نہیں مانتے ) …
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ يَنْقُلُ التُّرَابَ وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ، وَهُوَ يَقُولُ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا. فَأَنْزِلِ السَّكِينَةَ عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا. إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا.
Narrated Al-Bara:On the day (of the battle) of Al-Ahzab (i.e. clans) I saw the Prophet (ﷺ) carrying earth, and the earth was covering the whiteness of his `Abdomen. And he was saying, "Without You (O Allah!) we would have got no guidance, nor given in charity, nor prayed. So please bless us with tranquility and make firm our feet when we meet our enemies. Indeed (these) people have rebelled against (oppressed) us but never shall we yield if they try to bring affliction upon us
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب ( خندق ) کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی ( خندق کھودنے کی وجہ سے جو نکلتی تھی ) خود ڈھو رہے تھے۔ مٹی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور یہ شعر کہہ رہے تھے «لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا. فأنزل السكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا. إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا.» ”اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور ہم نہ صدقہ دیتے، اور نہ نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما، اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں، تو ہمیں ثابت قدم رکھ، بے شک ان لوگوں نے ہم پر …
56 - محمد بن همام قال: حدثنا جعفر بن محمد بن مالك الفزاري الكوفي، قال: حدثني محمد بن أحمد، عن محمد بن سنان، عن يونس بن ظبيان، عن أبي عبد الله قال: إذا كان ليلة الجمعة أهبط الرب تعالى ملكاً إلى السماء الدنيا، فإذا طلع الفجر جلس ذلك الملك على العرش فوق البيت المعمور، ونصب لمحمد وعلي والحسن والحسين منابر من نور، فيصعدون عليها وتجمع لهم الملائكة والنبيون والمؤمنون، وتفتح أبواب السماء، فإذا زالت الشمس قال رسول الله: يا رب ميعادك الذي وعدت به في كتابك. هو هذه الآية وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ …
(56) Muhammad bin Hammam narrated from Ja’far bin Muhammad bin Malik from Muhammad bin Ahmad from Muhammad bin Sinan from Younus bin Dhabyan that Abu Abdullah as-Sadiq (as) had said: “When the night of Friday comes, Allah sends down an angel to the lower heaven. When dawn comes, the angel sits on a throne on the House (the Kaaba) and sets minbars of light for Muhammad, Ali, al-Hasan and al-Husayn (peace be upon them). They ascend the minbars. The angels, the prophets and the believers are invited to gather before them. The gates of the heavens are opened. When the sun declines, the Prophet (S) says: “O my Lord, carry out Your promise that You have promised of in Your Book by this verse, …
محمد بن ہمام کہتے ہیں: جعفر بن محمد بن مالک الفزاری الکوفی نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: محمد بن احمد نے مجھے حدیث سنائی، محمد بن سنان سے، وہ یونس بن ظبیان سے روایت کرتے ہیں، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے، انہوں نے فرمایا: جب جمعہ کی رات ہوتی ہے تو رب تعالیٰ ایک فرشتہ آسمان دنیا میں نازل فرماتا ہے، پھر جب فجر طلوع ہوتی ہے تو وہ فرشتہ بیت المعمور کے اوپر عرش پر بیٹھ جاتا ہے، اور محمد و علی اور حسن و حسین کے لیے نور کے منبر نصب کرتا ہے، پھر وہ ان منبروں پر چڑھتے ہیں، اور ملائکہ اور انبیاء اور مومنین ان کے پاس جمع کر دیے جاتے ہیں، اور آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھلتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں: یا رب! یہ تمہارا وہ وعدہ ہے جو تم نے اپنی کتاب میں دیا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThose who, if We give them power in the land, establish worship and pay the poor-due and enjoin kindness and forbid iniquity. And Allah's is the sequel of events.
Yusuf Ali(They are) those who, if We establish them in the land, establish regular prayer and give regular charity, enjoin the right and forbid wrong: with Allah rests the end (and decision) of (all) affairs.
The agreed readingThey are the ones who, if they are given power in the land, establish the prayer, give the zakat, call for what is right and forbid what is wrong. And how affairs end belongs to God.
Urduیہ وہ لوگ ہیں کہ اگر انہیں زمین میں اقتدار دیا جائے تو وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ اور تمام معاملات کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
Arabicهؤلاء إن مكّناهم في الأرض أدَّوا الصلاة على أكمل وجه، وأعطوا زكاة أموالهم، وأمروا بما أمر به الشرع، ونهوا عما نهى عنه، ولله وحده مرجع الأمور.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب الشيعة2 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام شیعہ کتب سے
56 - محمد بن همام قال: حدثنا جعفر بن محمد بن مالك الفزاري الكوفي، قال: حدثني محمد بن أحمد، عن محمد بن سنان، عن يونس بن ظبيان، عن أبي عبد الله قال: إذا كان ليلة الجمعة أهبط الرب تعالى ملكاً إلى السماء الدنيا، فإذا طلع الفجر جلس ذلك الملك على العرش فوق البيت المعمور، ونصب لمحمد وعلي والحسن والحسين منابر من نور، فيصعدون عليها وتجمع لهم الملائكة والنبيون والمؤمنون، وتفتح أبواب السماء، فإذا زالت الشمس قال رسول الله: يا رب ميعادك الذي وعدت به في كتابك. هو هذه الآية وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ …
(56) Muhammad bin Hammam narrated from Ja’far bin Muhammad bin Malik from Muhammad bin Ahmad from Muhammad bin Sinan from Younus bin Dhabyan that Abu Abdullah as-Sadiq (as) had said: “When the night of Friday comes, Allah sends down an angel to the lower heaven. When dawn comes, the angel sits on a throne on the House (the Kaaba) and sets minbars of light for Muhammad, Ali, al-Hasan and al-Husayn (peace be upon them). They ascend the minbars. The angels, the prophets and the believers are invited to gather before them. The gates of the heavens are opened. When the sun declines, the Prophet (S) says: “O my Lord, carry out Your promise that You have promised of in Your Book by this verse, …
محمد بن ہمام کہتے ہیں: جعفر بن محمد بن مالک الفزاری الکوفی نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: محمد بن احمد نے مجھے حدیث سنائی، محمد بن سنان سے، وہ یونس بن ظبیان سے روایت کرتے ہیں، وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے، انہوں نے فرمایا: جب جمعہ کی رات ہوتی ہے تو رب تعالیٰ ایک فرشتہ آسمان دنیا میں نازل فرماتا ہے، پھر جب فجر طلوع ہوتی ہے تو وہ فرشتہ بیت المعمور کے اوپر عرش پر بیٹھ جاتا ہے، اور محمد و علی اور حسن و حسین کے لیے نور کے منبر نصب کرتا ہے، پھر وہ ان منبروں پر چڑھتے ہیں، اور ملائکہ اور انبیاء اور مومنین ان کے پاس جمع کر دیے جاتے ہیں، اور آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھلتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں: یا رب! یہ تمہارا وہ وعدہ ہے جو تم نے اپنی کتاب میں دیا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
7. Through the same chain of narrators it is narrated from abu Ja‘far (a.s.) who has said the following. “Allah, Majestic is Whose mention, created the Night of Determination when He first created the world and created in it the first prophet that would come and the first executor of the will (of prophet) that would come. He decreed that in every year there must be one night in which the interpretation and the clarification of would be sent until another such night in the coming year. Whoever would deny it has certainly rejected the knowledge of Allah, Majestic is Whose mention. It is because the prophets, the Messengers and Muhadditun (spokesmen for Allah) without receiving Divine …
۷۔ ابوجعفر علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے رات القدر کو اسی وقت خلق کیا جب اس نے دنیا کو سب سے پہلے خلق کیا، اور اس میں اس نے سب سے پہلے نبی کو خلق کیا جو ہوگا اور سب سے پہلے وصی کو خلق کیا جو ہوگا۔ اور اس نے قضاء کی ہے کہ ہر سال میں ایک رات ہو جس میں وہ اگلے سال تک امور کی تفسیر نازل کرے۔ جو اس کا انکار کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم کو رد کرتا ہے، کیونکہ انبیاء، رسل اور محدثین اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتے جب تک ان پر اللہ کی حجت نہ ہو - وہ حجت جو انہیں اس رات میں ملتی ہے ساتھ ہی جبریل علیہ السلام جو انہیں حجت دیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: محدثین کو بھی جبریل یا دوسرے فرشتے آتے ہیں؟ امام نے فرمایا: انبیاء اور رسل صلی اللہ علیہ وآلہ کے لیے تو یقیناً ہے، لیکن ان سے سوا …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallIf they deny thee (Muhammad), even so the folk of Noah, and (the tribes of) A'ad and Thamud, before thee, denied (Our messengers);
Yusuf AliIf they treat thy (mission) as false, so did the peoples before them (with their prophets),- the People of Noah, and 'Ad and Thamud;
The agreed readingIf they call Muhammad a liar, the people of Noah did the same before them, and Ad, who were Hud's people, and Thamud, who were Salih's. It is said to settle him.
Urduاگر یہ لوگ محمد کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے قوم نوح نے بھی یہی کیا تھا، اور عاد نے جو ہود کی قوم تھی، اور ثمود نے جو صالح کی قوم تھی۔ یہ بات آپ کو تسلی دینے کے لیے کہی گئی ہے۔
Arabicوإن يكذبك قومك أيها الرسول فلست أول رسول كذبه قومه من قبل، فقد كذب قبلهم قوم نوح نبيهم نوحًا، وكذبت عاد نبيها هودًا، وثمود نبيها صالحًا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ". قَالَ ثُمَّ قَرَأَ {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهْىَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ}
Narrated Abu Musa:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah gives respite to the oppressor, but when He takes him over, He never releases him." Then he recited:-- "Such is the seizure of your Lord when He seizes (population of) towns in the midst of their wrong: Painful indeed, and severe is His seizure
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے برید بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهى ظالمة إن أخذه أليم شديد» ”اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے۔ جو ( اپنے اوپر ) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے۔“
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ اللَّهَ يُمْلِي لِلظَّالِمِ فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ " . ثُمَّ قَرَأَ {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ} .
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Allah gives respite to the wrongdoer, then when He seizes him, He does not let him go.” Then he recited: “Such is the Seizure of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong.”[11:]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے ( سورة الهود: 102 ) ، کی تلاوت کی۔
PickthallAnd the folk of Abraham and the folk of Lot;
Yusuf AliThose of Abraham and Lut;
The agreed readingAnd the people of Abraham did the same, and the people of Lot: the list is of peoples who each had a messenger among them and each called him a liar.
Urduاور ابراہیم کی قوم نے بھی یہی کیا، اور لوط کی قوم نے بھی: یہ فہرست ان اقوام کی ہے جن میں سے ہر ایک کے پاس ایک رسول تھا اور ہر ایک نے اسے جھٹلایا۔
Arabicوكذلك كذب قوم إبراهيم نبيهم إبراهيم من قبل، وكذب قوم لوط نبيهم لوطًا كذلك، فكل أمة من هذه الأمم الغابرة كان لها رسول أرسله الله إليها فكذبته ولم تصدقه.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ". قَالَ ثُمَّ قَرَأَ {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهْىَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ}
Narrated Abu Musa:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah gives respite to the oppressor, but when He takes him over, He never releases him." Then he recited:-- "Such is the seizure of your Lord when He seizes (population of) towns in the midst of their wrong: Painful indeed, and severe is His seizure
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے برید بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهى ظالمة إن أخذه أليم شديد» ”اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے۔ جو ( اپنے اوپر ) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے۔“
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ اللَّهَ يُمْلِي لِلظَّالِمِ فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ " . ثُمَّ قَرَأَ {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ} .
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Allah gives respite to the wrongdoer, then when He seizes him, He does not let him go.” Then he recited: “Such is the Seizure of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong.”[11:]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے ( سورة الهود: 102 ) ، کی تلاوت کی۔
Pickthall(And) the dwellers in Midian. And Moses was denied; but I indulged the disbelievers a long while, then I seized them, and how (terrible) was My abhorrence!
Yusuf AliAnd the Companions of the Madyan People; and Moses was rejected (in the same way). But I granted respite to the Unbelievers, and (only) after that did I punish them: but how (terrible) was my rejection (of them)!
The agreed readingAnd the people of Midian, who were Shuayb's people. And Moses was called a liar too - the wording shifts there, because it was not his own people who denied him. Those who refused were given a long rein, and then they were seized; and how terrible was My rejection of them.
Urduاور مدین والوں نے بھی جھٹلایا، جو شعیب کی قوم تھے۔ اور موسیٰ کو بھی جھٹلایا گیا - یہاں الفاظ بدل جاتے ہیں، کیونکہ انہیں جھٹلانے والے ان کی اپنی قوم نہیں تھے۔ جن لوگوں نے انکار کیا انہیں لمبی مہلت دی گئی، پھر انہیں پکڑ لیا گیا، اور میرا رد کتنا خوفناک تھا۔
Arabicوكذب أصحاب مدين شعيبًا، وكُذّب موسى وإن كان مكذّبوه من غير قومه، فأخّرت العقوبة عن هؤلاء الأقوام مدة، ثم أخذتهم أخذًا شديدًا بالعذاب، فتأمل كيف كان إنكاري عليهم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ". قَالَ ثُمَّ قَرَأَ {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهْىَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ}
Narrated Abu Musa:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah gives respite to the oppressor, but when He takes him over, He never releases him." Then he recited:-- "Such is the seizure of your Lord when He seizes (population of) towns in the midst of their wrong: Painful indeed, and severe is His seizure
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے برید بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهى ظالمة إن أخذه أليم شديد» ”اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے۔ جو ( اپنے اوپر ) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے۔“
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ اللَّهَ يُمْلِي لِلظَّالِمِ فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ " . ثُمَّ قَرَأَ {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ} .
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Allah gives respite to the wrongdoer, then when He seizes him, He does not let him go.” Then he recited: “Such is the Seizure of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong.”[11:]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے ( سورة الهود: 102 ) ، کی تلاوت کی۔
PickthallHow many a township have We destroyed while it was sinful, so that it lieth (to this day) in ruins, and (how many) a deserted well and lofty tower!
Yusuf AliHow many populations have We destroyed, which were given to wrong-doing? They tumbled down on their roofs. And how many wells are lying idle and neglected, and castles lofty and well-built?
The agreed readingHow many a town was destroyed while its people were doing wrong, so that its walls now lie fallen in upon its roofs. And how many a well left standing with no one to draw from it, and a high castle emptied of the people who raised it.
Urduکتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہیں ہم نے تباہ کر دیا جب کہ ان کے لوگ ظلم پر تھے، یہاں تک کہ ان کی دیواریں اپنی چھتوں پر آ گریں۔ اور کتنے ہی کنویں ایسے ہیں جو ویران پڑے ہیں کہ کوئی ان سے پانی نہیں کھینچتا، اور کتنے ہی بلند محل ایسے ہیں جو اپنے بنانے والوں سے خالی ہو گئے۔
Arabicفكم من قرية أهلكناها وهي ظالمة بكفرها، فديارها مهدمة خالية من سكانها، وكم من بئر معطلة لا يستقي منها أحد، وقصر عالٍ مشيد تركه أهله بعد هلاكهم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — جميعها من كتب أهل السنة2 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 2 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ". قَالَ ثُمَّ قَرَأَ {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهْىَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ}
Narrated Abu Musa:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah gives respite to the oppressor, but when He takes him over, He never releases him." Then he recited:-- "Such is the seizure of your Lord when He seizes (population of) towns in the midst of their wrong: Painful indeed, and severe is His seizure
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے برید بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهى ظالمة إن أخذه أليم شديد» ”اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے۔ جو ( اپنے اوپر ) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے۔“
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ اللَّهَ يُمْلِي لِلظَّالِمِ فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ " . ثُمَّ قَرَأَ {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ} .
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Allah gives respite to the wrongdoer, then when He seizes him, He does not let him go.” Then he recited: “Such is the Seizure of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong.”[11:]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے ( سورة الهود: 102 ) ، کی تلاوت کی۔
PickthallHave they not travelled in the land, and have they hearts wherewith to feel and ears wherewith to hear? For indeed it is not the eyes that grow blind, but it is the hearts, which are within the bosoms, that grow blind.
Yusuf AliDo they not travel through the land, so that their hearts (and minds) may thus learn wisdom and their ears may thus learn to hear? Truly it is not their eyes that are blind, but their hearts which are in their breasts.
The agreed readingHave they not travelled in the land, so as to have hearts that understand what they see and ears that hear what they are told? What ruined the peoples before them is standing there to be looked at. It is not the eyes that go blind; it is the hearts inside the chests.
Urduکیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا تاکہ ان کے پاس ایسے دل ہوں جو دیکھی ہوئی چیز کو سمجھیں اور ایسے کان ہوں جو سنی ہوئی بات سمجھیں؟ ان سے پہلے لوگوں کو جس چیز نے تباہ کیا وہ وہاں دیکھنے کے لیے کھڑی ہے۔ اندھی آنکھیں نہیں ہوتیں، اندھے وہ دل ہوتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔
Arabicأفلم يسيروا في الأرض ليروا آثار القرى المهلكة، فتكون لهم قلوب يعقلون بها وآذان يسمعون بها؟ فإن العمى ليس عمى البصر، بل العمى الحقيقي هو عمى البصيرة والقلوب التي في الصدور.
الأخبار المذكورة هنا: 4 — جميعها من كتب أهل السنة4 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 4 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Narrated Anas bin Malik:Abu Jahl said, "O Allah! If this (Qur'an) is indeed the Truth from You, then rain down on us a shower of stones from the sky or bring on us a painful torment." So Allah revealed:-- "But Allah would not punish them while you were amongst them, nor He will punish them while they seek (Allah's) forgiveness..." (8.33) And why Allah should not punish them while they turn away (men) from Al- Masjid-al-Haram (the Sacred Mosque of Mecca)
مجھ سے احمد بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے صاحب الزیادی عبدالحمید نے جو کردید کے صاحبزادے تھے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ کلام تیری طرف سے واقعی حق ہے تو ہم پر آسمانوں سے پتھر برسا دے یا پھر کوئی اور ہی عذاب درد ناک لے آ!“ تو اس پر آیت «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون * وما لهم أن لا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام» ”حالانکہ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب دے، اس حال میں کہ آپ ان میں موجود ہوں اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ ان لوگوں کے لیے کیا وجہ کہ اللہ ان پر عذاب …
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ جَلَسْتُ فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْىِ وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ عَلَيْنَا فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَكَتَ الْقَارِئُ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ " مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا فَكُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله …
Narrated AbuSa'id al-Khudri: I was sitting in the company of the poor members of the emigrants. Some of them were sitting together because of lack of clothing while a reader was reciting to us. All of a sudden the Messenger of Allah (ﷺ) came along and stood beside us. When the Messenger of Allah (ﷺ) stood, the reader stopped and greeted him. He asked: What were you doing? We said: Messenger of Allah! We had a reader who was reciting to us and we were listening to the Book of Allah, the Exalted. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Praise be to Allah Who has put among my people those with whom I have been ordered to stay. The Messenger of Allah (ﷺ) then sat among us so as to be like one of …
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں غریب و خستہ حال مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا: تم لوگ کیا کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا: ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں آ کر …
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ". قَالَ ثُمَّ قَرَأَ {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهْىَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ}
Narrated Abu Musa:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah gives respite to the oppressor, but when He takes him over, He never releases him." Then he recited:-- "Such is the seizure of your Lord when He seizes (population of) towns in the midst of their wrong: Painful indeed, and severe is His seizure
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے برید بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهى ظالمة إن أخذه أليم شديد» ”اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے۔ جو ( اپنے اوپر ) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے۔“
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ اللَّهَ يُمْلِي لِلظَّالِمِ فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ " . ثُمَّ قَرَأَ {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ} .
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Allah gives respite to the wrongdoer, then when He seizes him, He does not let him go.” Then he recited: “Such is the Seizure of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong.”[11:]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے ( سورة الهود: 102 ) ، کی تلاوت کی۔
PickthallAnd they will bid thee hasten on the Doom, and Allah faileth not His promise, but lo! a Day with Allah is as a thousand years of what ye reckon.
Yusuf AliYet they ask thee to hasten on the Punishment! But Allah will not fail in His Promise. Verily a Day in the sight of thy Lord is like a thousand years of your reckoning.
The agreed readingThey press for the punishment to be brought forward. God does not break a promise, and it is coming. But a day with your Lord is like a thousand years of the counting they use.
Urduیہ لوگ عذاب کو جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اللہ اپنا وعدہ نہیں توڑتا، اور وہ ضرور آئے گا۔ لیکن تیرے رب کے ہاں ایک دن ان کے حساب کے مطابق ہزار سال کے برابر ہے۔
Arabicيستعجلك هؤلاء الكفار بالعذاب استهزاءً، ولن يخلف الله وعده الذي وعدهم به أبدًا، وإن يومًا واحدًا عند ربك في الآخرة مثل ألف سنة مما تعدون أنتم في الدنيا.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Baghawī, Ibn Kathīr and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Baghawī، Ibn Kathīr، Ibn ʿĀshūr نے اس آیت پر نقل کیا
Narrated Anas bin Malik:Abu Jahl said, "O Allah! If this (Qur'an) is indeed the Truth from You, then rain down on us a shower of stones from the sky or bring on us a painful torment." So Allah revealed:-- "But Allah would not punish them while you were amongst them, nor He will punish them while they seek (Allah's) forgiveness..." (8.33) And why Allah should not punish them while they turn away (men) from Al- Masjid-al-Haram (the Sacred Mosque of Mecca)
مجھ سے احمد بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے صاحب الزیادی عبدالحمید نے جو کردید کے صاحبزادے تھے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ کلام تیری طرف سے واقعی حق ہے تو ہم پر آسمانوں سے پتھر برسا دے یا پھر کوئی اور ہی عذاب درد ناک لے آ!“ تو اس پر آیت «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون * وما لهم أن لا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام» ”حالانکہ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب دے، اس حال میں کہ آپ ان میں موجود ہوں اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ ان لوگوں کے لیے کیا وجہ کہ اللہ ان پر عذاب …
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan Sahih · Al-Albani: Hasan Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan Sahih · Al-Albani: Hasan Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan Sahih · Al-Albani: Hasan Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّمَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
Narrated Abu Hurairah:"The Prophet (ﷺ) prohibited every predator that possesses canine teeth
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی دانت والے درندے کو حرام قرار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- صحابہ کرام اور دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۱؎۔
درجته: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
grading: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
درجہ: Al-Albani: Daif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif · Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ جَلَسْتُ فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْىِ وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ عَلَيْنَا فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَكَتَ الْقَارِئُ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ " مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا فَكُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله …
Narrated AbuSa'id al-Khudri: I was sitting in the company of the poor members of the emigrants. Some of them were sitting together because of lack of clothing while a reader was reciting to us. All of a sudden the Messenger of Allah (ﷺ) came along and stood beside us. When the Messenger of Allah (ﷺ) stood, the reader stopped and greeted him. He asked: What were you doing? We said: Messenger of Allah! We had a reader who was reciting to us and we were listening to the Book of Allah, the Exalted. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Praise be to Allah Who has put among my people those with whom I have been ordered to stay. The Messenger of Allah (ﷺ) then sat among us so as to be like one of …
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں غریب و خستہ حال مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا: تم لوگ کیا کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا: ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں آ کر …
PickthallAnd how many a township did I suffer long though it was sinful! Then I grasped it. Unto Me is the return.
Yusuf AliAnd to how many populations did I give respite, which were given to wrong-doing? in the end I punished them. To me is the destination (of all).
The agreed readingAnd how many a town was given a long rein while it was doing wrong, and then was seized. The return, in the end, is to God.
Urduاور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہیں میں نے لمبی مہلت دی جب کہ وہ ظالم تھیں، پھر میں نے انہیں پکڑ لیا۔ اور آخرکار سب کو میری ہی طرف لوٹنا ہے۔
Arabicوكم من قرية أمهلتها زمنًا طويلًا وهي ظالمة بكفرها، ولم أعاجلها بالعذاب في الحال، ثم أخذتها بعد ذلك أخذًا شديدًا لا مفر منه، وإليّ وحدي مرجع جميع الخلائق في النهاية.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan Sahih · Al-Albani: Hasan Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan Sahih · Al-Albani: Hasan Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Hasan Sahih · Al-Albani: Hasan Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan · Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّمَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
Narrated Abu Hurairah:"The Prophet (ﷺ) prohibited every predator that possesses canine teeth
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی دانت والے درندے کو حرام قرار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- صحابہ کرام اور دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۱؎۔
PickthallSay: O mankind! I am only a plain warner unto you.
Yusuf AliSay: "O men! I am (sent) to you only to give a Clear Warning:
The agreed readingSay: people, I am nothing to you but a plain warner. The warning is clear, and warning is what I was sent with - and good news, for those who believe.
Urduکہہ دو: اے لوگو! میں تمہارے لیے صرف ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یہ تنبیہ بالکل واضح ہے، اور مجھے اسی تنبیہ کے ساتھ بھیجا گیا ہے - اور ایمان لانے والوں کے لیے خوشخبری بھی۔
Arabicقل يا أيها الناس، إنما أنا لكم منذر واضح الإنذار، أبلغكم ما أرسلت به من عند ربي، وإنذاري بيّن لا لبس فيه، وأنا أيضًا مبشر بالخير للذين آمنوا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The similitude of mine and of that with which Allah sent me is that of a person who came to us and said: O people, I have seen an army with my eyes and I am a plain warner (and issue you warning) that you should immediately manage to find an escape. A group of people from amongst them paying heed (to his warning) fled to a place of protection and a group amongst them belied him and the morning overtook them in their houses and the army attacked them and killed them and they were routed. And that is the similitude of the one who obeyed me, followed with which I had been sent and the similitude of the other is of one who disobeyed and belied …
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے ، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے ( یعنی دشمن کی فوج کو ) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں ، پس جلدی بھاگو ۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا ۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا …
PickthallThose who believe and do good works, for them is pardon and a rich provision;
Yusuf Ali"Those who believe and work righteousness, for them is forgiveness and a sustenance most generous.
The agreed readingThose who believe and do what is right have forgiveness for what they did wrong and a generous provision; the commentaries name that provision as the Garden.
Urduجو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان کے لیے ان کی غلطیوں کی معافی ہے اور ایک بھرپور رزق ہے - تفسیریں اس رزق کو جنت کا نام دیتی ہیں۔
Arabicفالذين آمنوا بالله وعملوا الصالحات لهم مغفرة تمحو ذنوبهم من عند ربهم، ولهم أيضًا رزق كريم لا ينقطع أبدًا، وقد فسّرته التفاسير بأنه الجنة ونعيمها الدائم.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Hadith.4732 - In the narration of Al-Hasan ibn Mahbub from Ali ibn Ri'ab from Al-Halabi, from Abu Abdullah (as), he said: "Indeed, Allah (swt), the Blessed and Exalted, has entrusted Ibrahim (as) and Sarah {s.a} with the care of the children of the believers. They nourish them from a tree in Paradise that has teats like those of cows, inside a palace made of pearl. On the Day of Judgment, these children will be dressed, perfumed, and presented to their parents. They will be kings in Paradise along with their parents. This is in accordance with the saying of Allah (swt), the Mighty and Majestic: 'And those who believe and whose descendants follow them in faith - We will join them with their …
الحسن بن محبوب کی روایت میں علی بن ریاب سے، الحلبی سے، ابو عبداللہ علیہ السلام سے کہا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابراہیم اور سارہ کو مؤمنین کے بچوں کی کفالت کا ذمہ دار بنایا۔ وہ انہیں جنت کے ایک درخت سے پالتے ہیں جس کی تہیں گائے کی تہوں جیسی ہیں، ایک موتی کے محل میں۔ جب قیامت کا دن ہو تو انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے، خوشبو لگائی جائے گی، اور انہیں اپنے باپ دادا کے پاس پیش کیا جائے گا۔ تو وہ جنت میں اپنے باپ دادا کے ساتھ بادشاہ ہوں گے۔ یہ اللہ عز و جل کے قول کے مطابق ہے: جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان پر چلی تو ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو ملا دیں گے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The similitude of mine and of that with which Allah sent me is that of a person who came to us and said: O people, I have seen an army with my eyes and I am a plain warner (and issue you warning) that you should immediately manage to find an escape. A group of people from amongst them paying heed (to his warning) fled to a place of protection and a group amongst them belied him and the morning overtook them in their houses and the army attacked them and killed them and they were routed. And that is the similitude of the one who obeyed me, followed with which I had been sent and the similitude of the other is of one who disobeyed and belied …
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے ، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے ( یعنی دشمن کی فوج کو ) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں ، پس جلدی بھاگو ۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا ۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا …
PickthallWhile those who strive to thwart Our revelations, such are rightful owners of the Fire.
Yusuf Ali"But those who strive against Our Signs, to frustrate them,- they will be Companions of the Fire."
The agreed readingAnd those who work against God's signs, meaning to break their force and to get out ahead of them - they are the companions of the Fierce Fire.
Urduاور جو لوگ ہماری نشانیوں کے خلاف کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کا اثر توڑ دیں اور ان سے آگے نکل جائیں - وہی لوگ بھڑکتی آگ کے ساتھی ہیں۔
Arabicوالذين سعوا جاهدين في التكذيب بآياتنا، ظانين أنهم بذلك يعجزون الله ويفوتونه فلا ينالهم عقابه، أولئك هم أصحاب الجحيم يلازمونها ملازمة الصاحب لصاحبه، لا يفارقونها أبدًا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، Ibn ʿĀshūr في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās and Ibn ʿĀshūr on this āyah
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The similitude of mine and of that with which Allah sent me is that of a person who came to us and said: O people, I have seen an army with my eyes and I am a plain warner (and issue you warning) that you should immediately manage to find an escape. A group of people from amongst them paying heed (to his warning) fled to a place of protection and a group amongst them belied him and the morning overtook them in their houses and the army attacked them and killed them and they were routed. And that is the similitude of the one who obeyed me, followed with which I had been sent and the similitude of the other is of one who disobeyed and belied …
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے ، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے ( یعنی دشمن کی فوج کو ) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں ، پس جلدی بھاگو ۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا ۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا …
PickthallNever sent We a messenger or a prophet before thee but when He recited (the message) Satan proposed (opposition) in respect of that which he recited thereof. But Allah abolisheth that which Satan proposeth. Then Allah establisheth His revelations. Allah is Knower, Wise;
Yusuf AliNever did We send a messenger or a prophet before thee, but, when he framed a desire, Satan threw some (vanity) into his desire: but Allah will cancel anything (vain) that Satan throws in, and Allah will confirm (and establish) His Signs: for Allah is full of Knowledge and Wisdom:
The agreed readingNo messenger and no prophet was sent before Muhammad but that, when he recited what he had been given, Satan cast something into the recitation. God then wipes out what Satan cast and sets His own signs firm in its place. He knows what is being done and is wise in how He deals with it.
Urduمحمد سے پہلے کوئی رسول اور کوئی نبی نہیں بھیجا گیا مگر یہ ہوا کہ جب وہ اپنے دیے ہوئے کلام کی تلاوت کرتا تو شیطان اس تلاوت میں کچھ نہ کچھ ڈال دیتا۔ پھر اللہ شیطان کی ڈالی ہوئی چیز کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیتیں مضبوط کر دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کیا کیا جا رہا ہے اور اپنے معاملے میں حکمت والا ہے۔
Arabicوما أرسلنا من قبلك من رسول ولا نبي إلا إذا قرأ ما أوحي إليه ألقى الشيطان في قراءته شيئًا، فيبطل الله ما يلقيه الشيطان ويثبت آياته هو، والله عليم بما يفعل حكيم في تدبيره.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah was asked about the children of the idolators and he said: 'Allah created them when He created them, and He knows best what they would have done
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ( اور ) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا ( کہ آئندہ ) وہ کیا کرنے والے ہیں“۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا بَنُونَ مِثْلُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( إذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ …
Ibn Abbas said:“Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Prophet. So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Messenger of Allah, informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا …
Narrated Abdullah ibn Abbas: When the children of a woman (in pre-Islamic days) did not survive, she took a vow on herself that if her child survives, she would convert it a Jew. When Banu an-Nadir were expelled (from Arabia), there were some children of the Ansar (Helpers) among them. They said: We shall not leave our children. So Allah the Exalted revealed; "Let there be no compulsion in religion. Truth stands out clear from error." Abu Dawud said: Muqlat means a woman whose children do not survive
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( کفر کے زمانہ میں ) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کا بچہ نہ جیتا ( زندہ نہ رہتا ) تو وہ نذر مانتی کہ اگر اس کا بچہ جئیے ( زندہ رہے گا ) گا تو وہ اس کو یہودی بنائے گی، جب بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا حکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے، انصار نے کہا: ہم اپنے لڑکوں کو نہ چھوڑیں گے تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغى» ( سورۃ البقرہ: ۲۵۶ ) دین میں زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مقلات» : اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ جیتا ہو۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Any man who sells a product with the man who has become bankrupt, and he has not taken any of its price, it belongs to him, but if he had taken any of its price, then he is like any other creditor.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی سامان بیچا پھر اس نے اس کو بعینہ اس ( مشتری ) کے پاس پایا جو دیوالیہ ہو گیا ہے، اور بائع کو ابھی تک اس کی قیمت میں سے کچھ نہیں ملا تھا، تو وہ سامان بائع کو ملے گا، اور اگر وہ اس کی قیمت میں سے کچھ لے چکا ہے تو وہ دیگر قرض خواہوں کے مانند ہو گا ۱؎۔
PickthallThat He may make that which the devil proposeth a temptation for those in whose hearts is a disease, and those whose hearts are hardened - Lo! the evil-doers are in open schism -
Yusuf AliThat He may make the suggestions thrown in by Satan, but a trial for those in whose hearts is a disease and who are hardened of heart: verily the wrong-doers are in a schism far (from the Truth):
The agreed readingWhat Satan casts is left standing just long enough to become a trial - fitna here in the sense of an affliction that sorts people out - for those with a sickness in their hearts and those whose hearts have gone hard. The wrongdoers are in a split that has carried them far off.
Urduشیطان جو کچھ ڈالتا ہے وہ اتنی دیر کے لیے باقی رہنے دیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کے لیے آزمائش بن جائے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہو چکے ہیں۔ ظالم لوگ ایسی مخالفت میں ہیں جو انہیں بہت دور لے گئی ہے۔
Arabicيفعل الشيطان ذلك ليجعل الله ما يلقيه امتحانًا وابتلاءً للمنافقين الذين في قلوبهم مرض وشك، وللمشركين الذين قست قلوبهم عن قبول الحق، وإن الظالمين من هؤلاء جميعًا لفي عداوة لله ورسوله وبعد عن الحق بعيد.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah was asked about the children of the idolators and he said: 'Allah created them when He created them, and He knows best what they would have done
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ( اور ) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا ( کہ آئندہ ) وہ کیا کرنے والے ہیں“۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا بَنُونَ مِثْلُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( إذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ …
Ibn Abbas said:“Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Prophet. So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Messenger of Allah, informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا …
Narrated Abdullah ibn Abbas: When the children of a woman (in pre-Islamic days) did not survive, she took a vow on herself that if her child survives, she would convert it a Jew. When Banu an-Nadir were expelled (from Arabia), there were some children of the Ansar (Helpers) among them. They said: We shall not leave our children. So Allah the Exalted revealed; "Let there be no compulsion in religion. Truth stands out clear from error." Abu Dawud said: Muqlat means a woman whose children do not survive
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( کفر کے زمانہ میں ) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کا بچہ نہ جیتا ( زندہ نہ رہتا ) تو وہ نذر مانتی کہ اگر اس کا بچہ جئیے ( زندہ رہے گا ) گا تو وہ اس کو یہودی بنائے گی، جب بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا حکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے، انصار نے کہا: ہم اپنے لڑکوں کو نہ چھوڑیں گے تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغى» ( سورۃ البقرہ: ۲۵۶ ) دین میں زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مقلات» : اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ جیتا ہو۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Any man who sells a product with the man who has become bankrupt, and he has not taken any of its price, it belongs to him, but if he had taken any of its price, then he is like any other creditor.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی سامان بیچا پھر اس نے اس کو بعینہ اس ( مشتری ) کے پاس پایا جو دیوالیہ ہو گیا ہے، اور بائع کو ابھی تک اس کی قیمت میں سے کچھ نہیں ملا تھا، تو وہ سامان بائع کو ملے گا، اور اگر وہ اس کی قیمت میں سے کچھ لے چکا ہے تو وہ دیگر قرض خواہوں کے مانند ہو گا ۱؎۔
PickthallAnd that those who have been given knowledge may know that it is the truth from thy Lord, so that they may believe therein and their hearts may submit humbly unto Him. Lo! Allah verily is guiding those who believe unto a right path.
Yusuf AliAnd that those on whom knowledge has been bestowed may learn that the (Qur'an) is the Truth from thy Lord, and that they may believe therein, and their hearts may be made humbly (open) to it: for verily Allah is the Guide of those who believe, to the Straight Way.
The agreed readingAnd so that those who were given knowledge would recognise it as the truth from their Lord, and believe in it, and let their hearts come to rest in it. God guides those who believe to a straight path.
Urduاور تاکہ وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا یہ پہچان لیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے، اور اس پر ایمان لے آئیں، اور ان کے دل اس میں مطمئن ہو جائیں۔ اللہ ایمان لانے والوں کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
Arabicوليتيقن الذين أعطاهم الله العلم أن هذا القرآن هو الحق الذي أوحاه الله إليك، فيزدادوا به إيمانًا وتخضع له قلوبهم، وإن الله لهادي الذين آمنوا إلى طريق مستقيم لا اعوجاج فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 5 — جميعها من كتب أهل السنة5 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 5 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah was asked about the children of the idolators and he said: 'Allah created them when He created them, and He knows best what they would have done
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ( اور ) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا ( کہ آئندہ ) وہ کیا کرنے والے ہیں“۔
درجته: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
grading: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
درجہ: Ahmad Muhammad Shakir: Sahih · Al-Albani: Sahih · Bashar Awad Maarouf: Hasan Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَتَسْأَلُهُ وَلَنَا بَنُونَ مِثْلُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( إذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) فَقُلْتُ إِنَّمَا هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ وَقَرَأَ السُّورَةَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ …
Ibn Abbas said:“Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Prophet. So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Messenger of Allah, informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا …
Narrated Abdullah ibn Abbas: When the children of a woman (in pre-Islamic days) did not survive, she took a vow on herself that if her child survives, she would convert it a Jew. When Banu an-Nadir were expelled (from Arabia), there were some children of the Ansar (Helpers) among them. They said: We shall not leave our children. So Allah the Exalted revealed; "Let there be no compulsion in religion. Truth stands out clear from error." Abu Dawud said: Muqlat means a woman whose children do not survive
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( کفر کے زمانہ میں ) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کا بچہ نہ جیتا ( زندہ نہ رہتا ) تو وہ نذر مانتی کہ اگر اس کا بچہ جئیے ( زندہ رہے گا ) گا تو وہ اس کو یہودی بنائے گی، جب بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا حکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے، انصار نے کہا: ہم اپنے لڑکوں کو نہ چھوڑیں گے تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغى» ( سورۃ البقرہ: ۲۵۶ ) دین میں زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مقلات» : اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ جیتا ہو۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Any man who sells a product with the man who has become bankrupt, and he has not taken any of its price, it belongs to him, but if he had taken any of its price, then he is like any other creditor.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی سامان بیچا پھر اس نے اس کو بعینہ اس ( مشتری ) کے پاس پایا جو دیوالیہ ہو گیا ہے، اور بائع کو ابھی تک اس کی قیمت میں سے کچھ نہیں ملا تھا، تو وہ سامان بائع کو ملے گا، اور اگر وہ اس کی قیمت میں سے کچھ لے چکا ہے تو وہ دیگر قرض خواہوں کے مانند ہو گا ۱؎۔
PickthallAnd those who disbelieve will not cease to be in doubt thereof until the Hour come upon them unawares, or there come unto them the doom of a disastrous day.
Yusuf AliThose who reject Faith will not cease to be in doubt concerning (Revelation) until the Hour (of Judgment) comes suddenly upon them, or there comes to them the Penalty of a Day of Disaster.
The agreed readingThose who refuse will not stop doubting it until the Hour comes on them all at once, or the punishment of a barren day arrives - a day, as the commentaries put it, that has no like among days.
Urduجو لوگ انکار کرتے ہیں وہ اس کے بارے میں شک کرنا نہیں چھوڑیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آ جائے، یا ان پر ایک بانجھ دن کا عذاب آ پڑے - ایسا دن، جیسا کہ تفسیریں بیان کرتی ہیں، جس جیسا کوئی اور دن نہیں۔
Arabicولا يزال الذين كفروا في شك من هذا القرآن مستمرين على ذلك حتى تأتيهم الساعة فجأة، أو يأتيهم عذاب يوم لا خير فيه ولا رحمة، يومٍ لا نظير له بين الأيام.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Malik said, "Someone who has a nosebleed on the day of jumua while the imam is giving the khutba and he leaves and does not come back until the imam has finished the prayer, should pray four rakas.'' Malik said that someone who prayed a raka with the imam on the day of jumua, then had a nosebleed and left and came back and the imam had prayed both rakas, should complete the prayer with another raka as long as he had not spoken. Malik said, "If some one has a nosebleed, or something happens to him and he has no alternative but to leave, he does not have to ask permission of the imam if he wants to leave on the day of jumua." Yahya related to me from Malik that he had asked Ibn Shihab about …
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ اس آیت کی تفسیر کیا ہے اذانودی للصلوة من یوم الجمعہ فاسعو الی ذکر اللہ تو ابن شہاب نے جواب دیا کہ حضرت عمر بن خطاب اس آیت کو یوں پڑھتے تھے اذانودی للصلوة من یوم الجمعة فامضوا (فاسعوا) 62۔ الجمعہ : 9) الی ذکر اللہ ۔
PickthallThe Sovereignty on that day will be Allah's, He will judge between them. Then those who believed and did good works will be in Gardens of Delight,
Yusuf AliOn that Day of Dominion will be that of Allah: He will judge between them: so those who believe and work righteous deeds will be in Gardens of Delight.
The agreed readingOn that day the kingdom belongs to God alone, and He judges between them. Those who believed and did what is right are in the Gardens of delight.
Urduاس دن بادشاہی صرف اللہ ہی کی ہو گی، اور وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ نعمتوں والے باغات میں ہوں گے۔
Arabicالملك التام الكامل في ذلك اليوم لله وحده لا شريك له، وهو يحكم بين الناس جميعًا بالعدل، فالذين آمنوا بالله وعملوا الصالحات لهم جنات النعيم الدائم.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ubaidullah b. Rafi', who was the scribe of 'All, reported:I heard 'Ali (Allah be pleased with him) as saying: Allah's Messenger (ﷺ) sent me and Zubair and Miqdad saying: Go to the garden of, Khakh [it is a place between Medina and Mecca at a distance of twelve miles from Medina] and there you will find a woman riding a camel. She would be in possession of a letter, which you must get from her. So we rushed on horses and when we met that woman, we asked her to deliver that letter to us. She said: There is no letter with me. We said: Either bring out that letter or we would take off your clothes. She brought out that letter from (the plaited hair of) her head. We delivered that letter to …
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد ، زہیر بن حرب ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ عمرو کے ہیں ۔ اسحاق نے کہا : ہمیں خبر دی ، دوسروں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینار ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حسن بن محمد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاتب تھے ، خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کہ ہمیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو روضہ خاخ مقام پر بھیجا اور فرمایا کہ جاؤ اور وہاں تمہیں ایک عورت اونٹ پر سوار ملے گی ، اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے کر آؤ ۔ ہم گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے …
Al-Hasan bin Muhammad – and he is Al-Hanafiyyah- narrated from Ubaidallah bin Abi Rafi who said:“I heard Ali bin Abi Talib saying: “the Messenger of Allah dispatched us – myself, Az-Zubair, and Al-Miqad bin Al- Aswad. He said: “Proceed until you reach Rawdah Khakh, where there is a lady carrying a letter. Take the letter from her and bring it to me.” So we proceeded on our way with our horses galloping until we reached the Rawdah. There we found the lady and said to her: “Give me the letter.” She said: “I have no letter.” We said: “Either you take out the letter, or we shall take off your clothes.’” He said: ‘So she took it out of her braid.’ He said: ‘We brought it to the Messenger of …
عبیداللہ بن ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا، فرمایا: جاؤ، روضہ خاخ ۱؎ پر پہنچو وہاں ایک ھودج سوار عورت ہے، اس کے پاس ایک خط ہے، وہ خط جا کر اس سے لے لو، اور میرے پاس لے آؤ، چنانچہ ہم نکل پڑے، ہمارے گھوڑے ہمیں لیے لیے دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کر رہے تھے، ہم روضہ پہنچے، ہمیں ہودج سوار عورت مل گئی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال، اس نے کہا: ہمارے پاس کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکالتی ہے یا پھر اپنے کپڑے اتارتی ہے؟ ( یہ سن کر ) اپنی چوٹی ( جوڑے ) سے اس نے خط نکالا، ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، وہ خط حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کی جانب سے تھا، …
‘Ali said “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent me Al Zubair and Al Miqdad and said “Go till you come to the meadow of Khakh for there Is a woman there travelling on a Camel who has a letter which you must take from her. We went off racing one another on our horses till we came to the meadow and when we found the woman, we aid “Bring out the letter. She said “I have no letter”. I said “You must bring out the letter else we strip off your clothes”. She then brought it out from the tresses and we took it to the Prophet(ﷺ). It was addressed from Hatib bin Abi Balta’ah to some of the polytheists(in Makkah) giving them some information about the Apostle of Allaah(ﷺ). He asked “What is this, Hatib? He …
عبیداللہ بن ابی رافع جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے منشی تھے، کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، زبیر اور مقداد تینوں کو بھیجا اور کہا: تم لوگ جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ ۱؎ پہنچو، وہاں ایک عورت کجاوہ میں بیٹھی ہوئی اونٹ پر سوار ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے تم اس سے اسے چھین لینا ، تو ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے یہاں تک کہ روضہ خاخ پہنچے اور دفعتاً اس عورت کو جا لیا، ہم نے اس سے کہا: خط لاؤ، اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے، میں نے کہا: خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے، اس عورت نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کر دیا، ہم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے، وہ حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے کچھ مشرکوں کے نام …
PickthallWhile those who disbelieved and denied Our revelations, for them will be a shameful doom.
Yusuf AliAnd for those who reject Faith and deny our Signs, there will be a humiliating Punishment.
The agreed readingAnd those who refused and called God's signs a lie have a punishment that shames them.
Urduاور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری نشانیوں کو جھوٹا قرار دے کر جھٹلایا، ان کے لیے ایسا رسوا کن عذاب مقرر ہے جو انہیں ذلیل کر دے گا۔
Arabicوالذين كفروا بالله وكذبوا بآياتنا التي أنزلناها على رسولنا، أولئك لهم عذاب مذلّ يذلهم الله به إذلالًا شديدًا في نار جهنم يوم القيامة، جزاءً بما كانوا يكفرون.
الأخبار المذكورة هنا: 3 — جميعها من كتب أهل السنة3 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 3 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Ubaidullah b. Rafi', who was the scribe of 'All, reported:I heard 'Ali (Allah be pleased with him) as saying: Allah's Messenger (ﷺ) sent me and Zubair and Miqdad saying: Go to the garden of, Khakh [it is a place between Medina and Mecca at a distance of twelve miles from Medina] and there you will find a woman riding a camel. She would be in possession of a letter, which you must get from her. So we rushed on horses and when we met that woman, we asked her to deliver that letter to us. She said: There is no letter with me. We said: Either bring out that letter or we would take off your clothes. She brought out that letter from (the plaited hair of) her head. We delivered that letter to …
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد ، زہیر بن حرب ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ عمرو کے ہیں ۔ اسحاق نے کہا : ہمیں خبر دی ، دوسروں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینار ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حسن بن محمد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاتب تھے ، خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کہ ہمیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو روضہ خاخ مقام پر بھیجا اور فرمایا کہ جاؤ اور وہاں تمہیں ایک عورت اونٹ پر سوار ملے گی ، اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے کر آؤ ۔ ہم گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے …
Al-Hasan bin Muhammad – and he is Al-Hanafiyyah- narrated from Ubaidallah bin Abi Rafi who said:“I heard Ali bin Abi Talib saying: “the Messenger of Allah dispatched us – myself, Az-Zubair, and Al-Miqad bin Al- Aswad. He said: “Proceed until you reach Rawdah Khakh, where there is a lady carrying a letter. Take the letter from her and bring it to me.” So we proceeded on our way with our horses galloping until we reached the Rawdah. There we found the lady and said to her: “Give me the letter.” She said: “I have no letter.” We said: “Either you take out the letter, or we shall take off your clothes.’” He said: ‘So she took it out of her braid.’ He said: ‘We brought it to the Messenger of …
عبیداللہ بن ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا، فرمایا: جاؤ، روضہ خاخ ۱؎ پر پہنچو وہاں ایک ھودج سوار عورت ہے، اس کے پاس ایک خط ہے، وہ خط جا کر اس سے لے لو، اور میرے پاس لے آؤ، چنانچہ ہم نکل پڑے، ہمارے گھوڑے ہمیں لیے لیے دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کر رہے تھے، ہم روضہ پہنچے، ہمیں ہودج سوار عورت مل گئی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال، اس نے کہا: ہمارے پاس کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکالتی ہے یا پھر اپنے کپڑے اتارتی ہے؟ ( یہ سن کر ) اپنی چوٹی ( جوڑے ) سے اس نے خط نکالا، ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، وہ خط حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کی جانب سے تھا، …
‘Ali said “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent me Al Zubair and Al Miqdad and said “Go till you come to the meadow of Khakh for there Is a woman there travelling on a Camel who has a letter which you must take from her. We went off racing one another on our horses till we came to the meadow and when we found the woman, we aid “Bring out the letter. She said “I have no letter”. I said “You must bring out the letter else we strip off your clothes”. She then brought it out from the tresses and we took it to the Prophet(ﷺ). It was addressed from Hatib bin Abi Balta’ah to some of the polytheists(in Makkah) giving them some information about the Apostle of Allaah(ﷺ). He asked “What is this, Hatib? He …
عبیداللہ بن ابی رافع جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے منشی تھے، کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، زبیر اور مقداد تینوں کو بھیجا اور کہا: تم لوگ جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ ۱؎ پہنچو، وہاں ایک عورت کجاوہ میں بیٹھی ہوئی اونٹ پر سوار ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے تم اس سے اسے چھین لینا ، تو ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے یہاں تک کہ روضہ خاخ پہنچے اور دفعتاً اس عورت کو جا لیا، ہم نے اس سے کہا: خط لاؤ، اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے، میں نے کہا: خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے، اس عورت نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کر دیا، ہم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے، وہ حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے کچھ مشرکوں کے نام …
PickthallThose who fled their homes for the cause of Allah and then were slain or died, Allah verily will provide for them a good provision. Lo! Allah, He verily is Best of all who make provision.
Yusuf AliThose who leave their homes in the cause of Allah, and are then slain or die,- On them will Allah bestow verily a goodly Provision: Truly Allah is He Who bestows the best provision.
The agreed readingThose who left their homes for God's sake and were then killed or died of themselves - God will provide for them a good provision, which the commentaries name as the provision of the Garden. God is the best of providers.
Urduجو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے گھر چھوڑ کر ہجرت کر گئے، پھر شہید کر دیے گئے یا خود اپنی موت مر گئے - اللہ انہیں ضرور اچھا رزق دے گا، جسے تفسیریں جنت کا رزق کہتی ہیں۔ اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔
Arabicوالذين تركوا ديارهم مهاجرين في سبيل الله، ثم قُتلوا في الجهاد أو ماتوا حتف أنفهم، ليرزقنهم الله رزقًا حسنًا هو رزق الجنة، وإن الله سبحانه لهو خير الرازقين.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …
PickthallAssuredly He will cause them to enter by an entry that they will love. Lo! Allah verily is Knower, Indulgent.
Yusuf AliVerily He will admit them to a place with which they shall be well pleased: for Allah is All-Knowing, Most Forbearing.
The agreed readingHe will bring them in by a way they will be well pleased with. He knows what they intended, and He is slow to punish.
Urduوہ انہیں ایسی جگہ داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے۔ وہ جانتا ہے کہ ان کی نیت کیا تھی، اور وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔
Arabicليدخلنّهم الله موضعًا في الجنة يرضونه كل الرضا ولا يسخطون منه شيئًا، وإن الله لعليم بما نووه من الهجرة والجهاد، حليم لا يعاجلهم بالعقوبة على أي تقصير.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …
PickthallThat (is so). And whoso hath retaliated with the like of that which he was made to suffer and then hath (again) been wronged, Allah will succour him. Lo! Allah verily is Mild, Forgiving.
Yusuf AliThat (is so). And if one has retaliated to no greater extent than the injury he received, and is again set upon inordinately, Allah will help him: for Allah is One that blots out (sins) and forgives (again and again).
The agreed readingWhoever answers a wrong with the like of it and no more, and is then wronged again, will certainly be helped by God. And God pardons much and forgives.
Urduجو کوئی ظلم کا بدلہ اسی کے برابر لے اور اس سے زیادہ نہ کرے، پھر بھی اسے دوبارہ ظلم کا نشانہ بنایا جائے، تو اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔
Arabicذلك، ومن قابل الظلم بمثله من غير زيادة ثم عاود المعتدي اعتداءه عليه، فإن الله ينصره لا محالة، وإن الله لعفو عن كثير من الذنوب غفور رحيم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from …
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور …
PickthallThat is because Allah maketh the night to pass into the day and maketh the day to pass into the night, and because Allah is Hearer, Seer.
Yusuf AliThat is because Allah merges night into day, and He merges day into night, and verily it is Allah Who hears and sees (all things).
The agreed readingThat is because God is the one who slides the night into the day and the day into the night. The power that turns one of them into the other is the power the help comes from. And God hears what is said and sees what is done.
Urduیہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ جو طاقت ایک کو دوسرے میں بدل دیتی ہے وہی طاقت مدد کا سرچشمہ ہے۔ اور اللہ جو کچھ کہا جاتا ہے سنتا ہے اور جو کچھ کیا جاتا ہے دیکھتا ہے۔
Arabicذلك النصر لأن الله قادر على ما يشاء، ومن قدرته إدخال الليل في النهار وإدخال النهار في الليل بزيادة أحدهما ونقص الآخر، وأن الله سميع لأقوال عباده بصير بأفعالهم.
PickthallThat is because Allah, He is the True, and that whereon they call instead of Him, it is the false, and because Allah, He is the High, the Great.
Yusuf AliThat is because Allah - He is the Reality; and those besides Him whom they invoke,- they are but vain Falsehood: verily Allah is He, Most High, Most Great.
The agreed readingThat is because God is the Truth, the thing that holds, and what they call on instead of Him is falsehood, the thing that passes. And God is the High, the Great: nothing stands above Him and nothing is greater.
Urduیہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے، وہ چیز جو قائم رہتی ہے، اور جسے وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے، وہ چیز جو مٹ جاتی ہے۔ اور اللہ ہی بلند اور بڑا ہے: نہ کوئی اس سے اوپر ہے اور نہ کوئی اس سے بڑا۔
Arabicذلك بأن الله هو الحق الثابت، وأن ما يعبده المشركون من دون الله من الأوثان هو الباطل الذي لا أساس له ولا ثبات، وأن الله هو العلي الكبير الذي لا شيء أعلى منه ولا أكبر.
PickthallSeest thou not how Allah sendeth down water from the sky and then the earth becometh green upon the morrow? Lo! Allah is Subtile, Aware.
Yusuf AliSeest thou not that Allah sends down rain from the sky, and forthwith the earth becomes clothed with green? for Allah is He Who understands the finest mysteries, and is well-acquainted (with them).
The agreed readingHave you not seen that God sends down water from the sky and the earth turns green after it - the wording keeps the greenness going on after the rain itself has passed. God reaches into what is small as well as what is large, and He is aware of it all.
Urduکیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور زمین اس کے بعد سرسبز ہو جاتی ہے - الفاظ اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ بارش گزر جانے کے بعد بھی سبزی باقی رہتی ہے۔ اللہ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز تک پہنچتا ہے، اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔
Arabicألم تر أن الله أنزل من السماء ماءً فتصبح الأرض بعده مخضرّة، وتظل خضرتها باقية بعد أن ينقطع نزول المطر نفسه، إن الله لطيف بعباده في صغير الأمور وكبيرها، خبير بمصالحهم كلها.
PickthallUnto Him belongeth all that is in the heavens and all that is in the earth. Lo! Allah, He verily is the Absolute, the Owner of Praise.
Yusuf AliTo Him belongs all that is in the heavens and on earth: for verily Allah,- He is free of all wants, Worthy of all Praise.
The agreed readingEverything in the heavens and everything in the earth is His to own. God has no need of His servants, and He is the one who deserves the praise.
Urduآسمانوں میں جو کچھ ہے اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت ہے۔ اللہ کو اپنے بندوں کی کوئی حاجت نہیں، اور وہی ہے جو تعریف کا حق دار ہے۔
Arabicله وحده ملك ما في السماوات وما في الأرض، وإن الله لهو الغني الذي لا يفتقر إلى أي مخلوق من مخلوقاته، وهو المحمود في كل حال.
PickthallHast thou not seen how Allah hath made all that is in the earth subservient unto you? And the ship runneth upon the sea by His command, and He holdeth back the heaven from falling on the earth unless by His leave. Lo! Allah is, for mankind, Full of Pity, Merciful.
Yusuf AliSeest thou not that Allah has made subject to you (men) all that is on the earth, and the ships that sail through the sea by His Command? He withholds the sky (rain) from failing on the earth except by His leave: for Allah is Most Kind and Most Merciful to man.
The agreed readingHave you not seen that what is in the earth was made to serve you, and that the ships run on the sea at His command, and that He holds the sky back from falling on the earth except by His leave? God is kind to people and merciful to them.
Urduکیا تم نے نہیں دیکھا کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ تمہاری خدمت کے لیے مسخر کر دیا گیا ہے، اور کشتیاں اسی کے حکم سے سمندر میں چلتی ہیں، اور وہ آسمان کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے سوائے اس کے حکم کے؟ اللہ لوگوں پر مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔
Arabicألم تر أن الله ذلّل لكم ما في الأرض من الدواب وغيرها، وسخّر لكم السفن تجري في البحر بأمره، ويمسك السماء أن تسقط على الأرض إلا بإذنه؟ إن الله بالناس لرؤوف رحيم.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب الشيعة1 reports cited here — all from Shīʿī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام شیعہ کتب سے
Hadith.1482 - The Commander of the Faithful Imam Ali ibn Abi Talib (as) delivered a sermon on the day of Eid al-Fitr and said: "Praise be to Allah (swt), Who created the heavens and the earth and made the darkness and the light, and then those who disbelieve in their Lord (azj) associate others with Him." "We do not associate anything with Allah (swt), and we do not take any guardian besides Him." "Praise be to Allah (swt), to Whom belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth, and to Him belongs all praise in this world and in the Hereafter. And He is the Wise, the All-Aware." "He knows what enters into the earth and what comes out of it, and what descends from the …
امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے عید الفطر کے دن خطبہ دیا اور کہا: تمام حمد و ثناء اللہ کے لیے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکی اور روشنی بنائی۔ پھر جو کافر ہیں وہ اپنے رب کے ساتھ برابری کرتے ہیں۔ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور اس کے علاوہ کسی کو ولی نہیں بناتے۔ تمام حمد اللہ کے لیے جس کے لیے آسمانوں میں جو کچھ ہے اور زمین میں جو کچھ ہے سب ہے اور اسے دنیا اور آخرت میں تمام حمد ہے اور وہ حکیم اور خبیر ہے۔ وہ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے اور وہ رحیم اور غفور ہے۔ اللہ ایسا ہے، کوئی معبود نہیں سوائے اس کے، اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ تمام حمد اللہ کے لیے جو آسمان کو روکے ہے کہ وہ زمین پر نہ گرے سوائے اس کے اذن …
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd He it is Who gave you life, then He will cause you to die, and then will give you life (again). Lo! man is verily an ingrate.
Yusuf AliIt is He Who gave you life, will cause you to die, and will again give you life: Truly man is a most ungrateful creature!
The agreed readingHe is the one who brought you to life, then makes you die when your term ends, then brings you to life again at the raising. And man is ungrateful for what he was given.
Urduوہی ہے جس نے تمہیں زندگی دی، پھر جب تمہاری مدت پوری ہو جاتی ہے تو تمہیں موت دیتا ہے، پھر دوبارہ زندہ کرے گا جب اٹھایا جائے گا۔ اور انسان اس چیز کا ناشکرا ہے جو اسے دی گئی۔
Arabicوالله هو الذي أحياكم بعد أن كنتم معدومين، ثم يميتكم إذا انقضت أعماركم، ثم يحييكم مرة أخرى بعد موتكم للحساب، وإن الإنسان لكثير الجحد لنعم الله.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that Abdullah ibn az-Zubayr used to say, "Know that the whole of Arafa is a standing-place except for the middle of Urana, and that the wholeof Muzdalifa is a standing-place except for the middle of Muhassir." Malik said, "Allah, the Blessed and Exalted says, 'There is to be no rafath, no fusuq and no jidal during the hajj.' " (Sura 2 ayat 197). He added, "Rafath is sexual relations with women, and Allah knows best. Allah, the Blessed and Exalted says, 'Rafath with your women is permitted to you on the night of the fast.' (Sura 2 ayat 197). Fusuq are sacrifices made to idols, and Allah knows best. Allah, the Blessed and Exalted, says, 'Or …
عبداللہ بن زبیر کہتے تھے جانو تم کہ عرفات سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن محسر ۔ کہا مالک نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فلا رفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج، نہ رفث ہے نہ فسق ہے نہ جھگڑا ہے حج میں، تو رفث کے معنی جماع کے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے فرمایا ہے احل لکم لیلة الصیام الرفث الی نساءکم حلال ہے تمہارے لئے روزوں کی رات میں جماع اپنی عورتوں سے یہاں پر رفث سے جماع مراد ہے۔
PickthallUnto each nation have We given sacred rites which they are to perform; so let them not dispute with thee of the matter, but summon thou unto thy Lord. Lo! thou indeed followest right guidance.
Yusuf AliTo every People have We appointed rites and ceremonies which they must follow: let them not then dispute with thee on the matter, but do thou invite (them) to thy Lord: for thou art assuredly on the Right Way.
The agreed readingEvery community was given a rite of its own to carry out, so they are not to argue with Muhammad over the matter - and the wording is read as telling him not to be drawn into the argument either. Call them to your Lord: you are on guidance that runs straight.
Urduہر امت کو اپنا ایک طریقہ عبادت دیا گیا جس پر وہ عمل کرتی ہے، اس لیے انہیں محمد سے اس معاملے میں جھگڑا نہیں کرنا چاہیے - اور الفاظ سے یہ بھی مراد لیا جاتا ہے کہ آپ خود بھی اس جھگڑے میں نہ الجھیں۔ انہیں اپنے رب کی طرف بلائیے: آپ سیدھی ہدایت پر ہیں۔
Arabicلكل أمة من الأمم جعلنا شريعة يعملون بها، فلا ينازعنك أحد منهم في هذا الأمر أبدًا، وادع الناس جميعًا إلى ربك، إنك لعلى طريق مستقيم لا اعوجاج فيه.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
ذكرها Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī في هذه الآية
Cited by Tanwīr al-Miqbās, al-Ṭabarī, al-Ṭūsī, al-Ṭabrisī, al-Rāzī, Ibn ʿĀshūr and Ṭabāṭabāʾī on this āyah
Tanwīr al-Miqbās، al-Ṭabarī، al-Ṭūsī، al-Ṭabrisī، al-Rāzī، Ibn ʿĀshūr، Ṭabāṭabāʾī نے اس آیت پر نقل کیا
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that Abdullah ibn az-Zubayr used to say, "Know that the whole of Arafa is a standing-place except for the middle of Urana, and that the wholeof Muzdalifa is a standing-place except for the middle of Muhassir." Malik said, "Allah, the Blessed and Exalted says, 'There is to be no rafath, no fusuq and no jidal during the hajj.' " (Sura 2 ayat 197). He added, "Rafath is sexual relations with women, and Allah knows best. Allah, the Blessed and Exalted says, 'Rafath with your women is permitted to you on the night of the fast.' (Sura 2 ayat 197). Fusuq are sacrifices made to idols, and Allah knows best. Allah, the Blessed and Exalted, says, 'Or …
عبداللہ بن زبیر کہتے تھے جانو تم کہ عرفات سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن محسر ۔ کہا مالک نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فلا رفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج، نہ رفث ہے نہ فسق ہے نہ جھگڑا ہے حج میں، تو رفث کے معنی جماع کے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے فرمایا ہے احل لکم لیلة الصیام الرفث الی نساءکم حلال ہے تمہارے لئے روزوں کی رات میں جماع اپنی عورتوں سے یہاں پر رفث سے جماع مراد ہے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that Abdullah ibn az-Zubayr used to say, "Know that the whole of Arafa is a standing-place except for the middle of Urana, and that the wholeof Muzdalifa is a standing-place except for the middle of Muhassir." Malik said, "Allah, the Blessed and Exalted says, 'There is to be no rafath, no fusuq and no jidal during the hajj.' " (Sura 2 ayat 197). He added, "Rafath is sexual relations with women, and Allah knows best. Allah, the Blessed and Exalted says, 'Rafath with your women is permitted to you on the night of the fast.' (Sura 2 ayat 197). Fusuq are sacrifices made to idols, and Allah knows best. Allah, the Blessed and Exalted, says, 'Or …
عبداللہ بن زبیر کہتے تھے جانو تم کہ عرفات سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن محسر ۔ کہا مالک نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فلا رفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج، نہ رفث ہے نہ فسق ہے نہ جھگڑا ہے حج میں، تو رفث کے معنی جماع کے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے فرمایا ہے احل لکم لیلة الصیام الرفث الی نساءکم حلال ہے تمہارے لئے روزوں کی رات میں جماع اپنی عورتوں سے یہاں پر رفث سے جماع مراد ہے۔
PickthallAllah will judge between you on the Day of Resurrection concerning that wherein ye used to differ.
Yusuf Ali"Allah will judge between you on the Day of Judgment concerning the matters in which ye differ."
The agreed readingGod will judge between you on the Day of Resurrection about the things you differed over - each side saying the opposite of the other, and neither of them able to settle it now.
Urduاللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے - ہر فریق دوسرے کے بالکل خلاف بات کہتا تھا، اور ابھی ان میں سے کوئی بھی اس معاملے کو طے نہیں کر سکتا۔
Arabicالله يحكم بين المؤمنين والكافرين يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون في الدنيا، فيقول كل فريق منهما خلاف ما يقوله الآخر، ولا يستطيع أحد منهما أن يحسم الأمر الآن.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that Abdullah ibn az-Zubayr used to say, "Know that the whole of Arafa is a standing-place except for the middle of Urana, and that the wholeof Muzdalifa is a standing-place except for the middle of Muhassir." Malik said, "Allah, the Blessed and Exalted says, 'There is to be no rafath, no fusuq and no jidal during the hajj.' " (Sura 2 ayat 197). He added, "Rafath is sexual relations with women, and Allah knows best. Allah, the Blessed and Exalted says, 'Rafath with your women is permitted to you on the night of the fast.' (Sura 2 ayat 197). Fusuq are sacrifices made to idols, and Allah knows best. Allah, the Blessed and Exalted, says, 'Or …
عبداللہ بن زبیر کہتے تھے جانو تم کہ عرفات سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن محسر ۔ کہا مالک نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فلا رفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج، نہ رفث ہے نہ فسق ہے نہ جھگڑا ہے حج میں، تو رفث کے معنی جماع کے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے فرمایا ہے احل لکم لیلة الصیام الرفث الی نساءکم حلال ہے تمہارے لئے روزوں کی رات میں جماع اپنی عورتوں سے یہاں پر رفث سے جماع مراد ہے۔
PickthallHast thou not known that Allah knoweth all that is in the heaven and the earth? Lo! it is in a record. Lo! that is easy for Allah.
Yusuf AliKnowest thou not that Allah knows all that is in heaven and on earth? Indeed it is all in a Record, and that is easy for Allah.
The agreed readingDo you not know that God knows whatever is in the heaven and the earth? All of it stands in a record, set down before it happened. And that is an easy thing for God.
Urduکیا تمہیں معلوم نہیں کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ اسے جانتا ہے؟ یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے، جو ہونے سے پہلے ہی درج کر دیا گیا تھا۔ اور یہ اللہ کے لیے بہت آسان بات ہے۔
Arabicألم تعلم أن الله يعلم ما في السماء والأرض، لا يخفى عليه شيء منهما، إن ذلك العلم مسجل في اللوح المحفوظ من قبل أن يقع، وإن ذلك على الله سهل يسير.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that Abdullah ibn az-Zubayr used to say, "Know that the whole of Arafa is a standing-place except for the middle of Urana, and that the wholeof Muzdalifa is a standing-place except for the middle of Muhassir." Malik said, "Allah, the Blessed and Exalted says, 'There is to be no rafath, no fusuq and no jidal during the hajj.' " (Sura 2 ayat 197). He added, "Rafath is sexual relations with women, and Allah knows best. Allah, the Blessed and Exalted says, 'Rafath with your women is permitted to you on the night of the fast.' (Sura 2 ayat 197). Fusuq are sacrifices made to idols, and Allah knows best. Allah, the Blessed and Exalted, says, 'Or …
عبداللہ بن زبیر کہتے تھے جانو تم کہ عرفات سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن محسر ۔ کہا مالک نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فلا رفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج، نہ رفث ہے نہ فسق ہے نہ جھگڑا ہے حج میں، تو رفث کے معنی جماع کے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے فرمایا ہے احل لکم لیلة الصیام الرفث الی نساءکم حلال ہے تمہارے لئے روزوں کی رات میں جماع اپنی عورتوں سے یہاں پر رفث سے جماع مراد ہے۔
PickthallAnd they worship instead of Allah that for which He hath sent down no warrant, and that whereof they have no knowledge. For evil-doers there is no helper.
Yusuf AliYet they worship, besides Allah, things for which no authority has been sent down to them, and of which they have (really) no knowledge: for those that do wrong there is no helper.
The agreed readingThey worship, instead of God, things for which no warrant was ever sent down and about which they have no knowledge - they cannot say these are gods, because they do not know it. And the wrongdoers have no one to keep God's punishment off them.
Urduوہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے بارے میں کوئی دلیل کبھی نازل نہیں کی گئی اور جن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں - وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ معبود ہیں، کیونکہ انہیں اس کا علم ہی نہیں۔ اور ظالموں کے لیے کوئی ایسا نہیں جو اللہ کے عذاب کو ان سے روک سکے۔
Arabicيعبد المشركون من دون الله ما لم ينزل الله به حجة قط، وما ليس لهم به علم يجعلهم يقولون إنه إله حقًا، فهو عبادة بلا سند ولا دليل، وليس للظالمين من نصير يمنعهم من عذاب الله يوم القيامة.
PickthallAnd when Our revelations are recited unto them, thou knowest the denial in the faces of those who disbelieve; they all but attack those who recite Our revelations unto them. Say: Shall I proclaim unto you worse than that? The Fire! Allah hath promised it for those who disbelieve. A hapless journey's end!
Yusuf AliWhen Our Clear Signs are rehearsed to them, thou wilt notice a denial on the faces of the Unbelievers! they nearly attack with violence those who rehearse Our Signs to them. Say, "Shall I tell you of something (far) worse than these Signs? It is the Fire (of Hell)! Allah has promised it to the Unbelievers! and evil is that destination!"
The agreed readingWhen God's clear signs are recited to them you can read the refusal in the faces of those who refuse - the distaste and the scowl of it - and they come close to laying hands on the one reciting. Say: shall I tell you of something worse than what you are feeling now? The Fire, which God has promised to those who refuse; and it is an evil place to arrive at.
Urduجب اللہ کی واضح آیتیں انہیں سنائی جاتی ہیں تو تم انکار کرنے والوں کے چہروں پر انکار پڑھ سکتے ہو - ناپسندیدگی اور تیوریوں کی صورت میں - اور وہ سنانے والے پر ہاتھ اٹھانے کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ کہہ دو: کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر چیز کی خبر دوں جو تم اب محسوس کر رہے ہو؟ وہ آگ ہے جس کا وعدہ اللہ نے انکار کرنے والوں سے کیا ہے، اور وہ پہنچنے کی بہت بری جگہ ہے۔
Arabicوإذا تُتلى عليهم آياتنا واضحات تعرف في وجوه الذين كفروا إنكارها وعبوسهم، يكادون من شدة الغضب يبطشون بالذين يقرؤون عليهم آياتنا، قل: أفأخبركم بما هو شر من غيظكم هذا؟ هو النار التي وعدها الله الكافرين، وبئس المصير.
PickthallO mankind! A similitude is coined, so pay ye heed to it: Lo! those on whom ye call beside Allah will never create a fly though they combine together for the purpose. And if the fly took something from them, they could not rescue it from it. So weak are (both) the seeker and the sought!
Yusuf AliO men! Here is a parable set forth! listen to it! Those on whom, besides Allah, ye call, cannot create (even) a fly, if they all met together for the purpose! and if the fly should snatch away anything from them, they would have no power to release it from the fly. Feeble are those who petition and those whom they petition!
The agreed readingPeople: a comparison has been set out, so listen to it properly. The things they call on instead of God could not create a single fly if every one of them combined to do it; and if a fly took something from them they could not get it back. The one who asks and the one asked of are both weak.
Urduلوگو! ایک مثال بیان کی گئی ہے، اسے غور سے سنو۔ وہ چیزیں جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، اگر سب مل کر بھی کوشش کریں تو ایک مکھی تک پیدا نہیں کر سکتے؛ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اسے واپس بھی نہیں لے سکتے۔ مانگنے والا اور جس سے مانگا گیا، دونوں کمزور ہیں۔
Arabicيا أيها الناس ضُرب لكم مثل فاستمعوا له: إن الذين تدعون من دون الله لن يخلقوا ذبابًا واحدًا ولو اجتمعوا كلهم على ذلك، وإن يأخذ الذباب منهم شيئًا لا يقدروا على إنقاذه منه، فضعف الطالب والمطلوب معًا.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً، أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ شَعِيرَةً ".
Narrated Abu Huraira:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Allah said, 'Who are most unjust than those who try to create something like My creation? I challenge them to create even a smallest ant, a wheat grain or a barley grain
ہمیں محمد بن العلاء نے حدیث سنائی، ابن فضیل نے، عمارہ سے، ابو زرعہ سے، انہوں نے ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "اللہ عز و جل نے کہا: اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو میری خلقت کے جیسا خلق کرنے جائے؟ تو وہ ایک چیونٹی خلق کریں یا ایک دانہ خلق کریں یا ایک جو خلق کریں"۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallThey measure not Allah His rightful measure. Lo! Allah is Strong, Almighty.
Yusuf AliNo just estimate have they made of Allah: for Allah is He Who is strong and able to Carry out His Will.
The agreed readingThey did not give God the measure that is His, since they set beside Him things that cannot keep off a fly or recover what it takes. God is strong, and He prevails.
Urduانہوں نے اللہ کی وہ قدر نہ کی جو اسے دینی چاہیے تھی، کیونکہ انہوں نے اس کے ساتھ ایسی چیزیں شریک کر لیں جو نہ مکھی کو روک سکتی ہیں اور نہ اس سے چھینی ہوئی چیز واپس لے سکتی ہیں۔ اللہ طاقتور ہے اور غالب رہنے والا ہے۔
Arabicما عظّموا الله حق تعظيمه، إذ جعلوا معه أصنامًا ضعيفة ذليلة لا تخلق شيئًا ولا تمنع عن نفسها ذبابًا، إن الله لقوي عزيز لا يغالبه أحد.
الأخبار المذكورة هنا: 1 — جميعها من كتب أهل السنة1 reports cited here — all from Sunnī collectionsیہاں مذکور روایات: 1 — تمام اہل سنت کی کتب سے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً، أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ شَعِيرَةً ".
Narrated Abu Huraira:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Allah said, 'Who are most unjust than those who try to create something like My creation? I challenge them to create even a smallest ant, a wheat grain or a barley grain
ہمیں محمد بن العلاء نے حدیث سنائی، ابن فضیل نے، عمارہ سے، ابو زرعہ سے، انہوں نے ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "اللہ عز و جل نے کہا: اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو میری خلقت کے جیسا خلق کرنے جائے؟ تو وہ ایک چیونٹی خلق کریں یا ایک دانہ خلق کریں یا ایک جو خلق کریں"۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAllah chooseth from the angels messengers, and (also) from mankind. Lo! Allah is Hearer, Seer.
Yusuf AliAllah chooses messengers from angels and from men for Allah is He Who hears and sees (all things).
The agreed readingGod chooses messengers from among the angels and messengers from among people. It came down when they asked why the reminder should be sent down on this man out of all of them. God hears what they say, and He sees who is fit to be sent.
Urduاللہ فرشتوں میں سے قاصد چنتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ یہ اس وقت نازل ہوئی جب انہوں نے پوچھا کہ سب میں سے یہی ایک شخص کیوں چنا گیا کہ اس پر نصیحت اتاری جائے۔ اللہ سنتا ہے کہ وہ کیا کہتے ہیں، اور دیکھتا ہے کہ کون بھیجے جانے کے لائق ہے۔
Arabicالله يختار من الملائكة رسلًا، ويختار من الناس رسلًا كذلك، وذلك حين قال المشركون: أنُزّل الذكر عليه من بيننا؟ إن الله سميع لما يقولونه، بصير بمن يختاره لرسالته.
Uqbah bin Amir narrated:"I said: 'O Messenger of Allah! Surah Al-Hajj has been esteemed by two prostrations?' He said: 'Yes, and whoever does not prostrate for them, he should not recite them
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سورۃ الحج کو یہ شرف بخشا گیا ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ اسے نہ پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص قوی نہیں ہے، ۲- اس سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، عمر بن خطاب اور ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سورۃ الحج کو یہ شرف بخشا گیا ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں۔ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۳- اور بعض کی رائے ہے کہ اس میں ایک سجدہ ہے۔ یہ سفیان ثوری، مالک اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
PickthallO ye who believe! Bow down and prostrate yourselves, and worship your Lord, and do good, that haply ye may prosper.
Yusuf AliO ye who believe! bow down, prostrate yourselves, and adore your Lord; and do good; that ye may prosper.
The agreed readingYou who believe: bow and prostrate - which is to say, pray - and serve your Lord alone, and do good. The commentaries name among that good the keeping of kinship ties and the noble qualities of character. Then you may come through.
Urduاے ایمان والو! رکوع کرو اور سجدہ کرو - یعنی نماز پڑھو - اور اپنے رب اکیلے کی عبادت کرو، اور نیکی کرو۔ تفسیریں اس نیکی میں رشتہ داری نبھانے اور اعلیٰ اخلاق کو شامل کرتی ہیں۔ پھر تم کامیاب ہو جاؤ گے۔
Arabicيا أيها الذين آمنوا اركعوا واسجدوا في صلاتكم، واعبدوا ربكم وحده لا شريك له، وافعلوا الخير من صلة الرحم ومكارم الأخلاق وغيرهما، لعلكم تفوزوا بالمطلوب وتفلحوا.
الأخبار المذكورة هنا: 2 — 1 من كتب أهل السنة، 1 من كتب الشيعة2 reports cited here — 1 Sunnī, 1 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 2 — 1 اہل سنت کی کتب سے، 1 شیعہ کتب سے
Uqbah bin Amir narrated:"I said: 'O Messenger of Allah! Surah Al-Hajj has been esteemed by two prostrations?' He said: 'Yes, and whoever does not prostrate for them, he should not recite them
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سورۃ الحج کو یہ شرف بخشا گیا ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ اسے نہ پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص قوی نہیں ہے، ۲- اس سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، عمر بن خطاب اور ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سورۃ الحج کو یہ شرف بخشا گیا ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں۔ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۳- اور بعض کی رائے ہے کہ اس میں ایک سجدہ ہے۔ یہ سفیان ثوری، مالک اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
13. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from al-Qasim ibn Muhammad from al-Minqari from Hafs ibn Ghiyath from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Jesus, son of Mary, peace be upon him, has said, ‘You work for the worldly things while your sustenance is there without work. Y ou do not work for the next life where you will not receive any sustenance without work. Woe upon you. You are bad scholars. You receive payments but destroy the work. Perhaps the worshippers’ deeds are accepted and perhaps they will be taken out of the narrow space of this world to the darkness of the grave. How can one be of the scholars who is on his way to the next life while he is holding to …
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی ہے القاسم بن محمد سے منقری سے حفص بن غیاث سے ابو عبدالله علیہ السلام سے کہا عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوۃ و السلام نے کہا تم دنیا کے لیے کام کرتے ہو اور تم اس میں بغیر عمل کے رزق پاتے ہو اور آخرت کے لیے کام نہیں کرتے حالانکہ تم اس میں عمل کے بغیر رزق نہیں پاتے۔ تم پر افسوس اے برے علماء! تم اجر لیتے ہو اور عمل برباد کرتے ہو۔ شاید ہے کہ کام والا اپنا عمل قبول کرے اور شاید ہے کہ وہ دنیا کی تنگی سے قبر کی تاریکی میں نکالے جائیں۔ کیسے ہو سکتا ہے علم والوں میں سے وہ جو اپنی آخرت کی طرف سفر میں ہو اور وہ اپنی دنیا کی طرف متوجہ ہو؟ اور جو چیز اسے نقصان دے وہ اس کے نزدیک زیادہ محبوب ہے اس چیز سے جو اسے فائدہ دے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
PickthallAnd strive for Allah with the endeavour which is His right. He hath chosen you and hath not laid upon you in religion any hardship; the faith of your father Abraham (is yours). He hath named you Muslims of old time and in this (Scripture), that the messenger may be a witness against you, and that ye may be witnesses against mankind. So establish worship, pay the poor-due, and hold fast to Allah. He is your Protecting friend. A blessed Patron and a blessed Helper!
Yusuf AliAnd strive in His cause as ye ought to strive, (with sincerity and under discipline). He has chosen you, and has imposed no difficulties on you in religion; it is the cult of your father Abraham. It is He Who has named you Muslims, both before and in this (Revelation); that the Messenger may be a witness for you, and ye be witnesses for mankind! So establish regular Prayer, give regular Charity, and hold fast to Allah! He is your Protector - the Best to protect and the Best to help!
The agreed readingStrive for God as striving for Him is due, putting into it all the strength you have. He chose you, and He has put nothing in the religion that is beyond bearing. It is the way of your father Abraham. He named you those who submit, before this and in this, so that the Messenger would be a witness over you and you would be witnesses over the people. So establish the prayer, give the zakat, and hold fast to God: He is your patron - and an excellent patron, and an excellent helper.
Urduاللہ کی راہ میں ایسی کوشش کرو جیسی کوشش اس کا حق ہے، اپنی پوری طاقت اس میں لگا دو۔ اس نے تمہیں چن لیا ہے، اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ یہ تمہارے باپ ابراہیم کا طریقہ ہے۔ اسی نے تمہارا نام مسلمان رکھا، اس سے پہلے بھی اور اس قرآن میں بھی، تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لو: وہی تمہارا کارساز ہے - اور کیا ہی اچھا کارساز اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔
Arabicجاهدوا في الله جهادًا خالصًا تبذلون فيه كل ما تملكون من قوة، فقد اختاركم ولم يجعل عليكم في الدين أي ضيق، وهذه هي ملة أبيكم إبراهيم، سماكم المسلمين من قبل وفي هذا القرآن، ليكون الرسول شاهدًا عليكم وتكونوا أنتم شهداء على الناس. فأدّوا الصلاة وأعطوا الزكاة واعتصموا بالله، فهو وليّكم، ونعم الولي ونعم المعين.
الأخبار المذكورة هنا: 9 — 6 من كتب أهل السنة، 3 من كتب الشيعة9 reports cited here — 6 Sunnī, 3 Shīʿīیہاں مذکور روایات: 9 — 6 اہل سنت کی کتب سے، 3 شیعہ کتب سے
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ رِيَاءً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
It was narrated that Abu Musa said:“The Prophet (ﷺ) was asked about a man who fights to prove his courage, or out of pride and honour for his close relatives, or to show off. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever fights so that the Word of Allah may be supreme is the one who (is fighting) in the cause of Allah.’”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بہادری کی شہرت کے لیے لڑتا ہے، اور جو خاندانی عزت کی خاطر لڑتا ہے، اور جس کا مقصد ریا و نمود ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے کلمے کی بلندی کے مقصد سے جو لڑتا ہے وہی مجاہد فی سبیل اللہ ہے ۱؎۔
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A Prophet will come accompanied by two men, and a Prophet will come accompanied by three, and (some will come) with more or less than that. It will be said to him: ‘Did you convey the message to your people?’ And he will say: ‘Yes.’ Then his people will be called and it will be said: ‘Did he convey the message to you?’ They will say: ‘No.’ Then it will be said: ‘Who will bear witness for you?’ He will say: ‘Muhammad and his nation.’ So the nation of Muhammad will be called and it will be said: ‘Did this man convey the message?’ They will say: ‘Yes.’ He will say: ‘How did you know that?’ They will say: ‘Our Prophet told us …
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( قیامت کے دن ) ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ دو ہی آدمی ہوں گے، اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ تین آدمی ہوں گے، اور کسی نبی کے ساتھ زیادہ لوگ ہوں گے، کسی کے ساتھ کم، اس نبی سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں پھر اس کی قوم بلائی جائے گی اور پوچھا جائے گا: کیا اس نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: نہیں نبی سے پوچھا جائے گا: تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہے گا: محمد اور ان کی امت، پھر محمد کی امت بلائی جائے گی اور کہا جائے گا: کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہے گی: جی ہاں اس سے پوچھا جائے گا: تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ جواب دے گی کہ …
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Noah will be called on the Day of Resurrection and he will say, 'Labbaik and Sa`daik, O my Lord!' Allah will say, 'Did you convey the Message?' Noah will say, 'Yes.' His nation will then be asked, 'Did he convey the Message to you?' They will say, 'No Warner came to us.' Then Allah will say (to Noah), 'Who will bear witness in your favor?' He will say, 'Muhammad and his followers. So they (i.e. Muslims) will testify that he conveyed the Message. And the Apostle (Muhammad) will be a witness over yourselves, and that is what is meant by the Statement of Allah "Thus We have made of you a just and the best nation that you may be …
ہم سے یوسف بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر اور ابواسامہ نے بیان کیا۔ (حدیث کے الفاظ جریر کی روایت کے مطابق ہیں) ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ابواسامہ نے بیان کیا (یعنی اعمش کے واسطہ سے کہ) ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا۔ وہ عرض کریں گے، «لبيك وسعديك» : یا رب! اللہ رب العزت فرمائے گا، کیا تم نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ نوح علیہ السلام عرض کریں گے کہ میں نے پہنچا دیا تھا، پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا، کیا انہوں نے تمہیں میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ لوگ کہیں گے کہ ہمارے یہاں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ( نوح علیہ السلام سے ) کہ آپ …
569. Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad, from Ali Bin Al-Hakam, from Ali Bin Abu Hamza, from Abu Baseer, who has said: Abu Ja’far (asws) said: ‘Are you (asws) reciting: “[9:112] They who repent (Al-Ta’iboun), who serve (Al-Abidoun)”?’ So he (asws) said: ‘No. Recite “Al-Ta’ibeen Al-Abideen” upto the end of it’. So I asked about the reason for that, he (asws) said: ‘He (azwj) Bought from the Believers (their own selves), the repentant (and) the worshippers’.
محمد بن یحیی، احمد بن محمد، علی بن الحکم، علی بن ابو حمزہ سے، اور ابو بصیر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابو جعفر (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم 'التائبون العابدون' پڑھ رہے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، 'التائبین العابدین' پڑھو، اس کے آخر تک۔ پھر ان سے اس کے علة کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وہ (اللہ تعالیٰ) نے مومنین سے تائبین اور عابدین کو خریدا۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
درجته: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
grading: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
درجہ: Al-Albani: Sahih · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: Sahih · Shuaib Al Arnaut: Sahih · Zubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُوتِرُ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } وَ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } وَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) used to perform Witr and recite:“Glorify the Name of your Lord the Most High,” [Al-A’la (87)] “Say: O you disbelievers!” [Al-Kafirun (109)] and ‘Say: Allah is One.”. [Al-Ikhlas (112)] Another chain with similar wording
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں: «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون»اور «قل هو الله أحد»پڑھتے تھے۔
‘Abd Allah b. al-Sa’ib said; the Messenger of Allah (ﷺ) led us in the morning prayer at Mecca. He began to recite Surah al-Mu;minin and while he came to description of Moses and Aaron or the description of Moses and Jesus the narrator Ibn ‘Abbad doubts or other narrators differed amongst themselves on this word the prophet (ﷺ) coughed and gave up (recitation) and then bowed ‘Abd Allah b. al-Sa’ib was present seeing all this incident
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی، آپ نے سورۃ مؤمنون کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ ۱؎ اور ہارون علیہما السلام، یا موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے قصے پر پہنچے ( راوی حدیث ابن عباد کو شک ہے یا رواۃ کا اس میں اختلاف ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آ گئی، آپ نے قرآت چھوڑ دی اور رکوع میں چلے گئے، عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ ( سابقہ حدیث کے راوی ) اس وقت وہاں موجود تھے ۲؎۔
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father and Muhammad ibn ’Isma‘il from al-Fadl ibn Shadhan all from Ibn Abi ‘Umayr from ‘Abd al-Rahman ibn af-Hajjaj who has said the following: “Abu ‘Abd Allah (a.s.), has said, ‘On five Qala’is (young she camel) Zakat is one sheep and Zakat is not due on less than five camels. On ten Zakat is two sheep, on fifteen Zakat is three sheep, on twenty Zakat is four sheep, on twenty-five Zakat is five sheep and on twenty-six Zakat is one Bintu Makhad up to thirty- five. 5 ‘Abd al-Rahman has said that this is the difference between us and the people. If one is increased Zakat is one Bintu Labun up to forty-five. With the increase of one more camel Zakat is …
علی بن ابراہیم نے اپنے باپ سے اور محمد بن اسمٰعیل نے فضل بن شاذان سے، دونوں ابن ابی عمیر سے، عبد الرحمٰن بن حجاج سے، ابی عبد اللہ علیہ السلام سے روایت کی، انہوں نے کہا: پانچ اونٹھیوں میں ایک بکری، اور پانچ سے کم میں کوئی چیز نہیں۔ دس میں دو بکریاں، پندرہ میں تین بکریاں، بیس میں چار، پچیس میں پانچ، چھبیس میں بنت مخاض ہے جو پینتیس تک، اور عبد الرحمٰن نے کہا: یہ فرق ہے ہمارے اور لوگوں کے درمیان۔ پھر اگر ایک اور بڑھے تو پینتالیس تک بنت لبون ہے۔ پھر اگر ایک اور بڑھے تو ساٹھ تک حقہ۔ پھر اگر ایک اور بڑھے تو پچھتر تک جذعہ۔ پھر اگر ایک اور بڑھے تو نوے تک دو بنت لبون۔ پھر اگر اونٹ بہت ہو جائیں تو ہر پچاس میں حقہ۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
2. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father and Muhammad ibn Isma’Il have narrated from al-Fadl ibn Shadhan all from Ibn Abi ‘Umayr from Ibrahim ibn ‘Abd al-Hamid from al-Sabbah ibn Sayabah from Abu ‘Abdillah (a.s.) who has said the following: “Whoever, after Maghrib prayer, says three times, ‘All praise belongs to Allah, Who does as He wills and does not do what others will,’ will receive a great deal of good.”
علي بن إبراهيم سے اپنے باپا سے اور محمد بن إسمعيل سے الفضل بن شاذان سے دونوں ابن أبي عمير سے إبراهيم بن عبد الحميد سے الصباح بن سيابة سے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے: جو شخص مغرب کے بعد تین مرتبہ کہے الحمد لله الذي يفعل ما يشاء ولا يفعل ما يشاء غيره تو اسے بہت خیر عطا دی جائے۔
الترجمة الأردية من عمل هذا الكتاب لا من الأصل، ولم تراجع بعد
This Urdu was translated for this book, not supplied with the source, and has not been checked yet
یہ اردو ترجمہ اسی کتاب کے لیے کیا گیا، اور ابھی جانچا نہیں گیا
Al-Mundhir bin Jarir narrated that his father said:"While we were with the Messenger of Allah in the early hours of the morning, some people came who were naked and barefoot, with their swords hung (around their necks). Most of them, may all of them, belonged to the tribe of Mudar. The face of the Messenger of Allah changed when he saw them in poverty. He went in (to his house) then he came out and ordered Bilah to call the Adhan and then the Iqamah. He (the Prophet) prayed, tjem je addressed te,, (reciting the Verses): 'O mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person (Adam), and from him(Adam) He created his wife [Hawwa (Eve)], and from them both He created many …
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ ننگے بدن، ننگے پیر، تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، زیادہ تر لوگ قبیلہ مضر کے تھے، بلکہ سبھی مضر ہی کے تھے۔ ان کی فاقہ مستی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ اندر گئے، پھر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی، آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ نے خطبہ دیا، تو فرمایا: ”لوگو! ڈرو، تم اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور انہیں دونوں ( میاں بیوی ) سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیئے۔ اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سب ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ قرابت داریوں کا خیال رکھو کہ وہ …